اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: یادگار سزا

  1. #1
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default یادگار سزا

    دوستوں میں نے یہ کہانی اس سے پہلے رومن انگلش میں لکھ کر پوسٹ کی ہوی ہے اب میں اس کہانی کا اردو ترجمہ پوسٹ کر رہا ہوں

  2. The Following User Says Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    shubi (24-03-2020)

  3. #2
    Join Date
    Feb 2020
    Posts
    24
    Thanks Thanks Given 
    132
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    4

    Default

    Please do.....


    We are waiting.....

  4. #3
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    دوستو یہ اسٹوری پوسٹ کرنے سے پہلے میں یہ بتا دوں . کے یہ اسٹوری ایک پاکستانی مسلم عورت اور ایک انڈین ہندو مرد پر بیس ہے
    جو لوگ اِس طرح کی اسٹوریز پڑھنا پسند نہیں کرتے ، ان سے ریکویسٹ ہے کے اِس اسٹوری کو پڑھنے سے پرہیز کریں پلیز
    دوستو میں نے یہ اسٹوری نیٹ پر ایک ویب سائٹ پر پڑھی ہے . جسے ایک پاکستانی رائٹر نے انگلش میں لکھا ہے
    میں نے جب یہ اسٹوری پڑھی تو مجھے اچھی لگی . اِس پر میں نے سوچا کے کیوں نا میں ہی اِس اسٹوری کو اپنے حساب سے لکھوں
    اِس اسٹوری کا اوریجنل آئیڈیا تو اِس کے اوریجنل رائٹر کا ہے
    مگر میں نے اِس میں اپنے حساب سے تھوڑی سی چینج کرنے کی جسارت کی ہے
    میری یہ کوئیش آپ کو کتنی پسند آتی ہے . اِس کے لیے مجھے آپ کے کمنٹس کا انتظار رہے گا
    شکریہ

  5. #4
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    چوبیس سالہ مسز فوزیہ گیلانی اپنی شادی کے فورن بعد ہی اپنے شوہر جاوید کے ساتھ پاکستان سے امریکا کے ایک سٹی فریمونٹ کیلی فورنیا میں موو ہو گئی تھی


    فوزیہ کی شادی کے بعد پاکستان کی راویتی ساسوں کی طرح فوزیہ کی ساس کی بھی یه ہی خوائش تھی کے فوزیہ شادی کے پہلے سال ہی بچے کی ماں بن جائے


    مگر جاوید چوںکہ اپنی بیوی کی تنگ چھوت کا مزہ زیادہ عرصے لینا چاتا تھا . اس لیے شادی ہوتے ہی جاوید نے فوزیہ کو نہ صرف پرگینیٹ نہ ہونے والی گولیاں کھلانا شروع کر دیں. بلکہ چودای کے دوران جاوید جب بھی فارغ ہونے لگتا. تو وہ فورن اپنے لن کو اپنی بیوی کی پھدی سے نکال کر اپنے لن کے پانی کو فوزیہ کی چھوت کے لبوں یا اس کے پیٹ پر ہی خار ج کرتا تھا


    فوزیہ اپنی شادی شدہ زندگی اور اپنے شوھر جاوید احمد سے بہت خوش تھی . مگر یه خوشی ایک ہفتہ قبل اس وقت ختم ہو گئی جب ملازمت کے دوران جاوید نے اپنی بھارتی آئی ٹی مشاورتی فرم سدھا ٹیکنالوجی سولیوشن انک ( ایس ٹی ایس) کے سب سے بڑے اور اچھے کلاینٹ کو اپنی غلطی اور بواقوفی سے کھو دیا تھا


    فوزیہ جانتی تھی کے اس کا شوہر جاوید آج کل اس وجہ سے بہت ہی پریشان تھا . کیوں کے اس ای ٹی مشاورتی فرم نے ہی جاوید کو اس کی قابلیت کی بنا پر دبئی سے سلیکٹ کر کے ورک ویزا پر امریکا میں نوکری دی تھی


    اس کمپنی کا انڈین مالک مسٹر سنیل کمار کل شام ہی انڈیا سے واپس امریکا ایا تھا. اور آتے ساتھ ہی اس نے فون کر جاوید کو دوسرے دن جاب کے دوران ہی لنچ ٹائم میں اپنے گھر میں ملاقات کے لیے بلا لیا تھا


    اپنی کمپنی کے اونر کی یه کال سنتے ہی جاوید کو اس بات کا پکا یقین ہو گیا تھا. کے مسٹر کمار سے ہونے والی یه پہلی ملاقات ہی جاوید کے لیے آخری ملاقات ثابت ہو گئی. اور جاوید کو اپنی غلطی کا خمیازہ نوکری سے چھٹی کی صورت میں بگتنا پرے گا. یه ہی وجہ تھی کے اگلی صبح جاب پر جاتے ہوے جاوید کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا


    ادھر جاوید اپنی پرشانی میں مبتلا تھا. تو دوسری طرف اس کی نہایت خوبصورت اور وفاداربیوی فوزیہ کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی


    اپنے شوہر کے آفس جانے کے بعد ایک سفید سلیولیسس بلاؤوس اور سیاہ کیپری میں ملبوس ھو کر مطالعہ کی میز پر بہٹھی فوزیہ اپنی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر ایک گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی


    "جاوید پچھلے کچھ ہفتوں بہت خوفزدہ ہے ! وہ سوچتا ہے کے اس بڑے اکاؤنٹ کو کھونے کی پاداش میں کہ مسٹر کمار اسے آج کل میں نوکری سے ضرور نکال دیں گے " اپنے شوہر کی پریشانی کے بارے میں سوچتے ہوے فوزیہ کے دل میں اس وقت یه خیال چل رہا تھا


    ! مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں گا ! "فوزیہ نے سوچتے ہوۓ اپنے آپ کو امید دلائی، ہو سکتا ہے کے مسٹر کمار جاوید کو نوکری سے نکالنے کی بجاۓ صرف ایک وارننگ دے کر ہی چھوڑ دیں، ویسے جاوید کو نوکری سے ہاتھ دھونا پرے تو ان دونوں کو امریکا میں رہنے میں کافی تکلیف ہو گئی. کیوں کے ان کے گرین کارڈ جسے ایس ٹی ایس نے ہی ان کے لیے سپانسر کیا تھا،وه بھی ابھی تک نہیں ایا تھا


    فوزیہ اپنی انہی سوچوں میں گم تھی کے اتنے میں اس کی نظر پاس پرے ٹیبل پر پری. جہاں ایک کاغذ پڑا ہوا تھا. جس پر اس کے شوہر جاوید نے کل رات اپنے باس کے گھر کا ایڈریس اور فون نمبر لکھا تھا.


    اس کاغذ پر نظر پڑتے ہی فوزیہ کو مسٹر سنیل کمار کے متلعق کہی گئی اپنے شوہر جاوید کی بات یاد آئی " کے سننے میں ایا ہے کے مسٹر کمار ایک بہت اچھے اورمدد کرنے والے انسان ہیں "


    "اگر واقعی ہی اسی بات ہے تو کیوں نہ جاوید سے پہلے میں خود مسٹر کمار سے مل کر انھے اس بات پر قائل کرنے کی کوسش کروں ، کے وہ جاوید کو نوکری سے نکالنے کی بجاے ایک وارننگ دے کر ہی چھوڑ دیں "


    اپنے شوہر کو صبح پریشانی کی حالت میں جاب پر جاتے ہوۓ دیکھ کر فوزیہ خود بہت پرشان ہو چکی تھی. اسی لیے جاوید کی گئی غلطی کو خود سلجانے کا یه خیال اس کے دل میں اس وقت انے لگا تھا


    "مگر کہیں یه نہ ہو کے جاوید کی بجاے میرا جانا ، مسٹر کمار کو اچھا نہ لگے اور اس طرح جاوید کا کام سدھرنے کی بجاے پہلے سے زیادہ خراب ہو جائے " مسٹر کمار سے ملنے کا خیال دل میں اتے ہی فوزیہ کے دل میں اس وسوسے نے جنم لیا


    مگر اس کے ساتھ ہی " جو ہو گا دیکھا جائے گا " کا سوچتے ہوے فوزیہ نے پاس پرے اس پیپر سے فون نمبر دیکھ کر اپنے شوہر کے باس کو کال ملا دی
    Last edited by Story Maker; 25-03-2020 at 11:31 PM.

  6. The Following 2 Users Say Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    abkhan_70 (26-03-2020), Lovelymale (25-03-2020)

  7. #5
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    Quote Originally Posted by shubi View Post
    Please do.....


    We are waiting.....
    Thank you dear

  8. #6
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    نمبر ڈائل کرنے کے تھوڑی دیر بعد جوں ہی فوزیہ کو فون کے دوسری طرف سے ایک مرد کی آواز سنائی دی. تو اس نے ایک دم اپنا طاروف کروایا " ہیلو! مسٹر کمار میرا نام مسز فوزیہ جاوید ہے ! میرے شوہر جاوید احمد آپ کی کمپنی سدھا ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں ! "


    " یه وہ جاوید احمد تو نہیں جن کے ساتھ آج دوپہر کو میری میٹنگ ہے ؟" اپنا طاروف کرواتے ہی فوزیہ کے کانوں میں سنیل صاحب کی آواز گونجی


    مسٹر کمار کا سوال سن کر فوزیہ نے فورن ہی جواب دیا "جی ہاں، وہ وہی جاوید جو آج دوپہرآپ کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں!


    " اچھا آپ بتائیں كے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں " فوزیہ کا جواب سن کر مسٹر کمار نے انگلش کی بجائے اِس بار فوزیہ سے ہندی میں پوچھا


    " سب سے پہلے تو میری آپ سے ایک ریکویسٹ ہے . كے براے مہربانی جاوید کو مت بتائیں كے میں نئے آپ کو کال کی ہے ، دوسری بات یہ كے اصل میں جاوید کی آپ سے ملاقات سے پہلے میں آپ سے ملنا چا رہی تھی ، کیوں كے میں آپ سے مل کر صرف اِس بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں ، كے میرے شوہر جاوید اپنی کی گئی غلطی سے کتنے زیادہ پریشان ہیں . " کمار صاحب کے جواب میں اِس بار فوزیہ نے بھی کمار صاحب کو اردو میں ہی جواب دیتے ہوئے کہا


    "اچھا ٹھیک ہے، اگر آپ ایک گھنٹے کے اندر مجھے مل سکتی ہیں تو میں آپ کا انتظار کر سکتا ہوں" فوزیہ کی بات سن کر فون کی دوسری طرف سے مسٹر کمار نے جواب دیا


    "جی میں ایک گھنٹے کے اندر اندر آپ کے گھر پہنچ سکتی ہوں" مسٹر کمار کا جواب سنتے ہی فوزیہ بولی اور پھر فون بند کرتے ساتھ ہی شاور کی طرف ڈور پری


    اپنے جسم کواچھی ترا شاور دینے کے بعد فوزیہ باتھ روم سے باھر آئی اور اپنے گیلے





    جسم کو تولیے سے اچھی ترا سے صاف اور خشک کرنے کے بعد وہ ننگی حالت میں ہی صوفے پر بیٹھ کر اپنی لمبی ہیل کو اپنے پاؤں میں پہننے لگی


    اپنی ایری والی جوتی کو اپنے پاؤں میں پہن کر فوزیہ تیزی کے ساتھ بیڈ کے سامنے


    secure image upload


    پرے ہوے شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی. اور اسی ننگی حالت میں ہی جلدی جلدی اپنے منہ پر میک اپ کرنے لگی


    میک اپ سے فارغ ہونے کے بعد فوزیہ نے الماری سے ایک ویسٹرن سٹائل کا ایک لمبا ڈریس نکال کر پہن لیا


    "میں دیکھنے میں اچھی لگ رہی ہوں نہ " اپنے گداز جسم کو آئینے میں دیکھتے ہوئےفوزیہ نے اپنے بال کو تھوڑا سا تھوڑا سا سیٹ کرتے ہوے اپنے آپ سے کہا


    اس کے ساتھ ہی فوزیہ نے ٹیبل پر پڑا اپنا سیل فون اٹھا کر گوگل میپ میں مسٹر کمار کے گھر کا پتا ڈالا .اور پھر اپنی کار میں بیٹھ کر وہ مسٹر کمار کے گھر کی طرف چل پڑی

    Last edited by Story Maker; 25-03-2020 at 11:32 PM.

  9. The Following User Says Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    abkhan_70 (26-03-2020)

  10. #7
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    296
    Thanks Thanks Given 
    175
    Thanks Thanks Received 
    300
    Thanked in
    161 Posts
    Rep Power
    40

    Default

    nice start dear

  11. #8
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    Quote Originally Posted by Story Maker View Post
    nice start dear
    Thank you dear.......

  12. #9
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    " ہاے جاوید کی گئی غلطی کو سدھارتے سدھارتے اپنے شوہر کا کام بگاڑ ہی نہ دون کہیں" سنیل کمار کی رھائش گاہ کی طرف اپنی کار دوڑاتے ہوے فوزیہ کے دل میں یه ہی خوف چھایا رہا

    مگر اس خوف کے باوجود اس نے اب واپس پلٹنا مناسب نہ سمھجا اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کی کار مسٹر کمار کے گھر کے سامنے جا رکی

    سنیل کمار کے گھر کے سامنے اپنی گاری پارک کر کے فوزیہ نے جوں ہی اپنی کار سے باہر نکل کر مسٹر کمار کے گھر کے مین ڈور کی طرف واک کرنا شروع کیا



    تو ٹھنڈی ہوا کا ایک تازہ جھونکاایک دم سے آ کر اس کے تازہ تازہ نہایے ہوے بدن سے ٹکرا گیا

    "افففففف مسٹر کمار سے ملنے کی جلدی میں اپنی پینٹی تو پینٹی، میں تو اپنی برا بی پہننا بھول گئی ہوں آج " تازہ ہوا نے ڈریس کے اندر گھس کر جوں ہی فوزیہ کی جوان چوت اور اس کی کسی ہوئی گداز چھاتیوں کو چھوا. تو اپنی غلطی کا احساس کرتے ہی فوزیہ ایک دم بوکھلا اٹھی.

    "ہاۓ اب مجے اسی حالت میں ہی مسٹر کمار سے ملنا پرے گا ، کیوں کے اب گھر واپس جا کر برا اور پینٹی پہننے کا وقت نہیں ہے میرے پاس" فوزیہ کو اپنی اس بیواقفی پر افسوس تو بہت ہوا مگر اب ٹائم کی کمی کی وجہ سے اس کا گھر جا کر واپس آنا



    بہت مشکل کام تھا. اس لیے نہ چاہتے ہوے بھی وہ مسٹر ٹیگو کمار کے گھر کے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھاتی رہی

    مسٹر کمار کے مین ڈور کے سامنے روک کر فوزیہ نے اپنی بکھری سانسوں کو سمبھالا. اورپھر ہمت کر کے دوسرے لمحے ہی دروازے پر دستک دے دی

    فوزیہ کی دستک کے جواب میں تھوڑی دیر بعد 45 سال کی عمر کے ایک آدمی نے دروازہ کھولا. جو اپنی عمر کے حساب سے کافی فٹ لگ رہا تھا

    دروازے پر کھڑے اس آدمی کو دیکھتے ہی فوزیہ ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی " مسٹرکمار میں جاوید احمد کی بیوی فوزیہ ہوں، مجھے ملاقات کے لیے وقت دینے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ"

    "ویل آپ سے مل کر بہت اچھا لگا ، پلیز آپ اندر تشریف لائیں " فوزیہ کی بات کے جواب میں مسٹر کمار نے بی مسکرا کر جواب دیا اور اپنے گھر کا دروازہ کھول کر فوزیہ کو اندر انے کی دعوت دی

    فوزیہ مسٹر کمار کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ان کے ڈرائنگ روم میں چلی آئی . اور اتے ساتھ ہی کمرے کی سیٹنگ کا جائزہ لیا

    ڈرائنگ روم میں ایک طرف ایک بڑا صوفہ رکھا ہوا تھا . صوفے کے سامنے ایک بہت بڑا شیشے کا ٹیبل پڑا ہوا تھا. جب کے کمرے کی دوسری جانب دو چیرز پڑی ہوئی تھیں . اور ان چیرز کے درمیاں میں ایک سائیڈ ٹیبل تھی جس کی وجہ سے ان دونوں میں تھوڑا فاصلہ تھا

    اپنے شوہر کے باس کے لیونگ روم کی سیٹنگ دیکھنے کے بعد فوزیہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کمرے میں رکھی چیئر پر بیٹھ گئی



    اور فوزیہ کے بیٹھتے ہی سائیڈ ٹیبل کی دوسری طرف رکھی چیئر پر کمار صاحب بھی تشریف فرما ہو گے

    اپنی چیئر پر بیٹھ کر کمار صاحب نے فوزیہ کی طرف دیکھا اور بولے "مجھے خوشی ہے کہ مجھے پہلی بار آپ سے ملنے کا موقع مل رہا ہے ! ویسے مجھے یه کہنے میں کوئی حرج نہیں کے جاوید بہت خوش قسمت انسان ہے، جسے آپ جیسی خوبصورت بیوی ملی ہے ، جوخوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے لیے فکر مند بھی ہے ! اب مجھے بتائیں کے آپ کیوں اتنی پریشان ہیں اور آپ کی پرشانی دور کرنے میں کیسے میں آپ کی ہیلپ کر سکتا ہوں
    ! "


  13. The Following User Says Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    abkhan_70 (Yesterday)

  14. #10
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    126
    Thanks Thanks Given 
    24
    Thanks Thanks Received 
    137
    Thanked in
    57 Posts
    Rep Power
    190

    Default

    مسٹر کمار میں اصل میں اپنے شوہر کے متلعق آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھی ، میں جانتی ہوں کے میرے شوہر جاوید نے جو غلطی کی ہے اس کا آپ کی کمپنی کو کافی نقصان پہنچا ہے اور ہو سکتا ہے سزا کے طور پر جاوید کو آپ آج نوکری سے بی نکال دیں ، مگراس کے باوجود میں آپ کو یه بتانا چاہتی ہوں کے جاوید اپنی اس غلطی پر بہت پرشان اور شرمندہ ہے "

    یه بات کرتے ہوے فوزیہ نے التجائی نظروں سے کمار صاحب کی طرف دیکھا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوے کہا " جاوید نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا کے آپ بہت اچھے اور غلطیاں معاف کرنے والے انسان ہیں ،اور اپنے شوہر کی اسی بات پر یقین کر کے میں آپ کے پاس یه ریکویسٹ لے کر آئی ہوں کے اگر ہو سکے تو میرے شوہر کی غلطی کو نظر انداز کرتے ہوے اسے ایک بار معاف کر دیں پلیز" اپنے دل کی بات کرتے ہی فوزیہ کی آنکھوں میں نہ جانے کیوں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائی. جس کی بنا پر اس کی آنکھوں میں آنسوؤں آ گے اور وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر وہ ایک دہم سے رونے لگی

    فوزیہ کے اس طرح اچانک رونے کی اصل وجہ دراصل یه تھی کے جاوید اور فوزیہ نے دو ویک پہلے ہی اپنا گھر خریدنے کے لیے ڈون پیمنٹ کی تھی. اور اگر آج جاوید اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا. تو ان کے مالی حالات کافی خراب ہو سکتے تھے

    کیوں کے اپنی اب تک کی سیونگ تو وہ لوگ پہلے ہی نیا گھر خریدنے میں خرچ کر چکے تھے . اور اب جاوید کی جاب ختم ہونے کی صورت میں ان دونوں میاں بیوی کے لیے پردیس میں اپنے گھر کا خرچہ چلانا کافی مشکل ہو سکتا تھا

    مسٹر کمار سے بات کرنے کے دوران جب فوزیہ کے ذھن میں یه بات آئی . تو اپنی انے والے مالی مشکلات کا سوچ کر فوزیہ کی آنکھوں سے آنسوؤں خود با خود جاری ہو گے اور وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر رکھ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی

    فوزیہ اپنے ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھ کر ابھی اسی ترھا رونے میں مصروف تھی . کے اسے اپنے کندھےکی نرم جلد پر مسٹر کمار کے سخت مردانہ ہاتھوں کا احساس ہوا

    مسٹر کمار کے ہاتھ کو اپنے کندھے پر محسوس کرتے ہی فوزیہ نے ایک دھم اپنا رونا بند کرتے ہوے اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے ہٹا کر پیچھے کی طرف دیکھا . تو اس کی نضر اپنی چیئر کے پیچھے کھڑے کمار صاحب پر پری
    جو پیچھے سے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کرمساج کرتے ہوے اسے دلاسا دینے کی کوشش کر رہے تھے

    اپنے جسم کے کسی بی حصے پر ایک اجنبی مرد کے ہاتھوں کا لمس پہلی بار محسوس کرتے ہی شرم کے مارے فوزیہ کے جسم کو ایک جھرجری سی محسوس ہوئی. اور اس نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ کو اوپر اٹھاتے ہوے اپنے کندھے پر رکھے ہوے مسٹر کمارکے ہاتھ کو اپنے جسم سے الگ کر دیا

    فوزیہ کا یوں ان کا ہاتھ کو اپنے کندھے سے جٹکنے والا عمل مسٹر کمار کو اچھا نہیں لگا تھا

    اسی لیے مسٹر کمار نے جسے ہی یه دیکھا کے فوزیہ نے اب رونا بند کر دیا ہے .تو وہ فوزیہ کے پیچھے سے ہٹ کر فوزیہ کے سامنے سے ہوتے ہوے دوبارہ اپنی چیئر کی طرف بڑھنے لگے

    "لگتا ہے اپنے کندھے سے یوں ان کا ہاتھ کو ہٹانے کا طریقہ کمار صاحب کو شاید اچھا نہیں لگا ، اس لیے وہ شاید غصے کے عالم میں مجھ سے پرے ہو رہے ہیں " کمار صاحب کی باڈی لینگویج کو دیکھتے ہی فوزیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

    اس لیے کمار صاحب پیچھے سے چلتے ہوے جوں ہی چیئر پر بہٹھی فوزیہ کے عین سامنے اے .تو فوزیہ کو نجانے کیا سوجھی کے اس نے ایک دہم سے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوے کمار صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا.

    " مسٹر کمار کیا ایسا کوئی طریقہ ہے کے آپ جاوید کو ایک چانس مزید دے دیں پلیز " کمار صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوے چیئر پر بہٹھی فوزیہ نے اپنے سامنے کھڑے سنیل صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک بار پھر التجا کی

    " ہاں ایک چییز ایسی ہے جسے کرنے سے جاوید کی نوکری بچ سکتی ہے " فوزیہ کی بات سن کر مسٹر کمار نے فوزیہ کے ہاتھ کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوے اب کی بار فوزیہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوے جواب دیا

    "او تو پھر جلدی سے بتائیں نہ کے اس کے لیے کیا کرنا ہو گا مجھے " مسٹر کمار کے منہ سے یه بات سنتے ہی فوزیہ نے ایک دم بے چینی سے پوچھا

    فوزیہ کی بات سنتے ہی مسٹر کمار اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوے فوزیہ کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچتے ہوے دوسرے ہی لمحے اس کے نازک اور ملائم ہاتھ کو پینٹ میں کسے اپنے لورے کے عین اوپر رکھ دیا اور بولا " تماری بات کا جواب تماری انگلیوں کے نیچے ہے "

    فوزیہ تو اپنے شوہر جاوید کے منہ سےکمار صاحب کی شرافت اور اچھائی کے قصے سن کر مدد کی غرض سے یہاں آئی تھی

    مگربظاھر شریف نظر انے والے اس ادھیڑ عمر شخص کی اس شرمناک حرکت کو دیکھتے ہی فوزیہ پر حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا

  15. The Following User Says Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    abkhan_70 (Today)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •