اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Results 1 to 2 of 2

Thread: لا پرواہی

  1. #1
    Join Date
    Mar 2020
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default لا پرواہی



    میری بہن کی ایک لا پرواہی جس نے مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کر دیا..

    میرا نام ردا ہے اور یہ تب کی بات ہے جب میری عمر دس گیارہ سال ہو گی. میری ایک بڑی بہن ہے جس کا نام کومل ہے وہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑی ہیں. میں ایک بہت معصوم اور بھولی بھالی طبیعت کی لڑکی تھی جس کو آس پاس کی دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی. زیادہ دوستیاں بھی نہیں تھی اور زیادہ تر وقت گھر میں ہی پڑھائی یا ٹی وی دیکھنے میں گزرتا. مجھے پینٹنگ کرنے کا کافی شوق تھا اس لئے فارغ وقت بھی پینٹنگز میں گزار دیتی.
    ہر لڑکی کو ایک عمر کے بعد سیکس کی معلومات کا آہستہ آھستہ پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے. میری عمر بھی ابھی اتنی نہیں تھی اور معصوم طبیعت کی وجہ سے میں ابھی اس حوالے سے انجان ہی تھی. لیکن ایک رات کو کچھ ایسا ہوا جس نے نا صرف مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کیا بلکہ میری معصومیت اور سوچ کو بھی بدل دیا.

    دسمبر کی سرد راتیں تھیں اور میں کومل باجی کے ساتھ اپنے کمرے میں ایک ہی رضائی میں سوتی تھی. کیوں کہ مجھے اکیلے سونے میں ڈر بھی لگتا تھا اور سردی بھی.
    بشریٰ باجی ہماری پھوپھو کی بیٹی ہیں جو کہ کومل باجی سے ایک دو سال بڑی ہوں گی لیکن دونوں بچپن سے ہی بہت گہری دوست تھی. پھوپھو تقریبآ تین سال کے بعد ہمارے گھر آیی تھی اس لئے دونوں اتنے عرصے کے بعد ایک دوسرے کو مل کر بہت خوش تھی. آج جب میں سونے کے لئے آئ تو بشریٰ باجی اور کومل باجی دونوں رضائی میں لیٹی باتیں کر رہی تھی.

    بشریٰ باجی نے کہا یہ بھی ہمارے ساتھ سویے گی ؟ کومل باجی نے کہا ردا تم امی کے ساتھ سو جاؤ.
    میں نے کہا: امی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ جا کر بہنوں کے ساتھ سو جاؤ.
    بشریٰ باجی نے منہ بنا کر کومل باجی کی طرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا.

    میں چپ کر کے کومل باجی کے ساتھ رضائی میں آ کر لیٹ گئی. ہم تینوں ایک ہی رضائی میں تھی. کومل باجی درمیان میں تھی اور میں اور بشریٰ باجی ان کے دائیں بائیں لیٹی ہوئی تھی.

    وہ دونوں اپنے اپنے کالج کی باتیں کر رہی تھی. میں تھوڑی دیر سنتی رہی پھر بوریت کی وجہ سے سونے کو ہی ترجیح دی. تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی.

    رات کے کسی پہر میں میری آنکھ کھلی تو کمرے میں بلکل اندھیرا تھا اور کھسر پھسر کی آواز آ رہی تھی. مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں ابھی تک جاگ رہی ہیں. لیکن اب دونوں بلکل سرگوشی میں باتیں کر رہی تھی.

    میں پھر سے سونے کا سوچ ہی رہی تھی کہ میرے کان میں کچھ ایسے الفاظ ٹکراے کہ میری نیند ہی اڑ گئی.

    میں بلکل ساکت لیٹی ہوئی تھی اور کمرے کی خاموشی میں دونوں کی باتیں غور سے سننے کو کوشش کرنے لگی. تھوڑی دیر کی بعد مجھے ان کی سرگوشی میں ہونے والی باتیں لفظ با لفظ صاف سنائی دینے لگی. جیسے جیسے میں باتیں سن رہی تھی میرا جسم گرم ہو رہا تھا اور شدید سردی میں بھی پسینہ آ رہا تھا. مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسا سب بھی ہو سکتا ہے.

    جب میری آنکھ کھلی تو ان دونوں کے درمیان یہ باتیں چل رہی تھی.
    بشریٰ باجی: اس کا کتنا بڑا ہے؟
    کومل باجی: اب میں نے ناپ کر تو نہیں دیکھا لیکن بڑا ہے.
    بشریٰ باجی ہنستے ہوۓ: تین بار چدوانے کے بعد بھی سائز نہیں پتا.
    کومل باجی: یار بتایا نا کہ تینوں بار بس جلدی میں کرایا اور اتنا موقع نہیں ملا کہ غور سے دیکھ سکوں
    بشریٰ باجی: پہلی بار کہاں چدوایا تھا.
    کومل باجی: تینوں بار اپنے گھر کی چھت پر.
    بشریٰ باجی: چھت پر کہاں؟
    کومل باجی: دو بار ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر اور تیسری بار سٹور میں چارپائی پر.
    بشریٰ باجی: زیادہ مزہ کہاں آیا؟
    کومل باجی: سٹور میں چارپائی پر
    بشریٰ باجی: وہ کیوں؟
    کومل باجی: چارپائی پر لیٹ کر سامنے سے کیا تھا اور پھر تیسری بار تھا تو ٹھیک سے گیا تھا. ٹنکی کے ساتھ پہلی دوسری بار تھا. درد بھی زیادہ ہوا اور پھر کھڑے ہو کر کیا تھا پیچھے سے.
    بشریٰ باجی حیرانگی سے: کیا مطلب؟ تم نے گانڈ مروائی ہے اس سے؟
    کومل باجی: نہیں نہیں.. میرا مطلب اس نے پیچھے سے ڈالا تھا.
    بشریٰ باجی: پیچھے تو گانڈ میں ڈالتے ہیں.
    کومل باجی: ارے نہیں، وہاں نیچے زمین گرم تھی نا تو اس لئے اس نے مجھے کھڑے کھڑے جھکا کر پیچھے والی سائیڈ سے آگے ہی ڈالا تھا
    بشریٰ باجی: آگے کہاں ؟
    کومل باجی: آگے کا مطلب آگے
    بشریٰ باجی: کچھ نام بھی ہوتا ہے آگے کا.
    کومل باجی: مجھے شرم آتی ہے.
    بشریٰ باجی: واہ رے میری شرمیلی.. چدواتے ہوۓ شرم نہیں آ رہی. نام لیتے ہوے آ رہی ہے.
    کومل باجی ہنستے ہوے: پھدی میں ڈالا تھا.
    بشریٰ باجی بھی ہنسنے لگ گیی.
    بشریٰ باجی: گانڈ نہیں مروائی؟
    کومل باجی: اس کو تو بڑا شوق ہے. تیسری بار جب سٹور میں کیا تھا تو کافی کہ رہا تھا کہ پیچھے ڈالتا ہوں مزہ آے گا لیکن میں نہیں مانی. میں نے سنا تھا کہ پیچھے بہت درد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے.
    بشریٰ باجی: کس نے بتایا تمہیں؟ پہلے پہلے تو پھدی میں بھی درد ہوتا ہے. ایسے ہی گانڈ میں بھی ہوتا ہے لیکن گانڈ کا تو الگ ہی مزہ ہے.
    کومل باجی: آپ نے پیچھے کروایا ہوا ہے ؟
    بشریٰ باجی: کافی بار. بلکہ پہلی بار تو ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے گانڈ ماری تھی. اس نے بغیر بتایے گانڈ میں ڈال دیا. میں بلکل تیار نہیں تھی تو میں تو اچھل کر کھڑی ہو گئی. پھر میں نے اس کو گانڈ نہیں دی حالانکہ اس کا لن زیادہ بڑا اور موٹا نہیں تھا.
    کومل باجی: تو پھر تم کیوں کہ رہی ہو کہ گانڈ مروانے میں مزہ آتا ہے.
    بشریٰ باجی: وہ تو ایک بار میرے کالج کے لڑکے نے گانڈ ماری تو بڑا ہی مزہ آیا. حالاں کہ اس کا لن بھی بہت موٹا تھا. وہ کافی بار مجھے کہ چکا تھا لیکن میں نہیں ماں رہی تھی. پھر اس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر مزہ نہیں آے گا تو نہیں کروں گا.
    بس پھر اگلی بار میں بھی کچھ ذہنی طور پر تیار تھی اور اس نے بھی ایسے طریقے سے گانڈ ماری کہ درد تو ہوا لیکن اس میں بھی مزہ تھا.
    کومل باجی: ایسا بھی کیا طریقہ تھا:
    بشریٰ باجی ہنستے ہوے: زیادہ سارا تھوک اور تیل لگا کر.
    بشریٰ باجی: میری چھوڑو اپنا بتاؤ کہ پہلی بار کیسے کیا تھا؟
    کومل باجی: بتایا تو ہے کہ چھت پر ٹنکی کے ساتھ.
    بشریٰ باجی تھوڑا غصے میں بولی: یار جیسے میں نے اپنا تفصیل سے بتایا ہے ویسے بتاؤ. ہر بات تفصیل سے بغیر کسی شرم کے.
    کومل باجی: اچھا بابا بتاتی ہوں ویسے بہت ٹھرکی ہو گئی ہو تم اب.
    بشریٰ باجی: بس یار دو مہینے ہو گئے ہیں لن کی شکل نہیں دیکھی اس لئے ذرا ٹھرک چڑھا ہوا ہے.
    چلو اب شرافت سے سناؤ اور ٹھیک سے سنانا شرم اتار کر.
    کومل باجی ہنستے ہوے: اچھا بابا تو سنو.

    وہ تو میں نے تمہیں بتایا ہی تھا کہ وہ میری اکیڈمی میں پڑھتا ہے. وہیں ہماری دوستی ہوئی. کافی عرصے تک تو میں اس سے بس موبائل میسیجز پر بات کرتی تھی یا اکیڈمی میںتھوڑی بہت بات ہو جاتی تھی.

    ایک دن اس کا میسج آیا کہ اپنی چھت پر آو تمھارے لئے سرپرائز ہے. گرمیوں کی دوپہر کا وقت تھا اور گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی. جب میں چھت پر پہنچی تو اس کو ساتھ والوں کی چھت پر دیکھ کر حیران ہو گیی.

    بشریٰ باجی: وہ وہاں کیسے آ گیا؟
    کومل باجی: ساتھ والا گھر اس کے دوست کا ہے.
    بشریٰ باجی: اچھا پھر؟

    کومل باجی: میں نے اس کو کافی روکا لیکن وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. شکر ہے دوپہر کا وقت تھا تو کسی نے دیکھا نہیں. اس نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا اور گالوں پر کس کیا.
    میں اس کے اس طرح اچانک آنے پر گھبرائی ہوئی تھی. میں نے اس کو کہا کہ کوئی دیکھ لے گا تم جاؤ یہاں سے. اس نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا سامنے والے کمرے میں چلتے ہیں. لیکن میں نے کہا کہ وہ سٹور روم ہے اور اس کا لوہے کا دروازہ بہت آواز کرتا ہے. اگر کھولا تو نیچے امی کو پتا چل جائے گا.

    پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ٹینکی کے پیچھے والی جگہ لے گیا. وہاں تو تمہیں پتا ہی ہے کہ تنگ سی جگہ ہے لیکن وہاں کہیں سے بھی ڈائریکٹ نظر نہیں آتا. اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور بولا جان اتنا مس کر رہا تھا تمہیں اس لیے اس طرح ملنے آ گیا.

    میں نے کہا مجھے ڈر لگ رہا ہے کوئی آ جائے گا. تم جو یہاں سے. اس نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور چومنا شروع کر دیا
    مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکا.

    یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ہمیں اتنا موقع ملا تھا ورنہ اکیڈمی میں تو بس چند سیکنڈ کے لئے نظروں سے بچ کر کس کر لی.

    کس کرتے کرتے اس میں اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز اور دوسرا گانڈ پر رکھ کر دبانے لگا. نیچے سے اس کا لن کبھی میرے پیٹ پر چبھ رہا تھا تو کبھی میری ٹانگوں میں گھس رہا تھا. میں اتنی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو روک ہی نہیں پا رہی تھی. میری آنکھیں بند تھی اور میں بس اس مومنٹ کو اینجوے کر رہی تھی.

    تھوڑی دیر کے بعد مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں اس کا لن گیلا اور گرم محسوس ہوا. میں نے ہاتھ نیچے کیا تو مجھے پتا چلا کہ میری شلوار تھوڑی سی اتری ہوئی ہے اور اس نے بھی پینٹ کی زپ کھول کے لن نکال کر میری ٹانگوں کے درمیان ڈالا ہوا ہے اور آگے پیچھے کر کے پھدی پر لگا رہا ہے.

    بشریٰ باجی: تمہیں پتا ہی نہیں چلا تمہاری شلوار اتارنے کا ؟
    کومل باجی: نہیں میں اتنی مست ہو رہی تھی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے اپنا لن باہر نکالا اور کب میری شلوار نیچے کی.
    بشریٰ باجی: پھر؟
    کومل باجی: میں نے اس کو جلدی سے پیچھے کیا لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ہونٹوں پر کس کر رہا تھا. میں تھوڑی دیر کوشش کرتی رہی پھر میں بھی اس کے لن کو اپنی ٹانگوں میں دبا کر پھدی پر رب کرنے لگ گئی. میں نے سوچا کہ کونسا اندر ڈال رہا ہے تو ایسے ہی مزے تو لوں. اس دوران اس نے دو تین بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ایک تو میں دیوار کا ساتھ لگ کر سیدھی کھڑی ہوئی تھو اور دوسرا میری ٹانگیںبھی زیادہ کھلی ہوئی نہیں تھی. تو بس مجھے اس کا لن اپنی پھدی پر زور سے رب ہوتا محسوس ہوتا اور پھر پھسل جاتا. گرمی بھی بہت تھی اس لئے ہم دونوں پسینے میں ڈوبے ہوے تھے.

    تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا اور گالوں سے کس کرتا کرتا میری گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. گردن پر کس میرے لئے بلکل نیا تجربہ تھا. میں تو اور زیادہ پاگل اور مدہوش ہو گئی. گردن پر کس کرتے کرتے ہی اس نے مجھے گھمایا اور میرا منہ دیوار کی طرف کر کے میرے پیچھے سے گردن پر کس کرنے لگ گیا. اب میں دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور وہ میرے پیچھے سے چپکا ہوا میری گردن پر بے تحاشا کس کر رہا تھا. اس کا لن جو پہلے آگے سے میری ٹانگوں میں پھدی کو لگ رہا تھا اب پیچھے سے میری ٹانگوں میں گھسا ہوا میری پھدی پر محسوس ہو رہا تھا.

    پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کر کے مجھے پکڑا ہوا تھا اور میرے بوبز دبا رہا تھا. پھر وہ اپنا ایک ہاتھ نیچے لے کر گیا. اب اس کا لن کبھی میری پھدی پر لگ رہا تھا اور کبھی میری گانڈ پر چبھ رہا تھا. اس نے ایک دو بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن لن پھدی پر لگ کر پھسل جاتا. میں اس دوران مزے میں مدہوش کھڑی ہوئی تھی.

    پھر اس نے مجھے اسی طرح پکڑے پکڑے دو قدم دیوار سے پیچھے کیا اور کندھے سے پکڑ کر آگے کو جھکا دیا. میں دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھک گئی.

    بشریٰ باجی: اس نے تمہاری شلوار اتار دی. اپنا لن ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور تمہیں سمجھ نہیں آی کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے.

    کومل باجی: مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. مجھے پتا تھا میری شلوار اتری ہوئی ہے اور اس کا لن بھی بار بار لگ رہا تھا. لیکن میں پھر بھی اس کو روک نہیں پا رہی تھی. میری تو مدہوشی میں یہ حالت تھی کہ اس کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان رہی تھی.

    بشریٰ باجی: اچھا پھر؟

    کومل باجی: میں جیسے ہی دیوار پر ہاتھ رکھ کر جھکی تو وہ مجھ سے پیچھے ہٹ گیا اور پیچھے سے میری قمیض اٹھا کر میری کمر پر رکھی اور کمر سے دبا کر تھوڑا اور جھکا دیا. پھر پیچھے سے میری شلوار اور زیادہ نیچے کر دی. اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتی یا سمجھ پاتی کہ میرے پیچھے کیا چل رہا ہے. مجھے اس کا لن اپنی پھدی کو ٹٹولتا ہوا محسوس ہوا. پھر اس نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور دونوں ہاتھوں سے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ لیا. کمر کو پکڑتے ساتھ ہی اس نے پیچھے سے لن کو دھکا لگایا اور اس کا لن میری پھدی میں گھس گیا.

    میں جو ابھی تک مزے میں مدہوش ڈوبی ہوئی تھی اس دردناک حملے کو برداشت نہیں کر سکی اور ہلکی سے چیخ مار کر کھڑی ہوگئی. اس نے مجھے کمر سے پکڑے رکھا اور دھکیلتے ہوے دیوار کا ساتھ لگا لیا لیکن لن کو پھدی سے نہیں نکلنے دیا.

    میں درد سے چلائی: نومی... یہ کیا کر رہے ہو.. باہر نکالو اسے بہت درد ہو رہی ہے
    اس نے مجھے اسی طرح مضبوطی سے پکڑے ہوے کہا: بس جان ہو گیا ہے .. بس بس .. تھوڑی سا اور کرنے دو .. تھوڑا جھکو یار.
    میں نے کہا: میری جان نکل رہی ہے.... پلیز چھوڑو مجھے..
    پھر اس نے مجھے زبردستی جھکا کر تین چار بار پھدی میں لن آگے پیچھے کیا اور لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا.
    مجھے بہت درد ہو رہا تھا تو میں وہیں اپنا پیٹ پکڑ کر زمین پر بیٹھ کر رونے لگ گئی. میں نے اسے دیکھا تو دوسری طرف منہ کر کے لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلا رہا تھا.

    میں ہمت کر کے اٹھی اپنی شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنی پینٹ کی زپ بند کر رہا تھا. میں بس اس کو یہ کہ کر سیڑھیوں کی طرف آ گئی کہ تم جاؤ یہاں سے جلدی.

    میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی اور عجیب سے بدبو بھی آ رہی تھی. میں نیچے آتے ہی سب سے پہلے غسل خانے میں گھسی اور بیٹھ کر رونے لگ گئی. مجھے ایک تو اس پر غصہ تھا اور دوسرا درد کی وجہ سے بھی رونا آ رہا تھا. پھر میں آ کر سو گئی اور شام کو ہی اٹھی


    جاری ہے ...


  2. The Following 2 Users Say Thank You to hiddenlover For This Useful Post:

    abkhan_70 (18-03-2020), Lovelymale (25-03-2020)

  3. #2
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Nice and hot update

    Waiting for next update

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •