اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 14

Thread: میرے پاس تم ہو

  1. #1
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default میرے پاس تم ہو

    یرا نام دلاور ہے ۔۔۔
    میں ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں ۔۔۔۔
    نہ میری کوئی بہن نہیں بھائی ہے ۔۔۔
    میں چودہ سال کا ایک خوبصورت لڑکا ہوں ۔۔۔


    میرا کوئی بھائی بہن نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت خالہ کے گھر گزرتا تھا ۔۔۔


    خالہ کی تیسری نمبر کی بیٹی میری سکول ٹیچر تھی ۔۔۔


    اس لیے سکول سے واپس آنے کے بعد میں ٹیوشن کے لئے کیلئے ان کے گھر چلا جاتا تھا ۔۔۔


    میری خالہ کی پانچ بیٹیاں تھی سب سے بڑی کی شادی ہوچکی تھی ۔۔


    سب سے بڑی بیٹی کا نام شہناز تھا اور اس کے دو بچے بھی تھے


    اس کے بعد گلناز تھی جو 26 سال کی تھی ۔۔۔
    اس کے بعد میری سب سے پیاری ٹیچر میری جان آسیہ تھی ۔۔۔
    ...: جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھی ۔۔ پیار سے پڑھاتی تھی۔۔۔۔ اور پڑھائ میں کمی کی وجہ سے ڈانٹ بھی دیتی تھی۔۔ وہ 22 ڈال کی تھی ابھی خود بھی آگے سٹڈی کر رہی تھی اور ساتھ میں ٹیچنگ بھی کرتی تھی۔۔۔


    اس کے بعد گلشن تھی جو میری ھم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ میری کلاس فیلو بھی تھی۔۔۔


    اور پانچویں بیٹی سارہ تھی جو گھر بھر کی لاڈلی تھی۔۔
    میرے دو خالہ زاد بھائ بھی تھے۔۔۔
    شانی مجھ سے 1 سال چھوٹا تھا اور مانی 3 سال ۔۔۔


    یہ تو ہو گیا تھوڑا سا تعارف۔۔ اب چلتے ھیں سٹوری کی طرف۔۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 29-12-2019 at 07:36 PM.

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Desi lrka For This Useful Post:

    abkhan_70 (29-12-2019), Lovelymale (31-12-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    195
    Thanks Thanks Given 
    148
    Thanks Thanks Received 
    275
    Thanked in
    145 Posts
    Rep Power
    30

    Default

    nice start dear

  4. #3
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    : میرے دسمبر ٹیسٹ قریب آرہے تھے اس لیے اب زیادہ توجہ پڑھائی کے اوپر تھے ۔۔۔۔۔

    ہم سکول سے واپس آرہے تھے کہ ٹیچر آسیہ بولی ۔۔
    دلاور آج تم نے اپنے گھر نہیں جانا سیدھا ادھر ہی چلو گلشن کے ساتھ ٹیسٹ کی تیاری کرو ۔۔۔۔
    میں خاموشی سے ان کے گھر گیا اور جس کمرے میں ہم بیٹھ کر پڑھتے تھے وہاں بیٹھ کر ہم میں پڑھنے لگا ۔۔۔۔
    میں ابھی تک یونیفارم یہی تھا تھوڑی دیر بعد گلشن روم میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

    اس کے ہاتھ میں اپنے دوسرے کپڑے تھے اور وہ یونیفارم تبدیل کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

    گلشن مجھے تھوڑا سا گھورتے ہوئے بولی دلاور تم اپنا منہ دوسری سائیڈ پے کرلو میں نے کپڑے تبدیل کرنے ہیں ۔۔۔

    میں تھوڑا سا غصے میں بولا کہ تمہیں یہی روم ملا ہے کپڑے تبدیل کرنے کو تم جاکر واشروم میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتی۔۔۔

    میں نے یہی کپڑے چینج کرنے ہیں گلشن بھی اپنی بات پر اڑ گئی ۔۔۔

    میں ٹھیک ہے تم اپنے کپڑے یہیں پر تبدیل کر لوں لیکن میں کہیں پہ جانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی سیڈ پہ منہ کروں گا اگر اتنی ضد ہے کپڑے چینج کر لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔

    اور نہ مجھے دلچسپی ہے تمہیں دیکھنے کو ۔۔۔
    کسی جن کی بچی لگتے ہو میرا دماغ خراب ہے کہ تمہیں دیکھوں گا آگئی بڑی باتیں کرنے والی ۔۔۔۔

    میری بات میں اس کو غصہ آگیا اور منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
    ایک تو میرے گھر میں بیٹھے ہوں اوپر سے مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو میں ہنستے ہوئے بولا کہ تیرا گھر تھوڑی ہے میں تو اپنی خالہ کے گھر میں بیٹھا ہوں اور اپنی ٹیچر آسیہ کے گھر بیٹھا ہوں ۔۔۔۔
    اور ویسے بھی تم ایسی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہوں تم کپڑے چینج کر لو میں تمہیں کھا تھوڑی جارہا ہوں ۔۔۔

    گلشن غصے میں بڑائی کے میں کسی سے نھیں ڈرتی ۔۔۔

    میں۔ تو پھر اپنے کپڑے چینج کرلو ۔۔۔
    [12/27, 4:22 pm] ...: گلشن نے اپنے کپڑے کرسی پر پٹکے اور جلدی سے اپنی شلوار نیچے کر دی ۔۔۔
    قمیض آگے ہونے کی وجہ سے مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن نیچے اس کی ٹانگیں ننگی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
    میں آنکھیں پھاڑ کے اس کو ہی دیکھے جا رہا تھا اس وقت تک میرے دماغ میں کوئی بری بات نہیں تھی ۔۔۔
    اس نے شلوار مزید نیچے کرکے اپنے ٹانگوں سے نکال دیں اور گھوم کر دوسری شلوار اٹھانے لگی تو اس کی سفید رانیں میرے سامنے آگئی ۔۔۔
    قمیض کے دونوں پلوں کے درمیان اس کی سفید رانیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

    میں اس کی سفید رانیں دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا گلشن میں تو ایسے ہی بکواس کر رہا تھا تم تو واقعی میں خوبصورت بنتی جارہی ہو ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے دوسری شلوار پہنی اور میری طرف غصے میں دیکھ کر بولی کہ کیا بکواس کرتے ہو میں نے ٹیچر آسیہ کو آپ کی شکایت لگا دینی ہے ۔۔۔

    میں اس کی دھمکی سے ڈر گیا کہ کہیں یہ ٹیچر کو شکایت نہ لگا دے میں اس کی منتیں کرتے ہوئے بولا پلیز گلشن ایسا نہ کرنا ٹیچر آسیہ بہت ڈانٹے گی۔۔

    میری بات سن کے گلشن نے دانت نکالے اور بولی اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو میں نے ٹیچر آسیہ کو جا کے بتا دینا ہے۔۔۔

    اور مجھے حکم دیتے ہوئے بولی تم اب اپنا منہ دوسری طرف کر لو اب میں نے قمیض چینج کرنی ہے ۔۔۔ اب اگر اپنا منہ دوسری طرف نا کیا اور مجھے گھورا تو میں سیدھا ٹیچر آسیہ کے پاس جاؤ گی ۔۔
    ہم ٹیچر آسیہ کو گھر میں بھی ٹیچر ہی کہتے تھے ۔حالانکہ وہ گلشن کی بڑی بہن تھی ۔۔
    میں گلشن کی منت کرتے ہوئے گلشن اگر میں تھوڑا سا دیکھ لوں گا تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
    ویسے بھی تم نے شلوار تو پہن لی ہے ۔۔
    قمیض میرے سامنے اتار بھی لوں گی تو کیا پرابلم ہوگی
    ۔۔
    گلشن تھوڑا سا دانت نکلتے ہوئے نہیں مجھے شرم آتی ہے آپ تو دوسری طرف کرو ۔۔۔


    میں نے تھوڑا سا اس کی تعریف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی آپ نے مجھے خوبصورت چیز کو دیکھنے نہیں دیا ۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا پیچھے سے مجھے گلشن کی ہنسنے کی آواز آئی اور وہ بولی کہ آج خیریت ہے آج میں آپ کو کہاں سے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
    اگر مجھے دیکھنے دیتی تو میں آپ کو بتاتا نہ کہ آپ کہاں سے اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔
    تم نے میرا منہ دوسری طرف کر دیا تو آپ کو کیسے بتاؤں ۔۔۔

    اتنی دیر میں گلشن نے اپنا قمیض چینج کر لیا تھا ۔۔۔

    اب اپنا منہ اس طرف کرلو گلشن کی آواز آئی ۔۔۔۔
    تو میں نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو دیکھا کہ گلشن نے اپنی قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا ۔۔۔
    اس کا سفید پیٹ دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
    پیٹ کے درمیان خوبصورت ناف دیکھ کر میرے لنڈ میں ہلچل مچنے لگی ۔۔۔

    ابھی میں اس کے سیکسی پیٹ میں کھویا ہی ہوا تھا کہ اس نے قمیض نیچے کی اور اپنی یونیفارم اٹھاتے ہوئے باہر بھاگ گئی ۔۔۔
    اور میں اپنی پینٹ میں اپنا لنڈ کو مسلتے ہوئے رہ گیا ۔۔۔
    14 سال کی عمر میں ہی میرا لنڈ کافی اچھا تھا ۔۔۔
    میں نے سیکس کے بارے میں لڑکوں سے بہت کچھ سن رکھا تھا ۔

    .: لیکن میں نے آج تک کبھی کچھ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی نوبت آئی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی مٹھ لگائی تھی ۔۔۔

    گلشن کے ساتھ میں دن بھر کھیلتا رہتا تھا اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی ہوتی رہتی تھی اور ہم لڑائی بھی کرتے رہتے تھے لیکن ایسی نوبت آج تک نہیں آئی تھی ۔۔۔
    لیکن آج اسے اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے بہت مزہ آیا ۔۔۔
    میں ابھی مزید چاہتا تھا کہ اسے تھوڑی دیر تک اور دیکھو لیکن وہ تو کبھی کی بھاگ گئی تھی ۔۔۔

    میری پینٹ میں ہلچل مچ چکی تھی ۔۔۔
    لیکن میں اپنے دماغ کو دوسری طرف متوجہ کیا اور پڑھائی کرنے لگ گیا ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی تھوڑی دیر بعد ٹیچر آسیہ بھی آ گئی تھی اور مجھے پڑھانے لگ گئی گلشن بھی آ گئی اور پڑھنے لگی ۔۔۔

    اور ٹیچر آسیہ کے ہوتے ہوئے ہم دونوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا مجال ہے کہ ہم کوئی بات بھی کر جائیں ۔۔۔
    دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ہمیں کھانے کی اجازت ملی اور ساتھ میں کھیلنے کی بھی اجازت ملی ۔۔۔
    آج میں نے بھی کھانا خالہ کے گھر ہی کھایا اور تھوڑی دیر بعد میں گلشن اور ہمارے ساتھ ان کی چھوٹی بہن سارا بھی چل پڑیں ۔۔۔

    ہم زیادہ تر اپنے ہی کھیتوں میں کھیلتے تھے ۔۔۔۔
    گلشن کے ابو کی کافی ساری زمین تھی ۔۔۔
    مکئی کی فصل کافی بڑی ہو چکی تھی اور ہم ان کے درمیان چلتے ہوئے کافی آگے آگئے تھے ۔۔۔
    میرے دل میں ابھی تک وہی بات گھوم رہی تھی ۔۔۔
    اور میرا دل کر رہا تھا کہ میں ایک بار پھر گلشن کا پیٹ دیکھو ۔۔۔
    لیکن میں ڈر بھی رہا تھا اور ہمارے ساتھ سارا بھی تھی ۔۔۔
    اگر گلشن مان بھی جاتی تو سارا ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے
    لشن میری خاموشی کو بھانپ گئی اور منہ میری طرف کرتے ہوئے بولی دلاروخیریت ہے چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔

    میں نہیں گلشن ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے آپ بھی تو خاموش ہوں آپ کونسا بول رہی ہو ۔۔۔۔

    گلشن ادھرادھر نظریں گھماتی ہوئی بولی آج تو کوئی بچہ کھیلنے والا بھی نہیں آیا ۔۔۔
    گلشن اس لیے کہہ رہی تھی کیونکہ شام کے وقت کافی سارے بچے ادھر ادھر سے کھیلنے آجاتے تھے اور ہم لکن چھپائ کھیلتے تھے ۔۔۔

    لیکن آج سردی کافی زیادہ تھی اس لئے کوئی بھی بچہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

    میں گلشن کو بولا کہ آج سردی کافی زیادہ ہے اور دھند کافی ہے اس لیے شاید کوئی بھی بچہ نہیں آئے گا اور آج ہم کھیل نہیں سکیں گے ۔۔۔۔
    ہم دونوں کی بات سن کے سارا بولی لیکن ہم تین تو ہیں ہم تو کھیلیں ۔۔۔
    آپ دونوں جا کر چھپ جائیں میں آپ دونوں کو تلاش کرو گی۔۔

    گلشن سارا کی بات سن کر بولی سارا تم ہمیں نہیں تلاش کر سکوں گی تو تھک جاؤ گی ۔۔۔

    مجھے گلشن کے ساتھ اکیلا ہونے کا موقع مل رہا تھا اور میں یہ موقع کیسے ضائع ہونے دیتا ۔۔۔

    میں نے گلشن کو کہا کہ سارا بہت چلا کہ ہمیں تلاش کرلے گی او ہم چھپ جاتے ہیں ۔۔۔

    میں گلشن کی بازوں کو پکڑے ایک سائیڈ پر چل پڑا

    اور جہاں مکئی کی فصل بہت زیادہ گنی تھی ادھر جا کر ہم چھپ گئے ۔۔۔

    میری نظر گلشن کے چہرے پر ہی تھی اور یہ میں موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کہ گلشن کو کیسے بولوں ۔۔۔

    گلشن مجھے گھورتےہوئے بولی کہ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو ۔۔۔

    میں تقریبا گلشن کی طرف منت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    گلشن میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
    گلشن کو بھی شاید میری بات کی سمجھ لگ چکی تھی اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا تے ہوئے بولی ۔۔
    ہاں بولو کیا کہنا ہے میں تھوڑا سا اور زیادہ اس کے قریب ہوگیا دیکھو گلشن ۔۔۔کسی کو بتانا بھی نہیں۔۔۔


    ..: گلشن میرے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے سمٹ کر بیٹھ گئی اور بولی میں کسی کو نہیں بتاتی لیکن بتاؤ تو سہی تم نے کیا کہنا ہے ۔۔۔
    میں ڈر کی وجہ سے اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر اس کو بات بری لگی اور اس نے ٹیچر اس سے کو بتا دیا تو بہت برا ہوگا ۔۔۔
    گلشن میرے ہاتھ کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی کہ دلاور کیا سوچ رہے ہو اور کیوں پریشان ہو ۔۔۔
    ...: میں نے گلشن کا ہاتھ پکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
    گلشن میں نے آپ کو ایک بار پھر دیکھنا ہے ۔۔


    گلشن ہنستے ہوئے بولی اب کیا کر رہے ہو ۔۔
    اب بھی تو دیکھ رہے ہو ۔۔


    نہیں گلشن ایسے نہیں میں تھوڑا سا چڑھتے ہوئے بولا ۔۔


    تو کیسے دیکھنا ہے گلشن بھی میرا مذاق بنا رہی تھی ۔۔۔


    میں مسکراتے ہوئے بولا جیسے سکول سے واپسی کے بعد دیکھا تھا ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے میرا ہاتھ پٹک دیا اور بولیں چل گندے شرم نہیں آتی ۔۔
    اور وہ اٹھ کر جانے لگی مجھے اپنا کام بگڑتا ہوا نظر آ رہا تھا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
    اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولا دی گلشن میں تیری ہر بات مانتا ہوں یہ میری بات مان لو نا ۔۔
    گلشن تھوڑا غصہ دکھاتے ہوئے بولی نہیں دلاوریہ غلط بات ہے ۔ ۔۔
    نہیں گلشن کوئی غلط بات نہیں ہے ہم غلط کام کرنا تھوڑی جا رہے ہیں میں نے صرف آپ کا پیٹ دیکھنا ہے ۔۔۔


    مجھے اس وقت آپ کا پیٹ دیکھ کے بہت اچھا لگا ۔۔۔
    اور اس وقت کے بعد سے میرا بار بار دل کر رہا ہے کہ میں دوبارہ آپ کو دیکھو ۔۔


    گلشن تھوڑا سا طنزیہ لہجے میں بولی کہ ویسےتو مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن آج اتنی منت کیوں کر رہے ہو ۔۔۔
    میں تھوڑا شرمندہ لہجے میں بولا مجھے خود کو بھی سمجھ نہیں آرہی لیکن مجھے ہر حال میں دیکھنا ہے ۔۔۔
    گلشن مزید غصے میں ہوگی اور چیختے ہوئے بولی دلاور دماغ خراب ہے ۔۔۔
    ایک دفعہ میں نے منع کر دیا نا کہ میں نے نہیں دکھانا آپ اگر بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا یہ کہہ کر وہ مجھ سے اپنا ہاتھ چھوڑ آتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔


    مجھے اس کے اس طرح انکار پر بہت رونا آیا اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔


    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں ۔۔


    ہم چاہے آپس میں جتنا بھی لڑتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے کی بات کو رد نہیں کرتے تھے ۔۔
    لیکن آج جس طرح وہ مجھے ذلیل کرکے گئی تھی تو مجھے بہت برا لگا تھا ۔۔۔
    ہماری عمر ابھی اتنی بڑی نہیں تھی اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا آ جاتا تھا ۔۔۔۔


    کافی دیر رونےکے بعد جب میرا غصہ تھوڑا ہلکا ہوا تو میں وہاں سے نکل کر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔
    کیوں کہ میرا سکول بیگ وہیں پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔
    جیسے ہی میں خالہ کے گھر داخل ہوا سامنے گلناز آپی کھڑی ہوئی تھی ۔۔
    میرا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹینشن میں میری طرف بڑھی۔ ۔اور بولی دلاور تمہیں کیا ہوا ہے اور تم رو کیوں رہے ہو ۔۔۔
    ...: میں اس کے باتکو ان سنی کرتے ہوئے سیدھا کمرے میں گیا اور اپنا بیگ اٹھا کر سیدھا اپنے گھر آگیا ۔۔۔
    میرا روتا چہرہ دیکھ کر امی میرے پاس آئی اور مجھے پیار کرنے لگی اس کو بھی یقین ہو گیا تھا کہ آج پھر گلشن کے ساتھ لڑائی کرکے آیا ہوگا ۔۔۔
    اور میں غصّے میں بولا امی آج کے بعد میں خالہ کے گھر نہیں جاؤں گا اور نہ ہی مجھے اس سکول میں پڑھنا ہے جس میں گلشن پڑھتی ہے ۔۔
    امی بھی میرا دل رکھتے ہوئے بولی کوئی بات نہیں بیٹا تم نہ جانا بس یہی ٹیسٹ دے لو اس کے بعد ہم آپ کا دوسرے سکول میں داخلہ کروا دیں گے ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔۔۔
    میرا روزمرہ کا یہی معمول رہا سکول سے سیدھا خالہ کے گھر واپس آتا ٹیچر آسیہ سے پڑھتا اور سیدھا گھر واپس آجاتا ۔۔۔
    گلشن نے ایک دو بار مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
    دسمبر ٹیسٹ کے بعد ہمیں چھٹیاں ہوگئ
    ایک دو دفعہ ٹیچر آسیہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی لیکن میں بات کو ٹال گیا ۔۔۔
    چھٹیاں ہونے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا ۔۔۔
    مجھے ایسے محسوس ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کو پکڑا ہوا ہے ۔۔۔۔
    پہلے تو میں نے اپنا وہم سمجھا لیکن ساتھ ہی مجھے کسی کی رونے کی آواز آئی تو میں فورا اٹھ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
    گلشن کو روتا دیکھ کر میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں نے اس کو فورا کندھوں سے پکڑا اور اپنے ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا ۔۔۔

    گلشن روتے ہوئے بولی دیکھو دلاور اتنا بھی ناراض نہیں ہوتے تمہیں پتا ہے کہ میں تیرے ساتھ تیرے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کھیلتی ۔۔۔۔


    دس دنوں سے تم بات ہی نہیں کر رہے تو مجھے بہت برا لگ رہا ہے ۔۔۔
    میں تھوڑا سا مسکراتے ہوئے بولا شکر ہے کہ میرا اتنا احساس بھی کرتی ہوں مجھے بھی اتنا یاد کرتی ہوں کہ میرے بغیر تیرے دن بھی اچھے نہیں گزرتے۔۔
    میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید کہ تیرے دل میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔
    اس لیے تو تم نے میری بات کو ہی نہیں مانا تھا اور مجھے غصہ کر کے چلی گئی تھی ۔۔
    گلشن نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی دلاور ۔۔۔
    تم نے میرا جو کچھ بھی دیکھنا ہے دیکھ لو لیکن ناراض نہیں ہونا میں آپ کے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔
    ہم جیسے پہلے اچھے دوست تھے ویسے ہی اچھے دوست بن کے رہیں گے ۔۔۔
    اور اگر آج آپ میرے ساتھ صلح نہ کی تو آپ ایک بہت ہی اچھی چیز سے محروم رہ جاؤ گے ۔۔۔
    میں تھوڑا حیرانگی سے ۔۔۔کس چیز سے محروم رہ جاؤں گا وہ کیا اچھی چیز ہے ۔۔۔

  5. The Following User Says Thank You to Desi lrka For This Useful Post:

    Lovelymale (31-12-2019)

  6. #4
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    : میرے دسمبر ٹیسٹ قریب آرہے تھے اس لیے اب زیادہ توجہ پڑھائی کے اوپر تھے ۔۔۔۔۔

    ہم سکول سے واپس آرہے تھے کہ ٹیچر آسیہ بولی ۔۔
    دلاور آج تم نے اپنے گھر نہیں جانا سیدھا ادھر ہی چلو گلشن کے ساتھ ٹیسٹ کی تیاری کرو ۔۔۔۔
    میں خاموشی سے ان کے گھر گیا اور جس کمرے میں ہم بیٹھ کر پڑھتے تھے وہاں بیٹھ کر ہم میں پڑھنے لگا ۔۔۔۔
    میں ابھی تک یونیفارم یہی تھا تھوڑی دیر بعد گلشن روم میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

    اس کے ہاتھ میں اپنے دوسرے کپڑے تھے اور وہ یونیفارم تبدیل کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

    گلشن مجھے تھوڑا سا گھورتے ہوئے بولی دلاور تم اپنا منہ دوسری سائیڈ پے کرلو میں نے کپڑے تبدیل کرنے ہیں ۔۔۔

    میں تھوڑا سا غصے میں بولا کہ تمہیں یہی روم ملا ہے کپڑے تبدیل کرنے کو تم جاکر واشروم میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتی۔۔۔

    میں نے یہی کپڑے چینج کرنے ہیں گلشن بھی اپنی بات پر اڑ گئی ۔۔۔

    میں ٹھیک ہے تم اپنے کپڑے یہیں پر تبدیل کر لوں لیکن میں کہیں پہ جانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی سیڈ پہ منہ کروں گا اگر اتنی ضد ہے کپڑے چینج کر لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔

    اور نہ مجھے دلچسپی ہے تمہیں دیکھنے کو ۔۔۔
    کسی جن کی بچی لگتے ہو میرا دماغ خراب ہے کہ تمہیں دیکھوں گا آگئی بڑی باتیں کرنے والی ۔۔۔۔

    میری بات میں اس کو غصہ آگیا اور منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
    ایک تو میرے گھر میں بیٹھے ہوں اوپر سے مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو میں ہنستے ہوئے بولا کہ تیرا گھر تھوڑی ہے میں تو اپنی خالہ کے گھر میں بیٹھا ہوں اور اپنی ٹیچر آسیہ کے گھر بیٹھا ہوں ۔۔۔۔
    اور ویسے بھی تم ایسی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہوں تم کپڑے چینج کر لو میں تمہیں کھا تھوڑی جارہا ہوں ۔۔۔

    گلشن غصے میں بڑائی کے میں کسی سے نھیں ڈرتی ۔۔۔

    میں۔ تو پھر اپنے کپڑے چینج کرلو ۔۔۔
    [12/27, 4:22 pm] ...: گلشن نے اپنے کپڑے کرسی پر پٹکے اور جلدی سے اپنی شلوار نیچے کر دی ۔۔۔
    قمیض آگے ہونے کی وجہ سے مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن نیچے اس کی ٹانگیں ننگی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
    میں آنکھیں پھاڑ کے اس کو ہی دیکھے جا رہا تھا اس وقت تک میرے دماغ میں کوئی بری بات نہیں تھی ۔۔۔
    اس نے شلوار مزید نیچے کرکے اپنے ٹانگوں سے نکال دیں اور گھوم کر دوسری شلوار اٹھانے لگی تو اس کی سفید رانیں میرے سامنے آگئی ۔۔۔
    قمیض کے دونوں پلوں کے درمیان اس کی سفید رانیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

    میں اس کی سفید رانیں دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا گلشن میں تو ایسے ہی بکواس کر رہا تھا تم تو واقعی میں خوبصورت بنتی جارہی ہو ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے دوسری شلوار پہنی اور میری طرف غصے میں دیکھ کر بولی کہ کیا بکواس کرتے ہو میں نے ٹیچر آسیہ کو آپ کی شکایت لگا دینی ہے ۔۔۔

    میں اس کی دھمکی سے ڈر گیا کہ کہیں یہ ٹیچر کو شکایت نہ لگا دے میں اس کی منتیں کرتے ہوئے بولا پلیز گلشن ایسا نہ کرنا ٹیچر آسیہ بہت ڈانٹے گی۔۔

    میری بات سن کے گلشن نے دانت نکالے اور بولی اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو میں نے ٹیچر آسیہ کو جا کے بتا دینا ہے۔۔۔

    اور مجھے حکم دیتے ہوئے بولی تم اب اپنا منہ دوسری طرف کر لو اب میں نے قمیض چینج کرنی ہے ۔۔۔ اب اگر اپنا منہ دوسری طرف نا کیا اور مجھے گھورا تو میں سیدھا ٹیچر آسیہ کے پاس جاؤ گی ۔۔
    ہم ٹیچر آسیہ کو گھر میں بھی ٹیچر ہی کہتے تھے ۔حالانکہ وہ گلشن کی بڑی بہن تھی ۔۔
    میں گلشن کی منت کرتے ہوئے گلشن اگر میں تھوڑا سا دیکھ لوں گا تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
    ویسے بھی تم نے شلوار تو پہن لی ہے ۔۔
    قمیض میرے سامنے اتار بھی لوں گی تو کیا پرابلم ہوگی
    ۔۔
    گلشن تھوڑا سا دانت نکلتے ہوئے نہیں مجھے شرم آتی ہے آپ تو دوسری طرف کرو ۔۔۔


    میں نے تھوڑا سا اس کی تعریف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی آپ نے مجھے خوبصورت چیز کو دیکھنے نہیں دیا ۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا پیچھے سے مجھے گلشن کی ہنسنے کی آواز آئی اور وہ بولی کہ آج خیریت ہے آج میں آپ کو کہاں سے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
    اگر مجھے دیکھنے دیتی تو میں آپ کو بتاتا نہ کہ آپ کہاں سے اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔
    تم نے میرا منہ دوسری طرف کر دیا تو آپ کو کیسے بتاؤں ۔۔۔

    اتنی دیر میں گلشن نے اپنا قمیض چینج کر لیا تھا ۔۔۔

    اب اپنا منہ اس طرف کرلو گلشن کی آواز آئی ۔۔۔۔
    تو میں نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو دیکھا کہ گلشن نے اپنی قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا ۔۔۔
    اس کا سفید پیٹ دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
    پیٹ کے درمیان خوبصورت ناف دیکھ کر میرے لنڈ میں ہلچل مچنے لگی ۔۔۔

    ابھی میں اس کے سیکسی پیٹ میں کھویا ہی ہوا تھا کہ اس نے قمیض نیچے کی اور اپنی یونیفارم اٹھاتے ہوئے باہر بھاگ گئی ۔۔۔
    اور میں اپنی پینٹ میں اپنا لنڈ کو مسلتے ہوئے رہ گیا ۔۔۔
    14 سال کی عمر میں ہی میرا لنڈ کافی اچھا تھا ۔۔۔
    میں نے سیکس کے بارے میں لڑکوں سے بہت کچھ سن رکھا تھا ۔

    .: لیکن میں نے آج تک کبھی کچھ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی نوبت آئی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی مٹھ لگائی تھی ۔۔۔

    گلشن کے ساتھ میں دن بھر کھیلتا رہتا تھا اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی ہوتی رہتی تھی اور ہم لڑائی بھی کرتے رہتے تھے لیکن ایسی نوبت آج تک نہیں آئی تھی ۔۔۔
    لیکن آج اسے اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے بہت مزہ آیا ۔۔۔
    میں ابھی مزید چاہتا تھا کہ اسے تھوڑی دیر تک اور دیکھو لیکن وہ تو کبھی کی بھاگ گئی تھی ۔۔۔

    میری پینٹ میں ہلچل مچ چکی تھی ۔۔۔
    لیکن میں اپنے دماغ کو دوسری طرف متوجہ کیا اور پڑھائی کرنے لگ گیا ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی تھوڑی دیر بعد ٹیچر آسیہ بھی آ گئی تھی اور مجھے پڑھانے لگ گئی گلشن بھی آ گئی اور پڑھنے لگی ۔۔۔

    اور ٹیچر آسیہ کے ہوتے ہوئے ہم دونوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا مجال ہے کہ ہم کوئی بات بھی کر جائیں ۔۔۔
    دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ہمیں کھانے کی اجازت ملی اور ساتھ میں کھیلنے کی بھی اجازت ملی ۔۔۔
    آج میں نے بھی کھانا خالہ کے گھر ہی کھایا اور تھوڑی دیر بعد میں گلشن اور ہمارے ساتھ ان کی چھوٹی بہن سارا بھی چل پڑیں ۔۔۔

    ہم زیادہ تر اپنے ہی کھیتوں میں کھیلتے تھے ۔۔۔۔
    گلشن کے ابو کی کافی ساری زمین تھی ۔۔۔
    مکئی کی فصل کافی بڑی ہو چکی تھی اور ہم ان کے درمیان چلتے ہوئے کافی آگے آگئے تھے ۔۔۔
    میرے دل میں ابھی تک وہی بات گھوم رہی تھی ۔۔۔
    اور میرا دل کر رہا تھا کہ میں ایک بار پھر گلشن کا پیٹ دیکھو ۔۔۔
    لیکن میں ڈر بھی رہا تھا اور ہمارے ساتھ سارا بھی تھی ۔۔۔
    اگر گلشن مان بھی جاتی تو سارا ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے
    لشن میری خاموشی کو بھانپ گئی اور منہ میری طرف کرتے ہوئے بولی دلاروخیریت ہے چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔

    میں نہیں گلشن ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے آپ بھی تو خاموش ہوں آپ کونسا بول رہی ہو ۔۔۔۔

    گلشن ادھرادھر نظریں گھماتی ہوئی بولی آج تو کوئی بچہ کھیلنے والا بھی نہیں آیا ۔۔۔
    گلشن اس لیے کہہ رہی تھی کیونکہ شام کے وقت کافی سارے بچے ادھر ادھر سے کھیلنے آجاتے تھے اور ہم لکن چھپائ کھیلتے تھے ۔۔۔

    لیکن آج سردی کافی زیادہ تھی اس لئے کوئی بھی بچہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

    میں گلشن کو بولا کہ آج سردی کافی زیادہ ہے اور دھند کافی ہے اس لیے شاید کوئی بھی بچہ نہیں آئے گا اور آج ہم کھیل نہیں سکیں گے ۔۔۔۔
    ہم دونوں کی بات سن کے سارا بولی لیکن ہم تین تو ہیں ہم تو کھیلیں ۔۔۔
    آپ دونوں جا کر چھپ جائیں میں آپ دونوں کو تلاش کرو گی۔۔

    گلشن سارا کی بات سن کر بولی سارا تم ہمیں نہیں تلاش کر سکوں گی تو تھک جاؤ گی ۔۔۔

    مجھے گلشن کے ساتھ اکیلا ہونے کا موقع مل رہا تھا اور میں یہ موقع کیسے ضائع ہونے دیتا ۔۔۔

    میں نے گلشن کو کہا کہ سارا بہت چلا کہ ہمیں تلاش کرلے گی او ہم چھپ جاتے ہیں ۔۔۔

    میں گلشن کی بازوں کو پکڑے ایک سائیڈ پر چل پڑا

    اور جہاں مکئی کی فصل بہت زیادہ گنی تھی ادھر جا کر ہم چھپ گئے ۔۔۔

    میری نظر گلشن کے چہرے پر ہی تھی اور یہ میں موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کہ گلشن کو کیسے بولوں ۔۔۔

    گلشن مجھے گھورتےہوئے بولی کہ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو ۔۔۔

    میں تقریبا گلشن کی طرف منت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    گلشن میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
    گلشن کو بھی شاید میری بات کی سمجھ لگ چکی تھی اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا تے ہوئے بولی ۔۔
    ہاں بولو کیا کہنا ہے میں تھوڑا سا اور زیادہ اس کے قریب ہوگیا دیکھو گلشن ۔۔۔کسی کو بتانا بھی نہیں۔۔۔


    ..: گلشن میرے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے سمٹ کر بیٹھ گئی اور بولی میں کسی کو نہیں بتاتی لیکن بتاؤ تو سہی تم نے کیا کہنا ہے ۔۔۔
    میں ڈر کی وجہ سے اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر اس کو بات بری لگی اور اس نے ٹیچر اس سے کو بتا دیا تو بہت برا ہوگا ۔۔۔
    گلشن میرے ہاتھ کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی کہ دلاور کیا سوچ رہے ہو اور کیوں پریشان ہو ۔۔۔
    ...: میں نے گلشن کا ہاتھ پکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
    گلشن میں نے آپ کو ایک بار پھر دیکھنا ہے ۔۔


    گلشن ہنستے ہوئے بولی اب کیا کر رہے ہو ۔۔
    اب بھی تو دیکھ رہے ہو ۔۔


    نہیں گلشن ایسے نہیں میں تھوڑا سا چڑھتے ہوئے بولا ۔۔


    تو کیسے دیکھنا ہے گلشن بھی میرا مذاق بنا رہی تھی ۔۔۔


    میں مسکراتے ہوئے بولا جیسے سکول سے واپسی کے بعد دیکھا تھا ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے میرا ہاتھ پٹک دیا اور بولیں چل گندے شرم نہیں آتی ۔۔
    اور وہ اٹھ کر جانے لگی مجھے اپنا کام بگڑتا ہوا نظر آ رہا تھا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
    اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولا دی گلشن میں تیری ہر بات مانتا ہوں یہ میری بات مان لو نا ۔۔
    گلشن تھوڑا غصہ دکھاتے ہوئے بولی نہیں دلاوریہ غلط بات ہے ۔ ۔۔
    نہیں گلشن کوئی غلط بات نہیں ہے ہم غلط کام کرنا تھوڑی جا رہے ہیں میں نے صرف آپ کا پیٹ دیکھنا ہے ۔۔۔


    مجھے اس وقت آپ کا پیٹ دیکھ کے بہت اچھا لگا ۔۔۔
    اور اس وقت کے بعد سے میرا بار بار دل کر رہا ہے کہ میں دوبارہ آپ کو دیکھو ۔۔


    گلشن تھوڑا سا طنزیہ لہجے میں بولی کہ ویسےتو مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن آج اتنی منت کیوں کر رہے ہو ۔۔۔
    میں تھوڑا شرمندہ لہجے میں بولا مجھے خود کو بھی سمجھ نہیں آرہی لیکن مجھے ہر حال میں دیکھنا ہے ۔۔۔
    گلشن مزید غصے میں ہوگی اور چیختے ہوئے بولی دلاور دماغ خراب ہے ۔۔۔
    ایک دفعہ میں نے منع کر دیا نا کہ میں نے نہیں دکھانا آپ اگر بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا یہ کہہ کر وہ مجھ سے اپنا ہاتھ چھوڑ آتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔


    مجھے اس کے اس طرح انکار پر بہت رونا آیا اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔


    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں ۔۔


    ہم چاہے آپس میں جتنا بھی لڑتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے کی بات کو رد نہیں کرتے تھے ۔۔
    لیکن آج جس طرح وہ مجھے ذلیل کرکے گئی تھی تو مجھے بہت برا لگا تھا ۔۔۔
    ہماری عمر ابھی اتنی بڑی نہیں تھی اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا آ جاتا تھا ۔۔۔۔


    کافی دیر رونےکے بعد جب میرا غصہ تھوڑا ہلکا ہوا تو میں وہاں سے نکل کر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔
    کیوں کہ میرا سکول بیگ وہیں پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔
    جیسے ہی میں خالہ کے گھر داخل ہوا سامنے گلناز آپی کھڑی ہوئی تھی ۔۔
    میرا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹینشن میں میری طرف بڑھی۔ ۔اور بولی دلاور تمہیں کیا ہوا ہے اور تم رو کیوں رہے ہو ۔۔۔
    ...: میں اس کے باتکو ان سنی کرتے ہوئے سیدھا کمرے میں گیا اور اپنا بیگ اٹھا کر سیدھا اپنے گھر آگیا ۔۔۔
    میرا روتا چہرہ دیکھ کر امی میرے پاس آئی اور مجھے پیار کرنے لگی اس کو بھی یقین ہو گیا تھا کہ آج پھر گلشن کے ساتھ لڑائی کرکے آیا ہوگا ۔۔۔
    اور میں غصّے میں بولا امی آج کے بعد میں خالہ کے گھر نہیں جاؤں گا اور نہ ہی مجھے اس سکول میں پڑھنا ہے جس میں گلشن پڑھتی ہے ۔۔
    امی بھی میرا دل رکھتے ہوئے بولی کوئی بات نہیں بیٹا تم نہ جانا بس یہی ٹیسٹ دے لو اس کے بعد ہم آپ کا دوسرے سکول میں داخلہ کروا دیں گے ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔۔۔
    میرا روزمرہ کا یہی معمول رہا سکول سے سیدھا خالہ کے گھر واپس آتا ٹیچر آسیہ سے پڑھتا اور سیدھا گھر واپس آجاتا ۔۔۔
    گلشن نے ایک دو بار مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
    دسمبر ٹیسٹ کے بعد ہمیں چھٹیاں ہوگئ
    ایک دو دفعہ ٹیچر آسیہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی لیکن میں بات کو ٹال گیا ۔۔۔
    چھٹیاں ہونے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا ۔۔۔
    مجھے ایسے محسوس ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کو پکڑا ہوا ہے ۔۔۔۔
    پہلے تو میں نے اپنا وہم سمجھا لیکن ساتھ ہی مجھے کسی کی رونے کی آواز آئی تو میں فورا اٹھ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
    گلشن کو روتا دیکھ کر میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں نے اس کو فورا کندھوں سے پکڑا اور اپنے ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا ۔۔۔

    گلشن روتے ہوئے بولی دیکھو دلاور اتنا بھی ناراض نہیں ہوتے تمہیں پتا ہے کہ میں تیرے ساتھ تیرے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کھیلتی ۔۔۔۔


    دس دنوں سے تم بات ہی نہیں کر رہے تو مجھے بہت برا لگ رہا ہے ۔۔۔
    میں تھوڑا سا مسکراتے ہوئے بولا شکر ہے کہ میرا اتنا احساس بھی کرتی ہوں مجھے بھی اتنا یاد کرتی ہوں کہ میرے بغیر تیرے دن بھی اچھے نہیں گزرتے۔۔
    میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید کہ تیرے دل میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔
    اس لیے تو تم نے میری بات کو ہی نہیں مانا تھا اور مجھے غصہ کر کے چلی گئی تھی ۔۔
    گلشن نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی دلاور ۔۔۔
    تم نے میرا جو کچھ بھی دیکھنا ہے دیکھ لو لیکن ناراض نہیں ہونا میں آپ کے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔
    ہم جیسے پہلے اچھے دوست تھے ویسے ہی اچھے دوست بن کے رہیں گے ۔۔۔
    اور اگر آج آپ میرے ساتھ صلح نہ کی تو آپ ایک بہت ہی اچھی چیز سے محروم رہ جاؤ گے ۔۔۔
    میں تھوڑا حیرانگی سے ۔۔۔کس چیز سے محروم رہ جاؤں گا وہ کیا اچھی چیز ہے ۔۔۔

  7. The Following User Says Thank You to Desi lrka For This Useful Post:

    Lovelymale (31-12-2019)

  8. #5
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    یہ میری پہلی کہانی ہے اس میں اگر کوئی غلطی ہو تو اعتراض نہیں کرنا ۔۔
    بس کمنٹ میں اس غلطی کی اصلاح کر دینا آگے میں ٹھیک کرتا جاؤں گا ۔۔۔۔
    باقی کامنٹ میں بتا دینا کہ میرے لکھنے کا طریقہ کیسا ہے

  9. #6
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    یہ میری پہلی کہانی ہے اس میں اگر کوئی غلطی ہو تو اعتراض نہیں کرنا ۔۔
    بس کمنٹ میں اس غلطی کی اصلاح کر دینا آگے میں ٹھیک کرتا جاؤں گا ۔۔۔۔
    باقی کامنٹ میں بتا دینا کہ میرے لکھنے کا طریقہ کیسا ہے

  10. #7
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    ظططط

  11. #8
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    United States of America
    Posts
    17
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    28
    Thanked in
    12 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    یرے دسمبر ٹیسٹ قریب آرہے تھے اس لیے اب زیادہ توجہ پڑھائی کے اوپر تھے ۔۔۔۔۔

    ہم سکول سے واپس آرہے تھے کہ ٹیچر آسیہ بولی ۔۔
    دلاور آج تم نے اپنے گھر نہیں جانا سیدھا ادھر ہی چلو گلشن کے ساتھ ٹیسٹ کی تیاری کرو ۔۔۔۔
    میں خاموشی سے ان کے گھر گیا اور جس کمرے میں ہم بیٹھ کر پڑھتے تھے وہاں بیٹھ کر ہم میں پڑھنے لگا ۔۔۔۔
    میں ابھی تک یونیفارم یہی تھا تھوڑی دیر بعد گلشن روم میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

    اس کے ہاتھ میں اپنے دوسرے کپڑے تھے اور وہ یونیفارم تبدیل کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

    گلشن مجھے تھوڑا سا گھورتے ہوئے بولی دلاور تم اپنا منہ دوسری سائیڈ پے کرلو میں نے کپڑے تبدیل کرنے ہیں ۔۔۔

    میں تھوڑا سا غصے میں بولا کہ تمہیں یہی روم ملا ہے کپڑے تبدیل کرنے کو تم جاکر واشروم میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتی۔۔۔

    میں نے یہی کپڑے چینج کرنے ہیں گلشن بھی اپنی بات پر اڑ گئی ۔۔۔

    میں ٹھیک ہے تم اپنے کپڑے یہیں پر تبدیل کر لوں لیکن میں کہیں پہ جانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی سیڈ پہ منہ کروں گا اگر اتنی ضد ہے کپڑے چینج کر لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔

    اور نہ مجھے دلچسپی ہے تمہیں دیکھنے کو ۔۔۔
    کسی جن کی بچی لگتے ہو میرا دماغ خراب ہے کہ تمہیں دیکھوں گا آگئی بڑی باتیں کرنے والی ۔۔۔۔

    میری بات میں اس کو غصہ آگیا اور منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
    ایک تو میرے گھر میں بیٹھے ہوں اوپر سے مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو میں ہنستے ہوئے بولا کہ تیرا گھر تھوڑی ہے میں تو اپنی خالہ کے گھر میں بیٹھا ہوں اور اپنی ٹیچر آسیہ کے گھر بیٹھا ہوں ۔۔۔۔
    اور ویسے بھی تم ایسی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہوں تم کپڑے چینج کر لو میں تمہیں کھا تھوڑی جارہا ہوں ۔۔۔

    گلشن غصے میں بڑائی کے میں کسی سے نھیں ڈرتی ۔۔۔

    میں۔ تو پھر اپنے کپڑے چینج کرلو ۔۔۔
    [12/27, 4:22 pm] ...: گلشن نے اپنے کپڑے کرسی پر پٹکے اور جلدی سے اپنی شلوار نیچے کر دی ۔۔۔
    قمیض آگے ہونے کی وجہ سے مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن نیچے اس کی ٹانگیں ننگی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
    میں آنکھیں پھاڑ کے اس کو ہی دیکھے جا رہا تھا اس وقت تک میرے دماغ میں کوئی بری بات نہیں تھی ۔۔۔
    اس نے شلوار مزید نیچے کرکے اپنے ٹانگوں سے نکال دیں اور گھوم کر دوسری شلوار اٹھانے لگی تو اس کی سفید رانیں میرے سامنے آگئی ۔۔۔
    قمیض کے دونوں پلوں کے درمیان اس کی سفید رانیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

    میں اس کی سفید رانیں دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا گلشن میں تو ایسے ہی بکواس کر رہا تھا تم تو واقعی میں خوبصورت بنتی جارہی ہو ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے دوسری شلوار پہنی اور میری طرف غصے میں دیکھ کر بولی کہ کیا بکواس کرتے ہو میں نے ٹیچر آسیہ کو آپ کی شکایت لگا دینی ہے ۔۔۔

    میں اس کی دھمکی سے ڈر گیا کہ کہیں یہ ٹیچر کو شکایت نہ لگا دے میں اس کی منتیں کرتے ہوئے بولا پلیز گلشن ایسا نہ کرنا ٹیچر آسیہ بہت ڈانٹے گی۔۔

    میری بات سن کے گلشن نے دانت نکالے اور بولی اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو میں نے ٹیچر آسیہ کو جا کے بتا دینا ہے۔۔۔

    اور مجھے حکم دیتے ہوئے بولی تم اب اپنا منہ دوسری طرف کر لو اب میں نے قمیض چینج کرنی ہے ۔۔۔ اب اگر اپنا منہ دوسری طرف نا کیا اور مجھے گھورا تو میں سیدھا ٹیچر آسیہ کے پاس جاؤ گی ۔۔
    ہم ٹیچر آسیہ کو گھر میں بھی ٹیچر ہی کہتے تھے ۔حالانکہ وہ گلشن کی بڑی بہن تھی ۔۔
    میں گلشن کی منت کرتے ہوئے گلشن اگر میں تھوڑا سا دیکھ لوں گا تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
    ویسے بھی تم نے شلوار تو پہن لی ہے ۔۔
    قمیض میرے سامنے اتار بھی لوں گی تو کیا پرابلم ہوگی
    ۔۔
    گلشن تھوڑا سا دانت نکلتے ہوئے نہیں مجھے شرم آتی ہے آپ تو دوسری طرف کرو ۔۔۔


    میں نے تھوڑا سا اس کی تعریف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی آپ نے مجھے خوبصورت چیز کو دیکھنے نہیں دیا ۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا پیچھے سے مجھے گلشن کی ہنسنے کی آواز آئی اور وہ بولی کہ آج خیریت ہے آج میں آپ کو کہاں سے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
    اگر مجھے دیکھنے دیتی تو میں آپ کو بتاتا نہ کہ آپ کہاں سے اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔
    تم نے میرا منہ دوسری طرف کر دیا تو آپ کو کیسے بتاؤں ۔۔۔

    اتنی دیر میں گلشن نے اپنا قمیض چینج کر لیا تھا ۔۔۔

    اب اپنا منہ اس طرف کرلو گلشن کی آواز آئی ۔۔۔۔
    تو میں نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو دیکھا کہ گلشن نے اپنی قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا ۔۔۔
    اس کا سفید پیٹ دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
    پیٹ کے درمیان خوبصورت ناف دیکھ کر میرے لنڈ میں ہلچل مچنے لگی ۔۔۔

    ابھی میں اس کے سیکسی پیٹ میں کھویا ہی ہوا تھا کہ اس نے قمیض نیچے کی اور اپنی یونیفارم اٹھاتے ہوئے باہر بھاگ گئی ۔۔۔
    اور میں اپنی پینٹ میں اپنا لنڈ کو مسلتے ہوئے رہ گیا ۔۔۔
    14 سال کی عمر میں ہی میرا لنڈ کافی اچھا تھا ۔۔۔
    میں نے سیکس کے بارے میں لڑکوں سے بہت کچھ سن رکھا تھا ۔

    .: لیکن میں نے آج تک کبھی کچھ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی نوبت آئی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی مٹھ لگائی تھی ۔۔۔

    گلشن کے ساتھ میں دن بھر کھیلتا رہتا تھا اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی ہوتی رہتی تھی اور ہم لڑائی بھی کرتے رہتے تھے لیکن ایسی نوبت آج تک نہیں آئی تھی ۔۔۔
    لیکن آج اسے اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے بہت مزہ آیا ۔۔۔
    میں ابھی مزید چاہتا تھا کہ اسے تھوڑی دیر تک اور دیکھو لیکن وہ تو کبھی کی بھاگ گئی تھی ۔۔۔

    میری پینٹ میں ہلچل مچ چکی تھی ۔۔۔
    لیکن میں اپنے دماغ کو دوسری طرف متوجہ کیا اور پڑھائی کرنے لگ گیا ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی تھوڑی دیر بعد ٹیچر آسیہ بھی آ گئی تھی اور مجھے پڑھانے لگ گئی گلشن بھی آ گئی اور پڑھنے لگی ۔۔۔

    اور ٹیچر آسیہ کے ہوتے ہوئے ہم دونوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا مجال ہے کہ ہم کوئی بات بھی کر جائیں ۔۔۔
    دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ہمیں کھانے کی اجازت ملی اور ساتھ میں کھیلنے کی بھی اجازت ملی ۔۔۔
    آج میں نے بھی کھانا خالہ کے گھر ہی کھایا اور تھوڑی دیر بعد میں گلشن اور ہمارے ساتھ ان کی چھوٹی بہن سارا بھی چل پڑیں ۔۔۔

    ہم زیادہ تر اپنے ہی کھیتوں میں کھیلتے تھے ۔۔۔۔
    گلشن کے ابو کی کافی ساری زمین تھی ۔۔۔
    مکئی کی فصل کافی بڑی ہو چکی تھی اور ہم ان کے درمیان چلتے ہوئے کافی آگے آگئے تھے ۔۔۔
    میرے دل میں ابھی تک وہی بات گھوم رہی تھی ۔۔۔
    اور میرا دل کر رہا تھا کہ میں ایک بار پھر گلشن کا پیٹ دیکھو ۔۔۔
    لیکن میں ڈر بھی رہا تھا اور ہمارے ساتھ سارا بھی تھی ۔۔۔
    اگر گلشن مان بھی جاتی تو سارا ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے
    لشن میری خاموشی کو بھانپ گئی اور منہ میری طرف کرتے ہوئے بولی دلاروخیریت ہے چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔

    میں نہیں گلشن ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے آپ بھی تو خاموش ہوں آپ کونسا بول رہی ہو ۔۔۔۔

    گلشن ادھرادھر نظریں گھماتی ہوئی بولی آج تو کوئی بچہ کھیلنے والا بھی نہیں آیا ۔۔۔
    گلشن اس لیے کہہ رہی تھی کیونکہ شام کے وقت کافی سارے بچے ادھر ادھر سے کھیلنے آجاتے تھے اور ہم لکن چھپائ کھیلتے تھے ۔۔۔

    لیکن آج سردی کافی زیادہ تھی اس لئے کوئی بھی بچہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

    میں گلشن کو بولا کہ آج سردی کافی زیادہ ہے اور دھند کافی ہے اس لیے شاید کوئی بھی بچہ نہیں آئے گا اور آج ہم کھیل نہیں سکیں گے ۔۔۔۔
    ہم دونوں کی بات سن کے سارا بولی لیکن ہم تین تو ہیں ہم تو کھیلیں ۔۔۔
    آپ دونوں جا کر چھپ جائیں میں آپ دونوں کو تلاش کرو گی۔۔

    گلشن سارا کی بات سن کر بولی سارا تم ہمیں نہیں تلاش کر سکوں گی تو تھک جاؤ گی ۔۔۔

    مجھے گلشن کے ساتھ اکیلا ہونے کا موقع مل رہا تھا اور میں یہ موقع کیسے ضائع ہونے دیتا ۔۔۔

    میں نے گلشن کو کہا کہ سارا بہت چلا کہ ہمیں تلاش کرلے گی او ہم چھپ جاتے ہیں ۔۔۔

    میں گلشن کی بازوں کو پکڑے ایک سائیڈ پر چل پڑا

    اور جہاں مکئی کی فصل بہت زیادہ گنی تھی ادھر جا کر ہم چھپ گئے ۔۔۔

    میری نظر گلشن کے چہرے پر ہی تھی اور یہ میں موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کہ گلشن کو کیسے بولوں ۔۔۔

    گلشن مجھے گھورتےہوئے بولی کہ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو ۔۔۔

    میں تقریبا گلشن کی طرف منت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    گلشن میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
    گلشن کو بھی شاید میری بات کی سمجھ لگ چکی تھی اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا تے ہوئے بولی ۔۔
    ہاں بولو کیا کہنا ہے میں تھوڑا سا اور زیادہ اس کے قریب ہوگیا دیکھو گلشن ۔۔۔کسی کو بتانا بھی نہیں۔۔۔


    ..: گلشن میرے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے سمٹ کر بیٹھ گئی اور بولی میں کسی کو نہیں بتاتی لیکن بتاؤ تو سہی تم نے کیا کہنا ہے ۔۔۔
    میں ڈر کی وجہ سے اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر اس کو بات بری لگی اور اس نے ٹیچر اس سے کو بتا دیا تو بہت برا ہوگا ۔۔۔
    گلشن میرے ہاتھ کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی کہ دلاور کیا سوچ رہے ہو اور کیوں پریشان ہو ۔۔۔
    ...: میں نے گلشن کا ہاتھ پکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
    گلشن میں نے آپ کو ایک بار پھر دیکھنا ہے ۔۔


    گلشن ہنستے ہوئے بولی اب کیا کر رہے ہو ۔۔
    اب بھی تو دیکھ رہے ہو ۔۔


    نہیں گلشن ایسے نہیں میں تھوڑا سا چڑھتے ہوئے بولا ۔۔


    تو کیسے دیکھنا ہے گلشن بھی میرا مذاق بنا رہی تھی ۔۔۔


    میں مسکراتے ہوئے بولا جیسے سکول سے واپسی کے بعد دیکھا تھا ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے میرا ہاتھ پٹک دیا اور بولیں چل گندے شرم نہیں آتی ۔۔
    اور وہ اٹھ کر جانے لگی مجھے اپنا کام بگڑتا ہوا نظر آ رہا تھا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
    اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولا دی گلشن میں تیری ہر بات مانتا ہوں یہ میری بات مان لو نا ۔۔
    گلشن تھوڑا غصہ دکھاتے ہوئے بولی نہیں دلاوریہ غلط بات ہے ۔ ۔۔
    نہیں گلشن کوئی غلط بات نہیں ہے ہم غلط کام کرنا تھوڑی جا رہے ہیں میں نے صرف آپ کا پیٹ دیکھنا ہے ۔۔۔


    مجھے اس وقت آپ کا پیٹ دیکھ کے بہت اچھا لگا ۔۔۔
    اور اس وقت کے بعد سے میرا بار بار دل کر رہا ہے کہ میں دوبارہ آپ کو دیکھو ۔۔


    گلشن تھوڑا سا طنزیہ لہجے میں بولی کہ ویسےتو مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن آج اتنی منت کیوں کر رہے ہو ۔۔۔
    میں تھوڑا شرمندہ لہجے میں بولا مجھے خود کو بھی سمجھ نہیں آرہی لیکن مجھے ہر حال میں دیکھنا ہے ۔۔۔
    گلشن مزید غصے میں ہوگی اور چیختے ہوئے بولی دلاور دماغ خراب ہے ۔۔۔
    ایک دفعہ میں نے منع کر دیا نا کہ میں نے نہیں دکھانا آپ اگر بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا یہ کہہ کر وہ مجھ سے اپنا ہاتھ چھوڑ آتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔


    مجھے اس کے اس طرح انکار پر بہت رونا آیا اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔


    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں ۔۔


    ہم چاہے آپس میں جتنا بھی لڑتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے کی بات کو رد نہیں کرتے تھے ۔۔
    لیکن آج جس طرح وہ مجھے ذلیل کرکے گئی تھی تو مجھے بہت برا لگا تھا ۔۔۔
    ہماری عمر ابھی اتنی بڑی نہیں تھی اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا آ جاتا تھا ۔۔۔۔


    کافی دیر رونےکے بعد جب میرا غصہ تھوڑا ہلکا ہوا تو میں وہاں سے نکل کر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔
    کیوں کہ میرا سکول بیگ وہیں پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔
    جیسے ہی میں خالہ کے گھر داخل ہوا سامنے گلناز آپی کھڑی ہوئی تھی ۔۔
    میرا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹینشن میں میری طرف بڑھی۔ ۔اور بولی دلاور تمہیں کیا ہوا ہے اور تم رو کیوں رہے ہو ۔۔۔
    ...: میں اس کے باتکو ان سنی کرتے ہوئے سیدھا کمرے میں گیا اور اپنا بیگ اٹھا کر سیدھا اپنے گھر آگیا ۔۔۔
    میرا روتا چہرہ دیکھ کر امی میرے پاس آئی اور مجھے پیار کرنے لگی اس کو بھی یقین ہو گیا تھا کہ آج پھر گلشن کے ساتھ لڑائی کرکے آیا ہوگا ۔۔۔
    اور میں غصّے میں بولا امی آج کے بعد میں خالہ کے گھر نہیں جاؤں گا اور نہ ہی مجھے اس سکول میں پڑھنا ہے جس میں گلشن پڑھتی ہے ۔۔
    امی بھی میرا دل رکھتے ہوئے بولی کوئی بات نہیں بیٹا تم نہ جانا بس یہی ٹیسٹ دے لو اس کے بعد ہم آپ کا دوسرے سکول میں داخلہ کروا دیں گے ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔۔۔
    میرا روزمرہ کا یہی معمول رہا سکول سے سیدھا خالہ کے گھر واپس آتا ٹیچر آسیہ سے پڑھتا اور سیدھا گھر واپس آجاتا ۔۔۔
    گلشن نے ایک دو بار مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
    دسمبر ٹیسٹ کے بعد ہمیں چھٹیاں ہوگئ
    ایک دو دفعہ ٹیچر آسیہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی لیکن میں بات کو ٹال گیا ۔۔۔
    چھٹیاں ہونے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا ۔۔۔
    مجھے ایسے محسوس ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کو پکڑا ہوا ہے ۔۔۔۔
    پہلے تو میں نے اپنا وہم سمجھا لیکن ساتھ ہی مجھے کسی کی رونے کی آواز آئی تو میں فورا اٹھ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
    گلشن کو روتا دیکھ کر میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں نے اس کو فورا کندھوں سے پکڑا اور اپنے ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا ۔۔۔

    گلشن روتے ہوئے بولی دیکھو دلاور اتنا بھی ناراض نہیں ہوتے تمہیں پتا ہے کہ میں تیرے ساتھ تیرے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کھیلتی ۔۔۔۔


    دس دنوں سے تم بات ہی نہیں کر رہے تو مجھے بہت برا لگ رہا ہے ۔۔۔
    میں تھوڑا سا مسکراتے ہوئے بولا شکر ہے کہ میرا اتنا احساس بھی کرتی ہوں مجھے بھی اتنا یاد کرتی ہوں کہ میرے بغیر تیرے دن بھی اچھے نہیں گزرتے۔۔
    میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید کہ تیرے دل میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔
    اس لیے تو تم نے میری بات کو ہی نہیں مانا تھا اور مجھے غصہ کر کے چلی گئی تھی ۔۔
    گلشن نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی دلاور ۔۔۔
    تم نے میرا جو کچھ بھی دیکھنا ہے دیکھ لو لیکن ناراض نہیں ہونا میں آپ کے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔
    ہم جیسے پہلے اچھے دوست تھے ویسے ہی اچھے دوست بن کے رہیں گے ۔۔۔
    اور اگر آج آپ میرے ساتھ صلح نہ کی تو آپ ایک بہت ہی اچھی چیز سے محروم رہ جاؤ گے ۔۔۔
    میں تھوڑا حیرانگی سے ۔۔۔کس چیز سے محروم رہ جاؤں گا وہ کیا اچھی چیز ہے

  12. The Following User Says Thank You to urdustorieswriter For This Useful Post:

    Lovelymale (31-12-2019)

  13. #9
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    United States of America
    Posts
    17
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    28
    Thanked in
    12 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    میرے دسمبر ٹیسٹ قریب آرہے تھے اس لیے اب زیادہ توجہ پڑھائی کے اوپر تھے ۔۔۔۔۔

    ہم سکول سے واپس آرہے تھے کہ ٹیچر آسیہ بولی ۔۔
    دلاور آج تم نے اپنے گھر نہیں جانا سیدھا ادھر ہی چلو گلشن کے ساتھ ٹیسٹ کی تیاری کرو ۔۔۔۔
    میں خاموشی سے ان کے گھر گیا اور جس کمرے میں ہم بیٹھ کر پڑھتے تھے وہاں بیٹھ کر ہم میں پڑھنے لگا ۔۔۔۔
    میں ابھی تک یونیفارم یہی تھا تھوڑی دیر بعد گلشن روم میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

    اس کے ہاتھ میں اپنے دوسرے کپڑے تھے اور وہ یونیفارم تبدیل کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

    گلشن مجھے تھوڑا سا گھورتے ہوئے بولی دلاور تم اپنا منہ دوسری سائیڈ پے کرلو میں نے کپڑے تبدیل کرنے ہیں ۔۔۔

    میں تھوڑا سا غصے میں بولا کہ تمہیں یہی روم ملا ہے کپڑے تبدیل کرنے کو تم جاکر واشروم میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتی۔۔۔

    میں نے یہی کپڑے چینج کرنے ہیں گلشن بھی اپنی بات پر اڑ گئی ۔۔۔

    میں ٹھیک ہے تم اپنے کپڑے یہیں پر تبدیل کر لوں لیکن میں کہیں پہ جانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی سیڈ پہ منہ کروں گا اگر اتنی ضد ہے کپڑے چینج کر لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔

    اور نہ مجھے دلچسپی ہے تمہیں دیکھنے کو ۔۔۔
    کسی جن کی بچی لگتے ہو میرا دماغ خراب ہے کہ تمہیں دیکھوں گا آگئی بڑی باتیں کرنے والی ۔۔۔۔

    میری بات میں اس کو غصہ آگیا اور منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
    ایک تو میرے گھر میں بیٹھے ہوں اوپر سے مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو میں ہنستے ہوئے بولا کہ تیرا گھر تھوڑی ہے میں تو اپنی خالہ کے گھر میں بیٹھا ہوں اور اپنی ٹیچر آسیہ کے گھر بیٹھا ہوں ۔۔۔۔
    اور ویسے بھی تم ایسی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہوں تم کپڑے چینج کر لو میں تمہیں کھا تھوڑی جارہا ہوں ۔۔۔

    گلشن غصے میں بڑائی کے میں کسی سے نھیں ڈرتی ۔۔۔

    میں۔ تو پھر اپنے کپڑے چینج کرلو ۔۔۔
    [12/27, 4:22 pm] ...: گلشن نے اپنے کپڑے کرسی پر پٹکے اور جلدی سے اپنی شلوار نیچے کر دی ۔۔۔
    قمیض آگے ہونے کی وجہ سے مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن نیچے اس کی ٹانگیں ننگی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
    میں آنکھیں پھاڑ کے اس کو ہی دیکھے جا رہا تھا اس وقت تک میرے دماغ میں کوئی بری بات نہیں تھی ۔۔۔
    اس نے شلوار مزید نیچے کرکے اپنے ٹانگوں سے نکال دیں اور گھوم کر دوسری شلوار اٹھانے لگی تو اس کی سفید رانیں میرے سامنے آگئی ۔۔۔
    قمیض کے دونوں پلوں کے درمیان اس کی سفید رانیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

    میں اس کی سفید رانیں دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا گلشن میں تو ایسے ہی بکواس کر رہا تھا تم تو واقعی میں خوبصورت بنتی جارہی ہو ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے دوسری شلوار پہنی اور میری طرف غصے میں دیکھ کر بولی کہ کیا بکواس کرتے ہو میں نے ٹیچر آسیہ کو آپ کی شکایت لگا دینی ہے ۔۔۔

    میں اس کی دھمکی سے ڈر گیا کہ کہیں یہ ٹیچر کو شکایت نہ لگا دے میں اس کی منتیں کرتے ہوئے بولا پلیز گلشن ایسا نہ کرنا ٹیچر آسیہ بہت ڈانٹے گی۔۔

    میری بات سن کے گلشن نے دانت نکالے اور بولی اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو میں نے ٹیچر آسیہ کو جا کے بتا دینا ہے۔۔۔

    اور مجھے حکم دیتے ہوئے بولی تم اب اپنا منہ دوسری طرف کر لو اب میں نے قمیض چینج کرنی ہے ۔۔۔ اب اگر اپنا منہ دوسری طرف نا کیا اور مجھے گھورا تو میں سیدھا ٹیچر آسیہ کے پاس جاؤ گی ۔۔
    ہم ٹیچر آسیہ کو گھر میں بھی ٹیچر ہی کہتے تھے ۔حالانکہ وہ گلشن کی بڑی بہن تھی ۔۔
    میں گلشن کی منت کرتے ہوئے گلشن اگر میں تھوڑا سا دیکھ لوں گا تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
    ویسے بھی تم نے شلوار تو پہن لی ہے ۔۔
    قمیض میرے سامنے اتار بھی لوں گی تو کیا پرابلم ہوگی
    ۔۔
    گلشن تھوڑا سا دانت نکلتے ہوئے نہیں مجھے شرم آتی ہے آپ تو دوسری طرف کرو ۔۔۔


    میں نے تھوڑا سا اس کی تعریف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی آپ نے مجھے خوبصورت چیز کو دیکھنے نہیں دیا ۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا پیچھے سے مجھے گلشن کی ہنسنے کی آواز آئی اور وہ بولی کہ آج خیریت ہے آج میں آپ کو کہاں سے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
    اگر مجھے دیکھنے دیتی تو میں آپ کو بتاتا نہ کہ آپ کہاں سے اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔
    تم نے میرا منہ دوسری طرف کر دیا تو آپ کو کیسے بتاؤں ۔۔۔

    اتنی دیر میں گلشن نے اپنا قمیض چینج کر لیا تھا ۔۔۔

    اب اپنا منہ اس طرف کرلو گلشن کی آواز آئی ۔۔۔۔
    تو میں نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو دیکھا کہ گلشن نے اپنی قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا ۔۔۔
    اس کا سفید پیٹ دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
    پیٹ کے درمیان خوبصورت ناف دیکھ کر میرے لنڈ میں ہلچل مچنے لگی ۔۔۔

    ابھی میں اس کے سیکسی پیٹ میں کھویا ہی ہوا تھا کہ اس نے قمیض نیچے کی اور اپنی یونیفارم اٹھاتے ہوئے باہر بھاگ گئی ۔۔۔
    اور میں اپنی پینٹ میں اپنا لنڈ کو مسلتے ہوئے رہ گیا ۔۔۔
    14 سال کی عمر میں ہی میرا لنڈ کافی اچھا تھا ۔۔۔
    میں نے سیکس کے بارے میں لڑکوں سے بہت کچھ سن رکھا تھا ۔

    .: لیکن میں نے آج تک کبھی کچھ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی نوبت آئی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی مٹھ لگائی تھی ۔۔۔

    گلشن کے ساتھ میں دن بھر کھیلتا رہتا تھا اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی ہوتی رہتی تھی اور ہم لڑائی بھی کرتے رہتے تھے لیکن ایسی نوبت آج تک نہیں آئی تھی ۔۔۔
    لیکن آج اسے اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے بہت مزہ آیا ۔۔۔
    میں ابھی مزید چاہتا تھا کہ اسے تھوڑی دیر تک اور دیکھو لیکن وہ تو کبھی کی بھاگ گئی تھی ۔۔۔

    میری پینٹ میں ہلچل مچ چکی تھی ۔۔۔
    لیکن میں اپنے دماغ کو دوسری طرف متوجہ کیا اور پڑھائی کرنے لگ گیا ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی تھوڑی دیر بعد ٹیچر آسیہ بھی آ گئی تھی اور مجھے پڑھانے لگ گئی گلشن بھی آ گئی اور پڑھنے لگی ۔۔۔

    اور ٹیچر آسیہ کے ہوتے ہوئے ہم دونوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا مجال ہے کہ ہم کوئی بات بھی کر جائیں ۔۔۔
    دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ہمیں کھانے کی اجازت ملی اور ساتھ میں کھیلنے کی بھی اجازت ملی ۔۔۔
    آج میں نے بھی کھانا خالہ کے گھر ہی کھایا اور تھوڑی دیر بعد میں گلشن اور ہمارے ساتھ ان کی چھوٹی بہن سارا بھی چل پڑیں ۔۔۔

    ہم زیادہ تر اپنے ہی کھیتوں میں کھیلتے تھے ۔۔۔۔
    گلشن کے ابو کی کافی ساری زمین تھی ۔۔۔
    مکئی کی فصل کافی بڑی ہو چکی تھی اور ہم ان کے درمیان چلتے ہوئے کافی آگے آگئے تھے ۔۔۔
    میرے دل میں ابھی تک وہی بات گھوم رہی تھی ۔۔۔
    اور میرا دل کر رہا تھا کہ میں ایک بار پھر گلشن کا پیٹ دیکھو ۔۔۔
    لیکن میں ڈر بھی رہا تھا اور ہمارے ساتھ سارا بھی تھی ۔۔۔
    اگر گلشن مان بھی جاتی تو سارا ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے
    لشن میری خاموشی کو بھانپ گئی اور منہ میری طرف کرتے ہوئے بولی دلاروخیریت ہے چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔

    میں نہیں گلشن ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے آپ بھی تو خاموش ہوں آپ کونسا بول رہی ہو ۔۔۔۔

    گلشن ادھرادھر نظریں گھماتی ہوئی بولی آج تو کوئی بچہ کھیلنے والا بھی نہیں آیا ۔۔۔
    گلشن اس لیے کہہ رہی تھی کیونکہ شام کے وقت کافی سارے بچے ادھر ادھر سے کھیلنے آجاتے تھے اور ہم لکن چھپائ کھیلتے تھے ۔۔۔

    لیکن آج سردی کافی زیادہ تھی اس لئے کوئی بھی بچہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

    میں گلشن کو بولا کہ آج سردی کافی زیادہ ہے اور دھند کافی ہے اس لیے شاید کوئی بھی بچہ نہیں آئے گا اور آج ہم کھیل نہیں سکیں گے ۔۔۔۔
    ہم دونوں کی بات سن کے سارا بولی لیکن ہم تین تو ہیں ہم تو کھیلیں ۔۔۔
    آپ دونوں جا کر چھپ جائیں میں آپ دونوں کو تلاش کرو گی۔۔

    گلشن سارا کی بات سن کر بولی سارا تم ہمیں نہیں تلاش کر سکوں گی تو تھک جاؤ گی ۔۔۔

    مجھے گلشن کے ساتھ اکیلا ہونے کا موقع مل رہا تھا اور میں یہ موقع کیسے ضائع ہونے دیتا ۔۔۔

    میں نے گلشن کو کہا کہ سارا بہت چلا کہ ہمیں تلاش کرلے گی او ہم چھپ جاتے ہیں ۔۔۔

    میں گلشن کی بازوں کو پکڑے ایک سائیڈ پر چل پڑا

    اور جہاں مکئی کی فصل بہت زیادہ گنی تھی ادھر جا کر ہم چھپ گئے ۔۔۔

    میری نظر گلشن کے چہرے پر ہی تھی اور یہ میں موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کہ گلشن کو کیسے بولوں ۔۔۔

    گلشن مجھے گھورتےہوئے بولی کہ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو ۔۔۔

    میں تقریبا گلشن کی طرف منت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
    گلشن میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
    گلشن کو بھی شاید میری بات کی سمجھ لگ چکی تھی اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا تے ہوئے بولی ۔۔
    ہاں بولو کیا کہنا ہے میں تھوڑا سا اور زیادہ اس کے قریب ہوگیا دیکھو گلشن ۔۔۔کسی کو بتانا بھی نہیں۔۔۔


    ..: گلشن میرے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے سمٹ کر بیٹھ گئی اور بولی میں کسی کو نہیں بتاتی لیکن بتاؤ تو سہی تم نے کیا کہنا ہے ۔۔۔
    میں ڈر کی وجہ سے اپنی انگلیاں ہی مروڑ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر اس کو بات بری لگی اور اس نے ٹیچر اس سے کو بتا دیا تو بہت برا ہوگا ۔۔۔
    گلشن میرے ہاتھ کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی کہ دلاور کیا سوچ رہے ہو اور کیوں پریشان ہو ۔۔۔
    ...: میں نے گلشن کا ہاتھ پکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
    گلشن میں نے آپ کو ایک بار پھر دیکھنا ہے ۔۔


    گلشن ہنستے ہوئے بولی اب کیا کر رہے ہو ۔۔
    اب بھی تو دیکھ رہے ہو ۔۔


    نہیں گلشن ایسے نہیں میں تھوڑا سا چڑھتے ہوئے بولا ۔۔


    تو کیسے دیکھنا ہے گلشن بھی میرا مذاق بنا رہی تھی ۔۔۔


    میں مسکراتے ہوئے بولا جیسے سکول سے واپسی کے بعد دیکھا تھا ۔۔۔
    گلشن نے جلدی سے میرا ہاتھ پٹک دیا اور بولیں چل گندے شرم نہیں آتی ۔۔
    اور وہ اٹھ کر جانے لگی مجھے اپنا کام بگڑتا ہوا نظر آ رہا تھا میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
    اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے بولا دی گلشن میں تیری ہر بات مانتا ہوں یہ میری بات مان لو نا ۔۔
    گلشن تھوڑا غصہ دکھاتے ہوئے بولی نہیں دلاوریہ غلط بات ہے ۔ ۔۔
    نہیں گلشن کوئی غلط بات نہیں ہے ہم غلط کام کرنا تھوڑی جا رہے ہیں میں نے صرف آپ کا پیٹ دیکھنا ہے ۔۔۔


    مجھے اس وقت آپ کا پیٹ دیکھ کے بہت اچھا لگا ۔۔۔
    اور اس وقت کے بعد سے میرا بار بار دل کر رہا ہے کہ میں دوبارہ آپ کو دیکھو ۔۔


    گلشن تھوڑا سا طنزیہ لہجے میں بولی کہ ویسےتو مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن آج اتنی منت کیوں کر رہے ہو ۔۔۔
    میں تھوڑا شرمندہ لہجے میں بولا مجھے خود کو بھی سمجھ نہیں آرہی لیکن مجھے ہر حال میں دیکھنا ہے ۔۔۔
    گلشن مزید غصے میں ہوگی اور چیختے ہوئے بولی دلاور دماغ خراب ہے ۔۔۔
    ایک دفعہ میں نے منع کر دیا نا کہ میں نے نہیں دکھانا آپ اگر بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا یہ کہہ کر وہ مجھ سے اپنا ہاتھ چھوڑ آتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔


    مجھے اس کے اس طرح انکار پر بہت رونا آیا اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔


    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں ۔۔


    ہم چاہے آپس میں جتنا بھی لڑتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے کی بات کو رد نہیں کرتے تھے ۔۔
    لیکن آج جس طرح وہ مجھے ذلیل کرکے گئی تھی تو مجھے بہت برا لگا تھا ۔۔۔
    ہماری عمر ابھی اتنی بڑی نہیں تھی اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا آ جاتا تھا ۔۔۔۔


    کافی دیر رونےکے بعد جب میرا غصہ تھوڑا ہلکا ہوا تو میں وہاں سے نکل کر خالہ کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔
    کیوں کہ میرا سکول بیگ وہیں پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔
    جیسے ہی میں خالہ کے گھر داخل ہوا سامنے گلناز آپی کھڑی ہوئی تھی ۔۔
    میرا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹینشن میں میری طرف بڑھی۔ ۔اور بولی دلاور تمہیں کیا ہوا ہے اور تم رو کیوں رہے ہو ۔۔۔
    ...: میں اس کے باتکو ان سنی کرتے ہوئے سیدھا کمرے میں گیا اور اپنا بیگ اٹھا کر سیدھا اپنے گھر آگیا ۔۔۔
    میرا روتا چہرہ دیکھ کر امی میرے پاس آئی اور مجھے پیار کرنے لگی اس کو بھی یقین ہو گیا تھا کہ آج پھر گلشن کے ساتھ لڑائی کرکے آیا ہوگا ۔۔۔
    اور میں غصّے میں بولا امی آج کے بعد میں خالہ کے گھر نہیں جاؤں گا اور نہ ہی مجھے اس سکول میں پڑھنا ہے جس میں گلشن پڑھتی ہے ۔۔
    امی بھی میرا دل رکھتے ہوئے بولی کوئی بات نہیں بیٹا تم نہ جانا بس یہی ٹیسٹ دے لو اس کے بعد ہم آپ کا دوسرے سکول میں داخلہ کروا دیں گے ۔۔۔
    اس کے بعد ایسی کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔۔۔
    میرا روزمرہ کا یہی معمول رہا سکول سے سیدھا خالہ کے گھر واپس آتا ٹیچر آسیہ سے پڑھتا اور سیدھا گھر واپس آجاتا ۔۔۔
    گلشن نے ایک دو بار مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
    دسمبر ٹیسٹ کے بعد ہمیں چھٹیاں ہوگئ
    ایک دو دفعہ ٹیچر آسیہ نے بھی پوچھنے کی کوشش کی لیکن میں بات کو ٹال گیا ۔۔۔
    چھٹیاں ہونے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا ۔۔۔
    مجھے ایسے محسوس ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کو پکڑا ہوا ہے ۔۔۔۔
    پہلے تو میں نے اپنا وہم سمجھا لیکن ساتھ ہی مجھے کسی کی رونے کی آواز آئی تو میں فورا اٹھ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
    گلشن کو روتا دیکھ کر میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں نے اس کو فورا کندھوں سے پکڑا اور اپنے ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا ۔۔۔

    گلشن روتے ہوئے بولی دیکھو دلاور اتنا بھی ناراض نہیں ہوتے تمہیں پتا ہے کہ میں تیرے ساتھ تیرے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کھیلتی ۔۔۔۔


    دس دنوں سے تم بات ہی نہیں کر رہے تو مجھے بہت برا لگ رہا ہے ۔۔۔
    میں تھوڑا سا مسکراتے ہوئے بولا شکر ہے کہ میرا اتنا احساس بھی کرتی ہوں مجھے بھی اتنا یاد کرتی ہوں کہ میرے بغیر تیرے دن بھی اچھے نہیں گزرتے۔۔
    میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید کہ تیرے دل میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔
    اس لیے تو تم نے میری بات کو ہی نہیں مانا تھا اور مجھے غصہ کر کے چلی گئی تھی ۔۔
    گلشن نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی دلاور ۔۔۔
    تم نے میرا جو کچھ بھی دیکھنا ہے دیکھ لو لیکن ناراض نہیں ہونا میں آپ کے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔
    ہم جیسے پہلے اچھے دوست تھے ویسے ہی اچھے دوست بن کے رہیں گے ۔۔۔
    اور اگر آج آپ میرے ساتھ صلح نہ کی تو آپ ایک بہت ہی اچھی چیز سے محروم رہ جاؤ گے ۔۔۔
    میں تھوڑا حیرانگی سے ۔۔۔کس چیز سے محروم رہ جاؤں گا وہ کیا اچھی چیز ہے

  14. The Following 2 Users Say Thank You to urdustorieswriter For This Useful Post:

    aloneboy86 (30-12-2019), Lovelymale (31-12-2019)

  15. #10
    Join Date
    Dec 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    یہ میری پہلی کوشش ہے امید ہے آپ کو پسند آئے گی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •