اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 6 12345 ... LastLast
Results 1 to 10 of 52

Thread: قسمت

  1. #1
    Join Date
    Sep 2010
    Posts
    21
    Thanks Thanks Given 
    39
    Thanks Thanks Received 
    29
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    60

    Default قسمت

    دوستوں کی خدمت میں ایک کہانی لے کر حاضر ہو رہا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ لکھنے کے بعد پروف ریڈنگ نہیں کی اس لیے کہیں املا کی کوئی غلطی رہ گئی ہو تو معذور جانیں۔ آپ کے کمنٹس اور لائکس ہی ہم جیسے لکھنے والوں کا صلہ ہوتے ہیں اس لیے پڑھنے کے بعد کہانی پسند آئے تو لائک اور کمنٹس سے ضرور نوازیں۔ میں سمجھوں گا کہ چار گھنٹے صرف کرنے کی محنت وصول ہو گئی۔ لیجیے اب کہانی پڑھیے۔
    قسمت
    معمول کے مطابق وہ آج بھی سکول سے واپس آ رہی تھی۔ اچانک وحید اُس کے سامنے آیا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا اُس ویران مکان میں لے گیاجس میں سے وہ نمودار ہوا تھا۔ وہ ہکا بکا اور گم سم سی اُس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی تھی۔ یہ مکان اُس کی گلی سے پہلے آنے والی گلی میں کافی عرصے سے نامکمل صورت میں بنا ہوا تھا۔ اس کے مالک نے دیواریں اٹھا کر اُسے یوں ہی چھوڑ دیا تھا۔ اندر کمرے وغیرہ بنے ہوئے تھے لیکن نجانے اُسے کیوں مکمل نہیں کیا گیا تھا۔ اس آبادی میں ابھی زیادہ مکانات بھی نہیں بنے تھے اور یہ قصبے کی گنجان آبادی سے الگ ابھی نوآباد جگہ تھی اس لیے بھی یہاں کم کم لوگ ہی نظر آتے تھے۔ اُس دن بھی گلی میں کوئی نہیں تھا اسی لیے وحید نے اتنی جرأت کا مظاہرہ کیا تھا۔ کسی کے ہوتے ہوئے وہ ایسا ہر گز نہ کرتا۔
    بہرحال وحید اُسے کھینچتا ہوا گیراج سے گزر کر ٹی وی لاؤنج والی جگہ سے گزار کر ایک تاریک کمرے میں لے آیا تھا اور وہاں پہنچتے ہی اُس کے چہرے کو تھام کر اپنے ہونٹ اُس کے نرم و نازک گلابی ہونٹوں پر ثبت کر دیے تھے۔ وہ اس اچانک صورتحال سے گھبرا کر بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ اُس کا دل تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ ایک ڈر تھا کہ کوئی آ گیا تو کیا ہوگا؟ وحید اُس کی حالت سے بے پرواہ اُس کے ہونٹوں کو چومنے میں لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اُس کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر ہونٹ ہٹا کر اُس نے سعدیہ کو گلے سے لگا لیا اور زور سے بھینچ لیا۔ اس دوران وہ سعدیہ کی کمر سے کولہوں تک ہاتھ لے گیا اور انھیں بھی دبانے لگا۔ انھیں دبانے کے ساتھ ساتھ وہ ہاتھ اُس کی کمر تک پھیرتا ہوا لاتا، کندھوں تک اُسے کے سراپے کو محسوس کرکے وحید کے ہاتھ پھر سے کولہوں کی گولائیوں اور اُن سے بھی کچھ نیچے تک پہنچ جاتے۔ سعدیہ اُس کے ہاتھوں کے ہر ہر لمس پر ہولے سے کانپ جاتی تھی۔ اُس کے بدن کو پہلی بار کوئی لڑکا اِس طرح چُھو رہا تھا اس لیے غیر ہاتھوں کا لمس اُسے ناپسندیدہ لگ رہا تھا۔ اُسے پتا بھی نہیں چلا اور اُس کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں۔ اُس کے دانت دانتوں پر جمے ہوئے تھے اور چہرے پر ایک عجیب طرح کا اضطراب پھیل گیا تھا۔ وحید بھی کچھ بولے بغیر اپنا کام کیے جا رہا تھا۔
    اب وحید نے اُسے چھوڑتے ہوئے ذرا پیچھے ہٹ کر اُس کے زیرو سائز کے ابھار پکڑ لیے اور انھیں دبا دیا۔ سعدیہ کو ایک کرنٹ سا لگا اور وہ کسمسا کر رہ گئی۔ اُس کے ہاتھ خود بخود اوپر آگئے تاکہ وہ اپنے سینے پر اُن اجنبی ناپسندیدہ ہاتھوں کو لگنے سے باز رکھے مگر اُن ہاتھوں نے سعدیہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر جھٹک دیا اور ابھار پکڑ کر بھینچنے لگا۔ سعدیہ کی آنکھیں اور بھنچ گئیں اور ماتھے پر شکنیں بھی مزید نمایاں ہو گئیں۔ وہ مزید کانپ گئی جب وحید نے اُس کی قمیص اوپر اٹھاتے ہوئے برا تک ہاتھ پہنچا دیے۔ سعدیہ نے اُن ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹانے کے لیے کمزور سا زور لگایا جنھیں وہ کبھی پکڑنا نہیں چاہتی تھی لیکن خود کو بچانے کے لیے یہ اضطراری طور پر ہو رہا تھا۔ برا بھی اوپر کر دی گئی اور چھوٹے چھوٹے کنوارے ابھار وحید کے ہاتھوں میں آگئے۔ سعدیہ کی سانسیں کھنچ گئیں اور پہلی بار وحید کی وحشی سانسوں کے علاوہ اُس کی سرگوشی سعدیہ کے کانوں میں گونجی۔ اُف۔۔۔ مزیدار۔۔۔۔ اور یہ کَہ کر وحید انھیں مسلنے لگا۔ دبانے لگا۔ نپل کے دانوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے جب دونوں نپلوں کو اُس نے چٹکیوں میں لیا تو سعدیہ کی مریل سی اُونہھ۔۔ اُونہھ اُس کے نتھنوں سے برآمد ہوئی۔ انھیں چٹکیوں میں دباتے ہوئے وحید اُس کے ساتھ لگ گیا اور اُس کی شرم گاہ پر ہلکا ہلکا دباؤ محسوس ہونے لگا۔ تب کہیں دور سے اُس کی سوچ نے اُسے احساس دلایا کہ شرم گاہ پر وحید کی ٹانگوں کے درمیان سے کوئی سخت چیز ٹکرا رہی ہے۔ سعدیہ کو یہ سوچتے ہی ایک جھرجھری سی آئی۔ اسی وقت وحید نے اُس کے چہرے پر بوسے ثبت کرنا شروع کیے اور ہونٹ چوس کر گردن سے ہوتا ہوا اُس کے ابھاروں تک جا پہنچا۔ جب اُسے احساس ہوا کہ ایک طرف کا نپل وحید کے منہ میں چلا گیا ہے اور وہ اُسے چوس رہا ہے تو اُسے تیز جھرجھری آئی جس کا اندازہ وحید کو بھی ہو گیا لیکن وہ دوسرے نپل کو مسلتے ہوئے سعدیہ کا چھوٹا سا کنوارا نپل تیز تیز چوسنے میں مگن رہا۔ باری باری اُس نے دونوں نپل چوسے۔ ان کچے ابھاروں کو اچھی طرح چاٹا۔ پھر سینہ چومتے چومتے اچانک سعدیہ کی شلوار کے الاسٹک میں ہاتھ ڈال کر ایک جھٹکے سے شلوار نیچے اتار دی۔ سعدیہ نے جلدی سے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور وحید کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن اُس کی طاقت کے مقابلے میں وحید کی پکڑ مضبوط تھی۔ یہ تو اُسے تب پتا چلا جب سعدیہ کو دیوار کے ساتھ لگا کر وحید نے اُس کی ٹانگوں میں اپنا عضو پھنسا دیا۔ ایک دو دھکوں پر ہی وحید کے کانوں میں سسکیوں کی آواز پڑی جو چند سیکنڈ میں ہی رونے میں تبدیل ہو گئی۔ وحید نے سر اٹھا کر دیکھا تو سعدیہ آہستہ آہستہ رو رہی تھی۔ وحید نے آہستہ آواز میں اُسے ڈانٹنے جیسے انداز میں کہا کہ شش! چپ ہو جاؤ، ورنہ کوئی آجائے گا۔ آواز نہیں۔
    سعدیہ نے رونے کی آواز دبانے کے لیے کھلے ہونٹوں کو بھینچ لیا مگر رونا جاری تھا۔ وحید نے ہاتھ کے زور سے اُس کی ٹانگیں کھولیں اور عضو کو عین اُس کی شرم گاہ کی لائن میں رکھ کر دھکا لگایا لیکن خشک ہونے کی وجہ سے مزا نہیں آ رہا تھا۔ وحید نے عضو پر تھوڑا تھوک لگا کر ٹانگیں کھولیں اور شرم گاہ کی لائن میں عضو رکھتے ہوئے دھکا لگایا تو وہ پھسلتا ہوا سعدیہ کی ٹانگوں میں سما گیا۔ وحید کو یوں لگا جیسے عضو سعدیہ کی شرم گاہ میں گھس گیا ہو۔ ٹانگوں کی گرم گرم آغوش اتنی مزیدار تھی کہ وہ سعدیہ کو خود سے لپٹا کر دھکے لگانے لگا۔ اُس کا عضو سعدیہ کی ٹانگوں کو رگڑتا ہوا اور شرم گاہ سے لگتا ہوا ٹانگوں میں اندر باہر ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی سعدیہ نے پہلے سے بھی اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔ وحید نے اُسے شش۔شش کہہ کر چپ کرانے اور اپنا دایاں ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ بھی خاموش کرانے کی کوشش کی لیکن سعدیہ نے وحید کا ہاتھ جھٹک دیا اور روتی رہی بلکہ وحید کو پوری قوت سے دھکے دینے لگی۔
    وحید کو محسوس ہو گیا کہ اب اسے کنٹرول کرنا مشکل ہے اس لیے وحید نے بھی اپنی گرفت ڈھیلی کر دی اور پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن سعدیہ کو ہلکی آواز میں سمجھانے لگا۔ اچھا۔ اچھا۔ میں پیچھے ہو گیا ہوں۔ بس ! اب تو چپ ہو جاؤ۔ پلیز۔ یہ کہہ کر وحید نے اپنی شلوار اوپر کر لی اور ازاربند باندھنے لگا۔ سعدیہ نے بھی اپنی شلوار جلدی سے اوپر کر لی اور کپڑے درست کرنے لگی۔ پھر وہ تیزی سے باہر جانے کو پلٹی۔ لیکن وحید کو حواس باختگی میں بھی عقل کی بات سجھائی دے گئی اور اُس نے سعدیہ کو پکڑ کر روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ رکو ایک منٹ۔ سعدیہ بدستور خاموش تھی۔ اُس نے غصے سے وحید سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔ لیکن وحید فوراً بولنے لگا۔ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔ پہلے میں باہر جا کر دیکھتا ہوں کہ گلی میں کوئی ہے تو نہیں۔ ایسے تم یہاں سے باہر جاؤ گی اور اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت بُرا ہو گا۔ سعدیہ کو بھی بات سمجھ میں آ گئی۔ وہ غصے سے منہ ایک طرف موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ وحید اُسے دیکھا اور پھر باہر چلا گیا۔ بڑی احتیاط سے اُس نے باہر جھانکا۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے قریب آ کر سعدیہ کو کہا کہ نکل جاؤ جلدی سے۔ کوئی نہیں ہے۔ سعدیہ مڑ کر جانے لگی تو وحید نے ایک بار پھر اُس کا راستا روک کر اُس کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی لیکن سعدیہ نے نظریں جھکائے اور منہ پر غصہ سجائے ہوئے اُسے پیچھے دھکیل دیا اور جلدی سے باہر نکل گئی۔
    گلی میں پہنچتے ہی سعدیہ کو فوراً اُس ڈر نے بھی آ لیا جو مکان میں داخل ہوتے ہوئے اُس کے دل میں پیدا ہوا تھا اور وحید کی حرکت پر آنے والا غصہ فوراً کہیں غائب ہو گیا۔ وہ احتیاط سے مڑ کر پیچھے اور ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر کی جانب چلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ گھر پہنچ کر اُسے سکھ کا سانس آیا۔ ماں نے اُس کے سپاٹ لہجے والے سلام کا جواب دے کر اُس کا تمتماتا ہوا چہرہ دیکھا تو پوچھا کہ خیریت ہے؟ کیا ہوا؟ اُس نے کہا کچھ نہیں اور کمرے میں داخل ہو کر بستہ اپنی جگہ پر رکھتے ہی واش روم میں گھس کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لیکن اُس نے اس بات کا خیال رکھا کہ رونے کی آواز باہر کمرے تک نہ جائے اس لیے بنا آواز کے اُس کا رونا سسکیاں بنتا رہا۔ تمتماتے ہوئے سرخ گال گرم آنسوؤں سے بھیگتے رہے۔ دو چار منٹ وہ خالی ذہن سے صرف روتی رہی اور پھر آنسو پونچھ کر وہ شلوار اتار کر لیٹرین پر بیٹھی تو پچھلا واقعہ اُس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا اور پھر سے اشک اُس کی آنکھوں کے کنارے سے باہر چھلکنے لگے۔ اُس کی نگاہ کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟ اُسے یاد آ رہا تھا کہ کیسے پچھلے دو ماہ سے وحید اُس کا پیچھا کر رہا تھا۔ راستے میں کئی دفعہ اُس نے سعدیہ کو بلا کر بات کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن سعدیہ چپ چاپ چلتی رہتی اور اپنی رفتار تیز کر لیتی تھی۔ وحید لڑکی کو چھیڑنے کے جرم میں پکڑے جانے کے ڈر سے پیچھے رہ جاتا تھا۔ وہ اُس کے گھر سے دو تین گھر چھوڑ کر اُن کے ہمسایوں کا بیٹا تھا اور اکثر اپنی ماں کے ساتھ اُن کے گھر آتا جاتا تھا۔
    سعدیہ کی عمر پندرھویں سال کو چھو رہی تھی اور وہ نہم جماعت میں ہو چکی تھی۔ وحید کے ساتھ کبھی کبھار اُس نے بات چیت کی تھی لیکن اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ سترھویں سال میں قدم رکھتا وحید اُسے کس نظر سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اُسے وحید بھائی کہہ کر ہی پکارتی تھی مگر پچھلے دو ماہ سے جس طرح وحید راستے میں اُس سے دل کی بات کہنے لگا تھا اور اُسے اکیلے میں ملنے کا کہنے لگا تھا، اس بات نے سعدیہ کو پریشان کر دیا تھا اور وحید سے اُسے ڈر لگنے لگا تھا۔ اس سب کے باوجود اُس نے گھر کچھ نہیں بتایا تھا۔ اِسی کا نتیجہ تھا کہ آج وحید نے اتنی بڑی حرکت کر دی تھی۔
    لیکن جب وحید اُسے کھینچ کر مکان کے اندر لے جا رہا تھا تو وہ کچھ بولی کیوں نہیں؟ اُس نے شور کیوں نہیں مچایا؟ اِن سوالوں کے جواب میں اُسے دو سال پہلے کا واقعہ یاد آنے لگا جب اُس کے ماموں مراد اُن کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ماموں مراد اپنی بھانجی سے آٹھ سال بڑے تھے۔ ایک دن جب سعدیہ کی امّی کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھیں تو ماموں نے ٹی وی دیکھتے ہوئے پاس لیٹی سعدیہ کے ساتھ جڑ کر اُس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تھا۔ پھر وہ ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے ہوتا ہوا سعدیہ کی شرم گاہ پر جا پہنچا تھا۔ سعدیہ عمر کے اُس حصے میں تھی جہاں کوئی بچی لڑکی میں تبدیل ہونے کے مراحل میں ہوتی ہے۔ اُسے پیٹ پر ماموں کا ہاتھ پھیرنا تو بہت اچھا لگ رہا تھا مگر وہاں ہاتھ لگنے پر ایک ناگوار سی الجھن ہونے لگی تھی جسے وہ ابھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ آخر اُس نے ماموں کے ہاتھ کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی اور جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا: ماموں نہ کریں۔ ماموں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور کچھ دیر کنکھیوں سے سعدیہ کو دیکھتے رہے پھر کچھ سوچ کر وہ اٹھے اور سعدیہ سے کہا کہ چلو آج میں تمھیں کچھ سکھاتا ہوں۔ ماموں سے سعدیہ کا بہت پیار تھا اس لیے وہ اُن سے بہت مانوس تھی۔ وہ بھول گئی کہ ابھی چند لمحوں پہلے کیا ہو رہا تھا۔ بلکہ بچکانہ معصومیت سے اُس نے خوش ہو کر پوچھا۔ کیا؟ ماموں نے کہا کہ وہ اُسے بڑوں والا پیار کرنا سکھائیں گے۔ اور پھر ماموں نے اُسے سیدھا لیٹنے کو کہا۔ جب وہ سیدھی لیٹ گئی تو ماموں اُسے کے دونوں طرف گھٹنے رکھ کر اُس پر جھک گئے اور اُس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر بولے کہ ایسے کرتے ہیں بڑے پیار۔ اور پھر اُس کے چہرے کو ہر جگہ سے چومنا شروع کیا۔ اس دوران اُن کا وجود سعدیہ کے بدن کے ساتھ جڑ چکا تھا اور اُسے کوئی سخت سی چیز اپنے نچلے بدن پر لگتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی جسے ماموں آہستہ آہستہ اُس کے بدن پر دبا رہے تھے۔ کمرے میں صرف ٹی وی کی روشنی تھی۔ دروازہ بند تھا اور کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس دھیمی دھیمی روشنی میں ماموں سعدیہ کو بڑوں کی طرح پیار کرنا سکھا رہے تھے۔ ماموں نے سعدیہ کے چہرے کو چوم لیا تو مسکرا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ ہونٹوں کو چومنے کو کِس کرنا کہتے ہیں اور وہ بڑے اِس طرح کرتے ہیں۔ اپنے ہونٹ ذرا سے کھولو۔ سعدیہ نے ہونٹ کھولے تو ماموں نے اُس کا اوپر کا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کیا۔ سعدیہ کے بدن میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ تھوڑی سی دیر بعد ہی اُس نے کسمساتے ہوئے ماموں کو پیچھے کرنا چاہا تو ماموں نے ہونٹ ہٹا کر اُسے کہا کہ میری پیاری سی گڑیا! تھوڑی دیر صبر کرو۔ یہ جو تم سیکھ رہی ہو یہ بڑے ہو کر تمھارے بہت کام آئے گا۔ بڑوں والا پیار کرتے ہوئے جسم میں تھوڑی بے چینی سی ہوتی ہے۔ ہو رہی ہے نا! سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماموں نے کہا: ہاں! بس اُس بے چینی کو کنٹرول کرنا تب تم ٹھیک طرح سے سیکھ سکو گی ورنہ کچھ بھی نہیں سیکھو گی۔ چلو اب وعدہ کرو کہ چپ کر کے لیٹی رہو گی اور جو میں کروں گا اور بتاؤں گا اُس پر شور نہیں مچاؤ گی بلکہ جو مَیں کہوں وہ کرو گی۔ بولو! سعدیہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بے دلی سے ہاں کہہ دیا۔ بڑوں کے ادب کے تحت وہ ناگواری محسوس کرتے ہوئے بھی انھیں انکار نہیں کر سکی۔ ماموں نے اُس کے گال کو چومتے ہوئے کہا۔ شاباش۔ چلو اب ہونٹ کھولو! اُس نے پھر سے ہونٹ کھولے اور ماموں انھیں باری باری چوسنے لگے۔ اُس کے بعد وہ اُس کی گردن کو چومنے لگے۔ پھر اُس کے سینے کو اور پیٹ کو چومتے ہوئے نیچے جانے لگے۔ پیٹ تک چوم کر ماموں نے سعدیہ کو حکم دیا کہ چلو اب اٹھو۔ سعدیہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماموں نے کہا کہ ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔ سعدیہ نے ہاتھ اوپر اٹھائے۔ ماموں نے اُس کی قمیص اتار دی۔ سعدیہ نے روکنے کی کوشش کی لیکن ماموں نے اُسے سمجھایا کہ قمیص اتار کر چومیں تو زیادہ مزا آتا ہے۔
    وہ اگرچہ بچی تھی مگر اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ وہ کام کر رہے ہیں جو لوگوں کے سامنے نہیں کیا جاتا۔ کئی فلموں میں اُس نے پیار کرنے کے سِین دیکھے تھے اور اب اُسے سمجھ میں آنے لگ پڑا تھا کہ ماموں بھی اُس کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو فلموں میں ہیرو ہیروئن کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس کے جسم کو چومتا ہے۔ اُسے بازوؤں میں لے لیتا ہے وغیرہ۔ ان سینز پر اُسے بھی کچھ کچھ ہوتا تھا مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ ایک دن یہ سب کریں گے۔ اب جب وہ کر رہے تھے تو الجھن کے ساتھ ساتھ اُسے ہلکا ہلکا مزا بھی آ رہا تھا۔ اسی لیے اُس نے قمیص اتروانے پر ماموں کو روکا نہیں بلکہ اُسے تجسس پیدا ہونے لگ پڑا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ ماموں نے جب اُس کو لِٹا کر اُس کے ننگے سینے کو چومنا شروع کیا تو ایک عجیب سی گدگدی کے ساتھ اُسے مزا بھی آنے لگا۔ وہ مسکراتے ہوئے وقفے وقفے سے اُس کے بدن کو چھوتے ہوئے ماموں کے ہونٹوں کے لمس پر جھرجھریاں لینے لگی۔ پیٹ سے کمر کی طرف ماموں چومتے ہوئے گئے تو وہ ہنسنے لگی۔ ماموں نے رُک کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو اُس نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے کہا کہ گدگدی ہو رہی ہے۔ اُسے تب احساس ہوا کہ اُس کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں۔ تب اُس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر ماموں کو دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ اُس کے پیٹ کو چوم رہے تھے اور چاٹ بھی رہے تھے اور نیچے بڑھتے جا رہے تھے۔سعدیہ کا سر تکیے پر تھا اس لیے اُسے ماموں کا سر نظر آ رہا تھا۔ پھر اُس کے ماموں نے اُس کی شلوار کو دونوں طرف سے پکڑا اور کھینچ کر گھٹنوں تک اتار دیا۔ وہ اس اچانک حرکت پر گھبرا گئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماموں اُس کی طرف متوجِہ ہوئے اور کہا۔ لیٹ جاؤ لیٹ جاؤ۔ کچھ نہیں ہوا۔ جب بڑے پیار کرتے ہیں تو سارے کپڑے اتار کر کرتے ہیں۔ لیٹ جاؤ شاباش! انھوںنے سعدیہ کو کچھ اس انداز سے پچکار کر کہا کہ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے لیٹ گئی کیوں کہ اب اُسے واقعی شرم آ رہی تھی۔ بچپن سے اُسے سمجھایا گیا تھا کہ کسی کے سامنے شلوار نہیں اتارتے۔ پیٹ پر سے بھی قمیص نہیں اٹھاتے۔ شیم شیم ہوتی ہے۔ لیکن ماموں نے تو اُس کی شلوار اپنے سامنے اتار دی تھی۔ پھر اُسے اور زیادہ شرم آنے لگی جب ماموں نے اُس کی شلوار پاؤں سے نکال کر اُسے مکمل ننگی کر دیا۔ اُس نے ایک بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ اس طرح وہ ماموں کی آنکھوں سے چھپ گئی ہے مگر یہ فعل اس کبوتر کی طرح تھا جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بازو آنکھوں پر رکھ لینے سے ٹی وی کی جو ہلکی روشنی اُس کی آنکھوں کو محسوس ہو رہی تھی وہ بھی ختم ہو گئی اور آنکھوں کو مکمل اندھیرا محسوس ہونے لگا تھا اس لیے اُس کے دل کو کچھ تسلی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ بالکل اندھیرے میں ہے اور ماموں اُسے نہیں دیکھ رہے۔ لیکن وہ کانپ سی گئی جب ماموں نے سیدھا اُس کی شرم گاہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر سہلانا شروع کیا۔ سعدیہ نے دوسرے ہاتھ سے ماموں کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ماموں کی آواز اُسے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ کچھ نہیں ہوتا چھونے! آرام سے لیٹی رہو۔ پھر ماموں نے اُس کی ٹانگوں کو کھول دیا جنھیں وہ جوڑ کر لیٹی ہوئی تھی اور تھوڑی دیر نجانے کیا کرتے رہے۔ اُس نے بازو بہت آہستگی سے اوپر کر کے آنکھیں ذرا سی کھول کر دیکھا تو ماموں اُس کے سامنے پلنگ پر کھڑے ہوئے تھے اور بنیان اتار رہے تھے۔ اُن کا عضو سیدھا آگے کو تنا ہوا ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں اور اُسے کچھ ڈر لگنے لگا کہ ماموں یہ کیا کر رہے ہیں؟
    کچھ دیر بعد اُسے ماموں کے ہونٹ اپنی ٹانگوں کو چومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اُسے اپنی رانوں پر ماموں کے ہونٹوں سے گدگدی ہو رہی تھی اس لیے وہ بار بار کانپ رہی تھی۔ پھر ماموں اُس کی پنڈلیوں کو چومتے ہوئے پاؤں تک پہنچے اور پاؤں کو بھی ہر جگہ سے چوم کر انگلیوں اور انگوٹھے کو چوسنے لگے۔ سعدیہ کے اندر کئی طرح کے جذبات ایک ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔ اُس کے دل میں ڈر بھی تھا۔ شرم آنے کی وجہ سے ناگواری بھی تھی۔ ایک بے نام سی الجھن بھی تھی اور دل کے کسی کونے میں اس نئے فعل کو لے کر تجسس والا مزا بھی تھا۔ اُس نے یہ سب فلموں میں نہیں دیکھا تھا۔ یہ اُس سب سے بہت آگے کا کام تھا۔ اپنی سہیلیوں سے اُس نے یہ سن رکھا تھا کہ مرد عورت ننگے ہو کر گندا کام کرتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ گندا کام کیسے ہوتا ہے اور یہ سب کرتے ہوئے جسم میں کیسی کیسی بے چینی پیداہوتی ہے۔ کیا کیا محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب تو آج اُسے پہلی بار پتا چل رہا تھا کہ ایسا کرنے سے جسم میں کیسی کھلبلی مچ جاتی ہے۔
    پاؤں چومنے اور چوسنے کے بعد ماموں اُس کے اوپر لیٹ گئے اور اُسے اپنی شرم گاہ پر اُن کا عضو محسوس ہوا تو وہ لرز گئی۔ ایک سنسنی اور ایک ڈر....... بہ یک وقت اُس کے بدن میں دوڑتا چلا گیا۔ اُس نے سہیلیوں سے سنا تھا کہ مرد اپنا وہ عورت کی پیشاب والی جگہ کے اندر ڈال دیتا ہے اور بڑا درد ہوتا ہے۔ اس لیے اُسے جہاں عضو کے اپنی شرم گاہ پر لگنے سے مزا آ رہا تھا وہیں ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ماموں اُسے اندر ہی نہ ڈال دیں۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ ماموں نے سعدیہ کی ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کاندھوں پر رکھ لیا اور اُن کا عضو اُس کی شرم گاہ پر آگے پیچھے ہونے لگا۔ سعدیہ کی حالت عجیب تھی۔ اُسے پتا چل گیا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ گندا کام کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اُسے ماموں پر غصہ آنے لگا تھا۔ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اب اُسے بہت درد ہو گا۔ اور ساتھ ہی اُس پہلے پہلے لمس کا مزا بھی کہیں ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ بالکل خاموشی سے بازو آنکھوں پر رکھے لیٹی تھی کہ ماموں نے اُس کا بازو آنکھوں سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں سے اُس کے دونوں بازوؤں کو پکڑ لیا اور سرگوشی میں اُس کے چہرے کے پاس منہ کر کے بولے: آنکھیں کھولو سعدیہ! اُس نے ڈرتے ڈرتے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں۔ ماموں کا چہرہ اُس کے بالکل سامنے تھا اور اُن کا عضو بدستور اُس کی شرم گاہ پر آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ وہ بولے: مزا آ رہا ہے؟ سعدیہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور آنکھیں جلدی سے بند کر لیں۔ ماموں کی سپیڈ تیز ہو گئی تھی۔ پھر ماموں تیز آہوں کے ساتھ اچانک بھاگ کر اٹیچ واش روم میں گھس گئے۔ وہ ننگی وہیں لیٹی رہی۔ دو منٹ ایسے ہی گزر گئے۔ اُس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ماموں واش روم ہی میں تھے۔ ٹی وی بدستور چل رہا تھا۔ اُس نے پوری آنکھیں کھول دیں اور پھر اپنے جسم پر نظر ڈالی۔ کمرے میں پورے کپڑے اتار کر لیٹی ہوئی ہونے پر اُسے شرم محسوس ہوئی مگر اُسی وقت واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو سعدیہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر کے ٹانگیں آپس میں جوڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے شرم گاہ چھپا لی اور ایک بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔
    ماموں تھوڑی دیر بعد بیڈ پر آگئے اور اُس کے ساتھ لیٹ کر اُس کے چہرے کو چوما۔ پھر اُسے نارمل انداز میں آواز دی۔ دو تین بار آواز دینے پر اُس نے ہلکا سا جی کہا۔ اُسے ابھی تک شرم آ رہی تھی کیوں کہ وہ بالکل ننگی تھی۔ ماموں نے اُس کی آنکھوں سے بازو ہٹایا اور پھر اُسے کھینچ کر بیڈ کی ٹیک کےساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔ اُس نے آنکھیں بند ہی رکھیں۔ ماموں نے اُس کا منہ اپنی طرف گھمایا اور ہونٹ چوم کر ہنستے ہوئے اُسے کہا: ارے گڑیا! کیا ہوا؟ آنکھیں تو کھولو۔ سعدیہ نے آنکھیں کھولیں مگر منہ نیچے کر لیا۔ اس دوران اُس کی نظر ماموں کی ٹانگوں کی طرف گئی تو وہاں اُن کے موٹے عضو کی ایک جھلک اُسے نظر آ گئی۔ ماموں اُسے دھیرے دھیرے بتانے لگے کہ اس طرح مرد اور عورت آپس میں کپڑے اتار کر ملتے ہیں۔ پیار کرتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اور بچہ پتا ہے کیسے پیدا ہوتا ہے؟ ماموں نے اُس کا ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا۔ وہ خاموش رہی۔ پھر ماموں اُس کی طرف گھوم گئے۔ اُن کا عضو اُس کے ہاتھ کے قریب تھا۔ ماموں نے اُس کا ہاتھ اپنے عضو پر رکھا اور کہا کہ آنکھیں کھول کر میری بات پوری طرح سنو۔ ورنہ تمھیں سمجھ نہیں آئے گی۔ یہ بڑے کام کی باتیں ہیں۔ بعد میں تمھیں مسئلہ نہیں بنے گا بڑے ہو کر۔ اُس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی تو ماموں نے ذرا سختی سے کہا۔ تمھیں کہہ رہا ہوں نا کہ کچھ نہیں ہوتا۔ چپ کر کے دھیان سے میری باتیں سنو۔ اور جو سمجھا رہا ہوں وہ سمجھتی جاؤ۔ بڑوں کا کام ہوتا ہے چھوٹوں کو سمجھانا۔ انھیں برے بھلے سے آگاہ کرنا۔ اور تم ہو کہ ایسے کر رہی ہو۔ ماموں کے اس سخت لہجے پر وہ ڈر گئی اور آنکھیں پوری طرح کھول دیں۔ مگر شرم ابھی بھی موجود تھی اس لیے اس نے چہرہ نیچے ہی رکھا۔
    ماموںنے اپنا ہلکا ہلکا گیلا عضو اُس کے ہاتھ میں پکڑایا اور کہا: جب مرد اپنا یہ عورت کے اس جگہ ڈالتا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے انھوں نے سعدیہ کی شرم گاہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اُس نے ٹانگیں جوڑنے کی کوشش کی لیکن ماموں نے ٹانگیں کھولو نا۔ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اُس کی رانوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی تو اُس نے بھی شرماتے ہوئے ٹانگیں کھول دیں۔ ماموں نے اُس کی شرم گاہ کے سوراخ میں انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ یہاں ڈالتے ہیں اِسے۔ پھر وہ اُس جگہ کو آہستہ آہستہ سہلانے لگے۔ سعدیہ کو کچھ کچھ ہونے لگا۔ ماموں نے اُسے بتایا کہ جب مرد اِس پر ہاتھ پھیرتا ہے تو عورت کو بہت مزا آتا ہے اور جب عورت مرد کے اِس کو ہِلاتی ہے تو مرد کو بہت مزا آتا ہے۔ مرد کے اِس کو لن کہتے ہیں اور پھر سعدیہ کی شرم گاہ میں انگلی کا دباؤ ڈالتے ہوئے بولے کہ عورت کی اس جگہ کو پھدی کہتے ہیں۔
    ایسا کہتے ہوئے ماموں کا لہجہ گھمبیر ہو گیا تھا۔ سعدیہ کو یہ بہت بعد میں پتا چلا کہ یہ بتاتے ہوئے ماموں دوبارہ گرم ہو چکے تھے۔ ماموں کا نرم لن سعدیہ کے ہاتھ میں بہت سخت ہو گیا تھا جیسے وہ اُس وقت تھا جب وہ اُس کی پھدی پر اُسے آگے پیچھے کر رہے تھے۔ اسی لیے ماموں نے اپنے ہاتھ سے چھڑوایا اور سعدیہ کی ٹانگوں کے درمیان میں آ گئے۔ پھر اُس کی ٹانگوں کو کھولتے ہوئے کہنے لگے: میری طرف دیکھو سعدیہ! غالباً انھیں بھی محسوس ہو گیا تھا کہ اُن کی بھانجی انھیں اب منع نہیں کر رہی ہے اور بڑا ہونے کی وجہ سے اُن کے احترام میں کچھ نہیںبولے گی بلکہ جو بھی وہ حکمیہ انداز میں کہیں گے، اُسے مان لے گی۔ اسی لیے اب وہ اُس سے اپنی ہر بات منوا رہے تھے۔ سعدیہ نے جھجکتے ہوئے اُن کی طرف دیکھا۔ ماموں نے اُس کی ٹانگوں کو کھول کر اپنا لن اُس کی پھدی کے پاس کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے ٹانگیں اٹھا کر مرد اپنا لن عورت کی پھدی میں اندر ڈالتا ہے۔ پتاہے کیوں؟ پھر اُس کی طرف دیکھ کر دوبارہ گویا ہوئے: اس لیے کہ ٹانگیں اٹھانے سے اور کندھوں پر رکھنے سے پھدی صحیح طرح کھل جاتی ہے اور لن ڈالنے میں آسانی ہوتی ہے۔
    ماموں نے بھی اب اشاروں والی گفتگو، یعنی مرد کا یہ اور عورت کی یہ، کے بجائے بے باک ہوتے ہوئے نام لے کر سمجھانا شروع کر دیا تھا۔ یقیناً انھیں نام لے کر زیادہ مزا محسوس ہو رہا تھا جسے سعدیہ آنے والے سالوں میں صحیح طرح سمجھ سکی تھی۔ پھر ماموں نے کہا: لیکن لن کو پھدی میں ڈالنے سے پہلے اِسے تھوک لگا کر گیلا کرنا پڑتا ہے تاکہ یہ عورت کی پھدی میں آرام سے جائے اور عورت کو زیادہ درد نہ ہو۔ اور تھوک لگانے کے لیے عورت اِسے اپنے منہ میں ڈالتی ہے۔ پھر اِسے چوس کر اِس پر اچھی طرح تھوک لگاتی ہے تو یہ آرام سے اندر چلا جاتا ہے۔ درد نہیں ہوتا۔ چلو اب تم بھی اِسے چوس کر گیلا کر لو تاکہ تمھیں بھی درد نہ ہو۔ یہ کہہ کر ماموں اٹھ کر آگے آئے اور سعدیہ کو اُن کا موٹا لن اپنے منہ کے قریب ہوتا نظر آیا تو اُس نے اُس لن سے بچنے کے لیے ہاتھ اٹھا کر آگے کیا اور منہ ایک طرف موڑتےہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
    ماموںنے اُسے پچکارتے ہوئے کہا: گڑیا! چلو شاباش! منہ کھولو۔ ورنہ تمھیں درد ہوگا نا! لیکن سعدیہ نے منہ سیدھا نہیں کیا۔ ماموں کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگے۔ اچھا تمھیں دکھاتا ہوں کہ تھوک لگائے بغیر کیاہوتا ہے۔ اور پھر اُس کی ٹانگیں اٹھا کر اُس کی ننھی سی پھدی کے سوراخ میں لن کا ٹوپا رکھ کر جب دھکا لگایا تو سعدیہ کے بدن میں درد کی تیز لہر پھیل گئی اور وہ آہ کرتے ہوئے چیخ اٹھی۔ ماموں کو تو پتا تھا کہ بھانجی کی پھدی میں ابھی لن نہیں جا سکتا۔ وہ کچی کلی ہے۔ لیکن وہ سعدیہ سے اپنا لن چُسوانا چاہ رہے تھے اور اسی لیے انھوںنے بات بنائی تھی۔ جب سعدیہ کو درد ہوا تو ماموں نے لن ہٹا لیا اور کہا: میں نے کہا تھا نا کہ سوکھا لن اندر نہیں جائے گا۔ اس لیے ضد نہ کرو۔ اِسے گیلا کردو۔ تھوک سے یہ زیادہ ملائم ہو جاتا ہے۔ اور آرام سے چلا جاتا ہے۔ وہ پھر سے اُس کے منہ کے پاس اپنا لن لے آئے۔ تب سعدیہ آہستہ سے بولی: میں نہیں۔ گندا ہوتا ہے۔ ماموں نے یہ سنا تو اُسے پچکارتے ہوئے بولے: نہیں گڑیا! بالکل گندا نہیں ہوتا۔ وہ تو جب پیشاب کرتے ہیں تو وہ پیشاب گندا ہوتا ہے۔ یہ تو باہر سے صاف ہوتا ہے بالکل۔ اچھا میں اِسے دھو کر لاتا ہوں۔ پھر چوس لینا۔ ٹھیک ہے؟ یہ کہہ کر وہ جلدی سے واش روم گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے۔ سعدیہ وہیں نظریں نیچی کیے ایک ہاتھ شرم گاہ پر رکھ کر بیٹھی رہی۔ ماموں آکر اُس کے سامنے کھڑے ہوئے اور کہا: چلو شاباش! دیکھو اب میں نے اسے اچھی طرح دھو لیا ہے۔ چلو منہ کھولو! سعدیہ نے بڑی بے دلی سے جھجکتے ہوئے منہ کھولا کیوں کہ وہ خود نہیں چاہ رہی تھی کہ اُس کی پھدی میں دوبارہ سے درد ہو۔ اس لیے وہ بادلِ ناخواستہ ماموں کا لن چوسنے کے لیے راضی ہو گئی تھی۔ ماموں نے اُس کے ہونٹوں پر ٹوپا رکھ کر آگے کیا لیکن سعدیہ کے ہونٹ پورے نہیں کھلے ہوئے تھے اس لیے اندر نہیں گیا۔ ماموں نے اُسے پورا منہ کھولنے کا کہا۔ پورا منہ کھلنے پر سعدیہ کے منہ میں لن کا ٹوپا داخل ہو گیا۔ وہ ابھی چھوٹی تھی اور یہ اُس کا پہلا پہلا تجربہ تھا اس لیے ماموں نے زور لگایا تو ٹوپے سے کچھ آگے تک اُس کے منہ میں گھس سکا۔ جب اُسے لگا کہ منہ میں اور اندر نہیں جائے گا بلکہ ماموں بے سود زور لگا رہے ہیں تو اُس نے منہ کو تھوڑا گھمانے کی کوشش کرتے ہوئے لن کو پکڑ کر نکالنے کی کوشش کی۔ ماموں کو بھی احساس ہو گیا کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اُسے منہ گھمانے سے روکا اور کہا کہ اچھا اور اندر نہیں ڈالتا۔ بس اِسے ہی چُوسو۔
    سعدیہ نے ٹوپے پر زبان پھیری تو اُسے پھیکا پھیکا ذائقہ عجیب سا لگا۔ ماموں نے تیز آہ بھرتے ہوئے حکم دیا: چوسو اِسے۔ وہ اتنے موٹے ٹوپے کو چوسنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر وہ اُس طرح نہیں چوسا جا رہا تھا جیسے وہ قلفی یا لولی پوپ چوسا کرتی تھی۔ اس لیے وہ محض اُس پر زبان پھیرنے لگی اور پھر زبان نیچے ٹکا کر اُسے تھوڑا تھوڑا چوسنا آ گیا۔ ساتھ ہی ماموں نے اُس کا ایک ہاتھ لن کے پچھلے حصے پر رکھ کر کہا: اِسے بھی ہلاؤ آگے پیچھے۔ وہ اناڑی پن سے اُسے ہِلانے لگی۔ سعدیہ کو وہ ملائم ملائم پھیکا ٹوپا عجیب سا لگ رہا تھا اور اُسے چوسنا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مگر ماموں کے حکم کے مطابق اور اپنی پھدی میں ہونے والے درد سے بچنے کے وہ اُسے چُوسے جا رہی تھی۔ ماموں جذبات سے مغلوب ہو کر آہ آہ کرنے لگے تھے۔ اُن سے کنٹرول مشکل ہو گیا تھا۔ اس لیے اُن کے ذہن سے یہ بھی نکل گیا کہ سعدیہ ابھی بچی ہے اور اُس کے ساتھ سیکس کرنا خطرناک ہوگا۔ لہٰذا اُنھوں نے مزے کی انتہا پر پہنچتے ہوئے اپنا لَن سعدیہ کے منہ سے نکلوایا اور اُسے کہا کہ چلو لیٹو۔ اندر ڈالوں! سعدیہ کو ایک دم خیال آیا۔ اور وہ روہانسی ہوتے ہوئے کہنے لگی۔ میں نہیں ماموں۔ میری شادی نہیں ہوئی اور ایسے تو مجھے بچہ ہو جائے گا۔ ماموں نے یہ سنا تو اُسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔ ارے نہیں میری جان! اندر ڈال کر جب تیز تیز ہلائیں تو آخر میں لن سے گاڑھا گاڑھا پانی نکلتا ہے جسے منی کہتے ہیں۔ وہ اگر تمھارے اندر نکالوں گا تو بچہ ہو گا لیکن اگر اُس سے پہلے لن نکال لوں گا تو بچہ نہیں ہوگا۔ چلو جلدی سے سیدھی ہو نا! ضد نہیں کرتے اچھے بچے۔ سعدیہ کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ماموں کیا کہہ رہے ہیں لیکن وہ اُن کے حکم کے مطابق ڈرتے ڈرتے لیٹ گئی۔ ماموں نے سعدیہ کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کو اپنے منہ سے بھی تھوک نکال کر اچھی طرح لگایا پھر سعدیہ کی پھدی پر لن کا ٹوپا پھیرنے لگے۔ سعدیہ نے پھر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ ٹوپا سعدیہ کی پھدی کو سہلا رہا تھا اور سعدیہ کے اندر بھی ہلچل سی پیدا ہو رہی تھی لیکن وہ اسے ابھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ پھر ماموں نے اپنا لن اُس کی پھدی کے سوراخ میں رکھا۔
    اچانک دروازہ بجنے لگا۔ دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ جلدی جلدی ماموں نے شلوار پکڑی اور پہنتے ہوئے سعدیہ سے کہا کہ جلدی سے کپڑے پہنو۔ اور خبردار اگر امی کو بتایا کہ میں تمھیں کیا سکھا رہا تھا۔ ورنہ تمھیں بہت مار پڑے گی اور ہو سکتا ہے وہ تمھیں گھر سےباہر نکال دیں۔ خبردار! یہ کسی کو بھی نہ بتانا ورنہ جس کو بھی پتا چلا وہ تمھاری بہت بِستی کر ے گا۔ چلو جلدی جا کر دروازہ کھولو۔ میں واش روم جا رہا ہوں۔ سعدیہ اِس دوران شلوار پہن کر قمیص پہن رہی تھی۔ دروازہ دوسری بار بج چکا تھا۔ ماموں نے بنیان پہن کر قمیص پکڑتے ہوئے واش روم میں دوڑ لگائی اور سعدیہ نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا تھا اور جیسے تیسے اپنی سرخ رنگت کے بارے میں ماں کو کوئی جواب دیا تھا۔ لیکن اُس کے بعد ماموں ہفتہ بھر وہاں رہے اور ہر روز ہی اُسے چھیڑتے رہے۔ جب بھی موقع ملتا، اُس کی شرم گاہ پر ہاتھ پھیر دیتے یا اپنا عضو پکڑنے کا کہتے۔ دو مرتبہ موقع ملنے پر انھوں نے سعدیہ کو اپنا عضو چُسوایا تھا۔ یہ دھمکی دے کر کہ اگر اُس نے نہ چوسا تو وہ سوکھا ہی اُس کی پھدی میں ڈال دیں گے اور اگر وہ چوسے گی تو پھدی میں نہیں ڈالیں گے۔ اب یا تو لن چوس کر جان چھڑوا لے یا پھر پھدی میں ڈالوانے والا گندا کام کروا لے۔ ان دو آپشنز میں سے سعدیہ کو لن چوسنے والا آپشن آسان لگتا اور وہ نظریں جھکا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ماموں کا لن پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگتی۔ دھلا نہ ہونے کی وجہ سے اُسے شروع میں ذائقہ نمکین لگتا جو بعد میں پھیکا ہو جاتا۔
    آخر اُس کی جان چھوٹی اور ماموں کا روانگی کا وقت آیا۔ اُس دن لن تو نہ چُسوا سکے لیکن ساتھ بیٹھ کر اُس کی پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور اپنا لن سعدیہ کے ہاتھ میں دے کر سہلواتے ہوئے انھوں نے سعدیہ کو بتایا کہ تم ابھی چھوٹی ہو۔ اس لیے کسی بھی لڑکے سے اپنی پھدی میں لن نہ ڈلوانا ورنہ وہ پھٹ جائے گی۔ دو سال بعد تمھاری پھدی لن ڈلوانے کے قابل ہو جائے گی۔ پھر کچھ نہیں ہوگا۔ جب دوبارہ میرا چکر لگے گا تو میں تمھیں پھدی میں لن ڈلوانا بھی سکھا دوں گا۔ پھر تمھارے لیے آسانی ہو جائے گی۔ اس لیے میرے آنے سے پہلے کسی لڑکے سے بھی پھدی نہ مروانا۔ وہ جواب میں ہولے ہولے سر ہلاتی ہوئی مریل سی ہوں، ہوں کرتی رہی۔ گذشتہ دنوں میں ماموں نے اُسے اچھی طرح بتا دیا تھا کہ اگر لڑکی اپنی پھدی میں کسی لڑکے کا لن ڈلوائے تو اُسے پھدی مروانا کہتے ہیں اور اگر لڑکا کسی لڑکی کی پھدی میں لن ڈال کر اندر باہر کرے تو اُسے پھدی مارنا کہتے ہیں۔ یعنی لڑکا پھدی مارتا ہے اور لڑکی پھدی مرواتی ہے۔ علاوہ ازیں اِسے چودنا اور چُدوانا بھی کہتے ہیں۔ یعنی لڑکا پھدی مار رہا ہو تو کہتے ہیں کہ وہ لڑکی کو چود رہا ہے اور لڑکی پھدی مروا رہی ہو تو کہتے ہیں کہ وہ کسی لڑکے سے چُدوا رہی ہے۔ بہن چود اور ماں چود کا مطلب بھی اُسے ماموں نے بتایا کہ اگر بھائی اپنی بہن کی پھدی مارے یعنی بہن کو چودے تو اُسے بہن چود کہتے ہیں۔ اور جو بیٹا اپنی ماں کو چودے اُسے ماں چود کہتے ہیں۔ اسی لیے یہ گندی گالیاں ہیں کیوں کہ بھائی اپنی بہنوں کی پھدی نہیں مارتے اور بیٹے اپنی ماؤں کو نہیں چودتے۔ یہ گناہ ہوتا ہے۔ اُسے ماموں نے وہ منی بھی نکال کر دکھائی تھی، جس کو اگر پھدی کے اندر ہی نکال دیں تو بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اُسے بہت بُری لگی تھی لیکن یہ ہو گیا تھا کہ ماموں کی وجہ سے وہ بہت سی ایسی باتوں کے بارے میں جان گئی تھی جو اُس کی سہیلیوں کو پتا نہیں تھیں اور جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے خود اُسے بھی تجسس رہتا تھا لیکن اُس کی کسی سہیلی کو اس سب کے بارے میں مکمل جان کاری نہیں تھی اس لیے اُسے بھی پتا نہیں چل سکا تھا۔ کچھ اُس کے معاشرے میں ایسی باتیں کرنا بھی گندا کام سمجھا جاتا تھا اور ایسے لوگوں کو بے شرم کہا جاتا تھا اس لیے بھی وہ کھل کر کسی سہیلی سے اس بارے میں کبھی نہیں پوچھ پائی تھی۔ لیکن ماموں نے جہاں اُس کا جینا حرام کیا تھا، وہیں اُسے وقت سے پہلے بہت کچھ سے آگاہ بھی کر دیا تھا۔ نیز ماموں نے اُسے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اگر کسی کو پتا چل جائے کہ کوئی لڑکی کسی لڑکے سے پھدی مرواتی ہے تو محلے کے لوگ اُن کی بہت بے عزتی کرتے ہیں اور قتل بھی کر دیتے ہیں۔ یہ شادی کے بعد جتنا ضروری کام سمجھا جاتا ہے، ہمارے ہاں شادی سے پہلے اُتنا ہی گندا کام سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے شادی سے پہلے کبھی کسی کے ساتھ ایسا کچھ ہو بھی جائے تو خبردار کسی کو نہ بتانا۔ کسی کو پتا نہ چلنے دینا۔ ورنہ سمجھ لو کہ تم جان سے گئی۔ یہی وجہ تھی کہ آج کے واقعے کے وقوع پذیر ہوتے ہوئے اُس کا وہ دوسال پہلے کا ڈر اور خوف فوراً عود کر آیا تھا اور وہ چاہتے ہوئے بھی شور نہیں مچا سکی تھی کہ کہیں کسی کو پتا چل گیا تو محلے والے اُس کے گھر والوں کو بدنام کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اُسے جان سے ہی مار دیں۔
    اچانک واش روم کا دروازہ بجا۔ سعدیہ اپنے خیالات سے چونکی۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ ہولے ہولے اپنی شرم گاہ میں انگلی پھیرتے ہوئے اُسے سہلا کر مزا لے رہی ہے۔ امی کی آواز آئی: خیر تو ہے؟ اندر سو تو نہیں گئیں؟ اُس نے جلدی سے شاور پکڑتے ہوئے شرم گاہ پر پانی ڈالنا شروع کیا اور دھوتے ہوئے اونچی آواز میں بولی: آئی امی۔

    جاری ہے۔۔۔

  2. The Following 5 Users Say Thank You to abidkazmi For This Useful Post:

    abkhan_70 (31-12-2019), aloneboy86 (30-12-2019), asiminf (31-12-2019), Lovelymale (31-12-2019), Story Maker (31-12-2019)

  3. #2
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    148
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    79
    Thanked in
    55 Posts
    Rep Power
    17

    Default

    Start to atcha hay bg ab dakhna yah hah ke update kitne jaldi ate hay

  4. The Following User Says Thank You to Nadaan1122 For This Useful Post:

    abidkazmi (30-12-2019)

  5. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Posts
    21
    Thanks Thanks Given 
    39
    Thanks Thanks Received 
    29
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    60

    Default

    رات سوتے ہوئے اُسے یاد آنے لگا کہ کیسے وحید اُس کے ابھار دبا رہا تھا اور پھر کس طرح اُس نے اُس کی قمیص اوپر کر دی تھی۔ پھر برا بھی اوپر کر کے ابھار ننگے کر لیے تھے اور پھر۔۔ ۔ اُف! وحید نے نپل منہ میں ڈال لیے تھے ا ور چوسنا شروع ہو گیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اُس نے اُس کے سینے پر اور ابھاروں کی گولائیوں پر زبان بھی پھیری تھی۔ پھر کیسے اچانک اُس نے اُس کی شلوار اتار دی تھی۔ اپنا عضو نکال کر اُس کی ٹانگوں میں دیا تھا اور کیسے وہ گرم گرم اور ملائم ملائم سلاخ جیسا عضو اُس کی شرم گاہ سے ٹکرا رہا تھا اور اُس کی ٹانگوں میں اندر باہر رگڑ کھانے لگا تھا۔ اُسے یہ سب سوچتے ہوئے مزا آ نے لگا تھا۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ وہاں لے جا چکی ہے اور اُسے سہلا رہی ہے جب کہ دوسرا ہاتھ ابھاروں پر ہولے ہولے پھیر رہی ہے۔ کچھ دیر وہ اپنے دونوں پرائیویٹ حصے یوں ہی سہلاتی رہی۔ پھر اُسے اچانک یاد آیا کہ نہیں یہ سب گناہ ہے۔ ایسا نہیں کرتے۔ اور ایسا سوچتے ہی اُس نے جلدی سے اپنے ہاتھ دونوں جگہ سے ہٹائے اور کروٹ بدل کر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن سونے میں بھی اُسے خاصی دیر لگی۔
    دو چار دن اور گزر گئے۔ اس دوران وحید اُسے راستے میں نظر نہیں آیا۔ پھر ایک دن جب وہ سکول سے گھر آ رہی تھی، وحید نے اُس کے ساتھ چلنا شروع کیا اور اُس دن کے حوالے سے اُس سے معذرت کرنے لگا۔ سعدیہ نے اُس کی باتوں کو ان سنا کرتے ہوئے اپنی رفتار تیز کر لی۔ وحید کچھ دیر اُسے کہتا رہا ہے کہ وہ اُسے معاف کر دے لیکن وہ کچھ نہ بولی۔ بالآخر وحید نے راستہ بدل لیا۔ اگلے دن سے سعدیہ نے بھی راستہ بدل کر دوسری گلی سے گھر آنا شروع کر دیا۔ یہ ایسی گلی تھی کہ اس میں کوئی ویسا مکان نہیں تھا اور دوبارہ اُس طرح کی کسی حرکت کے ہونے کے امکانات ختم ہو گئے تھے۔ پہلے راستے کو سعدیہ نے اسی لیے چھوڑ دیا تھا کہ اُسے ڈر تھا کہ اگر دوبارہ وحید نے ویسی حرکت کی تو شاید پہلے سے آگے بڑھ جائے۔ نیز یہ بھی کہ اُس دن تو خوبیٔ قسمت سے گلی میں کوئی موجود نہیں تھا لیکن ہر بار تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ معاشرے میں اس طرح کے کام کرنے والی لڑکی کو کس قدر مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور گھر والوں کی عزت الگ نیلام ہوتی ہے۔ اس لیے دل کے چور گوشے میں موجود ہلکے ہلکے مزے کے باوجود وہ قصداً اس عمل سے کترا رہی تھی۔
    اُس کی کلاس کی سہیلیاں اکثر ذومعنی باتیں کرتی تھیں اور مزے لیا کرتی تھیں۔ نہم جماعت میں ہونے کی وجہ سے تقریباً سبھی کو ماہواری ہونے لگی تھی اور سبھی ایسی کھٹی میٹھی باتوں کو انجوائے کرنے لگی تھیں۔ وہ بھی اُن کی اُن باتوں میں شامل ہوتی لیکن ہنسنے مسکرانے اور ہوں ہاں کرنے کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی بات شامل نہ کرتی۔ اپنے اسی رویے کی وجہ سے وہ اپنی سہیلیوں میں شریف اور معصوم لڑکی مشہور تھی اور اُسے بھی اچھا لگتا تھا کہ لوگ اُسے ایسا ہی سمجھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنی کسی بات کی وجہ سے بُرے لفظوں سے جانی جائے۔ حالانکہ اُسے علم تھا کہ جس بارے میں اُس کی کلاس فیلوز باتیں کرتی ہیں، وہ شاید اُن سب سے زیادہ جانتی ہے کیوں کہ اُسے اُس کے ماموں نے دو سال پہلے خاصی معلومات دی تھیں۔ ماموں کا پروگرام تو اگلے سال ہی آنے کا تھا لیکن پتا نہیں کیوں وہ پچھلے سال نہیں آ سکے تھے اور اس سال بھی گرمیوں کی چھٹیوں تک ہی شاید اُن کا چکر لگتا۔ ویسے بھی یہ سعدیہ کے حق میں اچھا تھا کہ اُس کے ماموں پچھلے سال نہیں آ پائے تھے۔ وہ خود بھی گھبرا رہی تھی کہ وہ آئیں گے تو موقع ملنے پر پھر سے اُس کے سامنے اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو جائیں گے اور اُسے بھی ننگا کر دیں گے۔ وہ فطرتاً شرمیلی طبیعت کی تھی اور اُسے بہت برا لگا تھا جب ماموں نے اُس کے ساتھ دو سال پہلے ایسا کیا تھا۔ اُس کا بس نہیں چلا تھا کہ وہ اُس وقت کہیں جا کر چھپ جائے جب وہ ماموں کے سامنے الف ننگی لیٹی ہوئی تھی۔
    دو ماہ اور گزر گئے۔ وہ نہم کے امتحانات سے فارغ ہوئی تو فری تھی۔ اس لیے کچھ دن چاچو کے ہاں رہنے کو چلی گئی۔ چاچو عامر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑا بیٹا وسیم سعدیہ سے ایک سال بڑا تھا۔ چھوٹا شفیق اُس کا ہم عمر ہی تھا اور بہن نازیہ سعدیہ سے دو سال چھوٹی تھی۔ ان سب کے ساتھ بچپن سے ہی وہ کھیلتی کودتی جوانی کی عمر کو پہنچی تھی۔ وسیم ذرا شوخی طبیعت کا تھا اور اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتا رہتا تھا۔ شفیق کی طبیعت سعدیہ سے ملتی جلتی تھی۔ اس لیے سعدیہ کی شفیق کے ساتھ زیادہ بنتی تھی۔ ابھی گرمیاں شروع نہیں ہوئی تھیں اس لیے سب کمروں ہی میں سوتے تھے۔ ورنہ گرمیوں میں صحن میں پنکھا لگا کر سویا کرتے تھے۔ بچوں کے لیے الگ کمرا تھا اور چاچو چاچی الگ کمرے میں سویا کرتے۔ بچوں کے کمرے میں ایک ڈبل بیڈ اور ایک سنگل پلنگ تھا۔ پہلی رات وہ بھی تینوں کے ساتھ ڈبل بیڈ پر لیٹ گئی۔ اب ترتیب یہ تھی کہ کنارے کی طرف شفیق اور پھر وسیم جبکہ اُس سے آگے نازیہ اور پھر دوسرے کنارے پر سعدیہ لیٹ گئی۔ رات کے کسی پہر سعدیہ کی آنکھ کھلی تو اُسے محسوس ہوا کہ کوئی ہاتھ اُس کے ابھاروں کو سہلا رہا ہے۔ وہ بڑی حیران ہوئی۔ اُس نے نازیہ کی طرف کروٹ لے رکھی تھی اس لیے بڑے غیر محسوس طریقے سے اُس نے ایک آنکھ کھول کر دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ وسیم تھا جس کا ہاتھ نازیہ پر سے گزرتے ہوئے اُس کے سینے تک پہنچا ہوا تھا۔ اُسے سمجھ آ گئی کہ جناب جوان ہو رہے ہیں اس لیے انھیں بھی اس طرح کی حرکتوں کا چسکا پڑ گیا ہے۔ وہ بالکل نہ ہِلی اور دیکھنے لگی کہ وسیم کیا کیا کرتا ہے۔ سعدیہ بائیں کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی اور وسیم کا ہاتھ اُس کے دائیں طرف کے ابھار پر پھر رہا تھا کیوں کہ نچلا ابھار ذرا دبا ہوا تھا اس لیے دائیں ابھار پر ہاتھ پھیرنے میں آسانی تھی۔ وسیم نچلے ابھار پر ہاتھ پھیرنے کی بھی کوشش کرتا تھا لیکن اُس کے صرف کچھ ہی حصے پر ہاتھ لگا پاتا تھا۔ پھر اُس نے دایاں ابھار پکڑ کر دبانا آہستہ آہستہ دبانا شروع کر دیا۔ سعدیہ کو بھی زیرو لائٹ میں ایسی چھیڑ چھاڑ سے کچھ کچھ مزا آ رہا تھا اس لیے وہ آنکھیں بند کیے ساکن لیٹی ہوئی تھی۔ وسیم نے بڑھتی ہوئی خواہش کے تحت سعدیہ کے گریبان میں انگلیاں ڈالنے کی کوشش شروع کر دی اور جلد ہی اُس کی انگلیاں سعدیہ کے بریزیئر کے کنارے کو چھونے لگیں۔ زیرو لائٹ میں باریکیاں تو نہیں دیکھی جا سکتی تھیں اسی لیے سعدیہ کی بہت معمولی سی کھلی ہوئی آنکھیں شاید وسیم کو نظر نہیں آ رہی تھیں لیکن سعدیہ کو یہ ضرور نظر آ رہا تھا کہ وسیم دوسرے ہاتھ سے اپنا عضو پکڑ کر سہلا رہا ہے۔ اس احساس نے کے وسیم کو اُسے چھونے پر مزا آ رہا ہے، اُس کے اندر بھی مستی کی لہر دوڑا دی۔ اُسے احساس ہو گیا کہ وسیم کو ہاتھ اندر لے جانے میں مشکل ہو رہی ہے اس لیے وہ بہانے سے حرکت کرتے ہوئے کروٹ لے کر سیدھی لیٹ گئی اور اپنی آنکھوں پر ایک بازو رکھ لیا۔ کروٹ لینے کے دوران وہ نازیہ کے مزید قریب ہو گئی تاکہ وسیم کو ہاتھ پہنچانے میں آسانی رہے۔
    وسیم نے ایک دم ہاتھ پیچھے کر لیا اور سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔ اُس کا دن تیز تیز دھڑک رہا تھا کہ کہیں سعدیہ اُسے ڈانٹنے نہ لگے لیکن تھوڑی دیر بعد اُس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا تو وہ خوش ہو گیا کہ اب سعدیہ کے ابھاروں پر وہ آسانی سے ہاتھ پھیر سکتا ہے۔ اُس نے پھر سے بہت آہستگی سے سعدیہ کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر میں وہ کامیاب بھی ہو گیا اور بریزیئر کے اندر ہاتھ پہنچنے تک اُس کا عضو پھٹنے کے قریب ہو گیا۔دایاں نپل انگلیوں کو محسوس ہوتے ہی اُس کے اندر مزے کی لہریں دوڑنے لگیں۔ ادھر سعدیہ کا بھی یہی حال تھا۔ اگلے پانچ منٹوں کے دوران وہ اپنا عضو بھی سہلا رہا تھا اور سعدیہ کے دونوں نپلوں کو باری باری مسل رہا تھا۔ وسیم کو محسوس ہوا کہ شاید وہ چھوٹ نہ جائے اس لیے اُس نے عضو پر سے ہاتھ ہٹا لیا اور صرف ابھاروں پر ہاتھ پھیرنا جاری رکھا۔ زندگی میں پہلی بار اُس نے کسی لڑکی کے ننگے ابھاروں کو محسوس کیا تھااس لیے وہ مزے سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ابھاروں سے بھی آگے کی سوچنے لگا۔ ہوس چیز ہی ایسی ہے۔ انسان ایک منزل حاصل کر لے تو اُس کا سرور پھیکا پڑ جاتا ہے اور آگے کی طلب شروع ہو جاتی ہے۔ سعدیہ کو محسوس ہوا کہ وسیم نے ابھاروں سے ہاتھ نکال لیا ہے اور اُس کے پیٹ پر سے آہستہ آہستہ قمیص اوپر کر رہا ہے۔ جب قمیص اوپر ہو گئی تو اُسے وسیم کی انگلیاں اپنے پیٹ پر محسوس ہوئیں۔ وہ ایک ذرا سا لرزی۔ پھر ساکن ہو گئی۔ وسیم کو بھی شاید اس ارتعاش کا اندازہ ہو گیا تھا اس لیے وہ تھوڑی دیر رُکا اور پھر الاسٹک کو بڑے آرام سے انگلیوں سے اٹھاتے ہوئے انگلیاں اندر لے جانے لگا۔ ذرا سی دیر میں اُس کا ہاتھ سعدیہ کے چھوٹے چھوٹے بالوں کو چھو رہا تھا۔ ہاتھ آگے بڑھتا بڑھتا اُس کی شرم گاہ کی لائن تک پہنچ گیا لیکن وسیم نے انگلیاں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ ابھی صرف ہاتھ زیادہ سے زیادہ اندر گھسانا چاہ رہا تھا تاکہ سعدیہ کی شرم گاہ کو تسلی سے چھو سکے۔ آخر جب وسیم کی ہتھیلی سعدیہ کے بالوں سے آگے تک پہنچ گئی تو اُس نے انگلیاں نیچے رکھیں۔ سعدیہ پھر سے کانپ گئی۔ وہ انگلیاں بھی وہیں رک گئیں۔ غالباً وسیم کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ سعدیہ جاگ رہی ہے لیکن اُسے کچھ نہیں کہہ رہی اس لیے اب وہ اُس کے ہلنے پر ہاتھ پیچھے نہیں کھینچتا تھا بلکہ وہیں روک لیتا تھا۔
    جب وسیم کی درمیانی انگلی نے سعدیہ کی لائن میں اپنا احساس دلایا تو سعدیہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وسیم اپنی انگلی لائن میں پوری لِٹا کر آہستہ آہستہ اُس کی لائن کو دبانے لگا۔ پھر دیگر انگلیوں سے اُس نے شرم گاہ کو گرفت میں لے لیا اور درمیانی انگلی پر شرم گاہ کے دونوں کنارے دبانے لگا۔ پھر وہ انگلی آگے پیچھے ہونے لگی۔ سعدیہ نے بے چینی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اُس کے نتھنوں سے ایک لمبی سانس خارج ہوئی۔ وسیم نے انگلی کی پور سے اُس کے سوراخ کو دبانا شروع کر دیا۔ اور پھر وہ پور اُس سوراخ کے اندر چلی گئی۔ سعدیہ کو جہاں مزا آ رہا تھا وہیں وہ ایسی کیفیت سے دوچار تھی جسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ منہ سے آوازیں نکالے، یا جسم کو ہِلا جُلا کر اپنی بے چینی کو دور کرنے کی کوشش کرے لیکن دراصل اُسے کیا چاہیے تھا، یہ ابھی اُسے اندازہ نہیں ہوا تھا۔ عجیب بات تھی کہ اُس کے ماموں نے بے چینی پیدا ہونے کا تو بتایا تھا لیکن اِسے دور کیسے کرنا ہے؟ یہ بتایا ہی نہیں۔
    اُدھر وسیم اُس کی شرم گاہ کو مسلسل دبانے لگا تھا اور انگلی کی پور اندر ڈال کر اندر باہر کرنے لگ پڑا تھا۔ سعدیہ کو خود کو قابو کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ اپنی بے چینی کا اظہار وسیم کے سامنے نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے جب اُس کی بس ہو گئی تو اُس نے حرکت کی۔ وسیم کی چھٹی حِس نے اُسے باخبر کیا کہ جس تیزی سے وہ سعدیہ کی پھدی کو چھیڑ رہا ہے ایسے میں تو کوئی بھی جاگ جاتا ہے، اس لیے اب وہ یا تو کروٹ لے گی یا آنکھیں کھول کر اُسے کچھ کہہ دے گی۔ چناں چہ اُس نے جلدی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا۔ سعدیہ نے کروٹ بیڈ کے کنارے کی طرف بدلی اور ٹانگیں آپس میں بھینچ کر گھٹنے سینے سے جوڑتے ہوئے لیٹ گئی۔ وسیم بھی عضو سہلا سہلا کر آخر تک پہنچا ہوا تھا۔ اُس کی بھی بس ہو گئی اور اُس نے شلوار میں کرتے ہوئے عضو کو جلدی سے دبا لیا۔ پہلی دفعہ میں اتنا کچھ مِل گیا تھا، اُسے اور کتنے کی توقع ہو سکتی تھی اس لیے یہی خیال اُسے ڈسچارج کرنے کے لیے کافی ہو گیا تھا کہ اُس نے ایک جوان لڑکی کے ممے نہ صرف اوپر سے چھوئے، بلکہ بریزیئر کے اندر ہاتھ ڈال کر نرم نرم نپلوں کو بھی محسوس کر لیا، یہی نہیں بلکہ اُس کی پھدی کو بھی اچھی طرح ہاتھ میں لے کر دبایا اور سوراخ میں انگلی بھی ڈال لی تھی۔ دوسری طرف سعدیہ اپنی شرم گاہ کو ٹانگوں میں دبائے شانت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

    جاری ہے۔۔۔

  6. The Following 5 Users Say Thank You to abidkazmi For This Useful Post:

    abkhan_70 (30-12-2019), aloneboy86 (01-01-2020), asiminf (31-12-2019), Lovelymale (31-12-2019), Story Maker (31-12-2019)

  7. #4
    Join Date
    Sep 2010
    Posts
    21
    Thanks Thanks Given 
    39
    Thanks Thanks Received 
    29
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    60

    Default

    Quote Originally Posted by Nadaan1122 View Post
    Start to atcha hay bg ab dakhna yah hah ke update kitne jaldi ate hay
    اپ ڈیٹ دینے کا دل تبھی چاہتا ہے جب لوگ اپنی رائے سے بھی نوازیں۔ یہاں تو بس وزٹ کر کے چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں دل ٹوٹ جاتا ہے اور اپنا وقت اس کام کے لیے نکالنے کو دل نہیں چاہتا۔ لیکن آپ کا بہت شکریہ جناب۔ اب باقی دوست بھی اپنی آرا سے نوازیں تو میں کہانی کو آگے بڑھاؤں گا۔

  8. The Following User Says Thank You to abidkazmi For This Useful Post:

    asiminf (31-12-2019)

  9. #5
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    49
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    75
    Thanked in
    40 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    Ab kia comment type karo kuch samj ni a raha he.
    Bs asy hi dil se likhty jao.
    Qader daan khud a jay gy.
    Nice storie
    Waiting for next hot update.
    Regards
    BABAR.

  10. The Following User Says Thank You to Bobyooooooo7 For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

  11. #6
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    3
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Bht achi story ha keep it 😊

  12. The Following User Says Thank You to Blue Moon For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

  13. #7
    Join Date
    May 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    484
    Thanks Thanks Given 
    15
    Thanks Thanks Received 
    71
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    473

    Default

    شاندار آغاز ہے جناب
    کہانی کا ربط بہت زبردست ہے
    الفاظ بھی بہترین
    پلاٹ بہت ہی کمال
    بس ایسے ہی اپنے جوہر دکھاتے جاؤ
    اپڈیٹ کی سپیڈ اور طوالت ایسے ہی رکھنا
    شکریہ کہانی شیئر کرنے کا

  14. The Following User Says Thank You to asiminf For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

  15. #8
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    31
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    38
    Thanked in
    26 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    very nice keep it up

  16. The Following User Says Thank You to waqastariqpk For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

  17. #9
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    117
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    67
    Thanked in
    40 Posts
    Rep Power
    23

    Default


    نہایت شاندار کہانی ہے

  18. The Following User Says Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

  19. #10
    Join Date
    Jul 2010
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    10
    Thanks Thanks Received 
    29
    Thanked in
    20 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    Bhai Jaan Kush raho. Kamal story hai, bus update jaldi jaldi detay rahein. Aaap ka style wonderful hey. Wah

  20. The Following User Says Thank You to rizjee For This Useful Post:

    abidkazmi (02-01-2020)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •