اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 29

Thread: کہانی چاند رات کی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default کہانی چاند رات کی

    کہانی چاند رات کی ۔۔۔کا پہلا حصہ پوسٹ کیا جارہاہے۔
    Attached Thumbnails Attached Thumbnails Document-page-010.jpg   Document-page-006.jpg   Document-page-005.jpg   Document-page-004.jpg   Document-page-001.jpg   Document-page-002.jpg   Document-page-003.jpg   Document-page-009.jpg  

    Document-page-008.jpg   Document-page-007.jpg  

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Hard.target For This Useful Post:

    abidkazmi (29-12-2019), Lovelymale (21-11-2019)

  3. #2
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default



    میری پچھلی کہانی آپ لوگ پڑھ چکے ہیں ۔۔کہانی چاند رات کی ۔۔۔یہ بھی اسی طرح ایک رات کی کہانی ہے ۔۔۔
    جیساکہ میں بتا چکی ہوں کہ میری فیملی پنجاب میں رہتی ہوں ۔۔۔۔اور میں یہاں کراچی میں اپنی جاب کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔۔۔۔۔۔ایک رات میری خالہ کا فون آیا کہ ان کی بیٹی اپنی دوست کی شادی میں شرکت کے لئے آرہی ہے ۔۔۔اوروہ میرے پاس کچھ دن رہے گی۔۔۔۔
    میرے لئے ا س سے خوشی کیا بات ہوتی ۔۔۔۔شبینہ مجھ سے عمر میں چار سال چھوٹی ۔۔مگر جسامت میں میرے ہی جیسے تھی ۔۔۔۔۔صحت مند جسم کے ساتھ سرخ و شادابی رنگت ۔۔۔بڑی آنکھیں اور مناسب قد ۔۔۔۔۔
    میں نے اسی وقت شبینہ کو میسج کیا۔۔۔۔۔وہ ٹرین میں تھی ۔۔۔اور اگلی صبح کراچی پہنچ رہی تھی ۔۔۔
    اگلے دن میں نے آفس میں آف کی اطلاع بھجوا دی تھی ۔۔۔۔اور تیار ہو کر شبینہ کو لینے کینٹ چلی گئی ۔۔۔میری رہائش گلشن اقبال میں تھی ۔۔۔تقریبا تیس منٹ کی کار ڈرائیو کے بعد میں کینٹ میں تھی ۔۔۔۔سرسید ٹرین نئی شروع ہونے والی ٹرین تھی ۔۔جو اپنے پورے ٹائم پر آئی ۔۔۔شبینہ مجھ سے بہت گرم جوشی سے ملی ۔۔ہم چار سے پانچ سالوں کے بعد ملے تھے۔۔۔۔وہ مزید صحت مند ہو چکی تھی ۔۔۔۔مگر اس کے قد کے حساب سے یہ صحت مندی اسے بھرے بھرے جسم میں تبدیل کرتی تھی۔۔۔
    واپس آ کر ہم نے ناشتہ کیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر شام تک سو گئے ۔۔۔۔شام میں اٹھ کر میں نے چائے بنائی ۔۔۔اور اس سے سارے رشتہ داروں کے حالات پوچھے ۔۔۔۔۔اتنے میں میری پڑوسی ریحانہ باجی بھی آگئی۔۔۔یہ میرے ساتھ والے فلیٹ میں رہتی تھی۔۔۔شادی شدہ اور ایک تین سال کے بچے کی ماں تھیں۔۔۔شام کی چائے ہم ساتھ ہی پیا کر تے تھے ۔۔۔۔۔۔وہ بھی شبینہ سے مل کر بڑی خوش ہوئی۔۔۔۔۔۔باتیں کرتے ہوئے رات ہوگئی ۔۔۔ریحانہ باجی نے زور دیا کہ ڈنر ان کے ساتھ کیا جائے ۔۔۔۔مگر آج کا دن میں شبینہ کو باہر لے جانا چاہتی تھی ۔۔اسلئے دعوت اگلے دن منتقل کرتے ہوئے میں اور شبینہ باہر کھانے چلے گئے ۔۔۔۔
    کھانے کے دوران ہم نے کافی انجوائے کیا۔۔۔کھانے کے بعد پھر آئسکریم کھانے قریب ہی آغا آئسکریم چلے گئے ۔۔۔۔اس کے بعد واپس اپنے گھر روانہ ہوئے ۔۔۔
    کار پارکنگ میں کھڑی کرتے ہوئے سب ٹھیک تھا۔۔ہم ہنستے ہوئے فلیٹ کے دروازے پر آئے ۔۔۔۔میں گیٹ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔اتنے میں میرے منہ پر کسی کا ہاتھ سختی سے آ کر دب گیا۔۔۔میں نے مڑنے کی کوشش کی ۔۔مگر حملہ آور مجھےدھکیلتے ہوئے اندر لے آیا۔۔۔اتنے میں شبینہ بھی گھسٹتی ہوئی میرے پیچھے آئی۔۔۔یہ تین آدمی تھے ۔۔۔۔۔اور حلئے سے تینوں افغانی لگ رہے تھے ۔۔۔۔اندر آتے ہی انہوں نے ہمارے موبائل اپنے قبضے میں کئے ۔۔۔۔۔اور ہمیں رسیوں سے باندھ دیا۔۔۔۔تینوں نے اپنی بوریاں سائیڈ پر رکھیں ۔۔۔۔اور گھر کی تلاشی لینے لگے ۔۔۔اپنے حلئے سے وہ مجھے کچرا چننے والے افغانی لگے تھے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر میں وہ تینوں میرے بیڈ روم میں آگئے ۔۔۔انہیں وہاں سے میرےلیپ ٹاپ کے علاوہ کچھ نہیں مل سکا۔۔۔۔۔۔ہمیں گھورتے ہوئے وہ زیور کا پوچھتے اورپھر ڈھونڈنے لگ جاتے ۔۔۔تبھی ان کی نظر شبینہ کے بیگ پر پڑی جو صبح سے ایسے ہی پڑا تھا۔۔۔انہوں نے جلدی سے بیگ کھولتے ہوئے اسے بیڈ پر الٹا دیا۔۔۔۔۔شبینہ کے سارے کپڑے بیڈ پر بکھر گئے ۔۔۔ایک نے شبینہ کی برا اور پینٹی اٹھاتے ہوئے اسے معنی خیز نگاہوں سے گھورا ۔۔۔اور بیگ پر جھک گیا۔۔کچھ ہی دیر میں زیورات کا ایک بکس بھی مل گیا ۔۔جو شبینہ شادی میں پہننے کے لئے لائی ہوئی ۔۔۔اس دیکھ کر ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔۔سارا سامان وہ اپنی ایک بوری میں جمع کرتے جارہے تھے ۔۔۔ میرا اور شبینہ کا موبائل وہ پہلے ہی اپنے قبضے میں کرچکے تھے ۔۔۔
    شبینہ میری طرف بڑی بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔اور میں ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ یہ تین افغانی تھے ۔۔۔ایک آدمی بڑی عمر کا تھا ۔۔۔۔جبکے دوسرے دو اٹھارہ اور انیس سال کی عمر کے لڑکے تھے ۔۔۔۔پورے گھر کی چھانٹی کرنے کے بعد وہ اب باہر ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ۔۔ایک لڑکے کو انہوں نے باورچی خانے سے کچھ لانے کا کہا ۔۔۔۔۔ ان کے لہجے کافی کرخت تھے ۔۔۔۔جو یقینا فلیٹ کے باہر تک جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ریحانہ باجی کو ان کی آواز سن لینی چاہئے تھی ۔۔۔مگر۔۔۔۔؟
    ان میں سے بڑی عمر کا آدمی جسے باقی ۔۔۔لالا ۔۔ لالا کہ رہے تھے ۔۔۔فریج سے ایک سیب اٹھا کر ہمارے بیڈ روم میں آگیا۔۔۔۔ اس کی نظریں پہلے مجھے گھورتی رہیں ۔۔۔اور پھر شبینہ کی طرف بڑھ گیا ۔۔جس کی آنکھیں خوف اور ڈرسے پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔لالا نے ایک نظر واپس مڑ کر مجھے دیکھا ۔۔اور پھر شبینہ کا چہرہ تھام لیا۔۔مجھے لالا کی نگاہوں میں ایک عجیب سی چمک نظرآئی ۔۔۔۔۔اس نے شبینہ کے منہ سے رومال نکالا اور سیب ڈالنے لگا۔۔۔۔ شبینہ کی منہ سے ایک اوغ اوغ کرتی ہوئی سر پیچھے ہٹانے لگی ۔۔۔اور پھر شاید چلانے کی لئے منہ کھولا ۔۔مگر لالا نے پہلے ہی اس کے منہ میں رومال ٹھونس دیا۔۔۔۔ایک تھپڑ شبینہ کے چہرے پر پڑا ۔۔۔اور وہ نیچے ایک سائیڈ پر گر گئی ۔۔۔۔۔
    میں نے تیزی سے چیخنے کی کوشش کی ۔۔مگر رومال نے آواز کو مکمل بند کیا ہوا تھا۔۔۔۔اتنے میں لالا نےشبینہ کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔شبینہ ایک دم تڑپ کر رہ گئی ۔۔۔مگر لالا کا ہاتھ اب پوری طرح سے سے شبینہ کے سینے کو ٹٹول رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
    لالا کے ہاتھ شبینہ کے صحت مند مموں کو دبا رہے تھے۔۔۔۔۔کھینچ رہے تھے ۔۔۔تبھی ایک چرر کی آواز کے ساتھ لالا نے شبینہ کی قمیض آگے سے پھاڑ دی ۔۔۔۔۔۔ اتنے میں دونوں لڑکے بھی کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔اور یہ منظر دیکھنے لگے۔۔۔
    شبینہ کے بڑے بڑے دودھ ایک سیاہ برا میں قید تھے ۔۔۔قمیض آگے سے پھٹ چکی تھی ۔۔۔باقی حصے سائیڈ پر پھینکتے ہوئے لالا نے شلوار بھی کھینچ دی ۔۔رسی تک آکر شلوار رک گئی۔۔شبینہ ایک صحت مند اور سیکسی فیگر رکھنے والی لڑکی تھی ۔شہابی رنگت ، بھرے بھرے گال۔۔بھر ا بھرا جسم۔اور شاید اسی بات نے لالہ کومشتعل کیا تھا۔۔۔لالا نے شبینہ کو اپنی بانہوں میں بھرا ۔۔۔اور بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔۔۔دونوں لڑکے بڑی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔ اورمیں بے بسی سے ۔۔۔۔۔؟؟
    لالہ نے شبینہ کی برا بھی کھینچ دی ۔۔اس کے موٹے موٹے دودھ نیچے کو جھک گئے ۔۔۔۔شبینہ روتی اوربلکتی ہوئی سمٹ رہی تھی ۔۔۔۔لالہ نے اسکی ٹانگوں کی رسی کھول دی ۔۔اور شلوار کو مکمل اتار دیا۔۔۔اس کی سڈول رانیں اب آزاد تھیں۔۔۔۔۔۔۔ جسے لالہ نے پوری طاقت سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔ایک بار شبینہ نے لات مارنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر لالا نے ماں کی گالی دیتے ہوئے اسے ایک تھپڑ اور دے مارا ۔۔
    اتنے میں لالہ نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کئے ۔۔۔۔اپنے میلے کچیلے کپڑے اتارکر سائیڈ پر پھینک دیے۔۔۔لالا جسمانی لہاظ سے ایک درمیانہ آدمی تھا۔۔۔۔۔شبینہ اسے بے چارگی سے کپڑے اتارتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اور پھر شلوار کے اترتے ہی اسکی نظر لالا کے موٹے لمبے لن پر پڑی جو تیزی سے لمبا ہورہا تھا۔۔
    لالا نے شبینہ کو منہ سے کپڑا نکالتے ہوئے پھر گالی دی۔۔۔۔" اب تیرے منہ سے آواز نکلا تو ادھر ہی تیری ماں بھی چودے گا۔۔۔" چپ کر کےلیٹا رہ۔۔۔۔
    شبینہ ایک بار پھر خوف کی حالت میں مجھے دیکھے ۔۔۔ادھر میں بھی پریشان تھی ۔۔مگر کچھ کرنہیں سکتی ۔۔۔دونوں لڑکے بڑے مزے سے یہ سب نظارا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
    لالا نے ایک بار اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کرکھینچا ۔۔اور ہلاتے ہوئے۔۔ شبینہ کی ٹانگوں میں بیٹھ گیا۔۔اس کی نظریں بالوں سے پاک پھدی پر جمی ہوئی تھی۔۔۔ایک ہاتھ پر تھوک پھینک کر اس نے اپنے لن کے ٹوپے کو گیلا کیا۔۔۔۔اور دوسری مرتبہ شبینہ کی پھدی پر تھوکا۔۔۔ اور پھر اپنی دو انگلیوں سے اسے پھدی کے لب پر ملنے لگا۔۔۔۔شبینہ کے جسم پر لرزش طاری تھی۔۔۔اس کے چہرے پر لالا کے لئے نفرت صاف پڑھی جاری تھی ۔۔۔۔اتنے میں اس کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکلی ۔۔اوئی۔۔۔۔۔۔۔لالہ نے اپنی تھوک والی دو انگلیاں اس کی پھولی ہوئی پھدی میں داخل کر دی تھی ۔۔۔۔
    لالا نے دوسرا تھوک کا گولا اپنے لن پر پھینکا۔۔۔۔۔۔اور اس کا موٹا ٹوپا شبینہ کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔۔اس کی رانوں کو تھامتے ہوئے لالانے ٹوپا اندر داخل کردیا۔۔۔شبینہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔۔۔مگر لالا نے اگلے ہی لمحے ایک جھٹکا دے مارا ۔۔۔ شبینہ کے منہ سے دوسری چیخ نکلی ۔۔۔امی جی۔۔۔مرگئی ۔۔۔آہ ہ۔۔۔۔۔ اس کی پھدی آدھا لن لے چکی تھی۔۔۔۔لالا نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوسرے جھٹکا مارا ۔۔۔اور جڑ تک اپنا موٹا لن اس کے اندر اتار دیا۔۔۔۔۔تڑپتی ہوئی شبینہ بس اوغ اوغ کی آواز نکال سکتی تھی ۔۔۔
    لالا نے ایک تھپڑ اور مارتے ہوئےگالی دی۔۔۔چپ شا۔۔۔استا مور اوغم۔۔۔۔رنڈی اؤلاد۔۔۔۔۔چپ شا۔۔۔۔
    اور پھر لن نکال لیا ۔۔۔۔۔لن خون سے بھرا ہوا تھا۔۔۔شبینہ کنواری تھی ۔۔۔لن پر خون دیکھ کر لالا اور جوش میں بھر گیا۔۔۔
    اس نے بغیر کوئی موقع دئیےشبینہ کی دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر اپنے اوپر رکھا۔۔۔۔۔اور اس پر جھک گیا۔۔۔۔شبینہ کا منہ کھلا تو اس کے منہ سے ایک بار پھر چیخیں اور مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔میں مر جاؤں گی۔۔۔نکلنے لگا۔۔لالا اب شبینہ پر چڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔اور لن اندر ڈال کر پوری طاقت سے جھٹکے مارنے لگا۔۔۔۔شبینہ ہر جھٹکے میں اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔ ہائے ۔۔۔ہائے کر رہی تھی ۔۔یہ سب نظارہ میری نگاہوں کے سامنے چل رہا تھا۔۔۔دونوں لڑکوں کے منہ بھی کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔ان کی قمیضوں میں تمبو بنتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
    لالا جھٹکے مار مار کے پسینے میں ڈوبتا جا رہا تھا۔۔وہی شبینہ بھی ادھ موئی ہورہی تھی ۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں بند اور جسم نیم جان ہو رہا تھا۔۔۔تبھی لالا کے منہ سے ایک چنگھاڑ نکلی ۔۔۔اور وہ شبینہ کے اوپر ہی گر گیا۔۔۔۔۔اور کچھ سیکنڈ میں لن نکال کر سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔۔
    دونوں لڑکے لالا کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔جو مادر زاد ننگالیٹا ہوا تھا۔۔تبھی لالا نے بھی لڑکوں کی طرف دیکھا ۔۔اور کچھ اشارہ کیا۔۔۔۔دونوں لڑکے میری طرف بڑھنے لگا۔۔۔اور مجھے اٹھا کر باہر ڈرائنگ روم میں لے جانے لگے۔۔۔۔شبینہ مجھے دیکھ کر ایک بار پھر بے چین ہوئی ۔۔۔مگر لالا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دبادیا۔۔
    مجھے لے جانے والے لڑکے اٹھار ہ اور انیس سالوں کے درمیان کے تھے ۔۔مجھے ڈرائنگ روم کے صوفے پر گرا کر وہ میری رسیاں کھولنے لگے ۔۔۔۔۔دوسرا لڑکے کپڑوں کے اوپر سے ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔اس کے سخت کھردرے ہاتھوں کے لمس میری جسم پر سرد لہر دوڑا رہے تھے ۔۔۔۔۔اور اس کا ہاتھ میرے صحت مند دودھ پر آگیا۔۔۔۔پھر جیسے اس کے منہ میں پانی بھر گیا۔۔۔۔وہ قمیض کے اوپر ہی سے میرے دودھ کو چوسنے لگا۔۔دوسرے ہاتھ سے وہ دوسرے دودھ کو دباتا رہا ۔۔اس نے میرے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔مگر میری مزاحمت نہ ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔۔۔اتنے میں پہلے لڑکے نےاپنے کپڑے اتار دئے ۔۔۔۔۔میلے کپڑوں کے نیچے اس کا بدن سرخ و سفید تھا ۔۔۔۔۔اپنےکپڑے اتار نے کے بعد اب وہ میرے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔۔اس کا نیم مرجھائے ہوا لن کسی چوہے کی طرح چھوٹا اور گول مٹول سا تھا۔۔۔۔جو میرے جسم کو دیکھتے ہوئے بیدار ہوا جا رہا تھا۔۔۔
    میرےمنہ میں کپڑا گھسا ہوا تھا۔۔۔۔اس لئے کوئی شور مچانے کا سوال ہی نہیں تھا۔۔۔ہاتھ دوسرے لڑکے نے پکڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی میرے مموں کو چوس رہا تھا۔۔۔کاٹ رہا تھا۔۔۔۔کھینچ رہا تھا۔۔۔۔ہلکی ہلکی سسکی لیتی ہوئی میں نیچے نظر ڈال لیتی ۔۔۔جہاں پہلا لڑکا ۔۔۔میری پھدی کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔ہلکے ہلکے بالوں کے درمیان ایک سرخ سی لائن ۔۔۔جہاں اب گیلا پن آنا شروع ہوگیاتھا۔۔
    پھدی کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے وہ ایکدم سے اس پر جھک گیا۔۔۔پھدی کے اوپر ی لب پر اس کے زبان نے قیامت ڈھا دی تھی ۔۔۔۔دونوں لبوں کو منہ میں پکڑتے ہوئے زبان اندر پھیری ۔۔۔میری منہ سے پھر سسکاری نکلی ۔۔۔۔جو کپڑے نے بند کردی۔۔۔
    پہلا لڑکا شاید سیکسی موویز دیکھتا رہا تھا۔۔۔اس لئے بغیر کسی جھجک کے وہ میری پھدی کو چوس رہا تھا۔۔۔مجھے بے بس اور مزے میں دیکھ کردوسرے لڑکے نے میرے ہاتھ چھوڑ دیئے ۔۔۔۔اور اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔۔
    کپڑے اتار کر وہ میرے منہ کے قریب آگیا۔۔۔۔اور آتے ہی اپنا پتلا اور لمبا للامیری ہونٹو ں پر رکھ دئے ۔۔۔۔۔جسے میں نے اسی وقت منہ کھولتے ہوئے اندر لے لیا ۔۔۔اور چوسنے لگی۔۔۔اس نے اپنے ہاتھوں سے میرے دودوھ کو پکڑا اور دبانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    میں ۔۔۔۔شبینہ۔۔۔۔ آپی کے بیڈ پر بے سدھ پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میری پھدی میں تیز جلن اور مرچیں لگ رہی تھی۔۔مجھے ناف کے نیچے بے تحاشہ درد محسوس ہورہاتھا۔۔۔۔۔۔آپی کو دونوں لڑکے اٹھا کر باہر لے گئے تھے۔۔۔۔۔اتنے میں لالا نے میرے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے اپنے للے پر رکھوا دیا۔۔جو اس وقت اپنی سختی کھو چکا تھا۔۔۔میرے ہاتھ کے لمس سے جیسے وہ جان پکڑنے لگا۔۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس مرتبہ کا کراچی کا سفر میری زندگی تبدیل کرنے والا ہے ۔۔میرا ایک بوائے فرینڈ جو منگیتر بھی تھا۔۔جس سے روزانہ سیکسٹنگ ہوتی تھی ۔۔۔۔ہم چیٹ میں ایک دوسرےکے پاس آتے تھے ۔۔۔گندی گالیاں اوراپنی ننگی تصویرں شئیر کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ویڈیو کال پر ہم ایکدوسرے کو ننگا دیکھتے ۔۔۔اور وہ مجھے دیکھ کر اپنا پینس ہلاتا ۔۔میں اپنی پھدی رب کرتی ۔۔۔اور ہم ایسے ہی ڈسچارج ہوجاتے۔۔۔ مگر میں نے کبھی اسے اپنی باڈی ٹچ کرنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔مگر یہاں۔۔۔؟
    لالا کا للا اب مکمل سخت جان ہوچکا تھا۔۔۔۔اور میرے ہاتھوں سے باہر لہرا رہا تھا۔۔۔اتنے میں لالا اٹھا اور مجھے بھی کھینچتے ہوئے باتھ روم لے گیا۔۔۔۔شاور کے قریب کھڑا کرتے ہوئے اس نے مجھے اپنے للے کو دھونے کا کہا۔۔۔۔میں نے شاور آن کیا ۔۔۔اور اس کے للے کو دھونے لگی ۔۔۔۔۔اس کے بعد میں نے اپنا آپ بھی صاف کیا۔۔ اور لالا مجھے باہر بیڈ روم میں لے آیا۔۔۔۔۔میں نے سامنے ڈریسنگ میں خود کو ایک اجنبی ڈکیت کے ساتھ ننگی حالت میں دیکھا۔۔جس کا موٹا اور لمبا للا اب تک لہرا رہا تھا۔۔۔۔میری بڑی اور صحت مند چھاتیا ں اس کے ہاتھوں کے سخت دباؤ سے سرخ ہوئی وی تھیں۔۔۔۔۔۔
    اتنے میں لالا مجھے ساتھ لیتا ہوا باہر ڈرائنگ روم پہنچ گیا۔۔۔جہاں وہ دونوں لڑکے آپی کو ننگا کئے ہوئے تھے ۔۔۔ایک لڑکا آپی کی پھدی چوس رہا تھا۔۔۔دوسرے نے اپنا للا آپی کے منہ میں ڈالا ہوا تھا۔۔۔آپی نے کن انکھیوں سے مجھے دیکھا۔۔۔۔اتنے میں لالا نے اس چوت چوستے ہوئے لڑکے کو گالی دی ۔۔۔۔کہ یہ کیا کر رہا تھا۔۔جلدی سے اس کی کس مار ۔۔۔۔۔۔
    لڑکے نے مڑ کر لالا کو دیکھا ۔۔۔۔اور پھر اپنا لن پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔جو لالا سے چھوٹا ۔۔مگر موٹائی میں کافی زیادہ تھا۔۔۔۔آپی کی ٹانگیں اٹھا کراپنے کندھے پر رکھی۔۔۔۔اور موٹے لن کو پھدی پر رکھ کر اندر گھسانے لگا۔۔۔آپی کے منہ سے سسکاریاں نکلی ۔۔۔۔سس۔۔۔سسس کی سسکاریاں بھرتے ہوئے وہ للے کو اندر لے رہی تھی ۔۔اور پھر للا کہیں جا کر لگا۔۔۔۔آپی کے منہ سے اوہ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔آہ۔۔۔کی آواز نکلی ۔۔۔آپی کا جسم تڑپا تھا۔۔۔
    اس کے بعد لڑکا اپنی بنڈاٹھا اٹھا کر آپی کی پھدی مارنے لگا۔۔۔۔۔۔آپی ہر دھکے میں منہ کھولتی ہوئی ۔۔آہ ۔۔آہ ۔۔۔ہاہ ۔۔۔اف ۔۔۔۔کی آوازیں نکالتی ۔۔۔۔دوسرا لڑکا ا ن کے دودھ پینےلگا۔۔۔میں نے دیکھا کہ یہ آوازیں سن کر لالا کے للے نے بھی جھٹکے مارنے شروع کردئے ۔۔۔۔۔۔
    وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے کچن میں داخل ہو گیا۔۔وہاں دیسی گھی کا ڈباکھولتے ہوئے ایک بڑا سا ٹکڑا اپنے للے پر لگادیا۔۔۔
    اس کے بعد اس نے دوسری مرتبہ اپنا ہاتھ گھی کے ڈبے میں ڈالا ۔۔۔۔۔اور ایک مٹھی بھرتے ہوئے مجھے باہر لے آیا۔۔۔آپی کے قریب آ کر اس نے مجھے الٹا کر دیا۔۔۔۔دو کشن میرے سامنے پھینکتے ہوئے مجھے اس پر جھکادیا۔۔۔اب تک میں سمجھ نہیں پائی ۔۔۔۔اس نے اپنا گھی والا ہاتھ میری بنڈ پر ملنا شروع کردیا۔۔۔۔میں ایک دم اٹھی ۔۔۔مگر وہ دوسرے ہاتھ سے میری کمر کو دباتا رہا ۔۔۔۔۔۔اتنے وہ فارغ کھڑا لڑکابھی آگیا اور آگے سے مجھے پکڑ لیا۔۔۔لالا نے گھی میری بنڈ پر ملنے کے بعد ایک انگل اندر داخل کردی ۔۔۔۔۔میرے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔آئی۔۔۔آہ ہ۔۔۔۔
    اٹھنے کی کوشش کی مگر۔۔۔سامنے والے لڑکے نے ناکام بنادی ۔۔۔۔۔۔سامنے آپی کو دیکھا ۔۔جو نم آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔ان کی اپنی حالت ٹائٹ تھی ۔۔۔۔دوسرا لڑکا رک رک کر پوری قوت سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔
    لالا بڑے سکون سے اپنی انگلی میری بنڈ کے اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔میری کیفیت عجیب تھی ۔۔اتنے میں اس نے میری کمر سے اپنے ہاتھ صاف کئے ۔۔۔اور۔۔۔اپنا لن کا ٹوپا میری بنڈ پرلگادیا۔۔میں ایکد م سے پھراٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔مگر لالا میری ماں کو گالی دیتے ہوئے جھٹکا دینے لگا۔۔۔اس کے موٹے للے نے میری بنڈ چیر دی تھی ۔۔۔میں چلائی۔۔۔۔۔درد سے آنکھوں سےآنسو بہنے لگے۔۔آہ۔۔۔۔میں مر گئی ۔۔۔آپی ۔۔اسے روکو۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔مگر لالا نے پورا للا اندر گھسانے کے بعد اب جھٹکے مارنے شروع کردئے۔۔۔وہ للا پورا باہر نکالتا ۔۔۔۔۔اور پھر اندر گھسا دیتا ۔۔۔۔اس کی رفتا ر بہت تیز ہوتی گئی۔۔۔میری بنڈ بہت تنگ تھی ۔۔۔۔جسے وہ کھلا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مگر اس سے پہلے ہی اس کے للے نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
    میرے اوپر سے گرتے ہوئے وہ سائیڈ پر آگیا۔۔۔اتنے وہ لڑکا جو میرے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے تھے ۔۔۔مجھے سیدھا لٹا کرمیرے اوپر آگیا۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    میں شبینہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔گھوڑی بنی ہوئی شبینہ پیچھے سے بہت خوبصورت تھی ۔۔۔اس کے بھاری بھرکم کولہے اس وقت تیزی سے ہل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔لالا اپنی پوری جان لگا رہا تھا۔۔۔۔۔شبینہ کے چہرے پر اب درد کے احساس نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔۔تبھی ۔ لالا کے منہ سے آوازیں نکلی ۔۔۔اور اس نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔
    میرے والے لڑکے نے دھکے مار مار کے میرا جسم ہلا دیاتھا۔۔۔وہ تیزی سے لن مارنے کے بجائے رک رک کر جھٹکے مارتا ۔۔۔جس سے وہ اب تک فری بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
    پہلے لڑکے نے شبینہ کی ٹانگیں اٹھا لی تھیں ۔۔۔۔اوراپنے پتلے لمبے لن سے پھدی مارنے لگی۔۔۔۔اب کے بار شبینہ کے منہ سے مزے اور درد کی ملی جلی سسکاری نکلی ۔۔۔۔۔ہم دونوں کزنیں دو انجان لوگوں سے چد رہی تھی ۔۔۔۔۔۔پہلی بار ایکد وسرے کے جسموں کو ننگا دیکھا تھا۔۔۔۔پہلی بار دو انجان لن کو ایکساتھ اپنی پھدی میں جاتا ہوادیکھ رہیں تھیں۔۔۔ایکدوسرے کو دیکھتے ہوئے سسکاریاں لیتی۔۔۔آہیں بھرتیں۔۔۔۔۔
    میرا والا لڑکا اب تیز ہوتا جارہا تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا۔۔میں سمجھ گئی کہ اسکی بس ہونے والی ہے۔۔۔اور وہی ہوا۔۔۔۔اگلے منٹ وہ نڈھال ہو کر میرے اوپر گر گیا۔۔۔۔۔شبینہ والے لڑکے نے بھی جلدی بس کردی۔۔۔۔۔۔۔فارغ ہوتے ہی وہ اپنے کپڑوں کی طرف لپکے ۔۔۔۔۔۔لالا اندر سے جا کراپنا تھیلا اٹھا لایا۔۔۔ہمارے موبائل اور لیپ ٹاپ باہر رکھتے ہوئے خالی تھیلا لئے باہر چلے گئے ۔۔۔۔میں جلدی سے اٹھی اور دروازہ لاک کرتے ہوئے شبینہ کی طرف آگئی۔۔جو کہ شرمندگی میں نظریں جھکائے لیٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نے اسے اٹھا کر باتھ روم بھیجا۔۔۔۔۔اور پھر چائے کے ساتھ ٹیبلٹ دے کر سلا دیا۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


  4. The Following 4 Users Say Thank You to Hard.target For This Useful Post:

    abidkazmi (29-12-2019), abkhan_70 (20-11-2019), aloneboy86 (22-11-2019), Lovelymale (21-11-2019)

  5. #3
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    46
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    58
    Thanked in
    30 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    What a fabulous story it was
    The only thing I missed was bilateral enjoyment
    Even though it was a rape story but still lust and sexual motivation should have been there
    Anyhow it was marvelous effort
    Will wait for another masterpiece form you
    sooner rather than later
    Keep it up

  6. The Following User Says Thank You to ArmanM For This Useful Post:

    Hard.target (21-11-2019)

  7. #4
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Arrow Garam kahany

    میری پچھلی کہانی آپ لوگ پڑھ چکے ہیں ۔۔کہانی چاند رات کی ۔۔۔یہ بھی اسی طرح ایک رات کی کہانی ہے ۔۔۔
    جیساکہ میں بتا چکی ہوں کہ میری فیملی پنجاب میں رہتی ہوں ۔۔۔۔اور میں یہاں کراچی میں اپنی جاب کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔۔۔۔۔۔ایک رات میری خالہ کا فون آیا کہ ان کی بیٹی اپنی دوست کی شادی میں شرکت کے لئے آرہی ہے ۔۔۔اوروہ میرے پاس کچھ دن رہے گی۔۔۔۔
    میرے لئے ا س سے خوشی کیا بات ہوتی ۔۔۔۔شبینہ مجھ سے عمر میں چار سال چھوٹی ۔۔مگر جسامت میں میرے ہی جیسے تھی ۔۔۔۔۔صحت مند جسم کے ساتھ سرخ و شادابی رنگت ۔۔۔بڑی آنکھیں اور مناسب قد ۔۔۔۔۔
    میں نے اسی وقت شبینہ کو میسج کیا۔۔۔۔۔وہ ٹرین میں تھی ۔۔۔اور اگلی صبح کراچی پہنچ رہی تھی ۔۔۔
    اگلے دن میں نے آفس میں آف کی اطلاع بھجوا دی تھی ۔۔۔۔اور تیار ہو کر شبینہ کو لینے کینٹ چلی گئی ۔۔۔میری رہائش گلشن اقبال میں تھی ۔۔۔تقریبا تیس منٹ کی کار ڈرائیو کے بعد میں کینٹ میں تھی ۔۔۔۔سرسید ٹرین نئی شروع ہونے والی ٹرین تھی ۔۔جو اپنے پورے ٹائم پر آئی ۔۔۔شبینہ مجھ سے بہت گرم جوشی سے ملی ۔۔ہم چار سے پانچ سالوں کے بعد ملے تھے۔۔۔۔وہ مزید صحت مند ہو چکی تھی ۔۔۔۔مگر اس کے قد کے حساب سے یہ صحت مندی اسے بھرے بھرے جسم میں تبدیل کرتی تھی۔۔۔
    واپس آ کر ہم نے ناشتہ کیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر شام تک سو گئے ۔۔۔۔شام میں اٹھ کر میں نے چائے بنائی ۔۔۔اور اس سے سارے رشتہ داروں کے حالات پوچھے ۔۔۔۔۔اتنے میں میری پڑوسی ریحانہ باجی بھی آگئی۔۔۔یہ میرے ساتھ والے فلیٹ میں رہتی تھی۔۔۔شادی شدہ اور ایک تین سال کے بچے کی ماں تھیں۔۔۔شام کی چائے ہم ساتھ ہی پیا کر تے تھے ۔۔۔۔۔۔وہ بھی شبینہ سے مل کر بڑی خوش ہوئی۔۔۔۔۔۔باتیں کرتے ہوئے رات ہوگئی ۔۔۔ریحانہ باجی نے زور دیا کہ ڈنر ان کے ساتھ کیا جائے ۔۔۔۔مگر آج کا دن میں شبینہ کو باہر لے جانا چاہتی تھی ۔۔اسلئے دعوت اگلے دن منتقل کرتے ہوئے میں اور شبینہ باہر کھانے چلے گئے ۔۔۔۔
    کھانے کے دوران ہم نے کافی انجوائے کیا۔۔۔کھانے کے بعد پھر آئسکریم کھانے قریب ہی آغا آئسکریم چلے گئے ۔۔۔۔اس کے بعد واپس اپنے گھر روانہ ہوئے ۔۔۔
    کار پارکنگ میں کھڑی کرتے ہوئے سب ٹھیک تھا۔۔ہم ہنستے ہوئے فلیٹ کے دروازے پر آئے ۔۔۔۔میں گیٹ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔اتنے میں میرے منہ پر کسی کا ہاتھ سختی سے آ کر دب گیا۔۔۔میں نے مڑنے کی کوشش کی ۔۔مگر حملہ آور مجھےدھکیلتے ہوئے اندر لے آیا۔۔۔اتنے میں شبینہ بھی گھسٹتی ہوئی میرے پیچھے آئی۔۔۔یہ تین آدمی تھے ۔۔۔۔۔اور حلئے سے تینوں افغانی لگ رہے تھے ۔۔۔۔اندر آتے ہی انہوں نے ہمارے موبائل اپنے قبضے میں کئے ۔۔۔۔۔اور ہمیں رسیوں سے باندھ دیا۔۔۔۔تینوں نے اپنی بوریاں سائیڈ پر رکھیں ۔۔۔۔اور گھر کی تلاشی لینے لگے ۔۔۔اپنے حلئے سے وہ مجھے کچرا چننے والے افغانی لگے تھے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر میں وہ تینوں میرے بیڈ روم میں آگئے ۔۔۔انہیں وہاں سے میرےلیپ ٹاپ کے علاوہ کچھ نہیں مل سکا۔۔۔۔۔۔ہمیں گھورتے ہوئے وہ زیور کا پوچھتے اورپھر ڈھونڈنے لگ جاتے ۔۔۔تبھی ان کی نظر شبینہ کے بیگ پر پڑی جو صبح سے ایسے ہی پڑا تھا۔۔۔انہوں نے جلدی سے بیگ کھولتے ہوئے اسے بیڈ پر الٹا دیا۔۔۔۔۔شبینہ کے سارے کپڑے بیڈ پر بکھر گئے ۔۔۔ایک نے شبینہ کی برا اور پینٹی اٹھاتے ہوئے اسے معنی خیز نگاہوں سے گھورا ۔۔۔اور بیگ پر جھک گیا۔۔کچھ ہی دیر میں زیورات کا ایک بکس بھی مل گیا ۔۔جو شبینہ شادی میں پہننے کے لئے لائی ہوئی ۔۔۔اس دیکھ کر ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔۔سارا سامان وہ اپنی ایک بوری میں جمع کرتے جارہے تھے ۔۔۔ میرا اور شبینہ کا موبائل وہ پہلے ہی اپنے قبضے میں کرچکے تھے ۔۔۔
    شبینہ میری طرف بڑی بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔اور میں ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ یہ تین افغانی تھے ۔۔۔ایک آدمی بڑی عمر کا تھا ۔۔۔۔جبکے دوسرے دو اٹھارہ اور انیس سال کی عمر کے لڑکے تھے ۔۔۔۔پورے گھر کی چھانٹی کرنے کے بعد وہ اب باہر ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ۔۔ایک لڑکے کو انہوں نے باورچی خانے سے کچھ لانے کا کہا ۔۔۔۔۔ ان کے لہجے کافی کرخت تھے ۔۔۔۔جو یقینا فلیٹ کے باہر تک جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ریحانہ باجی کو ان کی آواز سن لینی چاہئے تھی ۔۔۔مگر۔۔۔۔؟
    ان میں سے بڑی عمر کا آدمی جسے باقی ۔۔۔لالا ۔۔ لالا کہ رہے تھے ۔۔۔فریج سے ایک سیب اٹھا کر ہمارے بیڈ روم میں آگیا۔۔۔۔ اس کی نظریں پہلے مجھے گھورتی رہیں ۔۔۔اور پھر شبینہ کی طرف بڑھ گیا ۔۔جس کی آنکھیں خوف اور ڈرسے پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔لالا نے ایک نظر واپس مڑ کر مجھے دیکھا ۔۔اور پھر شبینہ کا چہرہ تھام لیا۔۔مجھے لالا کی نگاہوں میں ایک عجیب سی چمک نظرآئی ۔۔۔۔۔اس نے شبینہ کے منہ سے رومال نکالا اور سیب ڈالنے لگا۔۔۔۔ شبینہ کی منہ سے ایک اوغ اوغ کرتی ہوئی سر پیچھے ہٹانے لگی ۔۔۔اور پھر شاید چلانے کی لئے منہ کھولا ۔۔مگر لالا نے پہلے ہی اس کے منہ میں رومال ٹھونس دیا۔۔۔۔ایک تھپڑ شبین

  8. The Following 2 Users Say Thank You to Imtiaz Ali For This Useful Post:

    abkhan_70 (27-11-2019), Lovelymale (29-11-2019)

  9. #5
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    179
    Thanks Thanks Given 
    846
    Thanks Thanks Received 
    146
    Thanked in
    75 Posts
    Rep Power
    40

    Default

    Ufffff ham to samjahy thay keh sahil wali chudai ke baad kahani khatam hogai magar yeh to agay chal pari hai aur boht hi khoobsoorti ke sath agay chali hai. Boht hi garam update di hai, abb to mazeed ka bari shiddat se intezar rahay ga.

  10. #6
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    .......
    Last edited by Hard.target; 21-11-2019 at 09:00 PM.

  11. #7
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Quote Originally Posted by Lovelymale View Post
    Ufffff ham to samjahy thay keh sahil wali chudai ke baad kahani khatam hogai magar yeh to agay chal pari hai aur boht hi khoobsoorti ke sath agay chali hai. Boht hi garam update di hai, abb to mazeed ka bari shiddat se intezar rahay ga.
    لولی میل صاحب کیسے ہیں ۔۔بڑے وقت کے بعد آپ کا کمنٹ دیکھنے کو ملا۔۔۔ فورم پر پہلے والے لوگ سب غائب ہو گئے ہیں۔۔
    ۔

  12. The Following User Says Thank You to Hard.target For This Useful Post:

    Lovelymale (22-11-2019)

  13. #8
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Quote Originally Posted by ArmanM View Post
    What a fabulous story it was
    The only thing I missed was bilateral enjoyment
    Even though it was a rape story but still lust and sexual motivation should have been there
    Anyhow it was marvelous effort
    Will wait for another masterpiece form you
    sooner rather than later
    Keep it up

    شکریہ جناب ۔۔آئندہ بھی حوصلہ افزائی کا انتظار رہے گا۔۔
    ۔

  14. #9
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    179
    Thanks Thanks Given 
    846
    Thanks Thanks Received 
    146
    Thanked in
    75 Posts
    Rep Power
    40

    Default

    Quote Originally Posted by Hard.target View Post
    لولی میل صاحب کیسے ہیں ۔۔بڑے وقت کے بعد آپ کا کمنٹ دیکھنے کو ملا۔۔۔ فورم پر پہلے والے لوگ سب غائب ہو گئے ہیں۔۔
    ۔
    Boht shukriya janaab. Main rehta to yahin hon, taqreeban regular visit karta hon. Writers ki tadad bhi kam hogai hai pehle se, phir bhi dobara bahal honay ke baad phir bhi abb kuch chal nikla hai lekin abhi chal bhi puranay logon ki waja se hi raha hai. New writers ki kavishain nazar nahin arahi. New logon ko motivate kiya jaye to forum acha chal niklay ga.

  15. #10
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    35
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    30
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    5

    Default

    لن پھاڑ اپڈیٹ تھی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •