اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 4 of 5 FirstFirst 12345 LastLast
Results 31 to 40 of 41

Thread: میری زندگی میری داستاں

  1. #31
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    34
    Thanked in
    13 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    ہوئے کہا سر میں نے آپ کا کیا کر لینا ہے میں تو آپ کے متعلق کچھ نہیں جانتا مجھے کچھ علم بھی نہیں ہے میں کیا بتاؤں گا پلیز پلیز پلیز مجھے جانے دے پلیز سر
    سر کی آنکھوں میں مجھے وحشت نظر آرہی تھی سر فورا غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھے تھپڑ مار دیا چودھری تنویر کالا جس کو گاؤں میں کوئی اوئے کرکے بھی نہیں بلا سکتا تھا آج سکول می ننگا کھڑا تھا اور اس کو سر نے منہ کے اوپر تھپڑ بھی مار دیا تھا اس سے بڑی میرے لیے ڈوب مرنے کی کیا بات ہوسکتی تھی میں ندامت اور تکلیف سے رونے لگا
    میں جیسے کہتا ہوں تم نے ویسے کرنا ہے سر نے چلا کر کہا تم بھی ادھر او انم
    ٹیچر انم فورا چونک اٹھی اور کہا جی سر جی جی جی سر
    لیاقت صاحب نے کہا تم دونوں فورن بیڈ کے اوپر بیٹھ جاؤ ہم ڈرتے ڈرتے بیڈ کے اوپر جا بیٹھے ٹیچر انعم نے گرین کلر کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس میں ان کے دودھ کافی ٹائٹ نظر آ رہے تھے ٹیچر انم کافی خوبصورت تھی اور ان کا پرکشش اور سفید رنگ کا چہرہ میرے لیے قیامت ڈھا رہا تھا میں نے ٹیچر انہم کو شرماتے ہوئے ایک نظر دیکھا
    مگر اس دوران سر کی آواز گونجی اور سر نے ٹیچر انعم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا آج میں تمہارے سارے ارمان پورے کر دوں گا انم کی بچی۔ یہ کہہ کر سر نے ٹیچر انم کے منہ میں منہ ڈال دیا اور ان کو خوب چومنے لگا اور بے ساختہ طور پر سر نے اپنے ہاتھ ٹیچر انعم کے سینے کے اوپر رکھ دیے اور ان کے سینے کو دبانے لگا سر کے ہاتھ کی دباو کی وجہ سے ٹیچر انم کے سینے کے ابھار کپڑوں سے باہر نکلنے لگے سر نے ٹیچر انعم کے سینے کو زور زور سے دبانا شروع کر دیا اور منہ سے ششششش کی آوازیں بھی آنے لگی ٹیچر عنہم بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی اور ان کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی یہ سب دیکھ کر میرا لنڈ ہلکا ہلکا کھڑا ہونے لگا میں نے فورا اپنے دونوں ہاتھ اپنے لنڈ کے اوپر رکھ دیں اور اس کو چھپانے لگا سر نے اپنی ایک آنکھ کھول کر میرے لنڈ کی طرف دیکھا اور مجھے کہا
    ابے او کالے حبشی اب تیری باری ہے تو نے میری انم کو خوش کرنا ہے اور مطمئن کرنا ہے اگر کر سکے تو ٹھیک اگر نہ کر سکے تو میں تمہارا وہ حال کروں گا جو تم یاد رکھو گے مجھے لگتا ہے تم ابھی تک کنوارے ہو مگر ٹیچر تمہیں سب کچھ سکھا دے گی اور میں بھی تمہیں ساتھ ساتھ بتاتا جاؤں گا

  2. The Following 6 Users Say Thank You to Rustom For This Useful Post:

    abkhan_70 (28-12-2019), Admin (23-12-2019), aloneboy86 (23-12-2019), irfan1397 (02-01-2020), Lovelymale (23-12-2019), saarban (06-01-2020)

  3. #32
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Posts
    238
    Thanks Thanks Given 
    841
    Thanks Thanks Received 
    15
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    65

    Default

    Story to zabardast ha is ko agy b chalao na

  4. #33
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    89
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    Boht achi story hy waiting for updates

  5. #34
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    31
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    38
    Thanked in
    26 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    bohat achi chal rahi h story waiting for update

  6. #35
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    story ashi but bohat thori update ati hy, plz lambi update dain

  7. #36
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    115
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    66
    Thanked in
    39 Posts
    Rep Power
    23

    Default

    سٹوری اچھی ہے اپڈیٹ کرو

  8. #37
    Join Date
    Nov 2010
    Posts
    27
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    34
    Thanked in
    17 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    یہ کہہ کر سر نے مجھے میری کلائی سے پکٹر کر کھینچ لیا لیاقت صاحب کے ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے میرا ہاتھ میرے لنڈ کے اوپر سے ہٹ گیا لیاقت صاحب نے مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور ٹیچر انم کے ساتھ بیڈ کے اوپر بٹھا دیا میرے کالے ہونٹ میرے ہاتھ اور میرا جسم پوری طرح کپکپا رہے تھے مگر میرالن اچھی طرح سے کھڑا ہونے لگا تھا مجھے اپنے اندر یہ ناقابل یقین تبدیلی محسوس ہونے لگی تھی پہلے بھی ایسے کئی مرتبہ ہوا تھا مگر پہلی دفعہ میں لوگوں کے آگے ننگا تھا اور میرا لنڈ بھی کھڑا ہونے والا تھا بلکہ اس اسٹیج پر تھا کہ عنقریب وہ کھڑا ہو جاتا
    ایسے میں لیاقت صاحب نے میری گانڈ پر ہاتھ رکھا تو میں چونک اٹھا سر نے میری گانڈ کو تھپتھپاتے ہوئے کہا شاباش بیٹا اب شروع ہو جاؤ جیسے میں کہتا ہوں ویسے کرتے رہنا یہ کہہ کر لیاقت صاحب نے ٹیچر انم کے قمیض کے دامن کو پکڑ لیا کر اوپر کھینچنے لگے تھوڑی دیر بعد لیاقت صاحب نے ٹیچر انعم کی قمیض کو اوپر کھینچ لیا جیسے جیسے لیاقت صاحب قمیض اوپر کرتے جاتے ویسے ویسے ٹیچر انم کادوھیا جسم میری آنکھوں کے آگے روشنی بکھیر رہا تھاجلد ہی سرنے ٹیچر انم کی قمیض پوری طرح سے اتار لی اب ٹیچر انعم بلیک کلر کے بلاؤز میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ان کے پستان ابھرے ہوئے تھے اور ان کا فگر 36 کے قریب تھا اب سر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کے اپنی ٹیچر کے قریب جاؤ اور ان کا بلاؤز بھی اتارو
    میں ٹیچر کے قریب گیا اور ان کے پاس بیٹھ کر ان کے جسم کو ہاتھ لگایا اور جیسے ہی ہاتھ لگایا تو مجھے جیسے کرنٹ سا محسوس ہوا اب میرے اندر سے تنویر کالاحبشی وحشی بیدار ہونے لگا تھا میں نے ٹیچر انم کی بغلوں کے اندر سے ہاتھ گھسا کر ان کو گلے لگا لیا میں نے محسوس کیا کہ میرا اور ٹیچر انم دونوں کا دل دھک دھک کر رہا تھا میں نے بے ساختہ طور پر اپنی پہلی محبت یعنی ٹیچر انم کو گلے لگائے رکھا ان کا نرم نرم جسم اور نرم و ملائم سینا میرے سینے کے ساتھ لگ کر مجھے لطف کی وادیوں میں لے کر جا رہا تھا میں بے ساختہ طور پر ٹیچر انعم کے سحر میں ڈوب سا گیا مجھے کچھ لمحوں کے لئے محسوس بھی نہ ہوا کہ میرے ساتھ سر لیاقت بیٹھے ہیں میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیچر انم کے گالوں کو چوم لیا میرا دل کر رہا تھا کہ میرے کالے ہونٹ ٹیچر نم کے لال اور سفید ہونٹوں کو چوم لیں مگر میں یہ گستاخی نہیں کرنا چاہتا

    تھا

    میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے کالے کپکپاتے ہونٹ ٹیچر انم کے ہونٹوں کے اوپر رکھے تو گویا ایسے لگا کے پیاسے کو صحرا میں ایک بہترین جام مل گیا ہو انکے شربتی ہونٹوں کے اوپر اپنے پیاسے ہونٹوں کو رکھ کر مجھے سکون سا ملنے لگا میںنے پیار سے ان کے ہونٹوں کو چوم لیا میں نے ٹیچر انم کو اپنی باہوں میں لیا ہوا تھا کے سر کی آواز آئی بیٹا اب آگے خود جاری رہو تم میں کرنٹ ہے مجھے ایسے لگتا ہے کہ تم اسی مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہو شاباش اپنی ٹیچر کو ننگا کر دو اور اس کے ساتھ وہ کرو وہ کرو وہ اس کا حشر کرو کہ وہ بھول جائے کہ محبت کرنا اور پیار کرنا کیا ہوتا ہے میں نے سر کی باتوں کو غور سے سنا اور بریزر کے ہک کو کھولنے لگا میں نے جھٹکے کے ساتھ ٹیچر انم کے ہک کھولنا چاہا مگر اناڑی پن سامنے آگیا مجھ سے ہک نہیں کھل رہا تھا میں نے زور لگا کر ہک کھولنے کی کوشش کی تو تھوڑا سا بریزر پھٹ گیا مجھے اس طرح جوشیلا دےکھ کر سر مسکرا اٹھے اور خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ کر انہوں نے بریزر کے ہک کھول دیا اب ٹیچر بریزر کو خود اتار نے لگی ہیں اور ہاتھوں کو سیدھا کر کے بریزر کو پکڑ کر کھینچنے لگی
    افففففففففففففففففف
    کیا نظارا تھا ایسے لگتا تھا دو خوبصورت سفید گلاب میری آنکھوں کے سامنے ہوں نہایت خوبصورت سینا نہایت خوبصورت اور سفید کلر کا سینہ میرے آنکھوں کے آگے تھا میرے انگ انگ میرا بال بال کھڑا ہونے لگا ہوں میرالن مکمل طور پر کھڑا ہو چکا تھا جس کا سائز ناقابل یقین طور پر دس انچ کے قریب ہو چکا تھا اور یہ میرے ساتھ زندگی میں ایسا پہلی دفع ہوا تھا مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا لن پھٹ جائے گا مجھے غصہ آ رہا تھا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں میرا جسم اور دماغ مجھ سے کنٹرول نہیں ہورہا تھا
    میں نے فورا انم کے سینے کے ابھاروں کو پکڑ لیا اور ان کے نپلز پر کس کرنے لگا میں نے ٹیچر انم کو گردن سے پکڑ کر بیڈ کے اوپر دھکا دے کر ان کو لٹا دیا
    اور ان کے ہاتھ اوپر کر اور ان کی ٹانگوں کے اوپر چڑھ بیٹھا میں فوراً ٹیچر کے اوپر جھک گیا اور ان کو بلا ساختہ چومنے چاٹنے لگا نیچے ٹیچر انعم کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی میں نے اپنی زبان نکالی اور ٹیچر انم کی گردن کے اوپر پھیرنا شروع کر دی میں نے ایک ہاتھ سے ٹیچر انم کے دونوں ہاتھوں کو ان کے سر کے اوپر سے پکڑا ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے ان کا پستان دبا

    رکھا تھا جبکہ میری زبان اپنا کام کر رہی تھی وہ ٹیچر انم کے ہونٹوں ان کی گردن اور ان کے سینے کو چوم چاٹ رہی تھی میں نے اپنا پورا منہ ٹیچر انم کے نپل پر رکھ لیا اور اس کو پورے منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگا ٹیچر انعم کبھی سرکو اس طرف دائیں طرح مارتی تو کبھی اس طرف بائیں طرف

    مار رہی تھی پھر آہستہ آہستہ یوں ہوا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی جیسے ٹیچر انم کی شلوار کو کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے ٹیچر انعم نے شلوار میں الاسٹک ڈالا ہوا تھا مگر میں شلوار کے اوپر بیٹھا تھا میں نے مڑ کر دیکھا تو لیاقت صاحب ٹیچر انعم کی شلوار کو پکڑتا کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے میں نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا اور سر نے جلدی سے شلوار کو نیچے کھینچ لیا اب ٹیچر انم کا گورہ سفید جسم میرے اختیار میں تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے ٹیچر انعم نے بلیک کلر کا کوئی کمبل اوڑھ رکھا ہو
    ٹیچر انم کی پھودی کے بال ہے چھوٹے چھوٹے تھے اب میں نے ٹیچر انعم کا ہاتھ کو چھوڑ دیا تھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹیچر انم کے پستانوں کو پکڑ کر آہستہ آہستہ نیچے جانے لگا میں نے ٹیچر انم کے پیٹ کے اوپر پیار کیا جب ان کے ناف پر زبان پھیری تو ٹیچر تلملا اٹھی اور منہ سے شیشی کی آواز آنے لگی پہلی مرتبہ ٹیچر انعم کے منہ سے وہ چند الفاظ جس میں
    ٹیچر کہہ رہی تھی
    لیاقت تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میرے اوپر میرے ہی سٹوڈنٹ کو چڑھا دیا اور بھی وہ اور وہ بھی اتنے کالے کو دیکھا ہے اس کا جسم کیا میں اس قدر گئی گزری ہوں۔ پتا نہیں مجھے اس وقت کیا ہوا ٹیچر کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آگیا میں نے جن ہاتھوں سے ٹیچر انم کے پستانوں کو پکڑا ہوا تھا اس کو چھوڑ دیا اور غصے میں ٹیچر انم کے سینے کے اوپر تھپڑ مارا جس سے اس کے پستانوں کے اوپر درد ہونے لگا میرے تھپڑ مانے سے میرے ہاتھوں کو عجیب قسم کا نرم سا لمس محسوس ہوا میں نے ایک دفعہ پھر ہاتھ اٹھایا اور ٹیچر ہنم کے گالوں کے اوپر پیار سے چپت لگا دی
    اب مجھے آگے کچھ نہیں آتا تھا مجھے نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ اب آگے کیا کرنا ہے اور کیسے پیار مکمل کرنا ہے بہرحال ہم دونوں ننگے تھے اور ایسے محسوس ہورہا تھا کہ ٹیچر انم کو مجھ سے تھوڑی سی گھن آ رہی ہو
    ایسے میں اچانک سر لیاقت نے اپنا پورے کپڑے اتار دئے اور وہ بھی ننگے ہو گئے سر لیاقت کا پیٹ آگے نکلا ہوا تھا سر سے گنجے تھے اور ان کا لنّ درمیانے سائز کا تھا تین سے چار انچ کا ہوتا جو میرے لن کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم تھا ایسے لگتا تھا جیسے ایک گبرو مرد کے آگے ایک بچے نے اپنے للی اٹھائی ہوئی ہو۔
    سر نے مجھ کو سائیڈ پر کیا اور خود میری جگہ پر ٹیچر انم کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا میں ایک سائیڈ پر ہو گیا سر نے ٹیچر انم کو

    نہایت کرخت آواز میں کہا اس کالے کا لنڈ پکڑ لو
    اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لنڈ کو پکڑ لیا میرا کالا شمور لن ٹیچر انم کے سفید ہاتھوں میں تھا انعم کا ہاتھ بہت چھوٹا تھا اور میرے لنڈ کا سائز بہت بڑا تھا وہ بے ساختہ طور پر میرے لنڈ کے اوپر ہاتھ پھرنے لگی جس طرح آپ طوطے یا کبوتر کو انسان پکڑ کر ہاتھ پھیرتا ہے۔
    دوسری طرف سر نےٹیچر انعم کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے کے اوپر رکھ دیں اور بغیر وقت ضائع کیے اپنی للی کو انم کی پھودی کے اندر گھسا دیا
    ٹیچر منہ سے ششششششش کر کے میرے لن کو زور زور سے دبا لیا اور اپنے نیچے والے ہونٹ کو اپنے دانتوں کے نیچے دبانے لگی جبکہ ان کی آنکھیں بند تھی اور وہ کہہ رہی تھی لیاقت صاحب بہت مزہ آ رہا اس طرح کرتے رہیں صاحب زور زور سے جھٹکے مارنے لگے اور ٹیچر انعم کے تھن اچھلنے لگے مگر اچانک ہی میں چونک اٹھا


  9. The Following 4 Users Say Thank You to timmy asif For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-01-2020), irfan1397 (23-01-2020), Lovelymale (15-01-2020), Mirza09518 (20-01-2020)

  10. #38
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    115
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    66
    Thanked in
    39 Posts
    Rep Power
    23

    Default

    اپڈیٹ اچھی تھی لیکن چھوٹی تھی

  11. #39
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    219
    Thanks Thanks Given 
    422
    Thanks Thanks Received 
    422
    Thanked in
    187 Posts
    Rep Power
    177

    Default

    Bohat he sexy update next update plz

  12. #40
    Join Date
    Jan 2020
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Quote Originally Posted by Rustom View Post
    ہی سر نے الماری کھولی تو الماری ایک دروازے میں تبدیل ہوگئی اور کھلنے لگیں نیچے بیسمنٹ تھی اور سر نیچے بیسمنٹ کی سیڑھیوں میں اترنے لگے اور مجھے کہا آپ اندر آئی اور میڈم ان کو بھی کہا کہہ آپ بھی آ جائیں ہم دونوں سر کے پیچھے پیچھے اترنے لگے سر نے دائیں طرف بٹن کو زور دیا تو بیس منٹ کی لائٹ آن ہوگی جیسے جیسے ہم لوگ بیس میڈ میں اترتے جارہے تھے ویسے ویسے میری آنکھیں پھٹتی جارہی ہیں میرے آنسو خشک ہو گئے تھے نیچے سرکا بہترین ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا جس کے اوپر بہت بڑا بیٹھا تھا اور پیچھے سینٹری تھی اور آگے بہترین ایک صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا اس کے سامنے بہترین قسم کی ٹیبل تھی جس کے اوپر گلاس رکھے ہوئے تھے
    سر نے مجھے صوفے کے اوپر بٹھایا اور ساتھ خود بڑے کرسی کے اوپر برجمان ہوگئے میڈم انم سر کے ساتھ کھڑی رہی
    سر نے میری طرف دیکھا اور کہا کہہ یونیفارم کی ٹائی اتار دو میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فورا ہی یونیفارم کی ٹائی اتار کر ٹیبل کے اوپر رکھ دیں
    سر نے مجھے پھر حکم دیا کہ اپنی شرٹ بھی اتار دفعہ میں ہچکچانے لگا مگر مرتا کیا نہ کرتا سر کے حکم کے آگے مجبور تھا اور فورا مجھے شرٹ بھی اتارنی پڑی میرا اندھیرے سے بھرپور کالا بالوں سر پاک سینہ نظر آنے لگا شارلٹ اتارتے ہیں میں نے فورا اپنے دونوں بازو اپنے سینے کے آگے رکھ دیے اور نگاہیں میڈم انم پر جما دیں سر کا اگلا حکم تھا اپنی پینٹ کو کھولو میں گھبرا گیا اور ڈر کے مارے اپنا بایاں ہاتھ فورا پینٹ کے بٹن کے اوپر رکھ دیا
    سر نے فورا اپنا ہاتھ اٹھایا اور میری طرف بڑھا بڑھایا انہوں نے میرے ہاتھ کو جھٹکے سے ہٹایا اور میری پینٹ کا بٹن کھول دیا میں ابھی تک دیہاتی پینڈو تھا اور مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ پینٹ کے نیچے انڈرویئر پہنتے ہیں ابھی انڈر ابھی پینٹ نیچے تھوڑی سی اتری تھی کہہ سر نے پانچے سے پکڑ کر جھٹکے کے ساتھ میری پوری پینٹ کو اتار دیا پینٹ میرےلن کے ساتھ ٹکراتی ہوئی آڑ کر نیچے جا گری میں نے فورا اپنا ہاتھ اپنے لنڈ کے اوپر رکھا
    مگر میرا میرے دونوں ہاتھ میرے لن کو چھپانے میں ناکام ہوگیا دونوں ہاتھ رکھنے کے باوجود میرا لنڈ نظر آنے لگا سر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے زبردستی میرے ہاتھوں کو ہٹایا اور میرے لن کو غور سے دیکھنے لگا
    Bhenchod
    Ye school ka principal hay ya koi gangster

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •