اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 29

Thread: قصہ کزن کی شادی کا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default قصہ کزن کی شادی کا

    میں اردو فنڈا کا ایک پرانہ قاری ہے لیکن کہانی شروع کرنے کا کئی بار سوچا پر وقت کی تنگی کے باعث اس سے دور ہی رہا ۔۔لیکن اب ہمت کر کے شروع کر ہی دی ہے۔۔۔ خیر تمہید لمبی ہوگی ہے اپنے بارے میں بتاتا چلو۔۔۔ میں ایک 30سالہ شادی شدہ مرد ہو۔ میرا اصل نام تو اور ہے لیکن آ پ مجھے روفی کے نام سے پکار سکتے ہیں میں نجی ٹی وی چینل میں اُردو زبان کی درستگی یعنی پرو ریڈر ہو اور مختلف ڈرامہ سریل کے ڈالیلاگ کی ادائیگی سے لے کر اردو خبروں تک سب میرے ذمے ہے اور مجھے یہ کام کرتے ہوئے تقریباً دس برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔۔
    اب کہانی کے مرکزی کردار کے بارے میں بھی بتاتا چلو۔یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے بس ناموں کو تبدیل کر دیا ہے۔یہ اسٹوری شروع ہوتے کزن کی شادی سے جو ہمارے سب کزنز میں پہلی شادی ہے۔
    اس میں ہیرو کا کردار میں خود سر انجام دے رہا ہوں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Ruffi For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-11-2019), Lovelymale (07-01-2020)

  3. #2
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    دوسرا حصہ
    تو محترم دوستو میں مزید وقت ضائع کرتے ہوئے کہانی کا آ غاذ کرتا ہوں۔۔۔۔
    مجھے سیکس سے آ شنائی تقریباً 10برس کی عمر میں ہی گی تھی وہ الگ بات ہے کہ للی سے کچھ خارج نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔ یہ واقع بعد میں محترم کی دوستوں کے ساتھ شیئر کرو گا۔کہ کب پہلا سیکس کیا اور کس سے کس طرح ۔
    خیر آ ج کا واقع 2005 کا ہے جب میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان سے فارغ ہو کر ایک نیوز ایجنسی میں ٹائپنگ کا کام کیا کرتا تھا ۔تب ہی میرے چچا کے بیٹے احمر کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی گی جبکہ احمر کی عمر صرف 16برس ہی تھی میٹرک کا طالب علم تھا۔لیکن چچی کو شادی کی جلدی تھی اس لیے نہیں کہ بہو گھر لانے کی جلدی تھی۔بلکہ گھر میں ایک نوکرانی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ چچی یا پھر میں کزنز صائمہ جس کی عمر اس وقت تقریباً دس برس ہو گی اور دوسری سمرا جو نو سال کے لگ بگ تھی۔چچی کے ساتھ ساتھ کزنز بھی ہو حرام طبیعت لے کر پیدا ہوئیں تھی جو گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگانا اپنی توہین سمجھتی تھی۔اور چچا ایک دوکان چلاتے تھے جس سے گزر بسر اچھا ہوتا تھا ۔کام کے لیے چچی کبھی اپنی بھابھی کو لے کر آ تی تو کبھی بھانجی کو ۔لیکن یہ مستقل حل نہیں تھا اسی طرح باقی رشتےدار بھی چچا اور چچی سے بدظن ہونے لگ گے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے چچی نے احمر کی شادی کی خواہش ظاہر کر دی ۔تاریخ تہہ کر دی گی جس کے بعد چچا نے اپنے بھائی یعنی میرے والد کو بتایا۔۔۔ خیر ابو چچا پر کافی عرصہ ہوئے کہ بچہ چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور شادی پر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔لیکن امی اور پھپھو کے آ گے ابو کی نہ چلی کیونکہ ابو پھپھو سے بہت پیار کرتے ہیں۔ابو مان گے اور امی اور مجھ سمیت میرے دوسرے بہن بھائیوں کو روانہ کر دیا۔۔۔۔ یہ بھی بتاتا چلو کہ بہن بھائیوں میں میں سب سے بڑا ہوں اور میرے مزید دو بھائی ہیں جن کی عمریں اس وقت تین سال تھیں کیونکہ دونوں جڑواں تھے اور بہن صرف ایک سال کی جو کہ امی کی گود میں تھی۔۔۔ہم کراچی سے بذریعہ ٹرین لاہور روانہ ہو گے جہاں چچا ملتان روڈ پر رہتے تھے خیر میں بہت خوش تھا پہلی بار کراچی سے باہر جا رہا تھا اور دوسری بات کہ ابو نہیں گے تھے جس کی وجہ سے روک ٹوک کرنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ہم جب ہم لاہور پہنچنے تو چچا ہمیں اسٹیشن ہر لینے کے لیے موجود تھے۔ہم اسٹیشن سے بذریعہ کوسٹر گھر پہنچے جہاں ہم سے پہلے تقریباً سارا خاندان مل وجود تھا جن سے میں پہلی مرتبہ مل رہا تھا ۔۔۔سب نے بہت پیار دیا۔۔۔ اور اسی طرح باقی کا دن گزرنے لگا اور شام کے سائے ڈھلنے لگے اور فکر ہونے لگی مھمانوں کو سلانے کی۔ جس پر پھپھو نے سب بچو کو زمین پر ہی بستر ڈال دیا جس پر ایک طرف میں پھر دونوں میرے چھوٹے بھائی ساتھ میں کزنز۔۔۔۔
    تب لاہور کو ایک قصبہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیوں کہ میں اپنے سکول کے وقت بھی رات کو دس بجے سوتا تھا اور یہاں لاہور میں تو ابھی مغرب کے بعد ہی سونے کی تیاریاں شروع تھیں اور پھر ہم لیٹ گے سونے کی ناکام کوشش کرتے رہے لیکن نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔ابھی کروٹ بدل ہی رہے تھے کہ چچی کی بھانجی جس کا نام تو سمیرا تھا لیکن سب اس کو سمہ بلاتے تھے اس کی عمر تقریباً 20برس ہوگی سانولا گندمی رنگت قد تقریباً 5فٹ
    جسمم بھرا ہوا گاؤں کی جٹی دودھ مکھن پر پلی ہوئ سینہ تقریباً 32 کا جو مجھے بعد میں پتہ چلا۔۔۔ گانڈ باہر کو نکلی ہو جیسے چھوٹا اسپیڈ بریکر ہو۔۔۔مجھے دیکھ کر ہی جھر جھر سی آ گی۔کیونکہ جب سے ہوش سمبھالی تھی لونڈے بازی ہی کی تھی سچ پوچھیں تو بڈھے بازی۔۔۔سمہ کو بھی سونے کے لیے جگہ درکار تھی اور اس لمحے دل کے کسی کونے سے آ واز آئی کہ روفی اگر یہ تیرے ساتھ سو جائے تو مزہ آ جایے گا اس وقت نیتیں صاف ہوا کرتی تھیں بس سمہ اچھی لگی اس لیے دل میں خواہش جاگی۔۔۔
    اور پھر قسمت نے ساتھ دیا اور سارے گھر میں جگہ نہ ملی تو وہ میرے سر کی طرف کھڑی دیکھتے ہوئے اونچی آ واز میں بولی ماموں رہنے دو یہاں کراچ والوں کے پاس جگہ ہے یہاں ہی سو جاتی ہوں بس اتنا کہنا تھا کہ میرے دل میں لڈو پھوٹے لگے۔۔۔۔ اس وقت تقریباً آ ٹھ بجے کا ٹائم ہو رہا تھا اس نے ایک عدد کمبل لیا اور میرے ساتھ آ
    کر کمبل اوڑھے ہوئے بولی کیوں نیند نہیں آ رہی
    میں منہ اس کی طرف کر کے اس وقت تو ہم ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہیں اور یہاں سب سو رہے ہیں
    سمہ۔۔۔ ارے یہاں یہ ہی ٹائم ہے سب سو جاتے ہیں اور سب سے زیادہ عشاء کی نماز کے بعد سو جائے ہیں ۔
    خیر پھر سمہ سے ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گی اور ہمارے درمیان اب مہمانوں والی شرمیلا پن ختم ہونے لگ گیا ۔۔۔ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی تو سمہ نے غصے بھرے لہجے میں پوچھا کون۔۔۔ اور ساتھ ساتھ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی "نہ دن میں سکون کرنے دیتے ہیں نہ رات کو " باہر سے جواب میں باجی میں انیلا۔۔"انیلا کا تعارف کراتا چلو انیلا چچی کی دوست کی بیٹی تھیں جس کو شادی کے دونوں میں گھر کے کاموں کے لے رکھا تھا جس عمر تقریباً اس وقت سولہ سترہ برس رہی ہو گی"۔
    سمہ نے دروازے کو کھولنے کے لیے اٹھی ہی تھی انیلا پھر سے بولی باجی میں اب گھر نہیں جا سکتی یہاں ہی سونے لگی ہو بس جگہ بتا دو جہاں بستر پڑے ہیں میں لے لیتی ہوں۔۔۔سمہ نے دروازے کھولا اور کمرے میں موجود بلب روشن کیا جس کے بعد میں نے انیلا کی شکل دیکھی جو کہ واجبی سی شکل تھی گندمی رنگ نقوش بہتر تھے نہ اچھے نہ برے فراک ٹائپ کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے جس پر ایک عدد شال بھی لپیٹی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھوں کو سردی کے مارے مسلسل مسلی جاری تھی ۔
    سمہ اس کے ہمراہ دوسرے کمروں کی جانب چل پڑی جہاں سے کچھ دیر میں ہی لوٹ آ ئ اور اپنا کمبل انیلا کو پکڑتے ہوئے اسے اسٹور روم جس کا راستہ اس ہی کمرے سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔" اس اسٹور روم میں اناج کے لے ایک عدد بڑا برتن جسے پنجابی زبان میں پڑولا کہتے ہیں رکھا ہوا تھا اور ایک عدد ڈھلی سی چارپائی تھی جس پر گھر کے بستر دن میں اکھٹا کر کے رکھتے ہیں"۔انیلا آ ج اس پر سو جا کل سے تیرا بھی سونے کا بندوست کر ہی دو گی۔
    جس پر انیلا جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے اسٹور روم میں چلی گی اور چارپائی کو جھاڑنا شروع کر دیا پھر ایک روئی کا گدا چارپائی پر ڈالا اور دھڑم سے بیٹھی کہ چارپائی آواز نکالنے بنا نہ رہ سکی جس پر سمہ مسکراتے ہوئے
    وے مجے آرام نال کتے منجی نہ پن دی
    اور بلب بند کر کے میری ہی رضائی میں گھس گی اور گھستے ہی مجھے سرکاتے ہوئے بولی کہ
    یار رضائی شیئر کر لو گے
    جس پر میرے منہ سے بس یہ ہی نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. The Following 4 Users Say Thank You to Ruffi For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-11-2019), irfan1397 (12-11-2019), Lovelymale (21-11-2019), ttest533 (10-11-2019)

  5. #3
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    98
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    130
    Thanked in
    71 Posts
    Rep Power
    12

    Default

    Nice start dear Sir
    Kindly keep it up please

  6. #4
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    تیسرا پارٹ
    آ پ میرے ساتھ کیسے اجیسٹ کرو گی کہیں کسی
    بڑےے نے دیکھ لیا تو۔۔۔ محترمہ فرمانے لگی کہ آج تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی دیکھ لے بس تم کسی سے ذکر نہیں کرنا ۔۔۔
    میں تو خود یہ ہی چاہتا تھا۔۔۔ خیر میں نے جی کہا۔۔۔ اور اپنے اوپر سے رضائی کو اتارنے لگا اور ایک سائیڈ سمہ کی طرف بڑھا دی جس پر سمہ نے فٹافٹ سہی طریقے سے اوڑنے لگی لیکن یکایک اسے یاد آ یا کہ دروازہ تو بند نہیں کیا جس پر سمہ دوبارہ سے اٹھی اور دروازہ بند کیا اور دروازے کو کنڈی لگائی ۔۔۔ اور بڑبڑانے لگی شکر ہے یاد آ گیا نہیں تو بلی پھر گس جانی تھی۔۔۔ اور آ کے میرے ساتھ لیٹ گی۔۔۔ اور رضائی کو سیٹ کرتے کرتے سمہ میرے اتنے قریب آ گی کہ اس کے جسم کا لمس مجھے اپنے سیدھے پر محسوس ہونے لگا۔ پھر سمہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی روفی کسی کو بتانا نہیں کہ میں تمہارے ساتھ سوئی تھی نہیں تو ڈانٹ پڑ جائے گی ۔۔۔ اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ مجھے نہیں پتا کہ کون کہا سویا تھا۔۔۔۔جس پر میں نے بس یہ ہی کہا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ابھی میرے الفاظ میرے منہ ہی میں تھے کہ سمہ جھٹ سے پلٹی اور میری گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی روفی بہت سمجھدار ہو۔۔۔۔۔ اور آپنا ہاتھ میری گال پر ہی رہنے دیا ۔۔۔۔ جس وجہ سے سمہ میرے بہت قریب آ گی تھی اتنی قریب کہ میں اس کے جسم کی حرارت محسوس کر سکتا تھا۔۔ اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے جس کے تھوڑی دیر بعد سمہ نے مجھے کروٹ بدلنے کے لیے بازو پکڑ کر کھینچا اور میں جھٹ سے اپنی کروٹ تبدیل کی اب میرا اور سمہ کا منہ آ منے سامنے آیا گیا اور مزید سمہ نے اپنا بازو اور ایک ٹانگ میرے اوپر رکھتے ہوئے بولی روفی مجھے تو ایسے نیند آ تی ہے اور ایک سرہانہ سر کے نیچے اور دوسرے سے جھپی لگا کر سوتی ہو جس پر سمہ نے مجھے کس کر دبوچ لیا اور سمہ کے ممے میرے سینے میں پیوست ہونے لگے۔ اور نیچے سے میرے لنڈ صاحب میں بھی حرکت مزید جاگ گی جب کہ اندرون خانہ دل اس بے دردی سے دھک دھک کر رہا تھا کہ شاید باہر نکل آ ئے جس کو سمہ نے بھی محسوس کر لیا اور کہنے لگی روفی تمہارا دل ہے یا پیٹر(پیٹر۔۔۔ ٹیوب ویل سے پانی نکالنے والے انجن کو کہتے ہیں(
    جس پر میں نے دبی آواز میں کہا کہ اگر کوئی آ گیا تو۔۔۔۔۔جس پر سمہ کہنے لگی کہ بس تم بےفکر رہو۔۔۔ دروازہ اندر سے بند ہے سب بچے سو چکے ہیں۔۔ اور بڑے صرف ہم دونوں ہی ہیں۔۔۔۔۔اور اپنی ٹانگ کی مدد سے مجھے قریب کرتے ہوئے کہا کہ فکر ناٹ۔۔۔۔مجھے بھی اطمینان ہوا۔۔۔ اور میں سمہ کے قریب ہوگیا اور اپنے ایک بازو کو اپنے سر نیچے رکھا اور دوسرے کو اپنے سینے کے ساتھ۔۔۔۔ جو شاید سمہ کو پسند نہیں آیا اور میرا سر کے نیچے والے بازو کو پکڑ کر سیدھا کر کے اسے سرہانہ بناتے ہوئے آپنا سر رکھ دیا اور میرے دوسرے بازو کو پکڑ کر اپنے اوپر سے گذار کرکمر کی جانب کر دیا۔۔۔۔ اب ہمارا اسٹائیل ایسا تھا جیسے ہم دونوں گلے مل رہے ہوں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔

  7. The Following 3 Users Say Thank You to Ruffi For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-11-2019), aloneboy86 (10-11-2019), Lovelymale (21-11-2019)

  8. #5
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    48
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    58
    Thanked in
    30 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    کمال کا آغاز ہے جناب منظر کشی بھی خوب اور سب سے بڑھ کر حقیقت سے قریب تر
    بہت عمدہ

  9. #6
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    40
    Thanks Thanks Given 
    32
    Thanks Thanks Received 
    41
    Thanked in
    22 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    Quote Originally Posted by ruffi View Post
    میں اردو فنڈا کا ایک پرانہ قاری ہے لیکن کہانی شروع کرنے کا کئی بار سوچا پر وقت کی تنگی کے باعث اس سے دور ہی رہا ۔۔لیکن اب ہمت کر کے شروع کر ہی دی ہے۔۔۔ خیر تمہید لمبی ہوگی ہے اپنے بارے میں بتاتا چلو۔۔۔ میں ایک 30سالہ شادی شدہ مرد ہو۔ میرا اصل نام تو اور ہے لیکن آ پ مجھے روفی کے نام سے پکار سکتے ہیں میں نجی ٹی وی چینل میں اُردو زبان کی درستگی یعنی پرو ریڈر ہو اور مختلف ڈرامہ سریل کے ڈالیلاگ کی ادائیگی سے لے کر اردو خبروں تک سب میرے ذمے ہے اور مجھے یہ کام کرتے ہوئے تقریباً دس برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔۔
    اب کہانی کے مرکزی کردار کے بارے میں بھی بتاتا چلو۔یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے بس ناموں کو تبدیل کر دیا ہے۔یہ اسٹوری شروع ہوتے کزن کی شادی سے جو ہمارے سب کزنز میں پہلی شادی ہے۔
    اس میں ہیرو کا کردار میں خود سر انجام دے رہا ہوں۔۔

    دوسرا حصہ
    تو محترم دوستو میں مزید وقت ضائع کرتے ہوئے کہانی کا آ غاذ کرتا ہوں۔۔۔۔
    مجھے سیکس سے آ شنائی تقریباً 10برس کی عمر میں ہی گی تھی وہ الگ بات ہے کہ للی سے کچھ خارج نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔ یہ واقع بعد میں محترم کی دوستوں کے ساتھ شیئر کرو گا۔کہ کب پہلا سیکس کیا اور کس سے کس طرح ۔
    خیر آ ج کا واقع 2005 کا ہے جب میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان سے فارغ ہو کر ایک نیوز ایجنسی میں ٹائپنگ کا کام کیا کرتا تھا ۔تب ہی میرے چچا کے بیٹے احمر کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی گی جبکہ احمر کی عمر صرف 16برس ہی تھی میٹرک کا طالب علم تھا۔لیکن چچی کو شادی کی جلدی تھی اس لیے نہیں کہ بہو گھر لانے کی جلدی تھی۔بلکہ گھر میں ایک نوکرانی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ چچی یا پھر میں کزنز صائمہ جس کی عمر اس وقت تقریباً دس برس ہو گی اور دوسری سمرا جو نو سال کے لگ بگ تھی۔چچی کے ساتھ ساتھ کزنز بھی ہو حرام طبیعت لے کر پیدا ہوئیں تھی جو گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگانا اپنی توہین سمجھتی تھی۔
    اور چچا ایک دوکان چلاتے تھے جس سے گزر بسر اچھا ہوتا تھا ۔کام کے لیے چچی کبھی اپنی بھابھی کو لے کر آ تی تو کبھی بھانجی کو ۔لیکن یہ مستقل حل نہیں تھا اسی طرح باقی رشتےدار بھی چچا اور چچی سے بدظن ہونے لگ گے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے چچی نے احمر کی شادی کی خواہش ظاہر کر دی ۔تاریخ تہہ کر دی گی جس کے بعد چچا نے اپنے بھائی یعنی میرے والد کو بتایا۔۔۔ خیر ابو چچا پر کافی عرصہ ہوئے کہ بچہ چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور شادی پر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔لیکن امی اور پھپھو کے آ گے ابو کی نہ چلی کیونکہ ابو پھپھو سے بہت پیار کرتے ہیں۔ابو مان گے اور امی اور مجھ سمیت میرے دوسرے بہن بھائیوں کو روانہ کر دیا۔۔۔۔


    یہ بھی بتاتا چلو کہ بہن بھائیوں میں میں سب سے بڑا ہوں اور میرے مزید دو بھائی ہیں جن کی عمریں اس وقت تین سال تھیں کیونکہ دونوں جڑواں تھے اور بہن صرف ایک سال کی جو کہ امی کی گود میں تھی۔۔۔ہم کراچی سے بذریعہ ٹرین لاہور روانہ ہو گے جہاں چچا ملتان روڈ پر رہتے تھے خیر میں بہت خوش تھا پہلی بار کراچی سے باہر جا رہا تھا اور دوسری بات کہ ابو نہیں گے تھے جس کی وجہ سے روک ٹوک کرنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ہم جب ہم لاہور پہنچنے تو چچا ہمیں اسٹیشن ہر لینے کے لیے موجود تھے
    ۔ہم اسٹیشن سے بذریعہ کوسٹر گھر پہنچے جہاں ہم سے پہلے تقریباً سارا خاندان مل وجود تھا جن سے میں پہلی مرتبہ مل رہا تھا ۔۔۔سب نے بہت پیار دیا۔۔۔ اور اسی طرح باقی کا دن گزرنے لگا اور شام کے سائے ڈھلنے لگے اور فکر ہونے لگی مھمانوں کو سلانے کی۔ جس پر پھپھو نے سب بچو کو زمین پر ہی بستر ڈال دیا جس پر ایک طرف میں پھر دونوں میرے چھوٹے بھائی ساتھ میں کزنز۔۔۔۔
    تب لاہور کو ایک قصبہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیوں کہ میں اپنے سکول کے وقت بھی رات کو دس بجے سوتا تھا اور یہاں لاہور میں تو ابھی مغرب کے بعد ہی سونے کی تیاریاں شروع تھیں اور پھر ہم لیٹ گے سونے کی ناکام کوشش کرتے رہے لیکن نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔ابھی کروٹ بدل ہی رہے تھے کہ چچی کی بھانجی جس کا نام تو سمیرا تھا لیکن سب اس کو سمہ بلاتے تھے اس کی عمر تقریباً 20برس ہوگی سانولا گندمی رنگت قد تقریباً 5فٹ
    جسمم بھرا ہوا گاؤں کی جٹی دودھ مکھن پر پلی ہوئ سینہ تقریباً 32 کا جو مجھے بعد میں پتہ چلا۔۔۔ گانڈ باہر کو نکلی ہو جیسے چھوٹا اسپیڈ بریکر ہو۔۔۔مجھے دیکھ کر ہی جھر جھر سی آ گی۔کیونکہ جب سے ہوش سمبھالی تھی لونڈے بازی ہی کی تھی سچ پوچھیں تو بڈھے بازی۔۔۔سمہ کو بھی سونے کے لیے جگہ درکار تھی اور اس لمحے دل کے کسی کونے سے آ واز آئی کہ روفی اگر یہ تیرے ساتھ سو جائے تو مزہ آ جایے گا اس وقت نیتیں صاف ہوا کرتی تھیں بس سمہ اچھی لگی اس لیے دل میں خواہش جاگی۔۔۔

    اور پھر قسمت نے ساتھ دیا اور سارے گھر میں جگہ نہ ملی تو وہ میرے سر کی طرف کھڑی دیکھتے ہوئے اونچی آ واز میں بولی ماموں رہنے دو یہاں کراچ والوں کے پاس جگہ ہے یہاں ہی سو جاتی ہوں بس اتنا کہنا تھا کہ میرے دل میں لڈو پھوٹے لگے۔۔۔۔ اس وقت تقریباً آ ٹھ بجے کا ٹائم ہو رہا تھا اس نے ایک عدد کمبل لیا اور میرے ساتھ آ
    کر کمبل اوڑھے ہوئے بولی کیوں نیند نہیں آ رہی
    میں منہ اس کی طرف کر کے اس وقت تو ہم ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہیں اور یہاں سب سو رہے ہیں
    سمہ۔۔۔ ارے یہاں یہ ہی ٹائم ہے سب سو جاتے ہیں اور سب سے زیادہ عشاء کی نماز کے بعد سو جائے ہیں ۔
    خیر پھر سمہ سے ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گی اور ہمارے درمیان اب مہمانوں والی شرمیلا پن ختم ہونے لگ گیا ۔۔۔
    تب ہی دروازے پر دستک ہوئی تو سمہ نے غصے بھرے لہجے میں پوچھا کون۔۔۔ اور ساتھ ساتھ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی "نہ دن میں سکون کرنے دیتے ہیں نہ رات کو " باہر سے جواب میں باجی میں انیلا۔۔"انیلا کا تعارف کراتا چلو انیلا چچی کی دوست کی بیٹی تھیں جس کو شادی کے دونوں میں گھر کے کاموں کے لے رکھا تھا جس عمر تقریباً اس وقت سولہ سترہ برس رہی ہو گی"۔

    سمہ نے دروازے کو کھولنے کے لیے اٹھی ہی تھی انیلا پھر سے بولی باجی میں اب گھر نہیں جا سکتی یہاں ہی سونے لگی ہو بس جگہ بتا دو جہاں بستر پڑے ہیں میں لے لیتی ہوں۔۔۔سمہ نے دروازے کھولا اور کمرے میں موجود بلب روشن کیا جس کے بعد میں نے انیلا کی شکل دیکھی جو کہ واجبی سی شکل تھی گندمی رنگ نقوش بہتر تھے نہ اچھے نہ برے فراک ٹائپ کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے جس پر ایک عدد شال بھی لپیٹی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھوں کو سردی کے مارے مسلسل مسلی جاری تھی ۔
    سمہ اس کے ہمراہ دوسرے کمروں کی جانب چل پڑی جہاں سے کچھ دیر میں ہی لوٹ آ ئ اور اپنا کمبل انیلا کو پکڑتے ہوئے
    اسے اسٹور روم جس کا راستہ اس ہی کمرے سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔" اس اسٹور روم میں اناج کے لے ایک عدد بڑا برتن جسے پنجابی زبان میں پڑولا کہتے ہیں رکھا ہوا تھا اور ایک عدد ڈھلی سی چارپائی تھی جس پر گھر کے بستر دن میں اکھٹا کر کے رکھتے ہیں"۔انیلا آ ج اس پر سو جا کل سے تیرا بھی سونے کا بندوست کر ہی دو گی۔
    جس پر انیلا جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے اسٹور روم میں چلی گی اور چارپائی کو جھاڑنا شروع کر دیا پھر ایک روئی کا گدا چارپائی پر ڈالا اور دھڑم سے بیٹھی کہ چارپائی آواز نکالنے بنا نہ رہ سکی جس پر سمہ مسکراتے ہوئے
    وے مجے آرام نال کتے منجی نہ پن دی
    اور بلب بند کر کے میری ہی رضائی میں گھس گی اور گھستے ہی مجھے سرکاتے ہوئے بولی کہ
    یار رضائی شیئر کر لو گے
    جس پر میرے منہ سے بس یہ ہی نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیسرا پارٹ

    آ پ میرے ساتھ کیسے اجیسٹ کرو گی کہیں کسی
    بڑےے نے دیکھ لیا تو۔۔۔ محترمہ فرمانے لگی کہ آج تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی دیکھ لے بس تم کسی سے ذکر نہیں کرنا ۔۔۔
    میں تو خود یہ ہی چاہتا تھا۔۔۔ خیر میں نے جی کہا۔۔۔ اور اپنے اوپر سے رضائی کو اتارنے لگا اور ایک سائیڈ سمہ کی طرف بڑھا دی جس پر سمہ نے فٹافٹ سہی طریقے سے اوڑنے لگی لیکن یکایک اسے یاد آ یا کہ دروازہ تو بند نہیں کیا جس پر سمہ دوبارہ سے اٹھی اور دروازہ بند کیا اور دروازے کو کنڈی لگائی ۔۔۔
    اور بڑبڑانے لگی شکر ہے یاد آ گیا نہیں تو بلی پھر گس جانی تھی۔۔۔ اور آ کے میرے ساتھ لیٹ گی۔۔۔ اور رضائی کو سیٹ کرتے کرتے سمہ میرے اتنے قریب آ گی کہ اس کے جسم کا لمس مجھے اپنے سیدھے پر محسوس ہونے لگا۔ پھر سمہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی روفی کسی کو بتانا نہیں کہ میں تمہارے ساتھ سوئی تھی نہیں تو ڈانٹ پڑ جائے گی ۔۔۔ اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ مجھے نہیں پتا کہ کون کہا سویا تھا۔۔۔۔جس پر میں نے بس یہ ہی کہا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ابھی میرے الفاظ میرے منہ ہی میں تھے کہ سمہ جھٹ سے پلٹی اور میری گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی روفی بہت سمجھدار ہو۔۔۔۔

    ۔ اور آپنا ہاتھ میری گال پر ہی رہنے دیا ۔۔۔۔ جس وجہ سے سمہ میرے بہت قریب آ گی تھی اتنی قریب کہ میں اس کے جسم کی حرارت محسوس کر سکتا تھا۔۔ اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے جس کے تھوڑی دیر بعد سمہ نے مجھے کروٹ بدلنے کے لیے بازو پکڑ کر کھینچا اور میں جھٹ سے اپنی کروٹ تبدیل کی اب میرا اور سمہ کا منہ آ منے سامنے آیا گیا اور مزید سمہ نے اپنا بازو اور ایک ٹانگ میرے اوپر رکھتے ہوئے بولی روفی مجھے تو ایسے نیند آ تی ہے اور ایک سرہانہ سر کے نیچے اور دوسرے سے جھپی لگا کر سوتی ہو جس پر سمہ نے مجھے کس کر دبوچ لیا
    اور سمہ کے ممے میرے سینے میں پیوست ہونے لگے۔ اور نیچے سے میرے لنڈ صاحب میں بھی حرکت مزید جاگ گی جب کہ اندرون خانہ دل اس بے دردی سے دھک دھک کر رہا تھا کہ شاید باہر نکل آ ئے جس کو سمہ نے بھی محسوس کر لیا اور کہنے لگی روفی تمہارا دل ہے یا پیٹر(پیٹر۔۔۔ ٹیوب ویل سے پانی نکالنے والے انجن کو کہتے ہیں(
    جس پر میں نے دبی آواز میں کہا کہ اگر کوئی آ گیا تو۔۔۔۔۔جس پر سمہ کہنے لگی کہ بس تم بےفکر رہو۔۔۔

    دروازہ اندر سے بند ہے سب بچے سو چکے ہیں۔۔ اور بڑے صرف ہم دونوں ہی ہیں۔۔۔۔۔اور اپنی ٹانگ کی مدد سے مجھے قریب کرتے ہوئے کہا کہ فکر ناٹ۔۔۔۔مجھے بھی اطمینان ہوا۔۔۔ اور میں سمہ کے قریب ہوگیا اور اپنے ایک بازو کو اپنے سر نیچے رکھا اور دوسرے کو اپنے سینے کے ساتھ۔۔۔۔ جو شاید سمہ کو پسند نہیں آیا اور میرا سر کے نیچے والے بازو کو پکڑ کر سیدھا کر کے اسے سرہانہ بناتے ہوئے آپنا سر رکھ دیا اور میرے دوسرے بازو کو پکڑ کر اپنے اوپر سے گذار کرکمر کی جانب کر دیا۔۔۔۔ اب ہمارا اسٹائیل ایسا تھا جیسے ہم دونوں گلے مل رہے ہوں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔
    ..آ پ سب فورم ریڈرز کیلئے ایک ادنٰی سی کوشش
    Last edited by falconn; 10-11-2019 at 10:27 PM. Reason: Font size+color

  10. The Following 2 Users Say Thank You to falconn For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-11-2019), Lovelymale (11-11-2019)

  11. #7
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    186
    Thanks Thanks Given 
    918
    Thanks Thanks Received 
    150
    Thanked in
    79 Posts
    Rep Power
    41

    Default

    Zabardast aghaaz hai janaab. Pehli qist achi lagi. Agar updates barwaqt ati rahi to boht maza aye ga.

  12. #8
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,208
    Thanks Thanks Given 
    311
    Thanks Thanks Received 
    363
    Thanked in
    121 Posts
    Rep Power
    1546

    Default

    Zaberdast Aghaz hai.

  13. #9
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    میں پوری کوشش کر رہا ہوں کے دوستوں کو وقت پر اپڈیٹ ملتا رہے کہانی کا دورانیہ 25دنوں کی شادی پر محیط ہے جس میں کزنز۔ پھپھو۔ چاچی محلے دار سب شامل ہیں۔۔۔
    امید کرتا ہوں کہ آپ دوستوں کو مزہ آ ئے گا

  14. #10
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    49
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    75
    Thanked in
    40 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    Update kab tak aye gi Ruffi bro.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •