اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 15

Thread: ٹریل سکس

  1. #1
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    5
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default ٹریل سکس

    تمام دوستوں کی خدمت میں آداب عرض!

    ویسے تو میں اس فورم کا بہت پرانا اور خاموش ممبر ہوں شائد دس سال سے بھی زیادہ ، مگر آج تک صرف دوسروں کی لکھی کہانیاں پڑھنے پر ہی اکتفا کیا ۔ ایک تو وقت کی کمی اور دوسرا خاموش طبع نے کبھی شوخی پر اکسایا ہی نہیں ۔۔
    آج کسی بہانے فرصت ملی تو سوچا لفظ آرائی میں قسمت آزمائی جائے ۔۔

    کہانی سے پہلے مختصر تعارف بیان کر دوں ۔۔ میری عمر 34 سال اور راولپنڈی کا رہائشی ہوں ۔۔ 5 فٹ11 انچ قد ، متناسب و مضبوط جسامت ، سرخ و سپید رنگت یعنی مجموعی طور پر خوش شکل کہہ سکتے ہیں ۔۔اتنا کہ دوستوں میں بیٹھے شخصیت باقیوں سے ہمیشہ اجلی ہی دکھائی دیتی ۔۔ بھرپور رومانوی طبیعت کا حامل اور سیکس کے معاملے میں انتہائی لطافت اور جمالیاتی حسن کا قائل ہوں ۔۔۔۔ایسا نہیں کہ جو ملی جہاں ملی ڈبکی لگا دی ۔۔ ہاں ایک بات اور کبھی شروعات میں پہل نہیں کی ۔۔

    اس سے پہلے کہ تعارف لمبا ہو جائے چلتے ہیں کہانی کی طرف ۔۔

    ان دنوں ملکی صورتحال کے باعث بزنس کی صورتحال انتہائی دگرگوں تھی جس کی وجہ سے ذہنی تناو دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ۔ اونرز اور ڈائریکٹرز روزانہ کی بنیاد پر پرفارمنس کا پوسٹ مارٹم کر رہے تھے جنرل منیجر نے الگ سے ناک میں دم کر رکھا تھا ۔ تمام تر تدابیر اور کوششوں کے باوجود بہتری کے آثار کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی ۔ ذہنی تناو سے چھٹکارہ پانے کی غرض سے مختلف پروگرام ذہن میں تشکیل پانے لگے مگر مسلہ یہ آڑے آ رہا تھا کہ انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے کم سے کم 2 سے 3 دن کی رخصت درکار تھی جو ان حالات میں ممکن نہیں تھی ۔ تبھی بیٹھے بٹھائے اچانک فیس بک سکرولنگ کرتے ہوئے ٹریل 3 یا 4 کے ایک ایڈ پر نظر پڑھی تو ہائیکنگ کا پروگرام بنا لیا ۔ ذہن نشین رہے کہ تقریبا 28 سال سے پنڈی میں رہنے کے باوجود کبھی کسی ٹریل کا وزٹ نہیں کیا تھا ۔ انٹرنیٹ پر مختلف ٹریلز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ٹریل 6 کا انتخاب کیا اور اگلے دن مکمل تیاری کیساتھ ٹریل سکس کے انٹری گیٹ کے سامنے تھا ۔۔ لش گرین ، خوبصورت موسم اور جاذب نظر ملبوسات میں ملبوس اولاد آدم سرشاری کا سامان کیئے ہوئے تھی ۔۔ خاص کر سکن ٹائیٹس میں فل فلوٹیاں ٹھنڈے ماحول کو خاصی گرماہٹ بخش رہی تھی ۔۔
    یہاں میں اپنی ایک کمزوری بتاتا چلوں کہ مجھے محض لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جب تک کہ وہ میرے "آئیڈیل" تصوراتی خاکے پر پورا نا اترتی ہو ۔۔ اس معاملے میں عمر کی بھی قید نہیں رکھی۔
    مخصوص خدوخال اور جسمانی ساخت ہی میری دلچسپی کا واحد امر ہو سکتا ہے ۔۔المختصر ایسے خدوخال کے اگر عورت سیدھی کھڑی ہو اور ماتھے سے پانی گرایا جائے تو پاوں کے انگوٹھے گیلے نا ہوں اور پشت سے گردن پر گرانے صورت ایڑھیاں گیلی نا ہوں ۔۔
    اچٹتی سی نظریں ارد گرد گھماتے ہوئے میں گارڈ سے ٹریک کی معلومات لے رہا تھا تبھی گارڈ نے چونک کر میرے کندھوں سے پیچھے دیکھتے ہوئے کسی سے کہا کہ ، بیگ چیک کروا دیں پلیز !
    نظروں کے تعاقب میں جو گھوم کر دیکھا تو آنکھیں خیرہ ہو گئیں ۔۔ الہڑ مٹیار دو جوانیاں قیامت ڈھاتی شوخی پر آمادہ کھڑی تھی ۔۔
    سکن ٹائیٹ کالا پاجامہ ، سفید شرٹس ۔۔ گورے رنگ پر ہلکا میک اپ ، گلابی ہونٹ اور رخساروں کی لالی بھرپور جوانی کی نوید سنا رہی تھیں ۔۔ایک نے اوور کوٹ لیا ہوا تھا جبکہ دوسری نے ٹائیٹ پاجامہ پر ٹائیٹ سفید شرٹ جس سے کالے بریزئیر کی جھلک واضح دکھائی دے رہی تھی اور خاص بات اس کے نسوانی حسن کا سائز جو میرے اندازے کے مطابق 40 یا 42 ہوا ہو گا ۔۔ اس کے سینے پر پہاڑ کی ماند ایستادہ میری نظروں کو
    مقناطیس بنائے ہوئے تھے۔۔

    لیں چیک کر لیں ۔ ہم نے کونسا اس میں بم چھپائے ہوئے ہیں ۔۔ اسی شوخ و چینچل مہ جبیں نے مسکراتے ہوئے شوخی سے بیگ آگے کرتے ہوئے کہا ۔۔
    اس کا جواب سن کر گارڈ کے ساتھ میں بھی ہنس دیا ۔۔۔ میرے ہنسنے پر اس نے چونک کر مجھے دیکھا ، میں نے مزید کوئی ردعمل دیئے بغیر انٹری گیٹ کی طرف رخ پھیر لیا مگر اس کے مست بھاری بھرکم "بم" میری کنپٹیاں سلگا رہے تھے ۔۔
    انہیں خیالوں سے لمس کشید کرتے ہوئے ٹریک پر رواں دواں تھا کہ عقب میں ایک مترنم سی آواز سنائی دی ۔۔
    یہ جا رہے ہیں وہی چلو انہیں کراس کریں ۔۔یہ غالبا اپر والی کی آواز تھی ۔۔ غیر ارادی طور پر پیچھے مڑنے ہی لگا تھا کہ رک گیا ۔۔۔۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ باقاعدہ اونچی آواز میں جملہ بطور خاص مجھے سنانے کے لیئے ہی بولا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔مردوں کے معاملے میں عورتوں کی یہ کمزوری کہہ لیں کہ اگر انہیں کسی معاملے میں دلچسپی پیدا ہو جائے مگر ریسپانس مثبت نا ملے تو عورت اسے چیلنج سمجھ کر زیر کرنے کی ضد پر اتر آتی ہے ۔۔ یہ ایک طرح سے نفسیاتی حربہ ہے عورت کو اشتعال دلانے کا ۔۔ یہی میں کرنے جا رہا تھا۔
    لہذا ان کی توقع کے برعکس ان کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے زیر لب مسکراتے ہوئے اپنے قدم غیر محسوس انداز میں تیز اور بڑے کر دیئے۔۔ چند ہی لمحوں میں فاصلہ بڑھنے کی وجہ سے آوازیں دور ہوتی محسوس ہونے لگی ۔۔تھوڑی دور جانے کے بعد ایک بار پھر اپنی رفتار قدرے کم کر دی مبادہ وہ تیز نا چل سکیں اور میری پلاننگ ہی فیل ہو جائے ۔۔۔
    عین توقع کے مطابق کچھ دیر بعد آوازیں قریب آتی محسوس ہونے لگی ۔۔ لیکن اس بار آوازوں کے ساتھ پھولی ہوئی سانسوں کی سوں سوں بھی واضع تھی۔۔۔۔ قدموں کی اور مختلف آوازوں سے اندازہ لگایا کہ میرے پیچھے وہی دونوں بھاگ رہی تھیں جبکہ پیچھے چار یا پانچ ڈشکرے ٹائپ لڑکے تھے ۔۔ جو ذومعنی جملے با آواز بلند بول رہے تھے ۔۔عین اسی لمحے کہیں سے بندر درختوں پر نمودار ہوئے اور آوازیں نکالنے لگے ۔۔۔۔ جن کی آوازیں سن کر لڑکیاں شائد خوفزدہ ہو کر رک گئی تھیں ۔۔ مجھے بھی رکنا مناسب لگا سو میں بھی رک گیا۔۔
    تبھی کسی لڑکے نے سیٹی اور چھچھ چھچھ کی آواز نکال کر بندروں کو بھگانے کی کوشش کی اور پھر لڑکیوں سے مخاطب ہو کر بولا ، کچھ نہیں کہیں گے آپکو مٹ ڈریں میں نے سمجھا دیا ہے انہیں، سانولی رنگت پر شوخ رنگ کی شرٹ ، نیچے جینز اور سفید جوگر ، کانوں میں بالی ۔۔لائٹ گرین کلر کا پیراشوٹ سے بنا کوٹ جو اکثر بائیکر حضرات دوران ڈرائیونگ پہنتے ہیں اس نے کمر سے باندھ رکھا تھا ۔۔ حلیئے سے ہی چنگڑوں کا سستا ہیرو لگ رہا تھا ۔۔ جبکہ باقی کے پانچ بھی اسی کے دم چھلے معلوم ہو رہے تھے ۔۔کسی نے بال ڈائی کروائے ہوئے تھے تو کوئی پان چاپ رہا تھا ۔۔ہاں سانولی رنگت سب میں مشترک تھی ۔۔
    لڑکے کی بات سنکر لڑکیوں کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے اور ایک نے منہ بسورتے ہوئے برجستہ جواب بھی دے ڈالا کہ ، شکریہ آپ نے بھائیوں کو سمجھا دیا ورنہ جوتے ہی کھاتے ۔۔ جسے سنکر دوسری لڑکی کیساتھ ساتھ باقی لڑکوں نے بھی قہقہے لگا دیئے ۔۔۔۔
    اپنے ہی یاروں کو لڑکی کی طرفداری میں قہقہے لگاتا دیکھ کر لڑکے بیچارے کا منہ منگلار ہو گیا اور بغیر کوئی بات کیئے ناک سکوڑتے ہوئے بڑے ایٹیچیوڈ سے آگے بڑھ گیا ۔۔ لڑکیاں بھی شائد ان سے جان چھڑانا چاہتی تھی لہذا انہوں نے بھی دانستہ سب کو راستہ دیا ۔۔ مجبورا لڑکوں کو آگے نکلنا پڑا ۔۔لڑکوں کے انداز سے مجھے ان کی اندرونی کیفیت کا بخوبی ادراک ہو رہا تھا جس
    ، سے میں بھرپور لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔ مزید گزرتے ہوئے جن کینہ پرور اور زہر خند نظروں سے مجھے دیکھ ہے تھے وہ میری مردانہ حس کو سرشار کر گیا۔۔۔

    جب لڑکے آگے چلے گئے تو میں نے مسکراتے ہوئے احترام سے انہیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔۔

    کیوں آپ تھک گئے ہیں کیا یا یہیں تک چلنا تھا؟ بڑے بموں والی نے شوخی سے پوچھا مگر وہ آگے نہیں بڑھی ۔۔
    نہیں ! نا ہی تھکا ہوں نا ہی یہاں تک آنا تھا۔ میں نے قدرے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔

    تو پھر آپ کو ڈر ہے کہ ہم کہیں آگے نا نکل جائیں اس لیئے خود ہی راستہ دے رہے ہیں ؟ اپر والی نے ہنستے ہوئے طنز کیا ۔۔

    اس کی بات پر ہم دونوں ہی ہنس پڑے ۔۔

    ایکچولی اس قدر خوبصورت ماحول میں ، میں صرف بندروں کو ہی نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے سادہ سے انداز میں جواب دیا ۔۔ بندروں سے مراد وہی سستے عاشق مزاج لڑکے تھے جو تھوڑی دور جانے کے بعد رک ہوئے تھے شائد اس آس پر کے لڑکیاں ان تک پہنچ جائیں ۔۔

    میری بات کی گہرائی کو دونوں ہی سمجھ گئی تبھی ۔۔ کھلکھلا کر ہنس پڑیں ۔۔ بلکہ ان ڈائریکٹ تعریف سنکر چہرے بھی گلنار ہو گئے ۔۔

    میں نے ایکبار پھر آگے گزرنے کا اشارہ کیا تو دونوں آگے بڑھ کر چلنے لگیں ۔۔

    واوووو! مجھے خوشگوار حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔ فرنٹ کا نظارہ تو تھا ہی دلفریب ۔۔ بیک تو غضب ڈھا رہی تھی ۔۔ تنگ پاجامے میں پھنسے ، انتہائی متناسب ساخت ۔۔اور بھربھرے ہپس دیکھ کر مجھے زیر ناف گدگدی سی ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔
    پتھریلے ٹریک پر چلتے ہوئے اس کے ہپس ایک خاص ردھم میں اپ ڈاون ہو رہے تھے جو میری سانسیں بھاری اور ہونٹ خشک کرنے کے لیئے کافی تھے ۔۔ان ہی نظاروں میں مست چلا جا رہا تھا کہ اچانک پتھر پر سے میرا پاوں سلپ ہو گیا اور میں بری طرح لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا۔۔۔
    کھڑکھڑاہٹ سنکر دونوں ایکدم میری طرف متوجہ ہوئی اور بھاگ کر واپس میرے پاس آ گئی ۔۔
    او ہو لگی تو نہیں ۔۔ بچ گئے ہیں نا ۔۔ دیکھ کر چلیں نا ۔۔بموں والی سرکار نے جس بیتابی سے پوچھا میں اندر سے چونک گیا۔۔ مگر کوئی تاثر نہیں دیا ۔۔

    دیکھ کر ہی تو چل رہا تھا ۔۔ میں نے معصومیت سے جواب دیا ۔۔ کیا دیکھ کر چل رہے تھے ۔۔ دوسری والی نے بڑے معنی خیز انداز میں مجھے دیکھتے ہوئے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔۔۔

    یہی خوبصورت ماحول ، خوبصورت نظارے ۔۔۔ میں نے بوتل سے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے بظاہر سادگی سے جواب دیا مگر کن اکھیوں سے انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

    میرا جواب سن کر اس نے بموں والی سرکار کی طرف دیکھا ۔۔۔ پھر دونوں کے مترنم قہقہے بیک وقت بلند ہوئے ۔۔

    اس میں ہنسنے والی کونسی بات ہوئی بھلا ۔۔ میں نے برا ماننے کا ناٹک کیا ۔۔اور قدم بڑھا دیئے۔

    ناراض تو ہمیں ہونا چاہیئے ، خود خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ہمارے لیئے باندرز ۔۔ اپر والی نے لڑکوں کی طرف نظریں گھماتے ہوئے ہنس کر کہا ۔۔وہ دونوں میرے بائیں طرف چل رہی تھیں ۔۔بموں والی سرکار درمیان میں تھی۔

    اس کا جواب سنکر میں بھی ہنس پڑا۔۔ چلیں آپ چاہتی کہ نا انصافی نا ہو تو پھر باندروں پر ہی گزارہ کرتے ہیں ۔۔ یوں ہی ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہم چلتے چلتے لڑکوں کے قریب ہو گئے ۔۔
    بات سنیں ! کوئی بھی ان کی کسی بات کا ریسپانس نا دے مکمل اگنور کر کے گزر جانا ہے ۔۔ اپر والی نے انتہائی نخوت بھرے انداز میں کہا ۔۔ہم ہنستے ہوئے گپ شپ کرتے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے گزر گئے ۔۔ حالانکہ لڑکوں نے مجھے بطور خاص کافی ذو معنی جملوں سے نوازا ۔۔ مگر ہم نے ایسے شو کیا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نا ہو ۔۔
    جب ہم گزر گئے تو کسی ایک نے انتہائی گھٹیا فقرہ کسا مجھ پر ۔۔ جسے سنکر تینوں کی طبیعت ہی مکدر ہو گئی مگر کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔۔ کچھ دیر کے لیئے خاموشی سی چھا گئی صرف ہماری سانسوں کی آوازیں ماحول میں سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی ۔۔

    کیوں چپ ہو گئے ؟ بموں والی سرکار نے خاموشی کو توڑا ۔
    کچھ نہیں ایسے ہی ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کے اور کوئی بات کرتے وہی لڑکے بھاگتے ہوئے آئے جنہیں دیکھ کر ہم سائیڈ پر ہو گئے اور اس بار وہ ہمیں نظر انداز کرنے کا ناٹک کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔۔ ان کا واضع مصنوعی پن محسوس کرتے ہی ہم تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر تینوں کے دانستہ بلند قہقہے جنگل میں گونج اٹھے ۔۔یقینا لڑکوں کی سماعتوں تک ضرور پہنچے ہونگے ۔۔ تصور ہی تصور میں انکی سرانڈ کا لطف لینے لگا ۔۔

    گپ شپ کرتے ہم پہلے ریسٹ پوائینٹ تک پہنچ گئے ۔۔میں لکڑی سے بنے بنچ پر بیٹھ کر ماحول انجوائے کرنے لگا جبکہ دونوں سیلفیاں لینے لگ گئی ۔۔۔۔

    میں ادھر بڑے پتھر پر جاتی ہوں تم ادھر سے ہو کر ایک پک لو ۔۔ بیک گراونڈ آنا چاہیئے سارا ۔۔
    بموں والی سرکار نے اپر والی کو موبائل تھماتے ہوئے گائیڈ کیا اور مڑ کر پتھر کی طرف چل پڑی ۔۔ میں بھی دلچسپی سے دیکھنے لگا کہ دیکھوں پتھر پر کیسے چڑھے گی ۔۔
    پتھر کے قریب پہنچ کر وہ ایکدم جھک کر تسمے ٹائیٹ کرنے لگی ۔۔ جھکنے کی وجہ سے اس کا پہلے سے تنگ پاجامہ مزید سٹریچ ہوگیا اور جسم کی سفیدی جھلکنے لگی ۔۔تبھی شائد اپر والی نے اس کی پکچر لے لی ۔۔ہلکی سے کلک کی آواز سنکر میں نے اس کی طرف دیکھا تو عین اسی وقت اس نے میری طرف دیکھا ۔۔ میری نظروں کو پڑھتے ہی اس کی کلکاری بلند ہوئی ۔۔ اسی وقت بموں والی سرکار نے سیدھے ہوتے ہوئے حیرانگی سے اسے ہنستے ہوئے دیکھا جیسے وجہ پوچھ رہی ہو ۔۔ اور پھر بال جھٹک کر جمپ کر کے چھوٹے پتھروں سے ہوتے ہوئے اوپر چڑھ گئی ۔۔
    پھر انہوں نے کیمرہ مجھے دیکر چند تصاویر بنوائیں ۔۔
    آپ کو سیلفی کا شوق نہیں کیا ؟ بم سرکار نے پوچھا ۔۔
    کچھ خاص نہیں ۔۔ مگر یہ جگہ اچھی ہے سیلفی کے لیئے ۔۔ اپنا موبائل نکال کر اسے دیا ۔۔ اس نے چند تصاویر لی پھر اپنی پسند سے چند بیک گراونڈ میں تصاویر لیں ۔۔

    نائیس اینڈ سمارٹ فون ۔۔ الٹ پلٹ کر فون دیکھ کر مجھے تھماتے ہوئے بولی ۔۔

    سمارٹ مطلب تھن / پتلا فون میری کمزوری ہے ۔۔۔ میں ہمیشہ پتلا اور سمارٹ فون رکھتا ہوں ۔۔ مگر صرف سیم سانگ
    ۔
    ان دونوں کے پاس بھی سیم سانگ ہی تھا مگر نفسیاتی طور پر ہمیشہ دوسروں کا فون زیادہ اچھا لگتا ہے ۔۔


    آگے چلیں یا واپس ؟ میں نے دونوں سے پوچھا کیونکہ تقریبا 4:30 ہو گئے تھے اور سوا 5 اندھیرا ہو جاتا ہے۔۔ جنگل میں ویسے بھی جلدی اندھیرا چھا جاتا ہے دوسرا جنگلی سوروں کا بھی خطرہ ہوتا ۔۔

    نہیں ہم نے ٹاپ تک جانا ہے ۔۔ آپ نے واپس جانا ہے تو کوئی بات نہیں ۔۔
    میں بھلا کیسے موقع گنواتا ۔۔۔۔
    تاکہ آپکو میرا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے ؟ میں نے سوالیہ انداز میں انہیں چھیڑتے ہوئے کہا ۔۔تو دونوں ہنس پڑی ۔۔
    ایکبار پھر آگے چل پڑے مگر اب رفتار تھوڑی آہستہ تھی ۔۔ دونوں لڑکیاں شائد تھک رہی تھی یا پھر چڑھائی کی وجہ سے ۔۔

    ایک بات پوچھوں ؟ بموں والی سرکار نے اچانک کہا تو میرا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔
    جی پوچھیں ۔۔میں نے سوالیہ انداز سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔

    آپ ہنسے کیوں تھے جب گارڈ نے بیگ چیک کروانے کا کہا تھا تو ؟
    اس کے انداز سے مجھے کوئی اندازہ نا ہو سکا کہ ۔شرارت سے پوچھ رہی ہے یا واقعی اسے سمجھ نہیں آیا ۔۔

    ایسے ہی ۔۔۔کوئی خاص بات نہیں تھی ۔۔۔گارڈ نے مجھ سے کوئی چیکنگ نہیں کی مگر آپ لڑکیوں کو چیکنگ کا بولا اس لیئے ہنسا ۔۔میں نے بات بنائی ۔۔

    خاص بات تو تھی اب آپ نا بتائیں تو الگ بات ۔۔ اپر والی نے شوخی سے تڑکا لگایا ۔۔

    کیا خاص بات ؟ بموں والی سرکار نے الجھے ہوئے انداز سے تیز لہجے میں پوچھا ۔۔
    اس کا انداز دیکھ کر اپر والی زور سے ہنسی۔۔۔ ہائے عفی (فرضی نام) تیری معصومیت ۔۔
    مزے کی بات اب تک ہم نے ایک دوسرے کا نام نہیں پوچھا تھا ۔۔۔مگر کیا کام کرتا ہوں کہاں کام کرتا ہوں ۔۔سمیت کافی معلومات کا تبادلہ ہم کر چکے تھے ۔۔وہ دونوں یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس تھی اور ہاسٹل میں رہتی تھیں ۔۔

    بتاو نا روزی (فرضی نام) کی بچی ۔۔عفی نے چڑتے ہوئے پوچھا ۔۔آپ بتائیں کیا خاص بات تھی ابھی اور یہی ۔۔۔بس ۔۔ روزی کو ہنستا دیکھ کر عفی ایکدم میری طرف گھوم گئی اور سنجیدہ ہو گئی۔
    اس کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہی میں بھی رک گیا ۔۔

    وہ گارڈ اصل میں بیوقوف تھا جو بم بیگ میں ڈھونڈ رہا تھا ۔۔میں نے عفی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو روزی کا مترنم قہقہ دور تک بکھر گیا ۔۔
    پہلے تو عفی ہونق بنی کبھی مجھے اور کبھی روزی کو تکتی رہی ۔۔ پھر ایکدم چھینپ گئی ۔۔
    آپ بہت بد تمیز ہیں ۔۔۔ روزی نے مصنوعی غصہ دکھایا ۔۔۔
    اسے بد تمیزی نہیں قدر دانی کہتے ہیں۔۔ میں نے آنکھیں چوڑی کر کے تیر داغا ۔۔
    بالکل بالکل ۔۔۔۔ روزی کی ہنسی بھی تیز ہو گئی ۔۔
    اندھیرا ہو رہا ہے اور واپسی مشکل ہو جائے گی لہذا پھر سے سوچ لیں ۔۔ میں نے موضوع بدلنا چاہا
    اگر آپ کو ڈر لگتا ہے اندھیرے سے یا پھر ڈر ہے کہیں بم نا پھٹ جائیں تو آپ واپس چلے جائیں ۔۔ روزی نے پہلے مجھے پھر عفی کو دیکھ کر چٹخارہ لیتے ہوئے کہا ۔۔تو میں بھی ہنس پڑا ۔۔
    آپ ایسا کریں دونوں ہی واپس چلے جائیں میں ٹاپ تک جاوں گی ۔۔ عفی نے روزی کی بات پر ردعمل دینے بجائے خفگی کا اظہار کیا اور آگے کو چل دی ۔۔
    میں نے روزی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ہم بھی پیچھے پیچھے چل پڑے ۔۔
    کافی دیر ہم خاموشی سے چلتے رہے ۔ بس ہماری سانسوں کی آواز تھی یا پھر قدموں کی چاپ اور پتھروں کی کھڑکھڑاہٹ ۔۔ اب لوگوں کی واپسی بڑھ رہی تھی اور ہر دوسرا تیسرا فرد ہمیں مزید آگے جانے سے رکنے کا مشورہ دیتا ۔۔
    جب ہم کافی دیر خاموشی سے چل چکے تو عفی چلتے چلتے رک گئی اور پیچھے مڑ کر دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر قدرے جھلاہٹ سے بولی ۔۔۔
    اب کیا تکلیف ہوئی تمھیں ۔۔۔عفی کا رخ روزی کی طرف تھا ۔۔
    اب کیا ہو گیا ۔۔۔ اب تو میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔روزی نے حیران ہوتے ہوئے ہاتھ گھمائے ۔۔

    لگتا ہے کسی قبرستان میں آ گئے ہیں بول کیوں نہیں رہے ۔۔۔ ؟ عفی نے ہم دونوں کو گھورا ۔
    ہمارا بولنا آپکو اچھا نہیں لگتا اس لیئے خاموش رہنا بہتر ۔۔ میں نے دکھی سا لہجہ بنایا ۔۔۔
    ایک ہی بہت تھی بلیک میلر ۔۔ اب آپ بھی اس کیساتھ شامل ہو گئے ۔۔۔ عفی نے مجھے پچکارا ۔۔
    ابھی ہم گفت و شنید میں مشغول ہی تھے کہ ایک انکل اور آنٹی واپس آئے ، ہمیں دیکھ کر آنٹی رک گئی اور دونوں لڑکیوں کو واپس جانے کا کہا ۔۔ ان کا لہجہ عجیب طرح کا حکمیہ سا تھا ۔۔ جیسے گھر کا کوئی بڑا کسی چھوٹے کو نقصان کے اندیشے سے کسی کام سے روکے ۔۔۔۔لیکن اس میں اپنائیت کا گہرا رنگ اور احساس کی خوشبو نمایاں تھی ۔۔
    جی آنٹی ۔۔ عفی نے حامی بھرنے والے انداز میں جواب دیا ۔۔
    مگر بجائے واپس ہونے کے جب اس نے مزید آگے قدم بڑھائے تو روزی نے سنجیدگی سے عفی کو مخاطب کہا ۔۔
    دیکھو ہر کوئی آگے جانے سے روک رہا ہے تو ضرور کوئی وجہ ہو گی آپ خوامخواہ کیوں ضد کر رہی ہو ؟
    عفی نے مڑ کر روزی کو دیکھا پھر آسمان کی طرف دیکھ کر مجھ سے مخاطب ہوئی آپ کیا کہتے ۔۔
    میرے خیال سے واپسی بہتر ہے ۔۔ رات کو جنگلی سوروں اور دوسرے جانوروں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔۔ میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا ۔

    جنگلی سوروں کا سن کر عفی کے چہرے پر بھی سوچ کے تاثرات نمایاں ہو گئے ۔۔

    ہمممممم ! ٹھیک کہہ رہے ہیں چلیں پھر واپس ہی چلتے ہیں ۔۔
    یونہی نوک جوک کرتے ہم واپس ہو گئے ۔۔ تھوڑا آگے چلنے کے بعد روزی چھوٹی انگلی کا اشارہ کر کے ہنستی ہوئی اوجھل سی جگہ چلی گئی ۔۔ اس کی واپسی تقریبا 5 منٹ بعد ہوئی ۔۔
    اب اندھیرا ایکدم تیزی سے گہرا ہونے لگ گیا ۔۔ ہمارے قدم بھی تیز ہو گئے ۔۔۔ اگلے پانچ سات منٹ میں تینوں نے موبائل کی ٹارچز آن کر لی ۔۔ عفی اس ٹریک پر پہلے بھی کئی بار آ چکی تھی جبکہ روزی کا اور میرا پہلا تجربہ تھا ۔۔ سو عفی ہمیں پچھلے وزٹس کے قصے سنا رہی تھی کہ اچانک اس کی چیخ بلند ہوئی ۔۔ اسے شائد سائیڈ پر کسی جانور کی حرکت کا احساس ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ ایکدم گھبرا گئی ۔۔ اور ان بیلینس ہو کر لڑکھڑا کر گرگئی ۔۔۔ روزی نے فورا اسے سنبھالا اور کھڑا ہونے میں مدد دی مگر جیسے ہی اس نے چلنے کی کوشش کی آوچ کرتے ہوئے پھر بیٹھ گئ ۔۔
    کیا ہوا ؟ میں نے فکر مندی سے پوچھا
    پاوں میں موچ آ گئی ہے عفی کی روہانسی آواز سنائی دی ۔۔ اففف شدید درد ہو رہا ۔۔

    روزی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ گم چپ سی ہو گئی ۔۔ میں نے روزی کو لائٹ لگانے کا کہا اور عفی کا پاوں چیک کرنے لگا ۔۔۔ وہ ایک فلیٹ پتھر پر بیٹھ گئی تھی ۔۔ جبکہ میں اترائی والی طرف تھا ۔۔ شوز اتار کر جراب اتارنے لگا تو عفی نے خود ہی آدھے پاوں تک جراب اتار دی ۔۔
    اس کی سکن اندھیرے میں دودھ کی طرح سفید اور چمک رہی تھی ۔۔ اس قدر خوبصورت اور سافٹ پاوں بہت کم دیکھے تھے میں نے ۔۔۔ مگر اس وقت مستفید ہونے کا موقع نہیں تھا ۔۔
    اس کے ٹخنے پر ہلکی سوزش کے آثار تھے ۔۔۔ میں آہستگی سے اس کے ٹخنے کو ہاتھ میں بھر کر دبایا تو عفی کی کراہ نکل گئی ۔۔

    کچھ نہیں ہوا ۔ بچت ہو گئی ہے ۔۔ میرے خیال سے بس معمولی سا وزن پڑ گیا ہے ابھی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ میں نے عفی کو حوصلہ دینے کی کوشش کی ۔۔ اور واقعی تھا بھی ایسا ہی ۔۔۔

    پلیز کچھ غلط ٹریٹ نہیں کرنا ۔۔ عفی نے پریشان ہو کر کہا ۔۔
    بے فکر رہیں ۔۔ بس معمولی سا برداشت کرنا پڑے گا ۔۔ میں نے ہلکی سے مسکراہٹ کیساتھ اسے یقین دلانے کی کوشش کی ۔۔
    پلیز احتیاط سے ۔۔۔ روزی بھی فکر مندی سے بول پڑی ۔۔

    ڈونٹ وری ! ۔۔۔۔ کہہ کر میں نے ایک ہاتھ سے عفی کی پنڈلی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اس کا پاوں آہستہ سے گھمایا ۔۔۔
    اوئی!۔۔۔ایکبار تو عفی کے منہ سے کراہ نکلی مگر پھر ریلیکس ہو گئی ۔۔ آہستہ آہستہ میں گھماو کو تیز کرتا گیا ۔۔ کبھی کلاک وائز تو کبھی اینٹی کلاک وائز ۔۔۔ گھماتے گھماتے اچانک میں نے پاوں کو پہلے باہر کی طرف اور پھر نیچے کی طرف زور سے جھٹکا کرایا ۔۔ اچانک ایسا کرنے سے عفی زور سے اچھلی اور اس کے منہ سے ہلکی سے چیخ نکلی گئی ۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر سر گھٹنوں میں دے دیا ۔۔
    روزی نے سوالیہ انداز میں پریشانی سے میری طرف دیکھا ۔۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے حوصلہ کرنے کو کہا ۔۔کچھ دیر ایسے ہی گزر گئی ۔۔ آخر عفی نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔
    میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔۔۔ نہیں بہت درد ہوا ۔۔ اس نے پاوں ہنوز ایک ہی جگہ رکھا ہوا تھا ۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ مزید آگے بڑھایا ۔۔
    اب نہیں ہو گا درد آپ کھڑی ہو جاو ۔۔ اس نے بے یقینی سے مجھے دیکھا مگر ہاتھ کا سہارا لیکر کھڑی ہو گئی ۔۔ اسے چلنے کو کہا ۔۔پہلے تو ڈرتی رہی مگر آہستہ آہستہ پاوں پر وزن ڈالا تو اس کے چہرے پر اطمینان کے تاثرات ابھر آئے ۔۔
    اب درد نہہں ہو رہا ۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
    تھینک یو ! ۔۔۔۔۔ آپ تو ڈاکٹر بھی ہیں ۔۔ دوبارہ بیٹھ کر شوز پہنتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا ۔۔

    بالکل بوقت ضرورت یہ دھندہ بھی کر سکتا ہوں ۔۔ میں نے بھی ہنس کر کہا اور ساتھ ہی پاکٹ ٹشو سے ایک ٹشو نکال کر اسے دیا ۔۔

    تسمے باندھ کر اس نے ٹشو لیکر آنکھیں صاف کی اور پھر جن نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر روزی نے ہنکارہ بھرا ۔۔۔۔
    بس بس ۔۔ اب یہاں کوئی سونگ نی شروع کر دینا ۔۔
    روزی کی بات سنکر ہم دونوں ہی ہنس پڑے ۔۔
    تھینک یو (مائی نیم راجہ)۔۔۔۔! یو آر سو کئیرنگ ۔۔۔۔۔عفی کا لہجہ اپنائیت سے بھرپور تھا ۔۔

    اٹس اوکے ۔۔۔۔ شکریے کی کوئی بات نہیں ۔۔شرمندہ مت کریں۔۔ میں نے بھی فارملی جواب دیا ۔۔ اور ہم دوبارہ چل پڑے ۔۔ مگر کچھ دور چلنے کے بعد عفی کو پھر سے ہلکا ہلکا درد فیل ہونے لگا ۔۔ پورا وزن ڈالتے ہوئے تکلیف کا احساس ہوتا تھا ۔۔ میں نے روزی سے کہا کہ عفی کو سہارا دے کر چلاو مگر وہ خود اندھیرے میں مشکل سے چل رہی تھی ۔۔ عفی نے خود ہی منع کر دیا کہ یہ خود بھی گرے گی اور میرا بھی کباڑا کرے گی ۔۔

    اگر مناسب سمجھیں تو پھر میں حاضر ہوں ۔۔ میں نے معصومیت سے کہا ۔۔
    میرا انداز دیکھ کر روزی نے ہلکی سی سیٹی بجائی ۔۔تو عفی نے اسے گھورتے ہوئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا ۔۔ مزید تھوڑا چلنے کے بعد عفی لڑکھڑا کر چلنے لگی ۔۔ تو میں نے کہا آپ ایک بازو میرے کندھے پر کر لیں ۔۔ اس طرح پاوں پر وزن کم پڑے گا ۔۔۔ عفی نے میری آنکھوں دیکھا ۔۔ شائد جانچنا چاہتی ہو کہ میں مفت کی شراب حلال کرنے کے چکر میں ہوں یا واقعی مدد کرنا چا رہا ہوں ۔۔۔ لیکن میں دانستہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ پھر اس نے اپنا بائیں بازو میرے کندھے پر کر لیا ۔۔ اس کی ہائیٹ تھوڑی کم تھی لہذا مجھے تھوڑا جھکنا پڑا جبکہ میرا دایاں بازوں اس کے بائیں بازو کے نیچے سے ہو کر کمر سے ہوتے ہوئے دائیں بغل تک چلا گیا ۔۔۔میرا دایاں ہاتھ اس کی دائیں بغل کے نیچے مضبوطی سے جما ہوا تھا ۔۔۔
    اگرچہ عفی کو اب چلنے میں تکلیف کا احساس نہیں ہو رہا تھا مگر میں ایک مشکل امتحان میں گر چکا تھا ۔۔۔ سہارا لیکر چلتے ہوئے عفی جب بائیں پاوں پر ہلکا وزن ڈال کر ایکدم جمپ لیکر دائیں پاوں پر ہوتی تو اس کے ہیوی بوبز باونس کرتے ۔۔ جنہیں دیکھ کر میرے جذبات شدت سے انگڑائیاں لے رہے تھے ۔۔اوپر سے عفی کے جسم کی مہک اور لمس مجھے جھنجھوڑ رہے تھے ۔۔ مگر میں اس سمے ایسی کوئی بھی حرکت سرزد ہونے سے خود کو سختی سے روک رہا تھا ۔۔ جس سے عفی کو یہ تاثر ملتا کہ موقع ملتے ہی بلی تھیلی سے باہر آ گئی ۔۔۔۔
    مکمل دیانتداری کیساتھ عفی کو واپس پارکنگ تک پہنچایا ۔۔ ان کے پاس گاڑی نہیں تھی ۔۔ سو اپنی گاڑی پر انہیں ان کی مطلوبہ جگہ پہنچایا ۔۔۔کیونکہ عفی نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔انہیں آفر دی کہ چیک اپ کے بعد انہیں ڈراپ کر دوں گا ۔۔ مگر دونوں نے شکریہ کہہ کر مزید کوئی سروس لینے سے انکار کر دیا ۔۔۔
    عفی فرنٹ پر تھی جبکہ روزی بیک سیٹ پر ہیڈ فون لگائے میوزک انجوائے کرتی رہی ۔۔
    اترنے سے پہلے عفی نے میرے بائیں ہاتھ جو گئیر پر تھا کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں وارفتگی کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے ۔۔۔
    یو آر سو سوئیٹ راجہ ۔۔ آئی ایم رئیلی ایمپریسڈ ۔۔۔اینڈ رئیلی تھینکفل فار یور کاینڈنس اینڈ بینگ کنسرنڈ ۔۔

    مجھے یقین تھا اگر اس وقت میں آگے بڑھ کر اس کے لبوں کو چوم لیتا تو بھرپور ریسپانس ملتا مگر میں نے مسکراتے ہوئے محض مائی پلائیئر اینڈ ٹیک گڈ کئیر آف یور سویٹ سیلف کہنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔ تبھی روزی نے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر میرے دونوں گالوں پر چٹکی لیٹے ہوئے میرے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی ۔۔۔سی یو نیکسٹ سنڈے ۔۔ سیم ٹائم ۔۔ ٹیک کئیر ۔۔

    میں نے سوالیہ نظروں سے عفی کو دیکھا تو اس نے زور سے سر کو ورٹیکلی جنبش دی اور مسکراتے ہوئے دونوں اتر گئی ۔۔

    آج کے ایڈونچر کے لطف سے سرشار واپسی گھر کی راہ لی ۔۔گھر پہنچ کر غسل کر کے ڈنر کے بعد موبائل پر آوارہ گردی کر رہا تھا تب ہی واٹس ایپ پر ایک میسج ملا ۔۔

    بہت بے مروت ہو آپ ��

    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنی آراء سے ضرور آگاہ کیجیئے گا کہ ڈائریکٹ چدن چدائی کے برعکس مکمل سیاق و سباق کیساتھ طرز تحریر آپکو کیسا لگا ۔۔ ایک بات اور مصنوعی رنگبازی کے بجائے حقیقت کو حقیقت میں لکھنے کا فیصلہ درست تھا یا پھر اسے بدلا جائے ۔۔

    از قلم: اداس منا
    Last edited by Story Maker; 12-11-2019 at 11:02 AM.

  2. The Following 5 Users Say Thank You to اداس منا For This Useful Post:

    abkhan_70 (08-11-2019), aloneboy86 (09-11-2019), irfan1397 (09-11-2019), Jokar (08-11-2019), omar69in (09-11-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    5
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default ٹریل سکس


    ۔۔۔۔
    انجان نمبر سے میسج دیکھ کر حیرانگی سی ہوئی شائد کسی نے غلطی سے بھیج دیا ہو گا ۔۔
    لیکن پھر بھی تجسس کے مارے پوچھ لیا کہ کون ہیں آپ اور کیا بے مروتی کر ڈالی میں نے ؟
    آپ نے میرے پاوں کا حال ہی نہیں پوچھا ۔۔ واقعی میں بے مروت ہیں ��

    میسج پڑھ کر مجھے 220 واٹ کا جیسے کرنٹ لگا۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ توقع نہیں تھی کہ عفی مجھ سے رابطہ کرے گی ۔۔ میں تو دن گیا بات گئی کے مصداق اسے گزرے ہوئے کل کا قصہ سمجھ کر ذہن سے محو کر چکا تھا۔۔

    عفی آپ ۔۔ ساتھ میں حیرانگی والا ایموجی چسپاں کر دیا ۔۔
    آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا ؟
    پے در پے سوالات پوچھتا گیا ۔۔ میرا ذہن حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا کہ آخر نمبر کیسے ملا ۔۔

    میری اس بے چینی اور تجسس کو عفی نے خوب مزے لے لے کر انجوائے کیا ۔۔ جب اچھی طرح زچ ہو گیا تو پھر بتایا کہ اس نے سینٹر کنسول میں پڑے میرے وزٹنگ کارڈز میں سے ایک کارڈ اٹھا لیا تھا ۔

    آپ اتنا کیوں کرید رہے ہیں کیا میرا میسج کرنا اچھا نہیں لگا ؟
    عفی نے جذباتی چوٹ کی ۔۔

    ارے نہیں ۔۔ میں تو خوشی سے ساتویں آسمان پر اڑ رہا ہوں ۔۔۔ بس ٹوٹلی ان ایکسپیکٹڈ تھا نا اس لیئے ۔۔

    اچھا بتاو آپ کا پاوں کیسا ہے ۔۔ ؟ لاڈ والے ایموجی کیساتھ تیمارداری کی رسم نبھائی۔۔

    ویسے تو ٹھیک ہے مگر جہاں جہاں آپ نے دبایا وہاں سے دکھ رہا ۔۔ روندو ایموجی کیساتھ جواب ملا ۔۔

    تو ڈاکٹر سے میڈیسن لے لیتی نا اس کی بھی ۔۔ میں نے بھی زبان نکالے ہوئے ایموجی کیساتھ جوابی وار کیا ۔۔

    آپ بھی ہیں نا ڈاکٹر آپ دے دیں نا ۔۔ آنکھوں میں دل والا ایموجی ساتھ آیا ۔۔
    یوں ہی نوک جھونک میں رات کے تین بج گئے اور پتا ہی نہیں چلا ۔۔صبح آفس بھی جانا تھا ۔۔لہذا گڈنائیٹ کہنے میں ہی عافیت جانی ۔۔
    صبح لیٹ آنکھ کھلی بھاگم بھاگ آفس ۔۔سارا دن مصروفیات ، میٹنگز ۔۔ رات کو جب دیکھا تو عفی کے بہت سارے میسجز تھے ۔۔ پکچر شاعری ۔۔۔رومانٹک سونگز ۔۔۔۔ کیساتھ ساتھ کچھ تصاویر بھی سینڈ کی ہوئی تھی اس نے اپنی ۔۔ اور میری بھی ۔۔ میری تصاویر انہوں نے پیچھے سے لی ہوئی تھی وہ بھی اس وقت کی جب ہماری کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔بعد میں جب عفی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ روزی نے لی تھی ۔۔ بقول روزی میں بہت تیز اور گہرا انسان تھا ۔۔ اور روزی نے بم والی بات کے بعد سے ہی عفی سے کہہ دیا تھا کہ اس بندے سے فرینڈشپ کرنی ہے ۔۔
    خیر اس دن عفی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جلدی ہی گڈ بائے ہو گئی ۔۔
    اگلے چند دن معمولی گپ شپ ہوتی رہی ۔۔ غالبا جمعرات کی صبح ، ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ عفی کی کال آ گئی ۔۔
    ہیلو ۔۔ گڈ مارننگ ۔۔کیسی ہیں ۔۔ خیریت صبح صبح کیسے یاد آ گئی ۔۔ میں نے چہکتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
    جی جی خیریت ۔۔ بس سوچا آپ سے کچھ گلے شکوے کر لوں ۔۔عفی کی خمار آلود آواز نے گویا تار چھیڑ ڈالے ۔
    گلے شکوے ؟ میں نے کچھ نا سمجھنے والے انداز سے پوچھا ۔۔
    ہاں نا ۔۔ ساری رات خوابوں میں تنگ کرتے رہے ہیں ۔۔ عفی کی لگاوٹ بھری آواز نے میرے کان کھڑے کر دیئے ۔۔

    کہاں کہاں تنگ کیا ۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے سرگوشی میں پوچھ لیا ۔۔

    مجھے لگا جیسے عفی نے ہلکی سے سسکی بھری ہو ۔۔
    یہ پوچھیں کہاں کہاں تنگ نہیں کیا ۔۔ عفی نے بھی سرگوشی میں جواب دیا ۔۔ لیکن اس کی آواز میں خمار اور مستی نے میرے تصور کے کینوس پر ماحول بنانا شروع کر دیا ۔۔

    اچھا واقعی آپ تنگ ہو گئی ؟ میری آواز میں جذبات کا بھاری پن نمایاں تھا ۔۔۔

    ہاں نا بہت ۔۔ جب آنکھ کھلی اور پتا چلا کہ یہ تو خواب تھا ۔۔ خوابناک سی آواز میں جذبات ٹوٹنے کا کرب واضع تھا ۔۔۔
    میں دروان ڈرائیونگ مزید کسی رو میں بہکنا نہیں چاہتا تھا ۔۔ سو میں نے روزی کا پوچھ لیا ۔۔اور توقع کے مطابق عین جذباتی ہیجان کے دوران روزی کا نام سنکر عفی کے لہجے میں کھنک اور سرد مہری سی آ گئی ۔۔
    پھر اس کے پاوں کا حال چال اور یونیورسٹی کے متعلق باتیں کرتے اسے دوبارہ معمول پر لایا ۔۔ تب تک میرا آفس آ گیا ۔۔۔
    سنو عفی ! میں نے سرگوشی کی
    جی راج بولیں ۔۔ عفی نے بھی سرگوشی کی ۔۔
    کین یو فیل مائی لپس نیئر یور ائیرز ؟

    او یسسس راج ۔۔ آئی رئیلی فیلنگ یو نئیر می ۔۔ عفی کی جذبات میں ڈوبی سرگوشی نے میرے بدن میں سرسراہٹ سی دوڑا دی ۔۔

    اور میری گرم سانسیں ، گردن پر ؟ میں ایک قدم آگے بڑھا ۔۔
    ہمممممممممم ۔۔۔۔ سو وارم ۔۔۔۔ لمبے ہمم کے بعد عفی بمشکل اتنا ہی کہہ سکی ۔۔ میری تصوراتی حس مجھے دکھا رہی تھی جیسے عفی آنکھیں بند کیئے تصور کو مجسم میں لانے کی جستجو میں ہو ۔۔۔

    میں آپکو سارا دن بہت مس کروں گا ۔۔۔۔ میں نے سارے جذبات کو ایک جملے میں سمونے کی کوشش کی ۔۔۔
    صرف مجھے یا ۔۔۔۔؟
    عفی کا ذہن شائد پھر روزی کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔
    صرف آپکو ۔۔۔ پکا۔۔۔۔
    مزید کچھ دیر بات کر کے شام کو بات کرنے کا وعدہ لیکر کال اینڈ کر دی ۔۔

    شام کو آفس سے دوستوں کی طرف جانا پڑ گیا لیٹ گھر پہنچا ۔۔ جیسے ہی واش روم گیا عفی کی کال آ گئی ۔۔ کال ریجیکٹ کر کے میسج کیا کہ ابھی اٹینڈ نہیں کر سکتا میسج پلیز ۔۔
    آپکو بتاوں کہ میری عادت ہے میں واش روم جاتے ہوئے موبائل ساتھ لے کر جاتا ہوں کیونکہ کافی وقت اکیلا بیٹھ کر بندہ کیا کرے ۔۔ جبکہ مجھے کافی وقت بیٹھنے کی عادت ہے ۔۔

    کال ریجیکٹ ہونے کی وجہ سے عفی کانشیئس ہو گئی ۔۔ پھر اسے بتایا کہ کموڈ پر تشریف فرما ہوں ۔۔ تو خوب ہنسی کہ اسے بھی یہی بیماری ہے ۔۔ یعنی موبائل ساتھ لیکر جانے والی ۔۔
    اچانک ہی عفی نے فرمائیش کر ڈالی کی اپنی تصویر بھیجوں ابھی ۔۔
    واٹ ؟ کیا کہا ابھی ۔۔۔ آپ مذاق کر رہی ہو کیا ۔۔ میں نے حیرت سے اچھلتے ہوئے پوچھا ۔۔

    یسسس ۔۔ ابھی کی ہی کہہ رہی ۔۔ واٹ آئی سیڈ ، آئی مین اٹ ۔۔

    کچھ شش و پنج کے بعد چہرہ بچا کر اور ٹانگیں جوڑ کر ایک تصویر سینڈ کی۔۔
    اس وقت میں صرف وائٹ بنیان میں تھا ۔۔ اور جیسا کی بتایا تھا۔۔ کسرتی جسم ہے میرا تو تصویر بہت لش آئی ۔۔ عفی نے تصویر کے رپلائی میں دل والا اور زبان باہر نکلا ہوا والا ایموجہ سینڈ کیا ۔۔ پھر میں نے تصویر ڈیلیٹ فار ایوری ون کر دی ۔۔ اور موبائل سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔ اس کے بعد شاور لیا اور ڈنر کر کے دوبارہ آن لائن ہوا تو عفی کا کوئی میسج نہیں تھا ۔۔۔۔۔میں نے سوالیہ نشان سینڈ کیا ۔۔
    جی آپ کے ایزی ہونے کا ہی ویٹ کر رہی تھی ۔ عفی کا ہنستا ہوا میسج آیا ۔۔

    جی میں اب ایزی ہوں ۔۔ بلکہ میں ساری رات ہی ایزی ہوتا ہوں ۔۔

    کیا مطلب ساری رات ایزی ہونے کا ؟
    مطلب اب کیا بتاوں ۔۔۔ آپ بتائیں کیا ہو رہا ۔۔
    نہیں آپ بتائیں پہلے ۔۔ عفی ضد پر اتر آئی ۔۔
    ارے بابا مطلب یہ کہ جس ڈریس میں دیکھا ۔۔ بس ایک شارٹس لے لیتا ہوں ۔۔ اس طرح میں ایزی ہوتا ہوں ۔۔۔۔

    می ٹو ۔۔ عفی کا شرمیلے ایموجی والا میسج دیکھ کر رگ نازک فورا پھڑکی ۔۔

    اچھا ۔۔ لیکن مجھے کیا پتا ۔۔ میں نے ٹیز کیا ۔۔
    فورا عفی کی بلیک نائٹی میں تصویر آ گئی جس میں چہرہ بھی کلئیر تھا ۔۔
    اففف ۔۔ دودھیا سفید مرمریں بدن پر کالی نائٹی ۔۔ اور ہیوی بوبز کی گہری لائن دعوت نظارہ دے رہی تھی ۔۔۔۔

    آپ کا ارادہ ہے کہ میں ان ایزی ہو جاوں ؟ میں نے شوخی دکھائی
    آپ ان ایزی ہونے والوں میں سے نہیں ۔۔ آئی نو ۔۔ ساتھ میں وہی زبان درازی والا ایموجی ۔۔

    اچھا وہ کیسے بھلا ؟ میں نے حیرانگی دکھائی ۔۔
    آپ اتنے بھولے مت بنیں اب ۔۔ عفی نے غصہ دکھایا ۔۔ ظاہر ہے مصنوعی تھا ۔۔

    نہیں نا سچی آپ بتائیں ۔۔میں نے معصومیت سے ضد کی ۔۔

    جب آپ نے میرے پاوں کو چھوا تھا اور جس طرح آپ نے سہلایا تھا ۔۔اففففف ۔۔۔۔
    پھر جب آپ نے مجھے سہارا دیا ۔۔آپکا بازو میری کمر سے ہوتے ہوئے ہاتھ بغل کے نیچے ۔۔بہت ٹیزنگ تھا ۔۔۔۔مگر آپ ایزی ہی رہے۔۔۔

    ویسے مجھے گوارا نہیں کہ مجھے کوئی چھوئے بھی اور وہ بھی کوئی اجنبی ۔۔ مگر پتا نی کیوں آپ سے اجنبیت فیل نہیں ہوئی ۔۔ عفی نے گویا حال دل سنایا ۔۔

    اچھا ؟ ویسے آپکے خیال میں ایسا کیوں ۔۔۔ حالانکہ میں نے انٹینشلی نہیں چھوا تھا ۔۔۔

    بس یہی آپ کی ان انٹینشلی ادا ہی مار گئی ۔۔ عفی نے ہنسی کیساتھ دل والے مکس ایموجی سینڈ کیئے ۔۔

    جواب میں ، میں نے بھی ہارٹس بھیجے ۔۔

    یو نو ؟ فیمیلز کو آئیڈیا ہو جاتا ہے کہ کون کس نظر اور کس نیت سے دیکھ رہا ۔۔عفی نے اپنی طرف سے گویا راز سے پردہ اٹھایا ۔۔

    اچھا وہ کیسے ؟ میں جان بوجھ کر انجان بن گیا ۔۔
    بس سینس ہو جاتا ۔۔ بٹ آئی کین ناٹ ایکسپلین نا ۔۔عفی نے روہانسی والا ایمو ساتھ سینڈ کیا

    ویسے ستم تو آپ نے بھی کم نہیں ڈھائے تھے ۔۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو آئی ایم شیور وہ موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ۔۔ میں نے آنکھ مارنے والا ایمو ساتھ بھیجا ۔۔
    جوتے ہی کھاتا پھر۔۔ مجھے ایسے لوگوں سے نفرت ہے جو شریف اور معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر ننگے پن اور گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ۔۔
    ویسے میں نے کیا ستم ڈھائے ؟ ہاں بتائیں ذرا ۔۔۔عفی نے پوچھا

    نہیں اب مجھے ڈر لگنے لگا ہے ۔۔ کہیں آپ مجھے بھی شریف سمجھ کر نفرت نا کرنے لگ جائیں ۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
    اچھا تو آپ شریف نہیں کیا۔۔؟ عفی نے پھر زبان نکال کر پوچھا ۔۔ ۔
    بالکل بھی نہیں ۔۔ ہاں مگر اصول پسند اور اصول پرست ہوں ۔۔ بد تہذیبی سے نفرت ہے ۔
    میں نے اپنا نظریہ بگارا ۔۔
    بہت اچھے ۔۔۔ میسنے ایموجی کے ساتھ مختصر جواب آیا ۔
    اچھا آپ نے بتایا نہیں کیا ستم ڈھائے ۔۔ عفی نے پھر پوچھا ۔۔
    آپکو معلوم تو ہے ۔۔ میں نے کنی کترانی چاہی ۔۔
    نہیں معلوم نا آپ بتائیں ۔۔ عفی نے میری نقل کی ۔۔
    یو نو ، جب آپکو سہارا دے رکھا تھا اور ہاتھ بغل میں منزل سے قریب صبر و برداشت کا استعارہ بنا تھا ۔۔ آنکھیں مدو جذر کے طوفان کا سامنا کر رہی تھی تب دل و دماغ کو قابو میں رکھنے کی مشقت بہت جان لیوا تھی ۔۔
    میں نے بھی اظہار دل کا موقع ضائع نہیں کیا ۔۔

    ہائے میں صدقے ، اتنا ظلم برداشت کیا آپ نے اور ہمیں ذرا بھی خبر نا ہونے دی ۔۔۔ عفی نے زبان درازیاں کی ۔۔۔
    جواب میں ، میں نے مسمی صورت والا مظلوم ایموجی بھیجا ۔۔
    آپ نے خبر ہونے دی تھی کیا ؟ میری یہی بری یا اچھی عادت ہے میں کبھی شروعات نہیں کرتا ۔۔۔۔ مبادہ اگلا بندہ میرے بارے میں منفی تاثر قائم کر لے ۔۔ جو مجھے کبھی بھی قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے فلسفہ جاری رکھا ۔۔

    تو پھر کب شروع کرتے ہیں ۔۔۔پھر زبان نکالے ایمو ساتھ آیا ۔

    جب دوسرے کو شروعات کرنا پسند ہو اور اس کی طبیعت پر گراں نہ گزرے ۔۔ بلکہ جذبات کے سمندر میں برابر غوطہ زن ہو ۔۔۔ مجھ پر خماری چھانے لگی تھی ۔۔
    آپ تو مجھ سے بھی اوپر والے رومانٹک ہیں ۔۔۔عفی نے ریپلائی کیا ۔۔
    آہو مرد کو اوپر ہی ہونا چاہیئے ورنہ رومانس کی گہرائی نہیں ماپی جا سکتی ۔۔ میں نے ذومعنی انداز میں خماری کو راہ دکھائی ۔۔۔

    یو آر آ گڈ ٹیزر ۔۔ رپلائی کے ساتھ کس کے ایموجی نے سرشاری بڑھا دی ۔۔ میں نے آنکھیں بند کر کے عفی کے نرم و ملائم گلابی ہونٹوں کا لمس تصور ہی تصور میں کشید کرنے کی کوشش کی ۔۔
    ہونٹوں کے لمس کا تصور پاتے ہی خون کی روانی ٹانگوں کی طرف سراہیت کرتے محسوس ہونے لگی ۔۔ جذب کی کیفیت سرور میں بدلنے لگی تو جذبات نے سر اٹھانا شروع کیا ۔۔

    کہاں چلے گئے ۔۔۔ عفی کا میسج آیا ۔۔

    آپکی کس کا مزہ لے رہا تھا ۔۔ دور اندر تک ۔۔۔ اگر لکھنے کے بجائے کال پر ہوتا تو میرے لفظوں میں جذباتی ارتعاش چھپائے نا چھپتا ۔۔۔
    اپنے ہی لہجے میں ارتعاش کے احساس نے جذبات کی سختی کو مزید بڑھا دیا ۔۔
    پھر کیا محسوس ہوا ؟ عفی بھی غالبا اسی کیفیت میں تھی ۔۔۔

    انگ انگ میں حرارت پیدا محسوس ہو رہی ہے ۔۔جذبات نے سختی کا روپ دھارنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ میں نے جوابی کس کیساتھ اسے کیفیت حال سنایا ۔۔ ۔
    راج ۔۔ اٹس گیٹنگ ہاٹ اینڈ ہارنی ۔۔۔ وائس میسج پر عفی کی لرزتی ہوئی سرگوشی نے میرے شارٹس کو تمبو بنا دیا ۔۔۔
    سیم ہئیر ڈارلنگ ۔۔۔ جوابی وائس میسج میں میرا لہجہ بھی میری کیفیت کی بھرپور عکاسی کر رہا تھا ۔۔۔
    نیکسٹ پکچر میسج آیا ۔۔۔ جس میں عفی کی آنکھوں میں شہوت کے لال ڈورے واضع تھے ۔۔ نیم وا ہونٹوں میں زبان باہر نکل کر اوپری ہونٹ کو مساج دے رہی تھی ۔۔
    حقیقی سیکس سے آشنا سمجھ سکتے ہیں جب فور پلے کے دوران جذبات بھڑک جاتے ہیں تو بے خودی کی سی خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے عورت پر ۔۔ خود سپردگی کی انتہا ۔۔ بالکل ویسی ہی کیفیت اس وقت عفی کی آنکھوں سے عیاں تھی ۔۔ جبکہ مجھے شارٹس کے اندر اب باقاعدہ جھٹکے محسوس ہونے لگ گئے تھے ۔۔۔

    جوابی پکچر میسج میں میرا نچلا ہونٹ اوپری دانتوں میں دبا ہوا تھا ۔۔ جبکہ آنکھیں جذبات میں ڈوب کر بھاری ہو رہی تھیں۔۔ ۔۔

    اگلے پکچر میسج میں عفی نے شائد کھڑے ہو کر موبائل کو سر کی طرف بلند کر کے سیلفی لی تھی ۔۔۔اور خود موبائل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے بوب کو تھام کر اسے تھوڑا اٹھا رکھا تھا ۔۔۔اس سے اگلی پکچر بھی اسی سٹائل میں تھی مگر اس بار عفی نے ہاتھ زیر ناف پاجامہ کے اندر ڈال رکھا تھا ۔۔
    میرے کانوں میں سیٹیاں بجنے لگ گئی تھی ۔۔زبان اور ہونٹ خشک ہو رہے تھے ۔۔
    یو آر ویری سیسکی عفی ۔۔مور دہن مائی ایمیجینیشن ۔۔وائس میسج پر اس سے زیادہ میں کچھ نہیں بول سکا ۔۔

    آپ بھی اپنی پکچر سینڈ کرو نا ۔۔ عفی نے ڈیمانڈ کی ۔۔ تو میں نے وارڈ روب کے قد آور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر لی جس میں بھرپور جسامت کیساتھ شارٹس کا ابھرا ہوا ابھار نمایاں تھا ۔۔ اور یہی میں چاہتا تھا کہ عفی کے نوٹس میں آئے ۔۔

    راج ۔۔ ایک بات کہوں ۔۔ جواب میں عفی کا لاڈ بھرا وائس میسج آیا ۔۔
    جی بولو میری جان ۔۔۔ میں نے بھی بے تکلفی کا مظاہرہ کیا ۔۔
    شارٹس اتار کر تصویر بھیجو نا ۔۔۔ ساتھ میں زبان باہر نکالے ایموجی ۔۔
    عفی کی طرف سے بلا جھجھک ایسی بات کرنے سے دماغ میں بے جا خیالات آنے لگے ۔۔۔ کہ کہیں بلیک میلنگ والا کوئی سین نا ہو جائے ۔۔۔۔مگر پھر اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں کا کیا ڈر والے مصداق ۔۔ جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا کا سوچ کر ۔۔ بظاہر لیت و لعل سے کام لینے لگا ۔۔۔۔
    جب کچھ دیر گزر گئی تو عفی کا میسج آیا ۔۔۔ کیا سوچ رہے ؟
    نہیں دکھانا تو میں فورس نہیں کروں گی ۔۔

    آپ کیوں دیکھنا چا رہی ہیں ؟ آخر میں نے پوچھ ہی لیا ۔۔
    آپ ڈک کی تصاویر دکھائیں پھر بتاوں گی ۔۔ پرامس کوئی چیٹنگ نہیں کروں گی ۔۔۔ عفی کی بے باک ڈیمانڈ پر میں نے شارٹس اتار کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک دو تصاویر لیں خاص زاویے سے جس میں ڈک نمایاں تھا ۔۔ یہاں میں بتاتا چلوں کہ میرا سائز کوئی ایکسٹرا لارج نہیں ہے ۔۔ چھ انچ لمبائی اور دو انچ موٹائی کے ساتھ خاص بات ڈک کیپ کی شیپ اور اس کی گلابی رنگت ہے ۔۔۔ جبکہ باقی ڈک سکن بھی گندمی رنگ ہے ۔۔۔۔

    اس کے بعد عفی نے ڈک کی کلوز ویڈیو ڈیمانڈ کی جو میں نے بنا کر بھیج دی ۔۔

    اووووووو ۔۔۔ لولی اینڈ کیوٹ ۔۔ تھینکس گاڈ ۔۔۔ ساتھ میں ہارٹس اینڈ کس ایموجی ۔۔

    اب بتائیں کیوں دیکھنا چاہ رہی تھی ۔۔ میں نے فوری سوال داغا ۔۔

    کیونکہ ۔۔۔۔ عفی کا نامکمل میسج ملا
    کیونکہ ؟ ۔۔ میں نے سوالیہ نشان ڈال کر واپس بھیج دیا ۔۔۔


    کیونکہ آئی ہیٹ بلیک ڈک ۔۔۔ آگے ہنسے والے کافی سارے ایموجی۔۔۔

    جواب میرے لیئے کافی حیران کن تھا مجھے سمجھ نہیں آئی تو میں نے تفصیل سے بتانے کا کہا عفی کو ۔۔۔

    مائی ڈئیر راج ۔۔ ایکچولی ۔۔ یو کین سے می اورل ایڈکٹ ۔ آئی لو اوورل مور دہن جسٹ کامن ٹائپ آف سمپل فککنگ سیکس ۔۔۔

    چاہے سائبر ہو یا رئیل ۔۔ آئی کینٹ گو اینی فردر ود پرسن ہو از ناٹ اکارڈنگ ٹو مائی چوائس ۔۔۔
    فیس اینڈ باڈی وائز آپ نے مجھے ایٹریکٹ کر لیا ۔۔۔بس ڈک دیکھنا تھا ۔۔۔ اینڈ یو آر لکی ۔۔ آپ میری پسند کے معیار پر پورا اترتے ہیں ۔۔۔۔

    اگرچہ عفی نے میری مردانہ حس پر چوٹ کی مگر یہ بات باعث اطمینان بھی تھی کہ عفی کوئی عام چالو لڑکی نہیں تھی بلکہ اعلی ذوق کی حامل تھی ۔۔

    اور اگر میں نے اپنی پسند اور معیار کی چانچ کرنی ہو تو ؟ میں نے بھی عفی کا امتحان لینے کا سوچا ۔۔۔

    تو لے لیں۔۔۔ میں نے روکا کب ہے ؟
    ویسے آپکی پسند ہے کیسی ؟ بتائیں ذرا ۔۔

    اوں ہوں ۔۔۔ پہلے بتا دوں تو آپ دکھائیں ہی نا پھر ۔۔ میں نے عفی کو ٹریک پر لانے کی کوشش کی ۔۔
    پرامس ۔۔ پسند کے مطابق ہوا یا نا ہوا ۔۔ آپ جو کہیں گے شو کروں گی ۔۔ عفی نے یقین دلایا ۔۔

    ویسے تو باڈی وائز اینڈ فگر وائز آپ میری پسند کے معیار سے بھی بہت آگے ہیں ۔۔۔
    باقی پنک نپلز ۔۔ اینڈ پنک پسی میری کمزوری ہے ۔۔۔ پلس پسی شیپ ۔۔۔

    میں نے بھی تکلف کو لات مارتے ہوئے کھلے الفاظ استعمال کیئے ۔۔۔

    واوووو۔۔۔ نائس چوائیس ۔۔ رئیلی پرفیکٹ ۔۔ آپ بھی میری طرح اعلی ذوق رکھتے ہیں ۔۔ لو اٹ ۔۔
    نپلز تو میرے پنک ہی ہیں ۔۔ پسی پنک شائد نا ہو بٹ ۔۔ فئیر کلر ہے وائٹ ۔۔فئیر وائٹ۔۔۔
    ہیو نو آئیڈیا آباوٹ شیپ ۔۔ پلیز ایکسپلین ۔۔۔ عفی نے وربلی کنفرم کیا ۔۔

    شیپ مطلب ۔۔ ساخت ۔۔۔پسی لپس باریک نا ہوں اور نا ہی لٹکے ہوئے بلکہ ۔۔۔ گول اور تھوڑے ابھرے ہوئے ہوں آپس میں ملے ہوئے۔۔
    میں نے وضاحت کی ۔۔

    اگین پکچرز سینڈ کی عفی نے ۔۔۔۔ اپنے بوبز کی ۔۔ افففففف اتنے راونڈ اور تنے ہوئے بوبز میں نے پورن موویز میں ہی دیکھے تھے ۔۔ سائز تو آپکو میں بتا چکا ہوں ۔۔ مگر دودھیا رنگت ۔۔ عین سینٹر میں چھوٹے چھوٹے نپلز ۔۔ اور ان کے گرد گلابی ہالہ ۔۔ میرے ڈک نے باقاعدہ اچھلنا شروع کر دیا ۔۔
    ساتھ ہی پسی کی تصاویر بھی آ گئی۔۔ عفی نے کھڑے ہو کر فرنٹ سے پسی کی تصویر لی تھی اس لیئے زیادہ تو نہیں مگر اتنا آئیڈیا ہو گیا کہ ۔۔ چیز اچھی نہی بہت اچھی ہی ہو گی۔۔۔۔شائد ایک آدھ دن پہلے ہی ویکس کیا ہو گا ۔۔۔ کیونکہ بالوں سے یکسر بے نیاز گوری رنگت کافی گلو کر رہی تھی ۔۔۔
    میں نے خوب تعریفیں کیں عفی کے بوبز اور پسی کی ۔۔۔
    کال پر بات کریں ۔۔ عفی کا میسج آیا تو میں نے فورا کال ملا کر ہینڈ فری لگا لیا ۔۔

    ہیلو مائی سیکسی راج ۔۔۔ کال ملتے ہی عفی کی جذبات میں کچلی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔ ساتھ ہی عفی نے فلائنگ کس کی ۔۔

    یو آر ٹو۔۔۔۔ ویری سیکسی مائی ہنی ۔۔ میں نے بھی بھرپور جوابی کسنگ کی ۔۔

    ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ ہو گئی ۔۔ ابھی میں دوبارہ ملانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ۔۔۔ ویڈیو کال آ گئی ۔۔۔عفی نے بھی ہینڈ فری لگایا ہوا تھا ۔۔ نیم دراز ہو کر موبائل شائد پیٹ پر ایڈجسٹ کر رکھا تھا ۔۔ لہذا اس کے ہیوی سائز بوبز پورے جوبن پر نظارہ دے رہے تھے جنہیں عفی ایک ہاتھ سے ہلکا ہلکا مساج دے رہی تھی ۔۔۔
    راج ۔ آپ اپنی ٹانگیں پھیلا کر موبائل کو ٹانگوں کے درمیان ایڈجسٹ کریں ۔۔ اور خود ایسے بیٹھیں جیسے میں بیٹھی ہوں ۔۔ عفی کی آواز میرے ہیڈ فون سے ہوتی ہوئی میرے اندر سراہیت کر رہی تھی ۔۔
    میں اب کم کم بول رہا تھا ۔۔ بلکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کیا بولوں ۔۔ شائد عفی کو بھی اندازہ ہو گیا اس بات کا لہذا اس نے خود ہی لیڈ لے لی ۔۔
    ڈک کو ہاتھ میں لیکر ہلکا ہلکا مساج کریں ۔۔۔ عفی کی سرگوشی سنائی دی ۔۔ تو میں نے لیفٹ ہینڈ سے فنگرز کا دائرہ ڈک کے گرد بنایا اور آہستہ آہستہ مٹھ مارنے والے انداز میں آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ساتھ ہی عفی کی سسکیاں اور سانسوں کی آواز بھاری اور تیز ہونے لگی ۔۔

    راج یو ہیو نائیس ڈک ۔۔ آئی ایم لونگ یور ڈک ۔۔ یور ڈک از مائن ناو۔۔۔ یسس رب اٹ، گیو دا سافٹ مساج ٹو مائی لولی ڈک۔۔۔ میری جان ۔۔۔ عفی کے سیکسی تبصرے نے میرے ڈک میں تناو کو مزید بڑھا دیا ۔۔
    لہذا میں نے ہلکی ہلکی مٹھ جاری رکھی ۔۔ کبھی کبھی میں ہاتھ کو ڈک کی جڑ کی طرف دبا کر ڈک کو باہر کی طرف دباو ڈالٹا تو اور بھی لمبا اور تنا ہوا دکھائی دیتا ۔۔ کیپ اسٹریچ ہونے کی وجہ سے گلابی رنگت مزید گہری ہو جاتی ۔۔ تو عفی کی سسکیاں بڑھنے لگتی ۔۔۔اس کیساتھ ساتھ عفی زبان ہونٹوں پر بھی پھیر رہی تھی ۔۔ کبھی دانتوں سے ہونٹ کاٹنے لگتی ۔۔ اور اپنے بوبز کو بھی مساج دے رہی تھی ۔۔۔۔
    مزے اور سرور کی انتہائی کیفیت کی وجہ سے میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔۔
    راج۔۔۔۔ عفی کی نشے میں ڈوبی آواز سنائی دی ۔۔
    یسسسسس عففففففففی ۔۔۔میری بھی بمشکل آواز نکلی ۔۔۔
    ڈک کو باٹم سے کیپ کی طرف پریس کر کے پری کم نکالو ۔۔۔
    میں نے ڈک کو دو فنگرز اور انگھوٹے کی مدد سے نچوڑ کر پری کم نکالی تو ڈک کی ٹوپی پر قطرے چمکنے لگے ۔۔۔۔

    اوووووو مائی ہارٹ ۔۔ آئی لو ٹو ایٹ اٹ ۔۔ ہمممممم عفی کی رس گھولتی آواز میری سانسوں کی رفتار اور آواز بلند کرتی جا رہی تھی ۔۔
    اٹس یورز میری جان ۔۔ اٹس آل یورز ۔۔۔۔ میری بے خودی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
    ایک فنگر سے پری کم کو ڈک ہیڈ پر لیپ کرو ۔۔۔ عفی نے اگلی فرمائیش کی ۔ ۔۔
    میں نے مزید پری کم نکالی اور اسے سافٹلی کیپ پر پھیلایا ۔۔ جیسے جیسے میں کیپ پر مساج کرتا جاتا ۔۔ عفی کی سیکسی سسکیاں اور آوازیں تیز ہو جاتی ۔۔

    عفی ۔۔ میں نے عفی کو مخاطب کیا ۔۔۔
    یس راج ۔۔ آہ ۔۔ ہ ہ ہ ۔۔۔ یسسسس میری جان ۔۔
    آئی وانٹ ٹو سی یور سیکسی پسی ۔۔۔ پلیز شو می اینڈ پلے ود پسی فار می ۔۔۔
    عفی نے بھی موبائل کو بیڈ پر لیگز کے بیچ ایڈجسٹ کیا ۔۔۔ لائٹ کے مخالف سمت ہونے کی وجہ سے انگ انگ نمایاں ہو رہا تھا ۔۔ شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس قدر متناسب اور سڈول ٹانگیں کبھی پورن مووی میں بھی شائد ہی دیکھی ہوں ۔۔۔ اور اس پر شاہکار گوری رنگت پر لائٹ براون پسی لائین ۔۔۔

    او مائی سویٹ ہارٹ ۔۔۔ یو ہیو جارجیوس پسی ۔۔۔ آئی وش آئی کین کس اینڈ لک اٹ ۔۔
    میرے منہ سے جذباتی ہیجان میں بے ربط جملے نکلنا شروع ہو گئے ۔۔۔ یہی حال عفی کا تھا ۔۔۔
    ڈک کو کلوز اپ میں لائیں ۔۔ عفی کی ڈائریکشن کے مطابق موبائل اس طرح ایڈجسٹ کیا کہ صرف ڈک کا نظارہ ہو سکے ۔۔۔
    دوسری طرف عفی نے اپنی پسی کو بھی کلوز اپ میں لایا ۔۔۔ میرے اندر اس وقت شدید خواہش انگڑائی لینے لگی کاش یہ ممکن ہوتا کہ میں اس قدر خوبصورت پسی سے ہونٹوں اور زبان کو سیراب کر سکتا ۔۔۔ میری زبان خود بخود پسی لککنگ کے انداز میں بلکنے لگی ۔۔
    یو لائیک مائی پسی ؟۔۔۔۔ عفی کی خوابناک سی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔۔
    یسس مائی ہنی ۔۔ آپکی پسی نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔۔۔اٹس سو بیوٹیفل ۔۔۔
    عفی ! اوپن اپ یور سیکسی پسی فار می ۔۔۔میں نے کہا تو عفی نے دونوں ہاتھ پسی کی دونوں سائیڈوں پر رکھے اور آہستہ آہستہ اپنی پسی کے لپس کو مخالف سمت وائیڈ کیا ۔۔۔
    افففففففففف ۔۔۔۔۔۔۔عفی کی پسی اندر سے ریڈش پنک اور پانی چھوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔جبکہ میرا ہاتھ میرے ڈک پر تیز تر ہو رہا تھا۔۔۔
    رااااااج ۔۔۔۔۔ !!!!
    یسسسسسس عففففییییی!!!!
    کب مل رہے ہیں ہم پھر ہائیکنگ ٹریل پر ۔۔۔ پسی کو رب کرتے ہوئے عفی نے انتہائی دلنشین انداز میں پوچھا ۔۔۔
    جب آپ کہو ۔۔۔ میری جان ۔۔
    سیچر ڈے ایوننگ ۔۔ ؟
    ڈن ۔۔۔۔میں نے کنفرم کیا ۔۔۔
    رات کے 2 بجنے والے تھے ۔۔۔ کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد ایک دوسرے کو خوب چوما چاٹی کی اور گڈ نائیٹ بول کر میں ایسے ہی سونے کے لیئے لیٹ کر تصور ہی تصور میں عفی کے بیڈ پر پہنچ گیا ۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 12-11-2019 at 11:07 AM.

  4. The Following 3 Users Say Thank You to اداس منا For This Useful Post:

    aloneboy86 (12-11-2019), Lovelymale (13-11-2019), Story Maker (14-11-2019)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    5
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    2

    Default ٹریل سکس



    قسط نمبر 3

    اگلے دو دن بھی عشق معشوقی کے مزے لیتے گزر گئے ۔۔ وقفے وقفے سے میسجنگ چلتی رہی ۔۔ جس نے جذبات کو اور مہمیز کر دیا ۔۔۔

    پروگرام کے مطابق میں آفس چھٹی ٹائمنگ سے پہلے ہی نکل پڑا۔۔۔بلیک جاگنگ سوٹ کے نیچے بلیک سوفٹی آفس میں ہی پہن لیئے تھے ۔۔
    ویسے تو چار بجے کا وقت مقرر تھا مگر کچھ دانستہ اور کچھ ٹریفک کی بدولت لیٹ ہو گیا ۔۔ تقریبا 4 بجکر 13 منٹ پر جب ٹریل سکس کی پارکنگ میں پہنچا تو عفی اکیلی پہلے سے میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔آپ اسے اتفاق کہیں یا میری قسمت کہ عفی نے بھی بلیک کلر کا ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا ۔۔ اور نیچے بلیک ہی کلر کے جوگرز۔۔۔۔ شفاف اور گوری رنگت پر بلیک کلر عفی کو خوب جچ رہا تھا ۔۔۔
    واہ ۔۔ آپ تو بھرپور تیاری کیساتھ آئی ہیں ۔۔۔ لککنگ ویری سمارٹ اینڈ بیوٹیفل ۔۔۔ میں نے عفی سے ہاتھ ملاتے ہوئے دل کی بات کہی ۔۔۔

    کمی آپ نے بھی کوئی نہیں چھوڑی ویسے ۔۔۔۔ نائس ڈریسینگ ۔۔۔ آپ پر بلیک بہت اچھا لگ رہا ہے ویسے ۔۔ عفی کی آنکھوں میں اپنے لیئے پسندیدگی کے تاثرات اور تعریف سن کر اندرونی خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
    مابدولت کہاں ہیں آپ اکیلی ہی آئی ہیں کیا ؟ میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز سے پوچھا ۔۔

    ہیلو ! میری کسی سے کوئی پارٹنرشپ نہیں ہے۔۔وہ نہیں آئی ۔۔ مائینڈ اٹ ۔۔۔ عفی نے چوب داروں کی طرح قدرے بلند آواز میں گویا مجھے خبردار کیا ۔۔
    یہ جان کر کہ عفی اکیلی آئی ہے ۔۔۔ میرا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔۔

    یونہی ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ہم انٹری گیٹ کی طرف چل پڑے ۔۔ وہاں اور بھی کافی سارے جوڑے آ جا رہے تھے ۔۔۔ ہم دونوں کو ایک جیسے ڈریس میں دیکھ کر کافی جوڑے مڑ مڑ کر دیکھ ریے تھے ۔۔ یا پھر کوئی ایک دیکھتا تو وہ دوسرے کو متوجہ کرتا۔۔ اللہ جانے پھر کیا تبصرتے فرماتے ہوں گے ۔۔ لیکن کسی کی نظروں میں تحسیسن اور کسی کی نظروں میں حسد ضرور محسوس کررہے تھے ۔۔

    آخر یہ لوگ ہمیں مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ میں نے عفی کو چھیڑا ۔ ۔
    آگے سے دیکھ رہے ہیں تو آپکو پتا ہو گا ۔۔۔ عفی نے شرارتی انداز میں کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہوئے چسکے دار لہجے میں کہا ۔۔
    ہاہاہاہا ۔۔۔ عفی کے خوبصورت اور ذومعنی جواب پر بے اختیار میرا ہاسا نکل گیا ۔۔
    عفی کے برجستہ جواب نے واقعی لطف دیا تھا۔۔
    بڑے جلدی اثر نہیں لے لیا ؟ میں نے ہونٹ کاٹتے ہوئے عاشقانہ انداز اختیار کیا ۔۔۔
    عامل پر ڈیپینڈ کرتا ہے جو جتنا سٹرانگ ہو گا جلدی اثر دکھائے گا ۔۔۔ اور جو جتنا معصوم ہو گا اتنے ہی جلدی اثر لے لے گا ۔۔ عفی آج واقعی موڈ میں تھی ۔۔ بھرپور بذلہ سنجی کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔۔۔

    ایسا معصوم اور معصومیت صرف قسمت والوں کے نصیب میں ہوتا ہے ۔۔ میں نے پسندیدگی کے سارے جذبات آنکھوں میں سمیٹ کر عفی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

    تو آپ ان لکی ہیں کیا ؟ عفی نے شاکی انداز میں ایک دم چونک کر پوچھا

    بالکل بھی نہیں ۔۔ بلکہ میں خود کو موسٹ لکی پرسن آن ارتھ سمجھ رہا ہوں ۔۔۔ میں نے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر عجزانہ انداز اختیار کرتے ہوئے جواب دیا تو عفی ۔۔۔۔کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔
    ہم چہل قدمی کرتے ہوئے گیٹ پر پہنچے تو گارڈ نے مسکرا کر ویلکم کیا ۔۔۔۔۔آج کوئی نیا گارڈ تھا ۔۔ ورنہ بم والی بات بھولنے والی نہیں تھی ۔۔
    میں عفی کو چیچی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے واش روم کی طرف چل پڑا ۔۔۔ واش روم جا کر میں نے خاص کریم ڈک پر لگائی اور چھوٹا شاپر چڑھا کر انڈروئیر کھینچ لیا ۔۔۔
    یہ کریم خاص طور پر ٹائمنگ بڑھانے کے لیئے تھی ۔۔ جو وقت خاص سے کم سے کم آدھا گھنٹہ پہلے لگانی پڑتی ہے ۔۔۔ ویسے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا ۔۔ محض احتیاطی تدبیر اور تیاری کی غرض سے بہر حال لگا لی تھی ۔۔ دھونے کا ایشو نہیں تھا کیونکہ پانی کی میڈیم سائز کی بوتل پاس تھی ۔۔ اور ٹریک پر شفاف بہتے ہوے پانی کے ذخیرے کا بھی مجھے علم تھا ۔۔
    جب ہم گیٹ سے انٹر ہوئے تو ساڑھے چار سے ٹائم کچھ اوپر ہو چکا تھا۔۔۔میں ذہن میں پلاننگ ترتیب دے چکا تھا ۔۔جس وجہ سے دانستہ آہستہ چل رہا تھا ۔۔ میں چاہتا تھا کہ واپسی تک اندھیرا ہو جائے ۔۔ مگر جیسا کہ آپکو بتا چکا ہوں ۔۔ میں نے کبھی شروعات نہیں کی ۔۔ اس لیئے منحصر تھا عفی کیا بے ہیو کرے گی ۔۔
    نارمل انداز میں باتیں کرتے ہوئے ہماری رفتار بتدریج بڑھنے لگی ۔۔ اب تک ہم میں سے کسی نے بھی فون پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا تھا نا کوئی ہنٹ ۔۔
    لش گرین ماحول میں خوبصورت ٹریک ، چہچہاتے پرندوں کی آوازیں ، چھن چھن کر آتی سورج کی کرنیں ۔۔بھرپور رومانوی ماحول بنا رہی تھی ۔۔
    اس پر مستہزاد ، عفی جیسی بھرپور فگر کی حامل سیکسی اور بولڈ جوانی ، جذبات میں گویا انگارے بھرتے جا رہے تھے ۔۔ اتفاقی طور پر ہماری ڈریس میچنگ اوپر سے ہماری کھلتی شفاف رنگت ہر گزرنے والے کو متوجہ ضرور کرتی اور ان کی آنکھوں میں تحسیسن کے تاثرات انوکھی سرشاری سے آشنا کروا رہے تھے ۔۔

    ویسے روزی خود نہیں آئی یا آپ نہیں ساتھ لائی ۔۔۔ باتوں کے دوران جب بات روزی کی ہوئی تو میں نے پوچھ لیا ۔۔

    روزی کو پتا ہی نہیں ۔۔ کہ میری آپ سے کوئی بات بھی ہوتی ہے ۔۔ عفی نے بے اختیار ہنستے ہوئے جب بتایا تو میرا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔

    مجھے یوں حیران ہوتے دیکھ کر عفی نے خوب لطف لیا ۔۔
    آپ یقین نہیں کریں گے بٹ اٹس ٹریو ۔۔۔روزی کو نہیں معلوم ۔۔
    میں کیسے یقین کر لوں .. میں نے حقیقی حیرت کا اظہار کیا ۔۔
    نا کریں پھر یقین ۔۔ بہرحال ثبوت آپکے سامنے ہے ۔۔ عفی نے لاپروائی سے کہا ۔۔
    لوگوں سے داد تحسین سمیٹتے اور دل پر چھریاں چلاتے ، کنواروں اور چھڑوں کو یاس و حسرت سے سلگاتے ہم چلتے چلتے پہلے ریسٹ پوائینٹ تک پہنچ گئے ۔۔ حسب سابق میں لکڑی کے پنچ پر بیٹھ گیا اور پرسکون ماحول کی قدرتی و فرحت بخش ہوا کی تازگی کشید کرنے لگا ۔۔۔۔ جبکہ عفی نے چہل قدمی جاری رکھی ۔۔ اچانک ہی مجھے پچھلا واقعہ یاد آیا تو میں نے عفی کو ہانک لگائی ۔۔۔ اس بار پتھر پر چڑھ کر پکچر نہیں بنوانی کیا ؟
    عفی نے چونک کر مجھے دیکھا اور تقریبا دوڑتے ہوئے اچھل کر اسی پتھر پر چڑھ گئی ۔۔
    لو چڑھ گئی ۔۔ اب لے لیں پکچر ۔۔۔ عفی نے منہ چڑاتے ہوئے کہا تو میں بے اختیار ہنس دیا ۔۔۔
    لوگوں کی آمدورفت تھوڑی کم ہوئی تو میں بوتل لیکر قدرے اوجھل جگہ چلا گیا ۔۔ اور ڈک کو اچھی طرح دھونے کے بعد واپس آیا تو عفی پنچ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ میں بھی بنچ پر ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
    خیر تو ہے ۔۔کوئی لیکج تو نہیں ہو گئی؟ عفی نےبھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

    میں نے ہنسنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔

    اس پتھر والی تصاویر دکھائیں ۔۔ میں نے بظاہر نارمل سے انداز میں کہا ۔۔۔
    تو عفی نے سرچ کر کے پک اوپن کر کے موبائل مجھے تھما دیا ۔۔۔۔ میں نے رائٹ لیفٹ سکرول کر کے تصاویر دیکھی ۔۔۔ ساتھ ساتھ تصویر کی مناسبت سے تبصرہ بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔ تصاویر واقعی بہت آرٹسٹک تھی ۔۔۔ کافی تصاویر دیکھنے کے بعد دوسرے مناظر آ گئے تو موبائل واپس عفی کو تھماتے ہوئے جب میں نے کہا کہ ایک تصویر مس ہے تو ۔۔۔عفی اچھل پڑی ۔۔۔ اور حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔
    آپکو کیسے پتا ؟ عفی کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں نمایاں تھیں ۔۔
    میں نے اپنا موبائل نکال کر عفی کے ہاتھ پر رکھ دیا کہ چیک کر لو ۔۔۔۔ مجھے روزی نے نہیں بتایا، میرا تو اس سے رابطہ ہی نہیں ۔۔۔ہاں میں نے اسے تصویر لیتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔۔ میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا

    ارے ارے میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا آپ نے اتنی دور سے جج کر لیا کہ روزی نے تصور لی ۔۔ عفی نے سنجیدگی محسوس کرتے ہی قدرے معذرت خواہانہ انداز میں میرا موبائل واپس کرتے ہوئے وضاحت کی ۔۔

    اٹس اوکے ۔۔۔ دل پر مت لیں ۔۔ چئیر اپ ۔۔۔ میں نے اسے بہلایا ۔۔
    اسی اثنا عفی نے اپنا سیل میری طرف بڑھایا ۔۔ سکرین پر نظر پڑھی تو وہی تصویر تھی جس کے بارے میں بات ہو رہی تھی ۔۔۔۔
    جھکے ہوئے تنگ پاجامے میں عفی کی ابھری ہوئی گول مٹول ۔۔گانڈ دیکھ کر میری آنکھیں سکرین سے گویا چپک سی گئی ۔۔ بے اختیار زبان ہونٹوں پر پھیر کر تھوک نگلی تو عفی نے کھنکار کر متوجہ کیا ۔۔۔
    میں تصویر زوم کر کے کلوز اپ میں لا کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا تو عفی کھسک کر میرے قریب ہو گئی ۔۔۔
    جھکنے اور پاجامہ اسٹریچ ہونے کی وجہ سے عفی کے گورے بدن کی جو جھلک آ رہی تھی وہ انتہائی شہوت انگیز تھی ۔۔۔۔۔۔ عفی میری دلچسپی کو بڑی محویت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ میں نے جذبات میں الاو بھڑکانے کا ارداہ کرتے ہوئے ۔۔ سکرین کو چوم لیا ۔۔۔۔
    سکرین چومتے دیکھ کر عفی کے منہ سے بے اختیار سسکی نکلی اور کسمسانے لگی ۔۔۔
    موبائل واپس کرتے ہوئے عفی کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ بے چینی سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے انتہائی لگاوٹ سے مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
    عفی نے موبائل لینا چاہا مگر میں نے موبائل کو جکڑ لیا ۔۔تو اس نے چونک کر پہلے موبائل اور پھر سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھا ۔۔۔
    یور کیوٹ سیکسی ایس از مائن (تمھاری خوبصورت سیکسی گانڈ میری ہے ) میں نے ہونٹ عفی کے کانوں کے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی کی تو عفی نے زور سے میری ران پھنچ لی ۔۔۔
    اسی وقت بھاگ کر چلنے اور اونچی آواز میں باتوں کی آواز آنے لگی تو ہم تھوڑے کھسک کر مناسب انداز میں بیٹھ گئے ۔۔

    گوریاں دی پہن نوں ۔۔ واپس آتے پانچ سات لڑکوں کے گروپ میں سے کسی نے کوئی ڈائیلاگ بولنا ہی چاہا تھا کہ ہم پر نظر پڑی تو چپ ہو گیا ۔۔ جبکہ باقی لڑکوں کے قہقہے بلند ہو گئے ۔۔۔ ایک دوسرے پر جگتیں مارتے جب وہ گزر گئے تو میں نے عفی کی طرف دیکھا ۔۔۔ آگے چلیں یا واپس؟
    آگے چلتے ہیں ۔۔ یہ کہتے ہوئے عفی کھڑی ہو گئی تو میں بھی اٹھ گیا۔۔۔ عفی نے میرے بازو میں بازو ڈالا تو میرے اندر سنسناہٹ سی دوڑ گئی ۔۔ میں نے عفی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں شہوت کی چنگاریاں بھڑکتی صاف نظر آئی ۔۔
    میں عفی کو گھما کر اپنا سامنے لایا اور بے اختیار اسے اپنے بازور کے حصار میں لے کر اسے تھوڑا اوپر اٹھا لیا ۔۔ عفی کے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر ٹک گئے ۔۔
    جبکہ دونوں ایک دوسرے کے آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جہاں نشے کے مدھر جذبات رقص و کناں تھے ۔۔
    عفی کے بھاری بوبز میرے سینے میں پیوست ہو رہے تھے ۔۔ نرم و گداز بوبز کے جادوئی احساس کے سگنل ملتے ہی لن نے مستی پکڑنی شروع کر دی ۔۔ خون کی بڑھتی ہوئی روانی لن کی رگوں میں نشے کی سی کیفیت پیدا کر رہی تھی ۔۔ٹائٹ انڈر وئیر کی وجہ سے لن کی سختی کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ عفی نے بھی یقینی طور پر اسے نچلے پیٹ پر ضرور محسوس کیا ہو گا ۔۔ تبھی بوبز کیساتھ ساتھ چوت کو بھی میرے لن پر رگڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ ہم دونوں کی سانسیں قدرے بھاری ہو رہی تھیں اور ایک دوسرے کے چہرے پر پڑتی سانسوں کی گرمی ہماری شہوت کو دو آتشہ کر رہی تھی ۔۔

    اس وقت دل کر رہا تھا عفی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی جکڑ میں لے کر سارا رس پی جاوں مگر میں نے عفی کو بھرپور ٹیز کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا ۔۔۔۔اتنا کہ عفی بے اختیار ہو کر مجھ پر ٹوٹ پڑے ۔۔مجھے عورت کا پاگلوں کی طرح خود پر ٹوٹنا بہت مزہ دیتا ہے ۔۔۔
    لہذا عفی کو مزید گھما کر سائیڈ پر اپنی بغل میں لیکر چل پڑا ۔۔۔عفی نے بھی اپنا ایک بازو میری کمر کے گرد حائل کر لیا اور میری سائیڈ پر بار بار مٹھیاں پھنچ رہی تھی ۔۔
    کچھ دیر ہم ایک دوسرے کی سانسیں سنتے اور ڈھڑکنیں گنتے چلتے رہے ۔۔ اندھیرا اب تیزی سے بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔ لوگوں کی آمدروفت بھی تقریبا ختم ہو چکی تھی ۔۔ سنسانی اور سکوت پراسراریت میں اضافہ کر رہی تھی ۔۔۔ تیز سانسوں کے ساتھ قدموں کی چاپ اور پتھروں کی کھڑکھڑاہٹ ماحول کو کافی سنجیدہ بنا رہی تھی ۔۔۔

    راج ۔۔۔ عفی نے میری طرف دیکھ کر پکارا تو میں نے اسے مزید اپنے ساتھ کھینچ لیا ۔۔
    جی جانو جرمن ۔۔۔۔ میں نے لاڈ سے جواب دیا تو جذباتیت کے گہرے تالاب میں غوطہ زن عفی کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔

    جانو جرمن میل تھا ۔۔۔ عفی نے لفظ جانو جرمن سے سرور لیتے ہوئے کہا ۔۔

    ہو گا میل لیکن میری جانو جرمن تو فیمیل ہے ۔۔۔ میں چیک کر چکا ہوں ۔۔ میں نے ہاتھ کو بغل میں تھوڑا آگے سرکاتے ہوئے دبا کر کہا ۔۔۔ تو عفی کی ہنسی جنگل کی خاموشی میں بکھرتی چلی گئی ۔۔
    اس وقت دور سے کچھ آوازیں قریب آتی ہوئی محسوس ہونے لگی تو ہم الگ ہو کر چلنے لگے ۔۔ ہماری ہی طرح مگر تھوڑا عمر رسیدہ کپل ہمیں معنی خیز انداز میں دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔۔۔
    آپ کی چیکنگ کافی نا مکمل ہے ۔۔۔ عفی نے طنز کیا یا شکوہ مجھے اندازہ نا ہو سکا ۔۔ میں نے عفی کا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کی مگر اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے ججمنٹ نا ہو سکی ۔۔ لیکن اب ہم رک گئے تھے ۔۔۔
    تو مکمل چیکنگ کر لیتے ہیں اگر پابندی نا ہو تو ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں عفی کو لیکر دیوار کی طرف ایک بڑے پتھر سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔۔ جبکہ عفی میرے سامنے کھڑی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ میں نے ہاتھوں میں تھام رکھے تھے ۔۔
    میں نے دونوں ہاتھوں کو اپنی طرف کھینچا تو عفی کھڑے کھڑے مجھ پر گر گئی ۔۔ اپنا سر میرے کندھے پر ڈال کر اپنے بوبز میرے سینے سے جوڑ دیے۔۔
    عفی کے بوبز جتنے بڑے تھے اتنے ہی نرم بھی تھے ۔۔۔ نشے کی ایک لہر سر سے پاوں کی طرف دوڑتی چلی گئی ۔۔۔
    میرے ہاتھ لاشعوری انداز میں عفی کی کمر پر رینگنے لگے ہلکے مساج کے انداز میں ۔۔ ساتھ کبھی کبھی مٹھیاں بھر لیتا تو عفی سسکیاں لیتی ہوئی مزید سینے میں دھنسنے کی کوشش کرتی ۔۔۔جو میری شہوت کو اور بڑھاوا دے دیتا ۔۔
    عفی کا جسم اتنا نرم و گداز تھا کہ لگتا تھا جیسے خرگوش کی کھال جیسے کمبل پر ہاتھ پھیر رہا ہوں ۔۔۔
    کمر سے ہاتھ رینگتے ہوئے جب عفی کے ہپس پر لے گیا تو مجھے اپنے گلے میں انگارے پھنستے محسوس ہونے لگے۔۔۔ وجود مزے اور سرور کی گہری کھایئوں میں گرتے ہوئے محسوس ہونے لگا ۔۔۔
    عفی کے ہپس اتنے بھرے ہوئے اور بھرپور تھے کہ میرے ہاتھ بمشکل آدھے کو ہی ڈھانپ پائے ۔۔
    عفی کے مست کولہوں کو ہاتھوں میں لیکر دبایا تو عفی کی شہوت میں ڈوبی سسکی نے گویا میرے بدن میں آگ لگا دی ۔۔۔
    دونوں ہاتھوں سے عفی کے بھاری کولہوں کو اوپر اچھالا تو کافی دیر تک تھرتھراتے رہے ۔۔۔ عفی کا سر بدستور میرے کندھے پر تھا جبکہ دونوں بازوں سے عفی نے مجھے جکڑ رکھا تھا ۔۔۔
    اس سے پہلے کے مزید کچھ اور کرنے کا سوچتے ۔۔۔ اوپر سے بہت ساری آوازیں آنا شروع ہو گئی اور موبائل لائٹس کی روشنیاں بھی ۔۔۔ لہذا ہم نے واپسی کا ارادہ کیا تاکہ ان لوگوں کے قریب آنے سے پہلے ہم ان سے دور آگے پہنچ جائیں ۔۔۔ واپسی چلتے ہوئے بھی میں نے ایک بازو عفی کی کمر کے گرد گھما کر ہاتھ بغل کے نیچے جما رکھا تھا ۔۔۔ جہاں راستہ تنگ یا زیادہ پتھریلا ہوتا وہاں ہم ہاتھ پکڑ کر آگے پیچھے ہو جاتے ۔۔ جب گیٹ کے قریب پہنچے تو قدرے ہموار اور کھلا راستہ آتے ہی عفی کو دوبارہ بغل میں لے لیا ۔۔لیکن اس بار ہاتھ تھوڑا آگے کھسکا کر عفی کے بھاری بوبز پر جما دیا ۔۔ مگر دانستہ بوبز کو دبانے یا مسلنے سے گریز کیا ۔۔۔ عفی کے بوبز اتنے بڑے تھے کے پورا ہاتھ بوبز پر رکھنے کے باوجود ہاتھ کی گرفت سے باہر تھا ۔۔۔
    گیٹ کراس کر کے آگے آئے تو ماحول سنسان پڑا تھا ۔۔ گارڈ شائد روم میں چلے گئے تھے ۔۔ لہذا ہم نے پارکنگ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی مگر رفتار کافی آہستہ کر دی تھی۔۔۔۔
    کبھی بوبز تو کبھی عفی کی مست و نرم لچکیلی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے گاڑی کے پاس پہنچ گئے ۔۔
    میں نے گاڑی ریگولر پارکنگ سے ہٹ کر دوسری طرف پارک کی تھی جہاں روٹین میں بھی اکا دکا گاڑیاں ہی ہوتی ہیں ۔۔ اس وقت وہاں گاڑی تو دور کی بات کوئی ذی روح بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا ۔
    ٹریک پر بار بار مداخلت اور آمدورفت کی بدولت تشنگی بڑھ چکی تھی۔۔اور جسم میں گرمی کی لہریں اتھل پتھل ہو رہی تھی ۔۔
    گاڑی کے قریب پہنچ کر میں نے عفی کو ایکبار پھر بانہوں میں جکڑ لیا ۔۔
    اپنی پشت گاڑی سے لگا کر عفی کو اپنے سامنے کر لیا ۔۔۔
    عفی شائد بے حال تھی یا پھر ڈیپریس ہو گئی تھی ۔۔ بے جان سی ہو کر میرے سینے پر ٹک سی گئی تھی ۔۔۔
    آر یو آل اوکے عفی ؟ مجھے عفی کی خاموشی اور بے رغبتی سے الجھن سی ہونے لگی تو اس کی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے لاڈ سے پوچھا ۔۔
    عفی نے گردن اٹھا کر مجھے دیکھا اور واپس کندھے پر رکھتے ہوئے بولی ، ۔۔ اٹ واز آل ان کمرٹ ایبل نا ۔۔۔ دیٹس وائے ۔۔۔
    مجھے اس سمے عفی پر بے تحاشا لاڈ آیا ۔۔بے اختیار دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر اس کی پیشانی چوم لی ۔۔ ردعمل میں عفی نے شدت سے مجھے جکڑ لیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب عفی کی گرفت ڈھیلی پڑھ گئی تو میں نے اسے گھما کر اس کی پشت اپنے سینے سے لگا لی ۔۔۔۔ اور دونوں ہاتھ اس کی بغل سے گزار کر اس کے بوبز پر رکھتے ہوئے اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔۔
    چپکتے ہوئے عفی کا سر میرے لیفٹ کندھے پر تھا ۔۔۔۔بے اختیار میرے ہونٹوں نے عفی کی گردن پر داد تحسین ثبت کر دی ۔۔۔ ہونٹوں کا لمس اور سانسوں کی گرمی محسوس کرتے ہی عفی کسمسائی مگر فورا ہی خود کو میرے ساتھ پریس کرنے لگی ۔۔۔ جو اس بات کا اشارہ تھا کہ سرکار ۔۔ آگے بڑھیں ۔۔
    عفی کے رد عمل سے تقویت پاتے ہی میں نے عفی کے بھاری بوبز پر ہاتھوں کا دباو بڑھاتے ہوئے گردن پر بوسوں کی بارش کر دی ۔۔۔پھر بوسوں سے آگے بڑھتے ہوئے عفی کا دایاں کان اپنے منہ میں لے لیا ۔۔ ہلکے ہلکے بائٹس کے بعد کان کی لو کو چوسنے لگا تو عفی مچلنے لگی ۔۔۔ جسے قابو کرنے کے لیئے میں نے عفی کے بوبز کا مساج شروع کر دیا ۔۔۔۔ اور انہیں نرمی سے مسلنے لگا ۔۔۔ عفی کی آوازیں بے لگام ہونے لگی تو میں نے اسے سرگوشی کرتے ہوئے کنٹرول میں رہنے کا بولا ۔۔
    اٹس ویری ایکسائٹنگ نا ۔۔۔ عفی نے لفظ چباتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ کان کی لو بدستور چوستے ہوئے میں نے دونوں ہاتھ شرٹ کے اندر ڈال کر برا کو اوپر کی طرف کھسکا کر بوبز کو پکڑ لیا ۔۔۔ بوبز کو ٹچ کرتے ہی ہم دونوں کے جسموں کو ایکساتھ جھٹکا لگا ۔۔۔ عفی نے اپنی گانڈ میرے لن پر مسلنی شروع کر دی جبکہ عفی کے دونوں نپلز میری شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے بیچ رگڑا کھا رہے تھے ۔۔
    عفی کے بوبز کی ایک خاص بات جو مجھے محسوس ہوئی وہ ۔۔نرمی اور سختی کا حسین امتزاج تھا ۔۔ نا اتنے نرم تھے کے لٹکے ہوئے ہوں اور نا اتنے سخت تھے کے لطافت کا احساسہل ہی نا ہو ۔۔۔ دبانے پر نرمی سے دب جاتے اور چھوڑنے پر دوبارہ اپنی جگہ تن جاتے ۔۔۔۔۔ سائز اتنا متوازن تھا کہ ہاتھ مسلسل مٹھی میں بھرنے کے جتن کر رہا تھا ۔۔ مگر پوری مٹھی میں آ بھی نہیں رہے تھے ۔۔
    عجیب تشنگی تھی، سرور و مستی کی لہریں پورے جسم میں دوڑتی پھر رہی تھی ۔۔۔
    اوو یسسسس ۔۔۔ مائی سویٹ ہارٹ ۔۔۔ آااااھ ۔۔۔۔ عفی کی مسلسل شہوت انگیز سسکاریاں میرے لن کو انڈروئیر کی دیواریں پھاڑنے پر اکسا رہی تھی ۔۔جتنا سختی کی وجہ سے لن کا زور باہر کی طرف تھا ۔۔۔۔ عفی اتنا ہی اپنی گانڈ پیچھے کو دبا رہی تھی ۔۔۔

    اندھیرے میں اندھیرے کا حصہ بنے کھلی جگہ پر فور پلے کا اتنا انوکھا مزہ میری زندگی کا خوبصورت ترین تجربہ تھا ۔۔۔

    ایک ہاتھ بوبز پر مصروف رکھتے ہوئے دوسرا ہاتھ دھیرے دھیرے کرالنگ کرتا ہوا عفی کے ٹراوزر میں کھسا دیا ۔۔۔عفی نے پینٹی نہیں پینی تھی تو ناف سے ہاتھ نیچے جاتے ہی مجھے ایسے لگا گویا ہاتھ مکھن کے گولے پر رکھ دیا ہو ۔۔ اس قدر ملائم اور نرم کہ میں نے بے اختیار دوسرا ہاتھ عفی کے ناف پر جماتے ہوئے عفی کی گانڈ کو اپنے لن پر دبا لیا ۔۔۔۔۔
    عفی میری جان ۔۔۔ یو آر سو سیکسی ۔۔۔۔سسسسسسسسسسسی ۔۔۔۔مزے کا کوئی اور ہی جہاں تھا اس وقت جہاں میں اڑتا ، ڈوبتا پھر رہا تھا ۔۔
    دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے عفی کے نرم گوشت کو سہلاتے ہوئے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سفر کرانا شروع کیا تو جذبات کے الاو میں بھڑکتے ہوئے عفی نے دونوں ہاتھ ٹراوز کے اوپر سے ہی میرے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔۔۔اور بے طرح سے دبی دبی آواز میں کراہنے لگی ۔۔

    راج ۔۔۔ تم بہت ظالم ہو ۔۔ بہت ٹیز کرتے ہو ۔۔۔بٹ آئی لو وے یو آر ٹیزنگ میری جان ۔۔۔ عفی کی مزے میں چور سسکتی ہوئی آواز نے جلتی پر تیل ڈالا ۔۔
    میری انگلیوں کے پور عفی کی چوت کی ڈھلوان تک پہنچ چکے تھے ۔۔۔ چوت کے کریک کے اوپری سرے کو درمیانی انگلی سے ہلکا سا مسلنے کے بعد میں ہاتھ کو چوت کی سائیڈ سے سیدھا کھڑا نیچے لے گیا ۔۔ اور تھوڑا خم دے کر درمیانی انگلی کے سرے کو چوت اور گانڈ کے درمیان ہلکا ہلکا دباتے ہوئے دوسرا ہاتھ بھی اسی طرح سائیڈ سے نیچے لے جا کر انگلیوں کو آپس میں ملا دیا ۔۔۔پھر جس طرح دونوں ہاتھ نیچے لے گیا تھا ۔۔ بالکل اسی طرح چوت کی سائیڈیں دباتے ہوئے دونوں ہاتھ ایکساتھ اوپر تک لے آیا ۔۔
    عفی کے جسم نے مزے کی بھرپور پھریری لی اور زوردار گہری سسکی لیتے ہوئے دونوں بازوں پیچھے کر کے میری گردن کے گرد حائل کر لیئے۔۔
    اب صورتحال یہ تھی میں گاڑی سے چمٹا کھڑا تھا ۔۔ جبکہ عفی پشت کے بل میرے سینے پر چپکی ہوئی تھی ۔۔ اور اس کے دونوں بازو اوپر اٹھے ہونے کی وجہ سے بوبز کی اٹھان میری آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔۔ جبکہ لن عفی کی گانڈ پر ٹکریں مار رہا تھا۔۔ اور دونوں ہاتھ عفی کی چوت کا ہالا بنائے دہک رہے تھے ۔۔
    بازو یہاں سے ہٹانا نہیں اور ٹانگوں پر کھڑی رہنا ۔۔ میں نے عفی کو ہدایات دی ۔۔
    اب دونوں ہاتھوں کو پھر ایک ساتھ اسی پیٹرن پر چوت کی سائیڈوں کو رگڑتے ہوئے نیچے لے گیا ۔۔ میں دانستہ چوت کو نہیں چھیڑ رہا تھا ۔۔۔۔اس وقت ٹیزنگ سے جو کیفیت عفی تھی وہ بالکل ایسے ہی تھی جیسے شدید پیاسے کو پانی کا گلاس دے کر منہ پر ٹیپ چپکا دی جائے اور ہاتھ پیچھے باندھ دیئے جائیں۔۔۔
    ہاتھوں کی حرکت کو آہستہ آہستہ تیز کرتا گیا ۔۔۔۔اور پھر پیٹرن تبدیل کرتے ہوئے پیڈل کی طرح چلانے شروع کر دیئے ۔۔ یعنی ایک ہاتھ اوپر کی طرف اور دوسرا نیچے کی طرف ۔۔۔ دوران حرکت عفی کی چوت کی سائیڈوں کے نرم گوشت کو انگلیوں اور انگوٹھے کے بیچ مسل بھی دیتا ۔۔۔ عفی کا جسم اور ٹانگیں لرزنا شروع ہو گئی تو میں نے دونوں ہاتھوں کو چوت کی سائیڈ پر فکس کرتے ہوئے صرف انگلیوں کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا ۔۔ عفی کی سانسیں اب دھونکنی کی طرح چل رہی تھی ۔۔۔لرزتے لرزتے اچانک عفی تڑپی اور گھوم کر رخ میری طرف پھیرتے ہوئے بیتابی سے میرا سر پکر کر چہرہ اپنی طرف جھکایا اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جوڑ دیئے ۔۔ انگارہ بنے ہونٹوں اور زبان کو چومتے ہی میرے جسم کو ہلکے ہلکے جھٹکے لگنا شروع ہو گئے ۔۔ عفی کے گرد اپنے بازو کی گرفت مضبوط کرتے ہوئے میں نے بھی عفی کے سیکسی رسیلے ہونٹ اور زبان چوسنا شروع کر دیئے ۔۔عفی اس قدر زور سے میرے ہونٹ چوس رہی تھی کہ ایکبار مجھے لگا میرے ہونٹ پھٹ گئے ہوں ۔۔ اتنی ہی بے صبری سے اپنی چوت کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔
    میں اپنے ہاتھوں کو عفی کی گانڈ پر لے گیا اور اس کے مست بھربھرے ہپس کو زور سے پھنچ ڈالا ۔۔۔ عفی زور سے تڑپی مگر میں نے اس کا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا رکھا تھا ۔۔۔تو زور سے اوووون ہی کر سکی ۔۔۔۔
    پھر ویسے ہی میرے ہاتھوں نے عفی کی گانڈ کے گرد ہالا بنا کر چلنا شروع کر دیا ۔۔ چلتے چلتے کبھی ہاتھوں سے عفی کی دونوں پھانکین پھیلا دیتا تو عفی کی گانڈ اسٹریچ ہو جاتی ۔۔۔ کبھی عفی کے ہپس زور سے اوپر کی طرف ایکساتھ کھینچ لیتا تو عفی لن پر چوت کا دباو بڑھا دیتی ۔۔
    عفی کے گانڈ کے کریک میں ہاتھوں کی حرکت تیز ہوئی تو عفی کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر ٹائیٹ ہونے لگے ۔۔۔ پھر جب دونوں ہاتھ عفی کی گانڈ کے کریک میں پھنسا کر گانڈ کے سوراخ کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے بیچ رگڑا تو عفی کی اوووں اوووں چیخوں میں بدلنے لگی ۔۔۔ اور جسم پر لرزہ بڑھنے لگا ۔۔۔لرزہ تیز تر ہوتے ہوئے اچانک عفی نے جھٹکے کھاتے ہوئے مجھے زور سے جکڑ لیا۔۔ میرے ہاتھ بھی گانڈ کی گہرائی میں اترتے ہوئے چوت کی سرحد تک پہنچ گئے ۔۔تو عفی کی چوت کے پانی سے انگلیاں بھر گئی ۔۔ابھی میری انگلیاں چوت کی کریم پر پھسلنا شروع ہی ہوئی تھی کہ عفی نے ہونٹ الگ کرتے ہوئے میرے سینے پر دانت جما دیئے ۔ ساتھ ہی اسکی گانڈ اور ٹانگوں کے مسلز ڈھیلے سخت ہونے لگے۔۔ عفی آرگیزم کے حسین لمحات سے سرشار ہو رہی تھی ۔۔۔ میں نے ہلکا ہلکا سہلانا جاری رکھا ۔۔جب عفی نارمل ہو گئی تو سائیڈ پر ہو کر گاڑی سے ٹیک لگا کر ایک ہاتھ ماتھے پر رکھ کر کھڑی ہو گئی۔
    میں نے گاڑی ان لاک کی اور عفی کا سہارا دے کر فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر سیٹ تھوڑی پیچھے کر دی ۔۔۔ اور خود گھوم کر فرنٹ سیٹ پر آ کے بیٹھ گیا ۔۔۔ کنسول میں کھجوریں پڑی تھیں ۔۔ خود بھی کھائی اور عفی کے چہرے سے بازو ہٹا کر ایک اس کے منہ میں ڈال دی ۔۔ عفی نے مسکرا کر مجھے دیکھا تو میں نے بے اختیار آگے ہو کر عفی کے ہونٹوں پر کس کر دی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
    Last edited by Story Maker; 13-11-2019 at 12:59 PM.

  6. The Following 2 Users Say Thank You to اداس منا For This Useful Post:

    Lovelymale (13-11-2019), Story Maker (14-11-2019)

  7. #4
    Join Date
    Oct 2019
    Posts
    48
    Thanks Thanks Given 
    20
    Thanks Thanks Received 
    31
    Thanked in
    29 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    good

  8. #5
    Join Date
    Jul 2019
    Posts
    28
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    32
    Thanked in
    22 Posts
    Rep Power
    4

    Default

    Good start keep it up

  9. #6
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    40
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    34
    Thanked in
    25 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    Awesome start
    👍👍👍

  10. #7
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    81
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    76
    Thanked in
    59 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    Buht khoob 👌 👍
    Aisi story parh k buht acha laga
    Please keep it up

  11. #8
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    219
    Thanks Thanks Given 
    405
    Thanks Thanks Received 
    415
    Thanked in
    189 Posts
    Rep Power
    177

    Default

    zaberdast agaz. Waiting next

  12. #9
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    38
    Thanks Thanks Given 
    94
    Thanks Thanks Received 
    6
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    p;ot boht acha hy is py aap boht achi se long story likh sakty hain

  13. #10
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    Qatar
    Posts
    9
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    15
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Bohat zabardast kahani hey

  14. The Following User Says Thank You to evilgenius85 For This Useful Post:

    omar69in (09-11-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •