اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 5 12345 LastLast
Results 1 to 10 of 43

Thread: میرے بیتے دنوں کی یادیں

  1. #1
    Join Date
    Oct 2019
    Posts
    14
    Thanks Thanks Given 
    22
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default میرے بیتے دنوں کی یادیں

    مجھے آپ ملک کے نام سے پکار سکتے ہیں۔ پرائیویسی کی وجہ سے اپنا اصل نام نہیں مینشن کر سکتا۔ میرا تعلق لاہور سے ہے۔ اکثر انٹرنیٹ پر سیکسی کہانیاں پڑھتا رہتا تھا اور یوں ایک دن شیخو بھائی کی ایک بھولی ہوئی داستان کے تعاقب میں ایک ویب ساٹ سے ہوتا ہوا اردو فنڈا تک آن پہنچا۔ اور پھر یہاں مزید کہانیاں بھی نظر سے گزریں۔ شیخو بھائی کے علاوہ شاہ جی کی کہانیوں نے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ سوچا کہ اپنی کہانیاں بھی اس فورم کا حصہ بناؤں۔ اب کیسی کہانیاں لکھ سکتا ہوں یہ آپ لوگوں کا فیڈ بیک ہی بتائے گا۔ اگر پسند آئیں گی تو مزید لکھنے کی مشق جاری رہے گی اور ذہن میں جو چند پلاٹ اور چند واقعات ہیں ان پر طویل کہانیاں بھی لکھوں گا۔ تمہید لمبی ہو گی پہلی کہانی کی طرف چلتا ہوں۔
    میں ایک مشہور کمپنی میں ملازمت کر تا رہا ہوں۔ طبیعت ایسی ہے کہ کسی کی فضول بات برداشت نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے اپنے سینئر کے ساتھ تو تو میں میں ہو گئی اور نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ نوکری سے فارغ ہوا تو ٹینشن ہوئی کہ اب گزارہ کیسے ہوگا؟ میری فیملی لاہور کے قریب ہی ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ لاہور میں اکیلا میں ہی نوکری کے سلسلے میں مقیم تھا اور کسی ہاسٹل میں ٹھہرنے کی بجائے ایک چھوٹا کمرہ کرائے پر لے رکھا تھا۔
    انہی دنوں پریشانی میں میری ملاقات ایک دوست رحیم سے ہوئی۔ اس دوست کے بارے میں بتاتا چلوں کہ میری طرح مضافاتی گاؤں سے تھا۔ لاہور سے ملتان کی طرف جاتے ہوئے پتوکی سے پہلے پھولنگر نامی ایک علاقہ ہے اس کے پاس اس کا گاؤں ہے۔ وہاں کی اکثریت غریب آبادی اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری کرتی ہے۔ اور جن لوگوں کو اس بھٹہ مالکان کے مزدوروں کے گرد قرضے کے بچھائے جال کا اندازہ ہو گا وہ جانتے ہیں کہ ایک بار بھٹہ مالکان کے قرض کے چنگل میں پھنسا مزدور مشکل سے ہی ان سے رہائی پاتا ہے۔ میرا وہ دوست لاہور میں گھروں میں کام کرنے کے لیے ملازمائیں مہیا کرتا تھا۔ کچھ جاننے والے اور مزید آگے ان کے ریفرینس سے ملنے والے گھروں کو اپنے ایریا سے مختلف بھٹہ مزدوروں کی کام والی لڑکیاں لا کر ملازمہ کے طور پر دیتا تھا۔ بھٹہ مزدوروں کو ایک تو پیسے ایڈوانس میں مل جاتے تھے اور دوسرا اس مزدوری کی نسبت زیادہ ہوتے تھے اس لیے وہ خوشی خوشی میرے دوست کے ساتھ اپنی لڑکیاں ملازمت کے لیے بھیج دیتے تھے۔ دوسرا چونکہ وہ وہاں کا رہائشی بھی تھا اور گھر بار بھی وہیں تھا تو بھروسہ بھی تھا۔ مہینے بھر میں دو تین ملازمائیں بھرتی کروا کر وہ میری تنخواہ سے زیادہ پیسے کما لیتا تھا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اس کی رکھوائی ہوئی کوئی لڑکی چار پانچ ماہ سے زیادہ کسی کوٹھی میں ٹکتی بھی نہ تھی۔ اور وہ اسے وہاں سے ہٹوا کر کسی اور نئے گھر میں لگوا دیتا اور یوں ادلا بدلی میں کمیشن نکال لیتا۔
    جب اسے میری بے روزگاری کا پتہ چلا تو کہنے لگا کہ اس کی طرح میں بھی کوئی اپنا چھوٹا موٹا کام شروع کر لوں۔ بلکہ اس نے مجھے آفر دی کہ اس کے ساتھ مل کر کام کروں۔ جو کلائنٹ میں ڈھونڈوں گا اس میں کمیشن آدھا آدھا کر لیا کریں گے اور جو کلائنٹ اس کا ہو گا وہ کمیشن سارے کا سارا اس کا۔ مجھے کام دلچسپ لگا کہ سارا دن گھر بیٹھے موبائل پر ہی ڈیلنگ ہے تو اگر مہینے میں تین چار کلائنٹ مل جائیں تو تنخواہ کے برابر رقم تو نکل ہی آئے گی۔ رحیم چونکہ اتنا زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا۔ میرے لیے مارکیٹنگ کرنا زیادہ آسان کام تھا۔ اس سے بات اور چند چیدہ چیدہ باتیں سمجھ کر میں نے اسی وقت سے کام کرنے کا ڈن کر لیا۔ شام کو گھر آ کر میں نے انٹرنیٹ پر او ایل ایکس اور اسی طرح کی تین چار مختلف ویب سائٹس پر فری ایڈز لگا دیے کہ گھریلو کام کاج کے لیے ملازمائیں دستیاب ہیں۔ اور ساتھ ہی اپنا ایک پرانا نمبر نکال کر اسے ایکٹیو کر کے اشتہار کے ساتھ وہ نمبر دے دیا۔ اب میرا کمرہ ہی میرا آفس بن گیا۔ ایک ڈائری میرا ریکارڈ روم بن گئی۔ اگلے دن مجھے دن گیارہ بجے کے قریب ماڈل ٹاؤن لاہور سے ایک خاتون کی کال موصول ہوئی۔ اسے گھر میں اپنی ہیلپ کے لیے دس بارہ سال کی بچی کی ضرورت تھی۔ اس کی ڈیمانڈز وغیرہ نوٹ کرنے کے بعد میں نے اسے کہا کہ جی لڑکی مل جائے گی (حالانکہ مجھے ابھی تک یہی نہیں پتہ تھا کہ رحیم بندوبست کر لے گا یا نہیں لیکن کلائنٹ کو جواب نہیں دیا جاسکتا تھا) میں آپ کو شام تک اپڈیٹ کرتا ہوں۔ اس کال سے فری ہو کر میں نے رحیم کا نمبر ملایا اور اسے بتایا کہ ماڈل ٹاؤن میں ایک دس بارہ سال کی بچی کی ضرورت ہے جو خاتونِ خانہ کو گھر کے کاموں میں مدد کر سکے۔ وہ پہلے تو حیران ہوا کہ اتنی جلدی کلائنٹ کیسے مل گیا پھر اس نے مجھے کہا کہ وہ بھی دو تین گھنٹے تک بتاتا ہے کہ لڑکی کب تک ملے گی۔
    تین گھنٹے تک رحیم نے اپنے گاؤں سے آٹھ ہزار ماہانہ پر ایک تیرہ سال کی لڑکی کا بندوبست کر لیا۔ اور لڑکی کے ماں باپ اسے لے کر لاہور آگئے۔ شام کو میں نے اسی نمبر پر کال کی اور خاتون کو بتایا کہ لڑکی کا بندوبست ہو گیا ہے۔ اس نے ہمیں بلوا لیا۔ ہم نے رکشہ کروایا اور لڑکی کی ماں لڑکی اور رحیم کو بٹھایا اور ماڈل ٹاؤن سی بلاک چلے گئے۔ وہاں جا کر خاتون سے معاملات طے ہوئے اور لڑکی تین دن کے لیے ابتدائی طور پر اس نے اپنے پاس رکھی کہ پہلے وہ تین دن چیک کرے گی۔ اگر لڑکی نے ٹھیک کام کیا تو وہ اس کی دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دے دے گی۔ اور اسی وقت ہماری کمیشن بھی مل جائے گی۔ ہم واپس آگئے۔ تین دن بعد ہمارا کمیشن اور لڑکی کی ایڈوانس تنخواہ مل گئی۔ رحیم نے پہلی ڈیل کا سارا کمیشن مجھے دے دیا کہ پہلی ڈیل مبارک ہو سارا کمیشن تم رکھ لو۔ میں نے آدھا کمیشن دینے کی کوشش بھی کی لیکن نہیں مانا۔ میں نے اس میں سے اخراجات کی رقم رحیم کو ادا کر دی اور لڑکی کی ماں کو آنے جانے کا کرایہ بھی دیا۔ اور رحیم کو کہا کہ پہلی ڈیل کی خوشی میں کھانا میری طرف سے۔ اخراجات نکال کر ساڑھے چھ ہزار روپے میری جیب میں تھے۔ میرے لیے خوشگوار احساس تھا کہ اتنی سی محنت سے بھی زیادہ پیسے مل جاتے ہیں۔ میں نے اور رحیم نے مل کر اچھے سے ہوٹل سے کھانا کھایا۔ اور مستقبل کے سہانے سپنے دیکھتے رہے۔ میں نے اسے بتایا کہ کیسے یہ کلائنٹ مجھے انٹرنیٹ سے ملا ہے۔ وہ کچھ سوچ میں پڑ گیا۔ اور کہنے لگا یار ملک یہ کام بڑے اچھے لیول پر ہوتا ہے۔ باقاعدہ آفسز بنا کر۔ میں چونکہ پڑھا لکھا نہیں ہوں تو اس لیے فون پر کرتا پھر رہا ہوں۔ تم پڑھے لکھے ہو تو کیوں نہ اس کو مستقبل میں ایک دفتر بنا کر ففٹی ففٹی کی پارٹنرشپ پر کر لیں۔ اس کی تجویز پر میں بھی سوچ میں پڑ گیا۔ اور پھر حامی بھر لی کہ کام تو اچھا ہے۔ ہمارا اپنا آفس ہو گا تو کلائنٹ اعتبار بھی زیادہ کریں گے۔ فی الحال ہم نے آفس کو مستقبل میں مزید پیسے آنے تک ملتوی کر دیا اور رات گئے۔ میں اپنے کمرے میں آگیا۔ اردو فنڈا پر کہانیاں پڑھ کر گرم ہوتا رہا۔ اور سوچتا رہا کہ کبھی تو کوئی لڑکی ہاتھ لگے اور اس کی چوت سے اپنی پیاس بجھاؤں۔ لیکن کب ملے گی یہ پتہ نہ تھا۔
    کچھ عرصہ میں اور رحیم یوں ہی اپنا کام کرتے رہے ۔ تین مہینے کے بعد میں اور رحیم مل کر اس قابل ہو گئے کہ ایک مارکیٹ کے اوپر دو کمروں کو کرائے پر لے کر آفس بنا سکیں۔ دو کمرے لے کر میں نے اپنا کمرہ چھوڑ کر سامان ادھر ہی شفٹ کر لیا۔ ایک نیلام گھر سے پرانا میزاور چند کرسیاں خرید لیں اور دفتر کا ماحول بنا لیا۔ دونوں کمرے آگے پیچھے تھے۔ پیچھے والے کمرے میں قالین بچھا کر میں نے میٹرس بچھا لیا اور اپنا روم سیٹ کر لیا۔ اس دوران میں بھی کام کو اور کلائنٹ کے ساتھ ڈیلنگ کو اچھے طریقے سے سیکھ چکا تھا۔ کلائنٹ کو کیسے مطمئن کرنا ہے۔ لڑکیوں کی گارنٹی کیسے دینی ہے ؟ یہ سب داؤ پیچ میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکے تھے۔ ہمارے پاس جو لڑکیاں کام کرنے کے لیے آتیں تھیں ان کی کم از کم عمر 13 14 سال ہوتی تھی اور شادی شدہ خواتین بھی ہوتی تھیں۔ کچھ گھروں کی ڈیمانڈ اس سے چھوٹی بچیاں بھی ہوتیں تھیں ۔ ایک تو ان کی تنخواہ کم دینا پڑتی تھی دوسرا اپنے دباؤ میں رکھنا آسان ہوتا ہے لیکن ہم نے اپنا ایک اصول بنا رکھا تھا کہ 13 14 سال سے کم عمر لڑکی کو کام پر نہیں لگوانا۔ چاہے اس کے ماں باپ کہیں یا کوئی کلائنٹ جتنی مرضی ڈیمانڈ کرے۔ اس کام میں کچھ گھرانے تو ہمارے مستقل کلائنٹ بن چکے تھے ۔ وہ اس طرح کہ بعض گھروں میں ایک سے زیادہ ملازمائیں درکار ہوتی تھیں۔ کچھ ایسے گھرانے بھی تھے جن کے آگے رشتے داروں کو بھی ملازمائیں درکار ہوتیں تو وہ ہمیں ریفر کر دیتے۔
    ہمیں یہ کام کرتے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا تھا ۔ اس دوران ہم نے ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل بھی لے لی تھی۔ رحیم اکثر لڑکیوں کو موٹرسائیکل پر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ چھوڑ آتا ۔ اگر لڑکی کی ماں یا گھر میں سے کسی نے ساتھ جانا ہوتا تو پھر کبھی رکشہ بھی کروا لیا جاتا۔ ایک دو رکشے والے بھی ہمارے مستقل واقف بن چکے تھے۔ یہاں تک کہ ہم انہیں فون کر کے کسی گھر کا ایڈریس بتاتے کہ وہاں سے لڑکی کو پک کرنا ہے یا ڈراپ تو وہ کر دیتے۔
    ہمارے پاس کوئی بیس لڑکیاں مستقل تھیں جو ایک سے دوسرے کلائنٹ کے پاس ہم بھیجتے رہتے تھے۔ ان سب سے میری بھی اچھی خاصی جان پہچان ہو چکی تھی۔ میں زیادہ تر آفس میں بیٹھتا تھا اور کلائنٹ کے پاس لڑکیوں کو لینے یا ان کو چھوڑنے رحیم جایا کرتا تھا۔ اتنی لڑکیوں کو نوکری پر رکھواتے تھے اور ان سے ملتے تھے تو اکثر کی فگر دیکھ کر ہی کھڑا ہو جاتا اور دل کرتا کہ اس کو تو اپنے پاس رکھ لو اور ٹکا کر چوت مارو۔ ان میں سے دو لڑکیاں دو سگی بہنیں تھیں۔ بڑی کا نام نائلہ اور چھوٹی کا نام سدرہ۔ بڑی والی کا مال و اسباب بھی بڑا بڑا تھا۔ کوئی 38 سائز کے ممے تھے، گانڈ بھی 38 کی تھی۔ عمر اس کی یہی کوئی 30 کے لگ بھگ تھی۔ لیکن ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی۔ چھوٹی سدرہ کی عمر 18 سال تھی۔ اس کا جسم مناسب تھا۔ ممے 32 سائز کے تھے اور گانڈ بھی اتنی ہی تھی۔ تھیں دونوں ہی بہت بولڈ۔ ہمارے پاس آنے سے پہلے ہی وہ کسی اور سروس پروائڈر کے پاس کام کرتی رہی تھیں۔ امیر گھرانوں میں کام کر کر کے امیروں والے اطوار سیکھ چکی تھیں۔ اوپر سے امیر گھروں میں کام کرتے کرتے ان کےا ترے ہوئے کپڑے انہیں ملتے تو وہ پہن پہن کر لگتا نہیں تھا کہ گھروں میں کام کرنے والیاں ہیں۔ نائلہ کوکنگ کا کام جانتی تھی۔ ہمارے جو کلائنٹ اچھے تھے ان کو ہم نائلہ کی سروسز دیتے تھے۔
    ایک جاننے والے کلائنٹ کے رشتہ دار امریکہ سے آئے ہوئے تھے نائلہ ان دنوں ان کے گھر پر کھانے پکانے پر تھی ۔ وہ صرف دو ماہ کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے کی شادی پاکستان میں تھی۔ دو ماہ بعد انہوں نے پاکستان جانا تھا۔ نائلہ چونکہ ان کے رشتے داروں کے ہاں ایک دفعہ کام کر چکی تھی اس لیے بطور خاص انہوں نے نائلہ کی ڈیمانڈ کی کہ کھانے پکانے کے لیے نائلہ ہی چاہیے۔ ہم نے کافی کہا کہ وہ ایک اور جگہ کام کر رہی ہے لیکن انہوں نے ڈبل کمیشن دینے کا کہا۔ رحیم نے پہلے والی جگہ پر کوئی بہانہ لگایا اور دو مہینے کے لیے نائلہ کو وہاں سے نکال لیا۔ اور نائلہ کی جگہ وہاں کوئی اور لڑکی دے دی تھی۔ رحیم گاؤں گیا ہوا تھا اور میں دفتر میں اکیلا تھا۔ رات ہو رہی تھی ۔ دفتر کا وقت ویسے تو ختم ہو چکا تھا لیکن چونکہ اپنا کام تھا دوسرا گھر تو تھا نہیں دفتر کے پیچھے ہی میرا کمرہ تھا اس لیے دفتر کی کرسی پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو وہی لوگ تھے جن کے رشتے دار امریکہ سے آئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ملک یار نائلہ کو پک کر لو ہمارے رشتے دار تین گھنٹے تک کراچی کے لیے نکل رہے ہیں اور ہیں سے وہ امریکہ چلے جائیں گے۔ ڈیل کے مطابق تو نائلہ کو اگلے دن پک کرنا تھا لیکن اچانک ایک دن قبل کا سن کر میں پریشان ہو گیا۔ اور رحیم کو فون کیا۔ اور اسے ساری صورتحال بتائی۔ وہ بھی پریشان ہوگیا۔ پھر کہنے لگا دیکھ ملک یار اسے وہاں سے پک تو کرنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ لوگ تو نکل رہے ہیں۔ اسے دفتر تک تو لا۔ باقی پھر دیکھتے ہیں۔ گاؤں لانا تو ممکن نہیں کہ اس وقت گاڑی نہیں ملے گی۔ خیر میں نے رکشے والے کو فون کیا اور اسے ایڈریس سمجھایا کہ فلاں جگہ سے لڑکی کو پک کر کے آفس لے آؤ۔ نائلہ آفس پہنچی ۔ میرے سے عمر میں دو تین سال بڑی ہی تھی۔ کافی بار کی ملاقات کی وجہ سے فرینک بھی تھی۔ مجھے اکیلے دیکھ کر کہنے لگی ۔ اج تے کلے ای بیٹھے او خیر اے۔ میں نے جب اسے بتایا کہ رحیم گاؤں گیا ہوا ہے تو اسے جھٹکا لگا۔ اور کہنے لگی کہ میں اس وقت کہاں رکوں گی۔ (رحیم شادی شدہ ہے اور لاہور میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر ایسا کبھی مسئلہ بن جاتا تو لڑکیاں اس کے گھر میں رک جایا کرتی تھیں)۔ میں نے کہا یہی تو مسئلہ ہے۔ گاؤں تم جا نہیں سکتی کہ گاڑی نہیں ملے گی۔ ان لوگوں نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ اگلا کلائنٹ بھی نہیں جہاں تمہیں آج ہی بھجوایا جاسکے۔ رحیم کو دوبارہ فون کیا تو اس نے کہا میری نائلہ سے بات کرواؤ۔ نائلہ سے بات کروائی تو پہلے تو وہ اس کی بات سن کر ہتھے سے ہی اکھڑ گئی کہ نہیں نہیں میں کیسے رہ سکتی ہوں ۔ لیکن کافی دیر کی بحث کے بعد وہ کچھ نیم رضا مند ہوگئی اور فون میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے رحیم سے پوچھا کہ ہاں کیا بندوبست کیا۔ تو کہنے لگا ملک یار نائلہ آفس میں ہی رکے گی۔ میں چکرا گیا اور کہنے لگا یار تو پاگل ہے۔ وہ آفس میں کیسے رہے گی میں یہاں اکیلا ہوتا ہوں۔ لیکن بات اس کی بھی ٹھیک تھی کہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ میں نے فون بند کیا اور نائلہ کی طرف دیکھا۔ وہ تھوڑی پریشان اور گبھرائی ہوئی نیچے دیکھ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کھانا کھایا۔ کہنے لگی نہیں وہاں سے کھانا نہیں کھا کر نکلی۔ میں نے کہا تم بیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔ بلکہ دروازہ بند کر کے جا رہا ہوں تم پیچھے کمرے میں چلی جاؤ۔ اور وہاں جا کر بیٹھو۔ وہ اٹھی اور کمرے میں چلی گئی۔ میں تھوڑی دیر بعد اٹھا اور کھانا لینے کے لیے باہر نکلا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ اندر کمرے میں میرے ٹراؤزر میں پیسے پڑے ہیں کہیں میری غیر موجودگی میں نائلہ وہ ہی نہ نکال لے۔ ان کام والیوں کا بھروسہ نہیں۔ کیونکہ اکثر کلائنٹس سے شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ کچھ رقم غائب ہوگئی۔ یہ ذہن میں آتے ہی میں آفس میں آیا اور پیچھے کمرے کی طرف بڑھا۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور کمرے کا دروازہ کھولتے ہی میرے نظر جب سامنے نظارے پر پڑی تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا
    جب میں دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو نائلہ نے اپنی قمیض اتاری ہوئی تھی اور دوسری قمیض پہننے والی تھی۔ وہ میرے سامنے صرف شلوار اور سکن کلر کے برا میں کھڑی تھی جس میں اس کے 38 سائز کے ممے زبردستی قید کیے ہوئے تھے۔ دروازہ کھلتے ہی اس کی بھی نظر میری طرف پڑی اور وہ بھی ٹھٹھک کر رہ گئی۔ چند لمحے نہ اسے سمجھ آئی نہ مجھے کہ کریں تو کیا کریں۔ یہ نظارہ دیکھ کر ٹراؤزر میں میرے لن نے فوراََ سے پہلے تمبو بنا دیا۔ اچانک اسے ہوش آیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑی قمیض اپنی چھاتی کے آگے کر لی اور اسی دوران اس کی نظر میرے ٹراؤزر میں بنے تمبو پر پڑی اور پھر حیرت سے اس کی سٹی گم ہو گئی۔ اسی دوران مجھے احساس ہوا تو میں بولا وہ میں پیسے لینے کمرے میں آیا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا تم کپڑے بدل رہی ہو گی۔ اتنا کہہ کر میں نے دروازہ بند کر دیا۔ ایک منٹ بعد ہی اس نے قمیض پہن کر دروازہ کھول دیا کہ پیسے لے لوں۔ اب وہ مجھے سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔ میں نے ٹراؤزر کی جیب سے پیسے نکالے اور باہر آگیا۔ تاکہ کھانا لاسکوں۔ کھانا لا کر کھانے کے دوران بھی میرے ذہن میں مسلسل اس کے ممے گردش کرتے رہے۔ ہمارے درمیان مکمل خاموشی تھی۔ پھر میں نے ہی بات شروع کی کہ نائلہ دیکھو جو ہوا غلطی سے ہوا۔ پلیز رحیم کو اس کے بارے میں نہ بتانا۔ سر جھکا کر وہ بولی جی ٹھیک ہے۔ ویسے بھی غلطی سے ہوا آپ نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا۔
    رات ہوئی تو مسئلہ ہوا کہ سونے کا بندوبست کیسے کیا جائے؟ میری عادت ہے کہ مجھے اپنے بستر کے علاوہ ٹھیک سے نیند نہیں آتی۔ میں نے نائلہ سے کہا کہ سونے کا کیا کیا جائے تو کہتی جیسے آپ کو مناسب لگے۔ میں نے تجویز پیش کی کہ چونکہ کمرہ تو ایک ہی ہے وہ دوسرا بستر لے کر کمرے کے دوسرے کونے پر اپنا بستر بچھا لے اور وہاں سو جائے۔ اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا۔ کیونکہ دفتر والے حصے میں تو بستر لگانا ممکن نہیں تھا۔ ایک تو وہاں جگہ کم تھی دوسرا شیشہ لگا ہونے کی وجہ سے باہر سے روشنی اندھر آتی تھی اور یوں باہر سے اندر کا نظارہ بھی نظر آتاتھا۔ سو نائلہ نے گدا اٹھایا اور دوسرے کونے میں بستر بچھا لیا اور وہاں لیٹ گئی۔ واش روم اسی کونے میں تھا جہاں اس نے بستر کیا تھا۔ میں نے حسبِ معمول موبائل پر انٹرنیٹ آن کیا اور فیس بک سکرول کرنا شروع کر دی۔ نائلہ کی طرف کچھ دیر بعد دیکھا تو اس کی آنکھیں بند تھیں ۔ اب پتہ نہیں وہ سو چکی تھی یا نہیں۔ کمرے میں زیرو واٹ کا بلب روشن تھا۔ اچانک میری نظر سوئی ہوئی نائلہ پر پڑئی۔ اس نے اپنا ایک بازو اپنی آنکھوں پر رکھا ہوا تھا اور چت لیٹی ہوئی تھی۔ اور اس کی سانسوں کے ساتھ اس کا پیٹ اور ممے ایک ردھم کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ زیرو واٹ کے بلب کی مدھم روشنی میں یہ منظر دیکھ کر میرے لن میں کھجلی شروع ہو گئی۔ اچانک میری آنکھوں میں نائلہ کا بنا قمیض کے صرف برا میں بدن آگیا۔ جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں کہ نائلہ کے 38 سائز کے ممے ہیں اور اتنی ہی گانڈ ۔ رنگ سانولہ ہے اور قد کوئی پانچ فٹ تین انچ کے پاس۔ عمر تیس کے آس پاس اور غیر شادی شدہ۔ جسم فربہی مائل تھا۔ اس کے مموں کی حرکت نے سیکس کی بھوک کو بیدار کر دیا۔ موبائل پر ٹائم دیکھا تو بارہ بج چکے تھے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس کے ساتھ کس طرح سیکس کیا جائے؟ اگر اس نے شور کر دیا یا کل رحیم کو بتا دیا تو کافی مسئلہ ہوجائے گا۔ لیکن دماغ پر جب سیکس کا بھوت سوار ہو جائے تو پھر سب کچھ کرنے پر بندہ تیار ہو جاتا ہے۔ میں ڈرتے ڈرتے دھیرے سے اٹھا اور اس کے بستر کے پاس جا کر کارپٹ پر لیٹ گیا۔ چیک کرنے کے لیے پہلے تو میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ ٹچ کیا۔ اندر سے میرے دل کی دھڑکن کافی تیز ہوچکی تھی۔ دو تین منٹ تک کوئی ہلچل نہ ہوئی۔ میں نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر رکھ دیا۔ جب اگلے تین چار منٹ میں اس نے پھر کوئی ریسپانس نہ دیا تو میں نے اب آہستہ آہستہ ہاتھ اس کے بازو پر پھیرنا شروع کر دیا۔ اس کے بازو کو ہلکا ہلکا سہلا رہا تھا۔ اندر سے فل ڈرا ہوا بھی تھا کہ کہیں اٹھ کر کام گڑ بڑ نہ کر دے اور شور نہ مچا دے۔
    چار پانچ منٹ مزید اسی طرح کرتے ہوئے میں نے ہمت کی اور اپنا ہاتھ اٹھا کر اس کے کندھے کے پاس رکھ دیا اور اپنی انگلی سے اسکے ممے کو چھیڑنے لگ گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے کروٹ بدلی۔ اس کا کروٹ بدلنا تھا کہ ایک دم میرے ٹٹے شارٹ ہو گئے کہ اٹھ گئی لیکن وہ بنا اٹھے شانت ہو کر لیٹی رہی۔ کروٹ لینے سے دو کام ہوئے۔ ایک تو اس کا منہ میری طرف ہو گیا۔ دوسرا اس کا گلا تھوڑا سا کھل گیا اور مموں کی لکیر (کلیویج) تک میری انگلی کی رسائی ہوگئی۔
    میں نے دوبارہ ہمت کی اور اس کی کلیویج کو ٹچ کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح کرتے کرتے دس منٹ گزر گئے۔ اب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مزید کیا کروں۔ وہ کوئی ریسپانس نہیں دے رہی تھی۔ ادھر ٹراؤزر میں میرا لن ٹراؤزر پھاڑ کر باہر آنے کو تیار بیٹھا تھا۔ میں نے سیکس کی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر سوچا اب جو ہو گا دیکھا جائے گا اس کی قمیض کا دامن پکڑا اور تھوڑا سا اوپر اٹھا کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ ہی اپنا ٹراؤزر نیچے کر کے اپنا سات انچ کا لن باہر نکالا اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس کی مٹھی بند کر دی۔ لیکن اس کی گرفت مضبوط نہ تھی۔ آہستہ آہستہ اس کے پیٹ پر ہاتھ کبھی پھیرنا شروع کردیتا کبھی ڈر کے مارے رک جاتا۔ پھر اس کی ناف میں انگلی پھیرنا شروع کر دی۔ اس دوران میرا فل اکڑا ہوا لن اس کی مٹھی میں جھٹکے کھاتا رہا لیکن اس کی مٹھی جوں کی توں ہی رہی۔ دس سے پندرہ منٹ یوں ہی گذر گئے ہوں گہ جب اچانک اس نے پھر کروٹ بدلی اور پھر چت سیدھی لیٹ گئی۔ اس حرکت کےد وران دو چیزیں ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ میرے لن پر جو اس کا ہاتھ تھا اس کی گرفت پہلے کی نسبت تھوڑی سخت ہوگئی اور اس نے وہ ہاتھ وہاں سے ہلایا نہیں اور دوسرا اس نے سیدھا لیٹتے ہوئے اپنی ایک ٹانگ تو سیدھی ہی رکھی ایک ٹانگ موڑ کر گھٹنا کھڑا کر لیا۔ تھوڑی دیر تو میں مزید ہلچل کا انتطار کرتا رہا لیکن جب اندازہ ہوا کہ وہ سو رہی ہے میں نے ہمت کی اور اس کی شلوار کا نالا کھولنا شروع کر دیا۔ ناڑا کھول کا اس کی شلوار ڈھیلی کر دی اور پھدی کے اوپر والے اور ناف کے درمیان والے حصے پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی اس کی پھدی کی جہاں سے لکیر شروع ہو رہی تھی وہاں رکھ دی۔ اور پھر آہستہ آہستہ دوسرے ہاتھ سے اس کی شلوار اوپر سے اتار ہی دی۔ شلوار اوپر والی سائڈ سے تھوڑی نیچے ہونے کی وجہ سے اس کی پھدی اب ننگی ہو چکی تھی اور نیچے والی سائڈ سے موٹی گانڈ کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔ اب کافی حد تک میرا ڈر بھی ختم ہو چکا تھا۔ کیونکہ اب وہ اٹھتی بھی تو کام تو جو بگڑنا تھا بگڑ چکا ہوتا۔ میں نے ہمت کر کے ہاتھ اس کی پھدی پر رکھا۔ جیسے ہی میرا ہاتھ اس کی پھدی پر گیا اس کی پھدی پانی سے بھیگی ہوئی تھی اور ہاتھ لگتے ہی اس کے منہ سے سسکی کی آواز نکلی سسس سسسس سسس اور اس نے دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے میرا ہاتھ اپنی پھدی پر بھینچ لیا۔ ساتھ ہی دوسرا ہاتھ جس میں میرا لن تھا اس کی گرفت بھی میرے لن پر مضبوط ہوگئی۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ سالی ناٹک کر رہی تھی وہ میرے ہاتھ سے کافی دیر سے مزے لے رہی تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر تو میں شیر ہو گیا کہ خربوزہ تو خود کٹ رہا ہے۔
    میں نے لن اس کے ہاتھ سے نکالا اور پھدی سے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔پھدی سے ہاتھ کھینچنا تھا کہ وہ اس نے آنکھیں کھول دیں اور یکایک اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اور اچانک میرے لن کی طرف دیکھ کر اپنی شلوار اوپر کھینچی اور رونا منہ بنا کر کہنے لگی ملک صاحب یہ آپ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ میں تو سیدھا ہو گیا کہ سالی جب مزہ آرہا تھا تب تو چپ چاپ لیٹی ہوئی تھی اب اٹھ گئی ہو۔ اب اگر مزے کرنے ہیں تو تعاون کرو دونوں کرتے ہیں ڈرامے کیوں کرتی ہو؟ یہ کہہ کر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے لن پر رکھا اور اس نے مزاحمت شروع کر دی کہ نہیں میں ایسی لڑکی نہیں لیکن میں نے جب دو تین بار اس کے ہاتھ میں لن پکڑایا اور اس کے مموں کو دبایا تو اس کی مزاحمت نے دم توڑنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا اور اس کے اوپر چڑھ گیا اور قمیض کے اوپر سے ہی اس کے ممے دبانے شروع کر دیے۔ ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ وہ شہوت کے نشے میں ڈوبنا شروع ہوگئی۔ اور میرا بھرپور ساتھ دینے لگ گئی۔ میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالی جسے وہ بڑی مہارت سے چوسنے لگ گئی۔ کچھ دیر یوں ہی بڑی بے دردی سے ایک دوسرے کے ہونٹ کاٹتے رہے اور ایک دوسرے کی زبانوں کو چوستے رہے پھر میں نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے 38 سائز کے سافٹ سافٹ مموں کو بھی برا سے آزادی دلا دی۔ اس کے مموں کو دیکھ کر میرے اوپر وحشت طاری ہوگئی۔ اور میں ان پر ٹوٹ پڑا۔ سانولے مموں پر کالے رنگ کی ٹکیاں بنی ہوئیں تھیں جن پر شہوت کی وجہ سے نپل ٹائٹ ہو کر تن کر کھڑے تھے۔ میں نے انہیں چوسنا شروع کر دیا اور دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کر دیا۔ نائلہ نے سرور سے سر کو تکیے پر ادھر ادھر مارنا شروع کر دیا۔ یونہی میں اس کے ممے چوستا ہوا اس کے پیٹ پر آگیا اور اس کی ناف کے گڑھے میں زبان ڈال دی۔ اس نے ایک بھرپور سسکی لی اور اس کا جسم تھرتھرا گیا۔ میں نے اس کا پیٹ سے مموں تک کا جسم چاٹنا شروع کر دیا۔ لذت کی شدت سے وہ میرے نیچے کانپ رہی تھی۔ پھر میں نے اس کی شلوار بھی اتار دی اور جسم چاٹے ہوئے اس کی پھدی پر انگلی پھیرنی شروع کر دی۔ اس کی چوت سے بہنے والے پانی نے اس کی شلوار کا ستیاناس کر رکھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے اپنی شلوار میں ہی پیشاب کر دیا ہو۔ میں نے اس کی پھدی کے رس بھرے پانی سے ہی اپنی انگلی تر کی اور اس کی پھدی کی لکیر کو گیلا کر دیا۔
    اور انگلی کی مدد سے اس کی چوت کو چودنا شروع کر دیا۔ نائلہ کی سسکیاں کمرے میں گونجیں لگیں۔ ایک ہاتھ سے میں اس کی چوت کو دبا رہا تھا اور ددوسرا ہاتھ اس کے مموں پر رینگ رہا تھا۔ وقفے وقفے سے اس کے نپلز کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے دباتا جس کی وجہ سے اس کی سسکاری نکل جاتی۔ پھر میں نے اپنی انگلی اس کی چوت کے دانے پر رکھی اور اسے مسلسل مسلنا شروع کر دیا۔ اس سے نائلہ مزے کی ایک نئی دنیا میں داخل ہو گئی۔ اس نے اپنا ہاتھ میرے اس ہاتھ پر رکھ دیا جس سے میں اس کی چوت کے دانے کو مسل رہا تھا۔ اور منہ سے مزے سے بھرپور آوازیں نکال رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ہی اس کے جسم نے اکڑنا شروع کر دیا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اب یہ چھوٹنے لگی ہے۔ میں نے اس کے دانے کو مسلنے کی سپیڈ تیز کر دی اور دوسرا ہاتھ بھی اس کے مموں سے اٹھایا اور اس کی انگلی اس کی چوت میں داخل کر کے تیزی سے اندر باہر کرنی شروع کر دی۔ اچانک اس نے بلند سسکاریاں مارتی ہوئے پھدی سے پانی کا سیلاب چھوڑ دیا۔اور دونوں ٹانگوں کو بھینچ لیا جس سے میرا ہاتھ اس کی رانوں کے درمیان پھنس گیا۔ میں رک گیا۔
    تھوڑی دیر بعد اس کی سانسیں بحال ہوئیں تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے اٹھتے ہی میں نے اپن لن اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ کچھ دیر تو وہ اسے ہاتھ سے سہلاتی رہی۔ پھر میں نے اسے کہا کہ اسے چوسے۔ تھوڑے سےتردد کے بعد اس نے پہلے میرے لن کے ٹوپے کو چومنا شروع کیا۔ پھر ٹوپے کو چاٹنا شرع کردیا۔ مستی کی وجہ سے ٹوپے کے سوراخ سے مزی نکل کر ٹوپے پر لگی ہوئی تھی۔ اس نے وہ ساری چاٹ لی۔ اس کے بعد اس نے ٹوپی کو منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد اس نے زبان نکال کر لن کو اوپر ٹوپی سے جڑ تک پھیرنا شروع کر دی۔
    وہ کسی ماہر کی طرح لن چوس رہی تھی۔ اس کے بعد اس نے بالز کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ اور اس کے بعد دوبارہ منہ کو کھولا اور جس قدر لن منہ میں لے سکتی تھی اسے لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ میرا لن اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس کے منہ سے لن باہر نکالا اور اسے کہا کہ گھوڑی بن جائے تاکہ لن اس کی پھدی میں ڈال سکوں۔ اس کے گھوڑی بنتے ہوئے میں نے مین لائٹ آن کر دی تاکہ پھدی واضح طور پر نظر آ سکے۔ اب تک اس کی پھدی دوبارہ پانی سے بھر چکی تھی۔ اس نے اپنے بازو آگے کو نکال کر تکیے پر رکھے اور گانڈ کو باہر کو نکال دیا۔ کیا مست گانڈ تھی۔ اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں اس کے پیچھے آگیا۔ لن پہلے ہی اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا۔ اس کے گانڈ باہر کو نکالنے سے پھدی کا منہ واضح ہو گیا۔ پھدی کی جھلی باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ اس کا مطلب تھا وہ پہلے بھی پھدی مروا چکی تھی اور کافی بار مروا چکی تھی۔ لیکن اس وقت لن اکڑ کر لوہے کا راڈ بنا ہوا تھا یہ پوچھنے کا وقت نہیں تھا کہ کہاں مرواتی رہی ہے۔ میں نے لن کا ٹوپا اس کی پھدی پر سیٹ کیا اور ایک ہی دھکے سے سارا اس کی چوت میں ڈال دیا۔ سات انچ کا لوڑا جب ایک جھٹکے سے جا کر اس کی بچہ دانی سے ٹکرایا تو ایک دفعہ تو اس کے حواس گم ہو گئے اور وہ آگے کو لیٹ گئی۔ اور لن پھدی سے باہر نکل آیا۔ میں نے اس کی کمر کو مضبوطی سے نہیں پکڑا تھا۔ درد کے مارے اس نے ٹانگیں دہری کر لیں۔ اور ہلکی آواز میں چلانے لگی ہائے ماں میں مر گئی۔ میری پھدی پاٹ گئی۔ میرا اندر پاٹ گیا۔ میں نے اس کی ٹانگ کو تھوڑا سائڈ پر کر کے اس کی پھدی پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر بعد جب اس کی حالت بہتر ہوئی تو اسے کہا کیا ہوا تم نے تو پہلے بھی پھدی مروائی ہوئی ہے تو اتنا درد کیوں ہو رہاہے یا ڈرامہ کر رہی ہو۔ یہ سن کر ایک بار تو اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی مروائی تو ہے لیکن کافی عرصے سے لن نہیں لیا اور دوسرا تمہارا لن کافی بڑا ہے اتنا بڑا لن دوسری بار ملا ہے اچانک اندر کیا تو درد کی لہر اٹھی ہے۔ میں نہ کہا چلو اب کی بار سکون سے کروں گا۔ دوبارہ اسے گھوڑی بنایا اور اب کی بار آرام سے اندر کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا۔ اس کا ثبوت اس کی مزے سے بھرپور سسکیاں تھیں۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔ ہاں ایسے طراں مار گھسے۔ پورا اندر واڑ۔ زور دی مار۔ آہ آہ اہہ۔ اس کی اس طرح کی آوازیں سن کر میرا بھی جوش بڑھتا جارہا تھا۔ ملک پوری طراں گھسا مار۔ میری بچہ دانی تے سٹ وج رئی اے۔ مینوں گشتی طراں چود دے اج۔ میری پھدی پاڑڑڑڑ دے۔ ایسی باتیں کرتے کرتے اس کی آواز بے ربط ہونا شروع ہو گئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اب وہ فارغ ہونے والی ہے۔ میں نے اپنے ان آؤٹ کرنے کی سپیڈ بڑھا دی۔ آٹھ دس گھسے لگانے کے بعد اس کا جسم فل اکڑ گیا اور اس کی پھدی سے پانی کا فوارہ چھوٹ پڑا۔ پھدی سے بہتا ہوا پانی میرے لن سے ہوتا ہوا ٹٹوں پر بہنے لگا۔ میرا پورا لن اس کی پھدی میں تھا۔ میں تھوڑی دیر رک گیا اور اسے مکمل ڈسچارج ہونے دیا۔ جب وہ مکمل ڈسچارج ہو گئی تو میں نے واپس اپنا چارج سنبھال لیا۔ اور دوبارہ ایک ردھم سے دھکے مارنے شروع کر دیے۔
    تھوڑی دیر بعد نائلہ کہنے لگی کہ وہ دوبارہ لن چوسنا چاہتی ہے ۔ تب تک تھوڑا سکون مل جائے گا چوت کو۔ میں نے لن اس کی چوت سے نکالا اور منہ میں ڈال دیا۔ لن اس کی چوت سے نکلنے والے رس سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے چاٹ کر سارا رس پی لیا۔ اور پھر لن کو منہ میں بھر کر چوسنے لگی۔ وہ لن کو حلق تک منہ میں لے جاتی پھر آہستہ آہستہ منہ سے باہر نکالتی اور پھر ٹوپے کو چوستی اور زبان سے لن کی موری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی۔ تھوڑی دیر بعد جب کام برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے اسے سیدھا لیٹا کر اس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر رکھیں اور لن پھدی پر رکھ کر جھٹکا مار ا تو شڑاپ سے پھدی میں گھس گیا۔ اس کی ہائے ماں کی آواز نکلی لیکن میں رکا نہیں اور اس کی پھدی کو پیلنا شروع کر دیا ۔ تھوڑی دیر بعد مزے سے نائلہ کی سسکیاں دوبارہ کمرے میں گونجنے لگیں ۔ کمرہ نائلہ کی آہ ہ ہ ہ ۔ اوہ وہ وہ اور دھپ دھپ دھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ میں نان سٹاپ گھسے اس کی چوت میں مار رہا تھا۔ پانچ منٹ تک لگا تار گھسے مارتے رہنے پر ایک دفعہ دوبارہ اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور کہنے لگی ملک جی میں فیر چھٹن لگی جے۔ مجھے بھی اپنے لن پر دباؤ محسوس ہونا شروع ہو گیا۔ میں نے کہا میں وی چھٹن والا آں۔ وچ ای چھٹ جاواں۔ کہنے لگی ہاں میرے اندر ہی چھوٹ جاؤ اور میری پھدی کی گرمی کو ٹھنڈک پہنچا دو میں حمل والی گولی کھا لوں گی۔ میں نے جاندار سٹروک مارنا شروع کر دیے۔ دس بارہ سٹروکس پر جا کر نائلہ کی بس ہو گئی اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔ اس کی چوت کے پانی کو لن پر پڑتے ہی میری بھی بس ہو گئی میرے لن نے بھی اس کی چوت میں ہی فوارے مارنا شروع کر دیے۔ کچھ دیر تک لن اس کی چوت کے اندر ہی پچکاریاں مارتا رہا۔ جب منی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں نکل گیا تو میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد میں اٹھا اور لن اس کی پھدی سے باہر نکالا۔ وہ میری اور نائلہ کی منی سے بھرا ہوا تھا۔ میں واش روم جانے لگا تو نائلہ نے کہا کہ وہ چاٹ کر صاف کر دیتی ہے۔ چاٹتے ہوئے لن پھر ٹن ٹنا کر کھڑا ہوگیا۔ اور ایک راؤنڈ پھر مارا ہم دونوں نے۔
    اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ نائلہ کی چوت ماری۔ اور اس کی گانڈ بھی لی۔ اس کے علاوہ نائلہ کی چھوٹی بہن سدرہ کی کنواری سیل پیک پھدی اور گانڈی بھی ماری۔ اس کے علاوہ نائلہ کا پہلے چوت مروانے کا قصہ بھی اس سے سنا۔ اسی کام کے دوران بہت سی اسٹوریز ہیں۔ اگر اسی اسٹوری کو ایڈمنز نے آگے بڑھانے کی اجازت دی تو مسلسل اسی کو بڑھاتے ہوئے مسلسل لکھ دوں گا یا الگ الگ تھریڈ میں الگ الگ کہانی کے طور پر لکھ دوں گا۔فی الحال تو پہلا تجربہ تھا سیکس پر لکھنے کا۔ آپ کے فیڈ بیک سے اندازہ ہوگا کہ کیسا لکھا ور مزید لکھنا چاہیے کہ نہیں۔ فید بیک کا انتظار رہے گا۔

  2. The Following 8 Users Say Thank You to 1Malik For This Useful Post:

    abidkazmi (29-12-2019), abkhan_70 (08-11-2019), aloneboy86 (09-11-2019), jerryshah (09-11-2019), Lovelymale (11-11-2019), Malik jee (16-11-2019), omar69in (24-12-2019), saarban (10-11-2019)

  3. #2
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    220
    Thanks Thanks Given 
    423
    Thanks Thanks Received 
    423
    Thanked in
    187 Posts
    Rep Power
    178

    Default

    hot and sexy. Mazeed kahanion ka wait rahy ga

  4. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  5. #3
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    89
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    zabrdast aap ider e story jari rakho...

  6. The Following User Says Thank You to aloneboy86 For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  7. #4
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    62
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    38
    Thanked in
    24 Posts
    Rep Power
    9

    Default

    Very nice story
    Boht acha likha apny
    Carry on

  8. The Following User Says Thank You to Hanisheikh For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  9. #5
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Zabrdst wait for new stories

  10. The Following User Says Thank You to 00007 For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  11. #6
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    130
    Thanked in
    71 Posts
    Rep Power
    12

    Default

    Very hot story brother
    Please keep it up

  12. The Following User Says Thank You to Panjabikhan For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  13. #7
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    49
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    75
    Thanked in
    40 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    Kahani kafi hot thi ab jesy jesy mazeed storie agy jay gi tu pata chaly gy.
    Next update ka intezar rahy ga.
    Ap feedback k chaker me update dena na bhol jana.
    Jesy jesy storie agy bhary gi feedback b zaror aye gy.
    Waiting for next update.

  14. The Following User Says Thank You to Bobyooooooo7 For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    294
    Thanks Thanks Given 
    309
    Thanks Thanks Received 
    263
    Thanked in
    143 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    boht achi kaawish hai apki aur kahanian b likho

  16. The Following User Says Thank You to jerryshah For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  17. #9
    Join Date
    Nov 2019
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    16
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    اچھی شروعات ہے جاری رکھو لیکن تفصیل سے ہو تو بہتر ہے

  18. The Following User Says Thank You to Ruffi For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019)

  19. #10
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    i don't see your story be any less pleasurable than alot of these paid stories on other websites. if you could take it to 30 , 35 updates please.

  20. The Following 2 Users Say Thank You to fraz shah For This Useful Post:

    1Malik (15-11-2019), omar69in (24-12-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •