اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Results 1 to 3 of 3

Thread: کہانی ایک رات کی

  1. #1
    Join Date
    Oct 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    3
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default کہانی ایک رات کی



    کشمیری لنڈ


    دیوان جرمنی داس کی کتاب میں راجے مہاراجوں کی عیاشیوں کے واقعات اور پرانے زمانے میں حرم کے قصے پڑھ کر ایک ہوک سی اٹھتی تھی کہ کاش ایسی صورت بن جاتی کہ میں بھی راجہ اندر بن کر پریوں اور حورں کے جھرمٹ میں سیکس کا لطف اٹھاوں ۔ دوستو، بس ایک رات یہ دعا قبول ہوگئی۔ ایک سچا واقعہ فورم کے ساتھیوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ پچھلی دو دہائیوں سے میں بھارت کے عروس البلاد کہلانے والے شہر ممبئی میں ایک رابط عامہ کی ایک معروف فرم میں ایک اچھی پوسٹ پر ملازم ہوں۔ سیکس کے معاملے میں کچھ زیادہ ایکٹیو ہوں نہ ہی لڑکیوں کے معاملے میں زیادہ خوش قسمت ہوں۔ اسمیں میری پرسنل شرم یا جرات کی کمی یا بزدلی بھی آڑے آتی ہے۔ میرا عضو بھی کچھ اتنا قابل فخر نہیں ہے ۔ بس اوریج سا 5.9" ہے۔ مگر ایک خاص بات ہے کہ گھنٹوں کھڑا رہتا ہے۔ اسکی میں نے اسکو خوب مشق کروائی ہے۔ جب میں چاہوں تبھی اپنا مادہ پھنکتا ہوں۔ میری عمر اب 50 کے قریب ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے آفس میں ہر ہفتہ یا پندرہ دن بعد کوئی نہ کوئی پارٹی ہوتی ہے۔ بس پارٹی کا بہانہ چاہئے۔ یہ پارٹی یا تو آفس میں یا کسی کولیگ کے گھر پر ہوتی ہے۔ خوب جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ میں چونکہ شراب و سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگاتا ہوں ، ان پارٹیوں میں خاصا بور ہوجاتا ہوں۔ کولڈ ڈرنک ہاتھ میں لئے بس ادھر ادھر گھوم کر بھوت بنا ہوتا ہوں۔ بس کسی دن قسمت نے ساتھ دیا اور نشہ میں دھت کسی خاتون کولیگ نے لفٹ مانگی، تو راستہ میں اسکے بوبس اور چوتڑوں کو ہاتھ لگاکر مستی کی۔ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی جرات کبھی نہیں ہوئی۔ لڑکیا ں بھی شاید میری شرافت کو دیکھ کر پینے سے قبل ہی مجھ سے لفٹ کی فرمائش کرتی ہیں۔ نشہ میں ہونے کی وجہ سے لڑکیوںکو یاد نہیں رہتا ہے کہ میں نے راستے میں اسکے بوبس یا چوتڑوں کو ہاتھ لگایا تھا۔ اس لئے اپنی شرافت کا بھی بھرم قائم رہا ہے۔
    واقعہ اب کچھ یوں ہے، کہ ایک رات کولیگ سمیتا کے گھر پر پارٹی کا پروگرام تھا۔ اس کا شوہر ایفریقہ میں کسی مائننگ کمپنی میں ملازم ہے۔ وہ ایک پوش علاقہ میں اکیلے ہی ایک عالیشان فلیٹ میں رہتی ہے۔ میری بیوی بھی ان دنوں میکے گئی ہوئی تھی۔ آفس سے نکل کر تھوڑی دیر مٹر گشتی کرے ایک گفٹ خرید کر میں امرتا کے درواز ے پر پہنچا۔ پارٹی شروع ہوچکی تھی ۔ معلوم ہوا ، کہ دیگر میل کولیگو ں نے آنے سے معذرت کی ہے۔ کسی کے گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں تو کسی کا بچہ بیمار تو کسی کو آفس میں کوئی پروجیکٹ مکمل کرنا تھا۔سمیتاکے علاوہ ہمارے یونٹ کی سبھی لڑکیاں سوہنی سنگھ، پوجا جین اور روحی شرما موجود تھیں۔ دیگر یونٹ کسی ایونٹ کی تیاریوں میں مصروف تھے، اور انہوں نے بھی آنے سے معذرت کی تھی۔ گھر ڈرا ئینگ روم خاصا بڑا تھا، جس کے ایک کونے میں بار بنا تھا، اس میں دنیا بھر کی الگ الگ قسم کی شراب پڑی تھی۔ شاید سمیتاکا شوہر ڈیوٹی فری سے لا کر اسٹاک کرتا ہوگا۔ ڈرائنگ روم کے ساتھ ٹیریس اور بڑا سا بیڈر روم بھی تھا، جس کے بیچوں بیش جہازی زائز کا بیڈ برا جماں تھا۔ ہلکا سا میوزک ، کم رو شنی ، خوشبودار موم بتیاں، ماحول کو خوابناک بنا رہی تھیں۔ لڑکیا ں تو ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔ سوہنی سنگھ سکھ پنجابن، پوجامارواڑی، روحی مدھیہ پردیش کے بھوپال شہر، اور سمیتا مراٹھی حسن و جمال کا نادر نمونہ ہیں۔ سوہنی دیکھ کر میرا لنڈ اکثر خودہی کھڑا ہوتا تھا۔ کیونکہ اس کی خوبصورت شکل سے زیادہ اسکی بنڈ ایسی ہے کہ کسی بھی مرد کا لنڈ اس پر مر مٹنا چاہتا ہوگا۔ سبھی لڑکیاں شراب کی چسکیاں لیکر نمکین کھا کر دینا بھر کی گوسپ سنا رہی تھی۔ میں نے کوکا کولا کی بوتل کھولی اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ چنچل اور شرارتی سی پوجا میرے بغل میں آکر بیٹھ گئی اور کہنے لگی ۔ ”سر ایک بار تو شراب چکھ لیجئے، آپ کی بیوی بھی گھر پر نہیں ہے۔ اگر نشہ آگیا تو ہم گھر پر چھوڑنے کا انتظام کردیں گے۔“ اسی کے ساتھ ہی وہ ایک جام بھرنے لگی۔ میں نے کہا ”ٹھیک ہے، مگر ایک شرط ہے۔” اس نے تالی بجاکر سبھی کو متوجہ کیا۔ ”لڑکیو، سر شراب پینے کےلئے تیار ہوگئے ہیں۔ مگر ان کی کوئی شرط ہے۔“ سبھی نے گوسپ بند کی اور ہمارے صوفے کے قریب جمع ہوگئے۔ اب سب شرط سننا چاہ رہے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ میں کیسے پہلی بارپیتا ہوں۔میں نے خاصی جرات کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میں جام سے نہیں پیوں گا۔ “ پھر کیسے پئیں گے وہ یک زبان بولے۔ میںنے پوجاکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہارے ہونٹوں سے پیوں گا۔
    میں نے من بنا لیا تھا، کہ اگر داو الٹا ہوگیا تو سوری کہہ کر کہو ں گا کہ میں مذاق کر رہا تھا۔ پوجا س نے اپنا جام منہ سے لگایا، ایک سپ لی اور آکر میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹوں کو لگا کر ووڈکا کی سپ میرے منہ میں انڈیل دی۔ خاصا تلخ ذائقہ تھا۔ اگر اس کے ساتھ اس کے شیرین ہونٹوں کا ذائقہ اور لعاب نہیں ہوتا، تو میں شاید تھوک دیتا۔ میں نے اسکے ہونٹ اور اسکو زبان چاٹ کر ووڈکا اپنے منہ میں منتقل کی۔ بس اب کیا تھا ، روحی میرے دوسری طرف بیٹھ گئی ، اسکے ہاتھ میں شیمپین تھی ۔ شاید اس نے دیکھ لیا تھا کہ میں نے پوجا کے شراب کو چکھتے ہی منہ بنا لیا تھا۔ اس نے اپنی ڈرنک میں ٹونک ڈالا اور سپ لیکر اپنے ہونٹ میرے سپرد کردئے۔ میں نے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ پیوست کرکے ڈرنک لی اور اسکے شربتی ہونٹوں اور زبان کو خوب چوسا۔چونکہ اسنے ڈرنک میں ٹونک ڈالا تھا، اسکی زبان اور ہونٹ میٹھے تھے۔ روحی کی باڈی ایک ماڈل جیسی ہے۔ سلم اور پرفیکٹ باڈی۔ وہ اس دن ساڑھی میں ملبوس تھی۔ وہ پارٹ ٹائم ماڈلینگ کا کام بھی کرتی ہے۔ ہونٹ چوستے چوستے میں نے ہاتھ اسکی ساڑھی کے اندر ڈال کر اسکے چھوٹے سنترے جیسے بوبس کو ٹچ کیا۔ اور آہستہ آہستہ ہاتھ پیچھے لیجاکر برا کا ہک کھول دیا۔ کھیل تو شروع ہو گیا تھا ۔ سوہنی نے بھی اپنی ڈرنک لیکر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھے۔ یہ بتایا چلوں کہ سوہنی کی گانڈ منفرد ہے، ویسے اسکے ہونٹ بھی بلکل لاکھوں میں ایک ہیں۔ اس کا نچلا ہونٹ معمول سے کچھ زیادہ موٹا ہے، مگر اس کے چہرہ پر بہت اچھا لگتا ہے۔ اس کا موٹا ہونٹ میں نے منہ میں لیکر خوب چوسا۔ اور پھر اسکی زبان کو کنچھ کر اپنی زبان اس سے لڑائی۔ سمیتا کے گلاس میں وائن تیار تھی۔ اس نے بھی اپنے ہونٹوں سے وہ میرے منہ میں انڈیل دی۔ اسی دوران میرے ہاتھ بھی کام کر رہے تھے۔ میں نے روحی کی برا اتار کر اسکا اوپری جسم ساڑھی سے آزاد کیا۔ اور بغل میں پوجاا کی ٹی شرٹ اتار کر اسکی برا بھی اتار کر دور پھینک دی۔ ان کی دیکھا دیکھی سمیتااور سوہنی نے خود ہی اپنے اوپر کے کپڑے اور برا اتار دئے۔ روحی نے میری شرٹ اور انڈر شرٹ اتار کر میرے بالوں بھرے سینے پر جام انڈیل کر اسکو چاٹ لیا۔اسکا کرنا تھا، کہ سبھی نے اپنے ڈرنکس میرے سینے پر بکھیر کر زبان سے چاٹنا شروع کیا۔ ایک ڈرنک جب میرے سینے اور پیٹ سے نیچے جا رہی تھی، کہ سمیتا نے اپنی زبان سے اسکا تعاقب کرتے ہوئے میرے پیٹ کے بٹن کو خوب چوما۔ ڈرنک کا ایک اور ریلا آکر پیٹ کے بٹن سے نیچے جاکر پینٹ کے اندر چلا گیا۔ سمیتا نے بیلٹ کو لوز کرکے پینٹ اتار کر دور پھینک دی۔ میں نے اس دن انڈر ویر ہی نہیں پہنی تھی۔ ڈرنک میرے لنڈ کے اوپر س ہوتی ہوئی ٹٹوں اور کولہوں پر گر گئی ۔میں نے کہا کہ یہ چیٹنگ ہے۔مجھے برہنہ کردیا گیا ہے اور تم لوگ ابھی بھی پاجامہ پہنے ہوئے ہو۔ روحی کو تو بس پینٹی ہی اتارنی تھی۔ سوہنی پاجامہ اتارنے لگی۔ سمیتا نے کہا کہ اتارنا اسکا کام نہیں ہے، بلکہ مجھے پہل کرنی ہے۔ سو میں نے اسکو پکڑ کر پاجامہ کا نارہ ڈھیلا کرکے اسکو اتار پھینکا، وہ میری گود میں پھڑ پھڑا رہی تھی۔ میں نے پینٹی بھی اتار پھینک کر اسکو گود میں اٹھا کر بیڈ روم میں گداز بیڈ پر ڈال دیا۔ ہمارے پیچھے لڑکیا ں اپنا جام لیکر بیڈ رو م میں آگئیں تھیں۔ میں نے سوہنی کو اٹھانے کی کوشش کی۔ مگر وہ خاصی بھاری تھی۔ کہنے لگی ۔زیادہ ورزش مت کرو ، ویسے بتاو کیا کرنا ہے ۔اٹھا کر پٹک دیا تو فریکچر کروا دو گے۔ سوہنی کی ایک اور خاص بات بتاوٰں کہ اس کی دونوں ٹانگیں موٹے شہتیر جیسی ہیں۔ اور پہلی بار برہنہ ہوکر دیکھ رہا تھا کہ دونوں شہتیر پیٹ سے پہلے مل کر ایک ایسا بنڈ بناتے ہیںکہ دنیا قربان ہوجائے۔ اوپر اسکی باڈی بلکل نارمل تھی۔ بوبس بھی کچھ زیادہ بڑے نہیں تھے۔سکھ ہونے کے وجہ سے چونکہ بال صاف نہیں کرتی ، اسلئے چوت کو لمبے بالوں کا گچھ کور کر رہا تھا۔ بال صاف اور ریشم کی طرح ملائم تھے ۔پوجاا اور امرتا کے بوبس 36" سے کچھ اوپر تھے۔ بس بناوٹ الگ تھی۔ پوجا کے بوبس فٹ بال جیسے اور نپلز کافی لمبے تھے جبکہ سمیتا کے بوبس پپیتا جیسے مگر نپلز کچھ اندر ہی تھی۔ بس چھوٹا کا ایک نقطہ سا باہر تھا۔روحی کے چوت کے اوپر چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ وہ بس شکایت کر رہی تھی کہ اگر اسکو پتہ ہوتا کہ پارٹی اس حد تک جائیگی، تو وہ چوت صاف کرکے آتی۔
    میں نے سوہنی سے کہا کہ سمیتا لیٹی ہوئی ہے، تم اس کے اوپر 69پوزیشن میں لیٹ کر بیڈ کے کنارے پر اپنی گانڈ اوپر اٹھانا۔تمہارا منہ سیدھا سمیتاکی چوت کی سیر کرے گا اور سمیتا میرے لنڈ کو ہاتھ میں لیکر تمہاری چوت کی سیر کروائے گا۔ میں نے ایک بار ایسی فکنگ بلیو فلم میں دیکھی تھی۔ سوہنی نے اپنا منہ سمیتاکے چوت پر سیٹ کیا، اور اپنی لمبی زبان نکال کر اس کے دانہ کو ٹچ کرنے لگی۔ دوسرے طرف سمیتا نے روہنی کی چوت کے موٹے ہونٹوں کو زبان سے چاٹا۔ اب برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔ میں نے سوہنی کی گانڈ کو اوپر اٹھایا ، پہلے اسکے ملائم بالوں کو منہ میں لیکر چکھا وہ اس کی جوس سے تر تھے۔ پھراپنا لنڈ سمیتاکے ہاتھ میں دیکر اسکو کہا کہ عضو کو سوہنی کے چوت کے سوراخ میں فٹ کرکے فکنگ کا لائیو نظارہ کرو۔ بیڈ کے کنارے پر اوپر اٹھی ہوئی ، سوہنی کی عظیم الشان گانڈ پھاڑ کے کھڑی تھی۔ اس نے تقریباً پورے بیڈ کا احاطہ کیا ہو اتھا۔ سمیتا نے لنڈ کو ہاتھ میں لیکر روہنی کی روغنی چوت اور اسکے دانہ پر رگڑا اور پھر سوراخ پر فٹ کیا اور خود میرے بالز کو سہلانا شروع کیا۔ سمیتا کی زبان نے پہلے ہی سوہنی کی چوت کو کافی گیلا کر دیا تھا۔ میرے بس ایک دھکے سے ہی لنڈ سوہنی کی چوت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گیا۔ پوجا اور روحی اچھل کود کرکے فکنگ دیکھنے کی چاہ میں بیڈ کے اوپر چڑھ کر روہنی کی گانڈ ڈول کی طرح بجانے لگیں۔ اب پوزیشن ایسی تھی، کہ میں دھکے لگا رہا تھا۔ سوہنی سمیتا کے چوت کو چاٹ رہی تھی۔ روحی کبھی اپنے بوبس مجھے، تو کبھی پوجاکو چوسنے کےلئے دے رہی تھی اور ساتھ ہی سوہنی کی موٹی گانڈ کو دونوں بجا رہے تھے۔ اسی دوران سوہنی نے منہ سمیتا کے چوت سے ہٹایا اور پنجابی مغلظا ت کا ایک طوفان اسکے منہ سے برسنا شروع ہوا۔ میرے پیچھے پوجا اپنے لمبے نپلز میرے چوتڑوں کو کھول کر میری گانڈ میں داخل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے ایک انگلی بھی میری گانڈ میں ڈالی ہوئی تھی۔ اب نپلز سے اس کو سہلا رہی تھی۔ جیسے میں نے بتایا کہ جوں ہی میں ڈس ہونے کے قریب ہوتا ہوں، میں آنکھیں بند کر کے سانس روک کر ، دھیا ن بٹا دیتا ہوں۔ اس سے میں کنٹرول میں رہتا ہوں ۔ منی جو تقریباً لنڈ کے ٹوپہ تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے، واپس چلی جاتی ہے ۔ اور ایک بار پھر میں زور شور سے دھکے شروع کرتا ہوں۔ سوہنی منزل کے قریب پہنچ رہی تھی۔ گالیوں کا ایک طوفان اس نے برپا کیا ہوا تھا۔ لونڈیوں، رنڈیو، چودو، دیکھو میری گانڈ کا تماشہ، دیکھو موٹی گانڈ کا کمال، ایسی موٹی گانڈ نہیں ملے گی، سالیوں۔ اسی کے ساتھ ہی اسکا جسم اکڑ گیا اور وہ سمیتا کے جسم پر ڈھیر ہوگئی ۔بڑی مشکل سے سمیتا کو اسکے پہاڑ جیسی کولہوںسے باہر نکالا۔ سوہنی دنیا و فہیما سے بے خبر اوندھے منہ بیڈ پر پڑی ہوئی تھی۔ پوجا اور روحی نے اب سمیتاکے جسم اور بوبس کو چاٹنا شروع کیا۔ سمیتا نے چونکہ روہنی کی چودائی براہ راست نیچے سے دیکھی تھی ، وہ خاصی گرم تھی اور منزل کے قریب تھی۔ دونوں لڑکیوں کے اس کے جسم پر ڈرنکس ڈالی ہوئی تھی اور اسکو چاٹ رہی تھی۔ میں نے اسکو بیڈ کے ایک کنارے پر سیٹ کیا۔ اسکی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر فٹ کیا۔ اب اسکی پوری چوت میرے سامنے تھی۔ اس کا دانہ کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔ میں نے لنڈ سے اسکے دانہ پر مساج کرنا شروع کیا ۔ دوسری طرف لیٹی ہوئی سوہنی کی موٹی گانڈ کی طرف بھی دیکھ رہا تھا۔ کسی نے سمیتا کی چوت پر وائن ڈال کر میرا سر اسکی ٹانگوں کے درمیان جھکا دیا۔ میں نے اسکے دانے پر وائن کو چکھا اور چوت کے اندر زبان کی نوک داخل کی۔ وہ لنڈ مانگ رہی تھی۔ میں نے کھڑے ہوکر اس کی ٹانگیں کندھے پر رکھیں۔ چنچل اور شرارتی پوجا اور روحی نے ان کو میرے کندھوں سے ہٹا کر خود ہی اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسکی ٹانگوں کو خوب پھیلایا۔ میں نے لنڈ اسکے دانے پر رگڑا اور اسکے گیلے چوت میں داخل کیا۔ سمیتاکی سسکیاں شروع ہوگئیں۔ میرے چند دھکوں کے بعد ہی اسکی چوت سے پانی کا ایک زوردار فوارہ نکلا، اورمیرے لنڈ اور پیٹ کو سیراب کرتا ہوا ،ٹٹوں کی طرف چلا گیا۔ میں نے بس کتابوں میں سیکس کے دوران اسکرٹینگ یعنی چوت سے پانی کی پچکاری نکلنے کے بار ے میں پڑھا تھا۔ آج تو خود براہ راست مشاہدہ کر رہا تھا۔ اسی دوران سوہنی ہوش میں آچکی تھی اور دوبارہ کھیل میں شریک ہوگئی تھی۔ میری ٹانگوں کے بیچ میں جگہ بناکر وہ ٹٹوں کو سہلا رہی تھی اور پچکاری کا مواد جو وہاں پہنچ رہا تھا ، کو زبان سے صاف کر رہی تھی۔اسی دوران اس نے شراتاً میرا لنڈ کو پکڑ کر باہر نکالوادیا۔ سمیتا لنڈ واپس لنڈ کے اند ر داخل کروانے کے لئے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔ مگرسوہنی نے لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ کو اسکے دانے کو سہلا رہی تھی۔ ”سوہنی پلیز اندر ڈال دو ، پلیز مت تڑپاو، ہسبنڈ کے جانے کے بعد کئی مہینوں بعد لنڈ نصیب ہو رہا ہے“ سوہنی نے جواب دیا ۔ ”مجھے معلوم ہے کہ آج کل کون کون سا لنڈ اس چوت کی سیر کرتا ہے۔“ وہ دونوں اس کے پہلے والی کمپنی میں بھی کولیگ تھے۔ امرتا نے فوراً جواب دیا ، کہ ’تم بھی تو ادھر ادھر منہ مارتی رہتی تھی۔“ اس سے پہلے وہ دونوں ایک دوسرے کو ایکسپوز کرکے حالات خراب کرتے، میں نے ایک زور کا دھکا دیکر لنڈ چوت میں دوبارہ داخل کیا۔ مزید چند دھکوں کے بعد ہی دو مزید فوارے امرتا کے چوت سے برآمد ہوئے اور اسی کے ساتھ ایک بڑی کراہ کے اس کے جسم اکڑ گیا اور پاس بیٹھی روحی کے جسم میں اپنے ناخن گاڈ کر آرگزم آنے کا اعلان کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد میںنے امرتا اور روہنی کو بیڈ خالی کرنے کےلئے کہا، کیونکہ اب مجھے روحی اور پوجا کی فکنگ کرنی تھی۔
    سمیتا کی چوت سے لنڈ نکلنے کے بعد ہی پوجا نے اسکو تولیہ سے صاف کرکے چوپا لگانا شروع کیا تھا۔ وہ نیچے چوپا لگا رہی تھی، اوپر روحی کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے پیوست تھے۔ میں اسکی زبان جڑ سے نکال کر چوس رہا تھا۔ پوجا مجھے کہہ رہی تھی کہ میں اس کے منہ میں منی نکالوں۔ میں نے کہا کہ مجھے چوپا اچھا لگتا ہے، مگر میں کبھی اس سے منزل تک نہیں پہنچتا ہوں۔ میں انے ان دونوں کو بھی اسی طرح 69پوزیشن میں آنے کےلئے کہا۔ روحی بیڈ پر لیٹ گئی، اس کے اوپر پوجا اپنے بڑے بوبس لہراتے ہوئے ڈاگی پوزیش میں بیٹھ کر روحی کی چوت کو چاٹنے لگی۔ روحی نے میرا لنڈ پکڑ کر پوجا کی چوت پر فٹ کیا اور میں نے دھکا دیکر اسکو گہرائیوں تک پہنچادیا۔ لنڈ کے اندر اور باہر کرنے اور چوت کی دیواروں سے اس کے ٹکرانے کا نظارہ روحی دیکھ رہی تھی۔ پوجا تو چند دھکوں می ہی فارغ ہوگئی۔ سمیتا اور سوہنی ڈرائینگ روم میں جاکر ڈرنک بنانے میں مشغول ہوگئی تھیں۔ فارغ ہونے کے بعد پوجا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی ۔ اب بیڈ پر میں اور روحیی ا تھے ۔ جیسے میں نے بتایا کہ کریتیکا کا جسم کسی فلم ہیروئین جیسا ہے۔ سلم اور ٹرم۔ وہ ماڈلننگ بھی کرتی ہے۔ میں اسکو آخر میں آرام سے چودنا چاہتا تھا۔ آفس میں ہر مرد اسکی باڈی کا مداح اور اسکے ساتھ سونے کے خواب دیکھتا تھا۔ اس نے پہلے اپنی زبان سے میرے لنڈ پر موجود پوجا کی پوری منی صاف کی، میں اسکی باڈی کا بھر پور مزا اٹھانا چاہ رہا تھا، اسی لئے میں اسکو روایتی طریقہ یعنی فیس ٹو فیس سے چودنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے خود ہی اپنی ٹانگیں پھیلائی اور مجھے جلد اندر ڈالنے کےلئے کہا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پوری وٹ تھی۔ اس نے کہا کہ وہ ایک بار فارغ ہوچکی ہے ۔جب میں سوہنی کو چود رہا تھا۔ میں نے ٹوپا اسکے چوت کے منہ پر رکھ کر ایک بھر پور دھکا لگایا۔ اس کے چوت کی دیواریں پانی بہا رہی تھیں۔ میں نے اسکے چھوٹے بوبس کے نپلز کو مسلنا اور کاٹنا شروع کیا۔ وہ ٹانگیں مسلسل ہلا رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو میرے کمر کے گرد ہالہ کرکے مجھے خوب کس دیا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ اب فارغ ہو رہی ہے۔ اس کی چوت کی دیواریں اکڑ کر میرے لنڈ کا مساج کر رہی تھیں۔ اس نے میر ی زبان منہ میں لیکر خوب چوس لی اور اسی کے ساتھ آ ٓآآآآ ف ف فک کی آواز نکال کر فارغ ہوگئی۔میں کافی دیر تک اسے کے اوپر ہی رہا اور اسکی باڈی کو سہلاتا رہا۔ ان چار لڑکیوں کو فک کرنے کے دوران میں کئی بار ڈس ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ بس جونہی منی ٹوپے میں پہنچ کر چھڑکا و کرنا چاہتی تھی، میں آنکھیں بند کر کے ، سانس روک کر دھیان بٹادیتا تھا۔ جس سے منی واپس چلی جاتی تھی۔ میں ابھی تک نکلا نہیں تھا اور لنڈ ویسے ہی ایستادہ تھا۔ میں نے روحی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔ دیکھا کہ ڈرائینگ روم میں ڈرنک کا دوسرا راونڈ شروع ہو گیا تھا۔ کسی نے کپڑے پہننے کی زحمت نہیں کی تھی۔ میں بھی صوفے پر بیٹھا اور کسی نے کوئی ڈرنک مجھے تھما دی۔ میں نے اسکو لنڈ پر بہا دیا۔ پوجا نے صوفے سے نیچے آکر قالین پر بیٹھ کر میرے لنڈ اور ٹٹوں کو چاٹ کر صاف کیا۔ اسمیں ڈرنک اور روحی کی منی بھی شامل تھی۔ وہ مزے لے لیکر اب اسی طرح ڈرنک پینے لگی۔ پہلے میرے لنڈ پر گرا دی اور پھر اسکو چاٹ لیا۔ میں نے مشورہ دیا ، کہ ہر کوئی اپنی تین سچی کہانیاں سنائے گا، ایک پہلی چودائی کی،چاہے وہ بری یا ٹریجڈی ہی کیوں نہ رہی ہو، دوسرے سہاگ رات کی اور تیسری سب سے اچھی چودائی کی۔ سوہنی میرے بغل میں بیٹھی تھی، اس کی باری تھی شروع ہونے کی۔مگر اسنے مشورہ دیا کہ وہ کسی لڑکے کی سیکس کے ساتھ پہلی انٹروڈکشن سننا چاہتے ہیں اور پھر روحی سے ماڈلنگ کی دنیا کے قصے سننے کےلئے بے تاب ہیں۔ چونکہ لڑکا تو میں ہی تھا ، تو میں شروع ہوگیا۔ اسی دوران پوجا میرے لنڈ پر ڈرنک ڈال کر اسکو چاٹنے کے کھیل میں مست تھی، اور جوں ہی ٹوپے کے سوراخ پر مزی کا قطرہ نمودار ہوتا تھا۔ وہ مزی کے قطرے کو زبان کی نوک پر لیکر سبھی کر سرو کرتی تھی۔ ایک ایک کرکے سبھی اس کی زبان سے مزی کے قطرہ کو صاف کرتے تھے۔
    خیر مجھے شروع ہونا پڑا۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی کتنے دور ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی نفسیاتی کیفیت سے بڑی حد تک ناواقف ہوتے ہیں۔ لڑکیوں کو تجسس تھا کہ آخر لڑکے کیسے سیکس ڈسکور کرتے ہیں اور پھر کیسے اسکو ہینڈل کرتے ہیں۔ شاید یہی سوالات مردوں کے ذہن میں بھی لڑکیوں کے متعلق ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ چھٹی ، یا ساتوں جماعت میں کچھ کچھ سیکس کے بارے میں پتہ چل گیا تھا۔ چھٹی میں پرائمیری کے بعد جب میں سینیر اسکول میں گیا، تو سینیر کلاسوں کے لڑکے صبح اسمبلی کے وقت ہماری کلاسوں کے ہنڈسم لڑکوں کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے اور ہاتھ یا اگر موقع ملتا تھا تو اپنی رانیں گانڈ سے چپکاتے تھے۔ بہت ہی بے عزتی ہوتی تھی۔ پورا دن پھر کلاس میں موضوع ہوتا تھا ، کہ فلانی کی گانڈ کو سہلایا گیا۔ چونکہ میں بھی خاصا سرخ سفید گورا چٹا اور میری گانڈ بھی ابھری ہوئی تھی اسلئے میں بھی تختہ مشق بنتا تھا۔ اتنا تو پتہ چل گیا تھا ، کہ گانڈ کے پیچھے لنڈ رکھنے سے یا لنڈ کو ہاتھ لگانے سے بڑا مزہ آتا تھا۔ ابھی تک میری لنڈ سے منی کا اخراج نہیں ہوتا تھا۔ مگر جب میں اکیلے میں ہاتھ لگاتا تھا تو اس سے پیشاب کی شکل کا مادہ برآمد ہوتا تھا،بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو مزی کہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ کچھ سینیر کلاس کے لڑکے ہماری کلاسوں کے چند لڑکوں کو چودتے ہیں۔ ایک روز محلے کے ہم چار دوست چھٹی کے دن قصبہ کے نواح میں ایک زیر تعمیر کالج کے گراونڈ میں کھیلنے گئے۔ ان میں ایک لڑکا ہم سے دو تین جماعت آگے سینیر تھا، مگر دوسرے اسکول میں تھا۔ چونکہ چار ہی بچے تھے، فٹ با ل سے ہم پینلٹی اسٹروک کھیل رہے تھے۔ باری باری کوئی گول کیپر بن رہا تھا۔ ایک بار جب میں گول کیپر تھا، تو ایک بچے نے زور دار کک لگائی اور بال زیر تعمیر بلڈنگ کے اندر چلی گئی۔ میں دوڑ لگا کر اندر بال ڈھونڈے لگا۔ تب تک وہ بڑا لڑکا ظہور بھی وہاں پہنچا۔ بال نظر آ نہیں رہی تھی۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس نے میری گانڈ پر ہاتھ لگایا۔ مجھے برا لگا ، مگر اس کو کچھ نہیں کہا۔ اب اسنے مجھے پیچھے سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔ میں چلایا۔شاید میری آواز سن کر دوسرے دو بچے بھی وہاں پہنچے اور ظہور کو میرے ساتھ دست درازی کرتے دیکھا۔ بجائے مجھے بچانے فیصلہ ہوا کہ فٹ بال کو گولی مارو ، فکنگ کا گم کھیلتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے انہوں نے اپنے پاجامے نیچے کئے۔ ظہور کا لنڈ خاصا بڑا اور موٹا تھا اور رس رہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ پیشاب کر رہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ یہ مزی ہے۔ مگر سب بچے اسکو منی کہہ رہے تھے۔ اس وقت مزی اور منی کے درمیان ہمیں فرق معلوم نہیں تھا۔ انہوں نے زبردستی میرا پاجامہ بھی اتارا۔ ظہور نے مجھے دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے اپنا لنڈ میرے بنڈ میں گھسایا۔ اتنا تو مجھے یاد ہے کہ وہ لنڈ کے پٹوں کے بیچ میں ہی ڈس ہوگیا۔ اندر گانڈ کے سوراخ کے اندر نہیں گیا۔ پھر دیگر دو لڑکوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ سوراخ یا تو تنگ تھا یا ان کا لنڈ اس پوزیشن میں وہاں تک پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ تینوں فارغ ہوگئے اور کمرے سے نکل گئے۔ بال مل چکی تھی۔ میں بس رو رہا تھا۔ وہ اب مجھے چپ کروانے کے فراق میں تھے۔ ظہور نے ان کو کہا ، تم میںسے کوئی اس کو بھی چودنے دو۔ کون تیار ہوتا۔ آخر اس نے ایک لڑکے راجو کو تیار کیا۔ اس کو کہا کہ خود دیکھو اس کا لنڈ کتنا باریک اور چھوٹا ہے۔ بس اوپر سے ٹچ کریگا ورنہ گھر پہنچ کر اگر اس نے بتایا تو سبھی پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ راجو تیار ہوگیا۔ اس نے اپنا پاجامہ اتار۔ وہاں ایک سلوپ جیسی پہاڑی تھی۔ وہ اسپر لیٹ گیا۔ میں نے بھی اپنا لنڈ باہر نکالا۔ ظہور نے راجو کے بنڈ کھولا اور کالا سا ایک سوراخ دکھا کر کہا کہ اس کے اندر اپنا لنڈ ڈال دو۔ اسی کو چودائی کہتے ہیں۔اس نے کہا کہ ایک ہاتھ سے راجو کا لنڈ بھی پکڑ کر رکھو۔ اس کو بھی مزہ آئیگا۔ظہور نے ایک طرف ، دوسری طرف دوسرے لڑکے نے راجو کے بنڈ کو کھول کے رکھا۔ میںنے اپنا لنڈ سیاہ سوراخ پر رکھ کر تیر کی طرح اندر کر دیا۔ راجو نے ایک کراہ ماری، مگر اسی کے ساتھ میں نے اسکا لنڈ اپنے ہاتھ میں لیکر سہلانا شروع کیا۔ بہت مزا آرہا تھا۔ میں اپنے بے عزتی بھول گیا۔ ظہور نے کہا کہ اندر بار کروَ ۔ اسنے باضابطہ مجھے پیچھے سے پکڑ کر باہر کیا اور پھر اندر جانے کےلئے کہا۔ اندر باہر کا کھیل بہت مزہ دے رہا تھ
    Last edited by irfan1397; 04-11-2019 at 12:38 AM.

  2. The Following 2 Users Say Thank You to kashmiri67 For This Useful Post:

    abkhan_70 (04-11-2019), Lovelymale (04-11-2019)

  3. #2
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    wah story to bullet train ki tara ja rhi hy

  4. #3
    Join Date
    Oct 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    3
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    کھیل جاری ہی تھا ، مجھے محسوس ہوا کہ ظہور پیچھے میری بنڈ سے کھیل رہا ہے۔ اس نے میری بنڈ دوسرے لڑکے کی مدد سے کھولی ہوئی تھی۔ اور سوراخ پر تھوک لگا رہا تھا۔ دونوں نے سوراخ پر تھوک کے گولے پھینکے اور اسی کے ساتھ مجھے پیچھے سوراخ میں کوئی موٹا شہتیر اترتا محسوس ہوا۔ درد کی ایک لہر میرے جسم میں اٹھی۔ سارا مزہ کافور ہو گیا۔ اس کے لنڈ کا ٹوپا اندر گھس گیا تھا۔ اس سے آگے جا نہیں پا رہا تھا۔ اس نے ایک اور دھکا دیکر اس کو میرے کنواری گانڈ کے اندر گھسا دیا۔ مجھے اب کوئی ہوش نہیں تھا۔ میں راجو کے اوپر پڑا تھا اورپیچھے ظہور دھکے دے رہا تھا، وہ کچھ اندر فارغ ہوا ، کچھ جب اس نے باہر نکالا تو وہ خون سے لتھڑا ہو اتھا اور اسکے ٹوپے کے سوراخ سے مسلسل سفید دودھ جیسی منی بہہ رہی تھی۔ میرے جسم میں جان ہی نہیں تھی۔ نہ میں چل پا رہا تھا۔ کسی نے مجھے واپس پاجامہ پہنایا ، مگر میں چل نہیں پا رہا تھا۔ ظہور اور ایک اور لڑکے نے باری باری مجھے کندھے پر لاد کر سڑک تک پہنچاکر ٹانگہ لیکر گھر پہنچایا۔ گھر پر ہم نے یہی بتایا کہ دوڑتے دوڑتے چوٹ لگ گئی ہے۔ کئی روز تک درد سے میں تڑپتا ریا۔ پاخانہ کرتے وقت تو بہت دقت ہو رہی تھی۔ پھر کبھی لڑکوں کے ساتھ سیکس کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

    کالج کے ابتدائی دنوںمیں نے اسکاوٹنگ اور این سی سی میں بھرتی ہوگیا تھا۔ سال بھر بعد مجھے میں سالانہ کیمپ میں شرکت کےلئے سیلکٹ کیا گیا۔ جو دہرا دوون میں تھا۔ یہ ایک اوپن اسکرٹ تھا کہ کیمپ میں ہنڈسم لڑکوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے۔ مگر لالچ تھی کی کیمپ کی سرٹیفیکیٹ سے گریجویشن کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ میں کچھ چھوٹ ملتی ہے۔ چند سیٹیں اسپورٹس ، اسکاوٹس اور این سی سی میں بھرتی طالب علموں کےلئے مخصوص ہوتی ہیں ۔ ان کو اوپن میرٹ میں کمپیٹ نہیں کرنا پڑتا ہے۔ جنسی استحصا ل کا نام سن کر تو جھرجھری ہوتی تھی۔ مگر دوسری طرف یونیورسٹی میں ایڈمیشن میں آسانی کی خاطر میں نے کیمپ میں جانے کےلئے حامی بھر دی۔ دہرا دون میں پہلے دنوں سینر اسکاوٹوں نے تو خوب ریگنگ کی۔ ہمارے کالج سے چار لڑکے تھے۔ ہمیں ایک ٹینٹ رہائش کےلئے دیا گیا۔ دو تین دن بس روٹین ڈرل اور پھر میپ ریڈنگ کے کلاس ہوتے تھے۔ چوتھے دن رات کا کھانا کھانے کے بعد کھلے آسمان تلے ایک کیمپ فائر کا اہتمام کیا گیا۔ خوب مستی اور ڈانس کا دور چل رہا تھا۔ انسٹرکٹرز نے پاس کی آرمی کینٹین سے شراب کی بوتلیں بھی منگائی تھیں۔ کئی لڑکوں نے بھی پی لی۔ ہمارے ساتھ چار کشمیری پنڈت لڑکے بھی تھے۔ کشمیر پنڈت تو ویسے ہی گول مٹول اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ انسٹرکٹراور دیگر سینروں کی ان پر نظر لگی ہوئی ہے۔ ڈانس کرتے ہوئے ایک انسٹرکٹر ایک پنڈت لڑکے کو کبھی گود میں تو کبھی اسکی ساتھ ڈانس کرتے ہوئے اسکے بنڈ کے ساتھ اپنی ٹانگیں چپکا دیتا تھا۔ کبھی کبھی وہ میری بنڈ پر بھی ہاتھ مار دیتے تھے۔ پورے کیمپ کے دوران میں نے ڈرل وغیرہ کے بعد ان کے سامنے آنے سے گریز کرنے کی بھر پور کوشش کی۔مگر آخر کب تک۔ ایک رات انسٹرکٹر کے ٹینٹ سے بلاوا آگیا۔ دیکھا وہاں کئی سینر پاجامہ کھولے چارپائیوں پر دراز ہیں اور پنڈت لڑکے ان کے لنڈ سہلا رہے ہیں۔ مجھے بھی حکم ہوا کہ میں ایک تو اپنے کپڑے اتاروں اور ایک سینر کا لنڈ ہاتھ میں لیکر سہلاوں۔

    تھوڑی دیر میں ہی سیکس کی گیم شروع ہوگئی۔ ایک پنڈت لڑکے کو الٹا چارپائی پر لٹایا گیا۔ اور اسکے بنڈ کو کھول کر اس میں خوب تیل اور لوشن کی مالش کی گئی ۔ پھر ایک انسٹرکٹر نے لنڈ ہاتھ میں لیکر اس کے بنڈ میں گھسائی۔تھوڑی دیر میں دوسری چارپائی پر مجھے بھی گرایا گیا۔ خوف سے میرا برا حال تھا۔ لڑکوں نے میرے بنڈ کے پٹ کھول کر رکھے تھے اور دوسرا انسٹرکٹرمیرے سوراخ کا معائنہ کر رہا تھا۔ اسی کے ساتھ اسنے اعلان کیا کہ یہ سوراخ خاصا تنگ اور کنوارا ہے۔ کسی حد تک و ہ درست تھا۔ کئی برسوں بعد پہلی چودائی کے بعد میری کبھی دوبارہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ لڑکوں نے اسپر خوب تیل بہایا اور کوئی لوشن بھی لگایا۔ مگر جونہی وہ انگلی اس میں داخل کرنا چاہتے تھے، میں تڑپ اٹھتا تھا۔ اب سبھی اپنی چودائی بھول کر میرے گانڈ کے سوراخ کا معائنہ کررہے تھے۔ اب ایک انسٹرکٹر اپنے کھڑے لنڈ کے ساتھ میرے اوپر بیٹھا اور ٹوپا اس کے اندر کرنے کی کوشش کی، کہ درد کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی اور میں نے اپنے ہاتھوں میں پوری قوت جمع کرکے اسکے ٹانگوں سے لگا کر اس کو دور پھینک دیا۔ وہ بار بار مجھے قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ بس تھوڑ ا درد ہوگا۔ اب کسی نے مشورہ دیا ، کہ کوئی اس کو چودنے دو،تاکہ اس کو بھی مزہ آئیگا، پھر اس کی گانڈ میں گھسا دو۔ چونکہ سبھی کو میری گانڈ کو چودنے کے پڑی تھی، اسلئے سبھی نے اس تجویز کو پسند کیا۔ ایک پنڈت اسکاوٹ راکیش کو پلنگ پر لٹایا گیا۔ اس کے بنڈ میں بھی تیل و لوشن لگایا گیا۔ میں نے اپنا لنڈ سیدھا کرکے اسے کی صاف و شفاف بنڈ میں داخل کیا۔ پیچھے کوئی میرے بنڈ و سوراخ پر تیل اور لوشن کی مالش کر کے انگلی سے اسکو چوڑا کر رہا تھا۔ چونکہ میں اس وقت خود اپنا مزہ لے رہا تھا اسلئے واقعی کچھ زیادہ تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ بس چند لمحوں کے بعد کسی نے میری ٹانگوں کو پھیلایا، کسی نے بنڈ کے پاٹ چوڑے کئے اور ایک لنڈ اندر گھستا چلا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے پلان کیا کہ جس کا لنڈ چھوٹا ہے وہی پہلے داخل کرے گا۔ تکلیف تو ہوئی، مگر چونکہ میرا لنڈ تو خود کسی کے مقعد میں اندر باہر ہو رہا تھا اور پھر میری گانڈ میں اچھا خاصا تیل لگایا گیا تھا، درد کی شدت اب کم تھی۔ میں نے بھی آگے سے راکیش کا بغیر ختنہ والا لنڈ ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ اور اسکو سہلا رہا تھا۔ میں ڈس ہوچکا تھا۔ مگر مجھے کوئی اٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ میرا لنڈ راکیش کی مقعد میں مادہ ڈال کر دوبارہ کھڑا ہوکر ایک بار پھر کام شروع کرنے لگتا تھا۔ پیچھے میری گانڈ تو رنڈی کی چوت بنی ہوئی تھی۔ ایک کے بعد ایک لنڈ اس میں داخل ہوکر گر م گرم منی ڈال کر فارغ ہورہا تھا۔ شاید ایک دو لوگوں نے کئی کئی بار مجھے چودا۔ اس رات سات لنڈ اس سوراخ میں داخل ہوگئے۔ آخر جب میں اٹھا تو راکیش نے بھی مجھے لٹا کر اپنابدلہ وصول کیا۔ جب اس کا لنڈ اندر داخل ہورہا تھا، تو مجھے شاید ہی ہوش تھا یا تکلیف کا کوئی احساس ہو رہا تھا۔ وہ جب فارغ ہوا ،تو مجھے لگ رہا تھا کہ شاید پاخانہ آرہا ہے۔ انہوں نے جب ایک برتن لایا۔ اور اسپر جب میں بیٹھا تو دیکھا کہ ان کی منی باہر بہہ رہی ہے۔ بہت زیادہ منی اندر گئی تھی،جس کو جسم قبول نہیں کر رہا تھا۔ منی کا ایک سیلاب جیسا تھا جو مقعد سے باہر بہہ رہا تھا۔ وہ سب ٹھنڈے ہوچکے تھے۔ اگلے کئی روز جب تک کیمپ ختم ہوگیا ، مجھے ڈرل اور دیگر ایکٹیوٹی سے چھٹی مل گئی اورآخری روز بیسٹ کیڈیٹ کی سرٹیفیکیٹ بھی ملی۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ بعد میں یونیورسٹی داخلہ میں یہ سند بہت کام آگئی۔ میں نے کہانی ختم کی۔ روحی شرما نے کہا کہ وہ میرے گانڈ کا سوراخ دیکھنا چاہتی ہے، جس نے اتنا ظلم سہا ہے۔ میں اوندھے منہ لیٹ گیا۔ اس نے میرے بنڈ کو کھولا اور پھر دیگر لڑکیوں کو بھی کہا وہ مدد کریں۔ انہوں نے بنڈ کھول کر مقعد کے سوراخ کا معائنہ کیا۔ٹشو وغیرہ سے صاف کرکے اس پر شیمپین ڈالر پہلے روحی اور پھر باری باری سب نے چاٹی۔ سوہنی نے تو اپنی لمبی زبان اسکے اندر ڈالی۔ اوپر سے کوئی اسپر ڈرنک ڈال رہا تھا، وہ چاٹ رہی تھی۔ مقعد کے اندر میں اسکی زبان فیل کر رہا تھا۔ کسی نے پہلی بار اس میں انتی پیار سے زبان ڈلی ہوئی تھی۔ ٹٹوں لیکر مقعد کے سوراخ تک پورے علاقہ کو سبھی باری باری زبان سے چاٹ رہے تھے۔ سمیتا کہہ رہی تھی کہ اس کو پہلی بار احساس ہوا کہ لڑکوں کو بھی سہنا پڑتا ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ بس لڑکیوں کوہی ان آواراہ اور سیکس زدہ لڑکوں سے نپٹنا پڑتا ہے۔ اب روحی کی باری تھی، کہ وہ اپنی سیکس کہانی اور ماڈلنگ کی دنیا پر پردہ اٹھائے۔۔۔باقی۔۔۔

  5. The Following User Says Thank You to kashmiri67 For This Useful Post:

    abkhan_70 (05-11-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •