اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Results 1 to 4 of 4

Thread: وقت جو گزر گیا

  1. #1
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    3
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Cool وقت جو گزر گیا

    وقت جو گزر گیا
    یہ جو کہانی میں لکھنا جا رہا ہوں ہو یہ پنجاب کے ایک گاؤں کی کہانی ہے ہے یہ وقت کے مختلف صرف ادوار میں چلے گی مین ہیرو تو شاید بعد میں آئے پہلے پاکستان بننے کے کے پندرہ سے بیس سال بعد کی کچھ کہانیاں جو کے اس وقت کے حوالے سے ہوگی اس کہانی کا حصہ ہوں گی.
    خونی رشتوں کا آپس میں تعلق کی کہانی ی بالکل نہیں ہوگی پنجابی کا وی استعمال ہوگا.
    املا کی غلطیاں کافی زیادہ ہوسکتی ہیں کیونکہ یہ میرا پہلا تجربہ ہے ہے تو املا کی غلطیاں نکالنے والے دور رہیں میرا تعلق وسطی پنجاب سے ہے لیکن جو پہلی کہانی یا جہاں سے کہانی شروع ہوتی ہے وہ میری پیدائش سے بہت پہلے کا ہے ہے اس کہانی کے کردار 2 بھائی ہیں جن کے والد کی دکان ان پاکستان بننے سے پہلے میرے گاؤں میں تھی باپ کی وفات کے بعد بعد ایک بھائی نے حکمت اختیار کی جبکہ دوسرے نے نے ڈاکٹر بننے کو ترجیح دیں دی ڈا کٹر بھی بھی کمپوڈر ٹائپ جس طرح کے ڈاکٹر اس وقت ہوا کرتے تھے دونوں دونوں بھائیوں کا تعلق میرے گاؤں سے نہیں تھا وہ سات والے گاؤں سے آتے تھے تھے یہاں صرف ان کی دکان اور کاروبار تھا چڑھتی ہوئی جوانی تھی تھی اور ان کا برتاؤ بھی لوگوں کے ساتھ ملے والوں کے ساتھ اچھا تھا اپنے باپ کی طرح. سب لوگوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا یہ دونوں بھائی بھی بلا تکلف سب محلے والوں کے گھر آیا جایا کرتے تھے شرافت تو تھی لیکن ساتھ جوانی بھی تھی
    دونوں بھائیوں کو گاؤں کے لوگوں اور مردوں کی مردانگی کا بھی پتہ تھا کیونکہ بہت سے لوگ لوگ یعنی مرد ان سے اپنی مردانہ طاقت کی کی دوائی وغیرہ بھی لینے آتے تھے تھے تو انہیں آسانی سے پتہ چل جاتا تھا تھا کہ کون سا ٹارگٹ آسان ہے بڑے بھائی کا نام اعظم اور چھوٹے کا نام نام وسیم تھ
    عظم کمپوڈر تھا اور قدمی بھی لمبا اور خوبصورت تھا تھا لیکن بہت شرمیلا تھا تھا جبکہ وسیم حکیم تھا اور پرسنیلٹی اس کی کی اعظم کی طرح جاذب نظر نہیں تھی لیکن وہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے ساتھ بات کرنا بھی اچھی طرح جانتا تھا اور ان کی کمزوری کو بہت جلدی جان لیتا تھا حسین کا پہلا شکار یا یوں کہہ لیجئے کہ وسیم جس طرح پہلا شکار بنا نا نا وہ ایک ادھیڑ عمر کی کی لمبے قد کی کی عورت جس کا نام پروین تھا پروین کے خاوند کو مرے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا پروین کا ایک بیٹا تھا اور بہو تھی بہو اچھی لڑکی تھی. وسیم جب نیا نیا حکمت کا کورس مکمل کرکے اپنے باپ کے ساتھ بیٹھنا شروع ہوا.
    تب ہی پروین کا اس پر دل آ گیا اور اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ سیم کو خدمت کا موقع ضرور دے گی اور وسیم کے دیں بھر کر خدمت کرے گی کے ہوائوں کے جب ایک دن دن پروین کی بہو اپنے میکے گئی ہوئی تھی پروین دکان پر گی اور وسیم کے باپ سے کہا کہ وسیم کو گھر بھیجنا میرا بیٹا کام سے گیا ہوا ہے اس سے کچھ کام کروانا ہے ہے جیسے میں نے پہلے کہا کہ ان دنوں لوگ ایک دوسرے کے گھر پر جیسے کہ آیا جایا کرتے تھے جو وسیم پروین کے گھر گیا تو دروازہ لگا ہوا تھا تھا اسی نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی بھی باہر نہ آیا تھوڑی دیر کے بعد اور پروین نے دروازہ کھولا ملا تو اس کے جسم پر صرف تو لیا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے پروین ابھی غسل خانہ سے نکل کر آئی ہے
    پروین نے پنجابی میں وسیم سے کہا آجا نگ آ...
    جیسے ہی پروین ہے یہ فقرہ مکمل کیا یا اس کے جسم سے توریہ نما کپڑا نیچے گر گیا یہ سب کچھ ایک پلین کے تحت تھا لیکن وسیم کو اس بات کا پتہ نہیں تھا ساتھ ہی پروین کی زبان سے نکلا ہائے میں مر گئی
    کپڑے دوبارہ جسم پر لے کر وہ اندر بھاگی تھوڑی دیر کے باو سیم کوآوازدی کا اندر او

    وسیم کے لیے یہ منظر جان نکالنے والا تھا وسیم کنوارا ضرور تھا لیکن وہ ان چیزوں سے واقف ضرور تھا کیونکہ وہ پہلے ایک تو لڑکوں کے ساتھ چھیڑ خانی کر چکا تھا لیکن کسی بھی عورت کے ساتھ یہ پہلا واقعہ تھا

    جب اندر گیا تو فروین نے اس سے کہا کہ کہ میں نے تم سے توڑی (جانوروں کا بھوسا) منگوانی ہے ہے کیونکہ میرا بیٹا کام پر گیا ہوا ہے ہے پہلے تو وہ خود لے آتا تھا لیکن اب اب تم لادو.
    اور ساتھ ہی وسیم سے کہا کہ کہ اس بات کا ذکر کسی سے مت کریں ان کے یہ میری عزت کا معاملہ ہے لوگ میرا مذاق اڑائیں گے وسیم نے کہا بے فکر ہو جائیں میں یہ بات کسی سے نہیں کہوں گا اور کپڑا لے کر ڈیرے کی طرف چل نکلا جب جب بھوسا لے کر واپس آیا طواسیم سے کہا کہ کھانا کھا کر جانا وسیم نے انکار کر دیا جب بھی نے زور دیا تو وسیم بیٹھ گیا یا کھانے کھاتے ہوئے پروین نے وسیم سے کہا کہ اکیلے انسان کی بھی کیا زندگی ہے وقت کاٹنا مشکل ہے خاوند کی موت کے بعد سارے سکھ ٹھیک ہو گئے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا وسیم جو ساری باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر یہ عورت چاہتی کیا ہے اور اس کو اوزار کھڑا ہونا شروع ہوگیا آلتی پالتی مار کر بیٹھنے ہونے کی وجہ سے سے پروین اس کا لن نہیں دیکھ سکی... ویسے بھی اس کے لن کی لمبائی زیادہ دہ موٹئ اور لمبی نہیں تھی جب وسیم نے کھانا کھا لیا تو پروین نے اس سے کہا کہ آتے جاتے رہا کرو میں اکیلی گھر ہوتی ہو بھی ایک مہینے کے لئے اپنے میکے گئی ہوئی ہے اس کے بچہ ہونے والا ہے اور کہا کہ آج کل کی لڑکیاں تو بہت نازک ہوچکی ہیں ہیں جب میرا بیٹا ہونے والا تو اس کا والد پانچ مہینے دن دن کو مجھ سے کام کرواتا تھا تھا اور رات کو بھی سونے نہیں دیتا تھا اور ساتھ ہی پروین کی ہنسی نکل گئ وسیم شکر اور دیسی کے ساتھ روٹی کھا کر گھر سے نکل گیا اور اپنی دکان پر واپس آگیا گیا اور سوچنے لگا کہ اگر اس نے پہلا قدم اٹھایا آیا اور پروین نے ساتھ دیا تو ابا جان ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دیں گے.
    لیکن چڑھتی ہوئی جوانی کا زور تھا اس نے ٹھکائی کو ترجیح دی اگلے دن پروین کے گھر چلا گیا. دروازے میں داخل ہوتے ہی پروین نے وسیم کو گلے لگا لیا وسیم کو یوں لگا کہ جیسے وقت ٹھہر گیا یا یا وسیم کا منہ پروین کے مموں کے درمیان پھنس کہ رہ گیا... وسیم کو وہ اشارہ مل چکا تھا جس کا اس کو انتظار تھا وسیم کو شرارت سوجھی اس نے منہ کے ساتھ آواز نکالی جیسے بچے بچے بچپن میں پیٹ پر منہ رکھ کے کے نکالتے ہیں...
    اور دونوں کی ہنسی نکل گئی...
    دسمبر کا شروع ہونے کی وجہ سے ہلکی ہلکی دھند پڑی ہوئی تھی پروین وسیم کو لے کر اندر چلی گئی اور گڑ والی پنیاں وسیم کو دیں.
    اور کہا کہ میں چائے بنا کر لاتی ہوں ہو ہو وسیم نے کہا نہیں میں نے چاہ نہیں پہنے کیونکہ اس کو پتا ہے بنانے میں بہت دیر لگ جائے گی کیوں کہ اس وقت گیس تو تھی نہیں دونوں ایک ہی چارپائی ایک ہی رضائی میں بیٹھ گئے پروین نے وسیم سے کے والد کے بارے میں پوچھا کہ اس کی طبیعت کیسی ہے.
    وسیم نے کہا زبردست بالکل گھوڑے کی طرح تندرست ہیں.
    پروین نے کہا کہ گھوڑے سے یاد آیا یا تمہاری شلوار کی جیب میں کیا ہے جب میں نے دروازے پر تم کو گلے سے لگایا تو میری ٹانگوں سے کوئی چیز لگ رہی تھی. وسیم ہنسنے لگی اور کہا کچھ بھی نہیں ہیں اور ساتھ ہی پروین نے اس کے ازار بند کو پکڑ کر وسیم کےلن کو ٹٹولنے لگی. اور وسیم سے کہا دکھاؤ یہ کیا ہے تم تو کہہ رہے تھے کچھ بھی نہیں ہیں ہے... اب پردہ تو کوئی رہا نہیں تھا وسیم نے لن رضائی اور شلوار سے باہر نکال کر پروین کے سامنے کر دیا...
    لن دیکھتے ہیں پروین بولی ہائے میں مر گئی اور اس کو غصہ چڑھ گیا یا گیا اور بولی حرامی میں تو سمجھ رہی تھی کہ گیند ہوگی تم شریف باپ کی اولاد ہو ہو یہ کیسی حرکت کر دی تم نے...
    وسیم ڈر گیا اور پروین سے معافی مانگنے لگا پروین نے کہا دفع ہو جاؤ یہاں سے میں تمہارے باپ سے خود بات کرونگی جو وسیم شلوار اوپر کر کے باہر جانے لگا تو پروین نے اسے آواز دی اور پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی ہے ہے وسیم بولا میں سمجھا آپ یہی چاہتی ہیں ہیں اور آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں ہیں پروین نے کہا مجھے میں اچھی لگنے والی کونسی بات ہے وسیم میں سوچا ماردو پڑھنی ہے اب تھوڑی زیادہ بڑے یا تھوڑی کم فرق نہیں پڑتا
    وسیم نے کہا مجھ کو آپ کی آنکھیں اور آپ کے ہونٹ بہت اچھے لگتے ہیں یہ سن کر پروین کی ہنسی نکل گئی اور بولی چل حرامی... جھوٹ کیوں بول رہے ہو ہو اب یہ ساری باتیں اپنے باپ کو بتانا جب میں تمھاری شکایت لگاؤں گی وسیم منتے کرنے شروع ہوگیا.
    پروین نے پوچھا کہ تمہیں اور کیا کیا اچھا لگتا ہے مجھ میں میں وسیم بولا بولا آپ تو کہہ رہی ہیں کہ میں آپ کی شکایت لگا دوں گی پھر ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں ہیں پروین ہنس پڑی اور بولی بتا کا اچھا لگتا ہے شاید میں تیرے باپ کو نہ بتاؤ وسیم بہت کنفیوز ہو گیا اور ڈرتے ڈرتے بولا... آپ کے موٹے موٹے ممے بہت اچھے لگتے ہیں...
    یہ سن کر پروین نے اپنا دوپٹہ ناک پر رکھ لیا یا لیا اور بولی ہائے یہ نئی نسل تو شاید دیواروں میں سوراخ کر دے
    وسیم برا ہوا بولا مہربانی کرکے میرے ابو کا نام بتانا تم جیسا کہو گی ویسا کروں گا
    پروین بولی روزانہ توڑی لاکر دیا کرو گے...
    وسیم بولا جیسے آپ کہوگی میں ویسے ہی کروں گا آپ کا جسم بھی دبا دیا کروں گا وسیم سمجھ چکا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ہے ہے پروین کر پنجابی میں بولی
    باپ دا کوئی کشتہ نہیں کھا لیا جڑی تینوں عینی گرمی چڑھی ہویء آ.
    حالانکہ اصل گرمی تو پروین کو چڑھی ہوئی تھی.
    وسیم بولا نہیں تو میں تو ویسے ہی کہہ رہا ہوں کے آپ کا ہر کام کر دوں گا
    یہ سن کر پروین بولی. ادھر آکے میریاں لتاہ کٹ...
    تھوڑی عمر میں ہی شادی ہو جانے کی وجہ سے فروین اب بھی بہت صحت مند تھی 38 سال کی عمر میں بھی وہ 29 کی لگتی تھی.
    تھوڑی دیر کے بعد پروین بولی لی ع کسے کڑی نوں کام پایا ہی کر دی...
    وسیم مسنی ہنسی کے ساتھ بولا نہیں مجھے تو ان باتوں کا علم ہی نہیں
    پروین پنجابی میں بولی اڈا تو حاجی ثناءا...
    یہ سن کر وسیم ہنسنے لگا
    پروین بولی باہر نکالو اسے جس کو پہلے باہر نکالا تھا وسیم نے جلدی سے شلوار اتار کر پاس رکھ دی...
    وسیم کو ننگا دیکھ کر بھی پروین بولی اڈا تو سونا تے نہیں جنہیں نخرے کرن دیا وا
    یہ کہہ کر وسیم کو گلے لگا لیا اور بولی پر میرے لیے تو سارا کوئی کچھ توئی آ...
    اور وسیم کی قمیض اتار کر سارا جسم چومنے لگی
    وسیم ہران ہو گیا کہ کچھ دیر پہلے تو مجھے دھمکی دے رہی تھی اب یہ پتا نہیں میرے ساتھ کیا کرے گی
    تھوڑی دیر بعد باد وسیم سے بولی کہ میرے ممے چوسو.
    اور ان کو دانتوں سے کاٹو سارا جوس پی جاؤں ان کو دس سالوں سے کسی نے چھوا بھی نہیں پروین پر خماری جانے لگی وسیم مموں سے ہوتا ہوا اس کے ہونٹوں کی طرف گیا ہونٹوں کا رس پی کر آنکھوں کو چومنے لگا اور پھر کانوں کے درمیان زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی ہیں کانوں کی لو کو زور سے کاٹ دیا یا پر وین بولی وسیم آرام سے سے سارا جو ش آج ہی مت نکال دینا وسیم دوبارہ ہونٹوں کی طرف آیا اور ساتھ ہی اپنا لنڈ سیدھا کر پھودی پر سیٹ کردیا فری نفلی دس سال سے یہ غار خالی پڑی ہے ہے اس نے شیر کو آرام سے اندر لے جانا وسیم کے سرجوش چڑھا ہوا تھا تھا لیکن اسے پروین کا ڈر بھی تھا تھا اس لیے اس نے آرام سے سے پروین کے اندر کرنا شروع کیا... جب سارا پروین کے اندر چلا گیا تو پھر مین وسیم سے بولی مجھے تم سے استحمل کے مظاہرے کی توقع نہیں تھی لیکن میری یہ بات بات زندگی بھر یاد رکھنا سیکس کے دوران ہمیشہ عورت کی سننا نا اور اس پر عمل کرنا جلدی شیطان کا کام ہوتا ہے ہے اور اس میں عورت کو نقصان ہوتا ہے. دو منٹ کے بعد وسیم سے بولی کے اپنی رفتار بڑھا دو و و ا ب وسیم پوری طاقت کے ساتھ پروین کی فودی مار رہا تھا...
    دس سے بارہ منٹ کے اندر اندر وسیم بروین کے اندر ہی فارغ ہو گیا. دونوں اکٹھے فارغ ہونے کی وجہ سے پروین نے وسیم کو بازوؤں میں جکڑ لیا وسیم پروین کے اوپر لیٹا رہا... اور وہ باتیں کرتے رہے پروین نے وسیم سے وعدہ لیا کہ وہ چکر لگاتا رہے گا وسیم نے بھی شرماتے ہوئے پروین سے کہا کہ وعدہ کرو تم بھی کبھی نا نہیں کہوگی.....
    باقی اگلی قسط میں
    کمنٹس اور ای میل پر
    [email protected]

    اپنی رائے کا اظہار کیجئے گا یہ میری پہلی کاوش ہے غلطیوں کو نظرانداز کیجئے گا...

  2. The Following 3 Users Say Thank You to paindu7777 For This Useful Post:

    abkhan_70 (20-10-2019), jerryshah (20-10-2019), omar69in (27-10-2019)

  3. #2
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    ashi koshesh hay but bht fast hy

  4. #3
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    129
    Thanked in
    70 Posts
    Rep Power
    12

    Default

    Nice story dear
    Keep it up please

  5. #4
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    292
    Thanks Thanks Given 
    308
    Thanks Thanks Received 
    259
    Thanked in
    139 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    nice start dear regularly update karain shukria

  6. The Following User Says Thank You to jerryshah For This Useful Post:

    omar69in (27-10-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •