اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 5 12345 LastLast
Results 1 to 10 of 50

Thread: ایکس ٹو ان ایکشن

  1. #1
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Cool ایکس ٹو ان ایکشن




    ایکسٹو ان ایکشن

    تحریر:دانش چوہدری


    عمران آج کل پاکستان کے مختلف مقامات کے دورے کرتا پھر رہا تھا ۔ اسے سیاحت کا شوق چڑھا ہوا تھا ۔ کیونکہ ان دنوں ویسے بھی سیکرٹ سروس کے پاس کوئی کام نہیں تھا ۔ اس لیے راوی چین ہی چین لکھتا تھا ۔ عمران نے اپنے ساتھ صرف جوزف کو رکھا تھا ۔ جوانا کو رانا ہاؤس کی ذمہ داری اور ٹائیگر کو انڈرولڈ میں تھوڑا الرٹ رہنے کا کہہ کر وہ نکل پڑا تھا ۔ پہلے اسلام آباد سے نکل کر وہ مری کی طرف گیا ۔

    راستے میں جوزف گاڑی چلاتا رہا اور عمران یا تو مزے سے سوتا رہا یا کبھی کبھار رسالہ پڑھنے لگ جاتا ۔
    سفر خوشگوار گزر رہا تھا ۔ مہدی حسن کی ایک غزل چل رہی تھی ۔

    زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں ؎
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
    اچانک جوزف نے گاڑی روک دی ۔ کیا بات ہے جوزف کیا ہم اورنج ٹرین پر سفر کر رہے جو اتنی جلدی مری آ گیا۔عمران نے آنکھیں کھولے بغیر کہا ۔
    نہیں باس آگے پولیس ناکہ ہے ۔ شاید کوئی مسئلہ ہے ۔
    جوزف مودبانہ لہجے میں بولا ۔
    یہ سنتے ہی عمران نے کار کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر کر چوکی کی طرف بڑھنے لگا ۔ آگے ایک ینگ کپل کو پولیس نے روک رکھا تھا اور ان سے ان کا نکاح نامہ مانگ رہے تھے ۔ عمران نے ایک نظر کپل کو دیکھا دونوں ہی کالج کے سٹوڈنٹ تھے ۔ دونوں کے حواس اڑے ہوئے تھے اور پولیس والوں سے منت ترلے کر رہے تھے ۔عمران کو دونوں کسی اچھے گھرانے کے لگے اور عمران نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ وہ آگے گیا اور پولیس والے کے پاس پہنچ گیا ۔
    پولیس والا بولا :مسٹر آپ کیوں آگے آ رہے ۔ آپ اپنی کار میں بیٹھیں ۔
    ارے ارے بھائی صاحب اتنا گرم کیوں ہو رہے کیا بات ہے صبح صبح بھابھی نے چائے زیادہ گرم پلا دی کیا ؟ عمران نے ذرا شوخے سے لہجے میں کہا ۔
    یہ سن کر پولیس والا اور تپ گیا اور بولا ۔ آپ زیادہ اچھل رہے ذرا تمیز سے بات کریں ۔
    میں تو صرف اتنا پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کیا مسئلہ ہے جناب ؟ عمران اپنے منہ پر بے انتہا معصومیت لاتے ہوئے بولا ۔
    اس کی معصومیت دیکھ کر پولیس والا بھی ٹھنڈا ہو گیا اور بولا کہ یہ دونوں صاحبان مری جا رہے ہیں اور ان کا کوئی رشتہ نہیں ۔ اس طرح ہم کسی کو جانے نہیں دے سکتے ۔
    اچھا تو پھر کس طرح جانے دیں گے آپ ؟ عمران بولا
    ان کو جرمانہ ہو گا :پولیس والا عیاری سے بولا ۔
    کتنا جرمانہ ؟ عمران نے کہا ۔
    ویسے تو 5000 ہے جرمانہ پر آپ کو دیکھتے ہوئے 3000 کر دیتا :پولیس والا شاطرانہ مسکراہٹ سے بولا ۔
    عمران نے جیب میں ہاتھ ڈالا جیسے پیسے نکال رہا ہو پولیس والا خوش ہو گیا ۔ مگر جب اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس میں ایک کارڈ تھا ۔ پولیس والے نے جیسے ہی کارڈ دیکھا فوراً سیلیوٹ مارا ۔ اور بولا سوری سر ۔
    جوان تم اس طرح رشوت لینے کے مرتکب ہو رہے ہو ۔ میں چاہوں تو ابھی تمھیں سسپنڈ کروا سکتا لیکن لاسٹ وارننگ ہے ۔ اگر کوئی غیر قانونی بات ہو تو قانون کے مطابق چلو ۔ میں تمھیں چیک کرواتا رہوں گا ۔ آئندہ ایسی کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے۔ عمران پولیس والے سے بولا۔
    یس سر ۔ پولیس والا بولا ۔
    تم دونوں ادھر آؤ اور میری گاڑی میں بیٹھو ۔ عمران نے ان دونوں کو کہا ۔ انہوں نے جلدی جلدی اپنی ٹیکسی والے کو فارغ کیا اور عمران کی کار میں آ کر بیٹھ گئے ۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ ضرور کوئی بڑا افسر ہے ۔
    جوزف نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔ عمران نے دونوں کا انٹر ویو لینا شروع کر دیا ۔ دونوں نے اپنا تعارف دیا ۔ پہلے پہل تو عمران نے انہیں کافی تنگ کیا ۔ خوب ڈرایا کہ وہ ان کے گھر اطلاع دے گا ۔ جب وہ رونے والے ہو گئے تو عمران نے انہیں سمجھایا۔انہیں بتایا کہ ذرا احتیاط سے رہا کریں ۔ خیر ایسے ہی باتیں کرتے مری پہنچ گئے ۔ انہیں ایک جگہ ڈراپ کرکے خود مری کے ایک بہترین ہوٹل میں سٹے کیا ۔
    کچھ دیر آرام کرنے بعد عمران آوارہ گردی کرنے نکل پڑا ۔ اس نے بہترین لباس زیب تن کیا ۔

    وہ جہاں بھی جاتا لوگوں کی توجہ اپنی طرف موہ لیتا ۔ جوزف کی وجہ سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے پہ مجبور ہو جاتے ۔ عمران کو پھر ایک جگہ پولیس والوں نے روک لیا ۔ اس کے کاغذات چیک کرنے لگے ۔ عمران اپنے چہرے پہ حماقتوں کی آبشار لاتے ہوئے بولا : کیا مسئلہ ہے جناب ؟ کچھ غلطی ہو گئی ہم سے ؟
    پولیس والا: نیچے اترو تم لوگ ۔
    عمران : جناب یہیں بتا دیں کیا مسئلہ ہے باہر تو بہت سردی ہے ۔ عمران نے جان بوجھ کر کانپنا بھی شروع کر دیا۔
    پولیس والا تپتے ہوئے : باہر آتے ہو یا ادھر ہی سردی دور کروں تمھاری؟
    عمران : اوہ تو آپ کے پاس کوئی ہیٹر ہے ؟ ارے واہ جلدی دیجئے نا پھر ۔
    پولیس والا واقعی تپ گیا اور اس بار دھاڑ کر بولا : میرے ساتھ زیادہ مسخری کرنے کی کوشش مت کرو ۔ جلدی باہر آؤ۔
    عمران: مسخری وہ کیا ہوتا ہے ؟ مستری کا تو سنا تھا پر وہ تو ہمارے گاؤں میں کام کرتا ہے ۔ کیوں جوزف ؟ اور جوزف نے بھی کچھ نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا ۔
    پولیس والا اب بہت زچ ہو چکا تھا اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی پر نہ کھول سکا ۔ اسی اثنا میں عمران نے جوزف کو گھبراتے دیکھا ۔ جوزف بولا: باس جلدی نکلو یہاں سے ۔ میں کشماتی کا سایہ دیکھ رہا ہوں کلونتی جھیل پہ ۔ شوراس نے کالے انڈے دے دیے ہیں ۔ عمران بھی سنجیدہ ہو گیا اور جلدی سے پولیس والے کو کارڈ دکھا یا اور گاڑی آگے بڑھا دی ۔
    ابھی وہ تھوڑا سا ہی دور گئے تھے کے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی کچھ فائرنگ کی آواز ۔ عمران نے فوراً گاڑی روکی اور پسٹل اٹھا کر فائرنگ والی جانب بھاگا ۔

    اس نے دیکھا کہ پولیس اور ایک گروپ میں فائرگ ہو رہی تھی ۔ اس نے ایک درخت کی آڑ میں خود کو چھپا لیا ۔ پولیس والوں کی جیپ دھماکے سے تباہ ہو چکی تھی ۔ اس نے دوسری طرف نظر دوڑائی ۔ بلندی پر ہونے کی وجہ سے اسے سارا منظر صاف نظر آ رہا تھا ۔ یہ کوئی 5، 6 نقاب پوش تھے جنہوں نے پوزیشنز لے رکھی تھیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں مشین گن نظر آ رہی تھی ۔ عمران نے اس کے ہاتھ کا نشانہ بنا کر فائر کر دیا گولی سیدھا اس کے ہاتھ پر لگی اور گن نیچے گزر گئی ۔ اس اثنا میں جوزف بھی اس کے قریب پہنچ گیا ۔ اس کے ہاتھ میں دور مار رائفل تھی ۔ عمران نے اس کے ہاتھ سے رائفل لے لی اور بنا بنا کر نشانے لگانے لگا ۔
    کچھ دیر میں میدان جنگ کا نقشہ بدلا نظر آنے لگا ۔ پولیس والوں کو بھی کچھ ہمت ہوئی اور انہوں نے بھی فائرنگ تیز کر دی ۔ نقاب پوش پسپا ہوتے معلوم ہوتے تھے ۔ ان میں سے تین تو عمران کا نشانہ بن گئے تھے ۔ ایک کسی پولیس والے کی گولی کا نشانہ بنا اور باقی دو نے بھاگنا شروع کر دیا ۔ عمران نے رائفل پھینک دی اور پسٹل لے کر ان کے پیچھے بھاگا پر وہ تو چھلاوے معلوم ہوتے تھے ۔ جلد ہی وہ عمران کی نظروں سے دور ہو گئے ۔ عمران واپس آیا تو دیکھا کہ جن نقاب پوشوں کو گولیاں لگی تھی ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی ۔ عمران نے ان کے منہ چیک کیے تو وہاں ٹوٹے ہوئے کیپسول کا خول ملا ۔
    اتنی دیر میں پولیس والے بھی آگے آ گئے ۔ اس پولیس والے نے جو پہلے عمران وغیرہ کو روک رہا تھا عمران کو دیکھتے ہی سیلوٹ مارا ۔
    عمران نے نقاب پوشوں کی ہر زاویے سے تصاویر لیں اور پولیس انسپکٹر سے گفتگو شروع کر دی ۔

    *****

    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-09-2019), irfan1397 (12-09-2019)

  3. #2
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 2


    انڈیا کے شہر دہلی میں ایک بڑے ہال میں انڈیا کے اہم افسران جمع تھے ۔ صرف دو سیٹیں خالی تھیں جہاں انڈیا کی ایک نئی ایجنسی ایس پی آئی کے سربراہ اور وزیر اعظم نے بیٹھنا تھا ۔ ہال میں ہلکی سرگوشیوں کی آواز گونج رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد ایک بیل بجی اور سب بڑے متوجہ ہو کر بیٹھ گئے ۔ ھال کا اکلوتا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم داخل ہوئے ۔ ان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر آدمی بھی تھا ۔یہ ایس پی آئ کا سربراہ تھا ۔دونوں اپنی مقررہ نشستوں پر براجمان ہو گئے ۔

    ایک آدمی نے کھڑےہو کر کاروائی کا باقاعدہ آغاز کیا ۔
    جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج ہم سب ایک خاص مقصد کیلئے جمع ہیں ۔ اور یہ مقصد اتنا اہم ہے کہ وزیر اعظم بھی ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے پوئے یہاں موجود پیں ۔
    مہا بھارت کی ٹاپ سیکرٹ ایجنسی ایس پی آئی کے سربراہ بھی یہاں موجود ہیں ۔ ایس پی آئی یعنی سپر پاور انڈیا کے قیام کا مقصد ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالنا ہے جن سے بھارت کی طاقت کو فروغ ملے ۔ آپ جانتے ہیں کہ جب تک ہمارا ہمسایہ ملک پاکیشیا موجود ہے وہ ترقی کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکیشا پر کچھ کاری ضربیں لگائی جائیں ۔ آج بھارت کے بہترین دماغ یہاں موجود ہیں ۔ آپ سب رائے دیں کہ اس کے بارے کیا کیا جائے ۔ آخر میں جناب وزیر اعظم اور ایس پی آئی کے سربراہ جے کال حتمی فیصلہ کریں گے۔
    سب اپنی رائے دینے لگا ۔ ایک بولا : ہمیں اپنے ایجنٹس بھیجنے چاہیئں جو پاکیشیا کے مختلف صوبوں کو آپس میں لڑوا سکیں ۔
    جے کال : آئیڈیا تو اچھا ہے پر اس پر پہلے بھی کام کیا جا چکا ہے ۔ یہ ایک کافی لمبا پراسیس ہے ۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ۔ بہرحال اسے بھی زیر غور رکھا جائے گا۔
    ایک اور آدمی بولا : پاکیشیا کی عوام کو ذہنی مریض بنا دیا جائے ۔ ایسے کمیکل ان کے پانی میں شامل کیے جائیں جس سے وہ کند ذہن ہو جائیں ۔
    جے کال : پہلی بات تو یہ کہ ایسا کمیکل ملے گا کہاں سے ۔ اور پھر اسے پانی میں کیسے ملایا جائے گا ۔ اگر ہم انڈیا سے شامل کرتے ہیں تو پاکیشیا کو شک ہو جائے گا۔
    وہی آدمی دوبارہ بولا : جناب شاید آپ کو معلوم نہیں کہ ایسا کمیکل تیار ہو چکا ہے۔ بس ایک جڑی بوٹی کی ضرورت ہے ۔ اگر کہیں سے وہ مل جائے تو ایک شاہکار کمیکل کی تشکیل ہو گی ۔ ہمارے قابل سائنسدان وجے لال نے ایسا کیمیکل بنا لیا ہے جس سے انسان اچھے برے کی فرق تمیز بھول جاتا۔ جس سے اسے سزا جزا کا ڈر نہیں رہتا ۔ وہ کسی اور دنیا میں کھویا رہتا ۔ بس اس میں ایک کمی ہے کہ وہ جنسی طور پر ایکٹو نہیں رہتا ۔ اگر ایک مخصوص جڑی بوٹی کہیں سے مل جائے تو جنسی بھوک 10 گنا بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اور پھر جو ہو گا آپ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
    جے کال : واہ واہ بہت عمدہ تجویز ۔ آپ ایسا کریں کسی طرح پتا لگائیں کہ وہ جڑی بوٹی کہاں سے مل سکتی ۔ وہ جہاں سے بھی ملے اسے منگوائیں اور اپنا کمیکل وافر مقدار میں تیار رکھیں ۔
    ایک اور آدمی : جناب میری تجویز یہ ہے کہ پاکیشیا کے ڈیموں پر حملہ کیا جائے ۔ کوئی ایک آدھ ڈیم بھی تباہ ہو گیا تو پاکیشیا کو بھاری نقصان پہنچے گا۔
    جے کال : ڈیموں کی سیکیورٹی بہت فول پروف ہے ۔ بہرحال آپ کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا ۔
    ایک اور آدمی : میری تجویز یہ ہے پاکیشیا کے سب سے بڑے شہر کراچی کو نشانہ بنایا جائے ۔ وہاں پہلے سے بہت بد امنی ہے ۔ اگر اسے اور فروغ دیا جائے تو پاکیشیا کی معشیت تباہ ہو جائے گی۔
    جے کال : اور کسی کوکچھ کہنا ہے ؟
    سب خاموش رہے ۔
    جے کال : آپ سب کی تجاویز میں نے سنی ہیں ۔ سب کی تجاویز ہی اچھی ہیں ۔ میری تجویز یہ ہے کہ کسی ایک آدھ حملے سے پاکیشیا کو کچھ نہیں ہونا ۔ ہر طرف سے اس پر ضرب لگائی جائے ۔ پاکیشیا کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا جائے ۔ جب پاکیشیا کی معشیت تباہ ہو گی تو ہم اسے قرضے کی آفر کر دیں گےاور جلد ہی اسے اپنا غلام بنا لیں گے ۔ وزیر اعظم مختلف ملکوں کا دورہ کریں گے اور بھارت کی پوزیشن اور مضبوط ہو گی ۔ ہمارے کچھ ایجنٹس پاکیشیا کے صوبوں میں باہمی نفرت کو فروغ دیں گے ۔ کچھ کراچی پر کام کریں گے ۔ اس کمیکل پر بھی کام کیا جائے گا ۔کسی کو کوئی اعتراض ؟
    سب خاموش رہے ۔
    وزیر اعظم : ٹھیک ہے اس سب کیلئے میں اپنی منظوری دیتا ہوں ۔
    جے کال : آج کی میٹنگ برخاست کی جاتی ہے ۔ جلد ہی ہم لائحہ عمل طے کریں گے ۔ آپ سب لوگ جا سکتے ہیں اور مسٹر روی آپ یہاں رکیں کچھ بات کرنی آپ سے ۔
    جے کال نے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا جس نے کمیکل والا مشورہ دیا تھا ۔
    جے کال کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی ۔ جے کال نے اس سے تفصیلی بات کی ۔ دونوں میں طے ہوا کہ دونوں ابھی ڈاکٹر وجے لال سے ملنے جائیں گے ۔ ان کیلئے ایک ہیلی کاپٹر آ گیا جس میں بیٹھ کر وہ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے ۔ ڈاکٹر شہر سے کچھ ہی دور باہر اپنی لیبارٹری میں مصروف رہتا تھا ۔ جب اسے پتا چلا کہ بھارت کی سب سے ٹاپ سیکریٹ ایجنسی کے چیف اس سے ملنے آئے ہیں تو وہ فوراً ان کے استقبال کیلئے آ گیا ۔ خیر رسمی گفتگو کے بعد جے کال نے اپنا سارا پلان ان کے سامنے رکھ دیا ۔ وجے لال : آپ بڑے صحیح وقت پر آئے ہیں ۔ ابھی ابھی مجھے کچھ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ وہ بوٹی ایک وافر مقدار میں پاکیشیا میں مری کی پہاڑیوں پر موجود ہے ۔
    جے کال: تو بس آپ بے فکر ہو جائیں ۔ آپ اس جڑی بوٹی کی شناخت بتا دیں ۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ آپ کے پاس پہنچ جائے گی ۔
    ڈاکٹر وجے لال اسے اس جڑی بوٹی کی شناخت بتانے لگا ۔





    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  4. The Following User Says Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-09-2019)

  5. #3
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 3


    شکر ہے سر آپ فرشتہ بن کر آئے اور بہت ساتھ دیا۔ پولیس والا بولا۔
    کوئی بات نہیں ۔ میں حیران ہوں کہ اتنے پر امن شہر میں یہ سب کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ عمران بولا۔
    سر کچھ دنوں سے ہمیں خبر مل رہی تھی کہ ادھر کچھ غیر معمولی سر گرمیاں جاری ہیں ۔ بس انہی کی چھان بین کرنے کیلئے اس طرف آئے ۔ ہم نے اک دو بندوں کو بھی پکڑا جو مشکوک سے تھے ۔
    لیکن کچھ بتانے سے پہلے ان لوگوں نے بھی زہر کھا کر خود کشی کر لی ۔ بہرحال ہم نے فورس منگوائی ہے ۔ کل ہم ان کی سرکوبی کریں گے ۔ انسپکٹر بولا۔
    عمران نے اسے اپنا نمبر دے دیا اور بولا کہ اگر کوئی پیش رفت ہو تو اسے بتا دیا جائے ۔ خود وہ واپس ہوٹل آ گیا ۔ واپس آتے ہی اس نے اپنا سپیشل سوٹ پہننا شروع کر دیا ۔
    جوزف : باس آپ کہیں جانے کی تیاری کر رہے کیا ؟
    عمران : ہاں میں ان نقاب پوشوں کے پیچھے جاؤں گا ۔ مجھے یہ مسئلہ گھمبیر لگ رہا ۔
    جوزف : باس کشماتی کا سایہ ابھی تک ٹلا نہیں ہے ۔
    عمران : کوئی بات نہیں میں سفید جھیل میں غوطے لگا لوں گا تو مجھے کچھ نہیں ہو گا ۔ تم بھی تیار ہو جاؤ اور میرے ساتھ چلو ۔
    دونوں تیار ہو کر نکلے ۔ باہر کڑاکے کی سردی تھی پرعمران اس کیلئے تیار تھا ۔ جوزف ویسے ہی سردی گرمی سے ماورا تھا ۔ دونوں جلد ہی اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں آج کا وقعہ ہوا تھا ۔ وہاں اب مکمل سناٹا اور تاریکی تھی ۔ عمران نے ٹارچ نکال لی اور اوپر پہاڑی پر چھڑھنا شروع کر دیا جہاں وہ نقاب پوش غائب ہوئے تھے ۔
    ایک تو کڑاکے کی سردی اوپر سے اتنی ڈھلوان پر چڑھنا بہت جان جوکھم کا کام تھا پر وہ عمران ہی کیا جو اس چیز سے گھبرا جائے یا تھک جائے ۔
    کافی اوپر آنے کے بعد عمران رک گیا اور اس نے قدموں کے نشان تلاش کرنے شروع کر دیے ۔ قدموں کے نشان مزید بلندی کی طرف جا رہے تھے جہاں گھنا جنگل تھا ۔ عمران ان نشانات کا پیچھا کرتے آگے بڑھتا گیا ۔ جوزف بھی محتاط نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔ ایک گھنٹے کی مسلسل مسافت کے بعد عمران کو آگے کچھ روشنی سے نظر آئی ۔

    عمران نے اور محتاط ہو کر آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔ اس نے نائٹ وژن لینز لگا لیے تھے ۔ تھوڑا سا آگے گئے تو ایک بڑی سی چٹان آ گئی ۔ عمران کو کسی سرسراہٹ کا احساس ہوا ۔ وہ پلٹا مگر دیر ہو چکی تھی ۔ اس کے سر پہ کوئی چیز لگی اور وہ وہیں گر گیا ۔ جوزف پر بھی کسی نے حملہ کر دیا تھا ۔ عمران نے دھندھلاتی آنکھوں سے کچھ دیکھنے کی کوشش کی پر ایک اور ضرب نے اسے ہوش و حواس سے بے گانہ کر دیا ۔
    کچھ دیر بعد اس کی آنکھ جوزف کی آواز سے کھلی ۔ باس باس ہوش میں آئیں جلدی ۔
    عمران آنکھیں ملتا ہوش میں آ گیا ۔ اس کے سر پہ گومڑ سا بن گیا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ ایک طرف دو آدمی بے سدھ لیٹے ہوئے تھے ۔
    عمران فوراً اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔ وہ ساری صورتحال سمجھ گیا ۔ جوزف سے تفصیلات لینے کا ٹائم نہیں تھا ۔ اس نے ایک آدمی کو سیدھا کیا اور اس کی اچھی طرح تلاشی لی ۔ اس کے دانتوں سے بھی اس نے وہی کیپسول برامد کر لیا جس سے پہلے وہ نقاب پوش خود کشی کر چکے تھے ۔ اس نے دوسرے آدمی سے بھی وہی کیپسول برامد کر لیا ۔ اب اس نے ان کے ناک منہ بند کر کے انہیں ہوش میں لانا شروع کر دیا ۔ جلد ہی ایک آدمی ہوش میں آ گیا ۔
    عمران کے پاس ٹائم نہیں تھا ۔ اس نے اپنی ٹانگ اس کے نرخرے پہ رکھ دی اور اسے دبانا شروع کر دیا ۔ اور ساتھ پوچھنے لگا کہ وہ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ۔
    اس آدمی نے پھڑپھڑانا شروع کر دیا اور رک رک کے جو بتایا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ انڈیا کے کسی دیش واسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور یہاں وہ کسی خاص جڑی بوٹی کی تلاش میں ہیں ۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ بتا سکا ۔
    عمران نے دوسرے آدمی سے بھی یہی پوچھا ۔ اس نے بھی کچھ ملتا جلتا بتایا ۔
    عمران: جوزف مجھے کسی بہت بڑی سازش کی بو آ رہی ہے ۔ ایسا کرو ان سے اپنا لباس تبدیل کر لو جلدی اور پھر انہیں آف کر دینا۔ یہ کہ کر عمران نے اپنے ہم پلہ آدمی کے کپڑے اتارے اور اپنے کپڑے سے تبدیل کر لیے ۔
    اب عمران محتاط قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔ جلد ہی جوزف اس سے آ ملا ۔ دونوں آہستہ آہستہ اس چٹان سے نیچے اترنے لگے ۔ جیسے ہی چٹان سے نیچے اترے ایک حیرت انگیز منظر ان کا منتظر تھا ۔
    یہاں رات کے اس ٹائم بھی خوب چہل پہل نطر آ رہی تھی ۔ 20 ، 22 خیموں کا ایک کیمپ لگا ہوا تھا ۔ کہیں کہیں ہلکی پھلکی روشنی نظر آ رہی تھی ۔ ایک جگہ پہ تھوڑا رش تھا اور کچھ روشنی بھی زیادہ تھی ۔ یہ خیموں کے بالکل وسط والی جگہ تھی ۔ عمران نے اس جانب بڑھنا شروع کر دیا ۔ اب بھی وہ اس جگہ سے تھوڑا سا دور ہی تھے کہ ہالٹ کی گرج دار آواز سے وہ رک گئے ۔ کچھ ہی سیکنڈز بعد وہ روشنیوں میں نہا گئے۔ کئی رائفلز اور گنز ان کی جانب اٹھ گئی۔
    کون ہو تم لوگ اور یہاں کیا کر رہے ؟ اسی گرج دار آواز نے دوبارہ پوچھا ۔ عمران نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے عمران کی طرف دیکھا۔ عمران نے اسے چونکتے دیکھا۔
    اوہ مائی گاڈ ۔ یہ بہت خطرناک آدمی ہے ۔ ختم کر دو انہیں ایک سیکنڈ سے پہلے ۔اسی گرجدار آواز والے نے کہا۔
    عمران نے جوزف کو ایک سیکرٹ اشارہ کر دیا ۔ جیسے ہی اس نے یہ الفاظ کہے ۔ دونوں نے بیک وقت جمپ لگایا اور ایک طرف بھاگنا شروع کر دیا جہاں گھنے درخت تھے ۔ ان پر گولیوں کی برسات ہو رہی تھی ۔ زائیں زائیں کی آواز انہیں اپنے بہت قریب سنائی دے رہی تھی ۔ ایک گولی اسے بالکل چھوتی گزر گئی ۔ اور پھر عمران کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے بازو میں انگارہ ڈال دیا ہو ۔ عمران نے بھاگنا اور تیز کر دیا ۔ یکا یک اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہو گیا ہو ۔ اور اسی دوران ایک اور گولی اس کے کندھے کو چیرتی گزر گئی ہو ۔ اصل میں تیزی میں بھاگتے انہیں یہ خیال نہ رہا کہ آگے کھائی ہو سکتی ۔ عمران سیکنڑوں فٹ کی بلندی سے نیچے گر رہا تھا۔

    جوزف کنارے پر پہنچ کر رک گیا تھا ۔ کیونکہ اس کی جنگلاتی خصوصیات نے اسے خبردار کر دیا تھا ۔ اسے بھی ٹانگ پر ران کے قریب ایک گولی لگی تھی ۔ جیسے ہی عمران کھائی میں گرا ۔ جوزف نے بھی اس کے پیچھے جمپ لگا دیا ۔ جوزف کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح عمران کو پکڑ لے ۔ زمین قریب آتی جا رہی تھی ۔ عمران نے پیرا ٹرووپنگ کی کوشش کی پر زخموں کی وجہ سے اسے نقاہت ہوتی جا رہی تھی ۔ اس کی آنکھیں تکلیف سے بند ہوتی جا رہی تھی ۔ زمین سے تقریباً 150 فٹ اوپر جوزف نے عمران کو پکڑ لیا ۔ عمران اس وقت تک بے ہوش ہو چکا تھا ۔
    جوزف نے پیرا ٹرووپنگ سے زمین پر اترنے کی کوشش کی ۔ ایک زور دار جھٹکے سے دونوں گرے ۔ جوزف کو اپنے کئی مہرے کھسکتے معلوم ہوئے ۔ درد کی ایک شدید لہر اسے اپنے جسم میں محسوس ہوئی ۔ عمران چونکہ اس کے اوپر تھا اس لیے اسے کم چوٹیں آئی ۔ شکر کی بات یہ تھی کہ جس جگہ وہ گرے وہ جگہ مٹی سے ہموار تھی اس لیے وہ نتیجہ نہیں نکلا جو نکل سکتا تھا ۔ یہ سب بیان کرنے میں تو شاید دیر لگی ہو پر یہ ہونے میں سیکنڈز لگے ۔ یہ لمحوں کا کھیل تھا ۔ جوزف نے دیکھا کہ اس میں ہلنے جلنے کی طاقت نہیں ۔ پھر بھی اس نے عمران کو پکڑ کر ایک جانب گھسیٹنا شروع کر دیا ۔ اور جس طرح آخر کار ساری رات کے سفر کے بعد وہ ایک شاہراہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے وہ جوزف کی ہمت اور عزم کی ایک الگ داستاں ہے ۔ شاہراہ پر پہنچ کر جوزف کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بلیک زیرو کو ٹرانسمیٹر کال کرنے لگا ۔ اسی دوران نقاہت سے بے ہوش ہوگیا ۔
    ٭٭٭٭٭
    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  6. The Following User Says Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-09-2019)

  7. #4
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default


    زین اور عائشہ کو جب پولیس نے روکا تو وہ بہت ڈر گئے تھے ۔ دونوں 3 سال سے اچھے دوست تھے اور ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ۔ پہلی دفعہ انہیں ایسا موقع ملا تھا کہ وہ ایک دن کیلئے باہر گھومنے پھرنے جا سکتے تھے ۔ دونوں راولپنڈی میں رہتے تھے اور ایک ہی یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے ۔ ان کی یونیورسٹی کا ایک روزہ ٹرپ جا رہا تھا لاہور ۔ تو انہوں نے سوچا کہ گھر والوں کو ٹرپ کا بتا کر دونوں مری چلے جاتے ۔ وہاں کسی ہوٹل میں سٹے کریں گے ۔ پر جب پولیس نے روکا تو اوسان خطا ہو گئے ۔ پھر عمران نے جس طرح ان کی مدد کی دونوں کی جان میں جان آئی ۔ عمران نے انہیں جس جگہ اتارا وہ وہاں سے پیدل چل کر اپنے ہوٹل گئے وہاں روم بک تھا دونوں کا ۔روم میں پہنچ کر زین نے عائشہ کو بانہوں میں بھر لیا ۔ زور سے سینے سے لگا کر بوسوں کی برسات کر دی ۔۔

    کیا ہو گیا ہے تھوڑا صبر کر لیں ۔ عائشہ خود کو چھڑاتے ہوئے بولی ۔
    نہیں میری جان ۔ بس اب صبر نہیں ہوتا ۔ بہت صبر کر لیا ۔ 3 سال سے تمھاری قربت کیلئے تڑپ رہا ہوں ۔ زین بے صبر سے بولا ۔
    میری جان بس ایک سال ہی تو رہ گیا پھر ہم شادی کر لیں گے ۔ عائشہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ۔
    زین اس برابر چومے جا رہا تھا ۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو زین نے عائشہ کو چھوڑا اور دروازے پر پتا کیا ۔ روم سروس والا ویٹر تھا جو ان کیلئے چائے لایا تھا ۔ دونوں نے چائے پی اور پھر زین نے عائشہ کو اٹھایا اور باتھ روم میں لے آیا ۔ گرم پانی کے ٹب میں دونوں بیٹھ گئے ۔ عائشہ گورے بدن کی ایک بھرپور لڑکی تھی ۔ زین کی عمر 24 سال تھی اور عائشہ 22 کی ہو گی ۔ عائشہ کی صحت بہت فٹ تھی ۔ تنی ہوئی34 چھاتیاں ۔ 36 کی گانڈ ۔ نہ ہونے کے برابر پیٹ کمر ۔ صراحی دار گردن ۔ غرض ایک سیکسی جسم کیلئے جو چیزیں ضروری ہوتی وہ سب اس میں تھی ۔ زین اس کے ساتھ رومانس تو بہت کر چکا تھا، دونوں ایک دوسرے کو ننگے ہو کر ویڈیو کال بھی کر چکے تھے پر ابھی تک سیکس نہیں کیا تھا ۔
    زین بہت عرصے سے سوچ رہا تھا کہ اس رات اس نے کیا کیا کرنا اور آج وہ سب کرنے والا تھا ۔ دونوں ایک دوسرے کو نہلا رہے تھے ۔ دو ننگے گرم بدن ایک دوسرے کو چھو رہے تھے ۔

    زین مزے مزے سے عائشہ کے جسم کو مل مل کر دھو رہا تھا ۔ اس کے ایک ایک انچ کو رگڑ رگڑ کر صابن لگایا خاص طور پر حساس مقامات پر کچھ زیادہ ہی زور دیا ۔

    پھر عائشہ نے بھی اسے اچھی طرح صابن لگایا ۔ دونوں نے خوب مزے کیے اور نہا کر ایسے ننگے ہی باہر آ گئے ۔ روم میں ہیٹر چل رہا تھا اس لیے کمرہ کافی گرم تھا ۔زین نے عائشہ کو گلے سے لگا لیا ۔ روم میں گیت چل رہا تھا ۔
    ایسے نہ مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لوں گا
    تم کو میں چرا لوں گا تم سے دل میں چھپا لوں گا
    جس بات کا تم کو ڈر ہے وہ کر کے دکھا دوں گا
    بڑا رومانوی سین ہو رہا تھا ۔ کمرے میں سائیڈ لیمپس کی ہلکی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ کمرے کا موحول بھی رمانوی بن رہا تھا ۔ زین عائشہ کے چومے جا رہا تھا ۔ اب اس نے عائشہ کے شربتی ہونٹوں پر حملہ کیا اور انہیں اپنے قبضے میں لے لیا ۔ عائشہ بھی مزے سے اس کا ساتھ دینے لگی ۔ زین کا عضو اس کی ٹانگوں کے بیچ ٹچ ہو رہا تھا جو اسے اور بے قرار کر رہا تھا ۔ زین اس کے ہونٹ چوس رہا تھا بڑی شدت سے ۔ کبھی اوپر والا ہونٹ کبھی نیچے والا ہونٹ ۔ پھر اس زین نے عائشہ کی زبان پکڑ لی اسے چوسنے لگا ۔ عائشہ بے خودی میں ڈوبنے لگی ۔ مزے کی لہر سی تھی جو اس کی زبان سے اس کے دل ودماغ تک جا رہی تھی ۔ اس نے بھی زین کے ہونٹ چوسے ۔ زین کی زبان چوسی ۔ کافی دیر تک دونوں ایسے کھڑے کھڑے کس کرتے رہے پھر تھک کر بیڈ پر گر گئے ۔

    گیت برابر چل رہا تھا ۔
    بانہوں میں تیرے میری یہ رات ٹھہر جائے
    تجھ میں ہی کہیں پہ میری صبح بھی گزر جائے
    جس بات کا تجھ کو ڈر ہے وہ کر کے دکھا دوں گا

    زین نے عائشہ کو لٹا دیا اور خود اس کےقدموں کی طرف آ کر بیٹھ گیا ۔ اس نے عائشہ کے پاؤں پکڑ لیے ۔ اپنے ہاتھ سے عائشہ کی گوری گوری ننگی ٹانگوں کو سہلایا۔ عائشہ کو اپنے بدن میں سرسراہٹ سی ہونے لگی ۔ اسے مزے اور گدگدی کا ملا جلا سا احساس ہونے لگا ۔ پھر زین نے عائشہ کے گورے پاؤں کو چوما اور پھر پاؤں کے انگوٹھے کو منہ میں لے کر چوسنے لگا ۔ عائشہ تو مزے سے سسکنے لگی ۔ آہ ، آہ زین ،کیا کر رہے ہو میری جان ۔
    پر زین نے اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا ۔ اس نے پہلے انگوٹھے کو چوسا اور پھر باقی انگلیوں کو بھی ۔



    اور پھر جب اس نے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان والی جگہ کو چوما اور اپنی زبان وہاں لگائی تو عائشہ اچھل سی پڑی اور اپنے پاؤں چھڑانے کی کوشش کی ۔ پر زین اپنے کام میں لگا رہا ۔ عائشہ مزے سے بے خود ہو کہ سسکتی رہی ۔
    پھر زین نے چومنے کا سفر اوپر کی طرف شروع کر دیا ۔ عائشہ کی گوری گوری پنڈلیوں کو چوما ۔ عائشہ ہر کس کے ساتھ تڑپ سی اٹھتی اپنی ٹانگیں سمیٹنے کی کوشش کرتی ۔ زین اس کی نرم و ملائم رانوں پر پہنچ گیا ۔ عائشہ کو ہر جگہ ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا ۔ ایسے مزے جن کا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔ اسے لگ رہا تھا اس کی پھدی سے بہت پانی نکل رہا ۔ زین رانوں کو چومتا اور اوپر آ گیا ۔ اس نے پھدی کے چھوڑ دیا اور اس کے اوپر والی جگہ پر کس کی اور پھر پیٹ پر آ گیا ۔ عائشہ کا بدن ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔
    زین نے عائشہ کے پیٹ پر زبان پھیری ۔ خاص طور پر ناف کے سوراخ کے اردگر ۔ عائشہ کی بے قراریاں اور بڑھنے لگی ۔ زین نے اپنی زبان اس کی ناف میں ڈال دی ۔ اپنی زبان گول گول گھمانے لگا ۔ عائشہ: آہ اوہ ۔۔اہہ۔۔ہہہ۔ہہ
    زین اب جگہ جگہ اپنے پیار کے نشان ثبت کرتا اور اوپر جا رہا تھا ۔ وہ کئی جگہ پر اتنی شدت سے عائشہ کے جسم کو چوستا کہ وہاں نشان پڑنا شروع ہو گئے تھے ۔ اب وہ پستان کے قریب والی جگہ پر پہنچ گیا ۔ اس نے عائشہ کی آنکھوں میں دیکھا جہاں خماری ہی خماری تھی ۔ اس نے عائشہ کے دونوں پستان اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے ۔ کیا نرم نرم پستان تھے ۔ گولائیاں کمال کی تھی ۔ گورے گورے نرم نرم ممے جس کے درمیان میں چھوٹا سا براؤن دائرہ اور اس میں چھوٹے چھوٹے براؤن نپلز ۔ غرض کمال کا نظارہ تھا ۔ زین عائشہ کے ممے دبانے لگا ۔ اسے بہت مزہ آ رہا تھا یہ سب کرنے میں ۔ پھر اس نے اپنا منہ عاشہ کے ایک ممے پر رکھ دیا ۔ عاشہ سسک سی گئی ۔ زین پہلے اوپر اوپر سے چومنے لگا ۔ پھر ممے پر جگہ جگہ اتنی شدت سے چوسا کہ نشان پڑنے لگ گئے پر کسے پرواہ تھی ۔ زین نے نپل کو منہ میں لے لیا ۔



    اس کے ارد گرد گول گول زبان گھمانے لگا ۔ عاشہ تڑپنے لگی ۔اس کی سسکاریاں بلند ہو رہی تھی ۔ زین اپنی زبان سے بار بار اس کی نپل کو دباتا اور پھر رگڑتا ۔
    ہھر اس نے صحیح معنوں میں ایک بچے کی طرح بڑی شدت سے ممے چوسنے شروع کر دیے ۔ عاشہ کے نپلز فل تنے ہوئے تھے ۔ زین دیونہ وار چوسے جا رہا تھا ۔

    عاشہ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ لیا اور زین کا سر اور دبانے لگی ۔ زین سمجھ گیا کہ عاشہ کو اور مزہ آ رہا ہے اس نے اپنے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر عاشہ کی پھدی پر رکھ دیا اور اسے بھی ساتھ ساتھ مسلنے لگا ۔ عاشہ مزے میں ڈوبتی گئی ۔ زین نے ہاتھ سے پھدی مسلنے کے عمل کو اور تیز کر دیا ۔ وہ اپنی انگلی پھدی کے دونوں لبوں کے درمیاں رگڑ رہا تھا اور خاص طور پر پھدی کے دانے کو بھی رگڑ رہا تھا ۔
    عاشہ دوہرے مزے کا شکار تھی ۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی ۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے زین کی کمر اور سر پر اپنی گرفت مضبوط کر دی ۔ زین برابر عاشہ کا ممہ چوسے جا رہا تھا ۔ اب اس نے ایک ممہ چھوڑ کر دوسرا پکڑ لیا ۔ اس کا لن بھی بار بار عاشہ کی رانوں سے ٹکرا رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ عاشہ کی پھدی کی تواضع کر رہے تھے ۔ عاشہ سسکاریاں بھر رہی تھی اور پھر ایک زور دار سسکاری کے ساتھ عاشہ کا جسم سکڑا اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔ عاشہ نے لمبے لمبے سانس لینے شروع کر دیے۔
    کچھ دیر سکون کرنے کے بعد زین عاشہ کے ساتھ لیٹ گیا اور دونوں کس کرنے لگے ۔ اب کی بار عاشہ کی گرم جوشی دیدنی تھی ۔ وہ بڑی شدت سے زین کو پیار کر رہی تھی ۔ اسے زین پر پیار ہی بہت آ رہا تھا۔اب وہ زین کے اوپر آ گئی دیوانہ وار چومنے لگی ۔ اس کے چہرے کو چوما ۔ ہونٹوں پر بے تحاشا پیار کیا ۔ جب وہ گردن کو چومنے لگی زین بھی ہلکا سا کانپ سا گیا ۔ اس بھی بے انتہا مزہ آ رہا تھا۔ اب عاشہ اور نیچے آ رہی تھی ۔ زین کے سینے پر آ گئی یہاں بھی بے تحاشا بوسوں کی برسات کر دی ۔ زین کو اس کی یہ گرم جوشی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ مزے کی لہریں اس کے جسم میں سرائیت کر رہی تھی۔ اور تب تو اسے ایک کرنٹ سا لگا جب عاشہ نے اس کے نپل کو چوسنا شروع کر دیا ۔ اس نے بے اختیار عاشہ کو روکنا چاہا پر وہ نہ رکی اور زین مزے کے اس طوفان کو برداشت کرنے لگا ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں ۔ کچھ دیر زین کے دونوں نپلز چوسنے کے بعد وہ اور نیچے آئی ۔
    اس نے زین کے پیٹ پر کس کیے ۔



    اب زین کی رانوں کی باری آئی ۔ جیسے ہی عاشہ کی زبان زین کی رانوں سے ٹچ ہوئی ایک بار پھر زین کپکپا گیا ۔ ہر لمحے اسے ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا ۔ خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا ۔ عاشہ اس کے قدموں میں آ گئی ۔ اس نے زین کے پاؤں اٹھا کر ان پر ایک کس کی اور پھر اس کے انگوٹھے کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا ۔ زین پھر سے مزے کے ایک نئے جہان میں غوطے لینے لگا ۔ جب وہ عاشہ کا انگوٹھا چوس رہا تھا تو اسے نہیں پتا تھا کہ اس چیز سے اتنا زیادہ مزہ آتا ہے اور پھر جب عاشہ نے اس کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان والی جگہ پر زبان پھیری تو اس کے منہ سے بے اختیار ایک سسکاری سی نکل گئی ۔
    مزہ ہی اتنا تھا کہ وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔ پھ عاشہ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئی اور اس کے عضو کو ہاتھ میں پکڑ لیا ۔ عاشہ پیار سے اسے سہلانے لگی ۔ اور پھر اس وقت تو زین کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب عاشہ نے اس کے عضو کو چومنا شروع کر دیا ۔زین اس سے یہ سب توقع نہیں کر رہا تھا۔عاشہ مزے مزے سے اس کی کیپ کے گرد زبان پھیر رہی تھی ۔

    عاشہ نے ایک ہاتھ سے زین کی بالز پکڑ لی اور انہیں بھی ہلکا ہلکا سہلانے لگی دبانے لگی ۔زین بھی دوہرے مزے کا شکار ہونے لگا ۔ عاشہ کی مستیاں اسے اس کا دیوانہ بنا رہی تھی ۔ پھر عاشہ نے زین کو اس کی ٹانگیں اٹھانے کا کہا ۔ زین نے تھوڑی ٹانگیں اوپر اٹھائی تو عاشہ نے زین کی بالز کو چوما اور پھر اس کے نیچے والی جگہ کو بھی چوما ۔ جب وہاں زبان پھیری تو زین کو پھر سے ایک منفرد مزے کا احساس ہوا ۔ زین کو لگ رہا تھا کہ کسی لمحے وہ چھوٹ نہ جائے ۔ اس نے عاشہ کو روک دیا ۔ اب وہ اگلے مرحلے یعنی چدائی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ۔
    اس نے عاشہ کو لٹا دیا اور خود اس کے اوپر آ گیا ۔ وہ جانتا تھا کہ عاشہ کا پہلی دفعہ ہے اس لیے وہ بڑے پیار اور سکون سے سب کرنا چاہتا تھا ۔ اس نے عاشہ کی ٹانگیں اٹھا کر اپنی بغلوں سے گزاریں جس سے عاشہ کی پھدی اور کھل گئی ۔ اس نے اپنا لن عاشہ کی پھدی پر رگڑنا شروع کر دیا ۔ آنے والے لمحات کے تصور سے عاشہ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔ زین کا لن عاشہ کے لعاب سے پہلے ہی گیلا ہو چکا تھا اور عاشہ کی پھدی بھی کافی گیلی تھی ۔ لن بھی بار بار پھسل رہا تھا ۔
    زین نے لن کی کیپ عاشہ کی پھدی پر ٹکائی اور اپنے جسم کو تھوڑا جھکا کہ ہلکا سا زور لگایا ۔ لن کی کیپ پھس گئی ۔ عاشہ کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے کافی درد ہو رہی ہے ۔ زین نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر تھوڑا اور زور لگایا ۔ اب کی بار لن سارے پردے چیرتا اندر داخل ہو گیا ۔ عاشہ نے زور کی سسکاری لی اور اپنی چیخ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔ اس کی سانسیں اتھل پتھل ہورہی تھیں۔ زین وہیں رک گیا۔
    اس نے اپنا جسم عاشہ کے جسم پر جھکا لیا اور اسے چومنے لگا ۔ عاشہ کے سینے کو چوما ۔ پھر عاشہ کے چہرے کو چوما ۔ اس سے پیار بھری باتیں کی ۔ اس دوران اس کا لن 2 انچ تک اندر ہی تھا۔ ایسے ہی اس کو چومتے چومتے اس نے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دینی شروع کردی ۔ اب عاشہ اسے برداشت کر رہی تھے ۔ اس کی پھدی بہت گرم اور ٹائیٹ تھی اس بات کا اندازہ زین کو چدائی کے دوران با آسانی ہو رہا تھا ۔
    زین اپنے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دے رہا تھا ۔ لن عاشہ کی پھدی کی دیوراوں کے ساتھ رگڑ کھاتا ہوا اندر جا رہا تھا ۔ دونوں ہی مزے سے سرشار تھے ۔ زین کا لن اب روانی میں آ رہا تھا ۔ اس نے رفتار تھوڑی سی بڑھا دی تھی ۔ کمرے میں پچک پچک کی آوازیں گونج رہی تھی اور اس دوران کہیں کہیں عاشہ کی لذت آمیز سسکاریاں بھی گونجتی ۔
    زین نے کچھ دیر ایسے چودائی کرنے کے بعد لن باہر نکال لیا ۔ عاشہ کی پھدی کی اردگرد تھوڑا بلڈ لگا ہوا تھا ۔ زین نے ایک ٹشو سے وہ صاف کیا اور عاشہ کو گھوڑی بنا دیا ۔اب وہ پیچھے سے آ گیا اور عاشہ کی پھدی پہ اپنا لن رگڑنے لگا ۔ پھر عاشہ کے چوتڑوں کو مضبوطی سے پکڑ کر اس نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور لن پھر سے گھپ کی آواز سے پھدی میں داخل ہو گیا ۔

    عاشہ کی زور دار آہ بلند ہوئی ۔ عاشہ چلائی : زینی میری جان آہستہ سے کرو ۔ میں ادھر ہی ہوں کہیں نہیں جا رہی ۔ آہہ آہ
    زین: ٹھیک ہے میری جان ۔ بس تمھیں یوں دیکھ کر صبر نہیں ہو رہا تھا ۔ زین آب آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر حرکت دینے لگا ۔
    کمرے میں دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہی تھی ۔ بیڈ کی چر چر بھی سنائی دے رہی تھی ۔ زین کے دھکوں میں کافی تیزی آ گئی تھی ۔ اب وہ ایسا کرتا کہ لن سارا باہر نکال کر صرف ٹوپی اندر رہنے دیتا اور پھر ایک زور دار دھکے سے لن جڑ تک عاشہ کی پھدی میں اتار دیتا ۔ہر دھکے پر عاشہ کو یوں لگتا جیسے کسی نے 100 فٹ بلندی سے نیچے دھکا دے دیا ہو ۔ دونوں مزے میں بے خود ہو رہےتھے ۔ اس دوران عاشہ کتنی بار جھڑ چکی تھی اس بات کا اسے خود احساس نہیں تھا ۔ اب زین کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ جھڑنے کے قریب ہے ۔ اس نے اپنی رفتار اور بڑھا دی ۔ دو چار اور زور دار دھکوں کے بعد وہ فارغ ہو گیا ۔ اس نے اپنا سارا گرم گرم پانی عاشہ کی پھدی میں چھوڑ دیا۔ کیونکہ عاشہ برتھ کنٹرول پلز یوز کر رہی تھی اس لیے پریگنینسی کی کوئی ٹینشن نہیں تھی ۔
    اس کے بعد دونوں نے ایک اور راؤنڈ لگایا اور کئی مختلف پوزیشنز ٹرائی کیں۔ ایسے ہی رومانس کرتے کرتے ان کی رات گزری ۔

    صبح دونوں سات بجے اٹھ گئے کیونکہ انہوں نے گھومنے جانا تھا ۔ دونوں نے ایک ٹیکسی کروائی اور نتھیا گلی کی طرف نکل پڑے ۔ ابھی کچھ ہی دور آگے گئے ہوں گے کہ انہیں سڑک کے کنارے دو زخمی نظر آئے ۔ زین انہیں دیکھ کر چونک پڑا ۔ ارے ارے یہ تو وہی سر ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی تھی ۔ زین چلایا اور فوراً گاڑی روکنے کا کہا ۔ عاشہ بھی بولی : ہاں وہی دونوں ہیں یہ تو ۔

    دونوں اتر کر ان کے پاس گئے ۔ ان کی حالت بہت نازک تھی ۔ زخمی حبشی جو کہ جوزف تھا اس کے ہاتھ میں واکی ٹاکی نما چیز تھی ۔ دونوں نے ڈرائیور کے ساتھ مل کر انہیں گاڑی میں بٹھایا اور جلدی سے سرکاری ہسپتال لے گئے ۔ جیسے ہی وہ ہسپتال پہنچے زخمیوں کو ایمرجینسی لے جایا گیا ۔ بلڈ بہت زیادہ بہہ گیا تھا۔ ابھی یہ سب کاروائی ہو ہی رہی تھی کہ اسی واکی ٹاکی پر جو اب زین کے پاس تھا اس پر کال آ گئی ۔ زین نے کال رسیو کی تو یہ سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکہ لگا کہ پاکیشیا سیکرٹ سروس کا چیف اس سے بات کر رہا تھا ۔ زین نے سارا قصہ سنایا ۔ ایکسٹو نے اسے کہا کہ جلد ہی اس کے نمائندے اس ہسپتال میں پہنچ جائیں گے تب تک وہ وہیں رہیں۔ قصہ مختصر صفدر اور تنویر آئے اور عمران اور جوزف کو لے کر سپیشل ہسپتال چلے گئے ۔ وہاں ڈاکٹر فاروقی کو اطلاع کر دی گئی۔ دونوں کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا ۔ عمران کی حالت کافی نازک تھی ۔ پوری سیکریٹ سروس ہسپتال جمع تھی ۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکیشیا میں مختلف مقامات پر افرا تفری پھیلائی گئی ۔


    ٭٭٭٭٭
    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  8. The Following User Says Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-09-2019)

  9. #5
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 5




    پاکیشیا کے شہر فیصل آباد میں ایک نئی ابھرتی جماعت کا بہت بڑا جلسہ تھا ۔ جلسہ اپنے عروج پہ تھا ۔



    گرمیوں کے دن تھے اس لیے جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کے کولر لگائے گئے تھے ۔ جلسہ شروع ہوا تو عوام کا ایک جم غفیر تھا ۔ خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔ گرمی کی وجہ سے لوگ بار بار پانی بھی پی رہے تھے ۔ جگہ جگہ کچھ لوگ رضا کارانہ طور پر بھی میٹھا پانی بنا کر پلا رہے تھے ۔ ابھی مرکزی قیادت نہیں آئی تھی ۔ اچانک ہلچل سی مچ گئی ۔ لوگ اپنے کپڑے پھاڑنے لگ گئے ۔ کچھ لوگ جو ابھی پہنچے تھے انہیں کچھ سمجھ نہ لگ رہی تھی ۔ پولیس بھی حیران تھی ۔
    دیکھتے ہی دیکھتے سب کپڑوں سے آزاد ہونے لگے ۔ پولیس کنترول کرنے آگے بڑھی کہ پولیس کے ہی کچھ نوجوانوں نے بھی کپڑے پھاڑنے شروع کر دیے ۔ دوسری طرف خواتین کا بھی یہی حال تھا ۔ اسی دوران کچھ ننگے مردوں نے مردانہ اور زنانہ حصوں کے درمیان لگی خار دار تار کو گرا دیا ۔
    کھلبلی سی مچ گئی تھی ۔ کسی کو کسی کا ہوش نہیں تھا ۔ 99 فیصد لوگ ننگے ہو چکے تھے ۔ عورتیں مردوں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ اور پھر وہ ہوا جس کا کسی نے سوچا نہیں تھا ۔ وہ فطری عمل شروع ہو گیا ۔ ذات پات رنگ نسل ، عمر ، قد دیکھے بغیر ہر شخص کسی نہ کسی عورت سے شروع ہو گیا ۔



    کسی کو بھی کسی سے کوئی شرم نہ آ رہی تھی ۔ وہ چند ایک لوگ جو ابھی تک ٹھیک تھے اس سب کو بڑی حیرانی سے دیکھ رہے تھے ۔ میڈیا کے نمائندے بھی مزے کرنے میں لگ گئے ۔، مزے کی بات یہ کہ عورتوں کو بھی کوئی شرم نہیں آ رہی تھی ۔ کہیں کہیں تو ایک لڑکی سے دو دو لگے ہوئے تھے ۔ میڈیا میں جیسے ہی اس سب کا پتا چلا فوراً کوریج بند کر دی گئی ۔ وزیر اعظم کو اطلاع دی گئی ۔ فوراً فوجی دستے اس طرف روانہ کیے گئے ۔
    چونکہ جلسے کا اہتمام ایک اسٹیڈیم میں کیا گیا تھا اس لیے اسے باہر سے سیل کر دیا گیا ۔
    لیکن جب تک فوج پہنچتی کافی دیر ہو چکی تھی ۔ سب اپنے عمل سے فارغ ہو چکے تھے اور مدہوش ہو کر سوئے پڑے تھے ۔ فوج نے سب کو اپنے قبضے میں کر لیا ۔ فوجیوں کے کیپٹن کا چہرہ غصے سے لال تھا ۔ اس کی زندگی میں ایسا واقعہ پہلی دفعہ ہوا تھا ۔ اس نے فوراً انٹیلی جنس کو کال کی اور تحقیقات کا کہہ دیا ۔
    ٭٭٭٭٭

    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  10. #6
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 6




    پاکیشیا کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک چھوٹی سی بستی منگھو پیر کا منظر۔
    ایک چھوٹے سے محلے میں جگہ جگہ سے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگی ۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ یہ عورتوں کی آوازیں ہیں ۔ انور کالج سے پڑھ کر ابھی گھر تک پہنچا ہی تھا کہ اسے اپنے گھر سے اپنی بہن کے چلانے کی آواز آئی ۔ اس نے فوراً دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا ۔ اندر کا منظر اس کیلئے ناقابل برداشت تھا ۔ اس کا چھوٹا بھائی اس کی ماں کو پکڑ رہا تھااور اس کا باپ اس کی بہن پر ہاتھ ڈال رہا تھا ۔ انور چلایا : خبردار رک جاؤ ۔ سب رک گئے ۔ انور کی ماں اور بہن بھاگتی ہوئی اس سے لپٹ گئیں ۔ بھیا ، بیٹا ہمیں بچا لو ۔
    اب انور کا باپ اور اس کا بھائی اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ انور نے دونوں کو ایک زور دار دھکا دیااور دونوں کو ایک کمرے میں بند کر دیا ۔ اسی دوران باہر سے رونے چلانے کی آوازیں آنے لگی ۔ انور اپنی ماں بہن کو ایک روم میں بٹھا کر باہر نکلا ۔ ساتھ والے گھر میں رونے کی بہت زیادہ آوازیں آ رہی تھی ۔ انور اس گھر میں داخل ہوا ۔ یہ اس کے دوست رمیز کا گھر تھا اور وہ اکثر اس گھر میں آتا جاتا رہتا تھا ۔ اندر کا منظر دیکھ کر ایک بار پھر سے اس کی آنکھیں پھٹنے والی ہو گئیں ۔ اس کا دوست رمیز اپنی سگی بہن کا ریپ کر رہا تھا ۔ رمیز کی ماں ایک جانب بے ہوش پڑی ہوئی تھی ۔ رمیز برابر اپنی بہن کو چودے جا رہا تھا جو مسلسل چلا رہی تھی اور مدد کیلئے پکار رہی تھی



    انور نے فوراً رمیز کو ایک دھکا دیا اور چلایا : پاگل ہو گئے ہو کیا سب کے سب ۔ رمیز کی آنکھوں میں کچھ اور ہی بات تھی ۔ انور کو کسی گڑ بڑ کا احساس ہو تھا ۔ انور نے رمیز کی بہن کو ایک چادر دی جس سے اس نے اپنا بدن ڈھک لیا ۔ اسی اثنا رمیز نے انور پر حملہ کر دیا ۔ ٹیبل لیمپ کی زور دار ضرب اس کے سر پر لگی ۔ ایک دفعہ تو انور کو لگا جیسے اس کو لچھ نظر ہی نہیں آ رہا ۔ جب دوباوہ وہ دیکھنے کے قابل ہوا تو دیکھا کہ رمیز اپنی بہن کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ بیچاری ایک کونے میں سمٹی جا رہی تھی ۔ انور نے وہی لیمپ اٹھایا اور اپنی پوری طاقت سے رمیز کے سر پر مار دیا ۔ رمیز وہیں گر گیا ۔
    انور نے رمیز کی بہن کو دلاسا دیا اور باہر نکل کر پولیس کو کال کرنے لگا ۔ جلد ہی پولیس اور رینجرز پہنچ گئے ۔ حالات کنترول میں کر لیے گئے ۔ ہر گھر میں ہی تقریباً یہ سب ہوا تھا ۔ کسی نے رشتوں کے تقدس کا خیال کیے بغیر اپنے گھر کی عزت پر حملہ کر دیا تھا ۔ کئی گھروں میں بروقت کاروائی ہو گئی ۔ کئی گھروں میں سب کچھ ہو چکا تھا ۔ کئی جگہ پر دونوں فریقین کی رضا مندی شامل تھی ۔ کئی گھروں میں زور زبردستی چلی ۔ وزیر اعظم ابھی فیصل آباد والے سانحہ سے سنبھلے نہیں تھے کہ اس واقعہ کی خبر بھی انہیں دے دی گئی ۔ انٹیلی جینس کو تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔
    ٭٭٭٭٭

    پنجابی تم لوگوں کا خون چوس رہے ہیں ۔ سارے ذرائع ہمارے صوبے میں ہیں اور وہ مفت میں سب کھا رہے ۔ ہمیں کچھ کرنا ہو گا ۔ اب ہم دب کر نہیں رہیں گے ۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اٹھ کر اپنے مخالفین کا مقابلہ کریں ۔ بلوچی کسی سے کم نہیں ۔ آزادی کے وقت سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ۔ بلوچ رجمنٹ نے بھارتیوں کو دن میں تارے دکھا دیے تھے ۔ ہم پنجابیوں سندھیوں کو دکھا دیں گے کہ ہم کسی سے کم نہیں ۔ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے ۔ کون کون میرا ساتھ دے گا ؟؟ نوجوان بلوچی بلوچوں کے ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کر رہا تھا ۔ اس کی پکار پر سب نے لبیک کہا ۔ یہ بلوچی چند دن پہلے ہی کہیں سے نمودار ہوا تھا ۔ جرگہ کے ایک دانشور نے اسے اپنا دور کا رشتہ دار بتایا ۔
    اس نوجوان نے بلوچیوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی ۔ بلوچیوں کے خونوں میں گرما دیا تھا ۔ اب جو جو اس کی تقریر سن لیتا ۔ پنجابی اور سندھیوں کیلئے اس کے دل میں نفرت کا ایک طوفان سے برپا ہو جاتا ۔
    اور پھر بلوچستان کے کئی معدنی علاقوں میں تمام حکومتی نمائندوں اور کارکنوں کو نکال دیا گیا ۔ بلوچستان سے معدنی وسائل کی آمد و رفت روک دی گئی ۔ حکومت کو کہا گیا کہ بلوچیوں کے مطالبات نہ مانے گئے تو حکومت کو معدنی وسائل کا ایک چھوٹا سا ٹکرا بھی نہیں ملے گا ۔ حکومت کیلئے ایک اور مسئلہ سامنے آ گیا ۔ بلوچستان میں بغاوت بڑھتی جا رہی تھی ۔
    ٭٭٭٭٭



    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  11. The Following User Says Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-09-2019)

  12. #7
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 7



    راولپنڈی میں راول ڈیم کا منظر ۔

    سئینر انجیئر علی اکرم مشین روم میں داخل ہوا ۔ گیٹ کیپر نے اسے سلام کیا ۔ وہ کوئی جواب دیے بغیر اندر داخل ہوا ۔ گیٹ کیپر بہت حیران ہوا کیونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ سر نے اس کے سلا م کا جواب نہ دیا ہو ۔ بہرحال اس نے سوچا شاید صاحب اپنے کسی خیال میں مصروف ہوں گے ۔
    علی اکرم مشینوں کے پاس جا کر روٹین کی چیکنگ کرنے لگا ۔ اس کا اسٹنٹ شہزاد اسے سب بتانے لگا ۔ اچانک علی اکرم کے ہاتھ سے ایک فائل نیچے گر گئی ۔ شہزاد فائل اٹھانے کیلئے نیچے گرا تو علی اکرم نے تیزی سے ایک چھوٹا سا بٹن مشین کے ساتھ چپکا دیا ۔ شہزاد کو کچھ خبر نہ ہوئی کہ کیا ہوا ہے ۔ علی اکرم روٹین کی چیکنگ کر کے واپس چلا گیا ۔
    دوسری طرف ڈیم کے پاس تعینات سیکورٹی اہلکاروں میں رشید آج کافی چپ تھا ۔ جب باقی سب کھانا کھانے لگے تو وہ سب سے چھپ کر ڈیم کے مرکزی حصے کی طرف بڑھنے لگا ۔ اپنی طے کردہ جگہ پر پہنچ کر اس نے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور ایک بوتل نما چیز نکالی اور ڈیم کی دیوار پر لگا دی ۔ دوسری طرف سے اس کے ساتھی نے بھی ایسی ہی ایک بوتل لگا دی تھی جو ایک طاقتور ڈائنامائیٹ تھی ۔ رشید آہستہ آہستہ دور جانے لگا ۔ ڈیوٹی افسر سے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے وہ چلا گیا ۔ ٹائم بومب پہ 10 منٹ کا ٹائم لگایا گیا تھا ۔
    سارجنٹ نذیر کو کھانے کے بعد اکثر پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی تھی ۔ وہ ایک طرف جانے لگا ۔ اچانک اس کی نظر ڈیم کی دیوار پر پڑی ۔ وہ حیران رہ گیا ، دیوار پر ایک بوتل نما چیز سی چپکی ہوئی تھی ۔ جو بار بار جل بجھ رہی تھی ۔ نزیر تھوڑا اور پاس گیا ۔ وہ دہل گیا ۔ یہ ایک ٹائم بومب تھا جس پر لگا ٹائمر بتا رہا تھا کہ یہ بومب 50 سیکنڈ بعد پھٹنے والا ہے ۔ وقت بہت کم تھا ۔ نزیر اس بومب کی مضبوطی اور طاقت کے بارے کچھ نہیں جانتا
    تھا ۔ نذیر نے فوراً بومب اتار اور اپنی شرٹ میں سامنے سے ڈال کر ڈیم سے دور بھاگنا شروع کر دیا ۔ جب اسے لگا کہ اب بمب پھٹنے ہی والا وہ زمین پر پیٹ کے بل لیٹ گیا ۔ ٹائم بم اس کے سینے تلے دب گیا ۔ ایک زور دار دھماکے سے اس کے چیتھڑے اڑ گئے ۔ نذیر کے خون کی بوندیں بھی یہ پکار رہی تھی
    وطن کی مٹی گواہ رہنا
    عظیم ہے تو عظیم تر ہم بنا رہے ہیں
    گواہ رہنا

    وزیر اعظم کو اس حادثے کی بھی اطلاع دی گئی ۔ ڈیم کی ایک سائیڈ بری طرح متاثر ہو گئی تھی ۔ دوسری طرف اگر نذیر اپنی بہادری کا مظاہرہ نہ کرتا تو پورا ڈیم تباہ ہو سکتا تھا ۔
    وزیر اعظم سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ فوراً سیکریٹ سروس اور دیگر اعلی حکام کو میٹنگ کی کال دے دی گئی ۔
    ٭٭٭٭٭

    بلیک زیرو دانش منزل میں ایک سائنسی مقالہ پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی ۔ ایکسٹو ۔ بلیک زیرو نے فون اٹھا کر کہا ۔ جناب ناٹرام بول رہا ہوں کافرستان میں ۔ حالات بہت بگڑ گئے ہیں ۔ رسیور سے ناٹران کی آواز سنائی دی ۔
    کام کی بات کرو ۔ ایکسٹو بولا۔
    سوری سر ۔ ادھر انڈیا میں چند دن سے کافی گہما گہمی ہے ۔ پتا نہیں کیا ہوا ہے کہ ہمارے کافی ایجنٹس پکڑے جا چکے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ ایک بہت بڑی سازش کی کچھ بھنک سی پڑی ہے ۔ یقین سے کچھ نہیں کہ سکتا پر لگتا ہے کہ انڈیا اپنے ایجنٹس پاکیشیا بھیجے گا جن کا مقصد جوہری ہتھیاروں کا پتا لگانا ہو گا ۔
    اب ہمارے لیے کیا حکم ہے سر ۔ ناٹران بولا
    تم ایسا کرو اس سازش کے بارے مزید پتا لگانے کی کوشش کرو ۔ اور باقی سب ایجنٹس کو انڈر گراؤنڈ ہو جانے کا حکم دے دو ۔ ایکسٹو نے کہا اور فون رکھ دیا ۔
    اس کے ماتھے پہ شکنوں کا جال سا پھیل گیا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭
    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  13. The Following User Says Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-09-2019)

  14. #8
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default 8




    سونیا کے ماں باپ بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے ۔ ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس کا سامنا بہت کم لوگوں سے ہوتا تھا۔ حیدرآباد پاکستان میں اس کے والد کی ایک چھوٹی سی دکان تھی ۔ بچپن سے ہی پریشانیوں اور مصائب نے سونیا کو سخت جان بنا دیا تھا ۔ اسے اس کے چاچا نے پالا پوسا ۔ اسے بچپن سے ہی یوگا اور جمناسٹک کا شوق تھا ۔ وہ بہت تیز دوڑا کرتی تھی ۔ اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے اس کے چچا نے اسے ایک یوگا ٹریننگ سنٹر ایڈمشن لے دیا ۔ سونیا بہت جلد سب کچھ سیکھتی گئی اور اپنے ٹرینرز کو حیران پریشان چھوڑتی آگے نکلتی گئی ۔
    15سال کی عمر میں اس نے انٹرینشنل مقابلوں میں حصہ لیا اور کئی ایوارڈز جیتے ۔ سیکھنے کی جستجو اور لگن نے اسے اور آگے جانے پر مجبور کیا ۔ اپنے والد کی جائیداد کا کچھ حصہ فروخت کر کےوہ انڈیا گئی ۔ وہاں اس نے کئی جگہوں سے یوگا کی ٹریننگ لی ۔ اس کے جسم میں بے پناہ لچک تھی اور اس بات کا اقرار اس کے ٹرینر بھی کرتے تھے ۔
    ایک دفعہ وہ مدراس کے کیفے میں چائے پی رہی تھی کہ کچھ ہنگامہ ہو گیا ۔ وہی پرانہ قصہ کہ کچھ لڑکے دو لڑکیوں کو چھیڑ رہے تھے ۔ سب آدمی دور سے تماشہ دیکھ رہے تھے ۔ سونیا نے دل میں سوچا ہوا تھا کہ وہ کسی پنگے میں نہیں پڑے گی ۔ لڑکے جو شکل سے ہی چھٹے ہوئے بدمعاش لگتے تھے اب حد سے بڑھنے لگے تھے ۔ پہلے تو بس فقرے کس رہے تھے ۔ اب تو باقاعدہ جسمانی چھیڑ چھاڑ پر آ گئے تھے ۔ اور پھر وہ ہوا جس کا کسی نے سوچا تھا ۔ ایک اوباش نے ہاتھ ڈالا اور ایک لڑکی کا بلاؤز آگے سے پھاڑ دیا ۔ اس کا برا اور سینے کا کچھ حصہ نظر آنے لگا ۔ وہ بیچاری روتے ہوئے ایک ہاتھ سے اس حصے کو چھپانے لگی ۔ سونیا کی برداشت جواب دیتی جا رہی تھی ۔ اس نے اپنے سامنے پڑے کپ کو اچھالا

    اور ایک فلائینگ کک کے ساتھ وہ کپ سیدھا اس لڑکے کے ماتھے پہ جا لگا جس نے یہ حرکت کی تھی ۔ وہ وہیں بے سدھ ہو کہ گر گیا ۔
    سب دھیان سے سن لو ۔ اگر تم لوگ اپنی ہڈیاں سلامت چاہتے ہو تو چپ چاپ یہاں سے نکل لو ورنہ میں تم جیسے نامردوں کو کبھی ماف نہیں کرتی ۔ سونیا دھاڑی۔ وہ بدمعاش جو پہلے تو حیران تھے کہ یہ اچانک کیا ہو گیا اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر سونیا پر حملہ کر دیا ۔ سونیا تو چھلاوہ بنی ہوئی تھی ۔ وہ تعداد میں پانچ تھے جن میں سے ایک تو گر گیا تھا اور باقی پانچ سونیا پر حملہ کر رہے تھے۔
    سونیا اچھل اچھل کے اپنا بچاؤ کر رہی تھی ۔ ایک آدمی کے کندھے پر اس کی فلائینگ کک پڑی تو وہ وہیں ڈھیر ہو گیا ۔ جلد ہی میدان کا نقشہ بدلا ہوا نظر آ رہا تھا ۔ایک کے چہرے پر سونیا نے اڑ کر لات ماری وہ بھی دور گرتا چلا گیا ۔

    وہ سارے زمین بوس ہوئے پڑے تھے اور سونیا فاتحانہ مسکراہٹ سے ان کو دیکھ رہی تھی ۔ تب سے وہ اس علاقہ میں یوگا کوئین کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کا نام ٹی وی نیوز پر بھی آیا ۔
    اس کے بعد وہ تبت بھی گئی جہاں اس نے مزید بہت کچھ سیکھا ۔ اس کی پیاس بجھ نہیں رہی تھی ۔ وہاں سے وہ چین گئی جہاں سے اس نے یوگا ، کنگ فو ، پیرا ٹروپنگ اور کئی دیگر علوم سیکھے ۔ اسی دوران اسے اطلاع ملی کہ اس کے چاچا کی طبعیت بہت خراب ہے اور وہ آخری بار اس سے ملنے چاہتا ہیں ۔ اس نے جلدی سے سب کچھ پیک کیا اور واپسی کا سفر باندھا ۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ بس کچھ دن مل ملا کے واپس آ جائے گی پر اسے کیا پتا تھا کہ اس کی قسمت میں کیا کیا ہونے والا ہے ۔
    واپس آئی تو اس کے چاچا اس کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ہی انتقال کر چکے تھے ۔ سونیا ان کی آخری رسومات میں مصروف ہو گئی ۔ ابھی وہ ان رسومات سے فارغ ہوئی تھی کہ کچھ لوگ کاغزات لے کر اس کے پاس آ گئے ۔
    جی فرامائیں ۔ کیسے آنا ہوا ؟ سونیا نے پوچھا ۔
    ہم لوگ آپ کے چاچا کے بنک سے آئے ہیں ۔ انہوں نے بنک سے لون لیا تھا اور یہ ساری جائیداد گروی رکھی تھی ۔ اب ہمیں یہ سب ضبط کرنے کے آرڈر ملے ہیں ۔ کل تک کا وقت ہے آپ کے پاس ۔ بنک والے بولے اور چلے گئے ۔
    سونیا پریشان ہو گئی ۔ اس کے پاس اب اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ واپس جا سکتی ۔ وہ اب جاب کی تلاش میں نکلی ۔ وہ چاہتی تھی اسے کوئی چھوٹا موٹا کام مل جائے ۔ اس کے کچھ دور کے رشتہ دار لاہور میں بھی رہتے تھے ۔ اگر کچھ اور سہارا نہ بنتا تو وہ وہاں بھی جا سکتی تھی ۔ وہ سڑک کے کنارے انہی خیالوں میں چلی جا رہی تھی کہ کار کے ہارن نے اس رکنے اور پیچھے دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔ وہ حیران رہ گئی کہ خیالوں میں گم اسے اتنا ہی خیال نہیں رہا تھا کہ وہ چلتے چلتے سڑک کے بیچوں بیچ آ گئی ۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ ایک ہنڈسم جوان آدمی بیٹھا تھا ۔
    محترمہ شاید آپ کو خیال نہیں رہا کہ آپ ایک مصروف سڑک پر چہل قدمی فرما رہی ہیں ۔ کچھ برا بھی ہو سکتا تھا ۔ نوجوان نے بڑے شستہ لہجے میں جواب دیا ۔
    ویری سوری ۔ اصل میں تھوڑی ذہنی پریشانی تھی اس لیے خیال نہیں رہا ۔ سونیا بولی ۔
    اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو تھوڑا آگے چھوڑ سکتا ہوں ۔ میں بھی اسی طرف جا رہا ۔ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو ۔ جوان آدمی جو اصل میں بلیک زیرو تھا بولا ۔ اصل میں وہ ایک کام کے سلسلے میں حیدر آباد آیا ہوا تھا ۔ کام ہو گیا تھا اور اب وہ واپس اپنے ہوٹل جا رہا تھا ۔
    پتا نہیں سونیا کس سوچ میں تھی کہ اس نے کچھ سوچے بغیر ہاں کہ دی اور کار میں بیٹھ گئی ۔ بلیک زیرو نے کار آگے بڑھا دی ۔ بیٹھنے کے بعد سونیا کو احساس ہوا کہ اسے اس طرح کسی انجان آدمی کے ساتھ کار میں نہیں بیٹھنا چاہیئے تھا ۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا ۔
    مس کیا میں جان سکتا ہوں آپ کی پریشانی کیا ہے ؟ بلیک زیرو نے مہذبانہ لہجے میں پوچھا ۔
    شاٹ اپ ۔۔۔۔ تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے ۔ تم جیسے مردوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔ اپنے کام سے کام رکھو ۔ لفٹ دینی ہو تو دو ورنہ یہیں اتار دو ۔ سونیا تو پھٹ پڑی ۔
    بلیک زیرو کا چہرہ لال ہو گیا خیر وہ کچھ بولا نہیں ۔ ایک جگہ سونیا نے اشارہ کیا تو بلیک زیرو نے اسے وہیں اتار کر گاڑی آگے بڑھا دی ۔
    جب بلیک زیرو آگے چلا گیا تو سونیا کو احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا ۔ وہ بھلا آدمی اس کی پریشانی کا ہی تو پوچھ رہا تھا ۔ سونیا فوراً اس طرف چل پڑی جہاں کار گئی تھی ۔ قسمت اچھی تھی کہ کچھ ہی دور اسے وہ کار نظر آ گئی جو ایک ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی ۔ سونیا ہوٹل میں انٹر ہو گئی ۔
    ابھی ابھی جو صاحب بلیک پینٹ کوٹ میں آئے ہیں ان کا روم کون سا ہے ؟ سونیا نے کاؤنٹر پر جا کر پوچھا ۔
    سوری میم ہم ایسے کسی کا روم نہیں بتا سکتے ۔ ہاں آپ ان سے کال پہ بات کر لیں اگر وہ اجازت دیں تو پھر آپ کو جانے دے سکتے ۔ کاؤنٹر بوائے نے کہا ۔
    چلو ٹھیک ہے کرواؤ بات ۔ سونیا نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    کاؤنٹر بوائے نے کال ملائی اور بولا ۔ سر یہ کوئی خاتون آئی ہوئی ہیں آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔
    کچھ دیر بعد کاؤنٹر بوائے نے رسیور سونیا کے ہاتھ میں دے دیا ۔
    جی کچھ ضروری بات کرنی تھی آپ سے ۔ سونیا بولی ۔ کاؤنٹر بوائے کے سامنے اس نے زیادہ بات کرنی مناسب نہ سمجھا ۔
    آپ وہیں رکیں میں نیچے آ رہا ۔ بلیک زیرو بولا ۔ کچھ دیر میں ہی وہ نیچے آ گیا اور دونوں لاؤنج میں بیٹھ گئے ۔ دیکھئے آئی ایم رئیلی سوری ۔۔ اصل میں میں اپنی پریشانی میں تھی اس لیے آپ سے ایسا برتاؤ کر بیٹھی ۔ سونیا معذرت خواہانہ انداز میں بولی ۔
    کوئی بات نہیں مس ۔۔۔۔۔ بلیک زیروہ نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
    سونیا ۔۔ میرا نام سونیا ہے ۔ سونیا بولی ۔
    گڈ ۔ تو مس سونیا کوئی بات نہیں ۔ مجھے آپ کی حالت کا اندازہ ہو رہا تھا اس لیے میں نے زیادہ برا نہیں مانا ۔ بائی دا وے میرا نام طاہر ہے ۔ نائس تو میٹ یو ۔ بلیک زیروبولا ۔
    تھینک یو سو مچ ۔۔ مسٹر طاہر ۔۔ سونیا بولی ۔
    اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو میں آپ سے آپ کی پریشانی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔ بلیک زیرو بولا
    اب سونیا نے اسے سب کچھ بتا دیا ۔ اپنے حالات ۔۔ اپنی تعلیم ۔ اپنی قابلیت ۔
    ارے واہ ۔۔ آپ تو بہت کمال کی لڑکی ہیں ۔ کیا آپ ملک کی خدمت کرنا چاہیں گی ؟ بلیک زیرہ بولا ۔
    بہت شکریہ ۔ جی ضرور ۔ یہ تو میرے لیے بڑے پن کا کام ہو گا ۔ پر آپ تو ایسے کہ رہے جیسے آپ آرمی میں ہوں ؟ سونیا نے پوچھا ۔
    نہیں اییسی بھی بات نہیں ۔ آپ کے کچھ ٹیسٹ ہوں گے اگر آپ نے وہ کلئیر کر دیے تو آپ کی جاب پکی ۔ بلیک زیرو بولا ۔
    کیسے ٹیسٹ اور کیسی جاب ۔ سونیا حیرانی سے بولی ۔
    اگر آپ واقعی اس معاملے سیرئس ہیں تو اسلام آباد چلیں ۔ وہیں آپ کے ٹیسٹ ہوں گے ۔ میرا تعلق ایک سرکاری ایجنسی سے ہے اور ہمیں آپ جیسے قابل لوگوں کی بہت ضرورت رہتی ہے ۔ آپ کو معقول تنخواہ اور حکومت کی طرف سے رہائش دی جائے گی ۔ بلیک زیرو بولا ۔ وہ جانتا تھا کہ شاید اس معاملے پر اسے عمران سے ڈانٹ بھی کھانی پڑے ۔ لیکن وہ اس لڑکی میں کچھ ایسی بات دیکھ رہا تھا جس سے اسے لگ رہا تھا کہ یہ لڑکی ملک کو بہت فائدہ دے گی ۔
    چلیں ٹھیک ہے ۔ آپ پہ بھروسہ کر لیتی ہوں ۔ چلیں جہاں چلنا ہے ۔ سونیا کندھے اچکاتے ہوئے بولی ۔
    بلیک زیرو نے ہوسٹل کے واجبات ادا کیے اور سونیا کو ساتھ لے کر اسلام آباد کیلئے نکل پڑا ۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے سونیا کو ایک ہوٹل میں روم بک کروا کر دیا اور خود دانش منزل پہنچ گیا ۔ دانش منزل پہنچ کر اس نے عمران سے رابطہ کیا اور اسے ساری بات بتائی ۔
    کیا ؟ تم پاگل ہو گئے ہو ؟ ایسے ہی ہم کسی چلتے پھرتے کو اپنی ٹیم میں لے لیں اسے سب کچھ بتا دیں ؟ تمھارا دماغ تو صحیح ہے بلیک زیرو ۔ عمران بلیک زیرو پرچھڑھ دوڑا ۔
    جناب میری بات تو سنیں ۔ میں چاہتا آپ اس لڑکی کو خود آزمائیں ۔ اگر وہ آپ کو معیار پر پورا اترے تو اسے ایک موقع دیں ملک کی خدمت کا ۔ بلیک زیرو لجاجت سے بولا ۔
    چلو ٹھیک ہے میں چیک کر لوں گا تم مجھے اس کا اڈریس بتا دو ۔ عمران بولا ۔ بلیک زیرو نے اسے اڈریس بتا دیا ۔ عمران نے ٹائیگر کو کال ملائی ۔ ٹائیگر ہوٹل سی روز میں روم نمبر 112 میں ایک لڑکی سونیا رہ رہی ہے ۔ اسے اغوا کر کے رانا ہاؤس پہنچا دو ۔ اور اینڈ آل ۔ عمران نے ایک ہی سانس میں اپنی بات ختم کر دی ۔
    ٹائیگر اس وقت اتفاق سے ہوٹل سی روز کے پاس ہی تھا جب عمران کی کال آئی ۔ اس نے فوراً اپنی گاڑی کا رک ہوٹل سی روز کی طرف موڑا ۔ وہاں پہنچ کر وہ جلد ہی روم نمبر 112 کے سامنے کھڑا تھا ۔ اس نے دروازے پر دستک دی ۔ اس کا خیال تھا کہ کلوروفام سنگھا کر لڑکی کو بے ہوش کرے گا اور پھر ایمرجینسی گیٹ سے نکل جائے گا ۔
    کون ؟ اندر سے پوچھا گیا ۔
    روم سروس ۔ ٹائیگر نے جواب دیا ۔
    پر میں نے تو کوئی چیز نہیں منگوائی ۔ اندر سے آواز آئی ۔
    میم کچھ کمپلیمنٹری چیزیں آپ کیلئے بھیجی گئی ہیں ۔ ٹائیگر نے جواب دیا ۔ کچھ دیر کے بعد درواز کھول دیا گیا ۔ جیسے ہی دروازہ کھلا ٹائیگر تیزی سے اندر داخل ہوا اور سامنے جو لڑکی تھی اس پر پسٹل تان لی ۔ خبردار اگر کوئی حرکت کی تو۔ ٹائیگر چلایا ۔ پر یہ کیا ۔ سونیا جو کہ صرف ایک تولیے میں لپٹی تھی اس نے ایک زور دار کک ٹائیگر کے ہاتھ پر ماری اور اس کا ریوالور ہوا میں اٹھتا چلا گیا ۔ سونیا نے کوئی موقع دیے بغیر ایک اور کک گھوم کر ٹائیگر کی گردن پر پیچھے سے جڑ دی ۔ ٹائیگر آگے جا گر اور اس کا سر صوفے میں جا لگا ۔ سونیا نے ریوالور اٹھا لیا اور دروازہ بند کر دیا ۔
    ہاتھ اوپر اور خبردار اگر کوئی حرکت کی تو ۔ سونیا دھاڑی ۔ ٹائیگر کی آنکھوں میں تارے ناچ رہے تھے ۔ غصے اور طیش سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔
    بیٹھ جاؤ صوفے پر اور بتاؤ تمھیں کس نے بھیجا اور کیا چاہتے ہو مجھ سے ۔ سونیا نے پوچھا ۔
    ٹائیگر چپ رہا ۔ سونیا نے فائر کر دیا ۔ گولی ٹائیگر کے بازو کے گوشت سے چھوتی گزر گئی ۔ ٹائیگر نے بے اختیار اپنے بازو کو تھام لیا ۔ درد کی لہر سی اس کے جسم میں دوڑ رہی تھی ۔ اگلی گولی تمھارے سینے میں بھی گھس سکتی ہے اس لیے سچ سچ بتا دو سب ۔ سونیا نے پوچھا ۔
    بتاتا ہوں سب بتاتا ہوں ۔ پلیز تھوڑا سا پانی پلز دو ۔ ٹائیگر کراہنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا ۔
    اچھا پلاتی ہوں ۔ لیکن کوئی ہوشیاری نہیں ۔ سونیا بولی ۔ اور ویسے ہی الٹے قدموں پیچھے جا کر پانی کی بوتل اٹھائی اور ٹائیگر کی طرف اچھال دی ۔ یہی لمحہ اس کیلئے بھاری رہا ۔ ٹائیگر کو پتا تھا کہ سونیا کا زیادہ طر دھیان بوتل کی طرف ہو گا اس لیے اس نے ہوا میں جمپ لگایا اور سونیا کے اوپر آ گرا ۔ اس نے سونیا کے ریوالور والے ہاتھ پر جھپٹی ماری ۔ ریوالور دونوں کے ہاتھ سے نکلتا بیڈ کے نیچے چلا گیا ۔ سونیا نے ایک جھٹکا مارا اور ٹائیگر اس کے اوپر سے اچھلتا ہوا دور جا گرا ۔ سونیا پنجے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس کے بعد سونیا چھلاوہ بن گئی ۔

    وہ ہوا میں ہی چھلانگیں لگا رہی تھی ۔ اس نے ایک زور دار جمپ مار اور ٹانگیں سیدھی کر کے ٹائیگر کے سینے پہ مارنی چاہیں ۔ ٹائیگر نے اس جگہ سے ہٹنا چاہا پر سونیا نے ہوا میں ہی اپنا رخ چینج کیا اور اس کی ٹانگیں ٹائیگر کے کندھوں پر لگیں ۔ اور ٹائیگر کو اپنے شولڈر جوائنٹ میں شدید تکلیف محسوس ہوئی۔ سونیا نے اسی پر اکتفا نا کیا ۔ ٹائیگر کی کن پٹی پر مکوں کی برسات کر دی ۔ ٹائیگر نے گھوم کر اس لات مارنی چاہی پر سونیا نے اس کی لات پکڑ کر اسے گھما کر دیوار کی طرف اچھال دیا ۔ ٹائیگر کا سر دیوار سے جا ٹکرایا اور وہ رہیں بے ہوش ہو گیا ۔
    سونیا نے فوراً بلیک زیرو کے نمبر پر کال ملائی ۔ سر مجھ پر کسی نے حملہ کر دیا ہے ۔ میں یہ جگہ چھوڑ رہی ہوں ۔ اب بتائیں میں کہاں جاؤ؟ سونیا تیزی سے بولی ۔
    اوہ ۔۔ تم ایسا کرو ابھی وہیں رہو ۔ میں اپنا ایک آدمی بھیجتا ہوں جو تمھیں محفوظ جگہ پہنچا دے گا ۔ بلیک زیرو نے جواب دیا ۔
    سونیا نے بائی کہ کر فون کاٹ دیا ۔ عمران جو بلیک زیرو کے پاس ہی بیٹھا تھا یہ فون سن کر حیران رہ گیا ۔ ٹائیگر اتنا آسان شکار تو نہیں تھا ۔ اگر اس نے ٹائیگر کو مات دے دی ہے تو پھر واقعی اس لڑکی میں کوئی بات ہے ۔ میں جا رہا ہوں اس کے پاس ۔ عمران بولا اور ہوٹل سی روز کیلئے نکل پڑا ۔
    روم نمبر 112 کے سامنے پہنچ کر اس نے دستک دی ۔ کون ؟ اندر سے سونیا نے پوچھا ۔
    طاہر کا دوست ۔ عمران نے جواب دیا ۔
    سونیا نے دروازہ کھول دیا ۔ عمران اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ ایک طرف ٹائیگر بے ہوش پڑا تھا ۔ کمرے کے حالات سے لگ رہا تھا کہ اچھی خاصی لڑائی ہوئی ہے ۔
    عمران جیسے ہی اندر داخل ہوا اس نے یکا یک اپنا پسٹل نکال کر سونیا پر فائر داغ دیا ۔ لیکن اس نے اس بات کا خیال رکھا کہ اگر گولی لگے بھی تو ایسی جگہ کہ زیادہ مسئلہ نہ بن سکے ۔ پر یہ کیا سونیا تو ایک بار پھر چھلاوہ بن گئی ۔ جیسے ہی عمران نے پسٹل نکال کر فائیر کیا ۔ سونیا نے فوراً اپنی جگہ چھوڑ دی ۔ عمران نے پھر نشانہ لے کر فائر کیا پر سونیا پھر ہوا میں اچھلی اور ایک قلابازی کھاتی عمران کے اوپر جا گر ۔ اس نے عمران کے چہرے پر ایک زور کا مکہ رسید کیا ۔ عمران کی گرفت پسٹل سے ہلکی ہوئی تو سونیا نے فوراً پسٹل چھین لیا ۔ اس دوران عمران کی ٹانگوں کی زوردار ضرب سونیا کی کمر میں پڑی اور وہ عمران کے سر کے پیچھے جا گری ۔ سونیا اٹھنے لگی کہ عمران نے ٹانگوں کی زور دار سوائیپ سونیا کی ٹانگوں پہ رسید کی سونیا پھر سے گر گئی ۔ عمران نے ریوالور اٹھایا اور پیچھے جا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔
    بس بس ۔۔ ٹھیک ہے ۔ تمھارا ٹیسٹ ہو چکا ۔ تم پاس ہو ۔ اب اس بیچارے ٹائیگر کو ہوش میں لاؤ ۔ عمران مسکراتے ہوا بولا ۔
    کیا؟؟؟ کیسا ٹیسٹ ؟ سونیا حیرانی سے بولی ۔
    مجھے ہمارے ادارے کی طرف سے تمھارے ٹیسٹ کیلئے بھیجا گیا ہے ۔ تم کامیاب رہی ہو ۔ عمران نے اس کی حیرت دور کرتے ہوا کہا ۔
    اوہ اچھا ۔ سونیا بھی اب زیر لب مسکرائی ۔ اور وہ ٹائیگر کو ہوش میں لانے لگی ۔ کچھ دیر بعد ٹائیگر ہوش میں آ گیا ۔
    واہ بھئی واہ ۔ تمھارے جیسے دو چار اور شاگرد بن گئے تو بس میرا نام چاند تک روشن ہو جائے گا ۔ عمران طنزیہ انداز میں بولا ۔
    سوری باس ۔۔ پلیز مجھے ایک موقع اور دیں ۔ ٹائیگر شرمندگی سے بولا ۔
    موقع ملے گا ضرور ملے گا ابھی تم جاؤ ۔ عمران بولا۔ ٹائیگر سلام کر کے چلا گیا ۔
    تو محترمہ سونیا صاحبہ کہاں سے پکڑا آپ کو طاہر نے ۔ اوہ پکڑا تو بندروں کو جاتا آپ تو خاصی خوبصورت خاتون ہیں ۔ اوہ پھر سوری آج کل خاتون کو اگر خاتون کہ دیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتی ہیں ۔ حالانکہ ہر لڑکی خاتون ہی ہوتی ۔ لیکن چلو پھر بھی اصلاح کر دیتا ہوں کہ کہاں سے ڈھونڈا آپ کو طاہر نے ۔ ویسے مہارت اور پھرتی میں تو آپ بھی بندروں سے کم نہیں ۔ عمران کی زبان چلی تو رکنے کا نام نہ لیا ۔
    سونیا کھکھلا کے ہنس دی ۔ آپ بہت مزیدار گفتگو کرتے ہیں ۔ سونیا نے جواب دیا ۔ اور پھر اس نے ساری کہانی بتا دی ۔
    چلو ٹھیک ہے ابھی تمھارے مزید کچھ ٹیسٹس ہوں گے اور کچھ ٹریننگ ہو گی پھر تمھاری جاب کے بارے کچھ سوچا جائے گا ۔ عمران بولا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ سونیا بھی اس کے ساتھ آ گئی ۔
    اس کے بعد 3 ، 4 ماہ سونیا کی شدید ٹریننگ ہوئی ۔ اس کی وفاداری ، حب الوطنی کا بھی ہر طرح سے ٹیسٹ لیا گیا ۔ اس دوران بلیک زیرو خود اس کی نگرانی رکھتا رہا کیوں کہ نجانے کیوں اسے اس لڑکی میں کوئی خاص بات معلوم ہوئی تھی ۔ اسے اک انجانی سی کشش اپنی طرف کھینچتی تھی ۔ ابھی وہ اسے کوئی نام دینے کے قابل نہیں تھا ۔ اور پھر چار ماہ بعد سونیا کا تعارف ایکسٹو سے کروایا گیا اور اسے ساری باتیں سمجھا دی گئی ۔
    ٭٭٭٭٭


    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  15. The Following 2 Users Say Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-09-2019), aftabmehmood (11-09-2019)

  16. #9
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    84
    Thanks Thanks Received 
    91
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    7

    Default


    سٹؤری پڑھ کر اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں ۔۔۔
    اگلی اپڈیٹ بھی جلد ہی کچھ دنوں میں۔۔۔۔


    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  17. The Following 2 Users Say Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-09-2019), aftabmehmood (11-09-2019)

  18. #10
    Join Date
    Jul 2019
    Posts
    26
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    43
    Thanked in
    22 Posts
    Rep Power
    4

    Default

    Nice start

  19. The Following User Says Thank You to Rajasufyan00 For This Useful Post:

    Danish Ch (12-09-2019)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •