اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 4 1234 LastLast
Results 1 to 10 of 35

Thread: میری فیملی کی سچی کہانی

  1. #1
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    22
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    2

    Default میری فیملی کی سچی کہانی

    میں کوئ پیشہ ور لکھاری نہیں اور نہ ہی یہ کہانی شوقیہ لکھ رہا ہوں ۔ یہ کہانی لکھنے کے مقصد صرف اپنے دل سے وہ بوجھ اتارنا ہے جو کچھ عرصے سے ہے ۔ میری عمر 20 سال ہے اور میری بہن یاسمین کی عمر 24 سال اور میری ماں نجمہ کی عمر 40 سال ہے ۔ میں عام لڑکوں کی طرح عام زندگی گزار رہا تھا ۔ بے حد حسن و خوبصورتی کے باوجود اپنی ماں تو دور کبھی بہن کو بھی گندی نظر سے نہیں دیکھا تھا ۔ میرے ایک دوست اسد کی بہن میری گرل فرینڈ شمع تھی جو میرے جسمانی تقاضے پورے کردیتی تھی ۔ زندگی بہت پر سکوں تھی ۔ میں میرے ایک دوست فضل کا گیسٹ ہاؤس تھا جو غیر شادی شدہ جوڑوں کو کمرے کرائے پر دیتا تھا اور رات وہاں شراب و کباب کی محفل لگتی تھی ۔ دوستی کی وجہ سے مجھے وہاں کمرہ سستے میں مل جاتا تھا ۔ میں نجمہ کی چدائی لگانے وہیں لیکر جاتا تھا ۔ پھر ایک روز معمول کی طرح میں فضل کے گیسٹ ہاؤس میں معمول کی طرح شمع کی چدائی لگا رہا تھا کہ تیسرے شاٹ کے بعد مجھے پانی کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ میں پانی کی بوتل لینے کمرے سے نکل کر نیچے ریسپشن پر آیا تو وہاں فضل کھڑا تھا ۔ اس سے ہنسی مذاق کرکے پانی کی بوتل کا تقاضا کیا تو اس نے 2 بوتلیں دی اور کہا کہ یار ایک بوتل اوپر اپنے برابر والے کمرے میں بھی دیدینا میرا ایک قریبی دوست حماد ہے اس میں اس نے ابھی کال کی ہے ۔ میں نے دونوں بوتلیں لیں اور اوپر چل پڑا ۔
    اوپر پہنچ کر میں نےاپنے برابر والے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک لڑکے کی گونجتی ہوئی آواز جیسے باتھ روم میں ہو ، آئ کہ : دروازے پر دیکھنا پانی آیا ہوگا ۔ اسی لمحے دروازے کے اس پار کسی کے ننگے قدم اپنی طرف بڑھتے محسوس ہوئے دروازے کا لاک کھلا اور دروازے کی اوٹ سے لڑکی نے صرف اپنا سر باہر نکالا تو میں دم بخود رہ گیا کہ وہ میری بہن یاسمین تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے دروازہ بند کرنا چاہا مگر میں دروازے کو دھکا دیتا اندر داخل ہوگیا اور یہ دیکھ کر مبہوت رہ گیا کہ جس بہن کے سر سے میں نے دوپٹہ ہٹا نہیں دیکھا آج وہ میرے سامنے پوری ننگی کھڑی ہے ۔ ہم دونوں حیرت سے ایک دوسرے کو تکتے رہے ۔ کوئی کچھ کہتا اس سے قبل باتھ روم کے دروازے کی کنڈی کھلنے کی آواز آئ اور یاسمین نے مجھے دھکا دیکر دروازے سے باہر کیا اور دروازہ بند کردیا ۔ میں بند دروازے کو تک رہا تھا کہ میرے کانوں میں فضل کی ہنسی کی آواز آئ اور اس نے کہا کہ تو اندر کیوں گھس گیا بھائی ؟ مجھے مبہوت پا کر اس نے خود ہی جواب دیدیا کہ مجھے پتا ہے تیری غلطی نہیں یہ بندی ہی بہت گرم ہے ۔ تو ذرا اپنی بندی کو ٹھنڈا کرکے روانہ کر تب تک حماد بھی نکل آئیگا پھر میں تجھے اسکے قصّے بتاتا ہوں ۔ میں دم بخود وہاں بتانے سے قاصر تھا کہ یہ میری بہن ہے سو بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔

  2. The Following 6 Users Say Thank You to Real Story For This Useful Post:

    abkhan_70 (31-10-2019), Admin (05-09-2019), jerryshah (14-09-2019), Lovelymale (04-09-2019), MamonaKhan (09-10-2019), sweetncute55 (14-09-2019)

  3. #2
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    179
    Thanks Thanks Given 
    847
    Thanks Thanks Received 
    148
    Thanked in
    77 Posts
    Rep Power
    40

    Default

    Aaghaaz to kafi acha lag raha hai, aur lagta hai keh story kafi garma garam hogi. Bass font thora bara rakho aur updates time pe detay rehna.

  4. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  5. #3
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    1
    Thanks Thanks Received 
    8
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    [B]very good yar.. kahani ko mazeed b aagay le jana hai... keep it up/B]

  6. The Following User Says Thank You to Shah060 For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  7. #4
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    22
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    2

    Default قسط 2

    شمع کو کمرے سے نکلنے اور رکشہ کروانے میں قریبا آدھا گھنٹہ لگا ۔ اسے بھی میرے بجھے رویے کا احساس ہوگیا تھا ۔ جاتے وقت اس نے زیادہ بات نہیں کی ۔ اسکا رکشہ جاتے ہی میں غیر ارادی طور پر واپس گیسٹ ہاؤس کے اندر چلا گیا ۔ فضل کے آفس والے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں ایک نوجوان پہلے سے بیٹھا تھا ۔ فضل نے مجھے دیکھ کر ہم دونوں کا تعارف کرایا تو معلوم ہوا وہ حماد ہے ۔ فضل نے حماد کو ہنستے ہوئے بتایا کہ اسکو میں نے پانی دیکر بھیجا تو یاسمین نے اسکو اندر کھینچ لیا تھا ۔ یہ سن کر فضل ہنسا اور کہنے لگا کہ آج وہ بہت گرم اور ترسی ہوئی تھی ۔ ابھی بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی ۔ بڑی مشکل سے گھر بھیجا ہے ۔ میں چپ باندھے بس دونوں کے چہرے تک رہا تھا ۔ میری حالت دیکھ کر فضل بولا اسکو ہماری باتوں کا کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ اسکو یاسمین کے بارے میں پتہ نہیں شائد ۔ حماد تو بتا اسے ۔ حماد نے کہا کہ میں تو اس کھیل میں ابھی آیا ہوں ۔ تو شروع سے سب جانتا ہے ۔ تو بتا نا ۔ جوابا فضل نے کہا اچھا چل میں بتاتا ہوں ۔ یہ لڑکی یاسمین 5 سال قبل اپنے عاشق علی کے ساتھ یہاں آتی تھی ۔ ایک بار اسکا پرانا بوئے فرینڈ رضوان نے اسے یہاں سے نکلتے دیکھ لیا ۔ یاسمین نے علی کو اپنا ماضی ان چھوا بتایا ہوا تھا اور کبھی اسے سیکس تو دور اپنی چوت میں انگلی تک نہیں ڈالنے دیتی تھی ۔ رضوان نے علی سے ملاقات کی اور اسے یاسمین سے اپنے تعلّق کے بارے میں بتایا کہ وہ یاسمین کی خواہش پر اسے 2 بار چود چکا ہے ۔ جب رضوان نے اس سے شادی کی بابت پوچھا تو یاسمین نے اس سے تعلّق ختم کرلیا کیونکہ رضوان کا تعلّق غریب گھرانے سے تھا اور یاسمین کروڑ پتی گھرانے سے تعلّق رکھتی ہے ۔ پہلے تو علی کو اسکی باتوں پر یقین نہیں آیا مگر رضوان نے علی کو جب یاسمین کی اپنے ساتھ ننگی تصاویر دکھائیں تو اسے سخت حیرت اور صدمہ ہوا ۔ اس نے یاسمین سے سچی محبت کی تھی اور بدلے میں اسے یہ دھوکہ ملا ۔ اس نے یاسمین کو کچھ کہے بغیر انتقامی منصوبہ ترتیب دیا ۔ اس سلسلے میں اس نے مجھے سارے معاملے اور پلان کی بابت بتایا اس نے میری کچھ مانیں تو میں نے مدد کی حامی بھر لی ۔ پلان کے مطابق وہ یاسمین کو معمول کی طرح ڈیٹ پر لیکر گیسٹ ہاؤس آیا مگر آج خاص بات یہ تھی کہ میں نے اسکے علاوہ پورے گیسٹ ہاؤس میں کسی کو کمرہ نہیں دیا تھا ۔ یہ معمول کی طرح کمرے میں گئے ۔ یاسمین خوشی سے لہک چہک رہی تھی ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی علی کو خود سے چپکا کر چومنے لگی ۔ علی جسکو یاسمین کے وجود سے شدید نفرت ہوچکی تھی۔ یاسمین کی کسز اور خوبصورت جسم کی گرمی کو چند منٹ بھی برداشت نہ کرسکا اور جوابا دیوانہ وار چومتے اسکے خوبصورت بھرے بھرے جسم کو کپڑوں کی قید سے آزاد کرلیا ۔ شلوار اترتے ہی یاسمین جھٹ سے نیچے بیٹھی اور علی کے لنڈ کو پورا منہ میں لیکر حلق تک پھنسا لیا ۔ یہ اس طرح سانس روکنے کی ماہر ہے اور لنڈ منہ میں لینے کے بعد اس طرح چوستی ہے کہ طاقتور سے طاقتور مرد بھی حرکت نہ کرسکے ۔ بقول علی کے کہ اسکے کنواری نہ ہونے کا راز چھپا رہے سو وہ اپنا انڈر ویئر اتارنے سے ہمیشہ روک دیتی تھی ۔ علی ہمیشہ کی طرح سب برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔ خود ہی اپنے کپڑے اتارنے لگا ۔ وہ اپنا آج آنے کا مقصد بھول بیٹھا تھا ۔ مزے سے اسکا ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا ۔ وہ گہرے نشے کی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک اسکے لنڈ سے ایک منی کا فوارہ پھوٹ نکلا جس پر یاسمین نے لنڈ کو منہ سے باھر نکالا ۔ منی کے چند قطرے اپنے مموں اور چہرے پر لگانے کے بعد منی خارج کرتے لنڈ کو دوبارہ منہ میں لیکر چوسنے لگی ۔ اسے منی کا ذائقہ بے حد لذیز لگتا تھا سو وہ ہر قطرہ بہت احتیاط سے استعمال کرتی تھی شائد ان خفیہ ملاقاتوں تک اسکو منی کی پیاس لیکر آتی تھی ۔ ابھی تو علی جو اس مزے میں بے سدھ ہوگیا تھا ہر بڑا کر اٹھا اور اسے اپنا آج کا مقصد دوبارہ یاد آیا ۔ اس نے یاسمین کو کہا کہ اسے پانی لیکر آنا ہے اور کپڑے پہن کر یاسمین کو بیڈ پر ننگی چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آیا ۔ ( جاری ہے)

    چونکہ یہ ایک سچی آپ بیتی ہے جسکو میں اختصار سے بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ سو کہانی سے متعلق جو بھی سوالات یا مزید تفصیلات درکار ہوں تو وہ کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں ۔

  8. The Following 5 Users Say Thank You to Real Story For This Useful Post:

    abkhan_70 (31-10-2019), jerryshah (14-09-2019), Lovelymale (18-09-2019), MamonaKhan (09-10-2019), sweetncute55 (14-09-2019)

  9. #5
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    117
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    67
    Thanked in
    40 Posts
    Rep Power
    23

    Default

    دوست فونٹ سائیز بڑا کرو ۔۔،کہانی اچھی ہے اور سیکس سین کو لمبا کرو

  10. The Following User Says Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  11. #6
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    22
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    میں موبائل سے لکھتا ہوں اس میں فونٹ بڑا کرنے کا
    آپشن نہیں آتا ۔ دوسرا میں کہ چکا کہ یہ بلکل سچا واقعہ ہے تو جتنا میرا آنکھوں دیکھا اور سنا ہوا ہے وہی بیان کرونگا ۔

  12. The Following User Says Thank You to Real Story For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  13. #7
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Very nice yar keep writing

  14. The Following User Says Thank You to Arman692 For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    294
    Thanks Thanks Given 
    309
    Thanks Thanks Received 
    263
    Thanked in
    143 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    font size increase kro

  16. The Following User Says Thank You to jerryshah For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  17. #9
    Join Date
    Oct 2009
    Posts
    23
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    7
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    V good .... more plzzz n try to post long update

  18. The Following User Says Thank You to doon For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-10-2019)

  19. #10
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    0
    Thanked in
    0 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Update KB aaye ge baro

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •