اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 16

Thread: اپنائیت

  1. #1
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    11
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    0

    Default اپنائیت


    تمام دوستو کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    دوستوں میرا نام حیدر رضا ہے اور اس فورم پر کافی عرصے سے اسٹوریس پڑھ رہا ہوں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرکے خوب انجوائے بھی کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    دوستوں ایک اسٹوری میری نظر سے گزری جو کہ رومن اردو میں تھی لیکن شاید رائیٹر نے بہت جلدی میں لکھ کر اسٹوری کا مزہ خراب کردیا یا شاید رومن میں ہونے کی وجہ سے زیادہ فن تقسیم نہیں کرسکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    تو میں نے سوچا کہ اس بہترین اسٹوری کا اردو میں ترجمہ کر کے اس فورم پر لایا جائے شاید مزید فن مل سکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    دوستو یہ میری پہلی کاوش ہے کہ کسی فورم پر اسٹوری اپلوڈ کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اگر املے میں کوئی غلطی ہوجائے تو معزرت خواہ ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں گے اور کرنا بھی ضرور کیوں کہ اس سے میری حوصلہ افزائی بھی ہوگی اور مزید دل لگی سے اسٹوری کو پروان چڑھا سکوں گا۔ ۔ ۔ ۔


    پچلے سال مارچ کی بات ہے کہ بڑی باجی کی شادی ہمارے ہی خاندان میں جن کے ہاں ہوئی وہ قدرے امیر پر مغرور ٹائپ لوگ تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    باجی کی ساس رشتے میں ہماری خالہ
    بھی لگتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔
    اور امی کی بیسٹ فرینڈ بھی ہیں۔ ۔ ۔

    اچھے خاصے کھاتے پیتے خوش حال لوگ ہیں۔ ۔ ۔ ۔
    باجی کی تین نندیں ہے ایک شادی
    شدہ ہے اور دو کنواری ہیں۔ ۔ ۔ ۔
    بڑی والی باجی سے بھی تین یا چار سال بڑی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    پر ہم پالا رشتہ نا ملنے کی وجہ سے ابھی تک گھر میں بیٹھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

    آج کل سنا ہے کے اس کا ہم پالا تو نہیں بس ایک رشتہ آیا ہے جو امی کہہ رہی تھیں کے یہ رشتہ ہو جائے گا کے اب لڑکی کے پاس ٹائم اور چوائس دونوں نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔

    مجھے چھٹیاں ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کے باجی کا فون آ گیا کہ وہ بڑی اداس ہے۔ ۔ ۔ ۔
    اور یہ کے میں ان سے ملنے آؤں پر
    میں نے منع کر دیا . . .
    ( وجہ میں بتا چکا ہوں )

    چوں کے باجی خود نہیں آ سکتی کہ باجی کی ساس تھوڑی سخت تھی دوسرا یہ ان کے شوہر بھی ان کو اکیلے آنے کی اِجازَت نہیں دیتا تھا کہ اس کا دِل باجی کے بغیر نہیں لگتا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    باجی شادی کے بَعْد ایک آدھ دفعہ ہی گھر آئی تھی وہ بھی ساتھ دولہا بھائی ہوتے تھے جو بس ایک آدھ دن ہی رہ کر باجی کو ساتھ ہی لے گئے تھے۔ ۔ ۔

    رات ابا گھر آئے تو امی نے باجی کا پیغام دیا۔ ۔ ۔ ۔
    اور ساتھ میرے بارے بھی بتایا کے آج کل اِس کی چھتیاں ہیں اور یہ جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔
    پر جانے سے انکاری ہے۔ ۔ ۔ ۔

    سو مجھے طلب کیا گیا اور نا جانے کی وجوہات پوچھیں گئیں۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بتایا کے وہ لوگ چوں کہ مغرور ٹائپ ہیں اور ایسے لوگوں سے میری بلکل بھی نہیں بنتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    یہ سن کر ابا بولے پتر۔ ۔ ۔ ۔
    جہاں بہنیں دیتے ہیں وہاں تھوڑا نییواں ( نیچے ) ہو کر رہنا پرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    یہ کہہ کر آرڈر ملا کے تم کل جا رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔
    مرتا کیا نا کرتا حکم حکم تھا۔ ۔ ۔ ۔

    آخری ٹرائی کے توڑ پر جان بوجھ کر اخراجات کا بل اتنا زیادہ بنا کر پیش کر دیا کے مجھے لگا کے ابا منع کر دیے گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    پر وہ بھی ابا تھے۔ ۔ ۔ ۔
    انہوں نے اخرجات کے بل پر ایک نظر ڈال کر فوراً ہے پیسے میرے ہاتھ میں دیئے اور کہا کے جاؤ تیاری کرو اور ہاں وہاں میں تمھاری طرف سے کوئی ایسی ویسی بات نہ سنوں۔ ۔ ۔ ۔


    باجی کا سسرال ہمارے شہر سے سات آٹھ گھنٹے کی موصافت پر تھا۔ ۔ ۔ ۔
    سو صبح نو دس بجے چلا اور شام کو ان کے گھر پہنچ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    وہاں خلاف تاواقع میرا استقبال بڑی گرم جوشی سے ہوا۔ ۔ ۔ ۔
    گھر میں کافی نوکر چکر باورچی چہل پہل تھی ۔ ۔ ۔

    باجی کی دونوں نندیں بھی کافی دیر بیٹھی رہی اور ان سے اچھی گپ شپ ہوئی.۔ ۔ ۔ ۔

    باجی نے میری خوب خدمت کی اور کچھ دیر بَعْد بولی چلو امی ( باجی کی ساس )
    کو مل کر آجاؤ۔ ۔ ۔ ۔

    پِھر بولی چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔
    سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے باجی سے کہا امی بوڑھی عورت ہے جو نیچے نہیں آ سکتی ۔ ۔ ۔ ۔

    وہ آہستہ سے بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    چپ ویسے امی نا کہنا اچھی خاصی جوان عورت ہے اور نیچے اِس لیے نہیں آ سکی کہ کل سے ان کی کچھ طبیعت خراب ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ورنہ وہ زیادہ تر نیچے ہی رہتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔
    پِھر ہم ان کے روم میں گئے ان کو سلام کیا۔ ۔ ۔ ۔
    خلاف تاواقع وہ بھی بارے تپاک سے ملی اور بولی سوری بیٹا مجھے خود آنا چاہیے تھا لیکن آج کچھ ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے نا آسکی اور ایکسیوز کیا۔ ۔ ۔ ۔

    کچھ دیر بیٹھ کر ہم نیچے آ گئے۔ ۔ ۔ ۔

    باجی کے گھر کا نقشہ کچھ ایسا تھا کہ۔ ۔
    نیچے ڈائیننگ کے ساتھ بڑا سا ٹی وی لونچ تھا۔ ۔ ۔ ۔
    اور اس کے ساتھ آمنے سامنے چار روم تھے ایک روم میں باجی اور اس کا شوہو دوسرے میں نسرین ( چھوٹی نند )
    یہ تقریباً باجی جتنی تھی یا اس سے ایک آدھ سال بڑی ہو گی۔ ۔ ۔ ۔
    اور ان کے سامنے والے روم میں نورین
    ( بڑی نند یہ باجی سے کافی بڑی تھی)۔ ۔ ۔ ۔
    اور ان کے ساتھ والا روم گیسٹ روم کے لیے استعمال ہوتا تھا ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ جو مجھے دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔

    جب کہ سیکنڈ فلور پے بس باجی کی
    ساس سسر کا ہی روم تھا۔ ۔ ۔ ۔
    جو بڑا لگژری ٹائپ کا تھا اور اس کے سامنے برامدہ اور پِھر بڑا سا صحن تھا۔ ۔ ۔ ۔

    باجی کے سسرال مجھے کرنے کو کوئی کم نا تھا اور اوپر سے ہر آدھے گھنٹے کے بَعْد باجی کوئی نا کوئی چیز کھانے کو دے دیتی تھی۔ ۔ ۔ ۔
    دو تین دن ایسے ہی گزر گئے او اب میں ان کے ماحول میں کافی رچ بس گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    ایک دن میں نے باجی کو کہا کہ باجی میں کھا کھا کر کافی سست ہو گیا ہوں اور میں اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیا ایکسرسائز کرنا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔

    تو باجی بولی۔ ۔ ۔ ۔
    ہاں ضرور میرے بھائی اوپر امی کے روم کے سامنے کھلا صحن ہے وہاں تم اپنا یہ شوق پُورا کر سکتے ہو۔ ۔ ۔
    تمہیں کوئی منع نہیں کرے گا۔ ۔ ۔

    اگھلے دن صبح پانچ بجے اٹھ کر میں اوپر صحن میں ایکسرسائز کرنے چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔
    اس وقت میں نے ٹریک سوٹ پہنا ہوا
    تھا جیسے ہے میں صحن میں پہنچا تو ایک سرپرائز میرا منتظر تھا۔ ۔ ۔ ۔
    خالہ ( باجی کی ساس ) کمر پر دوپٹہ باندھ کر ایکسرسائز کر
    رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    مجھے آتا دیکھ کر بولی ۔ ۔ ۔
    آؤ آؤ تم ایکسرسائز کرنے آئے ہو نہ۔ ۔ ۔

    میں نے پوچھا۔ ۔ ۔
    خالہ آپ بھی ورزش کرتی ہو۔ ۔ ۔ ۔

    تو خالہ نے کہا۔ ۔ ۔ ۔
    ہاں بیٹا اس لیے تو میرا جسم جلدی ختم نہیں ہوا۔ ۔ ۔ ۔
    یہ سن کر میں نے ایک نظر خالہ کو دیکھا تو وہ ایک گوری چٹی مناسب قد۔ ۔ ۔ ۔
    اور جسم کے ساتھ میچ کرتے منصب چھاتیاں۔ ۔ ۔ ۔

    بس پیٹ تھوڑا سا باہر کو نکلا ہوا تھا اور میرے خیال سے وہ اِس کو کم کرنے کے لیے ہی ورزش کر رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    چوں کہ میں اب ان لوگوں سے کافی مانوس ہو چکا تھا اِس لیے میں بھی ایک طرف ہو کر سب سے پہلے جسم کو ورم اپ کرنے کے لیے ہلکی ورزش کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔

    سامنے خالہ ایک دری پر لیٹ کر اپنے پاؤں کے انگھوتے کو ٹچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔
    پر اس سے ایسا ہو نہیں رہا تھا یہ دیکھ کر میں نے کہا کے خالہ اس طرح کی ایک آسان ورزش بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔

    خالہ بولی۔ ۔ ۔ ۔
    تو بتاؤں نہ۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے کہا۔ ۔ ۔ ۔
    آپ کھڑی ہو جائیں
    اور مجھے فالوو کریں۔ ۔ ۔

    چنانچہ میں ان کے سامنے سیدھا کھڑا ہو گیا اور آہستہ آہستہ دونوں ہاتھ نیچے لا کر پاؤں کے انگھوٹے پر انگلیاں لگا دی۔ ۔ ۔ ۔
    پھیر سیدھا ہو گیا اور بولا اب آپ کرو۔ ۔ ۔
    تو وہ سیدھی ہو کر نیچے جھکی اب پتہ نہیں وہ سچ مچ للکھڑا گئی یا اداکاری کر رہی تھی یا تھکاوٹ کی وجہ سے
    ( انہوں نے بتلایا تھا کہ کافی دیر سے وہ ورزش کر رہی تھی)
    وہ آگے کی طرف گرنے لگی۔ ۔ ۔ ۔
    میں نے فوراً ہی ان کو پکڑ لیا اور چوںکہ کے میں ان کے بالکل ساتھ کھڑا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    اس لیے گرنے سے وہ کچھ آگے ہو گی اور میں نے پیچھے سے ان کو پکڑ لیا۔ ۔ ۔ ۔

    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔
    Last edited by Admin; 06-09-2019 at 03:33 PM.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to حیدر رضا110 For This Useful Post:

    abkhan_70 (04-09-2019), Lovelymale (04-09-2019), omar69in (09-09-2019)

  3. #2
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    11
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    0

    Default


    جلدی سے پکڑنے میں دو باتیں ہوئی۔ ۔ ۔
    جلدی میں میرا ہاتھ ان کی غلط جگہ پر لگ گیا۔ ۔ ۔
    یعنی میں نے ان کو مموں سے پکڑ
    لیا دوسرا ان کو پیچھے کی طرف کھنیچا۔ ۔ ۔
    جس سے ان کی گانڈ بلکل میرے ساتھ چپک گئی۔ ۔ ۔
    اور پتہ نہیں کیسے میرا لنڈ ان کی گانڈ کی ڈرار میں چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔

    اور ہم دونوں ہی سیدھا ہو گئے۔ ۔ ۔ یہ سارا عمل کوئی پندرہ بیس
    سیکنڈ رہا۔ ۔ ۔ ۔

    ان کی گانڈ جب میرے لن سے
    ٹچ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔
    واوو۔ ۔ ۔ ۔
    کیا نرم اور فرسٹ کلاس گانڈ تھی۔ ۔ ۔ یار ۔ ۔ ۔ مزہ آ گیا
    اور دوسرا ان کے ممے ڈھیلے نا تھے بلکہ تنے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔

    ان کو ساتھ چپکا کر کے بڑا مزہ
    آیا۔ ۔ ۔
    کچھ دیر بَعْد میں نے ان کو چھوڑ
    دیا اور وہ مجھے شکریہ بولی اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔

    پھر میں نے گھنٹہ ایک ورزش کی اور پِھر نیچے آ کے سو گیا وہ دن ایسے ہے گزارا اور کوئی خاص
    واقع نہیں ہوا۔ ۔ ۔


    اگلی صبح جب میں اوپر گیا تو وہ
    پہلے سے وہاں موجود تھی آج ان کا
    موڈ بھی کافی اچھا نظر آ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    بڑے تپاک سے ملی اور ہم دونوں ایکسرسائز کرنے لگے کچھ دیر بَعْد میں نے ویسے ہی کہا۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی آپ کل والی ورزش نہیں
    کرے گی ۔ ۔ ۔ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

    تو وہ ہنس کر بولی۔ ۔ ۔ ۔
    پِھر گرانے کا اِرادَہ ہے کیا۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بولا۔ ۔ ۔ ۔
    کوشش کرے تو نہیں گرے گی۔ ۔ ۔ ۔

    کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔
    ایک شرط ہے کہ تم مجھے پکڑ کر رکھو اور جب میں ورزش کرنا شروع ہو جاؤں تو بے شک چھوڑ دینا۔ ۔ ۔ ۔

    میں فوراً مان گیا۔ ۔ ۔ ۔
    اور ان کے پیچھے جا کر ان کو گانڈ سے تھوڑا اوپر سے پکڑ لیا۔ ۔ ۔ ۔
    اور وہ ایکسرسائز کرنے لگی اور
    نیچے ہوتے ہوئے بولی۔ ۔ ۔ ۔
    پکا پکڑنا اور نیچے جھکنے لگی جیسے ہی وہ رکوع کی حالت میں گئی۔ ۔ ۔ ۔
    ان کی نارم اور موٹی گانڈ بالکل میرے ساتھ ٹچ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔
    ظاہر ہے نرم اور موٹی گانڈ کا مزہ تو آنا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    اور۔ ۔ ۔ ۔
    لن صاحب نے سَر اٹھا لیا۔ ۔ ۔
    اور نیم کھڑا ہو گیا وہ وقت تو
    کسی نا کسی طرح پاس ہو گیا۔ ۔ ۔

    پھر مسلئہ تب ہوا جب وہ دوبارہ نیچے جھکی۔ ۔ ۔ ۔
    پھر ان کی نرم گانڈ بلکل میرے لورے سے ٹچ ہوئی اور اِس دفعہ وہ کچھ سیکنڈ تھوڑا روک گئی اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    دیکھو چھوڑنا نہیں۔ ۔ ۔ ۔

    تب تک میرا لن کافی اکڑ چکا تھا میرے خیال سے اِس تبدیلی کو وہ بھی محسوس کر گئی۔ ۔ ۔ ۔
    اور میں نے محسوس کیا کے انہوں نے اپنی گانڈ کچھ سیکنڈ مجھ سے چپکا دی۔ ۔ ۔


    اِس دفعہ میرا لن نیم اکڑا ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    انہوں نے جان بھوج کر میرے لن کو کچھ دیر ترسایا اور پِھر اَٹھ گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    تیسرا رائونڈ میں بھی ایسا ہے ہوا۔ ۔ ۔ ۔

    جب چھوتھا رائونڈ آیا تو۔ ۔ ۔ ۔
    میرا لن فل کھڑا ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    میں سخت پریشان تھا ابا کی
    وارننگ بھی یاد آ رہی تھی کے میں تمھاری ایسی ویسی کوئی بات نا سنو۔ ۔ ۔ ۔
    دِل بھی کر رہا تھا کے میڈم ایسے ہی اپنی گانڈ میرے لن سے چپکا ہی رکھے ۔ ۔ ۔ ۔
    پر عقل کہہ رہی تھی کے یہ
    خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔

    سو میں نے اِس سے پہلے کے وہ کچھ اور کرتی میں نے کہا۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی اب آپ کو ورزش آ گئی ہے آپ خود کر لو اور ان کو
    چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ ۔ ۔ ۔

    انہوں نے منه میری طرف کیا اور ایک نظر میرے اکڑے ہوئے لن پر ڈالی جو اب ٹڑاوزر میں مست نظر آ رہا تھ اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    اوکے اگر تم نہیں پکڑتے تو میں نہیں کرتی۔ ۔ ۔ ۔

    ان کی یہ بات سن کر میں تھوڑا مایوس ہوا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن خوش بھی۔ ۔ ۔ ۔
    اور میں اپنی ایکسرسائز کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    تھوڑی دیر بَعْد میرا لن بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔
    تو میں نے شکر کیا۔ ۔ ۔ ۔

    اسی دن رات کا واقع ہے کے ہم سب ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہے تھے کہ اچانک لائٹ چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔
    اور روم میں اندھیرا چھا گیا۔ ۔ ۔

    خالہ میرے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی
    تھیں اچانک میں نے ان کا ہاتھ اپنی
    رانوں پر محسوس کیا۔ ۔ ۔

    جو انہوں نے کھڑے ہونے کے لیے سہارا لیا تھا اور بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    میں ذرا ایمرجنسی لائٹ لے آؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اِس سے پہلے کہ وہ قدم آگے لے جاتی نسرین فوراً بولی ۔ ۔ ۔ ۔
    امی آپ بیٹھو میں لے آتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔

    فوراً ہی میں نے بھی کہا۔ ۔ ۔ ۔
    ہاں ہاں خالہ آپ بیٹھو نسرین باجی لائٹ لے آتی ہے۔ ۔ ۔ ۔
    اور میرے دماغ میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ایک خیال آیا
    اور میں صوفے پر کچھ کسھک کر
    خالہ کے ساتھ ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔

    مقصد یہ تھا کے اگر خالہ اِس دفعہ بیٹھنے کے لیے ران پر ہاتھ رکھ کے بیٹھے تو۔ ۔ ۔ ۔
    مجھے پتہ لگ جائے گا کہ اِن سب میں وہ بھی دلچسپی لے رہی ہے یا نہیں . . ؟ ؟

    سو جیسے ہی خالہ نے سہارے کے لیے اپنی طرف سے میری ران پر ہاتھ رکھا تو۔ ۔ ۔ ۔
    تو ان کے اندازے کے مطابق جہاں ران ہونی چاہیے تھی وہاں اب میرا لن تھا۔ ۔ ۔ ۔
    اور ان کا ہاتھ سیدھا میرے لن پر جا
    لگا۔ ۔ ۔ ۔

    میں اِس حملے کے لیے پہلے سے ہی
    با خبر تھا۔ ۔ ۔ ۔
    جیسے ہے ان کے ہاتھ نے میری ران کے
    بجائے میرا لورا فیل کیا تو ایک لمحے کے لیا انہوں نے ہاتھ کو جٹھکا اور پِھر بڑے آرام سے اپنا ہاتھ میری لن پر رکھ دیا اور بیٹھ گئی اور دھیرے سے بولی۔ ۔ ۔ ۔
    بہت ہوشیار ہوں تم۔ ۔ ۔ ۔

    لیکن میں نے کچھ نہیں بولا۔ ۔ ۔

    انہوں نے کچھ دیر لن پے ہاتھ رہنے دیا اور پِھر اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا لیا۔ ۔ ۔ ۔

    میرے خیال سے اب بات واضح ہو گئی تھی کے خالہ بھی دلچسپی لے رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔

    اِس سے پہلے کے نسرین باجی لائٹ لے کر آتی۔ ۔ ۔
    لائٹ آ گئی اور ہم سب ڈرامہ دیکھنے لگے۔ ۔ ۔

    اگلی صبح میں بڑا پر جوش تھا۔ ۔ ۔ ۔
    دل دھڑک رہا تھا اور میں دھڑکتے دِل کے ساتھ صحن میں پہنچا۔ ۔ ۔

    لیکن آج وہ نظر نہیں آ رہی تھیں اور ان کے کمرے کا دروازہ بھی بند تھا میرا دِل افسردہ سا ہو گیا اور میں بڑا غمگین ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔
    میرے سارے ارمان کہیں غائب ہو گئے اور میں بڑی بے دلی سے ورزش کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔

    اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا کے انکل باہر آ رہے ہیں۔ ۔ ۔
    پیچھے پیچھے آنٹی بھی نکلی ۔ ۔ ۔ ۔
    اور مجھے دیکھ کر آنکھ
    مار دی۔ ۔ ۔ ۔
    انکل مجھے دیکھ کر بولے بیٹا
    بہت اچھی بات ہے جو تم ورزش کرتے ہو ورنہ ہمارے گھر میں تو سب لوگ بارہ بجے تک سوتے ہے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ہاں تھماری آنٹی تھوڑی بہت ورزش ضرور کرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔

    یہ کہتے ہوئے وہ نیچے چلے گئے پیچھے پیچھے خالہ بھی گئی اور کچھ دیر بَعْد گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی اور ساتھ ہے دروازہ بند ہوا اور انکل چلے گئے۔ ۔ ۔ ۔

    کچھ دیر بَعْد خالہ مسکراتے ہوئے
    اُوپر آ گئی۔ ۔ ۔ ۔
    اور دوپٹہ کمر سے باندھ کر بولی۔ ۔ ۔

    ہاں جی. . . .
    آج کون سی ورزش کروانی
    ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    پھر تھوڑا دوستانہ لہجے میں بولی۔ ۔ ۔ ۔
    ایک ورزش اور بھی ہے لیکن وہ ہم کچھ دیر بَعْد کریں گئے۔ ۔ ۔ ۔
    اور وہ وارم اپ ہونے لگی ۔ ۔ ۔ ۔

    تھوڑی دیر بَعْد بولی۔ ۔ ۔ ۔
    ایک ورزش اور بھی ہے جس
    میں مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    ادھر آؤ اور مجھے کروانی ہے۔ ۔ ۔


    میں نے قریب جا کر پوچھا وہ کون سی ہے تو کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔


    جیسے آگے جھک کر پاؤں کو ہاتھ لگانا ہوتا ہے ویسے ہے پیچھے بھی کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بولا۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی یہ تو کافی مشکل ہے تو
    وہ کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔
    اسی لیے تو تم کو مدد کا کہا ہے اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی اور
    بولی۔ ۔ ۔ ۔
    مجھے کمر سے پکڑو اور خود جسم
    کو پیچھے کی طرف کرنے لگی۔ ۔ ۔

    اب حالات یہ تھی کہ ان کا نیچلا جسم میرے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    انہوں نے نیچے والا دھر میرے نیچے والے دھر سے چپکایا ہوا تھا۔ ۔ ۔

    میرا لورا ان کے پرائیویٹ پارٹس کو
    ٹچ کر رہا تھا اور وہ پیچھے کم ہو رہی تھیں اور اپنے نیچلے پرائیویٹ پارٹ کو میرے لن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ٹچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ۔ ۔
    اور اِس کوشش میں کافی کامیاب بھی ہو رہی تھی۔ ۔

    ان کا منه پیچھے اور چوتر میرے ساتھ جوڑے ہوے تھے ۔ ۔ ۔

    مزے کی لہر تھی جو میرے سارے جسم میں آ جا رہی تھی لورا مست ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔

    واو یار کیا مزہ تھا۔ ۔ ۔ ۔

    پِھر انہوں نے اپنا سانس درست کرنے کے لیا اوپر ہوئی میں نے چپکے سے اپنے لن کو ان کی پُھدی کے درمیان رکھ دیا۔ ۔ ۔ ۔

    اور اب۔ ۔ ۔ ۔ اب۔ ۔ ۔ ۔
    اب لن صاحب ان کی چوت کی دیوار
    پر کھڑے دستک دے رہے تھے۔ ۔ ۔

    ہر چیز واضح ہو چکی تھی پر مسئلہ یہ تھا کے پہل کون کرے۔ ۔ ۔ ۔

    میں تو مر بھی جاتا تو کبھی بھی پہل نہیں کر سکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    کیوں کہ اِس میں بڑا خطرہ تھا اور ڈر بھی لگتا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    اور پھر شاید ان کو مجھ پر رحم آ گیا اور کہا۔ ۔ ۔ ۔
    اوکے یار میرے خیال سے آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    اور پِھر مجھ سے کہنے لگی آؤ
    روم میں چل کے جوس پیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اور ہم روم میں چلے گئے ۔ ۔ ۔
    وہاں انہوں نے مجھے ایک گلاس فریش جوس دیا جسے لے کر
    میں وہاں پڑی ایزی چیئر پر بیٹھ گیا اور وہ نیچے قالین پر میرے گٹنھوں کے ساتھ لگ کے بیٹھ گئی۔ ۔ ۔ ۔

    اور ایک ادا سے بولی۔ ۔ ۔ ۔

    شاہ تم بڑے تیز ہو کیسے مجھے
    ایک دو دن میں ہے پٹا لیا۔ ۔ ۔ ۔

    میں کچھ نا بولا۔ ۔ ۔ ۔
    کہ ڈر کے مارے میرا برا حال
    تھا۔ ۔ ۔
    اور آپ یقین کروں پتہ نہیں کیو میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور حلق خشک ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔

    میری یہ حالت دیکھ کر وہ بولی۔ ۔ ۔
    چ۔ ۔ ۔ ۔ چچ۔ ۔ ۔ ۔ چچ۔ ۔ ۔ ۔
    تم تو بڑے سیکسی بنتے تھے میری جان اب کیا ہوا . . ؟
    اور پِھر بولی…
    آرام سے پرسکون رہو میری جان اتنا نہ ڈرو۔ ۔ ۔ ۔
    میں تمہیں کھا نہیں جاؤں گی تم اس وقت کیوں نہیں ڈرتے تھے جب تم نے اپنا یہ موٹا ڈنڈا میرے ساتھ لگایا تھا۔ ۔ ۔
    اب ٹائم آیا ہے تو ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بولا۔ ۔ ۔ ۔
    وہ ۔ ۔ ۔ وہ بات۔ ۔ ۔ ۔ دراصل بات یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔

    پتہ نہیں کیا سمجھی اور بولی۔ ۔ ۔ ۔ مت ڈر میرے راجا۔ ۔ ۔
    میں کسی کو کچھ نہیں بولوں گی اور نا ہے تم بول سکتے ہو اور پِھر
    اس نے میری ران پر ہاتھ پہرا اور
    کہنے لگی۔ ۔ ۔
    تمھارا یہ ہے بڑا زبردست ہے۔ ۔ ۔ ۔
    میں تو اتنا بڑا محسوس کر کے ہی پانی پانی ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    اور پِھر اس نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا ہوا جوس کا گلاس سائڈ ٹیبل پر رکھا اور میرا لاسٹک والا ٹراوزر خود ہے نیچے کیا اور میرا لن پکڑ لیا۔ ۔ ۔
    جو اس ٹائم کچھ
    مڑجھایا ہوا تھا۔ ۔ ۔

    اب مجھے بھی کچھ
    حوصلہ ہو چکا تھا سو مجھے حوصلے میں دیکھ کر لن بھی ایک دم کھڑا ہو گیا اور خالہ نے لن کو اپنی مٹھی میں پکڑ لیا اور اپنا منه ٹوپے کے پاس لے گئی اور اس کو چوم کر بولی۔ ۔ ۔ ۔
    تمہارے لن کا ٹوپا بلکل مشروم کی طرح ہے۔ ۔ ۔ ۔
    اور پِھر اپنی زُبان نکال کر میرے پیشاب کرنے والے سوراخ کو چاٹنے لگی۔ ۔ ۔ ۔
    اُف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مجھے ایک عجیب سی گدگدی
    محسوس ہوئی اور بے ساختہ میرے منه سے
    آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    نکل گئی۔ ۔ ۔ ۔

    انہوں نے سَر اٹھا کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    مزہ آیااا۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    بہت زیادہ۔ ۔ ۔ ۔
    تو وہ کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔
    یہ تو ابھی ابتدا ہے بچے ۔ ۔ ۔ ۔
    آگے دیکھو میں تم کو کیسے مزے دیتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔


    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔
    Last edited by Admin; 06-09-2019 at 04:44 PM.

  4. The Following 4 Users Say Thank You to حیدر رضا110 For This Useful Post:

    abkhan_70 (04-09-2019), Lovelymale (04-09-2019), omar69in (09-09-2019), sweetncute55 (06-09-2019)

  5. #3
    Join Date
    Feb 2010
    Posts
    53
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    16

    Default

    بہت خوب جناب
    اب اسے مکمل کر کے کی سانس لینا

  6. #4
    Join Date
    Feb 2010
    Posts
    53
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    16

    Default

    اپڈیٹ کا بری شدت سے انتظار ہے

  7. #5
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    294
    Thanks Thanks Given 
    309
    Thanks Thanks Received 
    261
    Thanked in
    141 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    font size bht small read krne main diqt ho rahi hai

  8. #6
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    46
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    58
    Thanked in
    30 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    عمدہ آغاز ہے
    کہانی کی اٹھان بڑی اچھی ہے
    اگلی اپڈیٹ سے زرا بہتر اندازہ ہو گا

  9. #7
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    179
    Thanks Thanks Given 
    846
    Thanks Thanks Received 
    146
    Thanked in
    75 Posts
    Rep Power
    40

    Default

    Story boht zabardast hai, maza araha hai parhnay ka. Font thora bara rakha karo.

  10. #8
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    11
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    0

    Default


    پِھر انہوں نے میرے لن کے آگے والا حصہ اپنی مٹھی میں پکڑا اور رگ والا حصہ ننگا چھوڑ کر ٹٹوں سے لے کر لن کے ٹوپے تک زبان سے خاص کر رگ والے حصے کو چاٹنے لگی۔ ۔ ۔

    اففففف !!!
    میری تو جان ہی نکلے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔
    اور مستی سی پورے وجود میں چھا رہی تھی۔ ۔ ۔

    پِھر انہوں نے اپنا منه لن پر جھکایا اور لورے کو منه میں لینے کی کوشش کرنے لگی۔ ۔

    ابھی لورا تھوڑا باقی تھا کے اس کا ٹوپا ان کے حلق پر لگا اور ان کے منه سے
    اخ خ خ خ خ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    کی بڑی سی آواز آئی اور انہوں نے فوراً اپنے منه سے لن نکل لیا اور میں نے دیکھا کے ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    جیسے ہے انہوں نے لورا منه سے نکالا
    تھوڑا سانس لیا اور پِھر منه میں آیا
    ہوا سارا تھوک لن پر پھینک دیا اور
    میری مٹھ مرنے لگی۔ ۔ ۔ ۔

    تھوڑی دیر بَعْد لورے کو دوبارہ منه میں لیا اور چوسنے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    میں مزے سے بے حال ہوا جا رہا تھا اور
    سس۔ ۔ ۔ ۔ ۔سس۔ ۔ ۔ ۔ اح۔ ۔ ۔ اح۔ ۔
    کی آوازیں خود باخود میرے منه سے نکل رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    زبردست چوپے لگانے کے بَعْد وہ اٹھی اور اپنی قمیض برا سمیٹ اوپر کی اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    دودھ پی لو میرے بچے۔ ۔ ۔ ۔
    اور ساتھ ہے اپنا ایک ممما میرے منه سے لگا دیا آنٹی کا ممے گول اور زیادہ موٹے نا تھے ۔ ۔ ۔ ۔

    مموں کے اُوپر کالے رنگ کے موٹے سے
    نپلز تھا جو اس ٹائم اکڑے ہوئے
    تھے۔ ۔ ۔ ۔
    میں نے خالہ کا ایک نپل منه
    میں لیا اور اپنے ہونٹوں میں دبا کر
    نپل پر زبان پھیرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    اور ساتھ ہے دوسرے ہاتھ سے خالہ کی شلوار نیچی کی اور خالہ کی چوٹ کا دانہ اپنی دو
    انگلیاں اور انگھوٹھے کی مدد سے
    مسلنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    کچھ دیر بَعْد خالہ نے میرے منه سے اپنا مما چھوڑوایا اور اپنی شلوار اتار کر دور پھینک دی اور ایک ٹانگ کرسی کے بازو پے رکھ کر اپنی چوت میرے منه سے لگا دی اور بولی۔ ۔
    چاٹ اِسے

    میں نے بھی اسی وقت اپنی زبان
    باہر نکالی اور ان کی پھدی کے دانے کو کو چاٹنے لگا اور بیچ والی انگلی ان کی چوت میں ڈال دی اور ان
    آؤٹ کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    اففففف۔ ۔ ۔ ۔
    خالہ کی چوت میں بہت سا پانی جمع تھا ۔ ۔ ۔
    اور وہ اتنی گرم تھی کے مجھے لگا کے میری انگلی جل جائے گی۔ ۔ ۔ ۔

    کچھ دیر چوت چاٹوانے کے بَعْد
    خالہ بولی اٹھو اور اپنے سارے کپڑے اتار دو اور خود پوری ننگی ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بھی دیر نہیں لگائی اور فوراً ننگا ہو گیا اور پِھر خالہ بولی۔ ۔ ۔
    بیڈ پے آؤ۔ ۔ ۔
    بیڈ پر بیٹھ کر انہوں نے دوبارہ تھوڑا سا چوپا لگایا اور پِھر بستر پر سیدھی لیٹ گئی اور اپنی دونوں ٹانگیں اپنے پیٹ سے جوڑ کر بارے ہی رومینٹک انداز میں بولی۔ ۔ ۔ ۔
    اپنا لن میری چوٹ میں ڈال جانی۔ ۔ ۔ ۔
    میں بیڈ پر چڑھا۔ ۔ ۔ ۔
    تو میں نے ان کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں بالوں سے صاف خوب صورت ابھری ہوئی چوت دیکھی جو درمیان میں لال تھی ۔ ۔ ۔ ۔

    جہاں پھدی ختم ہوتی ہے وہاں
    میں نے ایک سفید سا قطرہ دیکھا۔ ۔ ۔ ۔
    جو یقین“ خالہ کی پھدی سے برآمد ہوا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔
    اتنی پیاری پھدی دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نیچے جھکا اور زبان نکال کر پھدی چاٹ نے لگا۔ ۔ ۔

    آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ ۔ ۔ ۔
    گرم پھدی سے زیادہ خالہ کی گرم گرم آوازیں مجھے اور بھی جوش دلا رہی تھیں کہ میں اِس زبردست چوت کو جی بھر کے چاٹوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اُدھر آنٹی چلا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اف۔ ۔ ۔ ۔ اففف۔ ۔ ۔ فففف۔ ۔ ۔ آہ۔ ۔ ۔
    اور پورے جوش سے میرا سَر اپنی پھدی پر دبا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    کچھ دیر چوت کا مزہ لینے کے بَعْد میں اٹھا اور اپنے گٹنھوں کے بل ان کی پھدی کے پاس بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔

    اور میں نے ٹوپے کو تھوک سے تر کیا اور خالہ نے فوراً میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی چوٹ کے دروازے پر رکھ دیا اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    بہت عرصے بَعْد اتنا بڑا لن میرے اندر جا رہا ہے تھوڑا آرام سے ڈالنا۔ ۔ ۔

    میں نے ان کی بات سنی ان سنی کی اور لورا چوت پر ایڈجسٹ کیا اور ہلکا سا دکھا لگایا۔ ۔ ۔ ۔

    پھدی پہلے سے ہے کافی چکنی تھی۔ ۔ ۔
    اور کوئی خاص ٹائیٹ بھی نا تھی سو پھسلتی چوت میں میرا لن پھیسلاتا ہوا سیدھا اندر چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    میں نے تھوڑا اور زورا لگایا تو لن جڑ تک خالہ کی پھدی میں اتر گیا۔ ۔ ۔ ۔
    اور خالہ نے مزے سے ایک لمبی سسکی لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    سی سی سسسسی سسسسسسسی۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے کچھ دیر لورا چوت میں ہی رہنے دیا۔ ۔ ۔ ۔

    اور آنٹی کی چوت کی گرمی اپنے لورے پر محسوس کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔

    آنٹی کی چوٹ کسی تندور کی طرح دھک رہی تھی۔ ۔ ۔
    اوپر سے چوت میں اتنا پانی تھا کے لورے کو مزہ آ گیا۔ ۔ ۔

    میرا لورا ایسے ہی چوت میں روکے رہنے سے کچھ دیر تو آنٹی نے برداشت کیا پِھر بڑی شہوت بھری آواز میں بولی۔ ۔ ۔ ۔
    بہن چود دھکے مار نہ۔ ۔ ۔ ۔ چود نہ۔ ۔ ۔ لن اندار ڈال بھی۔ ۔ ۔ ۔
    اور یہ جوشیلی آوازیں سن کر مجھے بھی جوش آ گیا اور میں نے لن باہر نکل کر ایسے دھکے مارنے شروع کر دیا کہ۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی ۔ ۔ ۔ ہائے ۔ ۔ ۔ ۔ ہائے۔ ۔ ۔ ۔ اف۔ ۔ ۔ اف۔ ۔ ۔ اف۔ ۔ ۔
    کرتی جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔
    اور خود نیچے سے اَٹھ اَٹھ کر
    میرے دھکوں کا جواب دے نے لگی۔ ۔ ۔

    کچھ دیر اسی انداز میں چودوانے کے بَعْد انہوں نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور تھوڑا سا ڈھکا لگا کر مجھے پیچھے کیا اور اٹھ کر میرے ہونٹوں کو چومنے لگی اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    واہ۔ ۔ ۔ ۔
    میں تو تم کو اناڑی سمجھتی تھی تم تو پکے پُھدی مار نکلے ۔ ۔ ۔ ۔
    کیا مزہ دیا ہے تم نے ۔ ۔ ۔
    اور میرے منه میں منه ڈال کر میری زبان چُوستی رہی۔ ۔ ۔ ۔

    پِھر بولی اب تم مجھے ڈوگی اسٹائل میں چودو۔ ۔ ۔ ۔
    اور فوراً ڈوگی بن کئی۔ ۔ ۔
    ڈوگی اسٹائل میں آنٹی کی گانڈ دیکھ کر میں تو دنگ رہ گیا۔ ۔ ۔ ۔
    پوری سفید رائونڈ شیپ گانڈ۔ ۔ ۔ اور گانڈ کی موری ہلکے برائون رنگ کی تھی جسے دیکھ کر میں بےخود ہو گیا اور۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی کی گانڈ خاص کر موڑی کو چاٹنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    یہ دیکھ کر آنٹی نے منه میری طرف
    کیا اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    تم کو گانڈ پسند ہے۔ ۔ ۔ ۔
    تو میں بولا۔ ۔ ۔ ۔
    آنٹی ایسی گانڈ کس کافر کو
    نہیں پسند ہوگی۔ ۔ ۔ ۔
    تو وہ بولی۔ ۔ ۔ ۔
    ٹھیک پر میں اِس ٹائم تم کو گانڈ نہیں دو
    گی۔ ۔ ۔
    بس لورا چوت میں ہی ڈالو گے۔ ۔ ۔ ۔

    میں نے بولا ۔ ۔ ۔
    ٹھیک ہے۔ ۔ ۔
    تو کہنے لگی اب چاٹ لو میری گانڈ جتنی مرضی ہے۔ ۔ ۔ ۔
    اور میریے چوسنے کا مزہ لینے لگی۔ ۔ ۔ ۔

    جب گانڈ چاٹتے ہوئے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تو وہ بولی۔ ۔ ۔ ۔
    بس اب یہ موٹا لن میری پُھدی میں ڈال دوں۔ ۔ ۔ ۔ کہ تم کو نہیں پتہ کہ۔ ۔ ۔ ۔ پُھدی اِس کے لیا کتنی بے چین ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔
    اور میں نے چاٹنا چھوڑ کر ایک دفعہ پِھر ٹوپے کو تھوک لگا کر تر کیا۔ ۔ ۔ ۔
    اور اس کو آنٹی کی پُھدی کے ہونٹوں پر رکھا۔ ۔ ۔ ۔

    اُدھر آنٹی لورا لینے کے لیے اتنی بے چین تھی کے انہوں نے خود ہی پیچھے کی طرف دھکا لگایا اور میرا لورا اپنی چوت میں لے لیا اور بولی۔ ۔ ۔ ۔
    شاہ جی اگرمرد ہو تو پوری قوت سے لورا میرے اندر باہر کروں۔ ۔ ۔ ۔

    مجھے اِس بات سے اتنا جوش آیا کے میں نے آؤ دیکھا نا تاو۔ ۔ ۔ ۔
    بس فل سپیڈ میں دھکے مارنے شروع کر دیئے۔ ۔ ۔ ۔

    پہلا دھکا تو اتنا سخت تھا کے وہ آگے گر گئی اور فوراً اٹھ کر بولی۔ ۔ ۔ ۔
    شاباش۔ ۔ ۔
    میری جان۔ ۔ ۔
    یہ ہوئی نہ مردوں والی بات اور پِھر مجھے نہیں یاد کے آنٹی نے اِس کے بَعْد بھی مجھ سے کچھ کہا کے نہیں
    میں تو پاگلوں کی طرح دھکے پر دھکہ مار رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔
    اور کمرا ہم دونوں کی سیکسی آوازوں کے ساتھ ساتھ دھاپ دھاپ کی بھی دِل فریب آواز سے گھونج رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    پتہ نہیں کتنی دیر میں نے خالہ کو ایسے ہی چودتا رہا اور انہوں نے بھی پیچھے دھکے کتنے لگائے۔ ۔ ۔ ۔
    کچھ یاد نہیں۔ ۔ ۔ ۔
    پِھر ایسا لگا کے میرے جسم کا سارا خون تیزی سے ایک جگہ جمع ہونے لگا۔ ۔ ۔ ۔
    سو میں سمجھ گیا کہ میں چھوٹنے لگا ہوں سو میں نے اپنے دھکوں کی رفتار برھا دی۔ ۔ ۔ ۔
    ادھر خالہ کا بھی برا حال تھا۔ ۔ ۔
    وہ بھی مجھے مسلسل ہالہ شیری دے رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    پھر میں نے محسوس کیا کے لورے سے کچھ نکل رہا ہے آپ کو معلوم ہے سب سے زیادہ مزہ لن سے منی نکلتے وقت ہی آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔

    سو میں نے آخری جھٹکا مارا جو کچھ زیادہ ہی زور کا تھا جس کی وجہ سے آنٹی اوندھے منه گر گئی اور میں ان کے اوپر ہے لیٹ گیا اور۔ ۔ ۔ ۔

    پھر میں خالہ کی گرم چوت میں ڈسچارج ہوتا گیا ہوتا گیا۔ ۔ ۔ ہوتا گیا !!!!

    کچھ دیر بَعْد جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کے آنٹی اوندھے منه لیٹی ہیں اور میں ان کے اُوپر پڑا ہوں اور میرا لورا ابھی تک آدھ کھڑے سا ان کی چوٹ میں پھنسہ ہواہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    خاص کر میرا موٹا سا ٹوپا ان کی چوت میں اٹکا ہوا ہے اور
    میری سانسیں ابھی تک چڑھی ہوئی تھی۔ ۔ ۔ ۔

    تھوڑی دیر بَعْد جب میرے سانسیں کچھ بحال ہوئی۔ ۔ ۔ ۔

    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔
    Last edited by Admin; 06-09-2019 at 04:45 PM.

  11. The Following 3 Users Say Thank You to حیدر رضا110 For This Useful Post:

    abkhan_70 (13-09-2019), Lovelymale (04-09-2019), omar69in (09-09-2019)

  12. #9
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    294
    Thanks Thanks Given 
    309
    Thanks Thanks Received 
    261
    Thanked in
    141 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    koi staff member font size edit krde

  13. #10
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    11
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    جی معزرت خواہ ہوں اگلی بار آپ کو تکلیف کو نوقع نہیں ملے گا

  14. The Following User Says Thank You to حیدر رضا110 For This Useful Post:

    omar69in (09-09-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •