اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 26

Thread: امی اور میں

  1. #1
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default امی اور میں

    Story Name

    امی اور میں

    Story Writer Name

    ayezashah

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    شیری ! شیری! اب جاو بیٹا دیر ہو رہی ہے

    میں کمرے میں لیٹا بہت فٹ قسم کی مووی دیکھ رہا تھا جب باہر سے امی کی آواز آیی۔ صبح سے وہ کہہ رہی تھیں کہ بازار جانا ہے کچھ چیزیں لانی ہیں۔ ہم فیصل آباد کے قریب جڑانوالہ کے ایک قصبے میں دہتے تھے ایک مہینے بعدباجی کی شادی تھی اور جہیز کی تیاری میں لگے تھے آج ںھی کپڑے لینے فیصل آباد جانا تھامووی بہت سیکسی تھی بالکل دل نہیں تھا لیکن جانا تو تھا ہی۔

    “اچھا امی آتا ہوں ایک منٹ ” میں نے اونچی آواز میں کہا اور اٹھ کر کپڑے بدل کر باہر آ گیا امی ساتھ والے کمرے میں سٹول پر بیٹھے آئینے کے سامنے بال بنا رہی تھیں ہمیشہ کی طرح میں نے امی کا بھرپور جایزہ لیا قمیض بہت تنگ تھی امی کے بڑے بڑے تھن جسم سے بالکل الگ تنے کھڑے تھے۔ چالیس سے اوپر عمر میں بھی اس طرح کی اکڑ مموں میں کم کم ہی ہوتی ہے امی کی کی خمدار گانڈ سٹول سے باہر نکلی ہوئی تھی گول گپے کی طرح اور مست لگ رہی تھی۔ میرے ٹراوزر میں ہلچل شروع ہو رہی تھی اس لئیے بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا

    “امی میں رکشہ لے کر آتا ہوں آپ باہر آ جائیں۔ ” اور دل میں کہا باہر کھڑے حرامیوں کو نظارے بھی دیں

    میں اور امی ساتھ ساتھ بیٹھ کر بلکہ پھنس کر رکشے میں سوار ہو گئے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا مجھے خوب مزہ آتا تھا امی کو شاید اندازہ تھا کہ میں جان بوجھ کر کچھ زیادہ ہی ساتھ لگ کر بیٹھتا ہوں لیکن وہ کبھی کچھ بولیں نہیں تھیں۔ اڈے پہ پہنچے بس نکل رہی تھی فوراً دوڈ کر سوار ہوا کنڈکٹر کو امی کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ایک سواری اور بھی ہے کنڈکٹر نے تیز تیز چلتی امی پر غور کرنے کے بعد اپنا ہتھیار کھجایا اور پھر چلایا “استا جی روکے”

    “جگہ نہیں ہے یہاں اپنے ساتھ کھڑا کرنا پڑے گا ” وہ پھر بولا۔

    میں کھڑا کر لوں گا میں نے کہا اور ایک بار پھر زہن میں مطلب دوسرا آیا۔ کاش کسی دن میں واقعی امی کے سامنے کھڑا کر کے جا سکتا ان کے جسم پر ننگے جسم پر اپنا لن رگڑ سکتا ٹروازر میں للی نے زبردست انگڑائی لی تو خیال ٹوٹا امی بس میں آ چکی تھیں وہ سیٹوں کی طرف دیکھ رہی تھیں مگر سیٹیں تو فل تھیں

    “جگہ نہیں ہے کیا” امی نےپریشان ہو کر مجھ سے پوچھا

    نہیں امی توڑا سا تو سفر ہے اپ ادھر کونے میں آ جائیں میں نے ایک طرف ہو کر امی کو جگہ دی اور وہ میرے آ گے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ بس چل پڑی۔ بس میں کافی رش تھا سب مسافر پھنسے کھڑے تھے اور امی میرے آ گے پھنسی کھڑی تھیں

    میری ہائٹ امی سے زیادہ تھی لیکن اس وقت نہ جانے کیسے میں اور امی بڑی آئیڈیل پوزیشن میں تھے پتہ نہیں میرا لن نیچے لگا ہوا تھا یا امی کی گانڈ اونچی تھی دونوں ایک دوسرے کے بالکل آگے پیچھے تھے پہلی دو تین بار امی کے نرم چوتڑ میرے سے ٹکرائے تو للی سوئی ہوئی تھی پیٹ پر امی کی گانڈ کا نازک دباو محسوس ہوا جس سے ٹراوزر کے اندر للی لن میں بدلنے لگی۔ جوں جوں سخت ہوا امی کی بنڈ نے واضح طور پر یہ محسوس کیا امی کسمسا کر ادھ ادھر ہوئیں چوتڑوں کو سکیڑا کہ شاید لن ایک سایڈ پہ ہو جائے لیکن میری خوش بختی کہ جگہ ہی نہیں تھی۔ لن چوتڑوں کی درمیانی لیکر کے عین اوپر تھا۔

  4. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    ایک ایک جھٹکے سے چوتڑوں کے اندر اترتا اور باہر اتا میرا لن مزید سخت ہو گیا امی کی بے چینی واضح تھی لیکن وہ کہاں جا سکتی تھیں امی نے ایک دفعہ پھر دونوں چوتڑوں کو سکیڑا لیکن اس بار لن پتھر کی طرح سخت تھا وہ نرم چوتروں کے بالکل درمیان بھینچ گیا مزے کی ایک شدید لہر میرے پورے بدن میں سرایت کر گئی یہ امی کی آ خری کوشش تھی امی نے گانڈ ڈھیلی چھوڑ دی وہ بار بار ارد گرد دیکھ رہی تھیں شاید پریشان تھیں کہ کوئی دیکھ نہ لے

    بنڈ ڈھیلی ہوتے ہی میں شیر ہو گیا- بس اتنے جھٹکے نہیں کھا رہی تھی لیکن میں لن کو خوب امی کی گانڈ میں رگڑ رہا تھا امی کی طرف سے اب مکمل آزادی تھی میں پوری محنت سے گانڈ کے مورے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور کبھی کبھی کامیاب بھی ہوتا تھا۔ امی کی گانڈ کی گہرائی قابل رشک تھی کاش یہ کپڑوں کی دیوار نہ ہوتی کاش میں اندر ہی ڈال سکتا


    بس اچانک آہستہ ہوئی تو امی کی گانڈ کا دباو میرے لن پر مزید بڑھ گیا پھر رک گئی اب جھٹکے ممکن نہیں تھے میں اور امی اس حالت میں کھڑے تھے کہ میرا تقریباً پورا لن ان کے چوتڑوں کے درمیان پھنسا ہوا اور ٹوپی شاید سوراخ کے عین اوپر تھی اس وقت امی تھوڑی سی آگے سرک سکتی تھیں لیکن انہوں نے کوئی حرکت نہیں کی۔


    بس پھر چل پڑی امی کی بنڈ مزید پیچھے آئی اور میں نے واضح طور پر امی کی بنڈ کی کھڑکی کے خلا کو اپنی ٹوپی پر محسوس کیا۔ میری للی سے نکلا پانی جو منی سےبپہلے آتا ہے اس سے شاید امی کی شلوار گیلا ہو چکا تھا اس لئیے فیلنگ بڑھ چکی تھی اسی وقت امی نے ایک بار پھر چوتڑوں کو سکیڑ کر لن کو پھنسا لیا میری مزے سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی


    امی نے پھر بنڈ ڈھیلی چھوڑی اور اگلے ہی لمحے انہوں نے پھر چوتڑوں کو سکیڑ کر لن کو پھنسا لیا۔ اف امی یہ جان بوجھ کے کر رہیں تھیں یعنی انجوائے کر رہی تھیں پھر امی نے وقفے وقفے سے میرے لن کو اسی طرح دبانا شروع کر دیا میری پیاری امی اپنی گانڈ سے مجھے بھرپور مزہ دے رہی تھیں میں بالکل فارغ ہونے کے قریب تھا


    بس کریں میرا ہو جائے گا پلیز میں نے سر جھکا کر امی کے کان کے قریب سرگوشی کی


    لیکن بنڈ پھیلتی سکڑتی رہی امی شاید بہت مزے میں آ گئی تھیں رک نہیں رہیں تھی میں نے دوبارہ کہنے کیلئے سر جھکایا لیکن اسی وقت امی نے ایک بار پھر لن کو پھنسا کر زرا سی بنڈ ہلائی تو میرا پرنالہ بہہ نکلا میرے حلق سے نکلتی لزت کی چیخ میں نے بڑی مشکل سے روکی

  6. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  7. #4
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    بس سے اتر کر پھر رکشے میں بیٹھے امی کے رویے پر میں بہت خوش تھا انہوں نے زرا بھی احساس نہیں ہونے دیا بالکل نارمل تھیں بازار میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا جیسا یہاں ہمیشہ ہوتا ہے امی میرے پیچھے چل رہیں تھیں
    “شیری ادھر” اچانک امی نے پکارا میں مڑا تو امی کی شاندار بنڈ ساتھ ہی ایک دکان کی طرف مٹکتی جا رہی تھی میں بھی پیچھے ہو لیا
    امی کو دکاندار نے سٹول پیش کیا جبکہ میں پیچھے کھڑا ہو گیا۔ امی کپڑے دیکھنے لگیں میں کچھ اور سوچ رہا تھا بہت بار فلموں میں دیکھا تھا سٹول کے نیچے سوراخ ہوتا تھا ہیروئن اپنی بنڈ سوراخ کے اوپر رکھ دیتی اور نیچے سے کوئی چاٹتا تھا یا ٹھوکتا تھا۔ اگر امی کا اسٹول اسی طرح کا ہوتا اور ٹھوکو میں ہوتا تو کیا بات تھی میرا لن بھی اس سوچ پر جھوم کر امی کی کمر سے سر ٹکرانے لگا۔
    امی کمر پر لگتے ہتھوڑے سے سے بے پروا وہاں بیٹھی رہیں ایک دو بار میرا بھی مشورہ لیا جو میں نے ہوں ہاں کر کے بتا دیا میرا دھیان امی کے کپڑوں پر زیادہ تھا میرا بس چلتا تو یہیں امی کے کپڑے اتارتا اور خوب جی بھر کر چودتا۔ امی اچانک اٹھیں اور ان کی گانڈ میری ٹوپی کو رگڑتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔ وہ کچھ دیر میرے سامنے کھڑی رہیں پتہ نہیں لن رگھڑوانا چاہتی تھیں یا میرے کھڑے لن کو لوگوں کی نظروں سے بچانے کی کوشش تھی۔لن ایک سمجھدار جانور ہے حالات محسوس کرتے ہی بیٹھنا شروع ہو گیا۔ امی مجھے پیسے دینے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے سے ہٹ کر باہر کی طرف چل پڑیں۔
    بس میں امی کے کمالات اور دکان کے واقعے کے بعد یہ طے تھا کہ اب مجھے امی کی طرف سے پوری اجازت تھی اسی لئےبھیڑ میں امی کے پیچھےچلتے ہوئے میں نے پھر موقع دیکھ کر نرم چوتڑوں کو دو تین گھسے لگا دئیے امی یقیناً ٹھیک ٹھاک مزہ لے رہی تھیں لیکن محسوس نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں۔
    اگلی منزل ایک ریڈی میڈ گارمنٹس سپر سٹور تھا۔ اس میں ہینگرز اور ریکس میں کپڑے سجے تھے ہم چل پھر کر دیکھتے رہے سٹور میں کافی پردے والی جگہیں بھی تھیں جہاں سے آپ باقی لوگوں کی نظروں سے چھپ جاتے تھے ایک ایسی ہی جگہ امی اچانک رک گئیں اور ہنگروں سے کپڑے اتار کر دیکھنے لگیں میں نے قریب ہو کر امی کے کندھے کے اوپر سے دیکھ کر سوٹ کی طرف اشارہ کیا
    یہ والا اچھا ہے ناں
    میرا لن پھر امی کی بنڈ کو چوم رہا تھا
    “ہاں لگ تو رہا ہے مجھے بھی” امی نے کہا میرا واقعی لگ رہا تھا اور امی کی اس بات سے مزید حوصلہ ملا میں نے پہلی بار لن کو پکڑ کر امی کی گانڈ کے صحیح مقام پر فٹ کیا ہاتھ بھی امی کے گداز گوشت سے ٹکرایا لیکن امی بھولی بنی رہی۔ میں نے خوب زور سے لن کو امی کی گانڈ میں دبایا امی تھوڑی سی ہلیں لیکن کچھ کہے بنا ہینگر کے سٹینڈ کو گما کر دوسرا جوڑا دیکھنے لگیں میرا لوڑا جتنا سخت ہو رہا تھا امی کی بنڈ مزید نرم ہوتی جا رہی تھی گھسوں میں بھی شدت آتی جا رہی تھی لن آسانی سے گانڈ کی موری سے ٹکرا رہا تھا کپڑوں کے اوپر سے ہی جیسے اندر گھسنے والا ہو۔
    ماں اپنی ممتا سے مجبور بیٹے کی خواہش چپ چاپ اور مزے سہ رہی تھی کئی بار میرا جی چاہا کہ ٹراوزر اتارکر لن امی کو ننگا کر کے ڈال ہی دوں لن اتنا سخت ہو گیا تھا کہ درد کرنے لگا کاش امی بس کی طرح بنڈ کو پچکا کر لن پھنسا لیتیں لیکن وہ ویسے ہی کھڑی تھیں میں بہت گرم ہوا تو اپنے دونوں ہاتھ امی کے چوتڑوں پر رکھ کر ان کو دبایا تا کہ اسی طرح اندر پھنس جائے۔ لیکن امی فوراً آگے چل پڑیں لن امی کی نازک گانڈ سے محروم ہو گیا
    امی زیادہ دور نہیں گئی دو قدم لے کر اگے ایک ریک کے پاس پھر رک گئیں۔ مجھ پر وحشت سوار تھی میں بھی آگے بڑہا اور لوڑے کو پھر گانڈ کی نرم گرم وادی میں رگڑنے لگا امی بنڈ سکیڑ نہیں رہی تھیں میں نے پھر امی کی بنڈ کو دونوں سائڈوں سےدبا کر لن اندر پھنسانا چاہا لیکن وہ بس والی بات نہیں بنی
    “امی بس کی طرح کریں ناں پلیز ” میں نے مجبور ہو کر کہا لیکن امی نے کوئی حرکت نہ کی کپڑے دیکھتی رہیں میرا جی چاہا کہ امی کی گانڈ پھاڑ دوں “
    پلیزایک بار” میں رونے والا ہو رہا تھا مگر امی نے پھر بھی بنڈ نہیں سکیڑی تنگ ا کر میں نے گھسوں کی بجائے لن پکڑا اور گانڈ کے اندر اوپر نیچے پھیرنے لگا میری ٹوپی کئی بار امی کی پھدی سے بھی ٹکرائی اسی وقت جب رگڑائی تیز تھی امی نےاچانک جھک کر نیچے والے ریک سے ایک سوٹ اٹھایا جھکتے ہی چوتڑ ایک دوسرے سے تھوڑا دور ہوئے اور لن کو امی کی گانڈ کے سوراخ میں تقریباً پھنس سا گیا۔ مزے کی اس وادی میں میرا انگ انگ تپ اٹھا سوٹ اٹھا کر امی سیدھی ہوئی تو لن مکمل طور پر موم کی گانڈ کے شکنجے میں آ گیا۔
    اب امی کی بنڈ کی گرفت بس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور کہیں زیادہ لزت اندوز تھی
    امی وہ دوسرا سوٹ بھی اچھا ہے میں نے بڑی مشکل سے آواز نکالی
    امی دوبارہ جھکی تو میرا لوڑا چوتڑوں سے نکلنےہی والاتھا کہ امی پھر سیدھی ہو گئیں اور بنڈ نے ایک بار پھر لن کو اپنی ریشمی پکڑ میں کس لیا۔ اب لن کی ہمت جواب دے چکی تھی اتنی نازک اتنی گرم اتنی گہری گانڈ میں پھنس کر لن ایک بار پھر بہہ نکلا۔

  8. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  9. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    میں اور امی اس دن کئی دکانوں اور سٹالز پر گئے بہت بار شرارتیں ہوئیں امی نے بھرپور انجوائے بھی کرایا اور اپنا وقار بھی قائم رکھا منہ سے ایک بار بھی نہیں بولیں شام کو واپسی پہ میں گدھے کی طرح لدا ہوا تھا بس میں سوار ہوتے ہوئے خواہش تھی کہ کاش پھر سیٹ نہ ملے مگر مل گئی۔۔ نو بجے گھر پہنچ گئے۔

    امی باجی کو کپڑے دکھانے لگیں اور میں اپنے کمرے میں دن بھر کی باتیں یاد کرکے للی کو مسلتا رہا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ امی نے اتنا کچھ کرنے دیا اور کہا بھی کچھ نہیں یہ سکون ضرود تھا کہ اب امی کی چدائی کا خواب حقیقت ضرور بنے گا میں لن کو مسل رہا تھا کہ امی کمرے میں آ گئیں میرا کھانا لائی تھیں ٹراوزر کا ابھار صاف تھا مگر امی نے مکمل نظر انداز کیا اور کھانا پلنگ پر رکھ کر کہا “

    کھا لو اور برتن کچن میں لے آنا آج تو بہت برتن ہیں دھونے والے”

    “ٹھیک ہے امی”

    ہممم کچن میں گھسوں کا بھی موقع مل سکتا ہے شاید اسی لئے امی نے بلایا ہو جلدی جلدی کھانا ختم کیا اور کچن میں پہنچ گیا مگر باجی کو برتن دھوتا دیکھ کر سارا جذبہ ٹھنڈا پڑ گیا خواہش تو مجھ میں باجی کو چودنے کی بھی بہت تھی لیکن کبھی ہمت نہیں پڑی تھی۔

    باجی مجھ سے تین سال بڑی تھیں ان کا جسم بھرا بھرا تھا ممے اور بنڈ بھی مناسب تھی نہ بہت بڑی نہ چھوٹی۔ باجی کی خاص بات ان کی بے شرم لا پرواہی تھی زرا خیال نہیں کرتی تھیں کہ میں اب جوان تھا اور ان کی مست اداؤں سے گرم ہو جاتا تھا باجی کی گانڈ میں نے ہر پوز میں دیکھی تھی بیٹھے ہوئے لیٹے ہوئے کھڑے ہوئے۔ بنڈ میں قمیض پھنسی ہو تو باجی نے کبھی نکالنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ کھلے گلے کے کپڑے پہنتی تھیں ممے ڈھلکتے پھرتےتھے بوبز کی لکیر کا آغاز تو ہمیشہ صاف نظر آتا تھا میرے دل سے ہوکیں اٹھتی رہتی تھیں مگر باجی اپنے جسم کے ساتھ مست تھیں ان کو کیا پرواہ. باجی کے نام کتنی ہی بار مٹھ مار چکا تھا

    سفیدقمیض کے نیچے باجی کی کمر پر بندھا بریزئراس وقت بھی نظر آ رہا تھا ایک مہینے بعد باجی کو کوئی اجنبی لے جانے والا تھا جو اس خوبصورت جوان جسم کو روز چودے گا یہ خیال آتے ہی میرا لن کھڑا ہو نا شروع ہوگیا

    برتن دھونے ہیں باجی نے اچانک مڑ کر کہا

    “ن نن نہیں تو” میں گڑبڑا گیا

    تو پھر کیوں کھڑے ہو باجی نے پوچھا

    میں اب سنبھل چکا تھا “ویسے ہی سوچ رہا تھا کہ تم کچھ دن بعد چلی جاو گی ” دلہا بھائی تمہیں چودا کرے گا یہ آخری جملہ دل میں ہی رہ گیا

    “اچھا جی آج تو بڑا پیار جتایا جا رہا ہے” باجی میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں

    میں مسکرا دیا مگر کہا کچھ نہیں. دل سے پھر آواز ائی تو پیار کرنے دو ناں

    اگلے ہی لمحے باجی نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا “ ہمیشہ کیلئے تھوڑی جانا ہے آیا کروں گی ناں ” باجی کے ممے میرے سینے کو گرم کر رہے تھے میں نے باجی کو بازوں میں بھینچ لیا مزہ ہی آ گیا باجی نے الگ ہو کر میرا ماتھا چوما اور بولی “جاو اب سو جاو ابھی مہینہ ادھر ہی ہوں"۔

    اپنے کمرے میں میں کافی دیر سوچتا رہا کہ یہ پیار والی کہانی اگر آگے بڑھا لوں تو شادی سے پہلے باجی کو چدائی کی اچھی طرح ریہرسل کروا سکتا ہوں

    صبح اٹھا تو باہر کافی شور تھا قہقہے اور ہنسی کی آوازیں تھیں لگتا تھا گھر میں کافی رونق تھی خالہ رابعہ اور سعدیہ بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں شا دی سے پہلے خاندان والے تحائف لے کر اس طرح آتے ہی ہیں خالاوں سے ملا خالہ رابعہ امی سےبڑی تھیں ان کی ایک ہی بیٹی تھی جو باجی کی عمر کی تھی شادی شدہ جبکہ خالہ سعدیہ سب سے چھوٹی تھیں ان کے تین بچے تھے وہی ادھر ادھر دوڈ بھاگ میں شور کر رہے تھے خالہ رابعہ فیصل آباد ہی میں جبکہ خالہ سعدیہ لاہور میں رہتی تھیں مجھے ان کے آنے کی خاص خوشی تھی خاندان میں سب سے سیکسی عورت تھیں ہر وقت زو معنی چھیڑ چھاڑ کی شوقین تھیں میری عمر کے لڑکوں سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی میری بھی دوست تھیں۔ ان کی عمر کوئی پینتیس کے قریب ہوگی بڑے بڑے سڈول ممے اور آئیڈیل سائز کی تھوڑی سی پیچھے کو نکلی ہوئی ہپس ،وہ ہمیشہ بھڑکیلے کپڑے پہنتی تھیں

    کچھ دیر خالاوں سے گپ شپ میں پتہ چلا کہ بڑی خالہ تو شام کو واپس چلی جائیں گی خالہ سعدیہ دو دن اتوار تک رکیں گی۔ امی کی ساتھ چھیڑ چھاڑ باجی کی جھپی کے بعد یہ تیسری خوشخبری تھی خالہ چھوٹی موٹی مستی شوق سے کرواتی تھیں۔ سنا تھا کہ چدائی بھی کراتی ہیں دو دن میں شاید میری بھی قسمت جاگ جائے

    جمہ پڑھ کر واپس آیا تو امی اور خالائیں برآمدے میں ہی گپ شپ کر رہی تھیں خالہ سعدیہ اپنی ایک سائیڈ پہ لیٹی ہوئی تھیں بنڈ سے قمیض تھوڑی سی ہٹی ہوئی تھی اور چوتڑوں میں پھنسی شلوار نے دل میں ہلچل مچا دی گانڈ سے تھوڑی اوپران کے پہلو کی گوری جلد کی ایک جھلک بھی نمایاں تھی

    ربیعہ اب کی بھی بات پکی کر دے خالہ رابعہ نے مجھے دیکھ کر کہا

    ہاں ہاں بے چارے نے کوئی قصور تو نہیں کیا کب تک پھراو گی اسے خالی خالہ سعدیہ بھی چہکی

    ارے میں تو آج ہی کر دوں مگر کوئی کام وام تو کرے امی نے ملبہ مجھ پر ہی ڈال دیا

    “کام وام کیوں نہیں کرتا تو شیری” خالہ سعدیہ مسکرا کر بولیں “آج کل تو نوجوانوں کیلئے بڑے مواقع ہیں”

    ہاں ہاں ٹھیک کہتی ہے سعدیہ خالہ رابعہ ان کا مطلب سمجھے بغیر بولیں

    “جی خالہ ڈھونڈھ رہا ہوں مل جائے گی کوئی نہ کوئی” میں نے بھی خالہ سعدیہ کی طرح زو معنی جواب دیا

    نوکری شروع کرو تو پھر میں بھی ڈھونڈوں گی لڑکی تیرے لئے “خالہ سعدیہ نے فوراً جواب دیا” اب کام کے بغیر لڑکی بے چاری کیا رہے گی تیرے ساتھ لیکن تو اپنی پسند تو بتا پہلے”

    میں مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا

    اررر ے یہ شرماتا بھی ہے میں بھی پوچھ کر رہوں گی خالہ سعدیہ کی آواز آئی۔

    جسکی آپ جیسی بڑی سی گانڈ ہو ممے ہاتھ میں پورے نہ آسکیں اور ہر وقت چدوانے کے موڈ میں ہو ۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں خالہ کی بات کا جواب دے دیا

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  11. #6
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    رات کھانے کے بعد میں باجی اور خالہ سعدیہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے بڑی خالہ جا چکی تھیں امی ابھی کچن میں مصروف تھیں میں خالہ کے سرہانے کی طرف بیٹھا تھاخالہ جان بوجھ کر ایسے پوز میں لیٹیں تھیں کہ ان کا انگ انگ نمایاں تھا ممے کافی گہرائی تک مجھے نظر آ رہے تھے گانڈ ان کی ویسے ہی نکلی ہوئی تھی لیکن اس وقت کچھ زیادہ ہی پیچھے نکالی ہو ئی تھی
    باجی خالہ کے سامنے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے پیر خالہ کی طرف کئے بیٹھی تھیں میری طرف سائیڈ تھی سینے سے ابھرے ہوئے دونوں خربوزے کاٹ کر کھانے کی دعوت دے رہے تھے ان کی ایک ٹانگ سیدھی اور دوسری موڑ کر پیر زمین پہ رکھا ہوا تھا اور گھٹنا اٹھا ہوا تھا تنگ ٹراؤزر میں ان کی بنڈ کی قوس سائیڈ سے بالکل صحیح نظر آتی تھی زرا غور کرنے سے ٹانگوں میں پھنسی پھدی کا ہلکا سا ابھار بھی نظر آتا تھا۔

    شیری ! خالہ نے گردن اوپر میری طرف موڑی ان کے بوبز مزید سامنے آئے" تو نے بتایا نہیں کیسی لڑکی ڈھونڈھیں تیرے لئے"

    خالہ نے اپنا ایک ہتھ گانڈ کی سائڈ کے اوپر رکھا ہوا تھا سوال کرتے ہوئے وہ اسے اپنے چوتڑوں کے درمیان لے کر گئیں اور انگلیاں اندر اتار کر باہر نکالیں باجی کیونکہ سامنے تھی وہ خالہ کی کمر کے پیچھے یہ حرکت نہ دیکھ سکی لیکن مجھے صاف نظر آئی اور آگ لگا گئئ

    بے اختیار میرے منہ سے نکلا" آپ جیسی"

    خالہ کھلکھلا کر ہنس پڑی جبکہ باجی نے بڑے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی اور بولیں

    شرم کر شیری خالہ ہیں

    نہیں وہ میرا مطلب تھا ۔۔۔ مجھے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا

    میرے جیسی زندہ دل خالہ نے خود میری مدد کی

    جی بالکل بالکل میں نے تائید کی

    پکی بات ہے ناں تیرا یہی مطلب تھا خالہ نے پھر شرارت کی اوراپنی بنڈ کو پھر ایک بار سہلایا ٹراوزر میں میری سوئی ہوئی للی نے تھوڑی سی حرکت کی۔ خالہ کی بات کا میں نے جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑا ہوا

    پھر بھاگ کر جا رہا ہے میں تو پوچھ کر ہی جاوں گی خالہ معاف نہیں کر رہی تھیں میں باہر ایا تو امی دروازے کے سامنے ہی کھڑی تھیں شاید وہ کچن سے اسی وقت آئی تھیں امی کے پاس سے گزرا تو جی چاہا کہ ان کو کہیں مموں یا گانڈ پر ہاتھ لگاوں لیکن جھجھک گیا اور امی اندر چلی گئیں۔ میں اپنے کمرے میں آ کر مووی لگا کر بیٹھ گیا۔ لیکن جو مووی خالہ نے اپنی گانڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے دکھائی تھی وہ مزہ کہاں۔۔

    میرا ہاتھ خود بخود میرے لن پر چلا گیا خالہ کی گانڈ کا تصور ہی ایسا تھااور پھر میرے سامنے جب خالہ نے اپنا ہاتھ چوتڑوں میں دںایا تھا تو وہ بالکل فوم کی طرح دھنس گیا تھا خالہ کی کتنی نرم تھی اور بڑی بڑی اس پہ ہاتھ پھرنے میں کتنا مزا آئے گا خالہ بنڈ چٹواتی بھی ہو شاید جس طرح کل امی کی بس میں کپڑوں کے اوپر سے چدائی کی تھی کاش اسی طرح خالہ میرے آگے کبھی پھنسے تو اور بھی مزہ آئے خالہ کی بنڈ تو امی سے بہت جوان اور بہت گرم ہو گی

    میرا ہاتھ میرے لن پر تیزی سے پھرنا شروع ہو گیا میں نے خیال میں خالہ کے مموں چوسے ان کے اوپر اور درمیان میں لن پھیرتا رہا خالہ کی گانڈ پہ چکیاں کاٹیں لن گول گول بڑے چوتڑوں کے اندر رگڑا پھر خالہ کی ٹانگیں اٹھا کر گھوڑی بنا کر الٹی لٹا کر خیالی پھدی ماری خالہ کے ہونٹوں پر اور منہ کے اندر لوڑا ڈالا سوچ کر ہی اتنا مزہ آ رہا تھا ہاتھ لن پر اور تیزی سے چلنا شروع ہو گیا آخر میں میں نے خالہ کی گانڈ میں لن ڈال دیا خالہ بہت خوش ہوئی لن خالہ کی بنڈ میں جانے کے خیال سے مزید سخت ہوا اور چند ہی لمحوں میں گرم گرم پانی میرے ہاتھ پہ بہنے لگا آج کی مٹھ نے بہت مزہ دیا میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ خالہ کی واپسی سے پہلے ان کی گانڈ ضرور ماروں گا

  12. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019), MamonaKhan (28-06-2019)

  13. #7
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    صبح کرکٹ کا میچ کھیل کر تقریباً دس بجے گھر پہنچا امی بازار گئی ہوئی تھیں پڑوس کی صغریٰ خالہ کے ساتھ امی نے مجھے نہیں کہا تھا شاید اس دن کی چھیڑ چھاڑ سے پریشان ہو گئیں تھیں گھر میں خالہ اور باجی ہی تھیں خالہ کے بچے باہر کھیل رہے تھے میں باجی کے کمرے کے باہر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اندر خالہ اور باجی باتیں کر رہی تھیں
    فائزہ تمہیں شادی کا کچھ پتہ بھی ہے ناں خالہ کی آواز آئی
    جی خالہ پتہ ہے سب اب بچی تو نہیں میں باجی ہنس کر بولی
    ناں بچو آج کل کے لڑکے بالکل حرامی ہیں بیوی کو پوری گشتی بناتے ہیں آگے پیچھے اوپر ہر جگہ ڈالتے ہیں خالہ نے مزے لے کر کہا
    اوپر کہاں ؟ کیا ڈالتے ہیں خالہ باجی بھی موڈ میں لگ رہی تھی
    اچھا ۔۔۔ بڑا دل کرتا ہے تیرا سننے کا میں کہاں رہنے والی ہوں سناوں گی پوچھ کیا پوچھنا ہے خالہ نے جتایا
    شاید انہیں میرے آنے کا پتہ نہیں چلا تھا اسی لئے انتہائی سیکسی باتیں جاری رکھیں۔ خیر خالہ کو پتہ چل بھی جاتا تو وہ جان بوجھ کر بھی کرتیں۔
    تو بتائیں ناں باجی نے زور سے کہا اوپر کہاں کیا ڈالتے ہیں
    لن ڈالتے ہیں لن بڑے بڑے موٹے تازے سخت لن خالہ اور باجی دونوں کھی کھی کر کے ہنس رہی تھیں
    منہ میں بھی ڈالتے ہیں باجی نے پھر مزہ لیا
    اری آج کل تو ڈالتے ہی منہ میں ہیں خالہ نے خوب خوشی سے کہا پھدی تو صرف رات کو لیتے ہیں اور وہ بھی چسوائے بغیر نہیں لیتے
    تو رات کے علاوہ بھی ڈالتے ہیں منہ میں باجی حیران ہوئی
    تو اور کیا خالہ نے کہا بھئی جب جی چاہے نظر بچا کر للی نکالی اور منہ میں ڈالدی نوید تو شادی کے شروع میں دن میں بھی مجھ سے دو تین بار چسوا لیتا تھا۔۔اکثر کچن میں۔
    کوئی دیکھ لیتا تو باجی نے پوچھا
    پگلی اس میں ننگا تو ہو نا نہیں پڑتا کوئی نہیں دیکھتا اور دیکھ بھی لے تو شوہر کا لن ہے بھائی کا تو نہیں چوس رہی تھی خالہ کھلکھلائی لن ہوتا ہی اتنا مزیدار ہے تو چوسے گی تو تجھے بھی ڈر ختم ہو جائے گا
    خالہ کتنی گندی ہو بھائی کا کون چوستا ہے شرم کرو کچھ" باجی چلائی
    چوستی ہیں چوسنے والیاں خالہ نے ہار نہیں مانی"۔ ایک بھائی کیا بھانجوں بھتیجوں دیوروں سب کے چوستی ہیں اور گانڈ بھی مرواتی ہیں
    باہر میرا عجیب حال ہو رہا تھا۔ خالہ تجربہ کار گشتی تھی اس نے یقیناَ مجھے آتے ہوئے دیکھ لیا ہو گا اسی لئے ساتھ ساتھ مجھے بھی گرم کر رہی تھی لن میرا سخت ہو چکا تھا لیکن باتیں چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتا تھا
    خالہ سنا ہے بہت بڑا ہو تو بہت درد ہوتا ہے باجی نے بات بدل دی
    لڑکی بڑے کا درد تو صرف پہلی دو تین رات ہوتا ہے پھر مزہ ہی مزہ۔ اصل درد تو چھوٹے کا ہوتا ہے ساری عمر نہیں جاتا خالہ اداس ہو گئی دعا کر احسن کا بڑا ہو نوید کی اتی سی للی ہے شروع میں مزہ دیتی تھی اب تو۔۔۔ خالہ ٹھنڈی سانس بھر کے چپ ہو گئی۔
    اسی لئے اپ سب لڑکوں کے ساتھ ۔۔۔۔ خالہ ایک بات پوچھوں باجی کے سوال سے لگتا تھا ان کو بھی معلوم تھا کہ خالہ چدکڑ ہے مجھے پوری امید تھی کہ یہ اسی طرح باتیں کرتی رہیں تو ابھی پتہ چل جائے گا کہ باجی بھی ایک نمبر کی گانڈو ہے
    پوچھو خالہ نے کہا
    تم نے شیری کے ساتھ بھی کیا ہے کام باجی کا سوال میرے لن کو ہلا دینے والا تھا
    ارررے تو تو بڑی تیز نکلی بھائی پہ دل ہی دل میں ٹھرک چپکیلی ٹھرکی لڑکی شاوا بھئ شاوا۔۔۔۔۔خالہ زور زور سے ہنس رہی تھی
    خالہ تم بہت وہ ہو میں تو بس ویسے ہی پوچھ بیٹھی باجی زچ ہو گئی تھی
    ارے بھئی اس کے ساتھ کیا کرے کوئی۔ اتنا تو دبو ہے پلیٹ میں رکھ کر کوئی پھدی دے گی تو لے گا۔ خود سے ہمت نہیں ہے ۔ تیرا بھائی ہے دور دور سے ترسا رہتا ہے تیری طرح
    مجھے تو چانس ہی نہیں ملا کبھی باجی نے حسرت سے کہا
    شادی بیاہ پر سب کنواریاں لوڑے لے لے نہیں تھکتیں ایک تجھے ہی موقع نہیں ملا خالہ نے طنز سے کہا اچھا خیر اب تو چند ہی دن کی بات ہے۔ صبح شام بے دھڑک احسن کے لن سے کھیلنا
    مجھ سے اور نہیں بیٹھا جا رہا تھا باجی کے متعلق لن سے کھیلنے کا تصور ہی بہت گرم تھا۔مٹھ فرض ہو چکی تھی میں چپکے سےاٹھ کر اپنے کمرے کے باتھ روم کی طرف چل پڑا
    ابھی دروازے میں داخل نہیں ہوا تھا کہ امی داخلی دروازے سے اندر آئیں شیری ادھر آ انہوں نے پکارا میں کھڑے لن کو ہلاتا امی کے پاس پہنچا انہوں نے غور سے میرے ٹرائوزر کی طرف دیکھا بہت ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر ابھیری اور غائب ہو گئی "باہر رکشے سے اتار لا انہوں نے میرے لن سے نظر ہٹا کر کہا۔ رکشے میں بہت سےبرتن تھے جو میں ایک ایک ڈبہ اٹھا کر اندر لا رہا تھا باجی اور خالہ بھی باہر آ چکی تھیں اور ڈبے کھول کر دیکھ رہی تھیں برتن لاتے ہوئے کئی بار میرے پیر نیچے بیٹھی خالہ کے چوتڑوں سے ٹکرائے ایک دو بار تو میں نے جان بوجھ کر ہی پیر ان کی گانڈ میں دبایا خالہ برتنوں کی زیادہ تعریف شاید اسی خوشی میں کر رہی تھیں


    سامان کے ڈبے لا کر رکھ دئیے تو میں بھی خالہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا پیروں پر ابھی بھی نرم گانڈ کی حرارت محسوس ہو رہی تھی دل چاہ رہا تھا کہ خالہ کو یہیں امی اور باجی کے سامنے ننگا کر کے گانڈ ماروں امی اور باجی بھی خوش ہوتیں لیکن۔۔افسوس یہ خواب ابھی پورا کرنا ممکن نہیں تھا

    کچھ دیر وہیں بیٹھے پھر امی نے باجی کو کھانے کیلئے کچن بھیج دیا خالہ بھی باجی کے ساتھ چلی گئیں میں اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پہ لیٹ گیا لنڈ ٹانگوں سے سر مار رہا تھا گھر میں تین تین گرم عورتیں موجود تھیں لیکن مجھے ٹھنڈا کرنے والی کوئی نہیں تھی۔۔ٹراوزر کے اوپر سے ہی لنڈ پکڑ کر ہلا رہا تھا اسی وقت دروازہ کھلا اور امی اندر آئیں دوپٹہ نہیں تھا تنگ کپڑوں میں گانڈ اور مموں کی گولائیاں لنڈ کو مزید سخت کر گیئں

    شیری میں تیرے واش روم میں نہا لوں ہمارے والے کا شاور خراب ہے کھانے کے بعد ٹھیک کروا دینا انہوں نے میرے لنڈ کی طرف بھر پور نظر ڈالی اب کوئی کام بھی جلدی ڈھونڈھ ہر وقت خود کو کھپاتا رہتا ہے انہوں نے بہت پیار سے کہا ابھی بھی دیکھ لنڈ کو رہی تھیں

    امی چوپا ہی لگا دو میں نے دل ہی دل میں کہا

    ]امی واش روم میں چلی گئیں۔ صرف ایک دروازے سے ادھر امی ننگی کھڑی تھیں کاش چودنے دیتی۔۔۔۔ لنڈ کی سختی سے مجبور ہو کر میں نے ٹروئزر نیچے کیا ہاتھ میں لیا اور امی کی خوبصورت گول گانڈ کے خیال میں مٹھ لگانے لگا

    شیری واش روم سے امی کی آواز آئی بیٹا تولیہ دیکھو بیڈ پہ رہ گیا ہے دیکھو دینا زرا

    جی پڑا ہے میں نے کہا یقیناً امی نے جان بوجھ کے رکھا ہوگا میں اسی طرح اٹھا لن فل کھڑا تھا تولیے کو لن پہ رگڑا اور واش روم کے دروازے پر پہنچ گیا
    یہ لیں امی

  14. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (25-06-2019)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    امی نے تھوڑا سا دروازہ کھولا ان کے ایک ممے کا نپل نظر آرہا تھا لنڈ اتنا اکڑ گیا تھا کہ میں سیدھا کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا مگر میں نے تو لیہ آگے نہیں کیا
    شیری امی کی آواز آئی مگر میں نے جواب نہیں دیا ایک دو لمحے بعد امی نےباہر جھانکا تولیہ اور میرا لنڈ ساتھ ساتھ ہی تھے امی نے اطمینان سے چند سیکنڈ میرے کھڑے ہوئے لنڈ کا جائزہ لیا اور پھر ایک سانس بھر کر میرے ہاتھ سے تولیہ لے کر دروازہ بند کر دیا میں وہیں کھڑے کھڑے زور سے مٹھ لگانے لگا اور ادھر ہی ریلیز ہو گیا منی کچھ ٹراوزر پر اور کچھ فرش پہ گر گئی میری آوازیں امی نے یقیناً اندر سنی ہوں گی لن تو کھڑا دیکھ ہی لیا تھا اب یقین تھا کہ اب امی کی چدائی کی منزل قریب تھی۔ باجی کی شادی تک تو شاید مشکل ہو لیکن اس کے بعد تو گھر میں صرف میں اور امی ہو ہر جانے تھے۔۔۔
    میں فرش پر ہی بیٹھ گیا تھا امی باہر آئیں تو مست لگ رہی تھیں گیلے بال بنڈ تک آ رہے تھے ممے پہلے سے زیادہ اکڑے ہوئے لگ رہے تھے
    بیٹا نہا کر آ جاؤ کھانا کھا لو اور کپڑے بدل لینا" امی نے ٹراوزر پر لگی منی دیکھ لی ہو گ
    جی اچھا میں نے کہا اور باہر جاتی امی کی گانڈ دیکھ کر مسکرا دیا۔ جلد یہ گانڈ میرے لنڈ کو ٹھنڈا کرنے والی تھی
    کھانے کے بعد پلمبر کو لے کر آیا تو امی باجی کے واش روم میں ایک برا لٹکا ہوا تھا جسے دیکھ کر پلمبر کی باچھیں کھل گئیں میں نے جلدی سے وہ اتارا اور لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا گھر کی گرم گشتوں کو زرا خیال نہیں آیا کہ اتار لیں پلمبر آ رہا ہے
    تم یہ کرو میں آتا ہوں میں پلمبر سے کہہ کر باہر نکلا اوراپنے کمرے میں جا کر برا کو الماری میں رکھ دیا باجی کے ممے تو چھوٹے تھے یہ امی یا خالہ کا ہو گا امی کا ہی ہو گا وہںہی آخر میں گرمی نکالنے کیلئے نہانے گئی تھیں ۔۔۔ پلمبر کے پاس پہنچا تو وہ شاور بدل رہا تھا جلد ہی وہ اپنا کام کر کے چلا گیا۔ میں نے برآمدے میں خالہ کو دیکھا تو فوراً کہہ دیا
    پلمبر کے آنے سے پہلے کپڑے تو اتار لینے تھے اتنا عجیب لگا مجھے
    “کونسے کس کے کپڑے کھڑے تھے مجھے کہتا اتار دیتی سارے کپڑے” خالہ اٹھلائی
    مزاق نہیں کر رہا خالہ یہ کوئی اچھا لگتا ہے
    آئیں میں دکھاتا ہوں میں انہیں کمرے میں لے گیا اور الماری کھول کر برا ان کے سامنے لہرایا
    یہ دیکھیں وہ پلمبر بھی ہنس رہا تھا بی غیرت
    خالہ زور سے ہنس دیں یہ تو نے الماری میں کیوں رکھا
    تو اور اس کے سامنے رکھ دیتا اپنی چیزیں سنبھال کر رکھا کریں
    “میرا پیارا بھانجا جو ہے میری چیزوں کی فکر کرنے والا ” خالہ اپنی عادت کے مطابق مست باتیں کر رہی تھیں۔۔اور تمہیں کیسے پتہ یہ میرا ہے انہون نے سوال داغا
    آپ کا ہی لگتا ہے سائز سے
    او ہو ہو لڑکے تو تو بڑا ہو گیا سائز ارے واہ بھئی سائز خالہ مزاق اڑاتے ہوئے بولیں لگتا تو مولوی ہے مگر نکلا شیطان
    خالہ پلیز یہ تو ۔۔۔ میں نے ابھی آدھی بات ہی کی تھی کہ خالہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پہ رکھ دیا
    لے سائز لے لے میرا اور پھر بتا
    خالہ کے مموں کا گداز میرے ہاتھوں کو پگھلا رہا تھا میں نے دو تین بار دبائے تو خالہ پیچھے ہٹ گئیں
    پھر ہنس کر میری طرف اشارہ کیا اور بولیں تیرے سائز کا بھی پتہ چل گیا مجھے پدا سا سائز وہ منہ چڑا کر دروازے کی طرف بڑھیں اور پھر مڑ کر بولیں
    ویسے وہ میرا نہیں ہے اور باہر نکل گئیں
    یہ سب خالہ نے اتنی جلدی میں کیا کہ میں حیران رہ گیا پانچ منٹ بعد مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ خالہ نے مجھے اپنے تھن پکڑائے نرم گرم موٹے موٹے ممے ۔۔آج کا دن بہت اچھا جا رہا تھا
    صبح باجی اور خالہ کی باتیں پھر خالہ کی گانڈ میں پاوں سے کھجلی پھر امی کو لن دکھایا اور اب خالہ نے ممے پکڑادئیے تھے۔ یہی سپیڈ رہی [تو رات تک باجی کی پھدی بھی مار سکتا تھا میں۔۔یا کم سے کم لنڈ تو تینوں میں سے کوئی چوس ہی لیتی

    اپنے ہی گھر میں ماں بہن خالہ کو چودنے کی خواہش ایک بات ہے لیکن اس پر عمل بہت مشکل ہے۔ امی اور خالہ چدنے کو تیار تو تھیں لیکن باجی کی موجودگی اور پھر وہ ایک دوسرے کے سامنے بھی تو شریف بنی ہوئی تھیں آسان نہیں تھا لیکن کوئی طریقہ تو نکالنا ہی تھا اس لئے میرے زہن میں نسرین آ گئی نسرین باجی کی دوست تھی پڑوسن خالہ کلثوم کی بیٹی ۔۔ بہت گرم اور چدائی کی شوقین تھی گانڈ مروانا اور لن چوسنا اسے بہت پسند تھا محلے میں بہت سے لڑکے اسے چود چکے تھے میں نے بھی اس کی بنڈ ایک دو بار ماری تھی لنڈ تو بہت دفع چسایا تھا وہ اس معاملے میں مدد کر سکتی تھی میں نے اسے ایس ایم ایس کر کے بتا دیا کہ رات کو چھت پہ آ جانا
    رات کھانے کے بعد جب امی وغیرہ اپنے کمرے میں سونے گئیں تو میں کچھ دیر بعد چھت پہ آ گیا نسرین پہلے ہی موجود تھی خالہ کلثوم کواس کے کرتوتوں کا سارا پتہ تھا اس لئے وہ ڈرتی بالکل نہیں تھی میں اپنی چھت کی دیوار پھلانگ کر اس کی چھت پہ پہنچ گیا وہ لگتا ہے ترسی پڑی تھی فوراً گلے لگ کر چومنے لگ گئی میں نے بھی اسے کئی بار چوما اس کے ممے دبائے اور بنڈ پہ بھی ہاتھ پھیرتا رہا دو منٹ بعد وہ نیچے بیٹھ گئی اور میرا ٹراوزر کھنچ کر لن نکال لیا۔ نسرین کو لنڈ چوسنا بہت پسند تھا اس لئے وہ ماہر بھی ہو گئی تھی
    پہلے پکڑ کر ہلاتی رہی مٹھ لگانے کی طرح لنڈ پر ہاتھ پھیرتی رہی میں اس کے سر کو پکڑ کر کھڑا تھا دو تین بار ہاتھ سے لنڈ کو ہلا کر جب فل ٹایئٹ کر لیا تو اس نے ٹوپی پر زبان پھیرنا شروع کر دی وہ بڑے مزے سے آ ہستہ آہستہ ہر طرف سے زبان پھیرتی رہی ٹوپی پہ ناچتی ہوئی گیلی نرم زبان کے مزے سے میں پاگل ہوتا رہا ٹوپی کے بعد اس نے لنڈ اوپر اٹھا کر نیچے سے زبان پھیری پھر اوپر سے اورپھر ٹوپی پر پہنچ گئی پورے لنڈ کو زبان پھیر پھیر کر گیلا کرنے کے بعد اس نے منہ کھولا اور آدھا لنڈ اندر لے گئی لنڈ کو منہ کی گرمی اور زبان کی تری نے سرور کی حدوں تک پہنچا دیا میں مزے سے ہلکی ہلکی کراہیں لے رہا تھا چھت پہ نہ ہوتا تو اونچی آواز میں کراہتا
    وہ خود بھی بہت محنت سے چوس رہی تھی لیکن مزے سے مجبور ہو کر میں نے خود بھی اسے سر سے پکڑ کر آ گے پیچھے کرنا شروع کردیا تھا کافی دیر یہ لطف اندوز چوسائی جاری رہی وہ اتنے زور سے چوس رہی تھی کہ لنڈ میں ہلکا ہلکا سا درد ہونے لگا اور میں فارغ بھی ہو نے کے قریب تھا میں نے اس بتایا تو وہ فوراً لن چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور چھتوں کی درمیانی دیوار کا سہارا لے کر منہ دوسری طرف کر لیا میں نے اسے کی قمیض اوپر کر کے اسے ہی پکڑا دی شلوار نیچے کر کے اس کی گول گانڈ نکال لی۔
    ہاتھ پر تھوک لگا کر اس کی بنڈ میں اوپر نیچے پھیر کر کریک کو گیلا کیا اور اندر انگلی کرنے لگا۔ جلد ہی انگلی رواں ہو گئی جس کا مطلب تھا کہ گانڈ لنڈ کیلئے تیار ہو چکی ہے میں نے دوبارہ ہاتھ پر تھوک لگا کر لن کی ٹوپی کو گیلا کیا اور لنڈ کو ایک بار نسرین کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑ کر سوراخ پہ فٹ کر دیا آہستہ سے دھکا دیا تو لنڈ اندر چلا گیا نسرین کی گانڈ اتنے لنڈ لیتی تھی اب پھدی جیسی بن چکی تھی میں آہستہ آہستہ لنڈ آگے کرتا رہا اور
    آ خر اس کے چوتڑ میرے پیٹ سے لگ گئے لن پورا اندر جا چکا تھا بے حد مزہ آ رہا تھا
    گانڈ مارنے کا آدھا مزہ چوتڑوں کی نرمی اور آدھا بنڈ کی گرمی سے ملتا ہے نسرین کی نرم بھی تھی اور گرم بھی میں نے لنڈ پیچھے کھینچ کر دوبارہ آگے زور لگایا اس بار پہلے سے تیزی سے لنڈ پھسلتا ہو گیا اور چوتڑ زور سے پیٹ پر لگے لطف آ گیا میں نے نسرین کی گردن پر چوما اور زور زور سے جھٹکے لگانے لگا نسرین پوری ہل رہی تھی لنڈ اندر پھسلتا نکلتا رہا اور لزت سے ہم دونوں ہلکی ہلکی کراہیں لیتے رہے جلد ہی میں ریلیز ہونے کے قریب تھا گانڈ مارنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ریلیز ہونے کا ڈر نہیں ہوتا اندر ہو جائیں یا باہر ۔ نسرین کو اندر ہی پسند تھا اسی لئے میں جھٹکے مارتا رہا اور اس کی بنڈ کے اندر ہی منی چھوڑ دی

  16. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (26-06-2019)

  17. #9
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    لن باہر نکالا تو تھوڑی سی منی بھی بنڈ کے سوراخ سے نکلی جو میں نے ہاتھ رگڑ کر صاف کر دی۔۔لنڈ پر بھی منی لگی تھی لیکن اس پر نسرین کا حق تھا وہ شلوار اوپر کرکے باندھ کر مڑی اور میرا لنڈ جو اب چھوٹی سی للی بنا ہوا تھا اپنی شلوار سے صاف کر کے نیچے بیٹھی اور پھر منہ میں لے لیا ایک دو چوپے لگا کر اس نے پھر لنڈ شلوار سے صاف کر کے میرا ٹراوزر اوپر کر دیا پھر میں وہیں بیٹھ گیا اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ نسرین بہت خوش تھی شاید آج میں نے اس کی گانڈ صحیح ماری تھی۔[/color]
    [/color]کچھ دیر ہم ایک دوسرے کے ساتھ خاموش بیٹھے رہے پھر وہ بولی تم نے میسج میں لکھا تھا ایک اور کام بھی ہے[/color]

    [/color]ہاں ہے تو سہی میں نے کہا خالہ کی لینی ہے اور تمہاری مدد چاہئے تم سے اس کی اچھی ہے وہ مجھے دکھاتی رہتی ہے باتیں بھی اشارے بھی کرتی ہے مگر میں اسے کیسے کہوں ؟؟ سمجھ نہیں آ رہی[/color][/size]
    [/color]ہاہا نسرین ہنس دی میں سمجھی واقعی کوئی کام ہے[/color][/size]
    [/color]کیا مطلب؟؟ میں حیران ہوا[/color][/size]
    [/color]ارے بابا اس کی پھدی کو روز لن چاہئیے ادھر آتی ہے تو مجھ سے رابطے میں رہتی ہے جمعے کی صبح مجھے کہا تھا جس دن آئی تھی۔ اسی چھت پہ راشد نے اس کو ٹھنڈا کیا میرے سامنے[/color][/size]
    [/color]کل کا پھر اس کا پروگرام ہے کل تم کو بلا لوں گی مار لینا اس کی گانڈ[/color][/size]
    [/color]نسرین نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا میں خوشی سے جھوم اٹھا[/color]!![/size]
    [/color]نسرین کی چدائی کے بعد اپنے کمرے میں پہنچا تو سرشار تھا نسرین نے پہلے بنڈ مروا کر مزہ دیا اور پھر خالہ تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ بھی بتا دیاتھا اب صرف کل رات تک انتظار کرنا تھا اور میری پیاری خالہ جان اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ میرے سامنے ہوتی۔ ننگی خالہ کو دیکھنے سے لے کر چودنے تک کا تصوراتی منظر ایک لمحے میں آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ میں بہت خوشی خوشی سو گیا خواب میں بھی ہر طرف خالہ کی گانڈ مٹکتی رہی[/color][/size]
    [/color]صبح اٹھا تو ناشتے کے دوران ہی خالہ کا ایک بار پھر بھرپور جائزہ لیا بھرے بھرے کولہے وسیع گولائیں بڑی بڑی متناسب اٹھی ہوئی چھاتیاں گورا رنگ۔ خالہ مکمل تباہی تھی۔ ایک خدشہ بھی میرے زہن میں تھا کہ پتہ نہیں نسرین خالہ کو بتائے گی کہ آج رات ٹھکائی کرنے والا کوئی غیر نہیں اس کا سگا پیارا بھانجا ہو گا۔ناشتے کے بعد ٹائم ملتے ہی نسرین سے کنفرم کرنا تھا کہیں خالہ منع ہی نہ کر دے۔ لیکن ایک امید بھی تھی کہ کل رات میری کارکردگی سے نسرین بالکل مطمئن اور خوش تھی وہ ضرور خالہ کو منا لے گی[/color][/size]
    [/color]شیری بیٹا آج جا کر شادی ہال کی بکنگ کرا اتنا کم وقت رہ گیا ہے پتہ نہیں کہیں وقت ہی نہ دیں ۔ناشتے کے بعد امی میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئیں[/color][/size]
    [/color]باجی ۔۔ابھی تک ہال بھی بک نہیں کرایا یہ تو سب سے اہم کام ہے اچھے ہال تو چھ چھ مہینے ایڈوانس میں بکنگ لے لیتے ہیں[/color][/size]
    [/color]خالہ نے آنکھیں پھیلا کرحیرانی سے پوچھا[/color][/size]
    [/color]اسی طرح رات کو تیری آنکھیں پھٹیں گی جب پورا گانڈ میں ڈالوں گا خالہ میں نے دل میں سوچا اور بولا[/color][/size]
    [/color]امی بتایا تو تھا آپ کو میرے دوست شاہد کا ایک قریبی عزیز ہے رواج ہال والا اسے میں نے کہا ہوا ہے تاریخیں بھی بتا رکھی ہیں۔اگر آپ کہتی ہیں تو آج جا کے کنفرم کروا لوں گا[/color][/size]
    [/color]کروا لوں گا والے کروا لوں گا ہی کرتے رہتے ہیں خالہ پھر بیچ میں بولی جا شیری فوراً کروا کے آ خالہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر کر غائب ہو گئی۔ ایک بار پھر زو معنی بات کی تھی[/color][/size]
    [/color]جی خالہ آج ضرور لوں گا میں نے بھی خالہ کو ان کی زبان میں جواب دیا انہوں نے آنکھیں ہلا کر میرے لن اور اپنی پھدی کی طرف اس انداز سے اشارہ کیا کہ مزہ ہی آ گیا جی چاہا لنڈ نکال کر ابھی ڈال دوں لیکن ابھی رات میں بہت وقت تھا[/color][/size]
    [/color]ہال کی بکنگ کرا کر کوئی چار بجے کے قریب لوٹا۔ رات خالہ کیلئے ایک چھوٹا سا تحفہ بھی خریدا نسرین سے بات ر لی تھی اس نے کہا “فکر نہ کرو خالہ کچھ نہیں کیں گی۔ ان کو صرف لنڈ سے غرض ہے کس کے ساتھ لگا ہوا ہے اس بات سے فرق نہیں پڑتا[/color]”[/size]
    [/color]میں مطمئن ہو کر گھر پہنچا امی کو بتایا کہ ہال بک ہو گیا ہے[/color][/size]
    [/color]ڈن ہے ناں پھر خالہ پھر آگئی مجھے لگا وہ رات کا پوچھ رہی ہے[/color][/size]
    [/color]جی خالہ ڈن ہے میں نے کہا تو وہ ہنس کر بولیں شاباش بیٹھ میں چائے لے آؤ ں تیرے لئیے[/color][/size]
    [/color]خالہ کے چائے لانے گئیں تو باجی بھی ساتھ آئیں اور مجھے چائے دے کے آگے دونو ں موڑھوں پہ بیٹھ گئیں میں حیرت سے دیکھتا رہا موڑھے چھوٹے تھے اور دونوں کی گانڈیں موڑھیں سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔۔۔حیرت مجھے باجی پر ہو رئی تھی کہ ان کی بنڈ کب اتنی بڑی ہوگئی۔۔۔ چائے کے سپ لیتے ہوئے میں دونوں کے صحت مند چوتڑوں سے آنکھیں سینکتا رہا۔۔ وہ آپس میں کوئی کھسر پھسر کرتی رہیں۔۔۔چائے پی کر میں وہیں بیٹھا رہتا اور دیکھتا رہتا لیکن اچھا نہ لگتا کہ کیوں بیٹھا ہے سو اٹھ کر باہر آ گیا اور شمس کے گھر کی طرف چلدیا لیکن تصورمیں خالہ کی اور باجی کی گانڈ پھر رہی تھیں۔۔اسی لمحے اچانک خیال ایا کہ رات خالہ کی کامیاب چدائی کر لوں تو خالہ کے زریعے باجی کی کنواری بنڈ سے کھیلنے کا موقع بھی ہاتھ آ سکتا ہے ۔۔یہ سوچتے ہی میرا لن ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا جو ایک بھائی کی بہن سے محبت کا ثبوت تھی۔۔اب انتہائی ضروری ہو گیا کہ خالہ کی چدائی اتنی جم کر کی جائے کہ وہ شیری کے لن کی غلام بن جائے[/color][/size]
    [/color]شام تک باہر رہا رات کے خیال سے ہر لمحہ دل کی دھڑکن تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ گھر پہنچا تو شام کی ازانیں ہو چکی تھیں خالہ باجی اندر ٹی وی دیکھ رہی تھیں امی کچن میں تھیں میں اپنے کمرے میں جانے لگا تو۔۔۔۔ امی نے کھا نے کا پوچھا لیکن میں نے منع کر دیا آج ابھی باہر برگر کھا لئے موڈ نہیں ہے۔۔۔جھوٹ بولا اب امی کو کیسے کہتا کہ خالہ کی چدائی کے خیال نے نیند اڑا دی کمرے میں جا کر نسرین کو پھر میسج کیا کہ خالہ سے کنفرم کرو۔۔۔ میری پھدی نہیںں ہے کیا خالہ کی پھدی میں کونسے ہیرے جواہر لگے ہیں ۔۔۔نسرین نے جل کر یہ میسج کیا یار پلیز سمجھا کرو ۔۔دونوں کی ماروں گا ۔۔۔لیکن خالہ والی خواہش پرانی ہے ناں اس لئے اور پھر وہ خالہ ہے ناں۔۔۔۔ پلیز میں نے نسرین کو میسج میں منتیں کیں۔۔۔۔ نسرین کا جواب کافی دیر سے آیا گشتی خالہ ہے تیری کہتی ہے اسے کہو ساتھ دو چار اور بھی لائے ایک چھوہارے سے کیا ہو گا خالہ یہ چھوارا آج تیری ایسے پھاڑے گا کہ یاد رکھے گی تو ۔۔میں نے دل ہی دل میں کہا اور سوچنے لگا کہ خالہ کی مارنی کس سٹائل میں ہے
    ]رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے امی میرے پاس آئیں انہوں نے اپنی شال اوڑھی ہوئی تھی ۔۔۔۔بیٹا شیری میں جا رہی ہوں شیخ صاحب کاپوتا ہوا ے صبح تو وقت نہیں ملتا ابھی ہو آتی ہوں کہیں جانا نہیں اور وہ چلی گئیں۔۔۔شاید خالہ نے یہ چال چلی ہو گی۔۔۔ٹھیک ہے امی ۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں خوش تھا اب امید ہے امی ایک ڈیڑھ گھنٹہ ادھر ہی ہوں گی اور میں اس دوران خالہ اور نسرین کے ساتھ ہائےےےے کیا اچھا لگے گا۔۔۔مگر باجی کا کیا ہو گا وہ تو جاگ رہی ہو گی کاش امی اسے بھی لے جاتی تو چھت پر کھڑے ہو کر نہیں سکون سے بیڈ پر ہی چدائی کرتے خالہ کی۔۔۔ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ نسرین کا میسج آ گیا۔۔۔تمہاری امی آ گئی میں اور امی ان کے ساتھ جارہے ہیں اور خالہ نے بھی منع کر دیا ہے کہتی ہے شیری کے ساتھ نہیں کرنا میں مستی میں غلط کر گئی تھی
    [/SIZE]

  18. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Admin (01-09-2019), jerryshah (26-06-2019)

  19. #10
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    917
    Thanks Thanks Given 
    162
    Thanks Thanks Received 
    1,209
    Thanked in
    635 Posts
    Rep Power
    102

    Default


    [/color]یہ میسج پڑھتے ہی ارمان ہوا ہو گئے اتنا ظلم خالہ کی ماں کی پھدی۔۔۔۔ بہت گالیاں دیں میں نے ۔۔امی کو بھی آج ہی شیخ سے بنڈ مرانی تھی گشتیاں سب
    [/color]جی چاہا دیوار میں سر دے ماروں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اسی وقت دروازہ کھلا اور خالہ اندر آئی۔۔۔۔بھین چود گشتی اب پھر باتوں کے مزے لے گی
    [/color]خالہ اندر آ کر مجھے بیڈ کے پاس کھڑی ہو گئ مجھے گھورتی رہی ۔۔غصے میں لگ رہی تھی۔۔۔تو نے نسرین سے کیا کہا بے شرم۔۔۔خالہ کےسوال سے میرا سارا غصہ ایک دم بیٹھ گیا اور خوف آ گیا۔۔۔کیا خالہ کے بارے ساری چاتیں جھوٹ تھیں اور وہ صرف باتوں کے مزے لینے والی عورت تھی۔۔۔۔ میرے دل میں عجیب سے خیالات ا رہے تھے۔۔۔۔ کیا کہا میں نے میری تو اس سے کوئی بات ہی نہیں ہے۔۔۔میں صاف مکر گیا خالہ کی پھدی مارنی ہے؟ بے غیرت اور جھوٹ بھی بول رہا ہے عمر دیکھ اور کرتوت دیکھ ۔۔۔۔خالہ نے بالکل صاف ننگے لفظوں میں ساری بات ایک دم کہہ دی میں خوف اور حیرت سے صرف گھگیا کر بہت ڈھیلی آواز میں کہہ سکا خالہ بکتی ہے وہ حرامنڑ۔۔۔ اچھا تو میری بنڈ میں برتن رکھتے ہوئے پیر بھی اس نے جھوٹ موٹ دلوائے ہوں گے۔۔۔خالہ ایک بار پھر غرائی۔۔۔۔تیرا لن مجھے دیکھ کر کھڑا بھی وہی کرتی ہو گی۔۔۔ہیں ناں۔۔۔خالہ نے مجھے بالکل ننگا کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔لن جو خالہ کے آنے سے پہلے کھڑا تھا ٹٹوں سے بھی نیچے دب چکا ہو گا۔۔۔ خالہ باجی سن لے گی پلیز میں نے نہیں۔۔۔ میں آگے کچھ نہیں کہہ پایا باجی ماں خالہ رشتوں کی قدر ہے تجھے۔۔۔خالہ نے اسی تیکھے لہجے میں سوال کیا ۔۔۔۔ توتو کمینہ تو سگی ماں کو بسوں میں گھسے مارنے والا ہے۔۔یا وہ بھی نسرین نے پکڑ کر باجی کے چوتڑوں میں دیا تھا؟؟ خالہ نے دو منٹ میں مجھے مکمل چود کر رکھ دیا تھا میں روہانسا ہو گیا ۔۔۔کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔۔سچ کا جواب ہو بھی کیا[/color]
    [/color]خالہ کی چڑہائی کے بعد سب ارمان دم توڑ چکے تھے میں شرمندہ سا پڑا تھا کہ اچانک خالہ آگے بڑھیں اور ٹراؤزر کے اوپر سے میراسویا ہوا لن پکڑ لیا۔۔۔اتنی سی للی ہے اور چودنا سادے خاندان کو چاہتا ہے ۔۔۔۔خالہ زور سے ہنسی اور میں ایک بار پھر حیران رہ گیا۔۔۔یہ کتنی بڑی گشتی تھی خالہ بھی۔۔۔ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خالہ نے ایک دم ٹراؤزر کھینچ کر لن باہر نکال کے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔۔مزے کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑی اور عجیب سا سکون ملا ۔۔۔۔میری [/color]Qمرادوں کا دن آ پہنچا تھا میرا ادھا کھڑا لن خالہ کے ہاتھ میں تھا۔۔۔چدائی اب چند لمحوں کی دوری پر تھی
    [/color]خالہ نے لن کو پیار سے تھام کر تھوڑا سا کھینچا ٹوپی کو دبایا اور پھر اپنے گرم ہونٹوں سے لن کو چوما ۔۔۔میں بالکل پر سکون ہو چکا تھا۔۔۔لیکن چت پڑا تھا خالہ کے ممے جھکے ہونے کی وجہ سے میرے پیٹ پر بڑا مزیدار دباؤ دے رہے تھے[/color]

    [/color]خالہ نے دو چار چمیوں کے بعد مڑ کر دیکھا اور غصے سے بولی ہاتھ نہیں ہیں تیرے؟ ۔۔۔اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔تو کپڑے اتار دے میں آتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔ میں نے فوراً اٹھ کر ٹراؤزر شرٹ اتار کر نیچے ہی پھینک دی۔۔۔لن اب سیدھا کھڑا تھا ٹوپی پر خالہ کا لعاب اور مزی کی نمی موجود تھی[/color]
    [/color]میں نے کمرے میں دو چار ننگے چکر لگائے کنڈی لگا کر تو پہلے بھی لگا چکا تھا لیکن آج کنڈی نہیں لگی تھی بلکہ دروازہ بھی تھوڑا سا کھلا تھا۔۔۔ اور خالہ بھی آ نے والی تھی۔۔۔۔دو تین منٹ بعد خالہ آ گئی۔۔۔یہ ہوئی ناں بات۔۔خالہ مسکراتے ہوئے چلائی۔۔۔شیری تو تو کافی بڑا ہو گیا ہے انہوں نے لن کو پکڑ کر تعریفی انداز میں کہا اور پھر زمین پر بیٹھ کر چوپا لگانے لگ گئی۔۔۔ چوپے تو میرے نسرین نے بھی لگائے تھے لیکن خالہ کا تجربہ اور کارکردگی کا اندازہ ٹوپی منہ میں جاتے ہی ہو گیا تھا۔۔۔خالہ کی زبان اور ہونٹ لن کو اتنی راحت دے رہے تھے کہ میری بنڈ پھٹ رہی تھی مزے سے ۔۔۔ خالہ پورا لن منہ میں لے جا رہی تھی پھر نکال کر زبان لن کے اوپر نیچے پھیرتی اور پھر منہ میں لے لیتی تھی ہر وقت بولنے والی خالہ کی زبان بند تھی بھوکی نگاہوں سے لن پر ٹوٹی ہوئی تھی اور میرا مستی سے برا حال ہو رہا تھا جی چاہتا خالہ کے منہ کے اندر دل تک لن اتار دوں۔۔۔دو تین منٹ بعد مجھے لن کے اندر منی نکلنے کے قریب محسوس ہوئی۔۔۔اور اسی وقت خالہ نے لن منہ سے نکال کر کہا گانڈو ہلنے لگ گیا ہے ابھی سے ۔۔۔ ابھی لیک ہوا تو ٹٹے دبا کر ہیجڑا بنا دوں گی۔۔۔۔نہیں ہوتا پھدی کی خالہ۔۔۔میں نے بھی سختی سے کہا تو خالہ ہنس دی ۔۔۔اور اٹھ کھڑی ہوئی
    [/color]خالہ نے میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے ایک بھرپور فرینچ کس کی اور پھر عجیب مست ہو کر بولی اور دے ناں گالیاں اپنی پھدی کی خالہ کو۔۔۔۔اس کے لہجے کے نشے سے میں پاگل ہو گیا اور ایک دم خالہ کے بڑے بڑے تھن پکڑ کر دبا دئیے خالہ ابھی تک کپڑوں میں تھی اور میں بالکل ننگا۔۔۔میں نے خالہ کو مموں سے پکڑ کر قریب کھینچا اور پھر گلے لگا کر اس کی گانڈ کے چیر میں ہاتھ دے دیا۔۔۔۔بھین چود کپڑے تو اتار خالہ۔۔۔۔۔میں نے اس کی شلوار کو نیچے دباتے ہوئے کہا۔۔۔خالہ الاسٹک والی شلوار پہنے ہوئے تھی فوراً اتر گئی اور میرے ہاتھ میں روئی کے گالوں جیسے نرم چکنے چوتڑوں پر پھرنے لگے۔۔۔پھر خالہ نے قمیض اور انڈر وئیرز اتار کر خود کو بالکل ننگا کر دیا ۔۔۔۔ سنی لیون جیسی خالہ کو دیکھ کر لن ہوا میں جھٹکے مارنے لگا شاید سلام کر رہا تھا۔۔۔خالہ کا بدن بہت خوبصورت تھا گورا بھرا بھرا بڑے ممے جو ابھی بھی تنے ہوئے تھے لٹکے نہیں تھے۔۔۔اور افففف اتنی پیاری پھدی ۔۔۔۔میں سمجھتا تھا خالہ کا بڑا سا گھسا ہوا پھدا ہو گا ۔۔مگر یہ تو بالکل نئی سی چھوٹی لیکن ابھری ہوئی پھدی تھی جیسے ہلکی سی سوجی ہوئی ہو۔۔۔۔[/color]
    [/color]میں حیرت سے پھدی کو دیکھ رہا تھا کہ خالہ اچانک مڑ کر دروازے کی طرف چل پڑی ۔۔۔پیچھے بڑی سی گوتی مٹکتی گاند کا نظارا بھی پھدی کی ہی طرح دل فریب تھا لن کا تناؤ مزید بڑھ گیا۔۔۔۔خالہ دروازے کے پاس گئی آدھی دروازے کے اندر آدھی باہر اور بولی آجا شرما مت پھر خالہ واپس مڑی تو اس کے ہاتھ میں کچھ تھا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ باجی کو کھینچ کر اندر لے آئی۔۔۔۔میں نے ایک دم اپنے ہاتھوں سے لن چھپا لیا۔۔۔۔اور خالہ نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔ارے بے چاری کو جو چیز دکھانے لائی ہوں وہ تو تم نے چھپا لی۔۔۔باجی ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کر رہی تھی لیکن زور نہیں لگا رہی تھی۔۔خالہ نے اسے زبردستی صوفے پر بٹھا دیا ۔۔۔۔۔ تو بس یہاں بیٹھ تیری پھدی کوئی نہیں مارے گا ۔۔۔۔تو صرف کام سیکھ آج ۔۔۔۔۔۔اور اپنی امی کے آنے کا دھیان کرنا یہ نہ ہو کہ ہم پکڑے جائیں
    [/color]خالہ ۔۔۔یہ کیا ۔۔باج۔۔۔ی میں حیرت سے بول نہیں پا رہا تھا۔۔۔باجی کو چھپ کے دیکھنا ایک بات تھی لیکن اس طرح اس کے سامنے اچانک مادر زاد ننگا۔۔لوڑے کو اکڑا کر کھڑا ہو نا الگ بات تھی میں ذہنی طور پہ تیار نہیں تھا اس کیلئے شیری میری جان۔۔۔۔خالہ نے پہلی بار رسان سے کچھ بولا تھا۔۔۔۔خالہ کے منہ میں دے سکتے ہو امی کے چوتڑوں پہ رگڑ سکتے ہو تو ۔۔۔۔وہ میرے قریب آ گئی تھیں اور اپنے ہاتھوں سے میرے بازو پکڑ لئے تھے۔۔۔۔۔تو باجی کو دکھا بھی سکتے ہو۔۔۔۔چند دن بعد اس نے دیکھ لینا ہے اور ساری عمر دیکھنا ہے

  20. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    jerryshah (26-06-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •