اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Page 1 of 14 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 133

Thread: یاسر۔۔۔وہ۔۔۔۔ اور میں ۔۔!!!!!۔

  1. #1
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default یاسر۔۔۔وہ۔۔۔۔ اور میں ۔۔!!!!!۔

    یاسر۔۔۔وہ۔۔۔۔ اور میں ۔۔!!!!!۔


    ہیلو دوستو۔۔۔ کیسے ہیں آپ ۔۔۔ دوستو یہ تو طے ہے کہ یہاں کسی کو کبھی بھی حسبِ آرزو نہیں ملا کرتا ۔۔۔ بہت ہی لکی ہو گا وہ شخص۔۔۔ جس کو اس کی پسند کی چیز ملی ہو ۔۔۔ اور مل بھی جاۓ تو ۔۔ انسان کبھی بھی ۔۔ اس پر قانع نہیں ہوا۔۔۔ بلکہ ہل من مزید کے چکرمیں رہتا ہے۔۔۔ ویسے زیادہ تر تو بندے کو اس کی پسند کی چیز کم ہی ملی ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سلیم کوثر صاحب نے شاید اسی لیئے کہا ہے کہ میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ آپ کو تھوڑا بور کیا اس کے لیئے سوری۔۔ پر اس بات کا اس سٹوری سے تھوڑا بہت تعلق ضرور ہے ۔۔۔ کیا ہے یہ آپ کو سٹوری پڑھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔اور اگر نہ پتہ چلا تو ایک دفعہ پھر سوری۔۔۔

    یہ کالج کے دنوں کی بات ہے میں حسب معمول گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گاؤں گیا ۔۔۔۔ اور اس دفعہ کُھچ زیادہ ہی لیٹ ہو گیا ۔۔۔ وجہ ایک دو کیس تھے (کیس ہمارا کوڈ ورڈ تھا ۔۔۔ اس کا مطلب ہے ۔۔۔۔ لڑکی ) جو حل نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ پھر ہماری ثابت قدمی سے آخر کار دونوں کیس حل ہوۓ اور تب ۔۔ لوٹ کے بدھو گھر کو آۓ ۔۔۔۔ میں صبح صبح گاؤں سے چلا تو رات گئے ہی واپس گھر پہنچا ۔۔۔ سخت تھکا ہوا تھا ۔۔۔ کھانا شانا کھا کر بستر پر لیٹا ہی تھا کہ آنکھ لگ گئ اور پھر صبح ہی اُٹھا ۔۔۔۔


    سویرے جو آنکھ میری کُھلی تو میں بھاگ کر چھت پر گیا کہ ۔۔۔ زرا دیدار یار کر لوں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پاس والے چھت کی پوزیشن وہ نہ تھی جو ۔۔۔۔۔ میرے خیال میں ہونا چاہیئے تھی ۔۔ کپڑے دھو کر تار کی بجاۓ دیواروں پر پڑے ہوۓ تھے اور ان میں وہ ترتیب بھی نہ تھی جو میری سرکار کی ہوتی تھی ۔۔۔ اور دیدار یار والی چھت پر باقی چیزوں کا ڈیزائین بھی کافی چینج تھا ۔۔۔ کچھ گڑ بڑ تھی۔۔۔ سو حقیقت حال سے آگاہی کے لیئے میں نے اپنے دوست محلے دار اور کسی حد تک کلاس فیلو رفیق کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا کسی حد تک کلاس فیلو سے مُراد یہ ہے کہ ہم تھے تو ایک ہی کلاس میں ۔۔۔۔پر ۔۔۔۔۔ ہمارے سیکشن الگ الگ تھے ۔۔۔۔ ہاں تو میں سویرے سویرے( مطلب 10 بجے دن) فیکے کے گھر جا دھمکا ۔۔ گھنٹی کے جواب میں وہ ہی آیا ۔۔۔ مجے۔ دیکھ کر کھل اٹھا اور فوراً جھپی لگا کر بولا ۔۔۔۔۔۔ اتنے زیادہ دن کیوں لگا دیئے تم نے ؟؟ تو میں نے اس کو بولا ۔۔بس یار ایک دو کیس حل نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ اس لیئے ٹائم لگ گیا تو وہ بولا ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اچھا تو یہ بات ہے۔۔ پھر کہنے لگا ۔۔ تو کیس حل ہو گئے؟؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ ہاں یار کیس حل ہوۓ تھے ۔۔۔ تو آیا ہوں ناں ۔۔۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بولا ۔۔ہور سنا ؟ گاؤں میں سب امن شانتی تھی۔۔؟ تو میں نے کہا ۔۔ گاؤں کی بنڈ مار یار مجھے محلے کی خیر خبر دے ۔۔ کہ میرے بعد کیا کیا واقعات وقوع پزیر ہوۓ ۔۔۔


    میری بات سُن کر اس کے چہرے پر ایک شیطانی مُسکُراہٹ نمودار ہوئی اور وہ بولا محلے کی ماں کی کُس ۔۔ بہن چودا سیدھی طرح کیوں نہیں کہتا کہ قریشی صاحب لوگ ہیں کہ نہیں ؟؟ پھر بولا مجھے پتہ ہے تم سب سے پہلے چھت پر اس ماں کی تلاش میں گئے ہو گے اور جب وہ بے بے وہاں نہیں ملی ۔۔۔ تو مجھ سے پوچھنے چلے آۓ ہو۔۔۔ اس کی اتنی لمبی تقریر سُن کر میں زرا بھی بے مزہ نہ ہوا بلکہ اُلٹا دانت نکال کر بولا ۔۔۔ چل یار یونہی سمجھ لو ۔۔۔ پر بتاؤ کہ قریشی لوگ گئے ہیں ؟؟ اب کی بار وہ کچھ سیریس ہو کر بولا یار تم کو تو پتہ ہی ہے کہ قریشی صاحب ایک سرکاری ملازم تھے اور انہوں نے سرکاری کوارٹر کے لیئے اپلائی کیا ہوا تھا ۔۔۔ تو اُن کو سرکاری کوارٹر مل گیا ہے ۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ کہاں ملا ہے ؟ تو دوست راوی اس کے بارے میں بلکل خاموش ہے ۔ وہ جان بوجھ کر اپنا پتہ کسی کو بھی نہیں بتا کر گئے ہیں ۔۔۔ کیونکہ کسی کو انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں لال کوارٹر ز جی-7 اسلام آباد میں مکان ملا ہے اور کسی کو کہہ کر گئے ہیں کہ ان کو مکان جی نائین ٹو کراچی کمپنی (اسلام آباد) میں ملا ہے ۔۔۔ سالا سچی بات کسی کوبھی نہیں بتا کر گیا ۔۔۔ پھروہ میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ تو بیٹا اس بات کا لُب لباب یہ ہے کہ تو مُٹھ مار ۔۔ کہ قریشی صاحب کی بیٹی تو اب جانے کس کے نیچے پڑی ہو گی ۔۔۔ اس کی بات سن کر مجھے بڑا غصہ آیا اور بولا ۔۔ فکر نہ کر بیٹا شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے۔۔۔

    پھر میری نظر سامنے ملکوں کے گھر پر پڑی اور وہاں رنگ برنگی لڑیا ں دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا اور پوچھنے لگا یار یہ ملک صاحب کے ہاں لائیٹں کیوں لگی ہوئیں ہیں ؟؟؟ تو وہ بولا یار مودے کی شادی ہے اسی سلسلہ میں یہ لائیٹنگ وغیرہ لگی ہوئ ہیں ۔۔۔۔ تو میں نے اچھا ہے یار مودا بھی پھدی کا منہ دیکھ لے گا شریف آدمی آخر کب تک مُٹھ پر گزارا کرتا ۔۔۔۔۔

    اسی اثناء میں ہمارے پاس سے ایک پپو سا لڑکا اور ایک نیم پکی عمر کی خاتون گزری ۔۔۔ لڑکے نے شارٹ اور تنگ سی نیکر پہنی ہوئ تھی ۔۔ اور اس نیکر میں اس کی موٹی اور گوری تھائیز بڑا دلکش نظارہ پیش کر رہی تھیں ۔۔۔ اورخاص کر اس نیکر میں اس کی موٹی گانڈ پھنسی ہوئ بڑی سیکسی لگ رہی تھی۔۔ بلکل لڑکیوں جیسی گانڈ تھی اُس کی۔۔۔۔۔۔ جبکہ خاتون نے ہلکے پیلے رنگ کی سلیولیس ٹائیٹ فٹینگ قمیض پہنی ہوئ تھی اور نیچے کافی تنگ پاجامہ پہنا ہوا تھا ۔۔ ۔۔۔ قمیض اتنی ٹائیٹ تھی کہ اس میں سے اس کا ایک ایک انگ صاف دکھائ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہمارے پاس سے گزر کر جونہی ان کی پیٹھ ہماری طرف ہوئ تو میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور فیکے سے بولا ۔۔۔ ۔۔۔۔ واہ یار کیا بنڈیں ہیں۔۔۔۔ عورت کی تو جو ہے سو ہے پر یار سچ پوچھو تو عورت سے زیادہ لڑکے کی بنڈ بڑی ہی فٹ ہے ۔۔۔۔۔ اور لڑکا دیکھ یار کتنا۔۔ چکنا ۔۔۔ کتنا پپو ہے ۔۔۔۔ میری بات سُن کر وہ تھوڑا ریش ہوا اور بولا۔۔۔" بین یکا " (بہن چودا) ایک تو تیرا زہن بڑا ہی گندہ ہے۔۔۔۔۔ کسی کو تو بخش دیا کر گانڈو۔۔۔ ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے قدرے غصے سے کہا ۔۔۔۔۔ کیوں کیا یہ تیری ماں لگتی ہے جو اتنا تپا ہوا ہے ۔۔۔ تو وہ ایک دم سیریس ہو کر بولا ۔۔۔ ماں تو نہیں ہاں یہ میری آنٹی ہیں اور جو لڑکا ان کے ساتھ جا رہا تھا یہ ان کا بیٹا یاسر اورمیرا کزن ہے۔۔ پھر وہ گالی دے کر بولا اور یہ لوگ قریشی صاحب والے ہی گھر میں آۓ ہیں ۔۔۔۔ اب میں نے اس کو دیکھا اور بولا سوری یار ۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ تمھارے رشتے دار ہیں ۔۔۔۔

    تو وہ برا سا منہ بنا کر بولا ۔۔۔ یار ہر ٹائم ایک ہی موڈ میں نہ رہا کر بندہ " کوندہ" بھی دیکھ لیا کر ۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں تھوڑی دیر اور اس کے پاس بیٹھا لیکن اس کا خراب موڈ دیکھ کر گھر آ گیا۔۔۔۔ کچھ دیر گھر بیٹھا اور پھر دوستوں سے ملنے چلا گیا اس کے ساتھ ساتھ میں نے رفیق کے کے رشتے دار اور اپنے نۓ ہمسائیوں کے بارے میں معلُومات لینا شروع کر دیں تو پتہ چلا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 17-06-2019 at 12:46 PM.

  2. The Following 4 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    abkhan_70 (17-06-2019), alone_leo82 (25-06-2019), fahiim (19-06-2019), MamonaKhan (27-07-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    اس فیملی کے کُل 3 ممبر تھے ایک خاتون جس کا اصل نام شاید ہی کسی کو پتہ تھا پر سب کو یاسر کی امی کہتے تھے دوسرا یاسر جو اُس ٹائم آٹھویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جو غالباً تیسری یا چوتھی کلاس میں پڑھتی تھی یعنی کہ بہت چھوٹی تھی یاسر کا ابا سعودی عرب میں ہوتا تھا گھر کی دیکھ بھال کرنے کے لیئے کہنے کو تو یاسر کا تایا۔۔ ۔۔ یا اس کی دادی ان کے ساتھ رہتی تھی لیکن حقیقت میں وہ ان کے ساتھ کم ہی ہوتے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیئے فیکے کی فیملی تھی کہ یاسر کی امی۔۔۔۔ فیکے کی سب سے چھوٹی خالہ تھی میرے خیال میں اس کی عمر 34/35 سال ہو گی ۔۔۔ وہ بڑی فرینڈلی اور پُر کشش خاتون تھی اس کی آنکھوں میں ہر ٹائم ایک مستی سی چھائی رہتی تھی ۔۔۔ وہ کافی سمارٹ پر گانڈ غصب کی تھی ۔۔ ممے البتہ نارمل تھی نہ موٹے نا پتلے مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ اس کے ممے گول اور سخت پتھر تھے چونکہ وہ بہت فرینڈلی اور خوش مزاج تھی ۔۔۔ سو تھوڑے ہر عرصے میں وہ محلے کی عورتوں میں کافی پاپولر ہو گئ تھی ۔۔۔ محلے کی تقریباً ساری ہی لیڈیز اپنے گھریلو کام کاج سے فارغ ہو کر اس کے گھر میں آ کر منڈلی سجاتی تھیں ۔۔۔۔۔


    یہ معلُومات حاصل کرنے کے بعد میں سیدھا رفیق عُرف فیکے کے گھر گیا اور بیل دی ۔۔۔۔ جواب میں اس کی بڑی سسٹر رباب عُرف روبی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر بولی ۔۔۔۔۔ لاٹ صاحب کی آمد کب ہوئی۔۔؟ تو میں نے کہا ۔۔ جی میں رات کو ہی آ گیا تھا ۔۔۔ پھر روبی سے پوچھا کی رفیق گھر پر ہے تو وہ بولی ہاں اپنے کمرے میں پڑھ رہا ہے یہ کہہ کر وہ سامنے سے ہٹ گئ اور مجھے اندر جانے کا راستہ دیا ۔۔۔ ۔۔ چونکہ ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں بلا روک ٹوک آنا جانا تھا سو میں اُس کے پاس سے گزر کر سیدھا رفیق کے کمرے میں چلا گیا اور یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ واقعی وہ پڑھ رہا تھا اسے پڑھتے دیکھ کر میں نے کہا بڑی گل اے یار تو بھی پڑھ رہا ہے تو وہ بولا ۔۔۔ یار چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں سوچا تھوڑا سا پڑھ ہی لوں پھر مجھ سے بولا تُو سنا اپنی منحوس شکل کیوں لاۓ ہو۔۔ تو میں نے کہا یار صبح والی بات پر دوبارہ معزرت کرنے آیا ہوں ۔۔۔ تو وہ بولا یار دوستوں میں کیسی ناراضگی۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔ پر یار بات کرتے وقت تھوڑا سوچ بھی لیا کر ۔۔۔


    یہ چھٹیاں ختم ہونے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے ۔۔۔ میں صبح سے ہی کافی تنگ تھا اور ۔۔۔ قریشی صاحب کی بیٹی مائرہ کی یاد بڑی شدت سے آ رہی تھی ۔۔۔۔ کیا سیکسی خاتون تھی یار ۔۔۔۔ دوپہر کا وقت تھا ۔۔ سورج حسب معمول سوا نیزے پر تھا ۔۔۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی اور مجھے اس گرمی سے بھی زیادہ گرمی آئی ہوئی تھی ۔۔۔ حلانکہ میں ایک دفعہ مُٹھ بھی مار چکا تھا پر ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ہوشیاری کم ہونے کی بجاۓ پہلے سے کچھ زیادہ ہی بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔ پھر میں اسی عالم میں اپنے رُوم سے نکلا اور اپنے چھت پر چلا گیا ۔۔۔ ہر طرف لُو چل رہی تھی ۔۔۔ اور سُنسَانی کا راج تھا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اِدھر اُدھر جھانک کر دیکھا تو سارے محلے کی چھتیں خالی تھیں ۔۔۔ سخت دھوپ کی وجہ سے سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں دبکے ہوۓ تھے ۔۔۔ اتنی گرمی اور ہیٹ تھی کہ میں نے بھی واپس جانے کا ارادہ کر لیا ۔۔۔۔۔ اور کچھ دیر کے بعد میں واپس جانے لگا ۔۔۔



    جاتے جاتے یاد آیا کہ ہم نے آج ہی پانی کی موٹر ٹھیک کروائی تھی کہ وہ پانی نہیں چڑھا رہی تھی اور جب میں اوپر آیا تونیچے وہ موٹر چل رہی تھی ۔۔۔ سوچا زرا دیکھ ہی لُوں کہ موٹر پانی ٹھیک سے چڑھا رہی ہے کہ نہیں ۔۔۔ یہ سوچ کر میں پانی والی ٹینکی پر چڑھ گیا اور ڈھکن کھول کر ٹینکی کے اندر جھانکا تو دیکھا کہ پانی ٹھیک سے آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مطمئین ہو کر اُٹھا ۔۔ اور ۔۔ جیسے ہی واپس جانے لگا تو اچانک میری نظر قریشی صاحب (اب یاسر ) والی چھت پر پڑی ۔۔۔۔۔۔ جہاں ایک کونے میں دو جسم آپس میں گُتھم گھتا ہو رہے تھے یہ دیکھ کر میں ایک دم ٹھٹھک سا گیا اور پھر دھیان لگا کر دیکھنے لگا کہ ۔۔۔ یہ کون لوگ ہیں۔۔۔ غور سے دیکھنے پر بھی میں ان کو تھوڑا سا پہچان تو گیا لیکن ۔۔ چونکہ دونوں آپس میں بری طرح جُڑے ہوۓ تھے اس لیئے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون کون ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ اُن کو دیکھا تو مجھے یاد آ گیا کہ یہ ٹھیک وہی جگہ تھی جہاں میں قرشی صاحب کی بیٹی مائرہ کے ساتھ سیکس کیا کرتا تھا ۔۔۔ بس فرق یہ تھا کہ ہم لوگ دیوار کے اینڈ پر ممٹی کے چھپر کے نیچے سیکس کیا کرتے تھے کہ وہاں سے کسی کو بھی دکھائی دیئے جانے کا کوئی احتمال نہ تھا جبکہ یہ لوگ اس چیز کا خیال نہیں رکھ رہے تھے ۔۔۔ اب میں بڑی احتیاط سے نیچے اُترا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس طرف گیا جہاں یہ واردات ہو رہی تھی ۔۔۔۔ چونکے یہ کوٹھا میرا بڑی اچھی طرح سے دیکھا بھالا تھا اس لیئے میں پنجوں کے بل چلتے چلتے عین اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے خود کو محفُوظ رکھ کر میں یہ نظارہ اچھی طرح سے دیکھ سکتا تھا ۔۔۔اور پھر میں اس جگہ پہنچ کر نیچے بیٹھ گیا۔۔۔۔ جیسے ہی میں نیچے بیٹھا میں نے کسی کی مست کراہ سُنی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں بلکُل ٹھیک جگہ پر پہنچ گیا ہوں۔۔ پھر میں نے آہستہ آہستہ اپنے سر کو اوپر اُٹھانا شروع کر دیا ۔۔۔ اور پھر دیوار کی جھری سے جھانک کر دیکھا تو اندر کا ماحول میرے اندازے سے بھی زیادہ گرم تھا ۔۔ پر جس چیز نے مجھے تھوڑا سا حیران کیا ۔۔۔ وہ یہ تھی کہ وہ دونوں جسم کسی اور کے نہیں ۔۔۔۔ بلکہ رفیق اور یاسر کے تھے ۔۔ مجھے یاد آیا کہ جب میں نے یاسر کی گانڈ کے بارے ریمارکس پاس کیے تھے تو رفیق نے بڑا بُرا منایا تھا لیکن اب میں دیکھ رہا تھا کہ یاسر اسی گانڈ کو چاٹ رہا تھا صورتِ حال کچھ یوں تھی کہ ۔۔ یاسر جھکا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں پر تھے اور اس کی ٹانگیں کافی کھلی ہوئیں تھیں۔۔۔ جبکہ رفیق اس کے عین پیچھے اکڑوں بیٹھا اس کی گانڈ چاٹ رہا تھا اور گانڈ چاٹنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ہاتھ سے اپنے لن کو بھی آگے پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اور یاسر ۔۔۔۔۔ یاسر اپنے گانڈ پر رفیق کی زبان فیل کر کے مزے کے مارے ہلکہ ہلکہ کراہ رہا تھا ۔۔۔۔ دونوں بڑے ہی مگن ہو کر لگے ہوۓ تھے۔۔۔۔

  4. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    سچی بات یہ ہے کہ اگر رفیق یاسر کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس کا بُرا۔۔۔ نا مناتا تو یہ سیکس سین دیکھ کر انجواۓ کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔ پر نہیں ۔۔۔۔ میرا خیال ہے میں آپ سے جھوٹ بول رہا ہوں کیونکہ میں ایسا ہر گز نہ کر پاتا کہ میرے سامنے جھکے ہوئے یاسر کی گانڈ تھی جو اتنی مست اور دلکش تھی کہ میرے لن نے بھی اس کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ پہنے تو میں نے لن کی فریاد پر کوئی دھیان نہ دیا اور اس کو ٹالتا رہا اور پھر جب اس کے مطالبے نے کچھ زور پکڑنا شروع کیا تو ہیں نے ہمیشہ کی طرح اس کے مطالبے پر سر تسلیمِ خم کر دیا ۔۔ چونکہ ان کا گھر میرا اچھی طرح سے دیکھا بھالا تھا اس لیۓ مجھے معلُوم تھا کہ کیسے میں نے ان کی نظروں میں آۓ بغیر ان تک پہنچنا ہے ۔۔۔۔


    سو میں وہاں سے اپنے گھر کی چھت کے کونے پر گیا وہ اس لیئے کہ جس جگہ پر وہ اپنا کام کر رہے تھے ۔۔۔۔ اب وہ جگہ ان کی ممٹی کے پیچھے ہونے کی وجہ سے چھپ سی گئی تھی ۔۔ میں نے اپنے جوتے اپنی چھت پر اُتارے اور پھر چاردیواری پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکا د یئے اور پھر بڑے آرام سے ان کی چھت پر کُود گیا ۔۔ اور پھر دبے پاؤں ان کی طرف جانے لگا ۔۔۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد میں ان کے سر پر تھا ۔۔۔۔۔ اب میں نے دیکھا تو وہاں کا منظر تبدیل ہو چکا تھا ۔۔۔ اب کی بار رفیق سیدھا کھڑا تھا اور یاسر اکڑوں بیٹھا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے منہ میں رفیق کا لن تھا ادھر رفیق کی آنکھیں بھی مزے کے مارے بند تھیں اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں یاسر کے سر کے بال پکڑے ہوۓ تھے اور وہ یاسر کا چُوپا انجواۓ کر رہا تھا۔۔۔۔۔

    میں کچھ دیر تک کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا پھر مجھ سے رہا نا گیا اور میں بول پڑا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ واہ۔۔!!!!! کیا چوپا لگاتے ہو یاسر تم ۔۔۔۔۔ میری بات سن کر دونوں ایک دم اُچھلے اور ایسے اُچھلے کہ جیسے ان کوچار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ لگا ہو۔۔۔ مجھے دیکھ کر دونوں کا رنگ فق ہو گیا تھا ۔۔ اور رفیق تو ایسے ہو گیا کہ جیسے کاٹو تو لہو نہیں ۔۔ ۔۔ دونوں کچھ دیر تک سخت صدمے میں رہے ۔۔۔۔ پھر رفیق نے میری طرف دیکھا اور پھیکی سے مُسکراہٹ سے بولا ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔ اچھا ۔اچھا۔۔۔ تم کب آۓ یار ۔۔۔؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔ تو میں نے تُرنت جواب دیا جب تم یاسر کی گانڈ چاٹ رہے تھے ۔۔۔۔ میں تب آیا ۔۔۔ وہ پھر خواہ مخواہ ہنسا اور بولا ۔۔۔ اچھا ؟ یار تم کو تو پتہ ہی ہے ہم ۔۔۔۔ یو نو ۔۔۔ ؟ پھر تھوڑا جُھنجھلا کر بولا ۔۔۔ لن تے چڑھ ۔۔۔ بہن یکا ۔۔ تم نے بھی اسی ٹائم آنا تھا ۔۔۔۔ ہمیں کچھ کر تو لینے دیتے !!!!! ۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ کرو نا میں نے کب منع کیا ہے تو وہ ۔۔۔ اپنے لن کی طرف اشارہ کیا جو اس وقت بلکل مُرجھا گیا تھا اور بولا ۔۔۔ کروں لن بہن چودا ۔۔۔ تیرے چھاپے نے تو اس کا ستیا ناس کر دیا ہے ۔۔۔

    اس طرح کی باتیں کرنے سے اب اس کا اعتماد کافی حد تک بحال ہو گیا تھا اور پھر وہ مجھ سے بولا یار سائیڈ پر ہو کر میری ایک بات سُن لو ۔۔۔۔۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا اور جاتے جاتے مُڑ کر دیکھا تو یاسر ابھی تک نظریں نیچی کیئے اکڑوں بیٹھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ رفیق نے میرا ہاتھ پکڑا اور تھوڑی دور لے جا کر بولا ۔۔۔ یار تم نے تو لڑکے کو ڈرا ہی دیا ہے۔۔۔ پھر طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ میرا خیال ہے تم اس کی لینے کے چکر میں ہو۔۔ اور جب میں نے تھوڑی ہیچر میچر کی تو وہ بولا ۔۔۔۔ بکواس نہ کر ۔۔۔بیٹا میں تم کو بچپن سے جانتا ہوں ( بچپن سے جاننے کا تو اس نے محاورہ بولا تھا تاہم حقیقت ہی تھی کہ وہ ہمارے محے۔ میں گزشتہ 2،3 سال سے رہ رہے تھے اور یو نو ۔۔!! ہمارے جیسے محلوں میں صرف ایک دو ہفتوں میں ہی گہرے دوستانے ہو جاتے ہیں یہ تو پھر 2،3 سال کی بات تھی ) اگر تم نے کاروائی نہ ڈالنا ہوتی تو تم کھبی بھی ادھر کا رُخ نہیں کرتے ۔۔ پھر وہ ایک دم سیریس ہو گیا اور بولا ۔۔۔ یار سچی بات یہ ہے کہ میں اور میرا کزن کوئی پروفیشنل گانڈو نہیں ہیں ۔۔۔ہم لوگ جسٹ۔۔۔۔۔۔ آپس میں شغل میلہ لگا لیتے ہیں ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھ کربولا تم بات سمجھ رہے ہو نا میری۔۔ ؟؟


    پھر کہنے لگا ۔۔۔ اب بتاؤ تم کیا کہتے ہو؟ تو میں نے کہا کہنا کیا ہے یار جو میں نے کہنا ہے تم اچھی طرح جانتے ہو ۔۔ تو وہ بولا تُو پکا حرامی ہے ۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگا۔۔۔۔ اوکے ۔۔۔ تھوڑا ویٹ کر میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ اور مجھے ساتھ لے کر یاسر کے پاس آ گیا ۔۔ یاسر اب کچھ کچھ سنبھل چکا تھا ۔۔ اور اپنی نیکر اوپر کے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہمارے مزاکرات کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جیسے ہی ہم اس کے پاس پہنچے رفیق یاسر کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے بولا ۔۔ ایک منٹ یار۔۔۔ ۔۔ !!! پھر وہ یاسر کو لے کر ٹھیک اسی جگہ بات چیت کرنے لگا جہاں کچھ دیر قبل ہم دونوں کھڑے تھے ۔۔۔ کچھ دیر تک وہ دونوں آپس میں باتیں کرتے رہے پھر دونوں واپس آگئے ۔۔ آتے ساتھ ہی یاسر تو بنا کوئی بات کئے نیچے اُتر گیا اور رفیق میرے پاس آ کر بولا ۔۔ چل یار ۔!! تو میں نے اس سے پوچھا سالے میرے کام کا کیا ہوا تو وہ کہنے لگا کام کے سلسلے میں ہی نیچے جا رہے ہیں تو میں نے کہا نیچے کیوں ۔۔۔ یہاں کیوں نہیں ؟؟؟؟؟ تو وہ تھوڑا تلخ ہو کر بولا ۔۔۔۔ کیا خیال ہے ہم جُڑے ہوں اور تمھاری طرح کوئی اور آ گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ ؟؟ ۔۔ بہتر یہی ہے کہ نیچھے چلا جاۓ تو میں نے پوچھا کہ وہ یاسر کی امی ۔۔۔۔؟ تو وہ بولا یار گھر میں اور کوئی نہیں ہے اور پھر میرے ساتھ نیچے اترنے لگا ۔۔

    ایک دو سیڑھیاں اُترنے کے بعد وہ دفعتاً رُکا اور بولا ۔۔۔ دیکھو بچہ بڑا ڈرا ہوا ہے ۔۔۔ ہمیں سب سے پہلے اس کا احتماد بحال کرنا ہو گا ۔۔۔ تو میں نے رفیق سے کہا کہ یار رفیق تم مجھے اس لڑکے کے ساتھ بس دس پندرہ منٹ تنہائی کے دے دو ۔۔۔۔ باقی کام میں خود کر لوں گا ۔۔ رفیق ۔۔ سیڑھیاں اُترتے اُترتے ایک دم رُک گیا اور حیرانی سے مجھے دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔ آر یو شوور۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟ تو میں نے کہا ۔۔ یار جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو رزلٹ تم خود دیکھ لو گے تو وہ کہنے لگا ٹھیک ہے شہزادے ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہم نیچے سیڑھیاں اترنے لگے ۔۔۔ اور چلتے چلتے ڈرائینگ روم میں پہنچ گئے ۔۔۔ یاسر وہاں پہلے سے ہی موجود تھا اور گو کہ اب کچھ سنبھل چکا تھا پر ۔۔۔ پریشانی کے آثار اب بھی اس کے چہرے پر دیکھے جا سکتے تھے۔۔۔




    رُوم میں جا کر میں اور رفیق ڈبل سیٹر صوفے پر بیٹھ گئے جبکہ یاسر پہلے ہی تھری سیٹر پر سنجیدہ سا منہ بناۓ بیٹھا تھا۔۔ ہمارے بیٹھنے کے کچھ دیر بعد رُوم میں سناٹا سا چھا گیا پھر رفیق نے مجھے آنکھ مارکر کہا سُنا یار آج کل تیری معشوقہ کیسی جا رہی ہے تو میں بھی بات سمجھ کر بولا بڑی مست ہے یار ۔۔۔ ایک لن سے تو اس کو گزرا ہی نہیں ہوتا ۔۔۔ حسبِ توقع یاسر نے سر اٹھا کر بڑی دلچسپی سے مجھے دیکھا پر بولا کچھ نہیں ۔۔۔ کچھ دیر تک ہم دونوں اسی فرضی محبوبہ کے بارے میں گفت گو کرتے رہے ۔۔۔ پھر میں نے رفیق سے کہا کہ یار پانی مل سکتا ہے ؟ تو رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی یاسر بول اٹھا ۔۔۔ میں ابھی پانی لاتا ہوں ۔۔ یہ سن کر رفیق بولا یار پانی نہیں میں کولڈ ڈرنک لاتا ہوں پھر مجھ سے پوچھنے لگا شاہ تم کون سی بوتل پیئو گے۔۔؟ تو میں نے کہا یار میں کولا شولا نہیں پیتا ۔۔۔۔ کوئی جوس ہو تو لے آنا جبکہ یاسر نے اپنے لیئے کوک لانے کو کہا ۔۔۔۔ جیسے ہی رفیق کمرے سے نکلا میں نے یاسر سے پوچھا ۔۔۔ سُنا یار تمھاری کوئی معشوق ہے؟ تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولا معشوق تو نہیں ہاں منگیتر ہے ۔۔۔ تو میں نے قدرے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔ ابھی سے منگیتر ؟ تو وہ بولا بس یار ۔۔۔ ماں باپ کی مرضی سے منگنی ہوئی ہے تو میں نے پوچھا کیسی ہے تمھاری منگیتر؟۔۔۔۔ تو وہ بولا اچھی ہے تو میں نے معنی خیز انداز میں آنکھ مرتے ہوے پوچھا نری اچھی ہی ہے یا کچھ کیا بھی ہے ؟ تو وہ بولا نہیں جی وہ کرنے نہیں دیتی ۔۔۔ ہاں کسنگ بڑی کی ہے ۔۔ تو ؐمیں نے کہا کسنگ سے کام چل جاتا ہے تو کہنے لگا نہیں ۔۔۔ پر کیا کروں وہ اس سے آگے جانے ہی نہیں دیتی ۔۔۔ اب وہ بلکل نارمل ہو گیا تھا او ر بڑے مزے سے میرے ساتھ خاص کر سیکس ریلیٹڈ باتیں کر رہا تھا۔۔۔

  6. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  7. #4
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    جب مجھے پورا یقین ہو گیا کہ اب بچے کا ڈر اور جھاکا ختم ہو گیا ہے تو میں نے اپنے مطلب والی بات کی طرف آنا شروع کر دیا ۔۔۔ اب میں نے اس کو غور دیکھنا شروع کر دیا واقعی یاسر بڑا خوبصورت اور پیارا تھا اس کے گال بلکل کشمیری سیب کی طرح ہلکے لال تھے اور ہونٹ پتلے پتلے اور گلابی مائل تھے آنکھیں کالی اور بڑی تھیں جسم بھرا بھرا اور نرم لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے یوں اپنا پوسٹ مارٹم کرتے دیکھ کر وہ تھوڑا سا نروِس ہو گیا اور پھر شرما کر ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔ پر جب میں اسے دیکھتا ہی رہا تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔ یہ آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ تو میں نے اپنے لہجے میں جہاں بھر کی حیرت بھرتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔ یار تم لپ سٹک لگاتے ہو ؟ تو وہ ہنس پڑا اور بولا آپ ہی نہیں اور بھی کافی لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میں اپنے ہونٹوں پر سُرخی لگاتا ہوں ۔۔۔ تو میں نے اپنی آنکھوں کومزید حیرت سے پھیلاتے ہوۓ کہا نہیں دوست ۔۔۔ تم جھوٹ بول رہے ہو تم ۔۔۔ یقینناً لپ سٹک یوز کرتے ہو ۔۔۔ میں نہیں مانتا ہونٹوں کا اتنا پیارا رنگ تو صرف سُرخی سے ہی آ سکتا ہے ۔۔


    یہ کہا اور اس کو چیک کرنے کے بہانے اس کے پاس چلا گیا اور نزدیک سے اس کے ہونٹوں کا معائینہ کرنے لگا ۔۔۔ اب اس نے میری طرف دیکھا اور بولا مجھے پتہ ہے آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟؟ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ بتا سکتے ہو کہ میں کیا کرنے والا ہوں ؟۔۔۔ تو وہ صوفے پر کھسک کر تھوڑا آگے آ گیا اور بولا ۔۔۔۔ آپ بہانے سے مجھے کِس کرنا چاہتے ہیں ۔۔ اب نروِس ہونے کی میری باری تھی سو میں نے کہا ۔۔۔۔وہ میں۔۔۔اصل میں ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اتنی دیر میں اس نے اپنا منہ مزید اگے کر دیا اور ہونٹ میرے پاس لا کر بولا ۔۔۔۔۔

    کِس کرو نا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ اب مزید سوچنے کی کوئی ضرورت نہ تھی سو میں نے بھی اپنا منہ آگے کیا اور اس کے کے نرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور انہیں اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا ۔۔۔ ہوں ۔۔۔ اُس کے ہونٹ بڑے سوفٹ اور زائقہ مست تھا ۔۔۔۔۔۔ پھر اس نے خود ہی اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور ۔۔۔۔۔۔ اسے سارے منہ میں گھومانے لگا ۔۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ کِسنگ میں کافی ایکسپرٹ ہے پھر اس نے میری زبان کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور میری زبان کا رس پینے لگا ۔۔۔۔۔ اِدھر وہ میری زبان کو چوس رہا تھا اُدھر میرا لن پینٹ میں سخت اکڑا ہوا تھا اور باہر نکلنے کو بے چین ہو رہا تھا ۔۔۔۔چنانہ میں نے کِسنگ کرتے کرتے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔ اس نے بڑے آرام سے لن کو اپنی گرفت میں لیا اور اسے دبانے لگا ۔۔۔۔۔

    ابھی ہماری کِسنگ جاری تھی کہ رفیق ہاتھ میں ٹرے پکڑے رُوم میں داخل ہوا اور ہمارے منہ آپس میں جُڑے دیکھ کر بولا ۔۔۔ بلے بلے ۔۔۔لگتا ہے کام سٹارٹ ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ پر ہم نے اس کی بات نہ سُنی اور لِپ کِسنگ جاری رکھی پھر اس نے پاس پڑی تپائی پر ٹرے رکھی اور ہمارے پاس آکر بولا۔۔۔ او بھائی لوگو ۔۔۔ اپنے پروگرام میں تھوڑا سا وقفہ کر لو اور کولڈ ڈرنک پی لو ۔۔۔ ورنہ گرم ہو جاۓ گی ۔۔۔ اس کی بات سُن کر اپنے اپنے منہ جُدا کیے اور پھر میں نے رفیق کو مخاطب کر کے کہا ۔۔۔ یار اتنا مزہ آ رہا تھا تم تھوڑی دیر بعد نہیں آ سکتے تھے؟ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔۔ یار تھوڑی دیر بعد بھی تم نے یہی کہنا تھا ۔۔۔ پہلے پانی پی لو پھر جو مرضی ہے کرتے ہرنا اور اس کے ساتھ ہی اس نے مجھے مینگو جوس کا ٹن اور کوک یاسر کو پکڑا دی ۔۔۔ اور خود بھی بوتل پینے لگا ۔۔۔۔۔۔

  8. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  9. #5
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    کولڈ ڈرنک پینے کے بعد ہم نے اپنا اپنا سامان تپائی پر رکھا اور دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ منہ جوڑ لیا ۔۔۔ جبکہ رفیق سامنے بیٹھ کر ہمیں دیکھنے لگا ۔۔۔۔ ابھی ہم نے تھوڑی ہی دیر کِسنگ کی تھی کہ میں نے یاسر کے ہاتھ میں اپنا لن پکڑا دیا ۔۔۔۔۔ تو وہ بولا نہیں یار ایسے لن پکڑنے کا مزہ نہیں تم اپنے لن کو باہر نکالو ۔۔۔۔ اور پھر اس نے خود ہی میری پینٹ کی زپ کھولی اور لن کو باہر نکال لیا ۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔۔ لن جھومتا ہوا پینٹ سے باہر آگیا ۔۔۔۔ اس کا سائیز لمبائی اور موٹائی دیکھ کر یاسر کی آنکھوں میں ستائش کے جزبات ابھر آۓ ۔۔ اور اس نے بے اختیار لن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیئے اور بولا ۔۔۔ واہ ۔۔۔۔ شاہ جی ۔۔ ۔۔۔ بڑا پلا ہوا لن ہے آپ کا ۔۔۔ اس کو کیا کھلاتے ہو ۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں یار عام سا لن ہے میرا تو وہ رفیق کی طرف منہ کر کے بولا ۔۔۔ سُنو تو یہ شاہ کیا کہہ رہا ہے یہ اپنے کنگ سائز لن کو عام سا لن کہہ رہا ہے اتنی دیر میں رفیق بھی ہمارے پاس آ گیا تھا اس نے لن کو دیکھا تو بڑے پُراسرار لہجے میں بولا ۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔ تم نے کھبی بتایا ہی نہیں کہ تمہارا اتنا بڑا لن ہے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ اس نے بھی میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔۔۔


    رفیق نے جب میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا تو مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی ۔۔۔ کیونکہ وہ پہلے ہی مجھے بتا چکا تھا کہ وہ اور یاسر ایک دوسرے کے ساتھ ادلہ بدلی کرتے تھے مطلب دونوں ایک دوسرے کی گانڈ مارتے بھی تھے اور ایک دسرے سے مرواتے بھی تھے ۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ میری رفیق کے ساتھ 2،3 سال سے دوستی تھی پر میں ابھی تک اس کے اس کردار سے واقف نہ تھا اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ کوئی عام گانڈو یا منڈے باز نہ تھا بس اپنے کزن کے ساتھ کبھی کبھی مُوج مستی کر لیتا تھا ۔۔ ہاں تو جب رفیق نے حیرت کے مارے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا تو میں نے اسے کہا ۔۔۔۔ کیسا لگا ۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ بولا ۔۔۔بڑا شاندار ہے تمھارا لن تو میں نے کہا ۔۔۔۔ اگر اتنا ہی اچھا لگا ہے تو اس پر ایک کِس تو کرو نا۔۔۔۔ لن پہلے ہی اس کے ہاتھ میں پکڑا تھا سو اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر ۔۔۔۔۔ وہ میرے لن پر جھک گیا اور ۔۔ ٹوپے کو منہ میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ٹوپے پر زبان پھیرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ رفیق ٖصرف میرا ٹوپا ہی چوس رہا ہے اور بس اُسی پر زبان پھیر ے جا رہا ہے تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ یار سارا لن منہ میں ڈال نا۔۔۔۔ یہ سُن کر اس نے ایک دفعہ پھر میری طرف دیکھا اور ٹوپا منہ سے نکال کر بولا ۔۔۔۔ سوری یار مجھے لن کا صرف ٹوپا اچھا لگتا ہے اور بس اسی کو چومتا چاٹتا ہوں سارا لن منہ میں ڈالنے کے لیئے یاسر ہے نا ۔۔۔

    پھر اس نے یاسر کو اشارہ کیا اور خود وہاں سے ہٹ گیا اور ۔۔۔۔ اب یاسر نے مجھے صوفے پر بٹھا کر سیدھا کیا اور خود نیچے قالین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور کچھ دیر تک اسے آگے پیچھے کرتا رہا پھر وہ لن پر جھکا اور اپنی زبان سے ٹوپے پر مساج کرنے لگا ۔۔۔ اُف ف ف۔۔ پھر اس نے اپنی زبان کو ٹوپے کے چاروں طرف گول گول گھمایا اور پھر آہستہ آہستہ لن کو اپنے ہونٹوں میں لینا شروع کر دیا ۔۔۔ اور پھر وہ لن کو آہستہ آہستہ اپنے گیلے منہ میں ڈالتا گیا ۔۔۔ اور پھر وہ کافی سارا لن اپنے منہ میں لے گیا ۔۔۔ پھر اس نے منہ کے اندر ہی اندر لن پر زبان پھیرنی شروع کر دی ہے ۔۔۔۔ آہ۔۔۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔۔ اس کے چوپے نے تو میری جان ہی نکال دی تھی ۔۔۔۔ کِسنگ کی طرح یاسر لن چوسنے میں بھی کافی ماہر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

    کافی دیر تک وہ میرا لن چوستا رہا پھر وہ میرے بالز پر آیا اور اب اس نے میرے بالز پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی اور چاٹ چاٹ کر میرے سارے ٹٹے گیلے کر دیے ۔۔۔۔ اس کے بعد ایک بار پھر وہ اپنی زبان کو لن تک لے آیا ۔۔۔اور ٹوپے کو چاٹنا شروع کر دیا ۔۔ اب مجھے بھی کچھ جوش چڑھ گیا تھا چنانچہ میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا یہ دیکھ کر وہ تھوڑا سا اوپر کو اٹھا ٹیڑھا ہو گیا اور اپنی کمر میری طرف کر دی اور اب میرا ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔

    اب میں نے اپنا ہاتھ اس کی الاسٹک والی نیکر میں ڈالا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔اس کی گانڈ نرم اور چوتڑ کافی موٹے تھے۔۔ ۔۔۔۔ اب میں اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور وہ میرا لن چوس رہا تھا ۔۔۔ پھر میں نے اپنی انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی اور اس پر انگلی کے پور سے ہلکہ ہلکہ مساج کرنے لگا میرے اس مساج سے شاید اسے بڑا مزہ آیا فوراً لن منہ سے نکال کر بولا ۔۔۔۔ انگلی اندر ڈال کر چیک کرو نا۔۔ اور پھر اس نے خود ہی اپنی موری پر تھوک لگایا اور مین نے اپنی درمانی انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ میں ڈال دی ۔۔۔۔۔ اور ہولے ہولے اندر باہر کرنے لگا اور پھر بعد میں درمیانی انگلی اس کی موری کے آس پاس گھمانے لگا ۔۔۔۔ جب میری انگلی کو اس کی موری پر گھومتے ہوۓ کافی دیر ہو گئ تو اس نے اپنے منہ سے میرا لن نکالا اور بولا ۔۔۔ اتنا بہت ہے یا اور لن چوسوں ؟ تو میں نے کہا یہت ہے یار ۔۔۔۔۔۔ اب آؤ کہ لن تمھارے اندر ڈالوں ۔۔۔۔ تو وہ بولا۔۔ اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور صوفے سے اُٹھ گیا اور فوراً اپنی نیکر اُتار دی میں نے بھی جلدی سے اپنی پینٹ اُتاری اور اُسے صوفے پر گھوڑی بننے کو کہا ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ بجاۓ صوفے پر گھوڑی بننے کے اس نے اپنے دونوں ہاتھ صوفے کے ایک بازو پر رکھے اور خود گھٹنوں کے بل ہو گیا اور اپنی گانڈ اوپر کر دی اب میں اس کے پیچھے گیا اور اور اس کی ننگی گانڈ کا نظارہ کرنے لگا ۔۔۔۔ اب یاسر کی گول گول اور موٹی گانڈ میرے سامنے تھی اور اس پر بہت سارا نرم نرم گوشت چڑھا ہوا تھا ۔۔۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کے دونوں پٹ کھول کر دیکھا ۔۔۔۔ اُف ففففف۔۔۔۔۔۔ اس کی گانڈ پر ایک بھی بال نہ تھا ۔۔۔۔ اس نے گردن موڑ کر میری طرف دیکھا اور بولا میری بُنڈ کیسی ہے ؟؟ تو میں نے جواب دیا بلکل عورتوں کر طرح نرم اور موٹی بنڈ ہے تمھاری ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگا عورتوں کی طرح نہیں میری بُنڈ عورتوں سے بہت زیادہ اچھی ہے ان کی گانڈ پر بال ہوتے ہیں اور میری گانڈ پرایک بھی بال نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

  10. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  11. #6
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    یہ سُن کر میں نے اپنے ٹوپے پر تُھوک لگایا اور کچھ تُھوک اس کی گانڈ پر لگا دیا ۔۔۔ رفیق میری یہ کاروائ بڑے غور سے دیکھ رہا تھا پوچھنے لگا ۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو تو میں نے کہا لن ڈالنے لگا ہوں تو وہ فوراً بولا ۔۔۔ اوۓ کیوں بچے کو مارنا ہے یار ۔۔۔ تو میں نے کہا وہ کیسے ؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔ تو کہنے لگا ظالم انسان اپنے لن کا سائز دیکھ اور بچے کی موری دیکھ ۔۔ کیوں بے چارے کی گانڈ پھاڑنی ہے پھر بولا ایک منٹ رُکو اور پھر بھاگ کر گیا اور اندر کمرے سے سرسوں کے تیل کی شیشی لے آیا اور آ کر پہلے تو اس نے یاسر کی گانڈ پر اچھی طرح تیل لگایا پھر وہ میری طرف آیا اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور ۔۔۔۔۔ پھر ٹوپے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا ۔۔۔ یہ دیکھ کر یاسر نے اس سے کہا بہن چودا اتنا ہی شوق ہے تو بعد میں اس سے گانڈ مُروا لینا ابھی تو مجھے مزہ لینے دو ۔۔ یاسر کی بات سُن کر رفیق نے لن منہ سے باہر نکالا اور بولا۔۔۔ ٹھیک ہے یار پہلے تُو مزہ لے لے ۔۔۔ اور پھر کافی سارا تیل میرے لن پر گِرا دیا اور پھر دونوں ہاتھوں سے اچھے طرح مل دیا اتنے میں یاسر بولا فیکے ۔۔۔ ان کے ٹوپے کو خاص کر تیل میں اچھی طرح سے تَر کر دینا ۔۔۔اور رفیق نے ایک دفعہ بھر کافی سارا تیل میرے ٹوپے پر لگایا اور لن پکڑ کر یاسر کی موری پر رکھ دیا اور پھر سامنے جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ اب میرا لن یاسر کی موری پر تھا جو تھوڑی تنگ۔۔۔۔۔ پر تیل کی وجہ سے خُوب چکنی ہو چکی تھی میں نے دونوں انگلیوں سے اس کے کی گانڈ کے سوراخ کو تھوڑا سا اور کھولا اور ہلکہ سا دھکا لگایا ۔۔۔۔ یاسر کی چکنی گانڈ میں میرے موٹے لن کے ٹوبے کی نوک اندر چلی گئ۔۔۔ اور یاسر نے ایک آہ بھری تو میں نے پوچھا درد تو نہیں ہوا تو وہ بولا ۔۔۔ نہیں ابھی تو صرف ٹوپے کی نوک ہی اندر گئی ہے ۔۔۔ میں نے تو مزے سے آہ بھری تھی آپ ۔۔۔ میری گانڈ میں لن ڈالنا جاری رکھیں یہ سُن کر میں نے اس کی گانڈ میں نے ایک اور دھکہ مارا ۔۔۔۔ میرا تیل میں لِتھرا ٹوپا تھوڑا اور اس کے اندر چلا گیا اور پھر اس کے منہ سے نکلا سسس سی ۔۔۔۔۔۔ اب میں نے اس سے کوئی کلام نہیں کیا اور ایک اور گھسا مارا اور اب۔۔۔ ٹوپا پھسلتا ہوا یاسر کی گانڈ میں چلا گیا تھا ۔۔۔ یاسر ایک دم اوپر اُٹھا اور میں نے پوچھا کیا ہوا تو وہ بولا کچھ نہیں تم اپنا کام جاری رکھو ۔۔۔ اور اب میں نے ایک اور دھکا مارا اور میرا لن پھسلتا ہوا جڑ تک یاسر کی گانڈ میں اُترتا چلا گیا۔۔۔۔۔

    جیسے ہی لن یاسر کی گانڈ کے اندر گیا اس نے ایک زبردست چیخ ماری ۔۔۔ آآآآآ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ اُ ف فف ف ۔۔۔ رفیق جو پاس بیٹھا یہ سارا سین دیکھ رہا تھا ایک دم اُٹھ کر میرے پاس آ گیا اور میرے گال چوم کر بولا واہ ۔۔ شاہ جی واہ ۔۔۔۔ تم نے کمال کر دیا اتنا موٹا لن کتنے ٹیکٹ سے یاسر کی گانڈ میں اُتار دیا ہے ۔۔۔ ورنہ میرا تو خیال تھا کہ آج بچے کی گانڈ پھٹ جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ فکر نہ کر یار جب میں تمھاری ماروں گا نا تو تمھارے اندر بھی ایسے ہی ڈالوں گا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ رفیق کچھ جواب دیتا یاسر نے منہ میری طرف کر کے کہا ۔۔۔ اُستاد جی اندر ڈالا ہے تو اب ہلو بھی نہ ۔۔۔۔ اس بہن چود سے بعد میں بات کر لینا ۔۔۔

    یاسر کی بات سُن کر رفیق دوبارہ سا منے جا کر بیٹھ گیا اور اب میں یاسر کی طرف متوجو ہوا ۔۔۔۔ میرا تیل سے بھیگا ہوا لن یاسر کی گانڈ میں تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کی گانڈ اندر سے بڑی ہی گرم تھی ۔۔۔اور گانڈ کے ٹشو اس سے بھی زیادہ نرم تھے ۔۔۔ اب میں نے آہستہ آہستہ بلکل آرام سے لن کو اس کی گانڈ سے باہر کھینچا ۔۔۔۔۔ پھر جب ٹوپے تک لن باہر آگیا تو میں نے دوبارہ آرام آرام سے اندر ڈال دیا اور پھر ہلکے ہلکے جھٹکے مارنا شروع کر دیۓ ۔۔۔ اب اس کی گانڈ کے ٹشو۔۔۔میرے لن کے ساتھ کافی حد تک ایڈجسٹ ہو گئے تھے سو اب میں نے اپنے گھسوں کی سپیڈ بڑھا دی اور پھر زور زور سے لن یاسر کی گانڈ میں اِن آؤٹ کرنے لگا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے یاسر کی مست آوازیں بھی سُنائی دینے لگیں ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔۔ یسس۔یسس۔ اور میں یاسر کی گانڈ میں گھسے مارتا گیا مارتا گیا ۔۔۔

    کافی دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میرا سارا خون میری ٹانگوں سے لن کی طرف بھاگے جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ میرا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا۔۔۔۔ اور میرے سانس بھی بے ترتیب سے ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ یہ محسوس کر کے میں نے اپنے گھسوں کی سپیڈ پہلے سے بھی دوگنی کر دی اور میں نے تقریباً چلا کر یاسر سے کہا۔۔۔۔۔۔۔ یاسر میں چُھوٹ رہا ہوں۔۔ میرا لن منی چھوڑ رہا ۔۔۔۔ یہ سُن کر یاسر نے مستی میں آ کر خود ہی اپنی گانڈ میرے لن پر مارنی شروع کر دی اور ۔۔۔۔۔ اور ۔۔ چھوٹ جا میری گانڈ میں ۔۔ اور گھسوں کر سپیڈ اور تیز کر ۔۔۔ اور تیز ۔۔۔ تیزززز۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔لن سے منی کا طوفان نکل کر یاسر کی تیل سے چُپڑی گانڈ میں داخل ہونے لگا ۔۔۔۔۔ جیسے ہی میری منی کی پہلی بُوند یاسر کی گانڈ میں ٹپکی ۔۔۔۔وہ مست ہو گیا اور اپنی گانڈ میرے لن کے گرد ٹائیٹ کرتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرتا گیااااااااااا۔۔۔۔۔

    ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


  12. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  13. #7
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default

    یاسر ۔۔۔ وہ ۔۔۔ اور میں

    دوسرا حصہ

    یاسر اس وقت تک اپنی گانڈ کو میرے لن کے گرد تنگ کرتا رہا جب تک کہ میرا لن سُکڑ کر چھوہارا سا نہ بن گیا ۔۔۔ جب میرا لن اس کی گانڈ میں بلکل مُرجھا گیا تو میں نے اس کی گانڈ سے لن کو باہر نکال لیا ۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا یار تمہارے لن نے بڑا مزہ دیا ہے ۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کی گانڈ میرے دھکوں کی وجہ سے لال سُرخ ہو گئ تھی اور میری منی کے چند قطرے اس کی گآنڈ کے سُوراخ سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔ یار تیرا لن بڑا کمال ہے اس نے مجھے اتنا مزہ دیا ہے کہ یہ دیکھو میں بغیر مُٹھ کے ہی فارغ ہو گیا ہوں اور میں نے دیکھا تو صوفے کے ساتھ نیچےقالین پر اس کی منی گری ہوئی تھی ۔۔۔۔ پھر فوراً ہی رفیق ہاتھ میں ایک صاف سا کپڑا لئیے میرے سامنے آگیا اور میرے لن کو صاف کرتے ہوۓ بولا ۔۔۔ واہ شاہ کیا شاندار چودائی کی ہے ۔۔ دیکھ تو تیرے دھکوں نے منڈے کی گانڈ کیسی ٹماٹر کی طرح لال کر دی ہے ۔۔۔ پھر میرا لن صاف کر کے وہ یاسر کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ جس کی گانڈ کے سوراخ سے ابھی تک میری منی رِس رِس کر باہر نکل رہی تھی اس نے جلدی سے کپڑے کا صاف حصہ اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا ۔۔۔ اور اسے صاف کرنے لگا ۔۔۔ جب وہ اس کی گانڈ پر کپڑا رکھ رہا تھا تو اس وقت اس کی پیٹھ میری طرف تھی سو مجھے شرارت سوجھی اور میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ رفیق نے ایک دم اپنا منہ میری طرف کیا اور بڑا ہی سیریس ہو کر بولا ۔۔۔ چودو گے مجھے۔۔ ؟؟؟


    لیکن میرا ایسا کوئی مُوڈ نہ تھا سو میں نے انکار کر دیا اور جلدی سے کپڑے پہن لیئےاور اُن سے ان کے نیکسٹ پروگرام کے بارے میں پوچھا ۔۔ تو وہ کہنے لگے تمہاری وجہ سے جو کام ادھورا رہ گیا تھا اسے اب پورا کرنا ہے اور مجھے دعوت دی کہ میں چاہوں تو ان کا لائیو پروگرام دیکھ سکتا ہوں ۔۔ لیکن میرا دل نہ مانا اور میں ان سے اجازت لے کر جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے واپس گھر چلا گیا ۔۔۔


    اُسی شام معمول کے مطابق میری ملاقات رفیق سے ہوئی لیکن نہ ہی اس نے ۔۔۔۔اور نہ ہی میں نے اس کے ساتھ اس ٹاپک پر کوئ گفتگو کی ۔۔۔۔ بلکہ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ٹریٹ کیا جیسے سرے سے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو ۔۔۔ رفیق لوگوں کا گھر تھوڑا اونچا تھا اس لیئے ہم عام طور پر ان کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر (جسے تھڑا بھی کہ سکتے ہیں ) گپ شپ لگاتے تھے ۔۔۔ اسی شام ہم سیڑھوں پر بیٹھ کر گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک ملکوں کے گھر پر لگی مرچیں (لائیٹس) جل اُٹھیں ۔۔۔۔۔ اونچی آواز میں لگے میوزک نے پہلے ہی سارے مُحلے کی جان عذاب میں ڈالی ہوئی تھی لائیٹس جلتی دیکھیں تو میں نے اس سے پوچھا یار یہ بتا سالے ملک کی شادی ہے کب ؟ تو وہ بولا یار ابھی تواس میں پندرہ بیس دن پڑے ہیں ۔۔۔ تو میں نے کہا اس کا مطلب یہ کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ملک پھدی کا منہ دیکھ سکے گا ؟؟؟ تو وہ بولا جی سر جی ان کا پروگرام تو یہی ہے تو میں نے اس سے پوچھا یار پھر انہوں نے اتنی جلدی شادی والی لائیٹس کیوں لگا لیں ہیں۔۔۔ ؟؟؟ اوپر سے لؤوڈ میوزک نے ہماری مَت ماری ہوئی ہے ۔۔ تو وہ بولا بہن چودا ان کی مرضی ہے جو چاہیں کریں تماکری گانڈ میں کیوں خارش ہو رہی ہے ۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟ گانڈ کا ذکر کرتے ہوۓ ۔۔ اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر ہنس پڑا ۔۔۔ اسے یوں ہنستا دیکھ کر میں نے اُس سے پوچھا۔۔ کس بات پر ہنسی نکل رہی ہے تیری ۔۔ ؟؟ تو وہ بولا ۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں یار بس ویسے ہی ۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی مجھے آنکھ مار دی ۔۔

  14. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    چُھٹیوں کے دوران جب بھی یاسر کے گھر والے کہیں جاتے یہ لوگ سیکس پروگرام بنا لیتے تھے اور پتہ نہیں کیوں اپنے ہر پروگرام کی مجھے ضرور اطلاع دیا کرتے تھے ۔۔ لیکن اس دن کے بعد میں نے ان کے ساتھ کوئی پروگرام نہیں کیا ۔۔ اس کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھی بس مُوڈ ہی نہ بنا تھا ۔ حالانکہ اُس دِن کی فکنگ کے بعد دونوں خاص کر یاسر تو میرے لن کا دیوانہ بن چکا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اب وہ میرا بڑا اچھا دوست بھی بن چکا تھا ۔۔ اور مجھے میرے نام کی بجاۓ استاد جی کہتا تھا ہمساۓ ہونے کی وجہ سے میرا تو ابھی تک نہیں۔۔۔۔ لیکن ہمارے گھر والوں کا یاسر کے گھر آنا جانا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ پھر کچھ دن بعد ہم سب کے سکول کالج کھل گئے اور روٹین لائف شروع ہو گئ ۔۔۔۔
    یہ سکول کالج کُھلنے کے کوئ دو ہفتے بعد کا ذکر ہے۔۔۔
    میں حسبِ معمُول کالج جانے کے لئےو گھر سے نکلا اور ہمارے گھر کے راستے میں چونکہ رفیق کا گھر آتا تھا اس لیئے میں اس کو ساتھ لے جاتا تھا ۔۔ اُس دن بھی میں نے یہی پریکٹس کرنی تھی ۔۔۔ پر ہوا یہ کہ جیسے ہی میں گھر سے نکلا تو ساتھ والے گھر سے ( جو کہ یاسر لوگوں کا تھا ) سے آنٹی کی مسلسل زور زور سے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ لڑ رہی ہوں ۔۔۔ پہلے تو میں ان آوازوں کو معمول کی بات سمجھا پھر جب یاسر کی امی کی آوازوں کا والیم کچھ زیادہ ہی اونچا ہونے لگا تو میں جو رفیق کے گھر کی طرف تین چار قدم بڑھا چکا تھا یہ آوازیں سُن کر واپس ہو گیا اور جا کر یاسر کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ۔۔۔ پر کسی نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔۔ میں نے ایک دفعہ اور تھوڑا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔ اور انتظار کرنے لگا ۔۔ پر اس دفعہ بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔ اور میں نے کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد سوچا شاید وہ دروازہ نہیں کھولنا چاہتے۔۔۔یا شایدان کا کوئی گھریلو مسلہ ہو گا اور وہاں سے چل پڑا ابھی میں نے جانے کے لیئے مشکل سے ایک آدھ ہی قدم بڑھایا ہو گا کہ اچانک یاسر کے گھر کا دروازہ کُھل گیا اور دیکھا تو دروازے پر آنٹی کھڑی سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں ۔۔



    اُن کو یوں دیکھ کر میں تھوڑا گھبرا گیا اور ۔۔۔ پوچھا آنٹی جی سب خیریت تو ہے نا ۔۔؟ تو وہ بولی ہاں خیر یت ہی ہے تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔وہ آپ کے گھر سے ۔۔۔۔۔ تو وہ جلدی سے بولی ۔۔۔ وہ اصل میں یاسر سکول جانے سے آج پھر انکاری ہے کہتا ہے میں نے اس سکول میں نہیں پڑھنا ۔۔۔ میرا سکول تبدیل کرو ۔۔۔ اب بتاؤ نا بیٹا میں کیا کروں ؟۔۔۔ کہ اب تک یہ بچہ کم از کم چار سکول تبدیل کر چکا ہے تو میں نے پوچھا اس کی وجہ کیا بتاتا ہے ۔۔؟ تووہ بولی وجہ ہی تو نہیں بتاتا۔۔ نہ ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کہنے لگی ۔۔۔۔ میں تو اس لڑکے سے بڑی عاجز آگئ ہوں۔۔۔ بس ایک ہی رٹ لگا ر کھی ہے کہ سکول نہیں جانا۔۔۔ سکول نہیں جانا۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا میرا خیال ہے اس نے ہوم ورک نہیں کیا ہو گا ؟ تو وہ بولی پتہ نہیں کیا بات ہے کچھ بتاتا بھی تو نہیں ہے نا ۔۔۔ تو میں کہا آنٹی جی اگر آپ اجازت دیں تو میں ٹرائی کروں؟ تو وہ مجھ سے کہنے لگی اگر تم اس سے پوچھ کر کچھ بتا سکو تو تماجری بڑی مہربانی ہو گی ۔۔۔ اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے اندر آنے کے لیئےراستہ دے دیا ۔۔۔۔۔


    اور میں ان کے گھر کے اندر چلا گیا اور آنٹی سے پوچھا کہ یاسر کس کمرے میں ہے تو وہ بولی ۔۔۔۔ اپنے رُوم میں بیٹھا ہے اور میں سیدھا اس کے کمرہ میں چلا گیا ۔۔ دیکھا تو یاسر منہ بسُورے پلنگ کے ایک طرف بیٹھا تھا ۔۔ جبکہ دوسرے طرف اس کا سکول ہونیفارم پڑا ہوا تھا اور سامنے تپائی پر ناشتہ رکھا تھا ۔۔۔ جو پڑے پڑے ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔ مجھے یوں اپنے رُوم میں دیکھ کر وہ بڑا حیران ہوا اور بولا ۔۔۔ استاد جی آپ ؟؟؟ (مطلب سیکس کا استاد ) تو میں نے اس سے بوچھا یار تم نے کیا سارے گھر کو ٹینشن میں ڈال رکھا ہے ۔۔۔ آج سکول کیوں نہیں جا رہے ؟ اور ساتھ ہی یہ بھی سوال کر لیا کہ تماکری امی کہہ رہی ہیں کہ تم سکول بدلنے کا کہہ رہے ہو ؟ بتا سکتے ہو کہ چکر کیا ہے ؟ میری بات سُن کر پہلے تو اس نے مجھے ٹالنے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔ پر میں کہاں ٹلنے والا تھا سو میں نے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ بیٹا میں تماسری اماں جان نہیں ہوں کہ ٹل جاؤں ۔۔۔۔ میرے ساتھ صاف اور دو ٹوک بات کرو اور بتاؤ کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ تب اس نے میری طرف دیکھا اور کچھ سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ تو میں نے اس کہا سوچتا کیا ہے یار تماارے اور میرے درمیان کوئی پردہ رہ گیا ہے جو بات کو یوں چھُپا رہے ہو تو اس نے ایک دفعہ پھر میری طرف دیکھا اور ۔۔۔ اس کے چہرے پر کشمکش کے آثار دیکھ کر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ گھبرا مت یار میں تماترا دوست ہوں ۔۔۔۔۔ کوئی مسلہ ہے تو ہم مل کر حل کر لیں گے اور کہنے لگا دیکھو ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں میری اس طرح کی باتوں سے اسے کافی تسلی ہوئی اور پھر کچھ اٹک آٹک کر اس نے مجھے بتلایا ۔۔۔۔ ۔۔۔

    وہ استاد جی بات یہ ہے ۔۔۔ کہ وہ سر پی ٹی مجھے بڑا تنگ کرتا ہے۔۔۔ اس کا اتنا کہنا تھا کہ میں ساری بات سمجھ گیا لیکن پھر بھی میں نے اس سے کنفرم کرنے کے لیئے پوچھ لیا کہ وہ کیوں تنگ کرتا ہے ؟ تو وہ عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔۔ یار وہ اصل میں میری لینے کے چکر میں ہے ۔۔۔۔ اور سر جھکا لیا ۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ اچھا تو اتنے سکول بدلنے کی یہی وجہ تھی ؟ تو اس نے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا ۔۔۔ اور میرے خیال
    میں اُس کی آنکھوں میں آنسو بھی آ گے تھے ۔۔۔۔ مجھے اس کی بات سُن کر ایک شعر یاد آ گیا کہ
    اچھی صورت بھی کیا صورت ہے
    جس نے بھی ڈالی بُری نظر ڈالی

  16. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  17. #9
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    پھر میں نے اس سے اس کے سکول کا نام پوچھا تو ( یہ پنڈی میں ) مری روڈ پر ایک پرائیویٹ سکول تھا ۔۔۔ اتفاق سے جس کے پرنسپل کا بیٹا میرے ساتھ ہی کالج میں پڑھتا تھا ۔۔۔ سو میں نے اس کو کہہ دیا کہ یاسر یار تم یونیفارم پہنو اور بے فکر ہو کر سکول چلے جاؤ آج کے بعد سر پی ٹی تو کیا اس کا باپ بھی تماہری طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھے گا اور یہ بھی کہا کہ آئیندہ اگر کبھی ایسی بات ہوئی تو تم مجھے بتانا ۔۔۔ میری بات سُن کر اس نے بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور بولا ۔۔ تم سچ کہ رہے ہو استاد جی۔۔؟ تو میں نے کہا آزمائیش شرط ہے بیٹا ۔۔۔۔ یہ سُن کر وہ تھوڑا مطمئن ہو گیا لیکن پھر فکرمند سا ہو کر بولا دیکھ یار مُروا نہ دینا ۔۔۔۔ تو میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے دوست۔۔ اعتبار کرو اور کہا کہ تم بس یونیفارم پہن کر تیار ہو جاؤ میں تما را کھانا گرم کروا کر لاتا ہو ۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ ٹھیک ہے پر ایک بات اور !!! ۔۔۔ تو میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا ہاں بولو تو وہ کہنے لگا ۔۔ پلیز اس بات کا امی اور رفیق کو نہیں پتہ چلنا چاہئے تو میں نے کہا یار امی کی بات تو سمجھ میں آتی ہے یہ رفیق کو کیوں نہیں بتانا۔۔۔؟ تو وہ بولا یار یہ لوگ بعد میں اس بات کا بڑا مزاق اُڑاتے ہیں اس کی بات سُن کر میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ یہ بات میرے اور اس کے بیچ ہی رہے گی ۔۔



    تو وہ ایک بار پھر مجھ سے کہنے لگا استاد جی پکی بات ہے نا کہ آپ میرا مسلہ حل کر لو گے۔۔؟؟ تو میں نے جواب دیا فکر نہ کر بیٹا تمھارا کام ہو جاۓ گا تو وہ دوبارہ کہنے لگا استاد جی وہ بڑا حرامی آدمی ہے پلیز ۔۔ پلیز اس پر زرا پکا ہاتھ ڈالنا ورنہ یو نو۔۔!! اور ساتھ ہی سر جھکا لیا۔۔ وہ کافی ڈرا ہوا لگ رہا تھا اس لیئے میں نے اس کو بتا دیا کہ ان کے سکول کے پرنسپل کا لڑکا میرے ساتھ پڑھتا ہے اور اپنا یار ہے یہ سُن کر اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا ٹھیک ہے آپ جاؤ میں یونیفارم وغیرہ پہن کر خود ہی چلا جاؤں گا پھر کہنا لگا پلیز آپ اس لیئے بھی جاؤ کہ کہیں رفیق آپ کی طرف ہی نہ آ جاۓ۔۔۔ تو میں نے کہا او کے تم یونیفارم پہنو میں یہ ناشتے کے برتن تمھاری امی کو دے کر جاتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی پتا دیا کہ تمھاری امی کے پوچھنے پر میں یہ وجہ بات بتاؤں گا اور برتن لے کر باہر نکل گیا ۔۔


    باہر نکلا تو سامنے ہی اس کی امی کھڑی تھی اور وہ دروازے ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں مجھے نکلتے دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور بولی ۔۔۔ اس سے کیا بات ہوئی ؟؟ ۔۔۔۔ اور کیا کہتا ہے وہ ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے کہا آنٹی جی سب ٹھیک ہو گیا ہے ۔۔۔ آپ بس اس کا کھانا گرم کر دیں وہ یونیفارم پہن رہا ہے اور ناشتہ کے بعد سکول چلا جاۓ گا تو وہ بولی لیکن وہ سکول کیوں نہیں جا رہا تھا ؟؟ تو میں نے کہا اصل میں جیسا کہ آپ کو پتہ ہے انگلش میڈیم بچوں کی اُردو بڑی کمزور ہوتی ہے ۔۔ اور ان کی اردو کا ٹیچر بڑا سخت ہے لیکن اب میں نے اس کو سمجھا دیا ہے اب وہ سکول بھی جاۓ گا اور آئیندہ آپ سے سکول چھوڑنے کی بات بھی نہیں کرے گا۔۔ پھر میں نے برتن اُن کے ہاتھ میں پکڑا کر کہا کہ آپ پلیز اس کا کھانا گرم کر دیں ۔۔ وہ میری بات کچھ سمجھی کچھ نہ سمجھی پر میرے ہاتھوں سے کھانے کا برتن لیا اور کچن کی طرف چلی گئ ۔۔۔ اور میں وہاں سے سیدھا رفیق کی طرف گیا اور جیسے ہی اس کے گھر پر دستک دینے لگا تو وہ گھر سے میری ہی طرف نکل رہا تھا ۔۔ مجھے دیکھ کر بولا خیریت تھی آج لیٹ ہو گئے تم۔۔؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ بس یار کیھا کبھی ایسا ہو جاتا ہے تو وہ بولا ہاں یہ تو ہے اور ہم کالج کی طرف چل پڑے۔۔۔


    میں کالج پہنچ کر سیدھا اپنے دوست کے پاس گیا اور اسے ساری صورتِ حال بتا دی ۔۔۔ سُن کر فکر مندی سے بولا ۔۔۔ اب تم بتاؤ کیا چاہتے ہو ۔۔۔؟ کہو تو ابا سے بات کر اُس حرامزادے کو نوکری سے نکلوا دوں۔۔۔؟ تو میں نے کہا نہیں یار نوکری سے نکالنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے - میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ آئیندہ وہ یاسر کو تنگ نہ کرے ۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ٹھیک ہے یار جیسے تم کہو گے ویسا ہی ہو گا اور مجھ سے بولا تم کس ٹائم فری ہو گے تو میں نے کہا ۔۔ میرا کیا ہے جان جی میں تو فری ہی فری ہوتا ہوں ۔۔ - تو وہ کہنے لگا تو پھر چلو سکول چلتے ہیں اور ہم نے کالج سے اپنے ایک دو پیریڈ مِس کیے اوریاسر کے سکول کی طرف چل پڑے۔۔ راستے میں دوست نے مجھ سے یاسر کی کلاس اور دیگر معلُومات حاصل کر لیں پھر سکول پہنچ کر اس نے مجھے سٹاف روم میں بٹھایا اور آفس بواۓ کو میرے لیئے چاۓ لانے کا بول کر خود غائب ہو گیا اور جاتے جاتے بولا کہ تم چاۓ پئیو ۔۔۔۔ میں بس ابھی آیا ۔۔۔ کافی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک پکی سی عمر کا گھُٹے ہوۓ جسم والا مکرُوہ صورت آدمی بھی تھا جس کا رنگ گہرا سانولا اور شکل پر لعنت برس رہی تھی اس کا پیٹ کافی باہر کو نکلا ہوا تھا ناک لمبی (طوطے کی طرح) اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی تھیں مجموعی طور پر وہ ایسا شخص تھا کہ جس سے گانڈ مروانا تو بہت دُور کی بات ہے۔۔۔۔ اس سے تو ہاتھ ملانے کو بھی جی نہیں چاہتا تھا آ کر میرے پاس بیٹھ گیا اور پھر دوست مجھ سے مخاطب ہو کر بولا شاہ یہ سر پی ٹی ہیں اور پھر میرا سر پی ٹی سے تعارُف کراتے ہوۓ بولا اور سر یہ میرے دوست ، کلاس فیلو اور یاسر کے بڑے بھائی شاہ ہیں اسے دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی اور میں اسے بڑی ہی غضب ناک نظروں سے گھور رہا تھا میری نظروں کی تاب نہ لا کر پی ٹی سر نے سر جھکا لیا پر میں نے اسے گھورنا جاری رکھا ۔۔۔ اس وقت سٹاف روم میں ہمارے علاوہ اور کوئ نہ تھا اور کمرے میں عجیب پُر اسرار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔



    پھر اس خاموشی کو دوست نے ہی توڑا۔۔ اس نے پہلے تو کھنگار کر گلا صاف کیا اور پھر بولا شاہ میں نے ان سے تفصیلی بات کر لی ہے اور ان کو ساری بات سمجھا بھی دی ہے میرا خیال ہے آئیندہ تم کو ان سے شکایت کا موقعہ نہیں ملے گا اس لیے پلیز تم ابھی ابا سے ان کے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ورنہ تم کو تو پتہ ہی ہے کہ ابا طوفان لے آئیں گے اور سر کی جگ ہنسائی الگ سے ہو گی ۔۔ ۔۔۔ پھر وہ پی ٹی سر سے مُخاطب ہو کر بولا کیوں سر میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟؟ ۔۔ اس کی بات سُن کر پی ٹی نے بے بسی سے میری طرف دیکھا اور کھسیانی ہیسا ہنس کر بولا جی ۔۔۔۔ آپ درست کہہ رہے ہیں اور پھر سر جھکا لیا اور اپنے ہونٹ کاٹنے لگا ۔۔ پھر دوست نے میری طرف دیکھا اور بولا شاہ کیا تم نے سر کی معزرت قبول کر لی ہے۔۔؟؟ تو میں نے کہا یار تم میری بات چھوڑو ۔۔۔ تم اُس لڑکے کی بابت کیوں نہیں سوچتے جو ان کی حرکتوں کو وجہ سے سکول چھوڑ نے پر تیار ہو گیا تھا ؟؟؟ میری بات سُن کر دوست بولا۔۔ کھُل کر بتاؤ تم کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے جواب دیا میں چاہتا ہوں کہ یہ صاحب خود اس سے معذرت کریں اس طرح اس کے دل سے ان کا ڈر بھی دُور ہو جاۓ گا اور یہ بھی بعد میں اس کے ساتھ کوئی بدمعاشی بھی نہیں کر سکیں گے ۔۔۔ میری بات سُن کر پی ٹی سر کو ایک دم شاک لگا اور وہ بولا ۔۔ نہیں یہ ۔۔۔ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ میں نے آپ سے معذرت کر لی ہے ۔۔۔ یہ کافی نہیں ہے کیا ؟ ۔۔۔۔۔ اب میں کیا بچے سے معذرت کروں گا اس طرح میرا اس پر امپریشن کیا رہ جاۓ گا۔۔؟؟؟؟؟ تو میں نے تلخی سے جواب دیا کہ جناب کو اپنے امپریشن کی اُس وقت کوئی فکر نہیں تھی جب آپ بچے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ؟؟ ۔۔۔ میری بات سُن کر پی ٹی تھوڑا کھسیانہ ہو گیا پر بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔ بھر میں نے دوست کو مخاطب کر کے کہا کہ ۔۔ ٹھیک ہے دوست اگر یہ بچے سے معذرت نہیں کرے گا تو مجبوراً مجھے یہ معاملہ انکل کے پاس لے جانا پڑے گا پھر میں نے ہوا میں تیر چھوڑتے ہوۓ کہا کہ۔۔۔ میں نے یاسر کے ساتھ ایک دو اور لڑکے بھی تیار کیے ہوۓ ہیں جن کے ساتھ انہوں نے ۔۔۔ یہ غلیظ حرکت کی ہوئی ہے ۔۔۔ اور وہ سب کے سب آج ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔۔۔


  18. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

  19. #10
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,043
    Thanks Thanks Given 
    495
    Thanks Thanks Received 
    2,751
    Thanked in
    736 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    میں نے یہ کہا اور اُٹھ کر چلنے لگا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر پی ٹی اپنی کرسی پر اضطراری حالت میں پہلو بدلتے ہوۓ میری باڈی لینگؤیج کو نوٹ کرنے لگا اور جب میں اُٹھ کر دروازے تک پہنچ گیا تو وہ بولا ایک منٹ بیٹا ۔۔۔۔ پر میں نہ رُکا تو دوست کی آواز آئی یار ایک منٹ ان کی بات سننے میں حرج ہی کیا ہے ؟؟ تو میں وہاں رُک گیا اور بولا ۔۔۔ جو کہنا ہے جلدی کہیں ۔۔۔۔ تو وہ بولا ۔۔ دیکھو بیٹا میں تمھارے باپ کی عمر کا ہوں اور ٹیچر ویسے بھی باپ ہی ہوتا ہے تو کیا یہ اچھا لگے کا کہ میں ایک بزرگ اپنے بیٹے سے بھی چھوٹے لڑکے سے ایکسکیوز کرے۔۔؟ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔۔ یہ بات تو آپ نے پہلے سوچنے تھی ناں اور پھر باہر جانے کے لیئے جیسے ہی دروازے سے باہر قدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ پی ٹی مری ہوئ آواز میں بولا ۔۔۔۔ او کے۔۔۔۔ بچے کو بُلا لو۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا دوست بولا مجھ سے مُخاطب ہو کر بولا تم بیٹھو میں یاسر کو لاتا ہوں ۔۔۔۔ اور میں واپس آ کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔

    کمرے میں گھنا سناٹا چھایا ہوا تھا اور پِن ڈراپ سائیلنس تھا اور اس خاموشی میں پی ٹی کسی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا اور میں حسبِ معمول اسے مسلسل کھا جانے والی نظروں سے گُھورے جا رہا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد دیر بعد دوست کے ساتھ یاسر کمرے میں نمودار ہوا اور مجھے اور پی ٹی کو دیکھ کر کسی حیرت کا اظہار نہ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ دوست اسُے سارے معاملے پر پہلے ہی بریف کر چکا تھا۔۔ یاسر کمرے میں داخل ہوتے ہی سیدھا میرے پاس آ کر پیٹھ گیا اور سر جھکا کر نیچے دیکھنے لگا ۔۔۔ کمرے میں ایک بار پھر پِن ڈراپ سائیلنس ہو گیا ۔۔۔۔ پھر میں نے خاموشی کو توڑا اور پی ٹی سے مخاطب ہو کر بولا ۔۔۔۔ یاسر آ گیا ہے ۔۔ پی ٹی جو کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا میری بات سُن کر ہڑبڑا کر اُٹھا اور میری طرف دیکھنے لگا تو میں نے جلدی سے یاسر کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔ پی ٹی کے چہرے پر تزبزب کے آثار ۔۔۔ دیکھ کر میرے دوست نے بھی ایک گھنگھورا مارا اور پی ٹی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ اب پی ٹی کے لیئے پاۓ رفتن نہ جاۓ ماندن والا معاملا ہو گیا تھا ۔۔۔ پھر اس نے ہمت کی اور یاسر سے بولا ۔۔۔۔ یاسر بیٹا جو کچھ بھی ہوا اس کے لیئے سوری۔۔۔۔۔ یہ کہا اور اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔


    جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلا یاسر میرے گلے سے لگ گیا اور آہستہ سے میرے کان میں بولا ۔۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ تم واقعی اُستاد ہو ۔۔ اور پھر دوست کا شکریہ ادا کیا تو وہ بولا کوئی بات نہیں ۔۔ اور کہنے لگا ۔۔۔ یار آپ نہیں آپ کے کسی بھی دوست کے ساتھ اگر یہ بندہ دوبارہ ایسی حرکت کرے تو میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگا پلیز تم صرف ان کو بتا دینا ۔۔۔ پھر خود ہی کہنے لگا آج جو اُس کے ساتھ ہو گئی ہے اُمید ہے کہ اس کے بعد کسی کے ساتھ یہ ایسا برتاؤ نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔ اُس نے یہ کہا اور پھر مجھے چلنے کا اشارہ کر دیا اور ہم واپس آگے ۔۔۔۔۔۔۔


    اُسی دن شام کی بات ہے کہ میں کمیٹی چوک کسی کام سے جا رہا تھا کہ مجھے پیچھے سے یاسر کی آواز سُنائی دی میں اسے دیکھ کر رُک گیا اور جسےن ہی وہ میرے پاس آیا اس نے ایک بار پھر میرا شُکریہ ادا کیا تو میں نے کہا یار کیوں شرمندہ کرتے ہو تو وہ بولا ۔۔۔ یار شکریہ کے ساتھ ایک معذرت بھی کرنی ہے ۔۔ تو میں نے کہا وہ کیا ؟۔۔۔۔۔۔تو وہ بولا یار تم کو تو پتہ ہی ہے کہ ماما اس بات کے پیچھے ہی پڑ گئیں تھیں اور باربار کرید کرید کر مجھ سے اس بارے میں پوچھتی رہی تھیں تو میں نے تنگ آ کر کہہ دیا کہ شاہ نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ مجھے ہر شام اُردو اور میتھ پڑھا دیا کرے گا ۔۔۔ یہ سن کر میں پریشان ہو گیا اور بولا کیا یہ کیا کر دیا یار ۔۔۔ تو وہ بولا مجبوری تھی باس ورنہ ۔۔۔ یو ۔۔ نو ۔۔!!! پھر میں نے اس سے کہا یار اُردو تو ٹھیک ہے یہ میتھ تو میرے باپ دادے کی بھی سمجھ سے باہر ہے تو وہ ہنس کر بولا ۔۔ اُستاد آپ اس چیز کی فکر ہی نہ کرو مجھے اُردو اور میتھ کیا ہر سبجیکٹ خوب اچھے طرح سے آتا ہے ۔۔۔۔ پر اس وقت مجبوری ہے ۔۔۔ ماما کو کور کرنا تھا سو جھوٹ بول دیا بس اب تم شام سے ہمارے گھر مجھے پڑھانے آ جانا ۔۔ تو میں نے اس سے کہا۔۔ او یار شام کا ٹائم کیوں رکھ دیا تو نے ؟؟؟؟ ۔۔ تو وہ بولا کیوں شام کو کیا ہوتا ہے ؟؟ ۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا سالے یہی ٹائم تو چھت پر بھونڈی کا ہوتا ہے اور میں اس ٹائم تمھارے ساتھ مغز ماری کروں گا تو وہ کہنے لگا یار تم نے کون سا پڑھانا ہے ۔۔۔ بس ڈرامہ ہی کرنا ہے نہ۔۔۔ اور ڈرامہ بھی ایک ماہ کرنا ہے ۔۔۔پھر ماما کو بتا دینا کہ بچہ چل گیا ہے اب اسے ٹیچر کی کوئی ضرورت نہیں رہی اور دوسری بات بھونڈی تو تم جانتے ہو کہہ میں لڑکیوں سے زیادہ اچھا چوپا لگا تا ہوں سو جب تم چاہو میں تماہرا اے ون چوپا لگا دیا کروں گا تم بس اب میری بات مان لو ۔۔۔۔ اور میں نے اس کی بات مان لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    جب میں کمیٹی چوک سے واپس گھر آیا تو امی بھی کمرے میں آ گئی اور کہنے لگیں۔۔۔۔ آج یاسر کی امی ہمارے گھر آئی تھی اور تمھارا پوچھ رہی تھی ۔۔۔ تو میں نے پوچھا کیا کہتی تھی وہ ؟؟؟؟؟؟؟۔۔ تو امی کہنے لگی وہ کہہ رہی تھی کہ تم ان کے بیٹے کو پڑھا دیا کرو ۔۔۔ پھر بولی پُتر ہمسائیوں کے بڑے حقُوق ہوتے ہیں اب وہ بے چاری چل کے ہمارے گھر آ گئی ہے تو تم نہ،۔۔ نہ کرنا ۔۔۔ اور کل سے یاسر کو پڑھانے چلے جانا ۔۔۔۔ کہ میں نے بھی اسے حامی بھر دی ہے پھر کہنے لگی تمھارا کیا خیال ہے۔۔؟؟ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔۔ بے بے جب آپ نے حامی بھر لی ہے تو اب انکار کی کوئی گُنجائیش ہی نہیں رہی ۔۔۔ سو آپ کے حکم کے مطابق کل سے میں یاسر کو پڑھانے چلا جاؤں گا۔۔ میری بات سُن کر بے بے کہنے لگی جیتے رہو پُتر مجھے یقین تھا کہ تم میری بات کو کبھی نہیں ٹالو گے ۔


    اگلے دن شام کو میں یاسر کے گھر گیا اور گھنٹی بجائی تو یاسر باہر نکلا اور بڑی گرم جوشی سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور ایک دفعہ پھر میرا شکریہ ادا کیا اور پھر مجھے اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گیا اور مجھے ڈرائینگ روم میں بٹھا کروہاں سے ہی آواز لگائی ۔۔۔ ما ما ۔۔ ٹیچر آ گئے ہیں ۔۔!!!! اور پھر میری طرف دیکھ کر آنکھ مار دی ۔۔۔ میں بھی اس کی طرف دیکھ کر پھیکی سی مُسکُراہٹ کے ساتھ ہنس پڑا ۔۔۔ اور ان کے ڈرائینگ رُوم کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ ان لوگوں نے ڈرائینگ روم بڑی اچھی طرح سے سجایا ہوا تھا ابھی میں اس کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ یاسر کی امی ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئ جسے دیکھ کر میں احتراماً کھڑا ہو گیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ بولی ارے ارے ۔۔ آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھیں نہ پلیز۔۔۔ !!! لیکن میں اُس وقت تک بیٹھا رہا جب تک کہ وہ میرے سامنے صوفے پر نہ بیٹھ گئ ۔۔۔ انہوں نے کالے رنگ کی کُھلے گلے والی سلیو لیس قمیض پہنی ہوئی تھی اور اس کالے رنگ کی قمیض میں ان کا گورا بدن صاف چھلک رہا تھا اور اور قمیض کے اوپر انہوں نے ایک باریک سا کالے ہی رنگ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کا سنگِ مر مر سے تراشا ہوا گورا بدن مزید نکھر کر سامنے آ گیا تھا ۔۔۔ ان کے شانے چوڑے اور کافی بڑے تھے اس لیئے ان پر سلیو لیس بڑا جچ رہا تھا ۔۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ صوفے پر بیٹھ گئ تو میں بھی بیٹھ گیا ۔۔۔ بیٹھے ہی وہ مجھ سے مُخاطب ہو کر بولی کل میں آپ کے گھر بھی گئی تھی ۔۔۔ لیکن آپ گھر پرموجود نہ تھے ۔۔۔ تو میں نے آپ کی امی سے ریکؤئسٹ کی تھی کہ آپ یاسر کو پڑھا دیا کریں اور شُکر ہے کہ خالہ جان نے میری درخواست منظور کر لی تھی ۔۔ اور تھینک یو آپ کا کہ آپ آ گئے۔۔ پھر کہنے لگی دیکھو مجھے بات کرتے ہوۓ لگ تو عجیب رہا ہے لیکن شرع میں شرم نہیں ہونا چاہیۓ اس لئے آپ خود ہی بتا دو کہ آپ فی سبجیکٹ کتنے پیسے لو گے ؟ اُن کی بات سُن کر میں واقعہ ہی حیران ہو گیا اور بولا ۔۔۔۔ کیسے پیسے جی ؟ تو وہ کہنے لگی یہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ اپنےقیمتی وقت میں سے کچھ ٹائم میرے بچے کو دے رہے ہیں تو ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی شرمائیں نہ پلیز ۔۔۔ آپ کی جو بھی ڈیمانڈ ہے بتا دیں ۔۔ اب میں نے اُن کو کہا کہ اگر تو آپ نے پیسے دے کر ہی پڑھوانا ہے تو میری طرف سے معزرت قبول کرلیں ۔۔ یہ بات سُن کر وہ کہنے لگی او ہو ۔۔ آپ تو ناراض ہی ہو گئے ہیں ۔۔ چلیں اس ٹاپک پہ ہم بعد میں گفتگو کر لیں گے آپ بچے کو پڑھانا شروع کریں میں آپ کے لیے ٹھنڈا لے کر آتی ہوں اور وہ اُٹھ کر چلی گئ۔۔



    اب میں اور یاسر کمرے میں اکیلے رہ گئے تو میں نے اُس سے کہا یہ تم نے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے یار ۔۔۔ تو وہ ہنس کر کہنے لگا ۔۔۔ سب چلتا ہے باس ۔۔۔۔اور بیگ کھول کر کتابیں نکالنے لگا۔۔۔ اور اس طرح میں نے یاسر کو پڑھانا شروع کر دیا ۔۔۔ مجھے یاسر کو پڑھاتے ہوۓ 3،4 دن ہو گئے تھے۔۔ اوراس کی امی ریگولرلی میرے لیئے ٹھنڈا یا گرم لے کر آتی تھی اور مجھ سے یاسر کی پڑھائی کے بارے ڈسکس کرتی تھی ۔۔ اصل میں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے لیئے کافی فکر مند تھی اور اس طرح کرتے کرتے اب میری یاسر کی ماما سے بہت اچھی گپ شپ ہو گئ تھی ۔۔۔ یہ پانچویں یا چھٹے دن کی بات ہے کہ وہ ٹرے میں چاۓ کے ساتھ کافی لوازمات لائی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی یاسر سے بولی ۔۔۔ تما را فون ہے ۔۔ تو وہ کہنے لگا کس کا ہے مام ۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔ وہی ۔۔ یہ سُنتے ہی یاسر نے چھلانگ لگائی اور فون کی طرف دوڑ پڑا ۔۔ اب میں نے تھوڑا حیران ہو کر اُس سے پوچھا ۔۔۔ کس کا فون تھا ؟ تو وہ بولی ۔۔۔ اس کی منگیتر کا تھا ۔۔۔ اور ہنستے ہوۓ بولی ۔۔۔۔ یو نو۔!!! پھر میز پر برتن رکھ کر چاۓ بنانے لگی اور بولی کتنی چینی ڈالوں ؟؟ تو مجھے شرارت سوجھی اور بولا آپ چاۓ میں انگلی ڈال کر دو دفعہ ہلا دیں تو چاۓ خود بخود میٹھی ہو جاۓ گی تو وہ ہنس کر کہنے لگی سر جی !! چاۓ بڑی گرم ہے کیوں میری انگلیاں جلانی ہیں تو میں نے کہہ دیا اچھا تو چلیں ایک چمچ ڈال دیں ۔۔۔ اس نے چاۓ میں چینی ڈالی اور مجھے دیکھتے ہوۓ شرارت سے بولی ۔۔۔۔۔ چچ ۔۔۔ چچ چچ۔۔ آئ ایم سوری سر جی ؟ تو میں نے حیران ہو کر کہا ۔۔۔ سوری کس بات کی جی؟ تو وہ کہنے لگی سُنا ہے ہم نے آپ کی راہ کھوٹی کی ہے ۔۔۔ تو میں نے پھر بھی بات کو نہ سمجھتے ہوۓ ان سے کہا کہہ میں سمجھا نہیں میم ۔۔۔ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ سُنا ہے ہم سے پہلے یہاں مس مائرہ نامی ۔۔۔۔ تو میں نے ایک گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی؟ تو وہ بولی ۔۔۔ لو جی ہمارے پاس تو آپ کا پُورا بائیو ڈیٹا اکھٹا ہو گیا ہے ۔۔۔ اور ہنسنے لگی ۔۔۔۔ پھر ایک دم سیریس ہو کر بولی ۔۔۔۔ سر جی اب بھی اگر مائرہ آۓ تو میرا گھر حاضر ہے اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔ اور میں ہکا بکا ہو کر اسے جاتے ہوۓ دیکھنے لگا۔۔



  20. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-07-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •