اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Results 1 to 9 of 9

Thread: دوست کا گاؤں

  1. #1
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default دوست کا گاؤں

    دوست کا گاؤں

    پیارے دوستو بہت شکریہ کہ آپ لوگ میری سٹوریز پسند کر رہے ہیں آپ کے کمنٹس مجھے مزید لکھنے پر اکساتے رہتے ہیں ۔۔ دوستو! یہ کہانیاں کیا ہیں ۔۔ کچھ کھٹی کچھ میٹھی یادیں ہیں جو میں ضرورت کے مطابق رد و بدل کر کے۔۔۔ ان میں کچھ مزید مرچ مصالحہ ڈال کے۔۔۔اور اپنی طرف سے ایک اچھی سی ہانڈی بنا کر آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ یہ ہانڈی کیسی بنتی ہے ؟؟؟؟ اچھی یا بری ۔۔۔۔یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں --- دوستو !! ۔۔ آج میں آپ سے جو کہانی شیئر کرنے جا رہا ہوں یہ تب کی بات ہے جب میں ابھی میٹرک کی سپلی دے کر فارغ ہوا تھا اور ویلا تھا میری طرح میرا دوست کاشف بھی سپلی دے کر فارغ ہوا تھا یہاں ایک بات کلیئر کر دوں۔۔۔۔کہ میری طرح کاشف للی مار نہیں تھا بلکہ میرے بر عکس وہ ایک شریف سا لڑکا تھا ۔۔۔ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اس کے باوجود بھی وہ میرا اتنا اچھا دوست کیسے بن گیا تھا - ( ویسے شکل سے میں بھی بڑا شریف نظر آتا تھا )


    ایک دن کا ذکر ہے کہ کا شف صبح سویرے ہی میرے پاس آ گیا وہ بڑا خوش نظر آ رہا تھا میں نے اس سے خوشی کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا پتہ ہے کیا ۔۔۔آج ابا نے مجھے گاؤں جانے کی اجازت دے دی ہے پھر مجھ سے بولا تم بتاؤ چھٹیاں کہاں گزارنے کا ارادہ ہے ؟ تو میں نے کہا کہ یار کوئی خاص ارادہ نہیں ہے تب وہ اچانک کہنے لگا۔۔۔ میرے ساتھ گاؤں چلو گئے ؟ اس کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ بولا فکر نہ کرو دوست ؟ تمہارا کرایہ پہاڑا اور دیگر خرچہ بھی میرے ذمہ ۔۔۔نیز تمہارے گھر والوں سے اجازت بھی لینا بھی میرے زمہ ۔۔۔ اس کی یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا اور اس سے بولا۔۔۔ یہ تم حاتم تائی کی قبر پر کیوں لات مار رہے ہو؟۔۔۔۔ سچ بتا اصل بات کیا ہے ؟ پہلے تو وہ صاف منکر ہو گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ پھر جب میں نے تھوڑا سا دبایا ۔۔۔۔تو وہ کہنے لگا یار تم کو تو پتہ ہے کہ میرے گھر والے خاص کر ماما مجھے اکیلے گاؤں نہیں جانے دے رہی تھیں ویسے بھی اکیلا (وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا) ہونے کی وجہ سے وہ مجھے کہیں آنے جانے نہیں دیتیں تو میں نے جھوٹ بولا دیا کہ میرے ساتھ شاہ بھی گاؤں جا رہا ہے چنانچہ اسی بات پر مجھے گاؤں اجازت کی ملی ہے۔۔پھر شرمندہ سا منہ بنا کر بڑی لجاجت سے بولا۔۔۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔ پر یار اب تم کو میرے ساتھ گاؤں جانا ہو گا ۔۔۔میری عزت کا سوال ہے یار ۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے تھوڑی ہیچر میچر کی۔۔۔۔ تو وہ میرے ساتھ سیدھا ہو گیا اور کہنے لگا۔۔ تیرا تو باپ بھی میرے ساتھ جائے گا۔۔۔پھر تین چار موٹی موٹی گالیاں دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ویسے بھی بہن چودا یہاں رہ کر تم نے کونسا تیر چلا لینا ہے سیدھی طرح میرے ساتھ ورنہ ابھی تیری گانڈ میں ڈنڈا کر دوں گا ۔۔ مجھے کوئی خاص کام تو نہیں تھا اس لیئے تھوڑے نخرے شخرے کرنے کے بعد میں اس کے ساتھ اس کے گاؤں جانے کے لیئے تیار ہو گیا۔۔۔۔


    حسب وعدہ کاشف اور اس کی ماما نے خود ہی میرے گھر سے اس کے ساتھ گاؤں جانے کی اجازت لے لی ۔۔۔ چنانچہ اگلی صبع صبع میں اور کاشف اس کے گاؤں جانے والی بس میں بیٹھے تھے تھوڑی گپ شپ ، تھوڑی چٹ چیٹ کے بعد کاشف ۔۔۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد بولا یار ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے ؟؟ تو میں نے کہا خیر تو ہے جو اتنا ہچکچا کے بات کر رہے ہو۔۔۔۔۔ تو وہ اسی ٹون میں بولا۔۔۔یار میں ایک بات کرنے لگا ہوں ۔۔۔پلیززززز۔۔۔ ناراض نہ ہونا۔۔۔۔اس پر میں قدرے غصے سے بولا ۔۔۔ گانڈو کچھ بات بتاؤ گے تو پتہ چلے گا نہ کہ تمہاری بات غصے والی بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ میری جھاڑ سن کر وہ کہنے لگا بات دراصل یہ ہے دوست کہ میں تمہیں زیادہ ٹا ئم نہیں دے سکوں گا ۔۔ اس کی یہ بات سن کر میں میں حیران رہ گیا اور ۔۔۔۔ حیرت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ پھر تم مجھے اپنے ساتھ کیوں لے جا رہے ہو۔۔۔؟ تو وہ بڑے اطمینان سے بولا ساتھ اس لیے لے جا رہوں ہوں کہ گھر والے مجھے اکیلے نہیں جانے دے رہے تھے۔۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے ٹائم نہ دینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ تو وہ تھوڑا جھجھک کر بولا۔۔۔۔ بات دراصل یہ ہے دوست کہ گاؤں میں میری منگیتر رہتی ہے جو کہ میری کزن بھی ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت پیار کرتے ہیں اور ایک دوجے کے بنا رہ نہیں سکتے ۔۔۔۔ اتنی بات کر کے وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ یہی وجہ ہے کہ میں گاؤں میں زیادہ سے زیادہ وقت تمہاری بجائے اپنی منگیتر کے ساتھ بتاؤں گا ۔۔اس نے اتنی بات کی ۔۔۔ اورایک لمبی سانس لے کر چپ ہو گیا اور پھر بڑی ہی مسکین شکل بنا کر مجھے دیکھنے لگا ۔۔ اس کی بات سن کر مجھے غصہ تو بہت آیا ۔۔۔ پر میں پی گیا۔۔۔۔اور پھر میں نے دل میں سوچا کہ اب جبکہ میں اس کے ساتھ چل پڑا ہوں۔۔۔۔ تو ۔۔۔چلو دوست کی خاطر یہ قربانی بھی دے ہی دیتے ہیں یہ سوچ کر میں اس سے بولا ۔۔۔ٹھیک ہے دوست ۔۔۔ ۔۔۔۔ اگر میں تماقرے کسی کام آ سکوں تو مجھے بڑی خوشی ہو گی اس لیئے۔۔۔۔تم اپنی منگیتر کے ساتھ مزے کرنا۔۔۔ میں کسی نہ کسی طرح سے اپنا کام چلا لوں گا ۔۔۔ میری بات سن کر وہ خوش ہو کر بولا۔۔۔۔۔۔ ۔۔واہ !۔۔۔۔۔ دوست ہو تو تم جیسا واقعی تم میرے سچے دوست ہو۔۔۔۔۔اور پھر سیٹ پر بیٹھے بیٹھے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا۔۔۔ اس کے بعد کہنے لگا۔۔۔۔ گھبرا نہ یار۔۔۔۔۔ وہاں پر صرف میں ہی تم کو ٹائم نہیں دے پاؤں گا ۔۔۔باقی گھر کے نوکر چاکر تما ری سروس کے لیئے موجود ہوں گے۔۔۔ پھر اچانک ہی کہ پر جوش ہو کر بولا ۔۔۔ہاں یاد آیا۔۔۔۔۔ یار میرے انکل کی ایک بہت بڑی ذاتی لائیبریری بھی ہے جس میں دنیا جہان کی کتابیں موجود ہیں -- تم ویسے ہی کتابی کیڑے ہو ۔۔۔سو تم انکل کی لائیبریری میں جی بھر کر کتابیں پڑھنا اور میں ۔۔۔ پھر دانت نکال کر بولا ۔۔۔۔۔وہ تو تم کو پتہ ہی ہے۔۔ اسی طرح کی باتیں کرتے کرتے ہم لوگ شام تقریبا ساڑھے سات بجے اس کے گاؤں میں پہنچ گئے۔ ۔۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 13-06-2019 at 08:40 AM.

  2. The Following 6 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-06-2019), fahadfraz (18-06-2019), irfan1397 (12-06-2019), jerryshah (12-06-2019), MamonaKhan (13-06-2019), Story Maker (13-06-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Afghanistan
    Posts
    294
    Thanks Thanks Given 
    309
    Thanks Thanks Received 
    263
    Thanked in
    143 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    shah g next update k a intazar hais

  4. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    195
    Thanks Thanks Given 
    148
    Thanks Thanks Received 
    276
    Thanked in
    146 Posts
    Rep Power
    30

    Default

    nice start shah g

    welcome back to urdufunda

  5. #4
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    بس سے اتر کر میں نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔۔۔۔۔ایک نظر میں تو کا شف کا گاؤں کافی بڑا اور ماڈرن سا لگ رہا تھا۔۔ بس سے اترتے ہی کاشف نے ایک ٹانگے والے کو اپنے گھر کا پتہ سمجھایا پھر کرایہ وغیرہ طے کر کے ہم ٹانگے میں بیٹھ گئے۔۔۔ٹانگہ اپنے مخصوص ردھم کے ساتھ چلا جا رہا تھا ۔۔۔ پھر ۔۔۔ جیسے ہی ہمارا ٹانگہ گاؤں کے وسط میں پہنچا تو کاشف ایک بڑی سی حویلی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا ۔۔ وہ ہلکے سبز رنگ کی جو عمارت نظر آ رہی ہے نا وہ جس کا سفید رنگ کا گیٹ ہے وہ ہی ہمارا گھر ہے جیسے ہی ہمارا ٹانگہ حویلی کے قریب پہنچا تو ۔۔۔۔ ٹانگے کو دیکھ کر حویلی میں کچھ ہلچل کے آثار نظر آۓ پھر کچھ ہی دیر کے بعد گیٹ سے دو تین ملازم نما شخص برآمد ہوۓ اتنی دیر میں ہمارا ٹانگہ ان کے گیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا جیسے ہی ہمارا ٹانگہ رکا انہوں نے بڑے تپاک سے کاشف کو سلام کیا اور پھر ہمارے بیگ وغیرہ لے کرہم سے آگے آگے چلنے لگے-




    اور پھر جب ہم گھر میں داخل ہوۓ تو وہاں کے رواج کے مطابق ساری عورتیں ہمارے سواگت کو کھڑی تھیں ان میں سے ایک میچور لیڈی جو کہ کاشف کی ہونے والی ساس تھی سب سے پہلے آگے بڑھی اور اس نے کاشف کا ماتھا چوما اور سر پر ہاتھ پھیرا پھر باقی عورتوں نے بھی جو کہ کچھ تو اس کی رشتے دار تھیں اور کچھ اڑوس پڑوس کی عورتیں تھیں (ان کے بارے میں مجھے بعد میں کاشف نے بتایا تھا ) اس کے بعد میری باری آئی ۔۔۔ کاشف کی ساس میری طرف متوجہ ہو کر کاشف سے بولی۔۔۔ اچھا تو یہ ہے تما۔را وہ دوست جس کو گاؤں دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔ اپنی ہونے والی ساس کی بات سن کر کاشف نے بڑی شرمندگی سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور کھسیانا سا ہو کر بولا ۔۔۔ جی آنٹی یہ وہی ہے تو وہ کہنے لگیں۔۔۔ تما ری ماما نے بھی فون پر اس کے بارے بتایا تھا ۔۔ ۔۔۔ پھر آنٹی میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔ بیٹا آپ کا نام شاہ ہے نا۔۔؟؟ ۔۔ تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو وہ بولی ۔۔۔ ویل کم بیٹا میں آپ کو اپنے گاؤں میں خوش آمدید ُ کہتی ہوں ۔۔۔ یہاں آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو گی اتنا کہتے ہی انہوں نے میرے بھی سر پر ہاتھ پھیرا اورساتھ ہی ہمیں اندر آنے کی دعوت دی۔




    کاشف کی ہونے والی ساس جس کو سب ہی بی بی جی کہتے تھے بڑی ر عب داب والی عورت تھی سارے گھر میں ان کا ہی حکم چلتا تھا وہ خالص پنجابی عورتوں کی طرح بھاری بھر کم اور لمبے قد کی تھی گوری چٹی اور موٹی تو نہیں ہاں آپ اس کو صحت مند ضرور کہہ سکتے ہیں ان کا پیٹ ہلکا سا باہر کو نکلا ہوا تھا چونکہ ان کا قد کافی بڑا تھا اس لیئے وہ اتنی موٹی لگتی نہیں تھی ہاں ایک بات میں نے ان میں عجیب دیکھی تھی وہ یہ کہ وہ ہر وقت زیورات سے لدی پھندی رہتی تھی ن کے ایک ہاتھ میں سونے کی چوڑیں اور دوسرے ہاتھ میں موٹے موٹے کڑے ہوتے تھے اور گلے میں سونے کی چین پہنے رہتی تھی – ۔۔ میں یہ سب دیکھ دیکھ کر بڑا حیران تھا اور جب میں نے کاشف سے اس بارے میں بات کی ۔۔۔تو وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔کہ آنٹی کو ایسا کرنے کے لیئے انکل نے کہا تھا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی ہر وقت زیوارت پہنے رکھے۔۔۔سواری میں کاشف کی منگیتر کے بارے میں بتانا تو بھول ہی گیا ۔۔ کاشف کی منگیتر ایک دبلی پتلی بہت خوب صورت اور نازک سی لڑکی تھی اپنی ماں کے برعکس وہ کافی سادہ سی تھی ۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ نظر آئی۔۔جیسے ہی وہ سامنے آئی کاشف نے مجھے کہنی مار کر اس کی طرف متوجہ کیا۔ اور اشاروں میں اس کے بارے بتلایا ۔۔۔وہ نہ بھی بتاتا تو میں اس کی شکل دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ ہو نہ ہو یہی کاشف کی منگیتر ہے ۔۔۔ کیونکہ کاشف کو دیکھ کر وہ گل اندام گل و گلزار ہوئے جا رہی تھی۔۔۔ دوسری بات یہ کہ اسے دیکھ کر کاشف بھی اسے فدا ہو جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کاشف کی طرح وہ بھی۔۔اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی –



    اگلے دن صبع صبع کاشف اپنی منگیتر اور ایک بوڑھے نوکر کو ساتھ لے کر مجھے اپنا گاؤں دکھانے لے گیا ۔۔ اس کا گاؤں بہت خوب صورت اور اس کے چاروں طرف ہریالی تھی۔ گاؤں تو نہیں البتہ اسے قصبہ کہا جا سکتا تھا ۔۔۔تھوڑی دیر ادھر ادھر گھمانے کے بعد کاشف اپنی منگیتر کے ساتھ کہیں غائب ہو گیا۔۔۔ پیچھے میں اور بابا جی ہی رہ گئے ۔۔۔۔ یہ کافی چپ سا بندہ تھا جو کہ زیادہ تر خاموش ہی رہتا تھا ہر بات کا ہوں ہاں میں جواب دیتا تھا ۔۔۔ دوپہر تک وہ مجھے ادھر ادھر گھماتا رہا۔۔۔لیکن اس دوران کاشف کہیں بھی نظر نہ آیا۔۔۔۔۔ دوپہر ڈھائی تین بجے پتہ نہیں وہ دونوں کہاں سے برآمد ہو گئے ۔ ادھر بابا جی کے ہم رکاب میرا وہ دن بڑا ہی بور گزرا ۔۔ ۔۔ اس تلخ تجربے کے بعد میں نے ان کے ساتھ گھومنے پھرنے سے توبہ کر لی ۔۔ ادھر جیسے ہی وہ ہمارے پاس آئے تو ہم سب اکھٹے ہو کر واپس حویلی آگئے ۔۔ کھانا کھانے کے بعد جیسے ہی ہم بغرض ِ ریسٹ اپنے روم میں پہنچے تو کاشف نے ایک بار پھر مجھ سے معافی مانگی ۔۔۔ مجھے تپ تو بہت چڑھی ہوئی تھی اور میں کہنا بھی بہت کچھ چاہتا تھا پر یہ سوچ کر سارا غصہ پی گیا کہ اس بارے میں اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔۔ اس کی معافی کے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ یار پلیز تم آئندہ مجھے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ مجھے لائیبریری کا راستہ دکھاؤ ۔۔۔۔۔ کہ اس ذلت سے بہتر کتابیں پڑھنا ہے – اتنی بات کر کے میں بستر پر لیٹا اور پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔۔۔۔۔ اسی شام جب میں سو کر اٹھا تو حسب معمول کاشف غائب تھا ۔۔ میں نےبھی اس کا انتظار نہ کیا اور ایک نوکر سے پوچھ کر سیدھا ان کی لائیبریری میں پہنچ گیا اور اندر داخل ہو کر اس کا جائزہ لینے لگا یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جہاں پر موضوع کے مطابق شیلف میں بڑے سلیقے سے کتابیں رکھی ہوئیں تھیں ساتھ ہی کرسیاں اور میز بھی پڑی ہوئی تھی اک طرف ایک جہازی سائز کا صوفہ بھی دھرا تھا ۔۔۔ غرض کہ وہاں پر کتاب پڑھنے کے لیئے بڑا ہی آئیڈیل ماحول تھا۔




    میں نے ایک نظر شیلف میں پڑی کتابوں کا جائزہ لیا اور پھر شاعری والے شیلف سے مرزا غالب کا دیوان نکال کر پڑھنے لگا ۔۔۔۔ میں کتاب پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب بی بی جی (کاشف کی ساس) کمرہ میں داخل ہوئی مجھے پتہ تب چلا جب میں نے ان کی آواز سنی وہ کہہ رہی تھیں بیٹا آپ ان کے ساتھ نہیں گئے۔۔۔؟؟؟ تو میں نے جواب دیا کہ میرا موڈ نہیں تھا اور میں کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں ۔ تو وہ بولی کیسی لگی ہماری لائیبریری۔۔؟؟؟ میں نے جواب دیتے ہوئے کہ دیا کہ آپ کی لائیبریری بہت اچھی ہے۔۔۔ پھر ان سے پوچھا کہ یہاں پر موجود کتابیں آپ پڑھیتیں ہیں یا انکل؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔ چوہدری صاحب کہاں پڑھیں گے ان کو تو ڈیرے داری اور تھانے کچہری سے ہی فرصت نہیں ملتی ہے- یہ سب تو میری زاتی کلکشن ہے ۔۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر بولیں۔۔۔آپ کی پڑھ رہے ہو ۔۔۔تو میں نے دیوانِ غالب ان کے سامنے کر دیا۔۔۔۔ میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب دیکھ کر بولی آپ شاعری پسند کرتے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا ایسی بات نہیں ہے میں ہر موضوع پر کتاب پڑھ لیتا ہوں ہاں شاعری مجھے زیادہ اچھی لگتی ہے اور لگے ہاتھوں ان کو بتا دیا کہ میں شاعری بھی کرتا ہوں میری بات سن کر وہ کہنے لگی یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ شاعری بھی کرتے ہو ۔۔ پھر بڑے اشتیاق سے بولی۔۔۔ اپنا کوئی شعر تو سناؤ ؟ اس پر میں نے ان کو اپنے کچھ اشعار سناۓ ۔۔۔۔۔ اب مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ میرے اشعار ان کو پسند آۓ یا نہیں۔۔۔ بحرحال انہوں نے میرے شعروں کی بڑی تعریف کی ۔ پھر باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے بتلایا کہ وہ ڈبل ایم اے ہیں۔۔۔۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور انگریزی میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔۔۔۔ان کی یہ بات سن کر میں بڑا حیران ہوا ۔۔۔۔ وہ میری حیرانی بھانپ بولی کیوں تم کو یقین نہیں آ رہا ؟؟ تو میں حیرت بھرے لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ آپ اتنی زیادہ پڑھی لکھی ہو اور۔۔۔۔ میری بات سمجھ کر ہنس پڑی۔۔اور کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔ارے یہ کوئی ضروری تو نہیں نہ کہ ہر پڑھی لکھی خاتون کی شادی شہر میں ہی ہو ؟؟ ۔۔۔ اس کے بعد وہ کافی دیر تک میرے ساتھ گپ شپ کرتی رہیں۔۔۔ چونکہ ہم دونوں کا مشترکہ شوق کتاب بینی تھا۔۔۔ اس لیئے اسی موضوع پر وہ میرے ساتھ باتیں کرتی رہیں۔۔۔۔ پھر اچانک یہ کہہ کر اُٹھ گئیں کہ میں تماررے لیئے چاۓ بجھواتی ہوں –
    اب میرا یہ روز کا معمول بن گیا تھا کہ میں صبح اُٹھ کر سیدھا لائیبری میں چلا جاتا۔۔۔ اور اپنی پسند کی کتاب نکال پر پڑھتا ۔۔۔ اس دوران بی بی جی بھی میرے پاس ایک آدھ چکر ضرور لگاتی تھی اور مجھے پڑھتے دیکھ کر بڑا خوش ہوتی تھی اس کے ساتھ ساتھ وہ مجھے کتابوں کے بارے میں گائیڈ بھی کرتی تھیں کہ فلاں کتاب پڑھو بڑی اچھی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہ چوتھے دن کی بات ہے کہ میں نے اور کاشف نے ایک ساتھ ناشتہ کیا پھر وہ حسب معمول یہ کہتا ہوا غائب ہو گیا کہ میں ابھی آیا ۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ اب کا گیا وہ شام کو ہی لوٹے گا ۔۔۔ سو میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔۔۔ اور لائیبریری کی طرف چلا گیا۔۔۔ ایک نظر کتابوں پر ڈالی۔۔۔۔ اور اچانک ہی میرا جی چاہا کہ کہ کیوں نہ آج کوئی انگریزی کتاب پڑھی جائے۔۔۔ ۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی میں انگریزی کتابوں کے شیلف کی طرف چلا گیا ۔۔۔ ان کتابوں کو دیکھ کر من آئی کہ کیوں نہ ان میں سے کوئ سیکسی کتاب ڈھونڈی جاۓ یہ سوچ کر میں نے شیلف میں لگی ایک ایک کتاب کو اُٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔میں شیلف میں سے کتاب اُٹھاتا ۔۔۔۔اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھتا اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا کہ ان میں سے کون سی کتاب سیکسی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے میں نے نیچے والی پوری شیلف دیکھ لی۔۔۔ لیکن مجھے اپنی مطلوبہ کتاب نہ ملی۔۔۔۔۔ اور اب اوپر والی شیلف ہی باقی رہ گئی تھی جو کہ مجھ سے کافی اونچی تھی ۔۔ سو میں نے آخری ٹرائ کے طور پر اسے بھی دیکھنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک کرسی اس شیلف کے سامنے رکھ کر اس پر چڑھ گیا اور مختلف کتابوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔ تو وہاں بھی مجھ کو کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔۔۔۔ سو میں مایوس ہو کر کرسی سے نیچے اترنے لگا۔۔۔۔جب میں نیچے اتر رہا تھا ۔۔۔۔میرا ایک ہاتھ لکڑی کی بنی ہوئی اس شیلف کے اوپر تھا ۔۔۔ جیسے ہی میرا ہاتھ لکڑی کی بنی شیلف کی اوپر والی سطح سے ٹکرایا ۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہاں کوئی چیز پڑی ہے چنانچہ میں نے بڑی احتیاط سے وہاں ہاتھ پھیرا تو میرا ہاتھ ایک بڑے سے لفافے سے ٹکرایا ۔۔۔۔ جس کے اندر کوئی موٹی سی میگزین نما چیز محسوس ہو رہی تھی میں نے کرسی پر کھڑے کھڑے مارے تجسس کے وہ بڑا سا لفافہ وہاں سے اٹھایا اور کرسی پر کھڑے ہو کر اس کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔وہ ایک بڑا سا لفافہ تھا جو کہ بڑی احتیاط کے ساتھ ایک بڑے سے شاپر میں بند تھا۔۔۔ اب میں نے یہ دیکھنے کے لیئے کہ آکر اس لفافے میں ہے کیا؟ جو کہ بڑی احتیاط کے ساتھ شاپر میں بند کیا گیا ہے۔۔۔۔



    چنانچہ میں نے اسے کھول کر دیکھا تو ۔۔۔ میں حیران رہ گیا۔۔۔۔ اور میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیئیں۔۔۔۔ کیونکہ وہ ایک فل سائز پورنو میگزین تھا۔۔۔۔۔۔ جسے دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا ۔۔۔ پھر میں نے کرسی پر کھڑے کھڑے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔۔۔۔ آس پاس کوئی بھی نہ تھا۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے بڑی احتیاط سے میگزین کو دوبارہ لفافے میں بند کیا اور نیچے اتر آیا۔۔۔۔ پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے میگزین کو صوفے کے نیچے رکھا اورخود کمرے سے باہر جھانک کر دیکھا۔۔۔۔۔ اور کسی کو نہ پا کر دوبارہ لائیبریری میں واپس آ گیا پھر میں نے صوفے کے نیچے سے وہ پورنو ۔۔۔ رسالہ نکالا اور اس کے آگے اخبار رکھی۔۔۔۔۔ اور پھر مزے لیکر میگزین کی ننگی تصویریں دیکھنے لگا باہر سے جو بھی آ کر دیکھتا وہ یہ ہی سمجھتا کہ میں اخبار پڑھ رہا ہوں لیکن دراصل میں ۔۔ میں وہ میگزین دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔


  6. The Following 2 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    fahadfraz (18-06-2019), jerryshah (17-06-2019)

  7. #5
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    واہ۔۔۔۔۔ سارا میگزین ہی زبردست تصویروں سے بھرا پڑا تھا خوبصورت گوریاں ۔۔۔مست چوپے۔۔۔ مست گانڈیں اور بڑے بڑے ممے ۔۔۔ ٹرپل ایکس۔۔۔۔ ایکشن واہ ۔۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر میرا تو نیچے سے مسلہ کھڑا ہونے لگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرا لن فل جوبن میں آگیا اور اتنی سختی سے کھڑا ہو گیا کہ میرا آرام سے فوٹو دیکھنا مشکل ہو گیا اور آہستہ آہستہ سیکس کی آگ میرے سارے بدن میں پھیلنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔



    پھر میں آؤٹ کنٹرول ہو گیا اور پھر میرا ایک ہاتھ خود بخود لن پر چلا گیا اور میں نے اسے پینٹ کے اوپر سے ہی مسلنا شروع کر دیا ۔۔۔ لن مسلتے مسلتے اور سیکسی فوٹوز دیکھ کر اب میں تھوڑا اور گرم ہو گیا ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو نہ پا کر میں نے پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔۔ پھر انڈر وئیر کے سوراخ سے لن کو باہر نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لن انڈر وئیر سے باہر آ کر مست ناگ کی طرح لہرانے لگا ۔۔۔ لن کے باہر آنے سے مجھے کافی راحت ملی ۔۔ اور اب میں بڑے آرم سے ایکشن پکچرز بھی دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ لن کو بھی مسل رہا تھا ۔۔۔
    اس میگزین کی تصوریں اتنی مست اور زبردست تھیں اور میں ان کو دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میں کہاں بیٹھا ہوں۔۔۔ میں تو بس فوٹو دیکھے جا رہا تھا اور لن کو ہاتھ میں پکڑے مسلسل دبا ئے۔۔۔۔رہا تھا۔۔۔۔۔۔ مسل رہا تھا



    ۔۔۔ پھر اچانک میں نے بی بی جی کی آواز سنی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔ بیٹا جی ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔کیا پڑھ رہے ہو ؟؟؟ بی بی جی کی آواز سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پاؤں میں بم پھاڑ دیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اور میری حالت ایسے ہو گئی۔۔ کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میں ان کی طرف دیکھا اور ویسے ہی آئیں بائیں شائیں ۔۔۔ کرنے لگا اور بولا ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ کچھ ۔۔۔۔ نہیں میں تو بس نیوز پیپر پڑھ رہا ہوں ۔۔ تو وہ کہنے لگی وہ تو میں بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ نیوز دیکھ رہے ہیں پھر کہنے لگی ویسے بائی دا وے آپ نے ایسی کون سی خبر پڑھ لی جو اتنا گھبرا رہے ہو۔۔۔ ان کی اس بات کا میں کیا جواب دیتا ۔۔ اخبار کے نیچے" پورنو " میگزین تھا اور میگزین کے نیچے میرا" تنا" ہوا لن تھا اور لن کے اوپر میرا ہاتھ رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ میرے چہرے کا رنگ بھی ا ڑا ہوا تھا سو اس سچئوشین میں مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا ۔۔۔۔ اس لیئے میں نے ان کی توجہ ہٹانے کے لیئے۔۔۔۔۔بلا سوچے سمجھے۔۔۔۔۔ ان سے کہ دیا کہ بی بی جی آپ نے بڑا اچھا پرفیوم لگایا ہوا ہے ۔۔۔ میری یہ بونگی سن کر وہ خاصی حیران ہوئی ۔۔۔۔ اور پھر اچانک ہی شرارت سے ہنس کر بولی ۔۔۔۔ ہاں وہ تو ہے۔۔ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ پھر اچانک بولی۔۔۔۔ تم لگاؤ کے یہ پرفیوم۔۔۔؟؟؟؟؟ قبل اس کے کہ میں ان کی بات کا کوئی جواب دیتا وہ چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہنے لگی۔۔۔ ۔۔اچھا بتاؤ تم کون سی خبر پڑھ رہے تھے ؟۔۔ یہ کہا اور پھر بڑی پھرتی کے ساتھ میرے ہاتھ سے اخبار چھین لیا۔۔ اور اخبار کے ساتھ ساتھ میگزین بھی ان کے ہاتھ میں چلا گیا ۔۔۔ جیسے ہی اخبار معہ میگزین ان کے ہاتھ میں گیا ۔۔ میں نے جلدی سے اپنا تنا ہوا لن ( جو اس وقت تک ان حالات کی وجہ سے کافی ڈھیلا پڑھ گیا تھا ) اپنی دونوں رانوں کے درمیان لے گیا۔۔۔۔۔اور پھر ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔ –




    اسی اثنا میں بی بی جی نے اخبار کے نیچے رکھا ہوا پورنو میگ دیکھ لیا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔ واقعی خبر تو بڑی ہی ۔۔۔ انٹرسٹینگ ۔۔۔۔ ہے اور میں نے دیکھا کہ یہ بات کرتے ہوۓ اس کے چہرے پر غصے کے کوئی آثار نہ تھے بلکہ اس کے بر عکس وہ ہلکہ سا مسکرا رہی تھی۔۔ یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی ۔۔۔۔ ۔۔ پر میں موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کچھ نہ بولا اور ویسے ہی مسکین شکل بنا کربیٹھا رہا ۔۔ وہ کچھ دیر تک میری طرف دیکھتی رہی پھر کوئی جواب نہ پا کر بولی ۔۔۔ویسے میں نے تو اپنی طرف سے اسے بڑی سیف جگہ پر چھپا رکھا تھا ۔۔ پتہ نہیں تم نے کیسے ڈھونڈھ لیا ۔۔۔ میں اب بھی خاموش رہا اور کچھ نہ بولا ۔۔۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔۔۔ ڈرو نہیں ۔۔۔ میں کافی دیر سے بیٹھی تمابرا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔ اور خاص کر جب تم پورے جوش کے ساتھ ۔۔۔ اپنے بائیں ہاتھ ۔۔۔ کو اوپر نیچے ۔۔۔ کر رہے تھے ۔۔ یہ بات کرتے ہوۓ آنٹی مسکرائیں۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کہنے لگیں۔۔۔ہر چند کہ تم نے اپنے سامنے میگزین کو رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔میں تما را "سامان" تو نہیں دیکھ سکی پر ۔۔۔ پر تمہارا جوش اور ہاتھ کو ہلانے کا منظر دیکھ بہت اچھا تھا ۔۔۔ آنٹی کے منہ سے یہ سن کر مجھے بہت اطمینان حاصل ہوا ۔۔۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے ٹانگوں میں دبکا ہوا ناگ۔۔۔ پھر سے سر اٹھانے لگا ۔۔ لیکن میں نے اسے کوئی لفٹ نہیں کرائی ۔۔۔اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔۔۔۔۔ مجھے چپ چاپ بیٹھے دیکھ کر آنٹی کہنے لگی۔۔۔۔۔ کچھ تو بولو یار ۔۔۔ تم تو ایسے چپ ہو کہ جیسے کوئی مر گیا ہو ۔۔ ۔۔۔ پر میں بولتا تو کیا بولتا۔۔۔۔۔۔۔ اس لیئے چپ رہا۔۔۔ پھر ان کے بار بار کہنے پر میں نے مری ہوئی آواز میں بس اتنا ہی کہا ۔۔۔ آئ ایم سوری آنٹی جی ۔۔۔۔ اس پر وہ اٹھلا کر کہنے لگی ۔۔۔ اس میں سوری کی کیا بات ہے؟ ۔۔۔



    مزے کرو یار ۔۔۔ اگر تم مجھ سے کہتے تو میں خود تم کو یہ میگزین نکال کر دے دیتی ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔ میں کوئی اولڈ فیشن لیڈی نہیں ہوں ۔۔ اور تم کو تو پتہ ہے کہ میں پنجاب یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ رہی ہوں اور ہوسٹل لائف بھی خوب انجواۓ کی ہے اور تم کو پتہ ہی ہو گا کہ ہوسٹل لائف کیسی ہوتی ہے؟؟؟ ۔۔۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ وہ بولی تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کو کتنی آزادی دی ہے؟؟ وہ اپنے منگیتر کے ساتھ آزادانہ گھوم پھر رہی ہے ۔۔ تمانرا کیا خیال ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ ۔۔۔۔۔ وہ لوگ کیا کرتے ہوں گے۔۔؟؟ آنٹی کی لمبی تقریرسے مجھے کافی حوصلہ اور میرا ناگ ۔۔۔ایک دم تن گیا اور میری دونوں رانوں کے پیچ مجھے اس کو سنبھلنا کافی مشکل ہو گیا ۔۔ پھر میں نے تھوڑا سا پہلو بدلا اور اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔ وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور میرا خیال ہے وہ معاملہ کو کچھ کچھ سمجھ بھی رہی تھی ۔۔۔۔ کہ میری رانوں کے بیچ ۔۔۔ کچھ گڑبڑ چل رہی ہے۔۔۔ تب وہ مجھ سے بولی تکلیف کے لیئے معزرت ۔۔۔۔۔۔ اور میگزین میری طرف بڑھا کر بولی یہ لو میگزین اور انجواۓ کرو ۔۔۔ میں تو ایسے ہی تم کو تنگ کر رہی تھی ۔۔۔۔ اور میگزین میری طرف بڑھا دیا آنٹی اور میرے بیچ کافی فاصلہ تھا اتنا کہ ۔۔ یا تو وہ آگےبڑھ کر میگزین کو میرے ہاتھ میں پکڑاتی ورنہ مجھے آگے بڑھ کر پکڑنا پڑتا۔۔۔۔( لیکن میں اُٹھ نہیں سکتا تھا اس کی وجہ یہ تھی اس وقت میری پینٹ کی زپ کھلی ہوئی تھی۔۔۔اور لن صاحب ۔۔۔ فل اکڑے ہوئے تھے۔) ۔۔ اس لیئے میں کسی بھی صورت اپنی جگہ سے اُٹھ ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ اس لیئے بیٹھا رہا۔۔۔۔۔۔


  8. The Following 2 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    fahadfraz (18-06-2019), jerryshah (17-06-2019)

  9. #6
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    دوسری طرف انہوں نے چند سیکنڈ انتظار کیا۔۔۔۔اور جب میں اپنی جگہ پر بیٹھا رہا تو اچانک ہی وہ بڑے غصے سے بولی ۔۔۔۔ ان کی آواز اتنی کڑک دار۔۔۔۔اتنی رعب دار۔۔۔۔۔ اور غصیلی تھی کہ آواز سنتے ہی میں گھبرا کر ایک دم کھڑا ہو گیا اور مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میرا لن پینٹ سے باہر نکلا ہوا ہے ۔۔ اور پھر اسی گھبراہٹ میں میں آنٹی کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔ صورت ِ حال یہ تھی کہ اس وقت میرا لن پینٹ سے باہر نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی مست ناگ کی طرح لہرا رہا تھا ۔۔۔ ادھر جیسے ہی ان کی نظر میرے مست ناگ پر پڑی تو۔۔۔۔ اسے دیکھ کر۔۔۔۔۔ ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ اور وہ بے اختیار بولی ۔۔۔۔۔۔ باپ رے ۔۔۔ تم ۔۔۔تم اتنے سمارٹ سے لڑکے اور ۔۔۔اور۔۔۔ یار ۔۔۔تم تو پورے مرد ہو ۔۔ بلکہ مرد کیا ۔۔۔ مردوں سے بھی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اور اس دوران جیسے ہی مجھے یاد آیا کہ ۔۔۔۔۔ کہ میرا لن ننگا اور ۔۔۔ اکڑا ہوا ہے میں نے فوراً ہی اپنے ہاتھوں سے لن کو ڈھانپ لیا اور پیچھے کی طرف ہونے لگا ۔۔ اتنی دیر میں ان کی حیرانی کچھ کم ہو چکی تھی اور وہ بولی ۔۔۔۔ارے ۔۔۔ ارے ۔۔۔ کہاں بھاگے جا رہے ہو ۔۔۔۔ ادھر تو آؤ ۔۔۔۔ اور اصرار کر کے مجھے اپنے پاس بلا لیا۔۔۔۔۔



    اور میں ڈرتے ڈرتے ان کے نزدیک جا پہنچا تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔۔اور میرے لن پر رکھے دونوں ہاتھ ہٹا دیئے ۔۔۔۔ اب میرا موٹا ۔۔۔ سا ڈنڈا ۔۔۔ ان کی آنکھوں کے بلکل سامنے تھا اور میں نے ایک بار بھر ان کی آنکھوں کو ڈھیلوں سے باہر آتے دیکھا اور وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ باپ رے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو بہت بڑا ۔۔۔۔ لوڑا ۔۔۔۔ ہے تم تو پورے مرد ہو ۔۔۔۔ بلکہ مرد نہیں مردوں کے بھی باپ ہو ۔۔۔۔ ریلی ۔۔۔ اتنا بڑا ۔۔۔ تو حبشیوں کا ہوتا ہے ۔۔۔ اکثر آنٹیوں کی طرح وہ بھی مجھ جیسے دبلے سے لڑکے سے اتنا بڑے لن کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔ میرا موٹا اور لمبا لن ان کے لیئے کافی حیران کن تھا —

    پھر آنٹی نے شاید اسی حیرانگی کے زیر اثر چیک کرنے کی خاطر میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے مختلف زاویوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ جیسے میرا لن نہ ہو کوئی عجوبہ ہو ۔۔۔ ان کے اس طرح لن پکڑنے سے مجھے تو بڑا مزہ آرہا تھا اور ویسے بھی انہوں نے لن پکڑ کر میرا رہا سہا ڈر بھی ختم کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر تک میرے لن کا معائینہ کرتی رہیں ۔۔ پھر جیسے ہی انہوں نے لن پر رکھا ہاتھ ہٹانا چاہا۔۔۔ تو پتہ نہیں کیسے میں نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر انہوں نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔؟؟؟؟ پھر خود ہی کہنے لگی اوہ۔۔۔ تم چاہتے ہو کہ میں اسے پکڑے رکھوں ؟ میں نے سر کو ہاں میں ہلا دیا اور ان کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔۔۔ میری اس بات سے آنٹی کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا ۔۔پھر انہوں نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور میں نے ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا ۔۔۔۔

    لن تو پہلے ہی ان کے ہاتھ میں تھا پر اب رنگ کچھ دوسرا ہو گیا تھا اب انہوں نے لن کو ہلکا سا دبایا جس سے مجھے کرنٹ سا لگا اوراب انہوں نے لن کو مزید دبانا شروع کر دیا پھروہ مجھےساتھ لیکر سامنے صوفے پر پیٹھ گئ اوردوبارہ لن کو پکڑ کر اس پر ہلکہ ہلکہ مساج کرنے لگی انہوں نے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنی تھی سو ان کا ہاتھ میرے تنے ہوۓ لن پر جیسے جیسے اوپر نیچے ہوتا ۔۔۔تو اس کے ساتھ ساتھ چوڑیوں کی چھن چھن اک عجیب مزہ دیتی تھی ۔۔۔ ویسے بھی ان کی نازک ہتھیلی میرے سخت لن پر بڑا مست ماحول بنا رہی تھی۔ وہ میرے لن کی مٹھ مارنے کے ساتھ ساتھ مجھے بڑے ہی غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔ان کا نرم نرم ہاتھ میرے لن پر عجیب سا مساج کر رہا تھا۔۔۔۔۔ جس سے مجھے بہت مزہ مل رہا تھا۔۔۔۔ پھرکچھ دیر بعد جیسے ہی میرا بدن اکڑنا شروع ہوا ۔۔۔وہ ایک دم چونکی۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ چھوٹنے والے ہو۔۔ ؟ اور میں نے ہاں میں سر ہلایا اور سیدھا ہونے لگا اورپھر میں نے ان سے کہا کہ ۔۔۔ آنٹی پلیز لن کو تھوڑا سا چکنا کر لیں تو وہ بولی ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔ایسے مزہ نہیں آ رہا ۔۔۔؟ تو میں نے کہا آ رہا ہے پر۔۔۔۔۔اگر آپ اسے تھوڑا سا چکنا کر لیں گی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ مزے لیتے ہوۓ بولی ۔۔۔ تم لن کو چکنا کر نے کےلیئے کیا چیز لگاتے ہو؟
    ۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ میں تو تھوک لگا کر مٹھ مارتا ہوں۔۔۔۔اس پر وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی۔۔۔ ان کی آنکھوں سے شہوت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔اب انہوں نے اپنے منہ میں کافی سارا تھوک جمع کیا۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ اور اپنا منہ ٹوپے کے پاس لا کر اس پر ایک بڑا سا تھوک کا گولہ پھینکا۔۔۔۔اور پھر اس تھوک کو سارے لن پر پھیلا دیا۔۔۔۔ اوراس کے بعد لن پر تیز تیز ہاتھ چلانے لگی ۔۔ اس کے ساتھ ہی ان کی چوڑیوں چھن چھن بھی تیز ہوتی گئی ۔۔۔۔۔



    انہیں لن پر ہاتھ چلاتے ہوۓ کچھ ہی دیر ہوئ تھی کہ میرے لن سے منی کی ایک تیز دھار پچکاری نکلی ۔۔۔۔۔ جو سیدھی ان کے منہ پر جا ٹکرائ ہی اپنا دوسرا ہاتھ میرے ٹوپے کے آگے کر دیا اور ً ۔۔ انہوں نے فورا اس کے ساتھ ہی میرے لن کی ڈائیریکشن اپنی ہتھیلی کی طرف کر دی ۔۔ اس طرح اب میری منی ان کی ہتھیلی پر گرنے لگی ۔۔۔ اور ادھر میں نے جھٹکے لے لے کر ڈسچارج ہونا شروع کر دیا اس دوران وہ مسلسل میری طرف دیکھتے ہوۓ میرے لن پر اپنا ہاتھ چلاتی رہی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ منی کا آخری قطرہ نکلنے تک ۔۔۔ وہ مسلسل میرے لن پر ہاتھ چلاتی۔۔۔۔اور دوسرے ہاتھ پر منی جمع کرتی رہی ۔۔ جب میں پوری طرح ڈسچارج ہو کر شانت ہو گیا ۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔ اتنی منی۔۔ !!!۔۔۔( میرے خیال میں لن نے کچھ زیادہ ہی منی گرا دی تھی) ۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی ہتھیلی کو میرے سامنے کیا اور کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔تم نے کب سے مٹھ نہیں ماری؟ میں اس وقت۔۔۔۔ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اس لیئے کوئ جواب نہ دے سکا ۔۔ ادھر میرا کوئ جواب نہ پا کر انہوں نے اپنے منہ پر لگی ہوئی میری منی ایک انگلی سے صاف کی اور پھر دوسرے ہاتھ پر جمع کی ہوئ منی سب ملا کر میرے نیم کھڑے لن پر مل دی اور بنا کوئی بات کیئے اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔

    جیسے ہی بی بی جی جانے کے لیئے اٹھی ۔۔۔ تو مجھے جیسے ہوش آ گیا ۔۔۔۔ اور میں نے جلدی سے کہا۔۔۔ ایکسکیوز می ۔۔۔۔ وہ ۔۔ کن اکھیوں میرے لن کی طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ اب کیا رہ گیا ہے ؟؟؟؟ ۔۔تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ وہ پرفیوم ۔۔۔۔ والی بات تو پیچ میں ہی رہ گئی۔۔۔ انہوں نے ایک بار پھر کن اکھیوں سے میرے لن کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔ اس پرفیوم کی سمیل کا کیا کرو گے؟۔۔ مجھے جانے دو ۔۔۔اس وقت میں نے ان کو پکڑا ہوا نہ تھا۔۔۔بلکہ۔۔ ان سے تھوڑی دور کھڑا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ ایسا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب میڈم ایسے ہی نخرہ کر رہی تھی ۔۔۔میں بات سمجھ گیا اور پھر میں نے ان سے اصرار کر کے ۔۔۔ پلیز بی بی جی ۔۔۔۔ تیار تو وہ پہلے سے ہی تھی بس اپنا بھاؤ بڑھا رہی تھی سو میرے اصرار پر اس نے مجھے بالوں سے پکڑا اور میرا سر نیچے کی طرف کر کے بولی ۔۔۔۔۔۔۔ لے لو سمیل۔۔۔۔ اور میں نیچے بیٹھ گیا اور ان کی قمیص ایک سائیڈ پر کر کے اپنی ناک عین ان کی چوت سے لگا دی ۔۔۔ ان کی پتلی سی شلوار گیلی ہو کر ان کی چوت کی ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔۔۔ اور وہاں بڑی مست مہک آ رہی تھی جو ان کی منی اور پھدی۔۔۔۔ دونوں کی مکسر تھی۔۔۔۔ میں نے اپنی ناک عین ان کی پھدی کے دونوں لبوں کے درمیان رکھی۔۔۔۔۔اور لمبے لمبے سانس لے کر یہ مست اور زبردست مہک اپنے اندر اتارنے لگا ۔۔۔۔۔ مہک اتنی مست تھی کہ میں کچھ ان کی چوت سے ناک لگائے۔۔۔۔ اسے سونگھتا رہا ۔۔۔ پھر میں غیر محسوس طریقے سے اپنا ہاتھ ان کی شلوار کے آزار بند کر طرف لے گیا اور ان کا ناڑہ کھول دیا بھر ان کی شلوار نیچے کر کے ان کی ایک ٹانگ شلوا ر سے آزاد کر دی اور دوسری ٹانگ انہوں نے خود ہی صوفے پر رکھ دی ۔۔ اس دوران انہوں نے میری کسی بھی بات پر روک ٹوک نہیں کی اور میں جو بھی کرتا گیا انہوں نے کرنے دیا۔۔۔۔۔

  10. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    jerryshah (17-06-2019)

  11. #7
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    اب ان کی ننگی پھدی میرے سامنے تھی ۔۔۔۔ جو کافی بڑی (بڑی مطلب اور ڈبل ر وٹی کی طرح ابھری ہوئی تھی ) ان کی پھدی کی لائین بہت لمبی ، نرم اور موٹی تھی ۔۔۔ان کی چوت سنہرے رنگ کے بالوں سے اٹی پڑی تھی جو کافی لمبے تھے۔۔۔۔ جبکہ ساری پھدی ان سلکی بالوں سے پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ شاید انہی بالوں کی وجہ سے ان کی چوت سے بڑی سٹرانگ مہک نکل رہی تھی اب میں نے اپنا منہ ان کی پھدی کے بلکل پاس لےگیا اور اپنا ناک ان کے بالوں کے بیچ کر کے گہرے گہرے سانس لینے لگا ان کی پھدی کی یہ مہک میرے انگ انگ میں ایک زبردست سا نشہ بھر رہی تھی ۔۔۔۔ا ف ۔۔ ف۔۔ ف۔۔ کای بتاؤں دوستو۔۔۔یہ مہک اتنی سٹرانگ اور زبردست تھی ۔۔ کہ مجھے ۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میرے منہ سے زبان باہر نکلی اور کب اس نے سنیرے بالوں والی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ ۔ میں نے ان کی پھدی کے لبوں کو اپنے دونوں انگوٹھوں کی مدد سے پیچھے کی طرف کیا اور پھر ان کی چوت میں اپنی زبان داخل کر دی ۔۔۔۔۔ بی بی جی نے ایک مست سسکی لی۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ اور پھر بڑے ہی پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔۔۔ ان کی چوت پہلے سے ہی کافی گیلی تھی اور پھدی کی دیواروں سے ان کی منی چپکی ہوئ تھی جسے میں نے چاٹ چاٹ کر صاف کر دیا نمکین پانی ان کی چوت سے مسلسل بہہ رہا تھا اور کچھ رس میری زبان سے چپک رہا تھا ۔۔۔۔اور میں بڑے جوش سے ان کی چکنی چوت چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔


    ابھی مجھے چوت چاٹتے ہوۓ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بی بی جی کی سسکیوں کی رفتار مزید بڑھ گئ ۔۔۔ اب وہ بھی پوری طرح مست ہو چکی تھی اور بڑی ہی نشیلی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ لڑکے ۔۔۔۔۔ تم بہت اچھا چاٹتے ہو۔۔۔ا ف ف ف ۔۔۔س۔س۔س۔س سس۔۔۔۔۔۔۔ پھر ا نہوں نے بڑے سیکسی لہجے میں کہا۔۔ایسے ہی میری پھدی چاٹتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اپنے ہاتھ کو میرے بالوں سے ہٹا دیا اور اپنا یک ہاتھ اپنے دانے پر لے جا کر اسے تیز تیز مسلنے لگی۔۔۔ جس کی وجہ سے میں سمجھ گیا کہ بی بی جی چھوٹنے والی ہے ۔۔ اس کے ساتھ ہی ان کی انگلیاں اپنے دانے پر تیز تیز اور تیز چلنے لگیں ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے بھی ان کی چوت سے اپنی زبان باہر نکال لی اور ان کی پھدی کے عین نیچے لے گیا کہ مجھے معلوم تھا کہ اب ان کی چوت کا پانی یہاں سے نکلے گا ۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ایک لمبی سی سسکی لی ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کی چوت سے منی کی نکلنا شروع ہو گئی۔۔۔۔جسے فورا ہی میں نے اپنی زبان پر لے لیا۔۔۔اور پھر اپنی زبان کو ان کی پھدی کے اندر لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔پھدی میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا گرم ۔۔۔ نمکین اور سوادیش سو میں ان سے جی بھر کے اس سے لطف اندوز ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    ادھر میرا لن پھر سے ریڈی ہو چکا تھا اور اب معاملہ میرے بس سے باہر ہوتا محسوس ہو رہا تھا سو میں اپنی شہوت کے ہاتھوں مجبور گیا اور ۔۔۔ ان کی چوت سے منہ ہٹا لیا اور بی بی جی کو دھکا دے کر گرا دیا اور ان کو صوفے پر لٹانے کی کوشش کرنے لگا وہ میری حالت دیکھ کر ساری بات سمجھ گئی اور بڑے ہی پیار سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ میری جان تم مجھے چودنا چاہتے ہو نا؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی چودائ کے لیے مرے جا رہی ہوں ۔۔۔ پر یہاں تورڑا خطرہ ہے ۔۔۔ تم ایسا کرو کہ ٹھیک دس منٹ بعد میرے بیڈ روم میں آ جانا۔۔۔ آج چوھدری صاحب بھی نہیں ہیں پھر تھوڑی تلخی سے بولی وہ ہوتے بھی تو رات سے پہلے کبھی نا آتے ۔۔۔ لیکن آج وہ کسی کام سے شہر گئے ہوۓ ہیں ۔۔۔ ان کے سوا ہمارے روم میں کوئی بھی نہیں آتا ۔۔۔ پھر بھی میں بندوبست کر دوں گی ۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ جب ماسی فخرو میرے روم کے باہر بظاہر چاول صاف کرنے بیٹھی ہو تو تب تم بے دھڑک اندر آ جانا اور ہاں ماسی سے ڈرنے کی کوئ ضرورت نہیں کہ ماسی اپنا بندہ ہے وہ تماترے سوا کسی کو بھی اندر نہیں آنے دے گی۔۔۔۔۔ بی بی جی نے یہ کہا اور شلوار پہن کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔



    وہ دس منٹ میرے لیئے دس صدیوں کے برابر ہو گئے تھے ۔۔۔ بالآخر۔۔ کافی انتظار کے بعد مجھے ماسی فخرو نظر آئی جو ان کے روم سے تھوڑا ہٹ کر ایک بڑی سی پرات میں پڑے چاول صاف کر رہی تھی ۔۔ماسی فخرو کو چاول صاف کرتے دیکھ کر میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔ فورا ہی بی بی جی کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔ جیسے ہی میں ماسی فخرو کے پاس سے گزرا ۔۔۔تو ماسی نے ایک عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر چاول چننے میں مصروف ہو گئی ۔۔ میرے سر پر منی سوار تھی سو میں نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور تیز تیز چلتا ہوا کمرہ داخل ہو گیا –


    خوب صورت ۔۔ سیکسی اور مست میڈم میرا ہی انتظار کر رہی تھی جیسے ہی میں کمرہ میں داخل ہوا ۔۔۔وہ بولی کنڈی لگا دو۔۔۔ اور میں کنڈی لگا کر جیسے ہی ان کہ طرف بڑھا وہ باہیں پھیلا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ اور پھر ہم نے ایک دوسرے کو بڑی ہی ٹائیٹ ہگ دیا ۔۔۔ اس نے مجھے بڑے زور سے دبایا ۔۔ اس کے ساتھ اس کے موٹے ممے بھی میرے سینے کے ساتھ پریس ہو گئے ۔۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔ میری جان تم تو سیکس ماسٹر ہو۔۔ اتنی سی عمر میں تم نے یہ سب کہاں سے سیکھ لیا ۔۔۔۔۔ پھر خود ہی بولی ۔۔۔۔ یقیناً کوئی بڑی زبردست استاد ملی ہے تم کو۔۔۔ پھر انہوں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنا منہ میرے پاس لا کر بولی۔۔۔ ایک کس دو میری جان۔۔۔ اور میں نے ان کے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگا ۔۔۔ ان کے ہونٹ بڑے نرم اور رسیلے تھے سو میں ان نرم ہونٹوں کا رس پینے لگا ۔۔۔۔۔ کچھ د یر بعد ان کی زبان میرے ہونٹوں سے ٹکرائ جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اب اپنی زبان میرے منہ مین ڈالنا چاہتی ہے تب میں نے ان کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اپنی زبان ان کی زبان سے ٹکرا دی ۔۔۔۔۔ انہوں نے اس ہی جواب دیا اور اپنی پوری زبان میرے منہ میں ڈال دی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔ اب ہم ایک دوسرے کی زبان کو چاٹ رہے تھے ایک دوسرے کا تھوک ٹیسٹ کر رہے تھے جو آزادی سے ایک دوسرے کے منہ میں آ جا رہا تھا۔۔۔ اس طرح کافی ہی دیر گزر گئ اور ہم ٹنگ کسنگ کرتے رہے۔۔۔۔۔۔ لگ رہا تھا کہ وہ بھی میری طرح ٹنگ کسنگ کی بڑی شوقین ہے۔۔۔ کیونکہ وہ میری زبان سے اپنی زبان بار بار ٹکراۓ جا رہی تھی اور میرے ہونٹ چوس رہی تھی ۔۔۔ پھر مین نے ہی اپنا منہ اس کے منہ سے الگ کیا اور اس کے بڑے بڑے ممے دبانے لگا۔۔۔۔


  12. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    jerryshah (17-06-2019)

  13. #8
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    پھر میں نے ان کو قمیض اتارنے کو کہا اور خود ان سے الگ ہو کر ایک منٹ میں ہی ننگا ہو گیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ بھی ننگی ہو کر میرے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ دودھ اور مکھن کی پلی بی بی جی میرے سامنے ننگی کھڑی تھی ٹیوب لائیٹ کی روشنی میں اس کا گورا بدن بڑا چمک رہا تھا میں کبھی آنٹی کو دیکھتا اور کبھی ٹیوب لائیٹ کی روشنی کو ۔۔۔۔ اور میرے لیئے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ اس وقت ان دونوں میں سے زیادہ دودھیا روشنی کس میں سے نکل رہی ہے ۔۔۔ میڈم کی بیوٹی۔۔۔۔ چمک دمک۔۔۔اور گریس دیکھنے لائق تھی۔۔۔


    ۔۔۔۔ ان کے ممے کافی بڑے۔۔۔ موٹے ۔۔۔ پر تھوڑے لٹکے ہوۓ تھے ۔۔۔۔ رنگ ان کا دودھیا سفید اور نپل کافی موٹے اور ڈارک براؤن رنگ کے تھے ۔۔۔ اب میں نے ان کا ایک نپل اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا ۔۔۔ جبکہ دوسرے نپل کو اپنی دو انگلیوں میں لے کر مسلنے لگا ۔۔۔ اور وہ بڑے پیار سے میرے سر پر انگلیاں بھیرنے لگی ۔۔۔ کافی دیر تک میں باری باری ان کے دونوں نپل چوستا رہا ۔۔۔ پر۔۔۔ میرا لن مجھے بڑا تنگ کر رہا تھا ۔۔ سو میں نے ان کے ممے سے اپنا منہ الگ کیا اور تھوڑا پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ جیسے ہی میں پیچھے کی طرف ہٹا ۔۔۔ آنٹی نے آگے بڑھ کر مجھے
    دبوچ لیا اور کسنگ کرنے لگی پر اس دفعہ ان کا کسنگ ٹائم بہت تھوڑا ثابت ہوا۔۔۔۔ انہوں نے میری زبان چوسی ۔۔۔ تھوک کا مزہ لیا پھر ان نے میرے ہوٹوں کو چاٹتے ہوے ایک لکیر سی بناتی ہوئ نیچے کی طرف آنے لگی اور پھر وہ ۔۔۔۔ میرے بدن کو چاٹتے چاٹتے ۔۔۔۔ لن تک آگئی۔۔۔۔ جو کہ اس وقت پوری طرح سے تنا کھڑا تھا ۔۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا منہ کھولا اور میرے لن کا ٹوپا اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔ان کا منہ کافی ہاٹ ۔۔ گیلا اور گرم تھا ٹوپا منہ میں لے کر اپنی زبان کو اس کے چاروں طرف گھومانے لگی اور پھر اپنے منہ میں لن لے لیا ہی لن کو منہ سے باہر نکالا اور بولی ً اور اسے چوسنے لگی پھر فوراً ہی لن کو منہ سے نکال کر بولی۔۔۔تم نے لن دھویا نہیں تھا کیا۔۔؟؟؟؟؟؟ ُ ۔۔۔

    تو میں نے کہا سوری مجھے یاد نہیں رہا ۔۔۔ میں نے لن نہیں دھویا تھا۔۔۔۔ پھر میں نے پوچھا ۔۔کیوں ۔۔؟ وہ بولی نہیں کچھ نہیں بس ویسے ہی پوچھ لیا تھا ۔۔۔۔۔اصل میں میرے لن پر میری ہی منی لگی ہوئی تھی ۔۔۔جس کا سواد ان کے منہ میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ پھرسے میرے لن پر جھکی اور اپنی زبان نکال کر پورے لن کے گرد گھومانے لگی ۔۔۔۔ اس طرح انہوں نے میرے لن پر لگا پرانا ملبہ چاٹ کر صاف کر دیا لیکن وہ ملبہ انہوں نے باہر نہیں پھینکا بلکہ منہ میں ہی رہنے دیا اور پھر پورے لن کو منہ میں لے لیا اور اسے چوسنےلگی ۔۔ ان کا منہ اتنا گیلا گرم اور لن چوسنے کا سٹائل اس قدر شاندار تھا کہ میں بے اختیار مزے سے کراہنے لگا۔۔ آہ۔۔۔۔۔ آہ کرنے لگا تب انہوں نے اپنا منہ لن ہٹایا اور بولی۔۔کیوں ۔۔مزہ آرہا ہے نا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔ تو میں نے کہا ہاں بہت مزہ آرہا ہے۔۔۔ یہ سن کر انہوں نے پھر سے سر جھکا کر سارا لن منہ میں لے لیا اور بڑے سٹائل سے اسے چوسنے لگی پھر انہوں نے میرا پورا لن منہ میں لینے کی کوشش کی لیکن لے نہ پائی۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے آہستہ سارل لن منہ سے نکالا اور اپنے منہ میں جمع شدہ ساری منی پلس تھوک لن پر پھینک دیا اور اپنے ہاتھوں سے اسے لن پر ان کا ہاتھ پکڑلیا تو وہ میری مٹھ مارنے لگی ۔۔ جس سے مجھے مزہ تو آیا لیکن ۔۔۔۔۔ ابھی میں ان سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ میری طرف دیکھ کر بولی کیا ہوا میری جان؟۔۔۔۔۔۔ تو میں نے کہا میں نے اندر ۔۔۔۔۔ –ڈالنا ہے ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ڈالو نا۔۔ منع کس نے کیا ہے تھوڑا سا اور لن چوسنے دو۔۔۔کہ میں بڑے دنوں بعد اتنا زیادہ گرم ہوئی ہوں ۔۔ پھر خود ہی کھڑی ہو گئی اور بولی ۔۔۔۔۔ چلو پہلے تم میری پھدی مار ۔۔۔۔ ہی لو۔۔۔


    جیسے ہی وہ کھڑی ہوئ ایک دفعہ پھر میری نطر ان کی بالوں سے ڈھکی پھدی پر پڑی ۔۔۔۔اور میں بے اختیار نیچے جھک گیا اور اپنی ناک ا ں سنہرے بالوں سے ڈھکی چوت سے لگا دی یہ دیکھ کر انہو نے اپنی ٹانگیں تھوڑی اور کھول دیں اور میں ایک بار پھر ان کی گیلی چوت سے ا ٹھنے والی زبردست سمیل کو انہیل کرنے لگا ۔۔۔ ان کی پھدی۔۔۔۔بڑی گرم تھی اور ان کی چوت کے بال پھدی گیلی ہونے کی وجہ سے ان کی چوت کے ساتھ چپکے ہوۓ تھے ۔۔۔ میں نے ان گیلے بالوں کو زبان نکال کر چاٹنا شروع کر دیا اور کچھ دیر تک چاٹتا ہی رہا۔۔ بڑا مزہ آرہا تھا اور میں ابھی اور مزہ لینا چاہتا تھا پر انہوں نے میرا سر اپنی چوت سے ہٹایا اور بولی ۔۔۔ ۔۔ سیکسی ۔۔۔ بواۓ ۔۔۔ میری جان تم کو میری چوت کی سمیل بڑی پسند ہے ۔۔۔۔ ضرور سونگھو پر۔۔۔۔۔۔۔ اب میری چوت کو تمہاری زبان کی نہیں سخت لن کی ضرورت ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔


    انہوں نے یہ کہا اور خود ہی پلنگ پر جا کر گھوڑی بن گیئں ۔۔ اور پھر میری طرف دیکھ کر اپنی موٹی سی گانڈ پر ہلکے ہلکے تھپڑ مارنے لگی اور بولی ۔۔۔ مجھے اس سٹائل میں مروانے کا بڑا مزہ آتا ہے ۔۔ جلدی آؤ اور مجھے اس سٹائیل میں چودو ۔۔۔ اپنا موٹا لن ڈالو نا۔۔۔ وہ فل موڈ میں لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اسی اثنا میں میں بھی بیڈ پر پہنچ گیا تھا ۔۔۔ مجھے آتے دیکھ کر انہوں نے اپنا سر تکیے پر رکھ دیا اور اپنی گانڈ تھوڑی اور اونچی کر دی ۔۔۔اور مستی میں آ کر گانڈ کو ہلانے لگی ۔۔۔ وہ جوبن میں لگ رہی تھی ۔۔یعنی کہ۔۔۔۔اس وقت ۔ لوہا پوری طرح گرم تھا۔۔۔ اب میں بی بی جی کے پیچھے چلا گیا اور مجھے ان کی گانڈ کی لکیر کے بیچ ایک سوراخ نظر آیا جو نہ تو بہت چھوٹا تھا اور نہ ہی بہت بڑا ۔۔۔ دودھیا رنگ کی گانڈ میں براؤن رنگ کا یہ سوراخ کہ جس کے آس پاس بہت ساری لکیروں کا دائرہ سا بنا ہواتھا جو دیکھنے میں بہت اچھا لگا۔۔۔پھدی کی طرح ان کی گانڈ کا دھانہ بھی سنہرے رنگ کے گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور اس دھانے کے اینڈ سے آف وائیٹ پانی رس رس کر نیچے رانوں پر لکیر سی بناتا ہوا جا رہا تھا میں نے اپی دونوں انگلیوں سے ان کے دونوں سوراخوں کا مساج کرنے لگا اصل میں ان کے دونوں سوراخ ہی بڑے دلکش تھے اور مجھ سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ میں اپنا لن ان میں سے کس سوراخ میں داخل کروں ۔۔۔ اب میں نے اپنا لن ہاتھ میں پکڑا اور دونوں سوراخوں پر ہلکہ ہلکہ رگڑنے لگا وہ بھی میری رگڑ کا مزہ لیتی رہی ۔۔۔ پھر بولی ۔۔۔ ڈالو نا ۔۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا آنٹی جی یہ بتاؤ کہ میں آپ کے کس سوراخ میں اپنا لن ڈالوں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟


  14. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    jerryshah (17-06-2019)

  15. #9
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ ۔۔۔ میری طرف سے تمہیں دونوں کی آفر ہے ۔۔۔ پر پلیز پہلے میری چوت مارو ۔۔۔۔ کہ میری پھدی۔۔۔۔۔ سیکس کی آگ میں بری طرح سے جل رہی یے ۔۔۔سو میں نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوۓ آنٹی کی بالوں والی چوت کے سوراخ پر لن رکھا اور زور سے جھٹکا مارا ۔۔۔۔ آنٹی کی چوت میں لن بغیر کیسی رکاوٹ کے گہرائ تک چلا گیا ۔۔ اور آنٹی نے مستی میں آ کر ایک چیخ ماری ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ تو میں نے ویسے ہی پوچھ لیا کہ کیا ہوا آنٹی ۔۔۔۔؟ تو وہ کہنے لگی تمھارے طاقتور جھٹکے نے میری جان نکال دی تھی ۔۔۔۔۔ ان کی یہ بات سن کر میں مزید جوش میں آگیا اور ان کی چوت میں لن تیزی سے ان آؤٹ کرنے لگا ۔۔۔ ادھر آنٹی ۔۔۔ کے منہ سے سیکسی آوزیں نکل رہی تھیں ۔۔۔ سسسس ۔۔۔۔س۔ آہ ہ ہ ۔۔ اور زار سے مار۔۔۔ اور ۔۔۔۔ مار۔۔ یسسس۔۔۔ میں کافی دیرسے تھا ان کی چوت مار رہا تھا۔۔۔۔ کہ اچانک آنٹی نے مجھے سٹائیل تبدیل کرنے کو کہا اور کہنے لگی لن نکال کر نیچے لیٹ جاؤ اب میں تم کو چودوں گی ۔۔۔ اور پھر وہ میرے اوپر آگئ ۔۔۔ پھر انہوں نے تھوڑا سا تھوک اپنے منہ سے نکال کر میرے ٹوپے پر لگایا اور لن کو نیچے سے پکٹر کر اپنی پھدی کے سوراخ پر ایڈجسٹ کیا اور ۔۔۔ آہستہ آہستہ میرے لن پر بیٹھنے لگی ۔۔۔ اور پھر انہوں نے میرا سارا لن اپنی چوت میں لے لیا اور میرے اوپر بیٹھ گئ ۔۔۔ اب مجھے ان کے چوتڑ اپنی رانوں پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھے اور مجھ پر جھک گئ ۔۔۔۔ اور اپنا منہ میرے منہ کے ساتھ جوڑ کر اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔۔


    اب پوزیشین یہ تھی کہ ہمارے منہ آپس میں جڑے ہوۓ تھے اور ہماری زبانیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں جبکہ دوسری طرف آنٹی بڑی مہارت سے اپنے چوتڑ اوپر نیچے کر رہی تھی ۔۔۔ جس سے میرے لن ان کی ُ چوت میں بڑی روانی سے ان آؤٹ ہو رہا تھا میرے خیال میں آنٹی کو اس سٹائیل کی بڑی مشق تھی کیونکہ وہ بڑی آسانی سے بیک وقت کسنگ بھی کر رہی تھی اور لن کو اپنی چوت میں بھی ان آؤٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔ پھر انہون نے اپنا منہ میرے منہ سے ہٹا لیا اور کہنے لگی ۔۔۔۔


    میرے ممے دباؤ ۔۔۔۔ اور خود تیزی سے اپ ڈاؤن ہونے لگی ۔۔۔ اس وقت آنٹی کی آنکھیں بند تھیں اور وہ منہ سے بڑی عجیب عجیب آوازیں نکال رہی تھیں ۔۔۔ میرے خیال میں اب وہ فائینل سٹیج پر آ گئ تھیں بھر انہوں نے ایک بڑی سے سسکی لی ۔۔۔۔۔۔ اور فل آواز میں بولی۔۔۔۔۔ آآآآآآہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں مر گئ ۔۔۔ چھوٹے مار دیا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آآآآآج مر گئ چودھرائن ،،،،،،،، اوئ ئئ ماں ں ں ں ں ۔۔۔ بھر انہوں نے اپنے دونوں بازو میری گردن میں ڈال دیۓ اور بڑی ہی تیزی کے ساتھ اپنے کولھے اوپر نیچے کرنے لگی ۔۔۔۔ تیزی سے اپ ڈاؤن ہونے کی وجہ سے وہ پسینے میں شرابور ہو گئیں تھیں اور ُ ان کی سانس لینے کی رفتار بھی بڑھ گئی تھی ۔۔۔ ادھر ان کی پھدی میں ان آؤٹ ہوتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے لن کو کچھ زیادہ ہی جوش میں آیا ہوا محسوس کر رہا تھا اور پھر میں نے بھی نیچے سے آنٹی کے جھٹکوں کا جواب دینا شروع کر دیا اورپھر ایک ٹائم وہ آ گیا کہ ہم دونوں نے پاگلوں کر طرح جھٹکے مارنے شروع کر دیئے اور پھر ۔۔۔۔۔ پسینے میں بھیگی ہوئ آنٹی جھٹکے مار مار کر بری طرح ہانپنے لگی لمبے لمبے لنے لگی ۔۔۔اور اس کے ساتھ ان کی گیلی چوت میرے موٹے اور سخت لن کے ساتھ ساتھ چمٹ گئی ۔۔۔اور وہ ۔۔۔۔۔ ان جھٹکوں کے بیچ میں ہی فارغ ہوتی گئی ۔۔۔۔ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گئیں ۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    .---

  16. The Following User Says Thank You to shahg For This Useful Post:

    Admin (22-06-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •