اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں

Results 1 to 6 of 6

Thread: عاصمہ جی

  1. #1
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default عاصمہ جی

    عاصمہ جی

    ہیلو دوستو کیسے ہو آپ ؟ تھینک یو کہ آپ نے میری پچھلی سٹوری پر اچھا رسپانس دیا۔ اب ہم اگلی سٹوری کی طرف بڑھتے ہیں
    دوستو اگر آپ اسلام آبادمیں رہتے ہیں تو یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ آئی ایٹ سیکٹر میں واقع علامہ اقبال او پن یونیورسٹی کسی زمانے میں ایک ویران جگہ پر واقعہ تھی (اب تو وہاں کافی رونق ہو گئی ہے) خاص کرسردیوں کی رات میں یہ جگہ بلکل ہی اجڈ اجاڑ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔ جس وقت کی یہ بات ہے اُس وقت یونیورسٹی کے سامنے درختوں کا کافی گھنا سلسلہ تھا ۔۔۔اور رات کے وقت وہاں پر اکا دکا گاڑیاں ہی آیا جایا کرتی تھیں
    یہ ایک ایسی ہی سردیوں کہ رات تھی میں کسی کام کے سلسلہ میں نوری ہسپتال اسلام آباد گیا تھا۔۔۔۔ وہاں سے واپسی پر میں اپنی موٹر سائیکل پر اسی روڈ سے گزر رہا تھا کہ مجھے دُور سے بایئک کے پاس ایک شخص کھڑا نظر آیا جو مجھے رُکنے کا اشارہ کر رہا تھا اُس کے ساتھ ایک عورت بھی کھڑی تھی تھوڑا تھوڑا اندھیرا ہو نے کی وجہ سے میں ان کو ٹھیک سے پہچان نہ سکا-


    لیکن جیسے ہی میری بایئک ان کی قریب پہنچی تو میں نے ان کو پہچان لیا یہ ہمارے محلے دار مسٹر اور مسز سلامت تھے محلے دار ہونے کی وجہ سے میری ان سے میری اچھی خاصی سلام دعا تھی چنانچہ جیسے ہی میں ان کے پاس رُکا انہوں نے مجھے دیکھ کر اطمینان کی سانس لی اور بولے شکر ہے بیٹا کہ تم مل گئے ورنہ ہم تو ذلیل ہو گئے تھے تو میں نے ان سے پوچھا وہ کیسے انکل ؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔۔۔وہ ایسے کہ ہم یہاں کافی دیر سے کھڑے ہیں۔۔ ایک تو یہا ں پر ٹریفک بھی کافی کم ہے دوسرا جو ایک آدھا یہا ں سے گزرا بھی تو وہ اشارہ کرنے کے باوجود بھی رُکنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا۔۔۔ تو اس پر میں نے ان سے پوچھا انکل معاملہ کیا ہے ؟؟؟ تو وہ بولے معاملہ کیا ہونا ہے یار بایئک خراب ہو گیا ہے پھر کہنے لگے یار اگر تم موٹر سائیکل کے بارے کچھ جانتے ہو تو پلیز اسے چیک کرو کہ میں نے تو کافی مغز مارا ہے پر کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ چکر کیا ہے ؟؟ موٹر سائیکل کے بارے میرا بھی علم بس واجبی سا تھا لیکن ۔۔ ان کی بات سن کر میں اپنے بائیک سے نیچے اُترا اور ادھر ادھر ہاتھ مار کر ۔۔۔۔۔۔اُسے سٹارٹ کرنے کی پوری کوشش کی۔۔۔۔ پر کامیاب نا ہوسکا تب میں نے اپنی ہار مان لی اور ان سے کہا کہ سوری سر جی یہ میرے بس سے باہر ہے آپ ایسا کریں میری بایئک لے جایئں جبکہ میں آپ کی بائیک ٹھیک کروا کے لے آؤں گا میری بات سن کر سلامت صاحب نے رسمی سا انکار کیا لیکن چونکہ اُن کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھی اس لیئے۔۔۔ میرے اصرار پر انہوں نے میرا بائیک لے لیا اور اسے سٹارٹ کر کے بیوی سمیت بیٹھ کر چلے گئے لیکن کچھ ہی دُور گئے ہوں گے کہ میری بائیک بھی پھٹ پھٹ کر کے رُک گئی-


    انکل نے اُسے سٹارٹ کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن بے سود۔ اسی اثناء میں ۔۔۔۔۔ میں بھی بائیک گھسیٹتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور ان کے پاس رک کر پوچھا۔۔۔۔ کیا ہوا انکل ؟؟ تو وہ جُھنجھلا کر بولے کیا بتاؤں یار آج کا دن بڑا منحوس ہے ہر کام ہی اُلٹا ہو رہا ہے دیکھو نا تمہارا بائیک اچھا خاصہ چل رہا تھا پر جیسے میرے پاس آیا یہ چلتے چلے اچانک رُک گیا ۔۔۔۔ اور اب چلنے کا نام ہی نہیں لے رہا یہ سُن کر میں نے اُن سے اپنا بائیک لیا اور 3،4 ککیں ماریں تو وہ سٹارٹ ہو گیا اور میں نے دوبارہ بائیک ان کے حوالے کرتے ہوۓ کہا کہ پلیز آپ لوگ جاؤ وہ فوراً بائیک پر بیٹھے اور روانہ ہو گئے لیکن ابھی تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ بائیک پھر رُک گئی سلامت صاحب نے دوبارہ ککیں مارنا شروع کیں پر وہ سٹارٹ نہ ہوئی اتنی دیر میں میں پھر ان کا بائیک لیئے وہاں پہنچ گیا تو دیکھا کہ سلامت صاحب دونوں ھاتھ اپنی کمر پر رکھے بڑے غصے سے میری بائیک کی طرف دیکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ مُنہ ہی مُنہ میں کچھ بُڑبُڑا بھی رہے تھے جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا ۔۔۔۔ انہوں نے بڑی بے بسی سے میری طرف دیکھا اور بولے یار آج واقع ہی بڑا منحوس دن ہے دیکھو نا تم کک مارتے ہو تو یہ سالا سٹارٹ ہو جاتا ہے۔۔۔جبکہ میری ککوں کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔۔۔ یہ سُن کر میں نے ایک دفعہ پھر اُن سے بایئک لیا اور اسے ککیں مارنا شروع ہو گیا۔۔۔کچھ ہی دیر بعد بائیک صاحب اسٹارٹ ہو گئے۔۔ بائیک سٹارٹ ہوتے ہی میں سے بولا۔۔۔ یہ لیں انکل ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ بائیک پر بیٹھتے اُن کی بیوی فوراً بولی "جی نہیں میں ان کے ساتھ نہیں جاؤں گی شاہ تم پلیز مجھے گھر تک چھوڑ آؤ " اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا سلامت صاحب فوراً بولے " ٹھیک ہے شاہ آپ ہی عاصمہ جی کو گھر چھوڑ آؤ ۔۔۔۔ ویسے بھی مجھ سے تمہارا یہ پھٹیچر بائیک نہیں چلے گا۔۔۔ میرا بائیک میرے حوالے کر دو۔۔ میں اسے ٹھیک کروا کے گھر لے آؤں گا میں نے تھوڑی ہیچر میچر ۔۔۔ پر وہ نہ مانے اور پھر ان کے پُر زور اصرار میں اپنے بائیک پر بیٹھ گیا


    اور اس کے ساتھ ہی میرے پیچھے عاصمہ جی (اُن کی بیگم ) بیٹھ گئی ۔ اس سے قبل کہ کہانی آگے چلے میں آپ سے عاصمہ جی کا تعارُف کرواتا چلوں- عاصمہ جی ایک 35،36 سال کی خوبصورت دراز قد کی کشمیری عورت تھی ۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور موٹے موٹے ممے تھے پر اُس کے بدن کی سب سے دلکش اور خاص بات عاصمہ جی کی گانڈ تھی ۔۔۔۔ ویسے تو اس عمر میں تقریباً سب ہی لیڈیز کی گانڈ موٹی ہو جاتی ہے پر عاصمہ جی کی گانڈ لاکھوں میں ایک تھی جس نے بھی جس نے بھی اس کو دیکھا ۔۔۔۔ وہ دل پکڑ کر بیٹھ گیا چاہے س سے قطع نظر کہ۔۔۔۔۔ وہ گانڈ لور ہے یا نہیں ۔۔۔۔ چلتے ہوۓ خاص کر وہ ایسے مٹک مٹک کر چلتی کہ۔ جس کی وجہ سے ان کی گانڈ کے بڑے ہی خوب صورت زاویے بنتے تھے۔۔۔۔جنہیں دیکھ کر ہم جیسوں کی ایسی حالت ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔ نا پوچھ یار ہماری مُحلے کے تقریباً سارے ہی لوگ ان کی دلکش گانڈ کے عاشق تھے اور یہ میری بڑی خوش قسمتی تھی کہ آج یہ دلکش گانڈ والی خاتون میری پرانی پھٹ پھٹی پر میرے پیچھے بیٹھی تھی۔ گو کہ اس خوبصورت خاتون کا نام عاصمہ تھا مگر ان کا میاں چونکہ ان کو عاصمہ جی کہتا تھا اس لیئے سارا محلہ ان کو عاصمہ جی کے نام سے یاد کرتا تھا- عاصمہ جی کی دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ کافی فرینک قسم کی خاتون تھی۔۔۔مطلب ماڑی موٹی لفٹ سب کو کرواتی لیکن میری معلومات کے مطابق وہ اب تک کسی کے ہاتھ نہ آئی تھی۔۔۔لیکن اس کا آنکھ مٹکا میرے سمیت ہر کسی کے ساتھ تھا۔۔۔۔

  2. The Following 2 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    fahadfraz (18-06-2019), Story Maker (11-05-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ وہ دل کش خاتون میرے موٹر سائیکل کی بیک سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔اور میں جان بوجھ کر بائیک کو آہستہ چلا رہا تھا۔۔۔۔کیونکہ موٹی ہونے کی وجہ سے ان کی گانڈ میرے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔۔۔۔اور ان کی اس عظیم گانڈ کے ٹچ سے میں سرشار ہوا جا رہا تھا۔۔۔ جب میں اوپن یونیورسٹی کے آخر میں پہنچا۔۔۔ تو اچانک مجھے پیچھے سے عاصمہ جی کی آواز سُنائی دی ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔۔ ایک منٹ رکو پلیز۔۔۔!!! میں نے فوراً بریک لگا دی اور ان سے پوچھا خیریت۔۔؟ تو وہ تھوڑا سا جھجھک کر بولی " وہ بڑے زور کا سُو سُو (پیشاب) آیا ہے۔۔ پھر تھوڑا شرماتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ میں نے بڑی دیر سے روکا ہوا تھا۔۔۔۔لیکن اب یہ میری برداشت سے باہر ہو گیا ہے تم رکو میں بس ابھی آئی ۔۔ انہوں نے یہ کہا اور جلدی سے یونیورسٹی کے سامنے اندھیرے میں گھنے درختوں کی طرف غائب ہو گئ- اور میں بائیک پر ہی بیٹھا ان کا انتظار کرنے لگا – بمشکل ایک آدھ منٹ ہی گزرا ہو گا کہ مجھے عاصہں جی کی چیخ سنائی دی۔۔۔ اُو۔۔ئی۔۔ ئی۔۔۔ ماں۔۔۔ سانپ ۔۔۔۔ سانپ۔۔پھر ان کے چلانے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ شاہ جلدی آؤ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔۔۔۔۔ سانپ کا نام سن کر میرے ٹٹے ہوائی ہو گئے۔۔۔۔۔۔اور میں بد حواسی میں بھاگتا ہوا ان درختوں کی طرف چلا گیا کہ جس طرف سے عاصمہ جی کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔ میں جلدی سے وہاں پہنچا۔۔۔۔۔ پر اندھیرا ہونے کی وجہ سے مجھے وہاں کچھ دکھائی نہ دیا چنانچہ یہ دیکھ کر میں واپس پلٹا۔۔۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ کی ۔۔۔ اور اس کی ہیڈ لائیٹ فُل پہ کر کے بائیک جاۓ حادثہ کی طرف لے گیا –



    جیسے ہی میرا بائیک عاصمہ جی کے قریب پہنچا تو میں نے ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں دیکھا کہ ان کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور ان کی شلوار ان کے گھٹنوں سے نیچے زمین پر پڑی تھی اور وہ بڑی خوف زدہ نطروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی مجھے دیکھ کر انہوں نے اپنی پیٹھ کی طرف اشارہ کیا اور بولی " شاہ مجھے یہاں پر سانپ نے کا ٹا ہے" ان کی ننگی گانڈ دیکھ کر ایک لحظے کے لیئے میں تو سُن ہو کر رہ گیا۔۔ آپ خود اندازہ لگاؤ کہ جو گانڈ کپڑوں میں اتنی دل کش دکھائی دیتی تھی ۔۔۔۔۔ بنا کپڑوں کے اس کا کیا حال ہو گا۔۔۔ میں ان کی خوبصورت گانڈ کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ۔۔۔۔ مجھے موقعہ کی نزاکت کا احساس ہوا۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے بائیک کی ہیڈ لائیٹ اس طرف کی۔۔۔ اور موٹر سائیکل سے نیچے اتر آیا۔۔۔۔اور ان کے پاس بیٹھ اُن کی پیٹھ پر سانپ کے کاٹنے کا منظردیکھنے کے لیئے جھکا ۔۔۔۔۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُن کی موٹی گانڈ کے سوراخ کے بلکل ساتھ ایک بڑا سا چیونٹا چپکا ہوا تھا ۔یہ دیکھ کر میں نے ایک نظر زمین پر ڈالی تو معلوم ہوا کہ جس جگہ پر عاصمہ جی نے پیشاب کیا تھا ۔۔۔وہاں سے کچھ ہی دور۔۔۔بڑے چیونٹوں کا بل تھا۔۔۔۔۔ اور جب عاصمہ جی پیشاب کر رہیں تھیں۔۔۔۔ تو پتہ نہیں کیسے ایک ناہنجار چیونٹا (شاید ان کی دل کش گانڈ کو دیکھ کر ) چلتا ہوا ان کی گانڈ تک پہنچ گیا۔۔۔۔۔ چونکہ اس وقت عاصمہ جی کو بڑے زور کا پیشاب لگا ہوا تھا۔۔۔اور وہ پیشاب کرنے میں مشغول تھیں ۔۔اس لیئے انہیں اپنی گانڈ پر چیونٹا رینگنے کا احساس نہ ہوا۔۔۔۔۔ پتہ اس وقت چلا کہ جب اس نے عین ۔۔۔۔سوراخ کے نزدیک کاٹ لیا۔۔۔۔اور چیونٹے کے کاٹنے کو وہ سانپ سمجھی۔۔۔۔۔ اس وقت ان کی گا نڈ کا وہ حصہ خاصہ سُرخ ہو چکا تھا ۔۔۔ادھر جیسے جیسے ہی میری نرک اُس بڑے سے چیونٹے پر پڑی۔۔۔۔۔۔تو میں نے شُکر کا سانس لیا۔۔۔۔ اور عاصمہ جی سے بولا کہ آپ کو سانپ نے نہیں بلکہ ایک بڑے سے چیونٹے نے کاٹا ہے لیکن اُن کو میری بات کا یقین نہیں آیا اور بولی پلیز اچھی طرح دیکھو کہ مجھے بڑی شدید جلن ہو رہی ہے عاصمہ جی نے یہ کہا اور اپنا منہ دو سری طرف کیا۔۔۔ خود جھک گئی۔۔۔۔۔ اور اپنی گانڈ میری طرف برائے ملاحظہ پیش کر دی۔۔۔۔



    لو جی دوستو۔۔۔۔ میری تو عید ہو گئی کہ اب میرے سامنے ایک بہت ہی بڑی زبردست موٹی نرم اور گوری گانڈ تھی جس کا میں اچھی طرح جائزہ لے رہا تھا ان کی چوت سے پیشاب کے کچھ قطرے ابھی بھی گر رہے تھے پر جو خاص بات میں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہون وہ اُن کی گانڈ کی موری تھی جو کہ نارمل عورت کی موری سے کچھ زیادہ ہی کھلی تھی- (شاید عاصمہ جی نے گانڈ زیادہ مروائی تھی ) اتنی جاندار گانڈ دیکھ کر میرے تو منہ میں پانی آ گیا اور میں ان کی گانڈ کو دیکھ کر پاگل ہوا جا رہا تھا اور بڑی مشکل سے خود پر کنٹرول کر رہا تھا۔۔ گانڈ کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد میں نے اس جگہ کو دوبارہ دیکھا ۔۔۔۔اور پھر خود پر جبر کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ان کی گانڈ کے اس حصے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔ کہ جہاں پر ابھی تک ہو بڑا سا چیونٹا چپکا ہوا تھا۔۔۔۔ چیونٹے کو پکڑنے کے بہانے میں نے ان کے سوراخ پر انگلی پھیری۔۔۔۔۔۔۔اور پھر دو انگلیوں کی مدد سے اسے وہاں سے ہٹایا اور پھر متاثرہ جگہ پر تھوڑا مساج کیا اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنی ایک انگلی ان کی موری کے اوپر رکھ دی۔۔۔ اور ہلکا سا پش کیا۔۔۔تو میری انگلی کی اگلی پور ان کی نرم گانڈ میں داخل کر ہو گئی۔۔انگلی کو بغیر چکنا ان کی گانڈ میں داخل ہوتا دیکھ کر میں تھوڑا سا حیران تو۔۔۔ ہوا۔۔۔ لیکن۔۔۔ منہ سے کچھ نہ بولا۔۔۔اور ۔۔ ۔۔ کچھ سکینڈ تک انگلی کو ان کی موری میں گھمایا۔۔۔۔ اور پھر باہر نکال لیا۔۔(مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی گانڈ میں انگلی جانے کا کوئی نوٹس نہ لیا)۔۔۔ اسکے بعد میں نے مرا ہوا چینونٹا ان کو دکھا کر بولا سانپ شانپ کوئی نہیں تھا عاصمہ جی بلکہ آپ کے وہاں ایک بڑے سے چیانٹے نے کاٹا تھا اور یہ رہا وہ چیونٹا۔۔۔ اور ان کو چیونٹا دکھا دیا جسے دیکھ کر وہ تھوڑی سی نارمل ہو گئی اس کے ساتھ میں نے بطور ثبوت چیونٹوں کا بل بھی دکھایا ۔۔۔چیونٹوں کا بل دیکھ وہ ٹھٹھکی۔۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔



    شاہ!۔۔۔جلدی سے یہاں سے نکلو کہ مجے بڑا ڈر لگ رہا ہےـ

    پھر انہوں نے جلدی سے شلوار پہنی اور میرے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئی اور ہم ان کے گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔میں محسوس کیا کہ پہلے کی نسبت اس دفعہ وہ میرے ساتھ ۔۔۔۔ کچھ زیادہ ہی جُڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔دوسری طرف مرا ہوا چیونٹا دیکھ وہ کافی حد تک نارمل ہو گئی تھی اور پھر راستے بھر میں وہ مجھ سے سانپ بچھو وغیرہ کی باتیں کرتیں رہی۔۔۔ اور میں ان کی باتوں کا صرف ہوں ہاں میں ہی جواب دیتا رہا۔۔۔ جبکہ میرا سارا دھیان۔۔۔۔ ان کی گوری۔۔۔چٹی ۔۔۔۔۔اور موٹی گانڈ خاص کر بڑی سی موری کی طرف لگا رہا۔۔۔۔۔۔جسے یاد کر کر کے میں اور میرا لن لذت لے رہے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔
    اس طرح باتوں باتوں میں کب ان کا گھر آیا پتہ ہی نہیں چلا – جیسے ہی ہم ان کے گھر کے قریب پہنچے تو میں نے عاصہ جی کو بائیک سے اتارا اور جانے کی اجازت لی تو وہ کہنے لگی بنا چاۓ کے تم کیسے تم جا سکتے ہو؟۔۔ ؟؟؟؟ اس لیئے اپنی بائیک کو لاک کرو اور میرے ساتھ گھر چلو اورخود گھر کا تالا کھولنا لگی میں نے بھی بائیک کو لاک کیا اور پھر ان کے گھر داخل ہو گیا وہ مجھے ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں لے گئ وہاں مجھے ایک صوفے پر بیٹھنے کو کہا تو میں نے ان سے پوچھا کہ عاصمہ جی گھر کے باقی لوگ کہا ں ہیں۔۔؟؟ تو وہ کہنے لگی سب لوگ ایف سکس میں برکت صاحب کے بھتیجے کی شادی پر گئے ہوۓ ہیں اور مزید کچھ دن وہاں ہی رکیں گے میں اور برکت صاحب بھی صبع سے وہاں ہی تھے پھر کہنے لگی تم بیٹھو میں ابھی چاۓ لے کر آتی ہوں اور وہ کچن میں چاۓ بنانے چلی گئ – کوئی 15،20 منٹ کے بعد جب وہ واپس آئی تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑی سی ٹرے تھی جس میں 2 کپ چاۓ کے ساتھ 2،3 پلیٹیں اور بھی تھیں جو بسکٹ اور دیگر لو ازمات سے بھری ہوئ تھیں یہ دیکھ کر میں نے کہا عاصمہ جی آپ نے تو بڑا تکلف کر دیا تو وہ بولی ارے تکلف کیسا اسی بہانے تم کچھ دیر بیٹھو گے تو سہی نہ -
    پھر انہوں نے تپائی پر ٹرے رکھی اور میرے سامنے بیٹھ گئی اور ہم چاۓ کے ساتھ ساتھ دوبارہ سانپ بچھو وغیرہ کے کاٹنے اور اسی حادثے کے بارے میں باتیں بھی کرنے لگے تب باتوں باتوں میں ۔۔۔۔میں نے اُن سے کہا یقین کریں عاصمہ جی آپ کی دلدوز چیخ نے تو میری جان ہی نکال دی تھی شکر ہے کہ وہاں سانپ نہیں تھا ورنہ بڑی مشکل ہو جاتی۔اور میں نے پھر سے اپنی بات دھراتے ہوے کہا کہ عاصمہ جی آپ کی اُس چیخ نے تو میرا پورے 2 کلو خون خشک کر دیا تھا-
    میری بات سُن کر عاصمہ جی تھوڑی سے کھسیانی ہو گئی اور بولی " آئی ایم سوری شاہ جی کہ میری چیخ سن کر آپ کا 2 کلوخون خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔پھر عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ بعد میں تم نے میری اسی چیخ کا پوراپورا۔۔۔ فائدہ بھی اُٹھا یا تھا "انہوں نے اتنا کہا۔۔۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے پُر اسرار طریقے سے مُسکرا دی – یہ سُن کر میں نے قدرے حیرانی سے ان سے پوچھا کہ " عاصمہ جی میں نے کون سا فائدہ اُٹھایا تھا ۔۔؟؟؟؟؟ تو اُنہوں نے تُرنت ہی جواب دیا اور کہنے لگی زیادہ سمارٹ بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مسٹر شاہ ۔۔۔۔۔۔ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میں کس فائدے کی بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ اور تب اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے سانپ کا کا ٹا چیک کرتے وقت اپنی ایک انگلی۔۔۔۔ ان کی گانڈ کی بڑی سی موری میں ڈالی تھی وہ لمحہ یاد کر کے میں نے بڑی شرمند گی محسوس کی اور پھر فوراً ہی اُن سے اپنی اس حرکت کی معافی مانگ لی اور بولا اس بات کے لیئے ویری ویری سوری عاصمہ جی ۔۔۔

  4. The Following 2 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    fahadfraz (18-06-2019), Story Maker (11-05-2019)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    2,041
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,749
    Thanked in
    735 Posts
    Rep Power
    371

    Default


    میری معافی کی بات سن کر وہ بولی زیادہ جزباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ " اٹس اوکے " اور میری طرف ایک اور۔۔۔۔۔سیکسی مسکراہٹ اچھال دی۔
    جب عاصمہ جی نے" اٹس او کے" کہا تو یہ سُن کر میری پینٹ میں تھوڑی ہلچل مچی ۔۔۔۔۔اور لن صاحب نے ہلکہ سا سر اٹھا کر مجھ سے کہا ۔۔۔ میڈم کی بات سمجھ سالے ۔۔۔ لیکن میں لن کے بتانے سے پہلے ہی کافی کچھ سمجھ چکا تھا اور بات کی تہہ تک جانے سے پہلے کچھ باتوں کی وضاحت ضروری تھی چنانچہ یہ سوچ کر میں نے اپنے چہرے پر تھوڑی تشویش ظاہر کی اور بولا ۔۔ یہ سلامت صاحب ابھی تک نہیں پہنچے ۔۔۔ ؟؟ تو وہ بولی اصل میں انہوں نے رات گئے گھر آنا ہے کہ شادی کے سلسلہ میں کافی کام اُن کے ذمہ تھے اُن کی یہ بات سُن کر میں کافی حد تک مطنئ ہو گیا ۔۔۔ سو اب میں نے دانہ پھینکنے کا ارادہ کر لیا اور اپنے چہرے پر تشویش بھرتے ہوئے بولا ۔۔ عاصمہ جی کیا آپ کو ابھی بھی درد ہو رہا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ انٹیلی جنٹ عاصمہ۔۔۔۔فوراً ہی۔۔۔میری بات کو سمجھ گئی اور بولی نہیں شاہ جی درد تو نہیں البتہ بڑی سخت جلن ہو رہی ہے ۔۔۔ یہ سننا تھا کہ جھٹ میں نے اپنی خدمات پیش کرے ہوے بولا اگر آپ مائینڈ نہ کریں تو میں متاثرہ حصہ پر دوبارہ مساج کر دوں۔۔؟ ۔۔۔میری بات سن کر ان کا چہرہ سرخ ۔۔۔اور ہونٹ خشک ہو گئے۔۔۔۔چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے میری طرف دیکھا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ منہ سے کچھ نا بولی ۔۔۔۔ اور اپنے ہونٹ کاٹتی رہی۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے دوبارہ ہمت کی ۔۔۔۔۔اور ان سے ذو معنی الفاظ میں بولا۔۔۔۔ اگر زیادہ جلن ہے تو میں اسے دور کر سکتا ہوں۔۔۔انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔ جلن تو ہے۔۔۔۔ تو میں جلدی سے منت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔ تو پلیززززززززززز۔۔۔۔ مجھے جلن دور کرنے دیں۔۔میری التجا سن کر وہ تھوڑا سا لچکچکائی۔۔۔۔۔اور پھر۔۔ اپنی جگہ سے اُٹھ کر میرے سامنے کھڑی ہوگیک-




    ان کو کھڑا دیکھ کر میں بھی اُٹھ کر عین اُن کے سامنے کھڑا ہو گیا اور ہم کچھ دیر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے کچھ دیر بعد وہ ہلکی سی آواز میں بولی ( تو ان کی آواز سے شہوت ٹپک رہی تھی)۔۔۔۔۔ ہاں تو شاہ تم کیا کہہ رہے تھے ۔۔؟؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں کہ رہا تھا کہ آپ کے وہاں مساج کر دوں ؟؟ اور ساتھ ہی میں جی کڑا کر کے اپنا ایک ہاتھ ان کی بڑی سی گانڈ کی طرف لے گیا اور شلوار کے اوپر سے ہی اس پر ہلکہ سا ہاتھ پھیر دیا ۔۔۔۔۔ انہوں نے ایک نظر مجھے۔۔۔پھر میرے ہاتھ کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور کچھ نہ کہا۔۔۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر میں شیر ہو گیا۔۔۔۔۔اور اب میرا ہاتھ تھوڑا اور آگے بڑھا ۔۔۔۔۔اور ان کی قمض کے اندر چلا گیا وہ کچھ نہ بولی۔۔۔۔۔ بس گرسنہ نظروں سے ۔۔ہونٹ کاٹتے ہوئے چپ چاپ میرے طرف دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔ میں بھی برابر ان کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔ میرا ہاتھ آہستہ آہستہ رینگتا ہوا ان کی قمیص کے اندر چلا گیا اور پھر میں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ عاصمہ جی کی شلوار میں " آزار بند " نہیں بلکہ الاسٹک ہے تب میں ان کے اور قریب گیا اور بڑے ہی پیار سے ان کی شلوار کھیچ کر ان کے گھٹنوں تک کر دی اور اب میرا ہاتھ ان کی ننگی گانڈ پر تھا اور میں وہاں بڑے ہی پیار سے مساج کر رہا تھا۔۔ پھر میں تھوڑا گھوم کر ان کے پیچھے کی طرف چلا گیا اور ان کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا جھکا دیا اور اس سُرخ جگہ جہاں چیونٹے نے کاٹا تھا وہاں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔۔ اور بڑی آہستگی سے بولا ۔۔۔۔ عاصمہ جی ۔۔۔ یہاں پر چیونٹے نے کاٹا تھا نہ ۔۔



    اور ان کی وہ جگہ چُوم لی اور پھر بڑے ہی رومانٹک لہجے میں ان سے پوچھا۔۔۔۔۔ عاصمہ جی ۔۔۔ یہاں اب بھی جلن ہو رہی ہے۔؟؟؟ تو وہ سرگوشی میں بولی بے شک چیونٹے نے یہاں ہی کاٹا تھا پر جلن یہاں نہیں۔۔۔۔ بلکہ تھوڑا آگے ہو رہی ہے یہ سن کر میں اپنے ہونٹ تھوڑا اور آگے لے گیا اور پھر وہا ں ہونٹ رکھ کر بولا ۔۔ یہاں جلن ہورہی ہے تو وہ بولی نہیں تھوڑا اور آگے اب میں سمجھ گیا اور میں اپنے ہونٹ ان کی چوت کے تھوڑا اوپر رکھ دیئے اور پوچھا ۔۔۔ عاصمی جی یہاں ۔۔؟؟؟؟ تو وہ بولی نہیں تھوڑا اور نیچے اور اب میں نے ان کو تھوڑا اور جھکایا اور انہوں نے خود ہی اپنی ٹانگیں کھول کر دونوں ہاتھ صوفے پر رکھ دیئے اور میں نے اپنی زبان نکال کر ان کی چوت پر رکھ دی اور بولا یہاں جلن ہو رہی ہے ؟ تو وہ بولی ۔۔۔۔ ہاں شاہ ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔یہاں پر ہی جلن ہو رہی ہے یہ سن کر میں نے اپنی زبان ان کی پھدی میں ڈال دی اور اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔



    ۔۔۔۔اور عاصمہ جی نے ایک تیز سسکی لی۔۔ آہ ۔۔ ہ۔۔ہ ۔۔۔ام م م ۔۔۔۔ ان کی چوت کافی گرم اور گیلی تھی چنانچہ میں نے زبان ان کی گیلی چوت میں داخل کی اور اسے چاٹنے لگا ۔۔۔ ان کی چوت کا گرم پانی مجھے اپنی زبان پر بڑا اچھا لگ رہا تھا اور چوت کی دیواریں اندر سے بڑی چکنی اور گرم تھیں اور میں بڑے مزے سے اپنی زبان ان کی چوت میں ان آؤٹ کر رہا تھا کافی دیر بعد اچانک انہوں نے اپنی چوت کو ۔۔۔۔ پیچھے کی طرف کر کے۔۔۔۔ میرے منہ پر دبانی شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ اپنی گرم پھدی کو میرے منہ پر رگڑنے لگی ۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد ان کے جسم نے جھٹکے کھاۓ اور ان کی چوت نے اپنا سارا گرم گرم پانی میرے منہ پر چھوڑ دیا ۔۔۔ عاصمہ جی کی پھدی کا پہلا پانی میرے منہ میں آ گیا تھا -



    کچھ دیر تک تو عاصمہ جی یوں ہی اپنی پھدی میرے منہ کے ساتھ رگڑتی رہی پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ صوفے سے ہٹا لیئے اور سیدھی کھڑی ہو گئی اسکے ساتھ ہی وہ میری طرف مُڑی اور مجھے بازؤں سے پکڑ کر کھڑا کر دیا اور پھر انہوں نے ایک عجیب کام کیا وہ یہ کہ انہوں میرے منہ پر لگی ۔۔۔ منی کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا ان کی زبان کسی وائپر کی طرح میرے منہ پر چلتی رہی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جو تھوڑی بہت منی میرے منہ پر لگی رہ گئی تھی ان کی زبان نے وہ سب صاف کر دی اور پھر انہوں نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور اب میں ان کی نمکین زبان چوسنے لگا ۔ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میرا ایک ہاتھ ان کے موٹے ممے پر بھی چلا گیا اور میں بڑے پیار سے ان کو دبانے لگا انہوں نے بھی پینٹ کے اوپر سے ہی میرا لن پکڑاور اسے دبانے لگی ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے اپنا منہ میرے منہ سے ہٹایا اور بولی شاہ اپنے کپڑے اُتارو میں تم کر ننگا دیکھنا چاہتی ہوں اس کے ساتھ ہی انہون نے اپنی قمیض بھی اتار دی شلوار تو پہلے سے ہی اتری ہوئی تھی اب ان کے جسم پر صرف برا ہی رہ گئی تھی اس کے بعد انہوں نے وہ بھی اتار دی اب وہ میرے سامنے بلکل ننگی ہو گئی ۔۔۔میں ان کو ننگا دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ میں اپنے کپڑے ا تارنا بھول ہی گیا وہ تو عاصمہ جی اگر یاد نا دلاتی تو میں ابھی بھی ویسے کا ویسا ہی کھڑا رہتا جونہی عاصمہ جی نے اپنی برا اُتار کر میری طرف دیکھا تھوڑا حیران ہو کر بولی ۔۔۔۔ ہا ۔۔ شاہ تم ابھی ننگے نہیں ہوۓ ؟؟؟؟؟؟ ان کی یہ بات سن کر میں نے بجلی کی سی تیزی سے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے اور ننگا ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا-


    ان کی نظریں مسلسل میرے لن پر یہ لگی ہوئیں تھی جونہی میں پورا ننگا ہو کر ان کی طرف بڑھا تو وہ بڑی ستائیشی نظروں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی فوراً آگے بڑھی اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی شاہ تمہارا لن بڑا زبردست ہے لگتا تم نے آرڈر پر بنوایا ہے اور پھر ہنس پڑی ۔۔۔۔۔ پھر وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔ اور لن پر کس کر کے بولی سچ میں تما را لن بڑے کمال کا ہے اور پھر ٹوپے پر کس دینے کے لیئے۔۔جیسے ہی میری طرف جھکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لن سے مزی کا ایک موٹا سا قطرہ نکلا جسے انہوں نے باہر نکلتے ہی اپنے منہ میں لے لیا اور ۔۔۔۔۔ بولی ۔۔۔ تمہاری مزی بڑی نمکین اور مزے کی ہے ۔۔۔ مجھے اور بھی دو تو میں نے جواب دیا آپ مزی کی بات کرتی ہو مین آپ کو منی کا پورا گلاس پلاؤں گا آپ بس میرا لن چوسو۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    یہ سن کر اُس نے میرا لن اپنے منہ میں ڈال لیا اور مست ہو کر چوسنے لگی وہ میرا لن چوس رہی تھی اور اچانک میری نطر عاصمہ جی کی موٹی گانڈ پر پڑ گئ تو میں نے کہا عاصمہ جی !!! مجھے سرسُوں کا تیل تو لا دیں تو انہوں نے لن سے منہ سے ہٹا کر مجھ سے پوچھا ۔۔۔۔ تیل ۔۔۔ اُس کا کیا کرو گے۔۔؟؟ تو میں نے کہا کہ مجھے آپ کی گانڈ مارنے کے لیئے۔۔۔۔ تیل کی ضرورت ہو گی ۔۔ تو وہ بڑے لاڈ سے بولی ۔۔۔ شاہ ۔۔۔ تم نے تو میری گانڈ کو بہت اچھی طرح سے دیکھا ہے اس کے لیئے تیل کی ضرورت نہیں پڑے گی بس تھوڑا سا تُھوک لگا دینا کام چل جاۓ گا۔۔۔ تب میں نے اُن سے کہا تو آپ گھوڑی بن جائیں میں آپ کی گانڈ مارنا چاہتا ہوں تو وہ بولی ۔۔۔۔ یار ۔۔۔ پہلے تھوڑا سا لن تو چوسنے دو پھر جو مرضی ہے کر لینا اور دوبارہ لن پر سر جھکا دیا اور لن اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔ پھر کچھ دیر تک وہ میرے لن کو چوستی رہی پھر اُٹھی اور صوفے پر دونوں ھاتھ ٹکا دیئے اور گانڈ میری طرف کر کے بولی تماورا لن میں نے چوپا لگا لگا کر گیلا کر دیا ھے اب تم میری گانڈ پر تھوک لگا کر اسے اچھی طرح چکنا کر لو اور پھر اپنا لن ڈال کر ہلکے ہلکے دھکے لگانا جب تمھارا لن میری گانڈ میں پوری طرح ایڈجسٹ ہوجاۓ تو بے شک زور زور سے دھکے مار لینا-



    چناچنہ ان کی فرمائیش پر میں اپنا منہ ان کی گانڈ کے بلکل قریب لے گیا اور اک بڑا سا تھوک کا گولا گانڈ کے سوراخ پر پھینکا وہ بولی ہاں ٹھیک ہے اب یہ تھوک میرے موری کے اندر اور باہر اچھی طرح مل دو اور میری موری پر تھوڑا سا مساج بھی کر دو۔۔۔۔۔ اور پھرمیں نے انگلی کی مدد سے پہلے تو اچھی طرح ان کی موری پر مساج کیا پھر تھوڑا سا تھوک اور پھینک کر اسے اچھی طرح ان کی موری کے اندر اور باہر مل دیا ۔۔۔
    پھر میں نے عاصمہ جی کی سرگوشی سنی وہ کہہ رہی تھی یس س ۔۔۔ شاہ۔۔۔۔ اب میری گانڈ مار لو ۔۔ ڈال دو اپنا لن۔۔۔ اور میری گانڈ مار لو۔۔
    ---- اور پھر بولی ایک منٹ روکو پلیز اور پھر اپنے منہ سے بہت سارا تھوک نکال کر میرے لن پر پھر سے مل دیا اور خاص کر میرے موٹے ٹوپے پر اچھی طرح مساج کیا اور بولی ۔۔۔۔ اب کرو۔۔۔۔ اور میں نے اپنا ٹوپا ان کی موری پر رکھا اور ھلکا سا ۔۔ دھکا مارا۔۔۔۔ بہت ہلکا ۔۔۔ تھوک سے تر ٹوپا۔۔۔۔ ان کی گیلی گانڈ میں تھوڑا سا اندر چلا گیا ۔۔۔ اور عاصمہ نے ایک آہ بھری ۔۔آہ۔ ہ۔ہ ۔۔۔ اُف۔۔۔ ف۔۔۔ف۔ اور میں نے ایک گرم ۔۔۔ سلکی اور بہت نرم گانڈ کا رنگ اپنے ٹوپے کے گرد کسا ہوا محسوس کیا ۔۔۔ ان کی گانڈ بڑی گرم اور مست تھی سو میرے لن کہ سواد آگیا اور میں نے اور گھسا مارا اور میرا لن جڑ تک ان کی گانڈ میں اُتر گیا پورا لن گانڈ میں جاتے ہی عاصمہ نے ایک چیخ ماری اور بولی ۔۔۔۔ آف ۔۔۔ شاہ تیرا لن ہے کہ مزہ کا پورا " ٹرک" ۔۔۔۔۔ یار مجھے بڑا مزہ آرہا ہے ۔۔۔۔ اب اور زیادہ زور دار پٹائی کر ۔۔۔۔ میری گانڈ کی ۔۔۔۔ اور میں نے ان کی گانڈ کا زور دار پٹائی کرنی شروع کر دی اور اب کمرہ۔۔۔ تھپ تھپ۔۔۔ تھپ اور عاصمہ جی کی سسکیوں سے گونجنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔



    عاصمہ بڑی ہی مست لیڈی تھی میرے ہر سٹروک کا۔۔۔۔۔۔۔وہ بھر پور جواب دیتی تھی جس سے مجھے اور بھی جوش چڑھ جاتا اور میں پہلے سے بھی زیادہ زور سے ٹھوکریں مارنا شروع کر دیتا ۔۔۔ اب میں نے دیکھا کہ میرے دھکوں سے عاصمہ کی سانس چڑھ گئی تھی اور وہ تیزی سے سانس لے رہی تھی پھر اچانک انہوں نے اپنا ھاتھ پیچھے کی طرف کیا اور بولی ۔۔۔ ایک ۔۔ منٹ ۔۔۔ ایک منٹ رکو پلیز ۔۔۔۔۔ اور خود تھوڑا آگے ہوگئ جس سے میرا لن ان کی گانڈ سے باہر آ گیا تھا اور میں نے دیکھا کہ میرے طاقتور دھکوں کی وجہ سے ان کی پوری گانڈ سُرخ ہو گئی تھی تب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا تو وہ کہنے لگی پانی ۔۔۔ پانی ۔۔۔ اور میں نے سامنے پڑے جگ سے ایک گلاس پانی بھر کر دیا تو وہ ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئ اور بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور دے دو پلیز اور میں نے دوسرا گلاس بھی دیا تو وہ پی کر عاصمہ جی نے میری طرف دیکھا اور ایک بھر پور سمائل پاس کی اور بولی ۔۔۔۔ کیا جم کر گانڈ ماری ہے تم نے۔۔۔


    یہ سُن کر میں نے ان سے کہا کہ عاصمہ جی گانڈ ہوتی ہی جم کر مارنے کے لئے ہے اب اپ دوبارہ سے گھوڑی بن جاؤ کہ مجھے ابھی اور بھی مارنی ہے تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔ گانڈ نہیں تم اب میرے پھدی کی آگ بجھاؤ ۔۔۔ تو میں نے ان کی بات کاٹ کر جواب دیا ۔۔۔ لیکن عاصمہ جی مجھے تو آپ کی گانڈ میں بڑا مزہ آرہا تھا تو وہ کہنے لگی مزہ تو مجھ کو بھی بڑا آرہا تھا پر۔۔۔ کیا کروں ڈئیڑ۔۔۔ یہاں کی آگ اب میرے بس سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔۔ پھر وہ صوفے پر بیٹھی اور اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر بولی ۔۔۔۔ دیکھو تو چوت کیسے پانی پانی ہو رہی ہے ۔۔۔ اور میں نے ان کی چوت کی طرف غور سے دیکھا تو اُس میں سے واقعی پانی رس رس کر ان کی ان کی ٹانگوں سے نیچے گر رہا تھا مجھے یوں دیکھتے دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ کیا دیکھتے ہو ۔۔۔ میری پھدی بلکل تیار ہے پھر میری طرف آنکھ مار کر بولی ۔۔۔ جان ۔۔۔یہاں تم کو تھوک کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔ اب میں نے ایک نرف ان کی چوت کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔ یہ تو ٹھیک ہے پر۔۔۔ مجھے آپ کی گانڈ کا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔
    تو وہ کہنے لگی بدھو ۔۔۔ تم کو یہاں گانڈ سے کہیں زیادہ مزہ آے گا ۔۔۔۔ تم ایک دفعہ یہاں ڈالو تو سہی ۔۔۔۔ اور پھر بولی جلدی آ۔۔۔ نا ۔۔۔۔ اور میں ان کے پاس چلا گیا انہوں نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنی چکنی پھدی کے سُوراخ پر رکھ کر بولی ۔۔ دھکا لگا۔۔۔ اور میں نے ایک دھکا لگایا تو لن بڑی آسانی سے ان کی چوت میں جڑ تک اتر گیا ،،، اور ان کے منہ سے مزے کے مارے سسکی ۔۔۔ سی نکل گئی ۔۔ اُفف۔۔۔ف۔ف۔ف۔ف۔ف۔۔ف ۔۔۔۔ اور دبی دبی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔ شاہ۔۔۔۔ مجھے چود۔۔۔۔ جیسے تم نے میری گانڈ میں فُل سپیڈ گھسے مارے تھے اس سے دوگنا سپیڈ سے اب میری چوت مارو ۔۔۔۔۔ اور میں نے فُل سے بھی زیادہ سپیڈ سے گھسے مارنا شروع کر دیئے میرے ان گھسوں نے اس کے نشے میں مزید اضافہ کر دیا اور وہ مسلسل مجھے ہلا شیری دیتی ری ۔۔ ہاں ۔۔۔ایسے ہی ۔۔۔۔مار ۔۔۔اور زور سے مار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یس سسس س س۔۔۔ اور پھر وہ ٹائم بھی آ گیا کہ جب مجھے اپنی ٹانگوں میں جان ختم ہوتی ہوئ محسوس ہوئی اور ۔۔مجھے لگا کہ میں گیا۔۔۔۔۔۔۔
    ادھر عاصمہ بھی مجھ سے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ آخری۔۔۔۔ گھسا فُل سپیڈ سے مارو ۔۔۔کہ میں نے چھوٹنا ھے ۔۔۔۔ اور میں نے اپنی ساری توانائی اکھٹی کی اور ۔۔۔ آخری آخری ۔۔۔جھٹکے پوری قوت سے مارے اور۔۔۔ پھر ہم دونوں مارے مزے کے اکھٹے ہی چیخے۔۔۔۔۔اور پھر ایک ساتھ ہی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ چھو ٹتے چلے گئے چھوٹتے گئے۔۔۔۔۔ چھوٹتے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔

  6. The Following 6 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    abkhan_70 (09-05-2019), Admin (03-05-2019), irfan1397 (04-05-2019), mentor (10-05-2019), Panjabikhan (04-05-2019), Story Maker (11-05-2019)

  7. #4
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    220
    Thanks Thanks Given 
    423
    Thanks Thanks Received 
    423
    Thanked in
    187 Posts
    Rep Power
    178

    Default

    hot and sexy

  8. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    shahg (06-05-2019)

  9. #5
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    116
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    66
    Thanked in
    39 Posts
    Rep Power
    23

    Default

    بہت اعلی

  10. #6
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    195
    Thanks Thanks Given 
    148
    Thanks Thanks Received 
    276
    Thanked in
    146 Posts
    Rep Power
    30

    Default

    awesome story Shah G

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •