جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 13

Thread: حویلی

  1. #1
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    35
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    0

    Post حویلی

    ہائے دوستوں یہ کہانی اُردو فنڈا میں ہی تھی میں نے بس اس کو اُردو میں ترجمہ کر رہا ہوں

  2. The Following 8 Users Say Thank You to parasm For This Useful Post:

    aloneboy86 (10-02-2019), Anchor5555 (10-02-2019), fahadfraz (27-02-2019), hot_irfan (15-02-2019), Lovelymale (10-02-2019), MamonaKhan (11-02-2019), sajjad334 (10-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    35
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    0

    Default


    آسمان میں چاند پورے نور پر تھاہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی اس کےباوجودحویلی کے گلیارےاندھیرےمیں ڈوبے ہوئے تھے۔
    دور سے کوئی دیکھے تو اس بات کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا تھا کہ اس میں کوئی زندہ انسان بھی رہتا ہے۔
    آنگن میں سوکھی گھاس۔ببول کی جڑیں۔کھلا ہوا دروازہ۔ڈال پر بیٹھا ہوا اُلو ہر طرف منحوسیت پورے عروج پر تھی۔
    پوری حویلی میں25 کمرےتھے جن میں سے 23 اندھیرے میں ڈوبے ہوئے۔صرف 2 کمروں میں ہلکی سی روشنی تھی۔ ایک کمرہ تھا ٹھاکر سُوریا سنگھ کا اور دوسرا تھااُن کی بہو روپالی کا۔
    حویلی میں پھیلے ہوئےسناٹے کی ایک وجہ 2 دن پہلے ہوئی موت بھی تھی۔
    موت حویلی کی مالکن اور ٹھاکر سوریا سنگھ کی بیوی سریتا دیوی کی۔
    جو ایک لمبی بیماری کے بعدچل بسی تھی۔
    اُس رات حویلی میں موت کا خوف ہر طرف دیکھا جا سکتا تھا۔
    مرنے سے پہلے بیماری میں درد کی وجہ سے اُٹھی سریتا دیوی کی چیخیں جیسے آج بھی ہر طرف گونج رہی تھی۔
    مگر ہمیشہ یہی عالم نہ تھا۔
    اس حویلی نے خوبصورت دن بھی دیکھے تھے۔
    حویلی کو سوریا سنگھ کے پردادا مہاراجہ اندرا جیت سنگھ نے بنوایا تھا۔
    نا تو اس پاس کے کسی راج وادے میں ایسی حویلی تھی اور نا ہی کسی کا اتنا مان سمان تھا جتنا اندراجیت کا تھا۔
    پرم پرا اگلی کئی نسلوں تک بنی رہی۔ہر طرف اندراجیت سنگھ کے کل پار لوک کے گیت گائے جاتے تھے۔
    جو بھی حویلی تک آیا کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا۔
    جو بھی گذرتا حویلی کے دروازے پر سر جھکا کے جاتا جیسے وہ کوئی مندر ہو اور یہاں بھگوان بستے ہوں۔
    آزادی کے بعد مہاراجا کی راج گدی تو چلی گئی مگر رتبہ اور سمان وہی رہا۔
    لوگ آج بھی حویلی میں رہنے والوں کو مہاراج کے نام سے ہی پکارتے تھے اور یہی سمان سوریا سنگھ نے بھی پایا جب اُن کا راج تلک کیا گیا
    اور پھر ایک دن پڑوس کے راج وادے کی بیٹی سریتا دیوی کو بہو بنا کر اس حویلی میں لایا گیا۔
    سوریا سنگھ کو سریتا دیوی سے اولادیں ہوئیں 3بیٹے اور ایک بیٹی۔
    سب سے بڑے بیٹے پرشوتم کی شادی روپالی سے ہوئی اور وہی اپنے پتا جی کی زمین جائیداد کی دِیکھ بھال کرتا تھا۔
    دوسرا بیٹا تیج ویر سنگھ اپنے بڑے بھائی کا ساتھ دیتا تھا پر زیادہ وقت عیاشی میں گزارتا تھا۔
    تیسرا بیٹا کُلدیپ سنگھ اب بھی ودیش میں پڑھ رہا تھا۔اور سب سے چھوٹی سب کی لاڈلی کامنی۔
    3بھائیوں کی دُلاری اور گھرمیں سب کی پیاری سوریا سنگھ کی اکلوتی بیٹی۔
    حویلی میں ہر طرف اُس کی ہنسی گونجتی رہتی تھی۔
    آنے والے اپنی جھولیاں بھر کے جاتے اور دعا دیتے کہ کل کا سمان سدا ایسا ہی بنا رہے اور شاید ہوتا بھی یہی مگر ایک حادثے نے جیسے سب برباد کر دیا۔
    وہ ایک دن ایسا آیا کہ سوریا سنگھ سے اُس کا سب چھین کے لے گیا۔
    اُس کا سمان۔خوشیاں۔دولت اور اُن کا سب سے بڑا بیٹا پرشوتم سنگھ۔
    ایک شام پرشوتم سنگھ گھر سے گاڑی لےکے نکلا تو رات کوبھی لوٹ کے نہیں آیا۔
    یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔
    وہ اکثر کام کی وجہ سے رات باہر ہی رُک جاتا تھا اس لیے کسی نے اس بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
    مصیبت صبح ہوئی جب خبر یہ آئی کہ پرشوتم کی گاڑی حویلی سے تھوڑی دور سڑک کے کنارے کھڑی ملی اور پرشوتم کا کہیں کوئی پتا نہیں تھا۔
    گاڑی میں خون کے دھبے صاف دکھے جا سکتے تھے۔
    تلاش کی گئی تو تھوڑی ہی دور پرشوتم سنگھ کی لاش بھی مل گئ۔اُس کے جسم میں دو گولیاں ماری گئی تھیں۔حویلی میں تو جیسے آفت ہی آ گئی۔پریوار کے لوگ تو پاگل سے ہو گئے۔
    کسی کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس نے کیا؟
    پہلے تو کسی کی اتنی ہمت ہی نہیں ہو سکتی تھی کہ سوریا سنگھ کے بیٹے پر ہاتھ اُٹھا دیتا اور دوسرا پرشوتم سنگھ اتنا سیدھا آدمی تھا کہ سب سے ہاتھ جوڑ کر بات کرتا تھا۔
    اُس کی کسی سے دشمنی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
    اُس کے بعد جو ہوا وہ بدتر تھا۔
    Last edited by Story Maker; 10-02-2019 at 07:17 PM.

  4. The Following 13 Users Say Thank You to parasm For This Useful Post:

    abba (14-02-2019), abkhan_70 (11-02-2019), apnapun (11-02-2019), fahadfraz (27-02-2019), hot_irfan (15-02-2019), ksbutt (11-02-2019), Lovelymale (11-02-2019), MamonaKhan (11-02-2019), Mirza09518 (11-02-2019), mmmali61 (11-02-2019), omar69in (16-02-2019), sajjad334 (11-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  5. #3
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    واہ بہت خوب

    زبردست کاوش
    پلیز سپیڈ تیز رکھو

    ویسے اس پہ مزید بھی کام ہونا چاہیئے

    رومن سٹوریز اردو میں کنورٹ ہوتی رہنی چاہیئے

  6. The Following 6 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-02-2019), apnapun (11-02-2019), hot_irfan (15-02-2019), MamonaKhan (11-02-2019), sajjad334 (11-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  7. #4
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    111
    Thanks Thanks Given 
    969
    Thanks Thanks Received 
    208
    Thanked in
    94 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    بہت شکریہ جناب

    کہ آپ نے میدان مار لیا

    سٹوری بہت اچھے طریقے سے اردو میں ترجمہ کیا ہے

    اپنی کوشش جاری رکھیں

    زبردست پوسٹ جناب
    سیکسی لیڈی

  8. The Following 5 Users Say Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-02-2019), fahadfraz (27-02-2019), hot_irfan (15-02-2019), mmmali61 (12-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  9. #5
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    35
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    0

    Default


    سوریا سنگھ نے بیٹے کے قاتل کی تلاش میں ہر طرف خون کی ندیا ں بہا دی۔
    جس کسی پر بھی ہلکا سا شک ہوتا اُس کی لاش اگلے دن ندی میں ملتی۔
    سب کو پتا تھا پر کسی نے ڈر کے کارن کچھ نہ کہا۔
    یہی سلسلہ اگلے 10 سال تک چلتا رہا۔
    سوریا سنگھ اور اُن کے دوسرے بیٹے تیج ویر سنگھ نے جانے کتنی لاشیں گرائیں پر پرشوتم سنگھ کے ہتھیارے کو نہ ڈھونڈسکے۔
    ہتھیارا تو نہ ملا لیکن کُل پر کلنک ضرور لگ گیا۔
    جو لوگ سوریا سنگھ کو بھگوان سمجھتے تھے آج اُن کے نام پر تھوکنے لگے۔
    جسے مہاراج کہتے تھے آج اُسے ہتھیارا کہنے لگے اور حویلی کو توجیسےنظر ہی لگ گئی۔
    جو کاروبار پرشوتم سنگھ کی دِیکھ ریکھ میں پھل پھول رہا تھا وہ ڈوبتا چلا گیا۔
    سوریا سنگھ نے بھی بیٹے کے غم میں شراب کا سہارہ لیا۔
    یہی حال تیج ویر سنگھ کا بھی تھا جسے پہلے ہی نشے کی لت تھی۔
    قرضہ بڑھتا چلا گیا اور زمین بکتی رہی۔
    حویلی کا 150 سال کا سمان 10 سالوں میں ہی ختم ہو گیا۔
    روپالی اپنے کمرے میں اکیلی لیٹی ہوئی تھی۔
    نیند تو جیسے آنکھوں سےکوسوں دور تھی۔
    بس آنکھیں بندکیے گزرے ہوئے وقت کو یاد کر رہی تھی۔
    وہ 20 سال کی تھی جب پرشوتم سنگھ کی بیوی بن کر اُس نے اس حویلی میں پہلی بار قدم رکھا تھا۔
    پچھلے 13 سالوں میں کتنا کچھ بدل گیا تھا۔
    گزرے سالوں میں یہ حویلی ایک حویلی نہ رہ کر ایک ویرانہ بن گئی تھی۔
    روپالی پاس کے ہی ایک زمیندار کی بیٹی تھی۔
    وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور ہمیشہ گاوٴںمیں ہی پلی بڑھی تھی۔
    بھگوان میں اُس کی شردہ کچھ زیادہ ہی تھی۔
    ہمیشہ پوجاپاٹھ میں مگن رہتی۔نہ کبھی بننے سنورنے کی کوشش کی اور نہ ہی کبھی اپنے اُوپر دھیان دیا۔اُس کی زندگی میں بس 2 ہی کام تھے۔
    اپنے پریوار کا خیال رکھنا اور پوجا کرنا۔
    پر جب سوریا سنگھ نے اُسے پہلی بار دِیکھا تو دِیکھتا ہی رہ گیا وہ سادگی میں بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔
    ایسی ہی تو بہو وہ ڈھونڈ رہا تھااپنے بیٹے کےلیے۔
    جو اُن کے بیٹے کی طرح سیدھی سادی ہو۔پوجا پاٹھ کرتی ہواور اُن کے پریوار کا دھیان رکھ سکے۔
    بس پھر کیا تھا بات آگے بڑھی اور 2مہینوں میں روپالی حویلی کی سب سے بڑی بہو بن کر آگئی۔
    اُس کے جیون میں مردکےجسم کالمس پہلی بار سوہاگ رات کو اُس کے پتی کے ساتھ ہی ہوا۔وہ کنواری تھی اور اپنی ٹانگیں زندگی میں پہلی بار پرشوتم کیلئے ہی کھولی۔
    پر اُس رات ایک اور سچ اُس پر کھل گیا کہ سیدھا سادا دِیکھنے والا پرشوتم بستر پر بلکل الٹا تھا۔
    اُس نے رات بھر روپالی کو سونے نہ دیا۔
    درد سے روپالی کا بڑا برا حال تھا پر پرشوتم تھا کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
    وہ بہت خوش تھا کہ اُسے اتنی سُندر پتنی ملی اور روپالی حیرت میں اپنے پتی کو دِیکھتی رہ گئی۔
    یہی سلسلہ اگلے 3سال تک اُن کی زندگی میں چلتا رہا پرشوتم ہر رات اُسے چودنا چاہتا تھا اور روپالی کی دلچسپی سیکس میں نام کی تھی۔
    وہ بس ننگی ہو کر ٹانگیں کھول دیتی اور پرشوتم اُس پر چڑھ کر دھکے لگا لیتا۔
    یہی ہر رات ہوتا رہا اور آہستہ آہستہ پرشوتم اُس سے دور ہوتا گیا۔
    روپالی کو اس بات کا پورا گیان تھا کہ اُس کا پتی اُس سے دور جا رہا ہے ۔
    مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکی۔
    پرشوتم بستر پر جیسے ایک شیطان کا روپ لے لیتا اور وہ اُس کے جارہانہ انداز کا سامنا نہ کر پاتی۔
    اُس کے نزدیک ان سب کاموں کی ضرورت صرف بچے پیدا کرنے کیلئےتھی نا کہ زندگی کے مزے لینے کےلیے ۔

  10. The Following 11 Users Say Thank You to parasm For This Useful Post:

    abba (14-02-2019), abkhan_70 (12-02-2019), fahadfraz (27-02-2019), hot_irfan (15-02-2019), Lovelymale (12-02-2019), MamonaKhan (12-02-2019), Mirza09518 (16-02-2019), mmmali61 (12-02-2019), omar69in (16-02-2019), Shan712 (01-03-2019), shymano (16-02-2019)

  11. #6
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    بہت شاندار جناب

    اپڈیٹ کا انتظار

  12. The Following 4 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    hot_irfan (15-02-2019), MamonaKhan (12-02-2019), mparasgee (12-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  13. #7
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    111
    Thanks Thanks Given 
    969
    Thanks Thanks Received 
    208
    Thanked in
    94 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    بہت خوب اپڈیٹ جناب

    ایسے ہی جاری رہے
    سیکسی لیڈی

  14. The Following 3 Users Say Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    hot_irfan (15-02-2019), mparasgee (12-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  15. #8
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    اپڈیٹ کر دو جی

    اب تو بہت دن گزر گئے ہیں

  16. The Following 2 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    omar69in (16-02-2019), Shan712 (01-03-2019)

  17. #9
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Pakistan/Karachi
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    very good start . please update it

  18. The Following 2 Users Say Thank You to shymano For This Useful Post:

    omar69in (03-03-2019), Shan712 (01-03-2019)

  19. #10
    Join Date
    Jan 2010
    Posts
    47
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    33
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    کوئی اپڈیٹ ہے اس سٹوری کی

  20. The Following 2 Users Say Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    omar69in (03-03-2019), Shan712 (01-03-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •