جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Results 1 to 2 of 2

Thread: سیاہ اوراق

  1. #1
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    77
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    19

    Default سیاہ اوراق

    سیاہ اوراق

    میں ایک مشہور گائنی سرجن ہوں۔ سرکاری جاب کے علاوہ میں ایک پرائیویٹ کلینک بھی چلاتی ہوں۔ شام کا بیشترحصہ کلینک ہی میں گزر جاتا ہے۔ فارغ وقت میں میں اپنے دن کا تمام حال ڈائری میں قلمبند کرتی ہوں۔ میری یہ عادت میری کئی یادوں کو محفوظ رکھتی ہے۔
    میری ڈائری کے کچھ صحفات آپ بھی پڑھیں،جو میرے دانست شاید سیاہ اوراق ہیں۔

    13جونء2008
    اس لڑکی کی عمر کسی طرح بھی اٹھارہ انیس سے زیادہ نہ تھی۔ دبلا پتلا جسم،موٹی موٹی ویران آنکھیں دنیا جہاں کا درد لیے ہوئے،گول صاف رنگت چہرا جس میں اس وقت ہلدی کی سی زردی گھلی ہوئی تھی۔
    میں نے پرچی اٹھا کر اس کے کوائف دیکھے۔ اس کا نام شبانہ تھا،عمراٹھارہ سال،پتہ کرشن نگر۔ ساتھ ہی اس کی بلڈ اور یورین رپورٹ لف تھی۔ اسے عورت کی ازلی خطا والا مرض لاحق تھا۔ وہ بنا شادی پیٹ سے تھی۔
    میں نے گہری سانس لی۔ وہ سرجھکائے آنسو پینے کی کوشش کرتی رہی۔
    میں بولی:آہم،،تو کیا چاہیئے تمہیں۔
    وہ بولی:میں یہ بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔
    میں بولی:تمہارے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اسے پیدا ہونا ہے،یہ ہو کر رہے گا۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔
    وہ گڑگڑاتے ہوئے بولی:پلیز میری مدد کریں،،میں مر جاؤں گی۔
    میں بولی:ہاں واقعی تم جیسی لڑکیوں کو مرنا ہی تو چاہیئے۔ جنہیں ماں باپ کی عزت کا ذرا بھی پاس نہیں۔
    وہ روتے ہوئے بولی:پلیز میرے ماں باپ کے پاس سوائے ایک بھرم کے کچھ بھی نہیں،،آپ پلیز میری مدد کریں وونہ وہ مر جائیں گے۔
    میں بولی:اگر اتنا ہی ان کا درد تھا تو کیوں ان کی عزت کا خون کسی کے بستر کا داغ بنا آئیں۔
    وہ بولی:ایسا نہیں ہے،،میں نے جو کچھ کیا وہ مجبوری تھی میری۔
    مجھے اس کی برستی آنکھوں پر ترس آ گیا۔
    میں بولی:پہلے تم مجھے بتاؤ یہ گند کی پوٹلی کہاں سے لی۔
    وہ آنسو پونچھتے ہوئے مجھے اپنی داستان سنانے لگی۔

    میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ میرے ابو ایک کمپنی میں کلرک تھے۔ کم آمدنی اس پر4 بیٹیاں سمجھو جیسے سینے پر بھاری بوجھ۔ میں سب سے بڑی ہوں۔ دو چھوٹے بھائی بھی ہیں جو ابھی کسی ذمہ داری کے اہل نہیں۔ میں نے جیسے تیسے کر کے انٹر پاس کیا اور سوچا کہ باپ کا ہاتھ بٹاؤں گی۔ مگر قدرت نے عجیب کھیل کھیلا،اباجی پر فالج کا اٹیک ہوا۔ وہ گھر پر آن پڑے۔ اب تو ہماری کمرہی ٹوٹ گئی۔
    ایک لگی بندھی پینشن جو اتنے لوگوں کے آدھے مہینے کا پیٹ بھرنے کے لیے بھی کافی نہ تھی۔
    میں نے کمرکس لی اور کام ڈھونڈنے لگی۔
    کھلی دنیا میں جاتے ہی لگا کہ سربازار ننگی کھڑی ہوں۔ ہرمرد ہر انسان کی نظربس جسم پر رینگتی رہتی۔
    گھر میں فاقے ہونے لگے مگر شاید میری قسمت کو ترس آ گیا۔ ایک دھاگا بنانے والی فیکٹری میں مجھے پیکنگ کرنے کی جاب مل گئی۔
    ایک شفٹ آٹھ گھنٹے کی ہوتی،میں ڈیڑھ شفٹ کام کرتی تاکہ کچھ زیادہ مل سکے۔
    بارہ گھنٹے کی مسلسل نوکری نے چند ہی دنوں میں جسم کی ساری توانائی نوچ لی۔
    مگر اتنی آمدن ہونے لگی کہ دو وقت کی روٹی مل جاتی۔

    انہی دنوں مجھے میرے شفٹ انچارج جمیل نے بلایا۔
    وہ مجھے دیکھ کر بولا:تم نے مزید کام کرنے کی عرضی دی ہے۔
    میں بولی:جی سر۔
    وہ بولا:مگر ہم کسی بھی ورکر کو بارہ گھنٹے سے اوپر کام نہیں کرنے دیتے،جانتی ہو نا۔
    میں بولی:سر! میری مجبوری ہے۔ پلیز میری مدد کیجیئے۔
    وہ بولا:تم پڑھی لکھی ہو۔
    میں بولی:جی انٹر کیا ہے۔
    وہ بولا:تو تم ایسا کرو،صاحب سے بات کرو کہ تمہیں دفتر میں کوئی کام دے دیں،یہ کام ویسے بھی سخت مشقت والا ہے۔
    میں نے اگلے دن بڑے صاحب کے سامنے عرضی رکھی۔ انھوں نے میری بات پر غور کرنا تو دور صحیح سے سنا ہی نہیں۔ میں کہتی رہی وہ کسی کاغذ میں گم رہے اور بالآخر "اچھا دیکھتا ہوں" کہہ کر ٹال دیا۔
    میں کئی دن صاحب کے پاس جاتی رہی اپنی عرضی لیکر،مگر انھوں نے کوئی نظرنہ کی۔

    ایک دن شفٹ انچارج بولا:سنو،،کام کے بعد ذرا میرے پاس آنا۔
    میں کام ختم کر کے اس کے پاس پہنچی، تو وہ بولا:کیا بنا صاحب نے کوئی کام بتایا۔
    میں بولی:نہیں سر۔
    وہ بولا:ایک جگہ خالی ہے،حساب کتاب اور ان آوٹ رجسٹر چیک کرنے والی لڑکی چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ تم اس کی جگہ کام کر سکتی ہو نا۔ پہلی شفٹ میں وہ کام کر لینا،ڈھائی ہزار زیادہ ملیں گے،دوسری شفٹ میں یہ کام۔
    میں بولی:ہاں ہاں جج جی جی،،کیوں نہیں۔
    وہ بولا:ٹھیک ہے تو صاحب سے دوبارہ درخواست کرو۔
    میں بولی:میں نے کتنی بار کہا ہے صاحب سے مگر کچھ نہیں ہوا۔
    وہ بولا:ارے بھئی! تم کوئی اکیلی تھوڑی ہو درخواست دینے والی،کئیوں نے کوشش کر رکھی ہے۔ اب صاحب کس کس کی سنے۔
    میں بےچارگی سے بولی:تو میں کیا کروں۔
    وہ رازداری سے بولا:ایک طریقہ ہے،،اگرتم کر سکو تو،،
    میں بولی:جی میں ضرور کروں گی۔
    وہ بولا:اس اتوار کو صاحب کے گھر جا کر بات کرو،،ذرا خوشامد کرو،،صاحب دل کا اچھا آدمی ہے۔
    میں بولی:مگر مجھے تو گھر کا پتہ بھی نہیں معلوم اور صاحب کہیں برا ہی نہ منا جائیں۔
    وہ بولا:ارے وہ سب مجھ پر چھوڑ دو۔ تم اتوار کو یہاں آ جانا،میں تمہیں لے چلوں گا،،باقی آگے کا کام تم سنبھال لینا۔ اور ہاں ذرا صاف ستھرے کپڑے پہن کر آنا۔
    میں فورا" رضامند ہو گئی۔
    آنے والی اتوار کو میں ماں کو کام کا بتا کر فیکٹری چل پڑی۔ جمیل وہاں میرا ہی انتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا:چلو آجاؤ چلیں۔
    راستے میں جمیل، مجھے بولا:سنو تم ضرورت مند ہو،آجکل کام ملنا بہت مشکل ہے،صاحب لوگ ناراض ہو جائیں تو ایسا انتظام کرتے ہیں کہ بندے کو کہیں کام نہیں ملتا۔ صاحب کو بس ہرحال میں منا لینا۔

    ہم ایک رکشے میں بیٹھ کر ایک بلڈنگ میں پہنچ گئے۔ تیسری منزل پر ایک فلیٹ میں صاحب نے دروازہ کھولا۔ ہم نے سلام کیا،جس کا جواب دینا انھوں نے گوارا نہ کیا۔
    ہم دونوں اندرداخل ہو گئے۔ صاحب بولے:یہ ہے وہ جسے تم ٹیم سپروائزر بنانا چاہتے ہو۔
    وہ ممیاتے ہوئے بولا:جی جناب! بس آپ کی منظوری چاہیئے۔
    صاحب بولے:بھئی ایسے کیسے منظوری دے دوں،کام کون سنبھالے گا۔
    وہ بولا:سر کام بھی سیکھا دوں گا۔ آپ کو شکایت نہیں ہو گی۔
    صاحب بولا:چلو دیکھتے ہیں،دو گھنٹے بعد آ جانا۔
    وہ بولا:بہتر صاحب۔
    یہ کہہ کر وہ اٹھا تو میں بھی ساتھ اٹھی۔
    وہ مجھ سے سرگوشی میں بولا:تم نہیں،تم یہیں ٹھہرو،،صاحب کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔ صاحب خوش ہو گیا تو سمجھو کام بن گیا۔
    میں سمجھ گئی کہ صاحب شاید کوئی سوال جواب کریں گے کام کے متعلق۔
    جمیل کے جانے کے بعد صاحب بولے:نام کیا ہے تمہارا۔
    میں بولی:جی شبانہ۔
    وہ بولے:ہوں،،،کنواری ہو۔
    میں بولی:جی سر! ابھی شادی نہیں ہوئی۔
    وہ مسکرا کر بولے:یہ نہیں پوچھا کہ شادی ہوئی یا نہیں،،پوچھا تھا کہ کنواری ہو یا،،،،
    میرا دل ایکدم سے دھڑک اٹھا،،مجھے ان کی نظروں سے الجھن ہونے لگی۔
    وہ بولے:یار! کچھ کھایا پیا کرو،،جسم پر ذرا بھی گوشت نہیں،،،ہیں،،

    میں چپ رہی۔ اسی وقت ان کا موبائل بجا،وہ اٹھا کر بولے:ہاں بیگم،،، اچھا،،، چلو میں بس آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں،،،ہاں ہاں بس آیا۔

    وہ عجلت میں اٹھے اور بولے:اوہو مجھے تو گھر جانا ہے،، کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ جلدی سے اندر آؤ۔

    وہ تیزی سے بیڈروم میں گھس گئے۔ میں سمجھی ناسمجھی میں ان کے پیچھے گئی تو وہ اندر پتلون کی زپ اور بٹن کھول رہے تھے۔ میں کپڑے بدلتا سمجھ کر باہر ہی رک گئی۔
    وہ بولے:ارے جلدی آؤ، مجھے جانا ہے فورا"۔
    میں چاروناچار اندر گھس گئی۔ صاحب شرٹ کے نیچے انڈروئیر پہنے کھڑے تھے۔ میں منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی،مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
    اسی وقت وہ بولے:ایسا کرو صرف اپنی شلوار اتارو،،اور لیٹ جاؤ۔
    مجھ پر جیسے آسمان گر پڑا۔ میں ہکلا کر بولی:کک کیا،،میں ویسی نہیں ہوں سر۔
    وہ زچ آ کر بولے:اوہو،،کیا مصیبت ہے،،یار مجھے جلدی ہے۔ بات سمجھ نہیں آتی۔
    یہ کہہ کر وہ خود ہی میری طرف بڑھے اور مجھے پکڑ کر میری شلوار نیچے کرنے لگے۔
    میں ان کی منت کرنے لگی اور ہلکی ہلکی سی مزاحمت کرنے لگی۔ میرے جسم میں بالکل ہمت نہ تھی کہ ان کو منع کر سکتی۔
    ٹانگوں نے میرا وزن اٹھانے سے انکار کر دیا۔
    میں ایک پل کے لیے بھی ان کے سامنے احتجاج نہ کر سکی۔
    مجھے ساری بات ان کے جملے اور اس کام سے سمجھ آ گئی تھی،مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
    صاحب نے مجھے بستر پر گرا کر میری شلوار سرکا کر پیروں میں اکٹھی کر دی۔ اب انڈروئیر رانوں تک اتار کر لمبا موٹا لن میرا خشخاشی بالوں والی چوت پررکھ دیا۔
    لن کی ٹوپی کا دباؤ چوت کے سوراخ پر ڈالا تو میں درد سے کراہ اٹھی۔ صاحب نے ایک دو بار پھر کوشش کی مگر لن اندر جانے کی بجائے دہرا ہو جاتا۔ اب انھوں نے ایک انگلی میری چوت میں گھسا دی، میں نے ایک زور "سی" کی آواز نکالی۔ صاحب کی انگلی اندر چلی گئی تھی۔ صاحب نے انگلی ہلکی سی گھمائی پھر نکال کر لن کی ٹوپی دوبارہ چوت پر رکھی۔
    میں اس دوران بت بنی آنسو بہتی چپ چاپ لیٹی رہی۔ مجھے ڈر عزت کھونے سے زیادہ نوکری کھو جانے کا تھا۔ عزت پیٹ نہیں بھرتی تھی۔
    صاحب نے میری شلوار پوری اتار کر میری ٹانگیں کھول دیں۔ چوت کے لب کھل گئے تھے،اب لن کی موٹی سی ٹوپی لبوں کے درمیان سما گئی۔
    صاحب نے میری کمر کو پکڑ کر اپنی کولہوں کو ایسا جھٹکا دیا کہ لن کسی سوئے کی ماند اندر اتر گئی۔
    میری چیخ سے پورا گھر گونج اٹھا۔ صاحب مجھے اب تیزی سے چودنے لگے،جبکہ مجھے اب چیخیوں پر اختیار نہ رہا۔ صاحب کا لن میری چوت کی آخری حد تک کھودتا ہوا جاتا اور مجھے شدید کرب سے دوچار کرتا جاتا۔
    میں نے بستر کی چادر تھام لی،مگر درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
    گرم گرم خون بہتا ہوا میری چوت سے میری گانڈ کی طرف جانے لگا۔
    صاحب پوری طاقت سے لن اندر باہر کیے جا رہے تھے اور میں اب گھٹی گھٹی چیخوں میں اپنا درد برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
    صاحب پندرہ منٹ تک اسی طرح میری پھدی مارتے رہے پھر میرے اندر ہی اس کے لن سے جھٹکوں سے مواد بہنے لگا۔
    وہ چھوٹ کر بےدم ہو کر میرے اوپر لیٹ گئے۔ میں بھی نیم غنودگی میں چلی گئی۔
    جب ذرا حواس بحال ہوئے تو صاحب پتلون پہن چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد میں باتھ روم میں کتنی دیر روتی رہی۔ اس رونے میں درد اور عزت دونوں کے ملے جلے جذبات شامل تھے۔
    بستر پر میری لٹی عزت کا ثبوت گول داغ بن کر موجود تھا۔

    جب باتھ روم سے نکلی تو جمیل سامنے ہی موجود تھا۔ یہ داغ یقینا" اس کی نظر سے بھی گزر چکا تھا۔
    مجھے دیکھ کر بولا:صاحب اتنی جلدی کیوں چلے گئے۔
    میں بھرائی ہوئی آواز میں بولی:ان کے گھر مہمان آنے والے تھے۔
    وہ بولا:او اچھا اچھا،،میں تو ڈر ہی گیا تھا کہ کہیں ناراض تو نہیں ہو گئے۔
    میں نے کوئی جواب نہ دیا جانے کے لیے دروازے کی جانب بڑھی تو جمیل نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور خباثت سے بولا:میرا کمیشن،،،
    اگلے دو گھنٹے میں سر سے پاؤں تک ننگی ہوئی اسی بستر پر جمیل سے چدواتی رہی۔ اس نے وہ تمام کسر پوری کی جو صاحب عجلت میں نہ کر سکے۔ وہ میرے ممے چوستا رہا،میرے گالوں ہونٹوں کو چومتا رہا،ٹانگیں اٹھا کر،گھوڑی بنا کر،کبھی سیدھا،کبھی الٹا لٹا کرمیری پھدی مارتا رہا۔
    شام ڈھلے میں گھر پہنچی تو میری مٹھی میں ہزار ہزار کے دو نوٹ تھے۔
    اس واقعے کے اگلے ہی دن مجھے نئی نوکری مل گئی۔ صاحب نے دوبارہ مجھے کبھی نہیں بلایا،مگر جمیل کبھی کبھی مجھ سے اس نوکری کا حصہ بسترپر وصول کرتا ہے۔
    روٹی کے جائز حصول کے لیے مجھے یہ ناجائز کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں کسی سے شکایت کرتی ہوں تو سب یہ پہلے یہ ذریعہ کھو جائے گا اور ہم بھوکوں مر جائیں گے۔

    شبانہ آنسو پونچھتی چپ ہو گئی۔

    شبانہ کی کہانی سن کر میں نے اپنی نرس رخشندہ کو بلوایا۔ اسے کہا:کل ایک آپریشن کی تیاری کر لو۔


    16ستمبرء2008
    آج بھی وہی منظر تھا۔ جینز پہنے ایک لڑکی،جس کے منہ میں چیونگم اور ہاتھ میں مہنگا موبائل۔ ہاتھوں میں مہنگے بینڈ جن سے زنانہ مردانہ کا پتا چلانا مشکل تھا۔ شولڈرکٹ بال جو کہیں کہیں سے سنہری اور کہیں کہیں سے نیلگوں تھے۔ ناک میں بالی اور سرخ ترشیدہ ہونٹ کسی مہنگی لپ اسٹک برانڈ کے عکاس تھے۔ وہ آگے جھکتی تو چھاتی کی گہری موٹی لکیر اندر کا سب حال کہہ سناتی۔ سیدھی کھڑی ہوتی گوری چکنی ناف سب کو ایسا نظارا دیتی کہ مرد بامشکل اپنا ایمان سنبھالتے۔
    وہ ببل بناتی میرے سامنے بیٹھی تھی۔
    میں نے اس کی پرچی دیکھنے سے پہلے اس سے پوچھا:کیا مسلئہ ہے۔
    وہ لاپروائی سے بولی؛آئی تھنک آئی ایم پریگننٹ۔
    میں اس کی لاپروائی پر حق دق ہی رہ گئی اور بولی:تو کیا چاہیئے۔
    وہ اسی انداز میں بولی:سمپل،،ابارشن۔
    میں بولی:یہ سمپل نہیں ہوتا۔
    وہ بولی:وائے،،کیا کوئی کمپلیکیشن ہے،،ٹیل می،،میں کچھ سورٹ آؤٹ کروں گی۔
    میں بولی:تمہارے سورٹ آؤٹ کرنے سے کیا ہو گا،،جو کرنا ہے تمہارے پیرنٹس کریں گے۔
    وہ بولی:وائے دیم ،،میں ہوں نا۔ مجھے بتاؤ کیا چاہیئے۔
    میں بولی:کچھ نہیں،،یہ نہیں ہو سکتا۔ تم جا سکتی ہو۔
    وہ بولی:ڈیئر فری میں نہیں کروا رہی ہوں۔ پیسے دوں گی۔
    میں بولی:پلیز لیو۔
    وہ بولی:اوکے۔ ایز یو وش۔
    اسی وقت میرا فون بجا۔ دوسری طرف میرے ہاسپٹل کے ایک سینئر ڈاکٹر تھے۔
    وہ بولے:یہاں ایک لڑکی آئے گی،سارا۔
    میں بولی:جی ہے سر۔
    وہ بولے:پلیز اسے ٹریٹ کر لو،میں نے ہی وہاں بھیجا ہے۔
    میں بولی:مگر سر!
    وہ بولے:اوہو،،اگر مگر چھوڑو،،بچے ہیں سمجھ نہیں اچھے برے کی۔ جسٹ ٹریٹ ہر۔

    میں نے اپنی نرس رخشندہ کو ابارشن کی تیاری کا کہہ دیا۔ میں نے سارا کی باقی رپورٹس دیکھ لیں تاکہ اس آپریشن میں کوئی مسلئہ نہ ہو۔

    میں نے اتنی دیرسارا سے پوچھا:تو یہ کیسے ہوا۔
    وہ بولی:آئی ڈونٹ نو،،پتا نہیں۔
    میں بولی:تمہیں یہ نہیں پتا یہ کیسے ہوا۔
    وہ ہنس کربولی:ہاں واقعی مجھے نہیں معلوم۔ اچھا پوری بات بتاتی ہوں۔

    میں یہاں یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں۔ میرا تعلق اسلام آباد سے ہےاور ہاسٹل میں رہتی ہوں۔ میرے پاپا ایک بڑے بزنس مین ہیں اور ماما ایک مشہور شوشل ورکر۔ میرے پاس جو چیز سب سے زیادہ ہے وہ پیسہ ہے اور جو کم وہ وقت۔ ہاؤ انٹرسٹنگ۔ ماما پاپا سے ملنے کے لیے سمجھیں اپائنمنٹ لینا پڑتی ہے۔
    لائف میں سبھی کچھ ہے،ایڈونچر،ڈرگز،سیکس مگر میں کافی کئیرفل ہوں اسی لیے ایک حد میں رہتی ہوں۔ یو نو" سیف اینڈ "۔
    دوستوں کے ساتھ اکثر پارٹیز وغیرہ اٹینڈ کرتی ہوں۔ اس رات بھی میری فرینڈ ببلی کی برتھ ڈے پارٹی تھی۔ ببلی نے پارٹی اپنے گھر پر دی تھی، یہاں بہت سارے لوگ تھے۔ مگر یونیورسٹی فیلوز بس اکادکا تھے کیونکہ موسٹلی ہماری کلاس اور سٹیٹس کے نہیں تھے۔
    یہی وجہ ہے کہ بس کوئی کوئی ہی تھا۔ باقی سب ببلی کے دوست تھے جو فارن پڑھتے تھے یا کسی نہ کسی بڑی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔
    پارٹی میں ببلی کے مام ڈیڈ اور شہر کے کئی معروف چہرے بھی تھے۔ کچھ کپلز بھی دکھائی دے رہے تھے۔ کئی لڑکے لڑکیاں متلاشی نظروں سے ادھر ادھر تاک جھانک کر رہے تھے۔ اس کی وجہ میں خوب سمجھتی تھی۔ یہ سب کسی ایسی جگہ یا تاریک گوشے کی تلاش میں تھے جہاں کچھ منٹ مل سکیں۔ ایسی پارٹیوں میں یہ تو ہوتا ہی تھا۔ ماں باپ کی موجودگی ہی میں بچے آگے پیچھے کسی کے ساتھ سیکس کر لیتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔

    انہی لوگوں میں ایک شانی بھی تھا۔ شانی سے میں ایک دو بار پہلے بھی مل چکی تھی۔ یہ ببلی کا کزن تھا اور حال ہی میں انگلیڈ سے لوٹا تھا۔
    وہ مجھے دیکھ کر بولا:ہائے لکنگ ہاٹ ۔
    میں ادا سے بولی:آئی ایم ہاٹ۔
    وہ بولا:تم سے ایک بات کہی تھی لاسٹ ٹائم۔
    میں بولی:یاد ہے،مگر یار،آئی ڈونٹ لائک سیکس ان اوپن۔ اٹس ان سیف یار۔ یہاں سب ہیں اگر بات لیک آؤٹ ہوئی تو سارے شہر کو ابھی ابھی پتا چل جائے گا۔
    وہ بولا:یار! اٹس فن۔ ببلی بھی جوائن کرے گی۔
    میں بولی:یار! پلیز مجھے اچھا نہیں لگتا۔
    وہ بولا:یار! ون بائے ون کیسا رہے گا۔
    میں سوچتے ہوئے بولی:اوکے بٹ نو اینل،،نو ٹو ایٹ ون ٹائم۔
    وہ بولا:اوکے،،اس بار کے لیے۔
    میں بولی:ہاں اس بار کے لیے۔ نیکسٹ ٹائم تمہاری بات پر سوچوں گی۔
    وہ بولا:سو کیوں نہ ذرا وارم اپ کر لیا جائے۔
    میں بولی:او کے شیور۔
    ہم دونوں پیچھے ایک سٹور روم میں چلے گئے۔
    یہ چار بائی پانچ فٹ کا کمرا تھا۔ ببلی بھی سکول کے دنوں میں یہیں شانی یا دوسرے لڑکوں سے چدواتی تھی۔
    میں پہلی بار شانی سے چدوانے جا رہی تھی،مگر سیکس میں پندرہ سال کی عمر سے کر رہی ہوں۔ میرا کبھی بھی کوئی مستقل بوائے فرینڈ نہیں رہا تھا،بس کبھی کسی فرینڈ کے ساتھ ،،کبھی کسی کزن کے ساتھ،،میں بہت چوزی ہوں اور میرے خیال سے سیکس تبھی کرو جب جسم اس کے لیے ٹوٹنے لگے۔ دن رات بس سیکس ہی سیکس مجھے اچھا نہیں لگتا۔
    شانی نے سٹور کا دروازہ بند کیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے اور چوسنا لگا۔ کافی دیر ہم فرنچ کسنگ کرتے رہے،اس دوران وہ میری شرٹ کے اندر سے میرے نپلز نکال کر نرمی سے مسلتا رہا۔
    کسنگ ختم ہوتے ہی میں نے اس کی پینٹ کی زپ کھولی اور لن نکال کر منہ میں ڈال لیا۔
    مجھے لن چوسنے میں بہت مہارت تھی سو کافی تیزی سے اس کا لن چوستی رہی۔ اس نے جلد ہی میرے منہ سے لن نکال لیا تاکہ وہ میرے منہ ہی میں نہ چھوٹ جائے۔
    اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میری جینز گھٹنوں تک اتار کر گانڈ کے بیچ سے لن میری گیلی ہوئی پھدی میں ڈال دیا۔ شانی کا لن گرم اور میری تھوک سے گیلا تھا۔ اس کے علاوہ میری کنٹ بھی اتنی کھلی تھی کہ اس سائز کا لن باآسانی لے سکتی تھی۔
    زیادہ تر لڑکوں نے مجھے پیچھے سے چودا تھا جس کی وجہ میرے خوبصورت کولہے تھے۔ مگر مجھے گانڈ مروانا بالکل بھی پسند نہ تھا۔
    شانی پیچھے سے دھکے لگا لگا کر مجھے چودنے لگا،میں چوت پر ہاتھ رکھے دھیرے دھیرے چلانے لگی۔ مختصر سا سٹور روم میری آواز سے گونجنے لگا۔
    میری آہ،،آہ،،آہ،،یس ،یس،،یس،یاں،،یا،،یس،،اووو،،آہ،ہآہ،،یس،،اووو،، یس سن کر شانی کی رفتار بھی تیز ہو گئی۔ شانی بامشکل دس منٹ میں چھوٹ گیا۔ اس کا منی میری گانڈ سے بہتا رانوں پر پھسلنے لگا۔
    شانی نے پیچھے سے خود جبکہ سامنے سے صاف کرنے کے لیے مجھے ٹشو دیا۔
    پندرہ منٹ کے اندر ہی ہم پارٹی میں ایسے لوٹ گئے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

    کوئی ایک گھنٹے بعد شانی پھر آیا اور بولا:تم ریڈی ہونا۔
    میں بولی:نہیں یار! ابھی نہیں۔
    وہ بولا:کم آن دس منٹ لگیں گے بس۔
    میں بولی:پتہ نہیں یار! کیسا ہو گا،کوئی بیماری نہ لگ جائے۔
    وہ بولا:نہیں یار! نارمل پرسن ہے تم ٹرائی تو کرو نا۔
    میں بادل نخواستہ اس کے ساتھ اٹھ کر سٹور میں دوبارہ چلی گئی۔ اس بار سٹور میں ایک کپل اور تھا،یہ سولہ سال کا لڑکا اور انیس سال کی لڑکی تھی جو شاید اپنی ماں کی سہیلی کے بیٹے کے ساتھ اپنا مزا پورا کر رہی تھی۔ ہمیں دس منٹ ویٹ کرنا پڑا۔
    وہ کپل نکلا تو ہم دونوں اندر داخل ہوئے۔
    تھوڑی ہی دیر میں ایک لڑکی اور لڑکا داخل ہوئے۔
    لڑکی بہت خوبصورت تھی، اس نے ایک چھوٹی سی شرٹ کے نیچے لمبا سا لیدر لانگ سکرٹ پہنا ہوا تھا۔ لڑکا بھی لمبا سا اور باڈی بلڈر ٹائپ تھا۔
    شانی نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا۔ میں جھجھکتی ہوئی اس سے الگ ہو گئی۔
    شانی اس لڑکی کے پاس چلا گیا اور وہ لڑکا میرے پاس آ گیا۔
    شانی نے اچانک ہی اس لڑکی کودبوچ لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔
    لڑکی چونک سی گئی اوراس کی طرف سے کوئی گرمجوشی والا رسپانس نہیں تھا۔
    لڑکے نے مڑ کر شانی کی بےتابی دیکھی اور مجھے تھام کرمیرے بریسٹ دبانے شروع کر دیئے۔ مجھے عجیب لگنے لگا کہ کسی انجان انسان سے پہلی ہی ملاقات میں بنا کوئی بات چیت کیے ایسا کیا جائے۔ بہرحال اب تو میں آ چکی تھی سو یہی کرنا تھا۔
    شانی نے بنا وقت ضائع کیا اس لڑکی کے لانگ سکرٹ کے نیچے اس کا ٹراؤزر اتار دیا۔ اپنی پینٹ کا بٹن کھول کر لن نکال لیا۔ اس لڑکی کی کمر دیوار سے لگا کراسے بانہوں میں پکڑ کر اٹھا لیا۔
    لڑکی نے سسکاری لی جو اس نے لطف لینے کے انداز میں لی۔ یقینا" میری طرح وہ بھی نئی نہیں تھی۔
    ایک ہی منٹ میں شانی نے لڑکی کی پھدی مار دی تھی،جس سے شانی کی اس لڑکی کے لیے بےصبری کا اندازہ ہو رہا تھا۔
    یہ منظر اس لڑکے نے بھی دیکھا،اس نے میری شرٹ ہٹا کر میرے ممے چوسنے شروع کر دیئے۔ ممے چسوانا مجھے اچھا لگتا تھا،اسی لیے میں مزے سے ممے چسوانے لگی۔
    شانی اب تیزی سے چودنے لگا تھا اور وہ لڑکی اب اونچی آواز میں چلا رہی تھی۔ اس کی آواز شانی کو تو جوش دلا ہی رہی تھی،میری چوت کو بھی گیلا کر رہی تھی۔
    لڑکے نے میری جینز بھی رانوں تک سرکا دی اور میری کنٹ چومنے لگا۔ مجھے ایک تیز سا مزا آیا۔ وہ لڑکا میرے لیے بہت زیادی ہیجان پیدا کر چکا تھا۔ میں آہیں،،بھرنے لگی،،،اس لڑکے نے میری آہیں سنتے ہی اپنا لن نکالا اور میری طرف بڑھایا۔ اس وقت تک میں اس انجان پن کی جھجھک سے نکل آئی تھی۔ سو بلاتکلف اس کا لن چوسنے لگی۔ لڑکا میرے سر کو تھام کراسے چودنے کے انداز میں آگے پیچھے کرنے لگا۔
    میں تین چار منٹ اسے چوستی رہی۔ پھر اس نے مجھے اٹھایا۔

    میری نظر شانی پر گئی تو وہ اس لڑکی کو فرش پربیٹھا کر چود رہا تھا۔ لڑکی اب بھی اسی طرح چلا رہی تھی۔
    لڑکے نے میری گانڈ کو مسکرا کر دیکھا اور کولہوں کو مسلنے لگا۔
    لڑکے نے مجھے دہرا کیا تو میں نے دیوار کا سہارا لے لیا۔ وہ پیچھے سے میری پھدی مارنے لگا۔
    میں چلانے لگی۔ کمرے ہم دونوں لڑکیوں کی چیخوں سے گونجنے لگا تھا۔ ہم دونوں لڑکیوں کی چیخیں دونوں لڑکوں کو مزید جوش دلا رہی تھیں۔
    پہلے شانی چھوٹا اور لڑکی کی چلانے کی آواز بند ہو گئی اور صرف گہری سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ ایک دو منٹ بعد میرا ساتھی بھی چھوٹ گیا۔
    میں نے پینٹ اوپر کی تو شانی اور وہ لڑکی کپڑے صحیح کر چکے تھے۔
    ہم چاروں میں سے کوئی بھی پورا ننگا نہیں ہوا تھا اور پندرہ منٹ میں ہم چاروں نے سیکس انجوائے کر لیا تھا۔
    ہم چاروں باری باری باہر نکل گئے۔ باہر سب ویسا ہی چل رہا تھا،سب مست تھے اپنی اپنی باتوں میں۔

    شانی مجھ سے بولا:کیوں کیسا لگا،،پارٹنر شیئرنگ کا تجربہ۔
    میں کندھے اچکا کر بولی:اچھا تھا،،
    شانی بولا:اس لڑکی پر کب سے نظر تھی میری،، باسٹرڈ،،، اپنی گرل فرینڈ پر نظر بھی ڈالنے نہیں دیتا تھا ،اسی لیے اسے شیئرنگ کے لیے اکسایا۔
    میں بولی:اٹ واز گڈ مگر مجھے کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔
    وہ بولا:اس لیے تم ابھی کسی کی فکسڈ گرل فرینڈ نہیں ہو،،ڈفرنٹ پارٹنرز کے ساتھ سیکس کرتی ہو۔ جب کسی ایک کے کمٹ کر لو گی پھر شیئرنگ انجوائے کرو گی۔ جیسی اس لڑکی نے کیا،،پہلی بار اس لڑکے کے علاوہ سیکس کیا۔

    اس رات کے بعد ابھی تک میں نے کسی اور کے ساتھ سیکس نہیں کیا۔
    سارا خاموش ہو گئی تھی اور میں اس مغرب زدو معاشرے کی عکاس کو دیکھ کر حیران تھی۔ یہ طبقہ یہیں پر مادرپدر آزاد ہو چکا تھا۔

    میں بولی:ڈاکٹر صاحب کو کیسے جانتی ہو۔
    وہ بولی:وہ ببلی کے انکل اور فیملی ڈاکٹر ہیں،انھیں بتایا تو انھوں نے یہاں بھیج دیا۔

    سارا کی تمام رپورٹس نارمل تھیں،آپریشن میں کوئی کمپلیکیشن نہ تھی۔
    رخشندہ نے مجھے تمام تیاری کا بتا دیا تو میں نے اسے سارا کو تیار کر کے

    لانے کو کہا۔


    18-12-2008

    آج ایک ماں اور ایک بیٹی میرے سامنے تھیں۔ بیٹی 20-21 سال کی گوری چٹی،خوبصورت لڑکی تھی،جسم بھرا ہوا اور بھرپور نسوانیت لیے ہوئے، بھاری چھاتی اور کولہے۔ پورے جسم پر ایک موٹی گرم شال لپیٹ رکھی تھی،مگر شال بھی جسم کی رعنائی اور تراش خراش چھپا نہ پا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا کرب تیر رہا تھا۔ پرچی کیمطابق اس کا نام نبیلہ تھا۔ عمر 20 سال تھی۔
    اس کی ماں ویسی ہی تھی جیسی کوئی ماں ہوتی جس کی بیٹی پیٹ سے ہو۔ 40 سالہ کی عورت اس وقت اسی سال کی بڑھیا کی طرح زرد ہو رہی تھی۔
    میں بولی:جی بتائیں! کیا بات ہے؟
    وہ بولی:ڈاکٹر صاحبہ !یہ میری بیٹی ہے،،اس کک کا پیٹ صاف کروانا ہے۔
    ایسا کہتے ہوئے اس کا چہرا تاریک ہو گیا اور منہ پر شدید خجالت کے تاثرات نمایاں تھے۔
    میں بولی:یہ تو جائز کام نہیں ہے؟
    وہ بولی:جانتی ہوں جی،ایک کنبے کے قتل سے ایک پیدا ہونے والے بچے کا نہ ہونا بہتر ہے جی۔
    میں بولی:کیسی عجیب فلاسفی ہے آپ کی۔ کیسے بہتر ہے؟
    وہ بولی:میری دو بیٹیاں اور ہیں، اگر یہ بات کھل گئی تو ایک کو طلاق ہو جائے گی، دوسری گھر پر بیٹھی رہے گی۔ میرا مرد ہم سب کو زندہ گاڑ دے گا۔ اولاد در در دھکے کھائے گی۔ لوگ میت کو کندھا بھی نہ دیں گے ہم پاپیوں کو جی ،،،
    وہ پھپھک پھپھک کررونے لگی۔
    میں بولی:کیسے ہوا یہ سب؟
    وہ بولی:بس اس کرم جلی کا نصیب۔
    میں بولی:مطلب؟
    وہ چپ ہو رہی تو میں نے اسے کہا:آپ باہر جائیں مجھے نبیلہ سے بات کرنے دیں۔
    وہ بامشکل اٹھ کر باہر چلی گئی۔ لڑکی اسی طرح سر جھکائے سوگوار بیٹھی رہی۔
    میں بولی:مجھے ساری بات بتاؤ۔ کیا ہوا، کیسے ہوا؟
    وہ کافی دیرناخن کھڑچتی رہی پھر بولی:

    میرا نام نبیلہ ہے۔ میرے والد ایک انتہائی سخت مزاج باپ ہیں۔ تمام اولاد خاص کر بیٹیوں پر شدید قسم کی سختی رکھتے ہیں۔
    ان کی سوچ یہی ہے کہ بیٹی کی عمر18 کو چھوتے ہی اسے پہلے ہی میسرموقع میں نپٹا دیا جائے۔
    میری بڑی بہن کی شادی 20 سال کی عمر ہی میں کر دی گئی۔ وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ دوسرا نمبر میرا تھا۔ میری شادی بھی ایک فیملی میں طے کر دی گئی۔ اس خاندان کے بارے میں کچھ خاص چھان پھٹک نہ کی گئی۔
    سلیم کسی بنک میں ملازم تھا اوراپنے بڑے بھائی امجد کے ساتھ رہتا تھا۔ یہ بڑا بھائی شادی شدہ تھا مگر تاحال اولاد نہ تھی۔
    شادی طے ہوتے ہی دونوں گھرانوں میں آنا جانا شروع ہو گیا۔ میں پہلے جھجھکتی تھی مگر پھر اپنی ہونے والی جھیٹھانی انجم سے کافی گھل مل گئی۔
    میرے والد میرے شادی سے پہلے کے میل ملاپ کو ناپسند کرتے تھے حالانکہ میں کبھی اپنے منگیتر سے نہیں ملی تھی۔
    ایک دوباربس ان کے بڑے بھائی سے ملاقات ہوئی جو کافی نفیس قسم کے انسان تھے۔ اباجان کے علم میں لائے بغیر میں انجم بھابھی کے ساتھ کئی بار بازار شاپنگ کے لیے جانے لگی۔
    اسی دوران میرا ٹاکرا ایک دو مرتبہ سلیم سے ہوا۔ میں نے اپنی ازلی جھجھک کے باعث ان کی شوخ نگاہوں سے بھرپور بچنے کی کوشش کی۔ مگر ان کا یوں دیکھنا مجھے اچھا بھی لگتا۔
    وقت گزرتا گیا۔ سلیم کو بیرون ملک ایک اچھی آفر ہوئی اور وہ باہر چلا گیا۔ یہ بات میری خوش بختی سمجھی گئی۔
    اب ان کے گھر پہلے والی جھجھک بھی بالکل جاتی رہی۔ میں اکثر ہی انجم بھابھی کے گھر آنے جانے لگی۔
    ایک دن انجم بھابھی نے مجھے بلوایا کہ گھر کچھ مہمان آنے والے ہیں،تم آ جاؤ۔
    میں ان کی مدد کی غرض سے ان گھر اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ چلی گئی جو مجھے دروازے پر چھوڑ کے لوٹ گیا۔
    دروازہ امجد بھائی نے کھولا،مجھے دیکھ کر مسکرائے اور ہمیشہ کی طرح سر پر ہاتھ پھیرا۔ میں بھی ان سے ہلکی پھلکی بات کرتے ہو داخل ہو گئی۔
    اندر آ کر پتا چلا کہ بھابھی کچھ سامان خریدنے بازار گئی ہیں۔
    مجھے عجیب سا لگا مگر میں پریشان نہ تھی،امجد بھائی اچھے شریف انسان تھے۔
    میں امجد بھائی اور اپنے لیے چائے بنانے کے لیے کچن میں آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد امجد بھائی بھی وہیں آ گئے۔
    ان کی نظروں اور دیکھنے کا انداز مجھے کھلنے لگا۔ اس وقت وہ مجھے کسی عام مرد کی نظروں سے تک رہے تھے۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔
    وہ مجھ سے کافی فری ہو کر باتیں کرنے لگے،مگر میں ہاں نہ میں جواب دینے لگی۔
    جلدی جلدی چائے بنا کر باہر نکل آئی۔
    وہ بھی میرے پیچھے نکل آئے۔ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر چائے پینے لگے،مجھے ڈر کے ساتھ ساتھ کوفت بھی ہونے لگی تھی۔
    اسی وقت بجلی چلی گئی اور اندھیرا چھا گیا۔ میں تاریکی میں دم سادھے بیٹھی تھی۔
    اسی وقت مجھ پرقیامت ٹوٹی۔ امجد بھائی نے مجھے بانہوں میں دبوچ لیا۔ میں زور سے چلائی مگر گھر میں کوئی ہوتا تو آتا۔
    میں نے خود کو ان چھڑایا اور بھاگی مگر صوفے سے ٹکرا کر فرش پر منہ کر بل جا گری۔
    میں درد کو نظرانداز کر کے اٹھی مگر اتنی دیر میں وہ میرے اوپر سوار ہو گئے۔
    انہوں نے میرے ہاتھ اپنے وزن کے نیچے بےبس کر دیئے اور میرے منہ پر اپنی ہتھیلی سختی سے جما دی۔
    میں چیخنے کی کوشش کرنے لگی مگر گھٹی گھٹی آوازیں ہی نکل پائیں۔
    امجد بھائی نے اپنے دوسرا ہاتھ سے میرے قمیض کا گریبان پھاڑ دیا اور اپنی گندی زبان میری چھاتی کی لکیر پر پھیرنے لگے۔
    میں نے اپنی کوشش مزید تیز کر دی۔
    انہوں نے ننگی چھاتی کو اور گردن کو اپنی لیس دار تھوک سے تر کر دیا اور پھر میرے کندھے سے بریزیئر کا سٹرپ باری باری اتار دیئے۔
    برا باآسانی نیچے ڈھلک گیا اور دونوں پستان ننگے ہو گئے۔
    انہوں نے میرے مموں پر اپنے دانت گاڑ دیئے اور انھیں کاٹنے اور چوسنے لگے۔
    درد سے میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔
    وہ کافی دیر میرے بالائی جسم کو نوچتے،چومتے اور چاٹتے رہے،پھر انہوں نے نیچے میری شلوار کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
    اس کشمکش میں میرے ہاتھ آزاد ہو گئے اور میں نے ایک بارزور لگا کر ان کا منہ نوچ لیا۔
    ان کی گرفت کمزور پڑی تو میں نے انہیں دھکا دے کر ہٹا دیا۔
    ایک بار پھر اٹھ کر بھاگی۔
    اندھادھند اندھیرے میں بھاگنے کا خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا۔ میں سیدھی ایک دیوار سے جا ٹکرائی،میرا سر گھومنے لگا اور میں تیورا کر گر پڑی۔
    اس لمحاتی مدہوشی کا انھوں نے فائدہ اٹھا اور اپنی شلوار کا ازاربند کھول کر میرے اوپر چڑھے گئے،ساتھ ہی میری شلوار مکمل اتار کر پھنک دی۔
    میرے سنبھلنے سے قبل ہی میری عزت برباد ہو گئی۔ ایک جھٹکے سے امجد بھائی کا موٹا لن میری کنواری پھدی میں گھس گیا۔
    میں نے ایک فلک شگاف چیخ ماری، امجد بھائی نے میرے منہ دوبارہ قابو کر لیا۔
    وہ زور زور سے جھٹکے لگاتے مجھے چودنے لگے۔ ہر جھٹکے سے میں تڑپ کر چلاتی مگر انہوں نے ہتھیلی ہٹا کر اپنے غلیظ لب میرے منہ میں پیوست کر دیئے۔
    اب مجھے اپنی عزت سے زیادہ اس درد کی پروا ہونے لگی جو میری پھدی میں برپا تھا۔
    میں جلد ہی ہمت ہار گئی اور اس درد کی تاب نہ لاتے ہوئے بےسدھ ہو گئی۔
    وہ نجانے کب تک اپنی من مانی کرتے رہے۔
    کچھ حواس بہتر ہوئے تو احساس ہوا کہ اس درد میں کچھ کمی ہے، جس کی وجہ یہ تھی امجد بھائی پھدی مار کر لن نکال چکے تھے۔

    مگر اب میں پوری ننگی تھی اور وہ ایک بار پھر تسلی سے میرے جسم کو چوس اور چاٹ رہے تھے۔
    میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ پھر میرے اوپر چڑھ گئے۔ میں اس ناقابل برداشت درد سے دوبارہ نہیں گزرنا چاہتی تھی،سو رونے اور بلکنے لگی۔

    میں ان کی منت کرنے لگی،،امجد بھائی مجھے معاف کر دیں،،پلیز امجد بھائی مجھے چھوڑ دیں،،پلیز بھائی مجھے درد ہو رہا ہے۔

    مگر وہ سنی ان سنی کر کے ایک بار میرے پھدی کو چودنے لگے۔
    اس بار میری ٹانگیں میری چھاتی سے لگا کر گہرائی تک میری پھدی مارنے لگے۔
    اسی لمحے بجلی بھی آ گئی۔
    اپنی عزت برباد ہوتے محسوس کرنا اور بات ہے۔ اپنی عزت لٹتے آنکھوں سے دیکھنا اور بات۔ ان کا موٹا بھدا لن میری پھدی میں اندر باہر ہو رہا تھا،میرے مموں اور گردن پر ان کی زبان گھوم پھر رہی تھی۔ ان کا ننگا وجود میرے ننگے جسم سے پیوست اسے جھٹکوں میں پامال کر رہا تھا۔
    روشنی میں ان کی خباثت اور بھی بڑھی اور وہ مزید درندگی سے میرا جسم نوچنے لگے۔
    آخر اپنا لن نکالا میں میرے منہ کی طرف بڑھایا۔ اس لمحے سفید لیس دار سا مواد میرے منہ اورچھاتی پر بہنے لگا۔
    مجھے کراہیت ابکائی آ گئی۔
    وہ ہنسنے لگے۔ میں اپنے ہی خون سے لت پت فرش پر پڑی تھی۔ بامشکل اٹھی اور جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی مگر قمیض پھٹ چکی تھی۔ چادر سے جسم چھپایا۔
    کچھ ہی دیر میں انجم بھابھی آ گئیں۔ میری حالت دیکھتے ہی ساری کہانی سمجھ گئیں۔
    امجد بھائی نجانے کہاں غائب تھے۔ انجم بھابھی ان کی بیوی تھیں،شوہر کی فطرت جانتی تھیں۔
    انھی کے بلانے پر امی پہنچیں اور میرے اوپر گزرنے والی قیامت دیکھی تو ان کی چھاتی پھٹ گئی۔

    خیریت اور عافیت اسی میں تھی کہ امی چپ چاپ یہ راز چھپا لیتیں۔
    یہی انھوں نے کیا۔ ہم دونوں چپ چاپ وہاں سے چلی آئیں۔ انجم بھابھی کچھ دنوں بعد ایک معمولی بات کو جواز بنا کر رشتہ توڑ گئیں۔
    یہی اچھا ہوا ورنہ میں کیسے اس مرد کے ساتھ رہتی جو میری عزت لٹیرا تھا۔
    میں بولی:تم اپنے والد کو بتاتیں،کوئی قانونی کاروائی کرتیں۔

    وہ بولی:کیا ہوتا،،سب سے پہلی بات یہ دیکھی جاتی کہ میں اب کنواری نہیں رہی۔ چاہے قصور کسی کا بھی ہو۔ سربازار ننگی ہو جاتی۔ لٹی ہوں مگر ننگی تو نہیں ہوں نا۔ یہی میرا نصیب۔ میرا ساتھ دھوکا ہوا کوئی بات نہیں کسی اور کے ساتھ میں یہ ناپاک جسم دے کر دھوکا کر لوں گی۔ ایک مرد نے لوٹا،ایک انجانے میں لٹی عورت کو سنبھال لے گا۔
    میں نے رخشندہ کو بلانے کے ی لیے
    بیل بجا دی


    14-03-2009

    میرے سامنے سلمیٰ نامی ایک بیاہتہ اور بال بچوں والی عورت موجود تھی۔ اس کی عمر ستائیس سال تھی، رنگ گندمی، بھاری چھاتی،بھاری کولہے اور تھوڑا سا فربہی مائل جسم۔ شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد ایسا جسم ہونا عام بات ہے۔ اس کا چہرا گول تھا اور ناک میں ایک چھوٹی سی نتھنی۔ گال سرخی مائل اور ہونٹ گلابی سے تھوڑے گہرے۔ اس کے جسم پر مہنگا جوڑا تھا اور گلے میں قیمتی سونے کی چین تھی۔
    میں نے اس کی رپورٹ دیکھی جو پازیٹو تھی۔
    میں بولی:ہاں جی ! کہیں کیا بات ہے۔
    وہ بولی:میں یہ بچہ گرانا چاہتی ہوں۔
    میں بولی:مگر کیوں، اگر ایسا تھا تو تم پہلے ہی کوئی احتیاطی تدبیر کرتیں۔ یوں اس مرحلے پر بچہ گرانا مناسب نہیں ہے۔
    وہ بولی:بات یہ ڈاکٹر صاحبہ، کہ یہ بچہ،،،،کسی صورت بھی میں نہیں پیدا کر سکتی،آپ پلیز میری مدد کریں۔
    میں بولی:ٹھیک ہے مگر پہلے تم سچ سچ بتاؤ۔ اصل بات کیا ہے،ایسی کیا مشکل ہے کہ تم یہ بچہ نہیں پیدا کرنا چاہتیں۔
    وہ بولی:ڈاکٹر صاحبہ ! میں آپ کو ساری بات بتاتی ہوں۔
    میرا نام سلمیٰ ہے۔ میری شادی کو سات سال ہو چکے ہیں۔ میرا شوہرانور ایک مکینک تھا۔ یہاں کام کرتا تھا مگر کوئی خاص کمائی نہ تھی۔ شادی کے ایک سال بعد ہی اسے دوبئی جانے کا موقع ملا تو وہ بہتر مستقبل کی خاطر دوبئی چلا گیا۔
    اس وقت میرا بڑا بیٹا میرے پیٹ میں تھا۔ میں یہاں اپنی ساس اور نند کے ساتھ رہنے لگی۔ جس وقت میرا بیٹا دو سال کا ہوا میری ساس فوت ہو گئی۔ اس کی فوتگی پر انور پہلی بار گھر آئے۔ ایک مہینہ یہاں رہے اور میرے رہنے کا انتظام اپنے ایک جاننے والے کے مکان کی دوسری منزل پر کر دیا۔ سیدھے سادے شریف لوگ تھے سو اچھی گزربسر ہونے لگی۔
    ایک سال بعد میری نند کی بھی شادی ہو گئی اور میں اکیلی ہی رہنے لگی۔
    چونکہ اب میں اکیلی تھی تو وہ ایک سال کے بعد آنے لگے۔ اس دوران میرا ایک بیٹا اور پیدا ہوا۔
    پچھلے سال اس مکان مالک کو مکان کی اوپری منزل کی ضرورت پڑی تو ہمیں وہ مکان چھوڑ کر اسی محلے میں ایک دوسرے مکان میں شفٹ ہونا پڑا۔
    یہ مکان بھی پہلے کی طرح بالائی منزل پر تھا،مالک مکان ایک شریف بال بچوں والا شخص تھا۔ میرے شوہر بھی اس مکان میں آئے اور رہ کر گئے۔ اس دوران انھوں نے بھی اس رہائش کو بھی تسلی بخش قرار دیا۔
    جب سے دوسرا بیٹا پیدا ہوا،ہم دونوں میاں بیوی نے مزید بچے پیدا کرنے میں احتیاط شروع کر دی۔ وہ جتنے دن رہے ہم نے مردانہ کنڈوم کا استعمال کر کے جنسی تعلق قائم کیا۔
    انھیں گئے تین مہینے ہو گئے تھے۔ ایک دوپہر میرے گھر کا دروازہ بجا۔ کھولا تو مالک مکان کا بیٹا سہیل بجلی کا بل دینے موجود تھا۔
    میں نے بل وصول کر کے اسے روانہ کر دیا۔ اگلے کچھ دن سہیل دن میں ایک دو بار کسی نہ کسی کام کے بہانے میرے گھر ضرور آتا۔ میں بھی کبھی کبھار اس سے سودا سلف منگوانے لگی۔ اس ہلکے پھلکے میل ملاپ کو کسی نے، بشمول میرے، نوٹ نہ کیا، کیونکہ میں شادی شدہ اور سہیل سے چھ سات بڑی تھی۔
    ایک دن بچے گلی میں کھیلنے گئے ہوئے تھے۔ دروازہ کھلا تھا اور سہیل میرے کمرے میں آ گیا۔ اس سے قبل میں اسے دروازے سے ہی فارغ کر دیا کرتی تھی۔ مجھے پہلے حیرت ہوئی کہ وہ سیدھا اندر کیوں چلا آیا،مگر اس کی آنکھوں اور چہرے کی رنگت سے مجھ جیسی شادی شدہ عورت ایک لمحے میں سب سمجھ گئی۔
    اس نے اندر گھستے ہی میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی جس کا میں نے خوب سامنا کیا اور اسے اپنے جسم کو حاصل کرنے نہ دیا۔
    وہ بھی میری مزاحمت کے آگے جلد ہی مایوس ہو گیا اور اسی طرح خاموشی سے لوٹ گیا۔
    میں نے پہلے چاہا کہ یہ بات سہیل کی ماں سے کہہ دوں۔ پھر یہ سوچ کر ٹال دیا کہ اگلی بار اگر اس نے ایسا کچھ کیا تو سیدھا اس کی ماں سے کہہ دوں گی۔ ایسا یہ سوچ کر کیا کہ اس بات سے خواہ مخواہ میری بھی بدنامی ہو گی۔
    کچھ دن خاموشی سے بیت گئے۔ سہیل نے دوبارہ اپنی شکل نہ دکھائی۔ ایک رات سوتے ہوئے مجھے کچھ کھٹکا محسوس ہوا۔ نچلے مکان میں لوگوں کی موجودگی کے باعث مجھے ڈھارس تھی،اسی لیے میں نے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ باہر مکمل خاموشی اور تاریکی تھی۔ میں نے سوچا کہ شاید کوئی بلی ہو۔ اسی لیے ہمت کر کے کمرے سے باہر نکل کر برآمدے میں آ گئی۔
    اسی وقت کسی نے پیچھے سے مجھے جکڑ لیا اور میرے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ میں ڈر کے مارے بالکل ہی ڈھے گئی۔ میرے منہ سے کئی چیخیں نکلیں جو اس کی ہاتھ کے قفل سے قید ہو گئیں۔
    حملہ آور نے مجھے بانہوں میں بھر کر مجھے گھسیٹ کر دوسرے کمرے کی فرشی چٹائی پر گرا دیا۔ میں شدید خوف سے کپکپا رہی تھی،مجھے میں زور لگانے یا مزاحمت کرنے کا حوصلہ ہی نہ باقی رہا۔
    کمرے کے اندھیرے میں مجھے بس اس کا جسمانی ہیولہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔
    میں اپنی جان کے خوف سے تھرتھراتے ہوئے رونے لگی۔ میری طرف سے بہت کم مزاحمت پا کر اس نے مجھے لٹا کر میرے جسم کے زنانہ حصوں سے چھیڑچھاڑ شروع کر دیا۔ جب اس نے میری شلوار کا ازاربند کھولا تو مجھے اس کی نیت صاف معلوم ہو گئی۔ اسے میری جان کی نہیں عزت کی ضرورت تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر اس نے سختی نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور ایک تنا ہوا گرم لن چوت پر ٹکا دیا۔
    ایک ہی پل میں میرا سارا جسم سن ہو گیا۔ میرا خوف، میرا ڈر، میرا ہر احساس جیسے تھم گیا۔
    ایک ثانیے میں انور کے ساتھ گزرے لاتعداد پل نظروں میں گھوم گئے۔ خشک چوت لمحوں میں لیس دار پانی سے بھر آئی۔
    نجانے کس احساس کے تحت میں نے اپنی ٹانگیں کھول دیں۔ اس مرد کا لن کسی صابن کی جھاگ کی طرح باآسانی میری چوت کے اندر اتر گیا۔ لن جونہی ہی اندر گیا،میرے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ میں جو اب تک خود کو چھڑانے کی کوشش میں تھی،اس مرد کے کولہوں کو دبابے لگی تاکہ لن اور اندر تک چلا جائے۔
    اس وقت ذہنی رو ایسی بدل گئی کہ جیسے"اگر یہ عزت لوٹنا چاہتا ہے تو اچھی طرح اور جی بھر کر لوٹے"۔
    مگر شلوار کی رکاوٹ کے باعث لن زیادہ اندر نہ گیا۔ میں نے اپنے پیروں کی مدرد سے شلوار مکمل اتار دی اور ٹانگوں کو اس مرد کی ادھ ننگی رانوں کے گرد لپیٹ لیا۔
    اس مرد نے میرا منہ آزاد کر دیا اور میرے ہونٹ چومنے لگا۔ میں نے فورا" اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی۔ وہ بےصبری سے میری زبان چوسنے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ میری پھدی کو دھکے بھی لگاتا رہا۔ پھدی گیلی ہونے کے باعث لن اندر باہر ہونے سے پچک پچک کی آوازیں، ہونٹوں کے چوسنے کی چپ چپ چوپ چپ کی سی آوازیں اور پیراشوٹ مٹیریل کی چٹائی کی چک چک سب ایک عجیب سا شور برپا کرنے لگیں۔ اس شور میں کبھی کبھی میری گہری سانسوں اور آہوں کا شور بھی شامل ہو جاتا۔

    جونہی اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جدا ہوئے میں نے اس کا سر اپنے چھاتی پر رکھ دیا۔ میری قمیض میرے جسم پر تھی سو میں نے اس کے لیے قمیض ہٹائی اور اپنے ممے اس کے منہ میں اس طرح دیئے جیسے وہ میرا بیٹا ہو۔

    اس نے میرے مموں چوسے تو میرے منہ سے لاتعداد آہیں خارج ہو گئیں،،آہ،آہ،،آہ،،ہائے،،آ،ہ،،ہآہ،،آہ،،انور،آہ۔
    ٴوہ شاید چھوٹنے والا تھا اسی لیے اس کی رفتار تیز ہوتی گئی اور مجھے بھی مزا آنے لگا۔ میں نے ٹانگٰن اتنی کھولیں کہ لن کسی نیزے کی طرح چوت میں گھب سا جاتا۔ بالاخر وہ میرے پھدی کے اندر ہی چھوٹنے لگا۔ اس کی منی چارپانچ جھٹکوں میں اندر نکل گئی۔ وہ میرے اوپر لیٹ گیا۔ دو تین منٹ بعد اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔
    مگر میں نجانے کتنی دیر یونہی ننگی ساکت لیٹی رہی جیسے ابھی اس نے ایک بار اور آنا ہو۔ مرغوں کی بانگوں سے مجھے صبح کا احساس ہوا۔ میں چونک کر اٹھی،یہ سب خواب لگ رہا تھا۔ مگر ننگی ٹانگیں،چوت پر سفید خشکی،اس خواب کی حقیقت بیان کر رہی تھیں۔
    میں ایک گھنٹے جسم پر پانی بہا کر روتی رہی۔ میرا جسم ناپاک ہو گیا تھا۔ چوت کے فاضل بالوں پر مجھے اس کی منی سوکھی ہوئی محسوس ہوتی،میں نے رگڑ رگڑ کر سارے بال صاف کر دیئے۔ سارا دن بت بنی بیٹھی رہی۔ احساس گناہ مجھے کاٹنے لگا۔
    عزت لٹنے سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ مجھے عزت لٹوانے میں بہت مزا آیا تھا۔
    میں رورو کر اپنے گناہ کی معافی مانگتی رہی۔ شام کو سہیل کسی کام سے آیا تو میں نے اسے دروازے سے ہی دھتکار دیا۔

    آدھی رات کو کمرے کے باہر کھٹکا ہوا،میں باہر نکلی تو کوئی نہ تھا۔ ساتھ والے کمرے میں داخل ہوئی تو کسی کی سانسوں کی آواز سنائی دی۔ میں نے شلوار اتاری اور چپ چاپ چٹائی پر لیٹ گئی۔
    وہ مرد میرے اوپر آ گیا،میری شفاف چوت پر ہاتھ پھیرکر وہ شاید خوش ہوا اور مجھے مکمل ننگا کر کے چودنے لگا۔۔ اس رات صبح تک میں تین بار اس سے چدی۔
    اس رات کے بعد ہر رات وہ مرد آتا ہے،صبح تک مجھے چودتا ہے اور چپ چاپ بنا بات کیے چلا جاتا ہے۔۔

    میں بولی:تو کیا وہ سہیل ہے۔
    وہ بولی:ہاں شاید،ہم نے کبھی آپس میں کوئی بات نہیں کی۔

    میں خاموش ہو گئی۔ سلمیٰ کی کہانی بڑی عجیب تھی،دن کی روشنی میں وہ ایک باکردار عورت ہوتی ہے،جسے اپنے گناہ کا شدید قلق ہوتا ہے۔ مگر رات







    ہوتے ہی جسم کی بھوک اسے کسی کا بستر گرمانے پر




    اکساتی

  2. The Following 7 Users Say Thank You to hotbody_me For This Useful Post:

    abba (07-03-2019), abkhan_70 (12-01-2019), Admin (09-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (07-01-2019), mentor (07-01-2019), sexliker909 (07-01-2019)

  3. #2
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,179
    Thanks Thanks Given 
    238
    Thanks Thanks Received 
    281
    Thanked in
    94 Posts
    Rep Power
    1542

    Default

    bohat khoob janab mazeed likhain

  4. The Following 2 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abba (07-03-2019), abkhan_70 (12-01-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •