جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
51. You may not vote on this poll
  • behtreen

    39 76.47%
  • normal

    12 23.53%
Multiple Choice Poll.
Page 3 of 8 FirstFirst 1234567 ... LastLast
Results 21 to 30 of 80

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #21
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by sajjad334 View Post
    بہت ہی اعلی اور زبردست کہانی جا رہی ہے۔
    thanks sajjad bahi... aap b aesey hi comments kartey raha karien shukriya

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019), sajjad334 (08-01-2019)

  3. #22
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Unhappy

    چھٹی قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت یا ہوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھٹی قسط
    میں جیسے ہی اکلوتی دکان پر پہنچا تو دکان کے پاس آم کے درخت کے نیچے میرے گاوں کے کچھ لڑکے جن میں سجاد، شاہ زیب، وہاب، باسط، عمران، بلال اور نجیب بیٹھے جمبو سائز بوتل کھول کر پینا شروع کر رہے تھے۔ میں نے ان کو ہائے ہیلو کرتے ہوئے دکان میں داخل ہوا تو وحید بولا: آ گیا میرا یار۔۔۔
    وحید نے آگے بڑھ کر مجھے گلے سے لگا کر زوردار جپھی دی۔ اس کو پیسے دے کر بوتل کا بتا کر خود باہر آگیا کیونکہ اندر کچھ خواتین سودا سلف لے رہی تھیں۔
    سجاد: تجھے ہمیشہ گھر سے اٹھا کر یہاں لانا پڑتا تھا۔۔۔ آج اس کی کزن آئی ہے تو اس کی خاطر چیزیں خریدنے بھاگا چلا آیا۔۔۔ واہ ویرے واہ
    باسط: بھائی ۔۔۔ آپ سچ بتانا۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ آج کچھ خاص پک رہا ہے آپ کے ہاں
    میں: نہیں او یار۔۔۔ بس ویسے ہی۔۔۔ ابو نے بولا کہ گھر پر بار بار مہمان آتے ہیں تو بوتل لے آ۔۔۔ جو پہلے پڑی تھیں وہ ختم ہوگئی ہیں۔۔۔
    میں نے وہاب کو آنکھ مار دی تاکہ وہ میری بات سمجھ کر باسط کو چپ کروا دے۔ وہی ہوا۔
    عمران: آج میچ نہ ہو جائے؟
    میں فوراً بولا: نہیں یار۔۔۔ اراد ہ نہیں ہے ابو سے مار کھانے کا
    سجاد ہنستے ہوئے بولا: سچ میں تو بہت ڈرتا ہے اپنے ابو سے
    وہاب: ڈر بھی اچھا ہوتا ہےمیرے بھائی
    میں: دکان میں کس کی والی ہے جو اتنا انتظار ہو رہا ہے
    سجاد مجھے بوتل دیتے ہوئے ایک گلاس باقی تھا: بلال کی
    میں نے آنکھوں کا مرکز بلال کو بناتے ہوئے بولا: اوئے۔۔۔ تو نے کب ۔۔۔ ہاں؟؟؟
    بلال شرمایا: میری منگنی ہوگئی ہے بس۔۔۔ اس کو دیکھنے آیا تو ان کمینوں نے بوتل پی کر بھی راز کھول دیا۔۔۔
    میں: تیار رہنا۔۔۔ ٹریٹ ہوگی
    خیر۔۔۔ کچھ دیر کے بعد خواتین اٹھ کر باہر آئیں اور اسی راستے سے دوسرے گاوں کی طرف چل پڑیں۔ میں بھی ان کو ہی دیکھ رہا تھا ان میں سے ایک عورت چلتے چلتے پیچھے مڑ کر ہماری طرف دیکھی اور پھر سے سیدھی ہوکر اپنی ساتھیوں کے ہمراہ نکل گئی۔ میں وحید سے بوتل اور چپس لیکر دوستوں کو خداحافظ کہتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔
    گھر پہنچا تو سامنے دستر خوان تقریبا لگ چکا تھا اور دستر خوان پر ایمان ، عبیرہ، چاچی ، ابو، امی موجود تھیں۔ کچھ ہی دیر میں وہاب اور باسط بھی آ پہنچے۔ باجی نے اندر سے ایک اور بوتل نکال کر دستر خوان پر رکھ دی۔ ہم سب گپ شپ کرتے ہوئے کھانا کھانے لگے۔ باجی اور آپی ملکر بیسٹ بریانی بناتی تھیں۔
    تناول کے دوران میرے علاوہ ہر کوئی آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ حادثاتی طور پر عبیرہ کے دائیں طرف میں اور میری دائیں طرف ایمان بیٹھی ہوئی تھیں۔ جبکہ عبیرہ کے بائیں طرف ب وہاب اور باسط جبکہ ایمان کے ساتھ چاچی ، امی، اور باجی بیٹھی ہوئی تھیں۔ میرے بالکل سامنے آپی تھیں اور ابو تھوڑا سا سائیڈ پر ہی تھے۔
    بریانی کھاتے ہوئے مجھے مرچ لگی (آپی بہت مرچ ڈالتی تھی خاص کر چھٹی والے دن ) میں اٹھ کر سامنے پڑے ہوئے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر واپس بیٹھنے لگا تو میرا ہاتھ عبیرہ کے ہاتھ سے ٹچ ہوا۔ میں خاموشی سے پانی پینے کے بعد بریانی کی پلیٹ گود میں رکھے بریانی کھانے لگا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی چیز رینگتی ہوئی میرے ننگے پاوں سے ہوتے ہوئے میری ران (پٹ) کو ہلکا سا ٹچ ہوئی ہے۔
    میں نے فوراً اپنا چہرہ اسی طرف گھما کر دیکھا تومجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی لیکن جیسے ہی میری نظر عبیرہ کی نظروں سے ملی عبیرہ ہلکی سی مسکرا دی۔میں ایک مرتبہ پھر بریانی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا لیکن میرا دماغ بار بار عبیرہ کی مسکراہٹ کی طرف جا رہا تھا تب ہی میرے پاوں پر جو کہ میری ٹانگ کے نیچے دبا ہوا تھا ، اس پر پھر سے عبیرہ کی انگلی محسو س ہوئی۔ اب کی مرتبہ میں نے عبیرہ کی طرف نہیں دیکھا۔
    میں بریانی کی پلیٹ کو نیچے رکھ کر پانی کا گلاس اٹھا کر پانی پیتے ہوئے اپنا ہاتھ (عبیرہ کی طرف والا) اس کے ہاتھ پر رکھ دیا عبیرہ نے یقیناً میری طرف دیکھا ہوگا لیکن میں انجان بنا رہا۔
    میں دوبارہ سے بریانی کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ جبکہ میرے ہاتھ میں اب عبیرہ کا نازک ہاتھ موجود تھا۔ میں آہستہ آہستہ عبیرہ کے ہاتھ کو دبانے لگا۔
    عبیرہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑوانے کیلئے اپنے ہاتھ کو ہلکا ہلکا اپنی طرف کھینچنے لگی لیکن میں بھی ڈھیٹ بنا رہا تب ابو کی آواز مجھے سنائی دی۔
    ابو: عبیرہ ۔۔۔ پتر۔۔۔ کی گل اے؟؟؟ چپ کرکے کئیا بیٹھی ہے؟
    عبیرہ: وہ۔۔۔ انکل۔۔۔ میں کھانا کھا چکی ہوں۔۔۔
    آپی فوراً بولیں: بوتل گلاس میں ڈال کر پیو۔۔۔
    بوتل میرے سامنے پڑی تھی جبکہ میرے سامنے سے بوتل اٹھانے کیلئے عبیرہ کواپنا وہی ہاتھ حرکت میں لانا تھا جسے میں نے قابو میں کر رکھا تھا۔ جب آپی کے کہنے کے باوجود عبیرہ نے بوتل کے لیے خود کو آگے نہ بڑھایا تو ایمان نے فوراً سامنے پڑے ایک گلاس میں بوتل ڈال کر مجھ سے کہا: یہ عبیرہ کو دیں۔۔۔
    میں نے چمچ پلیٹ میں چھوڑی اور بھرے ہوئے گلاس کو پکڑ کر عبیرہ کی طرف جیسے ہی بڑھائی عبیرہ بے بسی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بھرے ہوئے گلاس کو تھام لیا۔ میں غیر محسوس انداز میں ہلکا سا مسکرا کر اپنی پلیٹ میں موجود بریانی کے آخری دانوں کو چمچ میں جیسے بھر نے لگا مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میری کمر پر زور سے چٹکی کاٹ لی ہو۔ چٹکی اگر نارمل انداز میں کاٹی جاتی تو مجھے درد نہ ہوتا لیکن چٹکی شاید زیادہ زور سے کاٹنے گئی تھی اسی لیے میرے ہاتھ سے چمچ لڑکھڑا تا ہوا پلیٹ میں جا گرا۔
    اس دوران میرے دوسرے ہاتھ سے عبیرہ کا ہاتھ چھوٹ گیا عبیرہ نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ کر اپنے سامنے پڑے گلاس کو اٹھا کر میری طرف بڑھا دیا۔
    سب سے پہلے امی اور ایمان بول پڑیں: کیا ہوا۔۔۔
    میں سمجھ تو چکا تھا کہ شرارت عبیرہ نے کی ہے لیکن میں ظاہر نہ کرتے ہوئے عبیرہ کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے گلاس تھام لیا اب کی مرتبہ میری انگلیاں کچھ لمحے کے لیے عبیرہ کے ہاتھ کی انگلیوں سے ٹچ رہیں۔
    عبیرہ گہری نظروں سے میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جبکہ میں پل بھر میں اس کی آنکھوں میں وہ سب کچھ دیکھ چکا تھا جو مجھے تانیہ کی آنکھوں میں اس وقت نظر آیا تھا جب وہ میرے ہر سوال میں صداقت پا کر میری طرف جس انداز میں دیکھ رہی تھی۔
    میں نے فوراً وقت کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے گلاس تھامتے ہوئے تھوڑا سا نقلی کھانستے ہوئے دو گھونٹ بوتل پینے کے بعد اسی گلاس کو واپس دستر خوان پر رکھتے ہوئے عبیرہ سے کہا: تھینکس
    عبیرہ: یو آل ویز ویلکم۔۔۔
    عبیرہ کو شاید اپنی غلطی احساس ہوچکا تھا لیکن اب میں ادلے کا بدلہ اتارنےکے چکر میں کچھ سوچ رہا تھا۔ تب ہی چاچی بولیں: پتر کی ہویا سی؟؟؟
    میرے بولنے سے پہلے عبیرہ بول پڑی: آنٹی ۔۔۔ ہری مرچ کھا لی تھی انہوں نے۔۔۔
    میں بالآخر ایک فیصلے پر پہنچ کر بولا: جی چاچی ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ میں سمجھا کہ آپی ہر مرتبہ بھنی ہوئی مرچ ہی پلیٹ میں ڈال کر دیتی ہیں لیکن آج شاید بھول گئی تھیں۔
    ابو: پتر۔۔۔ ویکھ کر کھایا کر۔۔۔
    میں: جی۔۔۔ ٹھیک ہے ابو جی۔۔۔
    ابو کے اٹھتے ہی امی، چاچی ، باجی ، آپی، وہاب اٹھ کر باہر پڑی چارپائیوں پر جا بیٹھے ۔ ایمان میرے قریب سے اٹھتے ہوئے میری ران کو پکڑ کر (سہارا لیتے ہوئے) جیسے ہی اٹھی میری نظر اس کی آنکھوں سے جیسے ہی ٹکرائی اس نے اپنی آنکھیں ہلکی سی نیم وا کرکے فوراً سیدھی ہوکر دستر خوان سے گندے برتن اٹھانے میں آپی اور باجی کی مدد کرنے لگی۔
    عبیرہ جلدی جلدی اپنے سامنے پڑی بریانی کی پلیٹ کو ختم کرنے میں مصروف تھی جبکہ باسط اکیلا گلاس میں مزید بوتل ڈال کر یہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے ختم کیسے کروں تب ہی میں نے اردگرد نظر گھما کر دیکھا اور پھر اپنے بازو کو ہوا میں کھولتے ہوئے پہلے آہستہ آہستہ پھر تیزی سے نیچے لاتے ہوئے عبیرہ کی باہر کو نکلی ہوئی چھوٹی سی ان چھوئی گانڈ کو چھو لیا بلکہ تھوڑا زیادہ زور سے دبا لیا۔
    میں اس کی روئی کی مانند نرم گانڈ کو دبا کر وہاں سے فوراً اٹھ کھڑا جبکہ میرے اس عمل مطلب گندی شرارت سے عبیرہ سچ مچ میں زور زور سے کھانسنے لگی۔ عبیرہ کو ٹھسکا لگتا دیکھ کر باسط نے فورا ً اپنا گلاس عبیرہ کو پکڑا دیا۔ عبیرہ ٹھہر ٹھہر کر سپ لیتے ہوئے بوتل پینے لگی۔
    باہر سے چاچی نے آواز دی: اب کس کو کھانسی لگ گئی۔۔۔
    (انہیں شاید باسط کا ڈر تھا )
    ایمان بولیبرتن اٹھانے کے لیے کچن سے نکلی تھی) نہیں مما۔۔۔ عبیرہ نے شاید ٹماٹر سمجھ کر سرخ مرچ کھالی ہے
    میں ایمان کی بات سن کر ناچاہتے ہوئے بھی تھوڑا زور سے ہنسنے لگا۔ ایمان اور باسط بھی مجھے ہنستا ہوا دیکھ کر وہ بھی زور زور سے ہنسنے لگے۔ جبکہ عبیرہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی ہوئی اپنے برتن اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔ میں کچھ دیر ابو کی محفل میں بیٹھا رہا پھر چاچی لوگ کے جانے کے بعد اٹھ کر چھت پر آگیا۔
    شاید عبیرہ اسی موقعہ کی تلاش میں تھی عبیرہ تھوڑی دیر کے بعد سیڑھیاں چڑھتی ہوئی چائے کے دو کپ لیے اسی جگہ آ کر کھڑی ہوگئی جہاں ہم کل کھڑے تھے۔
    میں نے جیسے ہی کپ اٹھا کر اپنے ہونٹوں کے قریب لایا تب ہی عبیرہ بولی: گرم پینے سے بہتر انسان ٹھنڈی کرکے پی لے۔
    میں اس کی بات سن کر وہیں رک گیا پھر عبیرہ کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے ہلکے ہلکے سپ لیتے ہوئے چائے کا مزہ لیتے بولا: پہلی بات تو یہ ہے کہ اب تو مجھے گرما گرم چائے پینے میں ہی مزہ آتا ہے۔۔۔ وہ کیا ہے نا۔۔۔ کہ۔۔۔ چائے گرم ہی پینی چاہیے۔۔ کیوں کہ چائے گرم ہی پی جاتی ہے ٹھنڈی تو آئس کریم کھائی جاتی ہے۔۔۔
    عبیرہ جل بھن کر بولی: یہ کیسی حرکت تھی؟ کوئی دیکھ لیتا تو؟
    میں عبیرہ کی بات سن کر دل میں سوچنے لگا کہ اسے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں نے گندی حرکت کی ہے اسے یہ احساس ہے کہ اگر کوئی ہمیں ایسا کرتا دیکھ لیتا تو ناجانےکیا کیا ہوجاتا۔۔۔
    میں: مطلب،۔۔ ہم اکیلے۔۔۔ میں۔۔۔ یو۔۔۔ نو۔۔۔(میں کپ کو واپس چاردیواری، منڈیر پر رکھ چکا تھا)
    عبیرہ اپنا چہرہ دوسری طرف موڑنے کے بعداچانک تیزی سے اپنا چہرہ دوبارہ میری طرف کرتے ہوئے میری طرف بڑھی: خود کو کیا سمجھتے ہو؟؟؟ سکول کی سب سے زیادہ بگڑی ہوئی لڑکی کو گرل فرینڈ بنا کر خود ہیرو سمجھ رہے ہو۔۔۔
    میں اسے اپنی طرف بڑھا ہوا دیکھ کر ایک قدم آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اس کے گلاب جیسے ہونٹوں کو اپنے بے رنگ ہونٹوں میں بھر کر اسے خاموش کروا دیا۔ ہم دونوں بس ایک ہی پوز میں کھڑے تھے۔ معلوم نہیں کتنا وقت گزر گیا لیکن نہ میں پیچھے ہٹا اور نہ ہی اس نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔
    میرے دماغ نے جیسے ہی کام کرنا شروع کیا میں نے اپنے ہونٹوں کو دوبارہ سے بے رنگ کرتے ہوئے عبیرہ کے ہونٹوں سے الگ کرلیا۔ میں دوبارہ چائے کے کپ کو اٹھا لیا اور چلتا ہوا پانی کی ٹینکی کے پاس پڑی چارپائی پر جا بیٹھا۔ میں خاموشی سے چائے پیتا چلا گیا جیسے ہی میں نے چائے کے خالی کپ کو نیچے رکھا عبیرہ میری گود میں آ بیٹھی۔
    عبیرہ: آئی لو یو۔۔۔
    میں چاہتے ہوئے بھی اسے آئی لو یو ٹو نہ کہہ سکا کیونکہ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ میری ہی کزن اتنی فاسٹ نکل آئے گی۔۔۔ میں اب دوسرے رخ سے عبیرہ کے آئی لو یو کو سمجھ رہا تھا۔ عبیرہ کی نازک گانڈ جیسے ہی میرے لن کو چھوئی اس میں اکڑن پیدا ہونے لگی۔ جبکہ عبیرہ اپنے اظہار محبت کا جواب سننے کے لیے اب تک میری گود میں بیٹھی ہوئی تھی۔
    جب اسے محسوس ہوا کہ یہاں معاملہ عاشقی کا نہیں بلکہ صرف ہوس کا ہے تو وہ فوراً میری گود سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کی سانسیں اب ہلکی ہلکی اکھڑی ہوئی تھیں اور وہ بے یقینی کے عالم میں میری طرف دیکھ رہی تھی۔
    کچھ ہی لمحوں میں وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے جا چکی تھی میں گپ اندھیرے میں اسی چارپائی پر بیٹھا بس یہی سوچے جا رہا تھا کہ کیا میرے نزدیک آئی لو یو کی اہمیت صرف ہوس تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے ؟
    اگلے دن چھٹی سے ایک پیریڈ پہلے میں اور زیب سکول سے بنک کرکے کمبائن سٹڈی کے لیے لیا ہوا کمرہ، میں چدائی کی سٹڈی کررہے تھے۔ آج زیب نے ہر اس طریقے سے مجھ سے چدوایا جس کا مجھے بالکل بھی علم نہیں تھا۔ تانیہ کو شاید علم ہوگا لیکن سکول میں چند پوزیشن کے علاوہ اپنائی نہیں جاسکتی تھیں۔
    زیب (تانیہ کو کال کرتے ہوئے): یار۔۔۔ وہی نوٹس ۔۔۔ عبیرہ سے لیے تھے کس کے پاس ہیں؟
    زیب دوبارہ بولی: ہاں وہی۔۔۔ وہ آج مانگ رہی تھی مجھ سے۔۔۔ یار اسے ضرورت ہوگی۔۔۔ تو ایسا کر مجھے اس لڑکی کا نمبر سینڈ کر۔۔۔ تاکہ عبیرہ کو نوٹس کل واپس لے دوں۔۔۔
    زیب: اچھا۔۔۔ سن۔۔۔ تیرا عاشق۔۔۔ تیرا پوچھ پوچھ کر ہمارا ٹائم ضائع کر رہا تھا۔۔۔ کیا بولو؟؟؟
    زیب: چل ٹھیک ہے۔۔۔ رکھتی ہوں۔
    میرے دل میں جو تانیہ کے لیے ذرا سی جگہ بچی تھی اس کی جگہ تقریباً اب ختم ہوچکی تھی۔ زیب مجھے خاموش بیڈ پر لیٹا ہوا دیکھ کر میرے سوئے ہوئے لن کو چوسنا شروع کر دیا۔ ایسا کوئی مرد نہیں جس کا ایک ننگی عورت مرجھایا ہوا لن ، اس کے خراب موڈ کے باوجود نا جگا پائے اور اس کے سوئے ہوئے ارمان دوبارہ زندہ نہ ہوں۔ ویسا ہی میرے ساتھ ہوا میرا دل و دماغ مزید چدائی کیلئے تیار نہیں تھے لیکن میرا مرجھایا ہوا لن ، زیب کی چسائی کے بعد اب جاگ چکا تھا۔
    اور پھر وہی کھیل ۔۔۔ ہوس کا ننگا کھیل شروع ہوگیا۔ زیب مجھے الوداع کرتے ہوئے بولی: پرسوں ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے
    میں نے بار ہا بار اس پوچھا لیکن جواب ندارد رہا۔ البتہ اس نے مجھے تیار ہوکر آنے کا کہا۔ شام کو کچھ بھی خاص نہیں ہوا ماسوائے ابو کی نصحیتیں سننے کے اور پڑھائی کے۔۔۔ اگلے دن سکول میں بھرپور پڑھائی کی اور بالآخر عبیرہ کے نوٹس اس تک پہنچ ہی گئے۔
    میں اپنے آنکھوں پر بندھی پٹی کو اتار کر جیسے ہی اپنے سامنے ، میرے لن پر سواری کرنے والی ہستی کو دیکھ کر حیران ہوئے جا رہا تھا ۔ حیران ہونا بھی بنتا تھا کیونکہ وہ کوئی اور نہیں۔۔۔ تانیہ تھی۔۔۔ میں جیسا سوچ رہا تھا کہ تانیہ میری سنگین غلطی کے بعد اب کبھی بھی مجھ سے تعلق نہیں رکھے گی وہ ایسے زیب کے ساتھ مل کر مجھے تھوڑا سا بے وقوف بناتے ہوئے اس حالات میں مجھ سے چدوا رہی تھی۔
    میں جیسے ہی اٹھنے لگا تب ہی تانیہ میرے اوپر جھک کر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ ایک لمبی کس کے بعد تانیہ میرے جسم سے لپٹے ہوئے بولی: ہاں میں مانتی ہوں کہ میں نے تم سے سچائی چھپائی۔۔۔ لیکن کیا میں اتنی بری ہوگئی ہوں کہ اب تم مجھ سے یوں بھاگتے پھرو۔۔۔ ہاں؟؟؟
    تانیہ کی بات سن کر نا جانے کیوں میرے آنکھوں سے آنسو کے چند قطرے نکل آئے۔ تانیہ آج پہلی والی تانیہ کی طرح نہیں بلکہ ایک نئی تانیہ کی طرح مجھ سے پیش آ رہی تھی۔
    تانیہ: جان جی۔۔۔ یہ دنیا ہے ہی مطلبی۔۔۔جب مطلب پورا ۔۔۔ تو کون میں کون؟؟؟
    میں: تم نے بہت غلط کیا۔۔۔ میں تمہیں معاف کیسے کروں؟
    تانیہ اب میرے گال کو اپنے گال سے رگڑتے ہوئے بولی: مت کرو معاف۔۔۔ ہم تو ٹھہرے بے وفا صنم۔۔۔ بس ایسے ہی ملتے رہا کرو جان جی۔۔۔
    زیب باتھ روم سے باہر نکلتے ہوئے بولی: ویسے معافی کیسے ملے گی یہ تو بتا دو جناب۔۔۔
    میں فیصلہ کرتے ہوئے: تم تینوں اپنی شکل کبھی نہ دکھاو یہ وعدہ کرو تو میں دل سے معاف کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔
    تانیہ ایکدم سے سیدھی ہوگئی: کیا مطلب؟؟؟
    میں: جو سنا ہے ۔۔۔
    تانیہ: زیبی۔۔۔ تو ہی اس کو سمجھا۔۔۔میں مر جاوں گی اس کے بغیر۔۔۔
    ثانیہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی: میں اس کے فیصلے کے حق میں ہوں۔۔۔
    میں خاموشی سے تانیہ کو اپنے لن سے الگ کرتے ہوئے اپنے بکھرے ہوئے کپڑوں کو اٹھا کر پہن کر ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: میری یہی دعا ہوگی کہ تم تینوں میری زندگی میں اب کبھی بھی واپس نہ آو۔۔۔
    میں جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا پیچھے سے تانیہ ننگی ہی میرے پیچھے آنے لگی کسی طرح تانیہ کو زیب نے پکڑے رکھا تب تک میں آنسو صاف کرتا ہوا کافی دور نکل آیا۔ مجھے دھیان اس وقت آیا جب سامنے سے آتی ہوئی سائیکل مجھ سے آ ٹکرائی۔
    آج اس واقعے کو گزرے انیس دن ہوچکے تھے ان تینوں میں سے ایک بھی لڑکی مجھے نظر نہ آئی بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ میں ان انیس ایام میں بس اپنی پڑھائی میں غرق رہا۔ بریک ٹائم تھا، بھوک لگنے پر میں کینٹن میں گیا تو عبیرہ سامنے سے چلتی ہوئی ہاتھ میں دو برگر لیے میری ہی طرف ا ٓرہی تھی بلکہ وہ باہر جا رہی تھی اور میں دروازے میں کھڑا تھا۔
    عبیرہ مجھے دیکھ کر دوبارہ سے مسکرائی لیکن میں اس کی مسکراہٹ کو اگنور کرتاہوا اس کے قریب پہنچ کر بولا: آئی ایم سوری۔۔۔ ہر اس حرکت کیلئے جو میں نے اس دن کی۔۔۔ اگین ایم سوری
    یہ کہتا ہوا میں اس کے قریب سے نکل کر آگے بڑھ گیا۔ ایک مرتبہ پھر میری آنکھوں میں ہلکے سے آنسو تیر گئے۔

  4. The Following 14 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (09-01-2019), abkhan_70 (08-01-2019), Admin (08-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (09-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (08-01-2019), mmmali61 (09-01-2019), musarat (09-01-2019), StoryTeller (09-03-2019), suhail502 (15-01-2019), windstorm (09-01-2019)

  5. #23
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    both aala story maza aa gya sex kay sath heart touching bhi hai

  6. The Following User Says Thank You to pakdon For This Useful Post:

    fahadfraz (30-01-2019)

  7. #24
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    20
    Thanks Thanks Received 
    11
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    mind blowing story, i think this story cross older records of other stories if its complete on my high expectations.

  8. #25
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    واہ جی واہ

    لڑکیوں سے جان چھڑا لی
    نئ پھنسانے کے لیئے

  9. #26
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by pakdon View Post
    both aala story maza aa gya sex kay sath heart touching bhi hai
    thanks my dear... stay with us and get more updates

  10. #27
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by Maryam Aziz View Post
    mind blowing story, i think this story cross older records of other stories if its complete on my high expectations.
    thanks... stay with us.......


  11. #28
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by mmmali61 View Post
    واہ جی واہ

    لڑکیوں سے جان چھڑا لی
    نئ پھنسانے کے لیئے
    thanks...

    ahaaan... bari baat hai... itni jaldi andaza laga liya

  12. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    mmmali61 (10-01-2019)

  13. #29
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by mmmali61 View Post
    واہ جی واہ

    لڑکیوں سے جان چھڑا لی
    نئ پھنسانے کے لیئے
    thanks...

    ahaaan... bari baat hai... itni jaldi andaza laga liya

  14. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    mmmali61 (10-01-2019)

  15. #30
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    ساتویں قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت یا ہوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساتویں قسط
    ہماراگھر بھی گاوں میں بنے ہوئے گھروں جیسا ہی بننا تھا اگر دادی اماں یا چاچو روف پر مکان کی تعمیر کی ذمہ داری ہوتی۔ چار کمرے ایک ہی لائین میں پیچھے کی طرف بنے ہوئے تھے جبکہ ان کے آگے دائیں اور بائیں طرف ایک ایک کمرہ اور پھر دائیں طرف بیٹھک اور بائیں جانب دو مزید کمرے بنے ہوئے تھے بیٹھک کے ساتھ اٹیچ باتھ روم بنا ہوا تھا جبکہ بائیں جانب فرنٹ والے کمرے کے ساتھ بھی اٹیچ باتھ روم تھا۔ اسی کمرے کے ساتھ ہی نئے طرز کا بنا ہوا کچن تھا ۔ کچن سے ملحقہ برآمدہ جسے مکمل گرل لگی ہوئی تھی اور برآمدہ کے سامنے صحن تھا۔
    امی اور آپی نے محنت سے صحن میں چاردیواری کے ساتھ ساتھ مختلف پھولوں کے پودے اور مختلف پھلوں کے پودے لگا رکھے تھے جو اب تناور درخت میں تبدیل ہوچکے تھے۔ میں تانیہ کے ساتھ ہوئی آخری ملاقات کے بعد اس سے دوبارہ نہ ملا اور نہ ہی ثانیہ اور زیب سے۔۔۔ بلکہ نہ ہی عبیرہ سے۔۔۔
    ابو کی سلام دعا اور دوستی علاقے کے مشہور سیاسی لیڈر سے بھی تھی ابو اور چاچو کا وہاں کافی آنا جانا بھی تھا ۔ ابو ان کے علاوہ گاوں کے ہی ایک پڑھے لکھے شخص کے گھر بھی کافی جاتے تھے ۔ امی سے میں نے بھی بارہا بار ابو کو ان دونوں کے گھروں میں نہ جانے کی استدعا سنی تھی۔
    ابو لاہور میں کام کرتے تھے ان کی چھٹی مکمل ہوتے ہی میرے بھی پر نکل آئے۔ دن کے وقت کھانا کھا لینے کے بعد میں دوستوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔
    عمران: آج تو بلے (بلال) نے موج ماری ہے۔۔۔ ہاہاہاہاہا
    شاہ زیب: بالکل۔۔۔ شیر لگا ہے ۔۔۔ یہ
    وہاب: اس نے کون سا تیر مار لیا ہے ۔۔۔ اس کی عمر جتنے لڑکے موقعہ ملتے ہی دس منٹ تو لازمی لگاتے ہیں لیکن بلا (بلال) فٹ ٹھس ہوگیا۔۔۔
    میں بلآخر بول پڑا: بھئی ۔۔۔ کیا معاملہ ہے؟
    میں ابھی ہی کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا اس لیے معاملے سے بالکل انجان تھا۔ میرے پوچھنے پر بلال نے شرما نے اپنا چہرہ نیچے کرلیا جبکہ پاس ہی دکان میں نکل کر آ رہے وحید نے مجھے دیکھ کر بولنا شروع کیا: اے کی دسن گئے۔۔۔ میں دسنا۔۔۔
    عمران: چل چھڈ۔۔۔ اے دس ۔۔۔ بوتل آندی اے یا نہیں؟
    وحید: سجاد کول اے
    ہم سب نے ملکر بوتل پارٹی کی میں سمجھ تو چکا تھا کہ کوئی بھی مجھے معاملہ سے آگاہ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ان کے نزدیک میں ابھی کند ذہن کا مالک ہوں مجھے سمجھانے کیلئے کسی کو اپنی گانڈ مروانا پڑسکتی تھی۔ ہاہاہاہاہاہا
    دوستوں کے چلے جانے کے بعد میں وحید کے دکان میں ہی جا بیٹھا۔ ہلکا ہلکا پنکھا چل رہا تھا میں وحید سے دوبارہ پوچھا: اب تو بتا دو کیا معاملہ تھا
    وحید جیسے ہی بولنے لگا محلے کے مولوی کی بیوی اور اس کے ساتھ خالہ ناظمہ دکان میں داخل ہوئیں۔ مجھے دیکھ کر خالہ ناظمہ چہک کر بولیں: کیسا ہے میرا پتر۔۔۔
    میں: جی آپ کی دعائیں ہیں۔ آپ سنائیں
    خالہ ناظمہ: کج نہ پچھ پتر۔۔۔ بس پیڑاں ہی پیڑاں (تکلیفیں) ہیں
    میں: اچھا
    میں دروازے کے قریب پہنچا تو وحید مجھے اشارے سے رکنے کا کہہ کر ان دونوں کو بیٹھنے کا بول کر میرے پیچھے پیچھے باہر نکل آیا۔
    وحید: یار وہاب سے ساری گل پوچھ لینا۔۔۔ اوکا۔۔۔
    میں: ٹھیک ہے
    میں چھت پر اسی چارپائی پر پڑھتے پڑھتے شام کے وقت کتاب منہ پر رکھے سو گیا۔ آنکھ میری اس وقت کھلی جب مجھے احساس ہوا کہ کوئی بندہ میرا سینے پر سر رکھ کر میرے ساتھ لیٹاہوا ہے۔ میں نے فوراً آنکھیں کھول کر اپنی آنکھوں پر رکھی ہوئی کتاب کو ہٹایا تو میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی عبیرہ کو دیکھ کر میں ایک لمحے کو بھونچکا گیا۔
    پھر میرے ذہن میں فوراً آیا کہ خالہ کو دن کے وقت وحید کی دکان پر دیکھا تھا شاید اس وقت ماں بیٹی چاچو کے گھر آئی ہوں گی۔
    عبیرہ: کیسے ہو آپ؟
    میں: ٹھیک۔۔۔ تم سناو
    عبیرہ اب بھی اسی انداز میں ٹانگیں نیچے لٹکائے مجھ سے بولی: مت پوچھ اے صنم ۔۔۔ بس تیرا ہی انتظار ہے
    میں: کوئی کام تھا مجھ سے؟
    عبیرہ اٹھلا کر بولی: پہلے والے کام کیلئے بہت بہت بہت بہت بہت زیادہ شکریہ۔۔۔
    میں: ہیں۔۔۔ کیا مطلب؟؟؟ اتنے ضروری نوٹس تھے؟
    عبیرہ : جی بالکل۔۔۔
    میں: مجھے بھی دینا۔۔
    عبیرہ: مجھے کیا ملے گا اے ہرجائی صنم ۔۔۔
    میں: جو میرے بس میں ہوگا۔۔۔مل جائے گا
    عبیرہ: اچھا سنا ہے کہ۔۔۔ بریک اپ ہوگیا ہے جناب کا۔۔۔
    میں انجان بنتے ہوئے: کیا مطلب؟
    عبیرہ: بہت اچھی بات۔۔۔ ویسے بھی پرانی باتوں کو یاد رکھنا ہی نہیں چاہیے۔۔۔
    نیچے سے اسی وقت خالہ کی آواز آئی کہ چائے لے جاو۔ عبیرہ چائے لینے نیچے گئی تو میں فوراً ٹینکی کے وال سے منہ ہاتھ دھو کر ہلکا پھلکا فرش ہوکر اپنی کتاب کو سائیڈ پر رکھ کر چارپائی پر ٹانگیں نیچے لٹکا کر وہیں بیٹھا رہا۔ عبیرہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی چھت پر جیسے ہی آئی میں اسی کی طرف دیکھنے لگا۔ آج اس کے چلنے کی چال، کپڑوں کے انتخاب میں نمایاں تبدیلی نظر آ رہی تھی چہرے پر مسکان پھیلائے وہ میری طرف آ رہی تھی۔
    نا جانے کیوں اس وقت میرے دل میں آیا کہ یہ اسی طرح چلتی ہوئی آئے اور میری گود میں اپنی تشریف کا ٹوکرا رکھتے ہوئے بولے: فک می ہارڈ ر جانوں۔۔۔
    جیسے جیسے وہ قریب آ رہی تھی میرے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی۔ عبیرہ میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ چکی تھی میں خیالات کی دنیا سے باہر نکل چکا تھا۔ عبیرہ مجھے چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے بولی: کیا اب بھی دل میں ذرا سی گنجائش باقی ہے یا بے وفا صنم کا روگ لگا بیٹھے ہو جناب۔۔۔
    میں چائے کا سپ بھرتے ہوئے بولا: فلحال پانچ سال دل کے اندر والا خانہ خالی اور لاک لگا کر رکھنا ہے۔۔۔ کیونکہ ابھی صحیح وقت نہیں آیا۔۔۔
    عبیرہ: اچھا۔۔۔ جی۔۔۔ مطلب۔۔۔ سانوں انکار اے؟؟؟
    میں: کوشش مرداں۔۔۔مدد خدا۔۔۔
    ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے تب تک ہم دوبارہ چائے پینا شروع کر چکے تھے۔ چائے ختم ہونے کے بعد بھی ہماری گفتگو اپنی پڑھائی کے متعلق رہی۔ نیچے سے امی اور آپی کی آواز آئی کہ وہ دونوں ماموں کی طرف جا رہی ہیں تب عبیرہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور آناً فاناً انہیں کے ساتھ اپنے گھر کو چل دی۔
    باجی نیچے اکیلی تھیں میں یہی سوچ کر نیچے اتر آیا۔ کچھ دیر میں چاچی ہمارے گھر وہاب کے ساتھ ہی آ گئیں۔کچھ دیر تو ہم باتیں کرتے رہے پھر باجی نے مجھ سے کہا: امی اور طاہرہ ماموں کے گھر رہنے گئی ہیں اب تم سو جاو۔
    چاچی: وہاب۔۔۔ تم بھی اب گھر جا کر سو جاو
    میں اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ کافی دیر کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرے کمرے کی طرف کوئی آرہا ہے میں ناچاہتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا ۔ آپ سب جانتے ہی ہیں سو کر جاگنا پھر چائے پینا اور پھر سے سونے کیلئے لیٹ جانے سے نیند نہیں آتی۔۔۔ وہی سب کچھ میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ مجھے نیند رتی بھر نہیں آ رہی تھی لیکن ناجانے کیوں میں اپنی آنکھیں بند کیے سوتا بنا۔
    آدھا گھنٹا گزر چکا تھامجھے اب بھی نیند نہیں آ رہی تھی میں بستر پر اٹھ بیٹھا۔ میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ کیا کروں۔۔۔ پھر اٹھ کر کمرے سے باہر آیا تو سارے گھر میں مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
    میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا پہلے ایک کمرے میں سے ہوتا ہوا دوسرے اور پھر تیسرے میں پہنچا لیکن مجھے باجی اور چاچی نظر نہ آئیں۔ بغرض میں نے ہر کمرہ چیک کرلینے کے بعد تھوڑا سا فکر مند ہوتے ہوئے مین گیٹ کی طرف بڑھا مجھے یہ جان کر تعجب کا جھٹکا لگا کہ مین گیٹ کواندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی جبکہ باجی اور چاچی دونوں سرے سے ہی غائب تھیں۔
    میں جیسے ہی صحن سے برآمدہ میں داخل ہونے لگا مجھے وہی جانی پہچانی آواز سنائی دی جسے سنے ہوئے مجھے اتنے دن گزر چکے تھے۔ میں کچھ دیر تک غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہا۔ کیونکہ باجی تو بھائی سے طلاق لینے کیلئے سوچ رہی تھیں جبکہ لذت میں ڈوبی ہوئی سسکاریاں باجی کے علاوہ اور کون نکال سکتا ہے؟
    دماغ کے ہزارویں حصے میں چاچی کا نام کلک ہوا۔۔۔ میرے دل نے کہا: ضرور چاچو چاچی سے ملنے چھت پر آئے ہوں گے اور چاچو چاچی چھت پر سیکس کر رہے ہیں۔
    پھرسےدل پردماغ حاوی ہوتے ہوئے : پھرباجی کہاں ہے؟
    اسی کشمکش میں مبتلا میں آہستہ آہستہ بغیر آواز پیدا کیے میں سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔ چونکہ چھت پر کوئی بلب وغیرہ نہیں تھا اور نہ ہی برآمدہ کے باہر صحن میں کوئی بلب جل رہا تھا اس لیے میرے آنے یا نظر آنے کے امکانات نا ہونے کے برابرتھے۔میں جیسے ہی آخری سیڑھی چڑھا میری نظر (میرا شک چارپائی کا تھا) سیدھی ان دو جسموں پر جا پڑی جن کی مجھے تلاش تھی۔
    چارپائی بالکل ہلکی ہلکی ہل رہی تھی اسی وجہ سے مجھے پہلے آواز سنائی نہیں دی۔ لیکن اب واضح محسوس ہورہا تھا کہ چاچی چاچو کے ساتھ ملن آبشار کر رہے تھے۔
    میرے دل میں چاچی کے رعب داعب والے خاکے کے ساتھ ساتھ ہلکا پھلکا سیکسی فیگر کا بھی خاکہ ابھر رہا تھا میرے دل میں تجسس ابھراکہ یہ وہی چاچی ہیں جو اپنے بھائیوں اور اپنی سرکاری نوکری کی بدولت پورے سسرال میں رعب داعب بنائے ہوئے چاچو کو بھی کنٹرول میں کیے ہوئے تھیں۔ میں بس ایک مرتبہ ان کا وہ جسم دیکھنا چاہتا تھا جسے چاچو نے حاصل کیا تھا۔
    میں چھت پر آکر تیزی سے سوچتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہوا گول چکر کاٹ کر سیڑھیوں کی مخالف سمت میں آکر چارپائی کی طرف بڑھنے لگا۔ اب مجھے اس بات کا بھی تجسس بے چین کیے ہوئے تھا کہ اگر چاچی چھت پر ہیں تو باجی کہاں ہیں؟ کہیں چاچی کا لائیو سیکس شو دیکھنے وہ بھی میری طرح چھپ کر یہاں پہنچ تو نہیں آئیں؟
    یہ سوچ ذہن میں ٓتے ہی میں وہیں رک گیا لیکن میں یہ بات سوچتے سوچتے چارپائی کے اتنے قریب پہنچ چکا تھا کہ مجھے اب اندھیرے میں بھی دو جسم ہیولے کی مانند نظر آ رہے تھے۔
    میں نے ایک مرتبہ پھر غور سے پورے چھت پر باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے باجی کو ڈھونڈا لیکن باجی کا نام و نشان نظر نہ آیا۔ ابھی میں اسی گہری سوچ میں گم باجی کو بار بار ٹینکی اور اس کے اردگرد ڈھونڈ رہا تھا کہ چاچی کی آواز سنائی دی
    چاچی: کی کرے جاندی اے۔۔۔ بُن تواڈا ۔۔۔پرا۔۔۔ سُتیا۔۔۔ اے۔۔۔ ایتھے توی ایک واری فیئر ٹھنڈا ہونا اے؟؟؟
    اگلی ہستی کی اآواز سن کر مجھے چار سو چالیس کا بجلی کا جھٹکا لگا وہ تو میری باجی تھیں جو چاچی کے نیچے دبی ہوئی تھی : اُس دی للی ۔۔۔ ویکھی اے۔۔۔ اس دیہاڑے ۔۔۔ اس دے کپڑیاں نالوں اس دی للی دے پانی نوں دھو دھو کر میں تے تھک ہار گئی ساں۔۔۔ او تے ستیے پانی کڈ دیندا اے۔۔۔ سانوں کنُ ٹھنڈا کرے گا؟؟؟
    چاچی باجی کی تڑپ اور میرے متعلق بات سن کر سرمستی میں جھوم کر بولیں: فئیر ۔۔۔ توں چٹ جانی سی۔۔۔ یا مئیں بلالینی۔۔۔
    باجی بھی ہنس پڑیں: سُک گئی سی۔۔۔ نہ تے تواڈے کول ہی اس دی تنبی (شلوار) پارسل کردینی سی
    چاچی: چل چھڈ۔۔۔ اگلی بلا لوئیں۔ ہن چل چلئیے۔۔۔
    میں چاچی کی بات سن کر پہلے خوش تو ہوا پھر نیچے چلنے کی بات سن کر میں تھوڑا تیز قدموں سے وہاں سے نکلا اور سیڑھیوں سے اتر کمرے میں جا کر لائٹ آف کرکے لیٹ گیا یہی میری غلطی تھی۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا مجھے احساس ہوا کہ میرا نچلا حصہ ننگا ہو رہا ہے۔
    میں اسے خواب سمجھ کر سوتا ہی رہا لیکن جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن اب کسی انتہائی گرم اور گیلی جگہ میں گھس رہا ہے۔ بار بار ایک ہی عمل نے میرے جسم میں سرور کی نئی لہر جسے میں تانیہ اور اس کی سہیلیوں کے ساتھ ہی دفن کر آیا تھا ، پھیلنے لگی تھی۔ میرے لن میں اب آہستہ آہستہ اکڑن پیدا ہو رہی تھی وہ جو کوئی بھی تھی۔۔۔ پوری مہارت کے ساتھ میرے لن سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی ۔
    میں آنکھیں بند کیے مسلسل مزے لے رہا تھا تب مجھے اپنے لن سے اس گرم اور گیلی چیز کی جکڑن ختم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے ایک تنگ لیکن قدرے سوکھی چیز کے اندر میرا گیلا ہوچکا لن داخل ہونے لگا۔ جیسے جیسے لن اس سوکھے سوراخ میں گھس رہی تھی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اس سوراخ میں حد سے زیادہ گرمی موجود ہے۔
    میرا اس گرمی کی وجہ سے دل بے چین ہوئے جا رہا تھا جیسے تیسے یہ سفر طے ہوا میں نے اپنی آنکھیں کھول کر اپنے نئے ہمسفر کی طرف دیکھا۔ اندھیرے میں اس کا جسم مجھے ہر لحاظ سے پرفیکٹ لگا۔ میرا دل چاہنے لگا کہ میں کسی طرح اس کے تنے ہوئے مموں کو ہاتھوں میں لے کر چھو لوں۔۔۔
    مجھے واضح اپنا لن سخت اور جلتی ہوئی پھدی میں مکمل غائب محسوس ہو رہاتھا ۔میرے لن پر بیٹھنے والی نے اپنی پوزیشن کو میرے لن پر بیٹھے ہوئے ہی ٹھیک کی اور کچھ ہی سیکنڈز میں میرے لن کو اندر لیے آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو دائیں بائیں کرتے ہوئے میرے پیٹ پر رگڑنے لگی۔
    اس پوز میں سیکس کا دورانیہ میرے نئے ساتھی کا چند لمحوں کا ہی ثابت ہوا اور وہ اپنی ٹائیٹ پھدی کو پھڑپھڑانے سے روک نہ پائی اور جلد ہی اپنی پھدی کی رس ملائی کو میرے لن پر بہانے لگی۔ اپنی پھدی کی رس ملائی کو خارج کرنے کے بعد وہ اب بالکل نارمل ہوچکی تھی ۔
    مجھے اب اس کے اندھیرے میں شاید ۳۸ سائز کے بھرے بھرے ممے نظر آ رہے تھے۔ایک مرتبہ پھر وہ ہلنے لگی وہ بار بار اپنی پھدی کو سخت اور ڈھیلا کررہی تھی مجھے یہ سمجھنے میں تھوڑی سی دیر ہوگئی کہ یہ عمل اس کے سازشی ذہن کا کمال تھا، میں بالآخر سسکتے ہوئے اس کے بھرے بھرے مموں کو ہاتھوں میں تھام کر پہلے نرمی سے پھر زور سے دباتے ہوئے خود ہی اپنی کمر کو اوپر نیچے جھٹکے لگانے لگا۔
    اسی وجہ سے مجھ پر وہ بچھتی چلی گئی۔ اس کے منہ سے نکلنی والی گرم گرم سانسیں اب میرے چہرے پر محسوس ہورہی تھی ۔ میں لگاتار اپنی کمر اوپر نیچے کرتے ہوئے اس کی گرم پھدی کو چود رہا تھا اب میرا لن گیلی ہوچکی پھدی میں بآسانی تیزی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔
    میں اس کے لپٹنے سے تقریباً سب کچھ بھول کر ایک سیکس پارٹنر کی طرح اس کا مکمل ساتھ دے رہا تھا وہ ابھی تک مکمل خاموش بس اپنی گرم سانسوں کو میرے چہرے پر چھوڑ رہی تھی۔
    ایک مرتبہ پھر وہ میری طرح سرور کے نشے میں ڈوبے ہوئے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے ہلاتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے ملا دیا۔ اب ہم دونوں کو کسی تیسرے کی رتی برابر فکر نہیں تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے جسم میں گم ایک دوسرے کی پیاس جو ناجانے کب سے لگی ہوئی تھی، بجھانے میں مصروف تھے۔
    وہ آپےسے باہر ہونے لگی تھی اس کی رفتار تیز سے تیزتر ہوتی چلی جا رہی تھی اب اس کی زبان میری زبان سے لڑتے لڑتے بے حال ہورہی تھی پھر وہی ہوا۔۔۔ جو مرد و زن کے درمیان ہوتا آ رہا ہے۔۔۔ وہ اپنی پھدی کو میرے لن پر شکنجہ کستے ہوئے بولی: اصلی مرد تم ہی ہو۔۔۔
    میں اس آواز کو سن کر حیرت میں مبتلا جبکہ وہ لذت میں سرشار ، ہم دونوں ایک دوسرے کے عضوکو ٹھنڈا کرنے لگے۔ میرے لن سے نکلنے والی منی سے چاچی کی پھدی تر ہوتی چلی گئی جبکہ چاچی کی پھدی سے نکلنے والے رس سے میرا لن بھیگتا چلا گیا۔ ہم دونوں مسلسل ہانپ رہے تھے۔ میں آنے والے دنوں کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان ہوئے جا رہا تھا جبکہ چاچی حقیقت میں چچا کے بعد اپنے نئے سیکس پارٹنر بلکہ نوجوان سیکس پارٹنر کو حاصل کرکے بے حد خوش مجھ سے لپٹی ہوئی تھیں۔
    میں چاچی کے رعب داعب والی شخصیت کو سوچ سوچ کر پریشان ہوا جا رہا تھا اسی وجہ فارغ ہونے کے بعد اب میرا لن چاچی کی پھدی سے نکل کر اب ایسے سکڑ چکا تھا جیسے اس نے کبھی اکڑنا محسوس ہی نہ کیا ہو۔
    یہ وہی چاچی تھیں جنہوں نے اپنے کسی رشتہ دار کی شادی پر ایمان کو اس بات پر ڈانٹا تھا کہ اس کی ضد تھی کہ وہ بھی اسی وقت میری دلہن بننا چاہتی تھی۔۔۔ اگر اس وقت ماموں نے چاچی کے ڈانٹے پر بات کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش نہ کی ہوتی تو ۔۔۔
    (یہ واقعہ کچھ سال پہلے بچپن کا تھا اب تو شاید ایمان بھی بدل چکی ہے)



  16. The Following 15 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (10-01-2019), abkhan_70 (10-01-2019), Admin (11-01-2019), aloneboy86 (12-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), katita (13-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (11-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Mirza09518 (11-01-2019), mmmali61 (10-01-2019), sajjad334 (14-01-2019), StoryTeller (09-03-2019), windstorm (10-01-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •