سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
32. You may not vote on this poll
  • behtreen

    23 71.88%
  • normal

    9 28.13%
Multiple Choice Poll.
Page 2 of 6 FirstFirst 123456 LastLast
Results 11 to 20 of 52

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #11
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Post Happy Saturday Night Update

    تیسری قسط
    جمعہ کے رات خواب میں بس، میں اور تانیہ ہی تھے اور خواب میں بس چدائی ہی چدائی تھی۔ اگلی صبح جاگنے سے لیکر سکول پہنچنے تک تانیہ کے ساتھ دوبارہ سین کا سوچ سوچ کر ، میں شہوت کی گرمی میں جلستا رہا۔ لیکن آج کسی بھی طرح تانیہ یا تانیہ کی سہیلیاں نظر نہیں آئیں۔
    گھر میں باجی فرزانہ کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھی۔ ہفتے کو مہندی اور اتوار کو بارات تھی۔ گھر سے سکول اور سکول سے گھر اور شادی کے مختلف چھوٹے چھوٹے کاموں میں اتنا مصروف رہا کہ تانیہ کی ایک بار بھی یاد نہیں آئی۔ ذہن میں نہ تو کسی دوسری لڑکی یا کزن کے متعلق برا خیال نہیں آیا کیوں کہ سب کو میں اپنی بہن، باجی، آپی ہی سمجھتا تھا۔
    سوموار کو ولیمہ تھا اس لیے میں سوموار کو سکول نہ جا سکا۔ منگل والے دن بھی باجی کے اصرار پر مجھے وہیں رہنا پڑا۔ آج میں بڑا خوش وخرم بدھ والے دن اسمبلی اٹینڈ کرنے کے بعد اپنی کلاس کی طرف جا رہا تھا تب ہی میری نظر زیب پر پڑی۔ زیب نے مجھے دیکھ کر دو انگلیوں سے کوئی اشارہ کیا جسے میں بالکل بھی نہ سمجھ سکا۔
    بریک ختم ہونے تک میں بس کلاس میں رہا اور پڑھتا ہی رہا بریک ٹائم اپنی ٹیچر سے نوٹس لیکر ان کو کاپی کرتا رہا۔ جیسے ہی بریک ٹائم ختم ہوا بیل ہونے پر میں کینٹن سے باہر نکل کر چلتا ہوا اپنی کلاس جو کہ دوسری منزل پر ہونا تھی کی طرف چل پڑا۔ تب ہی تانیہ بلی کی مانند تیزی سے چلتی ہوئی آئی اور میرا بازو پکڑ کر سیڑھیوں کے نیچے بنے ہوئے سٹور روم میں لیکر داخل ہوگئی۔
    تانیہ جلدی سے میری پینٹ کا بیلٹ کھولتے ہوئے بولی: بلانے پر کیوں نہیں آئے تم
    سٹور روم میں ہلکی سی روشنی آ رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے تانیہ کا ہیولہ ہی نظر آ رہا تھا۔ میں نے ہمت کرکے تانیہ کے چہرے کو تھام کر ایک چھوٹی سی کس کرتے ہوئے کہا: کب؟
    تانیہ تب تک میری پینٹ کھول چکی تھی اور اب وہ میرے لنڈ سے کھیلنے میں مگن تھی۔ وہ بولی: اسمبلی کے بعد
    میں: وہ تو زیب ۔۔۔ نے۔۔۔اچھا۔۔۔ وہ تم بلا رہی تھی لیکن مجھے اشارہ سمجھ ہی نہیں آیا
    تانیہ زمین پر بیٹھتے ہوئے بولی: یہ جرمانہ باقی رہا جناب
    اتنا بول کر تانیہ نے میرے آدھ کھڑے لنڈ کو اپنے منہ میں بھر لیا۔ کچھ لمحے تانیہ میرے لنڈ کو لولی پوپ سمجھ کر اچھی طرح چوستی رہی۔ تانیہ گھوڑی بنی ہوئی میرے لنڈ کو اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کروا کر اندر لے رہی تھی تب میں بولا: تمہیں معلوم نہیں میں ہفتے والے دن تمہیں کتنا یاد کیا تانی
    تانیہ سسکتے ہوئے: آہ۔۔۔ ہ ۔ ۔۔ہ۔۔۔ سی۔ سی۔۔ ۔سارا اندر ڈالنا۔۔۔ اچھا۔۔۔ ثانیہ ۔۔۔ تو آئی ہوئی تھی اس نے نہیں بتایا مجھے
    اب میری سمجھ کچھ نہ کچھ آ چکا تھا اس لیے لنڈ جیسے ہی آدھے تانی کی پھدی میں داخل ہوا میں آگے پیچھے ہلتے ہوئے تانی کی پھدی کی ٹھکائی کرنے لگا۔
    میں: لیکن۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے نظر ہی۔۔۔ نہیں آئی۔۔۔
    تانیہ: ہم دونوں پاس ہی ایک گھر دیکھنے گئی تھی ۔۔۔ زیب اور میں۔۔۔ ویسے ثانیہ مجھ سے ناراض ہے
    میں مسلسل ایک ہی ردھم میں تانیہ کی پھدی میں اپنا لنڈ اندر باہر کرتے ہوئے جھٹکے لگا رہا تھا اور تانیہ مسلسل دبی دبی سسکاریاں اپنے منہ سے نکال رہی تھی۔
    تانیہ کے بتانے پر میں ثانیہ کے ناراض ہونے پرچونکا ضرور تھا ۔ تب تانیہ بولی: زیبی اور ثانیہ دونوں کا تم پر دل آگیا ہے۔ جب میں نے یہ بتایا کہ میرا تم پر دل آیا ہے تو وہ دونوں مجھ سے جھگڑا کرنے لگیں۔
    میں محسوس کر رہا تھا کہ تانیہ بات کرتے ہوئے اب آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو میری طرف دھکیلنے لگی ہے۔ جلد ہی اس کی پھدی نے میرے لنڈ کو جھکڑنا شروع کر دیا۔ سٹور روم میں تانیہ کی سسکاریاں تیز ہوتی چلی گئیں۔ کچھ دیر کے بعد ہم دونوں سکول کی چھت پر موجود تھے تانیہ میری گود میں بیٹھی ہوئی تھی۔
    میرے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں دبے ہوئے تھے اور میرے ہاتھوں کے نیچے تانیہ کے ممے تھے۔ تانیہ مجھ سے باجی کی شادی کے متعلق پوچھ رہی تھی۔ میں بس جو اپنے نالج میں تھا بتاتا گیا۔
    تانیہ: اگر تم گیارہ بجے بریک ٹائم آ جاتے تو میں تمہارا اور تم سے اپنی کلاس کے لڑکوں سے متعارف کروا دیتی لیکن تم آئے ہی نہیں
    میں: مجھے سمجھ ہی نہیں آئی جناب
    تانیہ: آ جائے گی اب ہر بات کی سمجھ۔۔۔
    تانیہ مسکرائی تو میں بھی ہلکا سا مسکرا دیا۔ تانیہ بولی: مسکراتے رہا کرو۔۔۔ خوبصورت لگتے ہو تم
    میرے گال اپنی تعریف سن کر تھوڑے سے لال ہوئے تو تانیہ میری چھاتی کے نپل کو پکڑ کر ہلکا سا مسل کر بولی: کیا کہا تھا میں نے۔۔۔ شرمانا نہیں۔۔۔
    میں: تم پڑھتی نہیں ہو؟
    تانیہ: پڑھ کر کیا کرنا ہے؟ ہر چیز موبائل اور کمپیوٹر میں مل جاتا ہے بس وہیں سے پڑھ لیتی ہوں اور سمجھ نہ آئے تو یوٹیوب پر سمجھ لیتی ہوں۔۔۔
    اب مجھے بالکل بھی علم نہیں تھا چھوٹے سے موبائل سے تعلیم کیسے حاصل ہوتی ہے اور کمپیوٹر کیا بلا ہے؟یوٹیوب کا تو۔۔۔ ہی حافظ تھا۔۔۔ تب کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد تانیہ بولی: مجھے اچھا لگا جب تم نے مجھے تانی کہہ کر مخاطب کیا۔۔۔
    میں: اب گھر چلیں؟
    تانیہ: مجھے وہ دیکھنا ہے۔۔۔
    میں: وہ،،، کیا؟؟؟
    تانیہ اپنی گانڈ کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر تھوڑا سا مزید میری گود میں سیٹ ہوکر بیٹھتے ہوئے بولی: وہی۔۔۔ جس کی میں دیوانی ہوں جناب
    میں اب تانیہ کی سکول ڈرس کے اوپر سے ہی ہلکا ہلکا اس کے مموں کو دبانے لگا تھا کچھ دیر پہلے ہی تانیہ نے اپنے مموں کو مجھ سے دبواناشروع کیا تھا۔
    تانیہ: کاش تم ایک سال پہلے آ جاتے
    تب ہی نیچے سے زیبی کی آواز آئی: سکول کا چپڑاسی کہہ رہا ہے کہ اسے گھر میں کام ہے سکول بند کرنا ہے۔
    تانیہ جھنجھلا کر بولی: سو روپے اس کو دے کر بول ایک گھنٹہ صبر کرے
    میں: لیکن۔۔۔ تانی۔۔۔
    تانیہ: میں قسم سے بہت زیادہ ترس چکی ہوں جان۔۔۔ کاش تم پہلے مل جاتے
    آدھے گھنٹے کے بعد ہم دونوں سکول سے نکل رہے تھے۔ سکول کا چپڑاسی نظر نہیں آ رہا تھالیکن زیبی سکول گیٹ کے پاس ہی کھڑی ہماری منتظر تھی۔
    آج پھر مجھے تانیہ کے ساتھ سیکس کرنے کا خواب آیا۔ اگلے دو دن تک تانی نے بریک ٹائم میں دس بارہ منٹ تک خود کو مجھ سے ٹھنڈا کروایا ۔ جمعے کا دن تھا۔ کھانا کھانے کے بعد میں کمرے میں آکر پڑھنے بیٹھ گیا۔ نا جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی۔ ایک مرتبہ پھر سوتے ہوئے وہی خواب۔۔۔ جو حقیقت میں کرچکا تھا وہی سب کچھ خواب میں کر رہا تھا۔
    مجھے ایسا لگا جیسے میرا لنڈ پھٹنے والا ہوچکا ہے اور تانیہ کی پھدی میرے لنڈ کو بار بار جھکڑ رہی ہے اور اسی وقت تانیہ کی پھدی اپنا پانی چھوڑنا شروع ہوگئی اور ٹھیک اسی وقت میرا جسم بھی تھرتھرانے لگا۔ میرے جسم میں سنسنی پھیلنے لگی اور میرے جسم میں مزے کی لہر دوڑ گئی۔
    آنکھ کھلی تو اندھیرا ہوچکا تھا۔ میں اٹھ کر باہر آیا۔ کچھ خاص نہیں تھا اس لیے لکھنے کا فائدہ نہیں۔ آج ہم دونوں کے اس نئے تعلق کو چھ ماہ ہوچکے تھے۔ اب تانیہ اور میں بھرپور مزہ لیتے تھے لیکن تانیہ اب بھی میرے لیے پریشان تھی کیوں کہ میرا لنڈ منی نکال نہیں رہا تھا۔ ایک ماہ میں تانیہ نے مجھے مکمل ٹرینڈ کر دیا تھا۔
    زیب اور ثانیہ جب بھی میرے قریب ، یا کینٹن میں میرے ہاتھ کو پکڑنے لگتی تو تانیہ کسی نہ کسی بہانے سے ٹوک دیتی تھی۔ ایک دن مجھے کوئی کام نہیں تھا تو میں چھت پر موجود چارپائی پر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ، میں سو گیا۔ ایک مرتبہ پھر وہی خواب لیکن اس مرتبہ جب میں جگہ تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی چپ چپی سی چیز میری شلوار کو بھگو چکی ہے۔ تانیہ نے مجھے لنڈ کی منی کا خاکہ سمجھا رکھا تھا۔ ویسا ہی تھی میرے لنڈ کی منی،
    گھر میں باجی کے گھر کے مسائل ڈسکس ہونے لگے تھے۔ میں پہلے پہل انجان ہی تھا لیکن ایک دن مجھ پر ساری حقیقت افشاں ہوگئی۔

    میں اور آپی شہر والے گھر پر آئے ہوئے تھے۔ ابو نے سختی سے تاکید کر رکھی تھی کہ اس گھر سے آنے والی آمدن کو ہم تینوں آپس میں بانٹ کر اپنی ضروریات پورا کیا کریں گے۔ ان کے فوت ہوجانے کے بعد میں نے باجی اور آپی سے مشورہ کرکے اس گھر کو چار منزلہ گھر میں تبدیل کردیا تھا۔ نیچے کے تینوں فلیٹ کرایے پر لگ چکے تھے۔ سب سے اوپری منز ل کا پورشن ہم نے مانگنے پر بھی کسی بھی نئے کرائے دار کو نہیں دیا تھا۔
    آپی اور میں نے اس پورشن کو آبائی گھر سے بھی بہتر گھر بنا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے میں ، آپی اور باجی ماحول تبدیل کرنے کیلئے آوٹنگ کے لیے یہاں آتے رہتے تھے۔
    میں نے آپی کو آواز دی: آپی۔۔۔ی۔ی۔ی۔ی۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔۔۔
    آپی: آئی۔۔۔ بس۔۔۔ ایک منٹ
    کچھ ہی منٹس کے بعد آپی ہاف وائٹ نائٹی پہنے ہوئے ہاتھ میں کھانے کے دو ٹرے اٹھائے ہوئے ٹی وی لاونج میں داخل ہوئیں۔ آپی کے ممے برا کی قید سے آزاد اور پھدی پینٹی سے بے نیاز اپنا اپنا حسن مجھ پر نچھاور کرنے کو ہر لمحے کو تیار تھے۔ آپی کا صحت مند جسم مطلب موٹی گانڈ ، متناسب پیٹ اور بیالیس سائز کے ممے تھے۔ جب سےہم دونوں بہن بھائیوں کا یہ تعلق قائم ہوا تھا ایک دن میں نے آپی سے ان کا سائز پوچھا تھا انہوں نے ڈی
    38d
    بتایا تھا۔۔۔ لیکن آج وہی سائز بڑھ کر قیامت ڈھا رہا تھا۔ اس میں کلیدی کردار آپی کا خود ہی تھا۔ اگر آپی اپنا گھر بچانے کیلئے ہمت کرکے مجھ سے چدنے نہ آتی شاید ہی میں آپی پر ٹرائی کر پاتا۔ کیونکہ میں کم از کم آپی کے متعلق ایسا ویسا کچھ بھی سوچ نہیں سکتا تھا ان دنوں میں۔
    کھانا کھانے کے بعد ، آپی نے مجھے ٹیبلٹ دی اور پندرہ منٹ کے بعد بیڈروم میں آنے کیلئے بول کر خود برتن رکھنے کچن میں چلی گئی۔ میں نے جیسے تیسے دس منٹ گزارے، پھر جلدی سے اٹھ کر اپنے کپڑے اتار کر سائیڈ پر رکھ کر بیڈروم میں داخل ہوا۔ آپی موبائل پر کسی سے بات کر رہی تھیں۔
    میں چلتا ہوا ان کے بالکل قریب پہنچ کر ان کی گردن کو چوم لیا۔ آپی نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کوئی بھی آواز پیدا نہ کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بیڈ پر سیدھا کمر کے بل لیٹ گئیں۔ میں ان پر جھکتے ہوئے اپنے ہونٹ آپی کی گردن پر رکھ اسے چومنے لگا۔ میرے دماغ مجھے ماضی کے وہ دن یاد دلانے لگا جب آپی اتوار والے دن سوئی رہتی تھی میں تنگ آ کر ان کو جگانے کیلئے ان کے کمرے میں جا کر ان کو مختلف طریقوں سے جگایا کرتا تھا۔
    میرا ہتھیار یہی ہوتا تھا کہ میں اپنے ہاتھ پانی میں بھگونے کے بعد ان کی ننگی گردن پر رکھ کر ان کو سردی محسوس کرواتا تھا۔ اگر پھر بھی بات نہ بنتی تو گردن پر انگلی کی مدد سے لکیریں کھینچا کرتا تھا۔
    اور آج۔۔۔ میں ہوس میں ڈوبا ہوا آپی کی گردن کو چوم رہا تھا۔ آپی مزے سے میرے سر کے بالوں میں انگلی پھیر رہی تھیں۔ میں آہستہ آہستہ ان کی گردن سے ہوتا ہوا ان کے ہونٹوں پر آیا اور ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اشارہ کیا۔
    آپی: میں آپ کو بعد میں کال کرتی ہوں واش روم جانا ہے۔۔۔ سمجھا کریں نا۔۔۔
    آپی نے اتنا کہہ کر کچھ ہی دیر میں میرے بہنوئی کی کال بند کر دی۔ اب ہمارے ہونٹ ایک دوسرے کے ہونٹوں سے مل چکے تھے۔ ان کو اپنے منہ لیکر چوسنے لگا۔۔۔۔ ان کے ہونٹ گلاب کی پتی کی طرح نرم تھے
    میں ان کے ہونٹوں کی مستی میں ڈوب کر ان کو چوس رہا تھا۔۔۔ایک طویل کس کے بعد جب انہوں نے اپنا منہ میرے منہ ہٹایا تو آپی بولیں:
    آپی: شادی کا کیا ارادہ ہے جناب؟؟؟
    میں اپنے عضوتناسل (لنڈ) کو آپی کی گیلی پھدی کے اوپر اوپر رگڑتے ہوئے بولا: فلحال کوئی ارادہ نہیں ہے
    آپی میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی پھدی کے دانے پر رگڑتے ہوئے بولیں: جناب کا ارادہ اپنی دونوں بہنوں سے مزہ لینے کا ہے۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہنوں کی خوشی اور ضروریات کو پورا کرتے کرتے ٹھس نہ ہو جاو۔۔۔
    میں آپی کے مموں سے کھیلتے ہوئے (دباتے ہوئے) بولا: فلحال آپ کی دوسری ضرورت کیلئے جس مشن پر ہوں بس اسی کو پورا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ شادی ہوتی رہے گی۔۔۔(آپی کا ممے کو چوسنے چاٹنے لگا)
    آپی: تم نے ہمیشہ ہم دونوں کی ہر ضرورت کو اپنی ذات سے بڑھ کر سمجھا ہے۔۔۔ ہم دونوں کی یہی خواہش ہے کہ اب تم جلدی سے کسی ایک لڑکی کو پسند کرلو۔۔۔
    میں آپی کے ممے کو اپنے منہ سے باہر نکالتے ہوئے بولا: فلحال آپ کو اپنی سیکس لائف کے متعلق سوچنا چاہیے کیونکہ جیجو کو گئے ہوئے ہفتہ ہوچکا ہے۔۔۔ ہماری طرف تو مانا کہ باجی گھر ہی ہوتی ہیں لیکن اب تو آپ کا اپنا الگ گھر ہے وہاں جب بھی جاو تو اپنی سہیلیوں کو بلا رکھا ہوتا ہے ۔ ایسا نہ کیا کریں۔
    آپی اپنی پھدی میں میرا لنڈ داخل کرتے ہوئے بولی: سس۔۔۔سس۔ س۔۔سی۔۔۔ اچھا۔۔۔ وہ ۔۔۔ تو تمہیں۔۔۔ تنگ ۔۔۔ کرنے ۔۔۔ کیلئے کرتی ہوں ۔۔۔ ایسا۔۔۔ اففف۔۔۔ ظالم آہستہ
    میں آپی کی بات کا مطلب سمجھتے ہی فوراً زوردار جھٹکا لگاتے ہوئے آپی کی پھدی میں اپنا لنڈ کو پورا گھسا دیا جس کیوجہ سے آپی مچل اٹھیں اب میں مسلسل آپی کی پھدی کی دھلائی کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ آپی کے مموں کے ساتھ بھرپور انصاف کر رہا تھا۔ آپی کی سسکاریوں اور میرے دھکوں سے پیدا ہونے والی آوازوں سے بیڈروم میں عجیب سا سما بنا ہوا تھا۔
    تھپ ۔۔۔ تھپ۔۔۔ تھپ۔۔۔ کی آوازوں میں اب میرے موبائل کی رنگ ٹون نے بھی حصہ لیا۔ میں نے دھکے لگانا بند نہیں کیے لیکن میری سپیڈ کچھ کم ہوئی تو آپی میری چھاتی کو چومنے لگی جبکہ میں اپنے موبائل کو چیک کرنے لگا۔
    میں: باجی کا فون تھا۔۔۔
    آپی: ہممم۔۔۔
    میں: کہہ رہی ہیں کہ ہم دونوں آج یہیں رہیں کیونکہ بارش کیوجہ سے راستہ خراب ہوگیا ہے۔ کل آنا۔۔۔(میں ٹیکسٹ میسج پڑھتے ہوئے بولا)
    آپی میری چھاتی کو چھوڑ کر اب میری ہپس کو پکڑ کر تیزی سے ہلانے لگیں۔ میرا لنڈ رگڑ کھاتے ہوئے آپی کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا۔
    آپی: تمہیں نہیں لگتا کہ باجی کا نکاح کر دینا چاہیے
    میں آپی کے موٹے جسم سے لپٹے ہوئے ان کے کان میں بولنے لگا: اگر وہ کرنا چاہیں تو میری طرف سے تو اجازت ہے آپی۔۔۔ ہر بھائی یہی چاہے گا کہ اس کی بہنیں اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم زندگی گزاریں۔۔۔ ویسے بھی بھانجا بھائی ساجد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔۔۔۔
    اب کمرے میں صرف آپی طاہرہ کی سسکاریوں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور میں مسلسل لگاتار محنت کرتے ہوئے آپی کی پھدی کو ٹھنڈا کرنے میں مگن تھا۔
    آپی کا اس انداز میں دو مرتبہ جھڑنے کے بعد اب ہم نے پوزیشن تبدیل کرلی، میں بیڈ پر کمر کے بل لیٹا ہوا آنکھیں بند کیے ہوئے ان کو آپنےلنڈ پر اوپر نیچے ہوتا محسوس کر رہا تھا۔ جبکہ میرا ذہن ااگے کی پلاننگ کر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں آپی تھکنے لگیں تو میں نے ان کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹا کر خود ہی نیچے سے تیز دھکے لگانے لگا۔
    ایک مرتبہ پھر آپی کی پھدی میرے لنڈ پر جھکڑن بناتے ہوئے فارغ ہونے لگی۔ آپی اس مرتبہ میرے اوپر حصے کو بے تحاشہ چومتے ہوئے ٹھنڈی ہوگئیں۔
    آپی: تمہیں یادہے۔۔۔ جب ہم دونوں چیک اپ کیلئے لیڈی ڈاکٹر (نوشابہ) کے پاس گئے تھے تو اس نے ہمارے بچے کے والد کا نام پوچھا تھا تو تم نے جھٹ اپنا نا م بتا دیا تھا۔۔۔
    میں آپی کی بات پر ہنس پڑا آپی مجھے مسکراتا ہوا دیکھ کر میرے چہرے کو ایک مرتبہ پھر چوم لیا ۔
    آپی: ایسے ہی مسکراتے رہا کرو۔۔۔
    ابھی تک میرا لنڈ آپی کی پھدی کے اندر موجود تھا۔ٹیبلٹ کے علاوہ میری زیادہ سے زیادہ ٹائمنگ بیس منٹ تک تھی آج ناجانے کتنے دیر تک ہمیں بس سیکس کرنا پڑے اس لیے میری طرح آپی بھی بار بار وقفہ لے رہی تھیں۔
    کچھ ہی دیر کے بعد آپی میرا لنڈ لیے آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو اآگے پیچھے ہلاتے ہوئے میرے لنڈ کو اپنی پھدی میں رگڑنے لگیں۔مدھم مدھم آپی طاہرہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ آپی کی پھدی ، آپی نے اپنی پھدی کو پوری طرح سے ٹائیٹ کر رکھا ہے شاید وہ جلد ہی فارغ ہونے والی تھیں۔
    میں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا آپی کی موٹی گانڈ کو تھام کر تیزی سے ہلانے لگا جس سے واضح طور پر مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ آپی کی پھدی پھڑپھڑانے لگی ہے۔
    آپی کو بیڈ پر لیٹا کر میں ننگا ہی کچن میں گیا اور پانی کا جگ بھر کر دوبارہ بیڈروم میں لے آیا۔ آپی اب الٹی پیٹ کے بل لیٹی ہوئی تھیں اور واٹس ایپ پر شاید اپنی کسی سہیلی سے میسجز کر رہی تھیں۔ میں نے گلاس میں پانی ڈال کر پہلے خود پیا ۔آپی نے جیسے ہی موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا میں ان کی ٹانگوں کے درمیاں میں آکر منہ میں جمع کیے ہوئے تھوڑے سے پانی کو آپی کی گانڈ کے اوپر گرایا۔ جس سے ان کی گانڈ گیلی ہوگئی۔
    آپی: تم باز نہیں آو گے نا۔۔۔
    میں(آپی کی گانڈ میں اپنا لنڈ آہستہ آہستہ گھساتے ہوئے بولا): میرا بس نہیں چلتا کہ میں ہر وقت آپ کی گانڈ میں لنڈ ڈال کر خود کو تسکین پہنچاتا رہوں۔۔۔
    جیسے جیسے لنڈ اندر داخل ہو رہا تھا آپی کی درد سے بھری ہلکی ہلکی چیخیں بیڈروم میں پھیل رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں آپی کی گانڈ میں میرا لنڈ ردھم سے اندر باہر ہو رہا تھا۔ تب آپی بولیں: میرا بھی بس یہی دل کرتا ہے کہ میں اپنے لاڈلے بھائی کا لنڈ اپنی پھنڈر (موٹی) گانڈ میں لے کر سارے گھر کا چکر لگاوں۔۔۔ کام کروں۔۔۔ اس کی گود میں بیٹھ کر رسالے پڑھوں ، ساری رات اس میں لے کر سوئی رہوں۔۔۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہے جان۔۔۔
    میں نے فوراًآپی کی گانڈ سے لنڈ نکال لیا اور جلدی سے باتھ روم میں جا کر اپنا لنڈ دھو کر واپس آیا تب تک آپی بیڈ سے اتر کر میرے پیچھے پیچھے باتھ روم کے دروازے تک پہنچ چکی تھیں۔
    آپی: کیا ہوا چندا؟؟؟
    میں نے ان کو کچھ کہے بغیر ہی ان کو لیکر بیڈ پر لے آیا۔ چند لمحوں میں ہی آپی کی لذت آمیزسسکاریاں پورے کمرے میں گونجنا شروع ہوچکی تھیں اور میں بھرپور طریقے سے آپی کی کی پھدی کو چود رہا تھا۔ آپی میرے نیچے لیٹی ہوئی بار بار بیڈ کی چادر کو اپنے ہاتھوں سے مسل رہی تھیں ۔
    آپی جیسے ہی فارغ ہوئیں انہوں نے میرے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو سمجھتے ہوئے اپنی ٹانگوں کو میری ہپس کے گرد باندھنا شروع کردیا۔ جلد ہی میں جھٹکے لگاتے ہوئے آہستہ آہستہ ان کے جسم سے لپٹ چکا تھا۔
    میرے جسم کا خون تیزی سے گردش کر رہا تھا اور ہر مرتبہ کی طرح یہی محسوس ہور ہا تھا کہ میرا خون گردش کرتا ہوا میرے لنڈ میں جمع ہو رہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح آپی مجھے اپنے جسم سے لپٹائے ہوئے اب تیزی سے میری گانڈ کو پکڑ کر تیزی سے ہلا رہی تھی میں بھی ابھی تک ہل رہا تھا لیکن آپی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں کسی طریقے سے ان کی پھدی میں سارا ہی گھس جاوں۔۔
    بار بار آپی اپنی پھدی کو ٹائٹ کر رہی تھیں جس کی وجہ سے میرا لن پھولتے ہوئے تیزی سے اپنے اندر جمع ہوچکے انمول خزانے کو اپنے صحیح مقام پر پہنچانے لگا۔ بے شک ہم دونوں بہن بھائی سیکس شروع کرنے سے لیکر اختتام تک کچھ نیا ہی کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن آپی ہر چدائی کے احتتام پر میرے لنڈ کا پانی اپنی ترسی ہوئی پھدی میں لازمی گرواتی تھی۔ بیٹے کی پیدائش سے آج کے دن تک انہوں نے پریگینسی سے بچاو کی گولیاں ہی استعمال کی تھی لیکن آج سے معاملہ نیا تھا۔
    ہم دونوں کا مقصد اپنے پیار کی نشانی میں ایک اور اضافہ کرنا تھا۔ اسی وجہ سے ایک مہینے کیلئے ہمایوں بھائی پاکستان آئے تھے۔ آپی نے بھائی کا چیک اپ کروانے کے بعد نقلی ٹیسٹ ان کو دکھائے تھے تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ یہ بچہ ان کا ہی ہے۔ آپی کو بار بار تانیہ کی بیٹی سے پیار کرتا دیکھ کر باجی فرزانہ نے مذاقتاً آپی طاہرہ سے کہہ دیا کہ میری طرح ایک ہی بچہ سب سے اچھا کی سوچ رکھی ہوئی ہے یا کوئی ارادہ ہے ۔
    اسی دن آپی طاہرہ مجھ سے کسی نہ کسی طرح چدنا چاہتی تھیں لیکن ان کو ڈر بھی تھا کہ کہیں کسی کو کوئی شک نہ ہو جائے۔ اسی لیے ہمایوں بھائی کو پاکستان بلا کر ان سے کچھ مرتبہ چدنا پڑا۔
    میں مسلسل ہانپ رہا تھا اور آپی میرے ہپس کو ٹائٹ لی اپنی پھدی پر دبائے ہوئے میرے لنڈ کی ٹوپی کو اپنی پھدی میں موجود بچے دانی پر دبا رکھی تھی۔ ڈاکٹر نوشابہ نے ہی آپی کو اس متعلق گائیڈ کیا تھا۔ جیسے ہی آپی کی گرفت ڈھیلی ہوئی میں ان کے گداز جسم سے الگ ہوکر سائیڈ پر لیٹتے ہی سو گیا۔
    آپی بھی شاید میری طرح ، میرے لنڈ سے نکلنے والی منی کو اپنی بچہ دانی پر محسوس کر تے ہوئے آنکھیں نیم وا کر لی تھیں۔ اگلی صبح ہم دونوں نے ایک اور راونڈ لگایا اور شہر سے گاوں کیلئے نکل آئے۔

  2. The Following 13 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (06-01-2019), abkhan_70 (06-01-2019), Admin (06-01-2019), faisalusman (06-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (07-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (07-01-2019), suhail502 (14-01-2019), waqastariqpk (06-01-2019), windstorm (08-01-2019)

  3. #12
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Wink

    چوتھی قسط
    تھکاوٹ کی وجہ سے میں سارا دن سویا رہا۔ میری آنکھ رات کے دس بجے کھلی تو گھر میں ہو کا عالم تھا۔ گھر میں ویسے بھی صرف ہم دو بہن بھائی ہی ہوتے تھے۔
    ابو نے اتنی محنت کرکے ہم تینوں کے بلکہ صرف میرے لیے اتنا بینک بیلنس اور شہر میں کچھ جائیداد بنا کر چلے گئے جس کو ختم کرتے ہوئے صرف ہم تینوں کی دو پیڑیاں ہی کافی تھیں۔ فریش ہونے کے بعد میں نے ایک راونڈ گھر کا لگایا پھر چائے بنانے کے بعد اپنے کمرے میں موبائل لینے کیلئے آیا تو سائیڈ ٹیبل پر شادی کا کارڈ پڑا ہوا نظر آیا۔
    مجھے فوراً یاد آیا کہ آج تو ہمارے ہمسایوں کے گھر شادی (مہندی) تھی اور اسی وجہ سے باجی مہندی پر مجھے سوتا ہوا دیکھ کر اکیلی ہی چلی گئیں۔
    گیارہ بجے کے قریب مین گیٹ کے کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ باجی نے باہر سے گیٹ کو لاک کیا تھا اور اب وہ واپسی پر گیٹ کو ان لاک کرنے کے بعد اندر آئیں ہیں اور دوبارہ اندر سے لاک کررہی ہیں،
    جیسے ہی باجی ہال میں داخل ہوئیں مجھے جاگتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگیں۔
    باجی: جاگ گئے میرے منے
    میں: جی باجی۔۔۔
    باجی میرے پاس آکر بیٹھتے ہوئے بولیں: بڑا جگایا لیکن میرا منا ایسا سویا ایسا سویا کہ پوچھو مت۔۔۔ مجھے تو لگا میرا منا پورا اصطبل ہی شہر میں بیچ کر آیا ہے۔۔۔
    میں باجی کو اپنے بازووں کے حصار میں لیتے ہوئے ان کے جسم کی سائیڈ سے لپٹے ہوئے بولا: ہم دونوں بہن بھائی پہلے کھانا کھا کر برتن دھو کر جیسے ہی نکلنے لگے تو آپ کا میسج پڑھ لیا۔ پھر آپی نے کان پکڑوا کر اپنے ساتھ ساتھ صفائی کروائی۔ آپ کو معلوم تو ہے نا۔۔۔ میں کام چور بندہ ہوں۔۔۔ اسی لیے زیادہ تھک گیا۔۔۔
    (اب کیا بتاتا کہ ٹیبلٹ کا اثر اور صبح کی چدائی بہترین نیند کا باعث بنتی ہے)
    باجی اس وقت زرد (پیلے) رنگ کی سلک کی قمیض شلوار پہنے ہوئے تھی جبکہ دوپٹہ سفید رنگ کا کر رکھا تھا۔ گلے میں وہی ہار موجود تھا جو میں نے ان کی پسند کا لا کر انہیں دیا تھا۔ کانوں میں ابو کے دئیے ہوئے سونے کے کانٹے، ناک میں چمکتی ہوئی سونے کی لونگ، ماتھے پر ٹکا، ہاتھ میں پہنی ہوئی آپی طاہرہ کی طرف سے گفٹڈ سونے کی انگوٹھی۔۔۔ بازووں میں تین تین سونے کی چوڑیاں
    باجی کو کسی سہاگن سے کم لگنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
    باجی میری آنکھوں کی تپش کو محسوس کرکے بولیں: فلحال ۔۔۔ مجھے تمہارے لیے کھانا گرم کرنا ہے پھر سونا ہے تاکہ جلدی صح جاگ سکوں ، بارات دس بجے نکلے گی۔ (ہمسایوں کے گھر شادی تھی دونوں بہن بھائیوں کی)
    ابھی بھی میرے ہاتھ باجی کے جسم کے گرد لپٹے ہوئے تھے جبکہ باجی کو کام کرنا تھے لیکن وہ نہ تو مجھ سے الگ ہو رہی تھیں اور نہ ہی مجھے الگ کر رہی تھیں۔
    جب باجی نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں کی حرارت مزید بڑھ رہی ہے تو بولیں: تھوڑا سا صبر کرلو ۔۔۔ میں ۔۔۔ تمہارے لیے۔۔۔ کھانا گرم کرلوں۔۔۔
    میں نے باجی کے کان کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے بولا: میں کھانا کھا چکا ہوں ۔۔۔ کمرے میں۔۔۔ چلیں۔۔۔
    باجی کے چہرے پر ایکدم شرم کیوجہ سے لالی چھائی ۔ کچھ ہی دیر میں ہم دونوں بہن بھائی بیڈروم میں ، بہن بھائیوں کی طرح نہیں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ باجی کا جسم متناسب تھا۔ مموں کا سائز ۳۸ تھا جبکہ گانڈ سے چھیڑ چھاڑ وہ کرنے نہیں دیتی تھیں۔
    میں مسلسل دھکے لگاتا ہوا باجی کی پھدی میں اپنا لنڈ اندر باہر کر رہا تھا جبکہ میرا منہ باجی کے مموں کو اپنے منہ میں بھر کر ان کو چوسنے میں مصروف تھا۔ باجی بیڈ کی چادر کو مسل رہی تھیں۔
    باجی کی پھدی نے بہت ہی جلدی اپنا پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔ تب میں نے اپنی سپیڈ کم کرتے ہوئے ان سے پوچھا: خیریت تو ہے نا باجی۔۔۔
    باجی سسکاریاں بھرتے ہوئے: ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ کیا۔۔۔(باجی نے اشارے سے مجھے اپنے جسم سے لپٹنے کا کہا تو میں فوراً ان کے جسم سے لپٹ گیا میں اب بھی دھکے لگا رہا تھا)
    باجی: مجھے۔۔۔ بھی۔۔۔ اپنی۔۔۔ آ۔۔۔پ۔۔۔ ی۔۔۔ آپی۔۔۔ کی طرح ۔۔۔ اپنا بچہ دو گے؟
    اتنا بول کر باجی تیزی سے مجھے چومنے لگی۔ میں ہکا بکا باجی کی فرمائش ، خواہش یا نادانی کو سن کر ان سے لپٹا ہی رہا۔ تب باجی بولیں: کیا ہوا
    میں: لیکن ایسا ممکن نہیں۔۔۔ آ پ کی تو شادی۔۔
    باجی بات کاٹتے ہوئے بولیں: کچھ دن پہلے ۔۔۔ خالہ سکینہ کی توسط سے میرے لیے رشتہ آیا ہے۔ (خالہ سکینہ ہماری دور کی امیر ترین خالہ تھیں )
    میں: آپ نے کیا سوچا؟
    باجی: سوچنا کیا ہے؟ تیرے ہونے والے بھائی کا خود کا بزنس ہے انگلینڈ میں، پہلی بیوی کار ایکسڈنٹ میں مر گئی دوسری کسی گوری سے شادی کی تو وہ دھوکہ دے کر بھاگ گئی اور اب وہ ایسی عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں جو ماں بن سکے۔ کیونکہ انہیں وارث چاہیے۔
    میں: یہ تو غلط بات ہے کہ ۔۔۔
    باجی بات کاٹتے ہوئے بولیں: طاہرہ کے وقت غلط صحیح یاد نہیں رہا؟؟؟
    میں: ان کا معاملہ اور تھا باجی
    باجی: میں ہی بے وقوف ہوں جو کام ہو جانے کے بعد اپنے دل کی حسرت بیان کرتی۔۔۔ خیر۔۔۔ اوپر سے ہٹو ۔۔۔ مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔
    میں باجی سے الگ ہونا تو نہیں چاہتا تھا لیکن باجی خود ہی میرے نیچے سے نکل کر اپنے کمرے میں پہنچ چکی تھیں۔میں کافی دیر تک ننگا بیڈ پر لیٹا سوچتا رہا،پھر ایک مرتبہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بیڈروم سے نکل کر باجی کے بیڈروم کی طرف بڑھ گیا۔
    میں کمرے میں داخل ہونے کے بعد بولا: میری ایک شرط ہے
    باجی (میری ہی دی ہوئی برا کی کلیکشن میں سے ایک سرخ کپ برا پہن چکی تھیں اور اب لپ اسٹک ٹشو پیپر سے صاف کر رہی تھیں) بولیں: بولو۔۔۔
    میں: مجھے اپنی گانڈ مارنے دیں ۔۔۔
    باجی پاس پڑی ہوئی کرسی سے اس کی گدی اٹھا کر مجھے دے ماری۔ باجی: بے شرم۔۔۔
    میں گدی کیچ کرتے ہوئے بولا: ڈیل ڈیل ہوتی ہے۔۔۔ بے شک اس کو نام حسرت کا دیا جائے یا ڈیل کا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔
    باجی: بہت درد ہوگا منے
    میں چلتا ہوا ان کے سامنے کھڑا ہوگیا اور بولا: مزہ بھی آئے گا باجی۔۔۔
    باجی میرے مرجھائے لنڈ کو پکڑ کر سہلاتے ہوئے بولیں: کوئی اور شرط رکھ لو ناں۔۔۔
    میں: جیسے آپ کی حسرت ہے ویسے ہی میری حسرت ہے کہ میری باجی کے ہر سوراخ میں میرا شیر ہو۔۔۔
    باجی بیڈ پر تکیے لگاتے ہوئے ان پر الٹی لیٹ کر بولی: اگر میں مر گئی تو شادی کرنے نہیں دوں گی تمہیں۔۔۔ سوچ لے
    میں نے زور دار قہقہ لگاتے ہوئے باجی کی ڈرسینگ ٹیبل سے زیتون کا تیل لے کر ان کی گانڈ کے پاس بیٹھ گیا۔ تین منٹ کے اندر اندر باجی کی گانڈ میں میرے ہاتھ کی دو انگلیاں داخل ہوچکی تھیں اور اپنا کام دکھا رہی تھیں۔
    باجی اب مزے سے سسکاریاں نکال رہی تھیں۔ میں جیسے اپنی انگلیوں کو خشک ہوتا دیکھتا ، اسی وقت تھوڑا سا اور تیل انگلیوں پر ڈال کر انگلیوں کو باجی کی گانڈ میں ان آوٹ کرنے لگا۔
    میں اب باجی کی ٹانگوں کو کھولتے ہوئے ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھتے ہوئے اپنے تیل سے لتھرے ہوئے لنڈ کو باجی کی گانڈ کی لکیر پررگڑنے لگا۔ باجی کی سسکاریاں اب پھر کمرے میں گونج رہی تھیں۔
    میرا ایک ہاتھ اپنے لنڈ پر تھا جبکہ دوسرا ہاتھ باجی کی پھدی پر موجود دانے پر اس کو سہلانے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی میں نے اپنا لنڈ باجی کی گانڈ پر سیٹ کیا۔
    میں بولا: باجی۔۔۔ پلیز برداشت کر لینا۔۔۔
    باجی: ہممم۔۔۔
    میں بآسانی اپنے لنڈ کی ٹوپی کو باجی کی گانڈ میں گھسا پایا لیکن آگے جانے کیلئے میرے لنڈ کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ کیونکہ باجی نے ڈر کے مارے اپنی گانڈ کو مزید ٹائیٹ کرلیا تھا۔
    میں:باجی۔۔۔ ریلیکس۔۔۔ آپ ایسا سوچو کہ آپ کے پیارے بھائی کا لنڈ آپ کی گانڈ میں نہیں ، بلکہ پھدی میں جا رہا ہے
    باجی میری بات کا مطلب سمجھتے وئے اپنی گانڈ کو ڈھیلا کرنے لگی۔ میں بھی اب آہستہ آہستہ اپنے لنڈ کو آگے بڑھانے لگا۔ ایک مقام پر پھر سے میرا لنڈ آگے جانے کیلئے باجی کی رضامندی کی ضرورت پڑ گئی
    میں آہستہ آہستہ اپنے لنڈ اندر باہر کرنے لگا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ باجی کو جب تک مزہ نہیں ملے گا تب تک وہ اپنی گانڈ کا سوراخ مزید ڈھیلا نہیں کریں گی۔
    میں نے چند قطرے تیل کے اور اپنے لنڈ پر ڈال دئیے جس کی وجہ سے میرا لنڈ مزید گیلا ہوگیا اسی وجہ سے آہستہ آہستہ سخت محنت کے بعد میرا لنڈ سارے کا سارا باجی فرزانہ کی ان ٹچ گانڈ میں جا چکا تھا۔
    میں: باجی۔۔۔
    باجی: بولو
    میں: اب ٹائیٹ کرکے دیکھو۔۔۔
    باجی: وہ کیوں؟
    میں:ٹائیٹ کرکے بس محسوس کرو۔۔۔ خود ہی پتہ چل جائے گا
    باجی نے اپنی گانڈ کو ٹائیٹ سے ٹائیٹ تر کرتے ہوئے حیرت سے بولیں: تم۔۔۔ نے سارا ڈال دیا۔۔۔
    میں باجی کی کمر سے لپٹا ہوا بولا: آ گیا یقین یا نہیں باجی۔۔۔
    باجی: اب درد ہو رہا ہے۔۔۔
    میں آہستہ آہستہ اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا جس پر وہ درد اور مزے سے ملی جلی آوازیں نکالنے لگیں۔ میں باجی کی برا کی اسٹریپس کو کھول کر ان کے مموں کو برا کی قید سے آزاد کردیا۔
    چند منٹ اور گانڈ کی چدائی کرنے کے بعد میں اسی انداز میں باجی کی گانڈ میں فارغ ہونا شروع ہوگیا۔ باجی کے منہ سے تیز سسکاریاں ، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہر کمرے میں باجی کی سسکاریاں پھیلی ہوں گی۔ میں آج پہلی مرتبہ باجی فرزانہ کے کسی بھی سوراخ میں سب سے زیادہ دیر تک فارغ ہوتا رہا۔
    میں نے بڑی احتیاط سے اپنے لنڈ کو باجی کی گانڈ سے باہر نکالا اور سائیڈ پر لیٹ گیا۔ کچھ دیر کے بعد سانسوں کے تھمنے کے بعد میں نے باجی کو ہلایا تو باجی بولیں: اب کیا ہے منے؟
    میں: اصل کام باقی ہے باجی
    باجی: فلحال باتھ روم میں لے چل
    باجی کو ان کی صفائی میں مدد کی پھر ان سے لپٹا ہوا ان کے ساتھ ہی سو گیا کیونکہ انہیں اب درد ہونے لگا تھا۔ بے شک میں نے باتھ روم سے آنے کے بعد دو ٹیبلٹ درد کی دی تھیں۔ آٹھ بج چکے تھے باجی اور میں ایک ساتھ ایک ہی باتھ روم میں نہا کم، اور چدائی زیادہ کر رہے تھے۔
    صبح سویرے چدائی کرتے ہوئے جیسے ہی میرا ہاتھ باجی کی گانڈ پر لگا باجی کے منہ سے سسکاری سن کر میں رک گیا۔
    میں: باجی درد زیادہ ہے؟
    باجی: نہیں تو۔۔۔ ہلکا سا ہے
    میں: کب تک آ رہے ہیں میرے نئے جیجو۔۔۔
    باجی: پرسوں۔۔۔
    میں نے باجی کو پلٹا کر ان کی کمر کی صفائی کرتے ہوئے اپنا لنڈ پھر سے ان کی گانڈ میں ڈال کر کبھی خود جھٹکے لگا رہا تھا تو کبھی وہ خود ہی اپنی گانڈ کو نیچے کی طرف دبا دبا کر خود ہی اپنی گانڈ مروا رہی تھیں۔
    ایک مرتبہ پھر میں ان کی گانڈ میں ہی فارغ ہوگیا۔آج ہم دونوں بہن بھائیوں نے ملکر شادی اٹینڈ کی ۔ واپسی پر شام ہوچکی تھی۔ باجی بولیں: کھانا کھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟
    میں: فلحال ضرورت نہیں ہے۔۔۔ شادی یا ہوٹل کا کھانا ہضم ہوتے ہوتے وقت لگاتا ہے۔
    باجی اس وقت میرے ساتھ چھت پر موجود تھیں بجلی بند تھی ۔ باجی نے سبز رنگ کی پتلی سی قمیض کے نیچے شمیض پہن رکھی تھی جبکہ نیچے چوڑی دار تنگ پجامہ سفیدرنگ کا پہن رکھا تھا مجھے معلوم تھا کہ باجی نے نیلےرنگ کی برا پہن رکھی ہے۔ کچھ ہی دیر میں باجی اور میں بغیر کپڑوں کے چھت پر کھلے آسمان تلے موجود تھے۔ باجی آج میری فرمائش پر میرے لنڈ کو زور و شور سے مسلسل چوس چاٹ رہی تھی۔
    یہ کوشش میرے لنڈ کو کھڑا کرنے کی کیلئے تھی۔ باجی بار بار میرے لنڈ اپنے منہ سے نکال کر اپنے ۳۸ سائز کے مموں کے درمیان میں لیکر ان کو آپس میں ملا کر تیزی سے مموں کو اوپر نیچے کر مجھے مزہ دے رہی تھیں۔
    باجی: کروا لی اپنی من مانی۔۔
    میں مسکراتے ہوئے: اور نہیں تو کیا۔۔۔ میرا دل تو کرتا ہے کہ باہر صحن میں بندے بیٹھے ہوں اور آپ کچن میں میرا اسی طرح لن چوس چوس کر سارا رس پی جائیں۔۔۔ لیکن ایسا موقعہ آپ بناتی ہی نہیں تھیں۔۔۔
    باجی: اچھا ۔۔۔ سوچیں گے ۔۔۔ اب جلدی سے کام ختم کرو۔۔۔
    باجی چھت کی فرش سے اٹھ کر چھت پر بنی چمنی پر جھک گئیں۔ میں ان کے پیچھے آ کر باجی کی پھدی پر اپنا لن سیٹ کر کے تھوڑا سا لن اندر داخل کردیا۔ باجی: اووووو۔۔۔ سی۔۔۔ آہستہ ۔۔۔
    میں پوزیشن سیٹ کرتے ہوئے بولا: خالہ سیکنہ کو اب کیسے یاد آ گئی ہماری
    میں اپنا لن اور اندر کرتے ہوئے بولا تھا۔ جب کہ باجی میرے لن کو اپنی پھدی میں جاتا ہوا محسوس کر رہی تھیں میرے سوال کے جواب میں وہ بولیں: ان کی سب سے چھوٹی بیٹی اسمارہ بھی تعلیم سے فارغ ہونے والی ہے۔۔۔ سمجھا کرو نا
    میں اب تیز دھکے لگاتے ہوئے باجی کی پھدی کو چودنے لگا تھا۔ یہ وہی اسمارہ میری کزن تھی جسے اپنی خوبصورتی پر بے تحاشہ گھمنڈ تھا۔ باجی: اسمارہ کے نام پر خاموش کیوں ہوگئے ؟
    میں نیچے جھکتے ہوئے ان کے جسم کو چمنی سے اٹھاتے ہوئے اب بالکل اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مزید تیز دھکے لگاتے ہوئے بولا: بس کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
    باجی سسکتے ہوئے بولیں: سوچی پیا ۔۔۔ تے۔۔۔ بندہ گیا
    باجی اپنی پھدی کو مزید ٹائیٹ کرتے ہوئے جھڑنے لگیں۔۔۔ میں اس وقت تک دھکے لگاتا رہا جب تک ان کا آرگیزم پورا نہیں ہوگیا۔ میں نے لن کو ان کی پھدی سے نکال کر ان کو چاردیواری کے پاس لے آیا جہاں ہم کچھ دیر پہلے کھڑے شہرکی روشنیوں کو دیکھ رہے تھے۔
    باجی چاردیواری پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف نکال کر بولیں: ہے تو وہ بہت گھمنڈی۔۔۔ یاد ہے نا۔۔۔ کیسے اس نے وہاب کے رشتے سے انکار کیا تھا۔۔۔
    میں: ٹھاں ۔۔۔ کرکے۔۔۔
    ہم دونوں بہن بھائی ہنسنے لگیں میں نے اپنا لن باجی کی گانڈ پر سیٹ کرنے سے پہلے میں نے تھوک کو باجی کی گانڈ پر پھینک کر اپنے لن سے باجی کی گانڈ کی موری کو گیلا کرلیا، میں آہستہ آہستہ باجی کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے لگا۔
    میں: باجی۔۔۔
    باجی: ہممم
    میں: کتنی مرتبہ بتانا پڑے گا ۔۔۔
    باجی میری بات کا مطلب سمجھتےہوئے اپنی گانڈ کی موری کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے بولیں: تمہیں تنگ کرکے مزہ آتا ہے۔۔۔ ایک ہی تو بھائی ہے ۔۔۔
    میں اب اپنے لن کو باجی کی گانڈ میں بار بار ان آوٹ کرتے ہوئے باجی کی گانڈ کو چود رہا تھا۔ باجی کے منہ سےلذت آمیز سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد باجی خود ہی شہوت میں ڈوبی ہوئی اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف بار بار دھکیلتے ہوئے اپنی گانڈ خود ہی مجھ سے مروانے لگیں۔
    میں اب رک کر باجی کو مزے میں ڈوبا ہوا دیکھ کر خود پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ میں تھوڑا سا جھک کر باجی کے مسلسل ہل رہے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر دبانے لگا۔ باجی کی رفتار اب تیز ہونے لگی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر باجی کی چوت کے دانے کو مسلنے لگا۔
    باجی مزے کی آخری حدوں پر پہنچ چکی تھی میں نے بھی خود کو باجی کے ہمراہ ہی پایا لیکن میں نے خود پر تھوڑا سا کنٹرول کرتے ہوئے باجی کو پہلے منزل پر پہنچ جانے دیا۔۔۔
    باجی کے رک جانے پر میں نے اپنا لن باجی کی گانڈ سے نکال کر باجی کے نیچے پڑے ہوئےبرا سے اپنے لن کو صاف کرنے کے بعد باجی کی پھدی پر رکھ کر دو جھٹکوں میں اندر ڈال دیا۔ ایک مرتبہ پھر باجی لذت میں ڈوبی ہوئی سسکاریاں بھرتی ہوئی میرے ساتھ ہی اپنی پھدی کا پانی چھوڑتے ہوئے فارغ ہونے لگیں۔ میں باجی کی گانڈ کے ساتھ بالکل جڑ کر اپنا سارا لن ان کی پھدی کی آخری سرے تک گھسائے ہوئے فارغ ہونے لگا۔
    میرا لن کچھ دیر تک جھٹکے کھاتا رہا اور منی کو خارج کرتا ہوا سکڑنے لگا۔ میں نے باجی کی ننگی پیٹھ پر کس کرنے کے بعد ان کے جسم سے الگ ہوگیا۔ باجی فورا ً نیچے بیٹھ کر اپنی ٹانگوں کو آپس میں جوڑ لیں۔


    اس دن باجی میرے کاندھے پر سر رکھ کافی دیر تک روتی رہی۔ وہ حاملہ بھی تھی۔ پھر بھی میرے بہنوئی ان سے خوش نہیں تھے۔ سارا سار دن محنت مزدوری کرنے کے بعد رات کو گھر پر پہنچ کر اپنی فرسٹریشن باجی پر نکالتے یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی ہیں۔
    باجی رونے کے بعد بولی: بھائی۔۔۔ تم ہی بتاو۔۔۔ مجھ کیا کمی ہے؟ صبح سے رات ہوجاتی ہے میں گھر میں اکیلی سارا کام کرتی ہوں رات کو تیرے بہنوئی آتے ہیں اور چھوٹی سی چھوٹی غلطی نکال کر مجھ پر غصہ کرتے ہیں۔
    میں باجی کا چہرہ تھام کر بولا: آپ میں کوئی کمی نہیں ہے باجی۔۔۔ ساجد بھائی ہی ناسمجھ ہیں۔۔۔ جب ان کو سمجھ آئے گی تو وہ بہت پچھتائیں گے۔
    اگلے دن ، تانیہ تقریباً ساری ننگی مجھ سے گھوڑی بن کر کلاس روم میں چدوا رہی تھی اور میں مزے میں ڈوبے ہوا تانیہ کی پھدی میں مسلسل جھٹکے لگا رہا تھا۔ جیسے ہی تانیہ نے اپنی پھدی کو مزید ٹائیٹ کیا تو میں سمجھ گیا کہ تانیہ اب بس چھوٹنے والی ہے۔ وہی ہوا تانیہ میرے چند مزید دھکوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی پھدی کے رس کی برسات میرے لنڈ پر کرنے لگی۔۔۔ جیسے ہی تانیہ مکمل آرگیزم حاصل کرنے کے بعد میرے سامنے سے ہٹنے لگی، میں نے اس کے بھاری ہوچکے چونتروں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
    تانیہ: آہ۔۔۔ اف۔۔۔ سی۔۔۔ جان۔۔۔ دل نہیں بھرا؟؟؟
    میں تیز دھکے لگاتے ہوئے بولا: آج ۔۔۔ میرا دل ۔۔۔ نہیں بھرا۔۔۔ تانی
    تانیہ پھر سے گرم ہوگئی اور میرے ہر جھٹکے کا ساتھ اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے دینے لگی۔ تانیہ اب میرے تیز سے تیز تر ہوتے جھٹکوں کو برداشت کرنے کیلئے آہستہ آہستہ سامنے والے بینچ پر پیٹ کے بل لیٹتی چلی گئی۔اس انداز میں میرا لن مزید تیزی سے اندر باہر ہونے لگا تھا لیکن تانیہ اپنی پھدی کو مسلسل ٹائیٹ کیے ہوئے تھی جس کی وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسا میرےجسم کا سارا خون تیزی سے گردش کرتا ہوا میرے لن میں جمع ہو رہا ہے۔
    تانیہ میری اس نئی کیفیت سے بے خبر میرے ہر تیز جھٹکے کو اپنی پھدی میں محسوس کرتے ہوئے شہوت کی مزے دار دنیا میں گم تھی تب ہی میرے لن نے مجھے ایک نئے مزے سے روشناس کروانا شروع کر دیا۔
    میں آہستہ آہستہ تانیہ کے جسم سے لپٹتا چلا گیا اور میرے لن نے منی کی برسات تانیہ کی چوت میں کرنا شروع کردی۔ تانیہ شاید جانتی نہیں تھی کہ میں فارغ ہونے والا ہوں ۔
    جیسے ہی میرے لن نے منی کی پھوار تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں گھسے ہوئے ہی اس کی بچے دانی میں کرنا شروع کی، تانیہ کی بے اختیار مزے کی آخری حد میں ڈوبے ہوئے دبی دبی چیخیں نکلنے لگیں۔ تانیہ کی چیخوں کواگنور کرتا ہوا میں تانیہ کی کمرسے لپٹا ہوا اس کی پھدی میں اپنے لن سے پہلی مرتبہ نکل رہی منی کی برسات کو ہوتا ہوا محسوس کر کے خود ایک نئے مزے میں ڈوبا ہوا پایا۔
    مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آج ساری منی تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں نکل جائے گی۔۔۔ ایسا ہو بھی رہا تھا پھر آخری قطرے نے لن سے نکلنے کے بعد مجھ سے پہلے تانیہ کو احساس دلایا کہ ہم دونوں سے بہت بڑی غلطی ہوچکی ہے۔ جبکہ میں اس سنگین غلطی سے انجان بس تانیہ کی ننگی کمر سے لپٹا ہوا اپنے لن کو تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں سکڑتا ہوا محسوس کرکے اپنے ہونٹوں کو تانیہ کی ننگی پیٹھ کو چومنے لگا تھا۔
    تانیہ لرزتے ہوئے بولی: ج۔۔جا۔۔۔جان۔۔۔ جلدی سے اٹھو
    میں اس کی گردن کو چومتے ہوئے: تانی جان۔۔۔ کیا ہوا؟؟؟
    تانیہ: پلیز۔۔۔ اٹھو۔۔۔
    میں مزے کو مزید محسوس کرنا چاہتا تھا: میرا من نہیں کر رہا
    تانیہ اب تھوڑا سنجیدگی سے بولی: سمجھ نہیں آ رہی میری بات۔۔۔ جلدی سے اٹھو
    میں تانیہ کے لہجے میں سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے فورا ً تانی کے جسم سے الگ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے میرا لن پُچ کی آواز نکالتا ہوا تانیہ کی پھدی سے باہر نکل آیا۔
    تانیہ کے منہ سے مزے یا درد سے سسکاری نکلی لیکن تانیہ فوراً اس درد یا مزے کو بھول کر اٹھ بیٹھی اور اپنی پھدی کو چیک کرنے لگی۔ وہ حیرت میں ڈوبی ہوئی بار بار میری منی کو اپنی انگلیوں سے چیک کرتی تو کبھی مجھے دیکھتی ۔
    میں کپڑے پہنتے ہوئے بولا: کیا ہوا تانی
    تانیہ: تم رک نہیں سکتے تھے؟
    میں: کیا مطلب
    تانیہ مجھے اپنی پھدی سے نکل رہی منی کو اپنی انگلیوں پر تھوڑا سا جمع کرکے مجھے دیکھاتے ہوئے بولی: اس کیلئے بول رہی تھی
    میں: یہ تو تمہاری پھدی سے نکلنے والا پانی ہے، تم نے ہی تو مجھے بتایا تھا
    تانیہ کپڑے سے اپنی پھدی کو صاف کرتے ہوئے بولی: یہ میری نہیں، تمہارے شیر کا پانی ہے۔ اسی سے تو ۔۔۔
    تانیہ بات بتاتے ہوئے اچانک رک گئی تب تک وہ شلوار پہن چکی تھی، میں اس کی طرف متوجہ تھا جب وہ اپنی بات مکمل نہ کر پائی تو میں بولا: اسی سے کیا؟؟؟ پوری بات بتایا کرو تانی
    تانیہ کو جیسے ہوش آیا ، تانیہ فوراً سکول ڈریس پہنتے ہوئے بولی: فلحال یہاں سے چلتے ہیں
    ہم دونوں سیکنڈ فلور سے اتر رہے تھے، میں: بتا بھی دو
    تانیہ جھنجھلاتے ہوئے بولی: اس سے تم کسی بھی لڑکی کو اپنے بچے کی اماں بنا سکتے ہو۔۔۔ فلحال مجھے کسی کا بھی بچہ نہیں چاہیے
    میں: کیا مطلب

  4. The Following 11 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (06-01-2019), abkhan_70 (06-01-2019), Admin (07-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (07-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (07-01-2019), waqastariqpk (06-01-2019), windstorm (07-01-2019)

  5. #13
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default wah kia bat hy maza agya plz next update zara jaldi

    Quote Originally Posted by Story Maker View Post
    چوتھی قسط
    تھکاوٹ کی وجہ سے میں سارا دن سویا رہا۔ میری آنکھ رات کے دس بجے کھلی تو گھر میں ہو کا عالم تھا۔ گھر میں ویسے بھی صرف ہم دو بہن بھائی ہی ہوتے تھے۔
    ابو نے اتنی محنت کرکے ہم تینوں کے بلکہ صرف میرے لیے اتنا بینک بیلنس اور شہر میں کچھ جائیداد بنا کر چلے گئے جس کو ختم کرتے ہوئے صرف ہم تینوں کی دو پیڑیاں ہی کافی تھیں۔ فریش ہونے کے بعد میں نے ایک راونڈ گھر کا لگایا پھر چائے بنانے کے بعد اپنے کمرے میں موبائل لینے کیلئے آیا تو سائیڈ ٹیبل پر شادی کا کارڈ پڑا ہوا نظر آیا۔
    مجھے فوراً یاد آیا کہ آج تو ہمارے ہمسایوں کے گھر شادی (مہندی) تھی اور اسی وجہ سے باجی مہندی پر مجھے سوتا ہوا دیکھ کر اکیلی ہی چلی گئیں۔
    گیارہ بجے کے قریب مین گیٹ کے کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ باجی نے باہر سے گیٹ کو لاک کیا تھا اور اب وہ واپسی پر گیٹ کو ان لاک کرنے کے بعد اندر آئیں ہیں اور دوبارہ اندر سے لاک کررہی ہیں،
    جیسے ہی باجی ہال میں داخل ہوئیں مجھے جاگتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگیں۔
    باجی: جاگ گئے میرے منے
    میں: جی باجی۔۔۔
    باجی میرے پاس آکر بیٹھتے ہوئے بولیں: بڑا جگایا لیکن میرا منا ایسا سویا ایسا سویا کہ پوچھو مت۔۔۔ مجھے تو لگا میرا منا پورا اصطبل ہی شہر میں بیچ کر آیا ہے۔۔۔
    میں باجی کو اپنے بازووں کے حصار میں لیتے ہوئے ان کے جسم کی سائیڈ سے لپٹے ہوئے بولا: ہم دونوں بہن بھائی پہلے کھانا کھا کر برتن دھو کر جیسے ہی نکلنے لگے تو آپ کا میسج پڑھ لیا۔ پھر آپی نے کان پکڑوا کر اپنے ساتھ ساتھ صفائی کروائی۔ آپ کو معلوم تو ہے نا۔۔۔ میں کام چور بندہ ہوں۔۔۔ اسی لیے زیادہ تھک گیا۔۔۔
    (اب کیا بتاتا کہ ٹیبلٹ کا اثر اور صبح کی چدائی بہترین نیند کا باعث بنتی ہے)
    باجی اس وقت زرد (پیلے) رنگ کی سلک کی قمیض شلوار پہنے ہوئے تھی جبکہ دوپٹہ سفید رنگ کا کر رکھا تھا۔ گلے میں وہی ہار موجود تھا جو میں نے ان کی پسند کا لا کر انہیں دیا تھا۔ کانوں میں ابو کے دئیے ہوئے سونے کے کانٹے، ناک میں چمکتی ہوئی سونے کی لونگ، ماتھے پر ٹکا، ہاتھ میں پہنی ہوئی آپی طاہرہ کی طرف سے گفٹڈ سونے کی انگوٹھی۔۔۔ بازووں میں تین تین سونے کی چوڑیاں
    باجی کو کسی سہاگن سے کم لگنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
    باجی میری آنکھوں کی تپش کو محسوس کرکے بولیں: فلحال ۔۔۔ مجھے تمہارے لیے کھانا گرم کرنا ہے پھر سونا ہے تاکہ جلدی صح جاگ سکوں ، بارات دس بجے نکلے گی۔ (ہمسایوں کے گھر شادی تھی دونوں بہن بھائیوں کی)
    ابھی بھی میرے ہاتھ باجی کے جسم کے گرد لپٹے ہوئے تھے جبکہ باجی کو کام کرنا تھے لیکن وہ نہ تو مجھ سے الگ ہو رہی تھیں اور نہ ہی مجھے الگ کر رہی تھیں۔
    جب باجی نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں کی حرارت مزید بڑھ رہی ہے تو بولیں: تھوڑا سا صبر کرلو ۔۔۔ میں ۔۔۔ تمہارے لیے۔۔۔ کھانا گرم کرلوں۔۔۔
    میں نے باجی کے کان کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے بولا: میں کھانا کھا چکا ہوں ۔۔۔ کمرے میں۔۔۔ چلیں۔۔۔
    باجی کے چہرے پر ایکدم شرم کیوجہ سے لالی چھائی ۔ کچھ ہی دیر میں ہم دونوں بہن بھائی بیڈروم میں ، بہن بھائیوں کی طرح نہیں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ باجی کا جسم متناسب تھا۔ مموں کا سائز ۳۸ تھا جبکہ گانڈ سے چھیڑ چھاڑ وہ کرنے نہیں دیتی تھیں۔
    میں مسلسل دھکے لگاتا ہوا باجی کی پھدی میں اپنا لنڈ اندر باہر کر رہا تھا جبکہ میرا منہ باجی کے مموں کو اپنے منہ میں بھر کر ان کو چوسنے میں مصروف تھا۔ باجی بیڈ کی چادر کو مسل رہی تھیں۔
    باجی کی پھدی نے بہت ہی جلدی اپنا پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔ تب میں نے اپنی سپیڈ کم کرتے ہوئے ان سے پوچھا: خیریت تو ہے نا باجی۔۔۔
    باجی سسکاریاں بھرتے ہوئے: ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ کیا۔۔۔(باجی نے اشارے سے مجھے اپنے جسم سے لپٹنے کا کہا تو میں فوراً ان کے جسم سے لپٹ گیا میں اب بھی دھکے لگا رہا تھا)
    باجی: مجھے۔۔۔ بھی۔۔۔ اپنی۔۔۔ آ۔۔۔پ۔۔۔ ی۔۔۔ آپی۔۔۔ کی طرح ۔۔۔ اپنا بچہ دو گے؟
    اتنا بول کر باجی تیزی سے مجھے چومنے لگی۔ میں ہکا بکا باجی کی فرمائش ، خواہش یا نادانی کو سن کر ان سے لپٹا ہی رہا۔ تب باجی بولیں: کیا ہوا
    میں: لیکن ایسا ممکن نہیں۔۔۔ آ پ کی تو شادی۔۔
    باجی بات کاٹتے ہوئے بولیں: کچھ دن پہلے ۔۔۔ خالہ سکینہ کی توسط سے میرے لیے رشتہ آیا ہے۔ (خالہ سکینہ ہماری دور کی امیر ترین خالہ تھیں )
    میں: آپ نے کیا سوچا؟
    باجی: سوچنا کیا ہے؟ تیرے ہونے والے بھائی کا خود کا بزنس ہے انگلینڈ میں، پہلی بیوی کار ایکسڈنٹ میں مر گئی دوسری کسی گوری سے شادی کی تو وہ دھوکہ دے کر بھاگ گئی اور اب وہ ایسی عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں جو ماں بن سکے۔ کیونکہ انہیں وارث چاہیے۔
    میں: یہ تو غلط بات ہے کہ ۔۔۔
    باجی بات کاٹتے ہوئے بولیں: طاہرہ کے وقت غلط صحیح یاد نہیں رہا؟؟؟
    میں: ان کا معاملہ اور تھا باجی
    باجی: میں ہی بے وقوف ہوں جو کام ہو جانے کے بعد اپنے دل کی حسرت بیان کرتی۔۔۔ خیر۔۔۔ اوپر سے ہٹو ۔۔۔ مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔
    میں باجی سے الگ ہونا تو نہیں چاہتا تھا لیکن باجی خود ہی میرے نیچے سے نکل کر اپنے کمرے میں پہنچ چکی تھیں۔میں کافی دیر تک ننگا بیڈ پر لیٹا سوچتا رہا،پھر ایک مرتبہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بیڈروم سے نکل کر باجی کے بیڈروم کی طرف بڑھ گیا۔
    میں کمرے میں داخل ہونے کے بعد بولا: میری ایک شرط ہے
    باجی (میری ہی دی ہوئی برا کی کلیکشن میں سے ایک سرخ کپ برا پہن چکی تھیں اور اب لپ اسٹک ٹشو پیپر سے صاف کر رہی تھیں) بولیں: بولو۔۔۔
    میں: مجھے اپنی گانڈ مارنے دیں ۔۔۔
    باجی پاس پڑی ہوئی کرسی سے اس کی گدی اٹھا کر مجھے دے ماری۔ باجی: بے شرم۔۔۔
    میں گدی کیچ کرتے ہوئے بولا: ڈیل ڈیل ہوتی ہے۔۔۔ بے شک اس کو نام حسرت کا دیا جائے یا ڈیل کا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔
    باجی: بہت درد ہوگا منے
    میں چلتا ہوا ان کے سامنے کھڑا ہوگیا اور بولا: مزہ بھی آئے گا باجی۔۔۔
    باجی میرے مرجھائے لنڈ کو پکڑ کر سہلاتے ہوئے بولیں: کوئی اور شرط رکھ لو ناں۔۔۔
    میں: جیسے آپ کی حسرت ہے ویسے ہی میری حسرت ہے کہ میری باجی کے ہر سوراخ میں میرا شیر ہو۔۔۔
    باجی بیڈ پر تکیے لگاتے ہوئے ان پر الٹی لیٹ کر بولی: اگر میں مر گئی تو شادی کرنے نہیں دوں گی تمہیں۔۔۔ سوچ لے
    میں نے زور دار قہقہ لگاتے ہوئے باجی کی ڈرسینگ ٹیبل سے زیتون کا تیل لے کر ان کی گانڈ کے پاس بیٹھ گیا۔ تین منٹ کے اندر اندر باجی کی گانڈ میں میرے ہاتھ کی دو انگلیاں داخل ہوچکی تھیں اور اپنا کام دکھا رہی تھیں۔
    باجی اب مزے سے سسکاریاں نکال رہی تھیں۔ میں جیسے اپنی انگلیوں کو خشک ہوتا دیکھتا ، اسی وقت تھوڑا سا اور تیل انگلیوں پر ڈال کر انگلیوں کو باجی کی گانڈ میں ان آوٹ کرنے لگا۔
    میں اب باجی کی ٹانگوں کو کھولتے ہوئے ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھتے ہوئے اپنے تیل سے لتھرے ہوئے لنڈ کو باجی کی گانڈ کی لکیر پررگڑنے لگا۔ باجی کی سسکاریاں اب پھر کمرے میں گونج رہی تھیں۔
    میرا ایک ہاتھ اپنے لنڈ پر تھا جبکہ دوسرا ہاتھ باجی کی پھدی پر موجود دانے پر اس کو سہلانے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی میں نے اپنا لنڈ باجی کی گانڈ پر سیٹ کیا۔
    میں بولا: باجی۔۔۔ پلیز برداشت کر لینا۔۔۔
    باجی: ہممم۔۔۔
    میں بآسانی اپنے لنڈ کی ٹوپی کو باجی کی گانڈ میں گھسا پایا لیکن آگے جانے کیلئے میرے لنڈ کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ کیونکہ باجی نے ڈر کے مارے اپنی گانڈ کو مزید ٹائیٹ کرلیا تھا۔
    میں:باجی۔۔۔ ریلیکس۔۔۔ آپ ایسا سوچو کہ آپ کے پیارے بھائی کا لنڈ آپ کی گانڈ میں نہیں ، بلکہ پھدی میں جا رہا ہے
    باجی میری بات کا مطلب سمجھتے وئے اپنی گانڈ کو ڈھیلا کرنے لگی۔ میں بھی اب آہستہ آہستہ اپنے لنڈ کو آگے بڑھانے لگا۔ ایک مقام پر پھر سے میرا لنڈ آگے جانے کیلئے باجی کی رضامندی کی ضرورت پڑ گئی
    میں آہستہ آہستہ اپنے لنڈ اندر باہر کرنے لگا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ باجی کو جب تک مزہ نہیں ملے گا تب تک وہ اپنی گانڈ کا سوراخ مزید ڈھیلا نہیں کریں گی۔
    میں نے چند قطرے تیل کے اور اپنے لنڈ پر ڈال دئیے جس کی وجہ سے میرا لنڈ مزید گیلا ہوگیا اسی وجہ سے آہستہ آہستہ سخت محنت کے بعد میرا لنڈ سارے کا سارا باجی فرزانہ کی ان ٹچ گانڈ میں جا چکا تھا۔
    میں: باجی۔۔۔
    باجی: بولو
    میں: اب ٹائیٹ کرکے دیکھو۔۔۔
    باجی: وہ کیوں؟
    میں:ٹائیٹ کرکے بس محسوس کرو۔۔۔ خود ہی پتہ چل جائے گا
    باجی نے اپنی گانڈ کو ٹائیٹ سے ٹائیٹ تر کرتے ہوئے حیرت سے بولیں: تم۔۔۔ نے سارا ڈال دیا۔۔۔
    میں باجی کی کمر سے لپٹا ہوا بولا: آ گیا یقین یا نہیں باجی۔۔۔
    باجی: اب درد ہو رہا ہے۔۔۔
    میں آہستہ آہستہ اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا جس پر وہ درد اور مزے سے ملی جلی آوازیں نکالنے لگیں۔ میں باجی کی برا کی اسٹریپس کو کھول کر ان کے مموں کو برا کی قید سے آزاد کردیا۔
    چند منٹ اور گانڈ کی چدائی کرنے کے بعد میں اسی انداز میں باجی کی گانڈ میں فارغ ہونا شروع ہوگیا۔ باجی کے منہ سے تیز سسکاریاں ، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہر کمرے میں باجی کی سسکاریاں پھیلی ہوں گی۔ میں آج پہلی مرتبہ باجی فرزانہ کے کسی بھی سوراخ میں سب سے زیادہ دیر تک فارغ ہوتا رہا۔
    میں نے بڑی احتیاط سے اپنے لنڈ کو باجی کی گانڈ سے باہر نکالا اور سائیڈ پر لیٹ گیا۔ کچھ دیر کے بعد سانسوں کے تھمنے کے بعد میں نے باجی کو ہلایا تو باجی بولیں: اب کیا ہے منے؟
    میں: اصل کام باقی ہے باجی
    باجی: فلحال باتھ روم میں لے چل
    باجی کو ان کی صفائی میں مدد کی پھر ان سے لپٹا ہوا ان کے ساتھ ہی سو گیا کیونکہ انہیں اب درد ہونے لگا تھا۔ بے شک میں نے باتھ روم سے آنے کے بعد دو ٹیبلٹ درد کی دی تھیں۔ آٹھ بج چکے تھے باجی اور میں ایک ساتھ ایک ہی باتھ روم میں نہا کم، اور چدائی زیادہ کر رہے تھے۔
    صبح سویرے چدائی کرتے ہوئے جیسے ہی میرا ہاتھ باجی کی گانڈ پر لگا باجی کے منہ سے سسکاری سن کر میں رک گیا۔
    میں: باجی درد زیادہ ہے؟
    باجی: نہیں تو۔۔۔ ہلکا سا ہے
    میں: کب تک آ رہے ہیں میرے نئے جیجو۔۔۔
    باجی: پرسوں۔۔۔
    میں نے باجی کو پلٹا کر ان کی کمر کی صفائی کرتے ہوئے اپنا لنڈ پھر سے ان کی گانڈ میں ڈال کر کبھی خود جھٹکے لگا رہا تھا تو کبھی وہ خود ہی اپنی گانڈ کو نیچے کی طرف دبا دبا کر خود ہی اپنی گانڈ مروا رہی تھیں۔
    ایک مرتبہ پھر میں ان کی گانڈ میں ہی فارغ ہوگیا۔آج ہم دونوں بہن بھائیوں نے ملکر شادی اٹینڈ کی ۔ واپسی پر شام ہوچکی تھی۔ باجی بولیں: کھانا کھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟
    میں: فلحال ضرورت نہیں ہے۔۔۔ شادی یا ہوٹل کا کھانا ہضم ہوتے ہوتے وقت لگاتا ہے۔
    باجی اس وقت میرے ساتھ چھت پر موجود تھیں بجلی بند تھی ۔ باجی نے سبز رنگ کی پتلی سی قمیض کے نیچے شمیض پہن رکھی تھی جبکہ نیچے چوڑی دار تنگ پجامہ سفیدرنگ کا پہن رکھا تھا مجھے معلوم تھا کہ باجی نے نیلےرنگ کی برا پہن رکھی ہے۔ کچھ ہی دیر میں باجی اور میں بغیر کپڑوں کے چھت پر کھلے آسمان تلے موجود تھے۔ باجی آج میری فرمائش پر میرے لنڈ کو زور و شور سے مسلسل چوس چاٹ رہی تھی۔
    یہ کوشش میرے لنڈ کو کھڑا کرنے کی کیلئے تھی۔ باجی بار بار میرے لنڈ اپنے منہ سے نکال کر اپنے ۳۸ سائز کے مموں کے درمیان میں لیکر ان کو آپس میں ملا کر تیزی سے مموں کو اوپر نیچے کر مجھے مزہ دے رہی تھیں۔
    باجی: کروا لی اپنی من مانی۔۔
    میں مسکراتے ہوئے: اور نہیں تو کیا۔۔۔ میرا دل تو کرتا ہے کہ باہر صحن میں بندے بیٹھے ہوں اور آپ کچن میں میرا اسی طرح لن چوس چوس کر سارا رس پی جائیں۔۔۔ لیکن ایسا موقعہ آپ بناتی ہی نہیں تھیں۔۔۔
    باجی: اچھا ۔۔۔ سوچیں گے ۔۔۔ اب جلدی سے کام ختم کرو۔۔۔
    باجی چھت کی فرش سے اٹھ کر چھت پر بنی چمنی پر جھک گئیں۔ میں ان کے پیچھے آ کر باجی کی پھدی پر اپنا لن سیٹ کر کے تھوڑا سا لن اندر داخل کردیا۔ باجی: اووووو۔۔۔ سی۔۔۔ آہستہ ۔۔۔
    میں پوزیشن سیٹ کرتے ہوئے بولا: خالہ سیکنہ کو اب کیسے یاد آ گئی ہماری
    میں اپنا لن اور اندر کرتے ہوئے بولا تھا۔ جب کہ باجی میرے لن کو اپنی پھدی میں جاتا ہوا محسوس کر رہی تھیں میرے سوال کے جواب میں وہ بولیں: ان کی سب سے چھوٹی بیٹی اسمارہ بھی تعلیم سے فارغ ہونے والی ہے۔۔۔ سمجھا کرو نا
    میں اب تیز دھکے لگاتے ہوئے باجی کی پھدی کو چودنے لگا تھا۔ یہ وہی اسمارہ میری کزن تھی جسے اپنی خوبصورتی پر بے تحاشہ گھمنڈ تھا۔ باجی: اسمارہ کے نام پر خاموش کیوں ہوگئے ؟
    میں نیچے جھکتے ہوئے ان کے جسم کو چمنی سے اٹھاتے ہوئے اب بالکل اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مزید تیز دھکے لگاتے ہوئے بولا: بس کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
    باجی سسکتے ہوئے بولیں: سوچی پیا ۔۔۔ تے۔۔۔ بندہ گیا
    باجی اپنی پھدی کو مزید ٹائیٹ کرتے ہوئے جھڑنے لگیں۔۔۔ میں اس وقت تک دھکے لگاتا رہا جب تک ان کا آرگیزم پورا نہیں ہوگیا۔ میں نے لن کو ان کی پھدی سے نکال کر ان کو چاردیواری کے پاس لے آیا جہاں ہم کچھ دیر پہلے کھڑے شہرکی روشنیوں کو دیکھ رہے تھے۔
    باجی چاردیواری پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف نکال کر بولیں: ہے تو وہ بہت گھمنڈی۔۔۔ یاد ہے نا۔۔۔ کیسے اس نے وہاب کے رشتے سے انکار کیا تھا۔۔۔
    میں: ٹھاں ۔۔۔ کرکے۔۔۔
    ہم دونوں بہن بھائی ہنسنے لگیں میں نے اپنا لن باجی کی گانڈ پر سیٹ کرنے سے پہلے میں نے تھوک کو باجی کی گانڈ پر پھینک کر اپنے لن سے باجی کی گانڈ کی موری کو گیلا کرلیا، میں آہستہ آہستہ باجی کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے لگا۔
    میں: باجی۔۔۔
    باجی: ہممم
    میں: کتنی مرتبہ بتانا پڑے گا ۔۔۔
    باجی میری بات کا مطلب سمجھتےہوئے اپنی گانڈ کی موری کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے بولیں: تمہیں تنگ کرکے مزہ آتا ہے۔۔۔ ایک ہی تو بھائی ہے ۔۔۔
    میں اب اپنے لن کو باجی کی گانڈ میں بار بار ان آوٹ کرتے ہوئے باجی کی گانڈ کو چود رہا تھا۔ باجی کے منہ سےلذت آمیز سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد باجی خود ہی شہوت میں ڈوبی ہوئی اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف بار بار دھکیلتے ہوئے اپنی گانڈ خود ہی مجھ سے مروانے لگیں۔
    میں اب رک کر باجی کو مزے میں ڈوبا ہوا دیکھ کر خود پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ میں تھوڑا سا جھک کر باجی کے مسلسل ہل رہے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر دبانے لگا۔ باجی کی رفتار اب تیز ہونے لگی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر باجی کی چوت کے دانے کو مسلنے لگا۔
    باجی مزے کی آخری حدوں پر پہنچ چکی تھی میں نے بھی خود کو باجی کے ہمراہ ہی پایا لیکن میں نے خود پر تھوڑا سا کنٹرول کرتے ہوئے باجی کو پہلے منزل پر پہنچ جانے دیا۔۔۔
    باجی کے رک جانے پر میں نے اپنا لن باجی کی گانڈ سے نکال کر باجی کے نیچے پڑے ہوئےبرا سے اپنے لن کو صاف کرنے کے بعد باجی کی پھدی پر رکھ کر دو جھٹکوں میں اندر ڈال دیا۔ ایک مرتبہ پھر باجی لذت میں ڈوبی ہوئی سسکاریاں بھرتی ہوئی میرے ساتھ ہی اپنی پھدی کا پانی چھوڑتے ہوئے فارغ ہونے لگیں۔ میں باجی کی گانڈ کے ساتھ بالکل جڑ کر اپنا سارا لن ان کی پھدی کی آخری سرے تک گھسائے ہوئے فارغ ہونے لگا۔
    میرا لن کچھ دیر تک جھٹکے کھاتا رہا اور منی کو خارج کرتا ہوا سکڑنے لگا۔ میں نے باجی کی ننگی پیٹھ پر کس کرنے کے بعد ان کے جسم سے الگ ہوگیا۔ باجی فورا ً نیچے بیٹھ کر اپنی ٹانگوں کو آپس میں جوڑ لیں۔


    اس دن باجی میرے کاندھے پر سر رکھ کافی دیر تک روتی رہی۔ وہ حاملہ بھی تھی۔ پھر بھی میرے بہنوئی ان سے خوش نہیں تھے۔ سارا سار دن محنت مزدوری کرنے کے بعد رات کو گھر پر پہنچ کر اپنی فرسٹریشن باجی پر نکالتے یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی ہیں۔
    باجی رونے کے بعد بولی: بھائی۔۔۔ تم ہی بتاو۔۔۔ مجھ کیا کمی ہے؟ صبح سے رات ہوجاتی ہے میں گھر میں اکیلی سارا کام کرتی ہوں رات کو تیرے بہنوئی آتے ہیں اور چھوٹی سی چھوٹی غلطی نکال کر مجھ پر غصہ کرتے ہیں۔
    میں باجی کا چہرہ تھام کر بولا: آپ میں کوئی کمی نہیں ہے باجی۔۔۔ ساجد بھائی ہی ناسمجھ ہیں۔۔۔ جب ان کو سمجھ آئے گی تو وہ بہت پچھتائیں گے۔
    اگلے دن ، تانیہ تقریباً ساری ننگی مجھ سے گھوڑی بن کر کلاس روم میں چدوا رہی تھی اور میں مزے میں ڈوبے ہوا تانیہ کی پھدی میں مسلسل جھٹکے لگا رہا تھا۔ جیسے ہی تانیہ نے اپنی پھدی کو مزید ٹائیٹ کیا تو میں سمجھ گیا کہ تانیہ اب بس چھوٹنے والی ہے۔ وہی ہوا تانیہ میرے چند مزید دھکوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی پھدی کے رس کی برسات میرے لنڈ پر کرنے لگی۔۔۔ جیسے ہی تانیہ مکمل آرگیزم حاصل کرنے کے بعد میرے سامنے سے ہٹنے لگی، میں نے اس کے بھاری ہوچکے چونتروں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
    تانیہ: آہ۔۔۔ اف۔۔۔ سی۔۔۔ جان۔۔۔ دل نہیں بھرا؟؟؟
    میں تیز دھکے لگاتے ہوئے بولا: آج ۔۔۔ میرا دل ۔۔۔ نہیں بھرا۔۔۔ تانی
    تانیہ پھر سے گرم ہوگئی اور میرے ہر جھٹکے کا ساتھ اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے دینے لگی۔ تانیہ اب میرے تیز سے تیز تر ہوتے جھٹکوں کو برداشت کرنے کیلئے آہستہ آہستہ سامنے والے بینچ پر پیٹ کے بل لیٹتی چلی گئی۔اس انداز میں میرا لن مزید تیزی سے اندر باہر ہونے لگا تھا لیکن تانیہ اپنی پھدی کو مسلسل ٹائیٹ کیے ہوئے تھی جس کی وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسا میرےجسم کا سارا خون تیزی سے گردش کرتا ہوا میرے لن میں جمع ہو رہا ہے۔
    تانیہ میری اس نئی کیفیت سے بے خبر میرے ہر تیز جھٹکے کو اپنی پھدی میں محسوس کرتے ہوئے شہوت کی مزے دار دنیا میں گم تھی تب ہی میرے لن نے مجھے ایک نئے مزے سے روشناس کروانا شروع کر دیا۔
    میں آہستہ آہستہ تانیہ کے جسم سے لپٹتا چلا گیا اور میرے لن نے منی کی برسات تانیہ کی چوت میں کرنا شروع کردی۔ تانیہ شاید جانتی نہیں تھی کہ میں فارغ ہونے والا ہوں ۔
    جیسے ہی میرے لن نے منی کی پھوار تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں گھسے ہوئے ہی اس کی بچے دانی میں کرنا شروع کی، تانیہ کی بے اختیار مزے کی آخری حد میں ڈوبے ہوئے دبی دبی چیخیں نکلنے لگیں۔ تانیہ کی چیخوں کواگنور کرتا ہوا میں تانیہ کی کمرسے لپٹا ہوا اس کی پھدی میں اپنے لن سے پہلی مرتبہ نکل رہی منی کی برسات کو ہوتا ہوا محسوس کر کے خود ایک نئے مزے میں ڈوبا ہوا پایا۔
    مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آج ساری منی تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں نکل جائے گی۔۔۔ ایسا ہو بھی رہا تھا پھر آخری قطرے نے لن سے نکلنے کے بعد مجھ سے پہلے تانیہ کو احساس دلایا کہ ہم دونوں سے بہت بڑی غلطی ہوچکی ہے۔ جبکہ میں اس سنگین غلطی سے انجان بس تانیہ کی ننگی کمر سے لپٹا ہوا اپنے لن کو تانیہ کی ٹائیٹ پھدی میں سکڑتا ہوا محسوس کرکے اپنے ہونٹوں کو تانیہ کی ننگی پیٹھ کو چومنے لگا تھا۔
    تانیہ لرزتے ہوئے بولی: ج۔۔جا۔۔۔جان۔۔۔ جلدی سے اٹھو
    میں اس کی گردن کو چومتے ہوئے: تانی جان۔۔۔ کیا ہوا؟؟؟
    تانیہ: پلیز۔۔۔ اٹھو۔۔۔
    میں مزے کو مزید محسوس کرنا چاہتا تھا: میرا من نہیں کر رہا
    تانیہ اب تھوڑا سنجیدگی سے بولی: سمجھ نہیں آ رہی میری بات۔۔۔ جلدی سے اٹھو
    میں تانیہ کے لہجے میں سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے فورا ً تانی کے جسم سے الگ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے میرا لن پُچ کی آواز نکالتا ہوا تانیہ کی پھدی سے باہر نکل آیا۔
    تانیہ کے منہ سے مزے یا درد سے سسکاری نکلی لیکن تانیہ فوراً اس درد یا مزے کو بھول کر اٹھ بیٹھی اور اپنی پھدی کو چیک کرنے لگی۔ وہ حیرت میں ڈوبی ہوئی بار بار میری منی کو اپنی انگلیوں سے چیک کرتی تو کبھی مجھے دیکھتی ۔
    میں کپڑے پہنتے ہوئے بولا: کیا ہوا تانی
    تانیہ: تم رک نہیں سکتے تھے؟
    میں: کیا مطلب
    تانیہ مجھے اپنی پھدی سے نکل رہی منی کو اپنی انگلیوں پر تھوڑا سا جمع کرکے مجھے دیکھاتے ہوئے بولی: اس کیلئے بول رہی تھی
    میں: یہ تو تمہاری پھدی سے نکلنے والا پانی ہے، تم نے ہی تو مجھے بتایا تھا
    تانیہ کپڑے سے اپنی پھدی کو صاف کرتے ہوئے بولی: یہ میری نہیں، تمہارے شیر کا پانی ہے۔ اسی سے تو ۔۔۔
    تانیہ بات بتاتے ہوئے اچانک رک گئی تب تک وہ شلوار پہن چکی تھی، میں اس کی طرف متوجہ تھا جب وہ اپنی بات مکمل نہ کر پائی تو میں بولا: اسی سے کیا؟؟؟ پوری بات بتایا کرو تانی
    تانیہ کو جیسے ہوش آیا ، تانیہ فوراً سکول ڈریس پہنتے ہوئے بولی: فلحال یہاں سے چلتے ہیں
    ہم دونوں سیکنڈ فلور سے اتر رہے تھے، میں: بتا بھی دو
    تانیہ جھنجھلاتے ہوئے بولی: اس سے تم کسی بھی لڑکی کو اپنے بچے کی اماں بنا سکتے ہو۔۔۔ فلحال مجھے کسی کا بھی بچہ نہیں چاہیے
    میں: کیا مطلب
    wah kia bat hy maza agya plz next update zara long

  6. The Following User Says Thank You to shahii For This Useful Post:

    abba (15-01-2019)

  7. #14
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    194
    Thanks Thanks Received 
    257
    Thanked in
    89 Posts
    Rep Power
    1542

    Default

    Bohat shandar update dia hai. Maza aa gya umeed hai agy is se bi kuch bariya hone wala hai

  8. The Following 2 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abkhan_70 (07-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019)

  9. #15
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    120
    Thanks Thanks Given 
    359
    Thanks Thanks Received 
    66
    Thanked in
    35 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Very hot updated. Boht maza aya parh kar. Hero sahib to bachay bant'tay phir rahay hain logon main. Hahahahaha

  10. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abkhan_70 (07-01-2019)

  11. #16
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Default

    Quote Originally Posted by shahii View Post
    wah kia bat hy maza agya plz next update zara long
    thanks bro. stay with us and get new updates...

  12. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019)

  13. #17
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Default

    Quote Originally Posted by Lovelymale View Post
    Very hot updated. Boht maza aya parh kar. Hero sahib to bachay bant'tay phir rahay hain logon main. Hahahahaha
    thanks sir g

    bacha ban'na parrta hai ye duniya hai hi bohat bari.

  14. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019)

  15. #18
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Default

    Quote Originally Posted by Admin View Post
    Bohat shandar update dia hai. Maza aa gya umeed hai agy is se bi kuch bariya hone wala hai
    thanks admin bahi...

    g bil kul aesa hi hone wala hai

  16. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019)

  17. #19
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    642
    Thanks Thanks Given 
    50
    Thanks Thanks Received 
    560
    Thanked in
    272 Posts
    Rep Power
    74

    Wink پانچویں قسط

    پانچویں قسط

    تانیہ: اب تم بالغ ہوچکے ہو ۔۔۔ خود سوچ سمجھ لیا کرو یار
    میں: وہ تو مجھے سمجھ آ گئی ہے ۔۔۔ لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ تمہیں کس کس کا بچہ نہیں چاہیے؟؟؟
    ثانیہ اور زیب دونوں جو سیڑھیوں کےقریب ہی تھیں، ثانیہ بولی: کیا ہوا؟؟
    تانیہ: کچھ بھی نہیں۔۔۔ گھر چلتے ہیں
    میں: ان کو بتا دو شاید مسئلے کا حل نکل آئے
    زیبی شاید میری بات یا تانیہ کی پریشانی سمجھ چکی تھی وہ تانیہ کو لیکر ہم دونوں سے آگے بڑھ گئی
    ثانیہ: تم مجھے بتاو
    میں: یو نو۔۔۔ میں فکنگ کے بعد۔۔۔ ڈسچارج نہیں ہوتا تھا۔۔
    ثانیہ فوراً اچھل پڑی: ک۔ کک۔۔ کیا مطلب۔۔۔ مطلب تم بالغ نہیں ہوئے۔۔۔ اسی لیے۔۔۔ تانیہ نے ہم دونوں سے تمہیں بچا رکھا تھا۔۔۔ بہت کمینی ہے۔۔۔ وہ۔۔۔
    میں: کون سی گرل فرینڈ چاہے گی کہ اس کا بوائے فرینڈ سکول میں یا اس کی ہی سہیلیوں پر ٹرائی مارتے پھرے۔۔۔
    (میں نے وضاحت دینے کی کوشش کی)
    ثانیہ: مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔ کیا ۔۔۔ میں چیک کرلوں؟؟؟
    میں نے ایک نظر ثانیہ پر ڈالی (عجیب نظروں سے) پھر سکول گیٹ کی طرف دیکھا جہاں اب تانیہ اور زیبی دونوں موجود نہیں تھیں۔
    میں: کیا مطلب
    ثانیہ فوراً میرا بیلٹ کھولتے ہوئے بولی: یو۔۔۔ نو۔۔۔ لانگ فکنگ
    میں اس سے تھوڑا دور ہوتے ہوئے بولا: تانیہ تمہارا انتظار کر رہی ہوگی
    ثانیہ: مطلب ۔۔۔ تمہارا بھی دل ہےکہ ۔۔۔ ہم دونوں۔۔۔ سٹور روم میں چلتے ہیں
    میں بیلٹ باندھتے ہوئے بولا: تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو۔۔۔ میں تانی کو پسند کرنے لگا ہوں۔۔۔ اس کے سوا کسی دوسری لڑکی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔
    ثانیہ میرے قریب آتے ہوئے میں مزید پیچھے ہٹنے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے پیچھے سیڑھیوں کی دیوار ہے۔ ثانیہ میرے جسم سے لپٹ کر بولی: اس کی منگنی ہوچکی ہے مائی ڈئیر ۔۔۔ وہ بس اپنی پیاس بجھانے کیلئے تمہارا استعمال کر رہی ہے۔۔۔ بس
    میں ثانیہ کی بات سن کر اس کی ہی آنکھوں میں سچائی ڈھونڈنے لگا تھا۔ کچھ دیر پہلے تانیہ کے تذبذب لہجے کی وجہ سے مجھے معمولی سا شک ہوا تھا جب اس نے مجھے کہا کہ وہ فلحال کسی کے بھی بچے کی ماں بننا نہیں چاہتی اور اب ثانیہ ۔۔۔
    میں پھر بھی تانیہ کی سائیڈ لیتے ہوئے بولا: تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔
    ثانیہ: ویٹ۔۔۔ بس بولنا نہیں
    ثانیہ نے موبائل نکال کر کسی کو کال کی، کچھ دیر کے بعد ثانیہ نے فون پر کسی سے پوچھا: تانیہ گھر پہنچ گئی ہے؟
    مجھے سمجھ میں آگیا کہ وہ زیبی کو کال کر رہی تھی۔ پھر کچھ دیر کے بعد ثانیہ بولی: میرا ارادہ ہے کہ میں کسی طریقے سے تانیہ کے ٹھوکو(مجھے) کوسٹور روم میں بلا کر اندھیرے میں سیکس کروا لوں بعد میں اس پر حقیقت افشاں کر دوں گی۔۔۔ کیا رائے ہے تمہاری
    زیب: (لاوڈ سپیکر آن ہوچکا تھا) میرا بھی یہی ارادہ ہے لیکن تانیہ کا کیا کریں ۔۔۔ وہ پوری نظر رکھے ہوئے ہوتی ہے۔۔۔
    ثانیہ: یہ لڑکی تو ایک ساتھ دو دولڑکوں کو لیکر چل رہی ہے، گھر میں اس کا کزن جس سے اس کی منگنی ہوچکی ہے اور کام بھی ڈلوا چکی ہے ۔۔۔ شاید ہر دوسرے تیسرے دن موقعہ ملتے ہی کام بھی ڈلوا لیتی ہے اور یہاں سکول میں ۔۔۔
    زیب: تمہاری بات بالکل سچ ہے۔۔۔ اس نے اس بے چارے کو سکول میں پڑھنے سے ہٹا کر فکنگ بوائے ، پلے بوائے بنا رکھا ہے۔۔۔
    ثانیہ میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی: جس دن سے ہم دونوں نے تانیہ کے ٹھوکو یار کا شیر دیکھا ہے تب سے سوتے ہوئے میں نے اس شیر کو اپنی رانی میں محسوس کرتی رہتی ہوں۔۔۔
    زیب کھل کھلا کر ہنستے ہوئے بولی: آئیڈیا تو میرا ہی تھا۔۔۔ چل۔۔۔ کل ٹرائی کرتے ہیں ویسے بھی کل تانیہ نے سکول نہیں آنا۔۔۔ اس کا کزن آج آ رہا ہے۔۔۔
    زیب کی معنی خیز خبر پر ثانیہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی زیب بولی: کیا ہوا۔۔۔
    ثانیہ: مطلب ۔۔۔ کل موقعہ ہے۔۔۔
    زیب: لیکن ۔۔۔ اس کا کیا کریں وہ زبان کیسے بند رکھے گا۔۔۔ شاید وہ پیار ویار کے چکر میں ہے تانی کے ساتھ
    ثانیہ میر ی پینٹ اتار چکی تھی اور اب میرے ننگے لن سے کھیل رہی تھی۔ ثانیہ: میرابہت دل کر رہا ہے کہ ابھی ہی ہم تینوں کے ٹھوکو سے ٹھکوا لوں۔۔۔
    زیب ہنسنے لگی: خوابوں میں۔۔۔ ویسے اگر کل موقعہ لگ گیا تو کون پہلے فک کروائے گا؟
    ثانیہ: میں۔۔۔
    زیب: چل ٹھیک ہے۔۔۔ تو اس کی زبان تو بند کردے گی۔۔۔
    ثانیہ: ٹھیک ہے
    زیب: میں اب پڑھ لوں۔۔۔ تو بھی پڑھا کر۔۔۔
    کال بند ہوچکی تھی اور ہم کچھ ہی دیر میں ، بالکل ننگے سٹور روم میں موجود تھے۔ ثانیہ فرش پر بیٹھے ہوئے میرے لن کو چوس رہی تھی۔ تانیہ کی نسبت ثانیہ کافی مہارت سے میرے لن پر چوپے لگا رہی تھی۔ میں آنکھیں بند کیے ثانیہ کے چوپوں کو محسوس کر رہا تھا۔
    ثانیہ میرا لن منہ سے باہر نکال کر دیوار کا سہارا لے کر اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف نکال کر میری طرف دیکھنے لگی: کس کی زیادہ موٹی ہے۔۔۔
    میں اس کی پھدی پر اپنا گیلا لن ایڈجسٹ کرتے ہی بولا: تانی کی تھوڑی سی کم موٹی تھی لیکن اب تمہارے سے بڑی ہے۔۔۔
    میری بات سن کر ثانیہ ہنسنے لگی: اب تمہارے ذمہ ہے کہ میری اور زیبی کی تانیہ سے زیادہ موٹی کردو
    میں نے تیر نشانے پر دیکھ کر ایک ہلکا سا لیکن جاندار جھٹکا دیتے ہوئے اپنا لن ثانیہ کی پھدی میں داخل کر دیا۔ ثانیہ ہلکا سا آگے کو کھسک کر دیوار کے ساتھ لگی
    میں: کل کا کیا پلان ہے؟
    ثانیہ: پہلے میں اندر آوں گی صرف لالی پاپ چوسوں گی پھر باہر جا کرزیبی کو بھیج دوں گی۔۔۔ تم بس یہی ظاہر کرنا کہ تمہارا یہ راز اب ہمارے پاس موجود ہے جس کی وجہ سے تم ہمارے لیے پلے بوائے بننے کیلئے تیار ہو۔
    میں: مجبوری میں۔۔۔ بعد میں ۔۔۔ زیبی کو بتا دیں گے کیا خیال ہے؟
    ثانیہ اب میرے دھکوں کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی گانڈ میری طرف پش کرنے لگی: ہاں یہ بہتر رہے گا۔
    ثانیہ کی پھدی تانیہ کی نسبت زیادہ ٹائیٹ تھی لیکن میرا لن اب بھی کافی تیزی سے اندر باہر ہو رہا تھا شاید ثانیہ اپنی پھدی کو ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا۔
    کچھ ہی دیر میں ثانیہ لرزتے ہوئے میرے لن پر پانی چھوڑتے ہوئے میرے لن کو گیلا کرنے لگی میں بھی ثانیہ کی ٹائیٹ پھدی کی جکڑن کو برداشت نہ کر پایا اور ثانیہ کے فارغ ہونے کے فوراً بعد اپنے لن سے دوسری مرتبہ منی کی دھاریں ثانیہ کی پھدی میں بہانے لگا۔
    ثانیہ کا بھی تانیہ کی طرح حال بے حال ہونے لگا۔ ہم ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے کانپ رہے تھے۔
    ثانیہ: یہ۔۔۔ تت۔۔ تم۔۔۔ مطلب
    میں اس کے مموں سے کھیلتے ہوئے آہستہ آہستہ اس سے الگ ہونے لگا: تم نے میرا پوری بات سنی ہی نہیں تھی
    ثانیہ: تم بتا تو دیتے۔۔۔
    میں الگ ہونے کے بعد اپنی پینٹ کو اٹھانے لگا تو ثانیہ فوراً پلٹ کر میری ٹانگوں کے قریب بیٹھ کر میرے سکڑ رہے لن کو پکڑ کر اپنے منہ میں بھر لیا۔ ثانیہ نے چند ہی لمحوں میں میرے لن کو چوس کر صاف کرنے لگی
    گیٹ پر پہنچ کر ثانیہ بولی: ویسے مجھے تمہارا آرگیزم ساری رات سونے نہیں دے گا۔۔۔
    میں: ابو گھر پر آئے ہوئے ہیں اگر وہ گھر نہ ہوتے تو تمہیں اپنے ساتھ لے جاتا
    ثانیہ ہنستے ہوئے: اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں نے کمبائن سٹڈی کے لیے پاس ہی میں ایک کمرہ لیا ہوا ہے
    میں: ٹھیک ہے۔۔۔ کچھ سوچتے ہیں ۔۔۔ثانی مجھے نوٹس دے دینا تاکہ پرانے امتحانی پرچے دیکھ کر تیار کرسکوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زیبی کا جسم مجھے تانیہ اور ثانیہ کی نسبت کچھ زیادہ کھلا ہوا محسوس ہوا۔ سب سے بڑی بات زیبی میرے ساتھ تانیہ اور ثانیہ کی نسبت زیادہ ساتھ دے رہی تھی۔ زیبی بار بار مجھے روک کر تذبذب میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔
    بلآخر زیبی مجھے خود ہی اپنے جسم سے لپٹائے مجھے اپنی پھدی میں فارغ کروانے لگی حالانکہ تانیہ پھدی میں فارغ ہونے پر پریشان تھی جب کہ ثانیہ اپنی پریشانی کو کور کر گئی تھی پھر بھی وہ پریشان ضرور ہوئی تھی۔
    زیبی: کیسا لگا
    میں: اچھا۔۔۔
    زیبی: مزہ آیا؟
    میں: ہاں
    زیبی: کتنا؟
    مجھے اب زیبی کی باتوں سے کوفت ہونے لگی تھی کیونکہ میں تانیہ کی عادت کے مطابق اب اس سے الگ ہونا چاہتا تھا لیکن مجھے ایسا ہوتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
    زیبی: ہم تینوں میں سے کس کے ممےزیادہ بڑے ہیں؟
    میں: تمہارے
    زیبی: ان کو چوسو۔۔۔ (میں خاموشی سے اس کے ۳۴ سائز کے مموں کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگا)
    زیبی: کس کے چھوٹے ہیں؟ تانیہ یا ثانیہ کے؟
    میں دوسرے ممے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے بولا: ثانیہ کے
    زیبی: کس کی زیادہ ٹائیٹ تھی؟
    میں: ثانیہ کی
    زیبی: کس کے ساتھ زیادہ مزہ آیا؟
    میں اب خاموش رہا کیونکہ میں سچ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس کے ساتھ مزہ زیادہ ملا تھا۔۔۔ حقیقت تو یہی تھی کہ سب سے زیادہ مزہ مجھے زیبی نے دیا اور لیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تانیہ بس اپنا مزہ لیتی رہی اور جب میرا مزا کرنے کا وقت آیا تو وہ پریشان ہوگئی۔ ثانیہ کے ساتھ ایک ہی مرتبہ ان کاونٹر ہوا تھا لیکن اس میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ زیادہ اچھی پاٹنر تھی۔ جیسے ہی میرے ذہن نے زیبی کا نام روشن کیا تو زیبی بول پڑی
    زیبی: تمہارا دل دوبارہ فک کرنے کو ہو رہا ہے نا۔۔۔
    میں: نہیں۔۔۔
    زیبی: مجھے میرا راجہ میری رانی کے اندر دوبارہ جاگتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔
    سچ بھی یہی تھا کہ میرا لن زیبی کا نام سوچ کر ہی دوبارہ جاگنے لگا تھا۔ میں: تم کیا چاہتی ہو
    زیبی: وہی جو تم چاہتے ہو
    اس مرتبہ وقت زیادہ لگا لیکن مجھے اب سچ میں زیادہ مزہ آیا۔ گھر میں سب باجی کی ٹینشن میں پریشان تھے۔ خالہ ناظمہ اور ان کی سب سے بڑی بیٹی عبیرا آئی ہوئی تھیں۔ خالہ ناظمہ اپنی گود میں اپنی پانچ سالہ اریبہ لیے بیٹھی ہوئی تھی۔ عبیرا کی نہم کلاس میں تھی۔ ناجانے کیوں آج جب سے میں زیبی سے سیکس کر کے آیا تھا تب سے خود کو اور اپنے لن کو روک نہیں پا رہا تھا۔
    اسی وجہ سے میرا لن عبیرا کو جوان ہوتا دیکھ کر مچل اٹھا تھا۔ خالہ ناظمہ نے عبیرا کو آپی طاہرہ کی مدد کیلئے اندر بھیج دیا تو خالہ ناظمہ کی گود میں بیٹھی اریبہ رونے لگی۔
    باجی: مجھے لگتا ہے کہ اریبہ بھوک لگ گئی ہے۔۔۔
    خالہ : ہاں ۔۔۔۔ مجھے بالکل یاد نہیں ۔۔۔ اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا۔۔۔
    باجی: آپ نے دن کے ایک بجے اس بے چاری کو دودھ پلایا تھا اس سے گزارہ کہاں ہوتا ہے۔
    خالہ: اس کا پیٹ نہیں ہے۔۔۔ کنواں ہے۔۔۔ جتنا مرضی دودھ پلاو۔۔۔ گزارہ ہی نہیں ہوتا
    خالہ ، میں اور باجی صحن میں تھے ابو ، امی اور خالو ، چاچو کی طرف گئے ہوئے تھے۔ خالہ میرے سامنے ہی بغیر جھجھک کے اپنی قمیض کو اوپر کر کے اریبہ کو دودھ پلانے لگیں۔ میں اریبہ کو دودھ پیتا دیکھ رہا تھا۔ نا جانے کیوں مجھے خالہ کے جسم میں کشش محسوس ہونے لگی۔
    کہتے ہیں نا۔۔۔ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔۔۔ خالہ بولیں: اندر جا کر دیکھ ۔۔۔ کہیں وہ دونوں گپیں تو نہیں لگا رہی۔۔۔
    میں سمجھا کہ خالہ نے میری چوری پکڑ لی ہے اسی لیے مجھے اندر جانے کو کہہ رہی ہیں لیکن میرے اٹھنے سے پہلے باجی ، جی خالہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر اندر چلی گئیں۔
    میں پہلے خالہ ناظمہ کے متعلق انٹرو دے دوں۔۔۔
    خالہ ناظمہ کا جسم آپی طاہرہ کے جسم سے بھی زیادہ موٹا اور بھدا ہو چکا تھا۔ خالہ کے مموں کا سائز ۴۲ تھا ۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں۔ عبیرا کلاس نہم میں ، جبکہ ایمن ساتویں ، طوبیٰ ششم، اور چوتھی اریبہ تھی جس کی عمر پانچ سال تھی۔ چاروں بہنوں میں صرف عبیرا کا رنگ تھوڑا سا گورا تھا باقی سب بہنوں کا رنگ سانولا کالا تھا۔ خالہ نے پسند کی شادی کی، وہ نرس ہیں۔ ابو کے اثر رسوخ کی بدولت ان کو سرکاری ہسپتال میں نوکری مل گئی تھی۔
    میں کچھ دیر تک خاموشی سے بیٹھا رہا کیوں کہ مجھے باجی کے آنے کا بھی ڈر تھا اور کہیں خالہ مجھ پر طنز ہی نہ کردیں اس لیے اپنی گردن جھکائے بیٹھا رہا۔
    کچھ دیر کے بعد پھر سے ہمت کرکے میں نے خالہ کی طرف دیکھا تو وہ پاس پڑی اخبار کو اٹھا پڑھ رہی تھیں ان کی توجہ اخبار میں تھی لیکن میری توجہ اب ان کے بڑے سے ممے پر تھی۔ اریبہ بڑے مزے سے خالہ کے ممے کو چوس چوس کر اس میں دودھ پی رہی تھی اور مجھے چڑا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میرا لن اکڑنے لگا۔
    ہم دونوں کا فاصلہ بس چند قدموں کا تھا۔ میں ابھی ان کے ممے میں گم تھا کہ اندر سے آپی نے مجھے آواز دے کر بلا لیا۔ میں خاموشی سے اٹھا اور جانے لگا تو خالہ مجھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دی۔
    شام کے وقت خالہ سے ضد کرکے آپی نے عبیرہ کو گھر رکھ لیا۔ میں یہ سارا منظر چھت سے دیکھ رہا تھا۔ میں رات ہونے تک چھت پر رہا کیونکہ کل چھٹی تھی۔ مجھے پڑھائی کیلئے بھی کسی نے نہیں کہا اس وجہ سے میں تھوڑا سا لاپروا ہوگیا تھا۔ عبیرہ کسی کام کی وجہ سے اکیلی چھت پر آئی تو میں خاموشی سے منڈھیر سے کھیت دیکھنے لگا۔
    مجھے لگا کہ عبیرہ کام ختم کرکے نیچے چلی جائے گی لیکن وہ نیچے نہ گئی۔ مجھے اب دو طرح کی کوفت ہونے لگی تھی۔ میرا دل بار بار چاہ رہا تھا کہ میں کسی طرح سے عبیرہ سے فرینک ہو جاوں یا وہ ہوجائے جبکہ دوسری کوفت یہ ہو رہی تھی کہ وہ جا کیوں نہیں رہی۔۔۔
    بلآخر میں بول پڑا: کیسی ہو عبیرہ
    عبیرہ بھی شاید میرا پہلے بولنے کا انتظار کر رہی تھی: ٹھیک ہوں آپ بتائیں
    میں:میں۔۔۔ وہ۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ تم بتاو ۔۔۔ پڑھائی کیسی جا رہی ہے
    عبیرہ: اے ون
    میں: ہممم۔۔۔ کون سی کلاس میں ہو۔۔۔ آئی تھینک ایٹ کلاس میں ہو نا
    عبیرہ مسکرائی: جی نہیں۔۔ آپ کی ہی کلاس میں ہوں۔۔۔ نائتھ (نہم)
    میں: تم کون سے سکول میں جاتی ہو؟
    عبیرہ اس وقت نیلے رنگ کی قمیض شلوار میں اور میچنگ دوپٹہ لیے ہوئے میرے سامنے کھڑی تھی۔ عبیرہ بولی: جس میں آپ ہو۔۔۔
    عبیرہ کی بات سن کر مجھے زوردار دھچکا لگا۔۔۔ کیا مطلب؟
    عبیرہ پھر سےمسکرائی: کیا ہوا؟؟؟ میں آپ کے سکول میں نہیں آپ میرے سکول میں داخل ہوئے ہو۔۔۔
    میں تھوڑا گڑبڑا گیا: او۔۔ ہا۔۔ں۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو۔۔۔ کب سےاس سکول میں پڑھ رہی ہو
    عبیرہ چلتی ہوئی میرے پاس ہی چلی آئی یہاں سے نیچے صحن اور سیڑھیاں بھی صاف نظر آ رہی تھیں: تین سال ہوگئے ہیں۔۔۔
    ہم دونوں منڈھیر پر ہاتھ رکھے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے بات کر رہے تھے۔ میں: اور تمہاری بہنیں۔۔۔
    عبیرہ: وہ بھی۔۔۔ لیکن ان کا سیکشن ہم دونوں کے سیکشن کے دور ہے
    میں: مطلب ۔۔۔ اگلے سال وہ دونوں ہمارے سیکشن میں ہوں گی؟
    عبیرہ مسکرائی: نہیں۔۔۔ ایمن ہی یہاں شفٹ ہوگی۔ طوبیٰ نہیں
    میں: میں نے تو سنا ہے کہ سکول نرسری تا پنجم کا الگ سیکشن اور ششم سے دہم کا الگ کر دیں گے اس نئے سال۔۔۔ (مجھے تانیہ نے بتایا تھا)
    عبیرہ : واہ۔۔۔ آپ کو تو ساری معلومات حاصل ہیں۔۔۔
    میں: کبھی کلاس سے باہر نکل کر سکول کا ماحول بھی دیکھ لیا کرو۔۔۔ انفارمیشن خود ہی مل جاتی ہے
    عبیرہ: کلاس سے باہر ۔۔۔ یا۔۔۔
    عبیرہ نے ایک اور دھماکا کیا۔ مجھے ایسےلگنے لگا کہ عبیرہ کو میرا اور تانیہ کا یارانہ کے متعلق سب کچھ معلوم ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا: کیا مطلب
    عبیرہ: آپ اب بڑی ہستیوں کی محفل میں ہوتے ہو۔۔۔ ہم تو نہ تین میں اور نہ تیرا میں۔۔خیر۔۔۔ مجھے آپ سے کام تھا
    میں فوراًبولا: نہیں نہیں۔۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ تم تو میری۔۔۔بہ۔۔۔
    عبیرہ بات کاٹتے ہوئے: کزن ہوں۔۔۔ خالہ زاد۔۔۔
    میں تو اسے اپنی بہن کہنے والا تھا لیکن عبیرہ نے فوراً مجھے ٹوک دیا۔ عبیرہ: اچھا ۔۔۔ میں چائے لاتی ہوں ۔۔۔
    عبیرہ سیڑھیاں اترنے لگی تو میں اسی کی طرف حیران و پریشان کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ عبیرہ اچانک رک کر میری طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
    میں اب حد سے زیادہ تذبذب میں مبتلا تھا کیونکہ یوں اچانک میری خالہ زاد کزن مجھے میرے کارناموں کا ہنٹ ڈھکے چھپے الفاظ میں مجھ پر افشاں کیے اور جاتے جاتے مسکرا بھی دی۔
    کچھ ہی دیر میں وہ آپی طاہرہ کے ہمراہ چھت پر آئی۔ کچھ دیر تک چائے پیتے پیتے باتیں ہوتی رہیں جلد ہی نیچے سے امی کا بلاوا آگیا اور آپی نیچے چلی گئی۔ عبیرہ نے انہیں یہ کہہ کر بھیج دیا کہ اسے مجھ سے کوئی کام ہے۔ سکول کے متعلق
    عبیرہ بولی: آپ میرا کام کریں گے؟
    میں سوالیہ نظروںاسے دیکھ رہا تھا تب وہ دوبارہ بولی: آپ کی گرل فرینڈ کے پاس میرے نوٹس ہیں وہ واپس نہیں کر رہی ۔ اپنی کسی سہیلی کا کہہ کر اس نک چڑی نے لیےتھے لیکن مانگنے پر بھی وہ واپس نہیں کر رہی۔
    میں: اچھا۔۔۔ چلو کل بات کرتا ہوں۔۔۔
    عبیرہ نے فوراً میرا ہاتھ تھام لیا: تھینک یو ۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ (عبیرہ خوشی سے دمکتی ہوئی بار بار مجھے شکریہ کہہ رہی تھی جب کہ میں کچھ اور سوچ رہا تھا)
    عبیرہ: میں تو سمجھی کہ اس کے ساتھ رہ رہ کر آپ بھی۔۔ ویسے ہی بن گئے ہوں گے
    میں: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں ہے۔۔۔ بس دوست ہے
    عبیرہ میرا ہاتھ چھوڑ کر تنک کر بولی: اگر گرل فرینڈ نہیں ہے تو کیا ہے؟ اس دن میں نے خود دیکھا تھا کہ۔۔۔
    میں نے اس کے انکشاف پر فوراً چونکتے ہوئے اس کی بات کاٹی: کک،،، کیا ۔۔۔ دیکھا تھا۔۔۔
    عبیرہ ہنستے ہوئے: اس نے میری طرح ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور۔۔۔
    میں: اور۔۔۔
    عبیرہ : بیوی کی طرح حق جما رہی تھی آپ پر۔۔۔ ویسے مجھے اس میں کچھ خاص نظر نہیں آیا۔۔۔ آپ کو کیا نظر آیا۔۔۔
    میں اب اس کو کیا بتاتا کہ میں کن حالات میں اس کی دوستی کو قبول کیا تھا۔ ۔۔میں: بس ۔۔۔ وہ ۔۔۔
    عبیرہ : اچھا چھوڑیں۔۔۔ یہ بتائیں کہ سچ میں وہ آپ کی صرف دوست ہے یا۔۔۔ پھر ۔۔۔ (صرف دوست پراس نے تھوڑا زور دیتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی)
    عبیرہ: ہا۔۔۔ہاں۔۔۔ وہ ۔۔۔ بس دوست ہے۔۔۔ اس نے میری ہیلپ کی تھی ۔۔۔
    عبیرہ: مجھے تو ایسا لگ رہا ہے آپ جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔ خیر ۔۔۔ امی کہتی ہیں کہ بڑے جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔
    میں: نہیں۔۔۔ سچ میں۔۔۔ تب سے وہ دوست بن گئی تھی۔۔۔
    ایک بار پھر امی کی آواز آئی اور ہم اسی وقت نیچے اتر گئے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ابو مجھ سے بولے: پتر۔۔۔ دکان سے بوتل لے آ۔۔۔ تیری بہن آئی ہے اس کی خاطر ہم بھی بریانی اور بوتل کھا پی لیں گے۔۔ جا۔۔۔
    میں جیسے ہی اکلوتی دکان پر پہنچا تو دکان کے پاس آم کے درخت کے نیچے میرے گاوں کے کچھ لڑکے جن میں سجاد، شاہ زیب، وہاب، باسط، عمران، بلال اور نجیب بیٹھے جمبو سائز بوتل کھول کر پینا شروع کر رہے تھے۔ میں نے ان کو ہائے ہیلو کرتے ہوئے دکان میں داخل ہوا تو وحید بولا: آ گیا میرا یار۔۔۔



  18. The Following 13 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (08-01-2019), abkhan_70 (08-01-2019), Admin (08-01-2019), aloneboy86 (12-01-2019), ksbutt (19-01-2019), love 1 (08-01-2019), Lovelymale (08-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (08-01-2019), sajjad334 (08-01-2019), windstorm (08-01-2019)

  19. #20
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    59
    Thanks Thanks Received 
    64
    Thanked in
    37 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    بہت ہی اعلی اور زبردست کہانی جا رہی ہے۔

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •