جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
51. You may not vote on this poll
  • behtreen

    39 76.47%
  • normal

    12 23.53%
Multiple Choice Poll.
Page 1 of 8 12345 ... LastLast
Results 1 to 10 of 80

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #1
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default محبت یا ہوس از سٹوری میکر

    محبت
    ہم دونوں دو جسم ایک جان بنے ہوئے تھے۔ حقیقت میں بھی بالکل ایسا ہی تھا ۔ کمرے میں صرف چدائی سے پیدا ہونے والی آوازیں تھپ تھپ اور میرے سامنے جھکی ہوئی ڈوگی سٹائل میں چدنے والی کے منہ سے نکلنے سسکاریاں جاندار بنا رہی تھیں۔
    اس کے حسین اور سیکسی جسم کو میں آج تقریباً دو سال سے اپنے انھی ہاتھوں سے مسل کر اپنے ہونٹوں میں لے کرچوس چوس کر شادی شدہ عورت جیسا بنا دیا تھا۔
    یہ کام ہمایوں بھائی(عرف مونی جی) کو کرنا چاہیے تھا لیکن وہ اپنے ڈش سیٹلائیٹ کے کام کے فلاپ ہو جانے کی وجہ سے آج کل دبئی میں کسی منڈی میں کام کر رہے تھے۔
    پاس ہی بیڈ پر ہم دونوں کے اس جائز رشتے کی بدولت پیدا ہونے والے بچہ خاموشی سے سو رہا تھا۔ مجھے آج بھی وہ رات یاد ہےجب میں فرزانہ باجی کو تسلی کروانے کے بعد اپنے کمرے میں داخل ہوکر سونے کے لیے لیٹا تھا۔
    مجھے محسوس ہوا کہ کوئی بیڈ پر آکر میرے بالکل قریب بیٹھا اور پھر میرے ٹراوزر کے نالے کو کھول کر میرے مرجھائے ہوئے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔کچھ دیر میرے لنڈ سے کھیلنے کے بعد ایکدم سے اپنےمنہ میں لے لیا۔ ویسے بھی باجی فرزانہ کو چودے ہوئے چند منٹ گزر چکے تھے اور اوپر سے باجی فرزانہ کے برعکس اس انجان ہستی نے اپنے منہ میں جوکہ بے حد گرم تھا، میں لے کر میرے لنڈ میں دوبارہ سے جان ڈال دی تھی۔
    میں اپنی آنکھیں بند کیے چند لمحے اس نئے سرور ، جوکہ مجھے میرے کالج کے دوست ہمایوں کی بہن تانیہ نے محسوس کروایا تھا، میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک یہ سرور ختم ہوگیا اور میں اپنی آنکھیں کھول کر اندھیرے میں اپنے اوپر آ چکے جسم کو دیکھنے لگا۔
    انجان ہستی کا ہاتھ تیزی سے نیچے آیا اور میرے کھڑے ہوچکے لنڈ کو پکڑ کر اپنے گیلی ہوچکی پھدی پر رکھ کر چند لمحے رگڑنے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی گرم پھدی میں لینے لگی۔ میرا ذہن آہستہ آہستہ جاگنے لگا۔ جیسے ہی میرا سارا لنڈ پھدی کے اندر غائب ہوگیا تبھی میری دوسری بہن جس کی کچھ مہینے پہلے شادی ہوئی تھی ، کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر چپک گئے۔ آپی طاہرہ ، یہ نام میرے ذہن میں صرف اسی وجہ آیا تھا۔
    وجہ نمبرایک ، چند دنوں سے پھر سے آپی کے گھر والے اسے بچہ پیدا کرنے کے لیے تنگ کر رہے تھے یا وہ میرے بہنوئی کو دوسری شادی کی اجازت دے دے جس کی وجہ سے آپی تنگ ہوکر آج ہی یہاں پہنچی تھیں۔
    وجہ نمبر دو، گھر میں اس وقت ہم تینوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا، ابو امی اور بڑا بھانجا تینوں میری کزن کی شادی میں گئے ہوئے تھے مہندی کا فنکشن لیٹ نائٹ ہونا تھا جس کی وجہ سے ان تینوں کو وہیں رہنا پڑا تھا۔ جبکہ آپی کو شادی پر انوائیٹ نہیں کیا تھااسی لیے وہ یہیں پر تھیں۔
    وجہ نمبرتین: آپی تھکی ہوئی تھی اسی وجہ سے وہ کھانا کھا کر جلدی ہی سو گئی تھیں جس کی وجہ سے میں اور باجی فرزانہ (بیس سالہ مطلقہ)ایک دوسرے کی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہی کے بیڈروم میں ان کے بیڈپر ہمیشہ کی طرح چدائی کرنے میں مصروف ہوگئے تھے۔ یہ سلسلہ باجی فرازنہ کی شادی کے دوسرے سال سے ہی شروع ہوگیا تھا جب انہیں میری احتلام سے بھری شلوار کو دھونا پڑا تھا۔(فلحال کہانی کی طرف آتا ہوں) شاید تبھی آپی طاہرہ ہم دونوں کو دیکھ کر خود کو روک نہ پائی اور میرے کمرے میں بنے باتھ روم میں خاموشی بیٹھی رہیں اور جب میں سونے کے لیے آیا تو اب یہ سب کچھ ہونا شروع ہوگیا۔
    میں نے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پہ رکھ کر انہیں چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ہی میں اپنے دونوں ہاتھ نیچے لے جا کر ان کے چوتڑوں کو مسلنے لگا۔۔۔
    اس کے گول مٹول ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا ہے۔۔۔
    میں نے اس کی شلوار کو تھوڑا نیچے اتار کر اپنے ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں کو مسلنا جاری رکھا۔۔۔
    میں بس یہی چاہتا تھا کہ جیسے میری بہنیں میرا خیال رکھتی ہیں ویسا ہی میں ان کا خیال رکھ سکوں ۔ بے شک باجی ہمارے ناجائز رشتے سے پہلے بھی میرا بے حد دھیان رکھتی تھی لیکن نئے رشتے کی بدولت وہ بہن سے بڑھ کر بیویوں جیسا رویہ اپنائے ہوئے میرا بے حد خیال رکھتی تھیں ۔ آپی طاہرہ تو میرے بچپن سے اب تک ہر بات کا خیال رکھتی آ رہی تھی ہر چھوٹی چھوٹی ضرورت کو پورا کرتی تھی اور میری چھوٹی چھوٹی خوشی کو پورا کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی تھی۔
    میرے دماغ نے مجھے آپی کی کمی کا احساس دلایا تو میرا جسم خود بخود آپی طاہرہ کے ہر عمل کا ردعمل دینے لگا تھا۔
    آپی طاہرہ کا جسم عام عورتوں سے ہٹ کر تھوڑا سا موٹا تھا، مطلب بھدا نہیں تھا لیکن سلم بھی نہیں تھا۔ آپی کے جسم کا ہرایک انگ ہیلتھی تھا جس کی وجہ سے انہیں اس کے سسرال والے طعنے دے دے کر ان سے گھر کے سارے کام کروا لیتے تھے۔ ان کی دیورانیاں اور نند بس خاموشی سے ان کا تماشا دیکھا کرتے تھے۔ خیر۔۔۔
    ان کے پورے چہرے کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔
    اپنے دونوں ہاتھ میں نے آپی کے مموں پر جما دیے۔۔۔ میرے ہاتھ بڑی مہارت سے آپی کے بڑے بڑے مموں پرحرکت کر نا شروع ہوچکے تھے۔ جبکہ آپی اب آہستہ آہستہ اپنی موٹی گانڈ کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیاتھا جس کی وجہ سے ان کی چدائی شروع ہوچکی تھی۔
    باجی فرزانہ کے سیکھائے ہوئے گر آج مجھے آپی پر آزمانے تھے۔ میں ایک کے بعد ایک کاری گری آپی پر آزمانے لگا۔ ہاتھوں سے آپی کے گداز مموں کو محسوس کرلینے کے بعد میں نے باری باری دونوں مموں سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے ان کو چوسنے چاٹنے لگا تھا جب کہ نیچے سے میں اب کمر ہلا ہلا کر آپی طاہرہ کے جھٹکوں کا جواب دینے لگا تھا۔
    مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ آپی کی پھدی میرے لنڈ کو آہستہ آہستہ جھکڑ رہی ہے اور اس میں رستا ہوا پانی میرے لنڈ کی ٹوپی کو بھگوتا ہوا میرے ٹٹوں تک بہتا ہوا آ رہا ہے۔
    آپی کا آرگیزم باجی فرزانہ کی نسبت زیادہ تھا لیکن جلد ہی وہ مجھ سے لپٹی ہوئی مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا۔
    میں نئی پوزیشن میں انہیں چودنا شروع کر چکا تھا۔ میں آپی کی کھلی ہوئی ٹانگوں کے درمیان اپنا لنڈ ان کی ریشم جیسی بالوں سے صاف پھدی میں ڈالے ہوئے تیزی سے جھٹکے لگاتا ہوا انہیں پانچ منٹ تک لگاتار چودتا رہا۔۔۔میری رفتار کے ساتھ ساتھ ا ٓپی کی سسکیاں بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔میں نے ان کے مموںکو اپنے منہ میں بھر کر چوسنا شروع کردیا۔ میں اپنی پوری طاقت سے گھسے مارنے لگا۔۔۔
    آپی طاہرہ کی بڑھتی ہوئی سسکیاں بتا رہی تھیں کہ وہ دوبارہ منزل کے قریب ہے۔۔۔
    میں جانتا تھا کہ آپی کا مجھ سے ایسے اچانک چدنا اپنی اہم ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ہے لیکن میں چاہتا تھا کہ آپی خود اپنے منہ سے اپنی طلب کا اظہار کرے۔
    ہوا بھی یوں ہی، آپی کے فارغ ہونے کے دوران آپی کے منہ سے ٹوٹے ہوئے الفاظ ان کی شادی شدہ زندگی کو بچانے کے لیے اپنے ہی بھائی کی ضرورت پڑی تھی،۔۔
    کچھ دیر اور گھسے مارنے کے بعد میری طاقت بھی جواب دیتی گئی۔۔۔
    میں نے آخری گھسہ پوری جان سے مارا تو میرا لن جڑ تک اندر گیا اور لن کی ٹوپی بچہ دانی میں گھس گئی۔۔۔اور میرے لن نے اس کی بچہ دانی پر منی کی برسات کر دی۔۔۔اس کی بچہ دانی پر جیسے ہی میرے گرم گرم منی کا چھڑکاؤ ہوا۔۔۔وہ بھی کانپتے ہوئے شاید چھوٹ گئی۔۔۔فارغ ہونے کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹ کر سو گئے۔۔۔
    اگلی صبح حسب معمول میری ہی آنکھ پہلے کھلی ابھی تک آپی ننگی ہی مجھ سے جڑ کر سو رہی تھیں ۔ میری نظر ان کے سراپے میں کچھ دیر تک کھوئی رہی پھر جب میری نظر ان کی ریشم جیسی پھدی پر پڑی جس کے دونوں لب ایک دوسرے سے جدا تھی اور شاید رات کی چدائی کیوجہ سے سوج چکے تھے ان دونوں لبوں سے نکلے ہوئے میرے لنڈ کے کم رس ، کو جمے ہوئے چند گھنٹے ہوچکے تھے۔
    میں نے اپنے بیڈ کے سائیڈ ٹائیبل سے آئل نکال کر چند قطرے آپی طاہرہ کی پھدی پر ٹپکائے اور ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ پر بھی ہلکی سی مالش کرکے بغیر آواز کیے آپی طاہرہ کی کھلی ہوئی ٹانگوں کے درمیان میں آ کر اپنے کھڑے ہوچکے لنڈ کو آہستہ آہستہ آپی طاہرہ کی تیل کی مدد سے گیلی ہوچکی پھدی میں اتارنے لگا۔
    میں مسلسل آپی کے نپلز چوس رہا تھا۔۔۔اور آپی آہہہ۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔کرتے ہوئے مزے اور مستی میں سر کو ادھر ادھر ہلا رہی تھی۔۔۔
    کمرے میں تھاہ۔۔۔تھپ۔۔۔تھاہ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔میں اپنا لنڈ آپی طاہرہ کی پھدی میں ڈالے پوری رفتار سے اسے چود رہا تھا۔۔۔
    اور یہ آوازیں میرے اور اس کے جسم کے ٹکرانے سے پیدا ہورہی تھیں۔۔۔
    میں: میں بہت خوش قسمت بھائی ہوں جو اپنی دونوں بہنوں کی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب رہتا ہوں۔ ۔۔
    آپی طاہرہ: بس میری یہ آخری خواہش پوری کر دو تاکہ میں بھی اپنا سر اٹھا کر بول سکوں ۔۔۔ یہ لو اپنے بیٹے کا وارث۔۔۔ آئیندہ طلاق جیسے منحوس لفظ میرے سامنے نکالنے کی جرات کوئی بھی نہ کرے۔
    میں: اور۔۔۔ بانجھ کا طعنہ بھی۔۔۔
    آپی: ہاں ۔۔۔ بالکل۔۔۔
    میں چند مزید جاندار جھٹکوں کے بعد آپی طاہرہ کے ساتھ ہی ان کی پھدی میں ہی فارغ ہونے لگا۔ فارغ ہونے کے بعد میں ان سے لپٹے ہوئے ان کے گال کو چومتے ہوئے بولا
    میں: میں آپ کے رات کے فیصلے سے بے حد خوش ہوں۔۔۔ تھینکس
    آپی کے چہرے پر شرم کی لالی تیر گئی۔ کچھ عرصے میں جب جب ہم دونوں کو موقعہ ملتا ہم دونوں بھائی بہن اکیلے میں بس چدائی کرتے لیکن اس راز کا علم ہم دونوں نے باجی فرزانہ کو بھی نہیں ہونے دیا۔ ایک دن کسی وجہ سے مجھے آپی طاہرہ کو ان کے سسرال چھوڑنے اچانک جانا پڑا۔ واپسی پر آپی طاہرہ کی اکلوتی شادی شدہ نند میرے ساتھ ہی اپنے سسرال کے لیے چل پڑی۔
    آپی نے مجھے رہنے کے لیے کافی مرتبہ کہا لیکن ان کے سسرال میں رہنا باتیں بنوانے کے مترادف تھا اس لیے مجھے وہاں سے آنا پڑا۔

    کافی دیر بعد جب وہ تیار ہو کر آئی تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔اس نے ہلکے آسمانی رنگ کی پتلی سی قمیض پہنی ہوئی تھی۔جس کے نیچے نیلے رنگ کا برا صاف نظر آ رہا تھا کہ جس میں اس کے چھوٹے چھوٹے ممے قید تھے۔۔۔ (شاید اس کا شوہر بس ٹھوکا ٹھاکی پر توجہ دیتا تھا)۔۔۔ اور قمیض کے نیچے اس نے سرخ رنگ کی ٹائیٹس پہنی ہوئی تھی اور اس ڈریس میں تانیہ بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔
    گھر سے دور آکر میں نے ایک نظر تانیہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔ اس ڈریس میں تم بہت گریس فل لگ رہی ہو۔۔تو وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔آپ کو ایسا لباس پسند ہے ؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ آپ جو بھی لباس پہن لو وہی اچھا ہو جاتا ہے۔۔۔۔(میں نے تانیہ کے ساتھ فری ہونے کا اس لیے فیصلہ کیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ کسی طریقے سے وہ میری آپی کے ساتھ ڈھنگ سے بات کرلیا کرے۔)
    میں: میں نے کافی مرتبہ آپی کو دیکھا ہے کہ وہ پرفیوم چیک کرنے کے لیے اپنے ہاتھ پر پرفیوم سپرے کرکے چیک کرتی ہیں اور جس کی خوشبو مونی بھائی کو پسند آئے وہی لگا لیتی ہیں۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں معاملہ الٹا ہے۔(میں نے جان بوجھ کر دکھتی رگ پر پاوں رکھا تھا کچھ دن پہلے آپی نے اپنے گھر کے ہر فرد کے متعلق تفصیل سے مجھے بتایا تھا)
    تانیہ:میں نے اپنی زندگی میں جس شخص کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کی تھی۔۔۔ اس کا نام واجد ہے۔۔۔ لیکن اب میں نے زندگی بھر جس شخص سے نفرت کرتی رہوں گی اس کا نام واجد ہے۔
    میں: لیکن ایسا کیوں؟ انہوں نے ایسا کیا کر دیا؟
    تانیہ:جیسا کہ تمہیں معلوم ہے ناں۔۔۔ واجد کی اپنی گاڑی ہے اور وہ اوور ٹائم کے طور پر رووٹ پرمٹ بھی لے رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ صبح سکول اور کالج کے بچوں اور لڑکیوں کو ڈراپ کرنے جاتے ہیں وہیں ان میں سے کوئی لڑکی ان سے پہلے پہل گپ شپ کرتی تھی پھر یہ گپ شپ محبت میں تبدیل ہوئی اوراب وہ شاید دوسری شادی کرلیں۔
    (میں سمجھ چکا تھا کہ تانیہ آپی طاہرہ کے ساتھ بدتمیزی کیوں کرتی تھی جب بھی وہ آپی کو خوش خرم دیکھتی تھی ان کو اپنی برباد زندگی نظر آتی تھی جس کی وجہ سے آپی کو وہ تنگ کرکے واجد کا غصہ ان پر نکالتی تھی)
    میں نے چلتے چلتے تانیہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا: اگر واجد بھائی تمہیں دھوکہ دے کر کسی دوسری لڑکی سے محبت رچا سکتے ہیں تو تم بھی اپنا دکھ کسی اپنے کے ساتھ بانٹ لیا کرو۔
    تانیہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی: ڈر لگتا ہے کہ۔۔۔ کہیں یہ راز۔۔۔
    میں فوراً بولا: میں نے کون سا کہا ہے کہ تم ہر کسی سے دکھ بانٹو۔۔۔ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ (ہاتھ کو ہلکا سا دباتے ہوئے) کسی اپنے کے ساتھ دکھ درد بانٹ لیا کرو کسی خوبصورت پرسکون جگہ چند لمحے کندھے پر سر رکھ اپنا دکھ یا غصہ پیار کی صورت میں نکال دیاکرو۔
    تانیہ: لیکن ۔۔۔
    میں فوراً اس کی بات کاٹ کر بولا: جیسے وہ والی جگہ ۔۔۔ چلو آج میں ہوں نا۔۔۔ وہیں چلتے ہیں۔
    میں تانیہ کا ہاتھ تھامے راستے سے ہٹ کر درختوں کے جھنڈ کی طرف لے گیا۔ جہاں ہر سو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
    ہم دونوں ایک صاف جگہ دیکھ کر ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھ چکے تھے۔ میں نے ہی پہل کرتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے ہاتھ میں دئیے ہوئے اپنی گود میں رکھا ہوا تھا جبکہ دوسرا بازو اس کی مخملی نازک کمر کو تھام کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
    میں: جی جناب
    تانیہ شاید کچھ کہنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی لیکن اسے الفاظ مل نہیں رہے تھے۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد تانیہ نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ جیسے ہی بولنا شروع کیا۔ تب ہی دو کتے ایک دوسرے کے آگے پیچھے کبھی تیزی سے تو کبھی رک کر ایک دوسرے پر حملہ کررہے تھے ۔ لیکن جلد ہی یہ حملے ڈوگی سیکس میں تبدیل ہوگئے۔ تانیہ تو آنکھیں بند کرلیتی جب میں اچانک تانیہ کی طرف دیکھتا تو۔
    میرالنڈ کتوں کی چدائی سے زیادہ تانیہ کے جسم سے نکلنے والی شہوت کی گرمی اور کپڑوں سے محسوس ہونے والی خوشبو نے جگا دیا تھا۔ تانیہ بخوبی میرے لنڈ کی لمبائی کو دیکھ رہی تھی جو وقتاً فوقتاًبڑھتی جا رہی تھی۔
    میں: ایک وقت تھا تم بھی۔۔۔ میرے حسن اور لاابالی طبیعت کی وجہ سے میرے پیچھے پڑی تھی لیکن آج ہم دونوں کے پاس وقت ہے، جگہ بھی ہے لیکن ۔۔۔
    تانیہ میری بات سن کر اپنی پتلی انگلیوں کی مدد سے میرے کھڑے ہوچکے لنڈ کو شلوار کے اوپر سے ہی سہلانے لگی۔
    تانیہ نے اپنا سر میرے کندھے سے اٹھایا اور اپنے ہونٹ جن پر سرخ لپ سٹیک لگی ہوئی تھی ان کو میرے ہونٹوں کے ساتھ ملا دیا۔ اُف اس کے ہونٹوں میں ایک عجیب سی چاشنی تھی اور اس کے منہ سے ایک عجیب سی مہک آ رہی تھی۔۔۔اس کے کنوارے جسم کو پانے کی آرزو میں۔۔۔۔۔ میں پاگل ہوا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ ۔ سو میں اس کے ہونٹوں کی چاشنی پیتا گیا پیتا گیا ۔۔۔۔طویل کسنگ کے بعد ۔۔۔ میں اس کی مخملی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تم ا بھی بھی بمب ہو۔۔۔تو وہ اسی لہجے میں کہنے لگی ۔۔ میں کہاں سے بمب ہوں؟
    میں نے اپنے ایک ہاتھ سے اس کی پتلی قمیض کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اس کے مموں کو اس کی سرخ برا کے اوپر سے تھام کر بولا: یہاں سے، (پھر بولا) اس موٹی گانڈ سے، اوراپنی اداوں سے
    تانیہ:اورتمہارا لن اتنا شاندار ہے کہ اگر یہ ڈسچارج نہ ہو تو میں اسے ساری زندگی چوس سکتی ہوں ۔۔۔ لیکن اب نہیں چوسوں گی تو میں اس سے بولا وہ کیوں جی؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔ کیونکہ مجھے تمہارا لن ادھر (چوت میں ) چاہیئے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ اُٹھ کھڑی ہو ئی۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھ درخت کے تنے پر رکھ کر گانڈ کو باہر کی طرف نکال دیا۔۔اور میرے طرف منہ موڑ کر بولی۔۔ ۔۔۔۔ فک می
    میں تانیہ کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔اور لن اندر ڈالنے سے پہلے میں نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔وہاں سامنے دونوں کتے اب ناجانے کہاں غائب ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کی چوت کو اپنے لن کے ساتھ ایڈجسٹ کر تے ہوئے بولا۔۔۔۔۔تانیہ ڈارلنگ ۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ٹوپے کو تھوک سے تر کیا اور کچھ تھوک اس کی پہلے سے چکنی پھدی پر مل کر ایک جھٹکے سے لن کو اندر کر دیا۔۔ جیسے ہی لن اس کی تنگ چوت میں اترا ۔۔۔تو مزہ آ گیا کیونکہ تانیہ کی چوت اس انداز میں اندر سے بہت ہی تنگ اور چست ہوگئی تھی اس لیئے میرا لن پھنس پھنس کر آ جا رہا تھا۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا۔۔۔۔دوسری طرف لن اندر جاتے ہی تانیہ نے ایک طویل سسکی لی۔۔۔۔یس یس یس یس۔۔۔س۔س۔س۔س۔س۔۔۔ پھر کہنے لگی میرے ہپس۔۔۔ پکڑ کر سپیڈی گھسے مار ۔۔۔۔چنانچہ میں نے اسے ہپس سے پکڑا ۔۔۔ اور چوت کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔ اس کی چپ چپی پھدی تنگ ہونے کی وجہ سے لن بڑے ہی سویٹ ردھم سے آ جا رہا تھا ۔۔۔اتفاق سے میرے گھسے مارنے کی ساؤنڈ اس قدر دل کش تھی کہ وہ پھدی کو مزید ٹائیٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔
    اسی ردھم سے چوت مارر۔۔۔مجھے ان آؤٹ کی ساؤنڈ اور دھکے بڑا مزہ دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔اس لیئے۔۔۔۔۔۔اور۔۔ مار۔۔۔۔اور میں اسی انداز میں اس کی پھدی کو مارتا رہا۔۔۔۔
    پھر کچھ دیر بعد ۔۔۔ وہ شہوت کے عروج پر پہنچ گئی۔۔۔۔

    اب وہ خود بھی آگے پیچھے ہونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔وہ چوت میں لن لیئے۔۔۔۔ فل مزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔کہ ہپس کو آگے پیچھے کرتے ہوئے۔۔ اچانک ہی اس نے اپنا منہ میری طرف کیا اور کہنے لگی ۔۔ اندر ہی چھوٹنا۔۔۔
    میں حیرانگی سے: وہ کیوں؟
    تانیہ: شاید واجد اپنے ہونے والے بچے کی خاطر دوسری شادی نہ کرسکیں۔
    میں دھکے لگاتے ہوئے بولا: اگر کام نہ بنا تو
    تانیہ: بے فکر رہو جانی۔۔۔ ان کا شہر والا مکان میرے نام ہے ۔ مجھے کوئی اور حربہ استعمال کرنا پڑے گا۔ پلیز اندر ہی ڈسچارج ہونا
    میں: میں سمجھا تھا کہ تم کالج کے دنوں کی طرح پانی نگل جاو گی
    تانیہ: آج کسی دوسرے سوراخ کے ذریعے نگل لوں گی۔
    چند مزید جاندار جھٹکوں کے ساتھ ہی میں تانیہ کی چوت میں فارغ ہونے لگا۔

  2. The Following 15 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), ABID JUTT (04-01-2019), abkhan_70 (04-01-2019), Admin (04-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), ksbutt (19-01-2019), Lovelymale (04-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (06-01-2019), mmmali61 (05-01-2019), sajjad334 (04-01-2019), shymano (04-01-2019), StoryTeller (07-03-2019), suhail502 (04-01-2019), windstorm (04-01-2019)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2018
    Location
    Pakistan/Karachi
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    bohat achi story hy...good work,, umeed hy future mei b aisi hi mazzy ki stories parhny ko milain gin..well done.

  4. The Following User Says Thank You to shymano For This Useful Post:

    suhail502 (04-01-2019)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    80
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Wao zabardast story hai. Bas kuch jaga aisa laga jaisay aap jaldi main likh rahay hain

  6. The Following User Says Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    suhail502 (04-01-2019)

  7. #4
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,173
    Thanks Thanks Given 
    232
    Thanks Thanks Received 
    272
    Thanked in
    90 Posts
    Rep Power
    1542

    Default

    Wah ji Waj kia baat hai. bara dhansoo start lia hai mere dost. ab maza aye ga purany khilari bi medan main aa chuky hain

  8. The Following 4 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abkhan_70 (04-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Story Maker (06-01-2019), suhail502 (04-01-2019)

  9. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Post Episode No. 2

    دوسری قسط
    ابو نے بہترین پڑھائی کیلئے مجھے گورنمنٹ سکول سے اٹھوا کر پرائیویٹ ادارے میں داخل کروا دیا جہاں مخلوط تعلیم دی جا رہی تھی۔
    کچھ دن میں نے خود کو کسی نہ کسی طریقے سے سکول کے لڑکوں سے خود کو بچا رکھا لیکن جمعہ کے دن ہاف ٹائم پر سکول کی دوسری منزل پر مجھے سکول کی سب سے زیادہ بگڑی ہوئی لڑکیوں نے گھیر لیا۔
    ثانیہ:اوئے رک
    میں ثانیہ کی آواز سن کر رک گیا کیونکہ جس راستے سے مجھے نیچے جاناتھا ان تینوں نے اس راستے (راہ داری) کے درمیان بینچ ڈال کر اس پر بیٹھی ہوئی تھیں شاید وہ صرف میری ہی منتظر تھیں۔
    زیب: تیرانام عثمان ہی ہے ناں
    میں نے بس اپنا سر ہاں میں ہلا کر ان دونوں کو جواب دیا کچھ دیر خاموشی رہنے کے بعد تیسری لڑکی بینچ سے اٹھی اور چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور انتہائی بدتمیزی سے بولی: تُو پیدائشی گونگا ہے بے
    میں ہکلاتے ہوئے: نہ، نہ، نہیں۔۔۔
    میں تھوڑا سا ڈرا ہوا ، تھوڑا سا جھجک رہا تھا کیونکہ میں بچپن سے اب تک روزانہ صبح گھر سے سکول اور سکول سے گھر ہی جاتا رہا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ کسی بھی سچویشن کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اسی لیے آج یہ وقت دیکھنا پڑ رہا تھا۔
    تیسری لڑکی پھر بولی: اچھا۔۔۔ پھر تیری زبان میں کپکپاہٹ ہے جس کی وجہ سے تیری آواز نہیں نکلتی۔۔۔
    تیسری لڑکی کی بات سن کر باقی کی دونوں لڑکیاں ثانیہ اور زیب ہنسنے لگیں۔ زیب اور ثانیہ کو ہنستا دیکھ کر وہ بھی ہنسنے لگی۔
    میں بس ان تینوں کو مجھ پر ہنستا دیکھ کر خاموش ہی کھڑا رہا۔ ایک تو ڈر یہ تھا کہ اگر یہاں سے چکما دے کر نکلا تو کہیں بعد میں یہ تینوں پھر سے مجھے پکڑ کر اس سے بھی زیادہ ٹارچر نہ کریں۔ کیونکہ میں نے پہلے دن ہی سن لیا اور دیکھ لیا تھا کہ پہلے دن ہی جونیئرز لڑکوں اور لڑکیوں کی کس طرح ریگنگ لی جاتی تھی۔
    میں: پلیز ۔۔۔ مجھے جانے دو گھر پر سب انتظار کر رہے ہوں گے
    تیسری لڑکی نے اپنی غصیلی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: تجھے ہم تینوں گھر سے وہیلی نکمی بھاگی ہوئی نظر آتی ہیں کیا؟؟؟ ہمیں گھر نہیں جانا؟؟؟
    میں تھوڑی سی ہمت کرتے ہوئے بولا: چلیں ناں۔۔۔ پھر ایک ساتھ گھر کو چلتے ہیں۔
    زیب: ہے تو ہمیں بتائے گا کہ کس وقت گھر جانا ہے اور کس وقت کسی کو چھوڑنا ہے۔۔۔ پہلے ہی تو بڑی مشکل سے ہماری گرفت میں آیا ہے۔۔۔ چل جلدی سے پینٹ اتار
    میں نے عجیب نظروں سے پہلے زیب اور پھر تیسری لڑکی کو دیکھا۔ مجھے ٹکٹکی باندھے ہوئے پا کر ثانیہ بینچ سے اٹھی اورتیزی سے چلتی ہوئی تیسری لڑکی کے قریب سے گزر کر میرے بالکل سامنے کھڑے ہوکر فٹافٹ سکول پینٹ کی بیلٹ کھولنے لگی۔ جیسے ہی بیلٹ کھلی تب ہی تیسری لڑکی بولی: لاسٹ ٹائم تم دونوں نے مزہ لے لیا تھا نا؟؟؟ اب تم دونوں سیڑھیوں کے قریب رہ کر دیکھنا کہیں کوئی اوپر نہ آجائے ٹھیک ہے نا
    ثانیہ: لیکن ۔۔۔ تانیہ(تیسری لڑکی کا نام تانیہ تھا)
    زیب بولی: تانیہ ۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔۔ تم اکیلے۔۔۔
    تانیہ: میری بات سمجھ نہیں آ رہی تم دونوں کو؟؟؟ ثانیہ تم نے کل شاہ زیب اور آج صبح زیبی تم نے حیدر کے ساتھ مزہ کرلیا نا۔۔۔ ویسے بھی مجھے بہت کم لوگ پسند آتے ہیں۔۔
    (تانیہ کا یوں اپنی ساتھی سہیلیوں کا نام پکارنا ، مجھ سے متعارف کروانے کے مترادف تھا، اسی لیے میں نے پہلی ، دوسری، لڑکی لکھنے کی بجائے سیدھا ان کے نام لکھ دیئے)
    ثانیہ: چل ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اس بات کو یاد رکھنا کل۔۔۔ چل زیب ۔۔۔ نیچے چلیں
    میں ان دونوں کو نیچے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا تب ہی میرے ذہن میں بھاگنے کا خیال آیا ۔ کیونکہ تانیہ اب اکیلی تھی بے شک وہ دہم کلاس میں تھی اور میں نہم میں، اور سب سے بڑی بات یہی تھی کہ ثانیہ اور زیب دونوں کا دھیان کسی اور طرف تھا جبکہ اہم ترین پوائنٹ یہ تھا کہ تانیہ کی ساری توجہ اپنی سہیلیوں کی طرف تھی۔
    شاید تانیہ کی چھٹی حس نے احساس دلا دیا تھا کہ میں بھاگنے والا ہوں یا وقت کی کمی ہے جس کی وجہ سے جیسے ہی میں اس کے چنگل کے بھاگ نکلنے کے لیے اپنا پہلا قدم اٹھانے لگا تب ہی تانیہ ٹھیک میرے سامنے بالکل قریب ہو کر میری آنکھوں میں دیکھنےلگی۔
    تانیہ: روم میں چل۔۔۔ بھاگنے کی سوچنا بھی نا۔۔۔ گیٹ پر ابھی تماشہ جاری ہے اور سیڑھیوں پر ۔۔۔
    تانیہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
    میں: کس روم میں
    تانیہ نے میرا ہاتھ تھام کر پاس ہی کے کلاس روم میں لے کر داخل ہوگئی۔کلاس روم کا دروازہ بند کرکےکنڈی لگاتے ہوئے اس نے بلب آن کرکے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی: اگر خاموشی سے میری ہر بات پر عمل کرے گا تو پورا سال فائدے میں رہے گا۔ میری بات تیرے بھیجے میں گھس رہی ہے نا۔۔۔
    میں نے بس اثبات میں اپنا سر ہلایا اور تانیہ کے حکم کا انتظار کرنے لگا۔ تانیہ چلتی ہوئی میرے قریب سے گزرتے ہوئے میرے ہاتھ کو دوبارہ تھام کر اپنے ساتھ لیے ہوئے سب سے آخری قطار میں لے گئی ۔ ڈسک کے ساتھ اپنی گانڈ کو ٹکاتے ہوئے بولی:
    تانیہ: چل بتا ۔۔۔ کبھی چما چاٹی کی ہے کسی لڑکی کے ساتھ؟
    میں نے نفی میں اپنا سر ہلایا تو تانیہ پھر بولی: کسی کھسرے یا گھر میں کام والی کے ساتھ؟
    میں نے ندارد نفی کے انداز میں انکار کیا تو اپنے ماتھے پر خارش کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولی: کسی لڑکے کے ساتھ؟
    میں نے پھر انکار کیا تو تانیہ کے تیور اچانک تبدیل ہوگئے اور بولی: شرٹ کے بٹن کھول
    میں نے جیسا ری ایکشن باہر دیا تھا ویسے ہی دیا تو تانیہ غصے سے بولی: اگر میں نے شرٹ کے بٹن کھولے تو گھر جانے والے راستے میں ہر شخص یہی سمجھے گا کہ تو نامرد ہے اور گھر والے تجھے لڑاکو سمجھ کر تیرے کو، تیرے ہی گھر سے نکال دیں گے۔۔ چل شاباش
    میں تانیہ کے غصیلے انداز میں دی ہوئی ایک کے بعد ایک دھمکی کو سن کر ایک مرتبہ پھر ڈر گیا اور فورا ً ایک کے بعد ایک بٹن کھول کر تاکسی بعدار غلام کی طرح سر جھکائے تانیہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
    تانیہ : میرے قریب آ۔۔۔
    میں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنا اور تانیہ کے درمیان کا فاصلہ مزید کم کیا ۔ تب تانیہ اپنے ہاتھ کو آگے بڑھا کر میری چھاتی کو ننگا کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے جیسے ہی میری چھاتی کو ٹچ کیا میرے جسم میں ہلکی سی کپکپاہٹ پیدا ہوئی۔ جسے محسوس کرکے تانیہ بولی: شرما کیوں رہے ہو
    میں کچھ بھی نہ بولا لیکن میں نے اپنے ہاتھوں سے تانیہ کے ہاتھوں کو اپنی چھاتی سے دور کیا اور سکول کی شرٹ کو پکڑ کر آپس میں ملانے لگا جس پر تانیہ مسکراتے ہوئے بولی: اتنی شرم ۔۔۔ واہ۔۔۔ میں سمجھی تھی کہ آج کا ہر لڑکا بے شرم ہوتا ہے۔۔۔
    میں: پلیز۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بول دو میں لا کردینے کو تیار ہوں لیکن۔۔۔ بس مجھ سے ایسی بے ہودہ حرکتیں نہ کرو پلیز۔۔۔
    تانیہ: چل ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ میں کوئی بھی بے ہودہ حرکت نہیں کروں گی۔۔۔ لیکن تجھے کرنا پڑے گی تب ہی ان دونوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔
    میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا: ایسی بے ہودہ حرکتیں نہ تو میں کروں گا اور نہ ہی خود سے کرنے دوں گا۔۔۔ کوئی اور شرط بتاو پلیز۔۔۔
    تانیہ: چل ٹھیک ہے۔۔۔ میں گیٹ میں ہو رہے شغل میلے کو تیری طرف متوجہ کروا دیتی ہوں ، پھر تُو خود بھگت لینا ان سب کی شرائط کو۔۔۔ ٹھیک ہے نا؟؟؟
    میری آنکھوں کے سامنے پہلے دن والا ایک ہی واقعہ تیرنے لگا۔ دہم کلاس کے لڑکے ہر نئے آنے والے لڑکے کی ریگنگ کر رہے تھے ان میں سے ایک نے میری ہی کلاس کے لڑکے جس کا نام یہاں لکھنا فضول ہی ہوگا،کو پہلے پورے گراونڈ کا چکر لگوایا پھر جی نہیں بھرا تو لڑکیوں کی لپ اسٹک لگوا کر لڑکیوں کے درمیان بٹھوا کر لڑکیوں جیسی آواز میں باتیں کرنے کا کہا گیا جبکہ دوسرے لڑکے کو جس کو چشمہ (عینک) لگی ہوئی تھی اس بیچارے کو بغیر عینک کے کتاب پڑھنے کو دی گئی۔
    میں ایکدم سے بولا: ٹھیک ہے ۔۔۔ میں تمہاری ہر بات کو ماننے کو تیار ہوں لیکن بس آج۔۔۔ پورا سال نہیں
    تانیہ: وہ تو وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ کون کس کی بات مانتا ہے اور کون طلب گار بن کر مکھی کی طرح آس پاس منڈلاتا ہے۔ چل اب شرٹ اتار کر سائیڈ پر رکھ اور کان کھول کر سن۔۔۔ شرما نا مت
    میں شرٹ اتار کر سائیڈ کے ڈیسک پر رکھتے ہوئے بولا: مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ تمہارا جو جی چاہے کرلو۔۔۔
    اتنا کہہ کر میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور تانیہ کے ایکشن کا انتظار کرنے لگا۔ میں سوچ رہا تھا کہ تانیہ کا ایکشن پھر سے وہی ہوگا جو کچھ دیر پہلے تھا لیکن میری سوچ غلط نکلی۔ تانیہ کے منہ کے گرم لمس کو اپنی چھاتی کے نپل پر محسوس کرکے ناجانے کیوں میرے اندر سنسناہٹ پھیلنے لگی۔ نا جانے کیوں میرا جی چاہنے لگا کہ تانیہ بس ایسے ہی ایکشن پر ایکشن دکھاتی رہے اور شاید تانیہ میرے دل کا حال سن لیا اور اسی طرح بڑی مہارت سے میری چھاتی کے نپل کو چوسنے لگی۔ جیسے ہی تانیہ نے میرے تنے ہوئے نپل کو اپنے دانتوں میں لے کر معمولی سا کاٹا میرے منہ سے سسکاری نکلی جسے سن کر تانیہ نے فوراً میرے نپل کو اپنی رسیلی زبان سے چوس لیا۔
    میرے اندر کپکپاہٹ اور بے چینی بڑھنے لگی تھی۔ جسے محسوس کرکے تانیہ نے اپنے ہونٹ میری چھاتی سے ہٹائے اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولی: سچ بتاو۔۔۔ کبھی کچھ کیا ہے کسی کے ساتھ؟
    میں بے شک ناسمجھ نادان تھا لیکن تھوڑی تھوڑی معنی خیز باتوں کا علم مجھے بھی تھا ۔ میں نے تانیہ کے سوال کا جواب آنکھیں کھولتے ہی کہا: نہیں
    تانیہ فوراً اٹھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے چاٹنے لگی۔ میں بس اس کی چوما چاٹی کو ہونے دے رہا تھا تانیہ خود ہی مجھے اپنے حصار میں لے کر اپنے نازک جسم کے ساتھ لگاتے ہوئے مسلسل چومے جا رہی تھی۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے میرے سر کو تھام کر اپنی طرف دبانا شروع کر دیا تھا۔
    تانیہ کے ہونٹوں سے اس کی رسیلی زبان بار بار میرے بند ہونٹوں کو ٹچ ہورہی تھی میں بس لمس کو محسوس کرکے مزہ لے رہا تھا، ذہن نشین کر رہا تھا۔
    اسی مزے میں ڈوبےہوئے ناجانے کیسے میرے بند ہونٹ خود بخود کھلتے چلے گئے جس کیو جہ سے تانیہ کی رسیلی زبان میرے منہ میں داخل ہوکر اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئی۔ تانیہ کسی مشاق پورن سٹار کی مانند کسنگ کے ساتھ ساتھ زبان کو زبان کے ساتھ لڑانے کے لیے تیار کر رہی تھی۔ مجھے بھی مزہ آ رہا تھا میں نے بھی خود ہی اس کی زبان کو زبان کے ذریعے ٹچ کرنا شروع کر دیا۔
    تانیہ کا پہلا ہاتھ اب میری کمر سے ہٹ کر میرے لنڈ پر پہنچ چکا تھا اب کی بار پھر سے میرے جسم میں تھرتھراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی انجان ہستی نے میرے سب سے پرائیویٹ حصے کو یوں چھوا تھا۔
    اس سے پہلے بچپن میں پہلی امی پھر بہنوں نے نہلانے کی خاطر جسم کے ہر حصے کو چھو کر صاف کیا تھا۔ لیکن یہ بچپن کی بات تھی۔
    تانیہ کسی مشاق کھلاڑی کی طرح میرےلنڈ سے کھیل رہی تھی ، کچھ ہی دیر میں میرا لنڈ ننگا اس کے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسری طرف اس کی زبان کچھ لمحے کے وقفے کے بعد دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوچکی تھی۔ تانیہ نے میرے تن چکے لنڈ کو چھوڑ کر آخری مرتبہ اس کی لمبائی کو محسوس کرنے کے بعد کسنگ کو روک میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
    تانیہ: کیا تم میرے بوائے فرینڈ بنو گے؟؟؟
    میں نے تانیہ کی رسیلی زبان سے نکلنے والے تھوک کو (جو کہ اب میرے منہ میں جمع تھا) نگل کر بولا: ہاں۔۔۔ لیکن وہ تمہاری سہیلیاں
    تانیہ میرے جواب کو مکمل سنے بغیر ہی فورا ًاپنی شلوار کو (شاید اس میں الاسٹک تھا) اتار کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی: آج سے جو بھی کام کروانا ہو بس ۔۔۔ اپنی تانیہ ۔۔۔ کو یاد کرنا۔۔۔ ہر پریشانی سے بے فکر ہو جاو ۔۔۔
    میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن وہ الفاظ میرے اندر ہی دب کر رہ گئے کیونکہ تانیہ نے اپنی بات مکمل کرنے کے فوراً بعد میرے لنڈ کو پکڑ کر فوراً اپنی پھدی میں داخل کرلیا۔
    مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے لنڈ کی ٹوپی اور لنڈ کا کچھ حصہ کسی گرم چیز (دیہات میں آگ جلانے کے لیے پھونکنی کا استعمال کرتے ہیں اس مانند)میں گھس رہا ہے۔
    میں اس کیفیت سے ناواقف تھا اسی وجہ سے انجانے میں میرا منہ ہلکا سا کھل گیا ۔ تانیہ نے اپنے ہونٹ آگے بڑھا کر میرے کھلے ہوئے ہونٹوں کو چومنے چاٹنے لگی اور پہلے کی ہی طرح زبان چوسنے چاٹنے لگی۔
    میں بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ تانیہ کے ہلنے سے اور کھڑے کھڑے سیکس کرنے کا اناڑی پن انداز کیوجہ سے میرا لنڈ تانیہ کی پھدی سے باہر نکل آیا اور اس کی رانوں کے درمیان پھنس گیا۔ جیسے ہی لنڈ تانیہ کی پھدی سے نکلا اسی وقت تانیہ نے کس روک کر فوراً میرے لنڈ کو اپنی رانوں کے درمیان پھنسا لیا اس لیے میرا لنڈ پھدی سے نکلنے کے بعد رانوں کے درمیان پھنس گیا۔
    تانیہ: بینچ ۔۔۔پر۔۔۔
    میں نے اپنا لنڈ آزاد ہوتا دیکھ کر اپنے پیچھے پڑے بینچ پر کمر کے بل لیٹ گیا میرا لنڈ ہوا میں لہرا رہا تھا۔ تانیہ فوراً میری طرف بڑھی اور جھک کر میرے لہرا رہے لنڈ کو اپنے منہ میں بھر لیا۔ کچھ ہی لمحوں میں کلاس روم میں چھائی ہوئی خاموشی میری سسکاریوں نے توڑ دی۔تانیہ نے میرے لنڈ کو آزادچھوڑ دیا لیکن یہ آزادی کچھ سیکنڈز کی ہی تھی۔
    تانیہ: جگہ مناسب نہیں ہے جلدی سے اٹھ کر مجھے جگہ دو۔ اور جیسا کہتی ہوں ویسے کرو
    تانیہ میرے گیلے لنڈ کو تھامے ہوئے لیٹے ہوئے اپنی پھدی پر رکھ کر آہستہ آہستہ خود ہی اندر داخل کر رہی تھی کچھ اندر چلے جانے کے بعد تانیہ بولی: تھوڑا سا اور نیچے کو جھک کر ۔۔۔ ہلتے رہو
    میں تانیہ کی بات پرعمل کرتے ہوئے تھوڑا اور اس کے جسم پر جھکتے ہوئے ہلنے لگا لیکن میں اس شہوت بھرے کام میں ماہر نہیں تھا جلد ہی تانیہ مجھے ہدایات دیتی ہوئی خود کو چدوانے لگی۔ کچھ دیر میں ، میں تانیہ کے جسم سے لپٹا ہوا اپنا سارا لنڈ اس کی پھدی میں ڈالے ہوئے اپنے جسم کو اس کے جسم کے ساتھ رگڑے جا رہا تھا اور وہ میرے نیچے دبی ہوئی کمرے کا سکوت کو بار بار اپنی سسکاریوں سے توڑ رہی تھی۔
    پھر آہستہ آہستہ جیسے جیسے وقت بڑھتا گیا اس کے منہ سے سسکاریاں بلند ہوتی چلی گئیں۔ وہ کبھی میرے ہونٹوں کو تو کبھی میری گردن کو دائیں سے بائیں چومتی، تو کبھی میری گانڈ کو پکڑ کر اور تیزی سے ہلانے لگتی۔ مجھے اپنے لنڈ کی ٹوپی کسی نرم چیز میں دھنسی ہوئی محسوس ہو رہی تھی جس سے شاید ہلکا ہلکا پانی رستا ہوا میرے لنڈ کو بھگوتا ہوا باہر کو نکل رہا تھا۔
    کچھ ہی دیر میں تانیہ میرا ساتھ دینا چھوڑ کر بالکل خاموش مورت بنی ہوئی میری نیچے مسلسل چدے جا رہی تھی اور میں بس اسی انداز میں لگا رہا۔ شاید اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں ابھی تک بالغ نہیں ہوا ہوں۔ اسی لیے وہ میری گردن کو چومنے کے بعد بڑے پیار سے مجھے رکنے کا کہا۔
    میں بھی اسی کی بات مانتے ہوئے رک گیا۔ ابھی بھی میرا سارا لنڈ اس کی تازہ تازہ چدی ہوئی پھدی کے اندر موجود تھا۔ تانیہ نے کچھ دیر مجھے چومنے چاٹنے کے بعد کچھ عہد و پیماں کرنے کے بعد مجھے خود سے الگ ہونے کا کہا جسے میں مان کر اس کے جسم سے الگ ہوگیا بے شک اب میں اس کے حسین جسم اور شہوت سے بھرپور پھدی سے الگ ہونا نہیں چاہتا تھا لیکن مجبوری تھی۔

  10. The Following 13 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (15-01-2019), abkhan_70 (05-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), ksbutt (19-01-2019), love 1 (06-01-2019), Lovelymale (05-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), Mirza09518 (06-01-2019), mmmali61 (05-01-2019), StoryTeller (07-03-2019), suhail502 (14-01-2019), waqastariqpk (05-01-2019), windstorm (05-01-2019)

  11. #6
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by Admin View Post
    Wah ji Waj kia baat hai. bara dhansoo start lia hai mere dost. ab maza aye ga purany khilari bi medan main aa chuky hain
    thanks bro.

    aap b paid story ko agey barhaien... please...

    anyways acha laga aap ko regular online daikh kar

  12. The Following 3 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Admin (06-01-2019), Maryam Aziz (09-01-2019), suhail502 (14-01-2019)

  13. #7
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by sajjad334 View Post
    Wao zabardast story hai. Bas kuch jaga aisa laga jaisay aap jaldi main likh rahay hain
    pheli episode as a demo hoti hai ya markazi khiyal, agli qist parh kar andaza laga lain k kahani kitni agey ko jaye gi

  14. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019), suhail502 (14-01-2019)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by shymano View Post
    bohat achi story hy...good work,, umeed hy future mei b aisi hi mazzy ki stories parhny ko milain gin..well done.
    thanks for reply

    aese hi reply dete rahien aur stories parhtey raha karien shukriya

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019), suhail502 (14-01-2019)

  17. #9
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    بہت زبردست جناب

    پلیز اپڈیٹ کی سپیڈ تیز رکھیئے گا

  18. The Following 2 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    ABID JUTT (05-01-2019), abkhan_70 (05-01-2019)

  19. #10
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    936
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by mmmali61 View Post
    بہت زبردست جناب

    پلیز اپڈیٹ کی سپیڈ تیز رکھیئے گا
    bilkul aesa hi socha hai, lekin rozgar b zaroori hai. anyways thanks, stay with us and enjoy here

  20. The Following 3 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Maryam Aziz (09-01-2019), suhail502 (14-01-2019), windstorm (05-01-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •