جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
44. You may not vote on this poll
  • behtreen

    33 75.00%
  • normal

    11 25.00%
Multiple Choice Poll.
Page 7 of 8 FirstFirst ... 345678 LastLast
Results 61 to 70 of 74

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #61
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    176
    Thanks Thanks Given 
    255
    Thanks Thanks Received 
    318
    Thanked in
    146 Posts
    Rep Power
    172

    Default

    nice update . plZ update next

  2. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    MamonaKhan (05-02-2019)

  3. #62
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    922
    Thanked in
    534 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    تیرہویں قسط۔۔۔
    پتہ نہیں کیوں مجھے آدھی رات تک پنکی کے آنے کی امید میں جاگنا پڑا۔ اسی وجہ سے صبح میری آنکھ دیر سے کھلی۔ ناشتہ کرنے جب میں صحن میں بیٹھا تو پنکی بہانے بہانے سے میرے قریب سے جب بھی گزرتی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی ہوئی ہوتی۔میں ناشتہ کرکے وحید کی دکان کی طرف نکل گیا کیونکہ آج میں لیٹ جاگا تھا اسی وجہ سے سکول بھی نہ جاسکا۔
    مجھے وحید اور اس کے والد دکان پر ہی مل گئے۔ وحید نے مجھے دیکھ کر اپنے ابو کو دکان میں چھوڑ کر میرے ساتھ دکان سے باہر نکل آیا۔ پھر سے میچ کے متعلق بات چیت ہونے لگی۔
    کچھ دیر کے بعد وحید کے والد نے اس کو آواز دے کر کہا کہ شہر سے پیٹرول لے آو۔ وحید بائیک نکالتے ہوئے مجھ سے بولا: چلے گا ساتھ؟
    میں: اگر چلانا سیکھائے گا تب
    وحید : چل آجا ۔۔۔
    راستے میں وحید مجھے بائیک کو کنٹرول کرنا سمجھا رہا تھا: ویسے تُو ۔۔۔ امیر لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگ گیا ہے۔۔۔ خیر تو ہے؟
    میں چونکتے ہوئے: کیا مطلب؟
    وحید: اس دن سکول گیٹ پر تجھے اس لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا جو کچھ دن پہلے یہاں آیا تھا
    میں وحید کی بات سمجھ چکا تھا: وہ امیر ہے یا نہیں یہ مجھے معلوم نہیں، البتہ لڑکا اچھا ہے وہ
    وحید کے بار بار سمجھانے کے بعد وحید نے مجھے بائیک دے دی میں اس کے آگے بیٹھےہوئے آہستہ آہستہ ڈھلوان سطح پر بائیک کر کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایسے ہی مختلف ٹرائیاں کرتے کرتے میں بائیک کو کچھ نہ کچھ کنٹرول کرنا سیکھ چکا تھا۔
    ہم نے پیٹرول خرید کر واپسی کا راستہ مانپا اور میں کچھ ہی دیر میں اپنے گھر آگیا۔آپی گھر آئی ہوئی تھی جبکہ مجھے نہانے کی آواز سنائی دے رہی تھی شاید کوئی اندر نہا رہا تھا میں نے بھی اپنے کپڑے نکالے اور انتظار کرنے لگا۔واش روم کا دروازہ کھلا تو میری آنکھوں کے سامنے باجی نہا کر واش روم سے باہر نکل رہی تھیں
    جیسے ہی ان کی نظر مجھ سے ملی ناجانے کیوں ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی مجھے اس دن کا (پینٹی والا) سین یاد آگیا جس کیوجہ سے میرے لن نے ہلکی سی انگڑائی لی۔ شاید باجی نے میرے لن کی جنبش کو محسوس کرلیا تھا اسی لیے اب ان کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ ہلکی سی لالی چھا گئی۔ وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیر میرے قریب سے گزر کر باہر کو نکل گئیں پھر اچانک وہ واپس آئیں اور واش روم میں گھس گئیں۔
    کچھ ہی سیکنڈز میں وہ پھر سے واش روم سے باہر نکلیں اور تیز قدموں سے باہر نکل گئیں۔ میں اپنی نادانی کی وجہ سے شاید باجی کو محتاط کروا دیا تھا۔
    میں بے دلی سے واش رو م میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ کھونٹی بالکل خالی تھی میں نے اپنے صاف کپڑے وہاں لگا کر جیسے ہی مڑا میری نظر واش روم میں لگے ہوئے پائپ پر پڑی۔ ایک لمحے کو میں بے حد خوش ہوگیا لیکن دوسرے لمحے مجھے اس بات سے حیرت محسوس ہونے لگی کہ باجی نے جان بوجھ کر اپنی پینٹی میرے لیے چھوڑی ہے۔
    میں نے اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہوگیا مجھے باہر سے آواز سنائی دی کہ آپی باجی کو کہہ رہی تھیں کہ وہ جا رہی ہیں ۔ میں شاور کے نیچے کھڑا ہوچکا تھا میں ذہنی طور پر باجی کی اس قدم کے متعلق سوچ رہا تھا میں کسی بھی فیصلے پر پہنچ نہیں رہا تھا۔ جیسے ہی میرے ذہن میں اس دن باجی کی پینٹی کو اپنے لن پر بندھا ہوا محسوس کرکے وہ عجیب سا مزہ دوبارہ سے محسوس ہوا میں فورا شاور کے نیچے سے نکل کر باجی کی گیلی پینٹی کو اٹھا کر فوراً اپنے لن پر باندھ کر آہستہ آہستہ اپنے نیم جاندار لن پر حرکت دینے لگا۔
    مجھے ناجانے کیوں آج پہلے دن کی نسبت آج زیادہ مزہ محسو س ہورہا تھا مجھے باجی کی پینٹی بار بار تیزی سے سلپ ہوتی اور انتہائی نرم محسوس ہورہی تھی میں نے ایک لمحے کو سوچا کہ اپنے لن سے باجی کی پینٹی کو اتار دیکھوں لیکن میں ایسا نہ کرسکا کیوں کہ باہر سے باجی بار بار مجھے جلدی نہانے کی تقلید کررہی تھیں۔
    میرا ہاتھ پسٹن کی مانند تیزی سے اپنے لن پر چلتا ہوا نظر آ رہا تھا آہستہ آہستہ میری آنکھیں بند ہونا شروع ہوچکی تھی خیالوں میں ، میں لگاتا ر چاچی کو چود رہا تھا چودتے چودتے میں میرے لن سے تیز دھار منی چاچی کی پھدی میں نکلنے لگی جیسے ہی میں نے (خیال میں) چاچی کے چہرے کی طرف دیکھا وہاں چاچی نہیں، باجی تھیں۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    شام کو سب واپس جا رہے تھے لیکن پنکی نے جانے سے انکار کر دیا۔ آپی نے مجھے سائیڈ پر لاکر سرگوشی میں مجھ سے کہا: دکان سے گوشت اور بوتل اور کھانے کیلئے نمکو وغیرہ گھر لے آنا پنکی نے ہمارے ہی گھر رہنا ہے
    چاچی نے چائے پی کرجانے کا کہا تو باجی مان گئیں جبکہ امی اور آپی گھر چلی گئیں شاید انہیں گھر کی صفائی وغیرہ کرنی تھی۔ کچھ دیر پنکی ایمان کے پاس بیٹھی رہی پھر پنکی اٹھ کر چاچی کے کمرے میں ہی چلی گئی۔ جیسے ہی ایمان نے سب کو اپنے اپنے کاموں میں مصروف دیکھا وہ مجھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی ۔
    میں خاموش ہی بیٹھا رہا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایمان مجھ سے کوئی امید رکھے۔ وہ کچھ دیر کے بعد اٹھی اور اندر کا چکر لگا کر واپس میری طرف آئی اور میرے قریب سے گزرتے ہوئے بولی: اندر آکر بات سن جاو
    میں پھر بھی اس کی بات کو ان سنا کرتے ہوئے وہیں بیٹھا رہا۔ چاچی کچھ دیر کے بعد کچن سے باہر نکل کر مجھ سے بولیں: بیٹا اندر دیکھنا ایمان، کو،،، کپ لینے گئی تھی ساتھ ہوکر نکال کر دو
    میں: جی اچھا
    ایمان دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی جیسے ہی میں اندر داخل ہوا وہ فوراً مجھ سے لپٹ کر مجھ سے بولی: پلیز جان۔۔۔ معاف کردو نا
    میں اس کو اپنے جسم سے الگ کرتے ہوئے الماری کی طرف جانے لگا ایمان پھر سے میری طرف بڑھی اور میری کمر سے لپٹ کر بولی: میں آج ہی مما سے بات کروں گی۔۔۔ اوکے
    میں: ابو میرا رشتہ (ایم این اے ) انکل مقصود کے گھر سے کرنے والے ہیں ۔۔۔ مجھ کوئی امید نہ رکھنا
    پتہ نہیں ایمان میں اتنی طاقت کیسے آگئی یا یہ جھوٹ کہتے ہوئے مجھ میں اتنی سکت باقی نہ رہی کہ ایمان کے کھینچنے سے میں اسی کی طرف مڑتا چلا گیا ۔ ایمان: میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو
    میں پہلے اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے اپنا جھوٹ دہراتے ہوئے بولا لیکن ایمان نے پھر سے اصرار کرنا شروع کردیا۔ اب آہستہ آہستہ وہ اپنے جسم کو میرے جسم سے رگڑ رہی تھی میں اس بات سے پہلے ناواقف تھا لیکن جلد ہی اس کے بار بار اپنا جسم رگڑنے کی حرکت مجھ پر واضح ہوگئی۔
    میں اس کے جسم سے الگ ہوتے اس کی آںکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے جھوٹ کو پھر سے دہرایا تو وہ غیر یقینی سے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے آگے بڑھ کر الماری سے کچھ کپ نکالے اور باہر نکل آیا۔ چاچی کچن میں اکیلی کھڑی چائے بنا رہی تھی میں نے کپ چولہے کے قریب رکھنا شروع کردئیے۔ ہم دونوں میں فاصلہ انتہائی کم تھا چاچی نے میرے لن کو پکڑ کر چھوڑ دیا۔
    میں: چاچی یہ کیا حرکت تھی؟
    چاچی: اتنے دنوں سے آئے کیوں نہیں؟
    میں: وقت نہیں مل رہا
    چاچی مجھے پکڑ کر دروازے کے قریب لے جا کر دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے باہر نظر رکھتے ہوئے میرے لن کو شلوار کے اوپر سے بار بار مسل رہی تھیں میں ان کو ناجانے کیوں روک بھی نہ سکا۔ شاید ان کو باجی کا سپورٹ حاصل تھا اسی لیے وہ اتنا بڑا رسک لے رہی تھیں۔
    کچھ ہی دیر میں وہ نیچے بیٹھ کر میرے لن کو ننگا کر کے اپنے منہ میں بھر چکی تھی میں خاموش سے باہر کی طرف دیکھ رہا تھا وہ تیزی سے میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوس رہی تھیں۔ چند لمحوں میں ہی ان کے تیز چوپوں کی مدد سے میرے لن سے منی ان کے حلق سے نیچے اتر چکی تھی۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،
    میں سامان لینے وحید کی دکان پر آیا ہوا تھا وہیں شاہ زیب بھی موجود تھا۔ لسٹ بتا کر میں باہر آگیا کیوں کہ دکان میں گاوں کی لڑکی (وحیدہ) اور ا سکی والدہ کھڑی تھیں۔
    شاہ زیب: کیا بات ہے کہان ہوتے ہو؟
    میں: سکول اور سکول کے بعد گھر، آج گھر ہی تھا
    شاہ زیب: اس دن تم تو گاوں کی ٹیم کے جان بن گئے ہو۔۔۔ کمال کردیا اس دن
    میں: سجاد کدھر ہے؟
    شاہ زیب: باقی لڑکوں کے ساتھ بیٹ لینے گیا ہے
    وحیدہ اور اس کی امی ہم دونوں کے قریب سے گزری ہم دونوں چپ کرگئے۔ کچھ دیر کے بعد شاہ زیب بولا: عمران اس کی لیتا ہے
    میں: کیا مطلب؟
    شاہ زیب: عمران کا چکر ہے وحیدہ کے ساتھ
    میں: ایویں ہی کسی پر الزام نہیں لگاتے یار
    شاہ زیب: یہ ہے ہی دو نمبر
    میں: پھر وہی بات
    شاہ زیب: یہ لے اس کا نمبر، آج میسج کرنا کہ میں ایزی لوڈ کرواتا ہوں دیکھنا میسج کا رپلائی لازمی دے گی
    میں : مجھے نہیں چاہیے
    شاہ زیب: تیری مرضی
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    واپسی پر میرے دماغ میں وحیدہ کے متعلق ہی سوچیں امڈی ہوئی تھی وحیدہ کا گھر ہمارے گھر کے قریب ہی تھا میں نے اس کے گھر کے قریب پہنچا تو میری نظر غیرارادی طور پر ان کے چھت کی طرف گئی جہاں وحیدہ کھڑی مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔اس نے مجھے دیکھ کر سمائل کی میں نے اپنی نظر نیچی کرلی اور گھر کے اندر داخل ہوگیا۔
    میں نے سامان آپی کو دے کر خود چھت پر آگیا۔ ابھی بھی وحیدہ چھت پر ہی کھڑی دوسری طرف دیکھ رہی تھی میں نے اپنے صحن میں دیکھا کہ آپی گوشت کو صاف کر رہی تھیں اور پنکی امی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی باجی مجھے کہیں بھی نظر نہیں آئیں۔ میں نے دوبارہ وحیدہ کے گھر کی طرف دیکھا ۔ وحیدہ اب مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔
    وحیدہ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر میرے ذہن میں شاہ زیب کی باتیں پھر سے گردش کرنے لگیں۔ ناجانے کیوں میرے چہرے پر مسکراہٹ امڈ آئی۔ مجھے کچھ ہی سیکنڈ ز کے بعد امی کی آواز سنائی دی: نیچے آکر یہ سالن ناصر کےگھر دے آو
    میں خاموشی سے نیچے اتر کر سالن کے برتن اٹھا کر ناصر کےگھر کی طرف چل پڑا۔ میں یہاں تھوڑا سا ناصر کی فیملی کا تعارف کروا دوں۔ ناصر گورنمنٹ سکول کا چپڑاسی ہےلیکن فالج کی وجہ سے وہ چارپائی کا ہوکر رہ گیا ناصرہ اس کی بیوی ایک پرائیوٹ ادارے میں سلائی کا کام سیکھ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ سلائی کا کام کرتی تھی ۔ ناصر کے فالج زدہ ہونے کی وجہ سے گاوں والے بھی اس کی امداد کیا کرتے تھے۔ ناصرہ نے ایف اے کیا ہوا ہے۔ ناصر کی ساری ذمہ داری اس کے کاندھے پر آجانے کی وجہ سے وہ عورت کی جگہ مرد کی زندگی گزارنے لگی۔
    ناصر اور ناصرہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ شادی کے بعد چوتھے سال مردہ بچی پیدا ہوئی تھی اس کے بعد ان کے گھر کوئی بھی بچہ بچی نہیں ہوئی۔ ناصر کے والد پرانے خستہ گھر کے اچانک گر جانے سے فوت ہوگئے تھے اس لیے ناصر کا کوئی اپنا نہیں تھا۔
    مجھے دیکھ کر ناصرہ باجی خوش ہوتے ہوئے بولیں: میں سوچ رہی تھی اپنے بچے نہیں ہیں چلو گاوں کے بچوں کو دیکھنے کیلئے ٹیوشن رکھتی ہوں لیکن عثمان پھر بھی نہیں آتا۔
    ناصرہ باجی تقریباً باجی یا چاچی کی عمر کی تھیں ۔ میں ان کی بات سن کر تھوڑا سا شرمندہ ہوا : نہیں باجی ۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ روزانہ سکول جاو پھر گھر آو وقت ہی نہیں ملتا
    ناصرہ باجی برتن صاف کرتے ہوئے بولیں: چاچی کے گھر جانے کا وقت مل جاتا ہے کرکٹ کھیلنے کا وقت مل جاتا ہے یہاں آنے کیلئے وقت نہیں ہے
    میں: میں امی کو کہہ کر اپنی ٹیوشن آپ کےپاس رکھوالیتا ہوں اب خوش؟
    ناصرہ باجی برتن میں کھیرڈال کر لے آئیں: یہ باجی کو دینا ۔۔۔ ان کو پسند ہے
    باجی ناصرہ نے برتن دھونے سے پہلے اپنادوپٹا اتار رکھا تھا جب وہ مجھے کھیر دینے کے لیے میرے پاس آکر بیٹھیں تو مجھے ان کے مموں کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی۔ باجی اس بات سے انجان میرے قریب آ کر بیٹھ گئیں ۔ گھر والوں کے متعلق خیر خیریت معلوم کرنے کے بعد ناصر کے جاگ جانے کی وجہ سے وہ میرے قریب سے اٹھ گئیں میں بھی ان سے اجازت لے کر گھر آ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھانا کھاتے ہوئے امی نے انکشاف کیا کہ پنکی کا رشتہ طے ہوچکا ہے جلد منگنی ہونے والی ہے۔ شاید یہ انکشاف صرف میرے لیے تھا کیوںکہ صرف میں اپنے رشتے داروں کے گھر نہیں جاتا تھا۔
    رشتے کی بات جب مجھے امی بتا رہی تھیں تب پنکی کی نظریں میری نظروں سے ملیں۔ میں نے اپنی نظریں نیچی کرلی اور کھانا کھانے لگا ۔ تانیہ کے بعد مجھے کسی بھی لڑکی میں وہ کشش محسوس نہیں ہو رہی تھی جو تانیہ کیلئے میں محسوس کرتا تھا۔
    کافی دیر تک ہم سب کی محفل جمی رہی ۔ میں اسوقت ان سب کے قریب سے اٹھا جب مجھے صاعقہ کے میسج آنا شروع ہوئے۔کچھ ہی دیر کے بعد باجی دودھ کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئیں اور بولیں: یہ گلاس میرے سامنے ختم کرو
    میں: باجی میں کردوں گا
    باجی: ٹھیک ہے
    میسجز کرتے کرتے مجھے بالکل بھی دودھ کے متعلق یاد نہ رہا میں صاعقہ کے ساتھ عام گپ شپ کرتے کرتے سو گیا۔ رات کے کسی پہر مجھے ایسا لگا کہ کوئی میرے کمرے میں آیا ہے ۔ کیونکہ باجی نے جاتے وقت دروازہ نیم وا کردیا تھا۔ دروازے کی ہلکی سی چڑچڑاہٹ کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی مجھے سوئے ہوئے بھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی اسی وجہ سے میری آنکھ دوبارہ کھل گئی تھی۔
    ا س وقت میرے کمرے میں صرف پنکی ہی آسکتی تھی کیونکہ میں نے اس کی آنکھوں میں کچھ دیکھا تھا۔ پنکی چلتی ہوئی میرے بیڈ پر آئی اور میرے ساتھ میرے جسم کے ساتھ جڑ کر لیٹتے ہوئے میری طرف دیکھنے لگی۔
    مجھے اس کے ہونٹوں سے نکلنے والی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی گرم سانسیں اب میرے چہرے کی طرف بڑھ رہی تھیں میں خاموشی سے لیٹا ہوا پنکی کی پیش رفت کو محسوس کررہا تھا۔ پنکی کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر آکر رک گئے تھے۔ میں اس کی گرما گرم سانسوں کو محسوس کرتے ہوئے ہلکا ہلکا بہکنے لگا تھا۔
    شاید اسے بھی میری سانسوں کی اتھل پتھل کو محسوس کرکے احساس ہوگیا تھا کہ میں جاگ رہا ہوں۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا: منگنی مبارک ہو
    پنکی کے لب ہلے: مجھے اپنا بنا لو عثمان
    میں: میں مجبور ہوں
    پنکی باقاعدہ مجھ سے لپٹتے ہوئے بولی: میں نے تمہیں سحری کی برتھ ڈے کے موقعے پر دیکھتے ہی پسند کرلیا تھا پاپا سے بات کرلی ضد کی وہ مان بھی گئے لیکن جب یہاں آئی تو میں نے ایمان سے سحری کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے سنا کہ تم دونوں کے بیچ کچھ چل رہا ہے میں رک گئی لیکن میں کنفرم کرنا چاہتی تھی جب تم دونوں سٹور روم میں کپ لینے گئے میں دروازے سے تم دونوں کی باتیں سننے لگی۔ میں پہلے خوش ہوئی لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی تم نے بتایا کہ ۔۔۔
    میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ کر لمبا سا کس کیا : ہاں یہی سچ ہے
    پنکی : میں نے مما کو کال کرکے کہہ دیا کہ وہ آنٹی کو میرے رشتے کی رضامندی دے دیں۔
    میں: تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا
    پنکی مجھے سیدھا کرتے ہوئے میرے اوپر آکر مجھ سے لپٹ گئی: مجھے اپنا بنا لو پلیز
    مجھے احساس ہوا کہ وہ نائٹ سوٹ میں ہے۔ میں خود ٹراوزر میں تھا۔ میں: یہ غلط ہے پنکی
    پنکی کے میرے گالوں کو چومتے ہوئے بولی: ایمان بھی بہت غلط کررہی ہے تمہارے ساتھ
    میں: اسی لیے میں اپنے خاندان والوں سے دور رہتا ہوں
    پنکی نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ کر کس کرنا شروع کر دیا۔میں بھی خاموشی سے اس کے کسنگ کا رسپانس دینے لگا ۔ پنکی تانیہ کی ہی طرح کسنگ کر رہی تھی پنکی کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو وہ میرے منہ میں اپنی زبان کے ذریعے منتقل کر رہی تھی۔
    میں نے اپنے ہاتھوں کو حرکت میں لاتے ہوئے پنکی کی کمر کو سہلاتے ہوئے اس کو اچانک بیڈ پر لیٹا دیا اور خود لمبے سانس لیتے ہوئے اپنے سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کرنےلگا۔
    میں: اپنے کمرے میں جاو
    پنکی: خود سے الگ کرکےمجھے کیوں تڑپا نے کا ارادہ ہے؟
    میں: تم جان بوجھ کر یہ غلطی کیوں کرنا چاہتی ہو؟
    پنکی میرے بازو کو پکڑ اپنے اوپر کھینچتے ہوئے بولی: میں نے نیٹ پر پڑھا تھا کہ عورت کا سکھ مرد کے نیچے ہوتا ہے میری زندگی میں صرف ایک لڑکی آئی تھی اس نے مجھے اپنا جیسا لیزبین بنا دیا لیکن اب میں چاہتی ہوں کہ میں آخری مرتبہ اپنی محبت کو پا لوں۔
    کچھ ہی دیرمیں ہم دونوں مادر زاد ننگے ایک دوسرےسے گتھم گتھا تھے۔ میں اور وہ فرنچ کس کررہے تھے اور میرے ہاتھ اس کے جسم کو ناپ رہے تھے ۔اس کے ممے دبانے شروع کردیئے جیسے یہ میں اس کے ممے دباتا اس کے منہ سے آہ آہ آہ آہ آہ او او او او کی آوازیں نکلنا شروع ہو جاتیں۔اس کے سفید ممے جن پر گلابی رنگ کی ٹیکی بنی ہوئی تھی میرے سامنے تھی میںنے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلا اور دوسرے کو منہ میں لے کر چوسناشروع کردیا اب اس کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اپنی آواز کو روکنے کیلئے اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی اور میرے سر کو پکڑ کر اپنے ممے پر دبا رہی تھی کچھ دیر میں باری باری اس کے ممے چوستا رہا اسی دوران اس نے مجھے زور سے لگے لگایا اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اچانک ایک جھٹکا کھا کر وہ ڈھیلی ہو گئی
    میں نے اب نیچے کا سفر طے کرنا تھا میں نیچے کی طرف آیا اور اس کے سلم پیٹ کو چومنے لگا پنکی کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں۔
    پنکی نے مجھے اپنی پھدی کی طرف دیکھتا ہوا پایا تو میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی: کبھی اسے (پھدی) پیار کیا ہے؟
    میں : نہیں
    پنکی فوراً تھوڑا سا اٹھ کر اپنے پاس پڑے نائٹ سوٹ کو اپنی پھدی پر لا کر اسے صاف کرنے لگی: اس دانے کو چاٹو
    میں بالکل خاموش پنکی کے دانے کو دیکھ رہا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ پنکی میری طرف دیکھ رہی ہے یا نہیں لیکن میں کچھ لمحوں میں ہی آہستہ آہستہ پنکی کی پھدی پر بنے اس کے دانے پر جھک چکا تھا۔
    مجھے پہلے یہ عمل عجیب سا لگا لیکن میں نئے تجربے کی خاطر پنکی کی پھدی کے دانے کو چاٹتا چلا گیا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد پنکی نے مجھے روک کر خود میرے سامنے جھک کر میرے لہراتے ہوئے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑ لیا۔
    پنکی: واو۔۔۔ ویسے وہ بہت خوش قسمت لڑکی ہو گی جس کے نصیب میں تمہارا یہ لن ہوگا
    وہ دوبارہ سے اوپر کو اٹھی اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگی مجھے ابھی بھی پنکی کی پھدی کی بو اپنے ناک میں محسوس ہورہی تھی لیکن اب پنکی کی کسنگ ، مجھے کچھ سمجھ نہیں اا رہا تھا لیکن میں مجبوراً اس کی خاطر کسنگ کرنے لگا۔
    وہ میرے لن کو مسلسل اپنےہاتھ میں لیے مٹھ لگا رہی تھی کسنگ کو روک کر وہ میرے لن کی طرف بڑھی۔


  4. The Following 7 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (Yesterday), abkhan_70 (08-02-2019), Admin (09-02-2019), Lovelymale (08-02-2019), MamonaKhan (09-02-2019), Mirza09518 (08-02-2019), waqastariqpk (07-02-2019)

  5. #63
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    922
    Thanked in
    534 Posts
    Rep Power
    76

    Default


    میں نے اس کو پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کو لٹا کرٹانگیں کھولیں اس نے اپنی کمر کے نیچے ایک تکیہ سیٹ کرلیا۔ اب اس کی چوت میرے سامنے تھی ۔ میں نے اپنا لن اس کی چوت پر پھیرنا شروع کردیا۔ جیسے ہی میرا لن اس کے سوراخ پر جاتا تو وہ سسکاری بھرتی اور اوپر کو دھکا لگاتی اور جیسے ہی اس کے دانے کو ٹچ کرتا تو آہ او آہ آہ کی آوازیں نکالتی اس کی آوازیں مجھے اورزیادہ مزہ دے رہی تھی۔
    میں نے پھدی کے سوارخ پر لن کو فٹ کیا اور آہستہ سے جھٹکا دیا لیکن میرا لن اندر نہ جا سکا۔
    پنکی کی پھدی میں میرے لن کی ٹوپی موجود تھی بے شک پنکی کی پھدی گیلی تھی لیکن میرا لن گیلا نہیں تھا۔ پنکی بولی: اپنے پینس پر تھوک گراو
    میں نے ویسا ہی کیا میں اب آہستہ آہستہ پنکی کی پھدی میں اپنا لن داخل کرنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا مجھے احساس ہورہا تھا کہ پنکی کی پھدی اندر سے اور بھی ٹائیٹ ہے۔ لیکن میں اپنا لن اس کی پھدی میں دباتا چلا گیا۔ ایک لمحے کو مجھے احساس ہوا کہ اب میرا لن مزید آگے جانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تب میں پنکی کے ننگے جسم پر جھک پربولا: درد کو برداشت کرلینا
    پنکی نے اپنا سر اٹھا کر میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا میں بھی فوراً اس کے کس کا رسپانس دینا شروع کردیا میں اب آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے دھکے دیتے ہوئے اپنے لن کا راستہ بنا رہا تھا ۔
    اب میں نے ایک زور دار جھٹکے سے سارا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اب اس کی چیخ میرے منہ میں رہ گئی کیونکہ میں اس کو کس کررہا تھا وہ نیچے سے تڑپ کررہ گئی ۔
    میں نے ہلنا شروع کردیا۔ اس کے منہ سے مزے اور تکلیف سے آہ اوئی او آہ آہ آہ آہ آہ ................
    ہمارے جسموں کے ٹکرانے سے ہلکی ہلکی آوازیں نکل رہی تھیں اور میں بھی کافی مزے میں تھا کہ اس نے کہا کہ زور سے کرو میںنے اپنے جھٹکوں میں تیزی لے آیا اور پانچ یا سات منٹ بعد اس نے نیچے سے زیادہ زور لگا کر رسپانس شروع کردیا اور اس کی آوازوں میں بھی تیزی آگئی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ او او او او اوئی آہ آہ آہ ................ تم نے مجھے زندگی کا وہ سکون دلا دیا جس کے لیے میں تڑپ رہی تھی۔ مزہ آ گیا آہ آہ آہ ............ جیسے ہی میں جھٹکالگاتا اس کے مموں کی حرکت تیز ہوجاتی۔ اس کے ہل رہے مموں کو میں کبھی اپنے ہاتھوں میں بھر کر دباتا تو کبھی اپنے منہ میں لے کر چوسنے چاٹنے لگتا۔
    اس نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کے گرد جال بنا لیا اور مجھے جھکڑ کر رکھ دیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی پھدی میرے لن کو بھینچ رہی ہے اور
    اس کا جسم ایک دم سے اکڑ کر ڈھیلا ہو گیا اوروہ بھی ایک لمبی اوئی کے بعد آرام سے لیٹ گئی میں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہو گئی ہوں مجھے بھی محسوس ہوا کہ میرالن کافی چکنا ہو گیا ہے اس کے فارغ ہونے سے پھدی منی سے بھر چکی تھی اور عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھی۔
    میں نے اس کو اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا اور خود بیڈ پر کمر کے بل سیدھا لیٹ گیا۔ وہ فوراً میرے لن کے اوپر آکر آرام سے بیٹھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ میرے لن کو اپنی پھدی میں لیے ہلکا ہلکا اچھل رہی تھی ۔ اس کی اچھل کود میں اس کے مموں کی مستی کو دیکھ کر میں نے اسے اپنے اوپر گرا کر اس کے سیبوں کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنے لگا وہ بھی مزے کی شدت میں گم اپنی گانڈ کو میرے لن پر ہلانے لگی۔

    چند منٹ کے بعد میں نے اس کو کہا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں تو اس نے ہلنا بند کردیا اور مجھے کس کرنے لگی
    کسنگ کو روک کر وہ بولی: میں پروٹیکشن یوز کرلوں گی۔۔۔ پوزیشن چینج کرتے ہیں
    میں خاموشی سے اس کی بات مان کر اسے اپنی جگہ لیٹا کر خود اس کے اوپر آگیا۔میں مسلسل دھکوں سے پنکی کو چود رہا تھا جبکہ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی میرے جسم کو چوم رہی تھی اس کی پھدی کی سختی کو دوبارہ محسوس کرکے میں نے اپنا لن آدھے سے زیادہ اس کی پھدی سے باہر نکلا لیکن صرف لن کی ٹوپی کو اندر رکھ کر اپنے لن سے نکلنے والی پچکاریاں پنکی کی پھدی میں چھوڑنے لگا۔
    ہم دونوں کے منہ سے سسکاریاں نکل کر کمرے کو رومانوی بنا رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

  6. The Following 14 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (Yesterday), abkhan_70 (08-02-2019), Admin (09-02-2019), irfan1397 (09-02-2019), ksbutt (11-02-2019), lovehum123 (09-02-2019), Lovelymale (08-02-2019), MamonaKhan (09-02-2019), Manilove123 (15-02-2019), Mirza09518 (08-02-2019), mmmali61 (09-02-2019), musarat (11-02-2019), shanimalik (09-02-2019), waqastariqpk (08-02-2019)

  7. #64
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Buhaat hi Lajwab.... Umdaaa or jo Mukhtalif Waquf k sath Rabt Qaim kia ha.. wo Umdaa. buhaat hi Umdaaa

  8. The Following User Says Thank You to hum_talaash For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-02-2019)

  9. #65
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Dear! mae boht purana qari hu urdu funda ka aur mae normally login kiye bger stories prh leta hu. Aam tor p stories boht achi hoti hen khas tor p shah g ki. Lekin plz muje koi btae k ue story start kidr c hui. Gai kahan kese gai? Esa lagta ha outline di ho bs story ki. Aaj 1 arsa bd sirf is comment k lye apna bhoola hua login yad kia h. 4 tries k bd lga ha ja k. Umeed ha jawab mily ga.

  10. The Following User Says Thank You to naeem.9992 For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-02-2019)

  11. #66
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    121
    Thanks Thanks Given 
    390
    Thanks Thanks Received 
    78
    Thanked in
    41 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Waaah, zabardast update thi. Garma garam.

  12. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-02-2019)

  13. #67
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Quote Originally Posted by Story Maker View Post

    میں نے اس کو پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کو لٹا کرٹانگیں کھولیں اس نے اپنی کمر کے نیچے ایک تکیہ سیٹ کرلیا۔ اب اس کی چوت میرے سامنے تھی ۔ میں نے اپنا لن اس کی چوت پر پھیرنا شروع کردیا۔ جیسے ہی میرا لن اس کے سوراخ پر جاتا تو وہ سسکاری بھرتی اور اوپر کو دھکا لگاتی اور جیسے ہی اس کے دانے کو ٹچ کرتا تو آہ او آہ آہ کی آوازیں نکالتی اس کی آوازیں مجھے اورزیادہ مزہ دے رہی تھی۔
    میں نے پھدی کے سوارخ پر لن کو فٹ کیا اور آہستہ سے جھٹکا دیا لیکن میرا لن اندر نہ جا سکا۔
    پنکی کی پھدی میں میرے لن کی ٹوپی موجود تھی بے شک پنکی کی پھدی گیلی تھی لیکن میرا لن گیلا نہیں تھا۔ پنکی بولی: اپنے پینس پر تھوک گراو
    میں نے ویسا ہی کیا میں اب آہستہ آہستہ پنکی کی پھدی میں اپنا لن داخل کرنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا مجھے احساس ہورہا تھا کہ پنکی کی پھدی اندر سے اور بھی ٹائیٹ ہے۔ لیکن میں اپنا لن اس کی پھدی میں دباتا چلا گیا۔ ایک لمحے کو مجھے احساس ہوا کہ اب میرا لن مزید آگے جانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تب میں پنکی کے ننگے جسم پر جھک پربولا: درد کو برداشت کرلینا
    پنکی نے اپنا سر اٹھا کر میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا میں بھی فوراً اس کے کس کا رسپانس دینا شروع کردیا میں اب آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے دھکے دیتے ہوئے اپنے لن کا راستہ بنا رہا تھا ۔
    اب میں نے ایک زور دار جھٹکے سے سارا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اب اس کی چیخ میرے منہ میں رہ گئی کیونکہ میں اس کو کس کررہا تھا وہ نیچے سے تڑپ کررہ گئی ۔
    میں نے ہلنا شروع کردیا۔ اس کے منہ سے مزے اور تکلیف سے آہ اوئی او آہ آہ آہ آہ آہ ................
    ہمارے جسموں کے ٹکرانے سے ہلکی ہلکی آوازیں نکل رہی تھیں اور میں بھی کافی مزے میں تھا کہ اس نے کہا کہ زور سے کرو میںنے اپنے جھٹکوں میں تیزی لے آیا اور پانچ یا سات منٹ بعد اس نے نیچے سے زیادہ زور لگا کر رسپانس شروع کردیا اور اس کی آوازوں میں بھی تیزی آگئی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ او او او او اوئی آہ آہ آہ ................ تم نے مجھے زندگی کا وہ سکون دلا دیا جس کے لیے میں تڑپ رہی تھی۔ مزہ آ گیا آہ آہ آہ ............ جیسے ہی میں جھٹکالگاتا اس کے مموں کی حرکت تیز ہوجاتی۔ اس کے ہل رہے مموں کو میں کبھی اپنے ہاتھوں میں بھر کر دباتا تو کبھی اپنے منہ میں لے کر چوسنے چاٹنے لگتا۔
    اس نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کے گرد جال بنا لیا اور مجھے جھکڑ کر رکھ دیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی پھدی میرے لن کو بھینچ رہی ہے اور
    اس کا جسم ایک دم سے اکڑ کر ڈھیلا ہو گیا اوروہ بھی ایک لمبی اوئی کے بعد آرام سے لیٹ گئی میں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہو گئی ہوں مجھے بھی محسوس ہوا کہ میرالن کافی چکنا ہو گیا ہے اس کے فارغ ہونے سے پھدی منی سے بھر چکی تھی اور عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھی۔
    میں نے اس کو اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا اور خود بیڈ پر کمر کے بل سیدھا لیٹ گیا۔ وہ فوراً میرے لن کے اوپر آکر آرام سے بیٹھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ میرے لن کو اپنی پھدی میں لیے ہلکا ہلکا اچھل رہی تھی ۔ اس کی اچھل کود میں اس کے مموں کی مستی کو دیکھ کر میں نے اسے اپنے اوپر گرا کر اس کے سیبوں کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنے لگا وہ بھی مزے کی شدت میں گم اپنی گانڈ کو میرے لن پر ہلانے لگی۔

    چند منٹ کے بعد میں نے اس کو کہا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں تو اس نے ہلنا بند کردیا اور مجھے کس کرنے لگی
    کسنگ کو روک کر وہ بولی: میں پروٹیکشن یوز کرلوں گی۔۔۔ پوزیشن چینج کرتے ہیں
    میں خاموشی سے اس کی بات مان کر اسے اپنی جگہ لیٹا کر خود اس کے اوپر آگیا۔میں مسلسل دھکوں سے پنکی کو چود رہا تھا جبکہ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی میرے جسم کو چوم رہی تھی اس کی پھدی کی سختی کو دوبارہ محسوس کرکے میں نے اپنا لن آدھے سے زیادہ اس کی پھدی سے باہر نکلا لیکن صرف لن کی ٹوپی کو اندر رکھ کر اپنے لن سے نکلنے والی پچکاریاں پنکی کی پھدی میں چھوڑنے لگا۔
    ہم دونوں کے منہ سے سسکاریاں نکل کر کمرے کو رومانوی بنا رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
    Nice update bro keep it up

  14. The Following User Says Thank You to Manilove123 For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-02-2019)

  15. #68
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    28
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    163
    Thanked in
    28 Posts
    Rep Power
    158

    Default

    ارے کیا بات ہے۔۔۔چھا گئے ہو دوست۔۔۔
    بس اب جلدی سے گرما گرم اپڈیٹ دیتے جاؤ۔۔۔۔

  16. The Following User Says Thank You to Javaidbond For This Useful Post:

    MamonaKhan (09-02-2019)

  17. #69
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    86
    Thanks Thanks Given 
    176
    Thanks Thanks Received 
    188
    Thanked in
    73 Posts
    Rep Power
    20

    Default

    واہ جی واہ

    عجب پریم کی غضب کہانی

  18. The Following 2 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-02-2019), MamonaKhan (09-02-2019)

  19. #70
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    109
    Thanks Thanks Given 
    911
    Thanks Thanks Received 
    201
    Thanked in
    92 Posts
    Rep Power
    12

    Default

    @Story Maker G

    بہت ہی زیادہ عمدہ اور بہترین اپڈیٹ دی ہے جناب

    مزید اپڈیٹ کا انتظار رہے گا
    سیکسی لیڈی

  20. The Following User Says Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-02-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •