جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
53. You may not vote on this poll
  • behtreen

    41 77.36%
  • normal

    12 22.64%
Multiple Choice Poll.
Page 6 of 13 FirstFirst ... 2345678910 ... LastLast
Results 51 to 60 of 128

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #51
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    869
    Thanks Thanks Given 
    150
    Thanks Thanks Received 
    1,130
    Thanked in
    616 Posts
    Rep Power
    96

    Default

    دسویں قسط
    ایمان کو احساس ہونے پر اس نے اپنی پلکوں کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے اٹھا کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں ایک خاموش سوال تھا۔
    میں: میں تم سے شادی نہیں کر سکوں ایمان
    ایمان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی: پلیز جان۔۔۔
    میں ایک مرتبہ پھر اس کے اوپر جھک کر اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا (پیشانی سے پیشانی ) ملاتے ہوئے بولا: میں اور تمہاری مما۔۔۔ یو نو۔۔۔
    ایمان میرے تنے ہوئے لن کو سہلاتے ہوئے: میں سب کچھ جانتی ہوں جان۔۔۔
    میں: پھر بھی تم۔۔۔
    ایمان: پلیز۔۔۔ جان۔۔۔ مجھے مکمل کردو۔۔۔
    میں: نہیں ایما۔۔۔۔ن
    ایمان اب ہلکا ہلکا روتے ہوئے: آخر کیوں؟
    میں: میں لاکھ کوشش کرلوں ۔۔۔ مجھے وہ شام بھلائے بھولتی نہیں۔۔۔ جب تمہاری مما نے۔۔۔ سب رشتے داروں کے سامنے۔۔۔ تمہارے اظہار محبت۔۔۔ کیوجہ سے ۔۔۔ میرے ابو کے بے عزتی کی تھی۔۔۔
    مجھے احساس ہوا کہ میرا لہجہ ضرورت سے زیادہ ترش ہوچکا ہے اس لیے فوراً رک گیا ایمان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی: کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے؟
    میں اب اس کے جسم سے الگ ہوکر بولا: شاید کی ہو لیکن۔۔۔ چاچی کی باتیں مجھے تم سے محبت کرنے سے باز رکھتی ہیں۔۔۔ بے شک میں اس وقت بھی تم سے محبت نہیں کرتا تھا لیکن شاید دل میں کہیں دادی امی کے وعدے (میرا اور ایمان کا رشتہ بچپن میں ہی طے ہوگیا تھا دادا اور دادی اماں نے طے کیا تھا جسے اس وقت ابو، امی اور ایمان کے گھر والوں نے بخوشی مانا تھا) کے مطابق نرم گوشہ ضرور تھا ۔۔۔
    ایمان کپڑے پہن لینے کے بعد بولی: مما کی باتوں کے لیے میں معذرت کرتی ہوں جان۔۔۔ پلیز سب کچھ بھول جاو۔۔۔
    میں اس کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا: تم بھی تو انہی کی لاڈلی بیٹی ہو نا۔۔۔ پھر اس دن اپنی مما کو چپ کیوں نہیں کروایا تھا؟؟؟اگر چچا کو اپنے بھائی کی عزت پیار ی نہیں تھی اور ایک منہ بولی بہن (چاچی) کو اپنے بڑے بھائی اور سب سے بڑھ کر (رشتے میں) اپنی بڑی بہن کی عزت اور مان کا احترام نہیں تھا تو کیا بعد میں یہ رشتہ یا شادی ہوسکتی ہے؟ نہیں ایمان۔۔۔ میں لاکھ کوشش کرکے تمہارے لائق بن بھی جاوں تب بھی تمہاری مما مجھے اپنا بیٹا نہیں مانیں گی۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    آپی اگلے دن مجھ سے بولیں: آج تم خالہ ناظمہ کے گھر چلے جانا، عبیرہ اکیلی ہوگی ، ہم سب ملنی (منگنی جیسی رسم) کیلئے جا رہے ہیں۔ عبیرہ کیلئے یہ کھانا بھی لے جانا۔
    میں کچھ دیر کے بعد اپنے ہی گھر والوں کے ہمراہ گھر سے نکلا اور خالہ کے گھر پہنچ گیا وہیں سے سب عبیرہ کے سسرال کی طرف نکل گئے۔ عبیرہ اور میں نے ملکر کھانا کھایا میں پہلے ہی سکول سے آکر کھانا کھا چکا تھا۔
    عبیرہ خالہ ناظمہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو میں بھی اسی کے پیچھے پیچھے اندر داخل ہوگیا۔عبیرہ جھکے ہوئے بیڈ کی سائیڈ میں بنی ہوئی دراز میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی ، میں کل ایمان کی وجہ سے گرم ہوچکا تھا عبیرہ کے جھکے ہوئے ہونے کیوجہ سے اس کی نرم لیکن باہر کو نکلی ہوئی گانڈ کو دیکھ کر اس کے قریب پہنچ گیا۔ ہم دونوں کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ عبیرہ کو شاید اب احساس ہوچکا تھا کہ اس کے پیچھے میں کھڑا ہوں۔
    وہ اسی انداز میں جھکی ہوئی میرے اگلے قدم کا انتظار کر رہی تھی اور میں کشمکش میں مبتلا اگلا قدم اٹھاوں یا نہیں؟
    میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے عبیرہ کی رانوں کو تھام لیا، ہم دونوں کے جسم کو ایک ساتھ جھٹکا لگا۔ عبیرہ ہلکا سا پیچھے کو ہوئی جس سے اس کی گانڈ میرے اکڑے ہوئے لن پر دبتی چلی گئی۔ عبیرہ کی گانڈ کا دباو میرے لن پر محسوس ہونے سے میرے اندر کشمکش کی کیفیت کو تقریباً ختم کر گئی تھی۔
    میں نے ایک ہاتھ سے عبیرہ کو تھامے ہوئے دوسرے ہاتھ کو وقتی طور پر آزاد کرتے ہوئے عبیرہ کی قمیض کے اندر داخل کرتے ہوئے عبیرہ کے مموں کو اپنے ہاتھ میں بھر لیا۔مجھے عبیرہ کے پستان روئی سے بھی زیادہ نرم محسوس ہو رہے تھے شاید وہ نہانے کے ارادے سے ابھی بغیر برا کے گھر کے کام کر رہی تھی۔
    عبیرہ کے منہ سے ہلکی سی سسکاری نکلی جسے سن کر میں اپنے لن کو اب ااہستہ آہستہ اس کی گانڈ کی دراڑ میں آگے پیچھے کرنے لگا۔ شاید عبیرہ کو میرے ہاتھ اور لن کی جنبش سے مزہ مل رہا تھا اسی لیے وہ اپنی گانڈ کو اب ہلکا ہلکا ہلانے لگی ۔ کچھ دیر تک ہم دونوں اسی پوزیشن میں ایک دوسرے کو مزہ دیتے رہے پھر عبیرہ کو میں نے کمر کے بل لیٹا کر خود اس کے اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ عبیرہ میری کسنگ کا رسپانس فوراً دینے لگی۔ عبیرہ کسنگ کے دوران میرے سر کے بالوں کو سہلا رہی تھی۔میں نے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر رکھی تو اس نے اپنے ہونٹ کھول دئیے میں اس کے منہ میں اپنی زبان کو داخل کردیا۔
    میری زبان اس کی زبان سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی وہ خاموشی سے میری زبان کی کارستانی کو سمجھ رہی تھی پھر آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی حرکت میں آ گئی۔ میرے منہ میں جمع ہوچکے تھوک کو اب عبیرہ کے منہ میں جانےکیلئے راستہ مل چکا تھا اسی وجہ سے میری زبان اب عبیرہ کی زبان کو گیلا کرنے لگی تھی۔
    کسنگ کو کچھ دیر کے بعد روک کر میں نے اپنے ہونٹوں کو عبیرہ کی گردن پر رکھ کر اسے چومنے چاٹنے لگا۔ عبیرہ کی سسکاریاں اور آہیں خالہ کے کمرے کو جاندار بنا رہی تھیں۔ عبیرہ ایک ہاتھ سے میرے سر کو سہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بیڈ کی شیٹ کو مسل رہی تھی۔
    میں آہستہ آہستہ گردن کو چومتا ہوا اب اس کی چھاتی کی طرف نیچے آنے لگا۔ عبیرہ نے کھلے گلے کی گول قمیض پہن رکھی تھی۔ جس وقت کا میں یہاں آیا تھا مجھے عبیرہ کو دیکھ کر بار بار باجی کے مموں کی جھلک یاد آنے لگی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں اس قدر بہک چکا تھا۔
    میں نے ایک ہاتھ سے عبیرہ کی کھلی قمیض سے اندر قید ممے کو پکڑ کر جیسے ہی قمیض سے باہر نکالا شاید عبیرہ میرے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرتے ہی کانپ گئی۔
    میں نے جھکے ہوئے ہی اس کے آدھ ننگے ممے کو اپنے منہ میں بھرلیا۔جیسے ہی میرے منہ میں اس کے ممے کا نپل آیا اس کے جسم میں ہلکا سا کرنٹ لگا۔
    میں بار بار اس کے دونوں مموں سے انصاف کر رہا تھا وہ بار بار میرے سر کو سہلاتے ہوئے مزے میں ڈوبے ہوئے آہیں بھر رہی تھی۔
    میں نے اس کے داہنے ممے کو منہ لگا دیا جیسے ہی میں نے اس کے چھوٹے سے نپل کو اپنی زبان سے چاٹا اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے سر کے پکڑ کر اپنے ممے پر دبایا. بس یہ اجازت ملنے کی دیر تھی میں وحشیوں کی طرح اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا. چوس چوس کراس کے ممے کو نشان زدہ کردیا
    عبیرہ لذت سے سسکاریاں لے رہی تھی اور میرے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر شلوار سے ہی اس کی پھدی پر رکھا تو وہ فل گیلی ہو رہی تھی میں نے پیار سے شلوار کے اوپر سے ہی اس کو تھوڑا سا سہلایا تو وہ مچلنے لگی میں نے اس کو بیڈ پر لٹایا اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کی شلوار کھینچ کر اتار دی اس نے ٹانگیں جوڑ لیں تا کے اپنی پھدی کو چھپا سکے.

    میں نے اپنے کپڑے اتارے اور اس کی ٹانگوں کے آ کر بیٹھا اور اس کی قمیض پکڑ کر اوپر کرنے لگا اس کے کمر اٹھا کر مجھے قمیض نکلنے دی۔میرا لن پھن پھنا رہا تھا۔
    میرے لن کی حالت دیکھ کر عبیرہ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ میں نے عبیرہ کی شرم کو محسوس کرتے ہوئے دوبارہ سے عبیرہ کے نازک جسم کے اوپر آتے ہوئے اس کی تھوڑی کو چوم کر ایک ہاتھ اس کا روئی کے مانند ممے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نرمی سے دبانے لگا۔ میرے ہاتھ کی چھیڑ چھاڑ سے کچھ ہی دیر میں عبیرہ کے منہ سے پھر سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔
    میں اس کی سسکاریاں سن کر مزے میں اس کی گردن کو چومتا ہوا اس کے مموں کی طرف آیا اور براہ راست اس کے دوسرے ممے کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنے چاٹنے لگا۔
    میرا لن ننگی پھدی پر بار بار اوپر نیچے ہوکر رگڑ کھا رہا تھا عبیرہ کی پھدی سے نکلنے والے پانی سے میرا لن ہلکا ہلکا گیلا ہورہا تھا۔
    میں اس کے مموں سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے خود بھی عبیرہ کی طرح مزہ لے رہا تھا۔ شاید میرے لن کی رگڑ یا لن کی گرماہٹ کو محسوس کرتے ہوئے اس کی پھدی نے مزید تیزی سے رسنا شروع کردیا تھا۔
    میں ایک لمحے کو رک کر اپنے لن کے ٹٹوں کو گیلا ہونے کی وجہ جان لینے کے بعد میں نے ایک ہاتھ سے اس کا ایک مما دوبارہ پکڑ لیا اور اس کو پیار سے گولائی میں دبانے لگا۔
    جذبات کی شدت تھی میں بھی عبیرہ کی طرح اب اور صبر نہیں کر سکتا تھا. میں نے لن کا ٹوپا اس کے بند پھدی کے اوپر رکھا اور اس کو رگڑنے لگا. ٹوپے سے اس کے دانے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اس کی کنواری پھدی اپنا رس بہا رہی تھی جس سے میرا ٹوپا گیلا ہو چکا تھا میرا پری کم اور عبیرہ کی پھدی کا مکس ہو کر تار بنا رہا تھا. آہستہ سے میں نے اپنا ٹوپا اس کی پھدی کے لبوں پر رکھا اورعبیرہ کی طرف دیکھا۔
    شاید عبیرہ بھی میری آنکھوں میں موجود سوال کو جان کر بول پڑی: میں جانتی ہوں کہ میں تمہاری دلہن بن نہیں سکتی ۔۔۔ لیکن میری روح بچپن سے تمہارے نام ہوچکی تھی۔۔۔ میرے ادھورے پن کو دور کر دو۔۔ مجھے اپنا بنا لو ۔۔۔ پلیز۔۔۔
    عبیرہ کی حسرت اور اس حد تک پہنچ جانے پر اب رکنا کون چاہتا تھا اب تو عبیرہ کی اجازت نے میرے دل کے سوالوں کو ختم کردیا تھا۔
    میں نے ایک ہاتھ سے ٹوپا پکڑا پھر اس کی پھدی کے لبوں پر رکھا تھوڑا سا جھک کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور نیچے سے ہلکا سا زورڈالا تو ٹوپا اندر گیا تو وہ مچلی میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا.

    میرا لن اس کی جھلی کو پھاڑتا ہوا اندر بچا دانی میں جا کر پھنس گیا. عبیرہ نے ایک زوردار چیخ ماری جو میرے منہ میں ہی گونج کر رہ گی. عبیرہ میرے نیچے مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہی تھی میں لن پورا اندر کر کے وہیں رک گیا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی برقی شکنجے میں پھنسا ہوا ہو. پھدی کی نرمی گرمی اور گیلاپن کے باوجود میرا لن عبیرہ کی پھدی میں ایسے جکڑا ہوا تھا جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں لے کر دبایا ہو. کچھ دیر تڑپنے اور آنسو بہانے کے بعد عبیرہ ساکت ہوئی تو میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے آتشی گلابی مموں کو سہلانے اور دبانے لگ پڑا پھر اس نے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہو چکی تھیں میں نے لن کو آہستگی سے باہر کو نکالا اور پھر اندر کیا تو عبیرہ کے منہ سے پھر ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی میں نے دیکھا تو میرا لن سرخ رنگ کا ہو رہا تھا اور نیچے چادر پر خون کا بڑا داغ بنا ہوا تھا(عبیرہ نے سچ میں خود کو میرے لیے سنبھال رکھا تھا اور آج اس نے خود کو مجھے سونپ دیا تھا)
    جب کے عبیرہ کے پھدی سے خون بہ کر اس کی گا نڈ سے ہوتے ھوے نیچے جا رہا تھا جس وجہ سے اس کی گا نڈ بھی لال ہو رہی تھی چھوٹا سا گا نڈ کا سوراخ کبھی کھل رہا تھا کبھی بند ہو رہا تھا اس کو دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا میں اس کے دندوں پر پیار سے انگلی پھیری عبیرہ نے گا نڈ کا سوراخ بھینچ لیا.

    میں نے پھدی میں لن اندر باہر کرنے کی سپیڈ تھوڑی تیز کی اور اس کی دونوں ٹانگوں کو اس کی کمر سے پکڑ کر ہوا میں کر لیا اور تیزی سے لن اندر باہر کرنے لگا. عبیرہ درد اور مزے کی شدت سے چلا رہی تھی. میرا لن پورا اندر باہر ہو رہا تھا میں اس کو کمر سے پکڑ پکڑ کر اپنے لن پہ مار رہا تھا. جھٹکوں کی وجہ سے عبیرہ کے ممے سخت ہونے کے باوجود آگے پیچھے ہو کر میری وحشت کو بڑھا رہے تھے. عبیرہ اب خود اپنی پھدی کو اگے ہو ہو کر میرے لن پر چڑھا رہی تھی. چند منٹ بعد ہی عبیرہ کو جھٹکے لگنے شروع ہو گے اور اس نے کمر پھر کمان کی طرح کر کے جھڑنا شروع کر دیا اور میرا لن اس کے فل اندر تھا جیسے ہی وہ چھوٹنا شروع ہوئی اس نے پھدی بھینچ لی جس سے میرا لن جو پہلے ہی اس کی پھدی کی سختی سے درد کر رہا تھا ایسے ہو گیا جیسے ٹوٹنے والا ہوایسی گرمی اور تپش کی تاب نہ لا کر میرا لن بھی اس کی بچہ دانی میں پچکاریاں مارنے لگ گیا. میرا اتنا پانی نکل رہا تھا جتنا کبھی پہلے نہیں نکلا تھا.
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    باجی کا مسلسل اپنا جسم مجھے دیکھانا مجھے پزل کررہا تھا۔ لیکن میں خونی رشتوں کی انجانی ڈور سے بندھا ہوا تھا ۔ میں اپنی حد کو پھلانگنا چاہ تو رہا تھا لیکن چاہتے ہوئے بھی اپنی ہی بڑی بہن کو اپنی ہوس کا شکار نہیں بنا پا رہا تھا۔ سکول میں آج تیسرا دن (عبیرہ کے ملن کے بعد) تھا، صاعقہ مجھ سے بولی: کیا تم میرے ساتھ سیکند فلور پر چل سکتے ہو؟
    میں: کیوں نہیں۔۔۔ چلو
    صاعقہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی: تمہیں بس ، ایک مرتبہ جھوٹ بولنا پڑے گا۔۔۔
    میں: کیا مطلب؟
    صاعقہ:یو۔۔۔ نو۔۔۔ میری کزن یہاں پڑھتی ہے۔۔۔ اس نے چیلنج کیا ہے کہ سکول میں ابھی ۔۔۔ کوئی بھی کہہ دے کہ میں اس کی گرل فرینڈ رہی ہوں۔۔۔ تو۔۔۔ وہ۔۔
    اوپر سے کسی نے آواز دی: صاعقہ ۔۔۔ جلدی آو۔۔۔
    ہم دونوں تیز قدم اٹھاتے ہوئے سیکنڈ فلور پر پہنچ گئے۔ سب سے آخری کلاس روم میں ، جہاں میں اور تانیہ کافی مرتبہ چدائی کا مزہ اٹھا چکے تھے اسی کے باہر کچھ لڑکیاں جمع تھیں۔ ہم بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔
    صاعقہ: یہ وہی ہے۔۔۔
    سب لڑکیاں مجھے دیکھ کر ہنسنے لگیں جس کیوجہ سے مجھے ہلکا سا غصہ تو آیا لیکن خاموش رہا ایک لڑکی بولی: یہ تو تانیہ کا بوائے فرینڈ ہے یار۔۔۔
    ایک او ر لڑکی بولی: ہاں۔۔۔ یار۔۔۔ اسے تو تانیہ کے ساتھ کافی مرتبہ دیکھا ہے ہم نے
    صاعقہ: اس نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔ پھر۔۔۔
    صاعقہ کی بات ایک اور لڑکی نے کاٹی، اس نے کالے رنگ کی عینک (گلاسز) پہن رکھے تھے، وہ بینچ سے اتر کر صاعقہ سے بولی: اس نے پہلے تانیہ کے جسم سے مزہ اٹھایا پھر تجھ سے، اور آج کل۔۔۔ جنا ب کیا کر رہے
    صاعقہ آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے: ایک لفظ اور مت نکالنا۔۔۔ بس
    وہ پھر سے بولی: جناب گرل فرینڈ کی آسامی خالی ہوتو۔۔۔
    صاعقہ نے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر لگاتے ہوئے بولی: بولا تھا مزید بکواس نہ کرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صاعقہ کینٹن میں میرے سامنے بیٹھی ہوئی اپنے سر کو تھامے ہوئے تھی۔ میں اس کے چہرے کو پڑھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ صاعقہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کرسی سے اٹھی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کینٹن سے نکل کر سکول کے گراونڈ میں لے آئی جہاں اس وقت کافی رش تھا لیکن وہ مسلسل چلتے ہوئے گراونڈ کے اس حصے میں مجھے لے آئی جہاں کسی کسی جگہ پر لو برڈز کسنگ کررہے تھے۔
    صاعقہ: مجھے اپنی گرل فرینڈ بنا لو ۔۔۔
    میں بس حیرت سے اسے دیکھے جا رہا تھا: کیا مطلب؟
    صاعقہ: اب تو عبیرہ بھی نہیں ہے۔۔۔
    میں: مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔
    صاعقہ:۔ اچھا ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ میں صاف صاف بات سمجھاتی ہوں۔۔۔
    میں: وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔ چلو
    صاعقہ: نہیں ۔۔۔ یہیں ٹھیک ہے
    میں نیچے بیٹھتے ہوئے: سب کچھ سچ بولنا۔۔۔
    صاعقہ: میں آٹھویں میں تھی جب اس کے بھائی نے مجھے لائن دینا شروع کی، میں خود بھی لاابالی عمر میں محبت کی لہر میں بہتی چلی گئی، جب یہاں داخل ہوئی تو یہ مجھے بھابھی کہہ کر مخاطب کرتی رہی۔ پھر ایک دن اس کا بھائی بھی مجھ سے پلٹ گیا اور اس نے مجھے بدنام کرنا شروع کردیا۔
    صاعقہ اب روتےہوئے بولی: میں بیشک امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہوں عثمان۔۔۔ پھر بھی مجھے بھی اپنی عزت پیاری ہے۔۔۔ جب اس نے اپنی کلاس فیلوز اور ہماری کلاس فیلوز کو یہ کہا کہ صاعقہ کا کیریکٹر لوز ہے۔ وہ ورجن نہیں ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا، میں نے کہہ دیا کہ تم میرے بوائے فرینڈ ہو، جیسے اس کا بوائے فرینڈ شہریار ہے۔ (شہریار دہم کلاس کا ہی سب سے زیادہ بگڑا ہوا لڑکا تھا)
    صاعقہ: جب میں نے یہ بات کہہ دی، میں نہیں جانتی قسم سے۔۔۔ کہ ۔۔۔ اس وقت کیسے میرے منہ سے صرف تمہارا نام نکلا، لیکن بعد میں انہوں نے عبیرہ سے لازمی یہ پوچھنا تھا کیونکہ سب جانتی ہیں کہ عبیرہ تمہاری کزن سسٹر ہے۔ اس لیے میں نے عبیرہ کو فوراً بتا دیا۔ عبیرہ نے پہلےغصہ کیا لیکن بعد میں مجھے حوصلہ دیا۔
    صاعقہ خاموش ہوچکی تھی میں بس صاعقہ کی باتیں سن کر اس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس لڑکی نے اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی پھنسوا دیا ہے۔
    میں اس کی ہچکیوں کی آواز سن کر اپنی سوچ سے باہر نکلا اور اس کے سر کو سہلاتے ہوئے بولا: میں بس یہی جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوست سے اپنی عزت بچانے کیلئے مدد مانگی ہے۔ جب بھی تمہیں ایسا لگے کہ تمہاری عزت نفس خطرے میں ہے، مجھے یاد کرنا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گا۔۔۔
    یہ الفاظ میرے منہ سے جانے انجانے میں ادا ہوچکے تھے۔ میں خود بھی پیشمان تھا۔ صاعقہ میری بات سن کر پھرسےتیزی سے روتے ہوئے میرے سینے سے لگ چکی تھی۔ میں بس اسے چپ کروا رہا تھا۔

  2. The Following 14 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (21-01-2019), Admin (22-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), irfan1397 (22-01-2019), ksbutt (21-01-2019), lovehum123 (01-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Mirza09518 (23-01-2019), sajjad334 (21-01-2019), vampir (23-01-2019), waqastariqpk (22-01-2019), ZEESHAN001 (15-04-2019)

  3. #52
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    170
    Thanks Thanks Given 
    2,080
    Thanks Thanks Received 
    258
    Thanked in
    135 Posts
    Rep Power
    19

    Default

    @Story Maker G

    زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست

    بہت ہی عمدہ اور بہترین لکھاری ہیں

    مزہ آیا پڑھ کر بہت اچھا لگا
    سیکسی لیڈی

  4. The Following User Says Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-01-2019)

  5. #53
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    869
    Thanks Thanks Given 
    150
    Thanks Thanks Received 
    1,130
    Thanked in
    616 Posts
    Rep Power
    96

    Default

    گیارہویں قسط
    ہم سب گروپ کی شکل میں بیٹھےہوئے پڑھ رہے تب سکول کے پی ٹی سر ہمارے گروپ کے قریب آکر کھڑے ہوگئے۔
    سر: سٹینڈ اپ عثمان
    میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا: یس سر
    سر: سٹاف روم میں آ جائیں
    میں نے ایک نظر گروپ میں موجود لڑکیوں کو دیکھا۔عبیرہ نے مسکرا کر جانے کی اجازت دی تو وہیں صاعقہ بھی مسکرا دی۔ میں ان کی مسکراہٹ سمجھ نہ سکا۔ کچھ دیر کے بعد ہم سٹاف روم کے سامنے کھڑےتھے۔ وہاں اور بھی لڑکے موجود تھے۔ سر نے ہم سب کو بتایا کہ آج سے ہم سب گراونڈ میں گیمز کی پریکٹس کیا کریں گے۔
    سر مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے: میں نے آپ کا کھیل گاوں کے گراونڈ میں دیکھا ہے۔ آپ ٹیم میں آل راونڈر کی حیثیت سے کھیلیں گے۔
    میں: لیکن سر۔۔۔
    سر: آپ کی پڑھائی متاثر نہیں ہوگی کیونکہ گیمز فری پیریڈز اور چھٹی کے بعد ہوں گی۔ فلحال آپ کو سخت پریکٹس کی ضرورت ہے۔
    میں سچ میں پی ٹی سر کے احکامات سن کر ٹینشن میں آ گیا تھا کیونکہ میں ذہنی طور پر گھر کی پریشانی ، پھر عبیرہ، اور ایمان کی ٹینشن کی وجہ سے کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔
    چھٹی ٹائم تک میں نظر بچا کر تانیہ کی طرح سکول سے نکلنے کا ارادہ بنا چکا تھا لیکن جیسے ہی گیٹ کی طرف بڑھا سکول کی کرکٹ ٹیم کے کیپٹن نے مجھے روک لیا۔
    زاہد: کہاں جا رہے ہو عثمان
    میں: وہ۔۔۔ گھر جا رہا ہوں۔۔۔
    زاہد میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا: میری بات سن کر بے شک چلے جانا فیصلہ تمہارا ہی ہوگا۔
    میں: اوکے
    زاہد اور میں گیٹ کے قریب لگے بینچ پر بیٹھ گئے زاہد بولا: مجھے اس ٹیم کا کیپٹن بنے چند مہینے ہوئے ہیں۔ پہلے کا کپتان بے ایمانی سے میچ ہروا دیتا تھا اس لیے مجھے کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے۔
    میں: یہ تو اچھی بات ہے لیکن مجھے بغیر پوچھے سلیکٹ کرلینا ، مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا
    زاہد مسکراتے ہوئے: میں کچھ دن پہلے تمہارے گاوں اپنے کزن کی شادی پر آیا تھا تب میں نے دونوں ٹیمز میں صرف تمہارا کھیل پسند آیا۔ تمہاری بیٹنگ تکنیک میں سخت محنت کی ضرورت ہے لیکن باولنگ میں بہترین ہو۔
    میں: وہ گلی کرکٹ ہے زاہد بھائی
    زاہد میرا ہاتھ دباتے ہوئے: یہاں بھی ہم سب سٹریٹ کرکٹ رات کو کھیلا کرتے تھے۔ تم میں وہ صلاحیت موجود ہے میرے دوست
    میں: لیکن کلاسز۔۔۔
    زاہد: سر نے بات کرلی ہے جلد نیا ٹائم ٹیبل آ جائے گا جس سے مارننگ کلاسز میں اہم مضامین کی کلاسز لگ جایا کریں گی کیونکہ موسم تبدیل ہورہا ہے۔ اور کرکٹ ٹیم بھی
    میں: پھر بھی ۔۔۔
    زاہد: چلو میں۔۔۔ اصل بات بتاتا ہوں۔۔۔
    میں: جی
    زاہد: ہر سال دو میچ ہماری ٹیم (ایمان کے سکول کا نام لیتے ہوئے) دوسرے سکول میں جاکر کھیلتی ہے اور ہر بار ہماری ٹیم میچ ہار جاتی ہے۔ سب سے بڑا فائدہ ان کو ان کی ہوم پچ ان کا ساتھ دیتی ہے۔ دوسرا فائدہ میں تمہیں بتا چکا ہوں۔ ٹیم میں کچھ کھلاڑی دل برداشتہ ہوکر کرکٹ سے الگ ہوچکے ہیں۔
    زاہد سانس لینے کے بعد: ویسے بھی میرا یہ آخری سال ہے یہاں۔۔۔ ہمیں ایک ایسے کھلاڑی کی ضرورت ہے جو اپنے سکول کی ٹیم کو اپنا سمجھ کر کھیلے۔مخالفین نے ہم دونوں کی باولنگ اور بیٹنگ نہیں دیکھی باقی کی ٹیم ان کی نظر میں ہے اس لیے سر تمہارے سلیکشن کو لے کر فوراً مان گئے ہیں۔ البتہ تین کھلاڑی اور بھی منتخب کیے ہیں لیکن ان کی سوسائٹی مجھے اچھی نہیں لگی
    میں: پھر بھی ایک مرتبہ پھر سوچ لیں زاہد بھائی
    زاہد: فلحال سب کچھ اس اوپر والے کی مرضی پر ہے۔۔۔ آو گراونڈ میں چلتے ہیں۔
    گراونڈ میں تقریباً اٹھارہ لڑکے پہلے سے آپس میں میچ کھیل رہے تھے ۔ ہمیں ایک ساتھ آتا دیکھ کر پی ٹی سر مسکرا دیے۔ سر نے مجھے ایک کرکٹ کٹ دی ، جسے میں نے بخوشی قبول کرلیا کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا تھا۔ جب سے ایمان کے سکول کا نام سنا تھا تب سے جیتنے کی لگن جاگ چکی تھی۔
    سر باقی لڑکوں کو اپنا کھیل جاری رکھنے کا کہہ کر مجھے سائیڈ پر لے جا کر مختلف ایکسرسائز کروانے لگے۔ اب تقریباً میری یہی روٹین بنتی جا رہی تھی کہ فری پیریڈ میں میں ، زاہد اور پی ٹی سر پریکٹس کرتے رہتے۔ مختلف پریکٹس جاری تھیں۔ بریک ٹائم تھا عبیرہ کا نام و نشان کینٹن میں نظر نہیں آ رہا تھا تب ہی صاعقہ میرے سامنے آ کر بیٹھتے ہوئے میرے ہاتھ کو پکڑ کر بولی: تھینکس
    میں: کس بات کیلئے؟
    صاعقہ: میری مجبوری سمجھنے کیلئے
    میں: ہم دوست ہیں
    صاعقہ: کیا تم میرے بوائے فرینڈ بنو گے؟
    میں: بوائے تو میں پہلے سے ہوں اب اور کیا بنانا چاہتی ہو؟
    میری بات سن کر صاعقہ مسکرا دی تب عبیرہ اور اس کی سہیلیاں ہمارے پاس آ بیٹھی۔ کچھ دیر گپ شپ کے بعد مجھے پی ٹی سر کا بلاوا آ گیا اور میں ان کی طرف چلا گیا۔
    میں شام کو چھت پر بیٹھا پڑھ رہا تھا ہلکا ہلکا اندھیرا ہو رہا تھا تب نیچے مجھے خالہ کی آواز سنائی دی۔ خالہ جب بھی آتی تھیں گھر میں ہلکا سا ہلا گلا شروع ہوجاتا تھا۔کچھ ہی دیر میں عبیرہ چائے کے دو کپ لیے چھت پر اکیلی آ گئی۔ نیلے رنگ کی ڈیزائنگ والی قمیض میں ملبوس نیچے چوڑی دار ٹائیٹ پاجامہ پہنے وہ میرے طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی میں اس کی آنکھوں کی تپش کو محسوس کرکے چارپائی سے اتر کر اس کی طرف چل دیا۔
    عبیرہ چائے کی سپ لیتے ہوئے بولی: کیسے ہو
    میں:تمہارے سامنے ہوں۔۔۔
    عبیرہ: امی نے سامان لانا تھا اس لیے میں بھی یہاں آ گئی۔۔۔
    میں: باجی ساتھ گئی ہیں؟
    عبیرہ نے سر ہاں میں ہلا دیا میں جانتا تھا اب نیچے کوئی بھی نہیں ہے کیونکہ آپی اور امی چاچی کی طرف گئی ہوئی تھیں۔ میں نے فوراً عبیرہ کو پیچھے سے ہگ کر لیا۔ عبیرہ میری مضبوط بازو میں آ کر ہلکا سا کانپی پھر بولی: نیچے چلیں؟
    میں: نہیں
    عبیرہ آہستہ سے وہیں میرے جھکانے پر جھک گئی، میں نے اپنا کھڑا ہوچکا لن اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے اس کی قمیض کو اوپر کرتے ہوئے جیسے ہی اس کے پاجامے کے ناڑے کو پکڑا تو اس نے فوراً میرا ہاتھ تھام لیا۔
    عبیرہ: یہ نہ کھولیں۔۔۔
    میں: وہ کیوں؟
    عبیرہ نے جھکے ہوئے ہی میرے کھڑے ہوچکے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میرے چہرے پر شہوت کے تاثرات گہرے ہونے لگے جسے دیکھ کر وہ ہلکا سا شرمائی پھر اس نے میرے لن کو پکڑے ہوئے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں لا کر بولی: قریب آئیں
    میں اس کی گانڈ کے بالکل قریب ہوکر جڑتے ہوئے عبیرہ کے اگلے قدم کا منتظر تھا، اس نے میرے لن کو پکڑے ہوئے اپنی ننگی پھدی کے ہونٹوں سے ٹیچ کیا ۔ میں اب سمجھ چکا تھا کہ عبیرہ نے اپنے پاجامے کا ناڑہ کھولنے سے کیوں روکا تھا۔
    میں اسکی گانڈ سے جڑتے ہوئے فوراً اپنے لن کو اس کی پھدی کے اندر داخل کرنے لگا جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدی کے اندر داخل ہوئی اس کے منہ سے تیز سسکاری سن کر میں گھبرا گیا۔
    میں نے فوراً اس کی پھدی سے لن نکال لیا۔ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر لے آیا۔ میں نے اسے چارپائی پر کمر کے بل لٹا کر اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آ کر اس کی قیمض کے پلو کو اوپر کر اپنے ننگے کیے ہوئے لن کو شلوار سے آزاد کرتے ہوئے ، اسکی ٹانگوں کو دائیں بائیں کرتے ہوئے اپنے لن کو اس کی پھٹی ہوئی شلوار(پاجامہ) سے نظر آرہی ننگی پھدی پر رکھ کر آہستہ آہستہ داخل کرنے لگا۔
    جیسے جیسے میرے لن کی ٹوپی عبیرہ کی چپ چپ کرتی پھدی میں داخل ہوئی اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاری نکل رہی تھی۔ میں بالکل مدھم انداز میں اس کی نازک پھدی میں اپنے لن کو ڈالنے لگا میں نہیں چاہتا تھا کہ اسے پھر سے کوئی تکلیف ہو۔ اسی وجہ سے اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ میرا لن اس کی پھدی میں اتر چکا ہے۔
    میں اس کے جسم سے لپٹ کر اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اب ہلکا ہلکا اوپر نیچے ہونے لگا تھا۔ عبیرہ شہوت میں ڈوبے ہوئے میرا ساتھ دے رہی تھی۔مجھے اسی کی پھدی کی اندرونی سطح اس دن سے کافی لوز(ڈھیلی) محسوس ہو رہی تھی لیکن اب بھی اس کی پھدی قدرے ٹائیٹ تھی۔
    ہمیں کسنگ کرتے ہوئے چند منٹ ہوچکے تھے میں نے کسنگ کو روک کر اب مسلسل دھکے لگاتے ہوئے اس کی قمیض کے اوپرسے ہی بوبز کو دبانے لگا تھا۔ عبیرہ کو بھی شاید مزہ مل رہا تھا اس لیے اس نے اپنی قمیض کو اپنے گلے تک اوپر کر سکن کلر کی برا میں قید مموں کا دیدار کروادیا۔ میں فوراً اس کے مموں سےبھرپور انصاف کرتے ہوئے اپنے لن کو اور تیزی سے اس کی پھدی میں جھٹکے دے رہا تھا۔
    چارپائی کی چوں چوں نے اندھیرے میں بھی رومانی ماحول طاری کردیا تھا۔ چند جھٹکوں کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس کی پھدی کی گرفت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ ہو رہی ہے ، پھر چند ہی لمحوں میں اس کی پھدی پھڑپھڑاتے ہوئے اپنا پانی میرے لن پر چھوڑنے لگی۔ میں نے فوراً اپنا لن اس کی پھدی سے نکالا اپنے ہاتھ سے اپنی منی کو اس کی پھدی پر نکالنے لگا۔ (چاچی نے سیکھایا تھا)
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    اگلے دن باجی جیسے ہی موقعہ ملتا مجھے معنی خیز باتیں کہتی ہوئی میرے پاس سے گزر جاتیں لیکن میں خاموش رہ کر ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا۔
    ابو کی کال آئی تو ابو مجھ سے بولے: مجھے عبیرہ نے بتایا ہے کہ تمہیں سکول کی ٹیم میں سلیکٹ کیا ہے۔ بیٹا بس یہ دھیان رکھنا کہ کھیل کھیل میں پڑھائی کا ضیاع نہ ہوجائے۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    پریکٹس میچ کیوجہ سے میں آج لیٹ ہوگیا تھا عبیرہ میرا سکول بیگ لے کر گھر چلی گئی تھی۔ میں راستے میں چلتا ہوا سوچ رہا تھا شاید عبیرہ میرا بیگ میرے گھر دے گئی ہو گی ۔ لیکن آخری وقت پر مجھے سوچ آئی کہ پہلے عبیرہ کے گھر چلا جاتا ہوں تاکہ ایک ہی چکر میں معلوم ہو جائے گا کہ عبیرہ نے سکول بیگ گھر دیا تھا یا نہیں۔
    گیٹ لاک تھا میں نے گیٹ کو ناک کیا تو اندر سے کچھ دیر کے بعد آواز آئی ، جی کون؟
    میں آواز پہچانتے ہوئے بولا: عبیرہ میں۔۔۔ عثمان
    عبیرہ نے فوراً گیٹ کھول دیا میں گیٹ کے اندر داخل ہوگیا کیونکہ مجھے یہی اندازہ تھا کہ اندر خالہ اور ان کی بیٹیاں موجود ہوں گی۔ عبیرہ میرے اندر داخل ہوتے ہی مین گیٹ کو بند کرکے لاک کرتے ہوئے بولی: جی جناب۔۔۔ فرصت مل گئی میچ سے
    عبیرہ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا: خالہ کہاں ہیں؟
    عبیرہ: ماموں کے گھر۔۔۔
    میں نے عبیرہ کے جواب کو سننے سے پہلے تک، گھر کے اندر کےماحول کو سمجھ کر عبیرہ کی طرف بڑھا۔ عبیرہ اب شرمارہی تھی اور میں بس آگے بڑھ رہا تھا۔
    کچھ ہی دیرمیں عبیرہ میرے نیچے دبی ہوئی برآمدے میں موجود چارپائی پر مجھ سے چد رہی تھی میری شرٹ اور پینٹ پاس پڑے پنکھے پر پڑی ہوئی تھی جبکہ عبیرہ کے کپڑے برآمدے میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔
    میں عبیرہ کی سسکاریاں سنتے ہوئے مزے کی دنیا میں گم اس کے مموں کو اپنے منہ میں بھر کر چوس چاٹ رہا تھا ۔ عبیرہ: مجھے معلوم تھا۔۔۔ تم ضرور آو گے۔۔۔ اسی لیے میں نے۔۔۔ جانے سے انکار کیا۔
    میں اس کے مموں سے کھیل لینے کے بعد بولا: تم روز بروز خوبصورت ہوتی جا رہی ہو۔۔۔ خیر تو ہے نا
    عبیرہ اپنی تعریف سن کر اور بھی مزے میں آتے ہوئے بولی: تمہارا وہ۔۔۔ پہلے دن سے زیادہ بڑا ہوگیا ہے۔۔۔
    میں: وہ کیا؟
    عبیرہ: وہی۔۔۔
    میں: کیا؟
    عبیرہ: جو میرے اندر ہے
    میں اب اس کی بات سمجھ گیا لیکن اپنے مزے کی خاطر بولا: اس کا نام بھی ہوتا ہے۔۔۔
    عبیرہ اب پوزیشن تبدیل کرکے میرے سامنے جھک کر گھوڑی کے انداز میں مجھ سے چدتے ہوئے بولی: کیا نام ہوتا ہے؟
    میں: تم لڑکیاں ، کس نام سے ڈسکس کرتی ہو؟
    عبیرہ اپنی گانڈ میرے لن پر دباتے ہوئے: ہر لڑکی کا اپنے مزاج کے مطابق نام ہوتا ہے۔
    میں اس کے ہل رہے مموں کو تھام کر دباتے ہوئے بولا: تم اپنا بتاو
    عبیرہ: لن
    میں مزید جاندار جھٹکے لگاتے ہوئے: اچھا جی۔۔۔ کیسا ہے میرا لن
    عبیرہ نخریلے انداز میں: تمہارا نہیں ہے۔۔۔ اب میرا ہے
    میں: اچھا ۔۔۔ بتاو تو سہی
    عبیرہ: سخت ڈنڈے کی طرح
    میں اس کی گانڈ سے لپٹتا ہوا: جب اندر جاتا ہے تو کیسا لگتا ہے؟
    عبیرہ: لو لگ جاتی ہے جناب
    میں: اور اب۔۔۔(میں اب اس کی پھدی میں فارغ ہونے لگ گیا کیونکہ اتنی ہاٹ باتیں میں نے آج دن تک تانیہ سے بھی نہیں کی)
    عبیرہ کی سسکاریاں میرے فارغ ہونے کے ساتھ ساتھ مزید تیز ہوتی چلی گئیں۔
    عبیرہ مجھے سکول بیگ دیتے ہوئے بولی: اندر فارغ نہ ہوا کرو جناب۔۔۔ بچہ ہوجائے گا۔۔۔
    میں: خالہ کی کٹ سے دوائی کھا لینا۔۔۔
    عبیرہ: بےشرم
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    مجھے تم نے صرف سنگل بنا کر اسٹرائیک دینی ہے۔ (میں نے وہاب کو نصحیت کی)
    وہاب نے ویسا ہی کیا میں اسٹرائیک پر کھڑا اپنے سامنے مخالف ٹیم کے لڑکوں کو فیلڈنگ تبدیل کرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ چھٹی کے بعد زاہد نے مجھے اپنی پریکٹس گاوں میں بھی جاری رکھنے کا کہا تھا۔ اب یہی صحیح موقعہ تھا کہ ہمارے گاوں کی ٹیم تقریباً ساری آوٹ ہوچکی تھی اب وہاب اور میں کریز پر موجود تھے وہاب کے بعد صرف باسط رہتا تھا ۔
    میں اب زاہد کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق اکیلا بیٹنگ کرتا ہوا ہر اوور کی پانچ گیندیں اچھے طریقے سے کھیل کر آخری گیند پر سنگل بنا کر اگلے اوور کی اسٹرائیک اپنے پاس رکھ رہا تھا لیکن آخری اوور میں غلطی سے وہاب اسٹرائیک پر آگیا تھا۔
    اب وہاب نے میری بات مان کر بلکہ اپنی ٹیم پر احسان کرتے ہوئے سنگل بناتے ہوئے مجھے اسٹرائیک دے دی تھی۔ مخالف ٹیم کا کپتان جان چکا تھا کہ میں ہی اس ٹیم کا گیم ونر کھلاڑی ہوں اس لیے اس نے فوراً فیلڈنگ تبدیل کرکے مجھے تھوڑی سی پریشانی میں ڈال دیا تھا ۔ میرے سامنے صرف دو گیندیں موجود تھی اور سکور کی ضرورت تھی صرف دو رنز کی۔۔۔
    اسی پریشانی میں مجھ سے ایک مس ہٹ شارٹ لگی اور ہوا میں گیند اڑتی ہوئی مخالف ٹیم کے کپتان کی طرف جا رہی تھی میں اسی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک رن کے بعد دوسرا رن بنانے کے لیے نکل چکا تھا مجھے سجاد کی آواز سنائی دی۔۔۔
    سجاد: وہاب ۔۔۔ جلدی بھاگ
    میں نے وہاب کی طرف دیکھا جو اسٹرائیک کی کریز سے نکل کر آہستہ آہستہ (سست رفتار سے) واپس لوٹ رہا تھا۔ سجاد کی آواز سن کر اسے ہوش آیا وہ تیزی سے بھاگا لیکن تب تک میرا کیچ چھوڑ نے والا ٹیم کا کپتان اب تھرو پھینک کر وہاب کو رن آوٹ کر چکا تھا۔
    میں خاموشی سے اسٹرائیک پر بیٹھ چکا تھا۔ مخالف ٹیم کے کھلاڑی خوشی منا رہے تھے ۔ سجاد نے باسط کو میرے پاس بھیج دیا۔ میں نے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں سے باسط کو سائیڈ پر لے جا کر بولا: جیسے ہی باولر کے ہاتھ سے گیند نکلے ، تمہیں میری جگہ پہنچ انا ہے۔ ٹھیک ہےنا؟؟؟
    باسط: جی بھائی ٹھیک ہے۔
    میں: سمجھ آگئی نا؟؟؟
    باسط: جی بھائی
    میری اچانک تدبیر تبدیل کرنے سے کسی کو کچھ بھی علم نہیں تھا کہ میں اب کیا کرنے والا تھا۔ باسط نے وہی کیا جو میں نے اس سے کہا تھا۔ باسط باولر کے ہاتھ سے گیند کے نکلتے ہی میری طرف تیزی سے بھاگا میں نے جان بوجھ کر گیند کو ٹچ کیے بغیر ہی بیٹ چھوڑ کر ایمپائر کی طرف بھاگا ۔ اسی کے ساتھ ہمارے گاوں کی ٹیم مخالف ٹیم سے میری حکمت عملی سے ہارا ہوا میچ جیت چکی تھی۔ بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ میری کامیابی کے پیچھے زاہد اور پی ٹی سر کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    واپسی پر سجاد مجھ سے بولا: میں تو تیرا فین بن گیا یارا۔۔۔
    میں بس مسکراتا رہا کیونکہ آج سب میری تعریف کر رہے تھے ۔ سجاد اور میں ، جیسے ہی وحید کی دکان میں اکیلے داخل ہوئے تو وحید بولا: یار تو اب موٹر سائیکل کیوں نہیں خرید لیتا
    میں : خرید کر کیا کروں گا؟ اچار ڈالنا ہے؟
    سجاد: وہ کیوں؟؟؟
    میں: اس لیے کہ مجھے چلانی نہیں آتی۔۔۔
    سجاد: لو کرلو گل۔۔۔ میں نے بھی وحید سے جانچ سیکھی ہے اور تیرے چاچا نے بھی
    وحید اپنی قمیض کے کالر اوپر کرتے ہوئے اکڑتے ہوئے بولا: بالکل بالکل
    میں طنز کرتے ہوئے: اسی لیے چاچو دس مرتبہ گر چکے ہیں
    وحید: اس میں ان کی اپنی غلطی تھی یار
    سجاد: ایسا کرتے ہیں کہ میں تمہیں اپنی بائیک پر تمہیں طریقہ سمجھا دیتا ہوں ۔۔۔
    وحید فوراً بولا: جی نہیں
    سجاد: وہ کیوں؟
    وحید: میں سیکھاوں گا اور یہ (مجھے) میرے ساتھ دکان کا سامان لینے شہر جایا کرے گا
    ہم دونوں وحید کی بات سن کر ہنسنے لگے۔ اسی طرح باتیں کرتے کرتے ہم تینوں نے مشورہ کرلیا کہ کل سے وقت نکال کر بائیک گری کریں گے۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،


  6. The Following 12 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (27-01-2019), Admin (26-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), ksbutt (26-01-2019), lovehum123 (01-02-2019), Lovelymale (03-02-2019), MamonaKhan (26-01-2019), Mirza09518 (26-01-2019), sajjad334 (28-01-2019), waqastariqpk (27-01-2019), ZEESHAN001 (15-04-2019)

  7. #54
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    170
    Thanks Thanks Given 
    2,080
    Thanks Thanks Received 
    258
    Thanked in
    135 Posts
    Rep Power
    19

    Default

    Story Maker G

    زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست زبردست اپڈیٹ جناب

    Keep it up
    سیکسی لیڈی

  8. The Following User Says Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    fahadfraz (30-01-2019)

  9. #55
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    12
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    21
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    بہت اعلیٰ اور بہترین کہانی۔ ۔ ہماری پسند کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ شدت سے اپڈیٹ کا انتظار رہتا ہے اور ڈیلی سائٹ پر آنا بھی پڑتا ہے

  10. The Following User Says Thank You to شان 88 For This Useful Post:

    MamonaKhan (01-02-2019)

  11. #56
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    United States of America
    Posts
    15
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    25
    Thanked in
    11 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    Itni achi awr sexy story ki update zyda der tak roka na karo yaar. Update Bro

  12. The Following User Says Thank You to urdustorieswriter For This Useful Post:

    MamonaKhan (02-02-2019)

  13. #57
    Join Date
    Nov 2018
    Location
    Karachi
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    21
    Thanked in
    9 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Zabardast Story.
    waiting for Update.

  14. The Following 2 Users Say Thank You to alone_leo82 For This Useful Post:

    MamonaKhan (01-02-2019), Story Maker (13-05-2019)

  15. #58
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    869
    Thanks Thanks Given 
    150
    Thanks Thanks Received 
    1,130
    Thanked in
    616 Posts
    Rep Power
    96

    Default

    بارہویں قسط
    وہ بار بار مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی میں اس کی اس حرکت پر اب تھوڑا سا کنفوز ہورہا تھا ۔ میں کھل کر اس سے فلحال پوچھ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ مجھے یوں بار بار دیکھ کر مسکرا کیوں رہی ہے کیوں کہ ہم سب اس وقت گروپ کی شکل میں بیٹھے ہوئے سر افتخار کی دی ہوئی ایک ایکسرسائز کو مکمل کرنے میں مگن تھے۔
    جیسے ہی مجھے وہ کچھ دیر کے بعد سیکنڈ فلور پر کلاس روم سے باہر اکیلی نکلتی ہوئی نظر آئی میں اس کا راستہ روک کر اس سے پوچھنے لگا
    میں:صاعقہ۔۔۔ خیریت تو ہے نا۔۔۔
    صاعقہ پھر سے مسکرا رہی تھی: ہاں ۔۔۔ خیریت ہے۔۔۔ کیوں پوچھ رہے ہو؟
    صاعقہ کا جواب سمجھ نہیں آیا اور نہ ہی اب اس کی مسکراہٹ میں چھپے راز ، میں:اتنا کیوں مسکرا رہی ہو؟
    صاعقہ: ویسے ہی۔۔
    میں: پھر بھی؟
    صاعقہ: لو بھلا۔۔۔ اب میں اپنے بوائے فرینڈ کو دیکھ کر مسکرا بھی نہیں سکتی
    میں اس کے ماتھے پر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی مدد سے اس کو ہلکا سا تھپڑ لگاتے ہوئے: نظر لگ جانی ہے کسی کی
    صاعقہ گہری نظروں سے : میں تو تیار ہوں۔۔۔ تم لگا دو نظر
    میں: میری کیوں لگے گی نظر؟؟؟
    صاعقہ: پھر کس کی لگنی ہے؟
    میں:لوگوں کی
    صاعقہ: دیکھ تو تم رہے تھے نا۔۔۔ پھر تمہاری ہی لگنی ہے
    عبیرہ اچانک ہمارے پاس آکر ایکدم سے بولی جس کیوجہ سے میں گھبرا گیا: کون کس کو نظر لگا دے گا صاعقہ
    صاعقہ اب پھر سے مسکرائی: عثمان اور کون
    عبیرہ صاعقہ کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے بولی: تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ میں ہوں نا
    صاعقہ: تھینکس۔۔۔
    اگلے دن پھر سے صاعقہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور میں اب بار بار نوٹس کر رہا تھا کہ میں جب بھی اسے دیکھتا تو وہ صرف مجھے ہی دیکھ رہی ہوتی تھی۔ آج عاصمہ بھی اسے تنگ کر رہی تھی میں خاموشی سے ان دونوں کی حرکتوں کو نوٹ کر رہا تھا۔ وہ کینٹین میں اکیلی برگر کو لیے بیٹھی کھا رہی تھی میں اب اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
    صاعقہ: کیا دیکھ رہے ہو؟
    میں: کچھ بھی نہیں
    صاعقہ: پھر بھی۔۔۔
    میں: مجھ سے کوئی امیدنہ رکھنا صاعقہ۔۔۔ پلیز۔۔۔
    صاعقہ: مجھے سب معلوم ہے ڈئیر۔۔۔ میں بس ہلکا پھلکا تمہیں تنگ کر رہی تھی
    میں: میں سمجھا کہ
    صاعقہ نے برگر میری طرف بڑھا برگر میں دو کٹ لگے ہوئے تھے جس کیوجہ سے تین بندے آسانی سے کھا سکتے تھے۔ میں برگر کا پیس اٹھا کر کھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
    صاعقہ: یہی کہ میں بھی عبیرہ کی طرح؟؟؟
    میں؛ تم سمجھ دار ہوں صاعقہ
    صاعقہ: کیا تم حقیقت میں ۔۔۔ بوائے فرینڈ بن سکتے ہو ؟
    میں صاعقہ کے پرپوزل پر بالکل خاموش رہا میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا تب وہ میرے سامنے اٹھی اور کینٹین سے باہر نکل گئی۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    وہ دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اس کی آنکھیں بند تھیں جبکہ میں اس کے ہونٹوں کو کپکپاتے ہوئے دیکھ رہا تھا میرے لب اس کے ہونٹوں سے چند ہی سینٹی میٹر کی دوری پر تھے۔میں نے صاعقہ کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ کو اس کے سوال کا معنی سمجھ کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔
    ہمیں ہوش اس وقت آیا جب نیچے سکول بیل بجنے کی آواز ہمارے کانوں تک پہنچی۔ میں ایکدم سے الگ ہوکر خود کو ٹھنڈا کرنے لگا۔جبکہ صاعقہ تیز سانسوں سےاپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اس کے اندر موجود عورت نے دوبارہ آنکھ کھول لی ہے جسے وہ کچھ مہینے پہلے ، اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کی وجہ سے مار چکی تھی۔ صاعقہ نے کافی جلدی اپنے آپ پر قابو پایا اور فوراً اپنے بیگ سے ایک چھوٹا سا شیشہ نکال کر اپنے چہرے کو دیکھنے لگی پھر اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے اپنے یونیفارم کو ٹھیک کرتے ہوئے میری طرف بڑھی
    صاعقہ: تھینکس۔۔۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    میں حیرت سے باکس کو دیکھتے ہوئے صاعقہ سے بولا: یہ کیا ہے ؟
    صاعقہ: گفٹ
    میں باکس واپس کرتے ہوئے بولا: مجھے نہیں چاہیے صاعقہ
    صاعقہ: کھول کر تو دیکھو ۔۔۔
    میں: نہیں یار۔۔۔ میں نہیں لے سکتا
    صاعقہ: کیوں نہیں لے سکتے
    میں: گھر میں سب کو کیا بتاوں گا؟
    صاعقہ: اس کا بھی کچھ سوچتے ہیں ۔۔۔ پہلے یہ کھولو تو سہی
    میں اس کے بار بار اصرار کرنے پر باکس کو کھولا تو میری آنکھوں کے سامنے بغیر بٹن والا موبائل باکس میں موجود تھا۔ میں مزیدکچھ کہتا اس سے پہلے ہی صاعقہ نے موبائل نکال کر فوراً اپنے بیگ سے ایک سم نکال کر اس میں لگاتے ہوئے مجھے موبائل بند کرنے کا طریقہ سمجھانے لگی۔ میں بار بار نہ نہ کرتے ہوئے اس سے طریقہ سمجھ رہا تھا۔
    صاعقہ: اس میں، میں نے اپنا نمبر ایڈ کردیا ہے جناب۔۔۔
    میں: وہ تو ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن اسے چھپا کر کیسے رکھ سکتا ہوں صاعقہ
    صاعقہ: چھپا کر کیوں رکھنا ہے؟؟؟ گھر والوں کو کہہ دینا کہ پاکٹ منی سے خریدا ہے
    میں اب خاموش ہوچکا تھا صاعقہ مجھے موبائل اپریٹ کرنا سیکھا رہی تھی ۔ اس نے اپنی کچھ تصاویر میرے موبائل میں ڈال دی تھیں۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    باجی نے مجھ پر کافی غصہ کیالیکن آپی اور امی بہت خوش تھیں ۔ شام کو وہاب اور باسط بار بار میرے موبائل کو اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھ رہے تھے۔ ان کے پاس بھی موبائل تھے لیکن اتنا مہنگا موبائل ان کے پاس نہیں تھا۔
    عبیرہ میرا موبائل چیک کرتے ہوئے مجھے کندھا مارتے ہوئے بولی: میری دوست کو بھی نہیں چھورا۔۔۔
    میں: ایسا کچھ بھی نہیں ہے
    عبیرہ: اچھا ۔۔اچھا۔۔۔ میں سب جانتی ہوں
    میں: ویسے وہ اتنا مسکراتی کیوں ہے
    عبیرہ: اس دن جب میں سکول نہیں گئی تو وہ یہاں آئی تھی میری طبیعیت کا پوچھنے۔۔۔ اس دن غلطی سے میرے منہ سے تمہارا نام نکل گیا۔ اب جس دن بھی میں صبح سویرے نہا کر سکول جاتی ہوں تو وہ مجھے چھیڑتی ہے۔ بس
    اب مجھے صاعقہ کے مسکرانے کی اصل وجہ معلوم ہوئی تھی۔ میں غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: پیٹ کی کچی
    عبیرہ بس مسکرائے جا رہی تھی اور میں خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھ کر گھر کے نکل آیا۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    رات کو صاعقہ کی کال آگئی عام سی باتیں ہونے لگیں ۔ اگلے دن میں نے اس کو اس کا دیا ہوا گفٹ موبائل اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا: اپنی تصویریں ہائیڈ کر دو گاوں میں ہر ایک گیلری بار بار کھول لیتا ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ۔۔۔ (میں اپنی بات مکمل نہ کرسکا کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ میری بات کا دوسرا معنی نکال نہ لے)
    صاعقہ میری ادھوری بات کو سمجھ کر مسکراتے ہوئے میرے موبائل کو چیک کرنے لگی۔ صاعقہ: یہ ایپ انسٹال کر دی ہے جس بھی تصویر کو کلک کرکے رکھو گے (ہولڈ) تو یہ آپشن آئیں گے ان میں سے اس والے کو کلک کرنے سے وہ تصویر یا ویڈیو ہائیڈ ہوجائے گی
    میں: ٹھیک ہے تھینکس یار
    ہم سب ایک ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے پھر میں زاہد کے بلانے پر پریکٹس کے لیے چلا گیا۔واپسی پر مجھے معلوم چلا کہ ایمان کے گھر پر اس کے کزنز آئے ہیں۔ اسی وجہ سے امی اور آپی چاچو کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ میں نے کچھ دیر کے بعد نہانے کا سوچ کر باتھ روم کا دروازہ کھولا تو میرے سامنے باجی گیلے کپڑوں میں باتھ روم سے باہر نکل رہی تھیں میں ان کو سائیڈ پر ہوکر باہر آنے کا راستہ دیا۔
    میں نے کپڑے اتار کر شاور کھولا تو پانی کے قطرے جیسے جیسے میرے پر گر رہے تھے ویسے ویسے مجھے کبھی ایمان کی باتیں تو کبھی چاچی کی طنزیہ گفتگو یاد آنے لگی میں نے اپنی آنکھیں کھول کر اپنا ہاتھ سامنے دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے تیز سانس لیتے ہوئے اپنے غصے کو قابو کرنے لگا۔
    میں دل میں سوچتے ہوئے : خود کی پیاس بجھانے کے لیے مجھے استعمال کرسکتی ہیں لیکن اپنی لاڈلی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دینے سے انکاری ہیں۔ یہ کیسا کھیل ہے ؟
    میں نے اپنی نظر دیوار سے ہٹا کر پاس پڑے شیمپو کی طرف گھمائی تو میری نظر میں گیلی پینٹی آ گئی۔ میرے دماغ میں آیا کہ ابھی ابھی باجی نہا کر باہر نکلی ہیں شاید انہی کی پینٹی ہے۔ ساتھ لے جانا بھول گئی ہیں۔
    میں نے شیمپو کو اپنے سر کے بالوں میں ڈال کر ملتے ہوئے پانی کو پھر کھولا تو میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ میری انگلیاں میرے سر کے بالوں میں حرکت کر رہی تھی جبکہ میری بند آنکھوں کے سامنے پھر سے باجی اور چاچی کا لیزبین سین گھومنے لگا ناجانے کیوں میرا لن حرکت میں آنے لگا آہستہ آہستہ میرے ذہن میں چاچی کی وہ جسم جسے شاید صرف ہم دونوں نے ننگا دیکھ رکھا تھا مجھے یاد آنے لگا میں نے آنکھیں کھول کر ایک نظر اپنے اکڑے ہوئے لن پر ڈالی پھر دوسری نظر میری باجی کی گیلی پینٹی جس سے ابھی بھی ہلکا ہلکا پانی ٹپک رہا تھا، پر جا رہی تھی۔
    میرا ایک ہاتھ آگے بڑھ کر باجی کی گیلی پینٹی کو کھونٹی سے اتار چکا تھا میرے دماغ نے پھر سے سوچا: اگر باجی میرے نہانے کے بعد پینٹی لینے اندر آئیں تو کیا ہوگا؟
    میرے دل نے کہا: اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا ڈئیر۔۔۔ کیونکہ یہ دوبارہ سے گیلی ہوچکی ہے
    دماغ: بہت مار پڑے گی رک جا
    دل: تب کی تب سوچی جائے گی یار
    میرے دل نے دماغ پر بازی لے کر مجھے باجی کے متعلق پھر سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں باجی کی گیلی پینٹی کو اپنے لن پر لپیٹ چکا تھا اور اب بہتے پانی میں اپنی اآنکھیں بند کرکے باجی کے تصوراتی جسم کو ذہن میں یاد کرکے اپنے لن پر ان کی پینٹی کو آگے پیچھے کرنے لگا۔
    آہستہ آہستہ میرے ہاتھ کی سپیڈ بڑھنے لگی میں اپنی آنکھیں بند کیے تصوراتی دنیا میں کھویا ہوا باجی کی گیلی پینٹی سے ذہنی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    شایدباجی کی پینٹی پر ان کی پھدی کا رس مکمل طور پر اترا نہیں تھا اسی وجہ سے یا میری خود کی ذہنی تسکین کیوجہ سے میں باجی کی پینٹی پر باجی کی پھدی کا لمس محسوس کر رہا تھا۔
    چند ہی منٹوں میں میرے لن سے منی کی پھوار باجی کی پینٹی میں نکلنے لگی۔ میں فارغ ہونے کے بعد خود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ مجھے باہر آپی اور امی کی آوازیں سنائی دی ویسے بھی کافی وقت ہوچکا تھا میں نے جلدی سے باجی کی پینٹی کو اچھے سے دھونے کے بعد اسی جگہ اسے لٹکا کر خود کپڑے پہن کر باتھ روم سے باہر نکل آیا۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،
    چاچی نے مجھے بلایا تھا اس لیے میں آج کافی دنوں کے بعد ان کے گھر میں داخل ہوا تھا۔ وہاب باسط چھت پر اپنے کزنز کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔ جبکہ ایمان کچن میں چاچی کے ساتھ ملکر کھانا تیار کر رہی تھی۔ چاچی نے مجھے دیکھ کر کہا: مل گئی فرصت۔۔۔ اتنے دن کہاں تھے پڑھنے بھی نہیں آئے
    میں: سکول سے چھٹی دیر سے ہو رہی ہے اس لیے یہاں بھی نہیں آ سکا۔
    کچھ ہی دیر میں کھانا لگ چکا تھا کھانا کھانےکے بعد خوش گپیوں کا دور چلتا رہا۔ میں ان سب سے الگ خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ میں آج کے واقعے کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ایمان کی کزنز میں سحر(جسے سحری کہتے تھے) ، پنکی ، عائشہ اور مونا اس وقت ایمان کے گھر آئی ہوئی تھیں ۔ سحری ایمان کی سیکنڈ کزن جبکہ پنکی فرسٹ کزن تھی عائشہ اور مونا بھی ماموں زاد بہنیں تھیں۔ ایمان کے چار ماموں تھے۔
    جبکہ میل کزن کا تعارف کروانے کی میرے خیال میں ضرورت نہیں ہے۔
    کچھ ہی دیر میں سحری ایمان کے ساتھ کچن میں دوبارہ چلی گئیں ۔ پنکی پینٹ شرٹ پہنے ہوئے مسلسل مجھے دیکھے جا رہی تھی اس کے ہاتھ میں کوک کا گلاس تھا جسے وہ آہستہ آہستہ پی رہی تھی میں اس کی نظروں کو محسوس کر رہا تھا لیکن میں اپنی فیملی اور خاص کر چاچی کی طنزیہ باتوں سے بچنے کیلئے اسے اگنور کر رہا تھا۔
    تب ہی وہ خود اٹھی اور میرے ساتھ چارپائی پر آ کر بیٹھ گئی کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی شاید وہ سب سے زیادہ امیر گھرانے کی تھی اس لیے کوئی بھی اس نک چڑی کو منہ لگانا ہی نہیں چاہتے تھے
    پنکی: ایمان کے ساتھ کیا سین ہے ہیرو
    میں نے ایک نظر چاچی کی طرف پھر دوسری نظر ایمان کی طرف دیکھا جو کچن کے دروازے سے ہمیں ہی دیکھ رہی تھی پھر میں نے پنکی کو دیکھتے ہوئے کہا: کوئی سین نہیں ہے
    پنکی گلاس کو زمین پر رکھتے ہوئے بولی: سچی؟
    میں: مچی
    پنکی: مطلب ۔۔۔ میرا چانس ہے؟
    میں بس مسکرا دیا جس پر پنکی مسکراتے ہوئے بولی: لڑکی ہنسے تو لڑکوں کے نزدیک وہ پھنسی اور لڑکا ہنسے تو؟؟؟
    ایمان سحری کے ہمراہ ٹرے لیے ہم دونوں کے قریب آ کر ٹرے جھک کر میرے سامنے پیش کرتے ہوئے بولی: جا۔۔۔ن ۔۔ چائے
    میں نے غصیلی نظروں سے ایمان کی آنکھوں میں دیکھا ایمان فوراً سیدھی ہوکر ہم دونوں کے قریب سے واپس دوسری طرف چلی گی میں اپنی اس حرکت کی وجہ سے چائے کا کپ بھی اٹھا نہ سکا۔ جیسے ہی میں نے اپنا چہرہ پنکی کی طرف موڑا پنکی نے کپ میری طرف بڑھایا
    میں: نہیں رہنے دو۔۔۔ ویسے بھی نیند آ رہی ہے گھر جانے لگا ہوں
    پنکی: آج یہیں رہنا ہے۔۔۔ ویسے بھی یہ کپ تمہارا ہی ہے میرا یہ رہا
    وہ اپنا کپ فرش سے اٹھاتے ہوئے بولی، میں نے اس کے ہاتھ سے کپ لے لیا، میں: تمہارے کزنز تم سے الگ الگ کیوں رہتے ہیں؟
    پنکی: یہی سوال میں تم سے کروں تو؟؟؟
    میں: میرے سب کزنز ہاسٹلز میں رہ کر پڑھ رہے ہیں جبکہ چھوٹے ماموں کی ابھی شادی نہیں ہوئی
    پنکی میرے گول جواب پر مسکرا کر بولی: ویسے گاوں کی ہر لڑکی۔۔۔ جا۔۔ن کہہ کر ہر لڑکے کو مخاطب کرتی ہیں یا صرف۔۔۔
    میں: کیوں تنگ کر رہی ہو پنکی؟
    پنکی مزید کچھ کہہ نہ سکی کیونکہ چاچی اور باجی دونوں ہم دونوں کی طرف ہی آ رہی تھیں۔ میں چاچی کے بار بار اصرار کے باوجود وہاں نہ رکا اور اسی وجہ سے امی میرے ساتھ گھر چلنے کو تیار ہوگئیں۔ دروازے کے قریب پہنچ کر امی نے پنکی کو آواز دی جس پر میرے کان کھڑے ہوگئے۔
    پنکی ہینڈ بیگ تھامے ہوئے تیز قدموں سے ہماری طرف چلی آئی۔ راستے میں امی اور پنکی ہی آپس میں باتیں کرتے ہوئے سفر طے کرنے لگیں۔
    گھر پہنچ جانے کے بعد امی نے مجھے دروازے لاک کرنےکا کہہ کر خود پنکی کا بستر لگانے کے لیے اندر چلی گئیں تب پنکی گھر کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے مجھ سے بولی: یہاں تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے؟
    میں: کیا مطلب؟
    پنکی اپنا سوال دہراتے ہوئے بولی: گرل فرینڈ کا پوچھا ہے۔
    میں: چپ کرکے اندر جا کر سو جاو
    پنکی اندر جاتےہوئے بولی: اب بچو۔۔۔ سونے بھی نہیں دوں گی


  16. The Following 9 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (17-02-2019), abkhan_70 (02-02-2019), farooq1992 (02-02-2019), katita (08-02-2019), lovehum123 (02-02-2019), Lovelymale (03-02-2019), MamonaKhan (02-02-2019), mmmali61 (02-02-2019), ZEESHAN001 (15-04-2019)

  17. #59
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    170
    Thanks Thanks Given 
    2,080
    Thanks Thanks Received 
    258
    Thanked in
    135 Posts
    Rep Power
    19

    Default

    Zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast zabbardast
    سیکسی لیڈی

  18. #60
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    Lahore
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    8
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Dear writer u r very nice..please update the story

  19. The Following User Says Thank You to mmaad For This Useful Post:

    MamonaKhan (05-02-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •