جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

View Poll Results: story kaisi hai?

Voters
46. You may not vote on this poll
  • behtreen

    34 73.91%
  • normal

    12 26.09%
Multiple Choice Poll.
Page 5 of 8 FirstFirst 12345678 LastLast
Results 41 to 50 of 74

Thread: محبت یا ہوس از سٹوری میکر

  1. #41
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    1
    Thanks Thanks Received 
    3
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Bhai g Next Update Kub Aa Arahi hai

  2. #42
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    177
    Thanks Thanks Given 
    256
    Thanks Thanks Received 
    318
    Thanked in
    146 Posts
    Rep Power
    172

    Default

    kahani ka Ab sar munh bann gia hai , sm Bhai update ka wait rahy ga .

  3. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    abkhan_70 (20-01-2019)

  4. #43
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    0
    Thanked in
    0 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Nixe update zabardast maza aya giea parna ma bhot awalaa waiting for the new update bhaii

  5. #44
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    15
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    22
    Thanked in
    14 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    kahani osm hai..... Udate ustad gee....?

  6. #45
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    923
    Thanked in
    535 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by Nadan dill View Post
    Nixe update zabardast maza aya giea parna ma bhot awalaa waiting for the new update bhaii
    kam ki waja se busy hoon jald new updates share kar doon ga thanks dosto

  7. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abkhan_70 (20-01-2019), sajjad334 (20-01-2019)

  8. #46
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    2
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    0
    Thanked in
    0 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    okaY bhaii intazar ha update ka

  9. #47
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    923
    Thanked in
    535 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by Admin View Post
    wah mere sher kia zaberdast update mari hai maza aa gya parh ker
    thanks admin bro................

  10. #48
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    923
    Thanked in
    535 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    Quote Originally Posted by i.aryananis View Post
    Bhai g Next Update Kub Aa Arahi hai
    Quote Originally Posted by irfan1397 View Post
    kahani ka Ab sar munh bann gia hai , sm Bhai update ka wait rahy ga .
    Quote Originally Posted by Nadan dill View Post
    Nixe update zabardast maza aya giea parna ma bhot awalaa waiting for the new update bhaii
    Quote Originally Posted by yasirsiddiqu View Post
    kahani osm hai..... Udate ustad gee....?
    Quote Originally Posted by Nadan dill View Post
    okaY bhaii intazar ha update ka
    thanks for replies...

    aj new update share kar raha hoon lekin ye half update b nahi hai. sorry

  11. #49
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    923
    Thanked in
    535 Posts
    Rep Power
    76

    Arrow 9th Update

    نویں قسط
    وہاب مجھے بتانے لگا کہ اسے گانڈو بنانے والا اس کا ماموں زاد بدر تھا، اسے کیسے گانڈو بنایا پھر اس نے مجھے بتایا کہ اس کی گانڈ کو محلے کے ہر لڑکے نے ڈرا دھمکا کر ماری کہ اسے اس گانڈ مروانے کا شوق پڑ گیا۔ پھر میرے سوال کے جواب دیتے ہوئے کہنے لگا کہ اس دن بلال نے اپنی منگیتر کو وحید کی دکان کے پچھلے حصے میں جہاں وہ کاٹھ کباڑ پھینک دیا کرتا تھا، لے گیا تھا۔
    ان دونوں کا مقصد صرف بات چیت تھا لیکن بار بار بلال کو عمران باہر بلا بلا کر سیکس کیلئے اکسانے لگا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی منگیتر سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے بعد شلوار کو کھول کر چند جھٹکے دے کر خود فارغ ہوگیا یہ سارا منظر عمران نے خود دیکھنے کیلئے پیدا کیا بعدازاں وحید کو معلوم ہونے پر اس نے بلال کو کافی جھاڑ سنائی۔
    وحید کےمطابق عمران کی وجہ سے بلال نے اس کی دکان کی پلید (گندی) کی جس کی وجہ سے عمران کا دکان میں داخلہ بند کر دیا تھا ۔
    عبیرہ: یہ ذکیہ، عاصمہ، صائمہ، صاعقہ ہیں ۔۔۔(تعارف کرواتے ہوئے)
    میں نے ان چاروں کے ایک ساتھ ہیلو کہنے پر ہائے کہہ کر ان کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو ایک کے بعد ایک ہینڈ شیک کرنے کے بعد عبیرہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
    عاصمہ: دراصل ۔۔۔ ہمیں۔۔۔ بھی (عاصمہ فارمل ہورہی تھی)
    ذکیہ: یار۔۔۔ مجھ سے فارمل انداز میں بات کرنا پسند نہیں ۔۔۔ ہمیں بھی تم فوٹواسٹیٹ کروا دو ۔
    صاعقہ: اس دن تو عبی (عبیرہ) نے اٹینڈس لگوا دی تھی لیکن آج تو چار چار ہیں۔۔۔ کون بولے گا؟
    عبیرہ اس مرتبہ بولی: ایسا کرتے ہیں کہ ہم پیپرز ابھی دے آتے ہیں واپسی پر مطلب چھٹی کے بعد دکاندار سے لے لیں گے
    میں: گڈ آئیڈیا۔۔۔ ویسے بھی روز روز کلاس بنک کرنا بیڈ مینرز میں شامل ہوتا ہے
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    اب وہاب موقعہ بنانے کی تاڑ میں لگا رہتا تھا، اور اسے موقعہ مل بھی جاتا تھاکیونکہ ایمان زیادہ تر چاچو کے ساتھ اپنے ننھیال میں جاتی رہتی تھی۔ چاچی مجھ سے چدتے ہوئے بولیں: آج کل تمہارا دھیان کہاں رہتا ہے؟؟
    میں چاچی کے مموں کو دباتے ہوئے بولا: کہیں بھی نہیں۔۔۔ بس باجی کی ٹینشن کی وجہ سے۔۔۔
    چاچی مجھے اپنے جسم سے لپٹاتے ہوئے: ہاں۔۔۔ اس بے چاری کے ساتھ بھی بہت برا ہو رہا ہے۔۔۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    وہاب اسی شام میچ کے بعد میرے سامنے جھک کر اپنی گانڈ میں میرا لن لیے کبھی خود اور کبھی میرے دھکوں کو برداشت کر رہا تھا کیونکہ ہم دونوں گراونڈ کے پاس ہی ایک نالے میں موجود تھے ۔ یہ جگہ بھی وہاب نے ہی ڈھونڈی تھی۔
    وہاب: بھائی۔۔۔ میں آپ کو ، کسی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
    میں: کیا مطلب؟؟؟
    وہاب: جہان زیب ، بھی میری طرح۔۔۔
    میں: ہر گز نہیں۔۔۔
    جہان زیب وہاب کا کزن (خالہ زاد) جبکہ میرا ایک سال پہلے تک دوست ہوا کرتا تھا ۔ ابو امی کی وجہ سے جہان زیب کے گھر والے ہم سے بات نہیں کیا کرتے تھے یا وجہ کچھ اور تھی۔جہان زیب مجھ سے چھ ماہ چھوٹا تھا۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    عبیرہ اب میرے اور قریب آ رہی تھی میں اس کو بارہا بار روکنے کی کوشش کر چکا تھا لیکن وہ پاگل لڑکی الٹا مجھے سمجھانے لگ جاتی تھی۔
    عبیرہ: پیار کرنہیں سکتے ہو تو جان من۔۔۔ پیار کرنے سے حق مت چھینا کرو۔
    عبیرہ میرے سامنے سے اٹھتے ہوئے میری آئس کریم کپ کو اٹھا کر میری ہی چمچ کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر باقی ماندہ آئس کریم چٹ کر گئی۔
    پیپرز شروع ہونے سے ختم ہونے تک چاچی اور چاچو نے میری بہت مدد کی، آخری پیپر دے کر میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا باجی غصے میں آپی کو کچھ کہہ رہی تھیں۔ میری ساری خوشی ختم ہوگئی میں کپڑے تبدیل کرکے خاموشی سے میچ کھیلنے کیلئے گروانڈ میں آگیا۔ میچ ختم ہوچکا تھا آج وہاب نہیں آیا تھا۔
    باسط: بھائی۔۔۔ میں نے آپ دونوں کی باتیں سن لی تھیں۔۔۔
    میں: کس کی باتیں؟
    باسط: آپ کی اور بھائی کی
    میں: اب تم ہمیں بلیک میل کرو گے؟ ہاں
    باسط: نہیں بھائی۔۔۔
    میں: پھر؟؟؟
    باسط: میں آپ کے گھر آج رہنے کیلئے آوں گا۔۔۔
    میں: کیا مطلب؟
    باسط: بس آپ ایک مرتبہ میری بات مان کر دیکھیں۔۔۔ فائدے ہی فائدے ملیں گے
    شام سے رات ہوچکی تھی باسط کبھی امی اور کبھی باجی کے پاس بیٹھ کر لاڈ نخرے اٹھوا رہا تھا۔ میں بھی اپنے بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔ رات کے ناجانے کس پہر مجھے وہی احساس ہوا جو اس رات ہوا جب چاچی نے اپنی بھڑکتی آگ کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میرے کمرے میں آئی تھیں۔
    میں نے جھٹ آنکھیں کھول دیں۔ زیرو واٹ کا بلب جل رہا تھا جبکہ کمرے کا دروازہ بند تھا۔ مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں باسط جھکا ہوا نظر آیا۔ میرا نیم کھڑا لن اس کے منہ میں محسوس ہو رہا تھا۔ میں اس کے منہ کی گرمی کومحسوس کرکے گرم ہونے لگا تھا۔ کچھ ہی دیر میں باسط میرے لن کو چوس چوس کر اپنے لیے تیار کرچکا تھا۔
    اس نے جلدی سے اپنی شلوار کو اتار کر قمیض کی جیب سے کنڈوم نکال کر میرے لن پر چڑھا دیا۔ میں بس دیکھ رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ باسط سے ملنےوالا نیا مزہ میں صحیح انداز میں محسوس کر سکوں۔ کنڈوم کے متعلق مجھے علم نہیں تھا لیکن باسط نے بعد میں بتا دیا تھا اس لیے فلحال آسانی کیلئے لکھ رہا ہوں۔
    باسط اپنی کمر میری طرف کرتے ہوئے میرے لن پر بیٹھنے لگا ۔ آہستہ آہستہ میرا لن اس کی گانڈ میں اپنے بھائی کی طرح گم ہوچکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ مسلسل اوپر نیچے ہوتے ہوئے اپنی گانڈ کو مجھ سے چدوا رہا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر میں تھک کر اب میرے سامنے ڈوگی سٹائل میں جھکے ہوئے میرے تیز متواتر دھکوں کو برداشت کر رہا تھا۔ میرے ہر دھکے کو وہ بُنڈ پیچھے کی طرف دبا کر برداشت کر رہا تھا ۔
    باسط: بھائی اب بس۔۔۔
    میں: وہ کیوں؟
    باسط میری گرفت سے نکلتے ہوئے فورا ً بیڈ سے نیچے اتر کر میرے لن سے کنڈوم کو اتار کر بیڈ کے نیچے رکھتے ہوئے فوراً میرے لہراتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں بھر لیا چند چوپوں کے بعد ہی میں اس کے منہ میں فارغ ہونے لگا۔
    ہم کپڑے پہن چکے تھے اب و ہ میری بغل میں لیٹا ہوا تھا: تم نے منی کیوں پی؟
    باسط: میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اس کو پینے سے جسم میں نکھار اور کیل چھائیاں ختم ہوجاتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تندرست رہتا ہے۔
    میں: تمہیں کیا ضرورت؟
    باسط: میرا لن چھوٹا ہے بھائی۔۔۔
    میں: منی پینے سے وہ بڑھا ہوجائے گا؟؟؟
    باسط: ہاں بھائی۔۔۔
    میں: بے وقوف۔۔۔ پھر ہر مرد یہی پینے لگ جائے
    باسط: چلو ۔۔۔ تجربہ ہی سہی۔۔۔
    میں: تمہیں یہ عادت کیسے پڑی؟
    باسط: مما کو دیکھ کر
    میں چونکتے ہوئے: کیا مطلب
    باسط: مما پاپا سمجھتے تھے کہ میں سو گیا لیکن وہ حام خیالی میں گم ، سیکس کرتے تھے میں ان کو دیکھ دیکھ کر ویسا ویسا سوچنے لگا پھر عمران نے۔۔۔
    باسط نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    اگلے دن باجی مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی اگر میں ، آپی کے ساتھ یا باجی کے ساتھ ہلکی پھلکی شرارت کرتا تو وہ گہری نظروں سے مجھے دیکھتی رہتی ، مجھے کافی مرتبہ محسوس ہوا کہ وہ میرے چہرے کے تاثرات نوٹ کر رہی ہیں۔
    رات کو جلدی سو جانے سے میری آنکھ ناجانے رات کے کس پہر کھل گئی میں اٹھ بیٹھا۔ پورے گھر میں ہو کا عالم چھایا ہوا تھا۔ میں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھا رہا پھر اٹھ کر پیشاب کرنے کی خاطر بیڈ سے اتر کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ باتھ روم سے فارغ ہونے کے بعد ناجانے کہاں سے میرے دماغ میں یہ سوچ ابھری کہ میں ایک چکر گھر کا لگا لوں۔ چلتا ہوا ایک کمرے کے بعد دوسرے کمرے سے ہوتا ہوا جب باجی کے کمرے کے قریب پہنچا تو مجھے باجی کے کمرے سے ہلکی ہلکی سسکاریوں کی آواز سنائی دینے لگی۔
    میں تجسس کی کیفیت میں چلتا ہوا باجی کے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچ کر کانی آنکھ سے دروازے کے اندر دیکھنے لگا اندر کا منظر میرے لیے نیا تھا۔ باجی صرف قمیض پہنے ہوئے اپنی شلوار اتار کر اپنے ہاتھ میں کھیرا پکڑے ہوئے اپنی پھدی میں اندر باہر کر رہی تھیں ۔
    باجی کو تقریبا ً یہاں آئے اب چار مہینے ہوچکے تھے شاید جنسی طلب کی خاطر باجی کبھی چاچی کے ساتھ تو کبھی ایسی حرکات کرنے کیلئے مجبور ہو رہی تھیں۔ اوپر سے باجی حاملہ بھی تھیں جس کی وجہ سے ان کی جنسی طلب مزید بڑھ چکی تھی۔ کافی کتابوں میں پڑھا گیا ہے کہ حاملہ عورتوں کے حمل کے پیریڈ میں عورت کی جنسی طلب عام دنوں سے دوگنا بڑھ جاتی ہے۔
    میں بڑے انہماک سے باجی کو کھیرا اپنی پھدی میں اندر باہر کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اچانک باجی کی نظر میرے سر پر پڑ گئی۔ باجی کا ہاتھ وہیں کا وہیں رک چکا تھا۔ میں اس بات سے بالکل انجان بس باجی کی پھدی کو دیکھ رہا تھا جہاں سے نکلنے والے پانی سے کھیرا گیلا ہوچکا تھا۔
    باجی بالکل مدھم لیکن تیز لہجے میں بولیں: تمہیں شرم نہیں آتی
    میں باجی کی بات سن کر جیسے خوابوں سے نکل آیا تھا ۔ باجی فوراً اپنی شلوار پہن کر بیڈ سے اتر کر تیزی سے چلتی ہوئی میرے قریب آئی اورجیسے ہی ان کی نظر میرے اکڑے ہوئے لن پر گئی وہ میرا بازو پکڑ کر مجھے میرے کمرے میں لے آئی۔
    باجی دروازہ بند کرتے ہوئے: یہ کیا حرکت تھی ؟
    میں: وہ۔۔۔ با۔۔جی۔۔۔
    باجی: شرم تو نہیں آئی تمہیں۔۔۔
    میں: سوری۔۔۔ باجی
    باجی: چھی۔۔۔ بہن ہوں میں ۔۔۔ مجھ پر ہی گندی نظر رکھتے ہو تم
    میں: نہیں باجی۔۔۔ آنکھ ۔۔۔
    باجی: صبح امی کو بتاوں گی۔۔۔ خود ہی علاج کرلیں گی تمہارا۔
    میں ڈرتے ہوئے: نہیں باجی۔۔۔ سچ میں۔۔۔ سوری۔۔۔ غلطی سے دیکھنے لگ گیا۔۔۔ سوری
    باجی کی نظریں بار بار میری آنکھوں سے ہٹ کر میرے سکڑ چکے لن پر جا رہی تھیں: میں تو پہلے بھی چپ کر گئی تھی جب چاچی کے ساتھ تم ، وہ سب ۔۔۔ کر رہے تھے۔۔۔ لیکن اب۔۔۔
    میں چکر ا کر رہ گیامیں جانتا تو تھا کہ باجی اور چاچی آپس میں سہیلیاں ہیں لیکن یہ ہرگز علم نہیں تھا کہ باجی کو میرا اور چاچی کے افیئر کا علم ہوگا۔ میں بیڈ پر بیٹھتا چلا گیا۔ باجی بھی میرے ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔ باجی کچھ دیر تک خاموش رہیں جب انہیں میرے رونے کا احساس ہوا تب انہوں نے فوراً میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میرے ماتھے کو چوم لیا۔
    باجی: چندہ۔۔۔ ایسے تو نہیں روتے۔۔۔ بچوں سے غلطیاں ہوجایا کرتی ہیں۔۔۔ اب چپ کرجاو۔
    میں پھر بھی روتا رہا باجی نے میرے سر کو اپنی بازو میں بھر لیا اور میری پیٹھ کو سہلانے لگیں اس وقت مجھے باجی کا جسم بے حد گرم محسوس ہوالیکن میں ہلکی ہلکی ہچکیاں لیتا ہوا روتا رہا باجی مجھے چپ کروا رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا اور امی کمرے میں داخل ہوئیں۔
    کچھ دیر تک امی کی شفقت پیار بھری باتیں سننے کے بعد میں ان کی گود میں لیٹ گیا۔ امی کے پوچھنے پر میرے بتانے سے پہلے ہی باجی بول پڑیں: میں اٹھی تو اس کے کمرے کی لائیٹ آن دیکھی تو یہاں آگئی یہ سوتے ہوئے رو رہا تھا جب اسے میں نے جگایا تو یہ مجھ سے لپٹ گیا اور رونے لگ گیا ۔۔۔ امی اس نے شاید کوئی ڈروانا خواب دیکھ لیا ہے۔۔۔
    اگلے دن پھر عبیرہ مجھے اپنی طرف راغب کرنےکی کوشش میں تھی لیکن میں ناجانے کیوں اپنے دل کیوجہ سے عبیرہ کو انکاری کیے جا رہا تھا۔ بریک ٹائم عبیرہ بولی: گھر میں میرے رشتے کی بات چل رہی ہے۔۔۔
    شام کو باجی عجیب سا برتاو کر رہی تھیں۔ جیسے ہی ہم دونوں اکیلے ہوتے باجی کبھی دوپٹہ اتار کر کام کرنے لگ جاتیں تو کبھی جھک کر کا م کرنے لگ جاتیں ، ان کے جھکنے سے ان کے مموں کی ہلکی سے جھلک نظر آ جاتی لیکن میں رات کے واقعے کی وجہ سے باجی سے ڈرا ہوا تھا اسی لیے میں آج چاچی کے گھر بھی نہیں گیا تھا۔
    کچھ دیر کے بعد خالہ ہمارے گھر آئیں اور ہم سب کو اپنے گھر انوائیٹ کیا۔ میں نے ان کی مکمل بات نہ سنی اور خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں آگیا۔
    آپی مجھے سمجھا کر خود امی، اور باجی کے ہمراہ خالہ کے گھر چلی گئیں۔ رات کو ایمان گھر میں داخل ہوئی۔ اس نے پیلے رنگ کا سلک کا سوٹ پہن رکھا تھا اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی میرے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئی واپسی پر دو چمچ لیے وہ واپس آکر میرے سامنے بیٹھ گئی۔
    ہم دونوں چاول کھانے میں مصروف ہوچکے تھے ایمان بولی: عبیرہ کا رشتہ طے ہوگیا ہے۔۔۔
    میں: اچھی بات ہے
    ایمان: آئی لو یو۔۔۔
    میرے دل میں ہلکی سی بھی ہلچل نہ ہوئی: اس نے بھی بولا تھا
    ایمان چمچ پلیٹ میں چھوڑتے ہوئے اٹھ کر کچن میں چلی گئی کچھ دیر کے بعد وہ واپس آئی اور مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پانی کے گلاس تھماتے ہوئے بولی: ابھی تک ناراض ہو؟
    میں: کس نے کہا
    ایمان : پھر۔۔۔ ایسے؟؟؟
    میں: چاچی ۔۔۔ ہرگز ایسا ہونے نہیں دیں گی
    ایمان: اب تو ان کے دل میں ۔۔۔
    میں نے بات کاٹتے ہوئے بولا: ابو نے ہمیشہ مجھے یہی سمجھایا ہے کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس کی تمنا دوبارہ نہیں کرنی چاہیے
    کچھ دیر کے بعد ایمان چائے کے دو کپ بنا کر لے آئی۔ ایمان پرائیوئٹ ادارے میں پڑھ رہی تھی اس نے بیالوجی سائنس کے مضامین رکھے ہوئے تھے۔ چاچی ہم دونوں کے ناجائز رشتے سے پہلے کافی مرتبہ خاص طور پر بریانی کی دعوت اڑاتے ہوئے شیخی سے ب جتلا چکی تھی کہ ایمان کی ایک مہینے کی فیس تین ہزار جبکہ دیگر اخراجات کو ملا کر کل چھ ہزار ایمان پر خرچ کر رہی ہیں۔ شہر کا سب سے مشہور اور مہنگا ترین جہاں ہر سال بیس ٹاپ پوزیشن آتی تھی ایمان وہاں داخل تھی۔
    شاید اس سکول کا اثر تھا کہ ایمان کا چلنے کا طور طریقہ، بات کرنے کا ڈھنگ، اور کپڑوں میں نمایاں تبدیلی آچکی تھی۔ کپ خالی ہوچکے تھے۔ ایمان کی سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں مجھے کچھ دیر کے بعد ہونے والی سنگین غلطی کا عندیہ دے رہی تھیں۔
    میں: باسط کہاں ہے؟
    ایمان : وہ گھر سو رہا تھا
    میں: وہاب؟
    ایمان مزید قریب آنے لگی تھی: مما کے ساتھ
    میں: گھر کوئی بھی نہیں ہے؟
    ایمان : نہیں
    میں: اگر کوئی آ گیا تو؟
    ایمان: مجھے اپنا لو ۔۔۔ پلیز
    میں: نن۔۔۔ نہیں
    مجھے اپنے چہرے پر ایمان کی گرم سانسیں محسوس ہورہی تھی: میں تمہاری دلہن بننا چاہتی ہوں جان
    لفظ جان سن کر میرے اندر کھلبلی پیدا ہونے لگی میں مزید کوئی فیصلہ نہ کرپایا کیونکہ تب تک ایمان کے تپتے ہوئے ہونٹ میرے ہونٹوں سے چسپاں ہوچکے تھے۔ مجھے اس کے بعد کچھ بھی یاد نہیں کہ میرے ہاتھوں نے ایمان کے جسم کے کسی بھی حصے کو کتنا محسوس کیا اور ایمان میرے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرکے کیسا فیل کر رہی تھی۔ مجھے بس یہی یاد تھا کہ تانیہ کے بعد آج ایمان نے اسی انداز میں مجھے جان کہہ کر مخاطب کیا تھا جس سے مجھے محبت ہوچکی تھی۔صرف اس لفظ کو سنتے ہی میں تانیہ کے ساتھ ہولیا کرتا تھا۔
    ایکدم سے میرے دماغ نے مجھے جھنجوڑا، میں نے اپنا چہرہ اٹھایا تو میری آنکھوں کے سامنے ایمان تقریباً مادرزاد ننگی میرے نیچے لیٹی ہوئی مدہوش نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ ایمان کےمعصوم چہرے پر میرے ہونٹوں کے ہلکے ہلکے نشان موجود تھے۔ جبکہ میری آنکھیں جب ایمان کی آنکھوں میں پیوست ہوئیں ایمان کی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے پائی جانے والی لالی اب گہری ہوچکی تھی۔
    ایمان: کیا میں عبیرہ سے کم خوبصورت ہوں جان؟
    ایمان نے بات کرتے ہوئے میرے چہرے کو تھام لیا، میں ایک مرتبہ پھر ایمان کے ہونٹوں پر جھک چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ، میں جھکے ہوئے ہی ایمان کی سفید رنگت والی برا اتار چکا تھا ایمان شرمائے بغیر ہی اب میرے سر کو اپنے پستانوں پر دبا رہی تھی میرے منہ میں ایمان کے پستان جاتے ہی مکھن کے پیڑے کی مانند انتہائی نرم محسوس ہورہے تھے میں ایمان کے مموں کی نپل کو اپنے زبان سے چاٹ رہا تھا کمرے میں ایمان کی ہلکی ہلکی سسکاریاں کمرے کی فضا کو خوشگوار بنا رہی تھی۔
    کچھ دیر تک ایمان کے مموں سے انصاف کرنے کے بعد اب میں آنکھیں بند کیے ہوئی لیٹی ہوئی ایمان کی طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ آگے کی منزل اس کے لیے مشکل ہوسکتی تھی ۔

  12. The Following 10 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abba (23-01-2019), Admin (21-01-2019), aloneboy86 (21-01-2019), fahadfraz (30-01-2019), hananehsan (21-01-2019), MamonaKhan (22-01-2019), Mirza09518 (23-01-2019), mmmali61 (21-01-2019), sajjad334 (21-01-2019), sweetncute55 (21-01-2019)

  13. #50
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,173
    Thanks Thanks Given 
    232
    Thanks Thanks Received 
    262
    Thanked in
    85 Posts
    Rep Power
    1542

    Default

    Lajawab update hai. Bakamal kahani hai

  14. The Following User Says Thank You to Admin For This Useful Post:

    mmmali61 (21-01-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •