جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 14

Thread: آئیڈیل

  1. #1
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    20
    Thanks Thanks Received 
    37
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default آئیڈیل

    بچپن لڑکپن نوجوانی جوانی بڑھاپے میں سے اگر کچھ من میں میٹھے درد کی ماند اک تیر سا بن کر آر پار سا رہتا ہے، تو وہ ہے بچپن.فکر سے آزاد دکھوں سے دور، بس اس بچپن کے زمانے میں ایک چیز جو من کو ناگوار گزرتی ہے، وہ ہے پڑھائی، گھر والے جو ہر وقت کہتے رہتے ہیں، پڑھو نہیں تو زندگی میں ناکام رہہ جاؤ گے

    بچپن میں انسان ضرور کسی نہ کسی دوسرے انسان سے متاثر ہوتا ہے، اور اس کو اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے.اسکا آئیڈیل کوئی شاعر ہو سکتا ہے، کوئی فلمسٹار ہو سکتا ہے، پر میری آئیڈیل میری باجی تھی

    اک کمال سا حاصل تھا انکی شخصیت کو، کہ وہ میرے جسم و جاں پہ حاوی تھی.دل جاگ سا اٹھتا تھا انھیں دیکھ کر، تنہایاں بھاگ سی پڑتی تھی سرپٹ مجھ سے کہی دور، ہاں انھیں دیکھ کر، سکون کے ٹھنڈے چشمے میں دل تہر سا جاتا تھا، ہاں انھیں دیکھ کر.پرکشش بڑی کالی آنکھیں، گورا رنگ درمیانہ قد، بھرا بھرا جسم، دوپٹہ ہر وقت گلے میں، نفیس چال.جب کبھی وہ اپنے گورے پاؤں میں موتیوں سے سجے سینڈل پہنتی تھی تو آہ اس دل سے جیسے جان سی نکل جاتی تھی

    ہم شہر کے ایک اچھے ایریا میں رہتے تھے، تین کمروں پہ مشتمل ہمارا عمدہ سا گھر تھا.ابّو کا اسی ایریا میں بڑے لیول کا گروسری سٹور تھا، جس کا کام بہت اچھا چل رہا تھا.میری اور باجی کی عمر میں آٹھ سال کا فرق ہے.تھے تو ہمارے گھر کے تین کمرے، پر استمال صرف دو ہی ہوتے تھے.ایک میں امی ابّو سوتے تھے اور دوسرے میں، میں اور باجی.باجی کا پڑھائی میں خوب دل لگتا تھا پر میں پورا دن انہی کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا اور پھر رات کو سو کر بھی بس خوابوں میں بھی انہیں ہی دیکھا کرتا تھا، وہ رات گے تک اپنی سائیڈ کا ٹیبل لیمپ آن کر کہ پڑھتی رہتی تھی

    پہلے جب میں بچہ تھا تب مجھے اپنے انکے بارے میں خیالات کی سمجھ نہیں تھی، پھر جب میں بچے سے نوجوان بننا شروع ہوا اور میری سوچوں نے دماغ سے نکل کر عضوتناسل کی طرف سفر کا آغاز کیا، تب مجھے اپنے بچپن کی حقیقتوں سے سامنا ہوا.پہلی بار میں نے اپنے عضوتناسل کو باتھ روم میں کھڑے ہو کر باجی کا ہی سوچ کر سخت کیا، تو عضو خوشی سے جھوم اٹھا.ایسے جیسے برسوں سے اسے اسی پل کا انتظار تھا، پھر جلد ہی وہ خوشی سے کانپا اور میٹھی نیند سو گیا

    اب میری عمر تیرہ سال تھی اور باجی کی اکیس.پر میں اب بھی باجی کے ساتھ ہی سوتا تھا.امی ابّو تو مجھے کب کا باجی سے الگ روم میں شفٹ کروا چکے ہوتے، پر یہاں پہلی بار میری پڑھائی میرے کام آئی.وہ ایسے کے باجی نے اپنی دیر رات والی پڑھائی میں مجھے بھی شامل کر لیا.اب میں بھی باجی کے ساتھ دیر رات پڑھنے لگا، مجھے اکثر نیند آ جاتی تھی پر ابھی میں نیند میں غوطہ لینے ہی والا ہوتا تھا کہ باجی کا زوردار تھپڑ میرے سر کی بیک پہ پڑتا اور میں پھر سے ہوش میں آ جاتا، اور باجی کی جانب مسکینوں کی طرح دیکھتا تو وہ غصّے سے گرجتی'' ابّ سونا مت ''.ہاں ایسی ہی تھی وہ میرے ساتھ غصے سے بھری ہوئی، اور میں سہم سا جاتا، کیونکے مجھے ان کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا

    ہم رات کو بارہ بجے سوتے تھے.ایک رات سوتے میں میری آنکھ کھل گئی، قریب دو بج رہے تھے.زیرو پاور بلب کی مدھم سفید روشنی میں، میں نے دیکھا کے باجی دوسری طرف منہ کر کے سو رہی ہیں.سوتے میں انکی قمیض بیک سے تھوڑی اٹھی ہوئی تھی.جس کی وجہ سے انکی گانڈ شلوار پہنے ہونے کے باوجود بھی خوب جلوے بکھیر رہی تھی.باجی کی گانڈ بہت موٹی، چوڑی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی.میں یہ منظر دیکھ کر پگل سا گیا.مجھ سے سہا نہیں جا رہا تھا یہ منظر، پہلی بار جو دیکھ رہا تھا ایسا نظارہ.میرا منہ بھی انہی کی جانب تھا.میں نے اپنے عضو کو ٹروزر کے اوپر سے ہی رگڑنا شروع کر دیا، میرا عضو سخت سے سخت ہوا جا رہا تھا.میں تصورات میں بےباک جانے کیا سے کیا کئے جا رہا تھا.ہر گذرتے پل کے ساتھ میری سانسیں تیز اور میرے ہاتھ کی عضو پہ حرکت بھی شدّت اختیار کئیے جا رہی تھی کہ میرے اس عمل سے بیڈ ہلکا ہلکا ہلنے لگا.اس سب میں میں یہ بھول گیا کے باجی کی نیند فطرتاً بہت کچی تھی

    اچانک باجی کا کمر سے اوپر والا جسم پیچھے کو ہلکا سا مڑا پہلے انکی نظریں میری نظروں پر پڑی.میری نظروں کا مرکز جاننے کے بعد انکی نظریں میرے اس ہاتھ پر پڑی جس سے میں نے عضو کو تھام رکھا تھا،وہ جیسے سکتے میں چلی گئی، میں بھی جہاں تھا وہی جم سا گیا جیسے.کچھ پل گزرے تو انکا ذہن شاید سکتے سے باہر کو آیا، اور انکے چہرے پر غصّے کے طوفاں سے امڈ آے.اور وہ چللائی''بےغیرت انسان صبح ابّو تمہارا فیصلہ کریں گے.یہ کہتے ہوے وہ اٹھی اور اپنا دوپٹہ اٹھاتے ہوے روم سے باہر چلی گئی، شاید تیسرے والے کمرے میں.ابّو کا سنتے ہی میرے تو ہوش سے گم ہو گے.اپنے ابّو کے غصے سے میں اچھی طرح سے واقف تھا.میں جانتا تھا کے اس بات پر تو انہوں نے مجھے جان سے ہی مار دینا ہے

    موت کے خوف سے مجھے پھر نیند نہیں آئی،سانسیں گنتے گنتے صبح ہو گئی.میں ڈر کے مارے روم سے باہر ہی نہیں نکلا.جب اپنے وقت پہ میں باہر نہیں آیا تو امی کمرے میں آ گئی اور لائٹ آن کر کے مجھے دیکھتے ہوے بولی '' حماد بیٹا اٹھے نہیں ابھی تک سکول کو دیر ہو جائے گی''.میں جو انکے آنے پر آنکھیں بند کر چکا تھا، انکا نارمل لہجہ سنتے ہوے سمجھ گیا کے باجی نے انھیں یا ابّو کو کچھ نہیں بتایا، میں نے آنکھیں کھول لی اور کہا''آتا ہوں امی''جب امی گئی تو میں نے گہری گہری سانسیں لینا شروع کر دی، ایسی سانسیں جو میرے اختیار سے باہر تھی، شاید موت سر سے ٹلنے کی وجہ سے

    میں تیار ہو کر روم سے باہر آیا تو امی ابو اور باجی ناشتہ کر رہے تھے، میں بھی انکے ساتھ شامل ہو گیا.میں نے ناشتے کے دوران باجی کی طرف چوری چوری دیکھا تو انکے چہرے پر مجھے گہری سنجیدگی نظر آئی، اور یوں لگا جیسے وہ اپ سیٹ ہیں.امی اچانک ناشتہ کرتے ہوے باجی کو مخاطب کر کے بولی'' بانو تم آج دوسرے روم میں کیوں سوئی ہو، اور آج یونیورسٹی کے لئے تیار بھی نہیں ہوئی''.باجی بولی '' نیند نہیں آ رہی تھی رات کو، سوچا جگہ چینج کروں تو شاید آ جائے، اور یونیورسٹی جانے کا آج دل نہیں کر رہا''.امی تھوڑی پریشان ہو گئی کیوں کے وہ جانتی تھی کہ باجی کچھ بھی ہو جائے اپنی سٹڈی کا حرج نہیں ہونے دیتی''تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ؟.باجی امی کو پریشان ہوتے دیکھ بولی.''جی امی میں ٹھیک ہوں، آپ پریشان نہ ہوں

    میں ناشتہ کر کے سکول چلا گیا.پورا دن میں ہمیشہ کی طرح باجی کہ بارے میں ہی سوچتا رہا، مجھے ان پر جی بھر کے پیار آ رہا تھا، انہوں نے میری جان جو بچائی تھی، پھر اچانک ایک خیال سا دماغ میں آیا کہ ''کیا اب کبھی وہ میرے ساتھ نہیں سوئیں گی؟یہ خیال آتے ہی میرا دل جیسے تڑپ کے رہ گیا.یہ بات میری برداشت سے باہر تھی.جیسے تیسے دن گزارا اور پھر رات آ ہی گئی.رات کو جب میں کھانے کھا کر کمرے میں آیا تو تھوڑی ہی دیر بعد باجی بھی آ گئی، انہوں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بیڈ پر میرے پاؤں والی سائیڈ پہ آ کر بیٹھ گئی.میں نے پاؤں بیڈ کہ اوپر کئیے ہوے تھے.میرے سینے میں دل ہلکے ہلکے خوف سے دھڑکنا شروع ہو گیا.وہ کاٹ کھانے والے لہجے میں بولی.'' یہ میری تمہیں پہلی اور آخری وارننگ ہے وہ بھی اسلئے کے تم ابھی چھوٹے ہو، تمہیں عقل نہیں کے تم کیا کر رہے ہو، آئندہ ایسی حرکت کی تو میں ابّو کو بتا دوں گی، اور اپنی پڑھائی کی طرف توجو دو''..یہ کہتے ہوے وہ اپنی سائیڈ پر آئی اور اپنی بک اٹھا کر پڑھنے لگی

    میرا خوف میں مبتلا دل آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا.میں کتاب سامنے رکھ کر گہری سوچوں میں ڈوب گیا.اک جنگ سی چھڑ چکی تھی میری سوچوں کے میدان پر.پھر اک ارادہ سا کیا میں نے کہ اب میں کوشش کروں گا کے باجی کو اپنے دماغ سے نکالوں

    دن گزرتے جا رہے تھے، اور میں اپنے ارادے میں بری طرح ناکام ہو چکا تھا، میں انھیں اپنے دماغ سے نہیں نکال پا رہا تھا.ہاں پر میں نے پھر کبھی بیڈ پر وہ حرکت نہ کی، جب بھی کی باتھ روم میں جا کر کی

    دن گزرے اتنا گزرے کہ موسم سرما آ گیا، ایک سردیوں کی شدید سرد رات تھی.دیر رات میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو عجیب و حسین حالت میں پایا.میں پتا نہیں کیسے اپنے رضائی سے نکل کر باجی کی رضائی کہ اندر پہنچا ہوا تھا.باجی دوسری طرف منہ کر کے سوئی ہوئی تھی اور میں انکی بیک سے پورا جڑا ہوا تھا.میرا عضو ٹروزر کہ اندر سخت اکڑا ہوا انکی شلوار کے اوپر سے انکی گداز گانڈ کی دراڑ میں دھنسا ہوا تھا.لذت سے میرا برا حال ہوا جا رہا تھا.نیند جیسے یکدم میری آنکھوں سے میلوں دور جا چکی تھی.باجی کہ جاگنے کا خوف اچانک میرے ذہن سے ٹکرایا تو میں نے سانس بھی آہستہ لینے شروع کر دئیے.دل کر رہا تھا کہ اپنے عضو کو انکی گانڈ کی دراڑ میں رگڑوں، پر وہی انکے جاگنے کا خوف.لذت اتنی تھی کہ خوف کہ باوجود پیچھے نہیں ہٹ پا رہا تھا

    پھر تھوڑی ہی دیر بعد میں ڈسچارج ہو گیا.اتنا ڈسچارج ہوا کے میرا ٹروزر سپرم سے بھرنے گیا.میں کچھ پل کو ٹھہرا اور پھر اپنی رضائی میں واپس آ گیا.اک عجب سا سکون اور تازگی میری طبیعت پہ چھائی ہوئی تھی.میں حیران بھی تھا کے باجی کی نیند اتنی کچی ہے، پھر وہ اٹھی کیوں نہیں.صبح جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو وہ بلکل نارمل تھی.ایسے جیسے انھیں گزری رات کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوا.اب جب میں ہر رات سوتا تو یہی سوچ کر سوتا کے کاش جب دیر رات میری آنکھ کھلے تو میں باجی کی رضائی میں ہوں، کیوں کے خود سے انکی رضائی میں جانے کی مجھے ہمت نہیں تھی.ہاں اگر غیرارادی طور پر پہنچ جاتا انکی رضائی میں اور وہ اٹھ جاتی تو کم از کم یہ بہانہ تو ہوتا نہ کے میں سوتے میں یہاں آیا ہوں جان بوجھ کر نہیں

    پر بہت دن گزر گے میں پھر سے انکی رضائی میں سوتے میں نہیں پہنچ پا رہا تھا.پھر یوں ہونا شروع ہوا کہ آہستہ آہستہ بات میری برداشت سے باہر ہوتی جانے لگی، ایک طرف باجی کی لاسٹ وارننگ یاد آتی اور دوسری طرف وہ حسین منظر گھومتا میری آنکھوں کے سامنے کہ میں باجی کہ ساتھ پیچھے سے چپکا ہوا ہوں.ایک رات جب باجی سوئی ہوئی تھی اور میں جاگا انکی طرف منہ کئے لیٹا ہوا تھا.لذت نے میرے وجود کو چاروں اور سے گھیرا ہوا تھا.مجھ سے اور قابو نہ پایا گیا اپنے آپ پر.میں آہستہ آہستہ اپنی رضائی سے نکلا اور پھر باجی کی رضائی میں داخل ہوا.شدید سردی کے باوجود، باجی کے جسم کی حدّت نے رضائی کو گرما رکھا تھا.میں سانس بھی سوچ سمجھ کے لے رہا تھا، اور پھر میں آہستہ پیچھے سے باجی کے ساتھ جڑ گیا.مستیوں سے بھری لہریں سر سے پاؤں تک میرے جسم میں دوڑنے لگی.راحت کی بارش میرے وجود پہ برس سی پڑی

    میرا سینہ باجی کی پیٹھ کے ساتھ اور پیٹ سے نیچے عضو تناسل اور گھٹنوں تک کا حصّہ باجی کی گانڈ اور بھری بھری رانوں کے ساتھ جڑا ہوا تھا.سرور کا جنوں میرے پہ حاوی ہوتا جا رہا تھا.لطف کی آوارگی نے مجھے اتنا مجبور کر دیا تھا کے مجھ سے باجی کی شلوار کی رکاوٹ برداشت نہیں ہو پا رہی تھی.میں نے لطف میں بہکتے ہوے دونوں ہاتھوں سے باجی کی قمیض جو کہ پہلے سے بیک سے تھوڑی اوپر تھی اسے تھوڑا اور اوپر کیا، اور دونوں ہاتھ باجی کی شلوار پر لاسٹک والی جگہ پر رکھے اور باجی کی شلوار کو نیچے کرنا چاہا کے اچانک باجی نے اپنا دایاں ہاتھ پیچھے کر کے میرے دائیں ہاتھ کو پکڑ لیا

    اک سنسنی سی میرے وجود میں پھیلتی چلی گئی.وہ جاگ رہی تھی، پھر انہوں نے مجھے کچھ کہا کیوں نہیں، انھیں تو مجھے ڈانٹنا چائیے تھا، ابّو کو بتانا چائیے تھا، یعنی اس رات بھی جب میں سوتے میں انکے پاس پہنچا تھا، تب بھی وہ جاگ رہی تھی.لذت اور سرور کی خوشی کی انتہا نہ رہی انکے جاگنے کا جان کر.میں نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کر دئیے، یہ سوچ کر کے کہی شلوار نیچی کرنے کی ضد سے وہ بگڑ نہ جائیں.میں پوری طرح انکے ساتھ جڑا رہا اور پھر یوں ہی جڑے جڑے میں ڈسچارج ہو گیا، پھر کچھ دیربعد میں اپنی رضائی میں آ گیا

    پھر یہ لطف سے بھرا سلسلہ ہر رات شروع ہو گیا، ہم دونوں کا یہ سلسلہ بھی عجیب تھا، جب ہم سونے کیلئے لیٹتے تب ساتھ ہی وہ سب شروع نہیں ہوتا تھا.رات دو تین بجے جب میری آنکھ کھلتی تب میں باجی کی رضائی میں جاتا اور پیچھے سے انکے ساتھ جڑ جاتا.اور پورا دن ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے نارمل رہتے جیسے ہم میں کچھ ہو ہی نہیں رہا.میں جب باجی کو گھر میں چلتے پھرتے دیکھتا تو میرا جی چاہتا کے باجی کو ننگا کر کے انکی گانڈ مموں اور سارے جسم کا دیدار کروں اور انھیں کہوں پلیز میرے سامنے گھر میں ننگی ہی چلا کریں، تاکے میں آپ کی گول مٹکتی گانڈ کو آپ کے موٹے کھڑے مموں کو اچھالتا دیکھ سکوں.پر وہ تو رات کو بھی مجھے شلوار نیچے نہیں کرنے دیتی تھی، بس اپنے ہاتھ سے میرے ہاتھ کو پکڑ کے مجھے روک لیتی تھی.ہر رات کے ان حسین پلوں میں کبھی ہمارے بیچ کوئی بات نہ ہوتی

    ایک رات امی ابّو میں اور باجی کھانے کہ بعد ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ اچانک لائٹ چلی گئی اور یو-پی-ایس بھی آن نہیں ہوا تو ٹی وی لاؤنج اور پورے گھر میں گھپ اندیھرا چھا گیا.ابّو ایمرجنسی لائٹ لے کر یو-پی-ایس چیک کرنے باہر پورچ میں چلے گے، ٹی وی لاؤنج میں پھر گھپ اندھیرا ہو گیا.امی اور باجی آپس میں باتیں کرنے لگی.میں اور باجی ایک ٹو سیٹر صوفے پہ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے اور ساتھ دوسرے صوفے پر امی بیٹھی تھی.تھوڑی دیر گزری کہ اندھیرے نے میرے جذبوں کے ساتھ شرارت شروع کر دی.میرا ہاتھ اک سحر میں مبتلا صوفے کی گدی سے اٹھا اور باجی کی ایک ران پر جا ٹیککا.میں نے آہستہ آہستہ انکی بھری بھری نرم ران کو شلوار کے اوپر سے ہی سہلانا شروع کر دیا.باجی نے امی سے باتیں کرتے کرتے میرا ہاتھ پیچھے کی جانب جھٹکا


    پر میں باز نہ آیا اور پھر سے میں نے اپنا ہاتھ انکی ران پر رکھ دیا اور اسے پھر سے سہلانے لگا.اب کی بار باجی نے میرا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا تو میں نے اپنے ہاتھ کو مضبوطی سے انکی ران پر رکھے رکھا.انکی بہت کوشش کے باوجود میں نے ہاتھ نہیں ہٹایا.امی بولی''وہ شگوفتہ کی بیٹی کیسی ہے سٹڈیز میں''.باجی میرا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ہوے بولی''اچھی ہے امی.اتنے میں، میں نے باجی کا جو ہاتھ میرے ہاتھ پر تھا اس پر کس کیا اور ساتھ میں انکی ران پر بھی کس کر دیا.باجی ایک ہاتھ سے میرے ہاتھ کو پیچھے تو کر رہی تھی اب انہوں نے میرے چہرے کو اپنے دوسرے ہاتھ سے پیچھے کی طرف جھٹکا.اتنے میں ابّو کے اندر آنے کی آواز آئی اور میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور صحیح ہو کر بیٹھ گیا

    ابو امی کہ ساتھ صوفے پر آ کر بیٹھے اور بولے.''لائٹ آ جائے گی تھوڑی دیر میں، یو-پی-ایس اب صبح ہی ٹھیک ہو گا''..پھر تھوڑی دیر بعد لائٹ آئی اور میں اپنے روم میں آ گیا.باجی بھی تھوڑی دیر بعد روم میں آئی اور اپنی بکس اٹھا کر باہر جانے لگی.میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ''کہاں جا رہی ہیں؟'' تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور روم سے باہر چلی گئی.رات ساری کروٹیں بدلتے ہوے گزر گئی، اپنی غلطی پہ رہ رہ کر غصہ آنے لگا مجھے.صبح ہوئی تو امی نے ایک دل ہلا دینے والا انکشاف کیا کے باجی اب دوسرے روم میں شفٹ ہو رہی ہیں، کہتی ہیں اب انھیں اپنی پرائیویسی چائیے.میری تو سانس سی رک گئی یہ سن کر

    میں نے باجی کی طرف دیکھا جو ناشتہ کر رہی تھی، انکے چہرے پہ ایسے تاثرات تھے جسے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا روم شفٹ کر کے.پر مجھ سے تو شاید کسی نے سب کچھ چھین لیا تھا، خالی کا خالی رہ سا گیا تھا میں. ایک خیال سا جانے کہاں سے کودا میرے دماغ میں''پر امی باجی مجھے پڑھاتی ہیں روز''.امی بولی.''اب خود سے پڑھ لیا کرو، کب تک بانو تمہیں پڑھاۓ گی،ایک سال بعد اسکی سٹڈی ختم ہو رہی ہے اور پھر اسکی شادی ہو جانی ہے، تب بھی تو تمہیں خود ہی پڑھنا پڑے گا نہ''.میں خاموش ہو گیا، اور ناشتہ کر کے سکول چلا گیا

    عامر بھائی ہمارے تایا کے اکلوتے بیٹے تھے، اور باجی کے ہم عمر تھے.ان دونوں کا رشتہ بچپن سے ہی طہ تھا.عامر بھائی باجی سے بہت پیار کرتے تھے، پر باجی کا مجھے نہیں پتا کے انکی کیا فیلنگز تھی انکے بارے میں.میں اکثر بھول جاتا تھا کے باجی کی شادی بھی ہونی ہے اور انہوں نے مجھ سے دور دوسرے شہر چلے جانا ہے.میں جب سوچتا کہ عامر بھائی وجہ بنیں گے میری باجی کو مجھ سے دور کرنے میں تو میرا دل چاہتا کہ میں سر پھوڑ دوں عامر بھائی کا

    باجی روم سے شفٹ ہو چکی تھی، میرا کمرہ اب کسی ویران کھنڈر کی ماند لگتا تھا مجھے.دل چاہتا تھا کچھ کر جاؤں.پر کیا کر سکتا تھا میں سواۓ برداشت کہ.پر پھر برداشت بھی تو نہیں ہوتا تھا نہ.آہستہ آہستہ میری صحت خراب ہونے لگی اور میں کمزور پڑنے لگا.امی نے میری حالت محسوس کی تو بہت پریشان ہو گئی، انہوں نے بہت پوچھا کے کیا مسلہ ہے، پر میں اب انھیں کیا بتاتا.ابّو کو امی نے فکرمند لہجے میں جب یہ بات بتائی تو وہ بولے''پتا نہیں کیا مسلہ ہے یہ آج کل کے بچوں کو، دنیا کی ہر سہولت دو تب بھی یہ خوش نہیں رہتے''.میں نے کھا جانے والی نظروں سے ابّو کو دیکھا تو انہوں نے میری نظروں کو محسوس کرتے ہوے، ایک زور کا تھپڑ میرے گال پر رسید کیا.میں خاموش ہو کر اٹھا اور اپنے کمرے میں آ گیا اور خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گیا.باہر سے ابّو کی گرجدار آوازیں آ رہی تھی''اسکو بس اس تھپڑ کی ضرورت ہے، باقی اسے کچھ نہیں ہوا، نالایق کہی کا

    دن گذرتے جا رہے تھے، موسم سرما بیت گیا تھا اور موسم بہار کی آمد تھی.پر میرے دل کا موسم خزاں کا چل رہا تھا.بانو باجی کی دوری میں میرا سفید رنگ پھیکا پڑتا جا رہا تھا.اس گھر میں امی کے علاوہ کسی کو میری پرواہ نہیں تھی.باجی نے تو مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی، وہ تو جیسے پتھر کی مورت سی بن گئی تھی.کہتے ہیں اگر کوئی غم ہو تب جی بھر کے رو لو تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے، پر میری عجیب سے فطرت تھی کے میں کبھی رویا نہیں تھا، مجھے آنسو نکلتے ہی نہیں تھے، چاۓ جو مرضی ہو جائے

    ہمارے ابو کے دو بھائی تھے ایک ابو سے بڑے ، جن کے بیٹے عامر بھائی تھے، اور ایک ابو سے چھوٹے.ابو کے چھوٹے بھائی کی بیٹی کی شادی تھی، یعنی میرے چچا کی بیٹی کی.انہوں نے فون کر کے ابو کو انوائٹ کیا اور شادی سے ہفتہ پہلے آنے کا بولا.پر ابو نے مصروفیت کا کہہ کر یہ کہا کہ شادی والے دن ہم آ جائیں گے.میرا تو اس شادی پر جانے کو ذرا دل نہیں تھا.کیوں کے اس شادی پر عامر بھائی نے بھی ہونا تھا، اور انھیں دیکھ کر میرا موڈ خراب ہو جاتا تھا.پر نہ چاہتے ہوے بھی مجھے جانا تو لازمی تھا کیونکے ابھی میری اتنی عمر نہیں ہوئی تھی کے میں اس گھر میں اپنے فیصلے کرتا

    شادی والے دن ہم پہلے تایا کے گھر گے، گھر کیا ایک عالیشان بنگلہ تھا.ابو اور امی نیچے ایک کمرے میں سیٹل ہو گے اور مجھے اور باجی کو اوپر عامر بھائی کے ساتھ والے دو کمرے دے دئے گے.عامر بھائی کی تو خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی.پر ان کی خوشی سے بھی کئی زیادہ میں غم میں ڈوبا تھا.رات کو جب سب شادی کے لئے تیار ہو کر لیونگ ایریا میں اکٹھے ہوے تو، میری آنکھیں باجی کو دیکھ کر جمی کی جمی رہ گئی.بڑی بڑی آنکھیں وہ گورا رنگ، سبز خوبصورت لباس، سٹریٹ کالے لمبے بال گلے میں خوبصورتی سے رکھا گیا دوپٹہ.چاند سے اتری کوئی پری لگ رہی تھی باجی.میں نے اپنی جمی ہوئی نظریں ہٹا کر جب عامر بھائی کی طرف دیکھا تو وہ رشک بھری نظروں سے باجی کو دیکھ رہے تھے.جب ہم سب شادی والے گھر جانے کے لئے اٹھے اور باہر پورچ میں آۓ تو تایا نے کہا کے بانو بیٹی ہمارے ساتھ جائے گی.عامر بھائی تو خوشی سے جھوم اٹھے پر میرے غم کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا.شادی والے گھر بھی کزنز نے زبردستی باجی اور عامر بھائی سے ایک ساتھ ڈانس کروایا.باجی تو ہلکی سی مسکراہٹ کہ ساتھ ہلکی ہلکی تالی بجاتی رہی پر عامر بھائی نے عجیب و غریب قسم کے سٹیپس کئیے.واپسی پہ بھی باجی انھی کی گاڑی میں تھی

    میں واپسی پہ سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا اور لائٹ آن کر کے اپنے بیڈ پہ آ بیٹھا اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ کر جانے کتنی دیر بیٹھا رہا.مجھے کمرے میں گھٹن سی محسوس ہونے لگی.میں یہ سوچتے ہوے اٹھا کے باہر ٹیرس میں جا کر ذرا تازہ ہوا لے لوں.میں اپنے کمرے سے نکلا اور ٹیرس کہ دروازے کی جانب بڑھا.میں ابھی دروازے کے قریب پہنچا ہی تھا کہ، مجھے کسی کی باتوں کی آواز آئی.میں نے بند دروازے کو آہستگی کہ ساتھ بلکل تھوڑا سا کھولا تو سامنے باجی اور عامر بھائی کھڑے تھے.عامر بھائی نے باجی کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا اور انھیں کس کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جب کے باجی شرم سے سرخ مسکرا رہی تھی اور عامر بھائی کو پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی.عامر بھائی بولے''بانو صرف ایک کس''.باجی نے شرماتے ہوے کہا''نہ بابا شادی تک انتظار کریں''.اچانک باجی کی نظر مجھ پر پڑ گئی، اور میرے آنسووں پر جو میری آنکھوں سے جاری ہو چکے تھے.ان سے نظریں ملنے پر میں اپنے کمرے میں لڑکھڑاتا ہوا پہنچا اور لائٹ آف کر کے اور زیرو کا بلب جلا کر اپنے بیڈ پر بےجان سا ہو کر گر پڑا.میں کروٹ کے بل بیڈ کے ایک کونے پہ لیٹا ہوا تھا

    رات آدھی بیت چکی تھی، اب تک میرے آنسو نہیں رکے تھے، شاید عمر بھر کا غبار تھا جو ختم ہی نہیں ہو رہا تھا، کہ اچانک میرے روم کا دروازہ کسی نے کھولا، اور پھر دروازہ بند ہونے کی آواز آئی،میں پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا کہ کون ہے کہ اتنے میں آنے والے نے مجھے پیچھے سے ہگ کر لیا.آہ وہ گداز جسم، اس جسم کا لمس میں کیسے بھول سکتا تھا، مجھے پتا نہیں کیا ہوا، میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.وہ میری بیک سے کونی کہ بل تھوڑا اوپر ہوئی اور بولی.''پاگل ایسے نہیں کرتے، ادھر ہو میری طرف، میں ہچکیاں لیتے ہوے انکی طرف ہوا، اب وہ پھر سے لیٹ چکی تھی، ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے سامنے تھے.انہوں نے میرے آنسو صاف کرنے کی ناکام کوشش کی اور بولی''چپ ہو جاؤ ، تم تو کبھی بھی نہیں روۓ ، تم بہت بہادر بچے ہو ، چپ''..میں ہچکیاں لیتے ہوۓ بولا .''یہ دنیا بہت بری ہے، مجھے نہیں رہنا یہاں''.وہ بولی''تمہاری باجی بہت بری ہے، اس نے تمہیں رلا دیا نا، آئی ایم سوری حماد''.یہ کہہ کر وہ بھی رونے لگی.جب انھیں اپنی خاطر یوں روتے دیکھا تو میں نے روتے روتے اپنے ہونٹ انکے ہونٹوں پر رکھ دئے

    پتھر کی مورت موم کی بن گئی تھی، باجی نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی لپیٹ میں لے لیا اور مجھے کس کرنے لگی.ہم دونوں روتے جا رہے تھے اور اک دوجے کو چومتے جا رہے تھے.ہم دونوں کے آنسو ہمارے ہونٹوں کے ملاپ میں گھل مل رہے تھے.میں نے کس کرتے کرتے اپنے دونوں ہاتھوں سے باجی کے ممے دبانے شروع کر دئے.انہوں نے ابھی تک شادی والا ڈریس پہن رکھا تھا.ممے دبانے پر انکی سسکیاں بےاختیار نکلنے لگی.میں نے اپنے ہونٹ انکے ہونٹوں سے ہٹاۓ اور انکی چمکتی گردن پر رکھ دئیے، اور انکی گردن کو چومنے لگا، میں اپنے ہونٹوں سے اوپر سے نیچے تک انکی گردن کو چومتا، اور جوں جوں میں انکی گردن کو چومتا، انکی سانسیں تیز سے تیزتر ہوتی چلی جاتی.میں ساتھ ساتھ انکے ممے بھی دبا رہا تھا، انکے کے ممے دبانے کی وجہ سے ہلکے سے اکڑ گے تھے

    تھوڑی دیر یوں چومنے اور دبانے کے بعد میں بیڈ پر اٹھ بیٹھا.اور میں نے انہیں بھی اٹھ بیٹھنے کہ لئے کہا.وہ بھی بیڈ پر بیٹھ گئی.اب ہمارے آنسو رک چکے تھے.میں نے دونوں ہاتھ بڑھا کر باجی کی قمیض اتار دی، وہ چاند سے اتری پری میرے سامنے آدھی ننگی بیٹھی تھی.میری سانسوں کا توازن بھی بگڑ سا گیا انھیں یوں دیکھ کر.قمیض کے نیچے انہوں نے کالی برا پہن رکھی تھی.انکے موٹے گورے ممے آدھے سے تھوڑے کم برا سے باہر تھے، میں نے آگے کو ہو کر ان مموں پر جو کے برا سے تھوڑا اندر اور تھوڑے باہر تھے، ان پر بوسسوں کی برسات کر دی. باجی نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر کی بیک پر رکھ دئیے.مجھ سے زیادہ دیر سہا نہیں گیا اور میں نے پیچھے ہو کر دونوں ہاتھوں سے باجی کے برا کی ہک کھول کر انکی برا اتار دی

    انکے مموں کا نظارہ اتنا حسیں تھا کہ دل کیا، قربان ہو جاؤں ان مموں پہ.یوں لگ رہا تھا جیسے باجی نے اپنے مموں کی مکھن سے مالش کی ہو.وہ ابھی بھی بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی.میں نے انکی رانوں پر سر رکھ لیا اور انکے مموں کو اپنے منہ میں لے کر باری باری چوسنے لگا.مجھے یوں لگا جیسے میں نے شہد کے پیالوں کو اپنے منہ سے لگا لیا ہو.باجی کی سسکیاں ہلکی سے اور اونچی ہوئی.انہوں نے اپنے پاؤں تھوڑے سے پیچھے کئیے اور اپنی رانوں کو تھوڑا اوپر اٹھا کر میرے منہ کو اپنے مموں کے اور نزدیک کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سر کی بیک پہ موجود بالوں کو سہلانے لگی.اب انکے اکڑے ہوے ممے اور زیادہ میرے منہ کے اندر جا رہے تھے.میں انکے شہد کے جیسے میٹھے مموں کو چوس چاٹ چوم اور دونوں ہاتھوں سے دبا رہا تھا، انکے گلابی نپلز کو ہلکا ہلکا کاٹ رہا تھا.سرور اور مزے کے ہلکے ہلکے جھٹکے ہم دونوں کے جسموں کو لگ رہے تھے

    جانے کتنی دیر ہم دونوں ایسے محو رہے اک دوسرے میں کہ میں انکے مموں سے نہ چاہتے ہوے ہٹا اور انکے پاؤں میں گھٹنوں کہ بل آ بیٹھا.میں نے انکی سرور میں ڈوبی آنکھوں میں دیکھتے ہوے انکی شلوار کو لاسٹک والی جگہ سے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور انکی شلوار کو انکے بدن سے جدا کر دیا.اب باجی سر سے پاؤں تک میرے سامنے ننگی تھی.زیرو پاور کی سفید روشنی میں انکا بدن چمک رہا تھا.میںمزے کے نشے میں جھومتا ہوا آگے بڑھا اور میں نے انکی آپس میں ملی بھری بھری رانوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا.گلابی پھول کی ماند تھی باجی کی پھدی.آپس میں ملے ہوے انکی پھدی کے ہونٹوں میں نے ہلکی ہلکی سپرم نکل رہی تھی

    میں نے پیچھے کو ہو کر اپنے کپڑے اتارے اور خود بھی ننگا ہو گیا.باجی کی مستی بھری آنکھیں میرے جسم پر تھی، میں آگے کو ہوا اور باجی کو بیڈ پر لیٹاتے ہوے خود بھی ان پر لیٹ گیا.انکی ٹانگیں اور رانیں ایک دوسرے سے ہلکی سے جدا تھی.ہم دونوں کے ننگے جسم ایک دوجے سے لپٹے ہوے تھے.میرا سخت ہوا لن باجی کی گیلی پھدی کے ہونٹوں کے ساتھ کسی ننے بچے کی طرح چپکا ہو تھا.میرا لن اتنا بڑا نہیں تھا.اچانک باجی مستی میں ڈوبی آواز کے ساتھ بولی..''اس سے زیادہ کچھ مت کرنا''.انکی آواز نشے اور مزے کی وجہ سے لڑکھڑا رہی تھی.میں نے کچھ جواب نہیں دیا اور اوپر اوپر سے اپنا لن انکی پھدی پر رگڑنے لگا.میرا جسم لذت کی دنیا کے پاتال تک جا پہنچا تھا، وہ بھی کراہنے لگی ایسے جیسے وہ اس پاتال میں میرے ساتھ ہوں

    میرے لن کی سپرم اور انکی پھدی کی سپرم کی وجہ سے میرا لن رگڑ کھاتے کھاتے اچانک خود سے ہی انکی پھدی میں آدھا اتر گیا.باجی کی درد کی وجہ سے بلکل ہلکی سی چیخ نکل گئی.میرا لن بڑا نہیں تھا اسلئے انھیں زیادہ درد نہیں ہوا، میں نے اپنا چہرہ انکے چہرے کہ پاس کیا اور انکی آنکھوں میں دیکھا، وہاں مجھے لذّت کے ساتھ درد اور کچھ شکوہ بھی نظر آیا..وہ بولی''میں نے منع کیا تھا نہ''.میں نے انکی بات ان سنی کرتے ہوے ہلکا سا ایک جھٹکا اور دیا تو میرا پورا لن انکی پھدی میں چلا گیا.وہ ہلکے سے درد اور بےپناہ مزے میں چور بولی..''بلکل پاگل ہو تم''.میں نے پہلے آہستہ آہستہ اپنے لن کو انکی پھدی میں اندر باہر کیا پھر تھوڑی دیر بعد جب لن نے اندر باہر ہونے میں روانی پکڑی تو میں نے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی.اب بانو باجی کہ چہرے پر راحتوں کے ڈھیرے تھے، وہ خوب انجوۓ کر رہی تھی میرے لن کو اپنی پھدی میں.انہوں نے اپنی ٹانگیں اور رانیں خوب کھول دی تھی.آہستہ آہستہ میری رفتار بڑتی چلی جا رہی تھی.اچانک بانو باجی نے اپنی پھدی سے میرے لن کو دبانا شروع کر دیا اور اپنی موٹی گانڈ بیڈ پر سے اٹھا اٹھا کر اپنی پھدی سے میرے لن کی طرف جھٹکے مارنا شروع کر دئیے، ساتھ ہی انکی پھدی نے میرے لن کو اپنی سپرم سے بھگونا شروع کر دیا.مجھ سے بھی انکی پھدی کی حدت برداشت نہیں ہو رہی تھی.وہ اپنی پھدی میرے لن پر مار رہی تھی اور میں اپنا لن انکی پھدی پر.میں بھی انکے ساتھ ساتھ ڈسچارج ہونے لگا اور پتا نہیں کتنی دیر ہم دونوں ڈسچارج ہوتے رہے

    the END
    آپ سب کو یہ کہانی کیسی لگی، ضرور بتائیے گا
    Last edited by Story Maker; 09-12-2018 at 05:46 PM.

  2. The Following 19 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), abkhan_70 (10-12-2018), Admin (19-12-2018), aloneboy86 (18-12-2018), Danish Ch (16-12-2018), hananehsan (09-12-2018), hanihani (19-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), irfan1397 (10-12-2018), jerryshah (25-03-2019), Lovelymale (09-12-2018), MamonaKhan (14-12-2018), mmmali61 (11-12-2018), omar69in (16-12-2018), sexliker909 (10-12-2018), Story Maker (09-12-2018), StoryTeller (03-04-2019), suhail502 (17-12-2018), ZEESHAN001 (30-03-2019)

  3. #2
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    138
    Thanks Thanks Given 
    469
    Thanks Thanks Received 
    98
    Thanked in
    51 Posts
    Rep Power
    35

    Default

    Boht hot story hai, lagta hai keh baji virgin nahin thi balkeh unn ka mangetar pehle hi unn ka khata khol chuka tha.

  4. The Following 3 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Cupid Arrow (09-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), suhail502 (17-12-2018)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    812
    Thanks Thanks Given 
    146
    Thanks Thanks Received 
    995
    Thanked in
    556 Posts
    Rep Power
    91

    Default

    zabardast ... aap la jawab ho sir g

    thanks

  6. The Following 4 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Cupid Arrow (09-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), sexliker909 (10-12-2018), suhail502 (17-12-2018)

  7. #4
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    33
    Thanks Thanks Given 
    23
    Thanks Thanks Received 
    66
    Thanked in
    27 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    Ham sab is forum per members hain. Hamen ek doosray ki izzat karni chayee. Agar kahani pasand na bhi ho to ham apne sathi kay liya aise alfaz nahi bolne chayee

  8. The Following 4 Users Say Thank You to lastzaib For This Useful Post:

    Cupid Arrow (10-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), sexliker909 (10-12-2018), suhail502 (17-12-2018)

  9. #5
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    191
    Thanks Thanks Given 
    306
    Thanks Thanks Received 
    345
    Thanked in
    158 Posts
    Rep Power
    174

    Default


    kahani per comments kerna readers ka right hai lakin writer per abusive words kisi Surat bardasht nahi kiye jaein ge , Bhutta62 ko warning aur 3 din k liye ban Kia jata hai .

  10. The Following 7 Users Say Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    Admin (19-12-2018), Cupid Arrow (10-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), lastzaib (10-12-2018), Lovelymale (10-12-2018), sexliker909 (10-12-2018), suhail502 (17-12-2018)

  11. #6
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    114
    Thanks Thanks Given 
    1,011
    Thanks Thanks Received 
    213
    Thanked in
    96 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    ZABBARDAST story ha maza a gaya lakin zara jaldi ka muzahira howa ha.

    Keep it up

  12. The Following 4 Users Say Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    Cupid Arrow (14-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), suhail502 (17-12-2018), windstorm (15-12-2018)

  13. #7
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    17
    Thanks Thanks Given 
    58
    Thanks Thanks Received 
    61
    Thanked in
    17 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    akheer bht zabrdast mazaa aa gya ...
    کیا رکھا ہے باتوں میں
    لے لو میرا ہاتھوں میں

  14. The Following 4 Users Say Thank You to Danish Ch For This Useful Post:

    Cupid Arrow (16-12-2018), hot_irfan (18-12-2018), omar69in (16-12-2018), suhail502 (17-12-2018)

  15. #8
    Join Date
    Feb 2010
    Posts
    144
    Thanks Thanks Given 
    1,075
    Thanks Thanks Received 
    225
    Thanked in
    94 Posts
    Rep Power
    25

    Default


    Wellcome back dear Cupid-arrow

    Bht kamal ki or shandaar jazbat ehsasat sy bharpoor tehrir

    Thi great work dear cupid-arrow.. Ap ki next stories ka

    Bari Bechani or Shiddat sy Intzar rahe ga

  16. The Following User Says Thank You to hot_irfan For This Useful Post:

    Cupid Arrow (19-12-2018)

  17. #9
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,180
    Thanks Thanks Given 
    240
    Thanks Thanks Received 
    284
    Thanked in
    95 Posts
    Rep Power
    1543

    Default

    I Love you Cupid. tum hamesha se mere passandeda rahe ho. pehli kahanian pass save hain to post ker do. aur mazeed likho tumhari tehreer main jo tarap aur shidat hai wo mujhe pagal ker deti hai. dosra gali dene waly ko life ban kia jay na ke 3 din ka ban.

  18. The Following 3 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abkhan_70 (19-12-2018), Cupid Arrow (20-12-2018), irfan1397 (19-12-2018)

  19. #10
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    20
    Thanks Thanks Received 
    37
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    love your too admin sir, thank you..

    thank you all you guys..

  20. The Following 2 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    omar69in (10-03-2019), sajjad334 (27-01-2019)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •