جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 64 of 83 FirstFirst ... 145460616263646566676874 ... LastLast
Results 631 to 640 of 823

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #631
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    129
    Thanks Thanks Given 
    452
    Thanks Thanks Received 
    85
    Thanked in
    46 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Waah jee waah, lovely update. Naye rishtaydar aur naya maal. Lagta hai hamaray hero ko nai nai phuddiyan dastyab honay wali hain. Magar iss naye maal main kahin koi Zofi ka rasta katnay wala silsila na peda hojaye.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (16-01-2019), abkhan_70 (16-01-2019), Xhekhoo (16-01-2019)

  3. #632
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,382
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 223..???



    میں اور سلمان اپنی باتوں میں مصروف تھے جبکہ عبیرہ اور نازی باقی بچوں کے ساتھ گپوں میں لگے ھوے تھے ۔
    کچھ دیر مذید ہم ادھر بیٹھے رھے ۔
    اور پھر ہم ہوٹل سے نکلنے لگے تو میں نے چار کپ آئس کریم کے پیک کروا لیے ۔اور ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر گاوں کی طرف روانہ ھوگئے ۔
    گھر پہنچ کر میں نے آئسکریم نکال کر امی خالہ اور بھا کو دی ۔
    اور اعبیحہ کو دیکھنے لگ گیا ۔
    اور اسے ڈھونڈتا ھوا کمرے میں پہنچا تو میڈم کرسی پر ٹانگ پے ٹانگ رکھے ناول پڑھنے میں مصروف تھی ۔
    میں دروازے میں کھڑا اسے دیکھتا رھا
    میں آئسکریم ہاتھ میں پکڑے کھڑا عبیحہ کو دیکھ رھا تھا جو ہر شے سے بے خبر ہو کر کرسی پر بیٹھی ناول پڑھنے میں محو تھی ۔
    عبیحہ کے چہرے پر جتنی ذ یادہ معصومیت تھی اور اوپر والے نے جتنا ذیادہ اسے خوبصورت بنایا تھا ۔
    وہ اتنی ذیادہ مغرور بھی تھی ۔
    پتہ نہیں اسکو کس چیز کا اتنا غرور تھا ۔
    پیسے کا سٹیٹس کا حسن کا یا پھر اپنی نشیلی جوانی کا ۔
    کچھ تو تھا جو اسے اتنا مغرور بناے ھوے تھا ۔
    میں چند لمحے کھڑا اسے غور سے دیکھتا رھا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا ھوا اس کے قریب گیا اور ۔
    ہکلاتے ھوے بولا ۔
    ہہہہییولو ۔
    عبیحہ نے چونک کر سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔
    جی فرمائیں ۔
    میں نے پھر اسی انداز میں بولتے ھو کہا ۔
    جججی وووہ آپکے لیے یہ آئسکریم لایا تھا ۔۔۔
    عبیحہ نے ایک نظر میرے ھاتھ میں پکڑے آئسکریم کے کپ پر ڈالی اور بڑی لاپرواہی سے پاس پڑے ھوے ٹیبل کی طرف انگلی کر کے بولی ۔
    اوکے ادھر رکھ دو ۔۔
    اور پھر سر کو جھٹک کر نیچے منہ کر کے ناول پڑھنے میں مصروف ھوگئی ۔۔
    میں آگے بڑھا اور کپ ٹیبل پر رکھ کر اسے دیکھتے ھوے جانے لگا تو پھر رک کر بولا ۔
    ععععبیحہ جی وووہ آئسکریم جلدی کھالینا آپ ۔
    گرم ھوکر پگھل جاے گی ۔۔۔
    عبیحہ نے بڑی سپیڈ سے سر اوپر اٹھایا اور تلخی سے بولی ۔
    ارے بھئی میری مرضی جب مرضی کھاوًں ۔
    آپ جاو یہاں سے مجھے بار بار ڈسٹرب کیوں کررھے ھو ۔۔
    اور مجھے گھورتے ھوے ہووووں کر کے سر جھٹکا اور پھر منہ ھی منہ میں انگلش میں پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑاتے ھوے دوبارہ ناول پڑھنے میں مصروف ھوگئی ۔
    مجھے اس کے رویعے سے دکھ بھی بہت ھوا اور اس پر غصہ بھی بہت آیا ۔
    مگر مہمان سمجھ کر اپنے غصہ کو پی گیا ۔
    اور منہ لٹکائے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں آگیا جہاں سب چارپائیوں پر بیٹھے گپیں لگا رھے تھے ۔
    میں سیدھا عبیرہ کے پاس گیا اور اس کے پاس بیٹھتے ھوے بولا ۔۔
    یار یہ تمہاری بہن کھاتی کیا ھے جب بھی اس سے بات کرو کاٹ کھانے کو آتی ھے ۔
    کیا یہ گھر میں بھی ایسے ھی رہتی ھے یا پھر باہر آکر اپنی اکڑ دیکھاتی ھے ۔۔۔
    عبیرہ ہنستے ھوے بولی ۔
    یاسر بھائی آپو شروع سے ھی ایسے ھی چڑچڑی سی ھے ۔
    اسکو جب بھی آپ دیکھو گے ایسے ھی منہ سجا کر بیٹھی ھوگی اور ویسے بھی یہ ہمارے ساتھ کم ھی بیٹھتی ھے ذیادہ تر آپو اپنے کمرے میں اکیلی ھی بیٹھی رہتی ھے اور تقریباً جب بھی آپ انکو دیکھو گے انکے ھاتھ میں بک ھوگی یا پھر ناول ۔۔
    میں نے ہممممممممم کیا اور بولا ۔۔
    اسی لیے یہ نفسیاتی مریض ہیں ذیادہ پڑاکو بندا یا تو پاگل ھو جاتا ھے یا پھر نفسیاتی مریض ضرور بن جاتا ھے ۔
    عبیرہ ہنستے ھوے میرے ھاتھ پر ھاتھ مارتے ھوے بولی ۔
    ابسلوٹلی رائٹ برو ۔۔
    بلکل درست کہا ۔۔
    اور پھر عبیرہ میرے کان کے قریب منہ کر کے بولی ۔
    بھیاء ایک بات ھے کہ آپو دل کی بہت اچھی ہیں ۔
    اوپر سے چاھے جیسی بھی دکھتی ہیں دل کی بہت اچھی ہیں ۔۔
    میں نے عبیرہ کو کندھا مارتے ھوے اپنی شرٹ کا کالر درست کرتے ھوے کندھے اچکا کر کہا ۔
    چلو تمہاری آپو کا دل بھی چیک کرلیں گے ۔۔۔
    عبیرہ نے ایکدم چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی ۔
    کیاااا کہا ۔۔
    مجھے بھی اپنی اوور ایکٹنگ کا احساس ھوا کہ کچھ ذیادہ ھی بول گیا ۔
    میں نے ہکلاتے ھوے کہا ککککچھ نہیں ۔۔
    اور یہ کہتے ھوے میں جلدی سے اس کے پاس سے اٹھ کر سلمان کی طرف چلا گیا جو کامران کو اٹھاے صحن میں چکر لگا رھا تھا ۔
    میں نے سلمان کے قریب جاتے ھی کامران کو پکڑ لیا اور اسکی گالوں پر پاریاں کرنے لگ گیا ۔
    کامران نے مجھ سے اپنا آپ چھڑوایا اور میرے بازوں سے کھسکتا ھوا نیچے اتر کر خالہ کی طرف بھاگ گیا ۔۔
    کچھ دیر میں سلمان کے ساتھ باتیں کرتا رھا اور پھر باہر سب کو سردی محسوس ھونے لگ گئی تو امی نے مجھے آواز دی کے چارپایاں کمروں کے اندر کردو ۔
    نازی بستر بچھا دے گی باہر سردی ھوگئی ھے ۔
    سلمان بھی میرے ساتھ چارپایاں اندر کرنے لگ گیا ۔
    اور پھر میں سلمان کو لے کر اپنے کمرے یعنی بیٹھک میں آگیا جہاں ہم دونوں کے بستر لگے ھوے تھے ۔
    باتوں باتوں میں سلمان بولا یاسر یار تمہارا اتنا اچھا کام ھے میری مانو تو شہر میں ایک پلاٹ لے لو اسطرح تمہاری سیونگ بھی ھوجاے گی اور جب مذید پیسے ھوں تو پھر پلاٹ پر مکان تعمیر کرلینا اور گاوں سے شہر شفٹ ھو جانا ۔۔۔
    میں نے کہا یار ابھی تو نیا نیا کام شروع کیا ھے ۔
    پہلے آپی کی شادی کرنی ھے اسکے بعد دیکھیں گے کیا کرنا ۔
    تو سلمان بولا یہ بھی اچھی بات ھے ۔
    تو پھر تم اپنے اس کمرے کو ھی اچھا سا سیٹ کرلو ۔
    میں نے ہمممممم کیا اور بولا ۔۔۔
    ہاں یار میں نے بھی یہ کئی دفعہ سوچا مگر کام سے فرصت ھی نہیں ملتی کہ فری ھوکر ۔
    کمرے کی سیٹنگ کروا لوں ۔
    مگر تم پریشان نہ ھو اگلی دفعہ جب تم آو گے تو سب کچھ تبدیل ھوچکا ھوگا ۔۔
    اور پھر میں نے ہنستے ھوے کہا اور سنا یار کوئی گرل فرینڈ بھی بنائی ھے یا نہیں ۔۔۔
    تو سلمان شرماتے ھوے بولا ۔

    نہیں یار میری ابھی عمر کہاں کہ کوئی لڑکی پھنسے ۔۔
    میں نے سلمان کی طرف گھور کر دیکھا اور بولا ۔
    مرضی ھے تیری یار اگر نہیں بتانا چاہتا ۔۔۔
    ویسے تیری یہ بات مجھے ہضم نہیں ہوئی ۔
    سلمان کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔۔
    اور پھر سرگوشی سے بولا ۔
    یاسر بھائی پلیززززز یہ بات کسی سے مت کرنا ورنہ میری شامت آجانی ھے ۔۔
    میں. نے کہا یار تو بےفکر ھوجا تو میرا بھائی بھی ھے اور دوست بھی اسلیے تو میری طرف سے بےفکرا ھوجا ۔
    ہم دونوں کہ بیچ میں ھوئی کوئی بات کسی تیسرے کو نہیں پتہ چلے گی ۔
    سلمان خوش ھوتے ھوے بولا پرامس میں نے کہا شو۔۔۔
    سلمان بولا ۔
    یاسر میری ایک ھی گرل فرینڈ ھے اور وہ بھی میری اکیڈمی ٹیچر ھے ۔۔
    جو ھے تو مجھ سے چھ سال بڑی آپو عبیحہ کی ہم عمر مگر ھے کنواری اور دیکھنے میں لگتی ھی نہیں کہ اسکی اتنی عمر ھے ۔ ایکدم پٹاخہ ھے پٹاخہ ۔ چلتا پھرتا ایٹم بم ھے ۔۔

    میں نے کہا واہ یار تم تو بڑے چھپے رستم نکلے اور میں جلدی سے اٹھا اور بیٹھک کا دروازہ اندر سے لاک کر کے پردہ آگے کیا اور سلمان کی چارپائی پر ھی اسکے ساتھ لیٹ گیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے۔
    میں نے سلمان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ھوے کہا ۔
    واہ یار تیری تو موجیں ہیں ۔
    اچھا یہ بتا وہ دیکھنے میں کیسی دکھتی ھے ۔
    سلمان انگلی اور انگوٹھے کو ملاتے ھوے اشارہ کرتے ھوے بولا یار بتایا تو ھے بم ھے بم ۔۔۔
    میں نے کہا ۔
    اسکا نام کیا ھے اور اسکا فگر کیسا ھے ۔۔
    سلمان میری طرف دیکھتے ھوے بولا ۔
    استاد چسکے لے رھے ھو نہ۔۔
    میں کھلکھلا کر ہنس پڑا اور بولا نہیں یار ویسے ھی پوچھ رھا ہوں کہ میرے بھائی کی پسند کیسی ھے ۔۔
    سلمان بولا ۔
    یار تم اسے ایک دفعہ دیکھ لو نہ تو بس دیکھتے ھی رھ جاو ۔
    اففففففففففففف اسکے جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مثال آپ ھے ۔
    میں نے مستی میں انگڑائی لیتی ھوے دونوں مٹھیوں کو بھینچ کر سلمان سے کہا ۔۔
    ھاےےےےےے اوووےےےے میرا تو سن کر ھی برا حال ھو رھا ھے دیکھ کر تو بے ہوش ھی نہ ھوجاوں ۔۔۔
    سلمان میرے چھچھورے پن اور پینڈوں والے سٹائل کو دیکھ کر کھلاکھلا کر ہنس پڑا اور میرے کندھے کو ہلاتے ھوے بولا ۔
    ارے بھائی ہوش کر ہوش ابھی تو میں نے کچھ بتایا بھی نہیں اور تیرا یہ حال ھوگیا ھے ۔
    میں نے ایکدم سے اپنی شکل مسکین سی بنائی اورسلمان کی طرف دیکھتے ھوے بولا ۔
    تو بتا نہ یار تفصیل سے ۔۔۔
    چلو دیکھ کے نہیں تو سن کر ھی مزہ لے لوں ۔۔
    سلمان پھر ہنس پڑا اور میرے بازو پر چپت مارتے ھوے بولا ۔
    جا یار تیرا بھی کوئی حال نہیں۔
    تم تو ایسے کررھے ھو جیسے ساری زندگی کوئی لڑکی دیکھی ھی نہیں ۔
    جبکہ تم سارا دن لڑکیوں کے جھرمٹ میں رہتے ھو اور وہ بھی ایک سے بڑ کر ایک ۔۔۔
    اور میری ایک گرل فرینڈ کے بارے میں چند الفاظ سن کر تجھ سے برداشت نہیں ھورھا ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا۔
    یار میری دکان پر ذیادہ لڑکیاں برقعہ پہن کر ھی آتی ہیں اور ویسے بھی میں نے کبھی کسی کسٹمر کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا ۔
    اور تجھے سہی بتاوں تو مجھ میں اتنا حوصلہ ھی نہیں پڑتا کہ کسی بچی پر لائن مارلوں ۔۔۔
    سلمان میری طرف بڑی حیرانگی سے دیکھتا رھا اور پھر ایکدم اسکی ہنسی اتنی چھڑی کے اسکے یوں پاگلوں کی طرح ہنسنے سے مجھے اپنی بےعزتی محسوس ھونے لگ گئی ۔
    کچھ دیر بعد سلمان کی ہنسی رکی اوربولا ۔
    یار کوئی حال نئی تیرا ۔
    میں تو حیران ھوں کہ تم خوبصورت ھو ہینڈسم ھو اور پھر بھی لڑکیوں سے شرماتےھو ۔۔
    میں نے کہا یار کیا کروں میرا حوصلہ ھی نہیں پڑتا چل میری چھوڑ تو اپنی بتا کہ کیسے تیری اپنی ٹیچر کے ساتھ سیٹنگ ھوئی اور اسکا نام اور اس کا فگر کیا ھے ۔۔۔
    سلمان کچھ دیر سوچ میں پڑا رھا اور پھر باہر کے دروازے کی طرف دیکھ کر بولا ۔
    یار بہت ھی خوبصورت لڑکی ھے میں نے بڑی مشکل سے اسے پھنسایا تھا اور اب تو میرے بغیر ایک منٹ نہیں رہتی ۔
    ۔۔
    میں نے سلمان کی بات کاٹتے ھوے کہا یار اسکا فگر تو بتا ۔۔
    اور کیسے تم نے اسکو سیٹ کیا تفصیل سے بتا نہ یار ۔۔
    سلمان بولا بتا تو رھا ھوں سن تو لے ۔۔۔
    سلمان بولا ۔
    یار اسکے موٹے موٹے ممے ہیں گورا چٹا رنگ ھے بھرا بھرا جسم ھے ساتھ لگتے ھی بندا چھوٹنے والا ھوجاتا ھے ۔۔
    میں نے پھر لقمہ دیا ۔۔۔۔
    یاررررررر ایسے نہیں تفصیل سے بتا تفصیل سے ۔۔۔
    تو اسے کب ملا کیسے ملا کیسے سیٹنگ ھوئی کیسے تم ایک دوسرے کے قریب ھوے ۔۔۔
    سلمان میرے بار، بار لقمہ دینے سے تنگ آکر بولا ۔۔۔
    اور سیدھا ہوکر لیٹتےھوے بولا ۔۔۔
    بھائی ٹائم بہت ھوگیا تفصیل سے بتانے لگ گیا تو صبح ھوجانی ھے ۔ایسا کرتے ہیں کہ کل میں تیرے ساتھ دکان پر جاوں گا تو ادھر بتاوں گا یا پھر کل رات کو ہم جلدی لیٹ جائیں گے تو پھر ساری بات تفصیل سے بتاوں گا ۔
    ابھی تو بھئی نیند آرھی ھے سفر کہ تھکاوٹ بھی ھے ۔
    میں نے بھی ذیادہ اصرار نہ کیا کہ کہیں سلمان برا ھی مان جاے ۔
    میں نے اوکے کہا اور اپنی چارپائی پر لیٹ گیا کچھ ھی دیر بعد ہم سوگئے ۔۔۔
    صبح میں سلمان سے پہلے ھی اٹھ گیا باہر نکلتے ھی امی کا، آڈر ملا کہ بازار سے ناشتہ لے کر آو ۔
    میں نے بائک نکالی اور بازار سے ناشتہ لے کر جب گھر آیا تو سلمان اٹھ چکا تھا اور میرے ساتھ دکان پر جانے کے لیے تیار ہورھا تھا ۔
    میں نے ناشتہ آپی کو پکڑایا اور واش روم میں گھس گیا ۔۔
    نہا کر فریش ھوا اور میں نے اور سلمان نے ناشتہ کیا اور دونوں شہر کی طرف نکل پڑے ۔
    میں سیدھا دکان پر گیا اور دکان کھول کر سلمان کو بیتھنے کا کہا ۔
    سلمان بوتیک دیکھ کر بہت خوش ھو رھا تھا اور تعریفیں کر رھا ھے تھا ۔
    میں نے اسے کہا ۔۔۔
    یار تم بیٹھو میں تھوڑی دیر تک آتا ھوں ۔
    ایک لڑکا آے گا جنید نامی وہ میرے پاس ورکر بھی ھے اور میرا بہت اچھا دوست بھی ۔
    اگر وہ کچھ پوچھے تو اسے بتا دینا کہ تم میرے کزن ھو ۔۔۔۔
    سلمان نے ہمممممم کیا اور کاونٹر چئیر پر بیٹھ گیا ۔
    میں دکان سے نکلا اور سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ۔
    دروازہ ضوفی نے ھی کھولا اور میں جب اندر گیراج میں داخل ھوا تو
    ضوفی مجھے نئی پینٹ شرٹ اور تازہ کی ہوئی شیو میں دیکھ کر بولی ۔
    واہ جی واہ خالہ آئی ھے یا تمہاری سہیلی آئی ھے جو اتنا بنے سنورے ھو ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا ۔
    جان میرا تو سب کچھ تم نے لوٹ لیا ھے ۔
    اب کون لڑکی میری سہیلی بنے گی ۔۔۔
    اگر تم کہتی ھو تو ٹرائی کرکے دیکھ لیتا ھوں ۔۔
    ضوفی میری بات سنتے ھی مکا بنا کر میری طرف مکا لہراتے ھوے بولی ۔
    جان نہ کڈ دیواں گی تیری وی تے اوس کُڑی دی وی ۔
    جے کسے ھور دے بارے سوچیا وی تے ۔۔۔
    میں نے ڈرتے ھوے دونوں ھاتھ آگے کیے اور بھاگ کر ڈرائنگ روم میں بیٹھی آنٹی کے پاس چلا گیا اور آنٹی سے بولا ۔
    آنٹی دیکھ لیں ضوفی پھر مجھے مار رھی ھے ۔۔۔
    آنٹی نے مصنوعی غصے سے. ضوفی کی طرف گھورتے ھوے کہا ۔
    ضوفی کیوں میرے بیٹے کو تنگ کرتی رھتی ھو۔۔
    ضوفی پیر پٹختی ھوئی میرے پیچھے ھی ڈرائنگ روم میں آگئی تھی ۔
    آنٹی کی بات سن کر ضوفی بولی آپ کا یہ بیٹا بگڑ گیا ھے اسے خود ھی سمجھا دیں ۔۔۔
    آنٹی میری طرف دیکھ کر بولی یاسر یہ میں کیا سن رہی ھوں ۔۔
    میں جلدی سے آنٹی کے پاس بیٹھتے ھوے بولا ۔
    آنٹی جی اب کیا میں بن سنور کر بھی نہ رھوں اگر میں نے خود کو صاف ستھرا رکھا ھے تو کیا میں بگڑ گیا ھون ۔۔
    آنٹی ضوفی کو گھورتےھوے بولی ۔
    ضوفی مجھے تو لگتا ھے کہ تم پا گل ھوگئی ھو یا پھر نفسیاتی مریض یوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر لڑنا شروع ھوجاتی ھو ۔
    ضوفی بولی میں کب اس سے لڑ رھی ھوں ۔
    میں نے تو یہ ھی پوچھا تھا کہ اتنے بنے سنورے ھو خیر تو ھے ۔
    میں جھٹ سے بولا ۔
    آنٹی آپکو بتایا تھا نہ کہ میری خالہ پہلی دفعہ ہمارے گھر آئی ھے تو کیا مہمانوں کی آمد پر صاف ستھرا رہنا اچھی بات نہیں ۔اور ۔۔۔۔۔۔
    ضوفی میری بات کاٹ کر بولی یہ بھی بتاو نہ کہ خالہ کے ساتھ انکی بیٹیاں بھی آئی ہیں ۔۔۔۔۔۔
    میں نے کہا لو جی سن لیں آنٹی جی ضوفی مجھ پر شک کررھی ھے ۔
    ارے بھئی میں انکو دکھانے کے لیے تھوڑی تیار ھوا ھون ۔
    کہو تو میں دھوتی بنیان پہن لوں پھر تو تم کو کوئی شک نہین رھے گا نہ ۔۔۔۔
    ضوفی اور آنٹی میری بات سن کر کھلاکھلا کر ہنس پڑی ۔
    اورآنٹی میرے سر پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولی ۔
    اسکو بھونکنے دے تو اسکی بات کو نظر انداز کردیا کر ۔
    مجھے تم ہر پورا بھروسہ ھے ۔۔۔
    میں نے آنٹی کے ساتھ چپکتے ھوے ضوفی کی طرف دیکھ کر کہا ۔
    سن لو میڈم ۔
    آنٹی کو مجھ پر بھروسہ ھے مگر تمہیں نہیں ۔۔۔۔
    چلو اب دکان سے دیر ھورھی ھے ۔۔
    ضوفی بڑبڑ کرتی ۔
    کمرے میں گئی اور کچھ ھی دیر میں گاون پہن کر باہر آئی اور پھر میں آنٹی سے پیار لے کر ضوفی کو ساتھ لیے دکان پر پہنچا تو سلمان نے مجھے اور ضوفی کو دیکھ لیا اور وہ آنکھیں پھاڑے ضوفی کو دیکھنے لگ گیا۔۔
    ضوفی بائک سے اتری اور نیچے بیسمنٹ میں چلی گئی ۔
    جبکہ میں نے بائک سٹینڈ پر لگائی اور دکان میں داخل ہوگیا ۔۔جنید جھاڑ پونچھ میں مصروف تھا جنید سے سلام لینے کے بعد میں نے سلمان کا تعارف کروایا اور سلمان سے جنید کا ۔۔
    مگر وہ مجھے سے پہلے ھی آپس میں گھل مل چکے تھے ۔
    سلمان نے مجھے آنکھ کے اشارے سے ضوفی کے بارے میں پوچھا میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے جنید کی طرف اشارہ کرکے خاموش رہنے کا کہا ۔
    سلمان مسکراتے ھوے سرہلاتا ھوا چئیر پر بیٹھ گیا ۔
    کچھ دیر بعد جنید بھی ہمارے پاس بیٹھ گیا اور سلمان سے گپ شپ کرنے لگ گیا ۔
    میں نے جنید کو کہا یار پرسوں جمعہ ھے اور مال ابھی تک لکھا ھی نہیں کہ کون کون سی ورائٹی لانی ھے ۔
    اور لیڈیز انڈر گارمنٹس کی بھی ورائٹی لکھنی ھے ۔
    جنید بولا چلو ابھی فارغ ہیں لکھ لیتے ہیں ۔
    میں پیڈ پنسل سلمان کو پکڑائی کے تم ذرہ اچھے طریقے سے لکھ لو گے ۔
    پھر جنید اور میں سلمان کو مختلف ڈزائنگ نمبر اور کلر سکیم لکھواتے رھے ۔
    اور پھر جنید نے انڈر گارمنٹس کی ورائٹی لکھوائی جس میں ونٹر بریزیر کے سائز اور کچھ انڈر ویر کے سائز اور کلر اور نائٹی ڈریس اور بکنی سیٹ وغیرہ ۔۔۔
    اور پھر میں نے سلمان سے پرچی لی اور دراز میں رکھی ۔
    اتنے میں کسٹمرز کی آمد شروع ھوگئی ۔
    جنید اٹھ کر کسٹمر کو ڈیل کرنے لگ گیا کے
    تو سلمان موقع پاکر مجھے کہنی مارتے ھوے بولا ۔
    یاسر بھائی وہ پرزہ کون تھا جسے بائک پر بیٹھا کر لاے تھے ۔۔
    میں نے سرگوشی میں کہا ۔
    ماما وہ تیری بھابھی ھے ۔ تو اسے پرزہ بول رھا ھے ۔۔
    سلمان نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ھوے سرگوشی میں پوچھا ۔
    بھائی آپ نے شادی بھی کرلی ھے ۔
    میں نے کہا او نہیں یار ابھی شادی نہیں کی یہ سمجھ لے کے وہ میری منگیتر ھے اور تیری ھونے والی بھابھی ۔۔
    اور سن یہ بات گھر میں کسی سے نہ کرنا ۔
    سلمان بولا وہ کیوں ۔۔۔۔۔
    میں نے کہا ابھی سیکرٹ ھے یار سمجھا کر ۔۔۔
    سلمان بولا اووووو اچھا اب میں سمجھا ۔۔
    یعنی ابھی گھر میں کسی کو نہیں بتایا ۔۔
    میں نے کہا ھاں ایسا ھی سمجھ ۔
    سلمان بولا اوکے بےفکر رہیں یہ بات یہیں دفن سمجھو ۔
    اور ھاں بھابھی سے ملواو گے نہیں انہیں بھی تو پتہ چلے کہ انکا کوئی دیور بھی ھے ۔
    میں نے کہا کیوں نہیں یار شام کو ملوادوں گا ۔
    مگر یاد رھے یہ بات بھول کر بھی گھر میں کسی کو نہ بتانا ورنہ بہت بڑا مسئلہ بن جاے گا ۔
    سلمان بولا اٹ از اوکے یار پریشان کیوں ھوتے ھو کہہ دیا نہ کہ یہ راز ادھر ھی دفن کر کے گھر جاوں گا ۔۔۔
    میں نے گڈ کہا اور پھر ہم ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ھوگئے ۔
    شام کو میں نے جنید کو جلدی گھر بھیج دیا اور جنید کے جانے کے بعد میں نیچے پارلر پر گیا اور ضوفی کو کہا کہ پارلر بند کر کے اوپر دکان میں آجاے ضوفی نے پوچھا کہ کیوں میں نے کہا ۔
    یار تجھے تیرے دیور سے ملوانا ھے ۔
    ضوفی حیران ھوتے ھوے بولی میرا کون سا دیور پیدا ھوگیا جہاں تک مجھے علم ھے کہ تمہارا کوئی چھوٹا بھائی نہیں ھے تو پھر یہ دیور کہاں سے آگیا ۔۔۔
    میں نے کہا ارے یار وہ میری خالہ کا بیٹا ھے ۔۔
    اس سے تمہیں ملوانا ھے ۔۔
    ضوفی بولی نہیں یاسر مجھے شرم آتی ھے ۔
    میں نے نہیں آنا ۔۔۔
    وہ کیا سوچے گا ۔
    میں نے کہا سوچے گا نہیں بلکہ دیکھے گا کہ اسکی بھابھی کیسی ھے ۔
    ضوفی بولی اگر اسے میں پسند نہ آئی ۔
    تو میں جھٹ سے بولا ۔
    پھر میں اسے چھوڑ دوں گا کیوں کہ پھر اس کی نظر خراب ھوگی کہ ایسی ماہ جبیں کو ریجیکٹ کرے ۔۔۔
    ضوفی میرے کندھے پر چپت مارتے ھوے بولی چل شوخا
    مسکے لگانا تم پر ختم ھے ۔۔۔
    میں نے کہا میں چلتا ھوں تم جلدی سے دکان پر آجاو ۔
    ضوفی نے ہممممممم کیا اور میں پالر سے نکل کر واپس دکان پر آگیا۔
    سلمان بڑی بے چینی سے میرے پیچھے دیکھنے لگ گیا اور کسی کو نہ ہاکر بولا ۔
    کیا ھوا کدھر گئی بھابھی ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا ۔
    ماما صبر کر لے توں میرے توں وی کالاں ایں ۔۔۔
    آرھی ھے صبر کر ۔۔۔
    کچھ دیر بعد ھی ضوفی دکان میں داخل ہوئی اور سلمان کو بڑے غور سے دیکھتے ھوے سلام کیا ۔۔
    سلمان نے جلدی سے ھاتھ آگے بڑھایا تو ضوفی نے میری طرف دیکھا تو میں نے اثبات میں سر ہلایا تو ضوفی نے بھی ہاتھ آگے کر کے ہینڈ شیک کیا ۔
    سلمان بولا بھابھی میں آپکا دیور ھوں سلمان ۔
    اور پھر سلمان کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگ گئی ۔
    اور ایک ھی سانس میں اس نے اپنی جنم کنڈلی ضوفی کے آگے کھول کر رکھ دی ۔۔۔
    ضوفی بھی اسکی باتوں سے کافی محفوظ ھورھی تھی ۔۔
    پھر ضوفی بولی یاسر سلمان کی مشابہت بلکل تمہارے جیسی ھے ۔
    کوئی بھی اسے دیکھ کر کہہ سکتا ھے کہ یہ تمہارا بھائی ھے ۔۔
    میں نے کہا میری خالہ کا بیٹا ھے اور میری شکل امی سے ذیادہ ملتی ھے تو ظاہر ھے پھر خالہ کا بیٹا ھے تو شکل تو ملے گی ۔۔
    سلمان بھی ضوفی کی عادت اور خوش اسلوبی سے کافی متاثر ھوا اور میرے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے ضوفی کی طرف دیکھ کر بولا ۔
    یاسر بھائی مجھے تو بھابھی بہت پسند ھے.
    باقی تمہاری طرف سے ھاں کرنے کی دیر ھے ۔۔یہ کہہ کر سلمان باہر کی طرف بھاگا۔۔
    ضوفی سلمان کی بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور میں سلمان کو پکڑنے کے
    لیے اسکے پیچھے چند قدم بھاگ کر رک گیا۔
    سلمان باہر کھڑا ہنسی جارھا تھا اور پھر جب اس نے مجھے رکے ھوے دیکھا تو ہنستا ھوا اندر داخل ھوا
    اور بولا بھابھی آپ واقعی بہت خوبصورت ھو اور سب سے بڑ کر آپ بہت خوش اخلاق ھو ۔۔
    ضوفی ہنستے ھوے بولی تم بھی یاسر کی طرح مسکے لگانا جانتے ھو ۔
    سلمان بولا ہووووں اسکا مطلب ھے کہ آپ بھائی کے مسکوں سے امپریس ھوئی ہیں واوووو۔۔
    مجھے تو پتہ ھی نہیں کہ مجھ مین بھی یہ کوالٹی ھے ۔
    میں نے سلمان کے آگے ھاتھ جوڑے کے میرے باپ بس کر تو بول بول دکھتا نہیں ھے ۔۔
    ضوفی ہنستے ھوے بولی بولنے دو اسے اچھی بات ھے انسان کو ایسا ھی ھونا چاہیے ۔۔۔
    اور پھر ضوفی بولی یاسر سلمان کو بھی گھر لے کر چلو امی سے مل لے گا امی بہت خوش ہوں گی سلمان سے مل کر ۔
    ضوفی کی بات مکمل ھوتے ھی سلمان کی زبان پھر چلی اور بولا۔
    واوووووو تو بات گھر تک پہنچ چکی ھے اور جناب مجھے روک رھے ہیں کہ کسی سے بات نہ کرنا ۔
    میں نے کہا ماما میں نے اس لیے کہا تھا کہ ابھی ابو کو نہیں پتہ اس لیے تجھے منع کیا تھا اب چل چلیں ضوفی کو گھر چھوڑ کر گاوں چلتےہیں۔
    باہر نکل کر میں نے دکان بند کی اور سلمان بائک پر بیٹھا اور ہم دونوں اسکے پیچھے بیٹھے اور میں سلمان کو رستہ بتانے لگا اور کچھ دیر بعد ہم ضوفی کے گھر کے سامنے کھڑے تھے

    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  4. The Following 10 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (23-01-2019), Admin (17-01-2019), Lovelymale (18-01-2019), MamonaKhan (17-01-2019), Mian ji (17-01-2019), mmmali61 (17-01-2019), omar69in (27-01-2019), suhail502 (20-01-2019), waqastariqpk (17-01-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  5. #633
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,382
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 224..??



    .بیل دینے کے کچھ دیر بعد ھی ماہی نے دروازہ کھولا ۔
    اور ہمارے ساتھ سلمان کو دیکھ کر چونکی اور جلدی سے دروازے کی اوٹ میں ھوگئی ۔
    ضوفی نے سلمان کو بھی اندر آنے کا کہا تو سلمان بائک لاک کر کے ہمارے پیچھے ھی اندر آگیا اور ہم ڈرائنگ روم میں پہنچے جبکہ کے ماہی سلام لینے کے بعد اسی وقت اوپر والے کمرے میں چلی گئی ۔
    ضوفی نے سلمان کا تعارف آنٹی سے کروایا آنٹی بھی بڑی خوشی سے سلمان کو ملی اور پھر ہم سب ڈرائنگ روم میں ھی بیٹھے رھے ۔
    تھوڑی دیر بعد ضوفی نے چاے بنا کر ہمیں پیش کی ۔
    اور پھر کچھ دیر باتوں کے بعد ہم نے آنٹی سے اجازت لی تو آنٹی نے سلمان کو اپنی امی اور بہنوں کو بھی لانے کی دعوت دی اور سلمان کو پانچ سو روپیہ بھی دیا کہ پہلی دفعہ گھر آیا ھے ۔
    جو کافی اصرار کرنے پر بڑی مشکل سے سلمان نے لیا ۔۔
    اورپھر ہم گھر سے نکلے تو سارے راستے سلمان آنٹی لوگوں کی تعریفوں کے پُل باندھتا رھا ۔
    اور اس نے تین چار دفعہ ماہی کے مطلق مجھ سے پوچھا تفصیل سے پوچھنا چاہا مگر میں نے اسکو ماہی کا مختصراً تعارف کروایا ۔۔
    اور موضوع کو بدل کر ادھر ادھر کی باتوں میں لگاتے ھوے گھر پہنچے سب صحن میں ھی بیٹھے ھوے تھے ۔
    میں نے سب سے سلام لیا اور پھر انکے پاس بیٹھ کر باتوں میں مشغول ھوگئے ۔۔
    سب ھی ایک دوسرے سے کسی نہ کسی ٹاپک پر باتیں کرنے میں مصروف تھے سواے عبیحہ کے وہ ایسے بیٹھی ھوئی تھی جیسے کسی نے اسے ذبردستی بیٹھنے پر مجبور کیا ھو۔۔
    خالہ کا پروگرام صبح واپس جانے کا تھا جبکہ سب بچے ابھی دو دن مذید رہنے پر اصرار کررہے تھے ۔
    امی اور نازی بھی خالہ کو منانے پر لگی ہوئیں تھی کہ دوبارا پتہ نہیں آپ نے کب آنا ھے بچوں کا دل لگا ھوا ھے آپ جمعہ تک رہیں اور ہفتہ کی صبح چلے جانا ۔۔
    آخر میں اور سلمان بھی اس مشن میں شامل ھوگئے اور خالہ کو منا کرر ھی دم لیا اور پھر خوشی میں سب نے ایک ساتھ مل کر شورمچانا شروع کردیا جبکہ سلمان تو ڈانس کرنے لگ گیا ۔۔
    اور وہ سڑیئل عبیحہ کانوں پر ہاتھ رکھے اٹھ کر نازی کے کمرے میں چلی گئی ۔
    گھر ایکدم چڑیا گھر کا ماحول بن گیا تھا ۔
    چھوٹا کامران ھی خوشی میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ پورے صحن میں چھلانگیں لگاتا ھوا پھر رھا تھا ۔
    جبکہ عبیرہ اور نازی ایک دوسرے کا ھاتھ پکڑ کر ککلی کلیر دی کھیل رہیں تھی اور میں اور سلمان ہنستے ھوے ان سب کو دیکھ رھے تھے ۔۔
    کچھ دیر بعد ہم سب نے کھانا کھایا ۔۔
    تو پھر سب نے شہر جانے کی فرمائش کی کہ آج ہم سلمان بھائی سے آئسکریم کھاءیں گے جبکہ سلمان ان سب چڑیلوں سے جان چھڑوا کر کبھی کمرے کی طرف بھاگتا تو کبھی بیٹھک میں جاکر چھپتا ۔۔
    مگر اسکی بہنیں اسکو ادھر سے ھی نکال لاتیں ۔
    آخر کار خالہ نے سختی سے سب کو منع کیا کہ کسی نے بھی شہر نہیں جانا ۔۔
    مگر عبیرہ کہاں ماننے والی تھی وہ امی سے سفارش کروانے لگ گئی تو پھر امی نے خالہ کو کہا کہ جانے دو بچے ہیں گھومنے پھرنے کے لیے ھی تو آئیں ہین ۔۔۔
    تب خالہ نے جانے کی اجازت دی ۔۔
    تو سلمان منہ لٹکا کر عبیرہ کو برا بھلا کہتا ھوا باہر نکل کر گاڑی میں بیتھ گیا ۔
    تو مجھے عبیحہ کا خیال آیا کہ کیوں نہ آج اسے بھی ساتھ لیتے جائیں ۔
    میں نے عبیرہ کو کہا یار اپنی آپو کو بھی ساتھ لے لو ۔
    تو عبیرہ کانوں کو ھاتھ لگاتے ھوے بولی ۔
    نہ بابا نہ آپو کو کہہ کر میں نے اپنی بےعزتی کروانی ھے ۔
    وہ تو کبھی بھی نہ جاءیں گی ۔۔۔
    میں نے کہا اگر میں کوشش کروں تو ۔۔۔۔
    عبیرہ ہنستے ھوے بولی ۔
    بھیا جی سورج مغرب سے نکل سکتا ھے مگر آپو کبھی بھی ہمارے ساتھ آئسکریم کھانے کے لیے نہیں جاسکتی ۔۔
    میں نے کہا اگر میں عبیحہ لو لے آوں توووووو۔
    عبیرہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوے بولی ۔
    او جانے دو بھائی کیوں مزاق کرتے ھو ۔۔
    میں نے کہا لگی شرط تو عبیرہ بڑے کانفیڈنس سے میرے آگے ھاتھ سیدھا کرتے ھوے بولی لگی شرط اگر آپ آپو کو لے آو تو کل میری طرف سے سبکو آئسکرم کی دعوت ورنہ آپ کھلاو گے ۔۔۔
    میں نے عبیرہ کے ہاتھ پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا اوکے ڈن ۔۔۔
    تو عبیرہ بولی تو جائیے اور جلد ھی ناکام لوٹ کر آئیے۔۔
    میں نے اپنے اندر بڑا کانفیڈنس پیدا کیا اور ھاتھ مسلتا ھوا
    کمرے کی طرف چلا گیا ۔
    اوور کانفیڈنس میں آکر میں نے شرط تو لگا لی تھی مگر کمرے کے دروازے پر پہنچتے ھی میری ٹِبری ڈھیلی ھوگئی تھی کہ ۔
    اس سڑیئل کو کہوں گا کیا وہ تو ویسے ھی ھر بات کا جواب مختصراً دیتی ھے اور بات بات پر کاٹ کھانے کو آتی ھے ۔
    خیر میں حوصلہ کرکے اندر داخل ھوا اور سامنے دیکھا تو عبیحہ کرسی پر بیٹھی ویسے ھی ناول پڑھنے میں مصروف تھی ۔
    عبیحہ کا بیٹھنے کا انداز بہت ھی سیکسی تھا ۔
    ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کی وجہ سے ٹائٹس میں اسکے موٹے پٹ بہت ھی سیکسی لگ رھے تھے ۔
    میں چند لمحے کھڑے ھونے کے بعد عبیحہ کی طرف چل دیا اور اس کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا ۔ عبیحہ ایسے ہر چیز سے بے خبر ناول پڑھنے میں مصروف تھی جیسے اسکو میرے آنے کا احساس بھی نہ ھوا ھو،
    میں عبیحہ کے بلکل قریب جاکر کھڑا ھوا اور گلا کھنگارا تو عبیحہ نے تھوڑا سا سر اٹھایا اور پھر نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔۔
    میں نے ہکلاتے ھوے کہا ۔۔
    ووووہ ہہہہم شہر جارھے تھے ۔۔۔۔۔
    عبیحہ بولی ۔۔
    تو جاو مجھے کیوں بتا رھے ھو ۔۔۔
    میں نے کہا ججججی وہ اگر آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں تو مجھے خوشی ھوگی ۔۔۔۔
    عبیحہ نے ناول کو بند کر کے اپنی ران پر رکھا اور ناول کے اوپر کہنی رکھ کر بڑی ادا سے اپنی ٹھوڑی اپنے ھاتھ پر رکھ کر بولی ۔۔۔
    پہلی بات تو یہ ھے کہ مجھے یوں آوارہ گردی کرنا بلکل بھی پسند نہیں ھے ۔۔۔
    اور بائی دا وے میں جان سکتی ھوں کہ جناب کو میرے جانے کی خوشی کس خوشی میں ھوگی ۔۔۔
    سالی نے سوال ھی ایسا کیا جس کا جواب میں کیا دیتا ۔۔۔
    اوپر سے بات کرنے کی اسکی ادا اور سیکسی فگر میری مت ماری جارھا تھا ۔
    میں چند لمحے سوچنے کے بعد ہکلاتے ھوے بولا ۔۔۔
    وووہ جی ایسی تو کوئی بات نہیں بس آپ پہلی دفعہ ہمارے گھر آئی ہیں تو سوچا آپ کو شہر دیکھا لاوں ۔۔

    عبیحہ بڑی سنجیدگی سے اسی سٹائل میں بیٹھی بولی ۔
    تمہارا مطلب کہ میں پہلے کسی گاوں سے آئی ھوں جو شہر دیکھانا ھے
    میں اپنی بونگی پر اپنے سر پر چپت مارتے ھوے بولا ۔۔۔
    جججی دراصل ہم مہمانوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔۔۔۔

    ااوووو نئی جی دراصل آپ بہت خوبصورت ۔۔

    او شٹ ججججج دراصل سب جارھے ہیں تو اگر آپ بھی چلیں گی تو رونق دوبالا ھوجاے گی ۔۔۔
    عبیحہ ایکدم غصہ سے اٹھی اور میری طرف انگلی کرتے ھوے بولی ہیہلو مسٹر تمہارا نام کیا ھے ہاں یاسر میرے ساتھ ذیادہ فری ھونے کی کوشش مت کرو اور جاو یہاں سے مجھے ڈسٹرب مت کرو ۔۔۔
    میں چپ کر کے سر جھکائے واپس جانے لگا اور پھر مسکین سی شکل بنا کر پلٹ کر عبیحہ کی طرف دیکھا جو میری ھی طرف دیکھ رھی تھی ۔
    میں نے رک کر اسکی طرف مڑ کر دیکھا اور آہستہ سے بولا ۔
    میں نے بڑے مان سے آپ کہا تھا کہ ۔۔۔۔
    تو عبیحہ میری بات کاٹتے ھوے ھاتھ جوڑتء ھوے بولی
    او جاووووووو جی مجھے نہیں جانا تمہارا شہر دیکھنے ۔۔
    میں انہی قدموں سے واپس پلٹا اور درواز پر پہنچا تو پیچھے سے عبیحہ کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔۔
    بات سنو۔۔۔
    میرے اٹھتے قدم وہیں رک گئے اور گردن گھما کر پُرامید نظروں سے عبیحہ کی طرف دیکھا ۔
    تو عبیحہ واپس کرسی پر بیٹھتے ھوے بولی ۔
    جاتے ھو دروازہ بند کردینا ۔۔۔
    مجھے اس پر غصہ تو بہت آیا کہ سالی خود کو سمجھتی کیا ھے ایسے رعب جھاڑ رھی ھے جیسے میں اسکے باپ کا نوکر ھوں ۔۔۔
    میں نے گھور کر اسے دیکھا اور۔
    ذور سے دروازہ بند کرکے کے باہر نکل گیا ۔۔
    جب میں باہر کے دروازے کے قریب پہنچا تو سامنے عبیرہ اور نازی طنزوں کے نشتر لیے کھڑی تھی ۔
    مجھے منہ لٹکائے آتا دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنستے ھوے بولیں ۔۔
    لو جی آگئے عزت افزائی کروا کے چلے تھے بڑے سورما بن کر مگر آے ہیں بھیگی بلی بن کر ۔۔۔
    میں چپ کر کے انکے پاس سے گزرا اور جاکر سلمان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔
    سلمان میرا اترا ھوا چہرہ دیکھ کر بولا ۔
    باس کیا ھوا اتنے افسردہ کیوں ھو ۔۔
    میں نے کہا کچھ نہیں یار بس ایسے ھی طبعیت نہیں سہی اتنے میں سب آکر گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔
    سلمان گاڑی سٹارٹ کرتے ھوے بولا ۔
    ابھی تو طبعیت بلکل ٹھیک تھی یہ اچانک کیا ھوا ۔
    میں نے کہا کچھ نہیں ہوا یار بس سر میں درد ھے ۔
    تبھی پیچھے سے عبیرہ کی چہکتی ھوئی آواز آئی ۔
    سلمان بھائی انکی طبعیت نہیں خراب بلکہ مجھ سے شرط ھار گئے ہیں بس اس بات کو دل پر لگا کر بیٹھ گئے ہیں ۔
    سلمان نے چونک کر بیک مرر سے عبیرہ کو دیکھتے ھوے کہا کون سی شرط ۔
    عبیرہ بولی آپ کو کیوں بتاوں یہ میرا اور یاسر بھائی کا معاملہ ھے ۔۔
    سلمان نے چلتی گاڑی کی بریک لگا دی اور گردن گھما کر پیچھے دیکھتے ھوے بولا ۔
    بتاتی ھو کہ یہاں سے ھی گھر واپس چلوں ۔۔
    تبھی میں نے سلمان کی ران پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا ۔
    کچھ بھی نہیں ھے یار چلو تم ۔۔
    سلمان بولا ۔
    یار تم ان چڑیلوں کے چکر میں کہاں پھنس گئے ۔۔
    یہ ایسے ھی روز کسی نہ کسی طریقے سے مجھے پھنسا کر میرا خرچہ کرواتی ھے ۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا یار گاڑی چلاو بہنوں پر خرچ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
    اب یہ ہمیں تنگ نہیں کریں گی تو کسے کریں گی ۔۔
    سلمان نے غصے سے ایک نظر عبیرہ پر ڈالی اور پھر گئیر لگاتے ھوے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔
    سلمان نے اونچی آواز میں میوزک لگا دیا جبکہ پیچھے بیٹھے عملے کی گانا گانے کی آواز سپیکر سے بھی اونچی تھی ۔
    اور سب گانا گانے کے ساتھ ساتھ تالیاں بجا رھے تھے ۔۔
    ایسے ھی ہم شہر پہنچے اور پھر اسی ہوٹل کے پاس گاڑی روکی اور سب جلدی جلدی باہر نکلے ۔
    اور ہم نے آئسکریم کھاتے ھوے بھی کافی ہلا گُلا کیا اور ۔
    پھر واپس گاوں آگئے میں نےبھی آتے ھوے آئسکریم کے دو کپ ھی پیک کرواے جو امی اور خالہ کے لیے تھے ۔۔
    گھر آکر میں نے نازی کو کپ پکڑاے اور پھر میں اور سلمان بیٹھک میں آگئے ۔۔
    اپنے اپنے بستروں پر لیٹنے کے بعد کچھ دیر دکان کی سیٹنگ اور ورائٹی پر بات ھوتی رھی پھر ضوفی اور اسکے گھر والوں کی بات ھوتی رھی ۔
    جب کافی وقت گزر گیا تو میں نے اٹھ کر بیٹھک کا دروازہ لاک کیا اور پھر سلمان کے ساتھ لیٹتے ھوے بولا چل کاکا تیار ھوجا اور اپنے وعدے کے مطابق مجھے اپنی میڈم اور اپنی لو سٹوری تفصیل سے بتا ۔۔۔۔
    سلمان ہنستے ھوے بولا ۔
    او بھائی لو شو کچھ نہیں ھے بس ٹائم پاس ھے اور کچھ نہیں ۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا چل جو بھی ھے جلدی جلدی بتا اور اپنے وعدے کے مطابق مکمل تفصیل سے ۔۔۔
    سلمان نے اپنے آپ کو سیٹ کیا اور گلا کھنگار کر میری طرف دیکھ کر بولا اچھا تو پھر بتا دوں ۔۔
    میں جو اسکی سٹوری سننے کے لیے بےچین تھا اسکی بات سن کر برا سا منہ بنایا اور پھر اسکے پیٹ میں گدگدی کرنے لگ گیا ۔سلمان قہقہے لگاتا ھوا ہنستے ھوے مجھے ٹانگیں مارتا ھوا بولا اچھا اچھا رک بتاتا ھوں ۔۔
    میں نے اسے چھوڑا تو سلمان لمبے لمبے سانس لیتے ھوے بولا یار تم بھی نہ ۔۔۔۔
    میں نے کیا بتاتا ھے کہ ۔۔۔۔
    سلمان دونوں ھاتھوں سے میرے ھاتھ پکڑتے ھوے بولا بتاتا ھوں بتاتا ھوں ۔۔
    اوت کچھ دیر بعد سلمان نے خود کو نارمل کیا اور پھر بولا


    تو سن پھر غور سے ۔۔۔؟؟؟؟.
    یار جب میں 9,میں تھا تو ابو نے مجھے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن کے لیے رکھوا دیا ۔
    میں سکول سے سیدھا اکیڈمی جاتا ۔
    جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے ھی پڑھتے تھے ۔
    میں ذرہ لائک تھا اور ویسے بھی تیرے بھائی کی پرسنیلٹی تھی اس وجہ سے مجھے سب سے آگے بیٹھنے کی جگہ ملی ۔
    پہلے ایک دو ماہ تو ہمیں اکیڈمی کی پرنسپل ھی پڑھاتی رھی ۔
    مگر پھر ایک دن جب میں سکول سے سیدھا اکیڈمی پہنچا اور کلاس میں جاکر بیٹھ گیا تو کچھ ھی دیر بعد دروازے سے پرنسپل کی بجاے ایک پھلجھڑی نمودار ھوئی ۔

    گورا چٹا رنگ پتلی سی ناک موٹی جھیل سی سیاہ آنکھیں تھوڑے سے موٹے ہونٹ جن پر ہلکے گلابی رنگ کی لپسٹک جو غور سے دکھنے سے نظر آتی تھی صراحی دار گردن
    پنک کلر کا سوٹ جو اتنا فٹنگ میں تھا کہ اسکے جسم کے ایک ایک نقش ونگار واضع نظر آرھے تھے ۔
    گلے میں باریک سا دوپٹہ جس نے اسکے 34 سائز کے تنے ھوے سڈول مموں کو براے نام ڈھانپا ھوا تھا اور کالے سیاہ لمبے اور سلکی بال جو باہر کو نکلی ھوئی 38 سائز کی گول مٹول گانڈ کو ڈھانپے ھوے تھے ۔
    نیچے فٹنگ میں پہنا ہوا ٹائٹس اور پاوں میں پہنی پنسل ہیل والا جوتا جس کی وجہ سے اسکے ممے مذید آگے کو اور گانڈ مزید باہر کو نکلی ھوئی تھی افففففففففففففففففف
    کیا بتاوں یاسر بھائی ۔اس کمبخت چلتی پھرتی بجلی کو دیکھتے ھی تمہارے بھائی کی جان ہلک میں اٹک گئی میں دوسرا سانس لینا بھول گیا آنکھیں جہاں تھی وہاں ھی پتھر ھوگئیں ھاتھ اوپر تھا وہیں رک گیا ہاتھ میں پکڑی پنسل ڈیسک پر گری اور پھر ڈیسک سے نیچے فرش پر جاگری ۔
    اور اسے دیکھ کر میرے منہ سے بس اتنا ھی نکلا ۔
    واااااووووووووووو ..
    اور یہ میرا ھی نہیں بلکہ آگے ڈیسکوں پر بیٹھے ہر لڑکے کا حال تھا ۔۔۔
    اس وقت ٹیچر کو سٹینڈ وشنگ صرف لڑکیوں نے ھی دیا ۔
    جبکہ لڑکے تو جہاں بیٹھے تھے وہیں ہتھر ھوگئے ۔۔۔

    ایسے میں اس قاتل حسینہ نے ایک نظر پوری کلاس پر ڈالی اور بڑی ادا سے پنسل ہیل سے فرش پر ٹک ٹک کرتے چلتی ھوئی سیدھی میرے سامنے آئی اور پھر میری طرف بڑے غور سے دیکھا ۔
    مگر میں تو ہر چیز سے بیگانہ ھوکر بیٹھے ھوے اسکی طرف دیکھی جارھا تھا میری آنکھیں کسی ربورٹ کی طرح اس قیامت کے چلنے کے ساتھ ساتھ اسکو دیکھتے ھوے حرکت کررھیں تھی اور میرا منہ واوووووووو کہنے کہ بعد بند ہونا بھولا ھوا تھا
    جب وہ قیامت میرے سامنے آکر کھڑی ھوئی تو مجھے لگا یہ قیامت آج مجھ پر ھی پڑنے والی ھے ۔
    مگر وہ ایکدم نیچے جھکی تو میری گانڈ بھی بینچ سے آوپر خود ھی اٹھی ۔
    اسکے ادب میں نہیں بلکہ نیچے جھکنے کی وجہ سے اسکے کھلے گلے سے روشن ھوتے ھوے اسکے چٹے سفید مموں کی جھلک دیکھنے کے لیے ۔۔۔
    چہرے سے نظر ہٹ کر جیسے ھی اسکے کھلے گلے سے دکھتے ھوے مموں پر پڑی ۔
    تو یاسر بھائی پہلی دفعہ میرے لن نے کسی لڑکی کی وجہ سے جھٹکے سے کھڑے ھونے کی جرات کی ۔۔۔۔
    وہ بھی اپنی میڈم کو۔۔۔۔
    اور پھر وہ ایکدم اوپر کو ہوئی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔
    اپنا ہاتھ اوپر کیا اور ہاتھ میں پکڑی پنسل میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ھوے بولی ۔
    ہیلووووووووو ۔
    سالی پنسل نے مجھے طلسم سے باہر نکالا اور میں گبھرا کر ایکدم سٹینڈ اپ ہوگیا ۔
    اور ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا ۔
    تو کلاس میٹ منہ پر ہاتھ رکھ کر میری حالت پر اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کررہے تھے ۔
    میں شرمندہ سا ھوکر سر نیچے کر کے ٹیچر کے سامنے کھڑا ھوگیا۔۔۔
    میڈم نے پنسل ہاتھ میں پکڑی اور اسے انگلیوں میں گھماتے ھوے مجھے غور سے دیکھتے ھوے اپنی کرسی کی طرف بڑھنے لگی ۔
    اور کرسی کے پاس جاکر پنسل ٹیبل پر رکھی اور اپنی سریلی آواز میں بولی سٹ ڈاون پلیز۔۔۔۔۔
    تو سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے سواے میرے ۔۔۔
    تو میڈم میری طرف دیکھتے ھوے دوبارا آواز گونجی ۔
    ہیلو مسٹر میں نے چونک کر میڈم کی طرف دیکھا اور ہکلاتے ھوے بولی ججججججججی ممممیڈم ۔
    تو میڈم نے مجھے گھور کر دیکھتے ھوے کہا ۔
    تمہیں کیا کسی اور زبان میں سمجھ آتی ھے ۔۔
    میں نے بوکھلاے ھوے پھر کہا ۔۔
    ججججی میڈم میں کککچھ سمجھا نہیں ۔
    تو میڈم تلخی سے بولی ۔۔۔۔۔
    I say sitdownnnnnnnnnnnnnnnnnn.
    میں اتنی سپیڈ سے بیٹھا جیسے میرے اوپر کوئی چیز گر گئی ھو ۔۔۔
    اور بیٹھتے ھوے شرمندہ سا ھوکر اپنی بکس کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگ گیا ۔
    میں ابھی تک میڈم کے سیکسی جسم کے سحر میں جکڑا ھوا تھا اور بہت ھی ذیادہ کنفیوژن کا شکار تھا ۔۔۔
    ابھی میں اپنی بکس کو ھی دیکھ رھا تھا ۔
    کہ میرے کانوں میں پھر میڈم کی سریلی آواز گونجی ہیلو گائز ۔
    تو میں نے چونک کر میڈم کی طرف دیکھا جو اب کرسی پر بیٹھ کر اپنی دونوں کہنیوں کو ٹیبل پر رکھ کر میری پنسل کو انگلیوں میں گھماتے ھوے کلاس سے مخاطب تھی ۔
    پھر میڈم بولی ۔
    جیسا کہ آپ سب جانتے ھو کہ اکیڈمی میں میرا پہلا دن ھے ۔
    اور اب میں ھی روزانہ آپکو پڑھایا کروں گی ۔
    میرا نام سونیا ھے اور میں آپ سب کو ایک بات سمجھا دوں کہ میں انڈسپلن بلکل برداشت نہیں کروں گی اور فضول گفتگو کرنے والے سٹوڈنٹ مجھے بلکل پسند نہیں ہیں ۔
    کلاس میں شور شرابا بلکل نہیں ہونا چاہیے اور ہوم ورک نہ کرنے والے سٹوڈنٹس کو فائن پڑے گا جو اسے ادا کرنا پڑے گا ورنہ اسکو میں کلاس سے آوٹ کردوں گی ۔
    اور مجھے بار بار اپنی بات دھرانے کی عادت نہیں ھے ۔
    میرا خیال ھے کہ آپ سب میری بات اچھی طرح سے سمجھ گئے ہوں گے ۔
    ایم رائٹ ۔۔۔
    تو سب کی ایک ساتھ آواز گونجی.
    یس میڈیمممممم۔۔۔۔۔
    اور پھر میڈم نے میری طرف غور سے دیکھا اور میری طرف دیکھتے ھوے انگلی سے اشارہ کیا ۔
    میں نے میڈم کے اشارے کو دیکھتے ھوے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر میڈم کی طرف دیکھا تو میڈم بولی ہیلو مسٹر میں تمہیں بلا رھی ھوں ۔
    میں نے کہا جی میڈم ۔
    میڈم غصے سے بولی ۔
    جی میڈم کے بچے ادھر آو ۔۔۔
    میں کانپتی ٹانگوں کے ساتھ چلتا ھوا جیسے ھی میڈم کی کرسی کے پاس پہنچا تو میڈم نے ہاتھ میں پکڑی پنسل اچانک؟؟؟؟؟؟

    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  6. The Following 16 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (23-01-2019), Admin (17-01-2019), hananehsan (17-01-2019), Lovelymale (18-01-2019), MamonaKhan (18-01-2019), mentor (17-01-2019), Mian ji (17-01-2019), Mirza09518 (17-01-2019), mmmali61 (17-01-2019), musarat (17-01-2019), omar69in (03-02-2019), sajjad334 (17-01-2019), vampir (17-01-2019), waqastariqpk (17-01-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019), zoooon (18-01-2019)

  7. #634
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    15
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Both he lajawab or super hit story ha ...

  8. The Following User Says Thank You to us_man0 For This Useful Post:

    Xhekhoo (24-01-2019)

  9. #635
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    81
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    ایک اور لاجواب اپڈیٹ تھی یہ شیخو جی پر پتہ نہیں کیوں آج تشنگی رہ گئی ہے کہ جیسے آج والی اپڈیٹ چھوٹی رہ گئی ہو۔۔۔

  10. The Following User Says Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    Xhekhoo (17-01-2019)

  11. #636
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    182
    Thanks Thanks Given 
    267
    Thanks Thanks Received 
    334
    Thanked in
    152 Posts
    Rep Power
    173

    Default

    lovely update shekhoo bro.

  12. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    Xhekhoo (17-01-2019)

  13. #637
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    111
    Thanks Thanks Given 
    969
    Thanks Thanks Received 
    208
    Thanked in
    94 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    ZABBARDAST update ha

    شیخو جی کمال کر دیا

    Maza a gay parh kr
    سیکسی لیڈی

  14. The Following User Says Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    Xhekhoo (17-01-2019)

  15. #638
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    کیا بات ہے شیخو جی لگتا ہے دو دن میں نخریلی کزن بھی چدنے والی ہے

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Ladla G For This Useful Post:

    apnapun (18-01-2019), Xhekhoo (18-01-2019)

  17. #639
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    واہ جی واہ
    شیخو پائیان
    نخریلو کڑی تے محنت کرن دی وی اپنی وکھری چس ہندی

  18. The Following User Says Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    Xhekhoo (18-01-2019)

  19. #640
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,174
    Thanks Thanks Given 
    234
    Thanks Thanks Received 
    272
    Thanked in
    90 Posts
    Rep Power
    1542

    Default


    شیخو پائی بہت ودیا جا رہے ہو

  20. The Following 2 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    apnapun (18-01-2019), Xhekhoo (18-01-2019)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •