سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 33 of 33 FirstFirst ... 232930313233
Results 321 to 325 of 325

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #321
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    225
    Thanks Thanks Given 
    70
    Thanks Thanks Received 
    926
    Thanked in
    219 Posts
    Rep Power
    177

    Default Update no 191...


    update..

    .میں کافی دیر پھدی اور گانڈ کے درد سے روتی رھی ۔

    اکری کپڑے پہن کر باہر چلا گیا اور اسد کپڑے لے کر واش روم چلا گیا ۔

    کمرہ خالی ھوا تو میرے دماغ میں ایکدم ویڈیو کیسٹ کا آیا میں جلدی سے اٹھی اور بریزیر پہن کر کیسٹ تکیہ کے نیچے سے نکال کر بریزیر میں رکھی اور جلدی سے پہلے قمیض پہن لی اورپھر بڑی مشکل سے شلوار پہن ھی رھی تھی کہ کمرے میں ایک مونچھوں والا داخل ھوا جسکو دیکھ کر میں نے جلدی سے شلوار اوپر کی اور چادر پکڑ کر جلدی سے اوپر اوڑھنے لگی ۔

    مونچھوں والا بدمعاش کندھے پر بندوق لٹکاے دروازے پر کھڑا میری طرف دیکھی جارھا تھا میں چادر اوڑھ کر کھڑی کبھی اسکی طرف دیکھتی کبھی واش روم کے دروازے کی طرف ۔

    کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد وہ بدمعاش بولا چلو لڑکی ساب جی بولا رھے ہیں میں پاوں گھسیٹتے ہوے دروازے کی طرف چل پڑی جب میں کمرے سے باہر نکلی تو باہر دو تین گن مین بڑی بڑی مونچھوں والے کھڑے تھے اور اکری ایک صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا مونچھوں کو تاو دے رھا تھا ۔

    اور اس کے گارڈ اسکے ارد گرد کھڑے تھے اکری نے مجھے آتا دیکھا تو مجھے اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کا کہا ۔

    میں نے اسے نفرت سے گھورتے ھوے دیکھ کر کہا مجھے گھر جانا ھے ۔

    اکری قہقہہ لگا کر ہنسا اور بولا ۔چلی جانا میں کون سا تجھے اس حویلی میں قید کرنے لگا ہوں اتنے میں اسد بھی کمرے سے باہر نکلا اور بولا باس اب اسکا کیا کرنا ھے ۔

    اکری بولا کرنا کیا ھے تو جا اور اسکو میرا ملازم اسکے سکول چھوڑ آتا ھے ۔

    اسد کندھے اچکا کر باہر نکل گیا اور اکری مجھے دھمکاتے ھوے بولا تمہارا جسکو جی کرے بتا دینا مجھے اسکی کوئی پریشانی نہیں ۔

    اور یاد رکھنا کہ تیرے چدتے ھوے کی پوری فلم میرے پاس ھے اور جب بھی تجھے میرا پیغام پہنچے بنا کسی پریشانی کے ادھر چلی آنا ۔

    اس کے ساتھ ھی اس نے ایک گن مین کو کہا کہ یہ جہاں جانا چاھے اسے چھوڑ آنا اور اسکا پورا خیال رکھنا ۔

    یہ کہتےھوے اکری صوفے سے اٹھا اور باہر کی طرف چل پڑا اسکے پیچھے اسکے گن مین بھی باہر نکل گئے اور پھر وہ بدمعاش مجھے سکول چھوڑ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظمی اپنی داستاں سنا کر اونچی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور میں مارے حیرت کے سکتے کے عالم میں اس کی طرف دیکھی جارھا تھا ۔

    مجھے ایکدم ہوش آیا اور میں نے ۔

    بڑی سنجیدگی کے ساتھ عظمی سے پوچھا ۔

    عظمی تم نے مجھ سے پہلے جھوٹ کیوں بولا تھا ۔

    عظمی بولی یاسر وہ بڑا خطرناک بندا ھے میں ڈر گئی تھی کہ کہیں تم اس کے ساتھ لڑنے نہ چلے جاو اور مجھ میں یہ سب بتانے کہ ہمت بھی نہ تھی ۔

    یاسر مجھ پر بہت ظلم کیا ھے ان لوگوں نے جسکی تکلیف آج بھی مجھے ہوتی ہے

    میں نے کہا وہ کیسٹ کہاں ھے ۔

    عظمی بولی وہ میں نے توڑ کر نہر میں پھینک دی تھی۔

    میں نے ہمممممم کیا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا ۔

    کیا تم کو راستہ یاد ھے کہ اس کا ڈیرہ کس طرف ھے ۔

    عظمی بولی یاسر مجھے یاد ھے مگر میں تمہیں بتاوں گی نہیں۔

    میں نے چیخ کر عظمی کو کہا بکواس بند کرو اور جو میں نے کہا ھے اسکا جواب دو ۔

    عظمی میرے سخت رویہ سے سہم گئی اور میرے آگے ھاتھ جوڑ کر بولی یاسر وہ بڑے خطرناک لوگ ہیں

    تم بھول کر بھی اسطرف مت جانا ۔

    میں نے کہا تم اس بات کو چھوڑو مجھے پتہ ھے میں نے کیا کرنا ھے تم بس مجھے وہ راستہ سمجھا دو کہ کسطرف ھے باقی میں اسے خود ڈھونڈ لوں گا اور جو تمہارے ساتھ ان لوگوں نے کیا ھے ۔

    اس سے بڑھ کر انکے ساتھ برا نہ کیا تو میں بھی اپنے باپ کا نہیں ۔

    اور اس اسد کو اب حساب برابر کا چکتا کرنا پڑے گا اب یہ روز جیئے گا اور روز مرےگا ۔

    عظمی کے ساتھ مجھے دلی ہمدردی ھوگئی تھی اسکی بس یہ ھی غلطی تھی کہ لالچ میں آکر اسد کے چنگل میں پھنس گئی اور اس گشتی کے بچے نے اسکے ساتھ یہ ظلم کیا ۔

    عظمی کچھ دیر انکار کرتی رھی مگر جب میں نے ذیادہ سختی کی تو اس نے مجھے سارا اڈریس سمجھا دیا میں. نے اس سے حویلی کے اندر کا سارا نقشہ بھی پوچھ لیا اور کتنے افراد ہیں وہ بھی پوچھ لیے ۔۔۔

    اور عظمی کو چھوڑ کر میں اپنے گھر آگیا عظمی کے ساتھ جو ظلم ھوا تھا ۔

    اسکی باتیں میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رھیں تھی ۔

    میں رات دیر تک جاگتا رھا اور اسد اور اکری سے کیسے بدلہ لینا ھے اسکے بارے میں پلاننگ کرتا رھا ۔

    ضوفی میرے دماغ سے نکل چکی تھی. ۔

    رات کو بستر پر لیٹا سوچتے سوچتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی ۔

    صبح لیٹ اٹھا اور امی سے بڑی مشکل سے اجازت لے کر شہر کی طرف چل دیا ۔۔

    جب میں نہر پر پہنچا تو ادھر ھی بیٹھ گیا ۔۔۔

    اور بس ایسے ھی ادھر ادھر کی سوچتا رھا جب مجھے دو گھنٹے ادھر بیٹھے ھوے تو میں اٹھ کر شہر کی طرف چل دیا ۔

    شہر پہنچ کر میں سیدھا جنید کی طرف گیا دکان کے باہر کھڑے ہوکر میں نے جنید کو آواز دی تو جنید مجھے دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتا ھوا

    میری طرف آیا اور آتے ھی مجھے گلے لگا کر بڑی گرمجوشی سے ملا ۔

    اور مجھے دکان کے اندر آنے کا کہا مگر میں نے اسے منع کرتے ھوے اس سے اس دن کی معذرت کی کہ میری وجہ سے تمہارے گھر والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جنید بولا کمال ھے یار ایک طرف مجھے یار کہتے ھو دوسری طرف ایسی باتیں کرتے ھو ۔

    کچھ دیر ہم کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کرتے رھے جنید نے بتایا کہ شاہین مارکیٹ کے مالک نے نسیم کو دکان خالی کرنے کا کہہ دیا ھے اور اسے ایک مہینے کا نوٹس دے دیا ھے میں نے خوش ھوتے ھوے کہا اس کے ساتھ ایسا ھی ھونا چاہیے تھا اسے بھی احساس ھو کہ کیسے کسی کی روزی میں ٹانگ مارتے ہیں ۔۔کچھ دیر مذید باتیں کرنے کے بعد جنید سے اجازت لے کر ضوفی کی طرف چل پڑا جنید نے مجھے منع بھی کیا کہ ابھی ادھر نہ جاو مگر میں ضوفی کے دیدار کے لیے بےچین تھا ۔

    بازار میں داخل ھوتے ھی مجھے عظمی بھول گئی اور ضوفی کو دیکھنے کی بےچینی بڑھ گئی ۔۔

    میں چلتا ھوا شاہین مارکیٹ پہنچا تو مارکیٹ میں کسٹمرز کا کافی رش تھا تو اس لیے میری طرف کسی کا دھیان نہیں پڑا ادھر ادھر کے دکاندار اپنے اپنے کام میں مصروف تھے مین سیڑیاں اترتا ھوا نیچے چلا گیا ۔

    اور پارلر کے دروازے پر دستک دی تو کچھ ھی دیر بعد پردہ سرکا اور وہ کچی کلی نمودار ھوئی اور مجھے دیکھ کر ایسے اس کا چہرہ کھلا جیسے وہ میری معشوق ھو

    اور اسی وقت وہ پردے کے پیچھے غائب ہوئی کچھ ھی دیر بعد ضوفی دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر اسکا چہرہ کھل اٹھا اور حال احوال اور گلے شکوے کے بعد بولی ۔

    اندر کسٹمرز ہیں تم تھوڑی دیر رکو میں آتی ھوں اور گھر چلتے ہیں میں بھی اسکی مجبوری کو سمجھ کر ہمممم کر کے باہر ھی کھڑا ھوکر انتظار کرنے لگ گیا تقریبا دس منٹ بعد ضوفی گاون پہنے اور نقاب کیے باہر نکلی اور بولی چلو ۔

    میًں نے کہا وہ کسٹمر ۔

    ضوفی بولی تم سے عزیز نہیں اور میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے چلنے کا کہا۔۔

    میں ضوفی کے ساتھ باہر نکلا اور ہم نے کچھ اگے جاکر رکشہ لیا اور ضوفی کے گھر کی طرف روانہ ھوگئے۔

    راستے میں کچھ خاص بات نہ ھوئی گھر پہنچ کر ضوفی نے ڈور بیل دی تو ماہ نور ماہی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر ماہی کافی خوش ہوئی اور کافی گرمجوشی سے میرا استقبال کیا ۔

    ضوفی نے ماہی سے امی کا پوچھا تو ماہی نے بتایا کہ امی سوئی ھوئی ہیں ۔

    ضوفی مجھے سیدھا اوپر والے کمرے میں لے گئی اور اندر داخل ھوتے ھی ضوفی نے دروازہ لاک کیا اور پھر میرے ساتھ ایسے جپھی ڈالی جیسے پتہ نہیں کتنے سال بعد ملی ھو ۔

    ضوفی مجھ سے لپٹ کر رونے لگ گئی اور میرے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پاگلوں کی طرح چومنے لگ گئی ضوفی روتی ھوئی میرے چہرے کو چومی جارھی تھی ۔

    اور ساتھ ساتھ کہے جارھی تھی تم مجھے چھوڑ کر دوبارہ کیوں لڑنے گئے تھے اگر تمہیں کچھ ھوجاتا میں تو جیتے جی مرجاتی. پھر پلٹ کر میرا حال بھی نہ. پوچھا آج چار دنوں کے بعد آے ھو پتہ ھے میں کتنا روتی رھی کتنا یاد کرتی رھی تمہارے گھر آنے لگی تھی مگر امی نے روک دیا کہ پتہ نہی تمہارے گھر والے کیا سوچیں ۔۔۔

    ضوفی کی تڑپ بےچینی بےتابی میرے لیے اتنا پریشان ہونا مجھے یوں پاگلوں کی طرح چومنا

    اور اسکے یوں رونے پر مجھے اسپر پیار آنے لگ گیا اور خود پر فخر ھونے لگا کہ مجھے اتنا چاہنے والا میرے لیے یوں پریشان ھونے والا بھی کوئی ھے ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے ضوفی کی نرم گالوں پر ھاتھ رکھے اور انگوٹھے سے اسکے آنسوں صاف کرتے ھوے اسے چپ کروانے اور تسلی دینے لگ گیا کہ مجھے کچھ بھی نہیں ھوا ۔

    لڑائی میں اتنی معمولی سی چوٹ تو لگ ھی جاتی ھے ۔

    اور یہ کہتے ھوے میں نے ضوفی کے آنسووں کو اپنے ہونٹوں سے چُننے لگ گیا اور پھر اسکے نمکین آنسووں کو اپنے ہونٹوں پر لگا کر ضوفی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے لگ جاتا

    کافی دیر میں ضوفی کو ایسے ھی لاڈ پیار سے نارمل کرنے کی کوشش کرتا رھا اور ایسے ھی اسکو لے کر میں بیڈ پر بیٹھ گیا

    ضوفی اب چپ ھوکر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے ۔

    مجھے دیکھی جارھی تھی

    پاگل لڑکی۔۔۔

    جب ضوفی مجھے یوں دیکھتی تو میں اسکو آنکھ ماردیتا

    ضوفی میرے سینے پر مکا مارتی اور چل شوخا کہتے ھوے میرے کندھے پر سر رکھ کر میرے کندھے کو چومتی اور کچھ دیر دوبارا سر اٹھا کر مجھے دیکھنے لگ جاتی ۔
    ۔بھی ہمارے لاڈ جاری تھے کہ دروازے پر دستک ھوئی ۔

    ضوفی جلدی سے اٹھی اور دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے دروازے کے پاس گئی اور دروازہ کھول دیا ۔

    ماہی ہاتھ میں ٹرے پکڑے کھڑی تھی جس میںں کولڈ ڈرنک تھی ۔

    ضوفی دروازہ کھول کر واپس میری طرف آگئی اور ماہی ضوفی کے پیچھے پیچھے چلتی ھوئی ٹیبل پر ٹرے رکھ کر اس میں سے ایک گلاس اٹھا کر مجھے پکڑا کر ضوفی کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگ گئی.

    اور پھر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔

    بھائی آپی کو کیا ھوا ھے ۔

    میں نے ہنستے ھوے کہا ۔راستے میں ضد کررھی تھی کہ برف والا گولا کھانا ھے میں نے کھانے سے منع کیا کہ تمہارا گلا خراب ھوجاے گا تو گھر آکر رونے لگ گئی اور

    اس لیے بےچاری رو رھی ھے

    ضوفی جو سنجیدہ حالت میں بیٹھی ھوئی تھی میری بات سن کر ہنس پڑی اور مجھے مارنے کے لیے میری طرف دوڑی میں جلدی سے بیڈ سے اٹھا اور بھاگ کر ماہی کے پیچھے آگیا ۔

    میں جیسے ھی ماہی کے پیچھے آیا تو ۔۔۔۔۔

    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  2. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abkhan_70 (Yesterday), Admin (Today), Mirza09518 (Today), sexeymoon (Yesterday), waqastariqpk (Today)

  3. #322
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    225
    Thanks Thanks Given 
    70
    Thanks Thanks Received 
    926
    Thanked in
    219 Posts
    Rep Power
    177

    Default

    Quote Originally Posted by sajjad334 View Post
    Brilliant..... Awesome .............. bohat hi aala story
    Thanks jani for appreciate love u
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  4. #323
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    225
    Thanks Thanks Given 
    70
    Thanks Thanks Received 
    926
    Thanked in
    219 Posts
    Rep Power
    177

    Default

    Quote Originally Posted by MamonaKhan View Post
    ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST


    Maza a gaya & uzma ki kahani us ka munh sa dobara sun ka maza mazeed barh gaya ha....


    Keep it up...
    Thanks jani love u for appreciate
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  5. #324
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,143
    Thanks Thanks Given 
    115
    Thanks Thanks Received 
    138
    Thanked in
    53 Posts
    Rep Power
    1537

    Default

    outclass story hai brother

  6. The Following User Says Thank You to Admin For This Useful Post:

    Xhekhoo (Today)

  7. #325
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    225
    Thanks Thanks Given 
    70
    Thanks Thanks Received 
    926
    Thanked in
    219 Posts
    Rep Power
    177

    Default

    Quote Originally Posted by Admin View Post
    outclass story hai brother
    Thanks sir love u for appreciate
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •