سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 67 of 67 FirstFirst ... 17576364656667
Results 661 to 667 of 667

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #661
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    59
    Thanks Thanks Received 
    64
    Thanked in
    37 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post
    دوستو میرا پھوپھی زاد بھائی فوت ہوگیا تھا جسکی وجہ سے مجھے دوسرے شیر جانا پڑا آج واپسی ھوئی ھے جلد ھی اپڈیٹ کردوں گا
    دیر کی معذرت
    I am deeply saddened by the news of your loss. I pray that God will grant you the strength. My most sincere condolences.

  2. The Following 5 Users Say Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    abba (Yesterday), abkhan_70 (21-01-2019), apnapun (22-01-2019), ksbutt (22-01-2019), Xhekhoo (22-01-2019)

  3. #662
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    314
    Thanks Thanks Given 
    304
    Thanks Thanks Received 
    1,679
    Thanked in
    307 Posts
    Rep Power
    186

    Default Update no 225..??



    1
    میڈم نے اچانک پنسل کی نوک میرے پیٹ میں چبھوتے ھوے قہر بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ھوے کہا ۔۔
    تمہارا نام کیا ھے ۔
    میں ایک دم کانپ کے رہ گیا اور سر جھکا کر بولا
    سسسسلمان ۔۔۔۔
    میڈم پھر بولی ۔
    تمہاری عمر کتنی ھے ۔
    میں نے پھر سہمے ھوے کہا ۔
    ججججی سولہ سال ۔
    میڈم بولی ۔
    تمہیں میری کہی ھوئی باتیں یاد ہیں نہ ۔
    میں نے کہا جججججی ۔
    تو میڈم پھر بولی ۔
    یاد رکھو گے تو تمہارے لیے بہتر ھوگا سمجھے ےےےےے۔
    میں نے ذور ذور سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
    اورپھر میڈم نے پنسل میرے سینے پر مارتے ھوے پھینکی اور بولی اپنی چیزوووووں کی حفاظت کیا کرو ۔
    جاو بیٹھو اپنی جگہ پر ۔۔۔
    میں نے پنسل نیچے سے اٹھائی اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور دل ھی دل میں میڈم کو گالیاں نکالنے لگ گیا کہ ۔
    سالی جتنی اوپر سے نازک پھلجھڑی ھے اتنی اندر سے بھی سخت پتھر دل ھے ۔۔۔
    میڈم کے رویعے سے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھر گیا میڈم کو دیکھ کر لگا تھا کہ اب اکیڈمی میں آنکھیں سینکنیں کا موقع ملے گا مگر سارا معاملہ ھی الٹ ھوگیا۔۔
    مشکل سے اکیڈمی کا وقت گزرہ اور اکیڈمی سے نکلتے ھوے سب لڑکوں کی زبان ہر میڈم سونیا کا ھی ذکر تھا کوئی اسے بڑی سخت میڈم تو کوئی بڑی سیکسی میڈم کہہ رھا تھا ۔۔
    آٹھ دس دن نارمل گزرے میڈم کے بلکل سامنے میرا ڈیسک تھا اس لیے میں بڑی مشکل سے اپنی نظروں پر کنٹرول کر کے بیٹھا رہتا تھا مگر مجھے جب بھی موقع ملتا میں نظروں ھی نظروں سے میڈم کے سیکسی فگر کا ایکسرا ضرور کرتا رھتا اور گھر جاکر میڈم کے ساتھ سیکس امیجینیشن کرتے ھوے مُٹھ مار لیتا ۔۔
    نہ جانے کیوں نہ چاہتے ھوے بھی میڈم دن با دن میرے دماغ پر سوار ھوتی جارھی تھی ۔
    مگر سالی کسی بھی طریقے سے مجھے گھاس نہیں ڈال رھی تھی ۔
    جب بھی بولتی کاٹ کھانے کو آتی ۔۔
    اور یاسر بھائی جس دن میڈم ذیادہ سیکسی ڈریس پہن کر آتی اس دن تو کلاس میں ھی میرا لن کھڑا ہوجاتا ۔۔
    اور اس دن میڈم کے نام کی مُٹھ پکی ھوتی ۔۔۔
    اور میں نے ایک بات نوٹ کی کہ میڈم سونیا مجھے جب بھی دیکھتی تو انکی نظروں میں عجیب سی کشش ھوتی شاید یہ میری خوش فہمی تھی یا پھر واقعی میڈم سونیا مجھ میں انٹرسٹڈ تھی مگر انکے رویعے سے مجھے کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا کہ انکو میری فیلنگ پر ترس آے گا اور میرے دل کی بات انکی نظریں سمجھ سکیں ۔۔۔
    ہمارے گھر سے اکیڈمی کافی دور تھی اور سکول بھی دو کلومیٹر دور تھا اس لیے میں بائک پر سکول جاتا اور ادھر سے ھی اکیڈمی چلا جاتا ۔ اور اکیڈمی سے پانچ بجے گھر آتا یہ ھی سمجھ لیں کہ صبح آٹھ سے پانچ بجے تک پڑھائی پڑھائی بس پڑھائی ۔۔۔
    کبھی کبھی میں کمپیوٹر پر پورن مویز اور پکچر دیکھ کر سیکس کو انجواے کرلیتا اور سیکس کے طریقے سیکھتا رہتا ۔۔۔مگر کبھی کسی دیوی کو چھونا بھی نصیب نہ ھوا تھا بس خیالوں ہر طرح کی لڑکی کو چود لیتا اور جب سے میڈم سونیا کو دیکھا تھا سواے میڈم کے کوئی اور چہرہ دل کو بھاتا ھی نہیں تھا ۔۔

    ایک دن موسم صبح سے ھی خراب تھا بارش کا امکان تھا مگر پھر بھی سکول جانا پڑا سکول سے اکیڈمی گیا اور پھر اکیڈمی سے چھٹی ھوئی تو میں اکیڈمی سے باہر نکلا تو باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ھوچکی تھی میں جلدی جلدی ُبائک سٹینڈ سے نکال کر باہر نکل رھا تھا کہ میری نظر کچھ فاصلے پر کھڑی میڈم سونیا پر پڑی جو شاید رکشہ کا انتظار کررھی تھی میڈم کو یوں اضطراب میں کھڑے دیکھ کر میں سوچنے لگ گیا کہ کاش میڈم کو آج کوئی سواری نہ ملے اور میڈم مجھے ریکویسٹ کرے کہ سلمان پلیز مجھے گھر چھوڑ آو اور میڈم میرے پیچھے بیٹھے اور اپنا نرم نازک ھاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر میرے ساتھ چمٹ کر بیٹھ جاے اور میں اس خوشگوار موسم میں ہلکی ہلکی بارش میں آہستہ آہستہ بائک کو چلاتاھوا جاوں اور ہم دونوں بارش سے بھیگ جائیں اور پھر میں جان بوجھ کر بریکیں لگا لگاکر میڈم کا سیکسی گیلا جسم اپنے گیلے جسم کے ساتھ لگاوں اور بریکیں لگنے سے میڈم کے بڑے بڑے ممے میرے ساتھ چپک جائیں اففففففففد کتنا مزہ آے گا ۔۔۔۔۔۔
    مگر کسے پتہ ھوتا ھے کہ کب قبولیت کا وقت آجاے اور انسان کی سوچ حقیقت میں بدل جاے

    موسم کافی خراب ہوچکا تھا اور بادلوں کی گرج سے پتہ چل رھا تھا کہ بہت جلد تیز بارش ھونے والی ھے ۔۔
    ابھی ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی میں کچھ دیر کھڑا میڈم کے خیالوں میں کھویا میڈم کی طرف دیکھتا رھا ۔۔
    جو بےچاری اپنی پریشانی میں میرے جزبات سے بےخبر ھوکر کب سے سڑک کے دونوں اطراف نظریں دوڑا کر سواری کو دیکھ رھی تھی مگر دور دور تک کہیں بھی کوئی سواری آنے کا امکان اسے نظر نہیں آرھا تھا ۔
    اچانک میڈم کی نظر میری نظر سے ملی تو مجھے یوں ندیدوں کی طرح اپنی طرف دیکھتے ھوے میڈم کے چہرے پر غصے کی ایک لہر آئی جسے دیکھ کر میں نے جلدی سے اپنی نظریں پھیر لیں اور سیٹی بجاتے ھوے ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا ۔
    ابھی میں ادھر ادھر دیکھ ھی رھا تھا ک
    اچانک میڈم کو اپنے سامنے کھڑے پا کر میں ایکدم گبھرا گیا میڈم سونیا گھورتے ھوے مجھے دیکھ رھی تھی اور میں اس آفت کی پڑیا کو یوں اپنے سر دیکھ کر گبھرا گیا تھا ۔
    کہ لے کاکا ہن تیری خیر نئی ۔۔۔
    میڈم سونیا بولی ۔۔۔
    یہاں کھڑے کیا کررھے ھو گھر کیوں نہیں جارھے ۔۔
    میں نے ہلکلاتے ھوے کہا ۔
    وووہہ میں آپکو دیکھ رھا تھا ۔۔
    میڈم سونیا غصے سے میری بات کاٹتے ھوے بولی ۔۔
    مجھے کیوں دیکھ رھے تھے ۔۔
    میں اپنی بونگی پر شرمندہ ھوتے ھوے سرجھکاے بولا ۔
    جججی وہ میں سوچ رھا تھا کہ بارش تیز ھونے والی ھے اور آپ رکشہ کے انتظار میں کھڑی ہیں اگر سواری نہیں ملے گی تو آپکو میں بائک پر گھر چھوڑ آتا ھوں ۔۔۔
    اور پھر یاسر بھائی میڈم کا جواب سن کر تو میرے پیروں تلے سے زمین ھی نکل گئی ۔۔۔
    میڈم بولی بے شرم اگر اتنی ھی میری فکر تھی تو ادھر کھڑے میرا منہ کیا تک رھےتھے میں کتنی دیر سے رکشہ کا انتظار کررھی تھی ۔۔
    میں ہکا نکا ھو کر منہ کھولے میڈم سونیا کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔۔
    کہ مجھے تو میڈم کے اس ریکشن کی ذرہ سی بھی توقعہ نہیں تھی ۔
    میں تو گالیوں اور ڈانٹ کی توقعہ کیے کھڑا تھا مگر یہاں تو میرے سپنے سوکار ہونے چلے تھے ۔۔
    میں نے جلدی سے پچھلی سیٹ پر ہاتھ مارکر سیٹ کو صاف کیا جو پہلے سے ھی صاف تھی ۔
    اورمیڈم سونیا کو کہا ۔۔۔
    جججی بیٹھیں ۔۔
    میڈم کے چہرے پر میں نے پہلی دفعہ مسکراہٹ دیکھی جو سیٹ صاف کرنے کی حرکت پر آئی تھی ۔
    میڈم مسکراتی ھوئی ۔
    میرے کندھے پر ھاتھ رکھ کر جمپ مار کر اپنی چالیس کی گانڈ کوسیٹ پر رکھ کر بیٹھ گئی اور بائک پربیٹھنے سے جیسے میڈم کے ممے اچھلے ھوں گے اسکو سیکنڈوں میں امیجینیشن کرلیا تھا ۔۔۔
    میڈم بائک پر بیٹھتے ھوے بولی ۔
    بائک چلانی بھی آتی ھے یہ نہ ھو کہ مجھے گرا دینا ۔۔۔
    میں نے شوخی میں کندھوں کو ہلاتے ھوے کہا ۔
    جججی میڈم مجھے بلکل سہی بائک چلانی آتی ھے آپ بے فکر رہیں ۔۔۔
    میں نے جلدی سے گئیر لگا کر کلچ کو جھٹکے سے چھوڑا جس سے بائک کو جھٹکا لگا اور اگلا ٹائر ہلکا سا اوپر اٹھا ۔۔
    جس سے میڈم کی ہلکی سے چیخ نکلی اور میڈم نے دونوں ھاتھ میرے کندھے پر رکھتے ھوے اپنے ممے میری کمر کے ساتھ لگا دیے اور بولی ۔۔۔
    بتمیز ایسےبائک چلاتے ہیں میں ابھی گرنے لگی تھی روکو بائک مجھے نہیں. جانا تمہارے ساتھ ۔
    اور اس کے ساتھ ھی میڈم کھسک کر مجھ سے فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی ۔
    میڈم کی جھاڑ سن کر بھی
    میں بائک کو آگے بڑھاتے ھوے بولا ۔۔
    سوری میڈم غلطی ھوگئی دراصل آپ کو ساتھ بیٹھا کر میں تھوڑا کنفیوژ ھوگیا تھا اب ایسا نہیں ھوگا ۔۔۔
    میڈم سونیا منہ ھی منہ میں پتہ نہیں کیا بڑبڑاتے ھوے خاموش ھوگئیں اور میں آہستہ آہستہ بائک کو چلاتا ھوا بڑی مستی میں جارھا تھا ۔
    کہ اچانک میڈم نے میرے کندھے کو تپھتھپایا اور بولیں ۔۔
    ایسے تو ہم صبح گھر پہنچیں گے اس سے جلدی تو میں پیدل گھر پہنچ جاوں گی بائک تھوڑی تیز چلا لو ۔۔
    میں نے جججی میڈم کہا اور پھر بائک کو تھوڑا تیز کردیا اور میڈم کے بتاے ھوے گھر کے اڈریس کی طرف جانے لگا ۔۔
    بارش تھوڑی تیز ھوگئی تھی جس سے میری پینٹ اور شرٹ کافی بھیگ چکی تھی میڈم نے ایک ھاتھ میرے کندھے پر رکھا ھوا تھا اور دوسرے ھاتھ میں پکڑی فائل کو اپنے سر پر رکھا ھوا تھا تاکہ بارش سے بچ سکیں ۔۔۔
    راستے میں ہماری آپس میں کوئی بات چیت نہ ھورھی تھی سفر خاموشی سے کٹ رھا تھا ۔۔

    کچھ آگے جاکر سپیڈ بریکر آیا تو میں نے بریک کچھ ذیادہ ذور سے لگائی جس سے میڈم سونیا پھر کھسک کر میرے ساتھ لگ گئی جس سے میڈم کا ایک مما میری کمر میں دھنس گیا ۔
    میڈم پھر بولی ۔اووو ہوووو آرام سے بریک لگاو سلمان . گر جائیں گے یہ کہتے ھوے میڈم پھر کھسکتے ھوے پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئی ۔
    میں نے پھر سوری بولا
    میں نے راستے میں تین چاربریکیں لگا کر میڈم سونیا کو اپنے ساتھ چپکا نے کی کوشش کی مگر ہر بار میڈم پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتی مگر میڈم سونیا کا اتنی دیر کے لیے ھی اپنے ساتھ لگنا میرے اندر طوفان پیدا کردیتا تھا

    میرا لن تو میڈم کے ممے کو دیکھتے ھی کھڑا ہوجاتا تھا ۔
    اور اب تو میڈم سونیا کا مما بار بار میری کمر کے ساتھ لگ رھا تھا تو میرا لن تو پینٹ پھاڑ کر باہر آنے کے لیے بےچین تھا ۔۔
    کچھ دیر بعد میڈم سونیا کے گھر کی گلی آگئی اور پھر ایک گھر کے سامنے مجھے رکنے کا اشارہ کیا میں نے گھر کے باہر بریک لگائی تو میڈم سونیا پھر میرے ساتھ دونوں ممے چپکا کر میرے ساتھ لگی اور پھر مموں کو میری کمر کے ساتھ رگڑتے ھوے بائک سے اتری اور میرا شکریہ ادا کر کے چلنے لگی تو اچانک میڈم کی نظر میرے کپڑوں پر پڑی جو بارش کی وجہ سے گیلے ھوچکے تھے. ۔
    تو میڈم رکتے ھوے بولی ۔
    سلمان تمہارے کپڑے تو کافی بھیگ گئے ہیں ۔
    سردی کی وجہ سے میرے ہونٹ بھی تھر تھرا رھے ۔
    موسم تو نارمل تھا مگر بارش کی وجہ سے اور کچھ میرے کپڑے گیلے ھوچکے اس وجہ سے مجھے سردی لگ رھی تھی ۔۔
    میڈم کی بات سن کر میں نے تھرتھراتے ھوے کہا اٹ از اوکے میم میں گھر جاکر کپڑے بدل لوں گا ۔
    میڈم سونیا مجھے گھورتے ھوے بولی ۔۔
    پاگل ھوگئے ھو سردی سے کانپ رھے ھو اور تمہارے ہونٹ دیکھو نیلے ھو گئے ھیں چلو اترو بائک سے اور اندر چلو ۔
    تمہیں چاے پلاتی ھوں اور تب تک کپڑے بھی خشک ھوجائیں گے اور بارش بھی تھم جاے گی ۔۔۔
    میں بنا چوں چرا کئے بائک سے اترا اور بائک کو لاک کر کے میڈم کے پیچھے ھی دروازے سے اندر داخل ھوا ۔
    اندر داخل ھوتے ھی بیٹھک کا دروازہ تھا میڈم بیٹھک میں داخل ھوئی اور مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا میں. میڈم کے پیچھے چلتا ھوا بیٹھک میں داخل ھوا ۔
    بیٹھک میں دو صوفے پڑے ھوے تھے اور ایک ٹیبل ۔۔۔۔

    میڈم کا چھوٹا سا گھر تھا ۔
    کیونکہ اندر داخل ھوتے ھوے میں نے سامنے ایک کمرا ھی دیکھا تھا شاید دو تین مرلے کا تھا ۔۔
    میڈم نے مجھے بیٹھنے کا کہا اور خود دروازے کی طرف بڑھتے ھوے بیٹھک سے نکل گئی ۔۔
    میڈم نے بلیک سوٹ پہنا ھوا تھا اور بارش سے میڈم کی کمر بھیگ چکی تھی جس میں میڈم کا گورا بدن صاف نظر آرھا تھا۔
    اور لیلن کے کپڑوں کی وجہ سے قمیض میڈم کی کمر کے ساتھ چپکی ھوئی تھی اور چلتے ھوے میڈم کے چوتڑے ہل ہل کر میرے لن کو جھٹکے دے رھے تھے ۔
    یہ تو شکر تھا کہ میں نے انڈر وئیر پہنا ھوا تھا جس کی وجہ سے میرا اکڑا ھوا لن اتنا ذیادہ واضع نہ ھوا ورنہ جو میرے لن کے حالات تھے میڈم نے تو باہر سے ھی مجھے چھتر مار ماربھگا دینا تھا۔۔۔
    میں صوفے پر بیٹھا بیٹھک کا جائزہ لینے لگ گیا اور اپنی قسمت پر ناز کرنے لگ گیا کہ اتنی سیکسی میڈم کا قرب حاصل ہونے کا شرف حاصل ھوا ۔۔
    کچھ ھی دیر بعد میڈم دوبارا اندر داخل ھوئیں اور مسکراتےھوے بولی سردی لگ رھی ھے ۔۔
    میں نے ھاتھوں کو مسلتے ھوے کہا ۔۔
    ننننہیں میم ۔۔۔
    میڈم ہنستے ھوے بولیں ۔
    اتنا تکلف کیوں دیکھا رھے ھو اور اتنا گبھراے ھوے کیوں ھو یہ کلاس نہیں بلکہ میرا گھر ھے ریلیکس ھوکر بیٹھو ۔۔
    میں اپنی جگہ پر درست ھوتے ھوے بولا یس میم ۔۔۔
    میڈم بولی چلو شاباش شرٹ اتارو ۔۔
    میں میڈم کے اس سوال سے ایک دم گبھرا گیا ۔
    کہ یہ سالی تو مجھ سے بھی ذیادہ جلدی میں ھے ۔
    جو آتےھی میرےکپڑے اتروانے لگ گئی ۔۔
    میں نے ہچکچاتے ھوے کہا ۔۔
    ججججی میم۔۔۔
    میڈم بولی لگتا ھے تم اونچا سنتے ھو ۔
    ارے بابا جلدی سے شرٹ اتارو ۔۔
    میں نے جلدی سے شرٹ کے بٹنوں پر ھاتھ رکھا اور دروازے کی طرف دیکھتے ھوے بولا ۔۔
    وووہہہ میم دروازہ کھلا ھے ۔۔۔
    میڈم نے دروازے کی طرف دیکھا اوربولیں دروازہ کھلا ہونے کا شرٹ اتارنے سے کیا تعلق ۔۔
    میں نے کہا وہووو ججججی اگر کوئی آگیا ۔۔۔
    میڈم سونیا میری بات سن کر مجھے گھور کر دیکھنے لگ گئی اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی جیسے انکو میری بات سمجھ مین آگئی ھو ۔۔
    پھر میڈم سونیا ہنستےھوے بولی ۔
    ارے بُدھو شرٹ اتار کر مجھے دو میں استری کر کے خشک کر کے لاتی ھوں ۔۔۔
    میڈم کی بات سن کر مجھے اپنے آپ پر غصہ انےلگ گیا اور مارے شرمندگی کے میرا براحال ھوگیا۔۔
    میں سر جھکائے جلدی جلدی بٹن کھولنے لگ گیا اور پھر شرٹ اتار کر میڈم کو پکڑائی اور وہیں بیٹھا سر جھکا کر پیروں کو دیکھنے لگ گیا ۔۔
    میڈم سونیا ہنستی ھوی باہر نکل گئیں اور میں اپنے سر کو پیٹتے ھوے اپنی بیوقوفی پر خود کو کوسنے لگ گیا ۔۔۔
    کہ. ماما میڈم کے دماغ میں ایسی کوئی بات بھی نہیں اور تم اسے غلط سمجھ رھے ھو ۔۔
    کچھ دیر بعد ایک سات آٹھ سال کی بچی چاے کی ٹرے لیے بیٹھک میں داخل ھوئی اور میری طرف بڑے غور سے دیکھتی ھوئی سلام لینے کے بعد ٹرے ٹیبل پر رکھ کر باہر جانے لگی تو میں نے اسے آوازدی اور اسے اپنے پاس آنے کو کیا بچی پہلے تو رک کر سوچنے لگ گئی پھر چلتی ھوئی میری طرف آئی اور بولی جی انکل میں نے اسکا ھاتھ پکڑا اور اسکا گال تھپھتاتے ھوے بولا ۔
    کیا نام ھے آپکا بچی بولی سُنیرا میں نے کہا بہت پیارانام ھے ۔۔
    پھر میں نے پوچھا میڈم سونیا آپکی مما ہیں ۔۔
    بچی نے ہنستے ھوے کہا ۔
    نہیں انکل وہ میری آپی ہیں انکی تو ابھی شادی بھی نہیں ھوئی ۔۔
    میں نے کہا اووو سوری ۔
    پھر میں نے پوچھا آپکے پاپا کیا کرتے ہیں تو سنیرا بولی ۔
    پاپا کراچی میں جاب کرتے ہیں. اور پندرہ دن بعد گھر یا مہنے بعد گھر آتے ہیں ۔
    اور پھر میں نے انکے فیملی ممبر کے بارےمیں پوچھا تو سنیرا نے بتایا ۔
    کہ ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ھے ۔
    بھائی بیس سال کا ھے اور وہ بھی گوجرانوالہ کپڑے کی دکان پر کام کرتا ھے اور ہفتے بعد گھر آتا ھے جبکہ انکی امی فوت ھوچکی ہے اور گھر میں انکی خالہ رھتی ھے ۔۔۔
    ابھی سنیرا بات کرھی رھی تھی کہ میڈم سونیا کی آواز آئی ۔
    سنیرا کیا کرنے لگ گئی ھو ۔۔
    سنیرا جلدی سے مجھ سے ھاتھ چھڑوا کر باہر بھاگ گئی ۔۔
    اور میں میڈم کی فیملی کے بارے میں سوچتے ھوے چاے پینے لگ گیا ۔۔۔
    کچھ دیر بعد میڈم سونیا ہاتھ میں شرٹ پکڑے بیٹھک میں داخل ھوئی ۔

    تب تک میں چاے ختم کرچکا تھا ۔
    میڈم سونیا نے شرٹ میری طرف بڑھائی اور میرے گورے کندھوں اور بازوں کو غور سے دیکھنے لگ گئی میں نے میڈم کی نظروں میں عجیب سی چمک دیکھی ۔
    میڈم سونیا نے بھی شاید میری نظروں کو تاڑ لیا تھا کہ میں اسے اپنے گورے جسم کی طرف دیکھتے ھوے نوٹ کررھا ھوں میڈم سونیا نے جلدی سی نظروں کو میرے جسم سے ہٹایا اور بولی اب سردی تو نہیں لگ رھی میں نے کہا جی نہیں چاے کی وجہ سے طبعیت کافی بہتر ھوگئی ھے میڈم سونیا نے مسکراتے ھوے شرٹ میری طرف بڑھائی ۔
    میں نے میڈم کے ھاتھ سے شرٹ پکڑی اور جلدی سے پہننی شروع کردی ۔۔
    اور پھر شرٹ کے بٹن بند کر کے میڈم سے اجازت لی اور عزر پیش کیا کہ گھر والے انتظار کررھے ھوں گے ۔
    کافی لیٹ ھوگیا ھوں ۔
    میڈم بولی ٹھیک جاو اور ویسے بھی اب بارش تھم چکی ھے
    اور دھیان سے جانا کیچڑ میں بائک نی سلپ ھو جاے میں نے بارش رکنے کا شکر ادا کیا ۔۔
    اور میڈم کا شکریہ ادا کر کے گھر سے نکلا اور اپنےگھر کی طرف روانہ ھوگیا۔۔
    اگلے دن چھٹی کے بعد باہر نکلتے ھوے میں نے میڈم سے پھر گھر چھوڑنے کو کہا تو میڈم سونیا نے ایک دو دفعہ فرضی انکار کے بعد ہامی بھر لی اور پھر اسی طرح میرا روز کا معمول بن گیا کہ اکیڈمی سے چھٹی کے وقت میڈم کو اسکے گھر چھوڑنے جاتا کبھی کبھار چاے پینے کا موقع مل جاتا اور کبھی باہر سے ھی واپس لوٹ جاتا ۔
    میڈم سونیا کا رویہ میرے ساتھ کافی نرم ھوچکا تھا بلکہ اب ہنسی مزاق بھی کرلیتا وہ بھی راستے میں یا گھر پر ۔
    کلاس میں میرے ساتھ میڈم کا رویہ بلکل ایسے ھی ھوتا جیسے دوسرے طلبہ کے ساتھ ھوتا ۔۔۔
    مگر اکیڈمی سے نکلتے ھی میڈم کے ساتھ میرا فرینکلی ماحول بن جاتا ۔۔
    دن بدن میں میڈم کے ساتھ کافی فرینک ھوتا جارھا تھا اب تو میڈم بائک پر بیٹھ کر میری پہلی بریک پر ھی میرے ساتھ مما لگا کر چپک جاتی اور پھر دوبارا پیچھے نہ ہٹتی جسکی وجہ سے مجھے دوبارا بریک لگانے کی ضرورت نہ پیش آتی ۔۔۔
    مگر ایک بات نے مجھے تزبزب کا شکار کیے ھوے تھا کہ میں نے میڈم سونیا کے گھر میں سواے سنیرا کے کسی اورکو نہیں دیکھا تھا ۔
    سنیرا نے جس خالہ کا ذکر کیا تھا اسکو میں نےکبھی نہیں دیکھا تھا ۔
    اور میں ویسے بھی ابھی تک بیٹھک تک محدود تھا ۔
    اسی لیے یہ سوچ کر اس خیال کو جھٹک دیتا کہ ھوسکتا ھے کہ وہ دوسرے کمرے میں ھوں اور نامحرم. کے سامنے آنا انکو پسند نہ ھو ۔
    مجھے میڈم کی. فیملی کے بارے میں بس اتناھی پتہ تھا جتنا سنیرا نے مجھے بتایا تھا اسکے علاوہ میں نے کبھی میڈم سے اس بارے میں گفتگو نہیں کی تھی ۔۔
    خیر میرے پیپر شروع ھونے والے تھے اور میری سٹڈی ذورو شور پر تھی ۔
    سکول اکیڈمی گھر بس پڑھائی ھی پڑھائی ۔
    میرے ابو دراصل اس معاملے میں بہت سخت ہیں دوران پیپر تو ہمیں کھانے کے لیے بھی بہت مشکل سے وقت ملتا تھا ۔
    ابو کا بس چلتا تو کھانے کی بجاے مجھے کتابیں گھول گھول کر پلادیتے ۔۔
    باقی سارے سبجیکٹ کی تیاری تو میری مکمل تھی مگر ریاضی میں میں کافی کمزور تھا جسکی مجھے پریشانی تھی ۔
    جسکا ذکر میں نے میڈم سے بھی کیا ۔
    تو میڈم نے اسکا حل یہ ھی بتایا کہ اکیڈمی کے بعد اگر رات کو تم میرے گھر آسکتے ھو تو میں تمہاری تیاری کرواسکتی ھوں ۔۔
    میں. نے ابو سے اجازت لینے کا کہا اور پھر جب ابو سے بات کی تو ابو نے خوشی سے مجھے اجازت دے دی کہ جو مرضی کرو جیسے مرضی پڑھو مگر مجھے تمہارا اچھا رزلٹ چاھیے ورنہ تمارے لیے بہت برا ھوگا ۔۔
    میں نے میڈم کو خوشی خوشی بتایا کہ ابو سے اجازت مل گئی ھے ۔۔
    اب میں اکیڈمی سے پہلے میڈم کو گھر چھوڑتا اور پھر اپنے گھر جاکر کھانا وغیرہ کھاکر فریش ھو کر رات آٹھ سے دس بجے تک میڈم کے گھر بیٹھک میں میڈم سے ٹیوشن لیتا اور میڈم کے سیکسی جسم کے نظارے قریب سے لوٹتا ۔جسکو میڈم بھی شاید نوٹ کرتی مگر مجھ پر ظاہر نہ ھونے دیتی جس سے مجھ میں مذید ہمت پیدا ھوتی اور میں کبھی میڈم کے کھلے گلے سے جھانک کر میڈم کے گورے گورے مموں کی لکیر دیکھتا تو کبھی میڈم کی گانڈ کو دیکھتا جو باہر جاتے ھوے نظارا کرواتی اور میڈم کے گورے گورے ننگے بازوں کو قریب سے دیکھتا جو یاف بازو شرٹ پہننے کی وجہ سے ننگے ھوتے ۔

    میڈم نے کافی دفعہ مجھے مزاق مزاق میں یہ کہا کہ سلمان تم اپنی حرکتوں سے باز آجاو تو میں معصوم بچے کی طرح پوچھنے لگ جاتا کہ کیا ھوا، میم تو میڈم میری معصومیت کو دیکھتے ھوے مسکراتےھوے ذور،ذور سے سرہ ہلاتے ھوے کہتی میں سب سمجھتی ھوں تمہاری استاد ھوں تم میرے استاد بننے کی کوشش مت کرو ۔
    تومیں میڈم کو ادھر ادھر کی باتوں میں لگا لیتا ۔۔
    مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ۔۔
    میڈم جب بھی میرے سامنے بیٹھ کر مجھے پڑھاتی تو میڈم کو اتنا قریب دیکھ کر
    میرا لن بھی کھڑا ہوجاتا جسے میں ٹانگوں میں ھی دبا لیتا ۔۔۔

    اور کئی دفعہ میڈم نے مجھے ٹانگوں کو آپس میں بھینچتے ھوے دیکھا بھی اور پھر میری طرف گہری نظر ڈال کر مسکرا کر سر جھٹک دیتی تو کبھی اپنا ماتھا پکڑ لیتی ۔۔۔

    ایک دن میں میڈم کو گھر چھوڑ کر اپنے گھر سے ھو کر دوبارا میڈم کے گھر پہنچا دروازے پر دستک دی تو کچھ دیر بعد میڈم نےدروازہ کھولا جیسے ھی میری نظر میڈم پر پڑی تو میڈم کو دیکھتے ھی میری آنکھیں کھلی کی کھلی رھ گئیں اور میڈم کے حسن اور سیکسی فگر کے سحر میں جکڑا میں دروازے کی دہلیز پر ھی بت بن کر کھڑا میڈم کے سراپا حسن کو دیکھنے لگ گیا میڈم سونیا نے سفید شلوار اور ہلکے فروزی رنگ کی شرٹ پہنی ھوئی تھی جسکا گلا کافی کھلا تھا اور شرٹ بھی کافی شارٹ تھی ۔
    اور شرٹ کی فٹنگ اتنی تھی کہ میڈم سے سانس لینا بھی شاید مشکل لگ رھا ھو مگر ایسا صرف دیکھنے والے کو لگتا تھا ۔
    کالے سیاہ سلکی لمبے بال ہلکا سا میک اپ سرخ لپسٹک دوپٹے کا نام نشان نہیں تھا جس سے میڈم کے تنے ھوے ممے اور کھلے گلے سے جھانکتا ھوا چٹا سفید چمکتا ھوا سینہ میرے دل پر چھریاں چلا رھا تھا ۔

    میں دروازے پر کھڑا ھی میڈم کو ٹکٹکی باندھے دیکھی جارھا تھا ۔
    کہ اچانک میری آنکھوں کے سامنے میڈم نے ہاتھ ہلایا اور مسکراتے ھوے بولیں ۔
    ہیلو جناب کدھر گُم ھوگئے ھو ۔۔۔
    میں اچانک میڈم کے سیکسی جسم کے سحر سے باہر آیا اور
    بولا ۔واوووووووووووو۔
    میڈم کا چہرہ ایکدم گلاب کی طرح کھل اٹھا اور ھاتھ سے اشارہ کرتے ھوے بولی ۔
    اووو ہیلو کیا ھوا ۔۔کس بات پر تمہاری واوووو نکل گئی ۔۔
    میں نے کہا میم آپ کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔
    میڈم ہنس کر بولی چل بتمیززززززاور یہ کہتے ھوے مجھے اندر آنے کا راستہ دیا تو میں چلتا ھوا بیٹھک میں داخل ھوا مجھے آج بھی سامنے کوئی نظر نہ آیا ۔۔۔
    میں جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور بکس کو ٹیبل پر رکھ کر دروازے پر نظریں جمائے چوکس ہوکر بیٹھا دیدار حسن دیوی کا منتظر ھوکر بیٹھ گیا ۔۔
    کچھ دیر بعد میڈم سونیا اپنے سیکسی بدن کو لہراتی کمر کو بل کھلاتی مموں کو ہلاتی مجھ غریب پر بجلیاں گراتی بیٹھک میں جلوہ گر ھوئی ۔
    اور آج ایک چیز نے مجھے پھر پریشان کردیا وہ یہ کہ اب بھی میڈم دوپٹے کہ بغیر ھی تھی اور یہ پہلی دفعہ ھوا تھا ۔۔۔
    میں پھر پتھر کا ھو کر بیٹھا میڈم کے انگ انگ کو دیکھنے لگ گیا ۔
    کہ لگتا ھے آج میرا قتل ھونا واجب ٹھہرا۔۔
    افففففففففف
    ہرنی کی چال چلتی میڈم سونیا نے پہلے مجھے بغیر دوپٹے کے حیران کیا اور پھر چلتی ھوئی جب میرے ساتھ آکر بیٹھی تو اس حرکت نے مجھے پریشان کردیا ۔
    کیونکہ پہلے میڈم میرے سامنے ٹیبل کی دوسری طرف بیٹھتی تھی اور آج میرے ساتھ ٹانگوں کے ساتھ ٹانگیں جوڑ کر بیٹھنے کی وجہ سے میرا تو حلق خشک ھوگیا اور. میری ٹانگیں بری طرح کانپنے لگ گئیں ۔
    میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ھونا شروع ھوگئے نہ جانے کیوں ۔



    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  4. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (Today)

  5. #663
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    314
    Thanks Thanks Given 
    304
    Thanks Thanks Received 
    1,679
    Thanked in
    307 Posts
    Rep Power
    186

    Default Update no 226. ???



    میری حالت کو میڈم سونیا نے بھی نوٹ کرلیا تھا ۔
    اور میری کانپتی ٹانگوں کو محسوس کرتے ھوے میڈم نے مسکراتے ھوے میری ران پر ھاتھ رکھا اور بولی سلمان کیا ھوا طبعیت تو سہی گے ۔
    اور پھر میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو میرا ماتھا ایسے تھا جیسے فریز کیا ھو ۔
    میڈم سونیا کے نرم ملائم ھاتھ کا اپنی ران پر لمس اور پھر اسی ھاتھ کا اپنے ماتھے پر لمس پاکر میری تو حالت غیر ھوگئی ۔۔
    زندگی میں پہلی دفعہ کسی نامحرم عورت نے مجھے اتنے قریب سے ہوں چھوا تھا اور وہ بھی اس سیکسی عورت نے جسکو سپنوں میں چودتے ھوے احتلام ھوتا تھا اور جسکو سوچتے ھوے مٹھ مارتا تھا اور جسکو دور سے دیکھ کر میرا لن چھوٹنے والا ھوجاتا تھا ۔
    آج وہ عورت بغیر دوپٹے کے اتنا سیکسی ڈریس پہنے ھوے میرے ساتھ جڑکر بیٹھی میری ران پر ھاتھ پھیر رھی تھی اور میرا احوال پوچھ رھی تھی ۔
    مرتا نہ تو کرتا کیا پھر ۔۔۔۔


    2
    میں نے کانپتی ھوئی آواز میں کہا ککککچھ نہیں میم بس ایسے ھی ۔
    میڈم سونیا نے میرے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ھوے میری ٹھوڑی کو پکڑکر میرا چہرہ اپنی طرف گھمایا میں نے چہرہ میڈم سونیا کی طرف گھمایا اور چند لمحے ھی میڈم کی سمندر سی آنکھوں میں دیکھا جہاں ہوس کی موجیں اچھل اچھل کر آنکھوں کے کناروں سے باہر آنے کو بےتاب تھی اور میں ان آنکھوں میں اٹھتے ھوے طوفان کا سامنا نہ کرسکا اور اپنی آنکھوں کی پلکوں کو وہیں خم کردیا اور سر کو جھکا دیا ۔
    میڈم نے مسکراتے ھوے اپنے شربتی ہونٹوں کو ہلایا اور کوئل سی کوک نکلی
    سلمان ۔۔۔۔ ادھر میری طرف دیکھو۔۔۔۔
    میری پلکوں نے پھر جرات کی اور سر اٹھا کر آنکھوں کو اس جادوئی مورت کو دیکھنے کی اجازت دی ۔
    تو میڈم کا مسکراتا ھوا پرسکون چہرہ دیکھنے کو ملا ۔
    میڈم نے پھر اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور بولیں ۔
    میں تمہیں کیسی لگتی ھوں ۔
    میرے کپکپاتے ھونٹ آہستہ سے ہلے ۔
    اچچچھی لگتی ہیں ۔۔۔
    میڈم سونیا نے پھر بڑی رومینٹک آواز میں پوچھا ۔
    بس اچھی ھی لگتی ھوں۔۔
    میں کسی سحر میں جکڑے ھوے نفی میں سرہلا کر بولا ننننہں ببببہت اچچچھی لگتی ہیں ۔۔۔
    میڈم سونیا اٹھیں اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھیں اور دروازہ بند کرکے لاک کیا اور جیسے ھی واپس پلٹیں تو میرا دل اتنی ذور ذور سے دھڑکنے لگ گیا جیسے ابھی اچھل کر میرے حلق سے باہر آجاے گا۔۔
    نہ جانے کونسی غیبی چیز میری یہ حالت کررھی تھی ۔
    میرے اندر کا خوف ۔
    یا پہلی دفعہ کسی عورت کا قرب ۔
    یا پہلا تجربہ ۔
    یا پھر میری کم عمری ۔۔۔
    میڈم سونیا چلتی ھوئی پھر میرے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
    اورمیرا ھاتھ پکڑ کر ہاتھ کو سہلاتے ھوے بولی ۔
    سلمان تمہاری کوئی گرل فرینڈ ھے ۔
    میں نے نفی میں سر ہلایا ۔
    میری زبان تو ہلنے کا نام ھی نہیں لے رھی تھی ۔
    حلق خشک تھا ٹانگیں متواتر کانپے جارہیں تھیں جیسے وائبریٹ پر لگی ھوں ۔
    جبکہ میرے مقابل میڈم سونیا بلکل ریلیکس تھیں اور بڑے کانفیڈینس کے ساتھ مطمئن ھوکر مجھ سے مخاطب تھیں ۔
    میڈم سونیا بولیں ۔
    کبھی کسی لڑکی کو کس کی ھے یا پھر کسی لڑکی کے ساتھ سیکس کیا ھے ۔
    میں نے چونک کر میڈم کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں اطمینان اور سکون تھا بس آنکھوں میں عجب سا طوفان اٹھا ھوا تھا ۔
    اور میری زبان نے پھر میرا ساتھ نہ دیا اور میں نے پھر نفی میں سرہلانے پر ھی اکتفاء کیا۔۔۔
    میڈم سونیا مسکراتے ھوے میرے ہاتھ کو سہلاتے ھوے بولی ۔
    تمہاری حالت ھی بتا رھی ھے کہ تم عورت ذات کی خوشبو سے بھی ابھی تک محروم ھو ۔
    اور پھر میرے جسم کو ایک ذبردست جھٹکا لگا جب میڈم سونیا نے میرا پکڑا ھوا ھاتھ اپنی نرم ملائم ران کے اوپر رکھ کر میرے ھاتھ کو اپنی ران پر پھیرنے لگ گئیں ۔۔۔
    میرے لن کا تو اسی وقت دل خراب ھونے لگ گیا مجھے ڈر لگنے لگ گیا کہ یہ سالا ابھی الٹیاں کرنا شروع نہ کردے۔۔۔

    اور پھر میڈم سونیا نے دوسرا اٹیک کیا جس سے میری حالت مذید بگڑنا شروع ھوگئی جب میڈم سونیا نے پینٹ کے اوپر سے میرے لن کو پکڑ لیا اور مٹھی میں بھینچنا شروع کردیا ۔
    میرا جسم تو ایسے تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔۔
    کمال کی بات تھی ویسے جس عورت کو چودنے تو کیا بس چھونے کے لیے دن رات طرح طرح کے طریقے سوچتا رہتا تھا اور طرح طرح کی پلاننگ دن رات کرتا رھتا تھا ۔
    اور جب وہ ھی عورت خود دعوت دی رھی ھے تو میرا بے جان جسم خود کو اس عورت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر میرا ساتھ چھوڑ گیا ۔
    ۔
    افففففففففففففففففففف یاسر بھائی کیا بتاوں یاررررررر۔۔

    جیسے ھی میڈم سونیا کی نرم نرم انگلیوں نے میرے لن کا مساج کرنا شروع کیا بس دس بیس سیکنڈ ھی گزرے تھے کہ میں مزے کی اتھاء گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا ڈوبتا چلا گیا اور میری آنکھیں بند ھوگئیں اور میرا سر پیچھے کو لڑھکتا ھوا صوفے کے ساتھ لگ گیا اور میرے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ھوگئیں اور نجانے مجھ میں کہاں سے اتنی ہمت پیدا ھوئی کہ میڈم سونیا کی ران سے میرا ہاتھ اچانک سلپ ھوکر میڈم سونیا کی پھدی پرچلا گیا اور شلوار کے اوپر سے میری انگلیوں نے میڈم سونیا کی پھدی کو دبوچ لیا اور ساتھ ھی مزے سے بھرپور میری اور میڈم سونیا کی سسکاری کمرے میں گونجی اور میرے لن سے منی کی پچکاریاں پینٹ میں ھی نکلنا شروع ھوگئیں ۔
    میڈم سونیا نے میرے لن کو بری طرح مٹھی میں دبوچ لیا اور ساتھ ھی میرے ھاتھ کو اپنے چڈوں میں دبوچ لیا ۔۔۔
    ادھر میری انگلیوں پر بھی گیلا گیلا محسوس ھونے لگ گیا تھا اور دوسری طرف میرا انڈروئیر بھی منی سے بھر چکا تھا ۔۔۔
    میری تیز تیز چلتی سانسیں کمرے میں گونج رہیں تھیں ۔۔
    جبکہ میڈم سونیا نے اپنے چڈوں کو کھولا اورپھر میڈم سونیا دوسرا ھاتھ میرے ھاتھ پر رکھ کر انگلیوں کی مدد سے میری انگلیوں کو پھدی پر ذور ذور سے مسلنا شروع کردیا اور ساتھ ساتھ میری گردن کو میرے گال کو واہلانہ انداز میں چومتے ھوے لو یو لو یو فک می فک می سلیمان کرنا شروع کردیا اور
    تیزی اپنا یہ عمل جاری رکھا جبکہ میں نڈھال ھوکر صوفے کے ساتھ سر ٹکاے اپنا آپ میڈم سونیا کے حوالے کیے کسی بےجان مورت کی طرح بیٹھا ھوا تھا اورکچھ ھی دیربعد میڈم سونیا کے منہ سے چیخ نکلی اور اسکے جسم کو ذور دار جھٹکے لگنا شروع ھوے اور پھر ساتھ ھی میڈم سونیا نے میری گردن پر دانت گاڑ دیے جیسے میرا خون پینے لگی ھوں اور اپنے چڈوں کوذور سے آپس میں ملا کر گانڈ صوفے سے آٹھا اٹھا کر پٹخنے لگ گئی اورمجھے اپنی انگلیوں پر گرم گرم پانی محسوس ھوا ۔۔۔
    مجھے ایسا لگا جیسے میڈم کے نوکیلے دانت میری گردن میں پیوست ھوچکے ہیں میرے جسم میں درد کی لہر اٹھی مگر میں کسی حد تک اس درد کو برداشت ہونے میں کامیاب ھوگیا مگر اسکے باوجود میرے منہ سے سسییییییییی نکلا۔۔
    میڈم سونیا چند جھٹکے کھانے کے بعد میری طرح سر پیچھے لڑھکا کر بیٹھ گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی۔
    اور پھر دونوں کی آنکھیں کھلیں اور ایک دوسرے سے ٹکرا کر واپس پھر گئیں اور دونوں سر جھکا کر بیٹھ گئے اور کسی گہری سوچ، میں گم ھوگئے جبکہ میرا ھاتھ اب بھی میڈم کے چڈوں کے بیچ میں ھی تھا جسکا احساس شاید میڈم کو ابھی تک نھیں تھا ۔۔۔
    چند سیکنڈ میں فارغ ھوجانے کی وجہ سے میں اپنے آپ میں ھی مررھا تھا ۔
    کہ میڈم سونیا کیا سمجھے گی کہ میں نامرد ھوں ۔
    میں ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ میڈم سونیا نے میری کلائی کو پکڑ کر کھینچا اور میرا ھاتھ اپنے چڈوں سے نکال کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    بسسسس اتنا ھی دم تھا نکل گئی ساری گرمی ۔
    میں تو پہلے دن سے ھی تمہاری حرکتوں کو نوٹ کر رھی تھی کہ تم میرے قریب آنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیل رھے تھے ۔ اسی لیے تمہیں سمجھاتی تھی کہ باز آجاو اپنی پڑھائی پر توجہ دو مگر تم بازنہیں آے
    اور آج جب میں نے تمہیں موقع دیا تو دس سیکنڈ میں تمہاری ھوا نکل گئی ۔۔۔
    میں شرمندہ سا ھو کر سر نیچے کیے میڈم کی طنز بھری باتوں کو سن رھا تھا ۔۔
    میڈم اپنی بات مکمل کرکے کچھ دیر خاموش رھی اور غور سے میرے چہرے کو دیکھتی رھی ۔
    جبکہ میں میڈم سونیا سے نظریں چراتے ھوے نیچے اپنے پیروں کو دیکھی جارھا تھا ۔۔
    پھر میڈم نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
    جاو بچے جا کر واش روم میں اپنا آپ دھو لو ابھی یہ تمہارے بس کا کام نہیں ھے ۔۔۔۔
    میں شرمندہ سا اٹھا اور اٹیچ باتھ میں گھس گیا اور دروازہ بند کرکے اپنے سر پر تین چار تھپڑ مارے اور پھر پینٹ اتار کر انڈر ویئر اتارا اور اچھی طرح اپنے لن لو اور رانوں کو دھویا اور پھر انڈر وئیر دھو کر نچوڑا اور پھر گیلا ھی پہن لیا پینٹ پر لگا داغ بھی دھویا اور کپڑے پہن کر واش روم سے باہر نکل آیا ۔۔۔۔
    بیٹھک میں آیا تو مجھے میڈم نظر نہ آئیں ۔۔
    میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا ۔
    پڑھنا تو کیا تھا مارے شرمندگی کے میرا برا حال ھوا جارھا تھا ۔
    کچھ دیر میں بیٹھا سوچتا رھا اور پھر مجھے پتہ نہیں کیا ھوا میں نے جلدی سے اپنی بکس اٹھائیں اور میڈم کو بتاے بغیر ھی گھر سے نکلا اور بائک سٹارٹ کی اور اپنے گھر طرف بائک بھگا دی رات ساری بھی میں اسی موضوع پر سوچتا رھا کہ ۔
    اتنی جلدی میں فارغ کیسے ھوگیا جبکہ مٹھ مارتے ھوے بھی دو تین منٹ لگ جاتے تھے میڈم کے ھاتھ میں پکڑتے ھی چھوٹ جانا مجھے پریشان کیے ھوے تھا ۔
    اگلے دن سکول میں میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے مجھے ایک ٹیبلٹ کا نام بتایا کہ اسکو کھانے سے بندا ایک گھنٹہ تو فارغ نہیں ھوتا اور دوسری دفعہ تو عورت جان چھڑواے گی مگر بندا فارغ نہیں ھوتا ۔۔۔
    میں نے ٹیبلٹ کا نام پرچی پر لکھ کر پرچی جیب میں ڈال لی اور میڈم سونیا کو اپنے مرد ھونے کا ثبوت دینے کے لیے پرعزم ھوکر چھٹی کا انتظار کرنے لگا ۔۔
    سکول سے چھٹی ھوئی تو میں سیدھا میڈیکل سٹور پر گیا اور پرچی سٹور والے کو دی سٹور والے نے پہلے پرچی کو دیکھا اور پھر مجھ پرگہری نظر ڈال کر ٹیبلٹ لینے چلا گیا اور کچھ دیر میں میں نے ٹیبلٹ لے کر جیب میں ڈالی اور سیدھا اکیڈمی پہنچا ۔

    کچھ دیر بعد میڈم سونیا بھی آگئی میڈم سونیا نے مجھ پر ایک نظر ڈالی اور طنزیہ انداز میں مسکرا کر کلاس کی طرف متوجہ ھوگئیں ۔۔۔
    میڈم کی مسکراہٹ کا کڑواہ گھونٹ پی کر اپنے جزبات پر قابو کیے بیٹھا رھا اور میڈم کا تکبر توڑنے کے بارے میں ہر اینگل پر غور کرنے لگ گیا کہ کیسے کیسے میڈم کو چودنا ھے ۔
    ایک بات نے مجھے کشمکش میں ڈالا ھوا، تھا کہ میڈم سونیا واقعی کنواری ھے یا پھر پہلے سے چدی ھوئی ھے ۔۔۔
    یہ تو لن پھدی میں جانے کے بعد ھی پتہ چلنا تھا ۔۔
    ابھی تو سواے قیاس آرائیوں کے کچھ نہیں تھا ۔۔۔
    خیر چھٹی کے وقت میں حسب معمول بائک سٹینڈ سے نکال کر کھڑا میڈم کا باہر آنے کا انتظار کرتا رھا ۔۔
    اور کچھ ھی دیر بعد میڈم سونیا نقاب کیے باہر نکلی اور میری طرف ایک نظر دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے سڑک کی جانب بڑھنے لگی ۔۔
    میں میڈم سونیا کے یوں نظر انداز کرنے پر پریشان ھوگیا کہ یہ تو سارا کام ھی بگڑتا نظر آرھا ھے ۔
    میں نے جلدی سے بائک سٹارٹ کی اور پلک جھپکتے میڈم سونیا کے آگے جاکر بریک لگادی میڈم سونیا ایکدم چونکی اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔
    یہ کیا بتمیزی ھے ۔۔
    میں نے کہا میم آپ کو گھر چھوڑنے کے لیے آیا ھوں ۔۔
    میڈم سونیا بڑے طنزیہ انداز میں بولی ۔
    اووووو میں تو سمجھی تھی کہ جناب اب کبھی میری طرف دیکھیں گے بھی نہیں مگر لگتا ھے کہ ابھی کوئی کسر رہتی ھے ۔۔
    میں نے آہستہ سے کہا میم بیٹھیں تو سہی راستے میں باتیں کرلیں گے ادھر آتے جاتے لوگ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔
    میڈم میری بات سمجھتے ھوے جلدی سے میرے پیچھے بیٹھ گئی اور ھاتھ میرے کندھے پر رکھ لیا ۔
    آدھے راستے تک تو دونوں کے بیچ خاموشی رھی پھر میڈم سونیا نے ھی خاموشی کو توڑا اور بولیں ۔۔۔
    کل مجھے بتانے بنا ھی بھاگ گئے تھے اس لیے میں سمجھی کہ تمہارے دل کے ارمان پورے ھوگئے ہیں اس لیے شاید اب تم مجھے لفٹ نہیں دو گے ۔۔
    اور ویسے کل تمہیں ھوا کیا تھا جو تم یوں چوروں کی طرح بھاگ نکلے ۔۔۔
    میں نے اپنے اندر ہمت پیدا کی اور پورے کنفیڈینس کے ساتھ بولا ۔۔
    مییم اصل میں میں نے پہلی دفعہ کسی عورت کو وھاں سے چھوا تھا اور آپ ھو بھی اتنی سیکسی کے آپکو دیکھتے ھی میرا کھڑا ہوجاتا تھا اور جب آپ نے ھاتھ میں پکڑا تو مجھے مزہ ھی اتنا آیا کہ میں خود پر کنٹرول نہ کرسکا ۔۔
    اس لیے میں جلدی فارغ ھوگیا ۔۔
    مگر آج آپ تیار رہنا آج میں آپکو بتاوں گا کہ میں بچہ نہیں بلکہ پورا مرد ھوں ۔۔۔۔
    میڈم سونیا میری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی ۔۔
    واہ جی واہ اتنا کنفیڈینس ھے ۔۔
    میں نے کہا ایک موقع دے کر دیکھ لینا آپ کو مایوس نہیں کروں گا ۔۔۔
    میڈم سونیا بولی رہنے دو رہنے دو کل دیکھ لیا تھا تم کتنے پانی میں ھو ۔۔
    میڈم سونیا کی باتیں مجھے اکسا رہی تھی ۔۔
    میرا دل تو کیا کہ ابھی اسکو چود دوں مگر کیا کرتا ۔۔
    ابھی ٹیبلٹ میری جیب کے اندر تھی ۔
    اور میڈم کو تو تب چودنا تھا جب یہ ٹیبلٹ میرے میدے کے اندر ھوتی ۔۔۔
    میں نے مسکراتے ھوے کہا ۔۔
    میم کل کی بات کل ھی ختم ھوگئی تھی ۔۔۔
    مگر آج آپ مجھے موقع تو دیں پھر آپ ساری زندگی مجھے یاد رکھیں گی ۔۔۔
    میڈم سونیا پھر اسی انداز میں ہنسیں اور بولی ۔۔
    چلو آج بھی دیکھ لوں گی کہ تم کونسا بم پھوڑو گے ۔۔۔
    یہ نہ ھو کہ کل کی طرح ھاتھ میں پُھسسسسس ھوجاو۔۔۔۔
    میں نے کہا ۔۔
    میم یہ وقت ھی بتاے گا کہ بم پھٹتا ھے یا پھر پُھسسسس ھوتا ھے ۔۔۔
    اتنے میں میڈم کا گھر آگیا میں نے پھر میڈم کو تیار رہنے کا کہا تو میڈم طنزیہ انداز میں مسکراتے ھوے اندر چلی گئیں ۔۔
    اور میں نے ادھر سے بائک گھمائی اور پہلے بازار گیا وھاں پر ایک دودھ والی دکان سے گرم دودھ لیا اور ٹیبلٹ لھا کر گرم گرم دودھ کا پیالا چڑھایا اور گھر آگیا ۔۔
    گھر آکر میں نے کھانا بھی نہیں کھایا کیوں کے میرے دوست نے بتایا تھا کہ خالی پیٹ ٹیبلٹ کا اثر جلدی اور دیرپا ھوتا ھے ۔۔
    مجھے دو گھنٹے بعد میڈم کے گھر جانا تھا ۔۔
    وقت تھا کہ گزرنے کا نام نہیں لے رھا تھا جیسے جیسے وقت گزر رھا تھا ۔۔
    میرا حلق خشک ھوتا جارھا تھا اور میرے لن میں عجیب سی سویاں چبھ رہی تھیں ۔۔
    میڈم سونیا کو چودنے کا خیال آتے ھی لن ڈنڈے کی طرح کھڑا ہوجاتا جسکو بڑی مشکل سے راضی کر کے سلاتا ۔۔۔
    مشکل سے ملن کی گھڑی آئی اور میں نے ٹریک سوٹ پہنا اور بائک لے کر میڈم سونیا کے گھر جا پہنچا ۔
    دروازہ ناک کیا تو کچھ دیر بعد میڈم سونیا نے ھی دروازہ کھولا اور جیسے ھی میری نظر میڈم سونیا پر پڑی تو مجھے کل والی میڈم بھول گئی اور اسکا یہ نیا روپ دیکھ کر دروازے کی دہلیز پر ھی میرا لن سلامی دینے کے لیے تن گیا ۔۔۔۔جسے میں نے بکس کی آڑ میں چھپا لیا ۔۔۔
    افففففففففففففففس
    سرخ سلک کی شارٹ شرٹ بلکل سادہ چمچماتی ھوئی جس میں تنے ھوے چھتیس سائز کے ممے جو میرا مزاق اڑانے کی کوشش کرتے ھوے مجھے منہ چڑھا رھے تھے اندر کی طرف پیٹ سکن ٹائٹس جو پتہ ھی نہیں چلتا تھا کہ میڈم کے جسم کی رنگت ھے یا کپڑے کا رنگ ھے ۔
    ایسے ھی لگ رھا تھا جیسے میڈم سونیا نیچے سے ننگی میرے سامنے کھڑی ھے ۔۔۔
    یعنی مجھے پُھسسسسس کرنے کا پورا اہتمام کیا ھوا تھا ۔۔
    مگر اسے کیا پتہ تھا کہ آج میں بھی پوری تیاری سے پھدی فتح کرنے آیا ھوں ۔۔
    میں نے میڈم کے سارے فگر کا جائزہ لیا اور واوووووووو بیوٹی فل میم مممممممم کہتا ھوا اندر داخل ھوا اور سیدھا بیٹھک میں جاکر بیٹھ گیا ۔۔۔
    کچھ دیر بعد میڈم بھی اپنے سیکسی جسم کے ساتھ دروازے سے نمودار ھوئی ۔
    میں بڑے کانفیڈنس کے ساتھ بیٹھا میڈم کو اندر آتے ھوے دیکھ رھا تھا ۔.
    میڈم سونیا نے اندر داخل ھوتے وقت مجھ پر گہری نظر ڈالی اور آکر میرے ساتھ بیٹھ گئی ۔
    ایک دفعہ تو میرا دل دھک دھک کرنے لگ گیا مگر جلد ھی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنے اوصاف کو مضبوط کر کے ھاتھ بڑھا کر میڈم کی ران پر رکھ دیا ۔۔۔
    میڈم نے میرے ہاتھ پر ھاتھ رکھتے ھوے میرا ھاتھ دباتے ھوے بولی بڑی جلدی ھے جانا ھے کہیں ۔۔۔
    میں نے کہا مجھے تو کہیں نہیں جانا بس آپ کا حسن اور یہ سیکسی فگر دیکھ کر مجھ سے کنٹرول نہیں ھو رھا ۔۔
    میڈم سونیا مسکراتے ھوے بولی ۔
    شام کو تو بڑی بڑی باتیں کررھے تھے اور اب آتے ھی منہ سے لاریں ٹپکانا شروع ھوگئے ھو ۔۔
    میں نے کہا ایسی بھی بات نہیں میم بس آپ کی قربت مجھ پر حاوی ھو جاتی ھے ۔
    مگر میرا آپ سے وعدہ رھا کہ آج آپ کو مایوس نہین کروں گا ۔۔۔
    میڈم سونیا نے میری بات سن کر طنزیہ انداز میں مسکرایا اور اٹھتے ھوے بولیں اوکے دیکھتی ھوں کہ تم کیا چیز ھو یہ کہتے ھوے میڈم دروازے کی طرف بڑھی اور باہر نکل گئیں اور پھر کچھ ھی دیر بعد واپس لوٹیں اور اندر داخل ھوتے وقت دروازہ بند کرکے پردہ آگے کردیا ۔۔
    تو میں جلدی سے کھڑا ھوا تو لن مجھ سے پہلے ھی میڈم کو اپنا آپ دکھانے کے لیے ٹراوزر میں تمبو بناے کھڑا ہوگیا ۔
    میڈم میری طرف بڑھی اور پھٹی آنکھوں سے میرے ٹراوزر کی طرف دیکھنے لگ گئی جب کہ میں بھی میڈم سونیا کی جانب قدم اٹھاتا ھوا اس کے سامنے جا کھڑا ھوا اور اس سے پہلے کہ میڈم سونیا کچھ بولتی میں نے دونوں ھاتھ آگے بڑھانے اور میڈم سونیا کے بازوں کے نیچے سے گزارتے ھوے انکی کمر کو پکڑ کر میڈم سونیا کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور انکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھینچ لیا ۔۔
    میڈم میری پھرتی کو دیکھ کر تھوڑا سا کسمکسائی اور مجھے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر ٹیبلٹ میرے دماغ پر اثر کرچکی تھی اور میرے اندر شہوت کا طوفان اٹھ چکا تھا میں نے پوری طاقت سے میڈم کو اپنے بازوں میں جکڑ کر اپنے ساتھ چپکا لیا تھا میرے لن کا تمبو میڈم کی سوفٹ سلک کو چڈوں میں دھنسا کر پھدی کے ساتھ چپک چکا تھا ۔
    اور میڈم کے موٹے موٹے تنے ھوے ممے میرے سینے میں جزب ھو چکے تھے ۔۔۔




    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  6. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    achhii (Today), MamonaKhan (Today)

  7. #664
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    314
    Thanks Thanks Given 
    304
    Thanks Thanks Received 
    1,679
    Thanked in
    307 Posts
    Rep Power
    186

    Default Update no 227..??



    میڈم کے نرم ملائم سوفٹ ہونٹ میرے ہونٹوں میں دھنسے ھوے تھے اور میں والہانہ انداز میں ان شربتی ہونٹوں کو چوس رھا تھا اور ساتھ میں تنے ھوے لن کو پھدی پر دبا کر رگڑ رھا تھا ۔
    کچھ ھی دیر بعد میڈم کے ھاتھ مجھے پیچھے کرنے کے لیے جو میرے پیٹ پر تھے وہ وھاں سے ہٹے اور میری کمر کے گرد جا پہنچے اور میڈم کے بڑے بڑے ناخن مجھے اپنی کمر میں دھنستے ھوے محسوس ہو نے لگ گئے اور اسکے ساتھ ھی میڈم کے یونٹوں نے بھی حرکت شروع کردی ۔
    بس پھر کیا تھا کبھی میرا نچلا ہونٹ میڈم سونیا کے منہ میں ھوتا تو کبھی میڈم کا نچلا ھونٹ میرے منہ میں ھوتا تو کبھی ہم ایک دوسرے کی زبانوں کو چوستے تو کبھی زبانوں کی نوکیں آپس میں ٹکراتے ھوے کھیلتیں ۔۔
    میرے ھاتھ میڈم کی پوری کمر کو سہلاتے ھوے اوپر سے نیچے تک آ جارھے تھے ۔
    اور میڈم کسی جنگلی بلی کی طرح پنجے میرے کمر میں گاڑتے ھوے میری کمر کے گوشت کو نوچنے کی کوشش کررہی تھی ۔
    میں آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں کو میڈم کی گانڈ پر لے آیا اور انکی شارٹ شرٹ کو پیچھے سے اوپر کر کے انکی سڈول گانڈ کی پھاڑیوں کو مٹھیوں میں بھر کر آگے کی طرف زور لگاتے ھوے پھدی کا دباو لن پر ڈالنا شروع کردیا اور آگے سے زور لگا کر لن کا دباو پھدی پر ڈال کر لن کو پھدی کے ساتھ رگڑنا شروع کردیا ۔۔
    دونوں اپنی مستی میں گم تھے ۔
    نہ میڈم کو خیال تھا کہ میں انکا سٹوڈنٹ ھوں اور ان سے دس سال چھوٹا ھوں اور نہ ھی مجھے خیال تھا کہ یہ میری استاد ہیں ۔۔۔
    بس پتہ تھا تو لن کو پھدی میں ڈالنا ھے ۔۔۔
    کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا تو میں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ھوے میڈم کے لاسٹک والے ٹائٹس میں اپنی انگلیاں گھسا دیں لاسٹک تھوڑا ٹائٹ تھا اس لیے مجھے انگلیاں اندر گھساتے ھوے تھوڑا سا ذور لگانا پڑا مگر جیسے ھی انگلیاں اندر گھسیں تو راستہ ہموار ھوگیا اور میں نے پھرتی سے پورا ھاتھ ھی ٹاٹس میں ڈال دیا اور میڈم کی ریشم کی طرح ملائم گانڈ کے چوتڑوں کو مٹھیوں میں بھینچ لیا ۔۔
    میڈم سونیا کو جیسے ھی یہ احساس ھوا کہ میرے ھاتھ انکی ننگی گانڈ تک پہنچ چکے ہیں تو میڈم سونیا کو ایکدم جھٹکا لگا اور میڈم نے جلدی سے میری کمر کو چھوڑا اور میرے ھاتھ ٹائٹس سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگی اور نفی میں سر ہلاتے ھوے بولی ۔

    نہیں سلمان بس اس سے آگے نہیں مگر مجھے اب کون روکتا میں نے اپنے دونوں انگوٹھے ٹائٹس کی لاسٹک میں ڈالے اور جھٹکے سے ٹائیٹس گانڈ سے نیچے اتار دیا ۔۔
    میڈم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور میڈم مجھے پیچھے کو دھکے دینے لگ گئی کہ نہیں سلمان نہیں یہ کیا کررھے ھو چھوڑو مجھے ۔
    مگر میڈم کی ننگی گانڈ کو چھوتے ھی مجھ پر جنون سوار ھوچکا تھا میں نے میڈم کی مذاحمت کی پرواہ نہ کرتے ھوے میڈم کو ذور سے بازوں میں کسا اور میڈم کو گھما کر صوفے کی جانب لے گیا اور میڈم کو پیچھے گراتے ھوے خود بھی میڈم کے اوپر ھی صوفے پر جاگرا ۔۔
    میں نے گرتے ھی اپنے ٹروزر کی ڈوری کھولی اور لن کو جلدی سے باہر نکال لیا ۔
    میڈم اپنے ٹائٹس کو اوپر کرنے کی کوشش میں لگی ھوئی تھی مگر میں نے میڈم کے بازوں کو اس انداز میں کیا ھوا تھا کہ میڈم کے ہاتھ ٹائٹس تک نہیں پہنچ رھے تھے ۔
    جبکہ ٹائٹس میڈم کے گھٹنوں تک پہنچ چکا تھا ۔۔
    میڈم کی پھدی اور رانیں بلکل ننگیں تھی میڈم کی پھدی کیسی تھی وہ مجھے ابھی تک نہیں. پتہ تھا کیوں کے میڈم کی شرٹ نے پھدی کو ڈھانپ رکھا تھا اور وہ سے بھی مجھے ابھی اتنی مہلت نہیں ملی تھی کہ میں دیدار پھدی کر سکوں ۔۔
    اب ہم اس پوزیشن میں تھے کے میڈم کی دونوں ٹانگیں صوفے سے نیچے تھیں اور گانڈ اور اوپری حصہ صوفے پر تھا جبکہ میں بھی میڈم کی پوزیشن میں میڈم کے اوپر لیٹا ھوا تھا میں نے لن ٹراوزر سے باہر نکالا اور میڈم کی ننگی موٹی موٹی رانوں کے بیچ پھدی کے بلکل اوپر ڈال دیا ۔
    لن جیسے ھی میڈم کی نرم نرم پھدی کے ساتھ رگڑتا ھوا چڈوں میں گھسا تو میرے اندر مزے کی لہر دوڑ گئی اور ادھر جب میڈم کو میرے ننگے لن کا اپنی پھدی کے اوپر احساس ھوا تو میڈم سونیا ایک بار پھر چیخی ھاےےےےےےےے سلمان کیا کررھے ھو پیچھے ہٹو میں کہہ رھی ھوں پیچھے ہٹو ورنہ میں شور مچا دوں گی مگر مجھے میڈم کی کوئی بات سنائی نہیں دے رھی تھی میں نے ھاتھ نیچے لیجا کر لن کو پکڑ کر جیسے ٹوپا پھدی کے لبوں میں گھسانا چاھا تو میڈم تڑپ کر میرے نیچے سے ایک طرف کو کھسکی اور روہانسی آواز میں بولی پلیزززززز سلمان ایک دفعہ میری بات تو سنو میں ایسی نہی ھوں میں تو تم سے مزاق کررھی تھی ۔۔۔
    کہ تم کو احساس ھو کہ ابھی تمہاری عمر ایسےکاموں کے لیے نہیں ھے ۔
    میں تو تم کو سمجھانا چاھتی تھی کہ تم ابھی بچے ھو اس لیے پڑھائی پر توجہ دو ۔
    پلیز ایک دفعہ میری بات سن لو سلمان پلیزززز میری عزت خراب ھوجاے گی میں لٹ جاوں گی کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رھوں گی ۔۔
    پلیزززززززززززززسلمان اور ساتھ ھی میڈم رونے لگ گئی ۔۔
    میں میڈم کی بات سن کر وہیں رک گیا ۔۔
    مگر پیچھے نہ ہٹا ۔مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں کیا کروًں میڈم کی حالت دیکھتا تو اس پر ترس آرھا تھا مگر جب اپنے لن کی حالت کو دیکھتا تو وہ پھدی کا پیاسا تھا مجھے لن کی حالت پر بھی ترس آرھا تھا ۔
    میڈم پھدی میں لن نہ جانے کی فریاد کررھی تھی اور لن پھدی میں جانے کی فریاد کررھا تھا ۔
    میں نے کھیر ٹھنڈی کر کے کھانے کا سوچا اور میڈم کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔
    اچھا تو آپ مجھے بیوقوف بنا رھیں تھی اب تک ۔
    میڈم روتے ھوے بولی۔
    نہیں سلمان قسم سے میرا مقصد تمہیں بیوقوف بنانا نہیں تھا بلکہ تمہاری اصلاح کرنا مقصود تھا ۔۔
    میں نے کہا یہ کیسی اصلاح ھے کہ اپنے جسم کی نمائش کرکے میرے جزبات کو چنگاری دے کر دعوت سیکس دے کر اب آپ مجھے دھتکار رہی ہیں ۔۔
    میڈم روتے ھوے بولی سلمان ایک دفعہ میری پوری بات سن لو پھر جو چاھے کرلینا تمہیں روکوں گی نہیں ۔
    میں نے کہا مجھے آب آپکی کوئی بات نہیں سننی اگر آپ واقعی یہ چاہتی ہیں کہ میں اندر نہ کروں تو پھر میری ایک شرط ھے ۔
    میڈم اپنے آنسو صاف کرتے ھوے بولی کونسی شرط ھے ۔
    میں نے کہا ۔مجھے آپ اپنے اس جسم کے ساتھ پیار کرنے دیں جس جسم نے میری راتوں کی نیندیں برباد کی ھوئی ہیں میرا آپ سے وعدہ ھے کہ میں خود آپکے اندر نہیں کروں گا ۔۔۔
    میڈم سونیا نفی میں سرہلاتے ھوے بولیں ۔۔
    ننننہیں سلمان میں نے آج تک کسی مرد کو اپنے جسم کو چھونے نہیں دیا ۔

    نجانے کیوں میں نے تم کو اتنا قریب آنے دیا ۔
    مجھے کیا پتہ تھا کہ میری یہ غلطی میری عزت برباد کرنے کی وجہ بن جاے گی ۔
    بیشک میرا طریقہ غلط تھا مگر مجھ سے جونسی مرضی قسم لے لو میرا مقصد غلط نہیں تھا میں تو تمہیں سدھارنا چاھتی تھی ۔۔
    میں نے کہا دیکھیں میم آپکا جو بھی مقصد تھا مگر میں اب آپ کے جسم کے ساتھ پیار کرنے کے بغیر نہیں رھ سکتا چاھے مجھے ذبردستی ھی کیوں نہ کرنی پڑے بعد میں جو ھوگا دیکھا جاے گا ۔۔
    میری بات سن کر میڈم کچھ دیر خاموش رھی اور پھر بولی اچھا بتاو تم مجھ سے کیا چاھتے ھو ۔۔
    میں نے کہا جو چاھتا ھوں بتا تو دیا ۔
    یہ بھی صرف آپکی عزت کرتا ھوں آپ سے پیار کرتا ھوں ورنہ آپ نے جو میری حالت کی ھے میں آب تک آپ کو چود چکا ھوتا ۔۔
    میڈم بولی اگر پھر تم نے اندر کرنے کی کوشش کی تو؟؟؟؟؟
    میں نے کہا میم میں زبانکا پکا ھوں اگر اندر ھی کرنا ھوتا تو اب تک کرچکا ھوتا اندر کرنے کے لیے مجھے بس ایک دھکا ھی لگانا تھا ۔۔۔
    میڈم بولی ۔۔
    سلمان میری عزت تمہارے ھاتھ میں ھے یہ نہ ھو کہ تم. مجھے بدنام کرتے پھرو۔۔
    میں نے کہا میم آپکی عزت میری عزت ھے میں اتنا بےغیرت نہیں ھوں کہ جس سے پیار کروں اسے ھی بدنام کروں ۔۔
    میری باتوں سے میڈم کچھ ریلیکس ھوچکی تھی ۔۔
    اور پھر میڈم لمبا سا سانس لے کر بولی اوکے ٹھیک ھے جیسے تم چاہو کرو مگر ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے اندر کرنے کی کوشش کی یا اندر کیا تو پھر یہ سمجھ لینا کہ میں تمہاری آنکھوں کے سامنے خودکشی کروں گی ۔۔۔
    میں نے کہا میم آپ بےفکر رہیں میں اپنا وعدہ نہیں بھولوں گا ۔۔۔میڈم سونیا نے جلدی سے اپنا ٹائٹس کھینچ کر اوپر کیا اور
    اس کے ساتھ ھی میڈم نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔
    میں نے میڈم سونیا کی ٹانگوں کو آٹھا کر اوپر صوفے پر کیا میڈم اب بلکل سیدھی صوفے پر لیٹی ھوئی تھی ۔۔
    مجھے اب سمجھ نہیں آرھا تھا کہ اتنی. تنگ جگہ پر کیسے میڈم کے اوپر لیٹوں میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو میری نظر دوسرے صوفے پر پڑی میں جلدی سے اٹھا اور اس صوفے کی گدیاں اٹھا کر نیچے فرش پر بیچھانے لگ گیا ۔
    چھ گدیاں تھی تین بیک کی اور تین نیچے والی ۔
    اب نیچے لیٹنے کا اچھا خاصا انتظام ھوچکا تھا ۔۔
    میں نے میڈم کی طرف دیکھا جو اسی حالت میں لیٹی میری حرکتوں کو دیکھ رھی تھی ۔
    میں میڈم کے پاس پہنچا اور میڈم کے دونوں بازوں کو کلائیوں سے ہکڑا اور میڈم کو اٹھا کر کہا میم ادھر چلیں میڈم سونیا منہ بسورتے ھوے اٹھی اور میرے ساتھ گدیوں کے بستر پر آگئی ۔۔
    مجھے ایک بات پریشان کیے ھوے تھی کہ اگر میڈم واقعی مجھ سے سیکس نہیں کرنا چاہتی تھی تو پھر میری باتوں کو کیوں مان رھی ھے اگر وہ چاھتی تو اب مجھے ڈرا دھمکا کر بھگا سکتی تھی کیوں کے اب تو وہ میرے شکنجے سے آزاد تھی اور کپڑے بھی پہن چکی تھی ۔۔
    خیر مجھے کیا لگے آم چوسنے کی کروں بس ۔۔۔
    بھاڑ میں جاے گھٹلیاں ۔۔۔
    میڈم گدیوں کے اوپر بیٹھ گئی میں بھی میڈم کے پاس ھی بیٹھ گیا اور پھر میں نے میڈم کو کندھوں سے پکڑ کر لیٹا دیا اور خود میڈم سونیا کے ساتھ لیٹ گیا اور کروٹ کے بل ھوکر میڈم سونیا کے اوپر ھوا اور میڈم کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا میڈم سونیا بلکل ساکت لیٹی ھوئی تھی اور میں اسکے ہونٹوں کو خود ھی چوسی جارھا تھا جبکہ وہ میرا ساتھ نہیں دے رھی تھی ۔
    کچھ دیر بعد میں نے سونیا میم کی شرٹ آگے سے اوپر کرنے لگا تو سونیا میم نے جلدی سے اپنی قمیض کو پکڑ لیا میں نے سونیا میم کی طرف دیکھا آنکھوں سے آنکھیں ملیں تو سونیا میم نے قمیض کو چھوڑ دیا تو میں قمیض کو اوپر مموں کی جانب لیجانے لگا ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  8. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (Today), Mirza09518 (Today)

  9. #665
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    314
    Thanks Thanks Given 
    304
    Thanks Thanks Received 
    1,679
    Thanked in
    307 Posts
    Rep Power
    186

    Default Update no 228..???


    سونیا میم نے اپنے دونوں بازو اپنے سر کے دائیں بائیں ایسے پھیلا کر رکھ دیے جیسے بے ہوش پڑی ھو ۔
    میں نے قمیض آیستہ آہستہ اوپر لیجاتے ھوے سونیا میم کے مموں تک کر دی مگر شرٹ کا نچلا حصہ اسکے جسم کے نیچے ھونے کی وجہ سے شرٹ مموں سے اوپر نہ جاسکی تو میں اٹھ کر سونیا میم کی ٹانگوں کے بیچ آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکی کمر کے نیچے ھاتھ لیجا کر کمر کو اوپر کرنے کا اشارہ کیا تو اس نے گانڈ کو ہلکا سا اوپر اٹھایا تو میں نے نیچے سے بھی شرٹ اوپر کر دی اور پھر ھاتھ نیچے سے نکال کر مموں سے شرٹ کو پکڑا اور تھوڑا سا ذور لگا کر مموں کو شرٹ سے باہر نکال دیا اور شرٹ سونیا میم کے گلے تک کردی ۔
    سونیا میم کی آنکھیں بند تھی اور چہرہ ایک طرف کیے ھوے تھا۔۔
    شرٹ پیٹ اور مموں سے اوپر کرنے کے بعد جیسے ھی میری نظر سونیا میم کے چٹے سفید مخملی ننگے پیٹ اور کالے بریزیر میں. چھپے چٹے سفید مموں پر پڑی تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ واقعی یہ حقیقت ھے یا پھر میں کوئی سپنا دیکھ رھا ھوں ۔
    اور پھر اس حقیقت کو جاننے کے لیے میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھے ھی اپنے ھاتھ سونیا میم کے ننگے پیٹ پر پھیرنا شروع کردیے ۔
    مجھے ایسے لگ رھا تھا جیسے میں کسی روئی کے گولے پر ھاتھ پھیر رھا ھوں اتنا نرم اور سوفٹ جسم تھا میم کا کہ افففففففف کیا بتاو ۔۔۔
    میں نے کچھ دیر پیٹ کو سہلایا تو سونیا میم کے جسم میں ہلچل پیدا ھوئی اور میم کے ممے اوپر نیچے ھونے لگ گئے ۔۔
    میں نے سونیا میم کے چہرے پر نظر ڈالی تو سونیا میم اپنے ہونٹوں کو چباتے ھوے لمبے لمبے سانس لے رھی تھی اور ہاتھوں کی مٹھیوں کو ذور سے بھینچ رکھا ھوا تھا ۔
    میم کی حالت دیکھ کر میں نے پیٹ پر جھک کر ہونٹ ناف کے سوراخ پر رکھے اور سوراخ پر بوسا لیا تو میم کا پیٹ وائبریٹ کرنے لگ گیا ۔
    اور سانسوں کا طوفان تیز ھوگیا ۔
    اور اس طوفان کو دیکھتے ھی میں نے پورے پیٹ کو چومنا شروع کردیا ۔
    جیسے جیسے میں چومتا ھوا سونیا میم کے مموں کی طرف جاتا ۔
    سونیا میم تڑپتے ھوے سر دائیں بائیں مارتے ھوے اپنی سسکاریوں پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی مگر پھر بھی اسکے منہ سے سسسسسسسسییییی افففففف کی آواز میرے کانوں سے ٹکراتی ۔
    کچھ دیر میں ھی میں نے مموں کے اس حصے کو چومنا شروع کردیا جو بریزءر سے باہر تھا اور ساتھ ھی کمر کے پیچھے ھاتھ لیجا کر میم کے بریزیر کی ہک کھول دی اور پھر جھٹکے سے مموں کے اوپر سے بریزءر کے کپ اٹھا کر مموں کو بےنقاب کردیا ۔۔
    سونیا میم کے ننگے ممے دیکھ کر میرا لن پھٹنے والا ھوگیا میں چٹے سفید گول مٹول مموں پر ٹوٹ پڑا اور اسکے اوپر تنے ھوے گلابی نپلوں کو باری باری چوسنے لگ گیا ۔۔






    3
    جیسے ھی نپل میرے ہونٹوں کی گرفت میں آے سونیا میم کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ھوگیا اور سونیا میم نے دل کھول کر سسکاری بھرتے ھوے اپنے ھاتھ کی انگلیوں میں میرے سر کے بال بھینچ لیے اور سر کو مموں کی طرف دبانے لگ گئی ۔۔
    مجھے بھی جوش چڑھ گیا اور میں نے بھی ذور شور سے مموں کو چوسنا شروع کردیا ۔۔
    ااچانک میرا دھیان اپنے لن کی طرف گیا تو میں ایکدم چونک پڑا ۔۔

    ۔۔کہ یہ کیا ۔
    سونیا میم تو گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کو میرے لن کے ساتھ ملانے کی کوشش بھی ساتھ کرے جارھی تھی ۔۔
    مجھے کام بنتا نظر آیا تو میں بھی لن کو پھدی کے اوپر دباتے ھوے ممے چوسنے لگ گیا اور کچھ دیر یہ سین چلنے کے بعد میں نے اگلا سٹیپ لیا اور سونیا میم کی ٹانگوں کے بیچ سے نکل کر اسکے ساتھ لیٹتے ھوے جلدی سے اپنا ھاتھ سونیا میم کے ٹائٹس میں ڈال دیا اور انگلیوں کو پھدی کے لبوں کے اوپر رکھ کر پھدی کو مسلنے لگ گیا ۔
    ایکدم کلین شیو پھدی اور وہ بھی ملائم نرم اور گیلی ۔۔
    انگلیوں میں پھدی کیا آئہی سونیا میم کی جان پر بن آئی ۔
    سونیا میں کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ھاےےےےے افففففف نہیں سلماننننننننن نکلا اور سونیا میم سر دائیں بائیں مارنے لگ گئی ۔۔
    سونیا میم کا جوش دیکھ کر مجھے بھی جوش چڑھ گیا ۔
    میں بھی ایک مما منہ میں لے کر پھدی کو ذور ذور سے مسلنے لگ گیا کہ اچانک سونیا میم کا ھاتھ سرکتا ھو میرے ٹراوزر میں گھسا اور سونیا میم کے نرم نرم ھاتھ نے میرے لن کو ہکڑ لیا اور لن ساتھ ھی پھنکارنے لگ گیا ۔۔
    سونیا میم میرے لن کو پکڑے مٹھیاں بھینچنے لگ گئی اور میرے ھاتھ کی انگلیاں پھدی کو مسلنے لگ گئیں اور ساتھ میں ایک ممے کا نپل میرے منہ میں تھا جسے میں لالی پاپ سمجھ کر چوسی جارھا تھا ۔۔
    میں نے پھدی کو مسلتے مسلتے سونیا میم کا ٹائٹس کافی نیچے کردیا تھا سونیا میم کی گانڈ اور رانیں بلکل ننگی ھوچکی تھی جبکہ میرا ٹراوز سونیا میم کے مٹھ مارنے کی وجہ سے کافی نیچے جا چکا تھا ۔
    کچھ ھی دیر بعد سونیا میم کو پتہ نہیں کیا سوجی ۔
    سونیا میم نے میرے لن کو کھینچ کر لن کو پھدی کی جانب لیجانے کا اشارہ کرنے لگ گئی میں نے چونک کر سونیا میم کے چہرے کی طرف دیکھا تو سونیا میم پہلی بار نیم مدہوشی میں بولی ۔۔۔۔
    اندر کردو سلمان اندر کردو مجھے نہ ترساو نہ ترساو ۔۔
    میں نے کہا میم آپ ناراض ھو جاو گی ۔۔
    سونیا میم بولی جلدی کردو اندر سلمان نہیں ھوتی ناراض میں خود کہہ رھی ھوں. افففففاففففف آہہہہہہہہہ جلدی کروووو سلللللمااان ۔
    میں جھٹکے سے اوپر اٹھا اور سونیا میم کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور جلدی سے ایک ٹانگ سے ٹائٹس اتارا اور دونوں ٹانگوں کو کھول کر سونیا میم کی پھدی کے اوپر لن رکھ کر گھسا مارا تو پہلے گھسے میں ھی آدھا لن پھدی کو چیرتا ھوا اندر گھس گیا ۔
    اور ساتھ ھی سونیا میم کی درد بھری چیخ کمرے میں گونجی جسے سونیا میم نے اپنا ھاتھ اپنے منہ پر رکھ کر کافی حد تک دبا لیا تھا ورنہ چیخ باہر گلی میں گزرنے والا سن لیتا۔۔
    اور سونیا میم نے دوسرا ھاتھ میری ناف کے نیچے رکھ کر مجھے رکنے کا کہا ۔
    پھدی نے میرا لن بری طرح جکٍڑا ھوا تھا ۔
    بلکل ٹائٹ پھدی تھی ۔
    مجھ سے اب مذید برداشت نہ ھوا میں نے لن کو تھوڑا سا پیچھے کھینچا اور پورے ذور سے گھسا مار کر سارا لن پھدی میں اتار دیا ۔
    اور اس کے ساتھ ھی سونیا میم خود ھی اپنے منہ کو دباتے ھوے گھٹی گھٹی آواز میں ھاےےےےےےھ مررگئی ظالم انسان ماردیا ھائییییییییی ممممممممم باہر نکالو مرگئی یییییییی۔
    مگر میں پورا لن اندر کرکے سونیا میم کے اوپر لیٹ چکا تھا اور اسکے کان کے پاس یونٹ کر کے اسے دلاسا دے رھا تھا کہ بس بس بس ھوگیا ۔۔
    مگر سونیا میم میری کمر کو پیٹی جارھی تھی اور دوسرا ھاتھ اپنے منہ پر رکھ کر آپنی آوازکو دبا رھی تھی ۔۔
    کچھ دیر ایسی ھی سونیا میم تکلیف مییں رھی ۔
    اور پھر کچھ نارمل ھوئی تو میں نے آہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کردیے ۔
    مجھے پھدی کافی گیلی گیلی اور چکنی لگی ۔
    میں نے پرواہ کیے بغیر ھی اوپر لیٹے گھسے مارنا شروع کردیے اور نیچے کے حلات جاننا بھی گوارا نہ کیا ۔
    سونیا میم مجھے برا بھلا کہے جارھی تھی اور کبھی آہستہ کرو آرام سے کرو ھائیییییی مرگئی ھاےےےےے بہت درد ھو رھا ھے سلمان اووووووو تم نے اچھا نہیں کیا ۔
    مجھے برباد کردیا ھاےےےےےےے مجھے کیا پتہ تھا کہ تم ایسے کرو گے ھاےےےےےےے مرگئی پلیززززز آرام سے کرو اب آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہہ مرگئیییییییی ۔ پلیززززز سارا اندر نہ کرو ۔۔۔۔افففففففد۔۔۔۔

    کچھ دیر تو میں یہ ھی راگ سنتا رھا مگر میں متواتر گھسے مارتا رھا ۔
    اور پھر دس منٹ بعد سونیا میم کی ٹون تبدیل ھوگئی اور پھر ۔
    آہیں سسکیوں میں بدل گئیں اور آرام آرام سے تیزتیز کرنے کا حکم جاری ھونے لگا اور سارا اندر نہ کرو کی بجاے سارااااااا اییییی کردو کی بھی آفر شروع ھوگئی ۔۔
    اور میری کمر کو پیٹتا ھاتھ اب میری
    کمر کو سہلانے لگ گیا ۔۔
    اور پھر آہہہہ سسسسسییییی یس یس یس فک می فک می فاسٹ فاسٹ ایم کمنگ ایم کمنگ سلمااااان لو یوووووو مممممممم سسسسسیییییی ممممممممم گگگگئیییییییی کرتے ھوے سونیا میم نے اپنی ٹانگوں کی قینچی میری کمر کے گرد ڈال کر مجھے جکڑ لیا اور گانڈ آٹھا کر پورا لن اندر لے کر پھدی کو سکیڑ کد لن کو بھی جکڑ لیا اور میری گردن پر دانت گاڑ دیے اور پھر بری طرح کانپی اور جھٹکے کھاتے ھوے کچھ ھی دیر میں ایک دم بےجان ھوکر لیٹ گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی ۔
    اور میں نے بھی تھوڑا اوپر ھوکر پھر جلدی جلدی گھسے مارنے شروع کردیے جس سے سونیا میم کے بڑے بڑے ممے سینے پر چھلکنے لگ گئے مموں کو یوں چھلکتا ھوا دیکھ کر میں مذید چار پانچ منٹ ھی ٹک پایا اور پھر آخری مزے سے بھرپور گھسے مارتے ھوے جھٹکے سے لن باہر نکال کر پھدی کے اوپر ھی لن کو دھرا کر کے سونیا میم کے ساتھ چمٹ گیا اور لن سے منی نکل کر پھدی کے اوپر ھی بہتی ھوئی نیچے گدیوں میں جزب ھونے لگ گئی ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (Today), Mirza09518 (Today)

  11. #666
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    85
    Thanks Thanks Given 
    430
    Thanks Thanks Received 
    164
    Thanked in
    78 Posts
    Rep Power
    10

    Default

    Wooooo

    زبردست زبردست زبردست اپڈیٹ جناب

    Maza a gaya

    Keep it up
    سیکسی لیڈی

  12. #667
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    42
    Thanks Thanks Given 
    59
    Thanks Thanks Received 
    64
    Thanked in
    37 Posts
    Rep Power
    15

    Default

    واہ شیخو جی کمال کر دیا کیا زبردست اپڈیٹ دی ہے مزہ آگیا۔

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •