سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 25 of 37 FirstFirst ... 1521222324252627282935 ... LastLast
Results 241 to 250 of 366

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #241
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    55
    Thanks Thanks Given 
    345
    Thanks Thanks Received 
    92
    Thanked in
    51 Posts
    Rep Power
    7

    Default

    ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST


    Maza a gaya.

    Keep it up

  2. The Following 2 Users Say Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    windstorm (10-12-2018), Xhekhoo (05-12-2018)

  3. #242
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 173..??



    .ضوفی میرا بازو پکڑے مجھے گھر کی طرف لیجارھی تھی اور ساتھ ساتھ مجھے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رھی تھی ۔

    کچھ دور جاکر میں کافی حد تک نارمل ہوچکا تھا گھر کے پاس جاکر میں واپس آنے لگا تو ضوفی نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور ساتھ ھی ڈور بیل بجا دی کچھ دیر بعد ماہی نے پوچھ کر دروازہ کھولا اور میرے لاکھ انکار کرنے پر بھی ضوفی مجھے ذبردستی اندر لے گئی۔

    میں نے بھی ماہی کی وجہ سے ذیادہ ڈرامہ نہ کیا اور چپ چاپ اندر داخل ہوگیا ۔

    ماہی میری حالت دیکھ کر پریشان ھوگئی اور مجھ سے پوچھنے لگ گئی کیا ھوا تو ضوفی نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ضوفی سیدھا مجھے اوپر والے کمرے میں ھی لے گئی ۔۔

    اوپر جاکر میں صوفے پر نیم دراز ھوگیا ۔

    ضوفی مجھے بیٹھا کر نیچے چلی گئی اور کچھ دیر بعد چینج کرلے اوپر آئی تب تک میں بلکل نارمل حالت میں ہوچکا تھا ضوفی نے مجھے پانی کا گلاس ہیش کیا اور میرے سامنے دوسرے صوفے پر بیٹھتے ھوے بولی غصہ ٹھنڈا ھوا جناب کا کہ نہیں اورساتھ ھی شرارت بھرے انداز میں ھاتھ کو کانوں کی لو کے ساتھ لگا کر توبہ توبہ کرتے ھوے بولی ۔

    یاسرر تمہیں اتنا غصہ بھی آتا ھے اففففف میں تو یقین کرو ڈر گئی تھی کہ پتہ نہیں کیا کرگزرو گے ۔۔

    میں صوفے کی بیک سے ٹیک لگاتے ھوے لمبا سانس لیتے ھوے بولا ۔

    ضوفی جب انسان سچے دل کا ھو اور منافقت سے پاک ھو تو پھر وہ ذیادتی برداشت نہیں کرتا ۔

    میں اس سالے کو چھوڑوں گا نہیں ۔

    اسکی قسمت اچھی تھی جو وہ مجھے نظر نہیں آیا ورنہ اسکو ایسا سبق سکھاتا کہ ساری زندگی یاد رکھتا کہ کس سے پنگا لیا ھے ۔۔

    ضوفی مجھے پھر ریلیکس کرتے ھوے بولی دفعہ کرو کتوں کا کام ھے بھونکنا ۔۔

    میں کچھ دیر اس گانڈو کو گالیاں دیتا رھا ۔

    اورضوفی مجھے ٹھنڈا کرتی رھی ۔

    میں نے پلان کے مطابق جو میں پہلے سوچ چکا تھا

    ضوفی کو کہا کہ ضوفی میں نے اس لڑکے کو سبق سکھانا ھے اور اس میں مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ھے ۔

    ضوفی بولی میری مدد کی وہ کیسے ۔۔

    میں نے کہا پہلے تم وعدہ کرو کے میرا ساتھ دو گی ۔

    ضوفی بولی یاسر تمہارے لیے میری جان بھی حاضر ھے ۔

    تم بتاو تو سہی کہ مجھے کیا کرنا ھے ۔

    اور پہلے یہ اپنی حالت درست کرو اور یہ کہتے ھوئے ضوفی میری شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی اور ساتھ ساتھ میرے شرٹ پر پڑی سلوٹوں کو بھی

    درست کرنے لگ گئی ۔

    میں نے کہا

    مارکیٹ کا جو مالک ھے ان کے ساتھ تمہارے گھریلو تعلقات ہیں نہ ۔

    ضوفی اثبات میں سر ہلاتے ھوے بولی ہمممممم۔
    میں نے کہا ۔
    بس تو پھر صبح تم نے مارکیٹ کے مالک کے گھر جانا ھے اور اسکو کہنا ھے کہ یہ لڑکا روز مجھے تنگ کرتا ھے اور مذید اپنے پاس سے مرچ مصالحہ لگا کر انکو اس کے خلاف کرنا ھے ۔


    اور شام کو یہ لڑکا اپنی عادت کے مطابق تمہیں دیکھے گا اور تم نے بس اس کو ایک گالی نکالنی ہے اور ساتھ میں تم نے یہ کہنا ھے کہ تم کیا روز مجھے تنگ کرتے رہتے ہو بس اسکے بعد میں جانوں اور وہ لڑکا۔۔

    ضوفی گبھرا کر بولی یاسر ایسے تم کچھ غلط نہ کر گزرنا کہ بعد میں پچھتانا پڑے ۔

    میں نے کہا یار تم پریشان مت ھو اگر میں نے اسکو سبق نہ سیکھایا تو میں اندر ھی اندر مرجاوں گا ضوفی ایکدم اٹھ کر میرے پاس آئی اور میرے منہ پر ہاتھ رکھتے ھوے بولی مریں تمہارے دشمن ۔۔۔

    میں نے اسکا ھاتھ منہ سے ہٹاتے ھوے کہا تو ضوفی پھر تمہیں میری مدد کرنا ھوگی ۔

    ضوفی بولی اس کا فائدہ کیا ھوگا میں نے کہا اسکے دو فائدے ھوں گے ایک تو اسکو یہ سبق مل جاے گا کہ کیسے کسی کے ذاتی معاملے میں دخل اندازی کرتے ہیں اور دوسرا مارکیٹ کا مالک اس سے دکان خالی کروا لے گا ۔

    اور اسکو سبق ملے گا کہ کیسے کسی کی روزی میں ٹانگ مارتے ہیں ۔

    ضوفی بولی یاسر دکان والا کام تو میں انکل کی بیگم کو کہہ کر کروا لوں گے

    تو پھر اس کتے کے منہ ضرور لگنا ھے ۔

    میں نے ضوفی کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ھوے کہا ضوفی تمہیں میری ضرورت ھے کہ نہیں ضوفی بولی یاسر کیسی باتیں کررھے ھو ۔ تمہارے بغیر ایک پل بھی رہنا مجھ سے دشوار ھے اور تم۔۔۔۔

    میں نے ضوفی کی بات کاٹتے ھوے کہا

    تو پھر جو میں کہہ رھا ہوں وہ کرو ۔

    ضوفی بولی یاسر مجھے تمہاری فکر ھے کہ تم کچھ الٹا سیدھا نہ کر بیٹھو۔

    میں نے کہا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تب میں نے کچھ الٹا سیدھا کربیٹھنا ھے۔۔

    دوستو بالاخر



    میں نے ضوفی کو اپنی جان کی قسم دے کر مجبوراً راضی کرلیا۔

    اور اسے صبح آنے کا کہہ کر اس سے اجازت لے کر ان کے گھر سے نکل آیا ۔ضوفی اور آنٹی نے بہت کوشش کی کہ میں کھانا کھا کر جاوں مگر میں نے لیٹ ھونے کا بہانہ بنا کر وھاں سےنکل آیا اندھیرا کافی ھوچکا تھا ۔

    میں سارے راستے صبح کی پلانگ اور گھر جاکر گھر والوں کے سوالوں کے جواب کے بارے میں سوچتا رھا اور گھر پہنچنے سے پہلے ہی کافی لمبی چوڑی پلاننگ تیار کرچکا تھا۔

    گھر پہنچا تو سب کچھ نارمل ھی تھا شاید ابھی تک وہ گانڈو بُڈھا دکان سے واپس نہیں آیا تھا ۔

    ورنہ تو گھر داخل ھوتے ھی سب مجھ پر چڑھ دوڑتے ۔۔

    میں نے کھانا وغیرہ کھایا اور گھر سے نکل کر باہر دوستوں کی طرف چلا گیا ۔

    گاوں میں میرا ایک جگری دوست تھا شاہد جسکو شادا شادا کہتے تھے چھ فٹ قد چوڑا سینہ ورزشی جسم بڑی بڑی مونچھیں اور بڑا دلیر اور مخلص یاروں کا یار تھا اسکا پہلے اس لیے ذکر نہیں کیا کیوں کہ اسکا کوئی رول نہیں تھا ۔

    اس نے مجھے کہا یار آج تو بڑا پریشان لگ رھا ھے ۔

    میں نے پہلے تو ٹال مٹول سے کام لیا مگر وہ پوچھنے پر بضد رھا ۔

    میں نےضوفی کے معاملے کو گول کرکے اسکو ساری ہسٹری بتا دی ۔

    وہ تو آپے سے باہر ھوگیا اور مجھے ابھی شہر چلنے کا کہنے لگا کہ اس پین یک دی بُنڈ وچ فیر مارنا اے ۔

    میں نے بڑی مشکل اسے سمجھا بجھا کر بٹھایا اور اسکو کہا کہ کل تم نے چھ بجے سے پہلے شاہین مارکیٹ کے باہر ہونا ھے اور بس میرے پاس کسی اور کو نہیں آنے دینا اس پین یک نوں میں آپ پننا وا۔۔

    شادا بولا توں فکر نہ کر جے ہور بندیاں دی لوڑ ہوئی تے او وی آ جان گیں ۔

    میں نے کہا ضرورت تو نہیں پڑے گی باقی پھر بھی تم تین چار لڑکوں کو ساتھ لے آنا اور وہاں دیکھنے والوں کو یہ شک بھی نہ ہو کہ تم میرے لیے آےھو اور میری وجہ سے لڑ رھے ھو ۔۔اور تم میں سے کوئی بھی لڑکا اس پین یک کو ہاتھ نہ لگاے اسکو میں خود نپٹاوں گا۔۔

    میں نے کچھ دیر بعد کہا یار مجھے اس بابے کی ٹینشن ھے وہ سالا میرے گھر شکایت نہ لگا دے

    شادا بولا کویں تے ایس بابےدا وہ پٹکا پوا دینے آں میں نے کہا نہیں یار وہ پھر بھی میرا استاد ھے ۔اسے چھوڑ اور جو میں نے کہا ھے اسے ذہن نشین کرلو


  4. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (08-12-2018), Lovelymale (06-12-2018), MamonaKhan (07-12-2018), windstorm (10-12-2018)

  5. #243
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 174..??


    شادا بولا

    پر یار جے اونے تیرےکار شکایت لا دتی تے فیر۔

    میں سوچ میں پڑ گیا۔۔

    تو شادا بولا

    یاسرے بابے دا تے حل اے ھی اے کہ میں اونوں تیرے کار جان توں پیلے ای سمجھا دیواں میری گل اودی عقل وچ آجاوے گی نئی تے فیر اونوں میرا پتہ ای اے

    میں نے شادے کی بات سن کر کہا ھاں یار ہن تے او دکان توں آگیا ہناں اے ۔

    شادا بولا چل فیر چلیے ایدھا تے منہ ٹھپ کرئیے۔

    میں نے کہا چل فیر ۔

    میں شادا اور دو تین اور لڑکے

    ہم سب دکان والے کے گھر کی طرف چل دئیے اپنے گھر کے سامنے سے گزر کر ہم سجاد کے گھر کے سامنے جا پہنچے شادے نے مجھ سمیت دوسرے لڑکوں کو گھر سے کچھ پیچھے جانے کو کہا میں ان لڑکوں کو اپنے گھر کی بیٹھک کے پاس لے ایا۔۔اور ادھر کھڑے ہوکر ہم شادے کو دیکھنے لگ گئے شادے نے دروازہ کھولا تو

    بابا ھی باہر نکلا۔

    ان دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی

    I don't know

    شادا میری طرف اشارے کر کر اس سے باتیں کررھا تھا اور جب انکی بات مکمل ھوئی تو شادے نے سجاد کے کندھے پر ھاتھ رکھ کر اس سے کچھ سختی سے بات کی اور ہماری طرف آنے لگ گیا جبکہ سجاد کچھ دیر کھڑا شادے کو دیکھتا رھا اور پھر ذور سے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی شادے نے آتے ھی خوشخبری دی کہ اسکی عقل میں بات آگئی ۔

    مگر یاسرے اے پالر والی کون اے میں نے ہنستے ھوے کہا تیری پرجائی اے ہور کون اے ۔

    شادا میرے کندھے پر ھاتھ مارتے ھوے بولا وا یار شہری بابو بن دے ای شہر دی بچی وی پھنسا لی ۔

    میں اسکے پیٹ میں مکا مارتے ھوے بولو پھدی دیا تیری پرجائی اے ادب نال نام لے ۔

    شادا قہقہہ مار کر ہنستے ھوے بولا ۔

    ہن تے اوس پین یک دی خیر نئی ساڈے ویر دی پسند وچ لت اڑائی ایدی ماں دا پھدا ۔

    میں نے اسکے کندھے پر ھاتھ رکھ کر اسے ٹھنڈا کیا کہ اسکو تم لوگوں نے ہاتھ نہیں لگانا ۔

    یہ کام بس میرا ھے ۔

    تم لوگوں نے بس کسی کو ہم دونوں کے بیچ میں نہیں آنے دینا ۔

    ہم کچھ دیر مذید باتیں کرتے رہے اور پھر صبح ملنے کا کہہ کر ہم اپنے اپنے گھر آگئے ۔

    صبح میں اٹھا اور پینٹ شرٹ یا شلوار قمیض پہننے کی بجاے ٹراوزر شرٹ اور نیچے جوگر پہن کر شہر کی طرف چل دیا میں سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ضوفی میری حالت دیکھ کر ہنستے ھوے بولی لگتا ھے کہیں میچ کھیلنے جارھے ھو میں نے کہا میچ ھی کھیلنا ھے ضوفی پھر مجھے سمجھانے لگی مگر میں نے اسکی ایک نہ سنی اور ہم دونوں گھر سے نکل کر مارکیٹ کے مالک کے گھر کی طرف چل دیے راستے میں ضوفی مجھ سے پوچھتی رھی کہ اب کدھر کام کرنا ھے اور سارا دن کدھر گزارو گے میں بس ایسے ھی اسکی بات کو سنی ان سنی کرتا رھا ضوفی نے مجھے پالر میں دن گزارنے کا بھی کہا مگر میں نے ایک دوست سے ملنے کا بہانہ کر کے اسے ٹال دیا ایسے ھی باتیں کرتے ھوے ہم شاہین مارکیٹ کے مالک کے گھر کے دروازے پر پہنچے انکا گھر شاہین مارکیٹ سے پچھلی گلی میں ھی تھا

    ضوفی گھر میں داخل ھوتے ھوے بولی یاسر تم جاو میں آنٹی سے بات کر کے پارلر پر چلی جاوں گی میں نے اسے آواز دے کر اندر داخل ہونے سے روکتے ھوے کہا کہ تم آنٹی سے میرا بھی کچھ تعارف کروا دینا کزن بنا کر ضوفی بولی تم یہ سب مجھ پر چھوڑ دو اور بے فکر ھو کر جاو ضوفی کو ادھر چھوڑ کر میں بازار کی طرف چل دیا دکان کے سامنے سے گزرا تو سجاد اور جنید اپنے کام میں مصروف تھے میں نے بس ایک نظر ڈالی اور آگے گزر گیا جب میں ایک مشہور مارکیٹ کے سامنے سے گزرنے لگا تو میرے دماغ میں اچانک اسد کی مما کے بوتیک کا آیا میرے پاس ویسے بھی ابھی سارا دن پڑا تھا ۔

    اسد کی مما کا خیال آتے ھی میں مارکیٹ کے اندر داخل ھوگیا اور کچھ آگے گیا تو مجھے آنٹی کا بوتیک نظر آگیا ۔

    بوتیک کا ڈور کھلا ھوا تھا مارکیٹ میں کچھ دکانیں ابھی بند ہیں تھیں اور کچھ کھلی ھوئی تھیں ۔۔

    میں بوتیک کے پاس پہنچ کر بوتیک کے کھلے ھوے ڈور پر ھی ناک کرنے لگ گیا ۔
    کچھ دیر بعد آنٹی ھی دروازے پر آئی اور مجھے دیکھ کر ایکدم چونکی اور منہ پر ھاتھ رکھ کر بڑی حیرانگی سے مجھے سر سے پاوں تک دیکھنے لگ گئی ۔

    میں نے آنٹی کو سلام کیا تو آنٹی مجھے جی صدقے کرتی ھوئی اندر لے گئی اور بوتیک کا دروازہ بند کردیا۔

    میری چھٹی حس نے فورن خطرے کا الارم بجایا ۔

    کہ لے کاکا ہن تیری خیر نئی ۔۔


  6. The Following 9 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (08-12-2018), abkhan_70 (06-12-2018), Admin (06-12-2018), irfan1397 (06-12-2018), Kashifpota (06-12-2018), Lovelymale (06-12-2018), MamonaKhan (07-12-2018), sajjad334 (06-12-2018), sexeymoon (06-12-2018)

  7. #244
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    128
    Thanks Thanks Given 
    187
    Thanks Thanks Received 
    214
    Thanked in
    100 Posts
    Rep Power
    167

    Default


    رات گیارہ بجے تک آپ کی طرف سے اپڈیٹ کا انتظار کیا اور مایوس ہو کر سو گیا تھا اور جاگ کر سب سے پہلے اردو فنڈا اوپن کی اور اپڈیٹ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ اچھی اپڈیٹ رہی اور آپ کی طرف سے اپڈیٹ کا شدت سے انتظار رہے گا


  8. The Following 8 Users Say Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    abba (08-12-2018), abkhan_70 (06-12-2018), Kashifpota (06-12-2018), lastzaib (06-12-2018), MamonaKhan (07-12-2018), mentor (06-12-2018), windstorm (06-12-2018), Xhekhoo (06-12-2018)

  9. #245
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    20
    Thanks Thanks Received 
    14
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Very nice uodate and waiting for next....

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Kashifpota For This Useful Post:

    irfan1397 (06-12-2018), Xhekhoo (06-12-2018)

  11. #246
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    105
    Thanks Thanks Given 
    283
    Thanks Thanks Received 
    38
    Thanked in
    22 Posts
    Rep Power
    32

    Default

    Zabardast update hai, Mohabbat barhti jati hai aur lagta hai keh abb iss main maar dhaar bhi shamil honay wali hai.

  12. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Xhekhoo (06-12-2018)

  13. #247
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    1,145
    Thanks Thanks Given 
    122
    Thanks Thanks Received 
    145
    Thanked in
    55 Posts
    Rep Power
    1537

    Default


    واہ کیا بات ہے کہانی میں ٹوسٹ بڑھتا جا رہا ہے اور کیا بات ہے شیخو کہانی اپ ڈیٹ کرنے کے سپیڈ کم ہو گئی ہے سب کو نشہ پر لگا کر اب ایسا نہ کرو . میرے سمیت سب کو اپ ڈیٹ کا شدت سے انتظار رہتا ہے

  14. The Following 5 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abkhan_70 (06-12-2018), Kashifpota (06-12-2018), MamonaKhan (07-12-2018), windstorm (06-12-2018), Xhekhoo (06-12-2018)

  15. #248
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Good nice story
    please update

  16. The Following User Says Thank You to naeemsmi For This Useful Post:

    Xhekhoo (06-12-2018)

  17. #249
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 175..


    .میں بوتیک کے اندر داخل ہوتے ھی چاروں اطراف دیکھ کر بوتیک کا جائزہ لینے لگ گیا آنٹی نے کافی خرچہ کیا ھوا تھی بوتیک کی سیٹنگ اور ڈسپلے کمال کا تھا ورائٹی بھی ایک سے بڑھ کر ایک تھی ۔
    آنٹی دروازہ بند کرکے مجھے بیٹھنے کا کہنے لگی میں کاونٹر کے پاس رکھے ھوے صوفے پر بیٹھ گیا آنٹی میرے پاس سے گزر کر میرے بلکل سامنے رکھی ایزی چیئر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی ۔
    آنٹی نے سرخ کلر کی باریک کپڑے میں بلکل سادہ سی شرٹ اور نیچے بلیک ٹائٹس پہنا ہوا تھا اور باریک سا شفون کا دوپٹہ گلے میں لٹکایا ھوا تھا جس کے دونوں پلوؤں نے آنٹی کے بڑے سائز کے سڈول مموں کو اور سے ڈھانپ رکھا تھا۔
    آنٹی کے بڑے بڑے ممے فٹنگ والی شرٹ کی وجہ سے مذید ابھرے ھوے تھے
    صاف لفظوں میں
    آنٹی کی جوانی پاٹ رھی تھی
    دو جوان بچوں کی ماں ہونے کے باوجود بھی آنٹی کا فگر کمال کا سیکسی تھا ۔
    آنٹی نے شرٹ بھی شارٹ پہنی ہوئی تھی اور نیچے پنسل ہیل پہننے کی وجہ سے گانڈ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی اور پیچھے سے شرٹ کو بھی اوپر کیا ھوا تھا چلتے ھوے پیچھے سے گانڈ جب ہلتی تو بڑوں بڑوں کا نالا ڈھیلا ہوجاتا،
    گول مٹول سڈول گانڈ بہت ھی سیکسی تھی ۔
    آنٹی جب میرے سامنے سے گزر کر کرسی کے جانب مڑی تو آنٹی کی گانڈ دیکھ کر ھی میرے لن میں کھجلی شروع ھوگئی تھی ۔
    اور جب آنٹی جاکر کرسی پر بیٹھی تو آنٹی کے ممے مجھے گھور کر منہ چڑھانے لگے اور جب آنٹی نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اور دو مست رانیں ایک دوسرے کے اوپر آکر ٹائیٹس کو مذید ٹائٹ کرنے لگیں تو یہ منظر دیکھ کر میرا حلق خشک اور لن پُھرت ہوگیا۔۔
    جیسے ھی میرے لن نے انگڑائی لی میں نے بھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سالے کی گِچی مروڑ دی ۔
    آنٹی نے سرخ لپسٹک گوری گالوں پر ہلکا سا میک اپ آنکھوں میں کاجل پلکوں پر بلش اون لگا کر خود کو ایک سیکس کی پڑیا بنایا ھوا تھا آنٹی کے سیکسی فگر کو دیکھتے ھی میرے دماغ سے لڑائی جھگڑا اور سارا غصہ نکل گیا اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے پندرہ بیس دن سے پھدی نصیب نہیں ہوئی تھی اور ضوفی کے ساتھ رات گزارنے کے باوجود اس سے کچھ نہیں کیا سواے رومانس کے ضوفی کا سیکسی جسم دیکھنے اور چومنے چاٹنے کے باوجود بھی ادھورا رھا اب یہ ظالم اپنے سیکسی جسم کی نمائش کر کے میرے صبر کا امتحان لے رھی تھی اب خلوت میں ایسی بمب آنٹی ہر لحاظ سے دعوت دے رھی ھو اور اپنے سیکسی جسم کا ہر ذاویعے سے نظارہ کرا رھی ھو تو پھر اس ننھی جان پر ظلم کا پہاڑ نہیں تو اور کیا ھے ہن ۔ تسی دسو
    سالا یاسر کیا کرے ہن ٹھنڈا پانی پی مرے۔
    آنٹی نے میری آنکھوں کا تعاقب کرتے ھو اور میری نظروں میں ہوس کو تاڑتے ھوے بازوں اوپر کو اٹھاے اور سر سے اوپر لیجا کر ایک ظالم انگڑائی لی اور انگڑائی لیتے ھی اپنے گلے سے دوپٹہ اتار کر کاونٹر پر رکھتے ھوے بالوں کو سنوارتے ھوے بولی
    واووو یاسر تم نے تو اپنا حلیہ ھی بدل لیا اور پھر گھٹنے پر کُہنی رکھ کر اور الٹے ہاتھ کو ٹھوڑی پر رکھ کر آگے جھکی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
    خیر ھے اس تبدیلی کی وجہ پوچھ سکتی ھوں کہیں کوئی لڑکی تو نہیں پھنسا لی ۔
    میں نے شرماتے ھوے کہا نہیں آنٹی جی ایسی تو کوئی بات نہیں بس ایسے ھی کچھ دوستوں زبردستی میری کلین شیو کروا دی
    آنٹی ہنستے ھوے بولی بہت خوب اچھا کیا ۔
    تمہاری تو لُک ھی تبدیل ہوگئی ھے بلکہ تمہارے چہرے سے تو نسوانیت جھلک رھی ھے ۔
    زبردست ۔
    مجھے خوشی ہوئی تمہیں دیکھ کر ۔
    اور سناو مصروفیت کیسی جارھی ھے ۔
    میں نے کہا شکر سب ٹھیک چل رھا ھے ۔
    آنٹی پھر گھر نہ آنے کا شکوہ کرنے لگ گئی میں نے کاروباری مصروفیات کا عزر پیش کیا ۔
    کچھ دیر باتوں کے بعد آنٹی ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے بولی افففففف تمہارے آنے کی خوشی ھی اتنی ہوئی کہ میں تمہاری مہمان نوازی ھی بھول گئی اور اٹھ کر بوتیک کے ایک طرف بنے دروازے کی طرف چل پڑی میں نے آنٹی کو کافی کہا کہ میں ناشتہ وغیرہ کر کے آیا ہوں مگر آنٹی نے میری کوئی بات نہ سنی اور اپنی مست گانڈ کو ہلاتی ہوئی دروازہ کھول کر اندر چلی گئی اور کچھ ھی دیر بعد مشروب کا گلاس پکڑے باہر نکلی اور بڑی ادا سے چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور مجھے گلاس پکڑا کر پھر میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی ۔
    میں نے چسکیاں لیتے ھوے ڈرنک ختم کیا اور گلاس کاونٹر پر رکھ دیا اس دوران بس نارمل باتیں ہوتی رہیں ۔
    پھر آنٹی بولی ۔
    یاسر کیسا لگا میرا بوتیک ۔
    میں نے شرارت بھرے انداز سے کہا آپ کی طرح آپ کا بوتیک بھی خوبصورت ھے ۔
    اپنے حسن کی تعریف سنتے ھی آنٹی کی آنکھوں میں چمک اور گالوں پر لالی آئی ۔
    آنٹی بولی اچھا جی مجھے تو آج پتہ چلا کہ میں بھی خوبصورت ہوں ۔
    میں نے کہا اس میں کون سا شک ھے آپ واقعی ای بہت خوبصورت ہیں ۔
    آپ کو دیکھ کر تو یہ بھی نہیں لگتا کہ آپ شادی شدہ ھو ۔
    آنٹی کھلکھلا کر ہنستے ھوے بولی اب ایسی بھی بات نہیں اتنے بھی مجھے مسکے نہ لگاو ۔
    میں نے کہا نہیں آنٹی یہ مسکے نہیں بلکہ حقیقت ھے ۔۔
    آنٹی بولی اچھااااا جی میں نے بھی اسی انداز میں کہا ھاااااں جی ۔
    آنٹی کچھ سوچنے لگ گئی اور پھر ایکدم اٹھی تو اس کے ممے ایسے اچھلے جیسے ابھی گلا پھاڑ کر باہر نکل آئیں گے ۔
    آنٹی بولی یاسر کل میں نے کچھ نیو ورائٹی منگوائی ھے ۔
    زرا دیکھنا کیسی ھے میں بھی اثبات میں سر ہلاتے ھوے اٹھ کر کھڑا ھوگیا
    میں جیسے ھی کھڑا ھوا تو میرا لن مجھ سے پہلے کھڑا ہوگیا اور ٹراوزر کو آگے سے اٹھا کر اچھا بھلا ابھار بنا دیا۔
    میں نے انڈرویئر نہیں پہنا ھوا تھا اس لیے کچھ ذیادہھی ابھار بن گیا بلکہ میرے پھولے ھوے ٹوپے کا ڈیزائن ٹراوزر میں صاف نظر ارھا تھا ۔
    آنٹی کی جب نظر میرے ابھرے ھوے ٹراوزر پر پڑی تو آنٹی نظر ہٹانا بھولی گئی اسکی آنکھوں میں چمک آئی اور تھوک نگھلتے ھوے ہونٹوں پر زبان پھیر کر خشکی کو ختم کرنے کی کوشش کرنے لگ گئی ۔
    میں نے آنٹی کو یوں محو لن دیکھا تو میں نے کھنگارا بھرا اور بولی کدھر ہے ورائٹی ۔
    تو آنٹی ایکدم چونکی ۔
    اور جھینپتے ھوے بولی وہ وہہہ آو دیکھاتی ہوں ۔۔اور ساتھ ھی آنٹی مجھ سے آگے اگے چل پڑی اور میں اسکی موٹی گانڈ کے ہلنے کا نظارہ کرتا ھوا اسکے پیچھے چل دیا بوتیک کافی بڑا تھا اور آنٹی نے سیٹنگ کچھ ایسی کی ہوئی تھی کہ ایک طرف ٹرائی روم اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا کچن نما کیبن اور ایک طرف سٹور بنایا ھوا تھا جہاں اضافی مال رکھا جاتا تھا باقی سارے حال میں لیڈیز سٹیچو رکھ کر انپر مختلف ڈزائننگ کا ڈسپلے کیا ھوا تھا ۔
    آنٹی چلتے چلتے پھر رکی اور گھوم کر بڑی نشیلی نظروں سے مجھے دیکھا اور بولی یاسر تم وہ سامنے سٹور میں چلو میں ایک کال کر کے آئی ۔
    میں اثبات میں سر ہلاتے ھوے سٹور روم کی طرف چل دیا آنٹی کاونٹر کے پاس گئی اور پی ٹی سی ایل سے رسیور اٹھا کر نمبر ڈائل کرنے لگ گئی ۔
    میں ایک نظر آنٹی کو دیکھ کر روم میں داخل ھوا تو اندر کافی بڑے بڑے شاپر پڑے ھوے تھے جو ایک طرف دیوار کے ساتھ اوپر نیچے رکھ کر جوڑے ھوے تھے اور ایک طرف نیچے قالین بچھا ھوا تھا جہاں بیٹھ کر شاید پیکنگ وغیرہ یا پھر مال نکال کر چیک کیا جاتا تھا ۔۔
    خیر میں ابھی سٹور کا جائزہ ھی لے رھا تھا کہ
    کچھ ھی دیر میں آنٹی واپس سٹور روم میں آگئی ۔



  18. The Following 6 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (08-12-2018), Admin (07-12-2018), irfan1397 (06-12-2018), Lovelymale (07-12-2018), Mirza09518 (07-12-2018), sexliker909 (08-12-2018)

  19. #250
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 176...



    اور آتے ھی بولی سوری وہ کسی کو ضروری کال کرنی تھی ۔
    میں نے ہمممم کیا ۔
    تو آنٹی نے ایک بڑے سے شاپر کو کھولا اور اس میں سے کچھ سوٹ نکال کر کھول کھول مجھے دیکھانے لگ گئی اور میں آنٹی کی پسند اور پرچیزنگ مینیجمنٹ کی تعریفیں کرنے لگا گیا آنٹی ہر سوٹ کو اپنے ساتھ لگا لگا کر دیکھاتی اور میں تعریفوں کے پل باندھتا کہ یہ سوٹ آپ پر بہت جچ رھا ھے آنٹی نے ایک سوٹ نکالا اور اپنے ساتھ گا کر بولی یار یہ کیسا لگ رھا ھے میں نے کہا واووووو آنٹی جی زبردست یہ آپ پہن لو تو جوان لڑکیاں آپ سے جیلس ہونے لگ جائیں سوٹ تھا بھی کمال کا ہلکے پیچ کلر کا سلیو لیس شرٹ اور بلکل شارٹ اور نیچے باریک کپڑے کا ٹراوزر جس پر امبرائڈ کی تھی ۔
    آنٹی بولی پہن کر دیکھاوں ۔۔
    میں نے کہا آنٹی جی کیوں مجھے بےہوش کرنا ھے ۔
    آنٹی مذید پھول گئی اور بولی میں ابھی پہن کر دیکھاتی ہوں اور سوٹ پکڑ کر سٹور روم سے باہر نکلی اور میں بھی اسکے پیچھے ھی باہر نکل آیا ۔
    آنٹی ٹرائی روم میں داخل ہوئی اور دروازہ کھلا ھی چھوڑ دیا
    میرا دماغ اور لن ایک ساتھ فل گرم ھو چکے تھے ۔
    میرا تو بس نہیں چل رھا تھا کہ آنٹی کے پیچھے جی ٹرائی روم میں داخل ھوجاوں اور آنٹی کے سارے کپڑے پھاڑ کر آنٹی کا ریپ کردوں ۔۔
    میں باہر کھڑا ھی امیجینشن کرنے لگ گیا کہ اب آنٹی نے شرٹ اتاری ھوگی تو ایسا جسم ھوگا اب ٹائٹس اتارا ھوگا تو آنٹی کی ٹائٹ گانڈ کیسے باہر کو نکلی ھوگی اس کے ممے بریزیر میں کیسا نظارا پیش کررھے ہوں گے ۔
    میں ابھی ان ھی خیالوں میں گم تھا کہ آنٹی نے دروازے سے سر نکالا اور مجھے آواز دی کہ یاسر ادھر آنا ایک منٹ ۔
    میں نے چونک کر ٹرائی روم کی طرف دیکھا اور میرے قدم خود باخود دروازے کی جانب اٹھنا شروع ھوگئے ۔
    میں جیسے ھی ٹرائی روم میں داخل ہوا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے اٹک گیا۔
    آنٹی نے سوٹ پہنا ھوا تھا اور کمال کی سیکسی لگ رھی تھی ۔
    مجھے یوں منہ کھولے کھڑا دیکھ کر آنٹی نے میری آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلاتے ھوے بولی ہیلو مائی ڈیئر کدھر گم ہو ۔۔
    میں نے چونک کر آنٹی کی طرف دیکھا اور انگلی سے گول دائرہ بنا کر بولا آنٹی جی کمال لگ رہی ہیں سوپر سے بھی اوپر ذبردست ۔
    آنٹی نے نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور گھوم کر پیٹھ میری طرف کرتے ھوے بولی یہ پیچھے سے زپ تو بند کردو میں کھلی زپ کے اندر کا نظارہ دیکھ کر ھی مذید گرم ہوگیا آنٹی کی چٹی سفید گلابی رنگ کی مانند اففففففف اس پر کالے بریزیر کا سٹریپ ھاےےےےےےےے کیا ھی سیکسی سین تھا اس وقت کا وہ نظارا اور میری کیفیت کا حال کیا لکھوں یاروووووو۔۔
    میری تو بس ہوگئی ۔۔۔۔
    برداشت کی۔
    میں نے کانپتے ھاتھ زپ کی طرف بڑھاے اور زپ کی ہک کو پکڑ کر تھوڑا سا اوپر ھی کیا تھا کہ میری انگلی آنٹی کی گوری چٹی نرم ملائم کمر کے ساتھ ٹچ ہوئی ۔۔بس پھر کیا تھا میرے لن نے ایک ذبردست جھٹکا مار کر مجھے ہوشیار کیا اور ساتھ ھی زپ کی ہک اوپر جانے کی بجاے نیچے چلی گئی اور میرے دونوں ھاتھ کھلی زپ کے اندر سے ہوتے ھوے آنٹی کے بڑے بڑے مموں پر چلے گئے اور میرا لن انٹی کی گانڈ کی دراڑ میں چلا گیا اور میرے ھاتھوں کی مٹھیوں نے آنٹی کے فٹ بال جتنے مموں کو اپنی گرفت میں لے کر بھینچ دیا اور آنٹی کے منہ سے بس یہ ھی نکلا ھاےےےےےےے میں مرگئی یاسرررررر یہ کیا کر رھے ھو ۔۔۔
    اففففففدفف دوستو
    آنٹی کی چٹی نرم کمر کے ساتھ جیسے ھی میری انگلی ٹچ ھوئی میرے اندر شہوت کو مذید چنگاری ملی میں نے بے اختیار زپ کی ہک کو اوپر لیجانے کی بجاے نیچے کھینچ دیا اور بڑی پھرتی اور بے صبری سے آنٹی کی کھلی زپ میں دونوں ہاتھ ڈال کر اسکی بغلوں سے گزارتا ھوا آگے لے گیا اور آنٹی کے سڈول مموں کو مٹھیوں میں بھینچ کر پیچھے سے اپنا لن آنٹی کی موٹی اور سڈول باہر کو ابھری ھوئی گانڈ کے ساتھ لگا کر لن کے ٹوپے کو گانڈ کی دراڑ میں گھسیڑ کر پیچھے سے آنٹی کے ساتھ چمٹ گیا اور اپنی ٹھوڑی آنٹی کے کندھے پر رکھ کر آنٹی کی گال کو چومنے لگ گیا۔
    میری اس افراتفری میں گئی حرکت سے آنٹی نے گبھرا کر شرٹ کے اوپر سے ھی میرے ہاتھوں کو پکڑ لیا میرے ہاتھ شرٹ کے اندر بریزیر کے اوپر مموں کو پکڑے ھوے تھے اور آنٹی نے شرٹ کے اوپر سے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر بھینچ لیا اور گبھرائی ہوئی آواز میں ھاےےےےےے میں مرگئی یاسررررر یہ کیا کیا ۔
    اور آگے کو جھک گئی جس سے آنٹی کی گانڈ پیچھے سے باہر کو نکل گئی ۔۔
    میں آنٹی کی گھبراہٹ کو نظر انداز کرتےھوے ۔
    پاگلوں اور ازل سے ترسے ہوے کی طرح آنٹی کی گال اور گردن کو چومتے ھوے اسکے مموں کو بریزیر سے اوپر ھی دباتے ھوے پیچھے سے لن کو آنٹی کی سیکسی اور موٹی گانڈ کے ساتھ چپکاے آنٹی کو والہانہ انداز سے چمٹا ھوا چوم رھا تھا ۔
    آنٹی بولی یاسررر کیا بتمیزی ھے ۔
    شرم کرو چھوڑو مجھے ۔
    مگر میں خاموشی سے بنا کچھ بولے اپنا کام کرتا رھا۔
    آنٹی اپنے مموں سے میرے میرے ہاتھ ہٹانے کی بس ہلکی پھلکی کوشش کررھی تھی اور ساتھ ساتھ نہیں یاسر نہ کرو یاسر پلیززززز چھوڑ دو
    میں تمہاری آنٹی ہوں شرم کرو نہ کرو بس کرو کوئی آجاے گا میں بدنام ھوجاوں گی ۔
    میں ایسی نہیں ھوں وغیرہ وغیرہ ۔
    کہی جارہی تھی جبکہ میرا کام جاری تھا ۔
    کچھ دیر بعد آنٹی کی مزحمت اور زبان بند ھوئی تو میں نے اپنے بازوں کو تھوڑا کھولا اور بریزیر کے کپوں کو مموں سے اوپر کر کے مموں کو بریزیر سے آزاد کر کے ننگے مست سڈول مموں کو مٹھی میں بھرا تو چررررررررر کی آواز کے ساتھ آنٹی کی پیچھے سے زپ والی جگہ سے شرٹ پھٹ گئی اور میرے ہاتھ جو پہلے شرٹ میں پھنسے ھوے تھے اب انکو اپنا کام کرنے کے لیے کافی آسانی مہیا ہوگئی ۔
    آنٹی نے جب شرٹ پھٹنے کی آواز سنی اور ادھر سے اپنے ننگے مموں پر میرے ہاتھوں کا لمس محسوس کیا تو آنٹی نے ڈبل مائنڈڈ ہوکر ہاےےےےے میری شرٹ کے ساتھ ھی سیییییییی کرتے ھوے سسکاری بھر دی ۔
    ایک طرف شرٹ پھٹنے کا دکھ تو دوسری طرف ممے دبوانے کا مزہ
    آخر مزہ دکھ پر بھاری ثابت ھوا
    مزے نے آنٹی کو شرٹ کا دکھ بھلادیا اور آنٹی شرٹ کو بھول کر ممے دبوانے کا انجواے کرتے ھوے سسکاریاں بھرنے لگ گئی اور ساتھ ساتھ شرٹ کے اوپر سے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر دبانے لگ گئی ۔۔
    لوھا گرم ھوچکا تھا آگ دونوں طرف بھڑک چکی تھی ۔
    بس اگلا قدم بڑھانا تھا ۔
    کچھ دیر میں اسی حالت میں ممے دباتے ھوے پیچھے سے لن کو گانڈ کی دراڑ میں مسلتا رھا اور آنٹی مستی بھری سسکاریاں نکالتی رہیں ۔۔
    پھر آنٹی مدہوشی میں بولی یاسررر شرٹ میں میرا سانس بند ھورھا ھے ۔
    میں نے یہ سنتے ھی بازو پیچھے کو کھینچے اور ہاتھ شرٹ سے نکال لیے ۔۔
    اور ساتھ ھی آنٹی کو گھما کر اسکا منہ اپنی طرف کیا اور آگے سے آنٹی کو جپھی ڈال لی اور پھر ہونٹوں میں ہونٹ اور زبانوں کی آپس میں جنگ شروع ھوگئی نیچے سے لن پھدی کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے میں مصروف تھا پیچھے سے میرے ھاتھ آنٹی کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑے مسل رھے تھے اور آنٹی اپنا تجربے کو مدنظر رکھتے ہوے سارے حربے استعمال کررھی تھی آنٹی تو فرنچ کسنگ میں عمران ہاشمی کی بھی استاد ثابت ہوئی اس اس انداز سے وہ کبھی میرے ہونٹوں کو چوستی اور کبھی میری زبان کو اپنے منہ کے اندر کھینچ کر چوستی میں تو حیران رھ گیا


  20. The Following 8 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (08-12-2018), Admin (07-12-2018), irfan1397 (06-12-2018), love 1 (06-12-2018), Lovelymale (07-12-2018), MamonaKhan (08-12-2018), Mirza09518 (07-12-2018), windstorm (06-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •