سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 18 of 32 FirstFirst ... 814151617181920212228 ... LastLast
Results 171 to 180 of 311

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #171
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 133..??


    مجھے پیچھے کمرے سے دھڑام کی آواز آئی جیسے کوئی چیز گری ہو

    گیٹ کی طرف بڑھتا ھوا میرا ہاتھ رک گیا اور میرے دماغ میں مہری آگئی کہ کہیں وہ تو نہیں گری میں الٹے پاوں کمرے کی طرف بھاگا

    اور ٹی وی لاؤنج سے ہوتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو مہری بیڈ سے نیچے قالین پر گری ہوئی تھی اور وہ بیڈ کو پکڑ کر اٹھنے کی کوشش کررھی تھی ۔

    میں بھاگ کر مہری کے پاس پہنچا اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر اٹھانے لگا تو مہری نے اپنے کندھے مجھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوے

    غنودگی کی حالت میں مجھے پھر برا بھلا کہنے لگی میں نے اسکی گالیوں کہ پرواہ نہ کرتے ھوے

    مہری کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑا اور اسکو کھڑا کر کے بیڈ پر بیٹھا دیا ۔

    مہری کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا

    بیڈ کی چادر پر خون کا بڑا سا دھبہ بنا ہوا تھا

    مہری کی پھدی بھی خون سے سرخ ہوچکی تھی اور پھدی سے پاوں تک دونوں ٹانگوں پر خون کی لکیریں بنی ہوئی تھیں ۔

    مہری بیڈ پر بیٹھی تو پھر آگے کو گرنے لگی تو میں نے اسے پکڑ لیا تو مہری میرے کندھے پر سر رکھ کر میرے سینے پر مکے مارتے ھوے مدہوشی میں بولی جارھی تھی اور رو رھی تھی

    یاسررر تم نے ایسا کیوں کیا

    میرے یقین کو کیوں توڑا میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا

    مہری پھوٹ پھوٹ کر رو رھی تھی ۔

    میں مہری کو کندھے سے لگا اسکے بالوں کو سہلاتے ھوے اس سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔

    مہری چپ ہونے کا نام ھی نہیں لے رھی تھی اور مجھے ماری جارھی تھی ۔

    کچھ دیر تک یہ ھی سین چلتا رھا ۔

    میں بھی مہری کے ریلیکس ہونے کا انتظار کرتا رھا۔

    پندرہ بیس منٹ گزر گئے مجھے اسد کے آنے کا بھی ڈر تھا کہ وہ نہ آجاے

    اتنی جلدی تو مہری سے بھی نہیں سنبھلا جانا تھا اور بیڈ کی حالت بھی کچھ ایسی تھی کے کمرے میں داخل ہونے والے کی سیدھی نظر بیڈ پر لگے خون کے بڑے سے دھبے پر جانی تھی ۔

    مہری کچھ دیر رونے اور مجھے پیٹنے کے بعد ریلیکس ھوئی تو میں نے اسے اسکی شلوار پکڑی اور اسکے قدموں میں بیٹھ کر اسکی شلوار مہری کے پاوں میں ڈال کر اوپر اسکے گھٹنوں تک کردی اور مہری کو بازوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تو مہری دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ کر میرے سینے پر سر رکھ کر سہارہ لے کر کھڑی ھوگئی ۔

    میں نے مہری کی شلوار پکڑ کر اوپر کرنے لگا تو

    مہری آہستہ سے بولی

    مجھے واش روم جانا ھے ۔

    میں نے مہری کی شلوار واپس نیچے کر کے اہنے پیر کی مدد سے اسکے پیروں سے نکال دی اور پھر مہری کو مادر زاد ننگی حالت لے کر

    اسی حالت میں ھی سینے سے لگاے مہری کی کمر میں بازو ڈالے

    واش روم کی طرف لے کر چل پڑا

    مہری سے چلنا دشوار تھا وہ ٹانگوں کو کھول کر آہستہ آہستہ قدم بڑھا رھی تھی مہری نے ایک ہاتھ ناف کے نیچے اور پھدی کے اوپر رکھا ھوا تھا

    مہری کی حالت دیکھ کر میں نے اسے کہا کہ میں اٹھا کر لے جاوں تمہیں

    مہری نے نفی میں سر ہلا کر کہا نہیں میں نے ایسے ھی جانا ھے

    مہری بلکل معصوم بچوں کی طرح اپنی بات منوانے کی ضد کررھی تھی

    میں مہری کو لے کر واش روم کے دروازے پر پہنچا اور دروازہ کھول کر اسکے ساتھ اندر جانے لگا تو

    مہری بولی چھوڑ دو مجھے اور جاو میں نے کہا مہری تم پھر گر جاو گی

    مہری بولی

    گرنے دو مجھے

    مرنے دو مجھے

    میرے پاس اب بچا ھی کیا ھے

    میں نے جی کر کیا کرنا ھے ۔

    میں نے مہری کو کہا

    مہری مجھے معاف کردو مجھے نہیں پتہ چلا بس سب کچھ اچانک ھوگیا تھا ۔

    میں ہوں نہ مجھے جو چاھے سزا دے دو میں تمہارا مجرم ہوًں مگر پلیز ایسی بے رخی مت دیکھاو۔

    اور خود کو سنبھالو

    اسد کسی وقت بھی آسکتا ھے ۔
    اگر اس نے تمہاری یہ حالت دیکھ لی تو اسکو کیا جواب دوگی ۔

    مہری بلکل نیم بےہوشی کی حالت میں تھی اور میرے سینے کے ساتھ لگی

    مجھے وقفے وقفے سے مکے ماری جارھی تھی

    میں بھی اسے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع فراہم کررھا تھا ۔

    تاکہ مہری کا سارا غصہ اتر جاے اور اس کی حالت سنبھل جاے ۔

    میں نے مہری کو پکڑ کر واش روم کے اندر لے گیا اور اسے کمپاوڈ کا ڈھکن اٹھا کر اسکے اوپر بیٹھا دیا

    مہری سرخ اور نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رھی تھی

    مہری پھر بولی یاسر جاو باہر

    میں نے نفی میں سر ہلاتے ھوے کہا

    مہری پلیز ایک دفعہ مجھے تسلی ھوجاے کہ تمہاری طبعیت سہی ھوگئی ھے

    تو میں خود ھی چلا جاوں گا مگر

    ابھی میں تمہیں اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جاسکتا

    اتنی دیر میں مہری کی پھدی سے پیشاب کی دھار نکلی تو مہری کے منہ سے ھاےےےےےے سیییییییی کی آواز نکلی اور مہری نے ناف کے نیچے رکھے ھاتھ سے اس جگہ کو دبانے لگ گئی ۔



    مہری کی حالت اور اسکی تکلیف دیکھ کر مجھے اپنے آپ پر غصہ آرھا تھا

    کہ میں واقعی انسان نھی جانور ھی ھوں اگر میں آرام سے کرتا تو مہری کو اتنی تکلیف بھی نہیں ہونی تھی اور

    مہری کی نظروں سے بھی نہیں گرنا تھا ۔

    میں دل ھی دل میں اپنی بےغیرتی کو کوس رھا تھا۔


  2. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

  3. #172
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 134


    مہری نے جیسے تیسے پیشاب کیا اور پھر مسلم شاور کو پکڑ کر پھدی کی طرف کر کے بٹن کو پریس کیا تو شاور سے پانی نکل کر پھدی پر پڑنے لگا
    مہری کو پانی سے بھی جلن ہورھی تھی
    اور اس کے منہ سے اب بھی ھاےےےےے سییییی نکل رھا تھا اور ساتھ میں مجھے بھی نفرت سے دیکھ رھی تھی ۔مہری نے جب پھدی کو واش کرلیا تو اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو میں آگے بڑھا اور مہری کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور شاور کو پکڑا کر مہری کی پھدی کی طرف کر کے دوبارا اسکی پھدی اور ٹانگوں پر لگے خون کو دھونے لگا


    میں نے ہاتھ مہری کی پھدی کی طرف کیا اور پھدی کی دونوں اطراف کی جگہ کو مل مل کر دھونے لگا ایسے ھی اسکی دونوں ٹانگوں کو ہاتھ سے مل کر خون صاف کیا میری نظر جب مہری کی پھدی پر پڑی تو


    پھدی کے ہونٹ کافی سوجے ھوے تھے


    اور ہونٹوں کے شروع میں مجھے ہلکا سا کٹ لگا نظر آیا


    شاید پھدی چھوٹی تھی اور لن زیادہ موٹا تھا تو لن نے مہری کی پھدی کو چیر دیا تھا ۔


    پھدی بیچاری بھی مجھے لعن طعن کررھی تھی ۔


    ٹانگوں کو صاف کرتے وقت مہری میرے ہاتھوں کو جھٹک رھی تھی مگر میِں ڈھیٹ بن کر لگا رھا اور مہری کی پھدی اور ٹانگوں کو اچھی طرح واش کیا اور پھر مہری کو لے کر واش روم سے باہر آگیا


    مہری اب کافی بہتر محسوس کررھی تھی


    مگر وہ اب بھی ٹانگوں کو کھول کر ھی چل رھی تھی ۔


    کمرے میں آکر میں نے مہری کو بیڈ پر جیسے ھی بٹھایا
    ..تو مہری پیچھے کو گرتی بیڈ پر لیٹ گئی ۔ اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر پھر رونے لگ گئی
    مہری کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکی ہوئی تھیں
    ]اور باقی سارا جسم بیڈ پر ڈھیر تھا ۔
    میں نے مہری کو بازو سے پکڑ کر ہلایا
    اور بولا مہری یار اب بس بھی کرو
    اور کپڑے پہن لو
    اسد کسی وقت بھی آسکتا
    ھے
    مہری منہ سے ہاتھ ہٹا کر غصے سے چیختے ھوے بولی
    مجھے نہیں پہننے کپڑے آنے دو جسے بھی آنا ھے ۔
    میں نیچے جھکا اور کارپٹ پر پڑی مہری کی شلوار کو اٹھا کر اسکے قدموں میں بیٹھ گیا اور
    شلوار کو مہری پاوں سے گزار کر اسکی پھدی کے قریب کر دی
    مہری نے تھوڑی بہت مزاحمت کی تھی مگر میں نے ذبردستی اسے شلوار پہنا کر ھی دم لیا ۔
    شلوار اوپر کرنے کے بعد میں نے مہری کی دونوں کلائیوں کو پکڑا اور اسکو اوپر کھینچا تو مہری نا چاہتے ھوے بھی اٹھ کر بیٹھ گئی
    میں نے مہری کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور شلوار اسکی گانڈ سے اوپر کر کے پھر پھدی سے بھی اوپر کردی ۔
    شلوار پہنتے ھی مہری پھر بیڈ پر بیٹھ گئی تو میں نے ہاتھ لمبا کر کے مہری کی بریزیر
    .پکڑی اور بیڈ پر چڑھ کر مہری کی کمر کے پیچھے بیٹھ گیا
    اور بریزیر کو آگے لیجاکر مہری کے دونوں بازوں میں سے بریزیر کے اسٹرپ گزارے اور بریزیر کو
    []اسکے کندھوں تک لے آیا۔
    پھر اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور مموں کے اوپر آے ھوے بریزیر کے کپ کو پکڑ کر مموں کے اوپر کیا
    جیسے ھی مہری کے مموں کو میرا ہاتھ چھوا میرے اندر پھر شہوت کے کیڑے نے جھر جھری لی
    اور میں نے مہری کے دونوں مموں کو اپنی مٹھیوں میں بھر کر دبا دیا ۔
    مہری کے منہ سے سییییییییی نکلی اور مہری نے بازو پیچھے کر کے میرے پیٹ میں کہنی مارتے ھوے کہا۔
    اب کوئی کسر رھتی ھے جو پوری کرنی ھے
    اور پھر مہری نے مموں کو پکڑے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے گلے کے ساتھ لگا کر دباتے ھوے کہا
    ویسے ھی میرا گلا دبا دو
    مار دو مجھے اپنے ھاتھ سے ھی مار دو۔
    اور ساتھ ھی مہری نے پھر اونچی آواز میں رونا شروع کردیا۔
    میں نے جلدی سے اس سے اپنے ہاتھ چھڑواے اور پیچھے سے سٹریپ کی ہک بند کرتے ھوے
    اسکے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر اسکے کان میں دھیرے سے بولا
    مہری میں کیا کروں تم چیز ھی ایسی ھو
    تمہارا ایک ایک انگ مجھے بہکنے پر مجبور کردیتا ھے ۔
    قصور میرا نھی تمہارے اس مخملی بدن کا ھے
    تم سر سے پاوں تک آب حیات ہو
    جس کو پی کر میں ہمیشہ کے لیے امر ھونا چاہتا تھا
    مہری نے میری بات سنتے ھی مجھےپیچھے کو دھکا دیا اور آگے سے اپنے بریزیر کو سیٹ کرتی ھوئی کھڑی ہوئی اور پلٹ کر مجھے غصے سے دیکھتے ھوے بولی
    تم ہوس کو پیار کا نام دیتے ھو
    تم ایک ہوس کے پجاری ھو
    اور تمہاری انہیں باتوں میں آکر میں اپنی عزت گنوا بیٹھی ھوں ۔
    یاسرررردد اگر تم اپنی خیریت چاھتے ھو تو ابھی کہ ابھی دفعہ ھوجاو یہاں سے
    اور آج کے بعد مجھے شکل مت دیکھانا
    تم نے میرے اعتبار کو توڑا ھے
    میرے جزبات سے کھیلے ھو تم
    میں نے کہا مہرررر
    ابھی میرے منہ میں اتنا ھی لفظ نکلا تھا کہ مہری
    پھر چنگاڑ کر بولی
    شٹ اپ
    اور دروازے کی طرف انگلی کرتے ھوے ۔
    بولی ۔گیٹ لاس فرام مائی ہاوس



  4. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (09-12-2018)

  5. #173
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 135..??



    میں بھی کب سے اس کی بکواس سن رھا تھا
    اور اسکو برداشت کررھا تھا
    مہری سے انگریزی بےعزتی کرواتے ھی میں چھلانگ مار کر غصے سے بیڈ سے نیچے اترا اور اپنا جوتا پہن کر کمرے کے دروازے کے پاس پہنچ کر
    گردن گھما کر مہری کی طرف دیکھا جو میری ھی طرف دیکھ رھی تھی
    میں نے مہری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں

    نظروں سے نظریں ملیں


    دونوں کی نظروں میں غصہ تھا


    آگ تھی


    قہر تھا


    میں دھاڑتے ھوے گرجا


    اور رعب دار آواز نکالتے ھوے


    مہری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔





    مہریییییییییی


    مہری میری گرجدار آوا ز سن کر سہم گئی


    اور ایکدم اسکے چہرے پر غصے کی بجاے ڈر جھلکنے لگ گیا۔


    میں پھر غصہ سے دھاڑا


    مہرییییی میں جارھا ہوں اور میری بات کان کھول کر سن لو کہ
    یاد سے بیڈ کی چادر بدل لینا یہ نہ ھو کہ تمہاری امی یا اسد آکر کمرے کا نظارہ دیکھ لیں ۔۔۔
    میں غصے میں بھی مہری کو مذاق کر کے باہر کی طرف چل دیا مہری میری بات سن کر دانت بھینچ کر رھ گئی ۔
    میں گیٹ کے پاس پہنچا اور گیٹ کھول کر باہر جھانکا تو گلی میں بچوں کو کھیلتے دیکھ کر میں باہر نکلا اور بازار کی طرف چل دیا ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔
    گھر پہنچ کر نہا دھو کر فریش ھوا
    اور باہر نکل گیا کچھ دیر گلی کے دوستوں کے ساتھ گپیں مارنے کے بعد واپس گھر آگیا
    اگلے دن دکان پر بھی کچھ خاص نہ ہوا
    عظمی اور نسرین کو سکول سے چھٹیاں تھیں اور صدف کو ویسے ھی میں ساتھ نہیں لے کر جاتا تھا ۔
    اس لیے مجھے اکیلے ھی جانا پڑتا
    تقریباََ ایک ہفتہ ایسے ھی گزر گیا
    ضوفی بھی ان دنوں میں دوبارا دکان پر نہیں آئی اور نہ ھی مجھے اسکا سامنا کرنے کی ہمت ہوئی ۔
    ہفتہ پورا ھی میرا کام میں مصروفیت کی وجہ سے بغیر پھدی کے ھی گزر گیا ۔
    ایک دن شام کو انکل سجاد نے مجھے بتایا کہ یاسر بیٹا کل
    میں نے مال لینے لاہور جانا ھے اور تم دکان پر ذرہ ہوشیار رہنا اور توجہ سے دکان داری کرنا
    میں نے کہا جی انکل آپ بےفکر ہوکر جانا میں سنبھال لوں گا ۔
    دوسرے دن میں انکل سجاد کے گھر گیا تو انکل سجاد مجھ سے پہلے ھی چلے گئے تھے اور دکان کی چابیاں گھر ھی دے گئے تھے میں نے گھر سے چابیاں لیں اور دکان پر چلا گیا
    دکان پر پہنچا تو انکل کی موٹر سائکل دکان کے باہر ھی کھڑی تھی میں نے دکان کے شٹر کھولے اور دکان کی صفائی کرنے لگ گیا کچھ دیر بعد ساتھ والی دکان کا لڑکا مجھے موٹرسائیکل کی چابی دے گیا اور ساتھ میں انکل کا میسج بھی دے دیا کہ موٹر سائیکل یاسر کو کہنا موٹر سائکل کو لے کر کہیں جاے نہ ھی کسی اور کے دے
    میں نے اچھا کہہ کر اس سے چابی لی اور دراز میں رکھ دی ۔
    کچھ دیر بعد جنید آگیا
    مگر دوسرا لڑکا شاہد ابھی تک نھی آیا تھا
    جنید نے آتے ھی انکل کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ انکل تو لاہور مال لینے گئے ہیں ۔
    جنید نے حیران ھوتے ھوے کہا
    کل انکل نے تو ہمیں بتایا ھی نہیں ۔
    میں نے کہا شاید انکا اچانک پروگرام بنا ھو ۔
    ایسے ھی ھم باتیں کرتے رھے
    کسٹمرز کی بھی آمد شروع ھوگئی
    شاہد دکان پر نھی آیا ۔
    اسنے شاید چھٹی کرلی تھی ۔
    مجھے اسپر غصہ بھی بہت چڑھا کہ
    انکل بھی دکان پر نہیں ھیں اور یہ سالا بھی چھٹی کرکے بیٹھ گیا ھے ۔
    دوپہر کا وقت ہوا تو جنید کھانا لینے چلا گیا اور میں دکان کے فرنٹ پر بیٹھ گیا ۔
    کچھ ھی دیر گزری تھی کہ فرحت برقعہ پہنے اپنی امی کے ساتھ دکان میں داخل ہوئی اور بڑی شوخی سے مجھے سلام کیا اور دکان کے سینٹر میں ھی بیٹھ گئی ۔
    فرحت کی امی کافی ضعیف العمر خاتون تھی
    جس عمر کی سٹیج پر فرحت کی امی تھی اس عمر میں نظر بھی کافی کمزور ھوجاتی ہے
    اس لیے فرحت اپنی امی کا ہاتھ پکڑے ھوے چلتی تھی ۔
    بینچ پر بیٹھتے ھوے فرحت بڑی شوخ نظروں سے مجھے دیکھ کر بولی
    یاسر کوئی نئی ورائٹی آئی ھے دکان پر تو دیکھا دو۔
    میں بھی ان کے پاس پہنچ چکا تھا اور
    انکا حال احوال پوچھنے کے بعد ۔
    فرحت کو بولا آپ آگے آجائیں تو بہتر ھے ساری ڈزائنگ آگے پڑی ھے ۔
    فرحت اپنی امی کو ادھر ھی بیٹھے رھنے کا کہہ کر دکان کے آخر میں چلی گئی ۔
    اور بینچ پر بیٹھتے ھوے آہستہ سے بولی
    آج کل کدھر مصروف رہتے ھو ۔
    کبھی چکر ھی نھی لگایا ۔
    میں نے کہا بس دکان پر کام کا ذور ھے اس لیے رات کو
    بھی لیٹ ھی جاتا ھوں اس لیے تھکا ھوتا ھوں تو ٹائم نھی ملا
    اور آپ نے بھی تو دوبارا رابطہ نہیں کیا۔
    فرحت بولی
    جناب میں اسی لیے آج سپیشل آئی ہوں کہ نواب ساب کو یاد کروا دوں کہ ہم بھی تمہاری راہ دیکھنے والوں میں سے ہیں ۔
    فرحت نے یہ بات بڑی دومعنی انداز سے کی تھی ۔
    میں نے چونک کر فرحت کی طرف دیکھا
    اور کہا
    دیکھنے والوں کا کیا مطلب ۔
    فرحت ہنس کر بولی کچھ نہیں ۔
    میں نے تو ویسے ھی کہا ھے
    تم تو ایسے چونکے ھو جیسے
    واقعی کوئی بات ھے ۔
    میں نے الماری سے سوٹ نکال کر فرحت کے اگے کھولتے ھوے کہا
    جناب میں تو آپ کے اشارے کا منتظر تھا
    مگر آپ کو تو اشارا کرنے کی بھی فرصت نہی تھی ۔
    فرحت بولی ۔
    لو پھر میں اشارہ کرنے ھی آئی ھوں کہ اگر وقت ملے تو آج رات کو حسین بنانے کے لیے میں نے یہ سنتے ھی ہاتھ میں پکڑے ہوے سوٹ کو اس انداز میں کھول کر فرحت کے چہرے کی طرف پھینکا کے سوٹ کا کنارہ جا کر فرحت کے منہ پر لگا اور فرحت کا نقاب آدھا اتر کر اسکے ہونٹوں تک آگیا
    فرحت اپنی امی کی طرف دیکھتے ھوے آہستہ سے بولی
    ذیادہ شوخا نہ بن امی بیٹھی ہوئی ہین۔

    میں نے فرحت کی امی کی طرف دیکھا جو باہر کی طرف دھیان کر کے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے کی ناکام کوشش کررھی تھی ۔
    میں نے کہا
    شوخا تو آج رات کو بنوں گا
    جب تمہاری ٹانگیں چھت کی طرف کیں ۔

    فرحت شرماتے ھوے اپنا نقاب صحیح کرتے ھوے بولی ۔
    شرم کر بےشرما۔
    اور ساتھ ھی سوٹ کو پکڑ کر دیکھنے لگ گئی ۔
    اور پھر بولی
    یاسر کوئی اور اچھا سا ڈزائن دیکھاو
    میں نے فرحت کی طرف شرارتی انداز میں دیکھتے ھوے اپنی قمیض آگے سے اٹھا کر نیم کھڑے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر فرحت کی طرف کرتے ھوے کہا
    یہ ڈیزائن کیسا ھے ۔
    فرحت شرمندہ سی ہوکر میری طرف مکا لہراتے ہوے میری طرف دیکھتے ھوے بولی
    تمہارے اس ڈیزائن کی رات کو ایسی کی تیسی کروں گی بےشرم انسان جگہ تو دیکھ لیا کرو۔
    میں نے ٹرائی روم کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا
    جگہ بھی دستیاب ھے اگر موڈ ھے تو ادھر ھی ایک شارٹ سا میچ ھوجاے۔
    فرحت نے ٹرائی روم کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں میں چمک سی آئی اور
    میری طرف دیکھتے ھوے مصنوعی غصے سے بولی
    میرا مرنے کا ارادہ نہیں۔
    میں نے آہستہ سے کہا
    یقین کرو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا بس تھوڑی دیر کے لیے جلدی جلدی کرلیں گے ۔
    فرحت کی آنکھیں بتا رھی تھی کہ وہ بھی اندر سے راضی تھی بس اوپر اوپر سے مشرقی خاتون بننے کی ایکٹنگ کررھی ھے۔
    فرحت نفی میں سر ہلاتے ھوے بولی امی بیٹھی ہین۔

    میں نے جب فرحت کی رضامندی اور بناوٹی انکار کو دیکھا تو ۔
    میں نے تھوڑا سیریس ھوتے ھوے کہا ۔
    یار کچھ نہیں ھوتا بس دو منٹ لگنے ہیں
    آج انکل بھی نھی ہین اور لڑکے بھی چھٹی پر ہین ۔

    فرحت بولی نہ بابا نہ مجھے ڈر لگتا ھے تم رات کو ھی آجانا ۔
    میں نے کہا یار رات کو بھی کرلین گے
    ابھی بس تھوڑا سا کرنا ھے ۔
    میں نے لن کو پکڑتے ھوے اسے دیکھاتے ھوے کہا یہ دیکھو تمہیں دیکھ کر ھی بےچین ھوگیا ھے
    فرحت بے چین سی ہوکر ادھر ادھر دیکھتے ھوے بولی
    نہیں یاسر مجھے ڈر لگ رھا ھے ۔
    میں نے کہا
    تم اپنی امی کو بہانہ لگاو کہ میں سوٹ پہن کر چیک کرلوں کہ فٹنگ سہی ھے کہ نہیں۔
    تو تم اندر چلی جانا اور موقع دیکھ کر میں بھی اندر آجاوں گا۔
    یقین کرو کسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونی ۔
    فرحت کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی یاسر کہیں پھنسوا نہ دینا ۔
    میں نے کہا یار اگر کوئی ٹینشن والی بات ھوتی تو میں نے تمہیں کہنا ۔
    ھی نہیں تھا۔
    اسلیے بے فکر رھو اور مجھ پر بھروسہ رکھو ۔






  6. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

  7. #174
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 136..???


    فرحت کچھ دیر بیٹھی مذید سوچتی رھی اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر انگلیوں کو آپس میں مسلتی رھی
    میں نے اسے ششوپن پڑا دیکھ کر کہا
    یار اٹھو اور یہ لو سوٹ اور اپنی کو بہانا بنا کر اندر چلی جاو
    فرحت نے میرے ھاتھ سے سوٹ پکڑا اور اٹھ کر اپنی گانڈ میں پھنسا ہوا برقعہ نکالتے ھوے
    اپنی امی کی طرف جانے لگی ۔
    میری بے چینی مذید بڑھتی جارہی تھی اور میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارھا تھا کتنے دنوں سے پھدی کی شکل بھی نھی دیکھی تھی تو منی لن کے ٹوپے پر اٹکی ہوئی تھی
    میرا لن مجھ سے بھی ذیادہ جلدی میں تھا ۔
    فرحت اپنی امی کو سوٹ دیکھاتے ھوے اس کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کررھی تھی اور اسکی امی سوٹ کو آنکھوں کے قریب کرکے سوٹ کو پسند کرنے کی کوشش کررھی تھی ۔
    کچھ دیر بعد فرحت نے اپنی امی سے سوٹ پکڑا اور اٹھ کر میری آنکھوں نشیلے انداز سے دیکھتی ھوئی میرے پاس سے گزرتے ھوے مجھے مکا دیکھاتے ھوے ٹرائی روم میں چلی گئی اور میں باہر کی طرف دیکھ کر اٹھنے ھی لگا تھا کہ
    جنید شیطان کی طرح ٹپک پڑا اور کھانا ہاتھ میں پکڑے سیٹی بجاتا دکان میں داخل ہونے لگا
    جنید کو دیکھتے ھی مجھے پھدی ھاتھ سے جاتے نظر آنے لگ گئی ۔
    مگر منی میرے دماغ پر سوار تھی
    میں نے جلدی میں ایک پلان سوچا اور اٹھ کر جنید کے پاس چلا گیا
    اور اسکو آہستہ اے بولا
    یار ٹرائی روم میں ایک پوپٹ آنٹی سوٹ پہن کر چیک کرنے گئی ھے اور وہ میرے ساتھ کافی فری بھی ھورھی تھی
    میرا تو دل کررھا ھے کہ اس کے پیچھے ھی اندر جاکر اس کو جپھی ڈال لوں ۔
    جنید حیرانگی سے کبھی میری طرف دیکھتا تو کبھی ٹرائی روم کی طرف تو کبھی اماں کی طرف ۔
    میں نے اسے یوں سکتے کے عالم میں دیکھا تو اسکو کندھے سے ہلاتےھوے کہا ۔
    ماما توں کیڑیاں سوچاں وچ پے گیا ایں ۔
    میں کی کیا اے۔

    جنید ہڑبڑا کر بولا
    دیکھنا یار اپنے ساتھ ساتھ مجھے پھنسوا نہ دینا
    میں نے کہا یار تو بےفکر ھوجا
    اس آنٹی نے مجھے فل لفٹ کروائی ھے
    تم بس دکان کو سبھالنا اور اس اماں کو باتوں میں لگاے رکھنا اسکی ویسے بھی نظر کمزور ھے
    میں بس گیا اور آ یا
    اس سے پہلے کہ جنید کچھ کہتا میں اسکا کندھا تھپتھپا کر ٹرائی روم کی طرف چل دیا
    اور دروازے کے پاس پہنچ کر میں نے ہلکا سا درواز اندر کو پش کیا تو
    فرحت ہاتھ میں سوٹ پکڑے دیوار کے ساتھ لگی بڑی بےچین نظروں سے دروازے کی طرف دیکھ رھی تھی ۔
    میں اندر گیا اور دروازے کو لاک کیا اور
    جاتے ھی فرحت کے ھاتھ سے سوٹ پکڑ کر نیچے پھینکا اور اسکے دونوں ممے مٹھیوں میں بھر لیے
    فرحت نے سییییییی کر کے اپنے دونوں ھاتھ مموں پر رکھے میرے ھاتھوں پر رکھ دیے ۔
    اور بولی
    سیییییییی یاسر آرام سے
    میں نے دو تین دفعہ مموں کو دبایا اور پھر فرحت کا برقعہ پکڑ کر اتارنے لگا ۔
    فرحت برقعہ اتارتے ھوے بولی
    اگر کوئی کسٹمر آگیا تو ۔۔

    میں نے کہا نہیں آتا اگر آیا بھی تو چلا جاے گا ۔
    فرحت نے برقعہ اتار کر ایک طرف رکھا اور میں نے فرحت کو جپھی ڈال کر اسکے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا
    کچھ دیر ہونٹ چوسنے کے بعد میں نے فرحت کے آگے سے قمیض اوپر کرنے لگ گیا اور قمیض کو مموں سے اوپر کر دیا فرحت نے سکن کلر کی بریزیر پہنی ھوئی تھی میں نے بریزیر کو بھی پکڑ کر مموں کو آزاد کر دیا
    فرحت کے چٹے سفید بڑے بڑے ممے میرے سامنے بلکل ننگے تھے میں تھوڑا سا جھکا اور دونوں مموں کو
    ہاتھوں میں پکڑ کر چوسنے لگ گیا میں باری باری دونوں مموں کو منہ بھرتا تو کبھی اکڑے ھوے براون نپلوں کو ہونٹوں میں لے کر چوستا
    فرحت سسکاریاں مار کر میرے بالوں کو سہلانے میں مصروف تھی ۔
    کچھ دیر میں ایسے ھی مموں کو چوستا رھا
    میرا لن فل اکڑا ھوا تھا
    اور پھدی میں جانے کے لیے بےچین تھا ۔
    میں نے مموں کو چھوڑا اور فرحت کو گھما کر اسکا منہ دیوار کی طرف کیا
    اور پیچھے سے اسکی قمیض گانڈ سے اوپر کر کے اسکے لاسٹک والی شلوار کو کھینچ کر نیچے کیا تو فرحت نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا میں میں اسکی نظروں کا مطلب سمجھے بغیر نیچے جھکا اور اسکی بُنڈ کی دونوں پھاڑیوں کو باری باری چومنے لگا اور پھر کھڑا ھو کر جلدی سے اپنی شلوار کا نالا کھولا تو میری شلوار میری پیروں میں گر گئی
    میں نے لن کو ھاتھ میں پکڑ کر جیسے ھی فرحت کی گانڈ کی دراڑ میں ڈالا فرحت نے گانڈ کو بھینچ کر میرے لن کو راستے میں ھی روک کر آگے کو ھوئی اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی کیا کرنے لگے ہو۔
    میں نے کہا سیدھی تو ہو جاو اندر ھی کرنے لگا ہوں۔

    فرحت بولی پیچھے سے نھی کرنا ۔
    میں نے کہا نھی یار آگے سے ھی کروں گا
    تم سیدھی تو ھو جاو
    فرحت پھر دیوار کی طرف منہ کر کے گانڈ میری طرف کر کے کھڑی ھوگئی ۔
    میں تھوڑا سا پیچھے ھوا اور فرحت کی گانڈ کو پکڑ کر پیچھے کیا تو فرحت آگے کو جھک گئی اور اسکی گانڈ پیچھے کو ھوگئی
    میں نے لن کو ھاتھ میں پکڑا اور اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا فولڈ کر کے نیچے ھوا اور سر نیچے کر کے ہاتھ فرحت کی پھدی پر رکھ کر پھدی کو دیکھنے لگ گیا
    پھدی پانی سے گیلی ھوچکی تھی
    میں نے لن کے ٹوپے کو پھدی کے قریب کر کے فرحت کے پیچھے سے ھی ٹوپا پھدی پر رگڑنے لگا
    فرحت سسکاری مار کر اور جھک گئی اور دونوں ھاتھ دیوار پر رکھ کر گانڈ پیچھے کو نکال کر کھڑی ھوگئی
    مذید جھکنے سے فرحت کی گانڈ مین سے پھدی نظر آنے لگ گئی
    میں نے لن کو جڑ سے پکڑ کر پھدی کے پانی سے ٹوپے کو اچھی طرح گیلا کیا
    اور ٹوپا پھدی پر سیٹ کر کے
    دونوں ھاتھوں سے
    فرحت کی گانڈ کے اوپر سے کمر کو پکڑ لیا
    اور ہلکا سا دھکا مار کر لن اندر کیا تو پھدی کے گیلے ھونے کی وجہ سا لن کافی اندر چلا گیا
    فرحت نے ایک ہاتھ پیچھے کرتے ھوے میرے پیٹ پر رکھ کر ھاےےےےے کیا اور بولی
    ہولیییی یاسرررر۔
    میں نے لن کو واپس کھینچا
    اور دوسری دفعہ فرحت کی کمر کو پکڑ کر پورے زور سے گھسا مار کر لن کو پھدی کی گہرائی میں پہنچا دیا ۔
    فرحت نے ہاےےے مرگئی
    اففففففف سییییییی کیا اور گردن گھما کر غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    آرام نال نئی ہندا
    جانور جیا۔
    میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھتے ھوے لن کو واپس کھینچا اور پھر دوسری دفعہ بھی ویسے ھی سپیڈ سے لن اندر کردیا فرحت کے منہ سے پھر آہہہہہہہہہہہ مرگئی نکلا۔
    اور ھاےےےےے کرتی بولی
    توں باز نئی آنا۔۔


    میں نے اسکی بات کو سنی ان سنی کرتے ھوے
    فرحت کی کمر کو پکڑ کر گھسے مارنے شروع کردئیے فرحت ھاےےےء ہمممم سییییی ہولی ہولی ہولی کرتی رھی
    میرے گھسوں کی سپیڈ تیز ھوتی گئی
    فرحت کے ممے اچھل اچھل کر اسکے منہ کی طرف جارھے رھے
    اسکی گانڈ کے ساتھ جب میری رانیں ٹکراتی تو فرحت کی گانڈ چھلک چھلک جاتی
    کچھ دیر مذید گھسے مارے تو فرحت کی پھدی نے منی اگلنا شروع کردی اور فرحت نے لمبے سانس لیتے ھوے گانڈ میری رانوں کے ساتھ چپکا کر لن پورا اندر لے لیا اور پھدی سے لن کو جکڑنے لگی ۔
    کچھ دیر بعد میں نے پھر گھسے
    مارنے شروع کردیے اور پھدی کی گرمی اور میرے اندر کی گرمی نے مجھے ذیادہ دیر ٹکنے نہیں دیا اور میرے آخری جھٹکوں نے فرحت کا پورا جسم ہلا کر رکھ دیا اور روم میں کچھ دیر تھپ تھپ تھپ کی آوازیں اور فرحت کی آہیں گونجیں اور میرے لن نے فرحت کی پھدی کے اندر ھی اپنا سارا غبار نکال دیا اور میں فرحت کی کمر کو پکڑے ھوے فرحت کی گانڈ کے ساتھ جڑ کر اسکے اوپر ھی اوندھا لیٹ گیا اور اس کی کمر کو چومنے لگ گیا ۔

  8. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

  9. #175
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 137..???



    کچھ دیر میں فرحت کے اوپر ایسے ھی جپھی ڈالے لیٹا رھا میرا لن سکڑ کر خود ھی پھدی سے باہر آگیا اور میں بھی فرحت کے اوپر سے ہٹ کر سیدھا ھوگیا
    فرحت جب سیدھی ہوئی تو اسکی پھدی سے میری منی پانی بن کر بہنے لگی اور اسکی رانوں سے لے کر پاوں تک منی کی لکیر بن گئی فرحت نے مجھے گھورتے ھوے کہا یاسر تم بڑے ظالم ھو
    میں نے ہنستے ھوے اپنی شلوار اوپر کر کے نالا باندھتے ھو ے کہا
    سیکس میں ظالم نہ بنو تو پاٹنر کو مزہ ھی نہی آتا فرحت بھی اپنی شلوار اوپر کرچکی تھی اور کپڑے درست کرتی ہوئی بولی مجھے ایسا مزہ نھی چاہیے
    میں اگے بڑھ کر فرحت کے ہونٹ چوم کر بولا
    تو میری جان کو کیسا مزہ چاہیے۔
    فرحت میری ناک پر انگلی رکھ کر مجھے پیچھے کرتے ھوے بولی رات کو آو گے نہ تو بتاوں گی کہ مجھے کیسا مزہ چاھیے ۔
    میں نے ایک بار پھر فرحت کے ہونٹوں پر کس کی اور بولا اچھا دیکھ لیں گے جب وقت آیا
    ابھی میں باہر جا رھا ہوں جب میں دروازہ ناک کروں تو تم باہر آجانا
    فرحت نے اثبات میں سر ہلایا اور میں نے دروازہ کھولا اور باہر آگیا
    باہر نکلا تو جنید ایک کسٹمر کو سوٹ دیکھا رھا تھا اور مجھے باہر نکلتا دیکھ کر جنید نیچے سر کر کے ہنسنے لگ گیا ۔
    میں نے اہنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کر فرشی کاونٹر پر چڑھ کر چلتا ھوا جنید کے پاس گیا تو جنید آہستہ سے مسکراتے ھوے بولا
    بن گیا کام
    میں نے کہا ہممممم
    جنید بولا
    اب میں جاوں اندر
    میں نے کہا ابھی نہیں
    پہلے مجھے اچھی طرح اس سے سیٹنگ کر لینے دو پھر تیرے لیے بھی اسکو راضی کرلوں گا
    پھر مین نے کہا جلدی سے اس کسٹمر کو بشیر حسین کر دے ۔


    دوستو ہماری یہ زبان ھوتی تھی کہ جس کسٹمر کو بھگانا ھو یا سوٹ نہ دیکھانے ھوں تو ہم آپس میں کہتے تھے کہ یہ
    ہوکا پارو ھے اسکو بشیر حسین کردو
    یا لیکاں کردو
    اور جو اچھا کسٹمر ھوتا تھا یا خوبصورت بچی ھوتی تھی تو اسے دیکھ کر کہتے تھے کہ اسکو چوکس کرو یا چوکس بچی ھے ۔

    یہ ہمارے کوڈ ورڈ ہوتے تھے ۔

    خیر
    جنید نے جلدی ہی کسٹمر کو بشیر کر دیا
    اور میں نے فرحت کی امی کی طرف دیکھا تو وہ بیچاری بیٹھی بیٹھی سوگئی تھی اور پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کئےبیٹھی اونگ رھی تھی ۔
    میں نے جنید کو کہا تم ذرہ سائڈ پر ھو جاو آنٹی کو اندر سے نکلنے دو پھر اجانا ایسے وہ ڈرجاے گی کہ تمہیں سب کچھ پتہ ھے
    اور یہ نہ ہو کہ وہ مجھ سے متنفر ہوجاے ۔
    جنید سر ہلاتا ھوا دکان سے نکل گیا
    تو میں جلدی سے دروازے کے پاس پہنچا اور دروازے کو ناک کر کے جلدی سے اپنی جگہ پر بیٹھ کر سوٹ طے کرنے لگ گیا۔
    کچھ دیر بعد ھی فرحت برقعہ پہنے اور نقاب کیے سوٹ ہاتھ میں پکڑے باہر آگئی ۔
    اور آکر سیدھی اپنی امی کے پاس گئی اور اپنی امی کو کندھے سے ہلاتے ھوے اٹھاتے ھوے بولی
    امی آپ سو گئی ھو
    تو اسکی امی نے آنکھیں کھولتےھوے کہا
    پتر مینوں پتہ ای نئی لگیا کیڑے ٹیم میری اکھ لگ گئی
    فرحت نے اپنی امی کو بتایا کہ کوئی سوٹ اسے فٹ نھی آیا اور ڈزائنگ بھی اچھی نھی لگی
    فرحت اپنی امی کو لے کر مجھے رات کو آنے کا اشارہ کرکے چلی گئی
    دکان سے نکلتے وقت ھی جنید بھی آگیا اور اس نے فرحت کو بڑے غور سے دیکھا اور میری طرف انگلی اور انگوٹھے سے گول دائرہ بنا کر اشارہ کیا کہ بڑا پوپٹ مال ھے۔
    فرحت چلی گئی اور جنید شروع ہوگیا کہ یار آنٹی تو بڑی ذبردست ھے
    کیسے پھنسا لی
    اور اندر جاکر کیا کیا کرتے رھو ھو میں نے جنید کو مختصرا بتایا کہ بس
    اس کے ممے دباے اور کسنگ کی
    اصل بات میں حزف کرگیا ۔
    جنید نے بڑی کوشش کی مگر میں نے اسکو منگڑت کہانی سنا کر مطمئن کر دیا اور کہا کہ اگلی دفعہ اسکی پھدی مارنے کی کوشش کروں گا ۔
    شام تک ہم وقفے وقفے سے فرحت کو لے کر باتیں کرتے رھے اور پھر سات بجے انکل بھی آگئے اور میں انکل کے ساتھ ھی دکان بند کرکے گھر آیا
    گھر آکر نہا دھو کر فریش ھوا اور کھانا وغیرہ کھا کر میں کچھ دیر باہر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتا رھا تقریباََ 9 بجے میں گھر آیا تو سب گھر والے سو رھے تھے
    اور صرف بھائی کمرے میں جاگ رھے تھے
    میں کمرے سے ہوتا ھوا بیٹھک میں جانے لگا تو بھائی نے مجھے آواز دی کہ آجا میرے پاس بھی بیٹھ جایا کر یار
    میں مجبوراً بھائی کے پاس بیٹھ گیا
    اور ایک دوسرے کے کاروبار کے متعلق باتیں شروع کردیں
    ایک گھنٹہ ہم ایسے ھی باتیں کرتے رھے ۔
    تو بھائی نے کہا چنگا یار توں وی سو جا کل دکان تے جانا اے تے مینوں وی نیندر آرئی اے
    میں نے شکر ادا کیا کہ ٹیم نال ای ویرے نوں نیندر آگئی اور
    بیٹھک میں چلا گیا اور بھائی کے خراٹوں کا انتظار کرنے لگ گیا ۔
    دس پندرہ منٹ ھی گزرے تھے کہ
    کمرا بھائی کے خراٹوں سے گونجنے لگ گیا ۔
    میں اٹھا اور ایک دفعہ پھر کمرے اور صحن کا چکر لگا تسلی کر کے واپس بیٹھک میں آگیا کہ کوئی جاگ تو نہیں رھا مگر سب ھی
    گہری نیند سے ھوے تھے
    میں نے مزید کچھ دیر اور انتظار کیا اور پھر کمرے کی طرف والے دروازے کو اندر سے کنڈی لگائی اور
    تالا اٹھایا جو میں نے ایک خفیہ جگہ پر چھپا کر رکھا تھا
    اور چپکے سے باہر کا دروازہ کھولا اور گلی میں سر نکال کر دیکھا تو گلی میں گھپ اندھیرا تھا دوررر سے پہرے دار کی وقفے وقفے سے آواز آرھی تھی
    جاگدے رووووو
    میں نے باہر نکل کر بیٹھک کو باہر سے کنڈی لگا کر فرحت کے گھر کا رخ کیا
    ہر طرف ہو کا عالم تھا
    میں ڈرتا ہوا چلا جارھا تھا
    کہ کہیں کسی پہرے دار سے میرا ٹاکرا نہ ہوجاے
    کچھ دیر چلنے کے بعد میں فرحت کی گلی میں داخل ہوا
    اتو گلی میں بھی کافی اندھیرا تھا
    مجھے چلتے چلتے ایسے لگتا جیسے میرے پیچھے کوئی آرھا ھے
    اور میں ایکدم پیچھے گھوم کر دیکھتا تو کسی کو بھی نہ پاتا
    بس میرا وہم مجھے ڈراے جارھا تھا ۔
    مشکل سے میں فرحت کے گھر کے پاس پہنچا ھی تھا کہ
    مجھے پیچھے سے

  10. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018)

  11. #176
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 138..??



    مجھے اپنے پیچھے سے کتے بھونکتے ہوے اپنی طرف دوڑتے نظر آے میں تو پہلے ھی اندر سے ڈرا ہوا تھا کتوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میں نے جلدی سے بیٹھک کے دروازے کو اندر دھکیلا اور دروازہ حسب وعدہ کھلا ہونے کی وجہ سے اندر کو کھلتا گیا اور میں دوڑ کر اندر داخل ہوگیا ۔
    سامنے ھی فرحت چار پائی پر لیٹی ہوئی تھی مجھے یوں اچانک اندر داخل ہوتے ھوے گبھرا کر سینے پر ہاتھ رکھتے ہوے اٹھ کر بیٹھتے ہوے بولی ۔
    ہاےےےے***کون اےےےےےےے
    جب فرحت کی مجھ پر نظر پڑی تو کچھ سنبھل گئی اور گبھراے ھوے بولی
    خریت تو ھے یاسر کیا ھوا
    میں نے لمبے لمبے سانس لیتے ھوے کہا وہ کتے میرے پیچھے پر گئے تھے
    فرحت ہنس کر میری طرف ھاتھ سے اشارہ کرتے ھوے بولی
    جا اوے کوئی حال نئی تیرا میری تے جان ای کڈ دتی سی ۔
    میں نے دروازے کو اندر سے لاک کیا اور فرحت کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور اپنی تیز چلتی ہوئیں سانسوں کو درست کرنے لگ گیا۔
    فرحت بولی
    اتنی دیر کردی آنے میں
    میں نے کہا
    بس یار میں نے جلدی آجانا تھا مگر بیٹھک میں بارے وقت بھائی نے مجھے پاس بیٹھا لیا تھا اور ادھر ادھر کی باتوں میں کافی وقت لگ گیا تھا اور ویسے بھی دکان سے بھی لیٹ آیا تھا
    اس وجہ سے دیر ہوگئی ۔
    فرحت بولی میں تو سمجھی شاید نواب صاب کا دل بھر گیا ھوگا
    میں نے فرحت کے پٹ پر ھاتھ پھیرتے ھوے اسکی نرم نرم جلد کو مٹھی میں بھر کر کہا
    دل بھر جاے اور وہ بھی تم جیسی سیکسی اور خوبصورت حسن کی دیوی سے ۔

    کدییییی ویییی نئییییی

    فرحت اپنے پٹ پر رکھے میرے ھاتھ کو پکڑتے ھوے سیییییی کرتی ہوئی بولی
    مسکے لگانا تو کوئی تم سے سیکھے ۔
    میں نے برا سا منہ بناتے ھوے روٹھنے کے انداز میں کہا
    میرا پیار تمہیں مسکا لگتا ہے
    جاو میں نہیں بولتا۔

    فرحت میری کمر کے گرد بازو ڈال کر اپنے ممے میرے ساتھ لگا کر بولی ۔

    چچچچچچ میرا کاکا ناجججج ہوگیا اےےےے۔
    میں نے کہا
    کاکے کو اب دودھو پلاو گی تو کاکا مانے گا۔

    فرحت بولی چل آ میرا کاکا
    میں اپنے کاکے کو گودی میں بٹھا کر دودھو پلاتی ہوں ۔
    میں نے ہنستےہوے کہا کاکے نے گودی میں نئی بلکہ اوپر لیٹ کر دودھو پینا ھے ۔
    اور یہ کہتے ھوے میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا تو فرحت بھی ہنستی ھوئی چارپائی سے اتر کر کھڑی ھوگئی ۔
    میں نے فرحت سے اسکی امی کا پوچھا تو فرحت بتایا کہ آج میں نے انکو نیند کی گولی دے دی ھے انکی طرف سے بےفکر رھو
    اور یہ کہتے ھوے ہم دونوں بیٹھک سے نکل کر فرحت کے کمرے کی طرف چل دئیے۔
    کمرے میں پہنچ کر فرحت نے مجھے بیٹھنے کا کہا اور خود ایک منٹ آئی کہہ کر باہر چلی گئی
    میں جوتا اتار کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
    دس پندرہ منٹ میں بیٹھا فرحت کا انتظار کرتا رھا تو محترمہ مجھ غریب پر بجلیاں گرانے کے لیے جلوہ گر ہوئی تو میں اس سیکسی لیڈی کو دیکھ کر دیکھتا ھی رھ گیا ۔
    بلیک کلر کی سوفٹ سلک میں نائٹی پہنے اپنے لمبے بال کھولے ھوے ھاتھ میں ٹرے پکڑے جس میں ایک جگ اور گلاس تھا
    مستانی چال چلتی کولہوں کو ہلاتی چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی اور میری للچائی نظروں کو اپنے سیکسی جسم کا ایکسرا کرتے دیکھ کر گلابی پنکھڑیوں پر مسکان لاتے ھوے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    رومینٹک انداز سے بولی دیکھنا نظر نہ لگا دینا۔
    میں نے آہہہہہہہہ بھری اور میرے لب ہلے

    کچهـ اس ادا سے آج وه پہلو نشیں رہے
    جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے
    پھر
    میں نے کہا بیشک تم اتنی حسین ھو کہ میری کہیں نظر نہ لگ جاے
    فرحت سائڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ کر بڑے لاڈ سے میری ناک کو پکڑ کر ہلاتے ھوے بولی تم بھی ناں۔۔۔۔

    میں بے اختیار بول پڑا

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئی ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہی ہو تم بھی ناں

    دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے
    جیسے پہلی بار ملی ہو تم بھی ناں

    ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں
    مجھ میں ایسے آن بسی ہو تم بھی ناں

    عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا
    اب تو تم بھی کہہ دیتی ہو تم بھی ناں

    فرحت میرے پاس بیڈ پر بیٹھتے ھوے میرے ہاتھوں کو ہاتھ میں لے کر بولی

    خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتی ہوں میں
    آئینے میں تم ہوتے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    میں نے فرحت کے ہاتھوں کو اوپر کیا اور اسکے گورے ہاتھوں کو چوم کر بولا

    میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتی ہو
    مجھ کو اتنا جان چکی ہو تم بھی ناں

    فرحت شرما کر اٹھ کر مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر باہر جانے کے لیے اٹھی
    تو میں اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرحت سیدھی میری لمبی کی ہوئی ٹانگوں کے اوپری حصے رانوں پر لیٹتی گئی تو میں اسکے بالوں کو سہلاتے ھوے بولا

    مانگ رہی ہو رخصت اور خود ہی
    ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھی ہو تم بھی ناں

    فرحت کر سر میرے لن کے اوپر تھا اور اسکے لمبے گیسو بیڈ پر اپنے ہر پھلاے ھوے تھے فرحت کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھیں
    اور میں فرحت کے بالوں کو سہلاتا ھوا
    اسکی بڑی بڑی آنکھوں اور گلابی پنکھڑیوں کے نشیب وفراز کو دیکھ کر انپر شاعری کے توڑ جوڑ لگا رھا تھا۔
    فرحت
    بھی کسی کنواری دوشیزہ کی طرح ناز نخرے دیکھا کر میرے جزبات کو مذید گرما رھی تھی ۔
    کچھ دیر بعد فرحت میری رانوں سے سر اٹھاتے ھوے اور اپنے گیسوؤں کو کو اپنی انگلیوں سے سہلاتی ہوئی اٹھتے ھوے بولی
    یاسر پہلے دودھ پی لو ۔
    میں نے ہاتھ اوپر کر کے پیچھے سے فرحت کی بغلوں ڈال کر آگے کی طرف کر کے اسکے تنے ھوے دونوں مموں کو پکڑ کر دباتے ھوے کہا
    میں تو ان پیالوں کو منہ لگا کر دودھ پیوں گا ۔
    فرحت میرے ہاتھوں پر ھاتھ رکھتے ہوے منہ چھت کی طرف کر کے بولی
    سییییییییی
    اور پھر سر نیچے کرے میری طرف شراب کے نشے سے چور آنکھوں کا وار کرتے ھوے بولی
    میری جان پہلے جگ والا دودھ تو ختم کرلو پھر ان پیالوں کو بھی جی بھر کر پی لینا۔
    اور یہ کہتے ھوے فرحت اٹھی اور اسکی سلکی نائٹی سے اسکے مموں سے پھسلتے ھوے میرے ہاتھ اسکے پیٹ سے ہوتے ھوے اسکی گانڈ تک آگئے اور فرحت آگے کو ہوئی تو
    فرحت کی گانڈ بھی میرے ھاتھوں سے نکل گئی اور فرحت گول مٹول کو گانڈ کو لہراتی ھوئی
    بیڈ کے سائڈ ٹیبل کی طرف گئی اور جگ میں سے دودھ کو گلاس میں ڈال کر میری طرف گلاس بڑھایا میں نے گلاس پکڑ کر منہ کو لگا کر ایک ھی سانس میں گلاس خالی کیا تو فرحت نے گلاس میں پھر دودھ ڈال کر میری طرف بڑھا دیا
    میں نے انکار کیا تو فرحت نے ذبردستی مجھے دوسرا گلاس بھی پلادیا

  12. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

  13. #177
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 139 ..



    میں نے انکار کیا تو فرحت نے ذبردستی مجھے دوسرا گلاس بھی پلادیا
    دودہ نیم گرم تھا اور اس میں بادام کی گریاں ڈالی ہوئیں تھی
    میں بھی مزے لے کر پی گیا ۔
    اور گلاس خالی کر کے فرحت کی طرف بڑھاتے ھوے کہا بسسسسس
    فرحت ہنس کر بولی ایک گلاس تو اور پی لو۔
    میں منہ میں بڑبڑایا۔
    کہ توں کیڑا اندر رہن دینا اے جنا مرضی پی لواں

    فرحت نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی کیا کہا۔
    میں نے کہا کچھ نھی جناب ۔۔۔۔
    میری کیا مجال کہ میں کوئی گستاخی کرسکوں۔


    فرحت بولی تم بھی ناں بہت پہنچی ھوئی روح ھو۔

    میں نے ہنستے ھوے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ھوے کہا

    واقعی جتھے کوئی نئی پہنچ سکتا اوتھے اے روح پہنچ جاندی اے
    کچھ دیر مذید ہم آپس میں طنز و مذاح کرتے رھے ۔
    پھر فرحت اٹھی اور دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی اور پردہ آگے کو کھسکا کر میری طرف کیٹ واک کرتی ہوئی آئی ۔۔۔
    فرحت بلیک نائٹی میں بہت ھی سیکسی لگ رھی تھی اور اسکا گورا رنگ کالے لباس میں بلکل کوئلے کی کان میں چمکتے ھوے ہیرے جیسا لگ رھا تھا
    اوپر سے چھتیس سائز کے تنے ھوے ممے 38 سائز کی گول مٹول گانڈ
    تیس کی کمر
    ہلکا سا باہر کو نکلا پیٹ
    اس وقت وہ کسی ماڈل گرل سے کم نھی لگ رھی تھی ۔

    ایک تو اس کا سیکسی جسم دیکھ کر میرا پہلے سے ھی دماغ خراب ہوچکا تھا
    اوپر سے گرم دودھ پی کر میرا تو برا حال تھا ھی مگر میرا گھوڑا تو سر اٹھاے میری شلوار کو پھاڑ کر باہر نکلنے کے لیے بے چین تھا۔
    دودہ پی کر مجھ پر عجیب سا نشہ سوار ھو رھا تھا اور میرا حلق خشک ھورھا تھا
    میری آنکھوں سے اور کانوں سے سینک نکل رھا تھا ۔
    میرا دل کررھا تھا کے ابھی اپنے سارے کپڑے اتار کر پھینک دوں ۔
    فرحت آکر بیڈ پر چڑھی اور ٹانگوں کو پھیلاتے ہوے میرے ساتھ بیٹھ کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔۔۔۔

    یاسر مجھے اس حالت میں دیکھ کر تم میرے بارے میں کچھ غلط مت سوچنا
    میں صرف تمہارے لیے تیار ہوئی ہوں اور یہ نائٹ ڈریس اس ملاقات کو حیسن بنانے کے لیے صرف تمہارے لیے ھی پہنا ھے اور زندگی میں پہلی دفعہ مجھے شوق پیدا ھوا ھے کہ میں ایسا لباس پہنوں
    اور وہ بھی صرف اور صرف تمہارے ھی لیے
    یاسر مجھے خود نہیں پتہ کہ میں تمہاری طرف کیوں کھینچی چلی آئی
    جبکہ تم مجھ سے بہت چھوٹے ھو
    مگر تم میں ایک ایسے مرد جیسی خصوصیات ہیں کہ کسی بھی لڑکی کو تم اپنا دیوانہ بنا سکتے ھو ۔
    اور اسکا منہ بولتا ثبوت میں خود ہوں
    نہ چاہتے ھوے بھی میرے قدم تمہاری طرف بڑھے ہیں ۔
    میں نے فرحت کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ہاتھ میں لے کر دوسرے ھاتھ سے اسکا ھاتھ سہلاتے ھوے بولا ۔
    فرحت میں نے جب پہلی دفعہ تمہارا جسم دیکھا تھا تو تب سے میرے اندر تمہیں پانے کی تڑپ پیدا ھوگئی تھی
    مگر میں ڈرتا تھا کہ کہیں
    تم میرے گھر میری شکایت نہ لگا دو
    مگر جب پہلی دفعہ تم سے سیکس کیا تو
    میری برسوں کی پیاس اور تمہیں پانے کی آرزو تمہارے ساتھ سکیس کرنے کے بعد ختم ھونے کی بجاے مذید بڑھتی گئی ۔
    میرا تو دل کرتا ھے کہ میری ہر رات تمہارے پہلو میں گزرے
    تمہارے ان گیسووں کی چھاوں میں ساری رات گزاروں تمہارے اس نازک جسم کو ساری رات اپنی باہوں میں بھر کر تمہارے اس مخملی جسم کا لمس پاوں ۔
    تمہارے یہ بڑے بڑے دودھ کہ پیالوں کو اپنے لبوں سے لگا کر رات بھر انکو پیتا رھوں
    اور تمہیں بے لباس کر کے تمہارے اس ریشم جیسے ملائم جسم کے ہر اعضاء کو چومتا چاٹتا رھوں ۔

    میں فرحت کے جسم کی تعریف اور اس سے رومینٹک باتیں کرتا ھوا
    اس کے ہر ہر اعضاء کو سہلاتا جاتا۔
    فرحت میری باتیں سن کر بے چین ہوکر مجھ سے لپٹ گئی ۔
    اور میرے ہونٹوں میں ہونٹ بھر کر مجھے اپنے ساتھ بیڈ پر دراز ہوگئی ۔
    ہم دونوں سائڈ کے بل ایک دوسرے سے چمٹے ھوے تھے فرحت کہ ممے میرے سینے کے ساتھ چپکے ھوے تھے میرا اکڑا ھوا لن میرے کپڑوں سمیت فرحت کی سلکی نائٹی کو بھی لے کر فرحت کی رانوں میں پھدی کو رگڑتا ہوا گھسا ھوا تھا اور فرحت نے اپنی رانوں میں میرے لوہے کے راڈ کو جکڑا ھوا تھا
    ہم دونوں کے بازو ایک دوسرے کی کمر کے گرد لپٹے ہوے تھے ۔
    دو جسم ایک جسم ہونے جارھے تھے ۔
    آگ تھی کہ دونوں کہ اندر جل رھی تھی ۔
    بےچینی تھی کہ دونوں کو تڑپا رھی تھی ۔
    پیاس تھی کے بجھنے کا نام نھیں لے رھی تھی ۔
    وقت تھا کہ تھم گیا تھا
    ہونٹوں میں ہونٹ جکڑے زبانوں کی لڑائی جاری تھی ۔
    پھدی کی بے چینی اور لن کی تڑپ دیدہ زیب تھی ۔
    فرحت کا جنون کسی کنواری کنیا سے کم نہ تھا ۔
    فرحت آج اپنی ساری حسرتیں پوری کرنے کے پر تول رھی تھی ۔
    میرے دماغ سن ہوتا جارھا حلق خشک اور لن سخت ہوچکا تھا ۔
    کچھ دیر دو جسم بیڈ پر سانپوں کے ملن کی طرح ایک دوسرے سے لپٹے پورے بیڈ پر گھومتے رھے
    کبھی فرحت میرے اوپر تو کبھی میں فرحت کے اوپر ۔
    بیڈ کی چادر ایسے ہوچکی تھی جیسے اسپر گھمسان کی جنگ ہوچکی ھو ۔
    آخر کار فرحت کے جسم کو چند جھٹکے لگے اور اسکی رانوں نے اپنے بیچ پھنسے میرے پھٹتے ھوے لن کا کچومر نکالنے کی کوشش کی مگر لن اسکی جکڑ کی پرواہ نہ کرتے ھوے ویسے کا ویسا راڈ بنا رھا
    اور فرحت میرے نیچے لمبے لمبے سانس لیتی اپنی ہار مان گئی
    اور میرے لن نے اسکی پھدی کو دبا کر دھول چٹانے کا اعلان کردیا۔
    فرحت کی آنکھیں بند تھی اور ہاااااا آہہہہہہہہ ھمممممممم کر کے لمبے لمبے سانس لے رھی تھی ۔
    اسکی پھدی میرے لن کی سختی کو دیکھ کر اپنے سارے آنسو بہا چکی تھی ۔
    کچھ دیر بعد میں گھٹنوں کے بل فرحت کی رانوں کے اوپر بیٹھ گیا اور فرحت میرا وزن اٹھاے ٹانگیں سیدھی کئے بلکل سیدھی لیٹی رھی ۔
    میں نے فرحت کی نرم رانوں پر بیٹھے اپنی قمیض کے بٹن کھولے اور قمیض اور بنیان کو ایک ساتھ ھی اتار دیا ۔
    اور فرحت کے پیٹ پر نائٹی کی بیلٹ کی لگی گانٹھ کو کھول کر نائٹی کے دونوں پٹ کھول کر فرحت کے گورے گورے جسم کو ننگا کر دیا ۔
    فرحت نے بریزیر بھی نہیں پہنا ھوا تھا جسکی وجہ سے فرحت کے گول مٹول چٹے سفید ممے چمکتے ھوے نمودار ھوے
    اور اسکے مموں پر براوں دائرے کے اوپر تنے ھوے گول نپل میری طرف دیکھ کر مسکراتے ھوے نظر آے ۔
    میں نے فرحت کی رانوں پر بیٹھے ھوے ھی اپنےدونوں ھاتھ آگے کی طرف بڑھاے اور دونوں ھاتھوں میں فرحت کے دودھ سے بھرے پیالوں کو مٹھیوں میں بھر لیا ۔
    آہہہہہہہہہہہہ ھااااااا کیا نظارہ تھا کیا نرم ملائم ممے تھے جیسے میری مٹھیوں میں روئی کے دوگولے ہوں ۔
    ادھر میری مٹھیاں فرحت کے ممے کو بھینچتی ادھر فرحت میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر منہ چھت کی طرف کئے سر کو مزید اوپر کر کے
    اففففففف سییییییییی کرتی ھوئی
    آہیں بھرتی ۔
    فرحت تو برسوں سے پیاسی ہونے کا منظر پیش کررھی تھی
    اسکی ہر ہر ادا
    مجھے جلد بازی کرنے پر اکسا رھی تھی


  14. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), abkhan_70 (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

  15. #178
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 140..??



    مگر میں آج اب کچھ ٹھہر ٹھہر کر کرنا چاہتا تھا ۔
    ساری رات پڑی تھی
    نہ کسی کے آنے کا ڈر اور نہ جانے کی جلدی ۔
    آج وقت بھی میرا تھا اور پہلو نشین صنم کا جسم بھی میرا تھا
    تو پھر بھی اپنی مرضی نہ کرتا تو
    مجھ سے بڑا
    پُھدو کون ہونا تھا۔
    فرحت نے جو آگ میرے اندر بھڑکائی تھی
    اسے اب ساری رات اسی آگ میں جلنا تھا ۔
    میں نے کچھ دیر فرحت کے مموں کو سہلاتےھوے
    فرحت کی سسکاریاں نکالی ۔
    اور پھر اسکی رانوں سے کھسکتا ھوا اپنی گانڈ کو پیچھے لے گیا اور اسکے اوپر ھی الٹا لیٹ گیا
    فرحت کی نائٹی کا اپر کھل چکا تھا نیچے بس سلکی ٹراوزر تھا جس میں چھپی اسکی گیلی پھدی اور اسکے اوپر میری شلوار میں چھپا لوھے کا راڈ جو پھر اسکی رانوں میں گھس گیا تھا
    اوپر سے دونوں کے ننگے جسم پھر ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے تھے ۔
    میں تھوڑا سا اور پیچھے کو کھسکا اور
    اپنا منہ فرحت کے گول مٹول تنے ہوے مموں پر لے ایا اور پہلے ایک پیالے کو منہ لگا کر جی بھر کر پینے لگا مگر من کی پیاس مذید برھتی جارھی تھی ۔
    جب ایک سے جی نہ بھرا تو اس سے ہونٹ ہٹاے اور دوسرے پیالے کو ہونٹ لگا کر جی بھر کر پینے لگ گیا
    فرحت کی سسکاریاں پورے کمرے میں گونج رھی تھی
    اور وہ کمر کو اٹھا کر اپنے مموں کو میرے منہ کے ساتھ چپکا رھی تھی
    فرحت کا بس نہیں چل رھا تھا کہ اپنا سارا مما میرے منہ کے اندر ڈال دیتی ۔
    مگر میرا منہ چھوٹا تھا اور فرحت کا مما بڑا تھا
    مگر ممے کی سوفٹنس اتنی تھی کے
    میرے منہ کے اوپر فرحت کا مما ایسے دب جاتا جیسے میں نے مممے کا ماسک اپنے منہ پر پہنا ھو۔۔۔۔
    کچھ دیر بعد فرحت نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر ایک طرف کیا تو میں اسکے اوپر سے پلٹ کر اسکے ساتھ سیدھا لیٹ گیا تو فرحت اٹھی اور اپنی نائٹی کو اہنے کندھوں سے اتارتے ھوے بازوں سے نکال کر ایک طرف رکھ دیا اور پھر میرا نالا پکڑ کر اسکی گرا کھول دی اور شلوار کو ڈھیلا کر کے نیچے کھینچنے لگ گئی میں نے بھی گانڈ اٹھا کر شلوار اتارنے میں فرحت کی مدد کی ۔
    فرحت نے میری شلوار اتار کر ایک طرف رکھ دی
    میں اب مادر ذاد ننگا لیٹا ہوا تھا جبکہ فرحت ٹراوزر پہنے میرے لن کے پاس دوزانوں بیٹھی میرے اکڑے اور چھت کے طرف منہ کئے اھوے لن کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رھی تھی
    جیسے پہلی دفعہ میرا لن دیکھ رھی ھو
    اور میرا لن اسے سٹیٹ کھڑا تھا جیسے باڈر پر کوئی فوجی احساس حلات میں
    الرٹ کھڑا ھو ۔
    اور حالات بھی کچھ ایسے تھے
    کسی وقت بھی لن اور پھدی کی جنگ چھڑ سکتی تھی ۔
    فرحت دوزانوں بیٹھی گھٹنوں کے بل پیچھے کو ہو کر میرے لن کو مٹھی میں پکڑ کر ہلاتے ھوے
    منہ سی اففففففففف
    کرتے ھوے اپنے سر کو جھکا کر میرے لن کی طرف لائی اور اپنی گلابی پنکھڑیوں کو کھول کر فوجی کی ٹوپی پر رکھ کر ایک بوسا لیا ۔
    فرحت کے ہونٹوں کا لمس میرے لن کے ٹوپے کو مزید پھولنے پر مجبور کر رھا تھا
    مزے کی لہر نے میرے منہ سے بھی سسکاری نکال دی ۔
    فرحت نے پتہ نہیں کس انگریجی میم کی مووی دیکھی تھی جو آج وہ سب کچھ کرنے پر مجبور ھورھی تھی ۔
    فرحت نے ٹوپے کو ایک بار چوما اور دوسری دفعہ ٹوپے کو کناروں تک ہونٹوں میں بھر کر ایک لمبا سا چوسا لے کر ہونٹوں کو ڈھیلا چھوڑ کر پھر ہونٹوں کی گرپ ٹوپے کے گرد سخت کرتے ھوے ایسے چوسا لگایا جیسے
    گرمیوں میں برف والے گولے کو چوسا لگاتے ہیں ۔
    پھر فرحت نے ٹوپے کو ہونٹوں میں بھرے ھوے اپنی زبان کی نوک کو ٹوپے کی ہونٹوں کے بیچ پھیر کر ٹوپے کے ہونٹوں کو چھیڑنے لگ گئی ۔

    افففففففففف آہہہہہہہہہہہہہہہ سییییییییی ۔میرے منہ سے بےاختیار نکلنے لگ گئیں.
    فرحت بڑے سلو موشن سے میرے ٹوپے کے ساتھ کھیل رھی تھی ۔
    میری برداشت دم توڑ رھی تھی
    ٹوپا پھول پھول کر پھنکار رھا تھا
    میرے لن کی رگیں پھٹنے والی ہو چکی تھی ۔
    فرحت کی نرم ہتھیلی میرے لن کا آحاطہ کیے ھوے تھی
    کچھ دیر میرے لن اور فرحت کے ہونٹوں کا کھیل جارھی رھا مجھ سے اب صبر نہ ھو رھا تھا
    تو میں نے فرحت کی ٹانگوں کو کھینچ کر اپنے منہ کی طرف کیا اور ایک ہاتھ سے ھی اپنی انگلیاں اسکے ٹراوز کی لاسٹک میں پھنسا کر انگلیوں کی مدد سے اس کے ٹراوزر کو نیچے کھینچنے لگا تو فرحت نے دوسری طرف سے خود ھی ٹراوز کو پکڑ کر نیچے کھینچ دیا اور اسکی چٹی سفید گانڈ میرے سامنے تھی اور اسکی گانڈ کے دونوں پٹ میرے منہ کی طرف تھے ۔
    میں نے فرحت کے ٹراوزر کو اسکے ٹانگوں سے بھی کھینچ کر اتار دیا اور اسکی ایک ٹانگ کو پکڑ کر اپنے اوپر سے گزار کر فرحت گانڈ کو اپنے منہ کے اوپر لے آیا

    اب فرحت کی پھدی میرے منہ کے اوپر تھی اور فرحت کے ممے میرے پیٹ کے ساتھ لگ رھے تھے اور فرحت میرے لن کو منہ میں لیے میرے اوپر ڈوگی سٹائل میں تھی ۔
    میں نے فرحت کی پھدی کو غور سے دیکھا تو پھدی پانی سے فل گیلی تھی اور پھدی کے سمیل میرے نتھنوں میں داخل ھورھی تھی ۔
    میں نے لمبی سانس اندر کھینچ کر پھدی کی سمیل کو اہنے دماغ میں اتار لیا ۔
    اور فرحت کی دونوں رانوں کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور پھدی کے دانے کو زبان کی نوک سے چھیرڑنے لگ، گیا ۔
    جیسے ھی میری زبان نے فرحت کی پھدی کے دانے کو چھوا
    فرحت نے مزے سے سسکاری بھرتے ھوے لن کو ہونٹوں میں ذور سے بھینچ لیا اور ذور ذور سے لن کو چوستے ھوے میرے منہ کے اوپر ھی اپنی گانڈ کو ہلانے لگی ۔
    ادھر جیسے ھی فرحت نے میرے لن کو ذور ذور سے چوسنا شروع کیا تو مزے کی شدت سے میں نے پھدی کے دانے کو ھی منہ میں بھر لیا اور اسے چوسنے لگا گیا ۔
    ادھر میری زبان سے پھدی کا مزہ اور سواد فرحت میرے لن پر نکالتی ۔
    ادھر فرحت کے منہ میں اپنے لن کا مزہ اور سواد میں فرحت کی پھدی کے دانے اور اسکی پھدی کی ہڈی کے اوپر لٹکی جھلی کو زبان سے چاٹ چاٹ ۔
    کر نکالتا ۔
    قسمت کب دھوکا دیتی ھے
    انسان کو نہیں پتہ چلتا
    ابھی پھدی چاٹنے سے میرا دل بھی نہیں بھرا تھا ابھی میری پیاس بھی نہیں بھجی تھی ابھی میں پھدی کو مذید چاٹنا چاہتا تھا مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا
    میرے سارے ارادے پر پھدی سے نکلنے والا پانی پھر گیا اور پھدی سے پانی کا فواراہ چھوٹا جس نے میرا سارا منہ بھر دیا اور فرحت نے دوسرا ظلم یہ کیا کہ اپنی گانڈ کا وزن میرے منہ پر ڈال دیا اور ظلم پر ظلم کہ ادھر میرے لن پر دانت گاڑ دٰیے ۔

    اففففففف یارو تُسی دسو بھئ اینج دا وی کی مزہ کہ اگلے دی پین نوں لن وڑ جاوے تے جناب دا چُھٹن دا سٹائل بن جاوے ۔

    دوستو
    اوپر سے میرا سانس بند اور نیچے سے میرے لن میں درد ۔
    مجھے اور تو کچھ نہ سوجا میں نے پھدی کے ہونٹوں کو ھی اپنے دانتوں میں بھینچ کر اپنے لن کی جان چھڑوائی
    اور فرحت ہاےےےےےےےےے مرگئییییییی کرتی ہوئی میرے لن کو چھوڑ کر اپنی چوت کو چھڑوانے کے لیے گانڈ اوپر کر کے جھٹکا مار کر میرے اوپر سے اٹھتی ہوئی میرے ساتھ گری اور ٹانگوں کو پھیلا کر پھدی کو ھاتھ سے مسلتے ھوے
    سیییییییییییی اور پھدی ہر پھونکیں مارتے ھوے پھووووو پھووووووو پھوووووو کرنے لگ گئی ۔
    میں بھی جلدی سے ایک ہاتھ سے اپنا منہ صاف کرتے ھوے اور ایک ھاتھ سے اپنے لن کو۔مسلتے ھوے
    فرحت کے سٹائل میں ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ کر سیییییییی کرنے لگ گیا۔
    ادھر پھدی زخمی تھی
    ادھر لن زخمی تھا ۔
    قصور سارا جنون کا تھا۔
    نہ فرحت میری طرف دیکھ رھی تھی نہ میں فرحت کی طرف
    اسے اپنی پھدی کی اور مجھے اپنے لن کی پڑی تھی ۔
    مگر میں حیران تھا کہ
    میرے لن پر فرحت کے دانت لگنے کی وجہ سے جلن اور درد کے باوجود بھی میرے لن کی آکڑ نھی ٹوٹی تھی
    سالا ویسے کا ویسا ھی تن کر کھڑا تھا ۔
    کچھ دیر ہم یوں ھی بیٹھے رھے ۔
    فرحت کی جلن کچھ کم ھوئی تو میری طرف دیکھتے ھوے بولی
    یاسر کیا ھوگیا تھا تمہیں.
    میں نے اپنے لن کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا
    جو تمہیں ھوا تھا


  16. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

  17. #179
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    570
    Thanks Thanks Given 
    38
    Thanks Thanks Received 
    321
    Thanked in
    202 Posts
    Rep Power
    66

    Default

    awesome........................................... .......

  18. #180
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 141..???


    فرحت گبھرا کر اپنے سپنوں کے شہزادے کو کو دیکھنے لگ گئی
    ٹوپے سے تھوڑا نیچے ایک جگہ سے لن سرخ ھوچکا تھا ۔
    فرحت ایک ھاتھ اپنی پھدی پر رکھے دوسرے ہاتھ سے میرا لن پکڑا کر انگلیوں سے سہلانے لگی
    اور مجھ سے ایکسیوز کرنے لگی کہ مزے کی شدت سے مجھے پتہ نہیں چلا۔
    میں نے برا سا منہ بناتے ھوے کہا۔

    جناب تواڈا مزہ بن جانا سی
    تے میرا نصیب وڈیا جانا سی۔

    فرحت کھل کھلا کر ہنس پڑی اور میرے ہونٹوں کو چومتے ھوے بولی ۔

    تیرا ایویں نصیب اے
    بلکہ
    اے میرا نصیب اے ۔
    اور کچھ دیر بعد ھی ہم لن پھدی کی درد کو بھول کر پھر ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چومنے اور چوسنے میں مصروف ھوگئے ۔
    ایک دوسرے سے لپٹے ھوے ھی میں نے فرحت کو گھما کر اپنے نیچے کیا اور گھٹنوں کے بل ھوکر اسکی گوری گوری ٹانگوں کے درمیاں بیٹھ گیا۔
    میں نے فرحت کی پنڈلیوں کو پکڑا اور اسکی ٹانگوں کو اٹھا کر فرحت کی ایڑیوں کو اپنے کندھوں پر رکھ کر اپنے کندھوں کو اسکے کندھوں کے پاس لے گیا فرحت کی پھدی میرے لن کے سامنے تھی اور اور اسکے پیر اسکے سر کے پاس پہنچ کر فرحت کا جسم دھر ھوچکا تھا ۔
    میں نے ہاتھ لمبا کر کے تکیہ پکڑا اور اسے اٹھا کر فرحت کی گانڈ کے شروع میں ریڑھ کی ہڈی کے نیچے رکھ دیا۔
    فرحت حیرت سے میری طرف دیکھتے ھوے انگلی کا اشارا کرتے ہوے بولی ۔

    بڑے پکے پیٹھے ھو۔

    میں نے مسکراتے ھوے اسکی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ لن کی طرف لیجا کر لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں میں سیٹ کیا
    لن کو گیلا کرنے کی ضرورت ھی نہیں تھی
    کیونکہ پھدی سے ھی اتنی برسات ھوچکی تھی کہ جس کا کیچڑ ابھی تک سوکھا نہیں تھا ۔
    مزید لن کو گیلا کر کے
    چپ چپ اور پچ پچ پچ ھی کرنی تھی
    اس لیے سوکھا لن ھی پھدی کے گیلے ہونٹوں میں رکھا
    تو فرحت نےمیرے ارادے کو جانچتے ہوے اپنے دونوں ہاتھ میری رانوں پر رکھ کر التجائی
    نظروں سے میری طرف دیکھتے ھوے کہا
    یاسررررر پلیزززز آرام سے کرنا اتنا بڑا مجھ سے ایکدم برداشششششششششششش ہاےےےےےےےےےے میں مرگئییییییییی اوے ظالماں ھاےےےےےےےےے میں اندررررررررر پاٹ گیا۔
    اور فرحت دائیں بائیں سر مارنے لگ گئی
    فرحت کی آنکھیں ابھل کر باہر آنے کو تھیں چہرہ سرخ اور آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی ۔
    فرحت کی ادھوری بات میں ھی میرے جاندار گھسے نے اسکی آنکھوں کے آگے تارے بچھا دئے تھے ۔

    میرا پہلا گھسا ھی اتنا جاندار تھا کا پورا لن فرحت کی پھدی کی گہرائی میں جاکر بچے دانی میں گھس گیا تھا اور ٹانگیں زیادہ اونچی ہونے کی وجہ سے لن کی ضرب فرحت کی ریڑھ کی ہڈی پر لگی تھی.

    ایک پھدی گیلی تھی دوسرا لن فل ٹائٹ تھا دھکا مارتے ھی
    لن بنا کسی رکاوٹ کے پھدی کے نرم ریشوں کو رگڑتا ھوا جڑ تک اندر چلا گیا تھا ۔
    فرحت کے چہرے کے تاثرات اسکے قرب کی گواہی دے رھے تھے
    مگر اس درد کی ذمہ دار وہ خود تھی

    اونوں کنے کیا سی کہ گرم دودھ پلا کہ بلدی تے تیل سُٹے
    فرحت نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجوں سے میری رانوں کے گوشت کو بھینچا ھوا تھا
    اور مجھے پیچھے کرنے کو زور لگاتے ھوے
    اپنی ٹانگیں میرے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کررھی تھی ۔
    مگر میں نے اپنے دونوں ھاتھ اسکے بازوں پر رکھ کر اسے قابو کیا ھوا تھا ۔
    میں گھسا مار کر لن کو اندر ھی کیے کچھ دیر رکا رھا
    اور پھر میں نے لن کو آدھا باہر کھینچا اور پھر دھڑم سے اندر کردیا
    فرحت پھر
    بولی
    ہاےےےےےےے وے یاسرررااااا ہولییییییی

    میں نے کہا
    چپ کر ہن جان دے ہولی ہولی
    ہن نہ بولی۔

    اور میں گھسے مارنا شروع ھوگیا

    دے گھسے تے گھسا دے گھسے گھسا ۔
    فرحت کا رنگ سرخ سے سرخ تر ھوتا جارھا تھا
    آنکھوں سے پانی کی لکیریں
    اسکے کانوں کی لو تک جارہیں تھی
    ممے اسکے ہلتے ھوے اسکے منہ کے پاس جاکر اسے تسلیاں دے رھے تھے

    فرحت میرے ہر گھسے پر

    ھاےےےءء مرگئی
    گھساااا
    ھاےےےےے مرگئی۔۔
    گھسا
    ھاےےےےےے مرگئیییی۔
    گھسا
    ھاےےےےےےےے مرگئیءءءءء

    اففففففف آہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہہ
    فرحت کی آہوں اور مزے والی درد کی آوازوں سے میرا جوش میرے سر چڑھ رھا تھا
    اور میں اسکے ہاےےےےے مرگئییییییی
    پر اگلا گھسا مذید ذور سے مارتا اور لن کو پھدی کی گہرائی میں لیجا کر اسکی ریڑھ کی ہڈی پر مارتا ۔
    مجھے مزہہہہ بہت آرھا تھا
    منی لن کی ٹوپی میں اٹکی ہوئی تھی مگر باہر نکلنے کا نام نہیں لے رھی تھی
    فرحت مجھ سے جان چھڑوانے کے سارے حربے استعمال کررھی تھی ۔
    مگر
    اسکے ہر حربے کا جواب میں ذور دار گھسے سے دیتا ۔
    میں پانچ منٹ لگاتار فرحت کو ایک ھی سٹائل میں چودتا رھا
    درد اور تکلیف کہ باوجود فرحت کی پھدی پھر پانی چھوڑنے لگ گئی تھی
    آخر کار فرحت کی پھدی نے میرے لن کے گرد گرفت سخت کی اور ساتھ ھی فرحت نے میرے کندھوں کو مظبوطی سے پکڑ لیا اور آہہہہہہہہہ یاسسسسسر ممممم گئییییی کہتے ھی فرحت کے جسم نے جھٹکے لینے شروع کردئے
    فرحت کی پھدی سے گرم منی میرے گھسوں سے باہر نکل رھی تھی
    اور اس کی منی سے میرا لن لتھڑ گیا تھا
    اب پھدی میں پُچ پُچ شروع ھوچکا تھا
    فرحت کی پھدی اتنی گیلی ہوگئی تھی کہ میرا سارامزہ کرکرا ھوگیا۔
    فرحت نے بھی جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور میں نے بھی اسکی ٹانگوں کو کندھوں سے اتار دیا اور اپنا لن باہر نکال کر فرحت کی ٹانگوں کے درمیان پھدی کے سامنے دو زانوں بیٹھ گیا۔
    فرحت کی سانسیں بحال ہوئی تو فرحت نے مجھے یوں منہ اٹھا کر بیٹھے دیکھا تو سوالیا نظروں سے میری طرف دیکھا میں نے لن کی طرف اشارہ کیا کہ میرا لن تمہاری پھدی کی برسات سے بھیگ چکا ھے
    فرحت نے ھاتھ لمبا کر کے سائڈ ٹیبل کے دراز کو کھولا اور اس میں سے کپڑا نکال کر میری طرف بڑھایا ۔
    میں نے کپڑے سے اچھی طرح لن صاف کیا اور پھر فرحت کی پھدی کو اچھی طرح کپڑے سے خشک کیا ۔
    اور فرحت کا بازو پکڑ کر اسے اٹھا کر بٹھایا ۔
    فرحت کمر پر ہاتھ رکھ کر ھاےےےےے کرتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی اسکی حالت سے لگ رھا تھا کہ وہ کافی تھکی تھکی لگ رھی ھے ۔

    میں نے فرحت کو چھیڑتے ھوے کہا
    کہ اتنی جلدی تھک گئی ھو
    فرحت میرے تنے ھوے لن کی طرف اشارہ کرتے ھوے بولی ۔
    تمہارے اس سانڈ نے میری مت مار دی ھے میری کمر میں درد شروع ہوگیا ھے ۔
    ایک تو تم اتنی ذور سے کرتے ھو دوسرا یہ اتنا بڑا میرے آگے جاکر لگتا ھے ۔
    میں بیڈ کی ٹیک کی طرف لیٹتے ھوے بولا
    چل آجا میرے اوپر
    ابھی تو ساری رات پڑی ھے تم ابھی سے تھک گئی ۔

    فرحت میری رانوں کے اوپر اپنی ٹانگوں کو دونوں اطراف کرتے ھوے لن سے تھوڑا پیچھے بیٹھ گئی میں نے فرحت کے گول مٹول مموں کو ہاتھوں میں بھر کر مموں کو اپنی طرف کھینچا تو فرحت بھی ساتھ میرے اوپر جھکتی گئی اور اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھوں کے آگے لیجا کر میٹریس پر رکھ کر میرے اوپر جھک گئی فرحت کا چہرہ میرے چہرے کے اوپر آگیا اور فرحت کے لمبے بالوں نے دونوں اطراف سے ہم دونوں کے کے چہرون کو چھپا لیا فرحت کے ممے میرے سینے کے اوپر تھے اور مموں کے نپل میرے سینے کو چھو رھے تھے
    میں نے بازو لمبے کیے اور فرحت کے کولہوں کو پکڑ کر تھوڑا اوپر کیا اور ایک ہاتھ نیچے لیجا لن کو پھدی کے لبوں پر سیٹ کیا اور ہاتھ واپس لیجا کر فرحت کے دونوں چوتڑوں کو پکڑ کر نیچے سے گانڈ اٹھا گھسا مارا تو لن بھی سوکھا پھدی بھی خشک کچھ نہ کچھ تو ہونا ھی تھا۔
    جیسے ھی میں نے گھسا مارا فرحت کے منہ سے چیخ نکلی
    ھاےےےےےے امییییییی مرگئی اور فرحت آدھے سے بھی کم لن کو پھدی سے باہر نکالتے ھوے آگے کو ہوئی اور فرحت کے ممے میرے سینے سے ھوتے ھوے میرے منہ پر آگئے۔
    فرحت غصے سے بولی یاسررررر کے بچے انسان بن جانور نہ بن ۔
    پہلے گیلا تو کرلے میری جان نکال دی ھے ۔




  19. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (30-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018), windstorm (10-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •