سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 14 of 32 FirstFirst ... 410111213141516171824 ... LastLast
Results 131 to 140 of 311

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #131
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 100..???


    مجھے غصہ تو بہت چڑھا
    کہ
    نالے چور تے نالے چتر۔
    خیر
    میں بھی اسکے پیچھے چلتا ھوا اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگ گیا ۔


    وہ ایسے انجان بن کر جارھی تھی کہ جیسے مجھے جانتی ھی نہ ھو
    اس کی نظریں سڑک کی طرف تھی ۔


    جب ہم رش سے نکل کر گاوں کی طرف جاتی سڑک پر پہنچے تو میں نے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔


    عظمی میں تمہاری خاموشی دیکھنے کے لیے دکان چھوڑ کر نھی ھے ۔


    تو عظمی نے میری طرف دیکھا تو
    میں اسکی آنکھوں کو دیکھ کر حیران رھ گیا اسکی آنکھیں ایسی سرخ تھیں
    جیسے
    وہ رات بھر روتی رھی ھے
    اور اس وقت بھی اس کی آنکھوں میں نمی تھی ۔


    عظمی نے میری طرف دیکھ کر پھر منہ سیدھا کرکے آنکھیں جھکا کر چلتی رھی ۔


    میں نے پھر پوچھا عظمی کچھ بولو گی کہ نھی ھوا کیا ھے
    تمہاری آنکھیں کیوں لال ہیں
    تم رو کیوں رھی ھو
    کچھ تو بولو کچھ تو مجھے بتاو۔


    ایسے ھی ہم نہر کے پل پر پہنچ گئے
    آدھا رستہ طے ھوچکا تھا
    مگر عظمی کی زبان سے ایک لفظ سننے کو میرے کان ترس گئے تھے


    پل سے گزر کر جب ہم نہر سے نیچے اترے تو میں نے عظمی کا بازو پکڑ لیا اور
    اسکو روک کر
    اپنی طرف گھما کر اسکے گالوں پر ھاتھ رکھ کر اسکا منہ اوپر کیا تو دیکھا عظمی رو رھی تھی اور آنسوؤں کی جھڑی نے اسکا نقاب بھی گیلا کردیا تھا۔


    میں نے اسکے گال چھوڑے اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر جنجھوڑ کر پوچھا
    عظمی کچھ تو بول ھوا کیا ھے
    یہ کیا ماجرا ھے وہ مونچھوں والا چاچا کون تھا تم کدھر تھی
    میں نے ایک ھی سانس میں کتنے سوال کردیے
    عظمی نے شہر کی طرف انگلی کر کے اتنا ھی کہا
    ووووہہہہ اسد نے مجھےےےےے کہتے ھوے عظمی چکرا کر میرے اوپر گری تو میں نے جلدی سے اسکو تھام لیا اور اسکی گالوں کو تھپ تھپانے لگا
    عظمی عظمی ہوش کرو عظمی
    ....
    میں عظمی کی کفیت دیکھ کر ڈر گیا
    کہ اسے کیا ھوا۔
    اور اسد نے کیا
    کیا اس کے ساتھ جو عظمی صدمے سے بےہوش ہوگئی ۔


    میں عظمی کی گالوں کو تھپتھپانے لگ گیا
    مجھے سمجھ نھی آرھا تھا کہ میں کیا کروں
    میں نے گردن گھما کر چاروں طرف دیکھا مگر مجھے کوئی نظر نہ آیا
    دوپہر کا وقت تھا
    دور دور تک بندا نہ بندے کی ذات نظر آرھی تھی ۔


    عظمی بلکل میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی اسکے ممے میرے سینے کے ساتھ چپکے ہوے تھے
    اور میں نے ایک ہاتھ عظمی کی بغل سے گزار کر اسکی کمر کو مضبوطی سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
    عظمی کا چہرا میرے کندھے پر تھا
    اسکی ھاتھ سے دستہ اور بک نیچے گر گئی تھی ۔
    جسے وہ سینے کے ساتھ لگا کر چلی آرھی تھی ۔


    مجھے جب کچھ سمجھ نہ آیا تو میں نے عظمی کو سیدھا کیا مگر وہ
    کھڑی نھی ھورھی تھی
    سارا وزن مجھ پر ھی ڈال رھی تھی ۔


    میں نے عظمی کی گانڈ کے نیچے بازو ڈالا
    اور اسکو اٹھا لیا عظمی کے ممے میرے کندھے سے اوپر ھوے اور عظمی میرے کندھے پر جھول گئی
    اور اسکا سارا وزن میرے کندھے پر آگیا ۔


    میں نے عظمی کو کندھے پر لادے بڑی مشکل سے نیچے سے اسکا دستہ اور بک اٹھائی اور اسے لے کر مکئی کے درمیان میں بنی پگڈنڈی پر چل پڑا
    میں بھی جھول جھول کر چل رھا تھا


    عظمی کا وزن کافی تھا مگر قابل برداشت تھا۔


    میں چلتا ھوا کھالے کے پاس پہنچا اور اپنی پرانی جگہ مجھے اس وقت سب سے ذیادہ محفوظ لگی ۔
    تو میں عظمی کو اٹھاے ھوے بڑی تگ ودو کے بعد ٹاہل کے قریب پہنچ گیا ۔


    اور ادھر ادھر دیکھتے ھو عظمی کو ٹاہلی کے پیچھے گھاس پر لیٹا دیا
    اور پھر اسکی گالوں کو دونوں ہاتھوں میں لے کر ہلکا ہلکا تھپتھپا کر اسے آوازیں دینے لگا مگر عظمی بے سدھ ھی لیٹی رھی ۔


    میں نے ادھر ادھر دیکھا اور اٹھ کر کھالے کی طرف بھاگا
    اور ہاتھوں کو جوڑ کر کھالے میں سے پانی ہاتھوں ڈالا
    اور دوڑتا ھوا عظمی کے پاس پہنچا اور پانی اسکے منہ پر گرا دیا ۔
    کچھ ھی دیر بعد عظمی نھ آنکھیں کھولیں اور مجھے غور سے دیکھنے لگی
    عظمی کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں ۔
    میں نے عظمی کی گالوں پر سے پانی صاف کرتے ہوے اسکی گردن میں بازوں ڈال کر سر اوپر کر کے اپنا چہرہ عظمی کے قریب کیا اور
    پھر سے پوچھا
    عظمی کیا ھوا تمہیں اتنی پریشان کیوں ھو
    کیا
    کیا تمہارے ساتھ اسد نے بولو پلیز کچھ تو بولو ۔


    عظمی نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے اور پھوٹ پھوٹ
    کر روتے ھوے بولی
    یاسر مجھے معاف کردو
    میں دولت پیسہ شہرت پانے کے لیے اندھی ھوگئی تھی
    اور تم کو دھوکا دے کر اسد کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔


    اور پھر وہ اونچی آواز میں رونے لگ گئی
    اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی
    اور بار بار بس یہ ھی کہے جارھی تھی


    یاسر میں تمہاری گناہ گار ہوں میرے ساتھ ایسا ھی ھونا چاھیے تھا
    میں نے تمہیں دھوکا دیا
    مجھے معاف کردو


    میں عظمی کے ماتھے سے بالوں تک ہاتھ پھیرتے ھوے اس کی ڈھارس بندھا رھا تھا اسے حوصلہ دے رھا تسلیاں دے رھا اس سے بس ایک دفعہ پوری بات پوچھنے کی کوشش کر رھا تھا
    اسد کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رھا تھا
    اسکی بہن مہری کو اس کی آنکھوں کے سامنے چودنے کا کہہ رھا تھا
    عظمی رو رو کر ہلکان ہو رھی تھی ۔


    آخر کار میری کوشش رنگ لائی اور عظمی کافی سنبھل گئی مگر اسکی ہچکیاں باقی تھیں ۔


    کچھ دیر بعد مکمل طور پر وہ ریلیکس ہوئی ۔


    تو میں نے اسکا ماتھا چوما
    اور
    عظمی کو کہا ۔


    عظمی مجھے پہلے سے ہی تم پر اور اسد پر شک تھا
    مگر پھر بھی میں نے تمہیں محسوس نھی ہونے دیا۔


    مگر اسد نے جو تمہارے ساتھ کیا اور کیسے تمہاری اس سے بات ہوئی اور کیسے یہ بات یہاں تک پہنچی کہ تم ہم سب کو دھوکا دے کر
    بنا کچھ سوچے سمجھے
    اسد کے ساتھ چلی گئی
    اور یہ ملاقاتوں کا تسلسل کب سے جاری ھے
    مجھے ایک ایک حرف سچ سچ بتا دو
    میں اپنی ماں کی قسم کھا کر کہتا ھوں کہ اسد کا وہ حال کروں گا کہ
    وہ ساری زندگی کسی لڑکی کو دھوکا دینے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے گا ۔


    مگر میں تب ھی کچھ کر پاوں گا اگر تم مجھے اب دھوکے میں نہ رکھو گی
    اور حرف بحرف سب کچھ سچ سچ بتاو گی ۔


    اور رھی بات مجھے دھوکا دینے کی
    تو عظمی تم مجھے نھی اپنے آپ کو دھوکا دے رھی تھی
    اس لیے مجھ سے معافی مانگنے کی بجاے اپنے آپ سے معافی مانگو
    اپنے ضمیر سے معافی مانگو
    اور تمہارا ضمیر تب ھی تمہیں معاف کرے گا جب
    تم اب مجھے سب کچھ سچ سچ بتاو گی۔


    اگر اب بھی جھوٹ بولنا ھے تو اٹھو چلو گھر چلتے ہیں
    اور یہ بھی ذہن میں مت رکھنا کہ میں کسی اور سے یہ بات کروں گا یا تمہاری امی کو یا نسرین کو بتاوں گا ۔۔


    اور یہ کہہ کر میں اٹھنے لگا تو عظمی نے میرا بازو پکڑ لیا اور پھر روتے ھوے بولی
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:28 PM.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  3. #132
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no101..


    یاسر مجھے اپنے کئے کی سزا مل گئی ھے اور اس سے ذیادہ کیا ہوگی جو آج
    مجھے ملی ھے ۔
    جس اذیت سے میں گزری ہوں یہ میں ھی جانتی ہوں ۔
    مگر اتنا کچھ ھونے اور سننے کے بعد بھی تم میرے لیے کتنے پریشان ھو کتنے دکھی ھو
    اور لعنت ھے مجھ پر جو میں تمہیں سمجھ نہ سکی
    میری آنکھوں پر
    لالچ کی رتبے کی
    پٹی بندھی ھوئی تھی
    میں اندھی ہوگئی تھی گونگی ھوگئی تھی ۔بہری ھوگئی تھی
    مگر آج مجھے احساس ھوگیا کہ پیشہ شہرت دولت جائدادیں ھی سب کچھ نھی ہوتیں
    ان سب سے اہم رشتے ہیں
    وہ رشتے جو میرے ساتھ مخلص ہیں جنکو میری فکر ھے
    جو میرے لیے تڑپتے ہیں جو میرے لیے پریشان ھوتے ہیں ۔جنکو میری فکر ھے ۔
    یاسر مجھے معاف کردو معاف کردو معاف کردو
    عظمی پھر میرے آگے ہاتھ جوڑ کر روتے ھوے معافیاں مانگنے لگ گئی۔
    میں نے اسکے دونوں ھاتھوں کو پکڑا اور چومتے ھو ے کہا بس کرو عظمی تم نے بہت رو لیا ۔۔اب رونے کی باری اس گشتی کے بچے کی ھے
    تم بس مجھے تفصیل سے سب کچھ بتاو
    پھر دیکھنا تمہارا یہ یاسر
    تمہارے لیے کیا کرتا
    جس اذیت سے تم گزر رھی ھو
    اس سے ہزار گنا اذیت اسے پہنچاوں گا
    اور وہ اذیت وقتی نھی ھوگی
    ساری ذندگی کے لیے ھوگی
    عظمی نے میری طرف دیکھتے ھوے
    اگے بڑھی اور میرے ہونٹ گال انکھیں ماتھا چومنے لگ گئی ۔
    اور کچھ دیر بعد سنبھل کر مجھ سے الگ ہوئی
    اور بولی
    یاسر جب تم اسد کو ہمارے گھر لے کر آے تھے اور جب تم مہری کے ساتھ چھلیاں توڑنے گئے تھے
    اور جب تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا،،،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔
    عظمی نے سب کچھ حرف با حرف مجھے بتا دیا
    ،،،،۔۔۔
    (دوستو جو عظمی نے مجھے حرف با حرف بتایا وہ سب کچھ میں تفصیل سے گذشتہ اپڈیٹ میں لکھ چکا ھوں
    اب عظمی نے واقعی سب کچھ سچ ھی بتایا تھا
    یا کچھ چھپایا تھا ۔
    یہ آگے چل کر خود سب کچھ سامنے آجاے گا ۔۔۔۔۔
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:29 PM.

  4. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-11-2018), abkhan_70 (27-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  5. #133
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    570
    Thanks Thanks Given 
    38
    Thanks Thanks Received 
    321
    Thanked in
    202 Posts
    Rep Power
    66

    Default

    zabardast updatesssssssssssssssssssssssssssssssssss

  6. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-11-2018)

  7. #134
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    5
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    6
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    Bohat zabar dast-------'z

  8. #135
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    48
    Thanks Thanks Given 
    328
    Thanks Thanks Received 
    68
    Thanked in
    43 Posts
    Rep Power
    6

    Default

    ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST ZABBARDAST

    Very nyc & Superb update.



    Keep it up...

  9. The Following User Says Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-11-2018)

  10. #136
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 102..??


    میں جیسے جیسے عظمی کی باتیں سنتا جارھا تھا
    ویسے ویسے ھی میرا چہرہ غصہ سے سرخ ھوتا جارھا تھا
    کچھ غصہ مجھے عظمی پر بھی آرھا تھا
    جب گوشت کا ٹکڑا کتے کے سامنے کھلا رکھ دیں تو کتے سے کیا بعید کے وہ اسپر جھپٹے نہ اسے نوچے نہ اسے کھاے نہ۔


    اسد سے ذیادہ عظمی خود اس کی ذمہ دار تھی ۔
    خیر میں سب کچھ خاموشی سے سنتا رھا اور برداشت کرتا رھا
    جب عظمی نے بات مکمل کی تو میں کافی دیر خاموش بیٹھا اسکی طرف دیکھتا رھا وہ پھر رونے لگ گئی تھی ۔


    میں نے عظمی کو کہا ۔


    چلو اٹھو گھر چلو ۔۔۔
    اور یہ بات کسی سے مت کرنا
    اب یہ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دو ۔
    اور اگر کبھی مہری سے بھی سامنا ھو تو اس کو بلکل محسوس مت ھونے دینا کہ اسد نے تمہارے ساتھ کچھ کیا ھے
    بلکہ میں بھی اسد پر یہ ظاہر نھی ھونے دوں گا کہ
    تم نے مجھے سب کچھ بتا دیا ھے ۔۔۔۔۔


    کیونکہ
    میں نے سوچ لیا تھا کہ میں نے کیا کرنا ھے ۔۔۔


    عظمی نے پھر مجھے بازو سے پکڑ لیا اور پھر روتے ھوے بولی
    یاسر تم نے مجھے معاف کردیا ناں۔


    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے بازو سے الگ کیا اور اپنے ہونٹ اسکے ہاتھوں پر رکھ کر اسکے ھاتھوں کو چوم لیا۔


    اور اسے کہا تم اب یہ سب کچھ بھول جاو اور یہ ھی سمجھو کہ یہ ایک برا سپنا تھا
    اور اٹھو تمہیں کافی دیر ہوگئی ھے
    تمہاری امی پریشان ھوگی


    میں نے اسکی گال پر چٹکی کاٹتے ھوے کہا
    اور ایسا کرو کھالے سے یہ سونا سا مکھڑا دھو لو اور فریش ھوکر گھر چلو نھی تو آنٹی کو شک ھوجاے گا کہ
    کہیں اسکی بیٹی کو یاسر نے راستے میں ھی تو نھی چود دیا ۔


    عظمی میری بات سن کر ہنس پڑی اور میرے سینے پر مکا مارتے ھوے بولی
    چل شوخا۔
    کچھ کسر رہتی ھے تو پوری کر لو۔


    میں جلدی سے اٹھا اور قمیض اوپر کر کے نالا کھولتے ھوے بولا


    چل فیر سدھی ھو۔


    تو عظمی ہنستی ھوئی اٹھی اور
    بولی آرام نال شوخے۔


    میں نے اسکی بات کاٹتےھوے کہا
    آرام سے ھی کروں گا۔
    میں اسد تھوڑی ہوں۔


    عظمی میری بات سن کر ایکدم سیریس ھو گئی اور پھر رونے لگ گئی اور نم انکھوں سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی


    یاسر اب تم مجھے اسی طرح طعنے دیتے رھو گے
    میں نے ذہر کھا کر مرجانا ھے


    مجھے اپنی غلطی کا احساس ھوا مگر میں کیا کرتا میرے اندر حسد اور غصے کی جو آگ جل رھی تھی وہ اتنی جلدی تو بھجنے والی نھی تھی ۔


    میں نے خود پر کنٹرول کرتے ھوے
    عظمی سے معذرت کرنے لگ گیا کہ
    یار غلطی ھوگئی
    آئیندہ کبھی بھی میرے منہ سے اس کنجر کا نام نھی سنو گی
    اب موڑ صحیح کرو اور گھر چلو
    اس کے ساتھ ھی میں نے عظمی کے ساتھ جپھی ڈال لی اور اس کے چہرے کو چومنے لگا
    عظمی کچھ ریلیکس ھوئی اور مجھ سے علیحدہ ھوئی اور کھالے کی طرف چل دی اور منہ ھاتھ دھو کر
    چادر سے اچھی طرح چہرے کو اور انکھوں کو صاف کیا اور
    اپنی چادر کو صحیح کر کے اوپر لیا اور اچھی طرح نقاب کرکے میری طرف دیکھتے ھوے آنکھوں کو مٹکا کر بولی اب صحیح ھے
    تو اسکی اس معصومانہ ادا کو دیکھ کر میں آگے بڑھا اور ایک ہاتھ سے اسکا مما پکڑ کر دباتے ھوے اسکی آنکھوں کو چوم لیا
    مما دبانے سے عظمی کے منہ سے سسکاری نکلی اور وہ مجھ سے لپٹ گئی ۔


    کچھ دیر ہم ایسے ھی لپٹے رھے پھر عظمی مجھ سے علیحدہ ھوئی اور ہم گھر کی طرف چل دئیے ۔


    گھر پہنچے تو فوزیہ مجھے عظمی کے ساتھ دیکھ کر حیران ھوئی ۔


    اور مجھ سے پوچھنے لگ گئی کہ ۔تم دکان پر نھی گئے میں نے کہا
    آنٹی جی میری طبعیت سہی نھی تھی
    تو میں گھر آرھا تھا تو سوچا اس چڑیل کو بھی ساتھ لیتا جاوں جو صبح مجھے چھوڑ کر صدف کے ساتھ ھی چلی گئی تھی ۔


    عظمی کمرے کی طرف جاتی ھوئی میری بات سن کر رک گئی تھی اور میرا جھوٹ سن کر کہ وہ اکیلی شہر نھی گئی بلکہ صدف کے ساتھ گئی تھی ۔۔
    وہ میری طرف دیکھ کر آنکھوں ھی آنکھوں میں میرا شکریہ ادا کرنے لگ گئی ۔


    آنٹی فوزیہ میری طبعیت خراب کا سن کر پریشانی سے بولی کیا ھوا میرے شزادے کو ۔
    اور ساتھ ھی مجھے کندھے سے پکڑ کر اپنے بڑے بڑے مموں کے ساتھ لگا لیا میں نے مزید ساتھ جڑتے ھوے دونوں ھاتھ انٹی فوزیہ کی کمر میں ڈال کر کہا ۔
    آنٹی میرے سر میں بہت درد ھے


    آنٹی بولی
    چل جا اندر بیٹھ جا کہ اپنی پیناں کول میں چا بنا کہ لیانی واں
    نال کوئی گولی کھا لے ۔


    میں نے کہا نھی آنٹی جی میں گھر چلتا ھوں بس کچھ دیر آرام کروں گا تو ٹھیک ھوجاوں گا ۔
    فوزیہ بولی شرم نھی اتی یہ تیرا گھر نھی ھے
    چل اندر جا میں آنی واں
    میں کمرے کی طرف چل دیا
    کمرے میں پہنچا تو نسرین چارپائی پر لیٹی ھوئی تھی ۔
    اور عظمی کپڑے تبدیل کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی ۔


    میں نسرین کے پاس دوسری چار پائی پر بیٹھ گیا ۔
    اور نسرین سے حال احوال پوچھنے لگ گیا ۔


    نسرین بھی مجھ سے دکان سے جلدی آنے کی وجہ پوچھنے لگ گئی
    میں نے وہ ھی روداد دوبارہ دھرا دی ۔
    نسرین دروازے کی طرف دیکھتے ہوے آہستہ سے بولی
    یاسر اس نواب زادی سے پوچھا کہ یہ صبح اتنی جلدی کیوں سکول گئی تھی
    اور وہ بھی اکیلی ۔


    نسرین کی بات سن کر میرے دماغ میں پھر وہ ھی اپنی ادھوری کوشش کو دوبارا مکمل کرنے کا پلان. جنم لینے لگ گیا ۔


    میں نے اثبات میں سر ہلایا۔


    نسرین نے پھر دروازے کی طرف دیکھا اور بڑے رازدارانہ انداز میں پوچھا کیا کہا اس نے ۔


    تو میں نے بھی اسکی نقل اتارتے ھوے پیچھے گردن گھما کر دروازے کی طرف دیکھا اور
    نسرین کے قریب ہوکر آہستہ سے کہا
    میں نے تو اسکو رنگے ہاتھوں پکڑ لینے لگا تھا بس میری بدقسمتی کہ اسکی مجھ پر نظر پڑ گئی
    اور۔






    میں چپ ھوگیا تو نسرین بڑے تذبذب کا شکار ھوکر حیران ہوتے ھوے آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھ کر بولی اور کیا؟ ؟؟؟؟.


    میں پھر گردن گھما کر پیچھے دیکھ کر کچھ بولنے ھی لگا تھا کہ


    میرے پلان اور سسپنس کو منزل تک پہنچانے کے لیے
    خوش قسمتی سے عظمی کمرے میں داخل ہوئی
    تو نسرین کی نظریں اسی وقت عظمی پر پڑیں
    تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے چوکس کیا ۔
    تو میں نے بھی اپنے منہ سے نکلتے الفاظ کو روک کر جلدی سے گردن گھما کر پیچھے عظمی کی طرف دیکھا اور ساتھ
    ھی بات کو بدلتے ھوے نسرین کو کہنے لگا ۔
    تمہارا آج کا پیپر ضائع ھوگیا ھے


    نسرین کی بجاے عظمی بولی
    میں نے اس کی درخواست لکھ کر میڈم کو دے دی تھی
    اس کے جتنے پیپر رھ گئے بعد میں دے دے گی ۔
    میں نے حیران ھوتے ھوے کہا
    کیا مطلب یعنی کہ یہ کل بھی سکول نھی جاے گی ۔
    عظمی منہ کو بسورتے ھوے بولی اس میڈم کو پتہ ھوگا کہ کل بھی جانا ھے کہ نھی ۔


    نسرین جو پہلے ھی عظمی کی مداخلت کی وجہ سے جلی بھنی ھوئی تھی


    عظمی پر پھٹ پڑی ۔


    ھاں ھاں تم تو چاہتی ھی ھو کہ میں سکول ھی نہ جاوں بس اکیلی تم ہو اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    عظمی بولی کیا مطلب،،،،، ۔۔۔


    اس سے پہلے کہ انکی تکرار بڑھتی آنٹی فوزیہ چاے لیے ھوے اندر داخل ھوئی ۔


    اور انکو یوں چونچیں لڑاتے ھوے دیکھ کر بولی ۔


    توبہ ہے تم دونوں کی ایک منٹ نھی بنتی آپس میں پتہ نھی سکول میں بھی کیسے ایک دوسرے کو برداشت کرتی ہوں گی ۔


    میں نے فورن ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ھوے
    چٹکلہ بھرا


    آنٹی جی ۔وھاں انکو پتہ ھے نہ کہ میڈم کلاس میں ھی انکے کان پکڑا کر دونوں کو ڈیسکوں پر مرغا بنا دے گی اس لیے یہ ادھر شانتی سے رہتی ہیں.


    نسرین بولی


    ھاں ھاں تیرے کان روز ماسٹر پکڑواتا ھوگا نی اس لیے تمہیں پتہ ہے۔


    آنٹی فوزیہ ہنستے ھوے
    نسرین کو ڈانٹتے ھوے بولی


    چل ہن توں ایس وچارے نال شروع ھوجا۔


    تو وہ جل بھن کر بولی
    ھاں ھاں اس گھر میں سب ھی بیچارے ہیں
    بس ایک میں ھی پاگل ہوں ۔


    میں نے اسکی بات ختم ھوتے ھی اسے مذید چڑاتے ھوے کہا
    واہ واہ اج سچی گل کیتی اے
    واہ واہ مزہ آگیا۔




    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:40 PM.

  11. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

  12. #137
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 103..??


    نسرین روہانسی ھوتے ھوے نیچے سے جوتا اٹھا کر مجھے مارنے لگی تو میں دونوں ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھ آگے کر کے اپنا آپ بچانے کے لیے چارپائی پر لیٹ گیا اور آنٹی فوزیہ نسرین کو ڈانٹنے لگ گئی کہ شرم کرو تمہارا بھائی ھے اب تم بچے نھی رھے


    بڑے ھوگئے ھو۔نسرین نے جوتا نیچے رکھا اور میری طرف گھورتے ھوے منہ ھی منہ میں بڑبڑانے لگی ۔
    میں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ھوے پھر اسے چھیڑتے ھوے آنٹی کو کہا آنٹی جی دیکھ لیں یہ منہ میں مجھے گالیاں دے رھی ھے ۔


    تو نسرین بولی میں تیرے منہ نئی لگدی۔۔
    اور ہاتھ جوڑ کر بولی جا جان چھڈ میری ۔میں ہنستا ھوا چارپائی پر پڑی ٹرے میں سے چاے کی پیالی اٹھا کر پینے لگا اور پھر کچھ دیر مزید ہم باتیں کرتے رھے ۔
    مگر نسرین کے ساتھ دوبارا وقت خلوت نہ ملا۔
    شام ہونے والی ہوگئی تھی۔
    تو میں آنٹی سے اجازت لے کر گھر آنے لگا تو آنٹی نے کہا یاسر کل تمہارے چاچا نے ختم پر جانا ھے میرے بھائی کے
    میں نے بھی جانا تھا مگر بچیاں اکیلی ہیں انکے پیپر بھی ہورھے ہیں ۔تو تم کل رات کو ادھر سوجانا
    میں تمہاری امی کو بتا دوں گی ۔
    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور انکے گھر سے نکل کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا
    گھر پہنچا تو
    امی گھر ہر نھی تھی شاید ہمسایوں کے گھر گئی تھی۔
    نازی بھی اپنے کمرے میں تھی
    میں سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور کچھ دیر بیٹھا رھا اور پھر لیٹ گیا اور سوچوں میں گم ھوگیا میں نے یہ تو طے کر لیا تھا کہ اب صدف کے گھر بھی نھی جانا اور اس کو منہ بھی نھی لگانا
    اور پھر
    کل عظمی کے ساتھ اکیلے جانے کے بارے میں سوچنے لگ گیا
    اسد کے مسئلے پر بھی سوچتا رھا
    اور نہ جانے کب انکھ لگی اور میں نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔۔۔
    اگلے دن میں اٹھا اور نہا دھو کر ناشتہ کر کے آنٹی فوزیہ کے گھر چلا گیا ۔
    نسرین کی آج بھی چھٹی تھی
    اس لیے اکیلی عظمی ھی میرے ساتھ ۔
    آئی اور گلی کے موڑ پر پہنچ کر میں کھیتوں کی طرف بڑھنے لگا
    تو عظمی بولی باجی کو نھی لے کر جانا
    میں نے کہا نھی میں اس چول کو ساتھ نھی لے کر جاوں گا اگر تم نے جانا ھے اسکو لے کر تو اکیلی ھی جاو پھر میں جارھا ھوں
    یہ کہہ کر میں کھیت کی طرف چل پڑا ۔
    عظمی بھی تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی میرے پیچھے آئی اور قریب پہنچ کر دوڑ کر میرے ساتھ چلتی ہوئی بولی یاسر کیا ھوا
    وہ ہماری ٹیچر رھی ھے ایسا کیا ھوا کہ تم اسے چول بول رھے ھو اور اسکو ساتھ نھی لے کر جارھے۔
    میں نے عظمی کی طرف غصے سے دیکھتے ھوے کہا ۔
    میں نے ایک دفعہ کہہ دیا نہ کہ اسے میں نے ساتھ نھی لے کر جانا تو نھی جانا۔
    بات ختم ۔
    اب اسکا ذکر بھی میرے سامنے مت کرنا ورنہ تم بھی مجھ سے جاو گی۔
    عظمی حیران ھوتے ھوے بولی
    یاسر کچھ بتاو تو سہی ھوا کیا ھے
    باجی نے تم سے کچھ کہا ھے کیا تمہاری لڑائی ہوئی ھے
    پرسوں تو اچھے بھلے ساتھ گئے تھے پھر ایک دن میں اچانک ایسا کیا ہوا جو تم اتنا ناراض ھورھے ھو۔


    عظمی کی بات سن کر میں رک گیا ۔
    اور پھر اسی انداز میں بولا۔
    تمہیں ایک دفعہ میری بات سمجھ میں نھی ائی ۔
    عظمی مجھے یوں غصے میں دیکھتے ھوے بولی ۔
    اچھا بابا مجھ پر تو غصہ نہ ھو۔
    نھی کچھ کہتی اب بسسسسسس۔
    اور پھر ہم چلتے ھوے مکئ میں داخل ھوے تو عظمی میرے آگے آگے جارھی تھی اور میں اسکے پیچھے پیچھے ۔
    میں نے عظمی کو کہا۔
    عظمی آج بھی چھٹی دو بجے ھونی ھے
    تو عظمی نے گھوم کر میری طرف دیکھتے ھوے کہا ہاں کیوں کیا ھوا۔
    میں کچھ نھی کہہ کر چپ ہوگیا۔
    کچھ آگے جاکر میں نے کہا
    عظمی کیا پیپر ھی دو بجے ختم ھوتا ھے ۔
    تو عظمی پھر سر گھما کر مجھے ایک نظر دیکھ کر منہ سامنے کر کے بولی ۔
    نھی پیپر کا وقت تو بارہ بجے تک ھوتا ھے
    اسکے بعد جس لڑکی کا گھر والا لینے آجاے تو وہ چلی جاتی ہے
    نھی تو پھر دو بجے ھی مین گیٹ کھلتا ھے تو سب لڑکیاں جاتی ہیں
    اس سے پہلے کوئی لڑکی اکیلی نھی جاسکتی ۔
    میں نے ہمممممم کیا۔
    اور کچھ دیر پھر بولا۔
    عظمی اگر میں تمہیں لینے آوں بارہ بجے تو تم آسکتی ھو۔
    عظمی چلتے چلتے رک کر میری طرف دیکھتے ھوے ہنس کر بولی
    اچھااااااااا تو جناب اس لیے بار بار پوچھ رھے تھے ۔
    میں نے بے ساختہ عظمی کوجپھی ڈال لی
    اور باہوں میں کستے ہوے کہا
    یار بہت دل کررھا ھے
    کتنے دن ھوگئے ہیں ۔
    عظمی نے کتاب اور پیپر لکھنے والا گتہ پکڑا ھوا تھا جسکو وہ سینے کے ساتھ لگا کر کھڑی تھی تو میرے سینے کے ساتھ اسکا بازو ھی لگا مممے تو کتاب اور گتے کے پیچھے چھپے ھوے تھے۔
    عظمی اپنا آپ چھڑواتے ھوے بولی ۔
    یاسر دل تو میرا بھی بہت کرتا ھے
    مگر دن کے وقت تم نے پھر اسی جگہ کرنے کو کہنا ھے
    اور مجھے اس جگہ ڈر بہت لگتا ھے
    اور ویسے بھی یہ جگہ غیر محفوظ ھے ۔
    میں نے کہا یار کچھ نھی ھوتا
    ہم نے پہلے بھی تو ادھر کتنی دفعہ کیا ھے ۔
    عظمی بولی یاسر برا وقت آنے میں کوئی پتہ نھی لگتا ۔
    اور عظمی مجھ سے اپنا آپ چھڑوا کر پھر چل پڑی۔
    میں چپ کرکے اسکے پیچھے چلتا ھو ا
    مکئی سے باہر آگیا اور پھر پل پر سے ہم ایک ساتھ چلتے ھوے دوسری طرف آگئے ۔
    میں نے پھر کہا۔
    یار تم میرے لیے اتنا بھی نھی کرسکتی۔
    عظمی بولی میں تمہارے لیے جان بھی دے سکتی ھوں
    نہی یقین تو کسی دن آزما کر دیکھ لینا
    تم
    اور آزما کر بھی پچھتاو گے۔
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:39 PM.

  13. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

  14. #138
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default [font=jameel noori nastaleeq][size=12][right]update no 104 [/right][/size][/font]


    میں نے کہا۔
    تبھی تو ڈر رھی ھو۔
    عظمی بولی ڈرتی صرف اپنے ماں باپ کی عزت سے ہوں ۔
    تو میرے دماغ میں فورن آیا کہ اتنا عزت کا خیال ھوتا تو
    یوں کار میں نہ پھرتی
    مگر پھر اپنے آپ پر ملامت کرتے ھوے خیال کو جھٹک دیا کہ اب اگر اس نے غلطی کر ھی لی ھے تو وہ اسپر ندامت بھی ھے
    اور تم کتنے دودھ کے دھلے ھو
    یا تم کون سا اس سے شادی کرنا چاھتے ھو جو اسکی اتنی فکر ھے
    اسے تو صرف تمہیں چھوڑ کر ایک دوسرے مرد سے مراسم بڑھانے پر اتن ندامت ھے کہ وہ تیرے سامنے گھنٹوں ھاتھ جوڑ کر روتی رھی
    اور تم تو کتنی لڑکیوں کی پھدیاں مار چکے ھو تجھے تو کبھی یہ احساس نھی ھوا ۔




    عظمی اور میں بلکل ساتھ ساتھ چل رھے تھے ۔




    عظمی نے مجھے خاموش اور خیالوًں میں ڈوبے دیکھا تو مجھے کندھا مار کر بولی
    ہیلو
    کس سوچ میں گم ھوگئے ھو۔




    میں دفعتاً چونکا
    اور خود کو سنبھالتے ھوے خود کو
    اس پر ایسے ظاہر کیا جیسے اسکے انکار پر میں صدمے میں چلا گیا ھوں ۔




    مگر اسے کیا پتہ تھا کہ
    اپنے ضمیر سے چھترول کروا رھا تھا




    عظمی پھر بولی
    اچھا بابا آجانا
    تمہاری خاطر سب کچھ قربان ۔




    اب تو منہ سہی کرلو ۔




    میں عظمی کی ہاں سن کر یکلخت کھل اٹھا اور شوخی سی بھاگ کر اسکے آگے آیا اور اسکی طرف منہ کر کے بیک چلتا ھوا بولا
    سچیییییی




    عظمی میری طرف دیکھ کر ہنستے ھوے میری نکل اتارتے ھوے بولی مُچیییییی
    میں پھر سیدھا ہوکر اسکے ساتھ چلنے لگا۔




    عظمی بولی یاسر مجھے تو یاد آیا کہ آج تو ابو نے ماموں کے ختم پر جانا ھے
    اور تم نے ہمارے گھر سونا ھے ۔




    تو رات کو اگر میں آجاوں تو کیسا رھے گا
    ساری رات انجواے کریں گے
    میں نے اسکی بات سنتے ھی اسکے ھی انداز میں اسکی نقل اتارتے ھوے کہا




    انجواے کریں گے اور آنٹی سے چھتر کھائیں گےےےےےے




    عظمی برا سا منہ بنا کر بولی
    امی تو جلدی سوجاتی ھے
    اور صبح ھی اٹھتی ھے ۔




    میں نے کہا یار کوئی پتہ نھی کہ کب اٹھ سکتی ہیں ۔




    تو عظمی بولی یاسر کچھ کرو نہ
    کہ ہم ساری رات خوب مزے کریں
    میں نے کہا
    یار میں کیا کرسکتا ھوں




    اب میں آنٹی کو لوری تو نھی سنا سکتا
    یا کوئی نشہ آور گولیاں تو نھی کھلاااااااااا۔
    کھلا میرے منہ میں ھی اٹک گیا اور ایک شیطانی خیال آیا۔۔۔۔
    جو آج کے دور میں روز مرہ کا معمول کام سمجھا جاتا ھے ۔




    عظمی مجھے کھلاااا پر اٹکے میرے منہ کی طرف دیکھنے لگ گئی ۔




    میں نے کہا
    یار ایک آئڈیا آیا ھے دماغ میں اگر ااسپر عمل ھوجاے تو ساری رات خوب انجواے کر سکتے ہیًں کسی کو کانوں کان خبر نھی ھوگی ۔




    عظمی تجسس کا شکار ھوے بولی
    بتاو بھی کیا کریں۔




    میں نے اہستہ سے منہ عظمی کے کآن کے پاس لیجا کر کہا
    نشے کی گولیاں آنٹی کو کھلا دیتے ہیں پھر آنٹی صبح ھی اٹھے گی ۔




    عظمی منہ پر ہاتھ رکھتے ھوے بولی
    ھاےےےے میں مرگئی ۔ نہ بابا نہ مینوں مروانا ای ۔




    توبہ توبہ توبہ
    میں نے جھلا کر کہا۔




    گل تے پیلے پوری سُن لے
    پیلے ای توں مرن والی ہو جانی ایں ۔




    عظمی پھر نہ نہ نہ ۔
    کر رھی تھی ۔




    میں نے غصے سے کہا
    وڑ پانڈے وچ نئی تے نہ سئی۔




    جدوں گل ای نئی پوری سننی تے پتہ میرے لن دا لگنا اے۔




    عظمی میرا برا سا منہ دیکھ کر نقاب کے اوپر ھی منہ پر ھاتھ رکھ کر ہنسنے لگ پڑی ۔
    تو میں غصے سے چلتا ھوا اس سے آگے نکل گیا۔




    عظمی بھاگ کر میرے ساتھ شامل قدم با قدم ھوئی
    اور بولی ۔
    اچھا بتاو کیا کہنے لگے تھے۔




    میں نے کہا کچھ نئی یار چھڈ سارا موڈ ای خراب کردیا ھے ۔




    عظمی بڑی ادا سے مجھے کندھا مارتے ھوے بولی




    رات ہونے دو جناب کا موڈ سہی کردوں گی ۔




    رات کا سن کر میں پھر واپس اپنی ٹون میں آگیا اور عظمی کے دوبارا اسرار کرنے کا انتظار کرنے لگا ۔
    مجھے خاموش دیکھ کر عظمی پھر بولی بتا بھی دو سکول بھی آنے والا ھے
    پھر نہ گھر کے رہیں گے نہ کھیت کے رہیں گے ۔




    میں نے بھی وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا




    اور بولا
    رات کو چاے کون کون پیتا ھے
    عظمی بولی سب ھی پیتے ہیں ۔




    میں نے کہا
    بناتا کون ھے ۔
    عظمی بولی
    کبھی میں کبھی عظمی اور کبھی امی بھی بنا لیتی ھے ۔
    میں نے کہا تو سمجھو اپنا کام تو ھوگیا۔




    عظمی حیرانگی سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی
    وہ کیسے جی۔




    میں نے کہا
    رات کو میں جب آوں گا تو تمہیں چپکے سے گولیاں پکڑا دوں گا تم آنٹی کے کپ میں ڈال دینا اور جب آنٹی سوجائیں گی تو تم چپکے سے دوسرے کمرے میں آجانا۔
    عظمی بولی اور نسرین ۔




    میں نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور ساتھ ھی میرے منہ سے ھای بھی نکلی
    اور کہا کہ اسکا تو مجھے یاد ھی نھی
    تم دونوں کے کپ میں ڈال دینا
    اور میں ماتھے کو دبانے لگا۔




    عظمی نے پوچھا کیا ھوا
    میں نے کہا وہ چوٹ کی جگہ پر ہاتھ لگ گیا تھا
    عظمی بولی دھیان سے رھا کرو نہ
    میں نے کہا
    جب ایسا پرزہ ساتھ ھو تو پھر دھیان کہیں اور کیسے جاے ۔




    عظمی بولی
    چل شوخا۔




    اتنی دیر میں ہم سکول والی گلی میں داخل ہوے اور بوائز سکول کے گیٹ کے سامنے سے گزرے تو میں نے عظمی کی طرف دیکھا جو وھاں سے چلنے کی سپیڈ تیز کر کے اور گبھراے انداز سے چل رھی تھی ۔




    میں نے بھی اسے کچھ نھی کہا کہ بات خامخاہ کہیں اور نکل جاے گی ۔




    عظمی کو سکول چھوڑ کر میں دکان پر چلا گیا ۔
    دکان ابھی بند ھی تھی
    میں نے باھر سے صفائی وغیرہ کی ۔
    کچھ دیر بعد انکل بھی آگئے۔
    اور دکان کھول کر دکان کی بھی صفائی وغیرہ کی اور پھر میں دکان کے فرنٹ پر بیٹھ کر کسٹمر کا انتظار کرنے لگا
    کچھ دیر بعد جنید بھی آگیا
    اور انکل اور مجھ سے سلام دعا لینے کہ بعد میرے پاس ھی بیٹھ گیا ۔
    اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے
    اچانک میرے ذہن میں آیا کہ
    عظمی کو گولیوں کا کہہ تو دیا ھے مگر گولیاں لاوں گا کہاں سے میرا تو کوئی واقف بھی نھی ھے اور نشہ آور گولیاں کوئی میڈیکل سٹور والا دے بھی کہ نہ دے ۔




    میں نے جنید سے پوچھنے کا سوچا کہ یہ تو شہر میں ھی رہتا ھے اور
    اسکا کا شاید کوئی میڈیکل سٹور والا واقف ھو۔




    میں نے جنید سے پوچھا یار ایک کام ھے اگر تو کر دے تو تیری مہربانی ھے ۔
    جنید ایک دم میری طرف دیکھتے ھوے بولا۔




    کہیں موٹر سائیکل تو نھی سیکھنی ۔




    میں نے ہنستے ھوے اسکی کمر پر ہاتھ مارتے ھوے کہا
    نھی یار
    موٹر سائیکل نے تو میرے کانوں کو ھاتھ لگا دیے ہیں ۔




    جنید بولا تو پھر اور کیا کام ھے۔




    میں نے کہا یار مجھے نیند کی گولیاں چاہیے
    اسد حیران ھوتے ھوے بولا۔




    خیر ھے کوئی بچی تو نھی پھنسا لی ۔




    میں نے حیران ہوتے ھوے اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا۔




    واہ یار بڑا تجربہ ھے تیرا
    تجھے کیسے پتہ ۔




    جنید بڑے فخر سے سینہ چوڑا کر کے بولا۔




    تیرے ویر نے بہت بچیاں ساری ساری رات بجائی ہیں ۔
    میں نے کہا واہ یار بڑی گل اے ۔




    تم تو چُھپے رستم نکلے
    تو وہ آہستہ سے دوسرے لڑکے کی طرف اشارہ کرکے بولا
    یار اسے مت بتانا یہ بات صرف تم میں اور مجھ میں ھی رھے ۔وہ بڑا چغل خور ھے ۔اس نے انکل کو بتا دینا ھے ۔
    میں نے کہا یار کیسی باتیں کررھا ھے
    میں یاروں کا یار ھوں
    سوچنا بھی نہ کہ تمہاری بات لیک آوٹ ھوگی
    اور میں بھی تم پر یقین کرتے ھوے ھی تم سے بات کی ھے کہ تم یہ بات اپنے تک ھی محدود رکھو گے ۔




    جنید بولا یار تم بھی بےفکر رہو۔
    میں نے پھر کہا بتایا نھی کہ گولیاں مل جائیں گی ۔




    جنید بولا کتنے لوگوں کو کھلانی ہیں ۔




    میں نے کہا دو لوگوں کو کھلانی ھے ۔۔
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:38 PM.

  15. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-11-2018), Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

  16. #139
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 105..??


    جنید بولا
    جب ہم کھانا لینے ہوٹل پر جائیں گے تو میرا دوست ھے میڈیکل سٹور پر ۔میری گلی کا ھی ھے
    اس سے تجھے ایک پتہ لا دوں گا
    اس میں سے دو گولیاں چاے یا دودھ میں حل کر کے ان دونوں کو پلادینا
    بس پھر وہ صبح سے پہلے نھی اٹھتی
    ۔
    میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا یار تیرا یہ احسان زندگی بھر نھی بھولوں گا
    جنید بولا چھڈ یار
    یہ بھی کوئی کام ھے ۔
    اتنے میں ایک کسٹمر اندر داخل ہوا تو جنید اٹھ کر کسٹمر کو ڈیل کرنےلگ گیا۔
    اور میں پھر باہر کی طرف متوجہ ھوکر اپنے خیالوں میں بیٹھا رھا۔


    میری سوئی ایکدم اسد پر اٹک گئی کہ سالے نے عظمی کے ساتھ اچھا نھی کیا


    اگر عظمی اس سے پیار کرتی ھی تھی چاھے دولت کی ھی لالچ میں تو اسد جیسے اسکو پیار کا دعویٰ اور شادی کی لالچ دیتا رھا
    ۔
    اگر اس سے شادی نھی کرنی تھی یا پھر پیار ھی نھی تھا تو اسے دھوکے سے بلا کر اسکے ساتھ یوں زبردستی تو نہ کرتا۔


    اگر عظمی اپنی رضا مندی سے اسکے ساتھ جو مرضی کرتی وہ الگ بات تھی
    مگر اسے ایسے ایک بدمعاش کے ڈیرے پر لیجا کر اسکی عزت پر ہاتھ ڈالنا
    تو سرا سر بدمعاشی ھے۔


    میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور منہ میں ھی بڑبڑایا۔


    اچھا اسد اسکا حساب تیری بہن سے چکتا کروں گا
    اور پھر تجھے احساس ھوگا کہ کیسے کسی کے ساتھ ذبردستی کی جاتی ھے ۔
    مگر میں ذبردستی نھی کروں گے بلکہ تیری بہن خود میرا لن پکڑ کر اپنی کنواری پھدی میں لے گی ۔


    کچھ دیر بعد دکان میں کافی کسٹمر اگئے اور میں بھی کسٹمر ڈیل کرنے میں مصروف ھوگیا ۔
    مصروفیت میں پتہ ھی نھی چلا کہ کب دوپہر ھوگئی ۔
    اور پھر میں اور جنید ہوٹل سے کھانا لینے چلے گئے ۔


    راستے جنید بولا بچی کیسی ھے جس کی لینی ھے ۔میں نے جھوٹ بولتے ھوے کہا نھی یار بچی نھی بلکہ آنٹی ھے ۔
    اسکا شوہر لاہور میں کام کرتا ھے
    اور وہ اپنی ساس اور نند کے ساتھ ہماری دوسری گلی میں رہتی ھے ۔
    بس ایسے ھی اس سے آنکھ مٹکا ھوگیا
    اور اس نے آج رات ملنے کا کہا اور ساتھ میں مجھے گولیاں لانے کا بھی کہا
    مجھے تو یہ پتہ نھی کہ یہ گولیاں ھوتی کیسی ہیں اور کہاں سے ملتی ہیں
    اس لیے میں کل سے پریشان تھا اور ڈرتا تجھ سے پوچھ نھی رھا تھا۔
    جنید میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کندھے کو دباتے ہوے بولا چھڈ یار کوئی حال نئی تیرا۔


    تم مجھے کل ھی بتا دیتے یہ کونسی گیدڑسنگی تھی جو ملنی نھی تھی ۔


    ایسے ھی ہم باتیں کرتے ھوے میڈیکل سٹور پر پہنچے تو جنید مجھے باہر کھڑے ھونے کا کہہ کر اندر گیا اور کچھ دیر بعد باہر آیا اور مجھے چلنے کا کہا۔
    مجھ سے رھا نہ گیا اور بےصبری سے اس سے پوچھنے لگ گیا کہ
    مل گئی ۔
    جنید نے برا سا منہ بنا کر کہا نھی یار وہ کہتا ھے کہ کل لے جانا آج ختم ھوگئی ہیں ۔


    میں چلتا ھوا ایک دم رک گیا
    اور اسکی طرف پریشان حال ھوکر دیکھتے ھوے بولا
    نئی یار
    جنید بولا چل کل پر رکھ لینا پروگرام کونسا قیامت آجانی ھے ۔


    میں نے کہا یار پہلے ھی تو بڑی مشکل سے کام بنا ھے اور آج رات کا ھی موقع ھے
    اور میں افسردہ سا ھوکر چلنے لگا ۔
    جنید میرے چہرے کی طرف دیکھ کر جیب میں سے ہاتھ ڈال کر کاغذ والے چھوٹے سے لفافے میں لپٹا گولیوں کا پتہ مجھے دیتے ھوے ہنستا ھوا بولا ۔
    لے فیر یار کی یاد کریں گا ۔


    میرے ہاتھ میں گولیوں کا پیکٹ آتے ھی میرے چہرے پر ایسے رونق آئی جیسے مجھے کوئی خزانہ مل گیا ھوں ۔


    میں نے پیکٹ پکڑ کر جلدی سے جیب میں ڈالتے ھوے
    جنید کے بازو پر مکا مارتے ھوے کہا۔
    ماما مینوں ڈرا ای دتا سی ۔


    ہم ایسے ھی ہنستے ھوے ہوٹل پر پہنچے اور کھانا لے کر دکان پر چلے گئے کھانا وغیرہ کھا کر فری ہوے اور پھر کسٹمرز میں مصروف ہوے شام ہونے کا نام ھی نھی لے رھی تھی ۔ آخرکار وقت وصل قریب آیا اور میں گھر پہنچا تو امی نے بتایا کہ تیری آنٹی اکیلی ھے
    تم آج رات انکے گھر سو جانا
    میں نے منہ بسور کر اچھا کیا
    اور کھانا وغیرہ کھا کر
    عظمی کے گھر پہنچ گیا۔
    جاتے ھی آنٹی فوزیہ کو سلام کیا
    تینوں ماں بیٹیاں صحن میں ھی بیٹھی کھانا کھا رھی تھیں ۔


    مجھے دیکھ کر فوزیہ اور عظمی کے چہرے پر ایک الگ ھی خوشی نظر آئی۔


    میں انکے پاس ھی بیٹھ گیا آنٹی فوزیہ نے مجھے کھانے کا کہا مگر میں نے کہا کہ میں گھر سے کھا کر آیا ہوں ۔
    تو آنٹی ناراض ہوتے ھوے بولی تمکو کہا بھی تھا کہ رات ادھر سونا ھے تو کھانا بھی ادھر ھی کھا لیتے ۔
    میں نے کہا کوئی بات نھی آپکے اور ہمارے گھر کا کونسا کوئی فرق ھے ایک ھی بات ھے ۔
    پھر کچھ دیر ادھر ادھر کیا باتیں چلتی رھی ۔


    نسرین بیچاری تو پھدی کی لیکج کو لے کر افسردہ سی بیٹھی کھانا کھا رھی تھی
    اور عظمی رات کو پھدی چودوانے کے لیے بے چین تھی
    اور آنٹی فوزیہ کا بھی من کر رھا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاے ۔
    آنٹی فوزیہ کے آج تیار شیار ہونے سے ھی اسکے ارادوں کا پتہ چل رھا تھا ۔
    آنٹی فوزیہ نے پیج کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا
    جس میں اس کا گورا رنگ اور بھی کھل رھا تھا ۔
    میں آنٹی کے پاس ھی بیٹھا ھوا تھا ان کے جسم سے صابن کی بھینی بھینی سے خوشبو اٹھ رھی تھی جیسے کچھ دیر پہلے ھی نہائی ھو۔
    میں نے آنٹی سے انکل کا پوچھا کہ کب واپس آئیں گے تو آنٹی بولی کل کا کہہ کر گئے تھے کہ لازمی آجاوں گا۔
    میں نے ہممم کیا ۔
    عظمی بار بار مجھے آنکھوں سے اشارے کر کے گولیوں کا پوچھ رھی تھی میں نے اسے آنکھ مار کر مطمئن کردیا۔
    اور آنٹی کے سامنے بیٹھ کر اسکے جسم کا نظارا کرنے لگ گیا
    آنٹی نے دوپٹہ نھی لیا ھوا تھا
    اور وہ چارپائی پر ایک ٹانگ کو فولڈ کرکے گھٹنا اوپر کئے اور دوسری ٹانگ کو نیچے فولڈ کر کے پیر پھدی کے ساتھ لگاے بیٹھی ھوئی تھی
    جبکہ عظمی اور نسرین دوسری چارپائی پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھی
    کھانا کھانے میں مصروف تھیں ۔


    آنٹی جب جھک کر روٹی کے نوالے کو پلیٹ سے سالن لگاتی تو آنٹی کے آدھے ممے گلے سے نظر آتے
    اور آنٹی کو بھی پتہ تھا کہ میں اس کے مموں کا نظارا کررھا ھوں ۔
    وہ بھی جان بوجھ کر ذیادہ جھکتی ۔


    کچھ دیر بعد کھانا ختم کیا اور آنٹی نے عظمی کو برتن سمیٹنے کا کہا
    نسرین اٹھ کر اندر کمرے میں چلی گئی اور
    عظمی برتن سمیٹ کر
    نلکے کے پاس لے گئی اور دھونے میں مصروف ھوگئی
    میں نے آہستہ سے آنٹی کو کہا
    آج میرا نمبر لگ جاے گا کہ نھی ۔
    تو آنٹی نے جلدی سے میرا ھاتھ دباتے ھوے عظمی کی طرف اشارہ کیا
    تو میں نے آہستہ سے کہا وہ تو اتنی دور بیٹھی ھے اسکو
    ہماری آواز کہاں سننی ھے ۔
    آنٹی بولی صبر کرلو
    اتنے بے صبرے مت بنو۔
    میں نے کیا ۔آنٹی آپ کے ممے دیکھ کر ھی میں بےصبرا ھوگیا ھوں
    اور اپنے لن کو پکڑ کر کہا یہ دیکھو
    کیسے بےچین ھے ۔
    آنٹی نے گبھرا کر اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارا کیا مگر میں کہا چپ رہنے والا تھا۔
    میں نے پھر پوچھا بتا تو دیں کہ میں انتظار کروں آپ کا ۔تو آنٹی آہستہ سے بولی ۔
    میں کوشش کروں گی
    اب چپ ھوجاو ۔
    اور یہ کہتے ھوے آنٹی چارپائی سے اٹھی اور جوتا پہنتے ھوے اپنی گانڈ میں پھنسی قمیض کو نکال کر عظمی کو برتن اچھی طرح دھونے کا کہتی ھوئی اسکی طرف چلی گئی ۔
    میں اب اکیلا بیٹھا ھوا تھا
    میں بھی اٹھ کر اندر کمرے میں نسرین کے پاس چلا گیا اور جاکر اس سے اسکی طبعیت کا پوچھنے لگ گیا ا کچھ دیر بعد ھی آنٹی برتنوں کی ٹوکری اٹھاے کمرے میں داخل ھوئی ۔
    اور آنٹی کے پیچھے ھی عظمی بھی اندر آگئی ۔
    عظمی نے اندر آتے ھی مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:33 PM.

  17. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

  18. #140
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    215
    Thanks Thanks Given 
    65
    Thanks Thanks Received 
    890
    Thanked in
    212 Posts
    Rep Power
    176

    Default Update no 106..??

    عظمی نے اندر آتے ھی مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا
    تو میں پیشاب کرنے کے بہانے باہر نکل آیا اور واش روم میں چلا گیا اور دروازہ بند کر کے اندر کھڑا ھوگیا اور جیب سے گولیاں نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیں ۔
    اور لکڑی کے دروازے کی دراڑ سے آنکھ لگا کر صحن میں دیکھنے لگا تو
    عظمی دیگچی اٹھاے کمرے سے نکلی اور چولہے کی طرف جانے لگی تو میں جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا اور چلتا ھوا عظمی کے قریب پہنچا اور اسکے ہاتھ میں گولیوں کا پتہ. دیتے ھوے کہا ایک ایک گولی دونوں کی پیالی میں ڈال دینا اور اسکا جواب سنے بغیر پھر کمرے کی طرف چلا گیا۔
    کچھ دیر بعد عظمی چاے لے کر اندر داخل ہوئی تو میں نے اسکی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے کام ہوجانے کا پوچھا تو عظمی نے پلکوں کو جھکا کر اثبات میں جواب دیا۔
    اور پھر عظمی نے ایک پیالی آنٹی کو پکڑائی ایک مجھے اور پھر نسرین کو
    ہم چاے پیتے ھوے گپیں مارتے رھے ۔
    ساتھ میں نسرین کے ساتھ بھی چونچ لڑتی رھی اور جواباً اسکی جلی کٹی باتیں سن کر قہقہے لگاتے رھے ۔
    کچھ دیر بعد میں نے آنٹی سے پوچھا کہ میں نے کہاں سونا ھے ۔تو آنٹی بولی چلو میں ساتھ والے کمرے میں تمہارا بستر لگا دیتی ہوں ۔
    عظمی اور نسرین بھی لیٹ گئی تھیں میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔


    میرے پیچھے ھی آنٹی گانڈ مٹکاتی ہوئی آگئی ۔
    کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے آنٹی کو کس کر جپھی ڈال لی
    اور آنٹی کے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا
    آنٹی میرے اچانک یوں جپھی ڈالنے سے گبھرا گئی اور مجھے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ھوے آہستہ سے بول رھی تھی
    یاسر چھوڑو
    پاگل ھوگئے ھو وہ دونوں جاگ رھی ہیں کوئی ادھر آگئی تو مجھے مرواو گے میں آنٹی کو تسلی دیتے ھوے کچھ نھی ہوتا آنٹی وہ سونے لگی ہیں اب نھی آتی باہر
    کہتے ھوے آنٹی کی ہونٹ چوم رھا تھا اور آنٹی منہ ادھر ادھر کر رھی تھی
    آنٹی کے دونوں بازو میرے سینے اور آنٹی کے مموں کے درمیان تھے اور میرا لن فل ٹائٹ ھو کر آنٹی کی پھدی کے ساتھ رگڑ رھا تھا ۔
    کچھ دیر آنٹی احتجاج کرتی رھی مگر جب لن نے پھدی کو گرم کردیا اور میرے ہونٹوں کے لمس نے آنٹی کے جسم میں ہوس جگا دی تو آنٹی نے بھی اپنے بازوں سینے سے نکال کر میری کمر کے گرد ڈال لیے اور اپنے ممے میرے سینے میں جزب کر لیے
    میں نے آنٹی کا اوپر والا ہونٹ منہ میں ڈال کر چوسنے لگ گیا جبکہ آنٹی نے میرا نچلا ہونٹ قابو کر لیا۔
    میں نے دونوں ھاتھوں سے آنٹی کی موٹی گانڈ کی پھاڑیوں کو ھاتھوں میں جکڑا ھوا تھا
    اور ھاتھوں کا دباو ڈال کر گانڈ کو آگے کی طرف دھک رھا تھا
    اور میرا لن آنٹی کے نرم پٹوں کے درمیان پھدی کے ساتھ رگڑ کھا رھا تھا
    جس سے آنٹی بھی فل انجواے کرتی ھوئی
    اپنے پٹوں کو آپس میں بھینچ رھی تھی ۔
    میں کچھ دیر ایسے ھی کرتا رھا ہم دونوں اتنا مستی میں ڈوبے ھوے تھے کہ یہ بھی خیال نہ رھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا ھوا ھے اور
    عظمی یا نسرین میں سے کوئی بھی اندر آسکتی ھے ۔
    مگر جب منی دماغ پر سوار ھو تو سب اندھے گونگے بہرے ھی نظر آتے ہیں ۔


    ایسا ھی حال ہمارا اس وقت تھا۔
    بس کمرے کی لائٹ بند تھی شاید اس وجہ سے دماغ بھی کچھ مطمئن تھا
    میں نے ھاتھ آگے کیا اور آنٹی کی قمیض کے اندر سے ھاتھ ڈال کر آنٹی کے نرم نرم مموں کو پکڑ کر دبانے لگا ۔
    میں یہ دیکھ کر حیران ھوا کہ آنٹی نے بریزیر بھی نھی پہنا ہوا تھا ۔
    جبکہ جب میں آیا تھا تو میں نے آنٹی کے کپڑوں میں خود اپنی آنکھوں سے کالے رنگ کے بریزیر کا عکس دیکھا تھا ۔
    جب میرا ہاتھ آنٹی کے ننگے ممے پر گیا اور جاتے ھی میں نے آنٹی کے تنے ھوے نپل کو انگلیوں میں مسلا تو آنٹی کے منہ سے سییییییی کی آواز نکلی
    میں نے تھوڑی دیر ھی مموں کو باری باری جلدی جلدی مسل کر چھوڑ دیا۔
    اور آنٹی کو پیچھے دھکیلتے ھوے دیوار کے ساتھ لگا دیا اور ساتھ ھی اپنا ھاتھ آنٹی کی لاسٹک والی شلوار میں ڈال کر پھدی پر رکھ دیا
    پھدی تو ایسے ملائم تھی جیسے آج ھی اسکی صفائی کی ھو ۔
    یعنی آج صبح سے ھی آنٹی کا چدوانے کا موڈ تھا۔ میرا ھاتھ پھدی کو کیا چھوا پھدی نے میرا ھاتھ ھی گیلا کردیا میری انگلیاں چپ چپ کرنے لگ گئی
    آنٹی نے پھدی کو ھاتھ لگتے ھی اپنی ٹانگوں کو آپس میں بھینچ لیا اور سییییییی آہہہہہہہہہ کیا میرا ھاتھ آنٹی کے چڈوں میں ھی پھنس گیا
    میں نے کوشش کر کے ہاتھ باہر نکالا اور آنٹی کا منہ دوسری طرف کرنے کے لیے آنٹی کی کمر میں بازو ڈال کر آنٹی کو گھما دیا انٹی آہستہ سے بولی کیا ھے میں نے کہا بتاتا ھوں منہ تو دوسری طرف کرو اور آنٹی نے
    لےےےےےےے کیا اور منہ دیوار کی طرف کر کے کھڑی ھوگئی ۔
    میں نے جلدی سے اپنا نالا کھولا شلوار کو ڈھیلا کیا تو شلوار میرے پاوں میں گر گئی ۔
    اور پھر آنٹی کی قمیض گانڈ سے اوپر کی اور شلوار پکڑ کر گانڈ سے نیچے کرنے لگا تو آنٹی نے جلدی سے شلوار پکڑ لی اور گھوم کر پھر سیدھی ھوگئی
    اور مجھے پیچھے کرتے ھوے بولی
    یاسر پاگل تو نھی ھوگئے
    اور ساتھ ھی کمرے سے باہر نکل گئی میرے منہ سے بس اتنا ھی نکلا بات تو سنننننن۔۔


    اور میں لن ھاتھ میں پکڑے آنٹی کو جاتا دیکھتا رھا۔
    مجھے غصہ تو بہت آیا کہ سالی خود تو فارغ ھوگئی مگر مجھے ادھورا چھوڑ کر چلی گئی
    میں نے جلدی سے شلوار اوپر کی اور نالا باندھ کر کھڑے لن کے ساتھ ھی چارپائی پر بیٹھ گیا. ۔
    سالی بستر بھی نھی لگا کر گئی تھی
    ویسے ھی چارپائی پڑی تھی جس پر میں بیٹھا
    سوچ رھا تھا اور نیچے سے میرا لن مجھے
    وکھرا منہ چڑھا رھا تھا ۔
    Last edited by Admin; 28-11-2018 at 12:25 PM.

  19. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    Lovelymale (29-11-2018), MamonaKhan (29-11-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •