سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 13 of 37 FirstFirst ... 39101112131415161723 ... LastLast
Results 121 to 130 of 366

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #121
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    572
    Thanks Thanks Given 
    38
    Thanks Thanks Received 
    342
    Thanked in
    211 Posts
    Rep Power
    66

    Default

    new updates??????????????????????????????????

  2. #122
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 91.??



    کلاس میں بھی عظمی کو بےچینی نے گھیرے رکھا۔
    اور سکول کے جتنا وقت بھی گزرا اسکا تجسس بڑھتا رھا کہ پتہ نئی خط میں کیا لکھا ھوگا

    عظمی کا بس نھی چل رھا تھا۔
    کہ ابھی گھر چلی جاے اور جاکر اپنے سپنوں کے شہزادے کے ہاتھ سے لکھا ہوا پہلا محبت نامہ پڑھ لے۔
    جیسے تیسے
    سکول کی چھٹی کا وقت ہوا اور
    چھٹی کی گھنٹی کی آواز عظمی کے کانوں میں پڑی تو عظمی کے چہرے پر سارے جہاں کی خوشی اور گھر پہنچنے کی بےچینی آگئی ۔

    سکول سے نکل اسد کے سکول کے آگے سے گزرتے ھوے بھی عظمی کی نظریں اسد کو ڈھونڈتی رہیں مگر وہاں نہ تو اسد تھا اور نک ھی اسد کی گاڑی
    عظمی مایوس ہوکر جلدی جلدی سے گھر پہنچی
    اور
    جاتے ھی بیگ کمرے میں رکھا اور واش روم کی طرف بھاگی ۔
    اور واش روم میں داخل ہوتے ھی جلدی سے اپنے بریزیر میں ہاتھ ڈالا اور
    پہلا محبت نامہ نکال کر
    اپنی آنکھوں کے سامنے کیا اور دھڑکتے دل کے ساتھ
    تحریر کو پڑھنے لگی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان سے پیاری عظمی


    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے۔
    ۔میرے پیاری عظمی جان میری آنکھوں میں بسے سپنے بہت!
    سوچا کہ تمہیں بتاؤں یا نہیں کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔


    ان حالات میں یہ بتانا مشکل ہے اس اظہار کے لیے راستہ ڈھونڈنا بہت مشکل تھا ۔
    سوچا اپنی محبت کا اظہار خط کے ذریعے کر دوں ۔


    مجھے اس بات کا خوف قطعاً نہیں کہ میرے خط کو تحریری ثبوت کے طور پہ کوئی پکڑ لے گا۔


    یہ زمانہ قدیم کی باتیں ہیں پھر میں اتنا نڈر تو ہوں کہ اپنے جذبات کا اظہار کھل کے کر سکوں ۔


    تم سوچتی ہو گی کہ مجھے خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ بات کسی اور طرح سے بھی کہی جا سکتی تھی ۔


    لیکن مجھے فینٹسی میں رہنا اچھا لگتا ہے تو سوچا خط لکھوں مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب تم میری روح میں آ بسی تمہیں عجیب لگے گا کہ میں اور روح کی بات تو سچا ئی یہی ہے تمہاری محبت نے مجھے بتایا کہ واقعی دنیا میں ایسے جذبے بھی ہیں جنہیں ڈیفائن نہیں کیا جا سکتا۔


    دو جمع دو کر کے بتایا نہیں جا سکتا تو یہی میرے ساتھ ہوا۔


    تم میری سوچ میں آ بسی ہو ۔
    جانتی ہو کہ وہ لوگ جن سے ہم محبت کرتے ہیں ان کی کوئی ادا، انداز، مسکراہٹ ،سوچنے ،محسوس کرنے یا بولنے کا انداز کب ہمارے وجود کا حصہ بن جاتا ہے ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا اور جس لمحے میں ہم یہ محسوس کرتے ہیں اس وقت تک وہ
    روح تک سما چکا ہوتا ہے ۔

    اور ایک مطمئن مسکراہٹ کے سوا کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا کہ محبوب روح میں اتر چکا ہے ہر سانس میں سما چکا ہے۔
    تب قربت اور ساتھ بے معنی ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ہے تم سوچتی
    ہو گی کہ یہ ولیوں کی باتیں ہیں مجھ جیسے مادیت پسند لڑکے کے منہ سے اچھی نہیں لگتی لیکن ایسا ہی ہوا ۔
    تم میری روح میری ذات کا اتنا مکمل حصہ ہو جیسے سانس لینے کا عمل۔


    کہ نہ لیا تو حرکت ختم زندگی ناپید۔


    نہیں جانتا ایسا کیوں ہوا ۔شائید جاننا چاہوں بھی نہیں ۔
    جب جذبوں کا پوسٹمارٹم ہو جاتا ہے وہ کھل کے سمجھ آ جائیں تو ان کی کشش اور چارم اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ دریافت میں یہی مسئلہ ہے کہ یہ اسرار کی گرہیں کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز بہت واضح ہو اس میں دلچسپی نہیں لیتا خواہ وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو۔
    تم جانتی ہو کہ مجھے ادراک ہے کہ تم اور میں دو مختلف دنیاؤں کے لوگ ہیں۔بغاوت اور روایت کی دنیا، حقیقت اور تخیل کی دنیا، بے فکری اور احساس ذمہ داری کی دنیا۔
    کبھی کبھی سوچنے لگتا ہوں کہ کیا ضروری تھا کہ مجھے تم سے ہی محبت ہوتی۔ جہاں ہجر کا طویل صحرا ہے اور دور تک نخلستان کا نام و نشان نہیں. میرے شاطر ذہن کو تمھارے ساده دل سے ہی شکست ہونا تھی۔ تو وصل و قربت کا کوئی تو امکان ہوتا کہ عقل دھوکے میں رہتی.لیکن نہیں وه محبت ہی کیا جو حقائق جانچے پرکھے اصول بنائے فرار کے راستے کھوجے مقصود کو حاصل کرنے کی جستجو میں دیوانہ وار کوشش کرے یہ تو ایسا جذبہ ہے جو جینے کی امنگ دیتا ہے .محبوب سے بات ہو نه ہو دل اسی سے محو کلام رہتاہے.اس کا خیال کٹھن ترین وقت کو بھی سہل کر دیتا ہے ۔
    جہاں حسن ہے، خوشی ہے ،سکون ہے،میرا جسم تمہاری قربت کا خواہاں ہے .ایک دھن ایک ردھم ہے جو ہر سو طاری ہے جس میں سر مستی و بے خودی ہے سودو زیاں کا خیال نہ کوئی خوف بس محبت، محبت اور محبت۔ میں جانتا ہوں تمہیں میری باتیں عجیب لگی ہوں گی ۔جھوٹ کا گمان گزرے گا ایسا ہونا بھی چاہیے ۔میں اپنی سچائی ثابت کرنے کی کوشش ہر گز نہیں کروں گا کہ میں خود بھی حیران ہوں کہ کیا یہ میرے ہی الفاظ ہیں؟
    یا مجھ میں کوئی اور بول رہا ہے ؟
    تمہارے جسم کی خوشبوں آج بھی مجھے اپنے آپ سے آتی
    تمہارے نازک اعضاء کو جو میرے ہاتھوں نے چھوا تھا
    تمہارے اس نرم نازک ابھار کا لمس آج بھی مجھے اپنے ہاتھوں میں محسوس ہوتا ھے
    ساری دنیا کی خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈال کر
    تمہیں اپنانا چاہتا ہوں
    مجھ سے تنہائی میں ایک ملاقات تمہیں میرے پیار کا ثبوت دے گی ۔۔


    خیر چھوڑو جو بھی ہے ۔مجھے تو بس تمہیں بتانا ہے۔یہ میرا تمہارے نام پہلا محبت نامہ ھے
    مجھے نھی پتہ کہ میں کیسا لکھ رھا ھوں کیا لکھ رھا ہوں
    میں کل تمہارے خط کا انتظار کروں گا
    اسی جگہ
    اگر نسرین کا خوف ھو
    تو میرے خط کا جواب میرے پاس سے گزرتے ھوے نیچے پھینک دینا میں اٹھا لوں گا ۔


    تمہاری ایک ملاقات اور قربت کا منتظر
    تمہارا خادم
    اسد

    عظمی خط کو پڑھ کو پھولے نھی سمارھی تھی
    عظمی نے دو تین دفعہ خط کو پڑھا اور خط کو لپیٹ کر پھر اپنے بریزیر میں رکھ کر واش روم سے باہر آگئی
    کھانا وغیرہ کھا کر کچھ دیر گھر کے کام کاج میں مصروف رھی
    اور پھر ٹیوشن کے لیے چلی گئی
    وہ سارا وقت خط کا جواب لکھنے کے بارے میں سوچتی رھی کے کیا لکھے اسے کچھ سمجھ نھی آرھا تھا کہ کیا لکھے اسے اسد کی طرح الفاظ کا چناو نھی کرنا آتا تھا اور جتنے مشکل الفاظ اسد نے خط میں لکھے تھے انکو سمجھنے کہ لیے بھی اس کو خط بار بار پڑھنا پڑا تھا۔

    اور وہ یہ سوچتی رھی کہ شہری لوگوں کا محبت کا اظہار کرنے کا طریقہ بھی کیا نرالا ھے اور محبت کے اظہار میں کہاں کہاں سے الفاظ ڈھونڈ کر لاتے ہیں

    اور ہم جیسے پینڈو تو بس سواے بونگیاں مارنے کے اور کچھ کر بھی نھی سکتے۔

    خیر
    ٹیوشن سے آکر
    رات کو موقع پاکر عظمی نے اپنے رجسٹر سے ایک ورق پھاڑ کر
    اسپر
    اپنے پہلے محبت نامے کا جواب لکھنا شروع کیا۔
    جان سے پارے اسد
    آپکا خط پڑھا
    دل کو بہت سکون ملا
    اسد جی میں نے بھی جب سے آپکو دیکھا ھے
    آپ کے ھی بارے میں سوچتی رھتی تھی
    مگر آپ سے بات کرنے آپ سے ملنے کا موقع میسر نہ ہوا
    جس کی وجہ میرے ساتھ میری سڑیل بہن اور میرا سڑیل کزن تھا۔

    اس دن آپ نے باغ میں مجھے جب چھوا تھا
    تو آپ کے ہاتھوں کے لمس نے رات بھر مجھے بے چین رکھا
    میرا خود دل کررھا تھا کہ ابھی اڑ کر آپ کی بانہوں میں چلی جاوں اور آپ مجھے اپنی بانہوں بھر کر سینے سے لگا لیں
    اور یوں ھی رات بیت جاے
    آپ سے ملنے کو میرا بھی بہت دل کرتا ھے مگر آپ کے سامنے میری مجبوری بھی ھے
    آپ دعا کریں کہ کبھی ایسا موقع آجاے کہ میں اکیلی سکول آوں اور پھر ہم دونوں جہاں مرضی مل سکیں
    اس وقت کا آپ بھی انتظار کریں اور میں بھی
    اور ایک بات کہنی تھی ناراض مت ہونا۔
    نسرین اور یاسر کے سامنے مجھ سے بات مت کیا کریں انکو شک ھوجاے گا
    اور خاص کر میرا وہ کزن یاسر بہت سڑیل ھے اور مجھے تو وہ ذہر لگتا ھے
    خود کو پتہ نھی کیا سمجھتا ھے ۔
    میں بھی پتہ نھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ۔
    اچھا اب اجازت چاھتی ہوں
    جب موقع ملا آپ کو بتا دوں گی

    آپکی صرف آپکی خادمہ
    عظمی ۔

  3. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    hot_irfan (27-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  4. #123
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 92..??



    عظمی نے جیسے تیسے خط مکمل کیا اور اسکو طے کر کے اپنے بریزیر میں رکھ لیا اور صبح کا انتظار کرنے لگی سوچتے ھوے اسے پتہ نھی چلا کہ رات کے کس پہر اسکی آنکھ لگ گئی اور صبح نسرین کے اٹھانے پر وہ اٹھی
    اور سکول کی تیاری میں مصروف ھوگئی
    جلدی جلدی ناشتہ کیا اور سکول کہ لیے نکلنے لگی تو
    عظمی کی امی نے کہا۔

    کہ پتر
    تمہارا بھائی ٹھیک ھوگیا ھے اس سے پوچھتی جانا شاید آج وہ بھی دکان پر جاے تو اسکے ساتھ چلی جانا۔

    تو عظمی منہ بنا کر بولی
    امی ہمیں پہلے ھی دیر ھورھی ھے
    اسکو جانا ہوتا تو ابھی تک اجانا تھا۔

    اور امی کا جواب سنے بغیر دونوں باہر نکل گئیں

    سکول والی گلی میں پہنچ کر عظمی جان بوجھ کر
    دوسری طرف چلنے لگی جس طرف کل اسد کہ کار کھڑی تھی

    اسد کے سکول کے قریب پہنچ کر عظمی کو اسد کھڑا نظر آگیا۔

    آج بھی اسد بہت پیارا لگ رھا تھا۔

    نسرین اسد کو دیکھتے ھی دوسری طرف جانے لگی تو عظمی بولی
    اسطرف ھی چلا اگر آج اس نے روکا تو میں تمہارے سامنے اسکی بےعزتی کروں گی ۔

    نسرین حیرانگی عظمی کا منہ تکنے لگی تو بےیقینی سے بولی خیر ھے ایک دن میں ھی اتنی تبدیلی

    تو عظمی بولی میں نے رات بھر تمہاری بات پر غور کیا کہ تم سہی کہتی تھی
    یار ھو گا تو یاسر کا ھوگا ہمیں اس سے کیا لینا۔

    اتنی دیر میں دونوں چلتی اسد کے قریب پہنچی
    عظمی نے بڑی چلاکی سے خط پہلے ھی مموں سے نکال کر ھاتھ میں پکڑ لیا تھا
    اور اسد کے پاس سے انجان بن کر گزرتے ھوے اس نے بڑی فنکاری سے اپناپہلا محبت نامہ محبوب کے قدموں میں پھینک دیا اور نسرین کو پتہ بھی نھی چلنے دیا
    اور دونوں سکول کی طرف بڑھ گئیں ۔

    اسد نے جلدی سے خط اٹھایا اور جلدی سے کار میں بیٹھ کر بے چینی سے جلدی جلدی سے خط کو کھولنے لگا ۔اور جیسے جیسے اسد خط پڑھتا جاتا
    اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آتی جاتی اور
    آخری الفاظ پڑھ کر قہقہہ لگا کر ہنسا اور بڑبڑاتے ھوے بولا
    ھا ھا ھا
    تمہاری صرف تمہاری
    ۔ھھھھھھھھھب
    عظمی
    ھھھھھھھب
    اور خط کو مرؤڑ کر ڈسٹ بین میں پھینک کر
    کار کو سٹارٹ کیا اور تیزی سے گاڑی کو گھما کر گرلز کالج کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
    عظمی کلاس میں بیٹھی اپنے محبوب کے بارے میں رھی تھی کہ اسد کتنا خوش ھوا ھوگا میرا خط پڑھ کر
    کیسے اس نے بار بار چوما ھوگا میرے خط کو
    کتنی بار پڑھا ھوگا خط کو
    کیسے رات کو بھی خط کو سینے سے لگا کر سوے گا ۔
    سکول سے چھٹی ہوئی تو عظمی نسرین کو لے کر سکول سے نکلی اور بوائز سکول کے سامنے سے گزرتے ہوے
    اسکی نظر پھر اسد کو ڈھونڈتی رہی
    مگر اسد اسے نظر نہ آیا
    راستے میں نسرین بار بار اپنی کمر پر ہاتھ رکھتی اور مشکل سے چل رہی تھی ۔
    عظمی نے نسرین کی حالت دیکھ کر اسے پوچھا کہ کیا ہوا ھے طبعیت تو سہی ھے ۔


    تو نسرین نے بتایا کہ میری کمر میں پتہ نھی کیوں درد ہورھی ھے ۔


    تو عظمی بولی کوئی بھاری چیز تو نھی اٹھائی تو
    نسرین بولی نھی میں نے کونسی بھاری چیز اٹھانی ھے ۔
    تو عظمی بولی گھر چل کر بام لگا کر ٹکور کر لینا ۔
    نسرین بولی ۔
    مجھے تو لگتا ھے جیسے ماہواری کے ہونے والی ھی بس آج کل میں ھی اسی لیے میرا یہ حال ہو رھا ھے ۔


    عظمی بولی ہوسکتا ھے ایسا ھی ھو۔


    میرے سے دس دن بعد ھی تمہاری تاریخ آتی ھے
    اور مجھے تو نہاے ھوے بھی تین دن ہوگئے ہیں اس حساب سے تو تم دو دن لیٹ ھو۔


    نسرین بولی
    ہر مہینے ھی ایسا ھوتا ھے کبھی دو دن پہلے خون آنا شروع ھو جاتا ھے تو کبھی بعد میں ۔


    کل پیپر بھی ھے اور دعا کرو مذید ایک دن گزر جاے ورنہ مجھے کل سکول سے چھٹی کرنی پڑ جاے گی ۔


    یہ سنتے ھی عظمی کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی
    کہ عنقریب
    وصل یار کا موقع میسر ہونے والا ھی ھے ۔


    نسرین کی حالت کو بھول کر اسکی اپنی پھدی میں خارش شروع ھوگئی ۔
    اس کو ساتھ یہ بھی پریشانی لاحق تھی کہ اگر کل نسر ین نہ آئی اور یاسر کل ساتھ آگیا تو کیسے اسد کے ساتھ ملاقات ہوگی
    انہیں سوچوں میں گُم وہ گھر پہنچ گئیں ۔
    باقی کا دن بھی کچھ ٹیوشن میں گزر گیا کچھ گھر کے کام کاج میں
    رات کو عظمی نے نسرین سے پوچھا کے کیسی طبعیت ھے بلیڈنگ شروع ھوئی کہ نھی ۔
    نسرین نے بتایا کہ ابھی تک تو نھی
    صبح ھی پتہ چلے گا ۔
    دعا کرو نہ ھی ہو نھی تو کل کا پیپر ضائع ہو جانا ھے ۔


    عظمی بولی تم پریشان نہ ھو جو ھوگا بہتر ھی ھوگا ۔
    رات جیسے تیسے گزری۔


    صبح بھی نسرین کو بلیڈنگ نہ ہوئی اور دونوں سکول کی تیاری کرنے لگ گئی ۔
    تیار ہوکر ابھی ناشتہ ھی کررھی تھیں ۔
    کہ یاسر آگیا
    یاسر کو دیکھ کر عظمی پریشان ہوگئی کہ اب کیا ھوگا
    میں تو آج بڑی پلاننگ کئے ھوے تھی مگر نہ نسرین نے چھٹی کی اور اوپر سے یہ یاسر بھی آن ٹپکا۔


    یاسر نے امی کے ساتھ
    سلام دعا لی حال احوال بتانے کے بعد
    تینوں گھر سے نکل پڑے
    صدف کو ساتھ لیا اور شہر کی طرف چل پڑے راستے میں بھی کچھ خاص بات نہ ہوئی ۔
    صدف اپنی اکیڈمی کی طرف چلی گئی اور یاسر کے ساتھ دونوں
    سکول والی گلی میں داخل ہوگئی ۔
    عظمی کا دل دھک دھک کررھا تھا
    کہ کہیں اسد پھر نہ راستے میں کھڑا ھو ۔
    اگر یاسر نے اسے یوں کھڑے دیکھ لیا تو اسکو شک ہوجانا ھے
    اور اگر یاسر نے نسرین سے پوچھ لیا تو نسرین نے تو سب کچھ بتا دینا ھے ۔
    انہی سوچوں میں وہ سکول کی طرف چلی آرھی تھی اور دل میں دعائیں مانگ رھی تھی کہ اسد کا سامنا نہ ھی ھو۔


    آخر کار تینوں بوائز سکول کے قریب پہنچے تو عظمی نے سکھ کا سانس لیا
    کیونکہ اسکو اسد نظر نھی آیا
    یاسر انکو سکول کے گیٹ پر چھوڑ کر دکان پر چلا گیا ۔


    عظمی اور نسرین کا پیپر دس بجے شروع ھونا تھا
    مگر ابھی آٹھ بجے تھے دو گھنٹے وہ دونوں کلاس میں بیٹھی پیپر کی مذید تیاری میں مصروف تھی۔
    کہ نسرین پھر ھوے ھوے کرنے لگ گئی ۔
    عظمی نے نسرین کو تکلیف میں دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا پھر درد شروع ہوگئی ھے ۔
    تو نسرین بولی
    عظمی مجھ سے تو بیٹھا بھی نھی جارھا
    اور نیچے بھی گیلا گیلا محسوس ھورھا

    یہ نہ ھو کہ ادھر ھی بلیڈنگ شروع ھوجاے ۔
    عظمی بولی تم نے انڈرویر پہنا ھے کہ نھی ۔
    تو نسرین بولی ۔
    ہاں میں نے تو رات کو ھی پہن لیا تھا
    کہ کہیں کپڑے نہ خراب ہوجائیں ۔
    عظمی بولی
    کچھ نھی ہوتا برداشت کرو


    نسرین بھی درد کو برداشت کررھی تھی
    اور ساتھ ساتھ پیپر کی تیاری بھی کررھی تھی ۔
    عظمی پلاننگ کرنے لگ گئی کہ کل تو پکا نسرین نھی آے گی اور رھا یاسر کا مسئلہ تو یاسر سے پہلے اگر میں امی سے بہانہ لگا کر آجاوں تو یاسر کو بھی پتہ نھی چلے گا ۔
    اور میں اسد سے تین گھنٹوں کی ملاقات بھی کرسکوں گی
    کیوں کہ پیپر تو دس بجے شروع ہونا ھے
    اور اگر میں گھر سے سات بجے بھی نکلوں تو اسد سے ملاقات کر کے پیپر شروع ھونے تک سکول پہنچ سکتی ہوں ۔


    اور پھر سوچنے لگ گئی کہ اسد کو کیسے بتاوں گی کہ کل ہم نے ملنا ھے ۔


    یہ سوچ کر عظمی نے جلدی بیگ سے کاپی نکالی اور ایک ورق پھاڑ کر اس پر
    اسد کو کل کی ملاقات اور وقت کے بارے میں لکھ کر کاغذ کو طے کر کے اپنے ممے میں رکھ لیا ۔



  5. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    hot_irfan (27-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  6. #124
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 93..??



    پیپر دینے کے بعد
    دونوں سکول سے نکلیں تو نسرین سے چلنا دشوار ہو رھا تھا ۔
    جیسے ھی وہ اسد کے سکول کی پاس پہنچیں تو اسد پھر انکے سر پر آٹپکا اور
    نسرین کو سلام کیا اور عظمی کو آنکھوں سے سلام کرنے کے بعد نسرین کو مخاطب کر کے بولا ۔


    آپی اگر آپ کہیں تو آپکو گاوں تک ڈراپ کردوں
    میں بھی ادھر ھی جارھا ھوں ۔


    نسرین بولی
    نھی بھائی ہم چلی جائیں گی ۔


    اسد نے پھر کہا مگر نسرین نے سختی سے جب منع کیا تو
    اسد خاموش ہوگیا
    اور نسرین آگے بڑھ گئی عظمی اسی تاک میں تھی کہ نسرین اس سے کچھ آگے ھو
    تو وہ رقعہ اسد کو پکڑا دے یا اسے دیکھا کر نیچے پھینک دے ۔


    جیسے ھی نسرین تین چار قدم آگے بڑھی تو
    عظمی نے جلدی سے اپنے ممے سے رقعہ نکالا اور
    اسد کو دیکھاتے ھوے اپنے پیروں میں پھینک کر جلدی سے نسرین کے پیچھے چل پڑی
    اور کچھ دیر بعد
    پیچھے مڑ کر دیکھا تو
    اسد نے رقعہ نیچے سے اٹھا لیا تھا
    اور اسکو اپنی طرف دیکھ کر باے باے کا اشارا کیا۔


    نسرین اور عظمی گھر پر پہنچی تو
    نسرین کا انڈرویر راستے میں ھی خراب ہونا شروع ھوگیا تھا
    اور گھر تک پہنچتے اسکی شلوار پر بھی خون کا دھبہ لگ گیا تھا۔


    نسرین جلدی سے واش روم میں گھس گئی اور شلوار اتار کر پھدی کو دیکھنے لگ گئی جس سے ہلکا ہلکا خون رس رھا تھا


    نسرین نے ایک کپڑا لیا اور اسکو طے لگا کر پھدی پر رکھا اور پھر دوسرا انڈرویر پہن دوسرے کپڑے پہن لیے اور آکر کمرے میں لیٹ گئی ۔




    عظمی کے خوشی کے مارے پاوں زمین پر نھی لگ رھے تھے ۔


    کچھ دیر بعد عظمی واش روم میں داخل ہوئی اور سارے کپڑے اتار کر پھدی کو دیکھنے لگ گئی پھدی پر کافی بال آچکے تھے
    عظمی نے واش روم پڑی پیالی میں بال صفا کے پاوڈر کو ڈالا اور تھوڑا سا پانی ڈال کر اسکو مکس کر کے ہاتھ سے پھدی پر لیپ کرنے لگ گئی اچھی طرح پھدی کے بالوں پر لیپ لگا کر
    اسکے سوکھنے کا انتظار کرنے لگ گئی ۔
    دس منٹ بعد عظمی نے پھدی پر پانی ڈالا
    تو نیچے سے چمکتی ہوئی اسکی صاف چٹی پھدی نکل آئی عظمی ہاتھ سے رگڑ رگڑ کر پھدی کو اچھی طرح دھو رھی تھی ۔


    پھدی کو دھونے کے دوران جب عظمی کی انگلیاں پھدی کے دانے کو مسلتیں تو عظمی کے جسم میں مزے کی لہر دوڑ جاتی ۔


    اور عظمی آنکھیں بند کرکے مزے کی اس لہر کا انجواے کرتی ۔


    کچھ دیر بعد عظمی نے پھدی اور ٹانگوں کو اچھی طرح دھویا اور
    تاول سے ٹانگوں کو اور پھدی والے حصے کو اچھی طرح صاف کیا

    اور کپڑے پہن کر باہر آئی
    تو اسکی امی بولی
    سوگئی تھی کیا واش روم اتنی دیر لگا دی ۔


    عظمی بولی امی نہا رھی تھی
    گرمی بہت لگ رھی تھی ۔آپ بھی نہ ہر وقت نوکا ٹوکی کرتی رہتی ھو ۔




    اور یہ کہتے ھوے عظمی کمرے میں چلی گئی
    اور اسکی امی اس کے تلخ لہجے پر اسکا منہ ھی تکتی رہ گئی
    اگلے دن عظمی چھ بجے ھی اٹھ کر تیار سکول کے لیے تیار ہونے لگ گئی
    تو اس کی امی نے پوچھا خیر ہے اتنی جلدی سکول جانے کی تیاری کر رھی ھو
    یاسر کو تو آنے دو
    تو عظمی تلخی سے بولی
    مجھے جاکر پیپر کی تیاری کرنی ھے میری دوست نے مجھے پیپر کے گیس دینے ہیں ۔
    اب میں اس نواب ذادے کے انتظار میں بیٹھی رہوں ۔


    تو عظمی کی ماں بولی
    پتر تم اکیلی کیسے جاو گی ۔


    تو عظمی جھوٹ بولتے ھوے بولی
    کہ میں باجی صدف کے ساتھ جاوں گی
    کوئی نھی مجھے کھانے لگا
    آپ بھی بس وہ پرانے زمانے کا ذہن لے کر سوچتی ھو ۔


    اور یہ کہتے ھوے عظمی ناشتہ کئے بغیر اپنا بیگ اٹھا کر
    سات بجے سے ھی پہلے سکول کے لیے نکل گئی۔
    اور اس کی امی اپنی بیٹی کا منہ تکتی رھ گئی ۔


    صدف تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی شہر کی طرف جارھی تھی
    آج اسے گاوں سے شہر تک کا سفر بھی پہاڑ لگ رھا تھا
    راستہ تھا کہ ختم ہونے کا نام نھی لے رھا تھا۔


    جب عظمی پل کراس کر کے کچھ ہی آگے گئی تھی کہ اسے اسد کی کار اپنی طرف آتی ہوئی نظر آئی ۔


    کار کو دیکھ کر عظمی کا دل ذور ذور سے دھڑکنے لگا ۔


    کچھ ھی دیر بعد کار عظمی کے قریب آکر رکی ۔
    تو عظمی نے دھڑکتے ہوے دل کہ ساتھ
    کار میں بیٹھے اپنے محبوب کو دیکھا اور شرما کر نظریں جھکا لیں
    اسد نے کار کا دروازہ کھولا اور اسے اندر بیٹھنے کا اشارا کیا


    عظمی نے پہلے ادھر ادھر
    دیکھا کہ کوئی گاوں کا جاننے والا تو نھی آ جا رھا
    اور تسلی کر کے جلدی سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی اور دروازہ بند کردیا ۔


    اسد نے بازوں آگے کیا اور ہاتھ عظمی کے پٹوں کے ساتھ رگڑتے ہوے دوبارا کار کا دروازہ کھول کر زور سے بند کیا
    اور عظمی کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوے کار واپس موڑنے لگا
    عظمی کا دل گھبرا بھی رھا تھا
    اور اندر سے خوشی کے لڈو بھی پھوٹ رھے تھے ۔
    پہلی دفعہ کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر وہ خود کو رئیس زادی محسوس کر رھی تھی ۔
    کچھ دیر دونوں خاموش رھے ۔


    تو اسد نے کہا کہاں چلیں ۔


    تو عظمی مشرقی لڑکی بنتے ھوے
    بولی
    بس مجھے سکول ڈراپ کر دیں ۔


    تو اسد مسکرا کر
    بولا
    سکول میں تو ابھی گیٹ مین بھی نھی آیا ھوگا
    تو عظمی سر نیچے کیے ھوے اپنی انگلیاں چٹختے ھوے بولی
    ججی وہ ہوسکتا ھے آگیا ھو۔


    تو اسد بولا
    کیا صرف سکول ڈراپ کرنے تک ھی یہ ملاقات محدود ھے ۔


    تو عظمی کی سمجھ میں کچھ نھی آرھا تھا کہ کیا کہے وہ بس شرماے جارھی تھی ۔


    اسد نے پھر کہا
    بتائیں کدھر جانا پسند کریں گی کسی ہوٹل میں یا پھر میں اپنی مرضی سے لے جاوں ۔
    عظمی آہستہ سے بولی ۔
    جیسے آپ کی مرضی مجھے کیا پتہ کہ کونسی جگہ سہی ھے ۔


    تو اسد مسکراتے ھوے سامنے دیکھنے لگ گیا
    کچھ ھی دیر بعد اسد نے گاڑی ایک سنسان سڑک کی طرف موڑ دی
    تو عظمی سامنے سامنے سنسان راستہ دیکھ کر کچھ گبھرا گئی
    اور پریشانی سے اسد کی طرف دیکھنے لگ گئی ۔


    اور گبھراتے ھوے بولی
    ادھر کدھر جارھے ہیں ۔


    تو اسد قہقہ لگا کر ہنسا اور بولا تمہیں اغواہ کرنے لگا ہوں ۔


  7. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    hot_irfan (27-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  8. #125
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 94..??



    عظمی اسد کی بات سن کر اندر سے گبھرا گئی مگر پھر بھی خود پر کنٹرول کرتے ھوے بولی
    اسد سہی بتاو اسطرف کیوں جارھے ھو
    تو اسد پھر ہنستے ھوے بولا
    ڈر گئی نہ
    ھھھھھھھھھھ
    عظمی بولی نھی اسد اگر ڈرتی ہوتی تو تمہارے ساتھ آتی ھی نہ۔

    اسد بولا
    تو پھر گبھراو نہ
    ہم ایسی جگہ جارھے ہیں جہاں صرف میں اور تم ہو گی

    اور میں جی بھر کر اپنے سپنے کو پورا کرسکوں گا

    عظمی بولی
    کون سا سپنا ہے جناب کا

    تو اسد مسکر کر بولا

    لگ جاے گا پتہ
    اتنی دیر میں اسد نے کار کو سڑک سے اتار کر ایک کچے راستے کی طرف موڑ دیا
    اور کچھ آگے جا کر ایک پرانی سی حویلی نظر آنے لگ گئی
    جیسے کسی زمیندار کا ڈیرا ہو۔

    اسد نے کار حویلی کے گیٹ کے باہر روکی
    اور ہارن بجایا تو
    کچھ دیر بعد گیٹ کھلا اور ایک اونچا لمبا جوان بڑی بڑی مونچھوں والا بدمعاش ٹائپ کا آدمی نمودار ہوا
    جس کو دیکھ کر عظمی کے ہاتھ پیر پھول گئے اور وہ گبھرا کر اسد کو بولی

    ییییہ کون ھے اسسد
    اسد نے ہنستے ھوے کہا
    تم کیوں ڈر گئی ھو
    یہ یار ھے اپنا

    عظمی نے دوبارا
    اس آدمی کی طرف غور سے دیکھا ۔
    جو سات فٹ لمبا چوڑھے کندھوں کا مالک انتہائی مکرو شکل کا تھا
    اور وہ سگریٹ کا کش بھر کر
    اسد کو اشارے سے کار اندر لانے کو کہہ رھا تھا۔

    عظمی نے جب غور سے اسکو دیکھا تو
    وہ مزید ڈر گئی
    اور اسد کو کہنے لگی۔

    اسسسسد واپسسس چلو مجھے نھی اندر جانا

    تو اسد عظمی کو ڈرے ھوے دیکھ کر اسے پچکارتے ھوے بولا۔

    میری جان تم کیوں خامخواہ ڈر رھی ھو

    یہ جگر ھے اپنا
    تم میرے ساتھ ھو
    پھر بھی ڈر رھی ھو ۔

    تو عظمی کچھ سنبھلی مگر پھر بھی اسکی ٹانگیں کانپ رھی تھی اور
    ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ھوگئے تھے
    جسکو وہ اپنی چادر سے
    صاف کررھی تھی
    اتنی دیر میں اسد کار کو گیٹ کے اندر لے جاچکا تھا
    اور اس آدمی نے گیٹ بند کردیا تھا

    اسد نے کار کا دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا اور
    عظمی کو بھی باہر آنے کا کہا۔
    مگر عظمی کو ایک انجانے سے خوف نے گھیرا ھوا تھا۔

    اسد نے جب عظمی کو سوچ میں پڑے دیکھا تو
    جلدی سے کار کے اگے سے گھوم کر دوسری طرف آیا اور خود ھی کار کا دروازہ کھول کر عظمی کو پیار سے بازو سے پکڑ کر باہر آنے کا کہا

    عظمی پھر بولی اسد پلیز چلو یہاں سے مجھے بہت ڈر لگ رھا

    تو اسد بولا یار تمہیں مجھ پر یقین نھی ھے کیا جو تم ایسے کررھی ھو میرا دوست کیا سوچے گا ۔

    کہ اسکی بھابھی اتنی نک چڑھی ھے ۔

    عظمی نے جب اسد کے منہ سے بھابھی کا لفظ سنا تو
    عظمی کا سارا ڈرا خوف ایکدم سے جاتا رھا اور وہ اسی میں ھی خوش ھوگئی کہ اسد نے تو مجھے اپنی بیوی بنانے کا بھی سوچ لیا ھے اسی لیے اس کے دوست کی بھابھی ہوئی ۔

    عظمی باہر نکلی اور اسد کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔

    اتنے میں وہ بڑی بڑی مونچھوں والا شخص دھوتی اور لمبا سا کرتا پہنے چلتا ہوا اسد کے پاس آیا اور
    عظمی کی طرف اپنی سرخ بڑی بڑی سی آنکھوں سے گھورتے ہو ے اسد سے بڑی گرمجوشی سے گلے ملا اور اسد کا حال احوال پوچھنے لگ گیا ۔
    اس دوران بھی اس کی نظریں عظمی پر ھی جمی ھوئی تھیں
    اور بڑی ہوس بھری نظروں سے عظمی کو سر سے پاوں تک دیکھ رھا تھا۔

    عظمی اسکی نظروں کی تاب نہ لاتے ھوے اس سے پیچھے ہٹ کر دوسری طرف منہ کرکے کھڑی ہوگئی
    مگر اب بھی اسے ایسے محسوس ھورھا تھا کہ
    اس آدمی کی آنکھیں اسکی گانڈ میں چُبھ رھی ہیں ۔

    اسد سے گلے ملے ھوے وہ شخص ہنس ہنس کر اسد سے باتیں کررھا تھا
    اور پھر دونوں علیحدہ ہوے تو اسد نے عظمی کو دوسری طرف منہ کیے کھڑے ھوے دیکھا
    تو عظمی کو مخاطب کر کے بولا

    عظمی ان سے ملو یہ میرا یار اکری جموں ہے
    اس علاقے کا بادشاہ ھے بادشاہ
    مگر اپنا جگر ھے
    اور اکری یہ میری ہونی والی بیگم اور تمہاری بھابھی عظمی ھے ۔
    اکری نے پھر عظمی کو سر سے پاوں تک دیکھا اور
    بولا واہ یارا
    کیا بھابھی ڈھونڈی ھے
    ہیرا ھے ہیرا

    خوش قسمت ہو جو ایسی بیگم مل گئی

    اسد بولا

    یار اب ادھر ھی ہمیں کھڑے رکھنا ھے
    یا ہمیں ہمارا کمرہ بھی دیکھاو گے

    تمہاری بھابھی کے پاس صرف دو گھنٹے ہیں

    پھر میں نے اسے سکول بھی چھوڑنے جانا ھے ۔

    اکری گلا پھاڑ کر ہنستے ھوے بولا

    او یارا ۔یہ ساری حویلی ھی تیری ھے
    جس کمرے میں دل کرتا ھے اس میں بے فکر ہوکر چلا جا یہاں تیرے یار کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نھی مار سکتی ۔

    اور اکری پھر بڑے غور سے عظمی کے ابھاروں کو جو چادر میں بھی نظر آرھے تھے انکو دیکھتے ھوے بولا

    چلیں بھابھی جی آپکو آپ دونوں کا کمرہ دیکھاوں ۔

    عظمی اکری کی جب انکھوں کو دیکھتی تو اس کا جسم کانپ جاتا
    مگر پھر وہ جب بھابھی شبد اس کے منہ سے سنتی تو اسے کچھ حوصلہ ہو جاتا ۔

    اکری بڑی شان سے اسد اور عظمی کے آگے چلتا ھوا
    حویلی کے اندر بنے کمروں کی طرف بڑھنے لگا
    اور برآمدے سے ھوتا ھوا ایک بڑے سے دروازے کو کھول کر اندر داخل ھوا تو عظمی اندر داخل ھوتے ھی حیرانگی سے اندر بڑے سے حال کو دیکھنے لگ گئی
    باہر سے بوسیدہ حالت دکھنے والی حویلی اندر سے ایک شان دار محل لگ رھی تھی

    اسے کہتے ہیں
    ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہوتے ہین
    اور کھانے کے اور ہوتے ہیں ۔

    عظمی حیرانگی سے حال کو چاروں طرف دیکھے جارھی تھی
    جس میں ہر چیز اپنے قمیتی ہونے کا اعلان کررھی تھی ۔

    حال کے اندر کافی سارے دروازے تھے
    جو شاید کمروں کے تھے ۔
    اکری نے جب عظمی کو حیران پریشان ھوتے دیکھا تو اپنی مونچھوں کو تاو دیتے ھوے بھاری بھرکم آواز میں بولا۔

    کیوں پرجائی ساڈا غریب خانہ چنگا لگیا

    تو عظمی صرف سر ہلا کر رھ گئی
    اور پھر اکری چلتا ھوا ان کمروں کے درمیان والے کمرے کی طرف بڑھا جس کا دروازہ باقی کمروں کے دروازوں سے بڑا تھا اور
    دروازہ. کھول کر کسی خادم کی طرح جھک کر ہاتھ سے عظمی کو اندر جانے کا اشارا کرتے ھوے بولا

    یہ آپ دونوں کا کمرہ ھے
    یہاں پر کسی قسم کی پریشانی مت لینا
    بے خوف ھو کر جب تک چاہیں رہیں ۔

    اور اسد کو مخاطب کرکے بولا

    چن مکھنا کسے شے دی لوڑ ھوے تے دس دیویں
    اور ہنستا ھوا
    باھر چلا گیا۔

    عظمی نے جب کمرے کا جائزہ لیا تو اسے ایسے لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رھی ھے
    کمرے میں بڑا جہازی سائز کا بیڈ اور سامنے بڑی سی الماری جس میں فل سائز کا ٹیلی ویژن اور وی سی آر پڑا تھا
    اور کمرے کی دوسری دیوار پر بڑا سا شیشے کا ریک بنا ھوا تھا جس میں
    مہنگے سے مہنگا ڈیکوریشن پیس لگا ہوا تھا
    بیڈ کے اوپر اے سی لگا ہوا تھا جو شاید پہلے سے چل رھا تھا جس کی وجہ سے کمرا کافی ٹھنڈا تھا۔

    عظمی کو حیرانگی سے کمرے کی ایک ایک چیز دیکھتے ھوے
    اسد آگے بڑھا اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر قریب کرتے ھوے
    ہاتھ اسکے منہ کی طرف لیجا کر عظمی کا نقاب ہٹا دیا
    اور بولا اب تو چاند سے پردہ ہٹا دو کہ ہمیں بھی دیدار یار ھو جاے
    اور ساتھ ھی اسکی چادر پکڑ کر اتاری اور بیڈ کے ایک طرف پھینک دی
    اور عظمی کو بازوں سے پکڑ کر سینے کی طرف کھینچا
    اس سے پہلے کہ اسد عظمی کو جپھی ڈالتا یا اس کے گول تنے ہوے مموں کو پکڑتا کہ اچانک ۔۔۔۔۔۔

  9. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    hot_irfan (27-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  10. #126
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 95??



    عظمی اسد کو پیچھے کرتی ہوئی بولی
    جناب پہلے دروازہ تو لاک کرلیں ۔
    اسد عظمی کو چھوڑ کر دروازہ بند کرنے کے لیے گیا تو باہر نکل گیا
    عظمی نے جلدی سے اپنی چادر اٹھائی اور اپنے اوپر اوڑھ کر بغلوں مین ہاتھ دے کر اسد کو باہر جاتا ھوا دیکھنے لگ گئی اسے حیرانگی بھی ہوئی کہ یہ باہر کیوں چلا گیا ھے
    اور پھر بیڈ کی طرف دیکھنے لگ گئی کہ اتنے نرم بیڈ پر سیکس کرنے میں کتنا مزہ آے گا اور پھر اسکی نظر ایک کونے میں پڑے شاندار ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جس پر بڑے سائز کا شیشہ لگا ہوا تھا وہ بے اختیار ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگ گئی
    کہ ایکدم اسکے ضمیر نے اسے جنھجوڑا
    کہ اے بیوقوف لڑکی تو کیا کرنے جارھی ھے
    کیا تیرا کنوارہ پن باقی ھے اگر تو اسد سے شادی کرنا چاھتی ھے تو شادی سے پہلے اس سے چودوانے چلی ھے تاکہ اسے پہلے جی پتہ چل جاے کہ تو کسی اور سے بھی چدوا چکی ھے
    پھر کیا وہ تجھ سے شادی کرے گا ہرگز ھی نھی
    اور تو صرف اس کی رکھیل بن کر رھ جاے گی ۔
    جیسے تو یاسر کی رکھیل ھے
    یاسر تو شاید تم سے شادی بھی کرلے مگر اسد تجھے چودنے کے بعد تجھ پر تھوکے گا بھی نھی
    آج تو دومنٹ کے چسکے کے لیے یاسر کو دھوکہ دے کر اس کے ھی دوست سے چداوانے چلی ھے اور پھر اس سے شادی کے خواب دیکھ رھی ھے
    کہاں وہ امیر زادہ شہری بابو کہاں تو غریب گھرانے کی گاوں میں رہنے والی معمولی سی لڑکی
    اگر تجھے اسد سے شادی کرنی ھی ھے یا تو یہ دیکھنا چاھتی ھے کہ اسد تم سے سچا پیار کرتا ھے اور واقعی تم سے شادی کرنا چاھتا ھے تو اس سے چدواے بنا ھی یہاں سے چلی جا اور دیکھ اسد تجھے کیا کہتا ھے ۔

    عظمی ابھی اپنے ضمیر کی جھاڑ سن ھی رھی تھی کہ اسے اچانک اپنے کندھوں پر ھاتھ محسوس ھوے تو اس نے جلدی سے گھوم کر دیکھا تو اسد کھڑا مسکرا رھا تھا
    دونوں ارنے قریب تھے کے دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے منہ پر پڑ رھی تھیں اور عظمی کے ممے اسد کے سینے کے ساتھ لگ رھے تھے عظمی ایکدم گبھرا کر پیچھے ھوئی تو ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ اسکی گانڈ لگ گئی
    اسد اس کے اور قریب ھوا اور عظمی کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ھوے بولا
    جناب اپنے حسن کا جائزہ لے رھے تھے
    کیا خود ھی اپنے آپ کو نظر لگانے کا پروگرام ھے ۔ عظمی گبھرا کر اسد کو پیچھے کرتے ھوے پھر دروازے کے پاس آگئی اور
    بند دروازے

    کی طرف دیکھنے لگ گئی

    جب اسد واپس اسکی طرف مڑا تو عظمی بولی یاسر کنڈی تو لگا دو

    یاسر ہنس کر بولا

    جان یہ آٹولاک ھے
    انکی کنڈیاں نھی ہوتی
    عظمی نے جب غور سے دیکھا تو واقعی دروازے پر کوئی کنڈی نھی لگی تھی ۔
    عظمی شرمندہ سی ہوگئی
    اپنے پینڈو پن پر ۔
    اسد پھر عظمی کے پاس آکر کھڑا ھوگیا
    اور بولا یار تم نے پھر چادر اوڑھ لی مجھ سے کیسی شرم
    اور پھر عظمی کو ساتھ لگانے لگا تو عظمی بولی ۔
    اس ایک منٹ رکو تو سہی

    اسد برا سا منہ بنا کر بولا کیوں کیا ھوا

    تو عظمی بولی ایک بات تو بتاو
    اسد جنجھلا کر بولا یار یہ وقت باتیں کرنے کا نھی ھے

    باتیں کرنے کے لیے ساری زندگی پڑی ھے
    مگر عظمی اسد کو پیچھے کرتے ھوے بیڈ پر بیٹھ گئی
    اور اسد
    عظمی کا منہ تکتا رھ گیا۔
    اسد پھر بولا کیا ھے یار
    ایسے کیوں کررھی ھو۔

    عظمی بولی
    اسد اتنی جلدی بھی کیا ھے
    تم تو ایسے کررھے ھو جیسے
    میں کہیں بھاگی جارھی ہوں
    ادھر بیٹھو کچھ باتیں کرتے ہیں۔

    اسد غصے پر قابو کرتا ھوا کندھے اچکا کر عظمی کے پاس بیٹھ گیا۔
    اور پھر مسکہ لگاتے ہوے عظمی کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ھوے بولا۔

    میری جان میں تو اس لیے کہہ رھا تھا
    کہ پھر تم نے پیپر دینے بھی جانا ھے ۔

    ہم لیٹ نہ ہو جائیں ۔

    عظمی دیوار پر لگے کلاک کی طرف دیکھتے ھوے بولی
    ابھی تو آٹھ بھی نھی بجے
    بہت ٹائم پڑا ھے ۔
    اسد اپنے شوز اتار کر بیڈ کے اوپر بیٹھتے ھوے بولا اچھا جی جیسے جناب کی مرضی
    پھر جلدی نہ مچانا کہ مجھے دیر ھورھی ھے
    پیپر کا وقت نکل جانا ھے ۔

    عظمی مسکرا کر اسد کی طرف دیکھتے ھوے بولی
    نھی کہتی جی۔

    جب آپ کہو گے تب ھی جائیں گے
    اب خوش
    مگر مجھے آپ سے باتیں کرنی ہیں ۔

    اسد بولا تو پھر ٹھیک ھے
    بولو کیا پوچھ رھی تھی
    اور تم بھی اوپر ھوکر بیٹھ جاو
    عظمی نیچے جھک کر سکول شوز اتارنے لگی اور پھر شوز اتار کر پاوں اوپر کر کے بیٹھ گئی ۔

    اسد بیڈ کی ٹیک کے پاس ہو کر تکیہ سیدھا کرتے ھوے اسپر لیٹنے کے انداز میں ہوا اور عظمی کو بھی اپنے قریب لیٹنے کا کہا۔
    عظمی چادر لپیٹے سمٹ کر اسد کے قریب بیڈ کی ٹیک کے ساتھ کمر لگا کر سمٹ کر بیٹھ گئی ۔
    اسد بولا لیٹ جاو یار اور یہ چادر تو اتار دو۔

    عظمی بولی اچھا اتارتی ھوں
    اتنے بے صبرے کیوں ھوگئے ھو۔
    اسد پھر خود ہر کنٹرول کرتے ھوے خود ھی سیدھا ھوگیا اور بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کر عظمی کے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گیا۔

    اور آہہہہ بھر کر بولا

    جی بولو
    عظمی اسکے طنزیہ انداز سے
    جی بولو کہنے پر ۔اسکی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔

    یاسر تم ایک دم بدل کیوں گئے ھو
    کیا تم نے مجھے صرف اسی کام کے لیے بلایا تھا

    کیا تم میرے ساتھ صرف جسمانی تعلق ھی رکھنا چاھتے ھو۔


    اسد نے عظمی کو روہانسے انداز میں بولتے ھوے دیکھا
    تو ساتھ ھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ھوے بولا

    نھی میری جان تم نے یہ بات سوچی بھی کیسے
    کہ میری اتنی گھٹیا سوچ ھوسکتی ھے
    میں تو ساری عمر تمہارے ساتھ گزارنا چاھتا ہوں
    میں نے تو پتہ نھی کیا کیا پلاننگیں کی ھوئی ہیں کہ ہم شادی کے بعد یہ کریں گے وہ کریں گے
    میں نے تو سوچا ھو ا ھے کہ ہم ہنی مون ھی باہر کے ملک میں جاکر منائیں گے ۔

    عظمی بولی
    اسد
    یہ آدمی کون ھے جس کے گھر ہم آے ہیں
    مجھے تو یہ کوئی بدمعاش لگتا ھے
    اسد بولا
    لوجی ابھی تک تمہاری سوئی اس بیچارے شریف آدمی پر اٹکی ہوئی ھے
    اگر تم یہاں نھی رکنا چاھتی تو چلو پھر جہاں تم کہو گی ادھر چلتے ہیں
    عظمی بولی اسد وہ شریف آدمی تو نھی لگتا
    وہ تو شکل سے ھی بدمعاز اور عیاش قسم کا انسان لگتا ھے ۔

    اسد ہنستے ھوے بولا
    یار
    وہ لوگوں کے لیے بدمعاش ھے
    مگر اپنا جگری یار ھے ۔

    عظمی بولی وہ ھی تو میں کہہ رھی ھوں کہ تم ایسے لوگوں سے دوستی کیوں رکھتے ھو۔

    اسد بولا
    چھوڑو یار کیسی فضول قسم کہ باتوں میں وقت برباد کررھی ھو
    آو کوئی پیار کی باتیں کرتے ہیں
    ۔یہ کہتے ھو اسد نے عظمی کی گردن میں بازو ڈال کر اس کی گال پر ہاتھ رکھتے ھوے ۔
    عظمی کا چہرہ اپنے منہ کی طرف کیا اور عظمی کے ہونٹوں کو چومنے لگا تو
    عظمی نے جلدی سے اہنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا
    اور اسد کے ہونٹ عظمی کے ہاتھ کو چومتے ھوے واپس پلٹے اور
    اسد نے غصے سے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے بولا
    یار یہ کیا حرکت ھے
    کیا میں اس لائک بھی نھی کہ
    تمہارے ہونٹوں کو ھی چوم لوں ۔

    تو عظمی بولی
    نھی یاسر ابھی نھی ۔

    جب وقت آیا تو میں تمہیں کسی کام سے نھی روکوں گی یہ جسم کیا میری روح بھی تمہارے قبضے میں ھوگی
    مگر پلیز پہلے کچھ نھی کرنا۔

    اسد حیران ہوتے ھوے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے بولا

    میں سمجھا نھی کہ کون سا وقت کیسا وقت
    ابھی وقت نھی آیا تو پھر کب آے گا۔


    عظمی نے اسد کے چہرے کی طرف دیکھتے ھوے کہا
    اسد تم واقعی مجھ سے پیار کرتے ھو

    تو اسد بولا کیوں تمہیں کوئی شک ھے
    عظمی بولی شک نھی مگر تمہارے منہ سے سننا چاہتی ہوں
    اسد نے اپنی شہ رگ کو پکڑتے ھوے کہا
    ماں قسم جان سے بھی بڑھ کر تم سے پیار کرتا ھوں ۔

    عظمی بولی
    مجھ سے شادی کرو گے نہ

    اسد نے ویسے ھی شہ رگ کو پکڑے ھوے کہا۔
    ماں قسم کروں گا۔

    عظمی بولی
    کب
    اسد بولا
    جب تمہاری پڑھائی ختم ھوجاے گی ۔
    عظمی بولی
    تو ایسا نھی ھوسکتا۔
    کہ ہم جسمانی تعلق
    سہاگ رات کو ھی قائم کریں ۔

    یہ سنتے ھی اسد کے چہرے پر غصے کی ایک لہر آکر گزرگئی
    مگر اسد نے خود کو کنٹرول کیا اور
    پھر عظمی کو اپنی طرف کھینچتے ھوے بولا






  11. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    hot_irfan (27-11-2018), MamonaKhan (27-11-2018)

  12. #127
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 96..??


    اسد کچھ دیر سوچتا رھا ۔ پھر بولا چلو ٹھیک ھے میں تمہاری بات مان لیتا ھوں
    مگر میری بھی ایک شرط ھے
    عظمی خوش ھوکر بولی
    میں اپکی ہر شرط ماننے کو تیار ھوں ۔

    اسد بولا میں وعدہ کرتا ھوں کہ ہم سیکس سہاگ رات کو ھی کریں گے
    مگر آج موقع ھے
    مجھے پیار تو کرنے دو۔
    کہ میں اس لائک بھی نھی ہوں ۔اسد کا لہجہ روہانسہ ہوگیا
    جیسے ابھی رونے لگا ھو۔

    عظمی نے جلدی سے اسد کے گالوں پر ھاتھ رکھ اور اپنے گلابی ہونٹ اسد کے ہونٹوں پر رکھ کر چومنے لگ گئی

    اندھا کیا چاہے
    دو آنکھیں
    اسد نے تو یہ سوچا بھی نہ تھا کہ عظمی اتنی جلدی مان جاے گی ۔
    اور خود ھی فرنچ کس میں پہل کرے گی

    اسد بھی عظمی کے ہونٹ چومنے لگ گیا۔
    اور ساتھ ساتھ عظمی کی چادر بھی اتارنے لگ گیا۔

    اسد عظمی کا اوپر والا ہونٹ چوس رھا تھا اور عظمی اسد کا نیچے والا ہونٹ چوس رھی تھی ۔

    اسد سے ذیادہ عظمی اپنا تجربہ استعمال کر رھی تھی اور بڑی مہارت سے اسد کے ہونٹ کو چوستی تو کبھی اسکی زبان کو اپنی زبان سے پکڑنے کی کوشش کرتی عظمی کو اپنی مہارت دیکھانا مہنگی پڑی
    اسد تو ہکا بکا رھ گیا کہ جس لڑکی کو وہ ایک سیدھی سادھی پینڈو لڑکی سمجھ رھا تھا
    وہ فرنچ کس ایسے کررھی ھے جیسے انگریزوں نے بھی اس سے سیکھی ھو۔

    ضرور سالی کا کسی کے ساتھ چکر رھا ھوگا ۔
    تبھی اتنی ایکسپرٹ ھے. ۔

    اسد ساتھ ساتھ کسنگ کررھا تھا اور ساتھ ساتھ سوچوں میں گم
    عظمی کے بڑے بڑے مموں کو ایک ھاتھ سے باری باری پکڑ کر دبا رھا تھا۔

    عظمی نے دونوں ھاتھوں سے اسد کر سر پکڑا ھوا تھا اور اپنی مستی سے اپنے یار کے ہونٹ چوس رھی تھی
    کہ اسد خود کھسکتے ھوے بیڈ پر لیٹتے ھو ے عظمی کو بھی ساتھ لیٹانے لگا

    عظمی بھی اسکے ساتھ نیچے کھسکتی گئی اور دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوس رھے تھے
    اسد کا لن پینٹ پھاڑ کر باہر آنے کے لیے بے چین تھا اور عظمی کی پھدی کے ساتھ لگ رھا تھا عظمی بھی مزے میں ڈوب چکی تھی اور کچھ دیر پہلے کی سوچ اس کے دماغ سے نکل چکی تھی

    اسکا جنون سب حدوں کو پار کرنے کا اعلان کررکھا تھا

    اسد نے آہستہ اہستہ عظمی کو سیدھا لیٹا دیا اور اسکی قمیض کے اندر ھاتھ ڈال کر اس کے نازک اور نرم پیٹ پر پھیرنے لگ گیا
    عظمی کے سرور میں اور اضافہ ہوگیا
    اور عظمی اسد کے ہونٹوں کو کاٹنے پر تُل گئی اسد نے جب عظمی کا جنون دیکھا کہ یہ اب فل گرم ھوگئی ھے تو
    اسد نے ھاتھ کو مموں کی طرف لیجانا شروع کردیا

    اور آخر کار اسد کا ہاتھ عظمی کے مموں تک پہنچ گیا
    اور اسکا ہاتھ
    آپے سے باہر آے ھوے مموں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگ گیا
    عظمی اسد کے ہاتھ کے لمس سے مزید بے چین ھوکر اپنی پھدی کو اسکے پینٹ کے ابھار پر رگڑنے لگی

    اسد کو بھی علم ھوگیا کہ. لوہا اب مکمل گرم ھو چکا ھے

    تو اسد نے مموں کو چھوڑا اور اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر اپنے پنٹ کی زپ کھولی اور
    انڈر وئیر سے لن نکال کر کھلی زپ سے باہر نکال لیا

    اور پھر ھاتھ اوپر کر کے عظمی کے مموں کو دبانے لگا
    عظمی اپنی مستی میں گم تھی
    اسے پتہ ھی نھی چلا کہ
    نیچے کیا واردات ھونے والی ھی
    اسد نے لن عظمی کی شلوار کے اوپر سے ھی پھدی کے ساتھ رگڑنا شروع کردیا
    عظمی نے لن کو اہنے چڈوں میں بھینچ لیا اور سسکاریاں بھرنے لگ گئی

    اسد نے موقع غنیمت جانا اور ھاتھ نیچے لیجا کر عظمی لاسٹک والی شلوار میں ہاتھ ڈال کر پھدی کے اوپر رکھ دیا پھدی تو پہلے نکو نک بھری ہوئی تھی جیسے ھی اسد کی انگلیاں عظمی کی ملائم پھدی سے ٹکرائیں
    عظمی کے منہ سےلمبی سسکاری نکلی
    اور سیدھی لیٹی ھوئی نے ھی گھوم کر اسد کے ساتھ لپٹ گئی اور اسے اپنے بازوں میں جکڑ کر کس لیا اور ساتھ ھی چڈوں میں اسد کے ہاتھ کو جکڑ لیا اور پھدی سے ساون کی جھڑی شروع ھوگئی جو جمعرات سے شروع ھو کر اگلی جمعرات کو ھی ختم ھوتی ھے
    اور پھدی سے مینہ برسنے لگا اور عظمی کی سانسیں اکھڑنے لگی
    اور پھر برسات بھی تھم گئی سانسیں بھی تھم گئی
    اور عظمی کا جسم ڈھیلا پڑ گیا
    تو اسد نے جلدی سے گیلی پھدی سے ھاتھ ہٹایا اور عظمی کی شلوار سے ھی ہاتھ کو صاف کیا اور کروٹ لیے اپنے ساتھ چمٹی ھوئی عظمی کی گانڈ سے شلوار نیچے کی اور پھر آگے سے نیچے کی
    اور لن پکڑ کر پھدی کے اندر کرنے لگا

    جیسے ھی عظمی کی پھدی کے ساتھ اسد کا لن ٹچ ہوا
    تو عظمی کو ایکدم ہوش آگیا اور وہ ا سد کے سینے کے ساتھ لگی نے اپنے دونوں ھاتھ آگے کیے اور اسد کے سینے پر رکھتے ھوے اسے زور سے دھکا دے کر پیچھے کیا اور جلدی سے شلوار پکڑ کر اوپر کرلی اور
    اسد کی طرف دیکھ کر بولی یہ کیا کرنے لگے تھے

    عظمی کے اچانک دھکے سے

    اسد ویسے ھی لن ہاتھ میں پکڑے پیچھے کو سیدھا لیٹ گیا
    اور غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے عظمی کو گھورنے لگ گیا ۔
    اسد بولا یہ کیا بتمیزی ھے

    عظمی بولی بتمیزی تو تم کرنے لگے تھے

    تم نے مجھ سے اپنی ماں کی قسم کھا کر وعدہ کیا تھا
    کہ ہم شادی سے پہلے کچھ نھی کریں گے
    مگر تم تو ابھی سب کچھ بھول گئے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسد ۔ غصے سے بولا

    یار تم اب ایسے بھی نخرے مت کرو کہ اتنی پارسا بن رھی ھو۔

    عظمی اسد کی پارسا والی بات سن کر حیران ھوتے ھوے بولی
    اسد کیا مطلب ھے تمہارا

    تو اسد پھر اسی انداز میں بولا مطلب صاف ھے کہ
    تم ایسے کررھی ھو جیسے پہلی دفعہ کروانے لگی ھو۔

    عظمی کا رنگ ایکدم سرخ ھوگیا
    اور وہ جلدی سے اٹھی کر بیٹھ گئی اور غصے سے بولی

    کیا بکواس کر رھے ھو اسد

    تو اسد ہنستے ھوے بولے بکواس نھی سچ کہہ رھا ھوں ۔تم جیسے کر رھی تھی
    کوئی شریف لڑکی ایسے نھی کرتی ۔

    عظمی اسد کی بات اور طعنہ سن کر رونے والی ھوگئی
    اور روتے ھوے بولی
    اسد بکواس بند کرو
    میں تمہارے ساتھ ادھر آگئی اور تمہاری اپنے بارے میں فیلنگ دیکھ کر سب کچھ بھول کر تم سے تھوڑی دیر پیار کیا کر لیا
    تو تم
    میری محبت میرے پیار میرے اعتماد
    کا یہ صلہ دے رھے ھو کہ مجھے
    ایک بازاری چلتی پھرتی لڑکی بنا دیا۔

    میں ھی غلط تھی جو تمہاری باتوں میں آگئی
    اور اپنے گھر والوں کو دھوکا دے کر تم پر یقین کر کے تمہارے ساتھ چلی آئی
    خبردار آج کے بعد تم نے مجھے اپنی شکل بھی دیکھائی
    جھوٹے مکار

    اور یہ کہتے ھوے عظمی نے اپنی چادر اٹھائی اور اوپر لینے لگی ۔

    تو
    اسد قہقہہ لگا کر ہنستے ھوے بولا


  13. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-11-2018)

  14. #128
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 97. ???


    اسد قہقہہ لگا کر ہنستے ھوے بولا

    جا کدھر رھی ھو جان من
    میری شکل تو تب دیکھو گی جب تم اپنی شکل کسی کو دیکھانے کے قابل نھی رہو گی
    اور
    ادھر تم آ تو اپنی مرضی سے گئی ھو مگر جاو گی میری مرضی سے

    چلو شابا ش خود ھی شلوار اتار کر سیدھی ہوکر بیڈ پر لیٹ جاو

    مجھے مجبور مت کرو کہ میں ۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی اسد نے اتنا ھی کہا تھا
    کہ عظمی نے ایک ذور دار تھپڑ اسد کے منہ پر مارا

    اور روتے ھوے بولی
    جھوٹے مکار بےغیرت کتے حرام زادے

    میرے ساتھ پیار اور شادی کرنے کا سب ڈرامہ کیا تھا
    میں جا رھی ھوں اور مجھے تم روک کر دیکھاو ۔
    دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ھے
    عظمی یہ کہتے ھوے اٹھ کر بیڈ سے نیچے اترنے لگی ۔تو ۔اسد جو ابھی تک اپنی گال پر ھاتھ رکھے بیٹھا تھا

    اس نے
    عظمی کو بازو سے پکڑا اور ایک ھاتھ سے ھی گھما کر بیڈ پر دے مارا
    اور خود عظمی کے پیٹ پر سوار ھوگیا اور عظمی کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے عظمی ٹانگیں چلا رھی تھی اور اونچی آواز میں اسد کو گالیاں دے کر ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رھی تھی

    اسد نے جیسے تیسے عظمی کے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں اپنے ایک ھاتھ میں کیں
    اور ایک ذور دار تھپڑ عظمی کے منہ پر مارتے ھوے بولا

    چُپ کر گشتئے
    تمہاری اتنی جرات کہ مجھ پر ھاتھ اٹھاے دو ٹکے کی حرامزادی
    آج تجھے بتاتا ھوں کہ کیسے کسی مرد پر ھاتھ اٹھایا جاتا ھے

    آئی بڑی مجھ سے شادی کرنے
    تیرے جیسیاں روز پتہ نھی کتنی اسی بیڈ پر چودتا ھوں
    اور آج تجھے میں بھی چودوں گا اور میرا یار اکری بھی تجھے چودے گا
    پھر جا کر مجھے سکون ملے گا پھر مجھے مارے ھوے تھپڑ کا حساب برابر ھوگا ۔
    ایک تھپڑ کے بدلے آج تیری پھدی میں دو لن جائیں گے

    اپنی اوقات دیکھ سالی اور مجھے دیکھ

    اور تو چلی ھے مجھ سے شادی کرنے
    تیرے جیسی کو میں اپنے گھر میں نوکرانی نہ رکھوں آئی بڑی
    عظمی اسد کا تھپڑ کھانے اور اسکی دھمکیاں سننے کے بعد سہم گئی اور انکھیں پھاڑے اسد کو دیکھی جارھی تھی
    اسد کے خاموش ہوتے ھی
    عظمی بولی
    چھوڑ مجھے کتے
    میں یاسر کو بتاوں گی
    اور اپنے ابو کو بھی

    تو اسد غصے سے بولا

    جا دس دے جنوں دسنا ای
    لن وڈ لے تیرا او ییندڑ وی تے تیری ماں دا یییندڑ تیرا پیو وی

    عظمی اب خود کو بے بس محسوس کرنے لگ گئی تھی
    ایک تو انجان جگہ دوسرا وہ اکیلی جان
    اگر سچ میں اس نے اس مُچھل کو بلوا لیا تو میں تو ویسے ھی مرجاوں گی ۔

    عظمی نے دیکھا کہ اسد پر کسی بات کا اثر نھی ھورھا تو
    عظمی نے روتے ھوے اسد کی منتیں شروع کردیں اور
    بولی اسد تمہیں تمہاری ماں کا واسطہ مجھے جانے دو

    تمہاری بہن بھی جوان ھے اگر کوئی اس کے ساتھ ایسا کرے تو تم پر کیا بیتے گی سوچو تمہارے ماں باپ پر کیا بیتے گی
    میری عزت نہ خراب کرو
    میرے ماں باپ جیتے جی مر جائیں گے
    اسد نے اسکی بات سنی ان سنی کی اور پیچھے ھو کر عظمی کی ٹانگوں کے پاس پہنچ کر اسکی شلوار پکڑ کر نیچے کھینچ دی ۔عظمی نے ایک ذور دار چیخ ماری ۔اور اپنی ایک ٹانگ آگے کی اور پورے زور سے اپنی ٹانگ اسد کے لن پر ماری ۔
    اسد لن پر ہاتھ رکھ کر بلبلایا
    اور ایک ذور دار چیخ مارے
    ھاےےےےےھھھ میں مرگیا اور لن کوپکڑے پیچھے کو قلابازی کھا کر بیڈ سے نیچے گرا اور اسکے ساتھ ھی باہر کا دروازہ دھڑم دے کھلا اور۔۔۔
    عظمی نے جیسے ھی دروازے کی طرف دیکھا۔
    عظمی کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رک گیا ۔
    اکری دروازے کے دونوں اطراف بازو رکھ کر آنکھیں پھاڑے کبھی عظمی کی طرف دیکھتا تو کبھی لن پر ہاتھ رکھے فرش پر تڑپتے ہوے اسد کی طرف دیکھتا ۔

    اور پھر اکری کی کرخت دار آواز کمرے میں گونجی ۔

    او پرجائی اے کی کیتا ای ۔

    اسد رندھی آواز میں بولا۔
    اکری پکڑ اس گشتی کو بھاگنے نہ پاے ۔
    عظمی بیڈ سے نیچے اتری اور باہر بھاگنے لگی تو

    اکری نے بازو ہوا میں لہرایا اور اپنے ہاتھ کے پنجے کو کھول کر عظمی کے منہ کی طرف کرتے ھوے بولا
    رک جا پرجائی ایتھے ای ۔

    عظمی اکری کی آگ کی طرح دھکتی غضب ناک آنکھوں کو دیکھ کر اور اس کی کرخت دار دھمکی آمیز آواز سن کر سہم کر اسی جگہ بت بن کر کھڑی ہوگئی اور
    بری طرح کانپنے لگی ۔

    اکری اپنی لمبی ٹانگوں سے دوقدم بڑھ کر عظمی کے سر پر پہنچ گیا اور

    عظمی کے سامنے کھڑا ہوکر
    اپنا ہاتھ اوپر کیا اور اپنا بڑا سا پنجہ کھول کر عظمی کے سر پر رکھ کر بولا ۔

    پرجائی کی ہویا جیڑا توں میرے یار نوں تڑفا کے پج چلی آں ۔

    عظمی روتے ہوے بولی
    مجھے جانے دو تمہیں ******* کا واسطہ
    تمہارا یہ دوست مجھے بہکا کر یہاں لایا ھے
    اور میری عزت لوٹنا چاہتا ہے۔

    اسد بولا اکری پھینک اسکو بیڈ پر اور اس کی پھدی پھاڑ دے میری طرف سے اجازت ھے ۔

    اکری نے غصے سے اسد کہ طرف دیکھا اور اسکی طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے بولا
    ٹھنڈ رکھ اوے منڈیا
    مینوں ایس کڑی نال گل کرلین دے۔
    اسد ہاےےےےے کرتا ھوا خاموش ہوگیا

    اکری عظمی کی طرف دیکھ کر بولا۔
    تم اس کے ساتھ اپنی مرضی سے نھی آئی عظمی بولی
    یہ مجھے بہکا کر لایا ھے مجھ سے پیار کے دعوے کرتا تھا ۔
    مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا
    مگر یہاں آکر یہ میری عزت لوٹنا چاھتا ہے ۔

    آپ کی مہربانی بھائی جان
    ہم غریب لوگ ہیں
    مجھے جانے دیں
    اکری عظمی کی بات سن کر بولا
    دیکھ کڑیئے
    توں مینوں پرا کیا اے تے فیر گل سن میری
    چپ کر کے ایتھے بیٹھ جا
    اے اکری دا ڈیرہ اے ۔
    کسے للو پنجو دا نئی
    تے میرے وی کج اصول نے
    صبر کر تے تینوں ڈرن دی کوٰئی لوڑ نئی
    اکری نے ساری ذندگی کسے دی عزت نہ تے لُٹی اے تے نہ ای کسے نوں ذبردستی کسے دی دھی پین دی عزت لُٹن دتی اے ۔

    میں ذرا ایس مُنڈے نال وی گل کر لیواں۔


    اسد اتنی دیر تک لن پر ہاتھ رکھے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا اور اب بھی تکلیف سے اسکا بُرا حال تھا۔

    اکری چلتا ھوا
    اسد کے پاس گیا اور اس سے پوچھا
    تم اس سے شادی کرنا چاھتے ھو۔

    اسد نفی میں سر ہلاتے ھوے بولا
    نھی یار میں تے ایدی پُھدی مارن واسطے ایتھے لے کے آیا سی
    پر ایس گشتی نے میرے ٹٹیاں تے لت ماردتی اے ھاےےےےے

    اکری کا رنگ سرخ ہوتا جارھا تھا

    اکری بولا۔

    ایس دا مطبل اے کے توں میرے نال وہ جھوٹ بولیا کہ
    اے میری ہون والی پرجائی اے۔

    اسد بولا چھڈ یار
    ایس گشتی نوں لمے پا تے ایدی اج پھدی پاڑ دے

    اسد کے منہ سے اکری نے جب یہ بات سنی
    تو اس نے ایک نظر عظمی کی طرف دیکھا
    اور ایک زناٹے دار تھپڑ
    اسد کے منہ پر ماردیا ۔

    اسد قلابازی کھا کر بیڈ سے نیچے گرا

    اور اکری بولا

    کُتے دیا پُترا
    توں مینوں کنجر سمجھیا اے
    اسی عزتاں دے رکھوالے آں کوئی بےغیرت نئی

    تیری اینی جرات کے اکری نوں توکھا دے کہ کسے شریف کُڑی دی عزت نوں ہتھ پاویں

    ایس توں پیلاں کے میں تیری بُنڈ وچ فائر نار دیواں
    پج جا ایتھوں
    گندی نسل دیا۔

    اسد کا رنگ پیلا پڑ گیا اور عظمی کی طرف گھورتے ھوے بولا۔
    اکری
    تم اس دو ٹکے کی لڑکی کے پیچھے
    مجھے اس کے سامنے بےعزت کررھے ھو اپنی ساری یاری بھول گئے

    اس سے پہلے کے اسد مذید کچھ کہتا۔

    اکری نے قمیض کے اندر ھاتھ ڈالا اور دھوتی میں سے پسٹل نکال کر بولٹ مار کر اسد کی طرف کرتے ھوے بولا
    بکواس بند کر اوے کُتے دیا پُترا
    ہن اک سیکنڈ وی ایتھے رُکیا تے تیری بُنڈ وچ فائر ماردینا اے

    تیرے نال چار دن چنگے لنگے نے تے ہن تک بچیا ہویاں اے

    نئی تے تیری لاش وی تیرے کار والیاں نوں نئی لبنی سی۔

    پج جا ایتھوں
    نئی تے میں سب کج پُل جاناں اے


  15. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-11-2018)

  16. #129
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update no 98. ??


    عظمی نے جیسے ھی اکری کے ہاتھ میں ریوالور دیکھا تو عظمی کی چیخ نکلی مگر آواز ہلک میں اٹک گئی اور دونوں ھاتھ منہ پر رکھ کر کبھی اکری کی طرف دیکھتی تو کبھی اسد کی طرف

    اسد کی بھی گانڈ پھٹنے والی ہوگئی
    وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اکری جو کہتا ھے وہ کرنے میں دیر بھی نھی کرتا۔

    اسد نے کھسکنے میں ھی اپنی عافیت سمجھی

    اور عظمی کی طرف گھورتے ھوے لڑکھڑاتا ھوا کمرے سے باہر جانے لگا
    تو اکری نے پھر
    اسے مخاطب کیا

    اوے گل سن
    اک گل کن کھول کے سن لے جے اج توں بعد
    توں ایس کڑی دے آسے پاسے وی نظر آیا ناں تے او دن تیرا آخری دن ہوے گا۔

    اے کُڑی ہن کوئی معمولی نئی بلکہ
    اے اکری دی پین اے
    پین

    سمجھ آئی کہ نئی ۔

    اسد نے صرف اثبات میں ھی سر ہلایا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
    اسد کے جاتے ھی
    اکری عظمی کی طرف مڑا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا
    گبھرا نہ ہن
    توں اے ای سمجھ اپنے کار وچ ای بیٹھی ایں
    عظمی ایکدم اٹھی اور اکری کے پاوں میں گر گئی اور اونچی آواز میں رونے لگ گئی
    اور اسکا شکریہ ادا کرنے لگ گئی
    جیسے ھی عظمی اکری کے پاوں میں گری تو اکری جلدی سے ایک قدم پیچھے ہٹا اور
    اسے بازوں سے پکڑ کر اٹھایا اور
    پھر اسکے سر پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولا
    ۔ھے ناں کملی

    ایویں مینوں گناہ گار کرن دئی ایں
    چل چادر لے سر تے

    میرا نوکر تینوں سکول چھڈ آندا اے
    اتنے میں اکری نے دروازے کہ طرف منہ کر کے آواز دی اوے غفورے

    تو اسی وقت ایک لمبا چوڑا بڑی بڑی مونچھوں والا خطرناک بدشکل سا کندھے پر گن لٹکاے اندر داخل ہوا اور ادب سے سر جھکا کر بولا جی سائیں
    ۔تو اکری بولا جا ایس کڑی نوں ایدے سکول چھڈ آ ۔

    تو وہ پھر ادب سے بولا
    جو حکم سائیں
    اور باہر جانے لگا تو

    اکری نے پھر اسے آواز دی کے گل سن نالے

    او چھور اسد
    جے ایدے اگے پچھے وی نظر آوے ناں تے اودیاں لتاں وچ فائر ماردیویں
    تو غفورا جی سائیں کہتا ھوا باہر نکل گیا

    عظمی شکر ادا کررھی تھی اور اسے اپنے آپ پر غصہ بھی آرھا تھا
    اور جسے وہ ایک خطرناک بدمعاش سمجھ رھی تھی آج اسکی وجہ سے ہی اسکی عزت بچی
    اور جسے عزت کا رکھوالا سمجھ رھی تھی
    وہ ھی اسکی عزت کو تار تار کرنے والا نکلا ۔

    عظمی پھر اکری کے سامنے ہاتھ جوڑتے ھوے بولی بھائی آپ کا شکریہ میں کیسے ادا کروں
    اکری ہنستے ھوے بولا
    پیناں ویراں دا شکریہ ادا نئی کردیاں ہوندیان

    میں تے اے سوچ سوچ کے پریشان ھوندا پیاں واں
    کہ جے او کنجر دا پتر تیری عزت لٹ لیندا تے ۔۔

    میں تاں کدی وی اپنے آپ نوں معاف نئی کرنا سی
    کہ میری حویلی وچ کسے شریف کڑی دی عزت لٹی جاوے او وی اکری دے یار دے ہتھوں ۔

    مینوں پیلے پتہ ہندا کہ
    اے کتے دا پتر تینوں توکھے نال لیایا سی تے
    میں گل ایتھے تک وی نئی پُنچن دینی سی

    خیر چنگا ھو یا توں جو وی اودے نال کیتا

    تے گل سن. اگوں جے اے تینوں تنگ کرے تے
    بس اک واری اپنے ویر نوں دس دیویں

    فیر ایسا جو حال ہوے گا
    سارا شہر کناں نوں ہتھ لاوے گا۔

    اور یہ کہتے ھو اکری
    عظمی کو اپنے ساتھ لگاے ھوے کمرے سے باہر آیا
    اور حال سے ہوتا ھوا
    باہر حویلی میں اگیا
    سامنے ھی ایک جیپ کھڑی تھی جس میں غفورا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا عظمی کا انتظار کر رھا تھا
    عظمی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی جیپ کے پاس پہنچی ۔
    اور
    اچانک عظمی کو خیال آیا کہ اسکا پیپر والا دستہ اور ایک بُک تو اسد کی کار میں ھی رھی گئی
    تھی

    وہ مڑی اور اکری کی طرف دیکھنے لگی مگر اس سے بولنے کی ہمت نھی ھورھی تھی
    اکری نے جب عظمی کو اپنی طرف دیکھتے ھوے
    دیکھا

    تو چلتا ھوا عظمی کے قریب آیا
    اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ھوے بولا کی گل اے پُتر۔
    عظمی گبھرائی ہوئی آواز میں بولی وووووو بببھائی جان
    میری بک اور میرا دستہ اس کی کار میں رھ گیا ھے ۔

    اکری کچھ سوچتے ھوے بولا
    وہ تجھے مل جاے گا
    پریشان نہ ہو۔

    عظمی بولی میرا ابھی پیپر ھے
    تو میں پیپر کیسے دوں گی ۔

    تو اکری نے غفورے کو کہا کہ
    اوے غفورے کڑی نوں جیڑی شے چائی دی ھوے اینوں رستے وچوں لے کے دے دیویں تے فیر سکولے چھڈ کے آویں ۔

    غفورا جی سائیں کہہ کر چپ ھوگیا ۔

    تو اکری عظمی کی طرف دیکھتے ھوے بول جا میرا پتر جیڑی شے چائی دی اے غفورے نوں دس دیویں تینوں لے دے گا۔

    عظمی پھر اکری کا شکریہ ادا کرتی ھوئی
    لُنڈی جیپ میں سوار ھوئی اور غفورا جیپ گیٹ سے باہر لے گیا اور جیپ کا رخ شہر کی طرف کردیا

    راستے میں ایک بک ڈبو سے اس نے نئی بک لی اور پھر غفورا اسے سکول کے پاس لے کر پہنچا جیسے ھی
    عظمی جیپ سے اترنے لگی تو اسکی نظر جیسے ھی سامنے سے آتے ھوے یاسر پر پڑی جو اسی کی ھی طرف دیکھ رھا تھا۔

    عظمی کا ڈر کے مار حلق خشک ہوگیا
    اور وہ ۔۔۔۔۔۔۔

    اسد دیار یار سے بےعزت ہو کر گاڑی بھگاتا ھو شہر کی طرف جانے لگا
    اسکو عظمی پر اور اکری پر بہت غصہ آرھا تھا
    اور وہ سارا غصہ گاڑی کے گئیر پر نکال رھا تھا ۔

    اسکو ذرہ سی بھی امید نھی تھی کہ یوں عظمی کے ساتھ ساتھ اپنے دوست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا ۔ٹٹوں میں تکلیف اب بھی ھو رھی تھی اور
    اسد بار بار کبھی ٹٹوں کو پکڑ کر ہلکا سا دباتا تو کبھی اکری کے پڑے تھپڑ کی وجہ سے گال پر ہوتی جلن پر ہاتھ رکھ کر گال کو مسلتا ہوا
    غصے میں گاڑی کی رفتار حد سے ذیادہ کر کے گاڑی کو ہوا میں اڑا رھا تھا
    اسے سمجھ نھی آرھی تھی کہ کدھر جاے
    سکول جانے کو تو اسکا دل نھی کررھا تھا۔

    ایسے میں وہ شہر میں داخل ھوگیا اور پھر اس نے سوچا کہ چلو گھر ھی چلتا ہوں
    پھر اسکو خیال آیا کہ مما تو بوتیک پر چلی گئی ھوگی اور مہری بھی کالج چلی گئی ھوگی
    اور آج تو اس کے پاس گھر کی چابی بھی نھی ھے
    صبح پھدی کے چا میں چابی بھی لینا بھول گیا ۔

    پھر اس نے سوچا کہ
    مما سے چابی لے کر طبعیت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر گھر چلا جاوں گا
    تو اس نے کار بازار کی طرف موڑ لی اور
    بازار میں رش تھا تو گاڑی کی سپیڈ بھی اسے آہستہ کرنی پڑی

    ابھی وہ اپنی مما کے بوتیک سے کچھ ھی پیچھے تھا کہ اسکی کار کے اگے ایک سائکل والا آگیا جس کہ وجہ سے اسے بریک مارنا پڑی
    اور ساتھ ھی اسد نے ہارن بھی بجا دیا
    اور شیشے سے دوسری طرف دیکھا
    تو اسے ایک دکان کے باہر بیٹھا ھوا یاسر نظر آیا جو بڑے غصے سے اسکی طرف دیکھ رھا تھا جیسے ابھی اسکو قتل کردے گا

    اسد کہ دماغ میں فورن جھماکہ ھوا کہ کہیں اسے پتہ تو نھی چل گیا
    اور اس نے جلدی سے منہ دوسری طرف کیا اور
    گاڑی کو بھگا کر ایک گلی میں لے گیا اور شکر ادا کیا
    کہ اس مصیبت نے اسکا پیچھا نھی کیا اور کار دوسرے بازار کی طرف لے گیا ۔
    +++++++++++++++++



    میں پریشان حال چلتا ہوا عظمی کے سکول کی طرف جارھا تھا
    میرے دماغ میں جھماکے ھورے تھا
    ایک ھی دن میں مجھکو ڈبل پریشانی نے گھیر لیا
    ابھی تو میں صدف سے ہوئی اپنی بےعزتی کو نھی بھولا تھا کہ اوپر سے یہ اسد کا یوں گبھرا کے میری طرف دیکھنا اور پھر جلدی سے گاڑی کو بھگا کر لے جانا۔
    مجھے اضطراب میں ڈالے ھوے تھا
    میرے قدم بوجھل ھوچکے تھے چلنا مجھ سے محال ھورھا تھا
    ]دماغ تو پھٹنے والا تھا

    مجھے پورا یقین ھو چکا تھا
    کہ عظمی آج سکول نھی گئی بلکہ اسد کے ساتھ کار میں رنگ رلیاں مناتی پھر رھی ھے
    اور اسد نے جب مجھے دیکھا تو گبھرا کر اسی لیے بھاگا کہ کہیں میں عظمی کو اسکے ساتھ دیکھ نہ لوں ۔مگر آج میں دودہ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے ھی رہوں گا

    مجھے آج اپنی بے بسی پر بھی غصہ آرھا تھا
    کاش میرے پاس موٹرسائیکل ہوتی تو آج میں اسد اور عظمی کو یوں بھاگنے نہ دیتا بلکہ میں موٹرسائیکل پر اسد کی گاڑی کا پیچھا کرتا اور ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیتا۔

    مگر میرا تو آج کا دن ھی منحوس جارھا تھا





  17. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-11-2018)

  18. #130
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    239
    Thanks Thanks Given 
    92
    Thanks Thanks Received 
    1,010
    Thanked in
    234 Posts
    Rep Power
    178

    Default Update. No 99..??


    ایسے ھی خیالوں میں چلتا ھوا میں سکول والی گلی میں داخل ھوا اور عظمی کے سکول کی طرف بڑھنے لگا میں ابھی گیٹ سے کچھ پیچھے ھی تھا ۔
    کہ مجھے ایک لُنڈی جیپ آتی ہوئی نظر آئی جسکی فرنٹ سیٹ پر ایک بڑی بڑی مونچھوں والا بدمعاش بیٹھا ھوا تھا اور
    [/size]ساتھ میں ایک نقاب پوش لڑکی بیٹھی ہوئی تھی

    [/size]میں گیٹ کے قریب تھا اور جیب کچھ فاصلے پر تھی
    [/size]اس سے پہلے کہ میں جیپ کی طرف سے نظر کو ہٹاتا جیپ بلکل میرے سامنے کچھ فاصلے پر آکر رکی تو جیسے ھی میری نظر اس نقاب پوش لڑکی پر پڑی ۔

    [/size]میرے تو پاوں تلے سے زمین ھی نکل گئی

    [/size]وہ لڑکی کوئی اور نھی بلکہ عظمی تھی
    [/size]اور عظمی نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور اس کی آنکھوں سے گبھراہٹ صاف نظر آرھی تھی

    [/size]عظمی جیپ سے نیچے اتری اور آہستہ آہستہ چلتی میری طرف آرھی تھی
    [/size]اور میں بت بنا کبھی عظمی کی طرف دیکھتا تو کبھی اس مونچھوں والے بدمعاش کی طرف
    [/size]وہ بدمعاش بھی پہلے ادھر ادھر دیکھ رھا تھا ۔
    [/size]پھر اسکی مجھ پر نظر پڑی کہ میں عظمی کو دیکھ رھا ہوں تو وہ مجھے گھورنے لگ گیا۔

    [/size]عظمی چلتی ھوئی میرے قریب سے نظریں جھکائے گزرنے لگی تو میں نے
    [/size]اسکو بازو سے پکڑ لیا اور پوچھنے لگا کہ
    [/size]کدھر سے آرھی ھو اور یہ بدمعاش کون ھے ۔

    [/size]اتنے میں وہ بدمعاش چھلانگ مارتے ھوے گاڑی سے اترا اور پیچھے سے بڑی سی گن اٹھا کر سیدھی میری طرف کردی اور بولا
    [/size]ہتھ چھڈ اوے کڑی دا
    [/size]عظمی نے جب دیکھا کہ اسکے ساتھ آنے والا بدمعاش مجھے گولی مارنے پر اتر آیا ھے ۔
    [/size]تو عظمی جلدی سے میرے آگے ہوگئی اور بولی نھی
    [/size]بھا غفورے
    [/size]اینوں کُج نئی کیناں اے تے میری خالہ دا پتر اے ۔
    [/size]اس بدمعاش ٹائپ بندے نے جسکو عظمی بھا غفورے کہہ رھی تھی ۔
    [/size]اس نے عظمی کے کہنے پر گن نیچے کر لی ۔

    [/size]اور مجھے گھورتا ھوا واپس جیپ میں بیٹھ گیا

    [/size]اس مُچھل کو اور اسکو یوں مجھ پر گن تانے دیکھ کر ایک دفعہ تو میری بھی ہوا نکل گئی تھی
    [/size]اور میں آنکھیں پھاڑےکبھی عظمی کو دیکھتا اور کبھی اس بدمعاش کو۔


    [/size]عظمی مجھ سے بولی یاسر ابھی جاو
    [/size]چھٹی کے وقت مجھے لینے اجانا
    [/size]پھر تمہارے سب سوالوں کے جواب دے دوں گی
    [/size]تمہیں
    [/size]*****
    [/size]کا واسطہ ابھی تم ادھر سے چلے جاو

    [/size]میں تمہارا انتظار کروں گی ۔
    [/size]اور یہ کہتے ھوے عظمی سکول میں داخل ھوگئی اور عظمی کے اندر داخل ھوتے ھی
    [/size]وہ بدمعاش گاڑی کو گھما کر ایک دفعہ پھر مجھے گھورتا ھوا
    [/size]چلا گیا
    [/size]اور میں بت بنے اس نئے گھن چکر کے بارے میں سوچنے لگ گیا۔

    عظمی سکول میں داخل ہوگئی اور جو شخص اسے چھوڑنے آیا تھا وہ بھی چلا گیا
    مگر میں بت بنا ادھر ھی کھڑا سوچتا رھا کہ
    اگر عظمی اسد کے ساتھ تھی تو اس شخص کے ساتھ کیسے اتنی جلدی ادھر آگئی؟؟؟

    اور اگر یہ اسد کے ساتھ نھی تھی تو اسد مجھے دیکھ کر بھاگا کیوں ؟؟؟؟؟

    اور یہ بدمعاش ٹائپ کا شخص کون تھا جو عظمی کا ھاتھ پکڑنے پر مجھے مارنے پر تل گیا تھا؟؟؟؟؟

    نہ تو یہ کوئی عظمی کا رشتہ دار تھا نہ ھی کوئی ینگ خوبصورت تھا کہ اسکے ساتھ عظمی کا چکر ھو بلکہ یہ تو عظمی کہ باپ کی عمر کا تھا تو آخر یہ تھا کون؟؟؟؟؟؟

    عظمی گھر سے صبح چھ بجے کی نکلی ہوئی ھے اور اب دس بجنے والے ہیں اور یہ چھ بجے کی گھر سے آئی اب سکول پہنچی ھے وہ بھی ایک بدمعاش شخص کے ساتھ چار گھنٹے گزارنے کے بعد
    یہ چکر کیا ھے؟؟؟؟؟؟
    یہ سوال میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رھے تھے
    اور میں سکول کے گیٹ کے پاس بت بنا کھڑا اسی سوچ میں گم تھا کہ اچانک مجھے کسی نے کندھے سے ہلایا۔

    تو میں خیالوں کی بستی سے باہر نکل کر مخاطب کرنے والے کی طرف متوجہ ھوا تو ۔
    گارڈ کی وردی پہنے ھوے ایک شخص میرا کندھا ہلا کر پوچھ رھا تھا
    کہ بھائی کس سے ملنا ھے
    میں نے جب غور کیا تو وہ سکول کا گارڈ تھا
    میں نے خود کو سنبھالتے ھوے کہا ۔وہ میں اپنی کزن کو چھوڑنے آیا تھا
    تو اس لیے ادھر ھی کھڑا ہوگیا ۔

    تو وہ گارڈ بولا بھائی یہاں لڑکوں کا کھڑا ھونا ممنوع ھے ۔آپ اس طرف چلے جائیں یا جب چھٹی ھو جاے تب آجانا ۔۔

    میں اثبات میں سرہلاتا ھوا
    ادھر سے چل پڑا مجھے تو اب سمت کا بھی نھی اندازہ ھورھا تھا
    کہ اب میں جا کدھر رھا ھوں میری منزل کونسی ھے میرا پڑاو کہاں پر ھے ۔

    میں کچھ دیر ایسے ھی چلتا ہوا، بوائز سکول کے پاس پہنچ گیا
    اتنی دیر میں کچھ سوچنے کے قابل ھوا
    کہ اب دکان پر جاوں یا ادھر ھی عظمی کی چھٹی کا انتظار کروں ۔

    میرا میرے دماغ میں اٹھتے ھوے سوالوں کا جواب عظمی سے سننے کا تجسس مجھے دکان پر جانے سے روک رھا تھا ۔
    مگر مسئلہ یہ بھی تھا کہ انکل کو بھی میں بس یہ ھی بتا کر آیا تھا کہ
    میں ابھی آیا
    وہ بھی میرے واپس نہ انے کی وجہ سے پریشان ہوں گے۔

    اب یہ بھی نھی پتہ تھا کہ عظمی کو چھٹی کس وقت ھونی ہے

    کیوں کہ ابھی تو پیپر شروع ھوا ھوگا اور اسکے بعد کب چھٹی ھونی ھے اسکا بھی مجھے کنفرم نھی تھا۔

    میں کچھ دیر کھڑا پھر سوچتا رھا
    اور پھر واپس گرلز سکول کی طرف چل پڑا گیٹ بند ھوچکا تھا
    میں نے گیٹ کے پاس پہنچ کر گیٹ پر دستک دی تو گیٹ کی ایک چھوٹی سی کھڑکی کھلی اور اسی گاڈ نے سر باہر نکالا اور مجھے دیکھ کر گھورتا ھوا بول
    جی بھائی اب کیا ھے ۔

    میں نے کہا ججییی سر معاف کرنا
    وہ میں نے پوچھنا تھا کہ چھٹی کب ھونی ھے
    تاکہ میں اندازہ کرسکوں کہ میں ادھر ھی کھڑ ا ھوکر انتظار کرلوں یا پھر گھر چلا جاوں ۔


    گارڈ نے حیرت سے مجھے اوپر سے نیچے دیکھ کر کہا
    ۔پہلی دفعہ آے ھو کیا۔

    میں نے نھی سر میں پہلے صرف چھوڑنے آتا تھا
    مگر آج گھر ضروری کام ھے اس لیے میں نے دکان سے چھٹی کی ھے تو سوچا کزن کو ساتھ ھی لیتا جاوں
    میرے دماغ میں جو بہانہ آیا وہ لگادیا۔

    جبکہ یہ بہانہ معقول نھی تھا
    دماغ حاضر ھوتا تو سیدھی طرح کہدیتا کہ ۔پہلے میری دوسری کزن بھی آتی تھی اس لیے میں نھی لینے آتا تھا مگر آج یہ اکیلی آئی ھے اس وجہ سے مجھے آنا پڑا۔

    خیر

    گارڈ بولا
    بھائی جی
    دو بجے چھٹی ھونی ھے
    آپ گھر چلے جاو یا اپنی دکان پر

    اور ساتھ ھی اسکا سر غائب ھوا اور کھڑکی بند ھوگئی ۔

    میں کچھ دیر سوچتا رھا اور تذبذب کا شکار رھا
    پھر دکان کی ھی طرف چل پڑا
    کچھ دیر بعد دکان پر پہنچا
    اور انکل سے جھوٹ بول کر بہانہ کیا اور پھر دکان پر کام میں مصروف ھوگیا۔

    میرا دھیان بار بار گھڑی کی ھی طرف تھا
    آخرکار ایک بج گیا
    اور
    میری بے چینی مذید بڑھ گئی
    مذید آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد میں نے انکل سے بہانہ کیا کہ میں نے دوائی لینے جانا ھے میری طبعیت کچھ ذیادہ ھی خراب ھورھی ھے
    تو انکل نے خوشی سے مجھے چھٹی دی اور جیب سے پچاس روپے نکال کر مجھے دئیے کی بیٹا یہ لو دوائی بھی لے لینا اور پیدل مت جانا تانگے پر چلے جانا

    میں نے پچاس روپے پکڑ کر جلدی سے جیب میں ڈالے اور
    انکو سلام کر کے سکول کی طرف چل دیا۔

    سکول کے پاس پہنچا تو گیٹ کے اطراف میں پہلے سے اپنی بچیوں اور بہنوں کو لیجانے والوں کا کافی رش تھا

    میں بھی کچھ آگے جاکر کھڑا ھوگیا۔

    کوئی پندرا منٹ بعد چھٹی ھوئی تو
    رنگ برنگی بچیاں سکول سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو جانے لگیں ۔اور میری نظریں عظمی کو تلاش کرنے لگی

    کچھ دیر کے انتظار کے بعد عظمی آتی ہوئی نظر آئی ۔
    اسکی جب مجھ پر نظر پڑی تو اس نے ایک نظر دیکھ کر نظریں جھکالیں ۔
    اور میرے قریب سے مجھے مخاطب کیے بغیر گزر گئی

    [/size]

  19. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    MamonaKhan (27-11-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •