جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 69 of 84 FirstFirst ... 195965666768697071727379 ... LastLast
Results 681 to 690 of 831

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #681
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Kamal tareen Story...Keep updating bro very Nice

  2. The Following User Says Thank You to Faiz Ahmad For This Useful Post:

    Xhekhoo (25-01-2019)

  3. #682
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    16
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    15 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Kiya baat hai jnab.... good work..

  4. The Following User Says Thank You to yasirsiddiqu For This Useful Post:

    Xhekhoo (26-01-2019)

  5. #683
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,391
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default پسندیدگی کا اظہار کرنے پر تمام بھائیوں کا 


    دوستو سٹوری لکھنا اور تسلسل برقرار رکھنا کتنا مشکل ھے یہ مجھے اب احساس ھورھا ھے
    قسم سے بڑا مشکل کام ھے یہ ۔

    اگر آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ مجھے حاصل نہ ھوتی تو میں کب کا سٹوری کو بیچ میں چھوڑ کر بھاگ چکا ھوتا ھے
    قسم سے دماغ کی لسی بن جاتی ھے ایک اپڈیٹ تیار کرنے میں۔۔
    باقی آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ یوں ھی حاصل رھی تو آپ بھائیوں کو باشرط زندگی کبھی بھی مایوس نہی ھونے دوں گا ۔
    جتنا پیار آپ سب سے مل رھا ھے مجھے تو اسکی امید بھی نہیں تھی ۔
    یہ آپ سب بھائیوں کا بڑا پن ھے کہ مجھ جیسے اناڑی لکھاری کی اتنی حوصلہ افزائی کررھے ہیں ۔
    جیوندے رو تے ہسدے وسدے رو ۔
    شالا سدا سُکھی رو
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  6. The Following 16 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (26-01-2019), asd2010 (01-02-2019), Faisal.rana (03-03-2019), farooq1992 (26-01-2019), hashim9 (26-01-2019), ksbutt (26-01-2019), MamonaKhan (26-01-2019), Mian ji (01-02-2019), mmmali61 (26-01-2019), omar69in (04-02-2019), shikra (26-01-2019), Sk123 (26-01-2019), Story Maker (28-01-2019), ttest533 (26-01-2019), waqastariqpk (26-01-2019)

  7. #684
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post

    دوستو سٹوری لکھنا اور تسلسل برقرار رکھنا کتنا مشکل ھے یہ مجھے اب احساس ھورھا ھے
    قسم سے بڑا مشکل کام ھے یہ ۔

    اگر آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ مجھے حاصل نہ ھوتی تو میں کب کا سٹوری کو بیچ میں چھوڑ کر بھاگ چکا ھوتا ھے
    قسم سے دماغ کی لسی بن جاتی ھے ایک اپڈیٹ تیار کرنے میں۔۔
    باقی آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ یوں ھی حاصل رھی تو آپ بھائیوں کو باشرط زندگی کبھی بھی مایوس نہی ھونے دوں گا ۔
    جتنا پیار آپ سب سے مل رھا ھے مجھے تو اسکی امید بھی نہیں تھی ۔
    یہ آپ سب بھائیوں کا بڑا پن ھے کہ مجھ جیسے اناڑی لکھاری کی اتنی حوصلہ افزائی کررھے ہیں ۔
    جیوندے رو تے ہسدے وسدے رو ۔
    شالا سدا سُکھی رو
    . . Thanks g Maza ki story ha Jani g wanting next update bro

  8. The Following User Says Thank You to Jani91 For This Useful Post:

    abba (02-02-2019)

  9. #685
    Join Date
    Jan 2019
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    Thanks bro Maza ki story ha g wanting next update love

  10. #686
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    96
    Thanks Thanks Given 
    191
    Thanks Thanks Received 
    231
    Thanked in
    83 Posts
    Rep Power
    21

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post

    دوستو سٹوری لکھنا اور تسلسل برقرار رکھنا کتنا مشکل ھے یہ مجھے اب احساس ھورھا ھے
    قسم سے بڑا مشکل کام ھے یہ ۔

    اگر آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ مجھے حاصل نہ ھوتی تو میں کب کا سٹوری کو بیچ میں چھوڑ کر بھاگ چکا ھوتا ھے
    قسم سے دماغ کی لسی بن جاتی ھے ایک اپڈیٹ تیار کرنے میں۔۔
    باقی آپ سب بھائیوں کا پیار اور توجہ یوں ھی حاصل رھی تو آپ بھائیوں کو باشرط زندگی کبھی بھی مایوس نہی ھونے دوں گا ۔
    جتنا پیار آپ سب سے مل رھا ھے مجھے تو اسکی امید بھی نہیں تھی ۔
    یہ آپ سب بھائیوں کا بڑا پن ھے کہ مجھ جیسے اناڑی لکھاری کی اتنی حوصلہ افزائی کررھے ہیں ۔
    جیوندے رو تے ہسدے وسدے رو ۔
    شالا سدا سُکھی رو
    شیخو پائیان

    کی حال اے
    بہت زبردست کہانی لکھ رئے او
    تے چھیتی نال اگلی اپڈیٹ وی روانہ کر دیو

  11. The Following 3 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (26-01-2019), Xhekhoo (26-01-2019)

  12. #687
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,391
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 229...??


    1
    کچھ دیر بعد جب میڈم اور میں نارمل ھوے تو میڈم نے ایکدم مجھے پیچھے کو دھکا دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے نیچے پھدی کی طرف دیکھ کر رونے لگ گئی اور گھٹنوں میں سر دے کر روتے ھوے اپنے آپ کو کوسنے لگ گئی ۔۔۔
    یہ میں نے کیا کردیا اپنی عزت اپنے ھی ھاتھوں برباد کر دی اب مجھ سے شادی کون کرے گا میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رھی ۔
    میں حیران پریشان میڈم سونیا کی طرف دیکھنے لگ گیا کہ اب اسکو کیا ھوا خود ھی تو اس نے مجھے چودنے پر اکسایا تھا اور اب کیوں پچھتا رھی ھے ۔۔
    میں یہ ھی سوچ رھا تھا کہ میری نظر میڈم کی ٹانگوں کے نیچے پھدی پر پڑی تو میں ایکدم گبھرا گیا ۔
    وہاں سب کچھ ھی سرخ ھوگیا تھا ۔۔۔
    پھدی بھی خون سے لال تھی اور نیچے گدی پر بھی خون کا بڑا سا دھبہ بنا ھوا تھا ۔
    میں آنکھیں پھاڑے دیکھتا رھا اور پھر میں نےجب اپنے لن پر نظر ڈالی تو ادھر بھی یہ ھی حال تھا ۔۔
    یاسر بھائی میں تو ایکدم سے ڈر گیا تھا کہ یہ کیا ماجرا ھے لن پھدی خون سے کیوں لتھڑے ھوے ہیں ۔۔
    خوف سے میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ کنواری لڑکی کی سیل ٹوٹنے سے خون لازمی نکلتا ھے ۔۔
    میں نے کچھ دیر کے بعد میڈم کے کندھے کو پکڑ کر ہلایا کی میم آپ کے نیچے سے خون بہہ رھا ھے ۔
    میڈم سونیا نے سر اٹھایا اور میری طرف سرخ آنکھیں نکال کر دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔
    دفعہ ھوجاو ادھر سے میری زندگی تباہ کردی ھے تم نے ۔۔
    آئندہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا ۔۔
    میں نے خود کو سنبھالتے ھوے کہا۔۔
    میں نے ایسا کیا کردیا میم جو آپ اتنا ناراض ھو رھی ہیں ۔۔
    میڈم سونیا کے چہرے پر ایکدم حیرانگی نمودار ھوئی اور مجھے گھورتے ھوے بولی ۔۔
    سب کچھ تو کرلیا ھے اب بھی. پوچھ رھے ھو کہ کیا کیا تم نے ۔
    میرا کنوارہ پن ختم کردیا جسکو میں نے اپنے شوہر کے لیے سنبھال کر رکھا تھا ۔
    مگر آج تم نے مجھے کسی کا نہ چھوڑا ۔۔
    میں نے کہا میم میں تو اپنے وعدے پر قائم تھا مگر آپ نے خود پکڑ کر اپنے اندر ڈالا تھا ۔۔
    میڈم سونیا میری طرف دونوں ھاتھ کرکے ہلاتے ھوے بولی ۔
    خاموش ھوجاو اور چلے جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔
    میں نے خاموشی سے کھڑا ھوا اور اپنا ٹراوزر اوپر کر کے ڈوری باندھی اور اپنی بکس اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھا اور دروازے کے پاس پہنچ کر کھڑے ھوکر میڈم کی طرف مڑ کر دیکھا جو اپنا ٹائٹس پہن کر اوپر کررھی تھی ۔
    میں نے ایک نظر ڈال کر دروازہ کھولا اور باہر بالکونی میں آیا اور پھر باہر کا دروازہ کھول کر بائک لی اور گھر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوستو سلمان کی سٹوری سن کر میرا تو لن پھٹنے والا ھوچکا تھا ۔۔
    جسے میں ٹانگوں کے بیچ دبا کر مزہ لے رھا تھا ۔
    سلمان اپنی میڈم کے ساتھ سیکس کا بتا کر خاموش ھوا تو میں نے کہا اسکے بعد پھر کتنی دفعہ لی تو سلمان بازو اوپر کر کے انگڑائی لیتے ھوے بولی ۔۔
    یاسر بھائی اسکے بعد بڑی ٹینشن بنی رھی ۔۔
    میں نے کہا وہ بھی بتا دے پھر کیا ھوا تو سلمان بولا بسسسسس یار آج کے لیے اتنا ھی کافی ھے مجھے تو نیند آرھی ھے ۔۔
    میں نے ٹائم دیکھا تو ایک بجنے والا تھا صبح دکان پر بھی جانا تھا اس لیے میں نے سلمان کو ذیادہ مجبور نہیں کیا اور کہا یار بڑا مزہ آیا تیری سٹوری سن کر کیا محنت کی تم نے میڈم سونیا کی سیل توڑنے کے لیے ۔۔
    اور یہ کہتے ھوے میں اٹھا اور اپنے لن کو ٹانگوں میں بھینچ کر چلتا ھوا اپنی چارپائی پر آیا اور کچھ دیر ہم پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے اور پھر دونوں کو باری باری نیند نے گھیر لیا ۔۔
    صبح امی نے اٹھایا کہ یاسر اٹھ جاو دکان ہر نہیں جانا اور ناشتہ بھی لانا ھے ۔۔۔
    میں جلدی سے اٹھا اور سلمان کو اٹھایا کہ دکان پر نہیں جانا میرے ساتھ تو سلمان بولا نہیں یاسر بھائی مجھے ابھی سونا ھے میں اسے بستر پر چھوڑ کر باہر صحن میں آیا نہا کر فریش ھوا اور بائک نکال کر شہر گیا وہاں سے ناشتہ لیا اور پھر گاوں آیا گھر ناشتہ دے کر میں بغیر ناشتہ کیے واپس چلا گیا کیوں کے مجھے کافی دیر ھوچکی تھی امی نے بڑا اصرار کیا کہ ناشتہ کرکے جاو مگر میں نے واپسی کا راستہ پکڑا اور سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ۔۔
    ضوفی کو ساتھ لیا اور دکان پر آگیا۔۔
    سارا دن کام میں گزر گیا شام کو جلدی دکان بند کی اگلے دن جمعہ تھا مہمانوں کو گاوں کی سیر کروانی تھی اس لیے لاہور جانے کا ارادہ ملتوی کردیا ۔
    ضوفی کو گھر چھوڑنے گیا تو میں نے آنٹی کے سامنے ضوفی کو کہا کہ کل ہوسکتا ھے کہ میرا شہر کا چکر نہ لگے اس لیے ناراض مت ھونا کیونکہ پرسوں خالہ نے واپس چلے جانا ھے اس لیے میں نے کل انکو گاوں کی سیر کروانی ھے ۔
    اور پھر آنٹی کو کہا کہ آپ بھی ضوفی اور ماہی کو لے کر آجانا مگر آنٹی نے معذرت کرلی کہ جب تمہاری خالہ چلی جاے گی ہم پھر آئیں گے ۔۔
    جبکہ ضوفی متواتر مجھے گھوری جارھی تھی اور منہ پر ھاتھ پھیر پھیر کر مجھے اشارے سے دھمکیاں دے رھی تھی کہ اگر کل نہ آے تو دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔
    کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں نے آنٹی سے اجازت لی اور باہر نکلنے لگا تو ضوفی مجھے دروازے پر ھی گھیر کر کھڑی ھوگئی اور بولی ۔۔۔
    یہ ڈرامے امی کو دیکھا کر مطمین کرسکتے ھوے مجھے نہیں۔۔
    کل اگر تم نہ آے تو میں نے تم سے کبھی بات نہیں کرنی ۔۔
    میں نے لاکھ کوشش کی کہ ضوفی میری مجبوری سمجھ سکے مگر وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔
    آخر میں نے ھار مانی کہ کوشش کروں گا شام کو چکر لگاوں گا تو ضوفی بولی ۔
    نہ آنا تم پھر تمہیں بتاوں گی ۔۔
    میں اسکی بات سن کر مسکرایا اور ۔
    پیچھے دیکھا کہ آنٹی تو نہیں دیکھ رھی اور موقع پاکر ضوفی کو جپھی ڈال کر ایک لمبی فرنچ کس کی اور پھر باہر نکل کر بائک پر بیٹھا اور گاوں کی طرف روانہ ہوگیا ۔
    گھر پہنچا تو صحن میں خوب رونق لگی ھوئی تھی آنٹی فوزیہ اور عظمی نسرین بھی آئی ھوئیں تھی جو عبیرہ اور نازی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی جبکہ سلمان کامران کے ساتھ کھیل رھا تھا ۔۔
    مجھے دیکھ کر سب ھی میری طرف متوجہ ھوے میں نے سبکو سلام کیا اور امی آنٹی فوزیہ اور خالہ کے پاس جاکر بیٹھ گیا ۔۔
    کچھ دیر انکے ساتھ باتیں کرنے کے بعد میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے عبیحہ کہیں نظر نہ آئی میں سمجھ گیا کہ میڈم کمرے میں کوئی ناول پڑھنے میں مصروف ھوگی ۔
    سلمان بھی آکر میرے پاس ھی بیٹھ گیا تھا ۔۔
    میں نے سلمان سے پوچھا سنا کیسا گزرہ دن سلمان بولا ۔
    بس یار سارا دن بورھوتا رھا ھوں اس سے اچھا تھا کہ تمہارے ساتھ دکان پر چلا جاتا ۔
    میں نے کہا ۔
    میں نے تو صبح تجھے بڑا اٹھایا تھا مگر تجھے نیند پیاری تھی ۔۔
    اتنے میں عبیرہ میرے پاس آئی اور بولی یاسر بھائی کل آپ نے دکان پر نہیں جانا اتنے دن ھوگئے ہیں ہمیں آے ھوے ابھی تک گاوں کی سیر نہیں کی ۔۔
    میں نے کہا ٹھیک ھے جی میں جمعہ کو ویسے بھی چھٹی ھی کرتا ھوں تو کل آپ کو پورا گاوں دیکھاوں گا باغ اور نہر اور فصلیں ۔۔
    تو عبیرہ خوشی سے اچھلنے لگی اور بولی ۔
    تھینکیو یاسر بھائی ۔۔
    اور پھر بھاگتی ھوئی نازی عظمی نسرین اور اپنی چھوٹی بہن کے پاس چلی گئی انکو جاکر خوش خبری سنانے لگ گئی ۔۔
    کچھ ھی دیر میں گھر چڑیا گھر بن گیا سب ھی اونچی آواز میں باتیں کرنا شروع ھوگئے ۔
    اتنے میں کمرے سے عبیحہ بڑے غصے سے باہر نکلی اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اونچی آواز میں چلائی ۔stopped..
    سب ھی اسکی آواز سن کر ایکدم خاموش ھوگئے ۔
    اور پھر عبیحہ چلاتے ھوے عبیرہ کو بولی تم نےکتا کھایا ھوا ھے تمہاری زبان ایک منٹ کے لیے نہیں رکتی کتنا شور مچا رکھا ھے جانور کہیں کی اور اسکے ساتھ ھی عبیحہ پیر پٹختے ھوے واپس کمرے میں چلی گئی ۔۔
    سلمان عبیرہ کو دیکھتے ھوے بولا ۔
    اب سکون آگیا بےعزتی کروا کے ۔
    عبیرہ جو پہلے ھی اپنی بےعزتی پر غصے سے بھری بیٹھی تھی ۔
    اس نے اپنی چپل اتاری اور سلمان کو مارنے کے لیے اسکے کی طرف بھاگی تو سلمان اپنا بچاو کرنے کے لیے باہر گلی کی طرف بھاگ کھڑا ھوا۔
    جبکہ عبیرہ دروازے سے کچھ پیچھے ھی سلمان کی طرف چپل پھینکتے ھوے ۔
    کتا کمینا باندر چوڑا کہہ کر اپنا غصہ اتارنے لگ گئی ۔۔
    جبکہ سلمان باہر گلی میں چلا گیا ۔۔
    سب ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر ہنسنے لگ گئے جبکہ خالہ عبیرہ کو بولنے لگ گئی کہ بھائی ھے تیرا شرم کرو ۔۔
    میں بھی ہنستہ ھوا اپنی جگہ سے اٹھا اور عبیحہ کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔
    میں کمرے میں پہنچا تو عبیحہ حسب توقع کرسی پر بیٹھی ناول پڑھنے میں ھی مصروف تھی۔۔
    میں نے دروازے سے اندر داخل ھوتے ھوے گلہ کھنگار کر عبیحہ کو اپنے آنے کا احساس دلوایا ۔۔
    آواز سن کر عبیحہ نے سر اٹھایا اور میری طرف دیکھا تو میں نے مسکرا کر عبیحہ کی نظروں کا جواب دیا ۔
    اور چلتا ھوا اسکے قریب پہنچا اور بولا ۔۔
    عبیحہ جی سوری آپ کو ڈسٹرب کیا ۔
    وہ دراصل آپ سے ایک بات پوچھنی تھی اگر آپ برا نہ منائیں تو ۔۔۔
    عبیحہ نے ناول کو بند کیا اور بڑی توجہ سے میری طرف دیکھتے ھو سر ہلا کر بولی ہاں بولو کیا کہنا ھے ۔۔
    میں نے دوسری کرسی کو پکڑ کر گھیسٹتے ھوے عبیحہ کے سامنے لے آیا اور اسپر بیٹھتے ھوے بولا ۔۔
    عبیحہ جی دراصل میں نے یہ کہنا تھا کہ آپ اتنی دور سے ہمارے گھر آئیں ہیں اور وہ بھی پہلی دفعہ ۔
    اور جب سے آپ آئی ہیں میں نے آپ کو یوں ھی کمرے میں بند پایا ھے میں آپ سے یوں بےرخی اور تنہائی پسند کی وجہ جان سکتا ھوں ۔۔

    عبیحہ بڑے سیریئس انداز میں بولی ۔
    دیکھو مسٹر یاسر مجھے یہ شور شرابا اور فضول گفتگو بلکل بھی پسند نہی ھے میں اپنی مرضی کی لائف گزارتی ھوں کسی کی ماتحت رھ کر نہیں اور مجھے جو پسند ھو میں وہ ھی کرتی ہوں ۔۔۔۔
    میں نے کہا دیکھیں عبیحہ جی بیشک آپ اپنے سٹائل سے زندگی گزاریں مجھے اسپر کوئی اعتراض نہیں ھے اور نہ ھی مجھے کوئی حق ھے کہ میں کسی بات کے لیے آپکو مجبور کروں ۔۔
    بیشک ہم غریب ھیں گاوں کے سادہ لوح ہیں مگر اسکے باوجود بھی ہمارے دل میں مہمانوں کی بہت عزت ھوتی ھے ہم مہمانوں کو اوپر والے کی رحمت سمجھتے ہیں ۔
    آپ چند دن یہاں گزارنے آئی ہیں تو کم ازکم آپ میزبانوں کی خوشی کے لیے ھی ہمارے ساتھ کچھ وقت گزاریں تاکہ ہم آپ کو یاد رکھیں کہ ہماری کزن کتنی اچھی اور ملنسار ھے ۔
    آپ کا یوں اکیلے بیٹھنا ہمیں اپنی توہین کا احساس دلاتا ھے کہ ہم اتنے ھی برے ہیں کہ آپ ہمارے بیچ میں بیٹھنا پسند نہیں کرتی اور اس دن میں اتنی محبت سے آپ کے لیے سپیشل آئسکریم پیک کروا کے لایا تھا ۔
    مگر آپ نے کیسے بےرخی سے میرے خلوص کو دھتکار دیا ۔
    اور اس کے باوجود میں آپ کو بازار لے جانے کے لیے کہنے آیا آپ نے پھر میرے خلوص کو بےدردی سے ٹھکرا دیا ۔
    آپ پڑھی لکھی سمجھدار ہیں کیا آپ کی تعلیم آپ کو یہ کہتی ھے کہ اگر کوئی خلوص دل سے آپکو دعوت دے تو آپ اسکو سنگدلی سے منہ توڑ جواب دیتے ھوے اسکا دل توڑ دیں ۔۔
    میری باتیں عبیحہ کے دل پر اثر کررھی تھیں جسکا ثبوت اس کے چہرے پر آئی شرمندگی بتا رھی تھی ۔۔
    میں نے لوہا گرم دیکھتے ھوے موقع کا فائدہ اٹھایا اور اگلی ضرب لگائی جو ہر عورت کی کمزوری ھوتی ھے ۔۔
    میں نے کرسی پر بیٹھے اپنا پہلو بدلہ اور پھر بولا ۔
    دیکھیں عبیحہ جی مجھے پتہ ھے کہ آپ دل کی بہت اچھی ہیں نرم دل ہیں آپ کے اندر ایک بہت اچھی سلجھی ہوئی لڑکی چھپی ھوئی ھے اوپر والے نے آپ کو ظاہری حسن سے بھی خوب نوازہ ھے اور باطنی حسن سے بھی ۔
    تو پھر آپ کیوں اندر کی اس حسین اور چلبلی لڑکی کو چھپا کر ہم غریبوں کا دل توڑ رہیں ہیں ۔
    آپ کو پتہ ھے کہ دلوں میں اوپر والا بستہ ھے اور آپ ہمارے خلوص اور محبت کو ٹھکرا کر کیوں گناہ گار ھورہیں ہیں ۔۔
    عبیحہ کا سر خم ھوگیا تھا اور وہ بلکل خاموشی سے سر جھکائے مجسمہ بنے بیٹھی تھی ۔۔
    میں اپنی بات مکمل کرکے اٹھا اور جاتے جاتے بولا ۔
    مجھے امید ھے کہ آپ میری کسی بات کا برا نہیں منائیں گی ۔
    اگر پھر بھی میری کوئی بات بری لگی ھو تو پلیززز مجھے معاف کردینا ۔۔
    اور پھر میں دروازے کی طرف بڑھا ابھی میں دروازے کے قریب ھی پہنچا تھا کہ مجھے پیچھے سے عبیحہ کی آواز آئئ ۔۔۔
    یاسر۔۔۔۔۔
    میرے چلتے ھوے قدم وہیں رک گئے اور میں نے بڑے سنجیدہ انداز میں گردن گھما کر عبیحہ کی طرف دیکھا ۔۔
    جو اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ھوچکی تھی اور شرمندہ سی سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔
    میں نے اپنا رخ تبدیل کر کے منہ عبیحہ کی طرف کرکے کھڑا ہوگیا اور بولا ۔۔
    جی فرمائیں۔۔
    عبیحہ قدموں کو گھسیٹتے ھوے چلتی ھوئی میری طرف آئی اور آہستہ سے بولی سوری یاسر ۔۔۔
    میں نے آپ لوگوں کا دل دکھایا پلیزز مجھے معاف کردو ۔۔

    میں نے اپنی محنت کا پھل ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ھوے کہا ۔۔
    شکریہ عبیحہ جی آپ نے میری عزت رکھ لی میرا مان رکھ لیا ۔
    آپ کے ان چند لفظوں نے مجھے سب کچھ بھلا دیا ھے ۔
    مجھے خوشی ھوگی اگر آپ باہر آکر سب کے بیچ بیٹھیں گی اور سب کے ساتھ ہنسی مزاق کریں گی ۔
    دیکھیں کل کا دن آپ ہماری مہمان ہیں پرسوں آپ نے چلے جانا ھے تو کیوں نہ جتنا وقت آپ ادھر ہیں تو ہمارے ساتھ ہنسی خوشی سے گزار لیں ۔۔
    عبیحہ نے سراٹھا کر میری طرف بڑے غور سے دیکھا اور پھر میں نے پہلی دفعہ عبیحہ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ۔
    اور عبیحہ بولی تم چلو میں آتی ہیں ۔۔
    میں نے دونوں ھاتھوں کے مکے بنا کر ہوا میں اچھالتے ھوے یسسسسسس کہا اور آگے بڑھ کر عبیحہ کو کندھوں سے پکڑتے ھوے والہانہ انداز میں بولا تھینکیو عبیحہ جی تھیینکیو
    یو آر سو سویٹ ۔
    اور مجھے نہ جانے کیا سوجھی میں نے عبیحہ کو اپنے سینے کے ساتھ چپکا لیا عبیحہ کے سیکسی چھتیس کے ممے میرے سینے کے ساتھ لگ گئے اور میں ایک ھی بات کری جا رھا تھا ۔
    تھینکیو تھینکیو تھینکیو ۔۔
    عبیحہ میرے ساتھ لگنے سے ایکدم گبھرا گئی اور جھٹکے سے مجھ سے الگ ھوتے ھوے بولی ۔
    یاسررررر یہ کیا بتمیزی ھے چھوڑو مجھے ۔۔
    مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ھوا میں شرمندہ سا ھوکر بولا ۔۔
    سوری عبیحہ جی دراصل آپ کو مسکراتے دیکھ کر میں خوشی سے پاگل ھوگیا تھا اس لیے خود پر کنٹرول نہ کرسکا ۔۔
    اگر آپ کو برا لگا تو پلیزززز معاف کردیں ۔
    میں نے بڑا معصوم سا چہرہ بنا کر اپنے دونوں کان پکڑ لیے ۔
    عبیحہ میری حرکت دیکھ کر غصے میں بھی مسکرا پڑی ۔
    اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی جاو دفعہ ھو جاو مین آتی ہوں ۔۔۔
    میں نے پھر یسسسس کیا اور باہر نکل گیا ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  13. The Following 11 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (26-01-2019), ksbutt (27-01-2019), lovehum123 (01-02-2019), Lovelymale (03-02-2019), MamonaKhan (26-01-2019), Mian ji (01-02-2019), omar69in (04-02-2019), suhail502 (26-01-2019), waqastariqpk (26-01-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  14. #688
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,391
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 230..??



    سلمان مجھے کمرے سے نکلتا دیکھ کر بولا واہ یار میں تجھے باہر ڈھونڈ رھا تھا اور تم ادھر کمرے میں گھسے ھوے تھے ۔۔
    میں نے مسکراتے ھوے کہا ۔
    وہ یار میں عبیحہ کے پاس بیٹھا ھوا اس سے باتیں کررھا تھا ۔۔
    سلمان میری بات سن کر حیران پریشان ھوکر بولا ۔
    جانے دے یار کیوں میرے ساتھ جوک کر رھا ھے ۔
    تم آپی کے ساتھ باتیں کررھے تھے ۔
    I don't blv it yaar.
    میں نے کہا یار میں مزاق نہیں کررھا کیا میں عبیحہ کے ساتھ باتیں نہیں کرسکتا ۔
    سلمان بولا کرسکتے ھو کیوں نہیں بلکل کرسکتے ھو ۔۔
    مگر آپی نے تو کبھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر باتیں نہیں کی تو تمہارے ساتھ کیسے باتیں کرنے لگ گئی مجھے تو یہ بات ہضم نہیں ھورھی ۔۔
    میں نے کہا تم باتیں کرنے کی بات کررھے ھو ۔
    کہو تو بازار چلتے ھیں اور میں عبیحہ کو بھی ساتھ لیجا کر دیکھادوں تمہیں بلکہ کل گاوں دیکھنے بھی اسے ساتھ لیجاوں تو ۔۔۔
    میری بات سن کر سلمان ہنس ہنس کر دھرا ہونے لگ گیا ۔
    اور پھر ذور ذور سے اپنے ماتھے پر تھپڑ مارتے ھوے بولا ۔

    یار تم پاگل تو نہیں ہوگئے ۔۔۔
    میں نے کہا لگالو شرط ۔
    سلمان بولا جانے دو یار ہار جاوگے ۔
    جیسے عبیرہ سے اس دن شرط ھارگئے تھے ۔
    میں نے کہا اس دن کو چھوڑو
    اب کی بات کرو ۔
    سلمان بولا اب کونسا تمہارے پاس الہ دین کا چراغ آگیا ھے جو تم اتنے اعتماد سے کہہ رھے ھو ۔
    میں نے کہا اس بات کو چھوڑو یہ تمہارا مسئلہ نہیں ھے ۔
    وہ میری سر درد ھے کہ میں جیسے بھی عبیحہ کو راضی کروں ۔۔
    تو سلمان بولا اوکے ٹھیک ھے اگر تمہیں ہارنے کا شوق ھی پڑ گیا ھے تو ٹھیک ھے لگی شرط اگر آپی نہ گئی تو تم سب گھر والوں ہوٹل سے کھانا کھلاو گے وہ بھی مٹن کڑاہی ۔۔
    اور اگر آپی چلی گئی تو میں سب کو کھلاوں گا ۔۔
    اگر منظور ھے تو بولو ۔
    سلمان نے میری طرف ھاتھ کیا میں نے اسکے ھاتھ پر ھاتھ مارتے ھوےکہا منظور ھے ۔۔
    سلمان قہقہہ لگاتے ھوے بولا ۔
    بھاگنے نہیں دوں گا ۔۔
    میں نے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا ۔
    مرد کی زبان ھے بچوووووو۔۔
    اتنے میں عبیرہ ہم دونوں کو بحث کرتے دیکھ کر ہمارے قریب آئی اور میرے اور سلمان کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے بولی ۔
    کس بات پر شرط لگ رھی ھے بردرزززززز۔۔۔۔۔
    سلمان ہنستے ھوے بولا ۔
    کل ہوٹل سے کھانا کھانے کی تیاری کرلو وہ بھی مٹن کڑاہی سے ۔۔
    عبیرہ حیرانگی سے بولی وہ کس خوشی میں جی ۔
    سلمان بڑے پراعتماد سے بولا ۔
    یاسر بھائی کھلا رھے ہیں کل سب کو ہوٹل سے کھانااااااااا۔
    عبیرہ خوشی سے ہاتھ پر ھاتھ مارتے ھوے بولی واوووووووو
    اور پھر ایکدم سنجیدہ ھوتے ھوے بولی ۔
    مگر سلمان بھائی پتہ تو چلے کہ یاسر بھائی کس خوشی میں سبکو دعوت کھلا رھے ہیں۔۔
    سلمان ہنستے ھوے بولا ۔
    خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے ۔۔
    عبیرہ ناسمجھنے والے انداز سے بولی ۔
    کیا مطلب میں سمجھی نہیں ۔۔ کس بات کی مجبوری۔۔
    سلمان بولا وہ اس لیے کہ یاسر بھائی شرط ھاریں گے ابھی کچھ دیر بعد ۔۔
    ھاریں گے کیا بلکہ ہار چکے ہیں اڈوانس میں بتا رھا ھوں ۔۔
    عبیرہ بڑے تجسس سے سلمان کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔
    کس بات کی شرط کونسی شرط۔۔ مجھے بھی بتاو۔۔
    سلمان بولا ۔
    یہ جناب مجھ سے شرط لگا بیٹھے ہیں کہ آپی عبیحہ کو آج بازار ساتھ لے کر جاءیں گے اور کل جب ہم گاوں کی سیر کرنے جائیں گے تو تب بھی آپی ہمارے ساتھ جاے گی اور انکو یہ جناب ساتھ جانے کے لیے راضی کریں گے ۔۔
    اور اگر آپی نہ گئی تو شرط کے مطابق یہ جناب سب گھر والوں کو ہوٹل سے مٹن کڑاہی کھلائیں گے اور اگر آپی چلی گئی تو پھر یہ خادم سبکو دعوت کھلاے گا ۔۔
    سلمان کی تقریر سننے کے بعد عبیرہ دونوں ہاتھ ماتھے پر مار کر سر پکڑ کر نیچے پاوں کے بل بیٹھ گئی اور پھر کھڑی ھوکر بولی لو جی آ بیل مجھے مار ۔
    آپ تو پھنس گئے بردر اب بس ہوٹل چلنے کی تیاری کرین ۔۔
    میں نے بڑے پراعتماد سے کہا یہ تو وقت آنے پر پتہ چلے گا کہ کون سارا خرچہ کرتا ھے ۔۔
    پھر میں نے سلمان کے پیٹ پر انگلی مارتے ھوے کہا ۔
    بچو اتنے پیسے بھی پاس ہیں یہ نہ ھو کہ بعد میں سب کے سامنے شرمندہ ھوجاو ۔
    اگر نہیں ہیں تو بتا دو تاکہ میں تم پر رحم کھاتے ھوے شرط میں کمی کردوں اور صرف آئسکریم پر ھی تمہاری جان چھڑوا دوں ۔۔
    سلمان بڑی شوخی سے سینہ چوڑا کرتے ھوے بولا
    میری فکر چھوڑو اپنی فکر کرو سیدھا یہ کہو کہ تم اپنی جان بچانا چاہتے ھو ۔۔
    میں. نے ہنستے ھوے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ھوے کہا ۔
    بچوووو یہ مرد کی زبان ھے بھاگوں گا نہیں ۔
    میں تو آنے والے وقت میں تمہاری جو ذلالت ھونی ھے اسکو سوچ سوچ کر پریشان ھورھا ھوں اور مجھے تو وہ وقت ابھی سے نظر آرھا ھے جب تم سب کے سامنے پیسے کم پڑجانے پر شرمندہ ھوگے ۔۔
    سلمان بولا ۔
    برادرررررر میری فکر چھوڑو اپنی فکر کرو ۔۔

    اتنے میں مجھے عبیحہ کمرے سے نکل کر سب گھر والوں کی طرف آتی دیکھائی دی ۔۔۔
    میں جلدی سے عبیحہ کی طرف انگلی کرتے ھوے بولا ۔۔
    بچووووم
    تم میری فکر چھوڑو ادھر دیکھو اور اپنی فکر کرو ووووو۔

    سلمان اور عبیرہ نے چونک کر گردن گھما کر عبیحہ کی طرف دیکھا جو عظمی اور نسرین کے پاس کھڑی ھوکر ان سے ہنستے ھوے ھاتھ ملا کر مل رھی تھی ۔۔
    سلمان اورعبیرہ کا، منہ ایسے ھوگیا جیسے انکو سانپ سونگھ گیا ھو ۔۔۔
    میں نے ایک ھاتھ سلمان کے کندھے پر رکھا اور دوسرا عبیرہ کے اور بولا ۔
    سناو بہنا جی اور بھیاء جی ۔۔۔
    ابھی بھی وقت ھے مجھ سے معافی مانگ لو تو رحم کھا کر شرط کم کر دوں گا ۔۔
    سلمان میری طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔
    ارے بھئی شرط کمرے سے باہر نکلنے کی نہیں لگی تھی جو اتنا خوش ھو رھے ھو بلکہ گھر سے باہر جانے کی لگی ھے ۔
    ذیادہ خوش نہ ھو ۔۔
    میں نے کہا چلو تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور کردیتا ھوں تم بس اب دیکھتے جاو ۔۔۔
    یہ کہتے ھوے میں عبیحہ کی جانب بڑھا جو اب ہنس ہنس کر نازی عظمی اور نسرین سے باتیں کررھی تھی ۔
    لگ ھی نہیں رھا تھا کہ یہ وہ ھی سڑئیل لڑکی ھے جو شاید زندگی میں کبھی ہنسی نہ ھو ۔
    اور اب ایسے لگ رھا تھا کہ اس سے شوخ چنچل کوئی ھے ھی نہیں ۔۔
    میں چلتا ھوا انکے پاس پہنچا اور کھڑا ھوکر انکی باتیں سننے لگ گیا ۔
    تو عبیحہ بڑی شوخی سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    یاسر تمہیں شرم نہیں آتی لڑکیوں کی باتیں سنتے ھوے ۔۔

    تو نسرین بڑے سڑئیل انداز میں ھاتھ لہراتے ھوے بولی ۔
    شرم ھوگی تو ھی آے گی ۔۔۔
    میں نے نسرین کے سر پر انگلیاں رکھیں اور انگلیوں سے اسکے سر کو جکڑتے ھوے کہا تیرے اندر تو بڑی شرم ھے ۔۔
    نسرین درد سے چیخ کر بولی ۔
    امییییییییی ھاےےےےے میرا سر ۔
    کتا بےغیرت بےشرم کھوتا۔۔۔۔
    آنٹی فوزیہ نے میری طرف دیکھا تو ہنسنے لگ گئی جبکہ امی مجھے ڈانٹنے لگ گئیں ۔۔
    کھوتے جنا ھوگیا اے پر حرکتاں او ای بچیاں والیاں اے ۔
    شرم کریا کر ہن توں بچا نئی ریا جوان پیناں نال ہاتھا پائی نئی کری دی پتہ نئی کدوں تینوں عقل آوے گی ۔۔
    میں نے اچھی طرح نسرین کے سر کو انگلیوں میں جکڑ کر دبایا اور پھر چھوڑ کر سلمان کی طرف چلا گیا ۔
    جبکہ نسرین ابھی بھی مجھے سڑی سڑی جھلی بھنی سنا رھی تھی ۔۔
    سلمان بولا کوئی حال نئی تیرا یار بیچاری کا سر ھی مروڑ دیا ۔۔
    میں نے کہا یار یہ بڑی شیطان کی نانی ھے میری بچپن کی فرینڈ ھے میں اسے بچپن سے جانتا ھوں ہماری اسی طرح نوک جھونک ھوتی رھتی ھے ۔۔
    سلمان ہنستے ھوے بولا گُڈ یار بچپن کے فرینڈ بھی کیا خوب ھوتے ہیں بڑے ھوکر بھی عادتیں نہیں بدلتی جب بھی ملتے ہیں ۔
    بچپن کی طرح ھی ایک دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا ہاں یار سچ کہا بلکل ایسا ھی ھے ۔۔
    اور پھر کچھ دیر بعد آنٹی فوزیہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی اور جاتے جاتے نسرین مجھے گھورتے ھوے ہاتھ میری طرف کرتے ھوے لعنت لعنت کرتی ھوئی چلی گئی ۔۔
    جسکو دیکھ کر سلمان بھی کافی محفوظ ھوا ۔
    اور کتنی دیر اسکا سٹائل بناتے ھوے مجھے لعنت لعنت کرتے چھیڑتا رھا ۔۔
    پھر ہم سب نے مل کر اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھایا ۔
    اور یہ دیکھ سب ھی حیران تھے اور ان میں سے سب سے ذیادہ حیران اور پریشان سلمان تھا کہ عبیحہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رھی تھی اور وہ بھی بڑھ چڑھ کر سب کو کبھی سالن ڈال کر دیتی تو کبھی روٹی پکڑاتی ۔۔
    اور میں سلمان کو کہنی مارتے ھوے عبیحہ کی طرف اشارے کر کر کے اسے شرط ھارنے کا سگنل دے کر مذید پریشان کررھا تھا ۔۔۔
    کچھ دیر بعد سب نے کھانا کھایا اور سب باری باری دستر خوان سے اٹھنا شروع ھوگئے اور اگلا بم سلمان پر تب گرا جب عبیحہ کھانے کے برتن اٹھوانے میں آپی اور امی کی مدد کررھی تھی ۔۔۔
    اور عبیرہ سلمان کو اشارے کر کر کے مذید ڈراے جارھی تھی کہ بچووووو تم تو گئے۔۔۔
    اور سلمان بیچارہ ہاتھ مسلتا کبھی ادھر جاتا تو کبھی ادھر ۔۔
    مگر وہ پھر بھی اس امید پر خوش تھا کہ ھوسکتا ھے کہ آپی عبیحہ ہمارے ساتھ باہر نہ جاے ۔۔
    جبکہ مجھے بھی کوئی خاص امید نہیں تھی کہ واقعی عبیحہ ہمارے ساتھ چلنے پر راضی ھوجاے گی مگر پھر بھی میرا دل کہہ رھا تھا کہ وہ ضرور جاے گی ۔۔
    خیر وہ گھڑی بھی آن پہنچی جب میں نے سلمان کو کہا کہ چلو شاباش گاڑی سٹارٹ کرو اور میں سبکو لے کر آتا ھوں ۔۔
    تو سلمان بجھے بجھے دل کے ساتھ قدموں کو گھسیڑتا ھوا باہر نکل گیا اور میں نے عبیرہ اور
    اعبیر اور کامران نازی کو شہر چل کر آئسکریم کھانے کی نوید سنائی تو بچے تو سیکینڈوں بھاگتے ھوے گاڑی میں جا بیٹھے جبکہ نازی اور عبیرہ گاون پہننے میں مصروف ھوگئیں میں نے امی اور خالہ کو بتایا کہ میں عبیحہ کو بھی ساتھ لیجانے لگا ھوں تو خالہ نے بھی حیریت کا اظہار کرتے ھوے کہا کہ بیٹا وہ نہیں جاے گی اگر پھر بھی تم اسے لیجانا چاہتے ھو تو اسے کہہ کر دیکھ لو مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ تم لوگوں کے ساتھ جاے گی ۔۔
    اتنے میں نازی اور عبیرہ تیار ھوکر مجھے چلنے کا کہنے لگ گئیں جبکہ عبیحہ شاید پھر کمرے میں چلی گئی تھی میں نے ان دونوں کو کہا کہ تم گاڑی میں چل کر بیٹھو میں عبیحہ کو لے کر آیا ۔۔۔
    تو دونوں میرا مزاق اڑاتی ھوئی باہر چلی گئیں ۔۔۔
    میں بڑے کانفیڈنس کے ساتھ کمرے میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رھی گیا کہ عبیحہ خود ھی اپنا بستر بچھا رھی تھی ۔۔
    مجھے اندر داخل ھوتے دیکھ کر مسکراتے ھوے میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔
    میں نے عبیحہ کی طرف دیکھتے ھوے تعریفی کلمات کہے اور بولا واہ جی واہ اتنی بڑی تبدیلی اور وہ بھی اتنی جلدی ۔
    ویسے میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپکا شکریہ ادا کرسکوں ۔
    آپ واقعی جتنی اوپر سے خوبصورت ہیں اس سے ذیادہ آپ اندر سے بھی خوبصورت اور اچھی ہیں ۔
    عبیحہ چارپائی پر چادر بچھاتے ھوے بولی اب تو تم خوش ھو نہ اپنے مہمانوں سے اب تو تمہارا دل نہیں دکھ رھا ۔۔
    میں نے کہا میں تو آپکو مسکراتا ھوا دیکھ کر ھی اتنا خوش ھوگیا تھا کہ بتا نہیں سکتا ۔
    عبیحہ چارپائی پر تکیہ رکھتے ھوے بولی ۔
    چلو شکر ھے جو تم خوش ھوگئے ۔
    ورنہ مجھے افسوس ھی رہتا کہ میری وجہ سے کسی کا دل دکھا ۔
    میں نے بات کو سمیٹتے ھوے کہا ۔
    وووہ جی عبیحہ جی ایک اور گزارش تھی اگر آپ. برا نہ مانیں ۔
    تو عبیحہ چونک کر میری طرف دیکھتے ھوے بولی اب کیا ھے ۔۔
    میں نے کیا ووووہ جی ہم شہر چلے تھے سب ۔۔
    تو اگر آپ بھی ہمارے ساتھ چلتی تو مجھے اچھا لگتا اسی بہانے آپ سے باتیں کرنے کا موقع بھی مل جاے گا ۔۔
    عبیحہ نے بڑی گہری نظر سے میری طرف دیکھا اور پھر بولی ۔
    دیکھو یاسر جتنا میں کر سکتی تھی وہ کرلیا وہ بھی تمہاری خوشی کی خاطر ۔
    مگر یہ بازاروں میں جانا ہوٹلوں میں بیٹھنا مجھے بلکل بھی پسند نہیں اس لیے ناراض مت ھونا ایم سوری میں نہیں جاسکتی ۔۔۔
    ہاں تم میرے لیے آئسکریم لے آنا وہ میں کھا لوں گی ۔۔
    عبیحہ کی بات سن کر میں تو ایکدم گبھرا گیا اور اپنے کیے کراے پر پانی پھرتا اور پھر سلمان اور عبیرہ کی طنزیں اور مزاق نظر آنے لگ گیا ۔۔
    میں نے پھر منمناتے ہوے عبیحہ کو کہا ۔
    عبیحہ جی پلیزززز میری ریکوئسٹ ھے آپ سے آپ ہمارے ساتھ چلیں دیکھیں ہم کچھ ھی دیر مین آجائیں گے اور آپ کے لیے ہم ہوٹل کے اندر بھی نہیں جائیں گے بلکہ سب کے سب گاڑی میں ھی بیٹھے رہیں گے پلیزززززززززز عبیحہ جی یییییی۔۔۔
    عبیحہ میرے اصرار پر چڑ سی گئی اور دونوں مٹھیاں بھینچ کر بولی ۔۔
    یاسر پلیززززززز جاو میں نے کہا نہ کہ مجھے یہ سب بلکل پسند نہیں ھے تو پھر تم کیوں بار بار ضد کررھے ھو ۔۔

    پلیزززجاو تم میں سونے لگی ھوں ۔۔
    یہ کہتے ھوے عبیحہ اپنی گول مٹول گانڈ کو چارپائی پر رکھتے ھوے بڑے بڑے مموں کو چھلکاتے ھوے چارپائی پر لیٹ گئی اور تکیے کو سر کے نیچے سہی کرتے ھوے سینے کو تھوڑا سا اوپر کیا جس سے اسکے تنے ھوے ممے مذید اوپر کو اچھلے اور پھر اس نے مجھے اگنور کرتے ھوے آنکھیں موند لیں ۔۔
    مجھے اسپر غصہ بھی آرھا تھا اور اپنی بےبسی پر دکھ بھی ھورھا تھا ۔
    بات شرط کی جیت یا ھار کی نہیں تھی بلکہ بات میری عزت انا کی تھی ۔۔
    میں چند لمحے خاموشی سے کھڑا عبیحہ کی سانسوں کو گنتا رھا جو اسکے اوپر نیچے ھوتے ممے مجھے گنوا رھے تھے ۔
    کہ عبیحہ کی چھٹی حس نے مموں کو تاڑتی میری نظروں کی شکایت کی تو عبیحہ نے آنکھیں کھول کر میری نظروں کا تعاقب کرلیا ۔
    اور پھر مموں پر دوپٹہ سہی کرتے ھوے بولی ۔
    تم گئے نہیں ابھی ۔
    میں نے سارے جہاں کی بےبسی مسکینی اور لاچاری اپنے چہرے پر لاکر ہاتھ جوڑ کر عبیحہ کی طرف کیے اور بولا ۔
    عبیحہ جی میں بڑے مان کے ساتھ آپکو اپنے ساتھ لیجانے کے لیے آیا تھا ۔
    پلیززززززززز میری لاج رکھ لیں پلیززززززز آپکو اوپر والے کا واسطہ ۔پلیززززززز۔
    عبیحہ نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے لمبا سا سانس بھر کر چھوڑا اور ذوررر سے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    یاسر تمہیں میری بات کیوں نہیں سمجھ آتی ۔۔
    اس سے آگے کہ عبیحہ کچھ بولتی ۔۔
    میں اسپر پھٹ پڑا۔۔
    بسسسس عبیحہ جی میں تو بڑے مان دعوے کے ساتھ آپ کو بلانے آیا تھا مگر یہ میری بھول تھی کہ آپ کے دل میں ہم غریبوں کے لیے کوئی جگہ ھوگی ۔
    میں بھول گیا تھا کہ میرے ساتھ جانے سے آپکی امیری پر آپ کی شان پر داغ لگ جاے گا ۔
    کوئی بات نہیں عبیحہ جی آئندہ میں آپکو کسی بات پر مجبور نہیں کروں گا بلکہ کبھی آپ کے سامنے ھی نہیں آوں گا

    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  15. The Following 12 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (26-01-2019), ksbutt (27-01-2019), lovehum123 (01-02-2019), Lovelymale (03-02-2019), MamonaKhan (26-01-2019), Mian ji (01-02-2019), musarat (28-01-2019), omar69in (04-02-2019), suhail502 (26-01-2019), waqastariqpk (26-01-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  16. #689
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,391
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 231..??



    جیسے آپ خوش۔۔۔۔۔
    اور پھر میں نے جاتے ھوے ڈائلگ مارا ۔۔
    بڑے بے آبرو ھوکر تیرے کوچے سے نکلے
    عبیحہ جییییییییییءءءء
    یہ کہتے ھوے میں تیز تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکلا اور صحن سے ھوتا ھوا باہر دروازے پر پہنچا تو مجھے دروازے سے نکلتا دیکھ کر سلمان اور عبیرہ چو چو چو چو کرنے لگ گئے ۔۔
    میں نے جاکر بڑے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور آگے فرنٹ سیٹ پر جاکر سلمان کے ساتھ بیٹھ گیا اور دونوں ھاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ھوے خود کو ریلیکس کرنے لگ گیا ۔۔
    سلمان شوخی سے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ھوے بولا
    یار بھوک پھر بہت ذور کی لگ گئی ھے کیا خیال ھی ابھی شہر چل کر پہلے مٹن کڑاھی نہ کھالی جاے اور پھر پیچھے منہ کر کے بولا کیوں سسٹرز کیا کہتی ہیں ۔۔
    عبیرہ شوخی سے بولی میں نے تو پہلے ھی بھائی کو وارن کیا تھا کہ جانے دو ہم سے پنگا اٹ از ناٹ چنگا۔۔۔
    مگر بھیاء جی کو نہ جانے کس خوش فہمی نے گھیر لیا تھا ۔۔
    پھر سلمان اور عبیرہ کے قہقہے گاڑی میں گونج اٹھے ۔۔
    اور میں شرمندہ اور غصے کے ملے جلے تاثرات لیے اندر ھی اندر کُڑھنے لگا ۔۔
    اور پھر سلمان نے گاڑی کی چابی گھماتے ھوے گاڑی سٹارٹ کی اور مجھے کندھا مارتے ھے گاڑی کا گئیر لگا کر بولا ۔
    چلیں بردر یا پھر ابھی بھی کوئی امید باقی ھے ۔۔
    میں نے آہستہ سے کہا
    ہاں چلو ۔
    تو سلمان بولا ۔
    یعنی کہ آپ شرط ھارگئے ۔۔
    میں نے تھوڑا غصے سے کہا چلو یاررررررر۔
    سلمان پھر بولا ۔
    چلیں ۔۔
    میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
    سلمان پھر بولا ۔
    تو پھر میں گاڑی چلانے لگا ھوں ۔۔۔
    اس سے پہلے کہ مجھے مذید غصہ آتا اور میں سلمان کو کچھ الٹا سیدھا بولتا کہ اچانک سلمان کی طرف سےبڑی شوخ اور چنچل آواز آئی ۔
    بڑی جلدی ھے جانے کی مجھے تو ساتھ لیتے جاو۔۔
    اس شوخ چنچل آواز کو
    سن کر اور اس چہرے کو دیکھ کر میرے چہرے پر سارے جہان کی خوشیاں لوٹ آئیں
    اور سلمان کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا اور اس پر غم کے پہاڑ گر پڑے چند لمحے پہلے ہنستہ مسکراتا چہرہ غمگین ھوگیا جیسے اسکا سب کچھ لُٹ گیا ھو ۔
    اور گاڑی میں ھوتی سب کی چہہ میگوئیاں ایسے ختم ھوئیں جیسے سب نے کوئی ڈراونا سین دیکھ لیا ھو ۔
    عبیرہ کی بھی بولتی بند ۔
    اور سلمان تو ایسے تھا جیسے اسکو موت کا فرشتہ نظر آگیا ھو ۔۔
    سلمان کا منہ کھلے کا کھلا رھ گیا ۔
    تو عبیحہ کی دوبارا آواز آئی جو سلمان کی آنکھوں کے آگے ھاتھ ہلاتے ھوے اور پھر اسے کندھے سے ہلاتے ھوے کہہ رھی تھی ۔
    کدھر گم ھوگئے ھو مجھے دیکھ کر تمہاری شکل بیماروں جیسی کیوں ھوگئی ھے ۔۔
    میں جلدی سے فرنٹ سیٹ سے اترا اور پیچھے والا دروازہ کھول کر عبیحہ کو کہا کہ آپ آگے سللللللمااااااان کے ساتھ تشریف رکھیں میں پیچھے بیٹھ جاتا ھوں تو عبیحہ جلدی سے گاڑی کے آگے سے گھوم کر میرے پاس آئی اور بولی ۔
    نہیں تم آگے بیٹھوں مین پیچھے بیٹھتی ھوں ۔۔
    میں نے اوکے کہا تو جیسے ھی میری نظر سلمان پر پڑی تو میں باوجود کوشش کہ اپنی ہنسی کو نہیں روک پایا ۔
    سلمان ذور ذور سے سٹیئرنگ پر سر مار رھا تھا تو کبھی مکے مار رھا تھا ۔
    میں ہنسی کو دباتے ھوے آگے بیٹھ گیا اور سلمان کو کندھا مارتے ھوے بولا چلیں۔۔۔
    اور پھر اپنے پیٹ پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولا ۔
    یار بھوک تو مجھے بھی ا ب بہت لگ رھی ھے ویسے تمہارا آئڈیا برا نہیں تھا کہ پہلے شہر چل کر کھانا ھی کھا لیتے ھیں ۔۔
    سلمان نے گھور کر میری طرف دیکھا تو میں نے مسکراتے ھو ے انگھوٹھے سے پہلے پیچھے کی طرف اشارہ کیا کہ عبیحہ آگئی ھے اور پھر ھاتھ آگے کرتے ھوے اسے چلنے کا کہا ۔
    سلمان غصے سے دانت پیستا ھوا منہ ھی منہ میں بڑ بڑاتا ھوا بڑے غصے سے گئیر لگانے لگا اور پھر جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھائی کے گاڑی کے ٹائروں کی چیخیں اور پیچھے بیٹھیں سب مستورات کی بچوں سمیت چیخیں نکل گئیں اور عبیحہ سلمان کو غصے سے ڈانٹتے ہوئے بولی ۔
    پاگل ھوگئے جاہل انسان ۔۔
    آرام سے نہیں چلا سکتے ۔
    میں نے جلتی پر تیل پھینکا اور بولا ۔
    بیچارے کو بھوک لگی ھے اس لیے جلدی میں ھے ۔
    تو پیچھے بیٹھی عبیرہ کی ہنسی نکل گئی اور سلمان غصے سے تلملا اٹھا اور عبیحہ کی وجہ سے اس نے میرا اور عبیرہ کا غصہ گاڑی کی سپیڈ پر نکال دیا ۔۔۔

    2.
    سلمان کی تیز ڈرائیونگ نے ہم جلد ھی شہر پہنچا دیا اور پھر سلمان نے ہوٹل کے سامنے بریک ماری تو میں نے گردن گھما کر پیچھے عبیحہ کو دیکھتے ھوے کہا کہ ہوٹل کے اندر چلیں یا پھر ادھر گاڑی میں بیٹھ کر ھی آئسکریم کھانی ھے ۔
    عبیحہ بولی جیسے آپ سبکو اچھا لگے ۔۔
    میں نے عبیرہ سے پوچھا تو وہ بولی ہوٹل میں چلتے ہیں تو سب نے اسکی ہمایت میں کہا یاسر بھائی ہوٹل میں بیٹھ کر کھائیں گے ۔۔
    میں دروازہ کھولتے ھوے کہا تو چلو پھر سب ۔
    سب ھی باری باری اتر کر ہوٹل کی طرف چل دیے اور سب سے آخر میں سلمان جو پیچھے سے عبیحہ کو مکے دیکھاتا ھوا آرھا تھا ۔۔
    ہوٹل میں آئسکریم کھاتے ھوے بھی سب نے خوب ہلا گلا کیا عبیحہ کامران کو گود میں بیٹھا کر آئسکریم کھلا رھی تھی ۔
    اور وہ متواتر شرارتیں کری جارھا تھا کہ اچانک کامران کا ہاتھ عبیحہ کے ھاتھ میں پکڑے آئسکریم کے کپ کو لگا تو کپ الٹ کر عبیحہ کے مموں پر گرا اور ساری آئسکریم عبیحہ کے اوپر الٹ گئی عبیحہ چیختی چلاتی کھڑی ھو کر ٹشو سے اپنے مموں کی اور پیٹ کی جگہ کے کپڑے کو صاف کرنے لگ گئی مگر اسکے باوجود عبیحہ کی آگے سے ساری شرٹ خراب ھوچکی تھی ۔۔
    اچھے بھلے سب ہنسی مزاق کررھے تھے عبیحہ کی وجہ سے ماحول ایکدم سنجدیدہ ھوگیا سب نے جلدی جلدی آئسکریم کھائی کیوں کے عبیحہ غصے سے کامران پر چلائی جارہی تھی اور وہ بیچارہ بھی رونا شروع ھوگیا تھا ۔
    کچھ دیر بعد سب ہوٹل سے نکلے اور واپسی پر عبیرہ بولی یاسر بھائی آپ نے اپنی شاپ ہمیں نہیں دیکھائی ۔۔
    میں نے کہا یہ کونسی مشکل بات ھے چلو ابھی دیکھ لو یہاں سے سے قریب ھی ھے ۔۔
    عبیحہ بولی نہیں یاسر گھر چلو میری شرٹ گیلی ھوگئی ھے مجھے الجھن ھورھی ھے عبیحہ کی بات میں نے ان سنی کی اور
    میں نے سلمان کو گاڑی بازار کی طرف موڑنے کا کہا تو سلمان نے بڑبڑاتے ھوے گاڑی مین بازار کی طرف موڑ دی ۔
    کچھ ھی دیر میں ہم بوتیک کے سامنے کھڑے تھے میں نے اتر کر دکان کھولی تو اور لائٹ جلائی تو سب ھی باری باری بوتیک کے اندر آگئے ۔۔
    اندر داخل ھوتے ھی
    عبیحہ عبیرہ اعبیر تینوں بہنیں بوتیک دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور ورائٹی کی بھی بہت تعریف کرتی رہیں ۔
    میں نے تینوں بہنوں کو ایک ایک سوٹ لینے کی آفر کی مگر عبیحہ نے سختی سے دونوں کو منع کردیا اور خود بھی سوٹ لینے سے انکاری ھوگئی ۔
    میں نے بڑی کوشش کی مگر عبیحہ نہ مانی ۔
    میں نے عبیحہ کو کہا سامنے ٹرائی روم ھے تمہیں جونسا ڈریس پسند ھے یہاں چینج کرسکتی ھو تمہاری شرٹ ساری خراب ھوچکی ھے ۔
    مگر عبیحہ نہ مانی اور بولی نہیں میں گھر جاکر ھی چینج کرلوں گی بس اب چلو سب ۔۔
    ۔
    کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ہم واپس گھر آگئے۔۔
    گھر آتے ھی عبیحہ کمرے کی طرف بھاگ گئی جبکہ باقی سارے پھر صحن میں ھی بیٹھ گئے جبکہ باہر کافی سردی محسوس ھورھی تھی مگر سب ہنسی مزاق میں لگے ھوے تھے اس لیے انکو سردی کیا پرواہ نہیں تھی ۔۔
    میں ان سب کو صحن میں چھوڑ کر بھا قیصر کے کمرے میں گیا ۔۔
    جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمارے گھر کا نقشہ کچھ ایسا تھا کہ پہلے بیٹھک تھی پھر بھا قیصر کا کمرہ اور اسکے ساتھ نازی کا کمرہ اور اسکے ساتھ امی ابو کا کمرہ اور آخر میں ایک خالی کمرہ تھا جس میں صرف چار پائیاں ھی پڑی ھوئیں تھی ۔
    اور ان سب کمروں میں ایک سے دوسرے کمرے میں جانے کے لیے اندر دروازے تھے یعنی سب کمرے ایک دوسرے سے اٹیچ تھے ۔
    میں جیسے ھی بھا کے کمرے میں پہنچا تو اچانک میرے دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ عبیحہ کا شکریہ ادا کردوں کہ اس نے آج میری عزت رکھ لی ۔
    میں یہ سوچ کر اندر کمرے سے ھی اٹیچ دروازے کی بڑھا اور بنا سوچے سمجھے دروازہ کھول کر دوسرے کمرے میں داخل ھوگیا ۔
    اففففففففففف کاش کی وقت وہیں تھم جاتا کیا منظر تھا سامنے کا کیا ھی دلکش نظارہ تھا ۔
    عبیحہ. ہلکے گلابی رنگ کے بریزیر میں شلوار پہنے کھڑی تاول سے اپنے ننگے پیٹ اور بریزیر سے باہر ننگے مموں کو جلدی جلدی صاف کرنے میں مصروف تھی تاول شاید گیلا تھا جس سے آئسکریم کی چکناہٹ صاف کر رھی تھی ۔۔
    جیسے ھی دروازہ کھلا اور میں اندر داخل ھوا تو میری نظر سیدھی عبیحہ کی گلابی مانند رنگت پر پڑھی چٹا سفید پیٹ اور چٹے سفید گلابی مانند ادھ ننگے تنے ھوے ممے اور بریئزیر کا رنگ بھی ایسا کہ لگتا تھا کہ سارے ھی ممے بلکل ننگے ہیں بریزیر کا نام نشان نہیں ۔
    میری آنکھیں وہیں پتھر سی ہوگئیں ۔
    جبکہ عبیحہ کی نظر جب میری نظر سے ٹکرائی تو اسکے ھاتھ سے تاول گر گیا اور اسکا ننگا بدن مذید عیاں ھوگیا۔۔۔
    وہ بھی وہیں پتھر کی ھوگئی ۔۔
    نہ وہ کچھ بولی نہ میں کچھ بولا
    زبانیں گنگ آنکھیں پتھر۔۔
    نہ لب ہلے نہ سانس چلی ۔
    چند لمحے ھی گزرے تھے کہ عبیحہ کے دونوں ھاتھ بلند ھوے اور اپنے سر کی طرف گئے اور ھاتھوں نے کانوں کو ڈھانپا اور پھر عبیحہ کے منہ سے ایک ذبردست چیخ نکلی اور ساتھ ھی عبیحہ پاوں کے بل بیٹھتی گئی ۔
    عبیحہ کی چیخ سنتے ھی میری تو ایکدم گانڈ پھٹنے والی ھوگئی اور تو مجھے کچھ نہ سوجا میں نے وہیں سے واپس بھا کے کمرے جلدی سے داخل ھوا اور دوڑتا ھوا بیٹھک میں چلا گیا اور جاکر چارپائی پر لیٹ گیا ۔
    دوستو میری کیفیت ایسی تھی جیسے سردی میں بندا کانپتا ھے ۔
    کیوں کے عبیحہ نے جتنی ذور سے چیخ ماری تھی اسکی چیخ سب گھر والوں نے سنی ھوگی اور اسکی چیخ نکلنے کی وجہ میں تھا اور میری ذلت اب طے تھی ۔
    ڈر کے مارے میری ٹانگیں کانپی جارھی تھی ۔
    میں نے جلدی سے کھیس پکڑا اور خود کو سمیٹتے ھوے اپنے آپکو ایسے کھیس کے اندر چھپا لیا جیسے کوئی مجھے ڈھونڈ نہ پاے ۔
    جبکہ قسم سے میں اس نیت سے گیا ھی نہیں تھا کہ عبیحہ کپڑے بدل رھی ھوگی اور میں اسے دیکھوں گا یہ خیال تو میرے دماغ میں ہرگز نہ تھا ۔
    بلکہ میں نے تو کبھی عبیحہ کی طرف غلط نظر سے دیکھا بھی نہیں تھا ۔
    مجھے پکا یقین تھا کہ یاسر بیٹا آج تجھے کوئی نہیں بچاے گا اور آج تو پھنسے گا اور سب کے ھاتھوں ذلیل بھی ھوگا وہ بھی ناجائز ۔۔۔۔
    وسوسوں نے میری جان لینے والی کردی ۔
    ادھر باہر کیا ھورھا تھا مجھے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا ۔
    کیونکہ دروازہ بند تھا اس لیے باہر کی آوازیں بیٹھک میں نہیں آرھی تھی جبکہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں دروازے کے پاس جاکر کان لگا کر ھی باہر کے حالات معلوم کرسکوں ۔
    مجھے پکا یقین تھا کہ عبیحہ جتنی منہ پھٹ ھے وہ لازمی سبکو چیخنے کی وجہ بتاے گی ۔
    مجھے لیٹے ابھی دس پندرہ منٹ ھی گزرے تھے کہ اچانک ذور سے بیٹھک کا دروازہ کھلا اور اسکے ساتھ ھی سلمان کی آواز نے میرا دل دہلا دیا ۔
    کہ لے یاسر بیٹے ھوجا اب تیار تیری شامت تو آئی رے۔۔۔۔۔۔۔








    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  17. The Following 18 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (26-01-2019), Admin (26-01-2019), farooq1992 (26-01-2019), katita (27-01-2019), ksbutt (29-01-2019), lovehum123 (01-02-2019), Lovelymale (03-02-2019), MamonaKhan (26-01-2019), Mian ji (01-02-2019), mmmali61 (27-01-2019), musarat (28-01-2019), omar69in (04-02-2019), sajjad334 (26-01-2019), shikra (26-01-2019), sweetncute55 (26-01-2019), waqastariqpk (26-01-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  18. #690
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    81
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    واقعی لاجواب اپڈیٹ تھی اس کہانی کے ہر سین کا تانا بانا ایسے بنا ہے آپ نے کہ لگتا ہی نہیں کہ ہم کوئی کہانی پڑھ رہے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تمام سین ہمارے سامنے فلمائے جا رہے ہیں۔ شکریہ اس اپڈیٹ کا اگلی کا انتظار رہے گا

  19. The Following 3 Users Say Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    abkhan_70 (26-01-2019), mmmali61 (27-01-2019), Xhekhoo (26-01-2019)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •