جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 72 of 100 FirstFirst ... 226268697071727374757682 ... LastLast
Results 711 to 720 of 999

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #711
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default

    Reply #2066 on: Today at 22:34:57
    Quote
    السلام عليكم
    امید ھے کہ سب بھائی خیریت سے ہوں گے ۔
    بھائیوں سے معذرت چاہتا ھوں کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوئی ۔
    امید ھے کہ میری مجبوری کو سمجھتے ھوے سب بھائی ناراض نہیں ہوں گے اور امید ھے کہ بہت جلد آپ بھائیوں کی خدمت میں نئی اپڈیٹ پیش کروں گا ۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  2. The Following 5 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (02-02-2019), MamonaKhan (02-02-2019), mmmali61 (02-02-2019), waqastariqpk (02-02-2019)

  3. #712
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default


    السلام عليكم
    امید ھے کہ سب بھائی خیریت سے ہوں گے ۔
    بھائیوں سے معذرت چاہتا ھوں کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوئی ۔
    امید ھے کہ میری مجبوری کو سمجھتے ھوے سب بھائی ناراض نہیں ہوں گے اور امید ھے کہ بہت جلد آپ بھائیوں کی خدمت میں نئی اپڈیٹ پیش کروں گا ۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  4. The Following 9 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (02-02-2019), apnapun (02-02-2019), Kashifpota (02-02-2019), lovehum123 (02-02-2019), MamonaKhan (02-02-2019), mmmali61 (02-02-2019), sweetncute55 (02-02-2019), waqastariqpk (02-02-2019)

  5. #713
    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    111
    Thanks Thanks Given 
    193
    Thanks Thanks Received 
    251
    Thanked in
    95 Posts
    Rep Power
    23

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post
    Reply #2066 on: Today at 22:34:57
    Quote
    السلام عليكم
    امید ھے کہ سب بھائی خیریت سے ہوں گے ۔
    بھائیوں سے معذرت چاہتا ھوں کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوئی ۔
    امید ھے کہ میری مجبوری کو سمجھتے ھوے سب بھائی ناراض نہیں ہوں گے اور امید ھے کہ بہت جلد آپ بھائیوں کی خدمت میں نئی اپڈیٹ پیش کروں گا ۔

    سٹوری کی تو خیر ہے
    آپ رابطے میں رہا کریں

    شکریہ

  6. The Following 6 Users Say Thank You to mmmali61 For This Useful Post:

    abba (02-02-2019), abkhan_70 (02-02-2019), MamonaKhan (02-02-2019), sajjad334 (02-02-2019), waqastariqpk (02-02-2019), Xhekhoo (02-02-2019)

  7. #714
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    869
    Thanks Thanks Given 
    150
    Thanks Thanks Received 
    1,130
    Thanked in
    616 Posts
    Rep Power
    96

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post

    السلام عليكم
    امید ھے کہ سب بھائی خیریت سے ہوں گے ۔
    بھائیوں سے معذرت چاہتا ھوں کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوئی ۔
    امید ھے کہ میری مجبوری کو سمجھتے ھوے سب بھائی ناراض نہیں ہوں گے اور امید ھے کہ بہت جلد آپ بھائیوں کی خدمت میں نئی اپڈیٹ پیش کروں گا ۔
    hum sab naraz nahi hain bs aap jaldi se update kartey raha karien

  8. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Xhekhoo (03-02-2019)

  9. #715
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    6
    Thanked in
    4 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    شیخو بھائی
    نشہ لگا کر اپ غائب ہو جاتے ہو بہت زیادتی ہے دن میں پچاس بار سائٹ کھولتے ہیں اور اتنی ہی ںار مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔
    یہ ظلم ہے شیخو بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  10. The Following 2 Users Say Thank You to ashai_dub For This Useful Post:

    abkhan_70 (03-02-2019), Xhekhoo (04-02-2019)

  11. #716
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 232..??



    1
    سلمان نے بڑے ذور سے دروازہ کھولا تھا جس کی وجہ سے میں مذید ڈر گیا اور سلمان نے بڑی اونچی آواز میں مجھے پکارا
    یاسرررررررررر
    جس سے میری گانڈ مذید پھٹ گئی ۔
    اورپھر سلمان کے تیز تیز قدم میری چارپائی کی طرف آتے سنائی دیے۔۔
    اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا کہ اچانک سلمان نے میرے سر پر پہنچتے ھی کھیس کو پکڑ کر پورے ذور سے کھینچ کر اتار دیا ۔
    ڈر کے مارے میری ٹانگیں بُری طرح کانپ رھی تھی ۔
    کہ اچانک سلمان کی ہنسی اور قہقہوں نے مجھے حیران پریشان کردیا اور میرا ڈر اور خوف حیرانگی میں بدل گیا ۔۔
    سلمان ہنستا ھوا میرے اوپر گرا اور بولا ۔
    یاسر بھائی تم ادھر سوے ھوے ھو جبکہ باہر آپی کا تماشہ لگا ھوا ھے سارے گھر والوں نے ہنس ہنس کر بُرا حال کر رکھا ھے ۔
    اٹھو یار باہر چلو اور دیکھو ۔۔۔
    سلمان میرے اوپر سے اٹھتے ھوے میرا بازو پکڑ کر چارپائی سے اٹھاتے ھوے کھینچنے لگ گیا ۔۔
    میں تو کچھ اور ھی سوچ کر ڈرے ھوے چھپا ھوا تھا مگر یہاں تو سب کچھ الٹ نظر آرھا تھا ۔میں خاموشی سے چارپائی سے اٹھا اور خود کو سنبھالتے ھوے بولا ۔۔
    اچھا اچھا چلتا ھوں یار مگر بتاو تو سہی کہ ہوا کیا ھے ۔
    سلمان بولا ایسے نہیں خود چل کر دیکھو قسم سے تمہاری ہنسی بھی نہیں رکے گی ۔۔
    سلمان کی باتیں سن کر میرے تجسس میں اضافہ ھوے جارھا تھا ۔
    کہ آخر کیا ماجرا ھے ۔
    جبکہ عبیحہ کی چیخ تو میری وجہ سے نکلی تھی اور پھر یہ سلمان عبیحہ کا کونسا ایسا تماشہ دیکھ آیا ھے کہ اس کی بلکہ سب گھر والوں کی ہنسی نہیں رک رھی ۔۔
    سلمان مجھے تقریبا کھینچتا ھوا باہر لے آیا جہاں سب ھی ہنس رھےتھے مگر عبیحہ کہیں نظر نہیں آرھی تھی اورنہ ھی نازی ۔۔۔
    میں باہر صحن میں کھڑا بونگوں کی طرح سب کے منہ کی طرف باری باری دیکھی جارھا تھا ۔۔
    اتنے میں عبیرہ ہنستی ھوئی میری طرف ائی اور بولی یاسر بھائی آپی یاسر بھائی آپی یاسر بھائی آپی ۔۔
    میں نے جھنجھلا کر پوچھا آگے بھی تو کچھ بولو کیا ھوا آپی کو۔۔
    عبیرہ خود کو سنبھالتے ھوے بولی ۔
    یاسر بھائی آپی کمرے میں شرٹ چینج کررھی تھی
    کہ آپی کہ اوپر ھا ھا ھا ھا ھا ھا، ھا ھاھا، ۔
    آپی کے اوپر چھپکلی گر گئی ۔۔۔۔۔
    اورآپی چیخیں مارنے لگ گئی ۔۔
    عبیرہ کی بات سن کر میرا سارا خوف جاتا رھا ۔
    میں عبیرہ کی بات سن کر اوراسکی ہنسی دیکھ کر مجبوراً ہنس پڑا اور
    ھی ھی ھاھا ھی ھی ھا ھا کر کے پھرسنجیدہ ھوگیا ۔
    اتنے میں عبیرہ نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے کھینچتی ھوئی عبیحہ کے کمرے کی طرف لے گئی ۔۔
    میرے پیچھے ھی سلمان بھی آگیا ۔
    عبیرہ میجھے کمرے میں لے کر داخل ھوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر مجھے پتہ ھے کہ میں نے اپنی ہنسی کیسے کنٹرول کی ۔
    اگر میرے اندر چور نہ ھوتا تو میں بھی قہقہے مار مارپاگل ھو جاتا۔۔
    سامنے چارپائی پرعبیحہ ٹانگوں کو اکھٹی کر کے سُکڑکر اپنے آپ کو ایسے سمیٹ کر بیٹھی ھوئی تھی جیسے اسےبہت شدید سردی لگ رھی ھو اور نازی کے پیچھے بیٹھی اسکے کندھے دبارھی تھی جیسے بیچاری بہت کام کر کر تھک گئی ھو ۔
    ہمیں اندر داخل ھوتے دیکھ کر عبیحہ نے گردن گھما کر ہماری طرف دیکھا اور اسکی نظر جیسے ھی مجھ پر پڑی تو عبیحہ کا رنگ ایکدم سرخ ھوگیا اور اسکی آنکھوں میں خون دوڑنے لگ گیا اسکا بس، نہیں چل رھا تھا کہ وہ مجھے قتل ھی کردیتی ۔

    اور پھر اچانک عبیحہ کو اپنا غصہ نکالنے کے لیے سلمان اور عبیرہ ھی ملے اور پھر عبیحہ غصے سے چلائی ۔
    تم لوگ پھر آگئے میں کیا تم لوگوں کے لیےتماشا ھوں دفعہ ھوجاو ۔
    جاہل بتمیز ۔۔۔
    اور اس کے ساتھ ھی عبیحہ کا ھاتھ چارپائی سے نیچے کی طرف گیا جہاں اسکی چپل پڑی تھی ۔
    اس سے پہلے کہ عبیحہ کا ہاتھ چپل تک پہنچتا ۔
    کہ عبیرہ چیخی بھاگووووووو ۔
    اور ہم تینوں ایک ساتھ واپس باہر دروازے کی طرف بھاگے ۔۔
    اور پیچھے سے ہمیں دروازے پر چپل لگنے کی آواز آئی باہر صحن میں آے تو امی ہمیں بولنے لگ گئیں کہ اب بس بھی کرو کیوں بیچاری کو باربار تنگ کررھے ھو ۔
    خالہ بھی سلمان اور عبیرہ پر غصہ ہونے لگ گئ ۔
    میں کچھ دیر باہر صحن میں رھا اور پھر میں اور سلمان بیٹھک میں آگئے ۔
    میں اورسلمان اپنے اپنے بستر پر لیٹ گئے ۔
    کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔
    مگرمیرا دماغ عبیحہ پر ٹکا ھوا تھا ۔
    پہلے تو اسکے جھوٹ بولنے کی وجہ پر غور کرتا رھا پھر اس کے سیکسی فگر نے میرا دماغ خراب کرنا شروع کردیا ۔
    جبکہ اس سے پہلے میں نے کبھی بھی عبیحہ کے بارے میں غلط سوچ نہیں رکھی تھی اور نہ ھی اسے کبھی غلط نظر سے دیکھا تھا ۔
    اور اس کے نیم ننگے جسم کو دیکھنے کے بعد پہلے تو ڈر اور خوف نے سب کچھ بھلا دیا تھا ۔
    مگر جیسے ھی عبیحہ کی طرف سے تسلی ھوئی کہ اس نے چیخنے کی اصل وجہ کسی کو نہیں بتائی بلکہ جھوٹ بول کر الٹا اپنا مزاق بنا لیا ۔۔۔
    میری سوچ اور دماغ پر اسکا نیم ننگا چٹا سفید جسم سوار ھونے لگ گیا ۔
    جبکہ سلمان بار بار، مجھے باتوں میں لگا کر اس حسین منظر کو میری آنکھوں

    سے اوجھل کررھا تھا، ۔
    میں نے سلمان کو سونے کا بہانہ کیا اور کھیس منہ تک تان کر لیٹ گیا اور آنکھیں موند کر پھر عبیحہ کے تنے ھوے مموں کا منظر آنکھوں کے سامنے لے آیا ۔۔
    اور ساتھ ھی لمبا سانس، کھینچ کر چھوڑا ۔
    اور چٹے سفید ممے جو بریزیر میں قید تھے چٹا سفید پیٹ جو بلکل ساتھ لگا ھواتھا ۔
    عبیحہ کے جسم کی رنگت اور بناوٹ اسکے حسن کی مثال تھی ۔
    جسکو چھونے چومنے کے لیے دل بے قرار ھوے جارھا تھا ۔
    بستر پر کروٹ بدلتے بدلتے نجانے کب نیند نے سارے حسین منظر کو غائب کر دیا اور نیند کی گہری وادیوں میں کھو گیا۔
    صبح جمعہ تھا دکان سے چھٹی تھی ۔
    سب کے لیے بازار سے ناشتہ لے کر آیا پھر سب نے ناشتہ کیا ۔
    کچھ دیر بعد بچے اور عبیرہ سلمان گاوں دیکھنے کی ضد کرنے لگ گئے ۔
    میں عبیحہ کا سامنا کرتے ھوے گبھرارھا تھا ۔
    بیشک گھر والوں کو نہ بتا کر اس نے میری عزت رکھی تھی ۔
    میں نے بہت کوشش کی کہ اسکے پاس جاکر اس سے معافی بھی مانگوں اور اسکا شکریہ بھی ادا کروں ۔
    مگر مجھ میں ہمت نہیں ھورھی تھی ۔
    اب بھی وہ کمرے میں ھی تھی جبکہ سب باہر صحن میں دھوپ سینک رھے تھے ۔
    نازی اور امی ناشتے کے برتن وغیرہ دھونے میں مصروف تھیں ۔
    میں اضطراب میں کبھی بھاکے کمرے میں جاتا اور عبیحہ کے کمرے کے دروازے کو پکڑ کر پھر چھؤڑ کر بیٹھک میں چلا جاتا اور پھر صحن میں آجاتا ۔
    میرے اندر کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔
    خوف بھی تھا ڈر بھی تھا جستجو بھی تھی ۔
    عبیحہ کے فگر کو پھر دیکھنے کی آرزو بھی تھی ۔۔
    آخر کار میں نے جرات کی اور موقع پاکر بھا کے کمرے سے ھی اٹیچ ڈور سے عبیحہ کے کمرے میں داخل ھوگیا ۔
    عبیحہ چارپائی پر بیٹھی گھٹنوں پر بازو پھیلا کر بازوں پر اپنی نرم روئی سی گال رکھے کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔
    دروازہ کھلنے کی آواز سن کر اس نے صرف پلکوں کی جھالر کو اٹھا کر ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر سے آنکھوں پر پلکوں کی چادر اوڑھ کر واپس اپنی سوچوں میں گم ھوگئی ۔۔
    میں اسکی ادا پر قربان ھوتا گیا۔
    اور کھڑا اسکو دیکھنے لگ گیا۔
    مجھے عبیحہ کا سر اور ٹانگیں اور چٹے سفید دودھیا پیر ھی نظر آرھے تھے اور عبیحہ سوچ میں گم اپنے پیروں کی نازک سی انگلیوں کو آپس میں مسلتے ھوے نجانے کیا سوچ رھی تھی ۔۔
    میں کچھ دیر کھڑا اس حسن مجسمہ کو دیکھتا رھا ۔
    اورپھر ہمت کرکے اسکی چارپائی کے پاس پہنچا ۔
    عبیحہ نے مجھے اپنے قریب محسوس کر کے پھر پلکوں کو اٹھا کر چند سیکنڈ غور سے میری طرف سوالیا نظروں سے دیکھا۔
    اور پھر پلکوں کو خم کر کے اسی پوزیشن میں بیٹھ گئی ۔
    میں عبیحہ کے قریب کچھ دیر کھڑا رھا اور پھر اسکے پیروں کی طرف بیٹھ گیا ۔
    اور عبیحہ کے ریشم سے بالوں کو دیکھنے لگ گیا جنکی ایک لٹ اسکے حسین چہرے سے چھیڑ چھاڑ کررھی تھی ۔
    آخر کار میرے لب کپکپاتے ھوے ہلے اور میرے منہ سے لرزتی ھوئی آواز نکلی ۔

    عععععبیحہ جججی ایم سسسسوری ۔۔۔
    عبیحہ نے میری آواز میری التجا میری معذرت میری معافی کو نظر انداز کردیا اور ایک نظر مجھ کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا ۔
    میں نے پھر جرات کرتے ھوے ہاتھ اوپر اٹھایا اور گھٹنوں پر رکھے عبیحہ کے بازوں میں سے ایک بازو پر اپنا لرزتا ھاتھ رکھا اور انگلیوں کی ہلکی سے جنبش بازو پر دی اففففففففف بازو کی جلد تھی کہ روئی کا رول تھا ۔
    انگلیاں عبیحہ کے بازو کی نرم جلد میں دھنستی چلی گئی نجانے بازو میں ہڈی تھی بھی کہ نہیں ۔۔۔
    بازوں کو پکڑتے میرے لب پھر ہلے ۔
    عععبیحہ ججی مجھے معاف کردیں میں نے جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Don't touch meeeeeeeeee

    عبیحہ کی غصے سے بھری آواز نے میری بات کو ادھورہ کردیا اور میرے لب وہیں سل گئے اور میرے ھاتھ نے عبیحہ کے بازو کو ایسے چھوڑا جیسے بازو میں کرنٹ آگیا ھو میں اچھل کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا ۔
    اور اس ظالم کے غصے سے سرخ ہوے چہرے کو دیکھنے لگ گیا ۔
    جو اب اپنی پوزیشن بدل کر سیدھی ہوکر بیٹھی آنکھوں سے انگارے مجھ پربرسا رھی تھی ۔۔

    میں معصوم چہرے کے ساتھ سہمے ھوے عبیحہ کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔
    عبیحہ کچھ بھی بول نہیں رھی تھی بس مجھے گھورتے ھوے لمبے لمبے سانس لیے جارھی تھی ۔
    میں نے خود کو سنبھالتے ھوے پھر لب ہلاے۔۔۔۔
    عبیحہ جی پلیزززز ایک دفعہ حوصلے سے میری بات تو سنیں
    عبیحہ پھر غصے سے بولی
    مجھے کچھ نہیں سننا جاو یہاًں سے ۔
    I say get lost leave alone.
    میں نے ڈھٹائی باندھے پھر کہا۔
    عبیحہ جی پلیز مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیں ۔
    بیشک آپ کا غصہ بجا ھے ایک دفعہ میری بات سن لیں پھر آپ جو چاہیں مجھے کہہ لیں ۔۔
    میری تقریر کا عبیحہ پر کوئی اثر نہ ھوا ۔
    وہ پھر اسی غصیلے انداز میں بولی ۔
    تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرھی یا پھر تم کانوں سے بہرے ھو ۔
    جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔
    میں نامراد ھوکر مایوسی سے چارپائی سے اٹھا اور کھڑے ھوتے ھوے روہانسے لہجے سے بولا ۔
    عبیحہ جی میں آپکی دل سے عزت کرتا ھوں ۔
    اور کرتا رھوں گا ۔
    آپ بیشک مجھے گالیاں دیں لیں مار لیں لاکھ برا بھلا کہہ لیں ۔
    میں بھی آپکی طرح انسان ھوں ۔
    ہر انسان سے غلطی ھوجاتی ھے ۔
    اوپر والا، بھی بڑی سے بڑی غلطی معاف کردیتا ھے ۔
    مگر آپکے اندر دل نہیں بلکہ پتھر کا ٹکڑا ھے ۔۔
    آئندہ میں کبھی آپ کے سامنے بھی نہیں آوں گا ۔
    ھوسکے تو مجھے معاف کردینا ۔۔
    میری آواز کافی گلوگیر ھوچکی تھی اور میں بوجھل قدموں کے ساتھ چلتا ھوا دروازے کے پاس پہنچا اور میرے اٹھتے ھوے قدم پھر رکے اور میں نے گردن گھما کر پیچھے عبیحہ کی طرف دیکھا جو میری طرف ھی دیکھ رھی تھی نظروں سے نظریں ملیں ۔
    اور ساتھ ھی میری آنکھوں سے چند قطرے بہہ گئے جنہوں نے عبیحہ کی آنکھوں میں سلگتی آگ کو بھجانے کی کوشش کی ۔
    میں نے پھر گلوگیر لہجے سے کہا۔
    عبیحہ جی ایک بات آپ ذہن نشین کرلینا کہ میں نے جان بوجھ کر آپکو بغیر کپڑوں کے نہیں دیکھا کل جو بھی ھوا تھا وہ اتفاقاً ھوا تھا جسے آپ ایک حادثہ سمجھیں ۔۔۔
    میں ایسا لڑکا نہیں ہوں ۔
    میری باتوں نے عبیحہ پر اثر کیا کہ نہیں کیا ۔
    I don't know
    میں اپنی بات پوری کرکے بڑی تیزی سے دروازے سے گزر کر دوسرے کمرے سے ھوتا ھوا بیٹھک میں جاپہنچا اور جاتے ھی چارپائی پر جاگرا اور ٹانگیں چارپائی سے نیچے لٹکاے آنکھیں موندکر لیٹ گیا اور نجانے کیوں عبیحہ کا جسم بار، بار میرے خیالوں میں گھس کر میری سوچوں کو اپنی طرف مائل کررھا تھا ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  12. The Following 13 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (07-02-2019), Admin (04-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (05-02-2019), mentor (04-02-2019), Mian ji (04-02-2019), Mirza09518 (05-02-2019), mmmali61 (04-02-2019), omar69in (04-02-2019), Story Maker (04-02-2019), sweetncute55 (04-02-2019), waqastariqpk (04-02-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  13. #717
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 233..??




    عبیحہ کا ننگا جسم بار بار میری آنکھوں کے سامنے آنے لگ جاتا اور اس کے ساتھ ھی میرا لن بھی انگڑائی لینا شروع ھوجاتا۔۔۔۔
    مجھے بیٹھک میں لیٹے ابھی پندرہ منٹ ھی گزرے تھے کہ مجھے بیٹھک کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی میں نے چونک کر تھوڑی سی آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے سلمان اندر داخل ھوتے نظر آیا میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں سلمان اندر داخل ھوتے ھی بڑی شوخی سے چلایا ۔
    واہ جی واہ نواب ساب ادھر مزے کررھے ہیں میں پورے گھر میں جناب کو تلاش کرتا پھر رھا ھوں ۔
    اور یہ کہتے ھوے سلمان میرے سر پر آ پہنچا اور میری کلائی پکڑ کر مجھے اٹھاتے ھوے بولا چلو یار عبیرہ میرا سر کھاے جارھی ھے کہ یاسر،کو لے کر آو باہر گھومنے جانا ھے اور تم ادھر آکر لیٹے ھوے ھو اٹھو یار جلدی کرو۔۔

    سلمان ایک ھی سانس میں بولے جارھا تھا ۔
    میں نے اٹھتے ھوے کہا یار میرے سر میں بہت درد ھورھا ھے کچھ دیر بعد چلتے ہیں ۔۔
    سلمان بولا یار ابھی کچھ دیر پہلے تو اچھے بھلے تھے ۔
    اگر نہیں جانا تو بتا دو ۔
    بہانے کیوں بنا رھے ھو ۔۔

    میں نے کہا نہیں یار کیسی باتیں کررھے ھو ۔
    میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں نے نہیں جانا ۔۔
    سلمان بولا لگ تو ایسے ھی رھا ھے کہ جان چھڑوا رھے ھو۔۔
    میں نے کہا یار تم تو خوامخواہ ناراض ھورھے ھو ۔
    چلتے ہیں بس تھوڑی دیر تک ۔۔
    سلمان میرا ھاتھ چھوڑتے ھوے بولا ۔
    یار عبیرہ کا تمہیں پتہ تو ھے کہ وہ جس بات کے پیچھے پڑ جاے پھر اس سے جان چھڑوانا مشکل ھوجاتا ھے ۔۔
    میں نے کہا اچھا یار تم لوگ نہر کی طرف چلو میں تمہارے پیچھے آتا ہوں ۔۔
    سلمان برا سا منہ بناتے ھوے بولا مرضی ھے یار تمہاری ہم نے کل چلے جانا ھے اور تم ایسے کررھے ھو۔۔
    میں نے تھوڑا تلخ لہجے سے کہا
    یار سلمان تم تو بچوں کی طرح ضد کرنے لگ گئے ھو۔
    میں نے کہا نہ کہ آتا ھوں ۔

    سلمان پھر برا سا منہ بنا کر باہر نکلتے ھوے بولا اوکے جناب مرضی ھے آپکی اگر دل کرے تو آجانا ورنہ ہم اکیلے ھی گھوم پھر آئیں گے ۔۔
    یہ کہہ کر سلمان باہر نکل گیا ۔
    مجھے اس وقت واقعی سلمان کی آمد ناگوار گزری تھی اور اسکی بےوجہ کی باتوں سے مجھے کوفت ھونے لگ گئی تھی
    کیونکہ میں جس حسین خیالوں میں کھویا ھوا تھا سلمان کی آمد نے میرا سارا مزہ کرکرا کردیا تھا ۔۔
    مگر اس کے باوجود مجھے افسوس ھورھا تھا کہ مجھے سلمان سے ایسے بات نہیں کرنا چاہیے تھی ۔میں تو لاہور بھی ان لوگوں کو گھمانے کی وجہ سے نہیں گیا تھا ورنہ آج تو میں نے مال لینے جانا تھا ۔
    خیر میں پھر سے چارپائی پر اسی حالت میں ٹانگیں نیچے لٹکاے لیٹ گیا ۔۔
    میری کمر اور گانڈ چارپائی پر تھی اور
    میرا سر تکیہ پر تھا اور ٹانگیں چارپائی سے نیچے تھیں
    میں لیٹا پھر عبیحہ کے خیالوں میں کھو گیا پتہ نہیں کون سی ایسی شے تھی جو مجھے بار بار عبیحہ کی طرف متوجہ کیے جارھی تھی دماغ تھا کہ بس اس کے حسین فگر کی طرف جارھا تھا ۔
    پھر سے آنکھوں کے سامنے سکن بریزیر میں چھپے تنے ھوے گول مٹول چھتیس سائز کے ممے آگئے چٹا سفید پیٹ
    افففففففف ان ھی خیالوں میں کھوے ھوے مجھے پتہ نہیں کتنا وقت گزر گیا کہ اچانک پھر سے بیٹھک کا اندرونی دروازہ کھلنے کی آواز نے مجھے خیالوں سے لا باہر پھینکا ۔
    اور میں جو آنکھوں پر بازو رکھے عبیحہ کے خیالوں میں گم تھا ۔
    میں نے تھوڑا سا بازو آنکھوں سے سرکا کر دروازے کی جانب دیکھا تو مجھے

    عبیحہ اندر داخل ھوتے ھوے نظر آئی ۔
    عبیحہ کی آمد نے مجھے چونکا دیا مجھے لگا شاید میں کوئی سپنا دیکھ رھا ھوں ۔
    میں نے سر جھٹک کر غور سے دیکھا تو واقعی یہ حقیقت تھی ۔اس سے پہلے کہ عبیحہ میرے قریب پہنچتی
    میرے دماغ کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔
    کاکا لگتا ھے کام بن گیا تیرا جو عبیحہ بیٹھک میں تیرے پاس آگئی ھے ۔۔

    چل شاباش ہوجا شروع۔۔۔

    میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں اور بازو پھر سے آنکھوں پر رکھ لیا اور رونے والا منہ بنا لیا جیسے سارے جہاں کا دکھ مجھے ھی لگا ھوا ھے ۔
    اور ساتھ ناک کو سکیڑ سکیڑ کر آنکھوں سے بازو ہٹا کر بازو سے ناک صاف کر کے پھر بازو آنکھوں پر رکھ لیا
    میں عبیحہ کو یوں محسوس کروانا چاھ رھا تھا کہ جیسے ذیادہ رونے سے ناک سے پانی بہہ رھا ھو ۔۔۔
    عبیحہ کو اپنے قریب آتا ھوا محسوس کرکے میں مذید ایکٹنگ کرنا شروع ھوگیا ۔
    مجھے عبیحہ نظر نہیں آرھی تھی بس اسکی قدموں کی آہٹ کو محسوس کررھا تھا کہ وہ میرے کتنا قریب آگئی ھے ۔۔

    اسی اثناء مجھے اپنے بالوں میں انگلیاں پھرتی محسوس ہوئی ۔
    اور عبیحہ کی پرترنم آواز میرے کانوں سے ٹکرائی
    اوے ھوے ناراض ھوگئے ھو۔۔۔
    اور میرا چھونا رو رھا ھے ۔۔

    میں نے جھٹ سے بازو آنکھوں سے ہٹایا اور آنکھیں کھول کر چھت کی طرف ایسے دیکھا جیسے عبیحہ کی موجودگی کا احساس مجھے اس کے چھونے سے ھوا ھو ۔

    میری نظر سیدھی عبیحہ کی نظروں سے ملی۔

    تو عبیحہ کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر ہلکی سی مسکان دیکھ کر ۔
    مجھے ساری ایکٹنگ ھی بھول گئی ۔

    اور میں ٹکٹکی باندھے وہیں جُم ھوگیا۔۔

    عبیحہ مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ھوے شرما سی گئی اور شرما کر میری نظروں سے نظریں چراکر دوسری طرف دیکھنے لگ گئی اور اس کاھاتھ ویسے ھی میرے سر پر تھا اور اسکی نرم نازک انگلیاں میرے بالوں کو برابر سہلا رھیں تھی ۔
    میں نے جب دیکھا کہ عبیحہ نے نظریں دوسری طرف کرلیں ہیں تو میں نے پھر سے ایکٹنگ کرتے ھوے ناک سے سو سو کی آواز نکالی اور اٹھ کرسیدھا ھوکر ٹانگیں نیچے لٹکا کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
    عبیحہ کا ھاتھ میرے سر پر سے ہٹ چکا تھا ۔
    میں سر جھکا کرنیچے پاوں کو دیکھنے لگ گیا ۔
    عبیحہ میرے سر والی سائڈ پر کھڑی تھی ۔
    میں جیسے ھی اٹھ کر بیٹھا تو عبیحہ چلتی ھوئی میرے قریب آکر کھڑی ھوگئی اور میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔
    مگر میں جان بوجھ کر اسے اگنور کررھا تھا اور اسکی موجودگی کو نظر انداز کرتے ھوے ۔
    سر جھکائے اپنے پیروں کو دیکھی جارھا تھا ۔
    عبیحہ کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد
    میرے ساتھ جڑ کر چارپائی پر بیٹھ گئی ۔۔
    عبیحہ کا نرم نرم جسم جیسے ھی میرے ساتھ لگا میرے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی ۔
    میرا دل تو کیا ابھی عبیحہ کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اسے کس کر اپنے ساتھ لگا لوں ۔
    مگر ایسا میں صرف سوچ ھی سکتا تھا ۔
    کیونکہ اس بلا کا پتہ نہیں چلتا تھا گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتی تھی ۔۔
    اس لیے اس خوش فہمی کو دل میں ھی چھپاے اپنے سے انداز میں بیٹھا رھا ۔
    کچھ دیر دونوں خاموش رھے ۔
    اور بالاخره عبیحہ نے گلا کھنگارا اور مجھے کندھا مارتے ھوے بولی ۔
    اگر جناب کا رونا ختم ھوگیا ھو تو میں کچھ عرض کروں ۔
    میں نے سر اوپر اٹھایا اور سوکھی آنکھوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولا ۔
    میں کیوں روؤں گا ۔۔
    عبیحہ مسکراتے ھوے بولی ۔۔
    اوووو میں تو سمجھی شاید تم رو رھے ھو ۔
    لے میں ایسے ھی پریشان ھوگئی ۔۔
    میں نے پھر سر جھکا لیا اور اپنے پیروں کی طرف دیکھتے ھوے آہستہ سے بولا ۔
    میں اتنا خوش قسمت نہیں کہ کوئی میرے لیے پریشان ھو ۔
    عبیحہ نے اپنا نرم ملائم ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میری ٹھوڑی کو پکڑ کر میرا چہرا اوپر کرتے ھوے اپنی طرف گھمایا اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتے ھوے بولی ۔
    ایک تو غلطی بھی تمہاری اور اوپر سے روٹھ روٹھ کر بھی دیکھا رھے ھو ۔
    بجاے مجھے منانے کے الٹا نخرے دیکھا رھے ھو ۔
    میں نے عبیحہ کے چہرے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ۔میں تو آپ سے معافی مانگنے گیا تھا مگر آپ نے تو میری بات ھی نہیں سنی الٹا مجھے بےعزت کرکے کمرے سے نکال دیا ۔
    عبیحہ نے مسکراتے ھوے میرا ھاتھ اپنے نرم نرم ملائم روئی کے گولے جیسے ھاتھوں میں لیا اور میرے ھاتھ کو سہلاتے ھوے بولی ۔
    اچھا یار اب غصہ تھوک دو اور چلو مجھے تمہارا گاوں دیکھنا ھے ۔

    سب گھر والے چلے گئے ہیں اور میں سپیشل تمہیں منانے کے لیے آئی ھوں ۔
    میں نے چونک کر سر اٹھا کر عبیحہ کی طرف دیکھا اور بولا ۔
    کیا مطلب سب گھر والے کہاں چلے گئے ہیں ۔
    عبیحہ بولی سب گاوں دیکھنے گئے ہیں مما سب بچے آنٹی نازی بھی انکے ساتھ گئیں ہیں ۔۔
    میں نے پھر موڈ بناتے ھوے کہا ۔
    تو آپ بھی انکے ساتھ چلی جاتیں ۔
    جبکہ میرے دل میں تو لڈو پھوٹ رھے تھے یہ سن کر کہ اس وقت میں اور عبیحہ اکیلے گھر پر ہیں ۔
    مگر میں جان بوجھ کر نخرے دیکھا رھا تھا کہ لوھا مذید گرم ھوجاے ۔۔
    اور میرا یہ وار اتنا کارگر ثابت ھونا تھا یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا ۔
    کیونکہ کہ اچانک عبیحہ نے دونوں بازو میرے گرد ڈال کر اپنا مما. میرے کندھے کے ساتھ لگا لیا اور مجھے مذید اپنے ساتھ کستے ھوے بولی ۔
    اب اتنے بھی شوخے نہ بنو ۔
    چلو اٹھو جلدی کرو ۔۔
    میں نے آج تک کسی کی منتیں نہیں کی ۔۔۔

    عبیحہ نےایک بازو میرے سینے کی طرف سے اور دوسرا بازو میری کمر کی طرف سے لیجا کر دونوں ھاتھ میرے دوسرے بازو کے پاس لیجا کر آپس میں ملاے ھوے تھے ۔
    میں بلکل سیدھا بیٹھا ھوا تھا اور عبیحہ تھوڑی ترچھی ھوکر اپنا مما میرے دائیں کندھے کے ساتھ لگاے بیٹھی میرے چہرے کی طرف اپنا چہرہ کرکے بیٹھی تھی ۔
    عبیحہ کے ساتھ اتنا قریب ھوکر بیٹھنا اور اسکا یوں میرے ساتھ چپکنا میرے اندر طوفان بتمیزی پیدا کررھا تھا ۔
    اسکے جسم کا لمس ھی مجھے پاگل کرچکا تھا اور اوپر سے یہ ظلم کہ اس قاتل حسینہ نے اپنا مما میرے کندھے کے ساتھ لگا دیا یہ تو جلتی پر تیل پھینکنے والی بات ھوئی ۔۔
    ۔
    عبیحہ کے اس رد عمل نے مجھے پریشان کردیا ۔
    شاید یہ خلوت کا نتیجہ تھا کہ وہ میرے اتنا قریب آگئی تھی ۔
    جبکہ جیسی اسکی طبعیت تھی میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ یوں میرے ساتھ چپک کر بیٹھے گی ۔۔
    اب اس کے دل میں میرے لیے کیا فیلنگ تھی یہ تو وہ جانے یا اوپر والا ۔
    مگر میرا سارا حساب کتاب بگاڑ کے رکھ دیا تھا اس نے ۔
    افففففففففف
    بڑے شکوے بڑی شکایتیں گن گن کے رکھیں تھیں اس بےپرواہ کے لیے
    مگر اس ظالم نے سینے سے لگا کر سارا حساب کتاب ھی بگاڑ دیا۔۔۔

    مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں اگلا قدم کیسے اٹھاوں اور کونسا پہلا قدم اٹھاوں ۔۔۔
    شروعات تو دوسری طرف سے ھوچکی تھی ۔
    اب سمجھ نہیں آرھا تھا کہ حملہ کروں یا دفاع۔۔
    عبیحہ مجھے ہلاتے ھوے بار بار کہے جارھی تھی اٹھو یاسر چلو نہ ۔
    اور میں عبیحہ کے ممے کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرکر کے ھی دل پشوری کری جارھا تھا ۔
    اور وہ میری گندی ذہنیت سے بے خبر بچوں کی طرح مجھ سے لپٹی مجھے اٹھنے کا کہے جارھی تھی ۔۔
    میں نے آخر کار اگلی پلاننگ کرتے ھوے پہلی کاوش کی اور اعبیحہ کا بازو جو میری کمر کی طرف سے میرے دوسرے کندھے کی طرف گیا ھوا تھا اسکے نیچے سے اپنا ہاتھ گزار کر اسکی کمر کو سہلاتا ھوا اسکے دوسرے بازو کے نیچے ممے کے قریب رکھ دیا عبیحہ کا بریزیر مجھے اپنے ہاتھ کے نیچے صاف محسوس ھورھا تھا ۔۔
    میں نے بھی اپنے ھاتھ کی انگلیاں اسکے مخملی جسم میں پیوست کر کے اسکو مذید اپنی طرف کھینچتے ھوے اسکا مما اپنے کندے کے ساتھ کس کے لگا لیا اور خود بھی اسکے ممے کے ساتھ لگ گیا عبیحہ کا مما میرے کندھے کے ساتھ لگ کر دب گیا تھا ۔
    اور وہ مزہ افففففففف کیا مزہ تھا ۔
    میری اس حرکت سے عبیحہ تھوڑی کسمکسائی مگر میں نے اسے جمع ای محسوس نئی ھونے دیا ۔۔
    کہ میں نے جان بوجھ کر اسکی کمر کے گرد بازو ڈالا ھے بلکہ میں نے اسکے ممے کے قریب ھاتھ رکھتے ھی ۔
    بڑے سنجیدہ انداز میں بولا ۔
    اچھا بابا چلتا ھوں مگر پہلے یہ بتائیں آپ اب مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ۔۔
    عبیحہ مسکراتے ھوے بولی اب بھی کوئی شک ھے اگر ناراض ھوتی تو یوں تمہاری منتیں کرنے آتی ۔
    میں ان سب کے ساتھ بھی جاسکتی تھی ۔
    میں نے کہا ۔
    عبیحہ جی ایک بات پوچھوں سچ بتانا ۔
    عبیحہ میری آنکھوں میں دیکھتے ھوے بولی ہاں پوچھو کیا پوچھنا ھے ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  14. The Following 14 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (07-02-2019), Admin (04-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (05-02-2019), mentor (04-02-2019), Mian ji (04-02-2019), Mirza09518 (05-02-2019), mmmali61 (04-02-2019), musarat (04-02-2019), omar69in (04-02-2019), Story Maker (04-02-2019), sweetncute55 (04-02-2019), waqastariqpk (04-02-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  15. #718
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 234..???




    میں نے کہا ۔
    آپ نے سب گھر والوں سے جھوٹ کیوں بولا ۔۔
    کہ آپکے اوپر چھپکلی گر گئی تھی ۔۔
    عبیحہ ایکدم سنجدیدہ ھوگئی اور بولی ۔
    تو تمہارا کیا پروگرام ھے کہ سبکو بتا دیتی کہ یاسر نے مجھے ننگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عبیحہ ایکدم چپ ھوگئی ۔۔
    میں ساتھ ساتھ اپنا کندھا آہستہ آہستہ عبیحہ کے ممے کے ساتھ رگڑی جارھا تھا اسے مزہ آرھا تھا یا نہیں ۔
    مگر اپن کے تو فل مزے تھے ۔
    میں نے عبیحہ کی ادھوری بات کو مکمل کرنے کا اصرار کرتے ھوے کہا ۔
    کیا ھوا چپ ھوگئی بولو نہ کہ کیا یاسر نے ۔۔
    تو عبیحہ نے ایکدم میرے بائیں کندھے سے ھاتھ ہٹاے اور بازوں کو واپس لاتےھوے مجھ سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔۔
    اٹھو یاسر دیر ھورھی ھے سب پتہ نہیں کدھر نکل گئے ہوں گے ۔۔
    میرا بازو ابھی بھی عبیحہ کی کمر پر تھا اور میرا ھاتھ اسکی بغل میں ممے کے پاس تھا اور اسکا نرم نرم جسم میری انگلیوں کی گرفت میں تھا جسکی وجہ سے وہ اب بھی میرے کندھے کے ساتھ چپکی ھوئی تھی مگر فرق یہ تھا کہ اب عبیحہ نے اپنے ممے کے آگے اپنا بازو کرلیا تھا اس لیے میرے کندھے اور اسکے ممے کے درمیان عبیحہ کا بازو آگیا تھا ۔۔
    میں پھر اپنے ہاتھ کی مدد سے عبیحہ کو اپنی طرف کھینچتے ھوے کہا ۔
    بولیں نہ کیا کہہ رھی تھی پتہ نہیں کیوں میری آواز میں رومینٹک جھلکنے لگ گئی اور میرا لہجہ نشیلا ھوگیا ۔
    عبیحہ کی چھٹی حس نے اسے شاید چوکنا کردیا اس لے ۔
    میرے دوسری بار اصرار کرنے پر وہ جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی اور سائڈ لے کر میرے بازو کی گرفت سے آزاد ھوتے ھی جلدی سے کھڑی ھوگئی ۔۔
    اس سے پہلے کہ میں اسکی کلائی پکڑتا مگر وہ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر جاکر کھڑی ھوگئی اسکی سانسیں اور مموں کا اتراو چڑھاؤ بتا رھا تھا کہ وہ میری نیت کو بھانپ گئی ھے ۔
    میں نے اسکی حالت کو نظر انداز کرتے ھوے یوں انجان بنتے ھوے حیرانگی کا اظہار کیا اور بولا کیا ھوا عبیحہ جی ۔
    طبعیت تو ٹھیک ھے ۔
    عبیحہ نے گلے میں دوپٹہ ڈالا ھوا تھا جس نے اسکے دونوں مموں کو ڈھانپا ھوا تھا ۔
    عبیحہ دوپٹے کے پلو سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے مجھے سے نظریں چرا کر بولی ۔
    کچھ نہیں مجھے کیا ھونا ھے ۔۔
    چلو چلیں ۔۔۔
    میں شکار ھاتھ سے نکلتا دیکھ کر جلدی سے کھڑا ھوا اور عبیحہ کے قریب پہنچ کر اسکے بلکل سامنے کھڑا ھوگیا ۔
    کمبخت کنفیوژن ھی اتنی تھی کہ مجھے اپنے کھڑے لن کا بھی ہوش نہ رھا کہ اس سالے کو ھی ٹانگوں کے بیچ لے لوں یا پھر بیٹھا ھی رہوں ۔
    مگر حالت مخالف سمت بھی ایسی ھی تھی کہ عبیحہ کی بھی نظر میرے لن پر نہ پڑی ۔۔


    میں نے عبیحہ کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اسکا چہرہ سرخ ٹماٹر کی طرح ھوگیا تھا اور اسکے ماتھے پر شبنم کے قطرے نمایاں ھورھے تھے جنکو وہ دوپٹے سے صاف کررھی تھی ۔
    جبکہ موسم بھی گرم نہیں تھا نومبر کا مہینہ چل رھا تھا اس موسم میں بغیر مشقت کے پسینہ آنا کسی اور طرف ھی اشارہ کررھا تھا ۔
    یا عبیحہ گرم ھوچکی تھی یا پھر وہ میرا ارادہ بھانپ کر گبھرا گئی تھی ۔
    خیر اب اسکی تصدیق کرنا مجھ پر لازم تھا اسی لیے اپنے کھڑے لن سے بےخبر ھوے میں. اٹھ کر کھڑا ھوکر عبیحہ کے سامنے جاپہنچا ۔
    نجانے مجھ میں کہاًں سے اتنی ہمت پیدا ھوگئی کہ میں نے عبیحہ کے دونوں کندھوں کو پکڑ لیا اور اسکو ہلکا سا ہلاتے ھوے بولا ۔
    عبیحہ جی کیا ھوا آپ اتنی گبھرا کیوں رھی ھو ۔
    عبیحہ میری طرف دیکھتے ھوے بولی کچھ بھی نہیں ھوا مجھے میں ٹھیک ھوں ۔
    چلو باہر چلیں ۔۔۔
    یہ کہہ کر عبیحہ چلنے لگی تو
    میں نے اسکو کندھوں سے پکڑے روک کر کہا۔
    عبیحہ جی چلتے ہیں کہا نہ چلتے ہیں پہلے میری بات تو سن لو ۔
    عبیحہ نے بڑی عجیب سے نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی کون سی بات ۔۔۔
    میں نے کہا یار آپ کو اچانک کیا ھوگیا ھے اچھی بھلی بیٹھی باتیں کررھی تھی تو پھر یوں اچانک جانے کی جلدی کیوں پڑ گئی ۔۔
    عبیحہ بولی میں تمہیں لیجانے کے لیے تو آئی تھی ۔
    میں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ھوے یتیموں جیسا سا منہ بناتے ھوے کہا۔
    اسکا مطلب. ھے کہ آپ نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا ۔۔
    عبیحہ ایکدم ہنس پڑی اور میرے سر پر چپت مارتے ھوے بولی ۔۔
    بُدھو اور اب کیسے تم کو یقین دلاوں ۔۔۔
    میں نے آخری وار کرنے کا سوچا اور عبیحہ کے کندھوں کو چھوڑتے ھوے اس سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ھوگیا اور عبیحہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بازو اسکی طرف پھیلا دیے اور خاموشی سے کھڑا ھوکر اسکے جواب کا انتظار کرنے لگ گیا ۔
    عبیحہ نے بڑی گہری نظروں سے مجھے گھورا اور چند لمحے سوچنے کے بعد میری جانب بڑھی اور میرے قریب آکر باہیں پھیلا کر میرے سینے کے ساتھ لگ گئی اور دونوں ھاتھ میری کمر پر رکھ دیے اور میرے بازو بھی سمٹتے گئے اور عبیحہ کی پتلی کمر کو اپنے احصار میں لے کر اسکے تنے ھوے مموں کو اپنے سینے میں جزب کرلیا ۔۔
    اور میرے ہونٹوں کی گستاخی نے عبیحہ کو تڑپا کر مذید میرے ساتھ چپکا دیا اور اسکی انگلیوں نے میری شرٹ اور میری کمر کی جلد کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔
    میرے ہونٹوں نے جیسے ھی عبیحہ کی صراحی دار گردن کا بوسا لیا تو عبیحہ کے منہ سے سسسسسسسسسسس نکلا اور وہ میرے ساتھ مذید چپک گئی اور بدبخت لن نے موقع غنیمت جان کر جیسے ھی عبیحہ کی ٹانگوں کے بیچ گھس کر پھدی کو ٹچ کرنے کی کوشش کی تو عبیحہ نے جیسے ھی اپنے چڈوں کے بیچ گھس کر اپنی کنواری پھدی کو ٹچ کرنے کی کوشش کرتے کسی سخت شےکو محسوس کیا تو عبیحہ نے تسلی کے لیے بس ایک دفعہ اپنے چڈوں کو بھینچ کر لن کو محسوس کیا اور جیسے ھی عبیحہ کو یقین ھوا کہ میرا لن تو بتمیزی ہر اتر آیا ھے تو اس کے ساتھ ھی عبیحہ کو گیارہ ہزار وولٹیج کا جھٹکا لگا اور میری کمر پر رکھے اسکے دونوں ھاتھ بجلی کی سی تیزی سے میرے سینے پر آے اور پھر ایک ذور دار جھٹکا میرے جسم کو لگا جس سے دونوں جسم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور عبیحہ نے بس ایک نظر میرے ٹراوزر میں بنے تمبو پر ڈالی اور پھٹی آنکھوں کو لیے خاموشی سے بھاگتی ھوئی بنا کچھ کہے باہر کے دروازے سے نکل گئی اور میں اسے جاتا ھوا دیکھتا رھا ۔
    اور جیسے ھی مجھے ہوش آیا تو ایک ذور دار تھپڑ ٹراوزر میں بنے تمبو پر مارا ۔
    سالیا تھوڑا صبر نئی کر سکدا سی ۔۔۔
    اور ساتھ ھی ھائییییییییی کرتا ھوا لن پر ہاتھ رکھ کر پیروں کے بل بیٹھ گیا ۔۔




    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  16. The Following 15 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (07-02-2019), Admin (04-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (05-02-2019), mentor (04-02-2019), Mian ji (04-02-2019), Mirza09518 (05-02-2019), mmmali61 (04-02-2019), musarat (04-02-2019), omar69in (04-02-2019), Story Maker (04-02-2019), suhail502 (06-02-2019), sweetncute55 (04-02-2019), waqastariqpk (04-02-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  17. #719
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 235..???



    2
    اور جیسے ھی پھر عبیحہ کے یوں بھاگ جانے کا خیال من میں آیا تو ساتھ ھی تھپڑ سے لن پر ھونے والی درد کو بھول کر جلدی سے کھڑا ھوا اور تقریباً بھاگتا ھوا دروازے سے نکل کر دوسرے کمرے میں پہنچا اور پھر ادھر سے باہر صحن میں آکر ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا مگر مجھے عبیحہ کہیں نظر نہ آئی ۔۔
    میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر عبیحہ کے کمرے کی طرف تیز تیز قدموں سے چلتا ھوا کمرے کے دروازے پر پہنچا ۔
    دروازہ بند تھا مگر اندر سے کنڈی نہیں لگی تھی ۔
    میں نے دروازے کے پٹ پر ھاتھ رکھ کر دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔
    اور میں جلدی سے کمرے میں داخل ھوا تو عبیحہ چارپائی پر ٹانگیں نیچے لٹکاے بیٹھی دیوار کو دیکھے جارھی تھی ۔
    عبیحہ کی پیٹھ میری طرف تھی اور چہرہ میرے مخالف ۔
    عبیحہ نے دروازہ کھلنے کی آواز تو یقیناََ سن لی تھی ۔۔
    مگر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا کہ کون اندر آیا ھے ۔۔
    شاید اسے امید تھی کہ میں اسکو ڈھونڈتا ھوا کمرے میں لازمی آوں گا ۔۔
    میں چلتا ھوا عبیحہ کے قریب پہنچا اور اس کے بلکل قریب ھوکر کھڑا ھوگیا ۔
    عبیحہ ایسے ریکٹ کر رھی تھی جیسے وہ میری موجودگی سے بلکل بےخبر ھے ۔
    وہ میرے اتنے قریب آکر کھڑے ھونے پر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی ۔
    چلیں یہ بھی اسکی ادا ٹھہری ۔
    اسکو بھی ادا ھی مان لیتے ہیں ۔۔
    میں نے چند لمحے کھڑے رہنے کے بعد عبیحہ کے کندھے پر ھاتھ رکھا اور بولا ۔
    کمال ھے مجھے باہر چلنے کا کہہ کر ادھر آکر بیٹھ گئی ھو ۔
    میں نے جان بوجھ کر ایسے ریکٹ کیا جیسے کچھ ھوا ھی نہ ھو ۔
    میں بلکل نارمل انداز سے بلکہ فرینکلی بات کررھا تھا ۔
    عبیحہ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔۔۔

    پھر آنکھوں کے تیر چلے نشانہ ٹھیک لگا نہیں معلوم ۔۔

    مگر عبیحہ کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا عجیب سی کشش تھی جو کئی سوال اٹھا رھی تھی ۔
    عبیحہ نے چند سیکنڈ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر بڑے آرام سے میری کلائی کو پکڑ کر میرا ھاتھ اپنے کندھے ہٹا دیا اور اٹھ کر کھڑی ھوئی ۔
    افففففف عبیحہ کیا کھڑی ھوئی ۔
    سالا میرا لن پھر سے کھڑا ھونے کو تیار ھوگیا۔
    عبیحہ کی پتلی کمر ساتھ لگا پیٹ اور اوپر تنے ھوے بڑے بڑے ممے ایسے ہلے جیسے بریک لگانے سے گاڑی کا بمپر چند لمحے جھولتا ھے ۔
    اففففففف کیا سین تھا ۔۔۔
    میری نظروں کو اپنے مموں ٹکے دیکھ کر عبیحہ نے جلدی سے اپنا شفون کا دوپٹہ مموں پر سیٹ کیا ۔
    مگر اتنا باریک دوپٹہ کہاں چٹانوں کو ڈھانپ سکتا ھے۔
    دوپٹہ بھی میری نظروں سے ملا ھوا تھا جو بار بار سیٹ کرنے کے باوجود مموں پر ٹک نہیں رھا تھا ۔۔۔
    آخر عبیحہ جھنجھلا کر باہر دروازے کی طرف چل پڑی ۔
    اسکی شارٹ شرٹ جو انتہائی فٹنگ میں تھی وہ اسکے باہر کو ابھرے چوتڑوں کو نمایاں کررھی تھی اور عبیحہ کے چلنے سے چوتڑوں کا بھی سانس رک رھا تھا جو باری باری اپنے اوپر آتی شرٹ کو اچھال اچھال کر اوپر کرنے کی کوشش کررھے تھے ۔
    مگر ہر بار ناکام ھورھے ۔
    عبیحہ کی چند لمحوں کی قربت نے اسکے انگ انگ کو میری نظروں کے زیر بحث کردیا ۔
    میری نظریں اسکی سارے جسم کا محاسبه کرنے پر مجبور ھوگئیں ۔
    عبیحہ تیز قدموں سے چلتی ھوئی بیرونی دروازے کی طرف بڑھتی گئی اور میری نظریں اسکے مموں سے ہٹ کر اسکی ابھری اوپر نیچے ھوتی گانڈ کو تکتی رہیں ۔
    یہاں تک کے عبیحہ کی گانڈ میری نظروں سے اوجھل ھوگئی اور عبیحہ کمرے سے نکل کر صحن میں چلی گئی ۔
    جیسے ھی گانڈ کا، منظر میری آنکھوں سے اوجھل ھوا میں بھی تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تو عبیحہ گھر کے بیرونی دروازے کے پاس کھڑی میری طرف دیکھ رھی تھی ۔
    مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر عبیحہ جلدی سے باہر گلی میں نکل گئی اور میں بھی باہر نکل کر دروازہ بند کرکے اسکو ساتھ لیے نہر کی طرف چل دیا ۔
    ہم دونوں خاموشی سے چل رھے تھے ہم دونوں کے درمیان کسی قسم کی گفتگو نہیں ھورھی تھی ۔
    یوں ھی چلتے ھوے میں عبیحہ کو ٹرین کی پٹری کی سمت لے کر چلنے لگا ۔
    میں عبیحہ کے بلکل ساتھ جڑ کر چل رھا تھا ۔ہم دونوں میں بس چند انچ کا ھی فاصلہ تھا ۔
    آخر کار میں نے ھی خاموشی کو توڑا اور ادھر ادھر نظر دوڑا کر بولا ۔
    پتہ نہیں سب کس طرف گئے ہیں ۔
    چلو پہلے پٹری کی دوسری طرف لگے امرود کے باغ میں دیکھتے ہیں ۔۔
    میں اکیلا ھی باتیں کری جا رھا تھا جبکہ عبیحہ خاموشی سے میری تقلید میں چلی جارھی تھی ۔
    جب ہم ٹرین کی پٹری کے پاس پہنچے جو زمین سے کافی اونچی تھی تو میں جلدی سے بھاگتا ھوا پٹری کے اوپر چڑھ گیا جبکہ عبیحہ نیچے کھڑی میری طرف سوالیا نظروں سے دیکھنے لگ گئی ۔۔
    کمبخت اب بھی آنکھوں سے اپنی مجبوری بیان کررھی تھی کہ میں کیسے اوپر چڑھوں ۔
    میں چند لمحے اسکو دیکھتا رھا کہ اب بولے اب بولے مگر وہاں تو خاموشی چھائی ھوئی تھی لب سلے ھوے تھے بس آنکھوں سے سب کچھ بیاں ھورھا تھا ۔
    میں نے بالاخر عبیحہ کو کہا ۔
    آجاو اوپر تب جا کر اس مجسمہ حسن کی خاموشی کے تار ٹوٹے اور اسکے شربتی ہونٹ ہلے ۔۔
    میں کیسے اوپر چڑھوں میں نے گر جانا ھے مجھ سے نہیں چڑھا جاتا ۔۔
    میں نے کچھ سوچ کر دوبارہ نیچے آنا شروع کردیا اور عبیحہ کے پاس پہنچ کر بولا مجھے اپنا ھاتھ پکڑاو میں تمہیں گرنے نہیں دوں گا ۔۔
    عبیحہ نے جلدی سے ھاتھ اپنی گاند کے پیچھے ایسے کیا جیسے میں ذبردستی اسکا ھاتھ تھامنے لگا ھوں ۔۔
    میں اسکی اس حرکت کو بھی اسکی ادا سمجھ کر خاموش رھا ۔کہ جو میرے ساتھ چمٹ سکتی ھے میرے لن کو چڈوں میں بھینچ سکتی جو میرے ھاتھ کو خود پکڑ کر اپنے ھاتھوں میں لے کر سہلا سکتی ھے ۔
    اب اسی کو میرے ھاتھ میں اپنا ھاتھ دینے میں کیا مسئلہ ھے ۔۔۔
    مانا کہ اسکا مخملی ھاتھ اسکے لیے بہت خاص تھا ۔
    مگر وہ یہ بھی تو سوچتی کہ عام ہم بھی نہیں تھے ۔

    ہر لڑکی کے نصیب میں لن ضرور ھوتا ھے ۔
    مگر ہر لڑکی کے نصیب میں شیخو کا لن نہیں ھوتا۔

    خیر میں نے پھر عبیحہ کو کہا کہ یار اوپر پھر کیسے چڑھو گی ۔
    عبیحہ ھاتھ کے اشارے سے مجھے کہنے لگی پیچھے ہٹو میں خود ھی چڑھ جاتی ھون ۔
    میں مسکراتے ھوے بازو اسکے سامنے ادب سے پھیلاتے ھوے بولا ۔
    جی ضرورررررررررر۔
    اور میں عبیحہ کے سامنے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑا ھوگیا ۔عبیحہ میری اس حرکت کو دیکھ کر تھوڑا سا مسکرائی اور سر جھٹک کر آہستہ سے بولی پاگل۔۔۔
    اور پھر عبیحہ اوپر چڑھنے لگ گئی ۔۔
    چڑھائی والی جگہ پر چھوٹے چھوٹے پتھر پڑے ھوے تھے اور جگہ کا بھی بیلنس نہیں تھا اس لیے عبیحہ کو جھکنا پڑا اور عبیحہ کو اوپر چڑھتے ھوے زمین پر ھاتھ رکھ کر زمین کا سہارہ لینا پڑا ۔
    عبیحہ اوپر چڑھتے ھوے ہلکا ہلکا ڈگمگا رھی تھی ۔
    اور جھکنے کی وجہ سے اسکی باہر کو نکلی گول مٹول گانڈ مذید باہر کو نکل آئی تھی ۔
    میں تو سب کچھ بھول کر عبیحہ کی سیکسی گانڈ کا نظارا دیکھنے میں مگھن ہوگیا ۔
    ابھی عبیحہ ایسے چڑھائی چڑھ رھی تھی جیسے وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنا چاہ رھی ھو اور راستہ بہت دشوار ھو ۔
    عبیحہ نے ابھی آدھا راستہ ھی طے کیا تھا کہ اسکا پیر ایک پتھر سے سلپ ھوا اور وہ تقریباً ایکدم پیچھے کو کھسک کر واپس آئی اور ساتھ ھی اسکے منہ سے چیخ نکلی ۔
    آئیییییییی یایایاسر مممیں گرنے لگی ۔
    میں چونک کر اسکی گانڈ کے خیالوں سے باہر آیا اور بھاگ کر اسکے پیچھے پہنچ کر عبیحہ کی کمر کو دونوں طرف سے اپنے ھاتھوں سے پکڑ کر عبیحہ کو نیچے آنے سے روک لیا ۔
    عبیحہ چونکہ جھکی ھوئی تھی اور اسکی گانڈ حد سے ذیادہ باہر کو نکلی چکی تھی تو میرے یوں اسے پکڑنے سے میرا لن اسکی نرم نرم گانڈ کے ساتھ لگ گیا ۔۔
    اور پوز ایسا بن گیا تھا کہ دیکھنے والا یہ آسانی سے قیاس کرسکتا تھا کہ شاید میں عبیحہ کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے لن اسکی گانڈ یا پھدی میں ڈالے اسے چود رھا ھوں ۔
    مگر ایسا بلکل بھی نہیں تھا یہ تو دیکھنے والی کی گندی سوچ تھی جبکہ میں تو بیچاری کو گرنے سے بچا رھا تھا ۔
    یہ الگ بات تھی کہ میرے لن کو پھدی کے بعد عبیحہ کی گانڈ کا لمس بھی نصیب ھوا ۔
    افففففففففف دوستو بیان کرنا مشکل ھے ۔
    کہ عبیحہ کی کتنی نرم گانڈ تھی اور سوے ھوے لن کے ساتھ گانڈ کے ساتھ لگنے کا مزہ ھی کچھ الگ ھوتا ھے اور وہ بھی ایسی گانڈ کہ جسکو چھونے کا بھی ارمان بندا بس خوابوں میں اور امیجینشین سے ھی پورا کرسکتا ھے ۔۔
    عبیحہ کی پتلی کمر میرے ھاتھوں میں اور میری رانوں کے ساتھ لگی اسکی نرم گانڈ ھاےےےےےےےےےے کیا ھی مزہ تھا ۔

    میں نے اس مزے کو دوبالا کرنے کے لیے گانڈ کے ساتھ لگتے ھی ہلکا سا زور آگے کی طرف اس انداز سے لگایا کہ عبیحہ کو ایسے لگے جیسے میں اسکو بچانے کے بڑی پھرتی سے بھاگ کر آیا ھوں ۔
    اور ساتھ ھی میں نے اوےےےےےے رکو رکو رکو کی آواز نکالی
    اور عبیحہ کو راستے میں روک لیا اور پھر عبیحہ کو سنبھالتے ھوے اسے کہا چلو اب چڑھو اوپر بےفکر ھوجاو اب نہیں گرتی ۔
    عبیحہ نے دوتین دفعہ کہا کہ میں نے نہیں اوپر چڑھنا مجھے نیچے جانے دو مگر مجھے تو اپنے مزے کی پڑی تھی میں اسے اوپر چڑھنے کا ھی اصرار کرنے لگ گیا ۔
    آخرکار عبیحہ نے اوپر چڑھنے کے لیے اگلا قدم اٹھایا اور پٹری کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
    میں ساتھ ساتھ ادھر ادھر بھی دیکھ رھا تھا کہ کوئی ہمیں اس پوزیشن میں دیکھ تو نہیں رھا اور ساتھ ساتھ عبیحہ کو پیچھے سے ہلکا ہلکا دھکا لگاتے اوپر کی طرف لیجا رھا تھا ۔
    آخرکار کچھ ھی دیر میں عبیحہ پٹری پر چڑھنے میں کامیاب ھوگئی ۔
    اور اسی دوران میرے لن نے کب کھڑے ھوکر عبیحہ کی گانڈ کی دراڑ میں گھسنے کے مزے لیے اسکا احساس مجھے تب ھوا جب عبیحہ نے اوپر چڑھنے کے بعد سیدھی ھوکر اپنی گانڈ کی جان میرے جن سے چھڑوائی ۔۔
    کھڑے لن کا احساس ھوتے ھی میں نے لن کو چڈوں میں کرکے چڈوں کو بھینچ لیا جس سے ٹروزر میں بنا تمبو کافی حد تک چھپ گیا تھا ۔
    یہ تو اچھا ہوا کہ میں نے نیچے انڈر وئئر پہنا ھوا تھا ۔
    ورنہ لن چھپاے بھی نہیں چھپنا تھا ۔
    عبیحہ جلدی سے سیدھی ھوکر کھڑی ھوئی اور لمبے لمبے سانس لیتے ھوے بولی ۔
    توبہ کتنا مشکل کام ھے اففففففففف میں تو گرتے گرتے بچی
    عبیحہ نے بات کرتے ھوے سر سری سی نگاہ میرے لن کی طرف بھی ڈالی ۔
    میں نے مسکراتے ھوے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا ۔
    میرے ھوتے ھوے آپ کیسے گر سکتی ہیں ۔۔
    عبیحہ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولی ۔
    شکریہ یاسر ۔۔
    میں نے کہا اس میں شکریہ کی کیا بات ھے آپ ہماری مہمان ہیں آپکی حفاظت کرنا تو ہم پر فرض ھے ۔۔
    عبیحہ نے میری بات سن کر صرف مسکرانے پر ھی اکتفاء کیا ۔
    اور پھر چاروں طرف دیکھنے لگ گئی ۔اور میں بھی ہمیں گھر والے کہیں بھی نظر نہیں آرھے تھے ۔
    جبکہ امردوں کا باغ کافی گنجان تھا جسکی وجہ سے باہر کھڑے ھوکر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ سب باغ میں ہیں کہ نہیں ۔۔
    خیر کچھ دیر کھڑے ھونے کے بعد میں نے عبیحہ کو کہا کہ چلو نیچے چل کر باغ میں دیکھتے ہیں یقیناً وہ سب باغ کے اندر امرود کھانے میں مصروف ھونگے ۔
    عبیحہ بولی یاسر سچی بتاوں تو مجھے بھی بڑا شوق ھے کہ درخت سے امرود توڑ کر کھاوں مگر ہمارے شہر میں کہیں باغ ھی نہی ھے اس لیے کبھی میرا یہ شوق پورا ھی نہیں ھوا ۔
    مین نے کہا چلو پھر آج تمہارا شوق بھی پورا کردیتا ھوں کیا یاد کرو گی ۔۔
    کا سخی سے پالا پڑا ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  18. The Following 14 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (07-02-2019), Admin (04-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (05-02-2019), mentor (04-02-2019), Mian ji (04-02-2019), Mirza09518 (05-02-2019), mmmali61 (04-02-2019), musarat (04-02-2019), omar69in (04-02-2019), Story Maker (04-02-2019), sweetncute55 (04-02-2019), waqastariqpk (04-02-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

  19. #720
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    372
    Thanks Thanks Given 
    517
    Thanks Thanks Received 
    2,523
    Thanked in
    365 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 236..??




    عبیحہ میرا سٹائل اور بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور میرے کندھے پر چپت لگاتے ھوے بولی ۔
    یاسر تم بہت باتونی ھو یار ۔۔۔۔۔۔
    میں جو عبیحہ کے گلاب کی طرح کھلتے چہرے کو دیکھ رھا تھا اور اسکی ہنسی سے موتیوں کی طرح چمکتے دانتوں کو دیکھ رھا تھا جو اسکی ہنسی کو مزید چار چاند لگا رھے تھے ۔
    میں نے ایکدم سنجیدہ ھوکر عبیحہ کو کہا ۔
    عبیحہ جی ایک بات کہوں۔۔
    عبیحہ جو ہنسے جارھی تھی ایکدم خاموش ھوکر بولی ھاں کہو کیا کہنا ھے ۔
    میں نے کہا عبیحہ جی آپ بہت خوبصورت ہیں اور ہنستی ھوئی اور بھی ذیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔
    تو پھر آپ اتنی سنجیدہ کیوں رہتی ہیں ۔
    عبیحہ میرے سر پر آہستہ سے چپت لگاتے ھوے بولی ۔
    بہت شوخے ھو تم یاسر مسکے لگانا کوئی تم سے سیکھے ۔
    میں نے اپنی شہہ رگ کو پکڑتے ھوے کہا قسم سے عبیحہ جی آپ واقعی بہت خوبصورت ہیں اور آپکی ہنسی آپکی مسکراہٹ اس سے بھی ذیادہ حسین ھے ۔۔
    عبیحہ میرا کان پکڑ کر کھینچتے ھوے بولی ۔
    تم بہت بدمعاش ھوگئے ھو ۔
    آنٹی سے تمہاری شکایت لگانی پڑے گی کہ آپکا بیٹا جوان ھوگیا ھے۔۔
    میں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ھوے کہا ۔
    میں نے ایسا کیا کہہ دیا آپ کے حسن کی تعریف ھی کی ھے ۔۔
    عبیحہ میری طرف شرارتی نگاہوں سے دیکھتے ھوے سر کو اثبات میں ہلاتے ھوے آہستہ سے بولی ۔۔
    اور بھی بہت کچھ کیا ھے ۔۔۔
    میں نے ناسمجھی کے انداز میں کہا ۔
    جی ییییییی ۔
    تو عبیحہ ہنستے ھوے بولی کچھ نہیں ۔۔چلو باغ میں چلتے ہیں ۔۔اور پھر خود ھی بول پڑی مگر میں نیچے کیسے اتروں گی ۔۔
    میں نے اپنے سینے پر ھاتھ مارتے ھوے کہا ۔
    یہ خادم کس لیے ھے ۔۔
    عبیحہ میری بات سن کر پھر قہقہہ لگا کرہنس پڑی ۔
    اور میری طرف انگلی کرتے ھوے بولی تم باز آجاو وووو۔
    میں نے پھر یتیموں والا، منہ بنا کر کہا۔
    اب مین نے کیا گستاخی کردی ھے عالی جاہ ۔۔
    عبیحہ میری شکل اور میری بات سن کر ۔
    ذور ذور سے ہنستے ھوے پیٹ پر ھاتھ رکھ کر آگے کو دھری ھوتی گئی ۔۔
    اور ہنستے ھوے بولی تم نہیں باز آو گے ۔۔
    چلو مجھے اب نیچے بھی اتارو ۔۔
    میں نے کہا اٹھا کر لے جاوں نیچے ۔۔
    عبیحہ غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    ذیادہ شوخے مت بنو چلو میرے آگے آگے نیچے اترو میں تمہارے پیچھے تمہارے کندھوں کو پکڑ کر نیچے اترتی ھوں ۔۔
    میں نے تو سوچا تھا کہ نیچے اترتے وقت بھی عبیحہ کے سکیسی جسم کے ساتھ مزہ کروں گا مگر سالی نے پہلے سے ھی نیچے اترنے کا پلان بنا لیا تھا ۔
    مجبوراً مجھے اسکی بات ماننا پڑی اور میں نے پہلے نیچے اترنے کے لیے قدم رکھا اور پھر عبیحہ نے میرے کندھوں کے دونوں طرف ھاتھ رکھے اور میں آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جانے لگا اور عبیحہ میرے کندھوں کی سپورٹ لیے میرے پیچھے پیچھے آنے لگی ابھی پانچ چھ چھوٹے چھوٹے قدم نیچے کی طرف بڑھے تھے کہ میرے دماغ مین ایک پلان آیا ۔

    میں نے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جاتے ھوے ایکدم نیچے کی طرف تین چار قدم دوڑنے کے انداز میں نیچے کی طرف بڑھاے اور پھر ایک دم پیروں کو ایک جگہ پر جام کردیا ۔۔
    کیونکہ میں نے جوگر پہنے ھوے تھے اس لیے مجھے ایسا کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی جبکہ عبیحہ نے فینسی چپل پہنی ھوئی تھی جس کا سول شیٹ سول تھا ۔
    ایک تو ہم نیچے اتر رھے تھے دوسرا جگہ بھی ہموار نہیں تھی تیسرا نیچے چھوٹے چھوٹے پتھر تھے چوتھا عبیحہ کا سہارا میرے کندھے تھے اس لیے عبیحہ بھی تیزی سے ہلکی سی چیخ مارتے ھوے میرے پیچھے سلپ ھوتی ھوئی آئی اور میرے ایکدم رکنے کی وجہ سے اسکے ہاتھ میرے کندھوں سے پھسل کر میرے گلے میں آگئے اور اسکے مممے میری کمر کے ساتھ چپک گئے اور اسکی رانیں میری گانڈ کے ساتھ لگ گئیں اب پوزیشن ایسی تھی کہ ۔
    دیکھنے والا یہ سمجھتا کہ میں عبیحہ کو اپنی کمر پر سوار کر کے نیچے اتار رھا ھوں ۔
    عبیحہ کا یوں اچانک جلدی سے نیچے آنے پر رنگ اڑ گیا تھا اور اس نے ڈرتے ھوے میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا ۔
    اور پیچھے سے اسکا سارا جسم میرے ساتھ چپک گیا ۔
    میں نے بھی پلان کے مطابق ذیادہ دیر نہ کی اور اپنے ھاتھ پیچھے لیجا کر عبیحہ کی گانڈ پر رکھے اور اپنے دونوں ھاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملایا اور عبیحہ کی گانڈ پر رکھ کر تھوڑا سا نیچے کو جھکا تو عبیحہ کا سارا وزن میری کمر ہر آگیا اور عبیحہ کے پیر زمین سے تھوڑے اوپر ھوگئے ۔
    اب میرے ھاتھوں کا ذور عبیحہ کی مست گانڈ پر تھا
    میرے ھاتھوں نے عبیحہ کو گانڈ سے اوپر اٹھایا ھوا تھا اور عبیحہ نے گبھراے ھوے میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے پکڑا ھوا تھا ۔۔
    میرے تو مزززززززے ھوگئے ۔۔۔
    عبیحہ جیسے ھی میرے اوپر گری اور گرتے ھوے بولی ھائیییییییی امیییییی اور ساتھ ھی مجھے تھام کر بولی کیا ھوگیا ھے یاسر ابھی ہم دونوں نے گرنا تھا ۔۔
    میں نے عبیحہ کی گانڈ کے نیچے دونوں ھاتھ رکھتے ھوے اسے اٹھاتے ھوے کہا ۔
    اوھھھھھ کچھ نہیں ھوتا نہیں گرنے دیتا آپکو میں ھوں نہ ۔۔۔
    اور میں عبیحہ کو اٹھاے ھوے نیچے لے آیا اور یوں چلتا ھوا باغ کی طرف بڑھنے لگا تو عبیحہ نے میرے گلے سے بازوں ڈھیلے کیے اور گانڈ کا وزن میرے ھاتھوں پر ڈالتے ھوے پیچھے سے اترنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔
    اب تو مجھے اتار دو ۔
    کہ ایسے ھی باغ میں جانا ھے ۔
    میں نے کہا ہاں ایسے ھی لے کر جانا ھے ۔
    عبیحہ کا وزن کوئی پنتالیس پچاس کلو کے قریب ھوگا جو میں آسانی سے اٹھاے ھوے تھا ۔۔
    عبیحہ نے میرے کندھوں پر مکے برساتے ھوے کہا مجھے نیچے اتارو بتمیززززززز ۔
    میں نے بھی ذیادہ اوور ہونے کی کوشش نہ کی کہ کہیں گرم گرم نگھلنے سے منہ ھی نہ جل جاے ۔
    میں نے اپنے ھاتھ عبیحہ کی گانڈ سے کھول دیے جس سے عبیحہ میری کمر سے پھسلتی ھوی زمین پر کھڑی ھوگئی اور اسکے مموں کی رگڑ نے میری ریڑھ کی ہڈی کو اور مضبوط کردیا ۔۔
    ایسا پچاس کلو کا پوپٹ مال کمر پر لدا ھو تو بندا پیدل ھی پچاس کلومیٹر سفر کرنے کا، ارادہ کرلیتا ھے ۔۔

    عبیحہ نے زمین پر پیر لگتے ھی سکھ کا لمبا سانس لیا اور میری کمر پر تھپڑ مارتے ھوے بولی ۔
    یاسر تم بہت بگڑ گئے ھو ۔
    میں نے اپنا رخ بدلا اور عبیحہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ھوگیا اور بھولے پن سے بولا ۔
    اب کیا ھوگیا عبیحہ جی ۔۔
    عبیحہ جھنجھلا کر سامنے باغ کی طرف اشارہ کرتے ھوے بولی ۔
    کچھ نہیں ہوا ۔۔چلو تممممم۔
    میں کندھے اچکا کر عبیحہ کے ساتھ ساتھ چلتا ھوا باغ کے اندر داخل ھوا ۔
    تو عبیحہ امرودوں سے لدے ھوے درختوں کو دیکھ کر بچوں کی طرح تالی بجا کر اچھل اچھل کر خوشی کا اظہار کرنے لگ گئی ۔۔
    امرودوں کودیکھ کر
    عبیحہ کے اچھلنے سے اسکے اپنے سنگترے بھی ساتھ ساتھ اچھل رھے تھے جنکو دیکھ کر میرا تو سارا حساب کتاب بگڑی جارھا تھا ۔

    سالی کا بچپنا دیکھ کر میری جوانی پاٹنے والی ھوگئی تھی ۔
    عبیحہ کچھ دیر یوں ھی اچھل اچھل کر خوشی کا اظہار کرتے ھوے درخت سے لٹکتی ھوئی ٹہنی سے امرود توڑ کر کھا نے لگ گئی اور اس نے ایک اور امرود توڑ کر میری طرف پھینکا جسے میں نے ایک ھاتھ سے ھی کیچ لیا ۔
    عبیحہ نے امرود بھی کچا توڑا تھا جسے وہ مزے لے لے کر کھا رھی تھی کیونکہ کچا امرود کھٹ میٹھا ھوتا ھے ۔
    میں اسکی حرکتوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ھوے جارھا تھا
    عبیحہ ایسے کررھی تھی جیسے اس نے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ھو۔
    اس کے لیے تو واقعی یہ باغ کسی عجوبہ سے کم نہیں تھا ۔
    اور میرے لیے اس کے ساتھ خلوت کا موقع کسی نعمت سے کم نہیں تھا ۔۔
    خیر عبیرہ نے آدھا امرود کھا کر پھینک دیا اور پھر سے مختلف درختوں کے گرد گھوم گھوم کر اپنی پسند کا امرود تلاش کرنے لگ گئی ۔۔
    ہر درخت پر ہزاروں کی تعداد میں امرود لگے ھوے تھے مگر وہ پنجابی کی ایک کہاوت ھے نہ کہ
    کماد وچ بندا وڑ جاوے تے گنا پسند نئی آندا ۔۔
    یہ ھی حال عبیحہ کا بنا ھوا تھا میں بھی اسکے ساتھ ساتھ چل رھا تھا اور اسے کئی امرودوں کی طرف اشارہ کرکر کے تھک گیا تھا مگر اسکا نخرہ ھی مان نہیں تھا ۔
    ابھی ہم باغ کے تھوڑا سا ھی اندر گئے تھے کہ میرے کانوں میں آواز پڑی ۔۔۔۔
    کیڑاااااااا ایں ۔۔۔
    عبیحہ بھی آواز سن کر ایک دم سہم کر میرے قریب ھوکر کھڑی ھوگئی اور آواز کی سمت کی طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔
    میں سمجھ گیا تھا کہ یہ باغ کا مالی ھے اور یہ مجھے اچھی طرح جانتا بھی ھے اور تقریباََ دوست بھی تھا ۔

    دوستو یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ گاوں کی ایک یہ بھی ثقافت ھوتی تھی پتہ نہیں اب ھے کہ نہیں کہ اگر گاوں میں کسی کے گھر شہر سے یا دور دراز سے مہمان آجاتے تھے تو وہ اگر گاوں کے قریبی باغ چاہے وہ کسی پھل کا بھی باغ ھو اگر وہ اس باغ میں داخل ھوکر درختوں سے پھل توڑ توڑ کر کھانے یا جاتے ھوے ساتھ بھی لے جانے کی اجازت لیں تو باغ کا مالی یا مالک بڑی خوشی سے انکو اس بات کی اجازت دے دیتا تھا بلکہ انسے کسی قسم کے پیسے لینا اپنی توہین سمجھتا تھا اور کچھ مالی تو مہمانوں کے ساتھ ساتھ رہتے اور انکو بتاتے کہ یہ پھل کی کونسی قسم ھے آپ فلاں والا توڑو یہ پکا ھوا ھے اور اسکا ذائقہ اچھا ھے وغیرہ وغیرہ ۔
    یعنی ہر لحاظ سے مہمانوں کے ساتھ کاپرٹ کرتے ۔۔
    نوٹ ۔۔۔
    یہ سہولت صرف مہمانوں کے لیے ھوتی تھی ۔
    گاوں کے یا گردونواح کے مقیم اگر بنا اجازت کے باغ میں گھسنے کی کوشش کرتے تے اوناں دا چھتر پولا وی ہوندا اے
    خیر میں بھی کیا بونگیاں مارنے لگ گیا۔۔
    چند لمحوں کے ھی بعد مجھے مالی کا چہرہ نظر آیا تو میں نے نجانے کیوں جلدی سے عبیحہ کو کہا کہ عبیحہ جی نواب کرلیں عبیحہ نے بڑی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی کیوں ۔
    میں نے ایکدم سنجدیدہ انداز میں تھوڑا سخت لہجے میں کہا جو کہا ھے وہ کرو ۔۔۔
    اور میں دور سے آتے ھوے مالی کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔
    اور میں نے ساتھ ھی عبیحہ کی طرف دیکھا جو ابھی تک آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھی جارہی تھی میں نے عبیحہ کو دیکھ کر گھوری ڈالی تو عبیحہ نے مسکراتے ھوے جلدی سے دوپٹے سے اپنا ناک اور یونٹ چھپا کر نقاب کرلیا اسکی مسکراہٹ پردے میں بھی دیکھائی دے رھی تھی ۔
    اتنے میں مالی ہمارے قریب آگیا اور آتے ھی بڑی گرمجوشی سے مجھے ملا اور بولا اوووو شیخ ساب کی حال اے کیویں اج ساڈے غریباں وال چکر لگ گیا ۔
    میں اس سے گلے ملتے ھوے بولا بس یار کام میں مصروفیت ھے اور مہمان آے تھے تو سوچا انکو گاوں دیکھا دوں ۔۔
    مالی بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آرھا تھا ۔
    میری بات سن کر وہ بولا ۔
    ہاں ہاں مجھے معلوم ھے ابھی کچھ دیر پہلے تمہاری امی اور مہمان ادھر سے ھی گئے ہیں ۔
    میں اسکی بات سن کر بولا کتنی دیر پہلے گئے ہیں اور کس طرف گئے ہیں تو وہ یہ ھی کوئی پانچ دس منٹ پہلے دوسری طرف سے نہر کی طرف نکلے تھے ۔۔۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  20. The Following 13 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (07-02-2019), Admin (04-02-2019), Lovelymale (04-02-2019), MamonaKhan (05-02-2019), mentor (04-02-2019), Mian ji (04-02-2019), Mirza09518 (05-02-2019), mmmali61 (04-02-2019), musarat (04-02-2019), omar69in (04-02-2019), sweetncute55 (04-02-2019), waqastariqpk (04-02-2019), ZEESHAN001 (11-04-2019)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •