جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 56 of 82 FirstFirst ... 64652535455565758596066 ... LastLast
Results 551 to 560 of 814

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #551
    Join Date
    May 2009
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post
    جانی ریالٹی وچ سب کش ای آندہ اے
    خالی سیکس ای سیکس چنگا نئی ہوندا ۔
    کسے ویلے سیکس توں ہٹ کے وی کش پڑنا چائی دا اے
    Zabardast story hey aise he le k chalain very nice

  2. The Following User Says Thank You to zain755 For This Useful Post:

    Xhekhoo (06-01-2019)

  3. #552
    Join Date
    May 2009
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    بہت عرصے کے بعد ایسی عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی بہت خوب کمال کا لکھ رہے ہیں

  4. The Following User Says Thank You to zain755 For This Useful Post:

    Xhekhoo (06-01-2019)

  5. #553
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Thanks for appreciate

    Quote Originally Posted by zain755 View Post
    بہت عرصے کے بعد ایسی عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی بہت خوب کمال کا لکھ رہے ہیں
    شکریہ بھائی جان نوازش مہربانی
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  6. #554
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    16
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    15 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Update kub aye gi...? Bumbastic see update thook dalo..

  7. The Following User Says Thank You to yasirsiddiqu For This Useful Post:

    Xhekhoo (07-01-2019)

  8. #555
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    123
    Thanks Thanks Given 
    401
    Thanks Thanks Received 
    80
    Thanked in
    42 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Waah, Action se bharpoor mazay dar updates thi. Maza agaya parh kar.

  9. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Xhekhoo (07-01-2019)

  10. #556
    Join Date
    May 2009
    Posts
    8
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    10
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    بھائی اپڈیٹ پلیزشدت سے انتظار ہے

  11. The Following User Says Thank You to zain755 For This Useful Post:

    Xhekhoo (07-01-2019)

  12. #557
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 215..??



    نسرین کا جیسے ھی میں نے ہاتھ پکڑا نسرین کو کرنٹ لگا اور اس نے جلدی سے مجھ سے ہاتھ چھڑوایا اور کھسک کر مجھ سے پرے ھوکر بیٹھ گئی ۔۔
    میں نے کہا کیا ھوا میرے نال کنڈے لگے ھوے نے ۔۔۔
    نسرین دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے بولی ننننہیں کچھ نہیں بولو کیا بتانا تھا۔۔
    میں بھی کھسک کر نسرین کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا ۔۔
    اور پھر نسرین کا ہاتھ پکڑ لیا تو نسرین پھر مجھ سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔
    میرا ہتھ تے چھڈ دے ۔ہتھ پھڑ کے کیڑی گل کرنی اے ۔۔۔
    میں نے اسکے ھاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور بولا ۔
    ایسے مجھ میں ہمت بڑھتی رھے گی کہ تم میرے ساتھ ھی ھو ورنہ مجھ سے ساری بات نہیں ہونی ۔۔۔
    نسرین نے میری بات سن کر ہاتھ ڈھیلا چھوڑ دیا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔
    چل چھیتی نال دس کی دسنا اے ۔۔۔
    میں نے کہا ۔
    حوصلہ تے کر اکو واری کالی پے جانی ایں ۔۔
    نسرین بولی یاسر مینوں تیرے ارادے ٹھیک نئی لگدے ۔
    چل چلیے کار نئی تے میں چلی آں ۔
    یہ کہتے ھوے نسرین اٹھنے لگی تو میں نے اسکا بازو کھینچ کر اسے واپس چارپائی پر بٹھا لیا۔۔
    نسرین بولی یاسر مینوں جان دے میرا دل ڈری جاندا اے ۔۔۔
    میں نے کہا
    یار کیا ھوا تم تو ایسے ڈر رھی ھو جیسے میں تمہیں کھا جاوں گا ۔
    نسرین بولی فیر میرا ہتھ چھڈ تے نالے میرے کولوں دور ھو کے بیٹھ ۔۔
    میں نے کہا یار تم تو ایسے کررھی ھو جیسے پہلی دفعہ میرے ساتھ بیٹھی ھو ۔
    نسرین بولی پہلے کی بات اور تھی اب ہم بڑے ھوگئے ہیں بچے نہیں ہیں ۔۔۔
    میں نے کہا اچھا چھوڑ سب باتوں کو ۔
    اس دن جب میں اور اسد اور عظمی باغ کی طرف گئے تھے تو عظمی اور اسد مجھے اور اسد کی بہن کو پٹری پر چھوڑ کر امرود توڑنے کے بہانے باغ میں گھس گئے تھے ۔
    نسرین سب کچھ بھول کر میری بات سننے لگ گئی ۔ وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ اسکا ھاتھ میرے ھاتھ میں ھے اور اسکی نرم نرم ران میری ران کے ساتھ لگی ھوئی ھے اور میں اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھا ھوا ھوں ۔
    نسرین بڑے غور سے میری بات سن رھی تھی ۔۔
    میں نے بات آگے بڑھاتے ھوے کہا۔
    میں پٹری پر کھڑا ھوکر انکو باغ میں دیکھنے لگ گیا تو اسد کی بہن کہتی کہ میں چھلیاں توڑنے جانے لگی ھوں ۔
    تو میں نے اسے کہا تم جاو میں ادھر کھڑا ھوں ۔۔
    نسرین بولی
    فیر رررر ۔
    میں نے کہا پھر میں اکیلا ادھر کھڑا ھوگیا اور پھر جب اسد کی بہن مکئی میں چھلیاں توڑنے چلی گئی تو میں عظمی کو دیکھنے انکے پیچھے باغ میں چلا گیا ۔
    میں چھپ چھپ کر باغ میں داخل ھوا تو میں نے دیکھا ۔۔۔
    نسرین بولی
    کیا دیکھا ۔
    میں نے کہا ۔
    میں نے دیکھا کہ اسد اور عظمی جپھی ڈال کر کھڑے تھے اور ایک دوسرے کی چمیاں لے رھے تھے ۔۔۔
    نسرین ایکدم اچھلی ھاے میں مرگئی
    فیررررررر
    میں نے نسرین کے ہاتھ کو کھول کر اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں ڈال لی تھیں اور ہاتھ میں نے اسکے نرم پٹ پر رکھ دیا تھا جسکا احساس اسے نہیں ھوا تھا ۔۔۔
    میں نے کہا ۔
    پھر میں درخت کی اوٹ میں کھڑا ھوگیا اور چھپ کر ان دونوں کو دیکھنے لگ گیا ۔
    عظمی اور اسد نے ایک دوسرے کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ھوے تھے اور ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوس رھے تھے ۔
    نسرین میری انگلیوں میں پھنسی اپنی انگلیوں سے ہلکے ہلکے میری انگلیوں کو دبا رھی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے خشک ہونٹوں پر بار بار زبان بھی پھیرے جارھی تھی ۔
    میں اسکی کیفیت کو نوٹ کر رھا تھا ۔
    اور مجھے اندازہ ہورھا تھا کہ ۔
    گھی پگھلنا شروع ھوگیا ھے ۔۔
    میں نے اپنی بات میں مذید ٹوسٹ لاتے ھوے کہا۔
    پھر ایکدم اسد نے عظمی کے ۔۔۔۔۔۔
    نسرین میرے خاموش ھونے پر فورن بولی ۔۔
    کیا ایکدم ۔۔۔۔۔۔
    میں نے کہا اسد نے ایک دم عظمی کے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگ گیا ۔۔۔
    نسرین نے دونوں رانوں کو آپس میں ملا کر بھینچتے ھوے کہا ۔۔
    پھر ررررر۔ عظمی نے اسے روکا نہیں ۔۔
    میں نے کہا
    جماں ای نئی ۔۔
    عظمی کو تو مزہ آرھا تھا وہ تو مزے سے آنکھیں بند کر کے اسد کے ہونٹ چوس رھی تھی ۔
    نسرین نے میرے ھاتھ سے اپنا ھاتھ چھڑوایا اور دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرنے لگ گئی ۔
    میں نے اسکے چہرے کو دیکھا تو پسینے سے اسکا چہرہ چمک رھا تھا ۔
    نسرین اپنا چہرہ صاف کرے کے پھر اپنی رانوں کے بیچ پھدی کے اوپر ہاتھ رکھ کر میری طرف نشیلی آنکھوں سے دیکھتے ھوے بولی
    فیررررر کی ھویا۔۔نسرین کی آواز میں لرزش تھی ۔۔
    میں نے کہا نسرین کے پٹ پر الٹا ھاتھ رکھا ھوا تھا ۔۔
    میں نے ہاتھ کو سیدھا کیا اور نسرین کی ران پر ہاتھ کو رکھ کر آہستہ آہستہ سہلاتے ھوے بولا ۔
    پھر اسد نے ایک ھاتھ نیچے کیا اور عظمی کے پٹ پر پھیرنے لگ گیا اور عظمی مزے سے سیییییی سییییی کرنے لگ گئی ۔۔
    میں نے بھی اپنے ہاتھ کی گردش وسیع کرتے ھوے نسرین کے پورے پٹ پر ھاتھ پھیرنے لگ گیا ۔۔۔
    نسرین کے ہونٹ کانپ رھے تھے اور اسکا جسم بھی ایسے کانپ رھا تھا جیسے اسکو سردی لگ رھی ھو۔
    نسرین بار بار دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کررھی تھی اور جب وہ چہرہ صاف کرنے کے لیے دوپٹہ اوپر لیجاتی تو اسکے بڑے بڑے تنے ھوے ممے صاف نظر آتے اور اسکی تیز تیز سانسوں سے ممے اوپر نیچے ھوتے صاف محسوس ھوتے ۔
    میں ہاتھ ل
    کو اسکے ران پر پھیرتے پھیرتے ہاتھ کی انگلیاں اسکی رانوں کے بیچ لیجانے لگا جس میں کافی کامیاب بھی ھوگیا میری دو انچ انگلیاں اسکی رانوں کے بیچ پہنچ چکی تھیں ۔
    میں نے اگلا وار کرتے ھوے کہا ۔
    پھر اسد نے عظمی کی قمیض آگے سے اوپر کی اور ھاتھ اسکی ٹانگوں کے بیچ لے جا کر اسکی شلوار میں ڈال دیا ۔۔
    میں نے بھی ساتھ ھی ہاتھ کو مزید نیچے کھسکا کر انگلیاں نسرین کی پھدی کے ساتھ ٹچ کی ۔
    اور ساتھ ھی میں نے کہا جیسے ھی اسد نے ھاتھ عظمی کی شلوار میں ڈالا تو عظی تڑپ کر اسد کے ساتھ چمٹ گئی ۔
    اور میرا وار بلکل کامیاب ھوا میری انگلیوں نے جیسے ھی نسرین کی پھدی کے لبوں کو چھوا تو نسرین نے سیییییییی کیا اور اپنی رانوں کو ذور سے بھینچ کر میری انگلیوں کو گستاخی کی سزا دیتے ھوے رانوں کے بیچ کس کر قید کرلیا اور نسرین نے میری کلائی کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔
    میں نے اگلی چوٹ لگاتے ھوے کہا ۔۔
    پھر اسد نے عظمی کے ہونٹوں کو منہ میں ڈال لیا ۔۔۔
    اور مجھ میں پتہ نہیں کہاں سے اتنی ہمت آئی کہ میں نے یہ کہتے ھی نسرین نسرین کی گردن میں بازو ڈالا اور اسکے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ھوے اسے اپنے ساتھ ھی پیچھے کی طرف لیٹاتا ھوا چارپائی پر گرا ۔نسرین نے پہلے تو احتجاج کرتے ھوے منہ ادھر ادھر کیا مگر لیٹنے کی وجہ سے نسرین کی رانیں بھی کھل گئیں تھی تو میرا ہاتھ بھی آزاد ھوچکا تھا تو میں نے ساتھ ھی نسرین کی پھدی پر ہاتھ کی چاروں انگلیاں رکھ کرشلوار کے اوپر سے ھی پھدی کو مسلنا شروع کردیا نسرین کے جسم کو ایک ذوردار جھٹکا لگا اور ساتھ ھی نسرین نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے لیا اور میرے ھونٹ چوسنے لگ گئی ۔
    میں بھی نسرین کی پھدی کو مسلی جارھا تھا ۔
    نسرین کی پھدی کے بال مجھے اپنی انگلیوں پر محسوس ھورھے تھے ۔
    مگر اسکی پھدی ابھی چھوٹی تھی اس لیے پھدی کے ہونٹ اتنے ذیادہ انگلیوں کو محسوس نہیں ہورھے تھے ۔
    جو بھی تھا مگر اس وقت مجھے نسرین کی کنواری پھدی مسلنے کا مزہ بہت آرھا تھا ۔
    نسرین بھی فل گرم ھوکر پھدی مسلواتے ھوے میرے ھونٹ چوسی جارھی تھی ۔
    میں نے پھدی مسلتے مسلتے ہاتھ کھسکا کر نسرین کی لاسٹک والی شلوار میں ڈال دیا
    افففففففففف کیا ھی نرم نرم جگہ تھی نسرین کی پھدی پر بال تھے مگر بال بھی بہت نرم اور ملائم تھے میری انگلیاں پھدی کے چھوٹے چھوٹے لبوں کے درمیان گھس گئیں اور جیسے ھی میری انگلیوں نے نسرین کے چھوٹے سے دانے کو مسلا تو نسرین کے منہ سے چیخ نکلی اور ساتھ ھی نسرین کا جسم کانپا اور ایک ھی بار ننگی پھدی کو چھوتے ھی نسرین کی گیلی پھدی سے یکے بعد دیگرے پانی کے فوارے نکلے اور نسرین نے اپنی رانوں کو ذور سے بھینچ لیا اور ساتھ میں میرے ہونٹوں کو بےدردی سے چوسنا شروع کردیا ۔۔
    کچھ دیر میں ھی نسرین ٹھنڈی ھوگئی اور اسکی گرمی پھدی کے راستے سے نکل کر میری انگلیوں میں جزب ہوتے ھوے میرے دماغ میں منتقل ہوگئی ۔۔۔
    نسرین کو جیسے ھی ہوش آیا کہ یہ کیا کربیٹھی تو اس نے میرے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکا دینے کی کوشش کی مگر تب تک دیر ھوچکی تھی ۔
    کیونکہ نسرین کو جب ہوش آیا تب تک میں ہوش حواس کھو بیٹھا تھا ۔
    اپنے سینے پر دھکے مارتے
    میں نے نسرین کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور ہاتھوں کو پکڑ کر اسکے سر کے پیچھے لیجا کر ایک ھاتھ میں دونوں کلائیوں کو پکڑ کر دبا دیا۔
    اور بڑی پھرتی سے ھاتھ نسرین کی قمیض میں ڈال کر اوپر لیجاتے ھوے اسکے ممے کو پکڑ لیا ممے پر ہاتھ لیجاتے ھوے میں نے انگلیاں بریزیر کے نیچے سے ڈال کر بریزیر کو ممے سے اوپر کر دیا تھا ۔
    اور نسرین کا ننگا مما میری مٹھی میں تھا جسے میں دباتے ھوے ۔۔نسرین کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کررھا تھا ۔۔
    جبکہ نسرین سر کو دائیں بائیں مارتے ھوے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کی پہنچ سے دور رکھنے کی کوشش کررھی تھی اور ساتھ میں مجھے کہے جارھی تھی ۔۔۔
    یاسر کیا کررھے ھو یہ ٹھیک نہی ******کے واسطے مجھے چھوڑ دو ۔
    میں تمہیں اپنا بھائی سمجھتی ہوں تم یہ کیا کررھے ھو ۔
    میں امی کو بتاوں گی چھوڑو مجھے نہ کرو یاسر ۔۔۔
    مگر مجھ پر جنون سوار تھا میں اندھا گونگا بہرہ ہو کر اپنی ہوس کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ھوے ۔
    نسرین کے دونوں مموں کو باری باری دباتا تو کبھی اسکے نپلوں کو مسلتا۔۔۔
    میں نے نسرین کے احتجاج کی پرواہ نہ کرتے ھوے مموں کو چھوڑا اور ہاتھ پھر نیچے شلوار میں ڈال کر ایک ھاتھ سے ھی اسکی شلوار نیچے کرنے لگ گیا ۔۔
    جبکہ نسرین کروٹیں لے لے کر اپنا بچاو کرنے کی کوشش کررھی تھی ۔
    نسرین میری منتوں پر اتر آئی کہ ۔
    پلیززز یاسر نہ کرو میری عزت خراب نہ کرو میں کسی کو منہ دیکھانے کے لائک نہیں رہوں گی ۔
    میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتی تھی ۔
    تم تو ہماری عزت کے رکھوالے ھو تم ھی میری عزت لوٹنے لگ گئے ۔۔۔
    مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا
    بس مجھے ایک ھی چیز نظر آرھی تھی ۔
    اور وہ تھی نسرین کی کنواری پھدی ۔۔
    میں نسرین کے ہلنے اور احتجاج کے باوجود اسکی شلوار اسکے گھٹنوں تک کرنے میں کامیاب ھوگیا ۔
    اور پھر جلدی سے اپنا لن ٹراوزر سے باہر نکالا اور نسرین کی ٹانگوں کے اوپر چڑھ کر اسکی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں کے درمیان لے کر لن اس کے ننگے چڈوں پر رکھا تو نسرین بلک بلک رونے لگ گئی ۔
    نسرین کی ٹانگیں چارپائی سے نیچے تھی اور اسکی گانڈ چارپی کے ڈنڈے پر اور اسکا دھڑ چارپائی پر تھا۔
    میں لن کو پکڑ کر تھوڑا سا آگے ھوا اور اسکی پھدی کے اوپر ٹوپا رکھا اور گھسا مارنے ھی لگا تھا کہ نسرین بولی ۔
    یاسر میری عزت خراب کر کے تمہیں کیا ملے گا کچھ دیر کے مزے کے لیے تم میری ساری زندگی خراب کردو گے ۔
    سوچو اگر میری جگہ تمہاری بہن نازی ھوتی تو کیا ھوتا ۔۔۔
    اگر اسکے باوجود بھی تم نے میری عزت خراب کرنی ھے تو ٹھیک ھے کرلو جو دل کرتا ھے کرلو مگر اسکے بعد میرا منہ دیکھو گے مین نے خودکشی کرلینی ھے
    نسرین کی بات سنتے ھی ۔
    مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں نے جھٹکے سے اسکے ہاتھ چھوڑے اور بڑی پھرتی سے اس کے اوپر سے آٹھا ۔۔۔
    اور جلدی سے لن کو ٹراوز میں کیا
    اور اسکو ویسے ھی لیٹا چھوڑ کر
    میں کمرے سے نکل آیا۔۔۔
    اور صحن میں کھڑا ھوکر اپنے سر پر تھپڑ مار نے لگ گیا ۔
    کہ مجھے اسکے ساتھ ذبردستی نہیں کرنی چاہیے تھے ۔۔۔
    کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد میں واپس پھر کمرے میں گیا تو نسرین شلوار اوپر کر کے اپنی قمیض درست کررھی تھی ۔۔۔
    مجھے دیکھ کر وہ ایکدم چونکی اور دو قدم پیچھے ہٹی ۔
    میں چلتا ھوا اس کے قریب گیا ۔۔۔
    اور اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ھوگیا اور روہانسے لہجے میں بولا ۔
    نسرین پلیز مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ھوگئی مجھے پتہ ھی نہیں چلا کہ میں کیا کررھا ھوں ۔
    میں بہک گیا تھا نسرین میں بہک گیا تھا ۔پلیزززز مجھے معاف کردو۔۔۔
    اور یہ کہتے ھوے میں گھٹنوں کے بل اسکے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھ گیا ۔۔
    نسرین منہ کھولے مجھے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔
    اور چند لمحوں بعد نسرین آگے بڑھی اور مجھے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور میرے بندھے ھاتھ کھول کر بولی ۔۔۔
    بس کرو یاسر غلطی میری بھی تھی ۔
    اکیلے تم ھی قصور وار نہیں ھو ۔۔۔
    میں نے نسرین کے کندھون کو پکڑا اور بولا نسرین تم نے مجھے معاف کردیا ۔۔۔
    نسرین میرے چہرے کو غور سے دیکھتے ھوے مسکرا کر بولی ہممممم
    اور میں نے جلدی سے نسرین کی گالوں پر ھاتھ رکھا اور تھینکیو تھینکیو کرتے ھوے دس پندرہ چھوٹی چھوٹی چُمیاں بڑی تیزی سے اسکے ہونٹوں پر لیں ۔۔
    نسرین مممممممممم کرتی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ھوے مسکرائی ۔۔۔
    اور بولی چل گنداااا نہ ھوے ۔۔۔
    اور میں اسکو کندھے سے پکڑ کر بغل میں لیے کمرے سے باہر آیا اور صحن میں چلتا ھوا باہر دروازے کی طرف چلنے لگا تو اچانک نسرین میری بغل سے نکل کر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے بولی ۔
    بُدھو جو لین آے سی او تے کمرے وچ ای اے ۔۔۔
    میں نے ینستے ھوے کہا جاو لے آو کہ میں بھی آوں ۔۔
    نسرین منہ بسورتے ھوے بولی ۔۔
    آرام نال ایتھے ای کھڑا رہ ۔۔
    اور نسرین بھاگتی ھوئی کمرے میں گئی اور کھیس اور چادر لے کر کمرے کو لاک کیا اور پھر دوسرے کمرے کو بھی لاک کرنے کے بعد ہم باہر نکلے اور مین دروازے کو تالا لگانے کے بعد گھر کی طرف چل دیے میں نت شکر ادا کیا کہ ۔بچ گیا ورنہ نسرین جیسی منہ پھٹ تھی وہ کچھ بھی کرسکتی تھی ۔۔
    مجھے اب نیگٹیو سین یاد آنے لگ گئے کہ نسرین اگر گھر بتا دیتی تو یہ ھونا تھا وہ ھونا تھا ۔
    ان ھی خیالوں میں ہم گھر کے قریب پہنچے تو میں نے نسرین کو کہا تم گھر جاو میں تھوڑی دیر کے بعد آتا ھوں ۔
    اگر وہ دیر ھونے کی وجہ پوچھیں تو کہنا کہ میں تمہیں گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا اور تم میرا انتطار کرکر کے اکیلی ھی یہ سامان لے کر آئی ھو ۔۔۔نسرین میری بات سمجھ کر اثبات میں سر ہلاتی ھوئی دروازے کے پاس پہنچی تو میں سیدھا نکل گیا اور سوچنے لگ گیا کی اب کدھر جاوں دوست بھی چلے گئے ھوں گے ۔۔۔
    اچانک میرے دماغ میں فرحت کا خیال آیا تو میرے قدم بےاختیار فرحت کے گھر کی طرف اٹھ گئے ۔۔۔


    کچھ ھی دیر بعد میں فرحت کے گھر کے سامنے کھڑا تھا ۔
    اور جیسے ھی میں نے درواز ناک کرنے کے لیے ھاتھ آگےبڑھایا تو میری نظر دروازے پر لگے تالے پر پڑی تو میں نے وہیں سے ھاتھ واپس کھینچ کر اپنے ماتھ پر مارا کہ
    سالی آج تو قسمت ھی خراب ھے۔
    اب یہ گشتی پتہ نہیں گھر کو تالا لگا کر کہا گئی ھے ۔۔
    میں کچھ دیر کھڑا ادھر ادھر دیکھتا رھا مگر گلی سنسان تھی ۔۔
    میں کچھ دیر مزید کھڑا رھا اور پھر مایوس ہوکر قسمت کو کوستا گھر آیا تو آگے سے سب کی سڑی سڑی سننے کو ملیں کہ نسرین بےچاری کو اکیلی چھوڑ کر کہا دفعہ ھوگئے تھے ۔۔
    وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    میں سب کی باتیں سن کر بیٹھک میں چلا گیا ۔۔
    اور کچھ دیر بعد سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔
    اگلے دن صبح دکان کے لیے تیار ھوکر گھر سے نکلا اور معمول کے مطابق ضوفی کو گھر سے لیا اور دکان پر آگیا ۔
    ضوفی سے میں نے ماہی کے کالج جانے اور کوئی مسئلہ مسائل پیدا تو نہیں ھوا پوچھا تو ضوفی نے تسلی بخش جواب دیا ۔
    دکان پر سارا دن کام میں گزر گیا ۔
    شام کو میں دکان کے اندر کاونٹر پر بیٹھا سیل گن رھا تھا اور جنید باہر بیٹھا ھوا تھا ۔
    کہ دو نقاب پوش لڑکیاں دکان میں داخل ہوئیں انکے پیچھے ھی جنید بھی اندر آگیا ۔
    میں نے سر اٹھا کر بس ایک نظر ھی انکو دیکھا اور جنید کو دیکھ کر میں پھر سر نیچے کر کے پیسے گننے لگ گیا۔۔۔
    جنید ان کو لے کر پیچھے چلا گیا اور ورائٹی دیکھانے لگ گیا ۔۔
    میں بھی سیل گن کر سیدھا ھوکر چیئر پر پیچھے ٹیک لگا کر چئیر کو آگے پیچھے کر کے چئیر پر جھولتے ھوے کبھی باہر کی طرف دیکھتا توکبھی ان دونوں لڑکیوں کو جو اپنے دھیان سوٹ دیکھنے میں مصروف تھیں ۔
    لڑکیوں کے مجھے بس سائڈ پوز ھی نظر آرھے تھے ۔۔
    کچھ دیر بعد ان لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا تو اس وقت میں بھی انکی طرف ھی دیکھ رھا تھا ۔
    جیسے ھی اسکا دھیان مجھ پر پڑا تو اسکی آنکھیں باہر کو ابلنے والی ہوگئیں مجھے بھی اسکا یوں اپنی طرف دیکھنا عجیب لگا اور میں نے بھی جب غور سے اسے دیکھا تو میں بھی ایکدم اچھل کر کرسی سے کھڑا ھوگیا ۔۔
    کہ یہ سالی کدھر آگئی
    اور ہم دونوں ایک دوسرے کو غور سے دیکھنے لگ گئے ۔۔۔
    میں نے اسے کچھ دیر غور سے دیکھا اور پھر اس سے نظریں چرا کر باہر دیکھنے لگ گیا ۔۔
    کچھ دیر بعد انکی ریٹ پر جنید کے ساتھ بحث ھونے لگ گئی ۔تو وہ لڑکی سوٹ پکڑ کر میرے پاس آگئی جبکہ دوسری لڑکی پیچھے ھی جنید کے پاس کھڑی دوسرا سوٹ دیکھنے لگ گئی ۔۔
    لڑکی چلتی ھوئی میرے سامنے کاونٹر کی دوسری طرف کھڑی ھوگئی اور سوٹ میرے سامنے کاونٹر پر رکھتے ھوے نقاب درست کرتے ھوے آنکھوں کو بڑے سٹائل سے گھماتے ھوے بولی ۔
    یاسر جی اب ہم اتنے برے ھوگئے کہ دیکھ کر بھی انجان بن گئے۔۔۔
    میں نے تھوڑا ہچکچاتے ھوے کہا ۔۔
    نننہیں سویرا جی ایسی بات نہیں ۔
    وہ دراصل آپ کے ساتھ دوسری لڑکی تھی تو میں نے اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ آپ سے سلام دعا لوں کہ کہیں وہ کچھ غلط نہ سمجھ لے ۔
    سویرا بولی وہ میری چھوٹی سسٹر ھے ۔
    میں نے ہممم کیا ۔
    تو سویرا بولی یہ آپکی شاپ ھے میں نے کہا جی میری ھی شاپ ھے بس تھوڑی ھی دیر ھوئی ھے بناے ھوے ۔۔
    سویرا بولی ۔
    اچھی سیٹنگ کی ھے آپ نے اور ورائٹی بھی بازار سے ہٹ کر ھے ۔
    میں نے شکریہ ادا کرتے ھوے حال احوال پوچھا ۔
    اور سٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سویرا بولی سٹڈی تو اچھی جارھی ھے مگر آپ تو بھول ھی گئے میں تو روز کالج جاتے وقت آپکو دیکھتی رہتی تھی کہ شاید آپ نظر آجائیں مگر آپ نے تو آنا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔
    میں نے کہا ۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں ھے سویرا ۔
    اصل میں مجھے یہ مناسب نہیں لگتا کہ یوں چھچھوروں کی طرح کالج کے باہر کھڑا رہوں اور ویسے بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ھوتا ۔
    سویرا بولی آپ کو اور آپکی دکان کو دیکھ کر بہت خوشی ھوئی ۔۔۔
    اتنے میں سویرا کی بہن دوسرا سوٹ پکڑے سویرا کے پاس آگئی اور بولی کیا بنا ڈسکاؤنٹ ملا کہ نہیں ۔
    سویرا ہنستے ھوے بولی ۔
    جویریہ یہ اپنی ھی دکان سمجھو یہ اپنے جاننے والے ہی ہیں ۔
    ہم تو بغیر پیسوں کے بھی سوٹ لے جا سکتے ہیں ۔
    سویرا کی بات سنتے ھی میری چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا کہ کاکا بچ کے اے مال مُچھن والیاًں کُڑیاں نے ۔۔۔
    میں نے سویرا کی بات کو نظرانداز کیا اور جنید کو آواز دے کر کہا جنید انکو ریٹ ذرہ مناسب لگا دو اپنے جاننے والے ھی ہیں ۔
    تو جنید نے جی کہ کر انکو کافی ڈسکاؤنٹ دے دیا جس سے دونوں ھی خوش ہوگئیں ۔۔
    سویرا پرس سے پیسے نکالتے وقت بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی کہ میں اسکو کہوں کہ رہنے دیں پیسے ۔
    مگر میں بھی شیخ بچہ تھا ۔
    گھر کو گھاٹا نہیں پڑنے دینا تھا ۔۔۔
    میں بھی چپ کر کے کھڑا پیسے لینے کا انتظار کرتا رھا ۔
    آخر سویرا نے دل پر پتھر رکھ کر پرس سے پیسے نکال کر مجھے دیے ۔
    تو میں نے خاموشی سے پیسے پکڑے اور دراز میں رکھ کر انکا شکریہ ادا کیا ۔
    تو سویرا پھر آنے کا کہہ کر چلی گئی اور میں نے بھی لمبا سانس بھرا اور کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔
    جنید بولا استاد اے ایٹماں کون سی ۔۔۔
    میں نے کہا یار انکے رشتہ دار ہماری گلی میں رہتے ہیں تو دو چار دفعہ انکو وہاں آتے جاتے دیکھا تھا اور آنکھوًں آنکھوں میں بس ہیلو ہاے ھوئی تھی ۔
    اور یہ سالیاں وکھری رشتے داریاں کڈ کے بے گئیاں سی ۔۔۔
    جنید میری طرف دیکھ کر بڑی سنجیدگی سے بولا ۔۔
    ایدا مطلب اے کے میں اک ہور پین بنان واسطے تیار رواں ۔۔۔
    جنید کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں پیٹ پر دونوں ھاتھ رکھ کر ہنستے ھوے دھرا ھوتا جا رھا تھا ۔۔۔
    جنید بھی ہنستے ھوے بولا ۔
    یار پہلے بتا دے تیرا بھی کوئی پتہ نہیں چلتا کہ
    کیڑے پاسوں میری پین کڈ لینا ایں ۔۔۔۔
    میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ھے ۔
    مجھے تو یہ چالو مال لگتا ھے ۔
    اگر پروگرام ھے تو انکو پھنسا کر اکھٹے ھی چودیں گے ۔
    جنید بولا جان دے اے پھسن والیاں نئی نے ۔
    میں نے کہا شرط لگا لے اگر پھنسا لوں ۔۔
    جنید بولا ماما میں تیری نئی اپنی گل کر ریاں ایں کہ او میرے نال نئی پھس سکدیاں ۔۔۔
    توں تے اونوں پھسا لیا جدے بارے وچ کوئی سوچ وی نئی سکدا سی ۔۔۔
    میں جنید کا اشارہ سمجھتے ھوے بولا ۔
    گانڈو شرم کر تیری پرجائی اے ۔۔۔
    جنید ہنستے ھوے بولا ۔
    یار میں نے کونسی غلط بات کی ھے ۔
    بلکل میری بھابھی ھی ھے ۔۔
    اور تیری عزت میری عزت ھے ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا شکر ہے کہیں یہ نہیں کہدیا کہ تیری بیگم میری بھی بیگم ھے ۔۔
    جنید میری گردن پکڑ کر میرا سر نیچے دباتے ھوے بولا ۔
    ماما جدوں وی گل کریا کر پُٹھی ای کریا کر ۔۔۔
    ہم ابھی ایک دوسرے کے ساتھ ہنس کھیل ھی رھے تھے کہ ۔
    کسٹمر دکان میں داخل ھوے تو جنید کسٹمر کو دیکھ کر جلدی سے میری گردن چھوڑ کر سیدھا ھوگیا ۔۔۔۔
    اور پھر کسٹمر کو ڈیل کرنے لگ گیا۔۔۔
    رات لو دکان بند کی اور ضوفی کو گھر چھوڑنے کے بعد میں گاوں پہنچا اور گھر جاکر کھانا وغیرہ کھایا عظمی نسرین بھی گھر ھی تھیں ۔
    نسرین بار بار مجھے بڑی عجیب نظروں سے دیکھتی مگر میں نے سب کے سامنے اسکو نظر انداز ھی کیے رکھے ۔
    میں تو پہلے ھی کل کا ڈرا ھوا تھا کہ اگر میں جلد بازی میں نسرین کے ساتھ کچھ غلط کردیتا تو پتہ نہیں کیا ہوجانا تھا ۔
    آنٹی کے گھر بنی عزت بھی خاک میں مل جانی تھی اور اپنے گھر والوں کے سامنے بھی وکھرا ذلیل ھونا تھا ۔
    مگر نسرین پھر جان بوجھ کر پنگے لے رھی تھی اور مجھے ایسے دیکھ رھی تھی جیسے میں اسکا معشوق ھوں ۔۔
    عظمی ذیادہ چپ چپ ھی رہتی تھی ۔
    جیسے پہلے وہ ہنسی مزاق کرتی تھی مگر اب اس میں وہ بات نہیں تھی ۔
    ویسے بھی وہ پہلے کی نسبت کافی کمزور ھوگئی تھی اور اسکا رنگ بھی پہلے جیسا سفید اور گلابی نہ رھا تھا ۔
    بیچاری کو دکھ ھی اتنا بڑا لگا تھا کہ جو اسے اندر ھی اندر کھاے جارھا تھا ۔
    اسکی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑے ھوے تھے ۔
    کھلتا گلاب کھلنے سے پہلے ھی مرجھا گیا تھا ۔
    میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طریقہ سے عظمی کے ساتھ علیحدگی میں بات ھوجاے یا اسکے ساتھ سیکس کا موقع مل جاے مگر نازی ھی اسکی پوش بنی ھوئی تھی ۔
    اور نازی تھی بھی بڑی باتونی اسے بس کوئی سننے والا چاہیے اور پھر اسکی زبان کو کون روکے ۔۔۔
    میں نے کافی دفعہ عظمی کو اشارہ بھی کیا مگر وہ مجھے آنکھوں سے نازی کی وجہ بتا دیتی ۔۔
    اور نسرین. تھی جو بہانے بہانے سے مجھ سے بات کرتی اور پھر ہوس بھری نظروں سے مجھے تاڑتی ۔
    مگر نہ جانے کیوں نسرین سے میں اب کترانے لگ گیا تھا ۔
    ایک ھی رات میں مجھے اس، سے خوف سا محسوس ھونا شروع ھوگیا تھا ۔
    جبکہ اب اسکی نظریں بتا رھی تھی کہ وہ اب خود میرے نیچے لیٹنا چاھتی ھے ۔
    مگر اسکے باوجود مجھے اسپر اب یقین نہیں رھا تھا کہ یہ کسی وقت بھی بدل سکتی ھے اور یہ بھی سوچ تھی کہ ایسے چھوٹی سی غلطی کہیں میری بدنامی کا باعث نہ بن جاے ۔۔۔
    خیر میں کچھ دیر انکے پاس بیٹھا انکی بک بک سنتا رھا اور پھر باہر گلی میں آگیا اور ایک بار پھر میرے قدم فرحت کے گھر کی طرف اٹھ گئے
    مگر آگے سے پھر وہ ھی مایوسی. ملی ۔
    دروازے پر لگا تالا مجھے منہ چڑھا رھا تھا ۔۔
    آخر میں نے فرحت کے گھر پر تالا لگنے کی وجہ معلوم کرنے کا سوچا ۔
    اور میں نے کچھ سوچ کر ساتھ والے گھر کا دروازہ بجایا تو کچھ دیر بعد دروازے پر دس بارہ سال کر لڑکا نکلا ۔
    جو مجھے تو جانتا تھا مگر میں اسے نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کا بیٹا ھے ۔
    میں نے اسے پوچھا کہ یہ ساتھ والے گھر پر تالا کیوں لگا ھے
    لڑکا بولا انکے گھر تو دو مہینے سے تالا لگا ھوا ھے ۔

    میں نے حیران ھوتےھوے کہا کیوں کیا یہ لوگ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں یا کوئی اور وجہ ھے
    وہ لڑکا بولا کہ آنٹی فرحت کی امی کی طبعیت ذیادہ خراب ھوگئی تھی ۔
    تو انکو وہ لاہور لے گئیں تھی جہاں انکا علاج ھورھا ھے ۔۔
    میں نے ہممممم کیا اور اسکا شکریہ ادا کر کے چلنے لگا تو پھر میں رکا اور واپس مڑتے ھوے لڑکے کو آواز دی کہ بات سنو ۔
    لڑکا بولا جی یاسر بھائی ۔
    میں نے کہا یار انکا لاہور کا اڈریس یا فون نمبر مل سکتا ھے ۔۔
    تو وہ لڑکا بولا مجھے تو نہیں معلوم میں امی یا ابو سے پوچھ کر بتا سکتا ھوں ۔
    تو میں نے کہا یار مہربانی ھے اگر بتا دو ۔۔۔
    انکا بیٹا میرا کلاس فیلو ھے تو اسکی نانی اتنی بیمار ھے تو میرا بھی حق بنتا ھے کہ انکی خیریت دریافت کروں ۔
    اگر نمبر نہ ھوا تو اڈریس کا ھی پوچھ لینا ۔۔۔
    کیوں کے میں نے اس جمعہ کو لاہور جانا ھے ۔
    تو انکا پتہ کرتا آوں گا۔۔۔
    لڑکا جی اچھا کہہ کر اندر چلا گیا اور کافی دیر بعد باہر آیا تو اسکے ہاتھ میں پرچی تھی جس پر موبائل نمبر لکھا ھوا تھا ۔۔۔
    میں نمبر دیکھ کر حیران ھوا کہ یہ اتنا لمبا نمبر کیا باہر کے ملک کا ھے تو لڑکے نے بتایا کہ پتہ نہیں ۔
    آنٹی جاتے ھوے ہمیں یہ نمبر لکھ کر دے گئیں تھی کہ اگر کوئی مسئلہ ھو یا کوئی کام ھو تو یہ میرے بھائی کا موبلیل نمبر ھے ۔۔۔
    میں نے چونک کر لڑکے کی طرف دیکھا اور اس سے پھر پوچھا کہ کس چیز کا نمبر ھے تو
    لڑکا بڑے کانفیڈنس سے بولا ۔
    بھائی موبلیل کا نمبر ھے ۔۔۔
    اسکی بات سن کر مجھے ہنسی آگئی کہ سالا موبائل کو موبلیل کہہ رھا ھے ۔
    دوستو تب ہمارے شہر میں ابھی موبائل سروس شروع نہیں ہوئی تھی ۔
    مجھے موبائل کی شکل کا تھوڑا بہت پتہ تھا مگر موبائل کے نمبروں کا ابھی تک پتہ نہیں تھا کہ اتنا لمبا نمبر ہوتا ھے ۔۔۔
    اسی لیے میں نمبر دیکھ کر یہ سمجھا کہ شاید یہ بیرون ملک کا نمبر ھے ۔
    لڑکا مجھے ہنستے ھوے دیکھ کر بولا کیا ہوا بھائی یاسر ہنس کیوں رھے ہیں میں نے کہا ۔
    کچھ نہیں یار ۔
    اور میں نے پرچی فولڈ کر کے اپنے وائلٹ پرس میں رکھی ۔
    اور پرس پینٹ کی جیب میں ڈال کر لڑکے کا شکریہ ادا کر کے وھاں سے گھر کی طرف آگیا ۔۔۔
    دوستو پورا ہفتہ پھدی لیے بغیر گزر چکا تھا اور منی میرے دماغ کو چڑھ رھی تھی مُٹھ میں نے کبھی ماری نہیں تھے
    ایسے لن کا ستیاناس کرنے والی بات تھی مُٹھ مار کر ۔
    اس لیے میں کافی اپسیٹ سا ھوچکا تھا ایک یہ ھی امید تھی فرحت کی وہ بھی نہ ملی ۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  13. The Following 11 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-01-2019), abkhan_70 (07-01-2019), Admin (07-01-2019), hananehsan (07-01-2019), MamonaKhan (08-01-2019), Mian ji (08-01-2019), Mirza09518 (08-01-2019), omar69in (27-01-2019), StoryTeller (20-02-2019), suhail502 (08-01-2019), waqastariqpk (07-01-2019)

  14. #558
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 216


    میں مایوسی سے گھر پہنچا ۔
    تو سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے بھا ۔۔۔بھی دکان سے گھر آچکا تھا وہ بھی کمرے بستر پر لیٹا ھوا تھا ۔
    میں پہلے سیدھا بیٹھک میں گیا پینٹ اتار کر ٹراوز پہنا اور شرٹ اتار کر ٹی شرٹ پہن لی جو میں سوتے وقت پہنتا تھا اور پھر میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اور کچھ دیر بعد میں اٹھ کر بیٹھ گیا پتہ نہیں عجیب سے بے چینی ھورھی تھی اور پھر میں بستر سے اٹھا تو بھا کے کمرے میں پہنچا تو بھا گھوڑے بیچ کر سویا ھوا تھا اور اسکے خراٹے کمرے میں گونج رھے تھے
    ۔میں واپس بیٹھک میں آنے لگا مگر دروازے کو پکڑ کر پھر کمرے سے نکل کر صحن میں آگیا صحن میں گھپ اندھیرا تھا مگر نازی کے کمرے کی لائٹ جل رھی تھی اور دروازہ بھی کھلا ھوا تھا
    میں پہلے امی کے کمرے کی طرف گیا تو انکے کمرے دروازہ اور لائٹ بند تھی۔۔۔
    تو میں ادھر سے ھی نازی کے کمرے میں گیا تو نازی اور عظمی ایک چارپائی پر لیٹی تھیں اور نسرین اکیلی ایک چارپائی پر ۔
    مگر تینوں جاگ رہیں تھی اور انکی باتیں جاری تھیں ۔
    مجھے بھی ابھی نیند نہیں آرھی تھی ۔اس لیے
    میں بھی ٹائم پاس کرنے انکے کمرے میں چلا گیا مجھے دیکھ کر تینوں اٹھ کر بیٹھ گئیں نازی اور عظمی اپنے دوپٹے کو درست کرنے لگ گئی مگر میری عزت کی دشمن ویسے ھی اپنے بڑے بڑے دودھ کے پیالوں کو میری آنکھوں کے سامنے چھلکاتے ھوے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
    نسرین کے مموں کو دیکھ کر میرا پھر دماغ خراب ھونے لگ گیا ۔
    نازی بولی بھائی سوے نہیں آپ میں نے کہا نیند نہیں ارھی تھی تو سوچا کہ تھوڑی دیر تم لوگوں کی چغلیاں سن لوں ۔
    نسرین بڑی شوخی سے بولی ۔
    اسی تینوں چُغل خور لگنے آں ۔
    میں نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا ۔
    اس میں کونسا شک والی بات ھے ۔
    یہ تو سب کہتے ہیں کہ لڑکیاں جب بھی فارغ ہوکر بیٹھتی. ہیں تو سواے چُغلیوں کے انکو کوئی کام نہیں ھوتا۔۔
    نسرین بولی نئی جی
    ہم تو بس اپنے بچپن کی باتیں کررہیں تھی ۔
    میں نے ہممممم کیا اور بولا چلو میں. بھی سنوں کہ کونسی بچپن کی باتیں ھورہیں ہیں اور اسکے ساتھ ھی
    میں ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
    عظمی اور نازی پھر میرے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئیں ۔
    جبکہ نسرین اب خاموش تھی اور
    نسرین کی طرف میری جب بھی نظر جاتی تو اسے اپنی طرف دیکھتے پاتا۔۔
    اور جب میری نظر اس کی نظر سے ملتی تو وہ نظر پھیر کر نازی کی طرف دیکھنے لگ جاتی ۔
    میں نے عظمی سے پوچھا کہ آنٹی کا فون وغیرہ نہیں آیا تو عظمی بولی ابھی تک تو امی کا فون نہیں آیا پتہ نہیں ابو کی طبعیت کیسی ھوگی امی بھی لاپرواہ ہیں جاکر کم ازکم ایک فون کر کے اپنی اور ابو کی خیریت تو بتا دیتی ۔
    میں نے عظمی سے اسکے ماموں کا نمبر پوچھا کہ میں صبح کال کر کے پتہ کرلوں گا ۔
    عظمی بولی مجھے زبانی یاد تو نہیں مگر گھر ماموں کا نمبر لکھا پڑا ھے ۔۔
    میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں صبح مجھے لاکر دے دینا ۔
    تبھی نسرین بولی ۔ عظمی صبح یاسر نے جلدی دکان پر چلے جانا ھے پھر اس نے رات کو آنا ھے تم ابھی گھر جاکر نمبر لا دو صبح یاسر دکان پر جاکر کال کرلے گا ۔۔۔
    عظمی بولی تیرا دماغ خراب اے ایس ٹیم ادی رات نوں میں پاگل آں کہ کار جاواں گی ۔۔۔
    نازی بھی بولی کہ عظمی نسرین سہی کہہ رھی ھے یاسر تو صبح سات بجے ھی گھر سے نکل جاتا ھے ۔
    اس وقت تو ہم سوے ھوں گے ۔۔۔
    عظمی میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    نہ بابا مجھے تو ڈر لگتا ھے اس ٹائم ۔۔
    تو نسرین بولی ہر ویلے ڈردی ریا کر ۔
    تو عظمی غصے سے بولی ۔
    توں چلی جا ایڈی بہادر ایں تے ۔۔
    نازی دونوں کو جھگڑتے دیکھ کر بولی او ھو اس میں لڑنے کی کیا بات ھے یار ۔
    بھائی ہیں نہ بھائی جا کر لے آتے ہیں ۔۔۔
    میں نے چونک کر نازی کی طرف دیکھا ۔
    اور اسکو گھورتے ھوے اسکی نقل اتارتے ھوے بولا ۔۔
    بھائی لے آتے ہیں جیسے بھائی نے نمبر والی پرچی اپنے ہاتھ سے رکھی ھے ۔۔
    پاگل تے نئی توں ۔۔۔۔۔۔
    نازی منہ بسورتے ھوے چپ کرگئی تو ۔
    نسرین بڑے کانفیڈینس کے ساتھ چارپائی سے ٹانگیں نیچے اتار کر بیٹھتے ھوے بولی چلو یاسر میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں یہ تو نری ڈرپوکن ہے ۔
    عظمی بولی ایڈی توں بہادر ایں تے فیر یاسر نوں نال لے کے کیوں چلی ایں ۔کلی جا کہ وکھا ویکھنی آں توں کنی کہ سورماں ایں ۔۔۔
    نسرین جب جھٹکے سے ٹانگوں کو ہوا میں اچھال کر دونوں ٹانگوں کو جوڑے چارپائی سے نیچے لے کر گئی تھی تو ۔
    اسکی شلوار میں پھنسے اسکے گول متول پٹ اور نیچے سے پھدی والی جگہ مجھے صاف نظر آئی ۔
    میں تو پھدی کی تلاش میں پہلے ھی خوار ھوا بیٹھا تھا ۔
    تو نسرین کی شلوار میں چھپی پھدی بھی مجھے ننگی نظر آئی اور جب وہ ٹانگوں کو نیچے لٹکا کر بیٹھی تو اس کے چھلکتے مموں نے میرے لن کو انگڑائی لینے پر مجبور کردیا۔۔
    نسرین بولی لاو دو گھر کی چابی ۔
    نسرین نے سرہانے کے نیچے ھاتھ ڈالا اور چابیاں نکال کر نسرین کی طرف پھینکی نسرین نے ہوا میں ھی چابیاں کیچ کرلی ۔
    اور جلدی سے چپل پہنتے ھوے شفون کے دوپٹے کو سر پر لے کر مموں پر پھیلایا جس سے نسرین کے ممے مذید سیکسی لگنے لگ گئے اور کھڑی ہوتے ہوے چابیوں میں ڈالی ڈوری کو انگلی میں گھماتی ھوئی میری طرف دیکھ کر مسکراتے ھوں آنکھ سے اشارا کرتے ھوے بولی ۔
    چلو یاسر میں تمہیں نمبر لا کر دیتی ھوں ۔۔۔
    میں نے اسکی طرف دیکھا تو میری آنکھوں کے سامنے پھر وہ ھی سین آگیا ۔۔
    یاسر میں نے خود کشی کر لینی ھے ۔۔۔۔۔
    میں نے وہیں بیٹھے نفی میں سر ہلایا اور بولا میں تیرا نوکر لگا ایں جیڑا میرے تے رعب چاڑن لگی ایں ۔۔۔
    تو عظمی کھی کھی کھی کر کے ہنسنے لگ گئی ۔۔۔
    نسرین نے اپنی بےعزتی ھوتے دیکھا تو عظمی کی طرف گھورتے ھوے بولی ۔
    ویکھ کیویں کھوتے وانگوں کھی کھی کھی کرن دئی اے ۔۔۔
    نسرین پھر میری طرف دیکھتے ھوے بولی یاسر چلو اٹھو نہیں تو میں اکیلی جارھی ھوں ۔۔۔۔
    میں نے کہا ۔
    جا دفعہ ھو چلی جا میرے تے احسان کرنا اے ۔۔۔
    چل شاباش نکل ۔۔۔۔
    نسرین نے مجھے گھور کر دیکھا اور بولی میں نے چلی بھی جانا ھے میں ڈرتی ورتی نہیں ھوں ۔۔۔
    میں نے انگلی کے اشارے سے کہا ۔
    نکلو ادھر سے پھر کھڑی کیا کررھی ھو ۔۔۔
    نسرین نے ہووووں کیا اور چابی کو گھماتی باہر نکل گئی ۔۔۔
    تو عظمی نے پیچھے سے آواز دی کی
    پرچی کا تو سن لو کہ کہاں پڑی ھے نسرین بغیر پیچھے دیکھے بولی میں آپے لب لواں گی تو بے جا ایڈی آئی۔۔۔
    میں وہیں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا رھا ۔۔۔
    اندر سے دل میں بھی کر رھا تھا کہ آج اسکی گرمی نکال ھی دوں مگر نہ جانے کیوں میرا جسم میرے دل کا ساتھ نہیں دے رھا تھا ۔۔۔
    نسرین کے جانے کے بعد نازی مجھے گھورتے ھوے بولی ۔
    یاسر ویسے ھو بڑے بتمیز کیسے بیچاری کی بےعزتی کردی ۔
    میں نے کہا اس کی میں نے منت کی تھی کہ مجھے کام کہے میں اس نواب ذادی کا نوکر نہیں لگا۔۔
    نازی بولی یاسر جاو اس کے پیچھے بیچاری اکیلی اتنی رات کو گئی ھے
    میں نے کہا مجھ سے نہیں جایا جاتا ۔
    میں نے تو نہیں کہا تھا کہ وہ اکیلی جاے ۔۔
    نازی مجھے پیار سے پچکارتے ھوے بولی جا میرا ویر نئی جا شاباش او کلی گئی اے بار ہنیرا وی ایناں اے ڈر جاوے گی ۔۔۔
    عظمی بھی بولی یاسر جاو اسکے پیچھے وہ تو پاگل ھے تم تو سمجھدار ھو ۔۔۔
    میں منہ بسورتا ھوا اور منہ میں بُڑ بُڑ کرتا ھوا کرسی سے اٹھا تو نازی بولی بھائی باہر کے دروازے کی باہر سے کنڈی لگاتے جانا میں نے نازی کی بات سنی ان سنی کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے نکل کر صحن میں آیا اور چلتا ھوا بیرونی دروازے کے پاس پہنچا تو نسرین ابھی تک دروازے پر ھی کھڑی تھی ۔
    میں نے اسے دیکھ کر کہا ۔
    ہن گئی نئی اندروں تے بڑی شوخی نال نکلی سی ۔۔۔
    نسرین مسکراتے ھوے چابیوں کو انگلیوں میں مروڑتے ھوے مجھے کندھا مارتے ھوے بولی ۔
    مجھے پتہ تھا کہ تم میرے پیچھے لازمی آو گے ۔۔
    میں نے دروازہ کھولتے ھوے ۔
    کہا او ہیلووووو
    کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔۔
    میں صرف عظمی کے کہنے پر آیا ھوں ۔۔
    اور ساتھ ھی ہم اگے پیچھے گلی میں نکل آے ۔۔
    میں نے اپنے گھر کے دروازے کی باہر سے کنڈی چڑھائی ۔۔
    اور ہم چلتے ھوے جب بیٹھک کے دروازے کے قریب پہنچا تو پتہ نہیں کیا سوچ کر میں نے بیٹھک کے دروازے کی بھی باہر سے کنڈی لگا دی اور بھاگ کر نسرین کے ساتھ جا ملا ۔
    نسرین بولی بیٹھک کے دروازے پر کیا کرنے گئے تھے میں نے کہا دروازہ دیکھنے گیا تھا کہ کھلا تو نہیں ۔۔۔
    اور پھر نسرین بولی ۔
    دیکھ لو آ ھی گئے ھو نہ ۔۔۔
    میں نے پھر اسکو چڑاتے ھوے کہا میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ھے کہ میں عظمی کے کہنے پر ایا ہوں ۔۔۔
    نسرین جنجھلاتے ھوے بولی افففففف یہ کیا بار بار عظمی عظمی لگا رکھی ھے ۔
    بہت اچھی لگتی ھے تمہیں عظمی ۔۔۔
    اتنی دیر میں ہم. انکے گھر کے دروازے کے پاس پہنچ چکے تھے ۔۔
    میں نے نسرین سے چابیاں پکڑتے ھوے کہا ۔
    ھاں بلکل اچھی لگتی ھے ۔
    اور ساتھ ھی میں تالا کھولنے لگ گیا۔
    نسرین دونوں بازوں سینے پر باندھ کر ہاتھ بغلوں میں دیے کھڑی بولی وجہ جان سکتی ھوں کہ کیوں اچھی لگتی ھے ۔۔
    میں نے دروازے کی کنڈی کھولی اور دروازہ کھولتے اندر داخل ھوا تو نسرین بھی اندر داخل ھوئی ۔
    تو میں نے دروازہ بند کرتے ھوے کہا ۔
    کہ وجہ یہ ھے کہ وہ تمہاری طرح نخرے نہیں کرتی ۔
    نسرین بولی میں نے کیا نخرہ دیکھایا ھے ۔
    میں نے نسرین کے باوز پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تو نسرین جھٹکے سے مجھ سے الگ ھوئی ۔اور بولی کیا کررھے ھو ۔۔۔
    تو میں نے ہنستے ھوے کہا یہ والا نخرہ ۔۔۔۔
    نسرین سر نیچے کرکے اپنے پیروں کو دیکھتے ھوے بولی اسکا مطلب ھے کہ تم اور عظمی یہ سب کرتے ھو۔۔۔
    میں نے اپنے دونوں کانوًں کو پکڑتے ھوے کہا ۔
    توبہ توبہ توبہ میری توبہ ۔
    ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے یہ بات سوچتے ھوے ۔۔
    کہ میں اور عظمی اففففففففف توبہ توبہ ۔۔
    نسرین میری طرف دیکھ کر بولی تو پھر تم نے یہ کیوں کہا کہ عظمی ایسے نخرے نہیں کرتی اسکا تو صاف مطلب ھے کہ تم اسکے ساتھ بھی یہ سب کرتے ھو اور وہ تمہیں روکتی نہیں ھے ۔۔
    میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بولا جا اااا نی کملی روح ۔۔۔
    میں تو یہ کہہ رھا تھا کہ وہ کیسے اسد کے ساتھ سب کچھ بڑے پیار سے کررھی تھی اور تم ایسے نخرے دیکھاتی ھو ۔۔


    نسرین بولی وہ تو بے حیاء بےغیرت ھے جو غیر مرد کے ساتھ سب کچھ کتنی بےشرمی سے کررھی تھی ۔
    اور تم مجھے اس جیسا بنانا چاہتے ھو ۔۔
    میں نے کہا یار ایک تو تم. ہر بات کو الٹ لے لیتی ھو پڑھی لکھی جاہل ھو چلو کھولو کمرے کا دروازہ اور لو وہ کیا لینے آئی تھی ہاں وہ نمبر والی پرچی ۔۔
    نسرین. چپ کر کے کمرے کی طرف چل دی اور پھر کمرے کا تالا کھول کر دروازہ کھولا اور اندر چلی گئی ۔۔۔

    2
    میں باہر ھی کھڑا ہوگیا ۔
    نسرین نے اندر داخل ہوتے ھی مڑ کر میری طرف دیکھا اور بولی اندر آجاو باہر کیوں کھڑے ھوگئے ھو۔
    میں نے کہا ۔۔
    تم جلدی سے پرچی لو اور نکلنے کی کرو۔۔
    نسرین میری بات سن کر باہر نکلی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچتے ھوے اندر لے گئی ۔
    کمرے میں داخل ہوتے ھی نسرین نے میراھاتھ چھوڑا اور بولی ۔
    ایک تو تم نخرے بہت کرتے ھو اور کہتے مجھے ھو۔
    میں نے کہا ۔
    میں نے کیا نخرے دیکھانے ہیں ۔
    اپنی بات کرو ۔۔
    نسرین بولی میں ایسے ھی سہی ھوں مجھے عظمی جیسی بےشرم بننے کا شوق نہیں جو غیر مردوں کو جپھیاں ڈالے ۔۔
    میں. نے منہ بسورتے ھوے کہا ۔
    اس کا مطلب ھوا کہ میں تمہارے لیے غیر ھوں ۔۔
    نسرین ماتھے پر ھاتھ مار کر بولی ۔
    اوووو ھو بُدھو میں اسد کی بات کررھی ھوں ۔۔
    میں نے کہا۔
    تو پھر مجھے نخرے کیوں دیکھا رھی ھو ۔
    اب کیا میں اسد سے بھی گیا گزرہ ہوں ۔۔
    نسرین نے جلدی سے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور بڑے لاڈ سے سر کو کندھے کی طرف جھکا کر بولی ۔
    نہیں یاسر ایسی بات نہیں ھے اصل میں مجھے ڈر لگتا ھے کہیں بدنامی نہ ھوجاے ۔
    میں نے نخرہ دیکھاتے ھوے کہا۔۔
    شرم تو نہیں آتی تمہیں کیا تم مجھے ایسا سمجھتی ھو کہ میں تمہیں بدنام کروًں گا ۔۔۔
    نسرین نے ایک ہاتھ میں میرا ھاتھ پکڑا اور دوسرا ھاتھ میری گال پر پھیرتے ھوے بولی ۔
    نہیں یاسر میں نے ایسا تو نہیں کہا۔
    میں تو یہ کہہ رھی تھی کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کتنی بدنامی ھوگی ۔۔
    میری گال پر نسرین کے ہاتھ کے لمس نے میرے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا۔۔۔
    اور میں نے ایک ہاتھ نسرین کی کمر میں ڈالا اور ہاتھ کو کمر پر رکھ کر نسرین کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔
    نسرین کے ممے میرے ساتھ چپک گئے اور میرا لن اسکی ناف کے ساتھ لگ گیا۔۔۔
    میرے ساتھ لگتے ھی نسرین کا جسم ہلکے سے کانپنے لگ گیا۔
    میں نے نسرین کے ھاتھ سے اپنا دوسرا ہاتھ چھڑوایا اور اسکی ماتھے پر ہتھیلی رکھ کر ہاتھ کو سرکاتے ھوے اسکے سر پر لیجا کر اسکا دوپٹہ سر سے اتار کر پیچھے کر دیا نسرین. نے کانپتی آواز میں کچھ کہنا چاھا مگر اس سے پہلے کے اسکے منہ سے کوئی بات نکلتی میں نے جلدی سے
    اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے اور اسکا اوپر والا ہونٹ منہ میں لے کر چوستے ھوے اسکی کمر کو سہلانا شروع کردیا اور ساتھ ساتھ اسکی کمر کو اپنی طرف دباتے ھوے لن اس کے پیٹ کے ساتھ رگڑنے لگ گیا ۔۔۔
    نسرین نے کچھ دیر احتجاج کیا اور میرے بازوں میں کسمکسائی مگر جلد ھی سب کچھ بھول کر کسنگ میں میرا برابر ساتھ دیتے ھوے ایڑھیاں اٹھا کر اپنی پھدی کو لن کے قریب کرتی مگر اسکا قد مجھ سے چھوٹا تھا اسلیے اسکی پھدی میرے لنڈ تک رسائی حاصل نہ کر پائی ۔
    آخر اس کی آسانی کے لیے مجھے ھی تھوڑا نیچے جھکنا پڑا اور ٹراوز میں لن کے تمبو کو نسرین کے چڈوں کے درمیان پہنچا دیا اور پھدی کے اوپر مسلنے لگ گیا ۔
    لن پھدی کے ساتھ لگتے ھی نسرین کا جوش بھی بڑھ گیا ۔۔
    مگر میں اب پہلے والی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
    کہ یہ سالی جلدی سے فارغ ھوجاے اور پھر اسکی ٹون بدل جانی تھی ۔
    نسرین کی سانسیں جیسے ھی تیز ھوئیں میں نے لن کے تمبو کو پھدی سے ہٹا لیا اور اوپر ھوکر لن پہلے کی طرح اسکے پیٹ پر لگا دیا ۔
    لن کیا پھدی سے ہٹا نسرین کی جان پر بن گئی وہ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر پھدی کو لن تک پہنچانے کی کوشش کرتی ۔پر نہ ااااااااا
    غلطی ایک دفعہ ھی ھوتی ھے ۔۔۔
    میں نے اس ترسنے دیا اور کچھ دیر بعد میں نے نسرین کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹاے اور آگے سے اسکی قمیض پکڑ کر اوپر کر دی اور اسکے ممے قمیض کی قید سے آزاد کردیے ۔
    اور چند لمحوں میں ھی نسرین کے ممے بریزیر کی قید سے بھی آزاد تھے ۔
    اب نسرین کی قمیض اور اسکا بریزیر اسکے بڑے بڑے مموں کے اوپر اٹکے ھوے تھے ۔
    اور اسکے ننگے گول مٹول چٹے سفید ممے میرے سامنے مست ہاتھی کی طرح جھوم رھے تھے اور ننگے کنوارے مموں کو دیکھ کر میرا لنڈ میرے ٹراوزر کو پھاڑنے پر تُلا ھوا تھا ۔
    نسرین نے قمیض اوپر کرنے پر کافی احتجاج کیا نہی نہی نہی نک کرو کوئی دیکھ لے گا مگر اسکی نہیں نہیں میں میرا شوق بڑھتا گیا اور پھر نسرین ننگے ممے لیے میرے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔

    میں نے نسرین کے مموں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسکی براون ٹکی میں براون تنے ھوے نپلوں کو انگوٹھے سے مسلتے ھوے مموں پر مساج کرنے لگ گیا ۔
    نسرین جب اس نئے مزے سے آشنا ھوئی تو سب کچھ بھول گئی اور چھت کی طرف منہ کر کے آہہہہہہہہہہہ سیییییییی
    ہولی ییییییییی کرتے ھوے چڈوں کو آپس میں بھینچنے لگ گئی ۔۔۔
    کچھ دیر مموں کے مساج کے بعد میں نے ہونٹ مموں پر رکھے تو نسرین کے منہ سے ایک ذوردار سسسکاری نکلی اور ساتھ ھی اس نے میرے سر کے بالوں کو پکڑ کر میراسر مموں پر دبانے لگ گئی ۔۔
    اور میں گرین سگنل ملتے ھی مموں پر ٹوٹ پڑا ۔
    اور مزے لے لے کر دُودُو چوسنے لگ گیا۔۔۔
    کچھ دیر مموں پر تسلی
    کی مگر میں نے نسرین کی پھدی کو چھیڑا نہیں ۔
    اور اسے مذید تڑپنے اور سسکنے دیا ۔
    اگر نسرین کی پھدی کا بن ٹوٹ جاتا تو میری ساری محنت پر پانی پھر جانا تھا ۔۔۔
    نسرین نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح میں اسکی پھدی کو مسلوں مگر میں ہاتھ پھدی کی طرف لے کر ھی نہیں جارھا تھا ۔
    بلکہ جب بھی نسرین میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتی میں ھاتھ کو کبھی اسکی گانڈ پر لے جاتا تو کبھی اسکی کمر پر تو کبھی اسکے بالوں کو سہلانے لگ جاتا ۔۔
    کچھ دیر مموں پر تسلی کرنے کے بعد میں نے نسرین کو جپھی ڈالی اور اسکو پیچھے کی طرف دھکیلتا ھوا چارپائی پر لے گیا ۔۔۔۔
    چارپائی کے ساتھ نسرین کی ٹانگیں لگیں تو میں نے اسکو ہلکا سے پیچھے کی طرف پُش کیا تو نسرین مجھ سے لپٹی ھی پیچھے کی طرف چارپائی پر لیٹتی چلی گئی اور میں اسکے ااوپر ھی اسکے ساتھ جھکتا گیا۔
    اب ہم دونوں کی ٹانگیں نیچے اور اوپر والے دھڑ چارپائی کے اوپر تھے ۔
    نسرین کی کمر چارپائی پر لگتےھی میں جلدی سے اسے کے اوپر سے اٹھا اور اسکے بازوں کو پکڑ کر اسکو کھینچ کر چارپائی پر سیدھا کیا اور ساتھ ھی اسکی ٹانگیں اٹھا کر چارپائی پر کیں اسکی چپل خود ھی اتر کر نیچے گرگئی ۔۔
    نسرین اب چارپائی پر سر تکیہ پر رکھے بلکل سیدھی لیٹی ھوئی تھی. میں نسرین کو سیدھا لیٹانے کے بعد چارپائی پر چڑھا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھتے ھوے اسکے مموں سے قمیض اوپر کرنے لگ گیا جو دوبارہ مموں ہرآگئی تھی ۔۔
    نسرین منہ سے کچھ نہیں بول رھی تھی بس ھاتھوں سے مجھے منع کر رھی تھی وہ بھی لاڈیاں کرتے ھوے ۔۔
    میں نے ممے ننگے کیے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ھی نسرین کے ننگے مموں کو مٹھیوں میں بھر کر دبانے لگ گیا اور نسرین بھی سیییییییی آہہہہہہہہہہ کرتے ھوے سر پیچھے کی جانب لیجانے لگی ۔۔۔
    مموں کے مساج کے بعد میں نے ہاتھ سلو موشن میں نسرین کے پیٹ کی جانب لیجانے شروع کردیے ۔
    نسرین کی سانسیں تیز تیز چل رھیں تھی جس سے اس کے ممے اوپر نیچے ھورھے تھے ۔
    اورمیری انگلییاں اسکے نرم نرم پیٹ پر ہل چلاتی ھوئیں اسکی شلوار کی جانب بڑھ رہیں تھی ۔۔۔
    کچھ ھی دیر میں میرے ھاتھ کی انگلیاں۔۔
    نسرین کی لاسٹک پر آکر رکیں اور پھر انگلیوں نے لاسٹک کو پکڑا اور نیچے کھینچنے ھی لگیں تھی کہ نسرین نے جلدی سے شلوار کو پکڑ لیا اور ۔
    نخرے سے ھووووں کرتے ھوے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
    میں نے اسکی طرف گھور کر دیکھا تو اس نے مسکراتے ھوے شلوار کو چھوڑ دیا ۔
    اجازت نامہ ملتے ھی میں نے شلوار نیچے کی طرف کھینچی تو شلوار پھدی سے تو نیچے ھوگئی مگر گانڈ میں اٹک گئی مین نے انگلیوں کو گانڈ پر دبا کر نسرین کو گانڈ اوپر کرنے کا کہا تو نسرین نے پھر منہ بسور کر ھووووووووں کیا اور گانڈ اوپر اٹھا لی تو میں نے شلوار کھینچ کر اسکے گھٹنوں تک لیجا کر پھر اسکے پاوں سے نکال کر ایک طرف پھینک دی ۔۔۔
    افففففففف گولڈن کلر کے سوفٹ سلکی بالوں میں چُھپی ھوئی نسرین کی ننھی سی پھدی اور پھدی کے اوپر گولڈن سلکی بالوں پر چمکتے پھدی سے نکلنے والے پانی کے قطرے گوری رانیں ۔
    ہلکا سا، ابھرا پیٹ افففففف کیا سیکسی نظارا تھا ۔۔
    نسرین نے مجھے یوں ندیدوں کی طرح پھدی کو تاڑتے دیکھا تو جلدی سے پھدی پر دونوں ہاتھ رکھ لیے اور ہنستے ھوے بولی ۔
    بے شرم ۔۔۔
    شرم نہیں آتی ۔۔
    میں نے نسرین کا ہاتھ پھدی سے اٹھاتے ھوے کہا۔۔
    پہلی دفعہ پھدی دیکھ رھا ھوں اور وہ بھی اتنی سیکسی اففففففف دیکھنے دو یار دیکھنے سے کون سا اسکو نظر لگ جانی ھے یا پھر اسکا کچھ اتر جانا ھے ۔۔۔
    نسرین بولی نہ کرو یاسررر مجھے شرم آرھی ھے ۔۔۔
    میں نے کہا شرم آرھی ھے تو آنکھیں بند کرلو ۔۔
    نسرین سر ہلاتے ھوے بولی ھاااااں تا کہ تم گندا کام کرنے لگ جاو۔۔۔۔
    میں نے کہا یار یہ گندا کام نہیں ھے سب لڑکے لڑکیاں کرتے ہیں اور ساتھ ھی میں نے ٹراوزر کی ڈوری کھول کر تروزر کو نیچے کھسکا کر لن جو کب سے باہر نکلنے کے لیے بےچین تھا اسکو ٹراوزر سے نکال دیا ۔
    لن جھٹکے سے باھر نکلا اور پھدی کی طرف دیکھ کر اپنی اکلوتی آنکھ پوری کھول لی ۔۔۔
    نسرین نے ابھی تک میرا لن نہیں دیکھا تھا اور میں اسے دیکھانا بھی نہیں چاھتا تھا ۔نسرین کی نظریں چھت پر تھیں اور میں نے جلدی سے لن پر تھوک لگایا اور لن کو پکڑ کرٹوپے کو پھدی کے لبوں میں پھیرنے لگ گیا ۔
    نسرین اس نئے مزے کو محسوس کرتے ھی سسک پڑی اور آہہہہہہہہ سییییییییییی کرتے ھوے آنکھیں بند کر کے لن کا پھدی پر مساج انجواے کرنے لگ گئی۔۔۔
    بیچاری کو اگلے مرحلے کا اندازہ ھی نہیں تھا جس میں اسکی چیخ اور سیل ٹوٹنے کے بعد خون نکلنا تھا ۔۔۔
    میں لن کو پھدی کے لبوں میں پھیرتے ھوے ادھر ادھر دیکھ کر کوئی کپڑا تلاش کررھا تھا ۔
    کیوں کے چارپائی پر بچھی چادر خراب ھوجانی تھی ۔
    اچانک میری نظر پلاسٹک کی شیٹ پر پڑی جسکو یہ لوگ دستر خوان کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔
    میں جلدی سے چھلانگ مار کر چار پائی سے نیچے اترا اور برتنوں کی الماری میں رکھی شیٹ کو پکڑا اور واپس چارپائی پر آ کر اسی پوزیشن میں بیٹھ گیا ۔۔
    نسرین نے اآنکھیں کھول کر جیسے ھی مجھے شیٹ پکڑتے دیکھا تو حیرانگی سے بولی ۔۔۔۔
    اسے کیا کرنا ھے ۔
    میں نےکہا کچھ نہیں بس چپ کر کے لیٹی رھو ۔۔۔
    اور ساتھ ھی میں نے شیٹ کھولی جو کافی بڑی تھی اور نسرین کی ٹانگیں ایسے اوپر کیں جیسے بچے کو پیمپر لگاتے ہیں اور نسرین کو گانڈ اوپر کرنے کا کہا اور شیٹ اچھے طریقے سے نیچے بچھا دی ۔۔
    نسرین کہتی رھی کہ یہ کیوں بچھا رھے ھو میں نے اسے چپ ہونے کاا ھی کہتا رھا ۔۔
    اور پھر لن کو پکڑ کر ٹوپے کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگ گیا۔۔
    نسرین جلد ھی واپس مزے کیطرف آگئی اور آنکھیں موند کر مزے لینے لگ گئی ۔۔۔
    میں نے لن کے ٹوپے کو اچھی طرح گیلا کیا اور پھر لن پر تھوک پھنک کر لن کو بھی اچھی طرح گیلا کیا ۔۔۔
    اور پھدی میں ٹوپے کو اڈجسٹ کر کے نسرین کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔
    اور اسکے ہونٹ چوسنے لگ گیا ۔۔
    نسرین بھی گانڈ اٹھانے کی کوشش کر کے پھدی کو لن کے ساتھ رگڑنے کی کوشش کررھی تھی ۔
    اور اسی دوران میں نے ہلکا سا جھٹکا ماراتو ٹوپا پھدی مین اتر گیا ۔۔۔
    نسرین کے منہ سے آہہہہہ نکلا
    اور میں نے دوسرا. گھسا مارا تو لن کا تھوڑا سا حصہ پھدی کے اندر گیا تو نسرین کے منہ سے آئیییییییییییییی نکلا اور اس نے میرے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔
    اور بولی اویییییییییی یاسررررر درد ھورھا ھے۔۔۔
    میں نے اسکے ہونٹوں کو چوما اور اسکا اوپر والا ہونٹ منہ میں ڈال کر چوسنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ نسرین کی پھدی میں ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگ گیا تھوڑے سے لن کے گھسے سے بھی نسرین ممممممم کرتی ھوئی ہاتھوں کے اشارے سے مجھے روک رھی تھی یا آہستہ کرنے کا کہ رھی تھی ۔۔
    کچھ دیر میں ھی نسرین کو مزہ آنے لگ گیا اورمزے کی سسکاری اسے مہنگی پڑی ۔
    میں نے لن کو ٹوپے تک پیچھے کیا اور نسرین کو اچھی طرح بازوں میں جکڑا اور اسکے ہونٹوں پر اس انداز سے ہونٹ رکھے کہ اسکی آواز نہ نکلے اور پھر ایک جھٹکا مارکر لن آدھے سے ذیادہ پھدی کے اندر اتار دیا ۔
    مجھے ایسے لگا جیسے لن کسی شے کو پھاڑ کر اندر گھسا ھے اور اندر آگ کی گرم بھٹی ھے ۔
    لن جیسے ھی اندر گیا تو نسرین نے بڑے زور سے پھدی کو بھینچا اور ممممممممم پھپھپھہ بببببببب ابببببب کی آوزوں کے ساتھ ٹانگیں چلاتے ھوے میری کندھوں کو بہت ذور سے پکڑ لیا ۔۔۔
    میں کچھ دیر رکا اور نسرین کے منہ سے اپنا منہ نہیں ہٹایا نسرین نے بڑی کوشش کی مگر اسکی ایک نہ چلی ۔۔۔
    میں نے اسکے اوپر والے ہونٹ کو اچھے سے اپنے منہ کی گرفت میں کیا ھوا تھا۔
    نسرین کی پھدی سے گرم گرم چیز بہہ رھی تھی جسکا احساس مجھے لن کی رگوں سے ھو رھا تھا۔۔
    میں نے چند لمحوں کے بعد ھی ل. تھوڑا سا پیچھے کھینچا اور پھر ایک ھی ذوررررررد دار دھکے سے لن نسرین کی بچے دانی میں ڈال دیا ۔
    لن پورا پھدی کی گہرائی میں اترتا ھو نسرین کی بچے دانی میں گھس گیا تھا ۔۔۔
    نسرین کٹے ھوے بکرے کی طرح میرے نیچے تڑپ رھی تھی ۔
    میرے کندھوں پر تھپڑوں کی بارش میرے سر کے بال نوچ رھی تھی ۔
    ممممممممممممممم بھببببببببببب کی آوازیں میرے منہ کے اندر ھی گم ھورھیں تھی ۔۔۔
    میں ل. کو پھدی کی گہرائہی میں اتار کر ویسے ھی اسکو اپنی گرفت میں لیے نسرین کے اوپر لیٹا ھوا تھا ۔۔۔۔نسرین پانچ منٹ تک تڑپتی رہی اسکی آنکھیں آنسوں سے بھیگ گئی۔۔
    میں بے جان ہوکر اسکے اوپر لیٹا نہ ہل رھا تھا نہ ھی اسکی جان چھوڑ رھا تھا۔۔۔
    نسرین کافی دیر میرے نیچے سے نکلنے اور مجھے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی رھی مگر ۔
    میں نے اسے مکمل طور پر اپنے احصار میں لیا ھوا تھا ۔
    بلاخره نسرین کا جسم ٹھنڈا برف ھونا شروع ھوا اور اسکی حالت نیم مردہ ھوگئی اور نسرین نے ہلنا جلنا بند کردیا اور بس سسکتے ھوے ہچکیاں لینے لگ گئی ۔
    میں نے بھی ہونٹ اسکے ہونٹوں سے ہٹاے اور
    نسرین کے نارمل ھوتے ھی میں نے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دینا شروع کردی ۔
    نسرین آہہہہ آہ آہ ھاےےےےےے کرنے لگ گئی مگر نسرین نہ میری طرف دیکھ رھی تھی نہ ھی مجھے کچھ کہہ رھی تھی ۔
    میں نے آہستہ آہستہ گھسوں کی رفتار تیز کرنا شروع کردی ۔
    نسرین ہونٹوں کو بھینچ کر درد برداشت کررھی تھی ۔
    اور ساتھ میں آہہ آہ آہ آہ اوئی اوئی ییییییییی ھاے ماں میریے ھاے ماں ھاے امی ھاےےےےےے کری جارھی تھی ۔
    میں گھسے مارتا مارتا نسرین کے اوپر سے اٹھتا جارھا تھا اور گھسوں سے اب نسرین کے ہلتے ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے نسرین کی پھدی میں کافی پھسلن تھی مگر اسکی ٹائٹ پھدی کی وجہ سے لن پھنستے ھوے ھی اندر باہر ھورھا تھا ۔۔
    کچھ دیر بعد ھی نسرین کی آواز بدلنا شروع ھوگئی اور وہ آہستہ آہستہ گاند کو اٹھاتے ھوے لن پورا اندر لینے میں مشغول ھوگئی۔۔۔
    اور اسکی آہیں اب سسکاریوں میں بدلنے لگ گئیں تھیں ۔۔۔
    نسرین کی انکھیں فل نشیلی ھوتی جارہیں تھی اور اسکے ہلتے ممے مجھے پاگل کررھے تھے ۔
    میں بھی اسکی ٹانگوں کو اٹھاے اندر تک سٹ مار رھا تھا ۔
    نسرین کی پھدی آہستہ آہستہ سکڑنا شروع ھوگئی اسکا جسم فل گرم ھوکر اکڑنے لگا اور ساتھ ھی نسرین کے منہ سے چیخ نکلی اور ھاےےےےےےے امممممممممممممممممم گگگگگگگگ کرتے نسرین نے پھدی کو فل ٹائٹ کرتے ھوے دونوں ھاتھوں سے تکیہ کو مضبوطی سے پکڑ کر زوردار انگڑائی لی اور ساتھ ھی پہلی چدائی کی اسکی پھدی سے پہلی منی میرے لن کو نصیب ھوئی اور نسرین کا جسم تیز سے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ بے جان ھوا اور نسرین نے لمبا سانس کھیمچ کر چھوڑا اور آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور ساتھ ھی منہ پھیر کر آنکھ بند کرلیں ۔۔۔
    میں نے بھی اب رکنا مناسب نہ سمجھا اور چند تیز تیز گھسے اور نسرین کی آہوں سسکاریوں کے بعد آخری مزے سے بھرپور جاندار گھسا مارا اور جلدی سے لن پھدی سے نکال کر
    توپ کا منہ نسرین کے مموں کی طرف کردیا ۔اور پھر لن سے فائرنگ شروع ھوگئی جو نسرین کی ٹھوڑی مممے پیٹ کو زخمی کرتے ھوے اسکی پھدی پر اختتتام ھوئی ۔۔۔۔
    ھاےےءءےےےےءءےءےےےےےےےےے
    اور پھر دوستو
    وہ ھی ھوا جسکا مجھے ڈر تھا
    ۔
    کہ
    آخر کار
    نسرین بھی چُد ھی گئی ۔۔۔۔۔

    The end.



    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  15. The Following 17 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-01-2019), abkhan_70 (07-01-2019), aloneboy86 (10-01-2019), hananehsan (07-01-2019), love 1 (08-01-2019), Lovelymale (09-01-2019), MamonaKhan (08-01-2019), mentor (07-01-2019), Mian ji (08-01-2019), Mirza09518 (08-01-2019), omar69in (27-01-2019), sajjad334 (07-01-2019), Story Maker (07-01-2019), StoryTeller (20-02-2019), suhail502 (08-01-2019), waqastariqpk (07-01-2019), windstorm (08-01-2019)

  16. #559
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    80
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Wah Shekhooooooooooooooooooooo g ...........Bohat Aaala kia story likhi hai, magar yeh >>>>>>>>>>>>>>
    The end...... ki samajh nain aai kia story khatam ho gai hai?

  17. The Following User Says Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    Xhekhoo (07-01-2019)

  18. #560
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    10
    Thanks Thanks Given 
    2
    Thanks Thanks Received 
    13
    Thanked in
    9 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Shekho g bhut aala update lekin the end ka matlab samjh nai aaya

  19. The Following User Says Thank You to Sk123 For This Useful Post:

    Xhekhoo (07-01-2019)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •