جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 45 of 85 FirstFirst ... 3541424344454647484955 ... LastLast
Results 441 to 450 of 844

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #441
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    17
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    اپدیٹ کا مزہ نہیں آیا اس مرتبہ

  2. The Following User Says Thank You to Abdali For This Useful Post:

    abba (26-12-2018)

  3. #442
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    797
    Thanks Thanks Given 
    144
    Thanks Thanks Received 
    984
    Thanked in
    546 Posts
    Rep Power
    89

    Default

    Quote Originally Posted by Xhekhoo View Post
    Thanks jani for appreciate
    Mery story likhny me Aap kee bohat barri help hai
    Sahi bataawn to aap kee wajha se hee mujhy story likhny ka moka mila
    Warna to main awen khujal kharaab hee ho raha tha.
    But so thanksssss my brother

    جی شیخ صاحب
    اگر لکھنے کے لیے وقت میسر ہو اور تنقیدی کمنٹس پڑھ کر پھر بھی کہانی آگے بڑھانے کا حوصلہ ہو تو کوئی بھی فرد بہتر لکھ سکتا ہے
    بعدازاں لکھتے لکھتے بہتر سے بہترین تحریر ہو جاتی ہے۔
    امید کرتا ہوں کہ آپ میری بات سمجھ چکے ہوں گے

  4. The Following 2 Users Say Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    abkhan_70 (26-12-2018), Xhekhoo (27-12-2018)

  5. #443
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    81
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Xhekhoooooo g kithay reh gay ho, hunn tay keyboard te refresh(f5) v kam nain kar riya.......

  6. The Following User Says Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-12-2018)

  7. #444
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    136
    Thanks Thanks Given 
    466
    Thanks Thanks Received 
    93
    Thanked in
    50 Posts
    Rep Power
    35

    Default

    Boht zabardast update. Hamara hero itna bhola hai keh mehbooba bhooki bethi hai aur khud khana kha ke ghar aya hai. Chalain ahista ahista adaab-e-mohabbat bhi seekh hi jaye ga.

  8. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-12-2018)

  9. #445
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    17
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    24
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    13

    Default


  10. The Following User Says Thank You to Abdali For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-12-2018)

  11. #446
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    81
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Xhekhoooooooooooooooooooooooooooooo gggggggggg update?????

  12. The Following User Says Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-12-2018)

  13. #447
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,417
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 204..??


    .ضوفی کچن میں چلی گئی تھی اور مجھے اپنی غلطی کا احساس جب ھوا تو میں بھاگا ھوا ضوفی کے پیچھے کچن میں جب داخل ھوا تو ضوفی شیلف پر رکھے چولہے کے سامنے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ھوے چاے کی کیتلی چولہے پر رکھ رھی تھی ۔

    میں جب کچن میں داخل ہوا تو ضوفی نے گردن گھما کر ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ہوگئی ۔

    ضوفی کو روتا دیکھ کر میں اپنے آپ کو کوسنے لگ گیا اور چلتا ھوا ضوفی کے پیچھے پہنچا اور اسکی کمر کے گرد بازو ڈال کر ھاتھ اسکے مخمل سےنرم پیٹ پر رکھ کر تھوڑا سا جھکا اور اسکے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر بولا ۔

    میرا چھونا ناج ھو دیا اے ۔۔

    ضوفی روہانسے لہجے میں بولی تمہیں کیا لگے کسی سے ۔۔۔

    میں نے کہا میری جان میں تو مزاق کررھا تھا میں تو خود صبح سے خالی پیٹ مارکیٹ میں گھومتا رھا اور اسی خوشی میں بھوک ھی نہیں لگی کہ آج اپنی جان کے ھاتھ کا بنا ھوا کھانا کھاوں گا ۔۔

    اور تم اتنی کنجوس ھو کہ ایک دفعہ صلح مار کر جان چھڑوا کر جلدی سے کچن میں بھاگ آئی ھو ۔۔۔

    ضوفی ایکدم چونک کر گھومی اور میری طرف منہ کر کے دونوں بازوں میرے سینے پر لاکر دونوں ہاتھوں سے میرے سینے پر مکے مار کر بولی ۔

    شوخے پہلے کیوں نہیں بتایا میں صبح سے تمہارے اتنظار میں بھوکی ھوں کچھ بھی نہیں کھایا ۔

    کہ تم آو گے تو ھی تمہارے ساتھ کھانا کھاوں گی اور جناب نے آتے ھی کہہ دیا کہ کھانا کھا کر آیا ھوں ۔۔

    میں ضوفی کی کمر سے ھاتھ ہٹاے اور اسکی روئی سی گالوں کو تھام کر اسکی نم آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسکی پلکوں پر سجے شبنم کے قطروں کو اپنے ہونٹوں سے چنا اور بولا ۔

    پاگل ھو تم بھی قسمت سے تو تمہارے ھاتھ کا بنا کھانا کھانے کو موقع ملتا ھے اور میں پاگل ھوں جو اپنی جان کے ساتھ کھانا کھانے کا یہ قیمتی موقع ضائع کرتا ۔۔

    اور پھر میں نے ضوفی کے مخملی ہاتھوں کو پکڑا اور ہاتھوں کو چومتےھوے بولا

    اب جلدی سے ان پیارے سے ہاتھوں سے کھانا بناو اور اپنے ہاتھ سے کھلاو قسم سے بہت بھوک لگی ھے ۔۔

    ضوفی بولی بڑے مسکے لگانا جانتے ھو۔

    چلو جا کر نہا کر فریش ھوجاو میں ابھی کھانا لے کر آتی ھوں ۔

    میں نے ضوفی کا ہاتھ چھوڑا اور اسکے کندھوں کو پکڑ کر بڑے رومینٹک انداز سے بولا ۔

    جان فریش تو تمہیں دیکھتے ھی ھوگیا ۔قسم سے تمہارے چہرے پر نظر پڑتے ھی ساری تھکاوٹ اتر گئی تھی

    ضوفی بڑے غور سے آنکھیں جھپکاتے ھوے میری بات سن رھی تھی ۔

    میں نے بڑے سسپنس سے کہا جان میری ایک بات مانو گی ۔ضوفی جو پہلے ھی میری باتوں میں کھوئی ھوئی تھی میرے یوں سوال پرچونک کر بولی

    حکم کرو جان ۔میں نے بڑا مسکین سا منہ بنایا اور بولا

    ضوفی اگر تم مجھے

    پہلے نہانے والا تو کردو تو پھر میں نہا بھی لوں گا۔۔

    اور یہ کہہ کر میں باہر کی طرف بھاگا

    ضوفی پیر پٹختی ھوئی کھانے کا چمچہ پکڑ کر میرے پیچھے بھاگی شوخےےےےےےےےٹھہر جا ابھی کرتی ھوں تجھے نہانے والا ۔۔

    میں بھاگتا ھوا اوپر کمرے میں آگیا ضوفی بس کچن کے دروازے سے ھی واپس مڑ گئی ۔۔

    میں کمرے میں داَخل ھوا اور شرٹ اتار کر بیڈ پر ایسے پھینکی جیسے یہ کمرہ میرا اور ضوفی کا بیڈ روم ھو اور کمرے میں آکر میری فیلنگ بھی کچھ ایسی ھی ھو جاتی تھی ۔

    میں سیٹی بجاتا ھوا واش روم میں گھس گیا اور نہانے لگ گیا نہا کر فریش ھوکر پینٹ پہن کر واش روم سے باہر نکلا اور پھر شرٹ پہنی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ھوکر سیٹی بجاتے ھوے بالوں میں برش پھیرنے لگ گیا۔۔

    کہ ضوفی کے ہنسنے کی آواز آئی تو میں نے گردن گھما کر دیکھا تو ضوفی کھانے کی ٹرے پکڑے ہنستے ھوے کہہ رھی تھی ۔

    واہ واہ لگتا ھے میرے شہزادے کو لاہور کی ہوا لگ گئی ھے خیر ھے بڑے موڈ میں ھو ۔

    میں جھینپ کر سر نیچے کر کے اپنے پیروں کو دیکھنے لگ گیا ۔۔

    ضوفی میری حالت کو دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑی اور ٹرے ٹیبل پر رکھتے ھوےبولی او ہوووووو میرے چھونے کو چھماں آگیاں ہیں ۔۔

    میں نے سر اٹھایا اور مسکراتا ھوا ضوفی کی طرف چلتا ھوا آیا اور بولا ۔

    چھمیں تو اب اتارنی پڑیں گی اور ساتھ ھی میں نے پینٹ کی بیلٹ پر ہاتھ رکھا اور بیلٹ کو کھولنے لگ گیا ۔

    ضوفی ایکدم گبھرا کر میری طرف بھاگ کر آئی اور میرے ھاتھوں کو پکڑکر بولی ۔

    بس بس بس ذیادہ شوخے مت بنو ۔۔

    چلو کھانا کھا مجھے بہت بھوک لگی ھے ۔۔

    میں ہنستا ھوا صوفے کی طرف چل پڑا۔۔

    ضوفی بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی اور ہم ایک دوسرے کے منہ میں نوالے ڈالتے ھوے کھانا کھانےلگ گئے۔۔۔

    میں ساتھ ساتھ ضوفی کو مال لینے کی ڈٹیل بتاتا رھا اور جنید نے جیسے میرے ساتھ محنت کرکے مختلف جگہ سے ورائٹی اور کلر سکیم لی اسکی بھی ساری ڈٹیل بتاتا رھا ۔

    اچانک ضوفی بھولی یاسر ایک بات کہوں میں نے چونک کر ضوفی کی طرف دیکھا اوربولا ہاں جان بولو ۔

    ضوفی بولی یاسر جنید کو میرے اور تمہارے ریلیشن کاپتہ ھے ۔

    میں نےنفی میں سر ہلایا ۔

    ضوفی بولی

    یاسر پہلے کی بات اور تھی اب جنید بھائی تمہارے ساتھ ہوگا اور میں نہیں چاہتی کہ وہ ہم دونوں کی محبت اور اس رشتہ کو غلط نام دے

    اس لیے تم اسے سب بتا دو مگر یہ راز ہمیشہ اپنے دل میں چھپاے رکھنا کہ تم نے کس سے پیسے لے کر کام کیا ھے ۔

    یاسر مجھے غلط مت سمجھنا دوستی میں دراڑ پڑتے دیر نہیں لگتی میں یہ نہیں کہتی کہ جنید بھائی غلط ھے یا وہ تمہارے ساتھ مخلص نہیں مگر میں یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکوں گی کہ کوئی تمہیں یہ پیسوں کا طعنہ دے ۔

    راز وہ ھی ہوتا ھے جو اپنے دل میں ھو ایسے ہم راز دوست جب علیحدہ ھوتے ہیں تو جگہ جگہ بدنام کرتے ہیں اس لیے تم جنید کو صرف میرے اور اپنے رشتے کے بارے مین بتا دینا تاکہ وہ ہم دونوں کے بارے میں غلط راے نہ قائم کرے ۔۔

    میں نے کہا ٹھیک ھے جان تم نے بلکل سہی کہا مجھے اسکو بتا دینا چاہیے ۔

    یہ نہ ھو کہ وہ تم پر ھی لائن مارنا شروع کردے ۔۔

    ضوفی مجھے گھور کر بولی ۔

    میں اودھی بوتھی نہ پن دیواں گی جے میرے ول اکھ وی چک کے ویکھیا۔۔

    میں نے ہنستے ھوے کہا ۔۔

    مزاق کر رھا ھوں یار ۔

    جنید ایسا لڑکا نہیں ھے یاروں کا یار ھے ۔

    وہ تمہاری عزت بھابھی سمجھ کر ھی کرے گا ۔

    تم بے فکر رھو ۔

    مین اسکو اچھی طرح جانتا ھوں ۔۔

    اور میں موقع ملتے ھی اسے بتا دوں گا اس لیے اسکی طرف سے بےفکر رھو ۔

    ضوفی نے ہممممم کیا ۔

    اور پھر

    کچھ دیر میں ہم نے کھانا ختم کیا اور ضوفی برتن اٹھاتے ھوے بولی یاسر وہ سامنے ٹراوزر لٹکا ھوا ھے وہ پہن لینا میں چاے بنا کر لاتی ھوں ۔۔

    میں نے ہمممم کیا ضوفی برتن اٹھا کر باہر نکل گئی اور میں نے دیوار پر ہینگر میں لٹکے ٹراوزر کو اتارا اور جلدی سے پینٹ اتار کر ٹراوزر پہنا۔

    اور بیڈ پر تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔

    کچھ دیر بعد ضوفی چاے لے آئی اور بیڈ کی سائڈ ٹیبل پر چاے رکھ کر میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گئ۔

    ہم دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم دونوں کی رانیں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئیں تھی ۔

    میں نے ضوفی کا ہاتھ پکڑا اور ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسکے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں کی طرف لا کر ضوفی کے ہاتھ کی الٹی سائڈ کو چوما اور بولا جان دروازہ تو بند کردو ضوفی نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی کیوں جی دروازہ بند کرکے کیا کرنا ھے ۔۔۔میں نے ضوفی کے کندھے پر سر رکھا اور ھاتھ کو پھر چومتے ھوے بولا ۔

    جپھی ڈالنی ھے ۔۔۔ضوفی بولی ۔

    اوے ھوے

    چپ کر کے اچھے بچوں کی طرح سوجاو پہلے ھی سارے دن مارکیٹنگ کرکے اور پھر سفر میں تھکے ھوے ھو اور صبح دکان کی سیٹنگ بھی کرنی ھے

    میں نے نفی میں سر ہلایا اور نیچے کھسکتا ھوا ضوفی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اور ضوفی کے ھاتھ کو اپنے سینے پر رکھ کر ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے بولا ۔

    میں نے تو تمہاری گود میں سر رکھ کر سونا ھے ۔

    ضوفی مسکراتے ھوے دوسرے ہاتھ سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے بولی ۔

    یاسر تنگ کیوں کرتے ھو ۔سمجھا کرو ایسے تمہاری طبعیت خراب ھوجاے گی ۔

    میں نے ضوفی کے ہاتھ کو چوما اور نظریں اسکے چاند کی طرح چمکتے ھوے چہرے کی طرف کرتے ھوے کہا کہ تمہاری قربت میں میرے اندر شکتی بڑھتی ھے تم سے جدا ہوکر میں کمزور پڑجاتا ھوں تم میرے پہلو میں ہو تو میں ساری زندگی جاگ کر گزار سکتا ھوں ۔۔

    ضوفی ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھی ھوئی تھی اور میں ٹانگوں کو دوسری طرف کرکے سر ضوفی کی گود میں رکھ کر لیٹا ھواتھا
    ضوفی میرے اوپر جھک کر میرے ہونٹوں کو چومتی ھوئی بولی ۔

    اوے ھوے میرے مجنوں ۔۔

    چلو اٹھو پہلےچاے پیو پھر میں اپنے کاکے کو لوری سناکر سلاتی ہوں ۔۔

    میں جھٹکے سے ضوفی کی گود سے سر اٹھا کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور بڑے جوش سے خوش ہوکر بولا سچییییییی ضوفی بھی میری نکل اتارتے ھوے بولی مُچییییییی۔
    .اور پھر ضوفی نے چاے کا کپ اٹھا کر مجھے پکڑایا اور خود بھی چسکیاں لے کر چاے پینے لگ گئی ۔۔

    میں نے جلدی سے چاے پی اور سائڈ ٹیبل پر کپ رکھنے کے بہانے بیڈ سے نیچے اترا اور کپ رکھ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا اور دروازہ بند کر کے لاک کر کے بھاگ کرجمپ لگا کر ضوفی کے قدموں کی طرف بیڈ پر چڑھ گیا ۔۔ اور الٹا لیٹ کر کہنیوں کے بل ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر ضوفی کو دیکھنے لگ گیا ۔۔

    ضوفی نے جلدی سے ٹانگیں سیدھی کیں اور چوکڑی مار کر بیٹھتے ھوے مجھے گھور کر دیکھتے ھوے بولی ۔

    بہت ضدی ہو تم یاسر بہت تنگ کرنے لگ گئے ھو ۔۔

    میں نے کہا اور کس کے ساتھ ضد کروں کس سے اپنی بات منواوں ایک تم ھی تو ھو جس پر اپنا حق جتانا مجھے اچھا لگتا ھے ۔۔

    ضوفی بولی چلو اٹھو میرے پیروں کی طرف مت لیٹو کیوں مجھے گناہ گار کرتے ھو ۔

    اور یہ کہتے ھوے ضوفی نے میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے اوپر کی طرف کھینچا اور میں گھٹنوں کے بل چلتا ھوا ضوفی کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا ۔۔

    ضوفی نے بھی چاے ختم کرکے کپ رکھ دیا اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کرکے لیٹ گئے ۔

    ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ ہماری سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر پڑ رہیں تھی میں نے ایک بازو ضوفی کے سر کے نیچے کیا ھوا تھا اور دوسرا بازو اسکی بغل سے گزار کر ہاتھ اسکی کمر پر رکھا ھوا تھا ضوفی کا سینہ میرے سینے کے ساتھ لگا ھوا تھا ہم دونوں کی رانیں ایک دوسرے کے ساتھ لگی ھوئی تھیں میں ضوفی کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر اسکی آنکھوں میں کھویا ھوا تھا ضوفی نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کہ کیا دیکھ رھے ھو ۔

    میں نے کہا دیکھ رھا ہوں کہ ان آنکھوں میں. میرے لیے کتنا پیار ھے ضوفی بولی پیار آنکھوں میں نہیں دل میں ہوتا ھے آنکھیں دھوکا دے دیتی ہیں اور دل کبھی دھوکا نہیں دیتا میرا دل صرف تمہارے لیے دھڑکتا ھے کاش تمہیں اپنا سینہ چیر کر دیکھا سکتی کہ تم سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔

    میں نے ضوفی کے ہونٹوں کو چوما اور اسکی کمر کو سہلاتے ھوے بولا ۔

    جان تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں تو اپنی قسمت پر ناز کر رھا ھوں کہ مجھے تم جیسا جیون ساتھی ملا تم اوپر سے جتنی خوبصورت ھو اندر سے اس سے دگنی خوبصورت ھو

    اوپر والے نے تمہیں صورت کے ساتھ سیرت سےبھی نوازہ ھے ۔

    پتہ نہیں مجھ سے کون سی ایسی نیکی ھوئی جس کے بدلے اوپر والے نے تمہارا ساتھ مجھے دیا ۔

    ورنہ میں تو اتنا گناہ گار ھوں کہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی جلدی تم میرے قریب آجاو گی اور اتنی جلدی میں اپنے پیروں پر کھڑا ھوجاوں گا ۔

    ضوفی بولی خوش قسمت تو میں ہوں کہ مجھے اتنا چاہنے والا جیون ساتھی ملا ۔

    یاسر کبھی کبھی تو مجھے بہت ڈر لگتا ھے کہ کہیں تم ۔۔۔۔۔

    ضوفی ایکدم چپ ھوگئی اور اسکے چہرے پر افسردگی چھا گئی ۔
    میں نے کہا کیا۔۔۔۔۔

    ضوفی بولی کچھ نہیں ۔

    میں نے کہا بولو نہ جان کیا کہنے لگی تھی ۔

    ضوفی بولی یاسر تم ساری زندگی مجھے یوں ھی پیار کرتے رھو گے نہ۔

    میں نے کہا کوئی شک ھے۔

    ضوفی بولی یاسر پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی مجھے اس زمانے سے ڈر لگنے لگ جاتا ھے کوئی تیسرا ہمارےبیچ نہ آجاے ۔۔

    میں نے کہا پاگل ھو کیا ۔

    میری ہر سانس تمہاری مقروض ھے تمہیں دیکھ دیکھ کر تو جیتا ھوں ۔

    یہ سوچنا بھی نہ کہ کوئی اور تمہاری جگہ لے سکتا ھے تم سے بےوفائی کروں اس سے پہلے میں مر۔۔۔۔۔۔۔۔

    ضوفی نے جلدی سے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر پیار کا تالا لگا دیا ۔

    اور پاگلوں کی طرح میرے ہونٹوں کو چوسنے لگ گئی اور اپنے جسم کو میرے جسم کے ساتھ چپکا کر مجھ میں سمانے کی کوشش کرنے لگ گئی ۔۔

    ضوفی کے جسم کا لمس پاتے ھی مجھ پر بھی خمار چھانے لگ گیا میں بھی کسنگ کی ضوفی برابر ساتھ دینے لگ گیا ۔۔

    کتنی دیر ہم یوں ھی ایک دوسرے کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ایک دوسرے کے ساتھ چپکے لیٹے رھے ۔۔

    اور بیچ میں کبھی ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ھوے پورے بیڈ کی سیر کرتے رھے ۔

    ضوفی کا جسم اتنا نرم اور سوفٹ تھا کہ میں اسکے جسم کے جس اعضاء پر بھی ہاتھ رکھ کر انگلیوں کو دباتا میری انگلیاں اندر دھنس جاتی ۔

    ضوفی ہر لحاظ سے فٹ تھی ۔۔

    بنانے والے نے کسی چیز کی کمی اس میں نہیں رکھی تھی ۔

    ضوفی دیکھ کر بس دل کر تا تھا کہ دیکھی جاوں میری نظریں اسکو دیکھ دیکھ کر نہ تھکتی تھی ۔

    اور جب اسکا قرب حاصل ھوتا تو دل کرتا کہ اسکو اپنے جسم میں سمو لوں اسکے ہونٹوں کو کھا جاوں اسکے جسم کو ہاتھوں سے نچوڑ دوں ۔

    کافی دیر کے بعد ہم نے ایک دوسرے کے ہونٹوں کی جان چھوڑی اور دونوں سیدھے ھوکر لیٹ گئے اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئے ۔ضوفی بولی یاسر تم میری مت مار دیتے ھو ۔

    میں نے سایڈ کے بل بوتے چہرہ ضوفی کی طرف کیا اور بولا اصل مت تو شادی کے بعد ماروں گا ۔۔

    ضوفی بولی ۔۔کہیں مت مارتے مارتے مجھے ھی نہ مار دینا ۔

    میں نے کہا تمہیں مار کر میں نے خود مرنا ھے
    .بھی تو جینا سیکھا ھے اور مجھے ابھی لمبی زندگی جینا ھے ۔

    اورتمہارے بغیر جینا مشکل ھی نہیں ناممکن ھے ۔

    یہ میرا پیار ھے میرا جنون ھے میرا بس چلے تو تم کو اپنے اندر سمو لوں ۔۔

    ضوفی نے بھی میری طرف سایڈ بدلی اور میرےبالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے بولی

    یاسر مجھ سے کیوں اتنا پیار کرتے ھو کیوں مجھے پاگلوً ں کی طرح چومتے چاٹتے ھو ۔

    میں نے کہا ضوفی تم چیز ھی ایسی ھو جسے سواے دیکھنے اور چومنے کہ اور کچھ کرنے کو دل ھی نہیں کرتا ۔

    ضوفی نے پھر مجھے جپھی ڈال لی اور ہم کتنی دیر ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کرتے رھے اور اسی کوشش میًں پتہ نہیں کب آنکھ لگی.
    .صبح مجھے جنجھوڑ کر اٹھاتے ہوے ضوفی کی مُدھ بھری آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اٹھ بھی جاو جان اور کتنی دیر سونا ھے دس بج چکے ہیں ۔۔
    میں نے آنکھیں کھولیں تو میری آنکھوں کے سامنے میری صبح کا سورج چمک رھا تھا ۔
    میں نے ایک سیکسی سی انگڑائی لی اور ضوفی کو بازوں سے پکڑ کر اپنے اوپر کھینچ کر لیٹا لیا اور بازوں میں کس کر ساری سستی ضوفی پر اتاری ضوفی ھاےےےےےے کر کے رھی گئی اور میرے بازو ڈھیلے ھوتے ھی جلدی سے میرے اوپر سے اٹھ کر دروازے کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔
    تم بھی نہ یاسرکوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔۔
    میں نے اٹھتے ہوے کہا ایسے مواقع کون سا روز روزملتے ہیں جو میں لاپروائی کر کے ان قیمتی مواقع کو ہاتھ سے جانے دوں ۔
    ضوفی ہنستے ھوے بولی باتوں میں ویسے تم سے کوئی نہیں جیت سکتا ۔
    چلو شاباش اٹھو جلدی سے اور تیار ھو جاو پہلے ھی بہت دیر ھوگئی ھے تین دفعہ جناب کو اٹھا کر گئی ھوں ۔
    مگر جناب گھوڑے بیچ کر سوے ھوے تھے ۔
    اب پھر نہ سوجانا میں ناشتہ لینے جارھی ہوں اور میرے آنے تک تم تیار ھو۔۔۔
    میں نے فرمانبرداری سے جھکتے ھوے کہا جو حکم سرکار کا ۔۔
    ضوفی کے یوں رعب جھاڑنے اور ڈانٹنے میں بھی اپنا پن تھا جس پر میں فدا ھوجاتا تھا ۔
    ضوفی مسکراتی ھوئی کمرے سے نکل کر نیچے چلی گئی اور میں نے کلاک کی طرف دیکھا تو واقعی دس بج چکے تھے میں جلدی سے واش روم کی طرف بھاگا اور نہا دھو کر فریش ھوکہ باہر نکلا اور ضوفی کے آنے سے پہلے ھی کپڑے تبدیل کرکے بال بنا کر سیڑیاں اترتا ھوا نیچے چلا گیا آنٹی ٹی وی لانج میں بیٹھی ہوئیں تھی مجھے دیکھ کر انکے چہرے پر محبت اور شفقت بھری مسکراہٹ آئی میں نے آنٹی کو سلام کیا اور ان سے سر پر پیارلیا اور ڈھیر ساری دعائیں لے کر انکے پاس ھی بیٹھ کر انکی صحت کے بارے میں پوچھنے لگ گیا ۔
    آنٹی نے بتایا کہ اب انکی طبعیت ٹھیک ھے بس کبھی کبھی بلڈ پریشر کبھی لو ھو جاتا ھے تو کبھی ہائی ۔۔
    میں نے آنٹی کو کہا کہ کسی دن میرے ساتھ ہسپتال چلیں آپ کا اچھی طرح چیک اپ کروا کر لاوں گا ۔۔
    مگر آنٹی ٹال مٹول کرتی رہیں اتنے میں ضوفی ناشتہ لے آئی میں نے ماہی کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کالج چلی گئی ھے ۔
    میں ہممم کر کے ناشتہ کرنے میں مصروف ھوگیا اور ساتھ ساتھ آنٹی سے دکان اور مال کی باتیں ہوتیں رہیں ۔
    کچھ دیر بعد ہم دونوں مارکیٹ کی طرف چل دیے مارکیٹ پہنچے تو دکان کے باہر جنید بیٹھا ہوا تھا ۔۔
    مجھے ضوفی کے ساتھ دیکھ کر چونک کہ کھڑا ھوگیا اور منہ کھولے حیرانگی سے پھٹی آنکھوں سے کبھی میری طرف دیکھتا تو کبھی ضوفی کی طرف ضوفی نے بھی یہ بات نوٹ کی اور مجھے کہنی مار کر جنید کی حالت کیطرف متوجہ کیا میں تو پہلے ھی اسکی طرف دیکھ رھا تھا ۔۔
    ضوفی سیدھی نیچے بیسمنٹ میں اتر گئی ۔
    جبکہ میں باہر دکان کی طرف بڑھا جہاں جنید کھڑا اب بھی سیڑھیوں کی طرف دیکھ رھا تھا ۔
    میں نے جاکر اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا اوربولا ۔
    سالیا بس وی کر کے ہن نظر لانی اے ۔۔
    جنید ایکدم چونک میری طرف دیکھتے ھوے بولا ۔
    گانڈو توں کی شےایں ۔
    روز ای کوئی نہ کوئی حیران پریشان کرن والا کم کری جاناں ایں ۔۔
    میں نے کہا ۔
    چل دکان کھول کر اندر چل کر بات کرتے ہیں ۔
    اور میں نے جیب سےچابیاں نکالیں اور دکان کا شٹر آدھا کھول کر اندر داخل ھوا اور جنید بھی میرے پیچھے ھی اندر داخل ہوگیا ۔۔
    اندر جاتے ھی جنید نے میری گردن کو دبوچ لیا اور بولا سالیا کلا ای موجاں ماری جاناں ایں ۔۔۔
    اس سے آگے جنید کچھ بولتا
    کہ
    میں نے جھٹکے سے گردن چھڑوائی اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے بولنے سے روکتے ھوے بولا ۔
    بسسسسسس اگے کش نہ بولیں
    اے تیری پرجائی اے سمجھیا ۔۔
    جنید بولا مگر یار یہ تو وہ ھی ھے نہ پالر والی جو ہمارے محلے میں رہتی ھے جسکی ہم اس دن بات کررھے تھے ۔۔
    میں نے کہا ہاں یاروہ ھی ھے ۔
    مگر اسکے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ یہ تیری بھابھی اور میری عزت ھے ۔۔
    جنید حیران پریشان ھوتا ھوا دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر کرسی پر ڈھے گیا ۔۔۔
    میں اسکی حالت دیکھ کر ہنستے ھوے بولا ۔
    پانی پلاواں ۔۔
    جنید بولا سالیا پانی دیا ۔
    اے کدوں دا چکر چلن دیا اے جیڑا گل ایتھوں تک وی پونچ گئی ۔۔
    میں نے کہا یار صبر تے کر سب کُش دس دیناں ایں مرن والا کیوں ہوگیاں ایں ۔
    جنید بولا
    ماما توں کم ای ایویں دے کرنا ایں اک دم ای چن چڑاناں ایں ۔۔۔
    میں ہنستے ھوے جنید کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا اور اسکو مختصراً یہ بتا دیا کہ میں اور ضوفی ایک دوسرے سے سچا پیار کرتے ہیں اور عنقریب ہم شادی کرنے والے ہیں ۔
    ُاور ضوفی نہایت شریف اور خاندانی لڑکی ھے بس مجبوری سے بےچاری پارلر کا کام کرتی ھے جو شادی کے بعد چھوڑ دے گی ۔۔
    جنید بولا یار وہ سب تو ٹھیک ھے میں یہ بھی جانتا ھوں کہ یہ واقعی بہت شریف ھے کیونکہ میں تو اسکو بچپن سے جانتا ھوں مگر یہ تیرے چکر میں آئی کیسے ۔
    اس نے تو بڑے بڑے مگرمچھوں کو گھاس نہیں ڈالی ۔
    میں نے کہا بس یار نصیب کی بات ھے اوپر والے نے ہم دونوں کی جوڑی بنانی تھی سو ایک دوسرے کے دل میں محبت پیدا کردی ۔۔
    کافی دیر بحث مباحثے کے بعد میں نے جنید کو یقین دلا ھی دیا کہ واقعی ضوفی اورمیں شادی کرنا چاھتے ہیں ۔
    جنید اس بات کو لے کر کافی دیر مجھ پر برستا بھی رھا کہ اسے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔
    میں نے ضوفی کی دنامی اور اس کی دی ھوئی قسموں کا بہانہ بنا کر جنید سے سوری کر کے اسکو منایا ۔۔
    بارہ بجے ریڑھی پر بلٹی آگئی ۔۔
    پلے دار نے مال کے بورے اور سٹیچوؤں کی پیٹیاں اور کچھ کارٹن وغیرہ دکان کے اندر رکھے ۔۔
    میں نے ریڑھی والے کو بلٹی کے پیسے دے کر روانہ کیا اور پھر آدھا شٹر نیچے کر کے ۔
    میں اور جنید بورے کھول کر اندر سے شاپر نکالنے لگ گئے ۔۔
    اور ساتھ ساتھ ہنسی مزاق بھی کرتے رھے ۔۔
    پھر ہم نے سٹیچووں کی پیٹیاں کھولیں اور جہاں جہاں سٹیچوں رکھنے تھے وھاں سیٹ کیے جنید گانڈو لڑکیوں کے سٹیچووں کے ساتھ کھڑمستیاں کرتا رھا کبھی انکے مموں کو پکڑتا کبھی انکی گانڈ پر ھاتھ پھیرتا تو کبھی انکے ساتھ جپھیاں ڈالتا ۔
    میں اسکی حرکتیں دیکھ دیکھ کر ہنسی جارھا تھا ۔
    ایسے ھی ہنسی مزاق کے دوران ہم نے دکان کے اندر کافی حد تک سیٹنگ کرلی ہمیں وقت کا تب احساس ھوا جب باہر اندھیرا ھونا شروع ھوگیا ۔۔
    میں نے ٹائم دیکھا تو سات بج چکے تھے میں نے جنید کو کہا کہ یار باقی کا کل کر لیں ابھی تیری بھابی کو گھر بھی چھوڑنے جانا ھے اور میں نے گاوں بھی جانا ھے۔۔
    جنید نے بہت کہا کہ یار کل جمعہ ھی ھے ساری رات میں سیٹنگ مکمل کرلیں گے اور کل چھٹی ھی ھے دن ٹائم سو کر نیند پوری کرلیں گے میں نے کہا نہیں یار پہلے ھی کل کی تھکاوٹ نہیں اتری ۔
    کچھ دیر ہماری بحث چلتی رھی آخر کار جمعہ کو دن کے وقت بقیہ سیٹنگ کرنے اورہفتہ کو بوتیک کا افتتاح کرنے کا ڈن ھوا اور ہم دکان سے باہر نکلے اور شٹر بند کیا جنید ضوفی کے متعلق مجھے چھیڑتا ھوا اپنے گھر کی طرف چل دیا اور میں نیچے سیڑیاں اترتا ھوا پارلر کی طرف چلدیا ۔۔
    پارلر بند کر کے ہم اوپر آے تو ضوفی نے دکان کی سیٹنگ دیکھنے کا کہا میں نے شٹر کھولا اور ہم بوتیک میں داخل ھوے ضوفی دکان کے اندر داخل ہوکر چاروں اطراف دیکھتے ھوے بہت خوش ہورھی تھی بوتیک کا فرنیچر اور سیٹنگ اور ورائٹی دیکھ کر ضوفی تعریفوں کے پل باندھی جارھی تھی ۔
    اور میری محنت لگن اور پرچیزنگ کو سراہ رھی تھی ۔۔
    کچھ دیر ہم بوتیک میں رھے اور پھر دکان بند کر کے میں ضوفی کو گھر چھوڑنے چلا گیا کچھ دیر ضوفی کے گھر ٹھہرنے کے بعد میں واپس اپنے گھر گاوں آگیا۔۔
    امی ابو آپی بھا مجھے مبارکیں دے رھے تھے میں نے انکو ہفتہ کو بوتیک کے افتتاح پر آنے کا کہا آپی اور امی کو میں نے اگلے دن ھی جمعہ کو بوتیک دیکھنے کا کہا ۔۔
    .

    اور امی کے کان میں انکو انکی بہو سے ملوانے کا بھی کہہ دیا ۔۔
    اگلے دن میں امی اور آپی کو تانگے پر لے کر سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا
    اور امی کو راستے میں ھی بتا دیا کہ ہم پہلے ضوفی کے گھر جائیں گے آپ اسکی امی کی خیریت بھی دریافت کرلینا اور اپنی بہو سے بھی مل لینا، اور آپی کو بھی ساری تفصیل بتا دی ۔
    اور اسکو سختی سے منع بھی کردیا کہ ابھی یہ بات کسی سے نہیں کرنی ۔
    خاص کر آنٹی فوزیہ اور انکی بیٹیوں سے ۔
    امی نے بھی آپی کو سختی سے منع کردیا ۔
    خیر تانگہ ضوفی کے گھر کے سامنے رکا ہم سب تانگے سے نیچے اترے ۔۔
    میں نے ڈور بیل دی تو ضوفی کی آواز آئی کون ۔۔
    میں نے دروازے کے پاس منہ کر کے آہستہ سے کہا مگر تیز تیز کہا۔۔
    تمہارےسسرال والے آے ہیں جلدی دروازہ کھولو۔۔ امی نے پیچھے سے میری گردن پر تھپڑ مارا کہ کتنے بتمیز ھو ایسے بولتے ہیں ۔
    اتنی دیر میں
    ضوفی نے دروازہ کھولا اور غصے سے میری طرف دیکھ کر کچھ بولنے لگی کہ اسکی نظر امی اورآپی پر پڑ گئی ضوفی وہیں گُنگ ہوکر کھڑی آنکھیں پھاڑے کبھی میری طرف دیکھتی کبھی امی لوگوں کی طرف ۔۔
    میں نے ضوفی کی حالت دیکھی اور اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے ھوے بولا ۔۔۔
    ہیلووووو

    تمہاری ساس اورنند ہیں ۔۔۔
    پریشان کیوں ہوگئی ہو ۔۔
    ضوفی ایک دم سکتے سے باہر آئی اور سارے جہاں کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ھوے امی اور آپی کو اندر آنے کا کہا ۔
    اوردروازے کے اندر داخل ہوتے ھی امی اور آپی سے بڑی گرمجوشی سے گلے ملی ۔۔
    میں بعد میں اندر داخل ھوا آپی سے ملنے کے بعد ضوفی نے میری طرف گھور کر دیکھا تو میں بھی باہیں کھول کر ضوفی کے گلے ملنے کے لیے آگے بڑھا تو آپی منہ پھاڑے مجھے دیکھنے لگ گئی اور ضوفی شرما کر سر نیچے کیے انکو لے کر اندر چلی گئی ۔۔
    امی اور آپی کو دیکھ کر تو ضوفی کے پاوں زمین پر نہیں لگ رھے تھے ۔۔
    خوشی کے مارے وہ نہال ہوئی جارھی تھی ۔۔
    امی اور آپی کو اندر بیٹھا کر ضوفی آنٹی کو کمرے سے لینے چلی گئیں کچھ ھی دیر میں آنٹی بڑی خوش دوڑتی ھوئی کمرے سے باہر آئہی اور بڑی گرمجوشی سے امی اور آپی سے ملیں ضوفی کچن میں گئی میں بھی اسکے پیچھے ھی کچن میں چلا گیا
    موقع ملتے ھی ضوفی مجھ پر برس پڑی کے کم ازکم مجھے پہلے بتا تو دیتے کہ امی نے آنا ھے یوں اچانک ۔۔۔۔۔
    میں نے بات کاٹتے ھوے کہا کچھ نہیں ہوتا بغیر میک اپ کے اگر تمہیں دیکھ لیا ۔۔
    ضوفی میرے کندھے پر مکا مارتے ھوے بولی ۔
    الو میں اس لیے کہہ رھی تھی کے گھر کی صفائی وغیرہ کرلیتی سب کچھ بکھرا پڑا ھے ۔
    میں نے کہا جان وہ تمہیں دیکھنے آے ہیں گھر کو نہیں ۔
    اور پھر میں نے ساتھ ھی پلٹی مارتے ھوے ضوفی کو چھیڑا کہ ویسے بھی امی آنٹی کی خبر لینے آئیں ہیں ۔۔۔
    تم ذیادہ خوش نہ ھو ۔۔۔
    ضوفی گلاس مجھے مارنے کے سٹائل سے میری طرف بڑھی تو میں پلٹ کر پیچھے بھاگا اور کچن سے نکل کر امی اور آنٹی کے پاس جا بیٹھا ۔
    امی مجھے گھورے جارھی تھی ۔
    کہ میں ایسے بھاگا پھر رھا ہوں جیسے اپنا گھر ہو۔
    میں امی کے گھورنے پر بڑا شریف بچہ بن کر سر جھکا کر بیٹھ گیا۔۔۔
    امی اور آنٹی کچھ ھی دیر میں کافی گُھل مل گئیں تھیں ضوفی نے پہلے کولڈ ڈرنک پیش کی اور کچھ دیر امی کے پاس بیٹھ
    کر امی کا حال احوال پوچھتی رہی ضوفی بڑے سلجے انداز میں امی اور آپی کو ٹریٹ کر رھی تھی اور کچھ دیر بعد ضوفی کھانا بنانے کا کہہ کر آپی کو ساتھ لے کر کچن میں چلی گئی ۔
    ماہی کالج گئی ھوئی تھی ۔
    ورنہ وہ بھی امی اور آپی کو مل کر بہت خوش ہوتی ۔۔
    آنٹی امی کے سامنے میری تعریفوں کے پُل باندھی جارھی تھی ۔
    میں مزید کچھ دیر بیٹھا اور پھر امی اور آنٹی کو دکان کی سیٹنگ کا بتایا کہ ابھی کچھ کام رہتا ھے اور آج جنید نے بھی آنا تجا وہ انتظار کر رھا ھوگا اس لیے میں چلتا ھوں آپ لوگ باتیں کریں اور پھر ان سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور ضوفی کو کہا کہ جب فری ھوجاو تو سب کو لے کر بوتیک پر آنا ۔۔۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  14. The Following 14 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-12-2018), abkhan_70 (27-12-2018), irfan1397 (27-12-2018), Lovelymale (27-12-2018), MamonaKhan (27-12-2018), Mian ji (27-12-2018), Mirza09518 (27-12-2018), mmmali61 (29-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexeymoon (29-12-2018), StoryTeller (17-02-2019), waqastariqpk (28-12-2018), windstorm (27-12-2018), ZEESHAN001 (07-04-2019)

  15. #448
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,417
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 205..



    ضوفی نے اچھا جی کہا ۔۔
    اور میں اسے آنکھ مار کر کچن سے باہر نکل گیا باہر نکلتے وقت میری نظر جب آپی پر پڑی تو آپی ہاتھ منہ پر رکھے ہاےےےےے ***** کر رھی تھی ۔۔
    میں ہنستہ ھوا باہر دروازے کی طرف بڑھا اور پھر گلی میں نکل کر دکان کی طرف چل دیا ۔۔۔
    دکان پر پہنچا تو جنید پہلے سے وھاں موجود تھا ۔
    مجھے دیکھ کر ایڑیاں اٹھا کر میرے پیچھے دیکھتے ھوے بولا بھابھی نہیں آئی ۔۔
    میں نے امی اور آپی کا بتایا کہ وہ کچھ دیر بعد ان کے ساتھ آے گی دکان دیکھنے ۔۔
    جنید بڑا حیران ھوکر بولا واہ جی واہ تے گل ایتھے تک پہنچ گئی اے ۔اب امی اور آپی بھی بھابی کو دیکھنے پہنچ گئیں ۔۔
    میں نے کہا بس دیکھ لو یار اوپر والا جب مہربان ہوتا ھے تو سب ٹھیک ہو جاتا ھے ۔
    جنید نے مجھ سے چابی لے کر دکان کا شٹر کھولا ۔
    دوستو
    جنید کا یوں میرے دکان پر آنے کا انتظار کرنا اور جب وہ دکان کے تالے کھول رھا تھا تو مجھے اپنے دن یاد آگئے کہ میں کیسے انکل کا انتظار کیا کرتا تھا اور ان سےچابیاں لے کر دکان کھولا کرتا تھا ۔۔
    اوپر والے کا شکر ادا کیا جس نے اتنی جلدی عزت سے نوازہ ۔۔میں جنید کے پیچھے دکان میں داخل ہوا اور صفائی کرنے لگا تو جنید بولا رہنے دو میں کر لیتا ھوں ۔
    جنید کی بات سن کر میں ہنستے ھوے بولا نہیں یار میں اپنی اوقات نہیں بھولنا چاہتا اور ہاں تم کبھی بھی مجھ میں اور اپنے آپ میں فرق نہ سمجھنا جیسے ہم پہلے دوست تھے اب بھی ویسے ھی ہیں ۔
    میں تمہیں ملازم نہیں بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر رکھا ھے ۔۔
    جنید میرے پاس آیا اور مجھ سے جپھی ڈال کر بولا ۔
    شکریہ یار جو تم نے مجھے اتنی عزت دی ۔۔
    میں نے بھی اسکو بازوں میں کسا اور بولا ۔
    بس یہ بات ذہن نشین کرلو کہ یہ تمہاری اپنی دکان ھے اور ہم نے مل کر اسے سٹینڈ کرنا ھے ۔۔
    جنید بولا ۔
    بلکل اوپر والے نے چاھا تو بہت جلد ہماری دکان کا نام ھوگا ۔۔۔پھر ہم ایک دوسرے سے علیحدہ ھوے اور جو سیٹنگ رھ گئی تھی وہ سیٹنگ کرنی شروع کردی ۔
    کام میں وقت کا ھی پتہ نہیں چلا ۔کہ کب ایک بج گیا *****،کی آواز سن کر جنید بولا یار میں نے جمعہ پڑھنا ھے ۔
    میں نے کہا ٹھیک ھے یار کام تو مکمل ھوچکا ھے تم ایسا کرو گھر چلے جاو اور میں نے امی لوگوں کا انتظار کرنا ھے ۔
    جنید نے یممم کیا اور مجھ سے مل کر گھر چلا گیا ۔۔
    میں دکان کی صفائی کرنے لگ گیا جو شاپر وغیرہ بکھرے پڑے تھے انکو اٹھانے میں مصروف ھوگیا ۔۔
    ایک گھنٹے بعد بوتیک کا شیشے کا دروازہ کھلا اور پہلے امی اندر داخل ہوئیں اور آنکھیں پھاڑے حیران پریشان بوتیک کو چاروں طرف دیکھنے لگ گئی امی کے پیچھے آنٹی اور پھر آپی اور ماہی ضوفی ۔۔۔
    سب کے سب بوتیک کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہورھے تھے امی اور آنٹی نے میرا ماتھا چوما اور ڈھیر ساری دعائیں دینے لگ گئیں نازی ماہی ضوفی بھی مجھے مبارکباد دینے لگ گئیں ۔۔۔
    سب ھی بہت خوش تھے ۔۔۔
    میں انکو بیٹھا کر باہر دے کولڈ ڈرنک لے آیا اور کافی دیر ہم ہنسی مزاق کرتےرھے ۔
    امی اور نازی آنٹی لوگوں سے ایسے گھل مل گئے تھے جیسے ایک ھی فیملی ھو ۔۔۔
    نازی بار، بار مجھے ضوفی کی طرف آنکھوں سے اشارے کر کے ھاتھ سے بہت پیاری ھے کہہ رھی تھی ۔
    ناذی ماہی اور ضوفی کے ساتھ ایسے فرینک ہوگئی تھی جیسے وہ انکی کزنیں ھوں ۔۔
    .۔۔
    ماہی بولی بھائی اب تو آپ کی طرف پارٹی بنتی ھے خالی بوتلوں سے ہمیں نہ ٹرکا دینا ۔۔
    میں نے کہا جب کہیں کھلا دوں گا ۔۔
    آنٹی ماہی کو جھڑکتے ھوے بولی ۔
    شرم کرو ماہی ابھی اسکو کام تو شروع کرنے دو ۔۔
    امی بیچ میں بولیں ۔۔
    آپاں پھر کیا ھوا وہ اتنے پیار اور مان سے کہہ رھی ھے ۔
    ایسا کرتے ہیں کل آپ ہماری طرف آئیں سب ۔
    ہمارا گاوں بھی دیکھ لینا اور ہمارا غریب خانہ بھی ۔۔
    آنٹی بولی جی ضرور آئیں گے کیوں نہیں مگر کل تو مشکل ھے اگلے جمعہ کو ہم آپکے گھر آئیں گے تب ضوفی اور یاسر کو بھی چھٹی ھوگی ۔۔۔
    سب نے یہ تجویز پسند کی ۔۔
    ضوفی ورائٹی دیکھ دیکھ کر بہت ھی خوش ھو رھی تھی اور میری پسند کی داد دے رھی تھی ۔۔
    کہ اتنے کم پرائس میں اتنی عمدہ ورائٹی ۔۔۔
    خیر شام تک سب دکان میں ھی رھے پھر امی نے جانے کی اجازت مانگی تو میں دو رکشے لے آیا دکان بند کی اور ضوفی کو صبح افتتاح کرنے کا کہا ضوفی نے میری بات سمجھتے ھوے چپکے سے میری پینٹ کی جیب میں پیسے ڈال دیے ۔۔
    پھر ہم گاوں آگئے اور آنٹی لوگ اپنے گھر چلے گئے ۔
    امی اور نازی آنٹی لوگوں سے مل کر بہت خوش تھیں سارے رستے ان سب کی تعریفیں کرتی رہیں ۔۔۔گھر آکر بھی انکی ھی باتیں ہوتی رہیں ۔۔
    امی نے ابو کو جب دکان کی سیٹنگ اور ورائٹی کے بارے میں قصیدے سناتے تو ابو بھی بہت خوش ھوے ۔۔۔۔
    میں کچھ دیر گھر رہنے کے بعد آنٹی فوزیہ کے گھر انکو دکان کی خوشخبری سنانے چلا گیا ۔
    .No 2

    آنٹی کے گھر پہنچا تو انکا دروازہ بند دروازہ ناک کیا تو کچھ دیر بعد آنٹی کی آواز آئی کون میں نے کہا آنٹی یاسر ہوں ۔۔
    آنٹی نے دروازہ کھولا اور بڑے موڈ میں بولی مل گیا ٹائم آگئی یاد ۔۔میں ہنستا ہوا اندر داخل ھوا اور آنٹی کی گالوں پر چٹکی کاٹ کر ہلاتے ھوے بولا ۔
    آپ کو خوشخبری سنانے آیا ھوں ۔۔
    آنٹی ہاےےے کرتی ھوئی اپنی گالوں سے میرے ہاتھ ہٹاتے ھوے بولی ۔۔
    شادی تونہیں کروانے لگے ۔۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا لو جی ابھی اپنے پاوں پر تو کھڑا ھوجاوں پھر شادی کا بھی سوچیں گے ۔۔
    آنٹی دروازہ بند کرتے ھوے آہستہ سے بولی ۔
    سب کچھ تو کھڑا ہوگیا ھے اور اب کیا کھڑا کرنا باقی ھے ۔۔
    میں بولنے ھی لگا تھا کہ نسرین کمرے سے نکل کر باہر آتے ھوے بولی امی کون ھے باہر۔۔۔اور مجھ پر نظر پڑتے ھی مجھے گھور کر دیکھتے ھوے بولی ۔۔
    امی یہ کون اندر آگیا ۔۔
    میں چلتا ھوا نسرین کے پاس پہنچا اور بولا ۔۔
    نظر کمزور تھی پہلے لگتا ھے اب رہتی نظر چلی گئی ھے ۔
    نسرین بولی او پائی کون ایں کدر منہ چُک کے اندر وڑی جاناں ایں ۔۔۔
    آنٹی میرے پیچھے ہنستے ھوے بولی ۔۔
    ویسے تمہارے ساتھ ہونا ایسے ھی چاہیے ۔۔
    میں نے کہا آنٹی جی آپکا اعتراض بنتا ھے آپکا غصہ بھی بجا ھے ۔
    مگر پہلے مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیں ۔۔
    نسرین بولی ہم تمہیں جانتے ھی نہیں تو پھر بات کیوں سنیں ۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا بکواس بند کرو آئی وڈی کار دی مالکن ۔۔۔
    اور میں یہ کہتا ھوا کمرے میں داخل ھوگیا نسرین میرے پیچھے آئی اور میرا بازو پکڑتے ھوے مجھے روکتے ھوے بولی ۔

    او ہیلو پائی کدھر منہ اٹھاے کمرے میں جارھے ھو ۔۔۔۔
    مجھے اب واقعی غصہ آگیا تھا ۔۔
    میں نے غصے سے نسرین کی طرف دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے بازو سے جھٹک دیا اور غصے سے واپس باہر کیطرف چل دیا ۔۔
    آنٹی نے مجھے یوں غصے سے جاتے ھوے دیکھا تو ۔
    نسرین کو گالیاں دیتی میرے پیچھے بھاگی اور مجھے بازو سے پکڑ کر واپس کمرے کی طرف کھینچتے ھوے لیجانے لگی ۔۔
    شور سن کر عظمی بھی کمرے سے باہر آگئی ۔۔۔
    نسرین بھی مجھے غصے میں دیکھ کر شرمندہ سی ہوگئی ۔۔
    آنٹی مجھے کھینچتے ھوے کمرے میں لیجانے لگی ۔۔
    میں بھی نخرے کرتا ھوا آنٹی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوگیا۔۔
    آنٹی مجھے کمرے میں پڑی لکڑی کی کرسی پر بٹھاتے ھوے بولی ۔
    آرام سے بیٹھ جا اب ۔
    اس کُتی کے بھونکنے کی وجہ سے موڈ خراب کررھے ھو پتہ تو ہے تمہیں اسکا منہ پھٹ ھے ۔۔
    مجھے نسرین پر بہت غصہ چڑھی جارھا تھا نہ جانے کیوں ۔
    پہلے بھی نسرین میرے ساتھ ایسے ھی کرتی تھی پہلے میں نے کبھی بھی اسکی بات کا برا نہیں مانا تھا ۔۔
    مگر آج مجھے پتہ نہیں کیوں اپنی بےعزتی محسوس ہوئی ۔
    نسرین بھی سر جھکائے میرے سامنے کھڑی تھی اوراسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رھے تھے ۔
    میں سر جھکائے چپ کر کے بیٹھا اپنے ہلتے پاوں کی طرف دیکھی جارھا تھا ۔۔
    آنٹی نے عظمی کو چاے بنانے کا کہا تو میں نے چاے پینے سے انکار کردیا ۔۔
    مگر انٹی نے مجھے ڈانٹتےھوے کہا ان بس بھی کرو اتنا غصہ بھی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا ۔۔۔
    میں نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا نہیں آنٹی ایسی بات نہیں میں گھر سے چاے پی کر ایا ھوں ابھی دل نہیں کررھا ۔۔
    انٹی نے عظمی کو ڈانٹتے ھوے کہا تینوں سُنیا نئی ہالے تک اوتھے ای بُن وٹا بن کے کھڑی ایں. چھیتی جا تے ویر واسطے چا بنا کہ لیا۔۔۔
    آنٹی کے منہ سے ویر سن کر میں نے چونک کر عظمی کی طرف دیکھا تو عظمی میری نظر کو محسوس کرکے شرمسار سی ھوکر باہر چلی گئی ۔۔
    نسرین ابھی تک وہیں دروازے کے پاس بت بنی کھڑی تھی آنٹی نے نسرین کی طرف دیکھا اور غصے سے بولیں.
    ہن توں ایتھے ای کھڑی رہنا اے ۔
    جا بار دفعہ ھوجا
    جا کہ پین نال چا بنوا ۔۔۔
    نسرین آنسو صاف کرتی چپ کرکے باہر نکل گئی ۔۔۔
    آنٹی دوسری کرسی میرے پاس کر کے میرے ساتھ بیٹھتے ھوے میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ھوے بولی ۔
    میرے شہزادے کا
    اب غصہ ٹھنڈا ھوا کہ نہیں میں نے خود کو نارمل کرتے ھوے مسکراتے ھوے کہا ۔
    نہیں آنٹی مجھے کیوں غصہ آنا ھے آپ نے خامخواہ نسرین بیچاری کو ڈانت دیا ۔۔
    آنٹی بولی یاسر یہ لڑکی بہت بتمیز ھوتی جارھی ھے بہت منہ پھٹ ھے کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں کرتی تم بھی اچھی طرح اس پاگل کی عادتوں سے واقف ھو ابھی تک اس میں بچپنا ھے ۔۔
    میں نے دل میں کہا اسکا بچپنا تو اب مجھے ختم کرنا ھی پڑے گا ۔۔۔
    میں نے ہنستے ھوے کہا ۔
    کوئی بات نہیں آنٹی اتنا غصہ کرنے کا حق تو اسکا بھی بنتا تھا میں بھی تو اتنے دنوں سے نہیں آیا تھا ۔۔
    آنٹی بولی اچھا بتاو کون سی خوشخبری سنانے لگے تھے ۔۔
    میں نے کہا آنٹی جی میں نے اپنی علیحدہ دکان بنا لی ھے سلے سلاے لیڈیز سوٹوں کی ۔۔۔
    آنٹی حیرت سے گنگ ھوگئی اور پھر بولی واقعی اییییییی سچ کہہ رھے ھو تم یاسر ۔
    میں نے کہا قسم اے آنٹی اسی لیے تو میں اتنے دن آ نہیں سکا کل میری دکان کا پہلا دن ھے ۔۔
    آنٹی خوشی سے اٹھ کر میرے منہ ماتھا چومنے لگ گئی اور دعاءیں دینے لگ گئی ۔۔
    اچانک آنٹی نے سنجیدہ ھوتے ھوے پوچھا مگر یاسر تمہارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آے ۔۔
    میں نے کہا بس آنٹی جی جب اوپر والا مہربان ہوتا ھے تو بہت سے اسباب بنا دیتا ھے ۔۔
    انٹی بولی وہ تو ٹھیک ھے مگر پھر بھی پتہ تو چلے کہ اسباب کیسے بنے ۔
    میں نے آنٹی کو اپنے دوست کی منگھڑت کہانی سنائی ۔۔۔۔۔
    آنٹی میری بین سن کر یقین کرتے ھوے بڑی خوش ہوئی اور میرے دوست کو دعاءیں دینے لگ گئی ۔۔
    عظمی بھی کافی خوش ہوئی اور نسرین نے بس خاموش رہنا ھی مناسب سمجھا ۔۔
    میں نے انٹی لوگوں کو دکان پر انے کی دعوت دی اور انکو دکان کا اڈریس بھی سمجھایا ۔۔
    آنٹی نے کہا جب بھی بازار کا چکر لگا لازمی آئیں گے ۔۔
    میں نے ہمممم کیا اور پھر کافی دیر تک ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے ۔
    عظمی کسی نہ کسی بات میں حصہ لے لیتی مگر نسرین سڑی بھلی بیٹھی رھی ۔۔۔
    میں نے بھی اسکو ذیادہ لفٹ نہیں کروائی ۔۔
    میں نے آنٹی سے انکل کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ اسکی طبعیت نہیں سہی وہ دوائی کھا کر شام سے ھی سویا ھوا ھے ۔۔
    کچھ دیر مذید بیٹھنے کے بعد میں نے آنٹی سے کہا میں چلتا ھوں آکر دروازہ بند کرلیں ۔
    ساتھ ھی میں. نے اآنٹی کو آنکھ ماردی ۔۔
    آنٹی بھی شاید میری آنکھ کا اشارہ سمجھ گئی تھی ۔۔
    میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور صحن میں کھڑا ھوکر چاروں طرف نظریں گھما کر جائزہ لینے لگ گیا۔۔
    رات ہوچکی تھی کافی اندھیرا تھا صحن میں ۔۔
    آآنٹی بھی کمرے سے باہر نکل کر میرے پیچھے آگئی میں کچھ آگے گیا اور اندھیرے میں کھڑا ہوگیا آنٹی میرے پاس آئی تو مین نے انٹی کو بازوں میں بھر لیا اور کس کے جپھی ڈال لی آنٹی آہستہ سے بولی نہ کرو یاسر بچیاں جاگ رہی ہیں ۔۔
    میں نے کہا آنٹی جی بہت دل کررھا ھے آج کتنے دن یوگئے ہیں ۔۔۔
    کچھ کرو نہ کہ ابھی میرا کام بن جاے آنٹی بولی پاگل ھوگئے ھو عطمی نسرین جاگ رہی ہیں ۔
    میری نظر اچانک سیڑیوں پر پڑی ۔
    اور پھر کمروں کے اوپر چاروں اطراف کیے اونچے پردوں
    پر پڑی ۔۔
    میں نے فٹ انٹی کو کہا انٹی اگر میں چھت پر چلا جاوں اور آپ کسی طرح چھت پر آجاو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔
    آنٹی بولی پاگل مسئلہ تو بچیوں کا ھے وہ جاگ رھی ہیں ۔
    میں بچوں کی طرح ضد کرتے ھوے کہا مجھے نہیں پتہ انٹی جی کچھ کرووووو۔
    .

    آنٹی کچھ سوچتے ھوے بولی تم مرواو گے مجھے ۔
    میں نے کہا کچھ نہیں ھوتا بس کچھ ھی دیر کی تو بات ھے ۔۔
    آنٹی بولی چلو پھر دھیان سے اور آرام آرام سے سیڑیاں چڑھتے ھوے اوپر جانا ۔۔
    اور سٹور والی چھت ہر ھی رہنا دوسرے کمرے کی چھت پر مت جانا نہیں تو بچیاں چھت پر چلنے کی آواز سن لیں گی ۔۔
    میں نے مزید کس کر اانٹی کو جپھی ڈالی اور انٹی کے ہونٹوں کو چومتے ھوے تھینکیو کیا اور بڑے سلو موشن میں سیڑیاں چڑھتا ھوا چھت پر چلا گیا اور ایک طرف پردے کی چاردیواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور آنٹی کا انتظار کرنے لگ گیا ۔۔
    مجھے بیٹھے آدھا گھنٹا گزر گیا مگر آنٹی کا دور دور تک نام نشان نہ تھا ۔
    مجھے گھر جانے کی ٹینشن تھی گھر بھی میں ابھی آیا کہہ کر آیا تھا ۔۔
    جب انتظار کی حد ھوگئی تو میں آیستہ سے اٹھا اور پردے سے سر اٹھا کر صحن میں جھانکا تو مجھے آنٹی واش روم سے نکلتی نظر آئی اور پھر آنٹی انکل کے کمرے کی طرف جاتی نظر آئی ۔۔
    میں انٹی کو کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر دل میں آنٹی کو گالیاں دینے لگ گیا کہ سالی مجھے چھت پر سوکھنے ڈال کر پھر کمرے میں گھس گئی ھے ۔
    میں واپس جانے کا سوچ ھی رھا تھا کہ آنٹی کمرے سے بڑے آرام آرام سے نکل کر چلتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف آتی نظر آئی آنٹی نے ہاتھ میں کوئی کپڑا یا گدا پکڑا ھوا تھا ۔۔۔
    میں خوشی سے یسسسسسسس کر کے جلدی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا ۔۔
    کچھ ھی دیر بعد آنٹی چھت پر نمودار ھوئی اور تھوڑا جُھک کر چلتی ھوئی میرے پاس آئی اور ہاتھ میں پکڑا گدا کچی چھت پر بچھا دیا اور منہ پر انگلی رکھ کر شییییی کرتے ھوے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
    اور گدے پر بیٹھتے ھوے مجھے بھی اشارے سے بیٹھنے کا کہا۔۔۔
    میں جلدی سے انٹی کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھنے لگ گیا کہ اتنی دیر کردی میں تو واپس جانے لگا تھا ۔
    آنٹی بولی جو جاگ رہیں تھیں انکو سلا کر ھی آنا تھا ۔
    میں نے کہا سوگئیں تو آنٹی بولی انکو جھڑک جھڑک کر سلا کر کمرے کی باہر سے کنڈی لگا کر آئی ہوں ۔۔
    میں نے انکل کا پوچھا تو آنٹی نے کہا وہ تو بےہوش پڑا ھے نیند کا سیرپ پی کر ۔۔۔
    میں نے انٹی کا دوپٹہ اسکے گلے سے نکال کر ایک طرف رکھا اور آنٹی اپنے لمبے بالوں کو پیچھے سے اکھٹا کر کے انپر پونی چڑھاتے ھوے پیچھے کیطرف لیٹ گئی ۔۔
    میں بھی انٹی کی ٹانگوں کے بیچ آنٹی کی ٹانگوں کو پھیلاتا ھو اسکے اوپر لیٹ گیا انٹی کا نرم نرم جسم اور موٹے موٹے ممے مجھے میٹرس پر لیٹنے کا احساس دلا رھے تھے ۔۔
    میں نے انٹی کے اوپر لیٹتے ھی انٹی کے ہونتوں کو اپنے یونٹوں میں جکڑ لیا اور ایک ہاتھ سے ایک مما پکڑ کر دبانے لگ گیا اور دوسرا بازو انٹی کے سر کے نیچے ڈال کر آنٹی کی گردن بازو پر رکھ لی میرا لن انڈر ویئر اور پینٹ کو ہھاڑ کر باہر نکلنے کے لیے بےچین ہوکر آنٹی کی پھدی کے اوپر دباو ڈالے ھوے تھا ۔۔
    آنٹی بھی پتہ نہیں کتنے دنوں کی پیاسی تھی ۔
    جو بڑے جوش سے کسنگ میں میرا ساتھ دیتے ھوے میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے گانڈ کو اٹھا اٹھا کر پھدی کو میری پینٹ کے ابھار کے ساتھ مسل رہی تھی ۔
    کچھ دیر ہم اسی پوزیشن میں ایک دوسرے کے ہونٹ اور زبانوں کو چوستے رھے ۔۔
    انٹی کی تڑپ بےچینی اور جوش بتا رھا تھا کہ آنٹی کی پھدی ایک دفعہ اپنی گرمی باہر پھینک چکی ھے ۔۔
    کچھ دیر بعد میں انٹی کے اوپر سے اٹھا اور آنٹی کے بازوں کو پکڑ کر آنٹی کو اوپر اٹھایا اور آنٹی کے نہ نہ کرنے کے باوجود بھی قمیض کو پکڑ کر ذبردستی انکے بدن سے الگ کر دی آنٹی کے چٹے مموں کا اوپر والا حصہ کالی رات اور کالے بریزئیر میں چمک رھا تھا میں نے جلدی سے آنٹی کی کمر پر ہاتھ لیجا کر بریزیر کی ہک کھول کر مموں کو قید سے ازادی دلا دی ۔۔
    .

    انٹی کے چٹے ممے اندھیرے میں بھی چمک رھے تھے ۔۔
    انٹی نخرہ دیکھاتے ھوے بولی بہت تیز ھو تم یاسر کتنی جلدی میں مجھے ننگا کر کے رکھ دیا ۔۔
    میں نے انٹی کے چٹے سفید ننگے کندھوں کو چوما اور کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انٹی کو پیچھے کی طرف دھکیل کر لیٹا دیا ۔۔
    ہماری گفتگو سرگوشی میں ھی ھو رھی تھی ۔۔
    انٹی سیدھی لیٹی تو آنٹی کے بڑے بڑے ممے انٹی کے سینے پر پھیل گئے ۔۔
    میں نے اپنی شرٹ اتاری اور پھر بنیان بھی اتار کر ایک طرف رکھی اور آنٹی کے ننگے جسم کے اوپر اپنا ننگا جسم رکھ کر لیٹ گیا اور پھر انٹی کی ہونٹوں کو چوسنے لگ گیا ۔
    کچھ دیر بعد ہونٹوں کو چھوڑ کر کھسکتا ھوا انٹی کے مموں کی طرف آیا اور دونوں ھاتھوں میں انٹی کے گول مٹول بڑے بڑے مموں کو پکڑ کر باری باری دونوں مموں کو چوسنے لگ گیا ۔۔
    آنٹی کے بڑے سائز کے نپل فل اکڑے ھوے تھے اور انٹی مزے لے لے کر سسکاریاں بھرتے ھوے اپنے ممے چسوا رھی تھی ۔۔
    مموں کو اچھی طرح چوس کر لباب سے گیلا کردیا اور پھر میں کھڑ ہوا اور جھک کر اپنی پینٹ اور انڈر ویئر اتار کر تنے ھوے لن کے ساتھ آنٹی کے ننگے پیٹ پر اپنی ننگی گانڈ رکھ کر بیٹھ گیا اور انٹی کے دونوں مموں کو پکڑ کر لن انٹی کے مموں کے درمیان گھسا دیا اور ساتھ ھی آنٹی کو ممے پکڑ کر ساتھ ملانے کا کہا ۔
    آنٹی نے میری تقلید کرتے ھوے اپنے دونوں مموں کو پکڑ کر آپس میں ملا لیا اور میں آنٹی کے مموں میں لن گھسا کر گھسے مارنے لگ گیا ۔۔
    انٹی کے نرم ملائم مموں کو چودنے کا مزہ ھی الگ آرھا تھا ۔
    میرا ٹوپا انٹی کی ٹھوڑی کے ساتھ لگ رھا تھا اور لن روانی سے مموں کے درمیان سپیڈ سے چل رھا تھا ۔۔
    آنٹی بھی اس نئے طریقہ کو انجواے کررھی تھی میں لن کو مذید اگے کرتے ھوے ٹوپا انٹی کے ہونٹوں کے پاس لے جاتا ۔
    انٹی ہونٹوں کو بھینچ کر منہ ادھر ادھر کرنے لگ جاتی ۔۔
    میں نے انٹی کے سر کو پکڑا اور سر کو اوپر کرتے ھوے کہا آنٹی اپنے اس دیوانے کو تھوڑا سا چوم ھی لو ۔۔
    انٹی اوں ہوں کرنے لگ گئی میرے اصرار پر انٹی نے ہلکا سا ہونٹوں کو کھولا اور جب ٹوپا ہونٹوں کے پاس آتا تو انٹی ٹوپے کو ہونٹوں میں بھر کر چوسا لگا کر چھوڑ دیتی ۔
    انٹی جب ٹوپے کو چوسا لگاتی میری تو مزے سے جان نکلنے والی ھوجاتی ۔۔
    کچھ دیر ایسے ھی سین چلتا رھا ۔۔
    پھر انٹی نے سر پیچھے کرتے ھوے کہا کہ بس یاسر تھک گئی ھوں ۔۔
    میں نے بھی پیچھے ہٹنے کا سوچا اور آنٹی کے مموں سے لن نکال کر انٹی کی ٹانگوں میں گھٹنوں کے بل بیتھ گیا ۔۔۔
    اور آنٹی کی شلوار پکڑ کر اتارنے لگا تو شلوار نیچے نہیں ھورھی تھی آنٹی ہنستے ھوے بولی نالا تو کھول لو ۔۔۔
    میں نے غور کیا تو انٹی نے لاسٹک کی بجاے نالا باندھا ھوا تھا میں نے ٹٹول کر نالے کی گرا کا سرا پکڑا اور سرے کو ذور سے کھینچ دیا ۔
    میرا تو لن پھٹنے والا ھو چکا تھا اتنے دنوں سے بیچارے کو پھدی کا دیدار بھی نصیب نہیں ھوا تھا ۔
    وہ کہتے ہیں نہ کہ
    کالیاں اگے ٹوے۔۔۔۔
    ایسا ھی کچھ میرے ساتھ ھوا ۔
    پھدی میں لن ڈالنے کی بے صبری اور جلد بازی میں نالے کی گرا کے دوسرے سرے کو ذور سے کھینچ دیا گانٹھ کھلنے کی بجاے مزید ٹائٹ ہوگئی ۔۔۔
    میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا لن وکھری بدعائیں دینے لگ گیا ۔۔۔
    میں پھر جلدی جلدی میں گانٹھ کھولنے کی کوشش کرنے لگ گیا مگر سالی کھل ھی نہیں رھی تھی ۔۔۔
    تھک ہار کر دیسی نسخہ استعمال کرتے ھوے ۔
    میں پھدی کے پاس منہ لیجا کر جھکا اور پھدی سے نکلنے والی منی کی مہک کو نتھنوں میں کھینچتے ھوے نالے کی گانٹھ کو دانتوں میں لے کر ڈھیلا کرنے لگ گیا اور آخر کار کامیابی نے میرے قدم چومے اور میں نالا کھولنے میں کامیاب ھوگیا۔۔
    انٹی میری جدوجہد دیکھ کر ہنسی جارھی تھی ۔۔
    میں نے نالا ڈھیلا ھوتے ھی شلوار پکڑ کر نیچے کھینچی تو آنٹی نے بھی ہنستے ھوے جلدی سے گانڈ اتھا کر شلوار کو اترنے کے لیے راستہ دیا ۔
    شلوار اتار کر ایک طرف رکھی اور آنٹی کی ٹانگوں کو اتھا کر کندھوں پر رکھا تو انٹی دوہری ھوگئی ۔۔اور میں نے لن کو پکڑ کر پھدی کے اوپر سیٹ کیا تو
    اانٹی نے جلدی سے دونوں بازو سیدھے کیے اور میری رانوں پر ہاتھ رکھ دیے کے میں ایک ھی دم سارا اندر نہ کردوں ۔۔
    اور اسکا اظہار آنٹی نے زبان سے بھی کیا کہ یاسر ایکدم اندر نہ کرنا آرام آرام سے کرنا ۔۔۔
    میں نے اچھا کہتے ھوے ہلکا سا دھکا مارا تو لن کا ٹوپا ۔
    بھڑوووم کی آواز کے ساتھ پھدی میں گھس گیا اور انٹی کی انگلیوں نے میری رانوں کو گرفت میں لیتے ھوے میری ران کے گوشت کو دبا کر آنٹی نے منہ سے سییییییییییی کیا ۔۔
    میں نے پھر دوسرا ہلکا سا جھٹکا مارا تو لن تھوڑا سا اور اندر چلا گیا
    آنٹی کے منہ سے پھر کنوری بچی کی طرح اففففففففف سییییییی ہولییییییی نکلا ۔۔۔
    میں نے تیسرا گھسا مارا تو ادھا لن پھدی کے اندر چلا گیا ۔
    آنٹی کی پھدی ایکدم ٹائٹ تھی ۔۔
    یاں فیر آنٹی نے چپیییٹ وٹی ہوئی سی ۔۔۔۔
    لن کے گرد پھدی کی کافی گرفت تھی ۔۔
    آنٹی ساتھ ھی سر پیچھے لیجا ۔ھاےےےےےےےے کرتی ھوئی بولی
    یولی وےےےےےےےے ۔
    میں نے لن کو واپس کھینچا اور ٹوپا اندر ھی رہنے دیا اور پھر لن کو تھوڑا سا اندر کرتا اور پھر بایر نکال لیتا چھ سات دفعہ ایسے ھی کرکے آنٹی نوں آرے لایا ۔
    اور پھر ایک زوردار گھسا مار کر لن کو پھدی کے اندر گہرائی میں اتار دیا ۔
    آنٹی کی انکھیں اُبل کر باہر اگئیں اور آنٹی
    اوپھھھھھھھھھھھھھ مممممممممم مر دتا اییییییییی کرتی ہوئی ہونٹوں کو ذور سے بھینچ کر سر دائیں بائیں مارنے لگ گئی اور میری رانوں پر رکھے ھاتھوں کو ذور دے کر مجھے پیچھے کرتے ھوے گانڈ کو ہلا کر میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر ۔۔
    میں نے انٹی کی ٹانگوں کو اچھی طرح قابو کیا ھوا تھا. ۔۔
    کیسے نکلتی ۔۔۔
    میں کچھ دیر رکا اور پھر گھسے مارنے لگ گیا ۔۔
    انٹی میرے ہر گھسے پر
    آہ آہ آہ آہ آہ آہ ہولی وےےےے ہولی وےےےےے
    بوت درد ہُندی پئی اے ۔
    ھاےےےےےے آہ آہ اہ ۔۔
    کر رھی تھی جس سے مجھے مزید جوش چڑھ رھا تھا ۔۔
    پانچ منٹ کی چدائی کے بعد ھی انٹی کی ٹون چینج ھوگئی ۔۔
    اور آہیں سسکیوں میں بدل گئیں
    ناں ناں
    ہاں ہاں میں بدل گئی
    ہولی ہولی تیزتیز میں بدل گئی
    .

    میری بھی سپیڈ تیز ھوگئی انٹی کے ممے میرے تیز گھسوں سے سینے پر ڈانس کرنے میں مصروف تھے میرے گھسوں سے تھپ تھپ اور پھدی کے گیلے پن کی وجہ سے چپ چپ کی آواز رات کی خاموشی کو توڑ رھی تھی ۔۔
    ہم دنیا مافیا سے بیگانے چدائی میں لگے ھوے تھے ۔
    انٹی اب میرے ہر گھسے پر سسکاری بھرتے ھوے ۔۔
    سارا کردے سارا کردے سارا کردے ۔
    ہاں ہااااں اینج ای اینج ای مار
    ذور نال مار یاسرے ذور نال میری جان ۔
    ہٹ ہٹ کے مار میرے چن ہت یٹ کے مار ۔۔
    انٹی کی سیکسی آوازوں نے مجھے مذید ٹکنے نہ دیا ادھر آنٹی کی پھدی نے میرے لن کو جکڑا ادھر میرا لن پھولا.
    آنٹی کی پھدی نے پہل کی اور منی کی پہلی دھار میرے لن کے ٹوپے پر پھینکی ۔
    تو ساتھ ھی میرے لن نے بھی پھدی کے اندر ھی پچکاری ماری پھر دونوں اطراف سے منی کی برسات ھونا شروع ھوگئی ۔
    انٹی نے مجھے اور میں نے انٹی کو بازوں میں جکڑا ھوا تھا اور دونوں کی سانسیں بےترتیبی سے چل رہیں تھی اور کچھ دیر بعد ھی نڈھال ایک دوسرے کے اوپر چمٹے بےجان پڑے تھے کہ ۔۔۔۔۔


    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  16. The Following 15 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (29-12-2018), Admin (27-12-2018), irfan1397 (27-12-2018), love 1 (27-12-2018), Lovelymale (27-12-2018), MamonaKhan (27-12-2018), Mian ji (27-12-2018), Mirza09518 (27-12-2018), mmmali61 (29-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexeymoon (29-12-2018), StoryTeller (17-02-2019), waqastariqpk (28-12-2018), windstorm (27-12-2018), ZEESHAN001 (07-04-2019)

  17. #449
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    190
    Thanks Thanks Given 
    298
    Thanks Thanks Received 
    342
    Thanked in
    157 Posts
    Rep Power
    174

    Default

    شاندار اپڈیٹ
    ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  18. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    Xhekhoo (27-12-2018)

  19. #450
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,417
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Thanks for appreciate

    Quote Originally Posted by irfan1397 View Post
    شاندار اپڈیٹ
    ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Thanks Jani love you ,,,,,,,,,
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  20. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    windstorm (27-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •