سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 43 of 64 FirstFirst ... 3339404142434445464753 ... LastLast
Results 421 to 430 of 631

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #421
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    120
    Thanks Thanks Given 
    357
    Thanks Thanks Received 
    65
    Thanked in
    34 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    [COLOR="#FF0000"]Waaaah, boht zabardast update. Boht hi garam. Aur sath main mustaqbil ke feslay bhi.[/COLOR]

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (24-12-2018), Xhekhoo (23-12-2018)

  3. #422
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    161
    Thanks Thanks Given 
    227
    Thanks Thanks Received 
    275
    Thanked in
    129 Posts
    Rep Power
    171

    Default

    very romantic , hot and sexy update ,
    bohat Zaberdast aur lovely kahani ,
    waiting next update .

  4. The Following 2 Users Say Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    abba (24-12-2018), Xhekhoo (23-12-2018)

  5. #423
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    22
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    55
    Thanked in
    22 Posts
    Rep Power
    12

    Default

    Xhekhui g !
    Jani update ka bohat wait hai.
    Yara bar bar check krty hai k agay kya ho ga.
    Yaa b mantay hai k aap ki b personal life hai. Os ko b dekhna hai. Lakin yaa hamari aap sb writers sy mohabat hai jo aap ki tahreer ko tarasty rahtay hai. Aap ki update ka intezar rahay gaa.

  6. The Following 5 Users Say Thank You to zoooon For This Useful Post:

    abba (24-12-2018), CORDIAL (24-12-2018), Mian ji (24-12-2018), windstorm (24-12-2018), Xhekhoo (23-12-2018)

  7. #424
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    4
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    4
    Thanked in
    2 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    اب کہانی کو ختم کریں ورنہ مزہ خراب ہو جائے گا زوفی
    سے اب شادی کریں اور پھر اگے لے کے چلیں

  8. The Following User Says Thank You to nasirali1989 For This Useful Post:

    Xhekhoo (25-12-2018)

  9. #425
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    307
    Thanks Thanks Given 
    278
    Thanks Thanks Received 
    1,466
    Thanked in
    300 Posts
    Rep Power
    185

    Default

    Thanks to all brothers for appreciate
    Love u
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    mmmali61 (24-12-2018), sajjad334 (24-12-2018)

  11. #426
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    36
    Thanks Thanks Given 
    53
    Thanks Thanks Received 
    54
    Thanked in
    33 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    Xhekhoooo ggggggggggg Akhir aai hoi ae............Jaldi jaldi agli update sutto.

  12. The Following 2 Users Say Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    Mian ji (24-12-2018), Xhekhoo (24-12-2018)

  13. #427
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    307
    Thanks Thanks Given 
    278
    Thanks Thanks Received 
    1,466
    Thanked in
    300 Posts
    Rep Power
    185

    Default Update no 202..




    .ضوفی جھٹکے سے میرے اوپر سے ہٹ کر ایک طرف لڑھک کر گری اور میں نے بھی جلدی سے اپنے کپڑوں کی طرف ھاتھ بڑھایا اتنے میں دروازہ پھر زور زور سے بجایا جانے لگا ۔

    ضوفی نے بریزیر اٹھا کر بیڈ کے نیچے پھینکا اور قمیض پہنتے ھوے کانپتی اور تلخ آواز میں پوچھا کون ھے ۔۔۔

    دوسری طرف سے ماہی کی گبھرائی ہوئی آواز آئی آپی مما کو پتہ نہیں کیا ھوگیا ھے دروازہ کھولی ماہی کی آواز روہانسی تھی ۔

    ماہی کی بات سنتے ھی میں اور ضوفی گبھرا گئے اور جلدی سے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور ضوفی نے بھاگ کر دروزہ کھولا۔

    تو ماہی کھڑی روے جارھی تھی ۔میں بھی بیڈ سے چھلانگ لگا کر دروازے کی طرف بھاگا ۔

    ماہی مذید کچھ کہے نیچے بھاگ گئی اسکے پیچھے ضوفی اور میں تیزتیز سیڑیاں اترتے ھوے آنٹی کے کمرے میں پہنچے تو آنٹی چارپائی پر بے ہوش پڑی ھوئی تھی ۔۔

    ضوفی بھاگ کر آنٹی کے پاس پینچی اور امی امی کہہ کر آنٹی کو ہلانے لگ گئی ۔۔

    میں بھی آنٹی کے پاس پہنچا اور آنٹی کی ناک کے پاس ہاتھ کیا تو آنٹی کی سانس چل رھی تھی ۔

    میں نے ضوفی کو کہا حوصلہ کرو یار کچھ نہی ھوا آنٹی کو تم دوسری طرف جاکر آنٹی کی ہتھیلی کو ملو یہ کہتے ھوے میں نے آنٹی کا ہاتھ پکڑا اور ہتھیلی پر تیز تیز مالش کرنے لگ گیا میں نے ماہی کو کہا ماہی جلدی سے پانی لاو ۔۔

    ماہی کچن کی طرف بھاگی آنٹی کا جسم برف کی مانند ٹھنڈا ھوگیا تھا ۔۔

    ضوفی اور میں آنٹی کی ہتھیلیوں پر مالش کررھے تھے ۔

    ماہی پانی لے کر آئی تو میں نے پانی کا گلاس پکڑ کر اسے آنٹی کے پاوں پر مالش کرنے کا کہا ۔

    اور میں آنٹی کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگ گیا ۔

    کچھ دیر بعد آنٹی نے آنکھیں کھولنا شروع کردیں ۔

    ہم سب نے شکر ادا کیا اور میں آنٹی کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ھوے آنٹی سے بات کرنے لگ گیا ۔۔

    ضوفی آنٹی کے بازو اور ماہی آنٹی کی ٹانگیں دبانے میں لگی تھیں ۔

    کچھ دیر بعد آنٹی کی طبعیت کافی بہتر ھوگئی ۔

    آنٹی نے بتایا کہ انکا بلڈ پریشر لو ہوگیا تھا ۔۔

    پیشاب کرنے کے لیے اٹھی تو چکرا کر گرگئی یہ تو شکر ھے کہ ماہی کمرے میں ھی تھی اور جاگ رھی تھی ۔۔

    میں نے ضوفی کو کہا کہ میں رکشہ لے کر آتا ھوں ۔

    میں اٹھنے لگا تو آنٹی نے میرا بازو پکڑ لیا اور بولیں کہ نہیں بیٹا میں اب بلکل ٹھیک ھوں جیتے رھو ۔۔

    میں نے کافی دفعہ کہا کہ ہسپتال ایک دفعہ چیک کروا آتے ہیں ۔

    مگر آنٹی نہ مانی اور ویسے بھی بارہ ایک بج چکا تھا اس وقت کونسا ڈاکٹر ملنا تھا ۔

    کچھ دیر مذید ہم بیٹھے باتیں کرتے رھے ۔

    ضوفی نے آنٹی کو بتایا کہ یاسر کو ہم نے منالیا ھے دکان کے لیے آنٹی بہت خوش ہوئیں ۔

    اور مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتی رہیں ۔۔

    پھر آنٹی بولی جاو تم لوگ سوجاو صبح دکان پر بھی جانا ھے مجھے بھی نیند آرھی ھے اور میری طبعیت اب بلکل ٹھیک ھے ۔۔

    ماہی بولی آپی آپ بیٹھک میں سوجائیں بھائی اوپر سوجاے گا ۔

    اور میں امی کے پاس ھی لیٹ جاتی ہوں ۔۔

    ماہی ہم دونوں سے بات کرتے ھوے چونک کر کبھی ضوفی کے ہونٹ کی طرف دیکھتی تو کبھی میرے ہونٹ کی طرف ۔

    ہم دونوں کو بھی اسکے چونکنے کا اندازہ ھوچکا تھا اس لیے میں اور ضوفی بہانے سے کبھی چہرہ دوسری طرف کرتے تو کبھی بہانے سے ہاتھ ہونٹوں پر رکھ لیتے ۔

    ماہی ہمیں سونے کی جگہ بتاتے ھوے میری طرف دیکھ کر بولی ٹھیک ھے نہ بھائی آپ کو اوپر نیند آجاے گی ناں۔اااااا

    ماہی کی ناااااں کو لمبا کرنا اور شرارتی انداز ۔

    میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کیوں کہہ رھی ھے ۔کیونکہ ضوفی کو نیچے سونے کا جو کہا ھے ۔۔

    میں نے شرمندہ سا ھوکر کہا ہہہہہااں ہاں میں سوجاوں گا ڈونٹ ویری ۔

    اور اسکے ساتھ ھی

    میں اٹھا اور ایک دفعہ پھر آنٹی کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر انکی خیریت دریافت کی اور انکے ماتھے کا بوسا لیا۔۔

    نجانے کیوں آنٹی سے مجھے ممتا کی خوشبو آتی تھی ۔

    آنٹی تھی بھی بڑی نرم دل اورمحبت کرنے والی مجھے دیکھ کر انکر چہرہ ایسے کھل جاتا جیسے میں انکا اصلی بیٹا ھوں ۔

    اور آنٹی سے مل کر مجھے لگتا جیسے آنٹی میری سگی ماں ہیں ۔۔۔

    خیر۔

    میں کمرے سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھتا ھوا اوپر کمرے میں چلا گیا اور دروازہ ویسے ھی بند کردیا لاک نہ کیا ۔

    اور سیدھا اٹیچ واش روم میں چلا گیا اور کپڑے اتار کر پہلے شلوار کو اچھی طرح صابن سے دھویا اور پھر نہا کر قمیض پہنی اور شلوار کو ویسے ھی ہاتھ میں پکڑے باہر آگیا۔۔

    واش روم سے باہر نکلتے ھوے میری نظر بیڈ کے نیچے جھکی ضوفی پر پڑی ۔

    وہ گھٹنوں کے بل گانڈ پیچھے کیے ھوے بیڈ کے نیچے ہاتھ مار کر کچھ تلاش کررھی تھی ۔۔

    واش روم کا درواز کھلنے کی آواز سے ضوفی بھی چونک کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔

    میں قمیض پہنے شلوار ہاتھ میں پکڑے باہر آگیا ۔

    اور مسکرا کر ضوفی کی طرف دیکھتے ہوے بولا کیا تلاش کررھی ھو ۔۔

    ضوفی بولی ووووہ میرا ۔۔۔۔۔

    میں نے کہا کیا تمہاراااا۔

    ضوفی شرمندہ سی ھوکر مجھے جواب دینے کی بجاے ۔پھر نیچے سر کرکے جھکی اور بازو بیڈ کے نیچے گھسا کر کچھ پکڑنے کی کوشش کرنے لگی ۔

    مگر شاید وہ اسکے ہاتھ کی پہنچ سے دور تھا ۔۔

    میں ضوفی کے قریب آیا اور پاوں کے بل بیٹھ گیا اور شلوار بیڈ پر رکھ کر اسکو کہا پیچھے ہٹو میں نکال دیتا ھوں ۔۔

    ضوفی بولی ننننہیں رہنے دو میں صبح نکال لوں گی ۔۔

    میں نے شرارت سے کہا کیاااااا

    ضوفی مجھے دھکا مارتے ھوے بولی ۔۔

    تم اتنے چوچچچچے کیوں بنتے ھو ۔

    جیسے کسی چیز کا پتہ نہ ھو ۔۔

    میں پہلے ھی پنجوں کے بل ضوفی کے سامنے بیٹھا ھوا تھا ۔

    ضوفی نے جب مجھے دھکا دیا تو میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور باہیں پھلاتا ھوا پیچھے جاگرا.

    گرتے وقت میری قمیض آگے سے اوپر ہوگئی اور میری ناف سے پیروں تک کا حصہ ننگا ھوگیا ۔۔

    ضوفی کی نظر جیسے ھی میرے لن پر پڑی تو ضوفی نے جلدی سے دونوں ھاتھ آنکھوں پر رکھ لیے اور کھڑی ھوکر منہ دوسری طرف کر کے کھڑی ھوگئی ۔۔

    میں ویسے ھی سٹیچو کی طرح ٹانگیں اوپر کو کھولے اور بازوں چھت کی طرف کیے لیٹا ھوا تھا ۔۔

    میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا

    بڑی ظالم ھو ایک تمہاری مدد کرو اوپر سے دھکے بھی کھاو ۔

    اور دھکا دے کر اٹھانے کی بجاے منہ مروڑ کر کھڑی ھوگئی ھو ۔۔

    ضوفی دوسری طرف منہ کر کے ھی بولی ۔

    بہت ڈرامے باز ھو اتنی ذور سے تو نہیں میں نے دھکا دیا تھا جتنی تیزی سے تم گرے ھو۔۔

    میں نے ضوفی کی طرف باہیں پھیلا کر کہا اچھا اب اٹھا تو دویار۔۔

    ضوفی بولی میں نے نہیں اٹھانا بےشرم کمرے میں بھی ننگے پھر رھے ھو دروازہ تو لاک کرلیتے ۔۔۔

    میں ھاےےےےے کرتا ھوا نیچے سے اٹھا اور بولا دروازہ کھلا تو تمہارے لیے چھوڑا تھا مجھے پتہ تھا کہ تم آو گی ۔

    اگر دروازہ بند ھوتا تو تم نے دروازے سے ہی پلٹ جانا تھا ۔۔

    ضوفی بولی کیوں جی مجھے کمرے میں بلوا کر کیا کرنا تھا اب میں اٹھ کر کھڑے ھوتے ھوے بولا ادھورا کام مکمل کرنا تھا۔۔

    ضوفی گھوم کر میری طرف دیکھ کر مصنوعی غصے سے بولی ۔

    کیڑا ادھورا کممممممم

    میں نے باہیں ضوفی کی طرف پھیلائیں اور اسکی طرف سلو موشن میں چلتاھوا بولا۔

    بتاتا ھوں جان من ۔۔

    ضوفی پلٹ کر دروازے کی طرف بھاگنے لگی تو میں سلوموشن میں چلتا ھوا بجلی کی سی تیزی سے بھاگا اور ضوفی کو پیچھے سے جپھی ڈال لی ضوفی ہنستے ھوے بولی ۔

    چھوڑو مجھے بدمعاش کہیں کے ۔۔

    میں نے کہا ۔

    ایسا موقع کون سا جلدی نصیب ھوتا ھے ۔

    ضوفی بولی نصیب کے بچے دروازہ تو بند کرنے دو ۔

    میں نے دروازے کی طرف دیکھا تو واقعی دروازہ کھلا ھوا تھا میں نے جلدی سے ضوفی کو چھوڑا ضوفی آہستہ آہستہ چلتی ھوئی دروازے کی طرف بڑھی میں ادھر ھی کھڑا اسے دروازے کی طرف جاتے دیکھ رھا تھا ضوفی دروازے کے پاس پہنچی اور ہینڈل کو پکڑ کر میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ اوپر کر کے ٹا ٹا ٹا کر کے جلدی سے باہر نکلی اور سیڑھیاں اترتی ھوئی نیچے بھاگ گئی ۔

    اور میں وہیں بت بنا اسے جاتا دیکھتا رھا۔۔۔

    کچھ دیر بعد میں مایوسی سے چلتا ھوا دروازے کے پاس گیا اور دروازہ ویسے ھی بند کر کے بیڈ کے پاس پہنچ کر بیڈ پر اپنے آپ کو گرا دیا ۔

    کافی دیر میں ایسے ھی لیٹا سوچوں میں گم رھا پھر اٹھ کر شلوار پہنی اور اچھے بچے کی طرح چپ کر کے لیٹ گیا۔۔۔۔

    صبح مجھے ضوفی نے اٹھایا کہ جلدی اٹھ جاو ٹائم دیکھو کتنا ھوگیا ۔۔

    میں نے انگڑائی لیتے ھوے آنکھیں کھولیں تو ضوفی میرے اوپر جھکی ہوئی تھی اور اسکے گیلے بالوں سے پانی کی بوندیں میرے منہ پر گررہیں تھیں ۔

    میں نے آنکھوں کو پورا کھولا اور انگڑائی کے لیے اٹھے بازوں کو ضوفی کی گردن میں ڈال کر اسکے کھلتے گلاب جیسے چہرے کو اپنے ہونٹوں کے قریب کیا اور اسکی ہونٹوں پر کس کی اور بولا رات کو مجھے بیوقوف بنا کر بھاگ گئی تھی نہ ۔

    کوئی گل نئی۔۔

    ضوفی نے میرے ہونٹوں کو چوما ۔

    ضوفی کا ہونٹ اب بھی ہلکا سا سوجا ھوا تھا ۔

    ضوفی اپنے ہونٹ پر انگلی سے مساج کرتے ھوے بولی ۔

    ظالم یہ دیکھو تم نے رات کو کتنا برا کاٹا تھا ۔

    ماہی نے دو تین دفعہ مجھے پوچھا ھے کہ ہونٹ پر کیا ھوا ھے ۔۔

    میں نے اپنے نچلے ہونٹ کو باہر نکال کر کہا یہ دیکھو تم نے کونسا مجھے بخشا تھا۔۔

    ضوفی میرے ہونٹ کو انگلی سے سہلاتے ھوے سوری بولنے لگی ۔

    میں نے اسکی گردن کو مزید نیچے کرتےھوے کہا خالی سوری سے کام نہیں چلنا

    زخم دیا ھے تو اس پر ملہم لگا کر علاج بھی کردو۔

    ضوفی نے اپنی گلاب کی پنکھڑیوں کو میرے ہونٹ پر رکھ کر پنکھڑیوًں کا عرق لگایا اور بولی بس اور میں نے سر اٹھا کر اسکے ہونٹ کو چوما اور اسکی گردن سے بازو نکال لیے ۔

    تو ضوفی سیدھی ھوکر گیلے بالوں کو دونوں ھاتھوں سے جھٹک کر پیچھے کرتے ھوے بولی اب اٹھ کر فریش ھوجاو میں ناشتہ لگاتی ھوں اور یہ کہتی ھوئی ضوفی کمرے سے باہر چلی گئی اور میں لیٹا لمبے لمبے سانس کھینچ کر اسکے گیلے جسم اور گیلے بالوں سے اٹھتی دھیمی دھیمی مہک کو اپنے اندر کھینچتا رھا ۔۔ی

    اور پھر اٹھا اور نہا کر فریش ھوا اور نیچے چلا گیا اور کچھ دیر آنٹی کے پاس بیٹھا انکی طبعیت کے بارے میں پوچھتا رھا ۔

    اور پھر ماہی نے ناشتہ کرنے کا کہا میں اٹھ کر باہر ٹی وی لاونج میں آگیا اور پھر ہم نے ناشتہ کیا اور کچھ ھی دیر بعد میں اور ضوفی بازار کی طرف نکل پڑے ضوفی نے مارکیٹ مالک کے گھر چھوڑنے اور دوپہر کو آنے کا کہا میں ضوفی کو مالک دکان کے گھر چھوڑ کر خود دکان پر پہنچا دکان کھلی ھوئی تھی ۔

    انکل اور جنید دکان پر تھے ان سے سلام دعا کے بعد کام میں مصروف ھوگئے ۔

    کچھ دیر بعد میں نے علیحدہ ھوکر جیند سے دکان لینے اور کام کرنے کا کہا تو جنید حیران پریشان ھوگیا کہ ایکدم اتنی بڑی تبدیلی کیسے میں نے کہا بس یار جب اوپر والا مہربان ھوتا ھے تو ہر ناممکن کام ممکن ھوجاتا ھے ۔

    جنیدمجھ سے پوچھتا رھا کہ پیسے کہاں سے آے میں نے اسے گاوں کے دوست کا بتایا کہ اس نے پیسے لگانے ہیں اور کام میں نے کرنا ھے ۔۔

    خیر کافی باتوں کے بعد جنید کو یقین ھوگیا اور وہ بہت خوش ھوا اور مجھے مبارک باد دینے لگ گیا کہ یار بڑے خوش قسمت ھو کہ اوپر والے نے اتنی جلدی تیری سن لی ۔۔

    اور دوپہر کو میں سیدھا پارلر پر پہنچا تو ضوفی بڑی خوش نظر آئی اور اندر جاتے ھی مجھ سے لپٹ گئی اور خوشی سے میری آنکھوں کے سامنے دکان کی چابی لہرانے لگی ۔۔

    اور کچھ دیر ہم بیٹھے باتیں کرتے رھے ۔

    پھر ضوفی نے مجھے کہا کہ میرے ساتھ بنک تک چلو وھاں سے پیسے نکلوانے ہیں ۔

    میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔

    کچھ دیر بعد ہم بنک پہنچے ضوفی نے ایک چیک مجھے پکڑایا اور بولی یہ کیش کروا لو ضوفی ایک طرف بیٹھ گئی میں کاونٹر ۔پر گیا اور پچاس ہزار کی رقم نکلوا کر چھ سات دفعہ گنتی کی اور پیسے پورے کر کے کاونٹر سے واپس ضوفی کی طرف آگیا اتنی بڑی رقم میں نے پہلی دفعہ دیکھی تھی اتنے پیسے ہاتھ میں پکڑ کر میری فیلنگ ھی الگ تھی ۔۔

    پیسے میں نے ضوفی کی بڑھاے تو ضوفی بولی جناب اسے جیب میں ڈالو اور صبح سے دکان کی سیٹنگ شروع کروا دو ۔۔

    میں نے کہا نہیں ضوفی اتنے ذیادہ پیسے مجھ سے نہیں سنبھالے جانے تم انکو اپنے پاس رکھو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوئی میں تم سے لیتا رہوں گا ۔۔۔

    ضوفی نے اوکے کیا اور پیسے پکڑ کر اپنی اے ٹی ایم مشین میں رکھ لیے اور ہم بنک سے نکل کر مارکیٹ پہنچے میں نے دکان کا تالا کھولا اور شٹر اوپر کیا تو آس پاس والے دکاندار چونک کر میری طرف اور ضوفی کی طرف دیکھنے لگ گئے ۔۔

    خیر ہم دونوں نے دکان کا اندر سے جائزہ لیا اور ۔پھر فرنیچراور دکان کو کیسے ڈیکوریٹ کرنا ھے ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگ گئے ۔

    تقریبا ایک گھنٹے کے سوچ بچار کے بعد حتمی پلان کیا اور دکان سے نکل کر ہم نے شٹر بند کیا اور نیچے پارلر میں آگئے۔

    ضوفی سے اجازت لی اور دکان کا فرنیچر بنوانے والے کی طرف جانے کا کہہ کر میں نکلنے لگا تو ضوفی نے مجھے پانچ ہزار دیا کہ ان سے بات پکی کر کے انکو بیانہ دے دینا اور ان سے سامان لکھوا لینا جو جو چاہیے وہ کل لے آنا آج تو لیٹ ھوجاو گے ۔۔۔

    میں نے ہمممم کیا اور پیسے پکڑ کر دکان کی طرف چل دیا دکان پر پہنچا تو انکل کچھ تلخی سے بولے کہ اتنی دیر کہاں لگا دی دکان پر اتنا رش پڑ گیا تھا ۔

    یار کچھ تو اپنے آپ خیال کرلیا کرو۔۔

    میں نے کہا انکل جی میں اپنے لیے دکان کی بات کرنے گیاتھا ۔

    میں اپنی دکان بنانے لگا ہوں ۔

    انکل کا منہ ایکدم کھلے کا کھلا رھ گیا ۔۔

    اور پھر جنید کی طرح انکو بھی سمجھانا پڑا مگر فرق صرف یہ تھا کہ انکو شہر کے کسی دوست کا بتایا جس کے ساتھ کام شروع کرنا تھا ۔

    انکل اوپر اوپر سے خوش دیکھائی دیے مگر اندر سے انسے حسد کی بو ارھی تھی ۔

    پہلے تو وہ یہ کہتے رھے کہ تم سے ابھی کام نہیں ھونا ابھی تم اس قابل نہیں ھوے نقصان اٹھاو گے کام ایسے اتنی جلدی نہیں چلتے اپنے دوست کا نقصان کرو گے وغیرہ وغیرہ ۔

    مختصرا خوب ساڑ بکا۔۔۔۔

    چار بجے میں نے جنید کو کہا یار مجھے کچھ دن کے لیے تمہاری مدد کی ضرورت ھے ۔

    اگر تم مناسب سمجھو تو ۔۔

    جنید مجھے مکا مارتے ھوے بولا

    چولاں نہ ماریا کر یار ۔۔

    سدھی بکواس کریا کر کہ میرے واسطے کی حکم اے ۔۔

    میں نےکہا یار مجھے دکان کے سیٹنگ کے لیے اچھے کاریگر چاہیے اور تجھے تو کافی عرصہ ھوگیا ھے اس فیلڈ میں اور انسے پیسے وغیرہ بھی طے کر سکتے ھو اور کون اچھا کام کرتا ھے یہ بھی تجھےعلم ھوگا ۔

    جنید بولابسسسسسس

    اے کیڑا کم اےیار ۔

    میں بولا۔

    سالیا ہور میں تیرے کولوں بندا مروانا اے۔

    جنید بولا یار لوڑ پئی تے بندا وی مار دیواں گے بندیاں نوں وی بندے ای ماردے نے۔

    میں نے ہنستے ھوے کہا۔

    بےجاماما

    ایڈا توں اکری بدمعاش۔۔

    جنید بولا ۔

    اکری میرے لن تو واریا اودی پین دے پچھے تیرااااااا۔

    جنید ایکدم چپ ھوگیا۔۔۔

    میں نے بھی اکری کی بہن کا سن کر چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔
    اور بڑے تجسس سے جنید سے پوچھا کیا ھے اکری کی بہن کو ۔۔۔

    جنید گبھرا کر بولا کش نئی بس ایویں مزاق چ منہ وچوں نکل گیا۔۔

    میں نے کہا ماما ہن میرے کولوں وی گلاں لکاویں گا بس اے ھی یاری اے ۔۔۔

    جنید بولا نہیں یار ایسی بات نہی ھے میں نے اسکی بات کاٹتے ھوے کہا تو پھر بتا کیا ھے اسکی بہن کو ۔

    کہیں اسکے ساتھ تیرا چکر تو نہیں چل رھا ۔۔

    جنید گبھرا کر میرے پٹ پر ہاتھ رکھ کر دباتے ھوے بولا

    سالیا ہولی پونک کیوں مینوں مروانا اے ۔۔

    میں نے آہستہ سے پوچھا بتا پھر ۔۔

    جنید بولا سالیا تیرے کولوں صبر نئی ہوندا اینج کرن لگ پیاں ایں جیویں او تیری باجی اے ۔۔

    میں نے ہنستے ھوے کہا پھدی دیا میری باجی تیری وی تے باجی ای لگی ۔۔۔

    جنید بولا تے فیر مُٹھ رکھ جدوں کلے ہوے دس دیواں گا ۔۔۔

    میں نے بھی پھر ذیادہ اس موضوع پر گفتگو نہ کی ۔

    اور پھر جنید بولا چل فیر اک مستری ھے اودے کول چلدے آں۔۔۔

    اور پھر ہم دونوں انکل کی موٹر سائیکل لے کر ایک مستری کے پاس گئے اسےساتھ لےکر ہم شاہین مارکیٹ پہنچے ۔

    کاریگر نے دکان کا جائزہ لیااور میں اسے سیٹنگ کا نقشہ سمجھانے لگ گیا

    کچھ ڈریکشن جنید اور مستری نے بھی دی جو مجھےکافی پسند آئی جس سے دکان کی سیٹنگ مذید اچھی بن سکتی تھی ۔۔

    پھر جنید نے کاریگر سے اسکی مزدوری طے کی جو میری اور ضوفی کی سوچ سے کافی کم تھی ۔۔

    میں نے چار ہزار اسکو بیانہ دیا اور اس نے پندرہ دن

    کا ٹائم لیا کہ اتنے دن لگ جانے ہیں ۔

    اور پھر اس سے سارے سامان کی لسٹ لکھوائی ۔

    کاریگر کہتا رھا کہ میں ساتھ چلوں گا سامان لینے ۔

    مگر جنید نے مجھے آنکھ ماردی تھی کہ اسے خود ھی لانے کا کہہ دے میں نے اسے بہانہ کیا کہ میرے چاچو کی اپنی دکان ھے اس لیے تم پریشانی مت لو جو چیز نہ پسند ہو وہ واپس کردیں گے اس لےتو کل اپنے ہتھیار وغیرہ لے کر دکان پر پہنچ جانا ۔۔

    باقی سامان کل دس گیارہ بجے پہنچ جاے گا۔۔

    مستری سے اوکے کر کے ہم دکان پر پہنچے تو انکل کی سڑی سڑیجنید کو سننے کو ملی

    وہ کہتے ہیں نہ کہ کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ۔

    انکل سنا مجھے رھے تھے اور بول جنید کو رھے تھے ۔۔۔

    خیر ہم دکان میں بیٹھ گئے ۔۔

    میں نے جنید سے سوری کی کہ یار میری وجہ سے تیری بےعزتی ھوئی ۔

    جنید بولا

    ماما پیلے کیڑا میرے تے چادراں چڑدیاں نے ۔

    اینی تے روز کروں کرا کے آنا ایں ۔۔

    میں نے ہنستے ھوےکہا

    اچھااااا

    چلو فیر خیر اے۔۔

    جنید مجھے ٹانگ مارتے ھوے بولا

    سالیا اک میری بےعزتی ھوئی الٹا خیر اے کہہ کے جان چھڑوان دیاں ایں ۔۔

    میں وی تیرے کول ای آجانا اے ۔

    بنڈ مار اے ھو جئے مالک دی ۔۔

    میں نےکہا

    سوواری آ یارا

    تیری اپنی دکان اے ۔۔۔

    میرا بھی ذہن تھا کہ جنید کو اپنے پاس رکھ لوں گا بڑا کام کا یار تھا

    اور مخلص بےلوث۔۔۔

    اور جنید نے میرے دل کی بات کردی ۔

    میںنے جنید کو کہا تو بس پھر تیار رہنا بلکہ تم اسی مہینے اس سے حساب کرلینا ۔۔

    جنید نے بھی اوکے کیا ۔۔

    اور میں نے جنید کو کہا کہ یار وہ کیمرہ تم فلحال گھر لے جاو ۔

    جب مجھےضرورت پیش آئی تجھے بتا دوں گا کیوں کہ اب کچھ دن تو میں بہت مصروف رہوں گا ۔۔

    جنید بولا چل یہ بھی سہی ھے میں. اسے کیمرہ واپس کردیتا ھوں جب ضرورت ھوئی تو اس لے لوں گا ۔

    میں نے کہا یار یہ نہ ھو کہ وقت پڑنے پر کیمرہ ھی نہ ملے جنید بولا نوٹینشن یار وہ بھی اپنا جگر ھے۔۔

    آدھی رات کو بھی ضرورت پڑی تو وہ سالا خود دے کر جاے گا ۔۔۔

    میں نے ہممممم کیا اور جنید کے ساتھ کل کا پروگرام بنایا اور شام چھ بجے انکل سے پکی پکی چھٹی اور ان سے کمی کوتاہی کی معافی مانگ کر الوداع کہہ کر زندگی کے نئے سفر کی طرف چل پڑا۔ ۔




    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  14. The Following 11 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (26-12-2018), abkhan_70 (25-12-2018), irfan1397 (25-12-2018), Lovelymale (26-12-2018), MamonaKhan (25-12-2018), Mian ji (25-12-2018), Mirza09518 (27-12-2018), mmmali61 (25-12-2018), sexliker909 (26-12-2018), waqastariqpk (25-12-2018), windstorm (25-12-2018)

  15. #428
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    307
    Thanks Thanks Given 
    278
    Thanks Thanks Received 
    1,466
    Thanked in
    300 Posts
    Rep Power
    185

    Default Update no 203...



    update..

    .میں سیدھا ضوفی کے پاس پہنچا اسے ساری تفصیل بتائی اور سامان کی لسٹ بھی دیکھائی ضوفی کافی خوش ہوئی کے بڑے مناسب پیسے طے کئے ہیں کاریگر سے ۔۔

    اور کچھ دیر میں ضوفی کے پاس بیٹھا دکان کے مطلق باتیں کرتا رھا ۔

    اور پھر ضوفی کو گھر چھوڑا اور آنٹی سے انکی صحت دریافت کرنے کے بعد میں گاوں پہنچا امی پہلے تو کافی غصے ھوئیں اور گھر داخل ھوتے ھی برس پڑیں کہ تجھے کسی کی فکر نہیں ھے جب دل کرتا ھے رات باہر رہنے لگ جاتا ھے اور نواب ساب فون کر کے اطلاع بھجوا دیتا ھے ۔

    میں ساری رات نہیں سوئی تیری فکر لگی رھی ۔

    امی سے چنگی تسلی بخش بےعزتی کروانے کے بعد میں امی کے گلے میں باہیں ڈال کر امی کو دکان کی خوشخبری سنانے لگ پڑا امی پہلے تو حیران پریشان ناقابل یقین انداز سے میری طرف دیکھتی رہیں اور پھر جب میں نے امی کو قسمیں کھا کر یقین دلوایا تو امی خوشی سے نہال ہونے لگ گئیں اور ابو اور آپی کو آواز دے کر انکو خوشخبری سنانے لگ پڑیں ۔

    ابو اور آپی کا بھی وہ ھی حال تھا کہ

    جیسے کھسرے کے گھر بچہ ھوگیا ھو ۔

    انکو بھی بڑی مشکل سے یقین دلایا ۔۔

    امی ابو خوشی کے ساتھ کچھ پریشان بھی ھوے کہ تم بہت بڑا رسک لے رھے ھو اگر کچھ الٹا سیدھا ھوگیا تو ہماری تو اتنی اوقات بھی نہیں ھے کہ ہم اتنے پیسے بھر سکیں ۔

    میں نے کافی محنت مشقت سے انکو یقین دلوایا کہ دکان بڑی موقع کی ھے مین بازار میں ھے کام بہت اچھا چلے گا بس آپ دعا کریں کے کسی کی نظر نہ لگے ہماری خوشیوں کو اب بہت جلد ہمارے اچھے دن شروع ھونے والے ہیں ۔

    ایسے ھی ہم رات گئے تک شیخ چلی کے سپنے سجاتے رھے

    پکا اور گلی میں سب سے اونچا مکان ٹیلی فون بیٹھک میں صوفے دیواروں پر پردے موٹرسائکل آپی کی دھوم دھام سے شادی پھر کوٹھی کار وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔

    خیر صبح میں جلدی اٹھا اور فریش ھوکر ناشتہ کرکے سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا اسے ساتھ لیا اور واپس مارکیٹ پہنچ کر اس سے پیسے لے کر میں واپس ضوفی کے محلے کی طرف چل دیا کیونکہ جنید ابھی گھر ھی تھا اسے ساتھ لے کر میں پھر واپس مارکیٹ پہنچا دکان کھول کر خالی دکان کا پھر جائزہ لینے لگ گئے۔

    کچھ دیر بعد کاریگر بھی کھوتی ریڑی پر اپنا سامان لادھے پہنچ گیا ۔

    اسکا سامان اتار کر دکان کے اندر رکھوایا ادھر ادھر کہ دکاندار مجھے مبارک باد دینے آے ۔

    کہ بڑی اچھی دکان ملی ھے اور کام کا سن کر سب نے ھی کہا کہ یہ کام بہت اچھا چلے گا ۔۔

    خیر کاریگر کو چھوڑ کر ہم سامان لینے چلے گئے ۔

    تین چار دکانوں سے سارے سامان کا بل بنوایا اور پھر ایک دکان کا سب سے مناسب ریٹ لگا تو اس سے الماریوں کے لیے شیٹیں اور شیشے اور باقی کا سارا چھوٹا موٹا سامان لیا شیشے ابھی ادھر ھی رکھوا دیے کے بعد میں لے جائیں گے اور باقی کا سارا سامان ریڑھی پر رکھوا کر دکان پر پہنچایا ۔۔

    پیسے کم پڑ گئے تھے ضوفی نے مزید پیسے نکلوا کر مجھے دیے ۔۔ایسے ھی دن گزرتے گئے ۔۔

    ان دنوں میں میری ساری توجہ دکان کی طرف تھی میں سب کچھ بھول کر صرف دکان کی سیٹنگ کروانے اور جلد ازجلد کام شروع کرنے پر فوکس کیے ھوے تھا ۔۔۔

    ضوفی کے گھر رات رہنے کا موقع نہیں ملا ویسے اس سے ہلکی پھلکی کسنگ جپھی شپھی ھوجاتی ۔

    ان دنوں آنٹی فوزیہ کے گھر بھی نہیں جاسکا ۔۔

    صدف کا تو ویسے ھی اتا پتا نہیں تھا کیوں کہ وہ بھی سکول چھوڑ چکی تھی ۔

    اور نہ ھی کافی دنوں سے فرحت کے ساتھ ملاقات ھوسکی ۔۔

    ان تمام دنوں میں کچھ خاص نہ ھوا طوالت کے ڈر سے جسکو لکھنا ضروری نہیں سمجھتا

    خیر چند ھی دنوں بعد دکان کی شاندار سیٹنگ ھوگئی ۔۔

    میں نے دکان کا شٹر آدھا بند ھی رکھا ۔۔

    کہ ساری سیٹنگ کرکے مال وغیرہ ڈال کر جب افتتاح کروں گا تو تب ھی سب دکان کو اندر سے دیکھیں گے ۔۔

    بوتیک کی سیٹنگ ایسی تھی کہ پورے بازار میں ایسی سیٹنگ کسی بوتیک کی بھی نہیں تھی ۔مہری کی مما کے بوتیک کی سیٹنگ بھی میں نے دیکھی ھوئی تھی جو کہ بڑی شاندار تھی مگر میں نے اس سےبھی اچھی سیٹنگ کروائی تھی کیونکہ لاہور جب ہم شاپنگ کے لیے انار کلی گئے تھے تو ادھر میں نے کچھ بوتیک دیکھے تھے بس اندازے سے ان سے ملتی جلتی ساری سیٹنگ کروائی۔۔

    جس میں ٹرائی روم ایک سٹور شاندار الماریاں جو تقریباً شیشے کی تھیں سٹیچو کے لیے بڑے بڑے ریک باقی ہینگرز کے لیے ایک طرف ہکیں باہر بھی ایک بڑے سائز کا شوکیس جس میں سٹیچو کھڑے کرنے تھے ۔۔

    فرنٹ پر بھی سارا فریم شیشے کا

    مختصراً کہ اس دور کے حساب سےاپنی اوقات سے بڑھ کر سیٹنگ کی ۔



    دوستو ان دنوں میں ایک لاکھ کے قریب صرف سیٹنگ پر ھی خرچہ آیا جو آج کے دور میں بڑی خطیر رقم بنتی ھے ۔۔

    اور سارا خرچہ ضوفی کا ھی ھورھا تھا ۔جسے وہ خوش ھو کر اور مجھ سے بھی ذیادہ شوق سے لگا رھی تھی ۔۔

    دوستو سفید پوش لوگ ایسے ھی ھوتے ہیں دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں اسکے پاس کتنا پیسہ ھے مگر اندر
    کے معاملات کا اسے ھی پتہ ہوتا ھے کچھ لوگ یہ بھی سمجھ رھے تھے کہ میں بہت امیر ھوں کچھ دکاندار یہ بھی سمجھ رھے تھے کہ پالر والی نے مجھے امیر سمجھ کر پھنسایا ھوا ھے اور مجھ سے مال کھا رھی ھے ۔

    جتنا جسکا ظرف تھا اتنا وہ ہمارے بارے میں سوچ رھا تھا ان میں سے ایک انکل سجاد بھی تھے جو یہ سوچ رھے تھے کہ میں نے اور جنید نے مل کر انکی پھٹی لکھی ھے اور انکی دکان کو لوٹ کر اب خود کی دکان بنا لی ھے ۔۔

    مختصرا ہر کو نیگٹیو ھی سوچ رھا تھا

    خیر

    جنید نے میرا بڑا ساتھ دیا میری وجہ سے اس بےچارے کی انکل سجاد کے ساتھ منہ ماری بھی ھوگئی دکان سے غائب رہنے کی وجہ سے ۔

    جنید نے انکل سے حساب کرلیا تھا اور اسکو دکان سے جواب دے دیا تھا۔۔

    جنید کے جواب دینے کے بعد انکل سجاد نے ادھر ادھر کے دکانداروں کے ساتھ کافی ساڑ بکا تھا ۔۔

    مجھے جب جنید نے بتایا کہ دکان سے فارغ ھوگیا ہوں تو میں نے اسی دن

    ضوفی سے مشورہ کرنے کے بعد اسکی اجازت سے میں نے جنید کو اپنے پاس آنے کی آفر کردی اور معقول تنخواہ بھی رکھ دی جسے اس نے خوشی سے قبول کیا اور پھر۔۔

    ضوفی کے ھی کہنے پر میں اور جنید لاہور گئے مارکیٹ اور دکانوں کا ہمیں پہلے ھی ایسے پتہ تھا کہ ۔

    ہم نے انکل کی دکان پر مال کے بلوں پر سے مارکیٹ کے نام اور دکانوں کے نام نوٹ بھی کرلیے تھے اور ذہن نشین بھی ۔۔۔۔۔۔

    جب میں لاہور کے لیے نکلا تو میرے پاس مال لینے کے جو پیسے تھے اتنے پیسے تو میں نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے ضوفی نے سارا زیور بھی بیچ دیا تھا اور بنک میں سے ساری جمع پونجی نکال کر مجھے دے دی تھی

    میں نے ضوفی سے ھی بنیان کے اندر کیطرف ااوپر نیچے کر کے دو تین جیبیں لگوالیں تھی اس لیے پیسے تو بلکل سیو تھے مگر اتنے ذیادہ پیسوں کا پاس ھونے کا احساس مجھے خوف زدہ کیے ھوے تھا خیر اوپر والے پر بھروسہ کر کے گھر سے امی ابو اور شہر سے آنٹی کی نصیحتوں اور دعاوں کے ساتھ جنید کو لیے لاہور روانہ ھوا

    جس کے ساتھ دو ماوں کی دعائیں اور اوپر والے پر بھروسہ ھو تو وہ کیسے ناکام ھوسکتا ھے ۔

    لاہور پہنچ کر ہم پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق پہلے انار کلی بازار میں گھومتے رھے جو سب سے اچھے بوتیک تھے ان میں گھس کر ورائٹی نکل کرتے رھے اور پھر وہیں سے ہم رنگ محل گئے ادھر سے کچھ ورائٹی لی پھر اعظم مارکیٹ ادھر سے ہمیں پتہ چلا کہ انار کلی میں بھی ایک گلی میں بوتیک کی ہول سیل دکانیں ہیں ہم ادھر اعظم مارکیٹ سے واپس پھر انار کلی بازار گئے ادھر سے بھی کافی اچھی اور بارعایت ورائٹی ملی ۔

    ہم نے پرچیزنگ میں بڑی محنت کی مال ہم نے سارا بلٹی کروا دیا اور واپسی پر ہمارے پاس صرف کرایہ یا مزید کچھ پیسے ھی بچے ۔۔۔۔

    گھر میں آتے ھی بتا آیا تھا کہ میں لاھور مال لینے جارھا ھوں

    اس لیے رات کو گھر نہیں آوں گا ۔۔

    ہمیں لاہور ھی آٹھ بج گئے ہم نے انار کلی میں ھی رات کو کھانا کھایا ۔۔

    خیر سیالکوٹ کی بس میں سوار ھوگئے تھکن اتنی تھی کہ ہم لاہور لاری اڈہ میں کھڑی ھی بس میں سوگئے اور پھر سیالکوٹ لاری اڈہ میں کھڑی ھی بس میں کنڈیکٹر نے ااٹھایا کہ ویرو اٹھ جاو کار آگیا جے ۔۔۔

    ہم آنکھیں ملتے ھوے حیران پریشان خالی بس کو دیکھنے لگ گئے میں نے کنڈیکٹر کو کہا یار ابھی تک بس نہیں بھری ۔۔

    کنڈیکٹر ہنستا ھوا بولا ویر جی بس سیالکوٹ لاری اڈے وچ کھڑی اے ۔۔۔

    میں ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گیا ۔اور جنید میری طرف اور میں جنید کیطرف دیکھ کر حیران پریشان بیٹھے تھے کہ کنڈیکٹر پھر بولا
    ویرو ہن اتر وی جاو کہ ایتھے ای بسترے لا دیواں یا فیر واپس لاہور جانا اے ۔



    نئی یقین ہوندا تے بار نکل کے اڈہ پشان لو اپنا ای اے ۔۔۔۔

    جنید بولا ہن بس وی کر ماما ایویں نِرلے کالجے بےعزتی کری جاناں ایں ۔۔۔

    کنڈیکٹر آجو آجو آجو کہتا ھوا دروازے کی طرف چلا گیا اور ہم بھی اسکے پیچھے بس سے نیچے اترے اور چاروں طرف دیکھ کر پہچاننے لگے کہ واقعی ہمارا ھی شہر ھے ۔۔۔

    ادھر سے ہم نے رکشہ کروایا جنید کے محلے کا ۔۔

    جنید کو گھر اتارا تو جنید نے کافی اصرار کیا کہ رات اسکے پاس رکوں مگر مجھے تو کہیں اور جانے کی جلدی تھی میں نے اسے گھر لازمی جانے کا کہا ۔۔

    اور اسے رکشہ سے اتار کر رکشے والے کو واپس چلنے کا کہا رکشے والے نے کہا کدھر جانا ھے باو جی. میں کیا چل تے سئی دسنا ایں ۔۔

    کچھ آگے موڑ تھا موڑ مڑ کر میں نے کہا بس بس بس ادھر اتار دے رکشے والا بولا باو جی کوئی چیز تے نئی پُل آے اوتھے کیندے او تے واپس موڑ لواں.

    میں نے او نئی یار میرا ایتھے کااار اے ۔۔۔

    رکشے والا ہمممم کر کے چپ ھوگیا میں نے اسے کرایہ دیا اور پھر سجن کی گلی میں چل دیا ۔۔

    سجن کے گھر پہنچا بیل دی پہلی بیل کے چند سیکنڈ بعد ھی سجن کی کانوں سے ٹکراتی ھوئی سیدھا دل پر لگی آواز سن کر ساری تھکاوٹ اتر گئی اور جب دیدار ماہی (ضوفی) کا ہوا تو رہتی تھکاوٹ بھی اتر گئی ۔

    ضوفی کا چہرہ دیکھتے ھی جسم کو توانائی مل جاتی تھی ۔

    ضوفی بڑی گرمجوشی سے دروازے پر ھی گلے ملی اور پھر ہم چلتے ھوے ٹی وی لاونج میں پہنچے اور جب میری نظر کلاک پر پڑی تو ایک بج چکا تھا ۔

    میں نے ماہی اور آنٹی کا پوچھا تو ضوفی نے اشارے سے بتایا کہ وہ تو کب کی سوگئی ہیں ۔۔

    پھر ضوفی نے مجھے اوپر جانے کا کہا اورخود کھانا کھانے کا کہہ کر کچن کی طرف چلی تو میں نے کہا یار کھانا نہیں بس چاے بنا دو



    ضوفی مجھے گھور کر بولی ۔

    نواب ساب کھانا کھا آے میں نے اثبات میں سر ہلایا ضوفی برا سا منہ بناتے ھوے بولی ۔اور میں ۔۔۔۔۔

    میں نے کہا کیا میں ۔۔

    ضوفی نفی میں سر ہلا کر افسردہ سی کچن کی طرف چل دی ۔

    میں کچھ سوچتے ھوے اپنے ماتھ پر ہاتھ مارا

    او تواڈی پین نو۔۔۔۔

    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  16. The Following 14 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (26-12-2018), abkhan_70 (25-12-2018), Admin (25-12-2018), irfan1397 (25-12-2018), love 1 (25-12-2018), Lovelymale (26-12-2018), Mian ji (25-12-2018), Mirza09518 (27-12-2018), mmmali61 (25-12-2018), sajjad334 (25-12-2018), sexliker909 (26-12-2018), shikra (25-12-2018), sweetncute55 (25-12-2018), waqastariqpk (25-12-2018)

  17. #429
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    In husband ہارٹ.
    Posts
    80
    Thanks Thanks Given 
    415
    Thanks Thanks Received 
    156
    Thanked in
    74 Posts
    Rep Power
    10

    Default

    .... شیخو جی


    Bahoot aallla update di ha...

    Keep it up...
    سیکسی لیڈی

  18. The Following 3 Users Say Thank You to MamonaKhan For This Useful Post:

    abba (26-12-2018), windstorm (25-12-2018), Xhekhoo (25-12-2018)

  19. #430
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    16
    Thanks Thanks Given 
    35
    Thanks Thanks Received 
    39
    Thanked in
    16 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Shaandaar xeekho ji
    Mazaaa aaa gya parh k
    Agli update ka intezaar mazeed shadeed ho gya

  20. The Following 2 Users Say Thank You to sweetncute55 For This Useful Post:

    abba (26-12-2018), Xhekhoo (25-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •