جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 36 of 82 FirstFirst ... 2632333435363738394046 ... LastLast
Results 351 to 360 of 816

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #351
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    22
    Thanks Thanks Given 
    18
    Thanks Thanks Received 
    37
    Thanked in
    20 Posts
    Rep Power
    13

    Default

    Bohat ala ja rahi hai story bas update thori lambi ho jya kare

  2. The Following 2 Users Say Thank You to farooq1992 For This Useful Post:

    abba (17-12-2018), Xhekhoo (16-12-2018)

  3. #352
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    93
    Thanks Thanks Received 
    9
    Thanked in
    7 Posts
    Rep Power
    11

    Default

    کیا بات ہے بہت ہی عمدہ اپڈیٹ

  4. The Following 2 Users Say Thank You to waqastariqpk For This Useful Post:

    abba (17-12-2018), Xhekhoo (16-12-2018)

  5. #353
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    80
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Wah g wah xekhoo g another sixer............. waiting for long update

  6. The Following 2 Users Say Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    abba (17-12-2018), Xhekhoo (16-12-2018)

  7. #354
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    124
    Thanks Thanks Given 
    436
    Thanks Thanks Received 
    80
    Thanked in
    42 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Waah jee waah, chaltay phirtay phuddiyon ki barish hoti hai hamaray hero pe. Zabardast update thi.

  8. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (17-12-2018)

  9. #355
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 195



    کھالے کے قریب پہنچ کر میں نے سویرا کا ہاتھ پکڑا اور اسے درختوں کی طرف لے کر چل دیا سویرا کا ہاتھ پکڑتے ھی میرے جسم میں سیکس کا طوفان سر اٹھانے لگا سویرا کا ہاتھ تھا کہ بغیر ہڈی کے گوشت اتنا سوفٹ اتنا سوفٹ کہ اففففففف کیا بتاوں یارا،،، ۔

    سویرا سہمی ہوئی تھی اور اسکی حالت بتا رھی تھی کے وہ فل ڈری ہوئی ھے ۔اسکا بازو کانپ رھا تھا درختوں کی اوٹ میں جاکر میں نے اسے پھر کہا کہ دیکھو سویرا تمہیں یہاں ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ اپنی زمینیں ہیں یہاں میری اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا اس لیے اپنے آپ کو ریلیکس کرو یہ نہ ھو کہ میرا موڈ خراب ہوجاے ۔۔۔

    سویرا خود کو سنبھالتے ھوے بولی ججی ٹھیک ھے آپ فکر نہ کریں میری طرف سے آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔میں نے ہمممم کیا اور گڈ گرل کہہ کر اسے نیچے چادر بچھانے کا کہا اور خود کان لگا کر چاروں اطراف کی سن گھن لینے لگا کہ کہیں کسی طرف سے مکئی کے پتوں کی سرسراہٹ تو نہیں ھورھی جس سے کسی کے آنے کا سگنل مل جاے مگر ہر طرف امن امان کا ھی سگنل ملا ۔

    میں نے تسلی کر کے جب سویرا کی طرف دیکھا تو وہ نیچے چادر بچھا کر کھڑی میری طرف بڑے غور سے دیکھ رھی تھی ۔۔

    مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوے سویرا نے نظریں جھکا لیں ۔۔

    میں نے کہا کیا دیکھ رھی ھو ۔

    سویرا بولی میں نے آپ کو کہیں دیکھا ھے مگر مجھے یاد نہیں آرھا ۔۔

    میں نے چونک کر اسکو مزید غور سے دیکھا مگر مجھے تو یہ کہیں سے جانی پہچانی نہیں لگ رھی تھی ۔

    میں نے کہا ہوسکتا ھے کہیں آتے جاتے دیکھا ھو ۔

    سویرا بولی نہیں میں نے آپ کو بڑے قریب سے پہلے کہیں دیکھا ھے ۔

    میں نے کہا اچھا بیٹھو جب یاد آجاے تو بتا دینا ابھی ان فضول باتوں کے لیے میرے پاس وقت نہی ھے ۔

    سویرا مجھے دیکھتی ھوئی نیچے بیٹھ گئی سویرا سفید سوٹ میں لمبے سیاہ بالوں میں گوری رنگت کے ساتھ واقعی سویرا لگ رھی تھی ۔۔۔

    چہرے پر مصومیت دیکھ کر لگتا ھی نہیں تھا کہ یہ چداکڑ ھے اور اس کے بقول دو دفعہ چدوا بھی چکی ھے ۔۔

    سویرا کے نیچے بیٹھتے ھی

    میں بھی اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا ۔

    اتنے کانفیڈینس کے باوجود مجھے اسکے جسم کو چھونے میں جھجھک محسوس ہورہی تھی ۔

    میں کچھ دیر اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رھا اور ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلاتا رھا ۔

    اور پھر ہمت کرکے میں نے اپنا ایک ہاتھ اسکے ممے کی طرف بڑھایا اور سویرا کا چونتیس سائز کا گول مٹول مما پکڑ کر دبا دیا اور پھر اس کو مٹھی میں بھر کر ممے کوکبھی دباتا تو کبھی سہلانے لگ جاتا ۔

    سویرا کوئی ریکشن نہیں دے رھی تھی بلکل بت بنے بیٹھی ھوئی تھی ۔

    مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ جیسے میں کسی سٹیچو کا مما دبا رھا ھوں ۔۔کچھ دیر میں سویرا کے دونوں مموں کو دباتا رھا کافی تنے ھوے ممے تھے اور ایسے سڈول مموں کو سکول یونیفارم کے اوپر سے دبانے کا الگ ھی مزہ ہوتا ھے ۔

    سویرا نے بریزیر بھی بہت سوفٹ پہنا ھوا تھا میں جب بھی ممے کو مُٹھی میں بھر کر دباتا تو مما میری مٹھی سے سلپ ھوکر مٹھی سے نکلنے کی کوشش کرتا ۔

    میرا لن تو فل تن چکا تھا مگر سویرا کے گرم ھونے کا ابھی تک دور دور تک نشان نہیں تھا ۔

    اگر پاٹنر سیکس میں ساتھ نہ دے تو سارے مزے کی ایسی کی تیسی ھوجاتی ھے ۔
    اور ایسا ھی میرے ساتھ ھورھا تھا ۔

    میں اکیلا ھی بس سویرا کے مموں سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کر رھا تھا جبکہ وہ بس میری طرف دیکھی جارھی تھی اسکی آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی جب میں اسکی آنکھوں میں دیکھتا تو مجھے اسکی آنکھوں میں کئی سوال نظر آتے اسکی آنکھیں اسکی مجبوری کی گواہی دے رہیں تھی ۔

    میں اسکی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتا تو نجانے کیوں میری آنکھیں زیادہ دیر تک اسکی آنکھوں کا سامنا نہ کرپاتی اور میں جلدی سے نظریں پھیر کر اسکے مموں کی طرف دیکھنے لگ جاتا یا اس کے گلابی ہونٹوں کی طرف ۔

    آخر مجھ سے مذید صبر نہ ھوا تو میں نے سویرا کو بانہوں میں بھر کر پیچھے کی طرف لٹا کر اسکے اوپر لیٹ گیا۔

    میرا اکڑا ھوا لن سویرا کی ران کی ساتھ لگ گیا اور اسکے ممے میرے سینے کے ساتھ لپٹ گئیے میں نے اپنے ہونٹ سویرا کے ہونٹوں پر رکھ دیے سویرا بےجان سی لیٹی ھوئی تھی ۔

    اور اس نے اپنے ہونٹوں کو کوئی حرکت نہ دی میں نے ذبردستی اپنے ہونٹوں کی مدد سے اسکے ہونٹ کھولے اور آنکھیں بند کر کے اس کے نرم ملائم ہونٹوں کا رس پینے لگ گیا ۔

    سویرا نے اپنے دونوں بازو ڈھیلے چھوڑ کر گھاس پر رکھے ھوے تھے ۔

    اسکا ایک ھاتھ میرے لن کے بلکل قریب تھا میں نے جلدی سے ایک ھاتھ نیچے لیجا کر اپنا نالا کھولا اور شلورا سے لن کو نکالا اور سویرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا سویرا نے پہلے تو ویسے ھی میرے لن پر ہاتھ رکھا مگر میں نے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر اسکی مٹھی کو بند کرکے لن اسکی گرفت میں کردیا ۔

    میں ساتھ ساتھ سویرا کے ہونٹ چوسی جارھا تھا اور ساتھ ساتھ اسکی مٹھی کو اپنے لن پر دبا رھا تھا ۔

    میں نے آنکھیں کھول کر سویرا کی آنکھوں کو دیکھا تو اسکی آنکھیں بند تھیں ۔

    ادھر جب میرے لن کے گرد سویرا کی ہتھیلی اور انگلیوں کی گرفت پڑی تو سویرا نے اچانک میرے لن کو دبایا اور پھر جھٹکے سے چھوڑ کر ایکدم آنکھیں کھول کر میری آنکھوں میں دیکھنے لگ گئی ۔

    میں نے پھر اسکا ھاتھ پکڑ کر لن پر رکھ کر اسکی مٹھی کو بند کردیا ۔

    سویرا نے پھر لن کو آہستہ سے دبا کر لن کی موٹائی چیک کی اور پھر ہاتھ سرکاتی ھوئی پہلے ٹوپے کی طرف لائی اور پھر ہاتھ کو سرکاری ھوئی جیسے ھی لن کی جڑ تک گئی تو اسکی کھلی آنکھوں میں ایک چمک سے آئی اور ساتھ ھی خوف کے اثار بھی اور اس نے جھٹکے سے لن کو چھوڑا اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ آذاد کروا کر میرے سینے پر دونوں ھاتھ رکھ کر مجھے ذور سے پیچھے دھکا دیا میں اسکے دھکے سے اسکے اوپر سے ہٹ گیا اور سیدھا زمین پر لیٹتا گیا وہ بڑی سپیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی میں بلکل سیدھا لیٹا ھوا تھا اور میر لن مکئی کے ٹانڈے کی طرح آسمان کی طرف منہ کر کے تنا تن کھڑا تھا ۔

    سویرا بیٹھتے ھی میرے لن کو پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی اور پھر اس نے دونوں ھاتھ منہ پر رکھ لیے اور ناقابل یقین انداز سے نفی میں سر ہلاتے ھوے آنکھیں پھاڑے میرے لن کو دیکھی جارہی تھی ۔۔

    میں پہلے تو سمجھا کہ یہ بھاگنے لگی ھے مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ تو میرے لن کے سائز کے خوف سے تبق کر اٹھی ھے تو میں مذید اپنے چڈے کھول کر اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر کر کے اسکو مکمل سائز چیک کروانے لگ گیا ۔

    سویرا کا رنگ سرخ ٹماٹر جیسا لال ھوچکا تھا اور وہ چہرے پر ھاتھ رکھے سر کو نفی میں ہلاے جارھی تھی اور میں اسکی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔

    میں نے سویرا کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر واپس اپنے پہلو میں لٹا دیا ۔سویرا گم صم سی میرے ساتھ پھر لیٹ گئی ۔

    میں نے اسکے ھاتھ اسکے چہرے پر سے ہٹاے تو اسکے چہرے پر گبھراہٹ دیکھ کر میں اسکے اوپر جھکا اور اسکے بالوں کو سہلاتے ھوے بولا ۔

    کیا ھوا اتنا گبھرا کیوں گئی ھو۔۔

    سویرا نے صرف نفی میں سرہلانے پر ھی اکتفاء کیا۔میں نے پھر پوچھا کیا ھوا بولو تو سہی ۔

    سویرا بولی وووہہ تمہارا اتنا بڑا ھے ۔

    مجھ سے نہیں لیا جانا۔۔

    میں نے کہا تمہارے یار کا اتنا بڑا نہیں تھا کیا ۔۔

    سویرا نفی میں سر ہلا کر بولی نہین۔



    میں نے کہا اسکا کتنا ھے ۔

    وہ بولی اس سے آدھا۔

    میں نے کہا ۔

    میرا لن لوگی تو تم کو سیکس کا اصل مزہ آے گا ۔

    سویرا بولی مجھ سے برداشت نہی ھونا میں تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اتنا بڑا بھی ہوتا ھے ۔

    میں نے کہا اب تو دیکھ بھی لیا ھے اب تو یقین کرلو ۔

    اور یہ کہتے ھوے میں نے دوبارا اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سویرا کی قمیض کو اسکے پیٹ سے اوپر کرکے اسکے نرم ملائم پیٹ پر ہاتھ پھرنے لگ گیا ۔

    سویرا پتہ نہیں کیوں گرم نہیں ہورھی تھی بلکل بےجان گڑیا کی طرح لیٹی ھوئی مجھے ہر کام کی اجازت دے رھی تھی نہ روک رھی تھی نہ میرا ساتھ دے رھی تھی ۔

    میں ہاتھ کو سرکاتا ھوا قمیض کے اندر سے ھی اسکے مموں پر لے آیا اور بریزیر کے نیچے سے ہاتھ سیدھا کر کے اسکے ننگے ممے کو مٹھی میں بھرا تو پہلی دفعہ سویرا کے منہ سے سیییییییی نکلا اور اس نے میرے ھاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔
    سویرا کے ممے کی سوفٹنس میں الفاظوں میں بیان نہیں کرسکتا اففففففففف کیا روئی جیسے نرم اور ریشم جیسے ملائم ممے تھے ۔

    مگر جب میری انگلی میں اسکے ممے کا نپل آیا تو نپل فل ہارڈ ھوچکا تھا اور نہل کو جب بھی مسلتا سویرا کے منہ سے سسکاری ضرور نکلتی مجھے اسکا چور سوئچ مل چکا تھا ۔

    سویرا کی جان اسکے ممے کے نپل میں تھی ۔

    کچھ دیر میں ھی سویرا نے میرے نچلے ہونٹ کو پہلی دفعہ کھینچ کر چوسنا شروع کیا تو مجھے اپنی محنت کا پھل ملتا محسوس ھونے لگ گیا ۔

    اور میں بار بار اسکے دونوں نپلوں کو ھی کبھی مسلتا تو کبھی سہلاتا سویرا آہستہ آہستہ جوبن میں آتی جارھی تھی ۔

    میں چاہتا تو آتے ھی اسکی شلوار نیچے کر کے لن گھسیڑ دیتا مگر ایسا سیکس کیا تو پھر کیا کیا ۔

    سیکس کا اصل مزہ ھی تب آتا ھے جب دونوں پاٹنر برابر میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور دونوں کے اندر برابر کی آگ لگی ھو ۔

    تب ھی چدائی کا حق ادا ھوتا ھے ۔۔

    بے شک سویرا کو میں نے بلیک میل کیا تھا اور وہ مجبوری میں سب کچھ کروا رھی تھی مگر اسکے باجود بھی میں اس سے ایک لور پاٹنر کی امید رکھ رھا تھا

    سویر نے میرے نچلے ہونٹ کو قابو کر لیا تھا اور اسے چوسنے لگ گئی اور اسکے ساتھ ھی اسکا ھاتھ اٹھا اور میری گردن کو سہلاتے ھوے میرے سر کو مذید نیچے کی طرف دبا کر میرا نچلا ہونٹ چوستی ۔

    سویرا کے ایکشن میں آنے کی دیر تھی کہ میرا بھی پارا چڑھ گیا اور میں نے بھی والہانہ انداز میں اسکے ممے کو دبانا اور اسکے اوپری ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا ۔۔۔

    مجھے سویرا کی سیکس کی بھوک کا اندازہ اسکی والہانہ کسنگ اور کمر اٹھا اٹھا کر میرے ساتھ چپکنے سے ہورھا تھا اور ساتھ میں جس انداز سے وہ میری گردن کو سہلاتے ھوے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رھی تھی ۔

    اس سے میرے اندر انتہاء کا جوش بڑھ رھا تھا ۔

    اور میرا لن فل ٹائٹ ہو کر پھٹنے والا ھوچکا تھا میرا دل کررھا تھا کہ ابھی سویرا کی شلوار اتار کر ایک ھی جھٹکے میں سارا لن اسکی پھدی میں اتار دوں ۔۔

    مگر میں سویرا کو پورا تیار کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنی رضامندی سے مجھے پھدی میں لن ڈالنے دے ۔۔

    اس لیے میں لگاتار مسلسل اسکے مموں پر اور نپلوں پر انگلیوں سے منتر پڑھ کر اسکے اندر سیکس کی بھوک کو بڑھا رھا تھا اور اس میں قدرے کامیاب بھی ہورھا تھا ۔۔

    کچھ دیر ہم دونوں کے ہونٹوں کا دنگل جارہی رھا ۔

    اور بلاخره میں نے سویرا کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کے اوپر آگیا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔

    سویرا میرے سامنے ٹانگیں کھولے لیٹی ھوئی تھی اور اسکی قمیض اسکے پیٹ سے اوپر اور مموں سے نیچے تھی ۔۔۔

    سویرا کا پیٹ چٹا سفید تھا اور روشنی میں چمک رھا تھا پیٹ بلکل اندر کی طرف تھا اسکی جلد میں شائنگ تھی ایسے جیسی ویکس کی ھو بال کی ایک لوں تک نہ دکھ رھی تھی ۔۔

    میں نے اسکے پیٹ کو دیکھا تو بے اختیار میں اسکے پیٹ پر سجدہ ریز ھوگیا اور ہونٹ اسکے پیٹ پر رکھے اور پیٹ کا بوسا لے کر اسکے حسن کی تعریف کی ۔۔۔۔میرے ہونٹ سویرا کے پیٹ پر لگے تو سویرا کے پیٹ کی جلد وائبریشن ہونے لگ گئی اور سویرا نے گھاس سے کندھے اٹھا کر سر کو پیچھے خم دے کر سسکاری بھرتے ھوے میرے بالوں میں

    unglian pherni shorro kar den..

    .میں نے تین چار چھوٹی چھوٹی پاریاں سویرا کے پارے سے پیٹ پر کیں ۔

    اور ساتھ ھی اپنی زبان کو نکال کر ناف میں ڈال دی اور ناف کے دائرے میں چاروں اطراف زبان کی نوک کو پھیرنے لگ گیا سویرا ایکدم مچل اٹھی اور میرے سر کے بالوں کو مٹھی میں بھر لیا اور لمبی لمبی سسکاریاں لیتی ھوئی سر دائیں بائیں مارنے لگ گئی ۔۔

    اور ساتھ ھی سیکسی آوازوں میں پلیزززز نہ کرو پلیزززز نہ کرو مجھ سے برداشت نہیں ہورھا پلیزززززز ۔۔۔

    سویرا کی نہیں نہیں سے میرا شوق بڑھتا گیا اور میں زبان کا جادو پیٹ پر چلانے کی تگ ودو میں لگ گیا ۔۔

    میں کبھی زبان کی نوک کو ناف کے چھوٹے سے سوراخ کے اندر ڈالتا تو کبھی سوراخ کے کناروں پر نوک کو گھماتا ۔

    اور پھر سلو موشن میں زبان کو سرکاتا ھوا ناف کے نیچے الاسٹک تک لے جاتا ۔

    سویرا کی حالت ایسی تھی کہ جیسی ابھی ہلک سے جان نکل جاے ۔۔۔
    کچھ دیر ایسے ھی اس کے پیٹ پر زبان اور ہونٹوں کا کھیل جاری رھا ۔

    کچھ دیر بعد میں زبان کو سرکاتا ھوا اسکے مموں کی طرف لے گیا اور مموں پر قمیض ہونے کی وجہ سے بریزیر کی لاسٹک تک ھی زبان لیجا سکا ۔۔

    اور پھر ادھر والے حصے کو چوم کر سر اٹھا کر میں پھر سی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔

    تو سویرا نے شکر ادا کیا اور لمبا سانس بھر کر میری طرف بڑی نشیلی نگاہوں سے دیکھنے لگ گئی میں نے اسکے دونوں ھاتھوں کو پکڑا اور ھاتھوں کو اوپر کی جانب کیا اور اپنے سر کو نیچے جھکا کر اسکے ریشم سے ملائم اور روئی سے نرم ہاتھوں کو چوم کر ھاتھوں کو ہلکے سے اپنی طرف کھینچ کر سویرا کو اٹھ کر بیٹھنے کا کہا۔۔

    سویرا کسی جادوگر کے سحر میں جکڑی میرے اشارے پر چلتی ھوئی بے جان مورت کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔میں نے اس کے ھاتھوں کو اسکے سر کے اوپر لیجا کر بازوں کو اوپری جانب کر کے اسکے ہاتھوں کو چھوڑ دیا سویرا کسی مجسمے کی طرح وہیں اپنے بازوں کو کھڑا کر کے میری طرف عجیب سی نظروں سےدیکھی جارھی تھی ۔۔

    دوستو سہی بتاوں تو مجھے اسکے یوں اپنی طرف دیکھنے سے خوف محسوس ھونے لگ جاتا تھا کہ پتہ نہی اس پر جنات کا اثر تو نہیں ۔۔

    خیر

    میں نے اسکی قمیض کو دونوں اطراف سے پکڑ کر اوپر کیا اور اسکے مموں کو ننگا کرتے ھوے اسکے سر سے قمیض نکالی اور بازوں میں لیجاکر چھوڑ دی ۔۔

    بازوں سے قیمیض اس لیے نہیں نکالی تھی کہ باقی کا کام سویرا خود کر لے گی یعنی بازوں سے قمیض خود نکال لے گی ۔۔۔کیونکہ قمیض اتارتے ھوے بھی اس نے مجھے روکا نہیں تھا اور نہ ھی کوئی احتجاج کیا تھا ۔

    بلکہ بلکل ایک سٹیچو کی طرح ہاتھ سر سے اوپر کر کے بازو بلکل سیدھے اوپر کی طرف کیے بیٹھی تھی ۔۔

    جب میں نے اسکی قمیض اسکے جسم اور سر سے نکال کر اسکے بازوں میں چھوڑی تو اس نے ایکدم بازو نیچے کو گراے اور میری طرف یوں بازو کردیے کہ جیسے کہنا چاہ رھی ھو کہ یہ بھی خود ھی اتار دو ۔

    اور اسکی نظریں ویسے ھی مجھکو دیکھ رہیں تھی ۔

    پتھر سی آنکھیں جیسے اسکی آنکھیں جھپکتی ھی نہ ھوں ۔

    مجھے یہ لڑکی حسن کی مورت لگ رھی تھی ۔۔

    یا پھر نفسیاتی مریض ۔۔۔

    میں نے اسکی بازوں سے قمیض نکال کر ایک طرف چادر پر رکھ دی میری جیسے ھی نظر اسکی ننگے جسم اور ہلکے بلیو کلر کے بریزیر میں چھپے مموں پر پڑی ۔۔

    دوستو قسم سے اس حسن مجسمہ کو دیکھتے ھی مجھ پر سکتہ طاری ھوگیا ۔

    میں پلکوں کو جھپکانا بھول گیا سانس اندر باہر کھینچنا بھول گیا

    اسکو دوبارا پیچھے کی جانب لیٹانا بھول گیا ۔۔

    میرے ھاتھ اسکی رانوں پر تھے تو وہیں رک گئے میری کھلی آنکھیں پتھر ہوگئی میرا سانس جہاں تھا وہیں رک گیا ۔۔۔

    اففففففففففففففف کیا اس ظالم کے حسن کی تعریف لکھوں کاش اسکے جسم کی بناوٹ اور اسکی خوبصورت گلابی رنگت کو الفاظوں میں ڈھال کر آپ دوستوں کے سامنے پیش کرسکتا۔۔۔

    سویرا بت بنی میرے چہرے کو دیکھی جارہی تھی اور میں بت بنا سویرا کے چٹے سفید گلابی رنگت کے چمکتے جسم کو دیکھ رھا تھا ۔

    کچھ دیر اسی حالت میں بےجان دو جسم ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے رھے۔

    پھر یوں ہوا کہ مجھے ہوش آیا اور میرے ھاتھوں نے اٹھنے کی جرات کی اور اس حسن کی دیوی کے گول مٹول تنے ھوے چٹے سفید مموں کو بریزیر کے اوپر سے پکڑ لیا اور ایک دفا دباتے ھی اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا اور وہ مورت میری طرف دیکھتی ھوئی پیچھے کی جانب گرتی گئی اور گھاس کے اوپر بچھی چادر کے اوپر لیٹ گئی اور میں اسکو پیچھے لیٹاتا ھوا اسکے ننگے جسم کے اوپر جھکتا گیا اور اس کے مموں کے درمیاں لکیر کے اوپر اپنے ہونٹ اس انداز سے رکھ دیے کہ میرے ہونٹوں کا ایک طرف کا حصہ اسکے ایک طرف کے روئی سے نرم ممے پر تھا اور ہونٹوں کی دوسری سائڈ اسکے دوسرے ممے کو چھو رھی تھی ۔

    اور میرے ہونٹ اس مخمل میں دھنستے گئے افففففففففف یارا کیا سوفٹنس تھی کیا ملائمت تھی کیا کشش تھی ۔

    میں تو اس کو اپنے سحر میں جکڑنا چاہتا تھا مگر سالی کے جسم کا نظارا کرتے ھی میرا سارا حساب کتاب ھی بگڑگیا۔۔

    لاکھ پلاننگ سوچی تھی اسکو ننگا کر کے چودنے کی ۔

    سالی نے صرف مموں کے جلوے سے ھی میرا سارا حساب کتاب بگاڑ دیا۔
    میں تو دور سے اسکے ممے اور گورا جسم دیکھ کر سکتے میں آگیا اب تو پھر بھی یہ گورا جسم حسن کی مورت میری آنکھوں کے سامنے اور میری دسترس میں تھا ۔۔

    تو پھر میری تو ایسی کی تیسی ھونی ھی تھی ۔۔

    خیر میرا کچھ خمار کم ھوا تو میں نے سویرا کے مموں سے پردہ اٹھا کر اوپر کر کے مموں کو جلوہ گر کیا اور اسکے روئی سے نرم مموں پر بے صبروں کی طرح ٹوٹ پڑا ۔

    اور سویرا کے منہ سے سسکاریوں کا طوفان نکل پڑا ۔

    نہ مجھے کوئی روکنے والا تھا اور نہ سویرا کی سسکاریاں رکنے والی تھیں ۔

    مین مموں کے چھوٹے سے اکڑے ھوے نپل کو کبھی دانتوں میں بھینچتا تو کبھی انہوں ہونٹوں میں لے کر چوستا

    سویرا سر اٹھا اٹھا کر مجھے اپنے ممے چوستی دیکھتی اور ساتھ میں سسکاریاں بھرتی ھوئی میرے سر پر ھاتھ رکھ کر مموں پر دباتی اور کبھی سر پیچھے لیجا کر کندھوں کو اٹھا کر مموں کو مزید اونچا کرتی ۔۔۔

    کچھ دیر یہ کھیل چلتا رھا ۔

    اور جب سویرا کے ممے سرخ ھوگئے اور میرے لباب سے تر ھوگئے اور سویرا کی سانسیں اکھڑنے کے بعد تھم گئی اسکا جسم اکڑنے کے بعد بےجان ھوگیا اور مجھے اسکی پھدی گیلی ہونی کا یقین ھوچلا تو تو میں اس کے مموں کو چھوڑ کر پھر سے اسکی ٹانگوں میں دوزانوں ہوکر بیٹھ گیا اور اپنی شلوار کو اپنی ٹانگوں سے نکال کر ایک طرف رکھا اور پھر سویرا کی شلوار. کو لاسٹک والی جگہ سے پکڑ کر اسکی سڈول اور گوری چٹی بالوں سے پاک گانڈ سے نکال کر اسکی ٹانگوں سے کھینچتا ھوا اسکے پیروں پر لے آیا اور پھر شلوار کو اسکے پیروں سے باری باری نکال دیا اور پھر اپنی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی اب دو جسم مادر ذاد ننگے تھے اور سویرا کے جسم پر صرف بریزیر تھا جو اسکے مموں سے اوپر کی جانب اکھٹا ھو کر مموں کو ننگا کیے ھوے تھا۔۔

    میں نے سویرا کی پھدی کا غور سے معائنہ کیا تو دیکھ کر حیران رھ گیا کہ بلکل کنواری پھدی کی طرح تھی پھدی کی ہونٹ اندر کی جانب ایک دوسرے سے چپکے ھوے تھے اور نہ ھی پھدی کی جھلی لٹک رھی تھی ۔

    جس طرح سویرا کے چہرے پر معصومیت جھلک رھی تھی بلکل اسی طرح سویرا کی پھدی پر بھی معصومت جھلک رھی تھی ۔۔۔

    پھدی کے باریک سے ہونٹوں پر بس شبنم کے قطرے چمک رھے تھے ۔۔

    میں نے سویرا کی پھدی پر انگلی پھیری تو سویرا ایک دم کانپی اور اپنی ٹانگوں کو آپس میں ملا کر میرے ہاتھ کو ٹانگوں کے بیچ جکڑ کر سر اٹھا کر سسکاری ماری ۔۔۔

    میں نے اسکی روئی سی نرم رانوں میں پھنسے ھاتھ سے ھی انگلی کو حرکت دیتے ھوے پھدی سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی کچھ دیر تو سویرا سر دائیں مارتے ھوے سییییہہہی افففففف کرتی ھوئی مجھے فنگرنگ کرنے سے منع کرتی رھی مگر میں تو اسکی گرم پھدی کی گرمائش سے اپنی انگلی کو ٹکور دے رھا تھا اور پھدی کا درجہ حرارت معلوم کرنے کی کوشش کررھا تھا ۔۔۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  10. The Following 11 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), abkhan_70 (17-12-2018), Faisal.rana (16-02-2019), Lovelymale (19-12-2018), MamonaKhan (17-12-2018), Mian ji (17-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexliker909 (19-12-2018), StoryTeller (16-02-2019), waqastariqpk (17-12-2018), windstorm (18-12-2018)

  11. #356
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update 196



    کچھ دیر میں ایسے ھی انگلی کی مدد سے سویرا کی پھدی کو چھیڑتا رھا تو
    کبھی پھدی کے چھوٹے سے پھولے ھوے دانے کو مسلتا رھا کہ سویرا کو ایک دم جوش چڑھا اور اس نے گانڈ اٹھا کر میرے انگلی کو پھدی کے اندر لیا اور پھر زور سے رانوں کو آپس میں بھینچ کر گانڈ کو اوپر نیچے کرتے ھوے سییییییی یس یس یس یس کرتی ھوئی ایک دم اکڑ کر ڈھیلی ھوئی اور پھدی سے گرم لاوہ بہتا ھوا نکلنے لگا اور پھدی کے اندر میری میری انگلی پر منی کی گرم دھاریں پڑتی رہیں ۔۔۔
    سویرا فارغ ھوتے ھی ٹانگوں کو کھول کر پھر بےجان مورت بن کر میری طرف دیکھنے لگ گئی۔۔
    سالی کو پھر پتہ نہیں کیا ھوا کہ اسکی آنکھیں پتھرا سی گئیں اور مجھے یوں دیکھنے لگ گی جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کررھی ھو یا مجھ پر قربان جارھی ھو یا پھر اپنی مجبوری ظاہر کر رھی ھو ۔
    کئی سے سوال اسکی انکھیں کررھیں تھی جنکو سمجھنے کی کوشش میں کرتا تو پاگل ھوجاتا ۔
    میں نے کچھ پل اسکی آنکھوں کو دیکھا اور پھر سے اسکی پھدی کی طرف متوجہ ھوکر لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں کے درمیان ٹوپے کو پھنسانے لگا اور ٹوپے کو پھدی کے درمیان ٹوپے کو اڈجسٹ کر کے سویرا کے اوپر جھکا ۔
    اور ایک جھٹکا مارا تو اسکی پتھرائی آنکھیں بھیگ گئیں اور اسکے منہ سے اتنا ھی نکلا امییییییییییی جییییییییییی ۔
    پھدی کو چیرتا ھوا لن آدھا اندر گھس چکا تھا اور سویرا کے ہاتھوں نے میرے بازوں کو جکڑ لیا تھا ۔
    اور اس نے پیچھے کھسکنے کی کوشش کی تھی مگر میرے ھاتھ اسکے کندھوں کو اپنے شکنجے میں لیے ھوے تھے ۔
    میرا لن ایسے تھا جیسے کسی آگ کی بھٹی میں گھس گیا ھو اور پھدی کی جکڑ ایسی تھی جیسے کسی نرم چیز نے پوری طاقت سے میرے لن کو اپنے احصار میں لے کر جکڑا ھو ۔۔۔
    سویرا نے نہ اوہہہہہہہ کی نہ ھاےےےےےےےے کی بس امی کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگ گئی ۔۔۔
    میں نے اسکے سنبھلنے سے پہلے ھی دوسرا گھسا مار کر اسکی ننھی سی پھدی کی گہرائی کو لن سے ناپ لیا ۔۔
    اور میرے ٹٹے اس کی گانڈ سے جا لگے اففففففف کیا ھی پھدی کی گرمائش تھی مجھے لگ رھا تھا کہ بس دوسرے گھسے میں ھی میں فارغ ھوجاوں گا۔۔۔
    دوسرا گھسا جب مارا تو لن پھدی کی گہرائی میں چلا گیا اور سویرا نے پھر امی کو بڑی شدت سے یاد کیا ۔
    اور اسکی آنکھیں باہر کو ابھلنے والی ھوگئیں سویرا سر کو دائیں بائیں مارتے ھوے میری رانوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ھوے امییییییی جی مرگئیییییی پلیزززززز مجھے چھوڑ دو اسے باہر نکال لو میں مرجاوں گی ۔۔۔۔
    .مجھ سے برداشت نہیں ھورھا.

    خاموش گڑیا جو شروع سے ایک مجسمہ ایک بت ایک مورت ایک سٹیچو بنا ھوا تھا میرے لن نے اندر جاتے ھی اس بے جان مجسمے میں جان ڈال دی اسکی زبان چلی تو رکنے کا نام نہ لی ۔

    جس مورت کو دی زباں ہم نے وہ بولے تو ہم پر ھی برس پڑے۔۔۔۔

    سویرا مجھے دھکے دینے کی کوشش کررھی تھی مجھ کو برا بھلا کہنے پر اتر آئی ۔

    مگر میں نے لن اندر سے باہر نہ نکلنے دیا کچھ دیر تڑپنے کے بعد سویرا ڈھل گیا ہر طرف خاموشی چھاگئی ۔۔

    اور مین نے سویرا کے خاموشی کو اسکی برداشت کا نام دے کر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنا شروع کردیا ۔۔

    سویرا پھر سے میرے ہر گھسے پر امی کو یاد کرتی ۔

    ماں بیٹی میں کافی پیار لگ رھا تھا جو اسے اس موقع پر امی کی یاد شدت سے آرھی تھی ۔۔

    میں نے آہستہ آہستہ گھسوں کی رفتار تیز کردی اب میرے گھسے سے اس کے ممے ہلنا شروع ھوچکے تھے دودھ کے پیالے چھلکنے لگ گئے تھے اسکے پیٹ کی جلد پر بھی وائبریشن ہورھی تھی ۔

    اسکے آنسوں اب بھی بہہ رھے تھے ۔

    پانچ منٹ بعد سویرا کو امی بھی بھول گئی اور آنسو بھی تھم گئے مموں نے ہلتے ھوے اوپر کو اٹھنا شروع کردیا سویرا کے ھاتھ جو مجھے پیچھے کی طرف دھکیل رھے تھے اب میری رانوں کے آگے سے ہٹ کر میری رانوں کے پیچھے چلے گئے اور اسکی آہیں اب سسکاریوں میں بدل گئی ۔

    میرے گھسوں کی بھی رفتار بھی ساتھی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے بڑھ گئی سویرا نے ٹانگوں کو خود ھی مذید اوپر کیا اور میری کمر کے گرد ٹانگوں کا شکنجا ڈال کر گاند کو اوپر اٹھاتے ھوے

    یس یس یس یس ایم کمنگ فاسٹ فاسٹ فک می فک می کرتے ھوے ایکدم مجھ سے کسی چمگادڑ کی طرح چمٹ گئی اور پھدی سے منی کا مینہ برسنا شروع ہوگیا ۔۔۔

    کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد سویرا بےدم ھوکر لیٹ گئی میں تھوڑا وقفہ دیا اور پھر سے چپو چلانا شروع کردیا تقریباً پانچ سات منٹ بعد ھی مجھے لگا کہ میں چھوٹنے والا ھوگیا ھوں تو میں نے آخری جاندار گھسا مارتے ھوے سویرا کو پھر امی کی یاد دلائی جس کا ثبوت اس نے ھاےےےے امییییی کر کے دیا اور میں نے لن کو جھٹکے سے باہر نکالا اور اسکی روئی سے نرم ران کے اوپر لن کو رکھ کر سویرا کے اوپر لیٹ گیا اور اسے اپنی باہوں میں جکڑ کر اسکے ہونٹوں کا رس پیتے ھوے لن سے منی کے فوارے چھوڑتا ھو چھوٹنے کا مزہ لیتا رھا ۔۔۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  12. The Following 15 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), abkhan_70 (17-12-2018), Faisal.rana (16-02-2019), irfan1397 (17-12-2018), love 1 (17-12-2018), Lovelymale (19-12-2018), MamonaKhan (17-12-2018), Mian ji (17-12-2018), Mirza09518 (18-12-2018), omar69in (27-01-2019), sajjad334 (17-12-2018), sexliker909 (19-12-2018), StoryTeller (16-02-2019), waqastariqpk (17-12-2018), windstorm (18-12-2018)

  13. #357
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    13
    Thanks Thanks Given 
    57
    Thanks Thanks Received 
    20
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    بہت عمدہ اپڈیٹ شیخو کمال کر دیا۔

  14. The Following 2 Users Say Thank You to Mian ji For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), Xhekhoo (17-12-2018)

  15. #358
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    50
    Thanks Thanks Given 
    80
    Thanks Thanks Received 
    100
    Thanked in
    48 Posts
    Rep Power
    16

    Default

    Wah Xhekhoo g ............... kia kamal likhtay ho.............. really maza aa gaya

  16. The Following 2 Users Say Thank You to sajjad334 For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), Xhekhoo (17-12-2018)

  17. #359
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    well nice & hot up date
    Thanks for Timely up date

  18. The Following 2 Users Say Thank You to naeemsmi For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), Xhekhoo (17-12-2018)

  19. #360
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default

    Quote Originally Posted by sajjad334 View Post
    Wah Xhekhoo g ............... kia kamal likhtay ho.............. really maza aa gaya
    Thanks my brother for appreciate
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  20. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (19-12-2018), sajjad334 (17-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •