جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 30 of 82 FirstFirst ... 202627282930313233344080 ... LastLast
Results 291 to 300 of 816

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #291
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    124
    Thanks Thanks Given 
    436
    Thanks Thanks Received 
    80
    Thanked in
    42 Posts
    Rep Power
    34

    Default

    Agar Uzma ne menses ke doran chudai karwa li hai to phir uss ki aik hi saza hai keh uss ki gaand tikaa ke maari jaye.

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abkhan_70 (09-12-2018), Xhekhoo (09-12-2018)

  3. #292
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default

    Quote Originally Posted by naeemsmi View Post
    very nice new
    update ka wait rahy ga
    Thanks jee for appreciate

  4. The Following 3 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), windstorm (09-12-2018)

  5. #293
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    10
    Thanks Thanks Given 
    33
    Thanks Thanks Received 
    20
    Thanked in
    9 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    Waiting for update.....................

  6. The Following 3 Users Say Thank You to Kashifpota For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), Xhekhoo (09-12-2018)

  7. #294
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default

    Quote Originally Posted by Lovelymale View Post
    Agar Uzma ne menses ke doran chudai karwa li hai to phir uss ki aik hi saza hai keh uss ki gaand tikaa ke maari jaye.
    Hhhhhhhhhhhhhhh bohatt khoob

  8. The Following 4 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), Lovelymale (09-12-2018), windstorm (09-12-2018)

  9. #295
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    13
    Thanks Thanks Given 
    57
    Thanks Thanks Received 
    20
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    کہیں ٹیٹو تو نہیں بنوا لیا۔

  10. The Following User Says Thank You to Mian ji For This Useful Post:

    Xhekhoo (09-12-2018)

  11. #296
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 185..



    . میں نے دوبارا ایک نظر عظمی کی پھدی پر ڈالی عظمی نے دونوں ہاتھ پھدی پر رکھ کر ٹانگوں کو جوڑ کر ایک طرف اکھٹی ھوگئی میں غصے سے چارپائی سے اتر کر کھڑا ہوگیا اور عظمی کے بالوں کو پکڑا اور بالوں کو جنجھوڑ کر بولا گشتی جھوٹی مکار یاروں کے نام لکھوانے کے لیے پھدی ھی ملی تھی ۔

    عظمی اونچی آواز میں روتے ھوے بولی ۔

    یاسر مجھے معاف کردو ۔

    بے قصور ہوں اس میں میرا کوئی قصور نہیں ھے ۔

    میں نے عظمی کے سر کے بالوں کو جھٹکا دے کر چھوڑا بولا بکواس بند کر خرافہ مکار عظمی بولی مار لو مجھے جتنا تمہارا دل کرتا ھے کہہ لو جو کہنا ھے میں ہوں ھی اسی لائک اسی لیے میں تم سے دور بھاگتی تھی مجھے پتہ تھا کہ تم سارا الزام مجھ پر ھی لگاو گے ۔

    میں نے ایک اور تھپڑ عظمی کے منہ پر دے مارا اور ٹراوز اوپر کرکے ڈوری باندھتے ھوے بولا بکواس بند کر کتیا۔۔۔

    اب میں تیرے مکر میں نہیں آوں گا ۔

    اور میں باہر کی جانب لپکا ۔

    عظمی ننگی ھی جمپ مار کر چارپائی سے اتری اور بھاگ کر مموں کو چھلکاتی ھوئی میرے پیچھے آئی اور مجھے دروازے سے پیچھے ھی روک کر میرے سامنے ھاتھ جوڑ کر روتے ھوے بولی یاسر میری بات تو سن لو مجھے ایک موقعہ تو دو کہ میں اپنی صفائی پیش کرسکوں ۔

    میں نے کہا ۔

    پیچھے ہٹ جا بے غیرت جھوٹی ورنہ تجھے جان سے ماردوں گا ۔



    عظمی نے میرے ھاتھ پکڑے اور اپنے گلے پر رکھتے ھوے بولی ۔

    مارو مجھے مار دو مجھے میرا گلا دبا دو

    میں زندہ بھی نہیں رہنا چاہتی ۔

    میں نے جھٹکے سے اپنے ھاتھ اس سے چھُڑواے اور اسے پیچھے کو دھکا دیتے ھوے بولا ۔

    جا اپنے یاروں کے پاس جا اس کو کہہ کہ تیرا گلا دباے جن کے نام پھدی پر لکھواے پھر رھی ھو گشتی عورت کیا میرا لن کم پڑ گیا تھا جو دو دو یار بنا لیے رنڈی ہو تم رنڈی ۔

    عظمی جو میرے دھکے سے پیچھے جاگری تھی نیچے ھی گھیسی کر کے میری ٹانگوں کی طرف بڑھی اور میری ٹانگوں کو بازوں میں بھر کر ٹانگوں سے چمٹ گئی اور بولی یاسر میں بے قصور ہوں بے قصور ھوں میری ایک دفعہ بات تو سن لو ۔

    میں نے ٹانگیں چھڑواتے ھوے کہا



    میں نے تیری کوئی بات نہیں سننی چھوڑ میری ٹانگیں

    تم ایک پلید عورت ھو رنڈی ھو تم رنڈی ۔

    عظمی بولی ۔

    ایسے میں تمہیں نہیں جانے دوں گی جب تک تم میری بات نہیں سنو گے ۔

    مجھے بس ایک موقع دے دو ۔

    اس کے بعد جو تمہارا دل کرے وہ کرنا میں کچھ نہیں کہوں گی

    عظمی کی حالت دیکھ کر مجھے ترس بھی آنے لگ گیا جیسے وہ میرے پیر پکڑے گڑگڑا رھی تھی بلبلا رھی تھی

    مگر اسکی پھدی پر لکھے دو نام میرا دماغ خراب کر رھے تھے ۔

    بالاخر میں نے کہا ہاں کرو بکواس کیا کرنی ھے بولو جھوٹ کیا بولنا ھے بناو نئی کہانی کیا بنانی ھے ۔

    مگر ایک بات یاد رکھنا اب میں تیرے مکر میں نہیں آوں گا۔۔

    عظمی بولی ۔

    یاسر بس ایک دفعہ میری بات سن لو پھر تم یقین کرنا یا نہ کرنا مجھے اسکی پرواہ نہیں مگر میں تمہیں سچ بتا کر اپنے دل سے یہ بوجھ ہٹانا چاہتی ھوں۔

    تم جو سزا میرے لیے تجویز کرو گے میں ہنس کر قبول کروں گے ۔

    نہ یقین کرو گے تو مجھے پھر بھی دکھ نہیں ھوگا ۔

    مگر میرا ضمیر مطمئن ھوجاے گا میرے دل پر سے یہ پہاڑ ہٹ جاے گا جس کے بوجھ سے ہر وقت میرا سانس رکتا ھے اورمیں اندر ھی اندر سے صبح شام مرتی جارھی ہوں ۔

    میں تھوڑا سا نرم ھوا ۔

    اور بولا ھاں بتاو کیا بتانا ھے ۔

    عظمی کھڑی ھوئی اور بولی چلو ادھر چارپائی پر بیٹھو بتاتی ہوں سب ۔

    میں نے کہا ادھر بتاو۔

    عظمی میرا بازو پکڑ کر کھینچتے ھوے بولی چلو تو بیٹھ کر بتاتی ھوں ۔

    میں بوجھل قدموں سے چارپائی کی طرف چل پڑا ۔

    اور عظمی کو کہا کہ پہلے کپڑے پہنوں مجھے تمہارے اس ننگے وجود سے گھن آرھی ھے ۔

    عظمی اثبات میں سر ہلاتے ھوے ناچارگی سے اپنے کپڑے پہننے کے بعد بولی

    یاسر جب میں اسد کے ساتھ کار میں گئی تھی تو اسد نے اچانک کار ایک سنسان راستے کی طرف موڑ لی میں گبھرا گئی میں نے اس سے پوچھا بھی کی ادھر کدھر جارھے ہیں مگر اس نے مسکے لگا کر مجھے مطمئن کر لیا میں اسکی کی باتیں سن کر پھر بھی اندر سے گبھرا رھی تھی مگر پھر بھی خود پر کنٹرول کرتے ھوے میں نے

    اسدسے پوچھا کہ سہی بتاو اسطرف کیوں جارھے ھو

    تو اسد ہنستے ھوے بولا

    ڈر گئی نہ

    ھھھھھھھھھھ

    ھھھھھھھھھھ

    میں نے کہا نھی اسد اگر ڈرتی ہوتی تو تمہارے ساتھ آتی ھی نہ۔



    اسد بولا

    تو پھر گبھراو نہ

    ہم ایسی جگہ جارھے ہیں جہاں صرف میں اور تم ہو گی



    اور میں جی بھر کر اپنے سپنے کو پورا کرسکوں گا

    میں نے پھر اس سے پوچھا کہ

    کون سا سپنا



    تو اسد مسکرا کر بولا



    لگ جاے گا پتہ

    اتنی دیر میں اسد نے کار کو سڑک سے اتار کر ایک کچے راستے کی طرف موڑ دیا

    اور کچھ آگے جا کر ایک پرانی سی حویلی نظر آنے لگ گئی

    جیسے کسی زمیندار کا ڈیرا ہو۔



    اسد نے کار حویلی کے گیٹ کے باہر روکی

    اور ہارن بجایا تو

    کچھ دیر بعد گیٹ کھلا اور ایک اونچا لمبا جوان بڑی بڑی مونچھوں والا بدمعاش ٹائپ کا آدمی نمودار ہوا

    جس کو دیکھ کر میرے ہاتھ پیر پھول گئے اور میں نے گبھرا کر اسد سے پوچھا



    ییییہ کون ھے اسسد

    اسد نے ہنستے ھوے کہا

    تم کیوں ڈر گئی ھو

    یہ یار ھے اپنا میں

    نے دوبارا

    اس آدمی کی طرف غور سے دیکھا ۔

    جو سات فٹ لمبا چوڑے کندھوں کا مالک انتہائی مکرو شکل کا تھا

    اور وہ سگریٹ کا کش بھر کر

    اسد کو اشارے سے کار اندر لانے کو کہہ رھا تھا۔



    یاسر میں نے جب غور سے اسکو دیکھا تو

    میں مزید ڈر گئی

    اور اسد کو کہنے لگی۔



    اسسسسد واپسسس چلو مجھے نھی اندر جانا



    تو اسد نے مجھکو ڈرے ھوے دیکھ کر مجھے پچکارتے ھوے بولا۔



    میری جان تم کیوں خامخواہ ڈر رھی ھو



    یہ جگر ھے اپنا

    تم میرے ساتھ ھو

    پھر بھی ڈر رھی ھو ۔



    میں اسد کی تسلی سے کچھ سنبھلی مگر پھر بھی میری ٹانگیں کانپ رھی تھی اور

    ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ھوگئے تھے

    جسکو میں اپنی چادر سے

    صاف کررھی تھی ۔

    اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتی

    اتنی دیر میں اسد کار کو گیٹ کے اندر لے جاچکا تھا

    اور اس آدمی نے گیٹ بند کردیا تھا ۔

    .یاسر میرا میرے ہاتھ پیر کانپ رھے تھے میں اندر ہی اندر سے اپنے آپ کو کوس رھی تھی کہ میں کیوں اس کے ساتھ آئی ۔

    مگر وہ کنجر مجھے اپنی باتوں سے مطمئن کررھا تھا مگر نہ جانے کیوں میرا دل ڈر رھا تھا مجھ پر وحشت طاری ھورھی تھی ۔

    کار حویلی میں روکتے ھی

    ۔اسد نے کار کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا اور

    مجھ کو بھی باہر آنے کا کہا۔

    مگر مجھ کو ایک انجانے سے خوف نے گھیرا ھوا تھا۔



    اسد نے جب مجھے سوچ میں پڑے دیکھا تو

    جلدی سے کار کے آگے سے گھوم کر میری طرف آیا اور خود ھی میری سائڈ کا دروازہ کھول کر مجھے بازو سے پکڑ کر باہر آنے کا کہا



    میں نے پھر کہا اسد پلیز چلو یہاں سے مجھے بہت ڈر لگ رھا



    تو اسد نے مجھے پھر بہلاتے ھوے کہا یار تمہیں مجھ پر یقین نھی ھے جو تم ایسے کررھی ھو میرا دوست کیا سوچے گا ۔



    کہ اسکی بھابھی اتنی نک چڑھی ھے ۔



    یاسر مجھ سے یہاں سے بس غلطی ہوئی جو میں نے اسد کے منہ سے جب بھابھی کا لفظ سنا تو

    میرا سارا ڈر اور خوف ایکدم سے جاتا رھا اور میں بدنصیب اسی میں ھی خوش ھوگئی کہ اسد نے تو مجھے اپنی بیوی بنانے کا بھی سوچ لیا ھے اسی لیے تو میں اس کے دوست کی بھابھی ہوئی ۔



    میں باہر نکلی اور اسد کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔



    اتنے میں وہ بڑی بڑی مونچھوں والا شخص دھوتی اور لمبا سا کرتا پہنے چلتا ہوا اسد کے پاس آیا اور

    میری طرف اپنی سرخ بڑی بڑی سی آنکھوں سے گھورتے ہو ے اسد سے بڑی گرمجوشی سے گلے ملا اور اسد کا حال احوال پوچھنے لگ گیا ۔

    اس دوران بھی اس کی نظریں مجھ پر ھی جمی ھوئی تھیں

    اور بڑی ہوس بھری نظروں سے مجھکو سر سے پاوں تک دیکھ رھا تھا۔



    میں اسکی نظروں کی تاب نہ لاتے ھوے اس سے پیچھے ہٹ کر دوسری طرف منہ کرکے کھڑی ہوگئی

    مگر اب بھی مجھے ایسے محسوس ھورھا تھا کہ

    اس آدمی کی آنکھیں میری بیک میں چُبھ رھی ہیں ۔



    اسد سے گلے ملتے ھوے وہ شخص ہنس ہنس کر اسد سے باتیں کررھا تھا

    اور پھر دونوں علیحدہ ہوے تو اسد نے مجھے دوسری طرف منہ کیے کھڑے ھوے دیکھا

    تو مجھے مخاطب کر کے بولا



    عظمی ان سے ملو یہ میرا یار اکری جموں ہے

    اس علاقے کا بادشاہ ھے بادشاہ

    مگر اپنا جگری یار ھے



    اور اکری یہ میری ہونے والی بیگم اور تمہاری بھابھی عظمی ھے ۔

    اکری نے پھر مجھے سر سے پاوں تک دیکھا اور

    بولا واہ یارا

    کیا بھابھی ڈھونڈی ھے

    ہیرا ھے ہیرا



    خوش قسمت ہو جو ایسی بیگم مل گئی



    اسد بولا



    یار اب ادھر ھی ہمیں کھڑے رکھنا ھے

    یا ہمیں ہمارا کمرہ بھی دیکھاو گے



    تمہاری بھابھی کے پاس صرف دو گھنٹے ہیں



    پھر میں نے اسے سکول بھی چھوڑنے جانا ھے ۔



    اکری گلا پھاڑ کر ہنستے ھوے بولا



    او یارا ۔یہ ساری حویلی ھی تیری ھے

    جس کمرے میں دل کرتا ھے اس میں بے فکر ہوکر چلا جا یہاں تیرے یار کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نھی مار سکتی ۔






  12. The Following 8 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), Lovelymale (10-12-2018), MamonaKhan (12-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexliker909 (10-12-2018), Story Maker (09-12-2018), windstorm (10-12-2018)

  13. #297
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    660
    Thanks Thanks Given 
    116
    Thanks Thanks Received 
    943
    Thanked in
    537 Posts
    Rep Power
    76

    Default

    nice one... keep it up bro

    is se agey kiya howa tha wohi to suspense hai yar

  14. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    Xhekhoo (09-12-2018)

  15. #298
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 186


    اور اکری پھر بڑے غور سے میرے سینے کی طرف دیکھتے ھوے بولا



    چلیں بھابھی جی آپکو آپکا کا کمرہ دیکھاوں ۔



    یاسر میری جب بھی نظر اکری کی سرخ اور خطرناک آنکھوں پر پڑتی تو میرا جسم کانپ جاتا

    اور جب میں بھابھی جیسا شبد اس کے منہ سے سنتی تو مجھے کچھ حوصلہ ہو جاتا۔

    اکری بڑی شان سے ہمارے آگے چلتا ھوا

    حویلی کے اندر بنے کمروں کی طرف بڑھنے لگا

    اور برآمدے سے ھوتا ھوا ایک بڑے سے دروازے کو کھول کر اندر داخل ھوا

    میں جب اندر داخل ھوئی تو حیرانگی سے اندر بڑے سے حال کو دیکھنے لگ گئی

    باہر سے بوسیدہ حالت دکھنے والی حویلی اندر سے ایک شان دار محل لگ رھی تھی



    عظمی حیرانگی سے چاروں طرف دیکھے جارھی تھی

    حویلی میں ہر چیز اپنے قمیتی ہونے کا اعلان کررھی تھی ۔



    حال کے اندر کافی سارے دروازے تھے

    جو شاید کمروں کے تھے ۔

    اور پھر اکری چلتا ھوا ان کمروں کے درمیان والے کمرے کی طرف بڑھا جس کا دروازہ باقی کمروں کے مقابلے میں بڑا تھا جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے چاروں طرف کا جائزہ لیا مجھے ایسے لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رھی ہوں

    کمرے میں بڑا جہازی سائز کا بیڈ اور سامنے بڑی سی الماری جس میں فل سائز کا ٹیلی ویژن اور وی سی آر پڑا تھا

    اور کمرے کی دوسری دیوار پر بڑا سا شیشے کا ریک بنا ھوا تھا جس میں

    مہنگے سے مہنگا ایک سے بڑھ کر ایک ڈیکوریشن پیس رکھا ہوا تھا اسد نے مجھے یوں حیران ہوتے دیکھا تو آگے بڑھا اور مجھکو کندھوں سے پکڑ کر قریب کرتے ھوے

    ہاتھ میرے منہ کی طرف لیجا کر میرا نقاب ہٹا دیا

    اور بولا

    عظمی یہ کمرہ تو کچھ بھی نہیں ھے میں نے تو اس سے بھی بڑھ کر تمہارے لیے کمرہ تیار کیا ھوا ھے جس میں تم دلہن بن کر جاو گی ۔

    یاسر مجھے میرے لالچ اور اونچے خوابوں نے سب کچھ بھلا دیا اور میں پھر اسکی چکنی باتوں میں آکر خوشی سے اس کے ساتھ چمٹ گئی ۔۔

    اسد نے مجھے خود سے علیحدہ کیا اور مجھے یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ میں ابھی آیا ۔

    میرے پاگل دماغ نے پھر بھی کام نہ کیا کہ یہ مجھے چھوڑ کر باہر کیوں گیا ھے ۔

    میں اسد کے جانے کے بعد ۔بیڈ کی طرف دیکھنے لگ گئی کہ ایسے نرم بیڈ پر میں یاسر کی دلہن بن کر بیٹھوں گی اور اسکے ساتھ سہاگ رات منانے کا کتنا مزہ آے گا اور پھر میری نظر ایک کونے میں پڑے شاندار ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جس پر بڑے سائز کا شیشہ لگا ہوا تھا میں بے اختیار ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگ گئی

    کہ ایکدم میرے ضمیر نے مجھے جنھجوڑا

    کہ اے بیوقوف لڑکی تو کیا کرنے جارھی ھے

    کیا تیرا کنوارہ پن باقی ھے اگر تو اسد سے شادی کرنا چاھتی ھے تو شادی سے پہلے اس سے چودوانے چلی ھے تاکہ اسے پہلے ہی پتہ چل جاے کہ تو کسی اور سے بھی چدوا چکی ھے

    پھر کیا وہ تجھ سے شادی کرے گا ہرگز ھی نھی

    اور تو صرف اس کی رکھیل بن کر رھ جاے گی اسد تجھے چودنے کے بعد تجھ پر تھوکے گا بھی نھی

    آج تو دومنٹ کے چسکے کے لیے یاسر کو دھوکہ دے کر اس کے ھی دوست سے چداوانے چلی ھے اور پھر اس سے شادی کے خواب دیکھ رھی ھے

    کہاں وہ امیر زادہ شہری بابو کہاں تو غریب گھرانے کی گاوں میں رہنے والی معمولی سی لڑکی

    اگر تجھے اسد سے شادی کرنی ھی ھے یا تو یہ دیکھنا چاھتی ھے کہ اسد تم سے سچا پیار کرتا ھے اور واقعی تم سے شادی کرنا چاھتا ھے تو اس سے چدواے بنا ھی یہاں سے چلی جا اور دیکھ اسد تجھے کیا کہتا ھے ۔

    یاسر میں اپنے ضمیر کی جھاڑ سن کر جیسے ھی مڑنے لگی کہ مجھے اچانک اپنے کندھوں پر ھاتھ محسوس ھوے میں نے جلدی سے گھوم کر دیکھا تو اسد کھڑا مسکرا رھا تھا

    اسد میرے اتنا قریب تھا کے ہم دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے منہ پر پڑ رھی تھیں اور میرا سینہ اسد کے سینے کے ساتھ لگ رھا تھا میں ایکدم گبھرا کر پیچھے ھوئی تو ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگ گئی

    اسد میرے اور قریب ھوا اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ھوے بولا

    جان من شیشے میں اپنے حسن کا جائزہ لے رھی تھی

    کیا خود ھی اپنے آپ کو نظر لگانے کا پروگرام ھے ۔

    میں گبھرا کر اسد کو پیچھے کرتے ھوے پھر دروازے کے پاس آگئی اور

    بند دروازے



    کی طرف دیکھنے لگ گئی

    مجھے لگا جیسے دروازہ کھلا ھوا ھے



    جب اسد واپس میری طرف مڑا تو میں نے اسد سے کہا کہ کنڈی تو لگا دو



    اسد ہنس کر بولا



    جان یہ آٹولاک ھے

    انکی کنڈیاں نھی ہوتی

    میں نے جب غور سے دیکھا تو واقعی دروازے پر کوئی کنڈی نھی لگی تھی ۔

    میں شرمندہ سی ہوگئی

    اپنے پینڈو پن پر ۔

    اسد پھر میرے پاس آکر کھڑا ھوگیا

    اور بولا یار تم نے پھر چادر اوڑھ لی مجھ سے کیسی شرم

    اور پھر مجھکو کو ساتھ لگانے لگا تو میں نے اسکو روکتے ھوے کہا ۔ ایک منٹ رکو تو سہی
    اسد برا سا منہ بنا کر بولا کیوں کیا ھوا



    میں نے اسے کہا ایک بات تو بتاو

    اسد جنجھلا کر بولا یار یہ وقت باتیں کرنے کا نھی ھے



    باتیں کرنے کے لیے ساری زندگی پڑی ھے

    مگر میں اسد کو پیچھے کرتے ھوے بیڈ پر بیٹھ گئی

    اور اسد

    میرا منہ تکتا رھ گیا۔

    اسد بولا کیا ھے یار

    ایسے کیوں کررھی ھو۔میں نے کہا

    اسد اتنی جلدی بھی کیا ھے

    تم تو ایسے کررھے ھو جیسے

    میں کہیں بھاگی جارھی ہوں

    ادھر بیٹھو کچھ باتیں کرتے ہیں۔



    اسد کے چہرے پر غصہ جھلک رھا تھا مگر وہ کنجر غصے پر قابو کرتا ھوا کندھے اچکا کر میرے پاس بیٹھ گیا۔

    اور پھر مسکہ لگاتے ہوے میرا ہاتھ پکڑ کر چومتے ھوے بولا۔



    میری جان میں تو اس لیے کہہ رھا تھا

    کہ پھر تم نے پیپر دینے بھی جانا ھے

    ہم لیٹ نہ ہو جائیں

    میں دیوار پر لگے کلاک کی طرف دیکھتے ھوے بولی

    ابھی تو آٹھ بھی نھی بجے

    بہت ٹائم پڑا ھے ۔

    اسد اپنے شوز اتار کر بیڈ کے اوپر بیٹھتے ھوے بولا اچھا جی جیسے جناب کی مرضی

    پھر جلدی نہ مچانا کہ مجھے دیر ھورھی ھے

    پیپر کا وقت نکل جانا ھے ۔



    میں مسکرا کر اسد کی طرف دیکھتے ھوے بولی

    نھی کہتی جی۔

    جب آپ کہو گے تب ھی جائیں گے

    اب خوش

    مگر مجھے آپ سے باتیں کرنی ہیں ۔

    اسد بولا تو پھر ٹھیک ھے

    بولو کیا پوچھ رھی تھی

    اور تم بھی اوپر ھوکر بیٹھ جاو

    میں نیچے جھک کر سکول شوز اتارنے لگی اور پھر شوز اتار کر پاوں اوپر کر کے بیٹھ گئی ۔

    اسد بیڈ کی ٹیک کے پاس ہو کر تکیہ سیدھا کرتے ھوے اسپر لیٹنے کے انداز میں ہوا اور مجھکو کو بھی اپنے قریب لیٹنے کا کہا۔

    میں چادر لپیٹے سمٹ کر اسد کے قریب بیڈ کی ٹیک کے ساتھ کمر لگا کر سمٹ کر بیٹھ گئی ۔

    اسد بولا لیٹ جاو یار اور یہ چادر تو اتار دو۔

    میں نے اسے ٹالتے ھوے کہا اچھا اتارتی ھوں

    اتنے بے صبرے کیوں ھوگئے ھو۔

    اسد پھر خود ہر کنٹرول کرتے ھوے خود ھی سیدھا ھوگیا اور بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کر میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گیا۔

    اور آہہہہ بھر کر بولا

    جی بولو

    میں اسکے طنزیہ انداز سے

    جی بولو کہنے پر ۔اسکی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔

    اسد تم ایک دم بدل کیوں گئے ھو

    کیا تم نے مجھے صرف اسی کام کے لیے بلایا تھا

    کیا تم میرے ساتھ صرف جسمانی تعلق ھی رکھنا چاھتے ھو۔

    اسد نے مجھے جب روہانسے انداز میں بولتے ھوے دیکھا

    تو ساتھ ھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ھوے بولا

    نھی میری جان تم نے یہ بات سوچی بھی کیسے

    ۔کہ میری اتنی گھٹیا سوچ ھوسکتی ھے

    میں تو ساری عمر تمہارے ساتھ گزارنا چاھتا ہوں

    میں نے تو پتہ نھی کیا کیا پلاننگیں کی ھوئی ہیں کہ ہم شادی کے بعد یہ کریں گے وہ کریں گے

    میں نے تو سوچا ھو ا ھے کہ ہم ہنی مون ھی باہر کے ملک میں جاکر منائیں گے ۔

    میں اس کنجر کی باتوں میں پھر آ گئی اور اس پر بھروسہ کرتے ھوے اپنے ضمیر کو ھی برا کہنے لگی کہ اسد نے میری گردن میں بازو ڈال کر میری گال پر ہاتھ رکھتے ھوے ۔

    میرا چہرہ اپنے منہ کی طرف کیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگا تو

    میں نے جلدی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا

    اور اسد کے ہونٹ میرے ہاتھ کو چومتے ھوے واپس پلٹے اور

    اسد غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے بولا

    یار یہ کیا حرکت ھے

    کیا میں اس لائک بھی نھی کہ

    تمہارے ہونٹوں کو ھی چوم لوں

    میں نے پیار سے اسے کہا نھی ابھی نھی

    جب وقت آیا تو میں تمہیں کسی کام سے نھی روکوں گی یہ جسم کیا میری روح بھی تمہارے قبضے میں ھوگی

    مگر پلیز پہلے کچھ نھی کرنا۔

    اسد حیران ہوتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے بولا

    میں سمجھا نھی کہ کون سا وقت کیسا وقت

    ابھی وقت نھی آیا تو پھر کب آے گا

    میں نے اسد کے چہرے کی طرف دیکھتے ھوے کہا

    اسد تم واقعی مجھ سے پیار کرتے ھو

    تو اسد بولا کیوں تمہیں کوئی شک ھے

    میں نے کہا شک نھی مگر تمہارے منہ سے سننا چاہتی ہوں

    اسد نے اپنی شہ رگ کو پکڑتے ھوے کہا

    ماں قسم جان سے بھی بڑھ کر تم سے پیار کرتا ھوں میں نے کہا

    مجھ سے شادی کرو گے نہ

    اسد نے ویسے ھی شہ رگ کو پکڑے ھوے کہا۔

    ماں قسم کروں گا۔

    میں نے پوچھا

    کب

    اسد بولا

    جب تمہاری پڑھائی ختم ھوجاے گی

    میں نے کہا

    تو ایسا نھی ھوسکتا۔

    کہ ہم جسمانی تعلق

    سہاگ رات کو ھی قائم کریں ۔

    یہ سنتے ھی اسد کے چہرے پر غصے کی ایک لہر آکر گزرگئی

    مگر اسد نے خود کو کنٹرول کیا اور

    پھر مجھکو اپنی طرف کھینچتے ھوے بولا



    شادی سے پہلے بھی میں نے ھی کرنا ھے

    اور شادی کے بعد بھی میں نے ھی کرنا ھے

    تو پہلے اور بعد میں کیا فرق



    میں نے کہا فرق ھے نہ

    میرا دل کہتا ھے کہ ہم جو بھی کریں گے سہاگ رات کو ھی کریں گے اس سے پہلے کچھ نھی کریں گے ۔

    اگر تم مجھ سے سچا پیار کرتے ھو اور شادی کرنا چاھتے ھو تو تمہیں میری بات ماننا پڑے گی

    اسد کچھ دیر سوچتا رھا ۔ پھر بولا چلو ٹھیک ھے میں تمہاری بات مان لیتا ھوں
    مگر میری بھی ایک شرط ھے

    میں خوش ھوکر بولی

    میں اپکی ہر شرط ماننے کو تیار ھوں

    اسد بولا میں وعدہ کرتا ھوں کہ ہم سیکس سہاگ رات کو ھی کریں گے

    مگر آج موقع ھے

    مجھے پیار تو کرنے دو۔

    کہ میں اس لائک بھی نھی ہوں ۔اسد کا لہجہ روہانسہ ہوگیا

    جیسے ابھی رونے لگا ھو۔

    میں نے جلدی سے اسد کے گالوں پر ھاتھ رکھا اور اپنے ہونٹ اسد کے ہونٹوں پر رکھ کر چومنے

    لگ گئی

    ہم دونوں کافی دیر ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رھے

    اسد سے ذیادہ میں تجربہ استعمال کر رھی تھی جو یاسر تم سے سیکھا تھا اور بڑی مہارت سے اسد کے ہونٹ کو چوستی تو کبھی اسکی زبان کو اپنی زبان سے پکڑنے کی کوشش کرتی مجھ کو اپنی مہارت دیکھانا مہنگی پڑی

    اسد تو ہکا بکا رھ گیا کہ جس لڑکی کو وہ ایک سیدھی سادھی پینڈو لڑکی سمجھ رھا تھا

    وہ فرنچ کس ایسے کررھی ھے جیسے انگریزوں نے بھی اس سے سیکھی ھو۔



    ضرور سالی کا کسی کے ساتھ چکر رھا ھوگا ۔

    تبھی اتنی ایکسپرٹ ھے. ۔



    اسد ساتھ ساتھ کسنگ کررھا تھا اور ساتھ ساتھ سوچوں میں گم وہ میرے مموں کو ایک ھاتھ سے باری باری پکڑ کر دبا رھا تھا۔

    میں نے دونوں ھاتھوں سے اسد کا سر پکڑا ھوا تھا اور اپنی مستی سے اپنے ہونے والے شوہر کے ہونٹ چوس رھی تھی

    کہ اسد خود کھسکتے ھوے بیڈ پر لیٹتے ھو ے مجھکو بھی ساتھ لیٹانے لگا



    میں بھی اسکے ساتھ نیچے کھسکتی گئی اور دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوس رھے تھے

    اسد کا لن پینٹ پھاڑ کر باہر آنے کے لیے بے چین تھا اور میری پھدی کے ساتھ لگ رھا تھا میں بھی مزے میں ڈوب چکی تھی اور کچھ دیر پہلے کی سوچ میرے دماغ سے نکل چکی تھی



    میرا جنون سب حدوں کو پار کرنے کا اعلان کررکھا تھا

    اسد نے آہستہ اہستہ مجھکو سیدھا لیٹا دیا اور میری قمیض کے اندر ھاتھ ڈال کر میرےبپیٹ پر پھیرنے لگ گیا

    میرے سرور میں اور اضافہ ہوگیا

    اور میں اسد کے ہونٹوں کو کاٹنے پر تُل گئی اسد نے جب میرا یہ جنون دیکھا کہ میں اب فل گرم ھوگئی ھوں تو

    اسد نے ھاتھ کو مموں کی طرف لیجانا شروع کردیا



    اور آخر کار اسد کا ہاتھ میرے مموں تک پہنچ گیا

    اور اسکا ہاتھ میرے مموں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگ گیا میں اسد کے ہاتھ کے لمس سے مزید بے چین ھوکر اپنی پھدی کو اسکے پینٹ کے ابھار پر رگڑنے لگی

    اسد کو بھی علم ھوگیا کہ. لوہا اب مکمل گرم ھو چکا ھے

    تو اسد نے مموں کو چھوڑا اور اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر اپنے پینٹ کی زپ کھولی اور

    انڈر وئیر سے لن نکال کر کھلی زپ سے باہر نکال لیا



    اور پھر ھاتھ اوپر کر کے میرے مموں کو دبانے لگا

    میں اپنی مستی میں گم تھی

    مجھے پتہ ھی نھی چلا کہ

    نیچے کیا واردات ھونے والی ھی

    اسد نے لن میری شلوار کے اوپر سے ھی پھدی کے ساتھ رگڑنا شروع کردیا

    میں نے لن کو اپنے چڈوں میں بھینچ لیا اور سسکاریاں بھرنے لگ گئی


  16. The Following 9 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), Lovelymale (10-12-2018), MamonaKhan (12-12-2018), Mirza09518 (10-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexliker909 (10-12-2018), StoryTeller (14-02-2019), windstorm (11-12-2018)

  17. #299
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    341
    Thanks Thanks Given 
    407
    Thanks Thanks Received 
    2,124
    Thanked in
    334 Posts
    Rep Power
    189

    Default Update no 187,,,



    اسد نے موقع غنیمت جانا اور ھاتھ نیچے لیجا کر میری لاسٹک والی شلوار میں ہاتھ ڈال کر پھدی کے اوپر رکھ دیا پھدی تو پہلے نکو نک بھری ہوئی تھی جیسے ھی اسد کی انگلیاں میری پھدی سے ٹکرائیں میرے منہ سےلمبی سسکاری نکلی

    اور میں نے سیدھی لیٹی ھوئی نے ھی گھوم کر اسد کے ساتھ لپٹ گئی اور اسے اپنے بازوں میں جکڑ کر کس لیا اور ساتھ ھی چڈوں میں اسد کے ہاتھ کو جکڑ لیا

    اور پھدی سے مینہ برسنے لگا اور میری سانسیں اکھڑنے لگی

    اور پھر برسات بھی تھم گئی سانسیں بھی تھم گئی

    اور میراجسم ڈھیلا پڑ گیا

    اسد نے جلدی سے میری گیلی پھدی سے ھاتھ ہٹایا اور میری شلوار سے ھی ہاتھ کو صاف کیا اور کروٹ لیے مجھے اپنے ساتھ چمٹی ھوئی کی گانڈ سے شلوار نیچے کی اور پھر آگے سے نیچے کی

    اور لن پکڑ کر پھدی کے اندر کرنے لگا



    جیسے ھی میری پھدی کے ساتھ اسد کا لن ٹچ ہوا

    تو مجھے ایکدم ہوش آگیا اور میں نے اسد کے سینے کے ساتھ لگی نے اپنے دونوں ھاتھ آگے کیے اور اسد کے سینے پر رکھتے ھوے اسے زور سے دھکا دے کر پیچھے کیا اور جلدی سے شلوار پکڑ کر اوپر کرلی اور

    اسد کی طرف دیکھ کر بولی یہ کیا کرنے لگے تھے

    میرے اچانک دھکے سے

    اسد ویسے ھی لن ہاتھ میں پکڑے پیچھے کو سیدھا لیٹ گیا

    اور غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے مجھے گھورنے لگ گیا ۔

    اسد بولا یہ کیا بتمیزی ھے

    عظمی بولی بتمیزی تو تم کرنے لگے تھے

    تم نے مجھ سے اپنی ماں کی قسم کھا کر وعدہ کیا تھا

    کہ ہم شادی سے پہلے کچھ نھی کریں گے

    مگر تم تو ابھی سب کچھ بھول گئے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسد ۔ غصے سے بولا

    یار تم اب ایسے بھی نخرے مت کرو کہ اتنی پارسا بن رھی ھو۔

    میں اسد کی پارسا والی بات سن کر حیران ھوتے ھوے بولی

    اسد کیا مطلب ھے تمہارا

    ۔اسد پھر اسی انداز میں بولا مطلب صاف ھے کہ

    تم ایسے کررھی ھو جیسے پہلی دفعہ کروانے لگی ھو۔

    یاسر بیشک تم نے میرے ساتھ بہت دفعہ کیا تھا مگر نجانے کیوں



    میرا رنگ ایکدم سرخ ھوگیا

    اور میں جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور غصے سے بولی

    کیا بکواس کر رھے ھو اسد

    تو اسد ہنستے ھوے بولا بکواس نھی سچ کہہ رھا ھوں ۔تم جیسے میرے ساتھ کسنگ کر رھی تھی

    کوئی شریف لڑکی ایسے نھی کرتی ۔

    میں اسد کی بات اور طعنہ سن کر رونے والی ھوگئی

    اور روتے ھوے بولی

    اسد بکواس بند کرو

    میں تمہارے ساتھ ادھر آگئی اور تمہاری اپنے بارے میں فیلنگ دیکھ کر سب کچھ بھول کر تم سے تھوڑی دیر پیار کیا کر لیا

    تو تم

    میری محبت میرے پیار میرے اعتماد

    کا یہ صلہ دے رھے ھو کہ مجھے

    ایک بازاری چلتی پھرتی لڑکی بنا دیا۔
    میں ھی غلط تھی جو تمہاری باتوں میں آگئی

    اور اپنے گھر والوں کو دھوکا دے کر تم پر یقین کر کے تمہارے ساتھ چلی آئی

    خبردار آج کے بعد تم نے مجھے اپنی شکل بھی دیکھائی

    جھوٹے مکار

    اور یہ کہتے ھوے میں نے اپنی چادر اٹھائی اور اوپر لینے لگی ۔

    تو

    اسد قہقہہ لگا کر ہنستے ھوے بولا

    جا کدھر رھی ھو جان من

    میری شکل تو تب دیکھو گی جب تم اپنی شکل کسی کو دیکھانے کے قابل نھی رہو گی

    اور

    ادھر تم آ تو اپنی مرضی سے گئی ھو مگر جاو گی میری مرضی سے

    چلو شابا ش خود ھی شلوار اتار کر سیدھی ہوکر بیڈ پر لیٹ جاو

    مجھے مجبور مت کرو کہ میں ۔۔۔۔۔۔۔



    ابھی اسد نے اتنا ھی کہا تھا

    کہ میںن نے ایک ذور دار تھپڑ اسد کے منہ پر مارا



    اور روتے ھوے بولی

    جھوٹے مکار بےغیرت کتے حرام زادے



    میرے ساتھ پیار اور شادی کرنے کا سب ڈرامہ کیا تھا

    میں جا رھی ھوں اور مجھے تم روک کر دیکھاو ۔

    دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ھے

    میں یہ کہتے ھوے اٹھ کر بیڈ سے نیچے اترنے لگی ۔تو ۔اسد جو ابھی تک اپنی گال پر ھاتھ رکھے بیٹھا تھا



    اس نے

    مجھے بازو سے پکڑا اور ایک ھاتھ سے ھی گھما کر بیڈ پر دے مارا

    اور خود میرے پیٹ پر سوار ھوگیا اور میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیے میں ٹانگیں چلا رھی تھی اور اونچی آواز میں اسد کو گالیاں دے کر ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رھی تھی



    اسد نے جیسے تیسے میرے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں اپنے ایک ھاتھ میں کیں

    اور ایک ذور دار تھپڑ میرے منہ پر مارتے ھوے بولا



    چُپ کر گشتئے

    تمہاری اتنی جرات کہ مجھ پر ھاتھ اٹھاے دو ٹکے کی حرامزادی

    آج تجھے بتاتا ھوں کہ کیسے کسی مرد پر ھاتھ اٹھایا جاتا ھے



    آئی بڑی مجھ سے شادی کرنے والی

    تیرے جیسیاں روز پتہ نھی کتنی اسی بیڈ پر چودتا ھوں

    اور آج تجھے میں بھی چودوں گا اور میرا یار اکری بھی تجھے چودے گا

    پھر جا کر مجھے سکون ملے گا پھر مجھے مارے ھوے تھپڑ کا حساب برابر ھوگا ۔

    ایک تھپڑ کے بدلے آج تیری پھدی میں دو لن جائیں گے



    اپنی اوقات دیکھ سالی اور مجھے دیکھ



    اور تو چلی ھے مجھ سے شادی کرنے

    تیرے جیسی کو میں اپنے گھر میں نوکرانی نہ رکھوں آئی بڑی میں اسد کا تھپڑ کھانے اور اسکی دھمکیاں سننے کے بعد سہم گئی اور انکھیں پھاڑے اسد کو دیکھی جارھی تھی

    اسد کے خاموش ہوتے ھی میں اسپر چلائی

    چھوڑ مجھے کتے

    میں یاسر کو بتاوں گی

    اور اپنے ابو کو بھی



    تو اسد غصے سے بولا



    جا دس دے جنوں دسنا ای

    لن وڈ لے تیرا او ییندڑ وی تے تیری ماں دا یییندڑ تیرا پیو وی

    میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگ گئی تھی

    ایک تو انجان جگہ دوسرا میں اکیلی جان

    اوپر سے مجھے یہ خوف کہ

    اگر سچ میں اس نے اس مُچھل کو بلوا لیا میں تو ویسے ھی مرجاوں گی ۔



    میں نے دیکھا کہ اسد پر کسی بات کا اثر نھی ھورھا تو

    میں نے پھر روتے ھوے اسد کی منتیں شروع کردیں اور

    بولی اسد تمہیں تمہاری ماں کا واسطہ مجھے جانے دو

    ۔تمہاری بہن بھی جوان ھے اگر کوئی اس کے ساتھ ایسا کرے تو تم پر کیا بیتے گی سوچو تمہارے ماں باپ پر کیا بیتے گی

    میری عزت نہ خراب کرو

    میرے ماں باپ جیتے جی مر جائیں گے

    اسد نے میری بات سنی ان سنی کی اور پیچھے ھو کر میری ٹانگوں کے پاس پہنچ کر میری شلوار پکڑ کر نیچے کھینچ دی ۔میں نے ایک ذور دار چیخ ماری ۔اور اپنی ایک ٹانگ آگے کی اور پورے زور سے اپنی ٹانگ اسد کے لن پر ماری ۔

    اسد لن پر ہاتھ رکھ کر بلبلایا

    اور ایک ذور دار چیخ مارے

    ھاےےےےےھھھ میں مرگیا اور لن کوپکڑے پیچھے کو قلابازی کھا کر بیڈ سے نیچے گرا اور اسکے ساتھ ھی باہر کا دروازہ دھڑم سے کھلا اور اکری ایکدم اندر داخل ھوا اور پہلے اس نے مجھے دیکھا اور پھر جب اسکی اسد پر نظر پڑی جو بیڈ سے نیچے گرا تڑپ رھا تھا تو وہ مجھے گھورتا ھوا اسد کی طرف بھاگا. اور جاکر اسد کوپکڑ کر کھڑا کرنے لگ گیا ۔

    میں نے موقع غنیمت جانا اور چادر ھاتھ میں پکڑی اور ننگے پاوں باہر کی طرف بھاگی ۔
    مگر میں جیسے ھی دروازے سے باہر نکلی تو سامنے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا بدمعاش ہاتھ میں گن لیے میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور میرے قریب پہنچ کر ایک زوردار تھپڑ میرے منہ پر مارا تو میں الٹی واپس کمرے کے اندر گری تو اس نے ساتھ ھی دروازہ باہر سے بند کردیا ۔

    اور میری جیسے ھی پیچھے نظر پڑی تو میری جان حلق میں اٹک گئی کہ ۔۔۔۔

  18. The Following 10 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), abkhan_70 (09-12-2018), Lovelymale (10-12-2018), MamonaKhan (12-12-2018), Mirza09518 (10-12-2018), omar69in (27-01-2019), sexeymoon (10-12-2018), sexliker909 (10-12-2018), waqastariqpk (09-12-2018), windstorm (10-12-2018)

  19. #300
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    30
    Thanks Thanks Given 
    23
    Thanks Thanks Received 
    64
    Thanked in
    26 Posts
    Rep Power
    14

    Default

    شییخو بھائی کہانی بہت زبردست جا رہی ہے لیکن یہاں کچھ کہانی رپیٹ ہو گئی

  20. The Following 2 Users Say Thank You to lastzaib For This Useful Post:

    abba (10-12-2018), Xhekhoo (10-12-2018)

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •