جتنے دوستوں کی ممبرشپ ری سٹور ہونی تھی ہو گئی اب مزید کسی کی ممبرشپ ری سٹور نہیں ہو گی. اب جس کو ممبرشپ چاہے اس کو فیس دینا ہو گی. پندرہ سو یا پندرہ ڈالر ایک سال کے لئے
Contact
[email protected]

اردو فنڈا کے بہترین سلسلے اور ہائی کلاس کہانیاں پڑھنے کے لئے ابھی پریمیم ممبرشپ حاصل کریں . نیا سلسلہ بستی بستی گاتا جائے بنجارا ایڈمن کے قلم سے

Page 97 of 97 FirstFirst ... 47879394959697
Results 961 to 967 of 967

Thread: وہ بھولی داستان جو پھر یاد آگئی

  1. #961
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    197
    Thanks Thanks Given 
    330
    Thanks Thanks Received 
    390
    Thanked in
    176 Posts
    Rep Power
    174

    Default

    b بہترین اپڈیٹ دی ہے شیخو جی
    اگلی قسط کا انتظار رہے گا

  2. The Following 2 Users Say Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    MamonaKhan (Today), Xhekhoo (Today)

  3. #962
    Join Date
    Dec 2018
    Posts
    7
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Bouhat hi kamal wapsi hy Sheikhoo Sb !

    Amazing story and fablous peice of Writing ... !!!

    Be happy and thanks a lot for your efforts and time .. !!

  4. The Following User Says Thank You to Hanisheikh For This Useful Post:

    Xhekhoo (Today)

  5. #963
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    370
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,502
    Thanked in
    363 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 252??

    مجھے اچانک جب یہ احساس ھوا کہ میں تو شلوار کے بیچ میں ھی فارغ ہوچکا ہوں تو مارے شرمندگی کے میرا برا حال ھونے لگا اور مذے کے جو چند آخری لمحے بچے تھے انسے بھی محروم ھوگیا ۔
    جبکہ عبیحہ ابھی تک اکھڑے اکھڑے سانس لے رھی تھی اور ساتھ. ساتھ دونوں ھاتھ اپنے چہرے پر پھیر پھیر کر چہرے پر آے ہلکے سے پسینے کو صاف کررھی تھی
    اور میں اپنی گیلی شلوار کو پکڑے سوچ رھا تھا کہ
    میرے ساتھ آج یہ کیا ڈرامہ ھوا اتنی جلدی فارغ ھوگیا شاید سارے دن کی ٹچنگ اور خواری کا نتیجہ تھا ورنہ ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔
    کچھ ھی دیر بعد عبیحہ کی آہستہ سے اور بڑے سنجیدہ انداز سے آواز آئی یاسر پیچھے ہٹو مجھے اٹھنے دو ۔۔
    میں نے اسکی طرف دیکھتے ھوے سرگوشی میں کہا کیوں کیا ھوا ابھی تو آئی ھو جانے کی بھی جلدی پڑ گئی ھے ۔
    عبیحہ بولی پیچھے ہٹو نا میں نے واش روم جانا ھے ۔
    میں نے کہا ۔۔
    بہانے کیوں بنا رھی ہو ۔
    تو عبیحہ نے قسم کھاتے ھوے کہا کہ سچی میں نے واش روم جانا ھے ۔
    میں نے پھر کہا تم نے واش روم کے بہانے باہر نکل جانا ھے اور پھر کمرے میں چلی جاو گی ۔۔
    تو عبیحہ مصنوعی غصہ سے میرے بازو پر مکا مارتے ھوے بولی ۔
    اب پیچھے بچا ھی کیا ھے جو میں نے اب تم سے دور بھاگنا ھے سب کچھ تو کر لیا ھے ۔
    میں نے کہا ابھی تو کچھ بھی نہی کیا ۔
    عبیحہ میری بات کاٹتے ھوے بولی اوووھو یاسر مجھے اٹھنے تو دو کہا نہ کہ میں واش روم سے فارغ ہوکر آتی ھوں جلدی سے پیچھے ھو جاو چلو شاباش ۔۔
    عبیحہ مجھے پچکارتے ھوے مطمئن کرنے لگی میں عبیحہ کے اوپر سے ہٹتے ھوے بولا ۔
    دیکھ لو عبیحہ میں نے تم پر بھروسہ کیا ھے ۔
    عبیحہ اٹھتے ھوے اپنی شرٹ نیچے کرتے ھوے بولی اچھا بابا کہا نہ آتی ھوں یقین بھی کرلیا کرو ۔
    میں نے ہممممم کیا اور عبیحہ پیروں کی مدد سے اپنا جوتا تلاش کر کے پہننے لگی اور پھر اپنی گانڈ سے شرٹ کو نیچے کرتی ھوئی آدبے پاوں کمرے کے دروازے تک پہنچی اور پھر بڑی احتیاط سے باہر سر نکال کر چاروں اطراف کا جائزہ لیا اور پھر تسلی کرنے کے بعد تیز تیز قدم بڑھاتی ھوئی واش روم کی طرف چلی گئی ۔۔۔
    عبیحہ کے جانے کہ بعد جیسے ھی میرا دھیان اپنی گیلی شلوار پر گیاتو مجھےعجیب سے کوفت ھونے لگئی اور منی کی سمیل میرے دماغ کو چڑھنے لگ گئی ۔۔
    میں بھی جلدی سے باہر نکلا اور برآمدے کی طرف دبے قدموں سے چلتا ھوا اس جگہ جا پہنچا جہاں کونٹی کے ساتھ میرا ٹراوز شرٹ لٹکا ھوا تھا ۔
    جاتے جاتے میری نظر واش روم کی طرف گئی تو لائٹ جلتی اور دروازہ بند دیکھ کر مجھے تسلی ھوگئی کہ عبیحہ واقعی ھی واش روم ھی گئی ھے ۔۔
    میں نے جلدی سے کونٹی سے ٹراوزر شرٹ اتاری اور انہی قدموں واپس سٹور روم کی طرف چلا گیا اور اندر داخل ھوتے ھی میں، نے جلدی سے شلوار اتاری اور پھر شلوار سے ھی اہنے لن کو اور لن کے اطراف والی جگہ کو اچھے سے صاف کیا اور پھر جلدی سے ٹراوز پہن لیا۔
    اور شلوار کو ایک طرف پھینک دیا اور پھر میں قمیض اتارنے لگا ابھی میں نے قمیض اوپر کر کے اپنا سر قمیض کے گلے سے نکالا ھی تھا کہ
    عبیحہ کمرے میں داخل ھوئی اور آتے ھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے غور سے دیکھنے لگ گئی کمرے میں ہلکا سا اندھیرا تھا کیوں کہ چاند پورے جوبن پر آچکا تھا جس کی وجہ سے سٹور میں کافی روشنی ھوگئی تھی مگر اتنی بھی نہیں تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے بلکل کلیر دیکھ سکتے ۔۔
    میری قمیض میرے بازوں میں ھی اٹکی ھوئی تھی کہ میں نے سر ہلاتے ھوے سرگوشی میں عبیحہ سے پوچھا مجھے ایسے گھور کیوں رھی ھو۔
    عبیحہ بھی سرگوشی میں بولی ۔
    یہ کیا کررھے ھو ۔
    میں نے کہا کپڑے بدل رھا ھوں
    عبیحہ بولی کیوں پہلے کپڑوں کو کیا ھوا۔
    میں نے قمیض سے بازو کھینچ کر قمیض کو ایک سائڈ پر رکھتے ھوے کہا ۔
    یار میں سونے کے وقت ٹراوز شرٹ پہنتا ھوں اس لیے بدل رھا ھوں ۔۔
    عبیحہ ہمممممم کرتے ھوے بولی ۔
    تو پھر میں جاوں ۔۔۔
    میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر عبیحہ کی دونوں کلائیوں کو پکڑ لیا اور بڑے رومینٹک انداز سے بولا ۔
    کدھر چلی ھو جان من ابھی تو میں نے تمہیں جی بھر کر دیکھا بھی نہیں ۔

    تو عبیحہ بڑی شوخی سے بولی
    توبہ کروووووو
    ابھی کوئی کسر رہتی ھے جو پوری کرنی ھے ۔
    میں اسی کے انداز بولا
    ابھی تو میں نے جی بھر کر پیار کرنا ھے ۔
    عبیحہ بڑی ادا سے سر کو خم کرتے ھوے بولی اچھااااا جی ۔۔
    میں نے بھی اسی سٹائل میں سر کو ہلاتے ھوے کہا ھااااں جی
    عبیحہ مجھ سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ھوے بولی
    چھوڑو مجھے کوئی آگیا نہ تو تمہارا سارا پیار شیار منٹ میں نکل جانا ھے خود بھی پھنسو گے اور مجھے بھی مفت میں ذلیل کرواو گے ۔۔
    میں نے عبیحہ کو بازوں سے کھینچ کر اپنی طرف کیا تو وہ کسی بے جان مورت کی طرح سیدھی میرے سینے سے آلگی اور اسے موٹے گول مٹول نرم نرم ممے میرے سینے میں دھنس گئے اور میں نے بڑی پھرتی سے اسکی کلائیوں کو چھوڑتے ھوے اپنے ھاتھ اسکے بازوں کے نیچے سے لیجاتے ھوے اسکی کمر کے گرد ڈال کر اسکو مذید اپنے ساتھ چپکاتے ھوے اسکے ہونٹوں کے پاس ہونٹ لیجا کر سرگوشی میں بولا۔
    جان من اس وقت ادھر کوئی بھی نہیں آتا اور نہ ھی کسی نے اتھنا ھے ۔
    اس لیے تم بے غم ھوجاو ۔
    عبیحہ بولی یاسسسسسسسسسس
    اور اسکی آواز میری منہ دب گئی اور اسکے الفاظ وہیں دب گئے ۔
    دبتے کیوں نہ میرے ہونٹوں نے اسکے ہونٹوں کو جکڑ لیا تھا اور بنا کوئی سما ضائع کیے عبیحہ کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا
    عبیحہ تھوڑی کسمکسائی اور دوچار دفعہ ممممممممم کرتے ھوے سر دائیں بائیں ہلا کر احتجاج کیا مگر پھر خود کو میرے حوالے کرتے ھوے کسنگ میں میرا ساتھ دینے لگ گئی ۔۔
    اب ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ھوے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رھے تھے اور عبیحہ کی کمر پر میرے بندے ھاتھ کھل کر اب اوپر نیچے ھوتے ھوے کبھی اسکی ابھری ھوئی گانڈ کی پھاڑیوں کو مسلتے تو کبھی سرکتے ھوے اسکی کمر سے ھوتے ھوے اسکی گردن پر آتے ایسے میں جیسے ھی میرا ھاتھ عبیحہ کی بریزیر کی سٹرپ پر جاتا تو مجھے انجانا سا نشہ چڑھ جاتا اور عجیب سا مزہ اتا اور ساتھ ھی میں عبیحہ کو مذید اپنے ساتھ چپکا کر خود کو اس میں سمونے کی کوشش کرتا ۔
    اور میرا لن نیچے فل اکڑ کر عبیحہ کی پھدی سے اوپر اور اسکی ناف سے نیچے لگ کر اپنا پورا زور لگا کر اسکے نرم نرم جسم میں گھسنے کی کوشش کرتا ۔
    ادھر عبیحہ بھی کبھی میری گردن پر ہاتھ پھیرتے ھوے میرے بالوں میں لے جاتی اور کبھی ایڑیاں اتھا کر میرے لن کو اپنی پھدی کی جھلک دکھانے کی کوشش کرتی ۔

    ہم کوئی دس منٹ اسی انداز میں کسنگ کرتے رھے ۔
    پھر میں نے آہستہ آہستہ عبیحہ کی شرٹ کو اوپر کرنا شروع کردیا عبیحہ نے ایک دفعہ میرا ہاتھ جھٹکا اور سر نفی میں ہلاتے ھوے ایسا نہ کرنے کا اشارہ کیا مگر اب پانی سر سے اوپر گزر چکا تھا۔
    میں نے پیچھے سے عبیحہ کی شرٹ اوپر کرتے ھوے اسکے کندھوں تک کی اور اسکی نرم ملائم کمر پر اپنا ہاتھ پھیرتے ھوے ھاتھ کو سرکاتے ھوے آگے کی طرف لے آیا اور آگے سے بھی شرٹ اٹھا کر مموں پر لے آیا شرٹ کی فتنگ تھی اس لیے شرٹ مموں پر آکر اٹک گئی۔
    جسکی وجہ سے مجھے ممے ننگے کرنے میں دقت پیش آئی ۔
    تو میں نے جلدی ہاتھ عبیحہ کی گردن پر لیجاتے ھوے پیچھے لگی زپ کی ہک کو انگلیوں کی مدد سے تلاش کرتے ھی نیچے کی طرف کھینچ دیا تو ساتھ ھی عبیحہ کی ہلکی سی چیخ نکلی اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹاتے ھوے ایک ھاتھ پیچھے بالوں پر لیجاتے ھوے
    سیییییییییی کرتے ھوے بولی بتمیزززز میرے بال کھینچ دیا ۔۔
    مجھے ابھی اپنی غلطی کا احساس ھوا کہ جب میں نے جلد بازی میں زپ کھولی تو عبیحہ کے شاید بال زپ میں اٹک گئے تھے ۔۔
    خیر میں نے سوری کی اور پھر ساتھ ھی دونوں ھاتھ آگے لا کر قمیض کو مموں سے اوپر کردیا
    افففگففف
    کیا نظارہ تھا ۔
    سرخ بریزیر میں چھپے ھوے چٹے سفید تنے ھوے ممے جو اندھیرے میں بھی چمک رھے تھے ۔
    میرا دل تو کیا انکو کھا جاوں۔
    مموں کو دیکھتے ھی میں دونوں ھاتھوں میں مموں کو بریزیر کے اوپر سے ھی دبانے لگ گیا۔
    مموں کو دباتے ھی عبیحہ کہ منہ سے پہلے ۔
    آئیییییی ھاےےےےے آرام سے یاسر جانور نہ بنو پین ھوتی ھے ۔
    کہنے کہ اگلے ھی لمحے سیییییییی اففففففف کی دھیمی سی آواز کمرے میں گھونجی ۔۔
    کچھ ھی دیر بعد میں نے عبیحہ کو اسی پوزیشن میں گھما کر اسکی پیٹھ چارپائی پر کی اور اسکو بڑے سلو موشن میں پیچھے دھکیلتا چارپائی پر لے گیا اور ساتھ ھی اسکو ہلکا سا پیچھے کی طرف پُش کیا تو عبیحہ میرا اشارا سمجھتے ھوے بڑی فرمانبرداری سے پاوں اوپر کر کے چارپائی پر لیٹ گئی اور پاوں کو فولڈ کر کے گھٹنوں کو اوپر اٹھا کر بلکل سیدھی لیٹ گئی ۔۔۔
    اب عبیحہ پاوں چارپائی پر رکھے گھٹنوں کو اوپر اٹھا کر بلکل سیدھی لیٹی ھوئی تھی اور اسکی شرٹ مموں سے اوپر اسکے گلے کے پاس تھی اور عبیحہ کے گورے چٹے ممے بریزیر میں قید تنے ھوے چھت کو گھور رھے تھے
    جبکہ میں صرف ٹراوزر میں تھا اور میرا اوپری جسم بلکل ننگا تھا ۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  6. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abkhan_70 (Today)

  7. #964
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    370
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,502
    Thanked in
    363 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 253??

    میں بڑے آرام سے چارپائی پر چڑھا اور عبیحہ کے کھڑے گھٹنوں کو پکڑ کر کھولا اور عبیحہ کی رانوں کے بیچ عبیحہ کے اوپر جھک کر عبیحہ کے ابھرے ھوے آدھے ننگے مموں کے درمیان لکیر پر ہونت رکھ کر چوما تو
    عبیحہ نے سینہ اٹھا کر سییییییی کی آواز نکال کر مزے کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ھی میرا منہ کھلا اور میری زبان کی نوک منہ سے نکال کر عبیحہ کے ننگے مموں پر پھیرنے لگ گیا ۔
    جیسے جیسے عبیحہ کے ننگے مموں پر زبان کی نوک پھرتی جاتی
    عبیحہ کی سانسوں کا طوفان کھڑا ھوتا گیا اور عبیحہ کے تنے ھوے ممے مذید اوپر کو اٹھتے ھوے ۔
    سرخ بریزیر کو پھاڑنے کی کوشش میں لگے ھوے تھے ۔

    عبیحہ کے منہ سے مسلسل اففففففف سییییییییی ممممممممم نکلی جارھا تھا
    عبیحہ اپنے ہونٹوں کو بھینچتی تو کبھی کاٹتی ۔۔۔
    کچھ ھی دیر بعد میں نے عبیحہ کو ایک سائڈ سے پکڑ کر پلٹا کر اسے الٹا لٹا دیا اور پیچھے سے قمیض کو مذید اوپر کر کے عبیحہ کے کندھوں تک کر دی ۔
    عبیحہ کی ننگی کمر اندھیرے میں بھی چمک رھی تھی ایک تو چاند کی سفید روشنی اوپر سے عبیحہ کی گوری چٹی بےداغ کمر اور اسپر سر رنگ کے بریزیر کے سٹرپ
    اففففففففف
    دوستو کاش میں اس لمحے کو اس سین کو الفاظ میں بیان کرسکتا ۔۔۔
    اتنا حسین منظر تھا۔
    کہ کیا بتاوں یارووووو
    عبیحہ کی ننگی کمر میرے سامنے تھی عبیحہ کی گانڈ پر صرف شلوار تھی اور عبیحہ دونوں بازو پھیلا کر میرے سامنے الٹی لیٹی ھوئی تھی اور میں اسکی ٹانگوں کو تھوڑا کھول کر انکے کے بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھا ھوا تھا اور میرا لن ٹراوزر میں تمبو بنا کر آپے سے باہر ہوتا جارھا تھا۔
    میں نے تین چار دفعہ عبیحہ کی ننگی کمر پر مساج کے انداز سے ھاتھ کھول کر آہستہ آہستہ پھیرے افففففففف عبیحہ کی جلد
    اتنی سوفٹ تھی کہ سرکتی ھوئی میرے ھاتھ کی انگلیاں اسکی نرم نازک ریشم سی ملائم جلد میں دھنستی جاتی ۔
    اور بلاخره میں نے ہاتھ سٹرپ کی ہک کے پاس لے گیا اور جھٹکے سے ہک کھول کر بریزیر کے سٹرپس کو کمر سے علیحیدہ کردیا بلکہ بریزیر کی فٹنگ ھی اتنی تھی کہ جیسے ھی ہک کھلی سٹرپ اڑتے ھوے اپنی اپنی سمت جاگرے اور عبیحہ کی کمر بلکل ننگی ھوگئی ۔
    پھر میں ویسے ھی اسی انداز میں اوپر جھکا اور عبیحہ کی گردن سے ریشمی بالوں کو ایک سائڈ پر کیا اور زبان نکال کر عبیحہ کی گردن پر رکھتے ھوے زبان کو سرکاتے ھو عبیحہ کے کان کی لو تک لے گیا ۔
    میرے اس عمل سے تو عبیحہ کی جان پر بن آئی اور عبیحہ نے آنکھیں ذور بھینچ لیں دونوں ھاتھوں سے چارپائی کے ڈنڈوں کو مظبوطی سے پکڑ لیا اور منہ سے سیییییییییی ننننننہیں یاسرررررر نکالتے ھوے ٹانگوں کو بھی آپس میں بھینچ لیا
    افففففففففف
    میں عبیحہ کے اوپر الٹا لیٹا ھوا تھا اور میرا لن عبیحہ کی رانوں میں دھنسا ھوا تھا عبیحہ نے جیسے ھی اپنے چڈوں کو آپس میں بھینچا تو میرا لن بھی عبیحہ کے چڈوں میں جکڑا گیا
    اور میرے جسم میں بھی مزے کی لہر دوڑی اور میں زبان کے اس عمل کو بار بار دہرانے لگا جس سے عبیحہ کی حالت اسکی برداشت سے باہر ھوتی جارھی تھی عبیحہ سسکاریاں بھرتے ھوے اپنے سر کو کبھی دائیں کرتی تو کبھی بائیں ۔
    اور عبیحہ کی سسکاریوں سے شہوت میرے دماغ کو چڑھنے لگ گئی میں نے آہستہ آہستہ عبیحہ کے چڈوں میں ھی گھسے مارنے شروع کردیے ۔اور میرا لن چڈوں سے ھوتا ھو عبیحہ کی پھدی سے رگڑ کھاتا جس سے عبیحہ کی بےچینی اور بڑھ جاتی
    کچھ ھی دیر بعد عبیحہ نے پورے ذور سے چڈوں کو آپس میں بھینچا اور ھاےےےےےےےےے ممممممممممم گئیییییییییییی کرتے ھوے جھٹکے کھانے لگ گئی ۔۔۔
    تو میں اس دوران رک گیا کہ اسے فارغ ھونے دوں ۔۔۔
    کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد عبیحہ بلکل بےجان ہوکر اوندھی ھی لیٹی رھی ۔
    میں نے آہستہ سے لن عبیحہ کے چڈوں سے نکالا اور اسکی ننگی کمر پر دس بیس چُمیاں لیں ۔۔۔
    اور پھر اسکو بازو سے پکڑ کر سیدھا لیٹا دیا ۔
    اور آگے سے بریزیر اٹھا کو عبیحہ کے ننگے تگڑے تنے ھوے چٹے سفید مموں کا دیدار کرنے لگ گیا ۔
    جبکہ عبیحہ بلکل بےجان سی آنکھیں بند کیے لیٹی رھی ۔
    اس نے کوئی مزاحمت نہ کی ۔

    میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور جلدی. سے عبیحہ کے ننگے مموں پر لگے دو ننھے سے تنے ھوے گلابی نپلوں کو منہ میں لے کر ایک چوسااااا لگایا
    اور پھر زبان نکال کر زبان کی نوک سے نپلوں کو چھیڑنے لگ گیا میں کبھی نپلوں کو چوستا تو کبھی مموں پر بنے چھوٹے سے گلابی دائرے پر نپل کے گرد زبان کی نوک کو گھماتا، جس سے عبیحہ کا جسم پھر ایک دم جھتکا کھاتا ۔
    اور عبیحہ سیییییییییی کرتے ھوے سسکاری بھرتے ھوے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ۔

    میں مزے لے لے کر مموں کو چوستا چاٹتا عبیحہ کے ممے میرے منہ سے نکلنے والی تھوک سے گیلے ھورھے تھے جسے عبیحہ کبھی ہاتھ سے صاف کرتی تو کبھی قمیض کے پلو سے ۔
    میں نے عبیحہ کے مموں کو چوس چوس کر مزیڈ گلابی کردیا تھا اور دوستو یقین کرو عبیحہ کے ممے بلکل روئی کر طرح نرم اور ریشم کی طرح ملائم تھے.
    عبیحہ دوبارا گرم ھوچکی تھی اور اس کی گواہی اسکی سسکاریاں اور گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کو میرے لن کے ساتھ ملانے کی کوشش تھی ۔
    میں گھٹنوں کے بل عبیحہ کے اوپر جھکا اسکے دونوں مموں کو مفت کا مال سمجھ کر بڑے مزے سے ہاتھوں میں پکڑ کر چوسی جارھا تھا ۔
    اور عبیحہ سسسکاریاں بھرتے ھوے گانڈ اٹھا کر پھدی کو کچھ فاصلے پر تنے ھوے لن کے ساتھ ملانے کی کوشش کررہی تھی ۔
    عبیحہ اپنے حوش حواس کھو بیٹھی تھی ۔
    جبکہ میں نے خود پر کنٹرول کیے ھوے تھا اور جان بوجھ کر لن کو پھدی سے تھوڑا اوپر کیے ھوے تھا ۔
    میں عبیحہ کو مذید پاگل کرنا چاہتا تھا کہ یہ خود میرے لن کو پکڑ کر پھدی میں ڈالے ۔
    جبکہ عبیحہ اپنے ہوش و حواس کھو کر فل مزے لے رھی تھی اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کررھی ھے ۔
    بس اسے اس وقت اپنے مزے سے مطلب تھا ۔
    میں کچھ دیر مموں کو چوسنے کے بعد تھوڑا سا نیچے کو سرکا اور عبیحہ کے نرم پیٹ کو چومنا شروع کردیا جس سے عبیحہ مذید تڑپنے لگ گئی ۔
    عبیحہ کی ناف کے قریب زبان کو پھیرنا شروع کیا اور، ناف کے اردگرد پھیرتا ھوا جب نوک کو ناف کے اندر لے جاتا تو عبیحہ کندھوں سمیت اوپر کو اچھل کر واپس چارپائی پر گرتی اور لمبی لمبی سسسسکاریاں بھرتے ھوے کہتی ننننہیں یاسررررر ھاےےےےے مرررررگئی اففففففففففف سیییییییییی مممممممم
    یہ ہی تو میں چاہتا تھا کہ عبیحہ ااپنا آپ بھول جاے ۔
    اور اس بات کو کنفرم کرنے کے لیے میں نے زبان کو مذید نیچے لیجانا شروع کردیا اور بلاخره میری زبان عبیحہ کی شلوار کے نیفے سے جا ٹکرائی اور میرے دونوں ہاتھ حرکت میں آے اور میں تھوڑا سا اوپر ھوا اور عبیحہ کی الاسٹک والی شلوار کو نیفے سے پکڑ کر آہستہ سے نیچے کی جانب کھینچا
    جیسے ھی میں نے شلوار کو نیچے کی جانب کھینچا اور شلوار عبیحہ کی گانڈ کے وزن سے زرہ سی اٹکی تو میں یہ دیکھ کر حیران رھ گیا کہ عبیحہ نے گانڈ اٹھا کر شلوار کو نیچے کرنے کا اجازت نامہ جاری کردیا ۔۔۔
    اب اندھا کیا چاھے۔۔۔۔
    میں جھٹ سے شلوار کو نیچے کی جانب لیجاتے ھوے جھٹ سے شلوار کو اسکی ٹانگوں سے علیحدہ کرکے چارپائی پر پاوں کی جانب رکھ دی اور اسکی گوری گوری بالوں سے پاک ٹانگوں پر ہاتھ پھیرتا ھوا اسکی رانوں پر لے گیا اففففففف
    کیا نرم نرم رانیں اور ملائم افففففف میرا لن تو جھٹکے کھانے لگ گیا ۔۔
    میں نے ایک نظر عبیحہ کے چہرے پر ڈالی تو عبیحہ آنکھوں پر بازوں رکھے مزے کی وادیوں میں کھوئی ھوئی تھی اور وہ بار، بار اپنے خشک ہونتوں پر زبان پھیرتے ھوے سسکاریاں بھر رھی تھی ۔
    میں نے جلدی سے اپنا ٹراوزر نیچے کیا اور جلد ھی اتار کر شلوار کے اوپر رکھ کر بلکل ننگا ھی عبیحہ کی ننگی ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔
    ہمارے بیچ کوئی بھی بات نہیں ہورھی تھی ۔
    بس مجھے عبیحہ کی سسکاریاں اور اسکی چلتی ھوئی تیز سانسوں کی وجہ سے اسکے اوپر نیچے ھوتے ممے دیکھائی دے رھے تھے ۔
    جیسے وہ کسی آنے پل کے لیے بہت بےچین ھو ۔

    (ہمیں تقریباً ایک گھنٹہ ہوچکا تھا اور میرے اندازے کے مطابق ایک بج چکا تھا ۔
    میرے پاس تقریباً دوگھنٹے مذید باقی تھے ۔۔۔
    کیونکہ تین چار بجے ابا اور امی اٹھ جاتے تھے ۔۔۔۔)

    خیر میں نے عبیحہ کی ننگی ٹانگوں کو باری باری چومنا شروع کردیا ۔
    اور جب میں عبیحہ کی پھدی کے قریب سے اسکی ران کو چومتا تو عبیحہ کی بے چینی مذید بڑھ جاتی جسکا اظہار وہ میرے سر کو اپنے چڈوں میں بھینچ کر کرتی ۔

    میں عبیحہ کی ایک ٹانگ کو پکڑتا اور اسکے پاوں سے چومتا ھوا عبیحہ کی ران تک آتا اور پھر ران کے آخر سے پھدی کے اوپر والی جگہ کو چومتا ھوا دوسری ران پر جاتا اور دوسری ران کو چومتا ھوا پاوں تک جاتا ۔
    میرے اس عمل سے عبیحہ مرنے والی ھوچکی تھی اور اسکی پھدی سے مسلسل پانی بہہ رھا تھا ۔
    میں جب بھی پھدی کے قریب کی جگہ کو چومتا تو میرے نتھنوں سے پھدی کی سمیل ٹکراتی اور اس جانی پہچانی سمیل کو میں لمبا سانس، لے کر اندر کھینچ لیتا ۔۔
    کچھ دیر بعد میں عبیحہ کے جسم پر سرکتا ھوا اس کے ہونٹوں کے قریب جا ہہنچا اور بڑے رومینٹک انداز سے سرگوشی میں بولا جان کیسا لگا ۔
    عبیحہ کا رنگ سرخ ٹماٹر کی طرح ھوچکا تھا ۔
    جیسے سارے جسم کا خون اسکی گالوں میں آگیا ھو ۔
    میری بات سن کر عبیحہ نے آنکھیں بند کر لیں اور چہرہ دوسری طرف کرتے ھوے آہستہ سے بولی مجھے نہیں پتہ ۔
    میں نے کہا عبیحہ ۔
    عبیحہ نے منہ دوسری طرف کیے ھی بند آنکھوں سے خشک ہلک سے کہا
    ہاں جی ۔
    میں نے کہا میری طرف دیکھو عبیحہ نے آنکھوں کو مذید بھینچتے ھو نفی میں سر ہلاتے ھوے انکار کردیا۔
    میں نے اسکی سرخ گال پر بوسا لیا اور اسکا ھاتھ پکڑ کر نیچے لیجاتے ھوے اپنے تنے ھوے لن پر رکھ دیا ۔
    عبیحہ نے انجانے میں میرے لن کو مٹھی میں بھرا اور پھر ایکدم
    عبیحہ کو جیسے چالیس ہزار کا وولٹ لگا اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ
    لیا
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  8. The Following User Says Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abkhan_70 (Today)

  9. #965
    Join Date
    Nov 2018
    Posts
    370
    Thanks Thanks Given 
    489
    Thanks Thanks Received 
    2,502
    Thanked in
    363 Posts
    Rep Power
    192

    Default Update no 254????

    اور پوری آنکھیں کھول کر مجھے گھورتے ھوے بولی ۔
    بتمیزززززز
    میں نے کہا یار کیا ھوا دیکھو تو سہی بچارہ کیسے بے چین ھے ۔
    عبیحہ نے پھر آنکھیں بند کرلیں اور بولی مجھے نہیں دیکھنا
    گندا کتنے گندے کام کرتا ھے ۔۔
    میں نے اسکا ھاتھ پھر پکڑ کر نیچے لیجا کر لن پر رکھ دیا اور اس کے ھاتھ کو وہیں دبا کر رکھا ۔
    عبیحہ نے ذور سے مٹھی بند کرلی اور میری طرف دیکھ کر بڑے غصے سے بولی تم نے باز نہیں انا ۔
    میں نے اسکے غصے کو اگنور کرتے ھوے کہا ۔
    یار پکڑو تو سہی دیکھو تو سہی کیسا ھے ۔
    عبیحہ بولی چچچچچچچیی چچچچییی مجھے نہیں شوق ایسے گندے کام کرنے کا تم ھی کرو
    گندے بچے ۔۔۔
    میں نے کہا یار پھر اس بچے کا دل تو توڑو بس ایک دفعہ پکڑو تو اور دیکھو جب یہ تمہارے اندر جاے گا تو تمہیں کتنا مزہ آے گا ۔۔
    عبیحہ میری بات سن کر بڑے غصے اور تیکھے انداز میں بولی
    آرام سے رھو ذیادہ شوخے مت بنو ۔۔۔۔۔اندر جاے گا ۔۔۔۔ گندا بتمیز۔۔۔
    میں نے کہا یار پلیززززززز بس ایک دفعہ ۔
    میں نے نوٹ کیا کہ عبیحہ اب اپنا ھاتھ کھینچ نہیں رھی تھی بلکہ بند مٹھی کو ھی لن پر رکھے ھوے تھے ۔۔۔
    میری بات سن کر عبیحہ نے بس اتنا ھی کہا مجھے نہی پتہ اور ساتھ ھی اس نے منہ دوسری طرف کرلیا۔
    جبکہ اسکی بند مٹھی بدستور میرے لن کے اوپر ھی تھی ۔
    مجھے ایک آئڈیا سوجھا میں نے ایک ھاتھ سرکاتے ھوے عبیحہ کی پھدی کے قریب لے گیا اور اپنی درمیان والی انگلی کو گیلی پھدی کے لبوں کے بیچ ہھیرنے لگ گیا
    جس سے عبیحہ نے سسسکاری بھری اور ٹانگوں کو اوپر کر کے پھر نیچے کیا اور میں نے ساتھ ھی اسکا ھاتھ کھول کر اپنا لن اسکے ھاتھ میں پکڑا کر اسکا ھاتھ بند کردیا اور اپنا ھاتھ اوپر ھی رکھا ۔
    دوسری طرف میں نے پھدی کے لبوں میں انگلی پھیرتے ھوے ایکدم انگلی اوپر ہڈی کے ساتھ ملایا جہاں پیشاب کی نالی تھی میں نے پیشاب کی نالی کو ہڈی پر رکھ کر دبا کر رگڑ دیا
    بس پھر کیا تھا
    عبیحہ کی تو جان ہلک میں آگئی اس نے میرے لن کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور سر اوپر اٹھا کر
    یاسررررررر ننننننہ کرو سسسسسسسیییی آہہہہہہہہہہہہ
    بس مجھے عبیحہ کی پھدی کا چور سوئچ مل گیا میں جیسے جیسے پھدی کی اوپری ہڈی پر انگلی کو دبا کر رگڑتا عبیحہ ویسے ھی میرے لن کو مضبوطی سے پکڑ کر دبا دیتی
    عبیحہ کے نرم ھاتھ میں میرا لن مذید پھولتا میرے لن کا ٹوپا پھٹنے والا ھوگیا ۔
    عبیحہ کا جسم کانپ رھا تھا اور میری انگلی سپیڈ سے چل رھی تھی میں انگلی کو چلاتا ھوا مذید نیچے ھوتا جارھا تھا
    اب میرا لن پھدی کے بلکل قریب تھا ۔
    اور عبیحہ بھی میرے لن کو چھوڑنے پر تیار نہ تھی ۔
    اور وہ سسکاریاں لیتے ھوے مسلسل میرے لن کو دباے جارھی تھی اور گانڈ اٹھا اٹھا کر انگلی کو اندر لینے کی کوشش کررہی تھی ۔
    مجھے لگا کہ عبیحہ کا جسم اکڑنے لگ گیا ھے میں نے جلدی سے انگلی کو پھدی سے ہٹا دیا اور جس ھاتھ میں عبیحہ نے میرا لن پکڑا ھوا اس ھاتھ کو کلائی سے پکڑ کر لن کو پھدی کے قریب کر دیا
    ادھر جیسے ھی پھدی سے میری انگلی ہٹی تو عبیحہ کی جان پر بن گئی اور اس نے بےچینی میں میرے لن کو ھی پھدی پر ذور سے لگا دیا اور میرے لن کے ٹوپے کو پھدی پر رگڑتے ھوے ٹوپے کو پھدی کے اندر کرنے لگی ۔
    مجھے بس اسی موقعے کا انتظار تھا ۔
    میں نے عبیحہ کی کلائی چھوڑ دی اور عبیحہ کے اوپر جھک کر اسکے ممے کو منہ میں ڈال کر ایک چوسا لگایا اور ساتھ ھی میں نے اپنا چہرہ عبیحہ کے چہرے کے پاس کیا اور عبیحہ کے کھلے ھوے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیے اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور نیچے سے ہلکا سا پش کر کے ٹوپا پھدی کے اندر کرنے لگ گیا ۔
    ادھر عبیحہ بھی یہ ھی چاہتی تھی جیسے ھی میں نے عبیحہ کو چودنے کی پوزیشن بنائی تو عبیحہ نے پھدی میں ٹوپا جکڑ کر میرے لن کو چھوڑ دیا اور دونوں بازوں کو میری کمر کے گرد ڈال دیا اور اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کر چوڑا کردیا ۔عبیحہ کے ہونٹ میرے ہونٹوں نے نے قابو کیے ھوے تھے اور نیچے میرے لن کا ٹوپا عبیحہ کی پھدی نے قابو کیا ھوا تھا ۔
    پھدی بہت گیلی تھی مگر اسکے باوجود عبیحہ کی پھدی کی ٹائٹنس بتا رھی تھی کہ پھدی کو پہلا لن نصیب ھونے والا ھے ۔میں نے وہیں ٹوپے کو آگے پیچھے کرنا شروع کردیا ۔
    عبیحہ جو پہلے ھی آخری سانس لے رھی تھی جیسے ھی میں نے دو تین بار ٹوپے کو آگے پیچھے کیا تو عبیحہ کی پھدی نے ایک دم میرے لن کو مذید بھینچ لیا اور عبیحہ نے بڑی بے دردی سے میرے نچلے ہونٹ کو کاٹا اور ممممممممممممم کرتی ھوئی ایک دم جھٹکے کھانے لگ گئی اور اسکی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن کے ٹوپے پر پچکاریوں کی صورت میں برسنے لگ گئی۔۔۔
    پھدی کو میرے لن کے ٹوپے نے بند کیا ھوا تھا اس لیے منی ساری اندر ھی رھ گئی عبیحہ کے فارغ ھوتے ھوے مجھے یوں چمٹنا اور پھر پھدی میں میرے لن کو جکڑنا اور بے دردی سے میرے ہونٹ کو کاٹنا۔
    مجھ سے تو برداشت نہ ھوسکا

    ہونٹوں پر درد کی تکلیف نے میرے اندر اتنا جوش بڑھا دیا کہ میں نے ہر چیز سے بیگانہ ھوکر جاندار گھسا مار کر ایک ھی جھٹکے میں سارا لن پھدی کی گہرائیوں میں اتار دیا ۔
    ایک تو پھدی کے اندر منی تھی دوسرا پھدی فارغ ھونے کے بعد تھوڑی سی کھلی تھی تو ایسے میں میرے جاندار جھٹکے نے سارا لن ایک ھی دفعہ اندر گھسا دیا اور لن نے بھی بنا ہچکچاہٹ پھدی کے تمام نرم ذروں کو پاش پاش کردیا اور ٹوپا جاکر عبیحہ کی بچے دانی سے جا ٹکرایا ۔
    مگر مزے اور جنون کے باوجود عبیحہ ایک ھی دفعہ میں سارا لن برداشت نہ کر پائی اور اسکے منہ سے ایک ذبردست چیخ نکلی اور میری کمر پر رکھیں اسکی انگلیوں کے ناخن میری کمر میں پیوست ھوتے گئے ۔۔
    عبیحہ کی چیخ تو میرے منہ میں دب گئی ۔
    مگر جو اسے تکلیف ملی اسکا اظہار اس نے میری کمر کو اپنے ناخنوں سے ذخمی کر کے کیا اور عبیحہ کبھی ٹانگوں کو سیدھی کرتی تو کبھی اوپر اور مجھ سے اپنے ہونٹ چھڑوانے کی کوشش کرتی مگر مجھے یہ پتہ تھا کہ اگر میں نے اسکو فری ہینڈ دے دیا تو اس نے چیخ چیخ کر سارے گھر والوں کو اٹھا دینا ھے اس لیے میں نے عبیحہ کو مکمل طور پر قابو کیا ھوا تھا ۔
    ادھر عبیحہ کی پھدی نے میرے لن کو بری طرح جکڑ لیا ھوا تھا ۔
    اور عبیحہ کی پھدی میں اتنی گرمی تھی کہ مجھے لگ رھا تھا کہ میرا لن کسی آگ کی بھٹی میں چلا گیا ھے ۔۔
    کچھ دیر عبیحہ میرے نیچے تڑپتی رھی اور مجھے اپنے اوپر سے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی رھی مگر ناکام رھی ۔
    عبیحہ کی آنکھوں سے آنسوں مسلسل بہہ رھے تھے جو اندھیرے میں موتیوں کی طرح چمک رھے تھے ۔
    آخر تھک ہار کر عبیحہ نرم پڑ گئی اور اس نے میرے ساتھ اور اسکی پھدی نے میرے لن کے ساتھ سمجھوتا کرلیا ۔
    جب میں نے دیکھا کہ عبیحہ اب نارمل ھوگئی ھے تو میں نے اسکے ہونٹوں کو چھوڑ دیا جیسے ھی میں نے ہونٹ الگ کئے عبیحہ نے لمبا سانس لیا اور ہچکیوں کے ساتھ رونے لگ گئی ۔
    عبیحہ کے چہرے پر واقعی تکلیف کے آثار تھے ۔
    میں عبیحہ کو مسکے لگا کر چپ کروانے لگ گیا کبھی اس سے سوری کرتا کبھی اسکی بھی شامل مرضی وجہ بتاتا ۔
    خیر آخرکار ۔
    عبیحہ کچھ نارمل ھوئی
    پھر میں نے عبیحہ کے سر ہر ہاتھ رکھ کر اسکے بالوں کو سہلاتے ھوے کہا ۔
    دیکھو عبیحہ جو بھی ھوا سب انجانے میں ھوا جس میں. ہم دونوں برابر کے شریک ہیں ۔
    اب پلیز اپنا موڈ صحیح کرو اور سیکس کو انجواے کرو ۔۔
    عبیحہ پھر بھڑک اٹھی ۔
    مجھے نہیں کرنا انجواے شواے تم نے میری عزت خراب کردی مجھے منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا
    میرا کنوارہ پن ختم کردیا ۔
    میرے بھروسے کو توڑا ھے تم نے میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی میں صبح امی کو بتاوں گی کہ تم نے میرے ساتھ زبردستی کیا ھے ۔۔
    عبیحہ کی دھمکی سن کر ایک دفعہ تو میرے رنگ اڑ گئے ۔
    مگر میں نے خود کو سنبھالتے ھوے ۔
    بڑے کانفیڈینس کے ساتھ کہا ۔
    اچھا یار صبح کی صبح دیکھی جاے گی ۔
    اور ویسے بھی یہ سب تمہاری مرضی سے ھوا ھے ۔
    تم نے خود اندر ڈالا تھا ۔
    اب پلیز تھوڑی درد اور برداشت کرلو پھر اس کے بعد مزہ ھی مزہ ھے پھر تم خود کہو گی کہ ہاسر سارااااا اندر کردو ۔۔
    عبیحہ بولی بکواس بند کرو اور اسے نکالو باہر میرا اندر پھٹی جارھا ھے ۔۔
    میں نے عبیحہ کو پھر پیار سے پچکارتے ھوے لن کو ہلکا ہلکا اندر باہر کرنا شروع کردیا ۔
    پھدی میں بہت ذیادہ چکناہٹ تھی منی اور شاید خون کی کیوں کہ مجھے ابھی تک یہ کنفرم نہیں ھوا تھا کہ پھدی سے خون نکلا ھے کہ نہیں ۔
    کیونکہ میں ابھی تک اسی پوزیشن میں لن اندر ڈالے ھوے عبیحہ کو قابو کیے اسکے اوپر سارا وزن ڈالے لیٹا ھوا تھا ۔
    جیسے جیسے لن اندر باہر ھوتا عبیحہ کے چہرے کے تاثرات بھی اسی طرح بدلتے ۔
    افففففف ھاااےےےےےےے ھااااااے امممیییی ھاےےےےےےے کرتی
    مگر دھیمے دھیمے
    کیونکہ اسے اب آواز باہر جانے کا اندیشہ تھا ۔
    میں نے آہستہ آہستہ لن کی سپیڈ تیز کرنا شروع کردی ۔
    عبیحہ ویسے ھی نشے کی سی حالت میں ھاےےےےےے ھاےےےےےے آرامممممم سے آراممممممم سے پلیززززززز یاسر بہت درد ھو رھا ھے ۔
    ھاےےےےےےے امییییییییییی جییییی ھاےےےےےے میں مرگئی ۔
    ھاےےےےےےے یاسررررر تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔
    ھاےےےےے ھاےےےےے ھااےےےے
    عبیحہ کی سیکسی آوازوں میں فریاد میرے جزبات کو مزید چنگاری دے رہیں تھی
    اور میں اسکی ھااےےےےے ھاےےےے سن کر مذید جوش میں اتا جارھا تھا ۔
    پھدی بہت ھی گیلی ھو چکی تھی اور لن بڑی اسانی سے روانی سے چل رھا تھا اور میں بڑی ردھم سے گھسے ماری جارھا تھا ۔
    اور گھسوں سے چارپائی کی چوں چوں اور ردھم سے ہلتے عبیحہ کے گول مٹول ممے اور گھسے سے تھرتھراتا ھوا پیٹ افففففففف کیا نظارا تھا ۔
    کچھ ھی دیر بعد عبیحہ کی ھاےےےےے ھاےےےےے مممممممممم سسسییییییی میں بدل گئی اور عبیحہ کی انکھیں نیم بند ھوتی چلی گئی ۔
    اور میرے گھسوں کی رفتار بڑھتی گئی ۔

    اور عبیحہ کا پورا جسم چارپائی پر اوپر نیچے ھورھا تھا ۔
    اور اسکی دھیمی دھیمی آواز کمرے میں گونج رھی تھی ۔
    آہہہہہہہہہ اہہہہہہہہہہ نہ کروووووو یاسرررر اہہہہہہ آراممممم سے ھاےےےےےے اففففففف مممممم اور پھر عبیحہ کا جسم پھر اکڑنا شروع ھوا اور عبیحہ کی ٹانگیں ہوا میں بلند ھوءیں اور پھر ساتھ ھی عبیحہ نے ٹانگوں سے میری کمر کو جکڑ لیا اور نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن کو بچے دانی تک لیجا کر لن کو پھدی میں بھینچ لیا اور میرے چہرے کو چومنے لگ گئی اور لو یو لویو لویو یاسرررعرررررر کرتے ھوے اسکا جسم جھٹکے کھانے لگ گیا اور پھر عبیحہ کی ٹانگوں نے جیسے ھی میری کمر کو چھوڑا
    تو پھر میرے گھسوں کی رفتار بھی حد سے تجاوز کر گئی اور کمرے میں تھپ تھپ ےھپ تھپ پچ پچ پچ کے ساتھ اہ اہ اہ کی آوازیں انے لگی ۔
    اور پھر مجھے لگا کہ میرے میری ٹانگوں سے سارا خون لن کی جانب رواں ھے اور پھر میں نے آخری ذوردار گھسا مارا اور ساتھ ھی لن کو جھٹکے سے پھدی سے باھر نکال کر لن کا منہ عبیحہ کے پیٹ کی طرف کر دیا ۔
    اور پھر نجانے لن کی پچکاری
    کہاں کہاں گری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی سچے دھاگوں سے جُڑی اردو فنڈا کی ایک لازوال سٹوری

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Xhekhoo For This Useful Post:

    abkhan_70 (Today), Mr bingooo (Today)

  11. #966
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    8
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Ge shekhoo bhai darasl yeh ha k kuch lod tc kerny sy baaz nhi aaty or kuch jan k tanqeed kerty hain khud to wo saly kuch ker nahi sakty or jo kuch kerna chahta ha us ko b roknay ki koshish kerty hain.. lehaza ap jaise likh rahy hi likhoo hum ko pasand ata ha or jis ko pasand nahi ata wo yahan ambh (mango) lainy aya ha ja k koi or story parhy yahan apni G... paish na kery shukriya..
    Aur dosri bat yeh k ap nay sahe kaha k bas yasir her kise ko chodta phiry jo b milly usko cgod dy kise ko na chory bas chodta jaye to bhai us k liye koi xxx movie dekh lo yahan kya ker rahy ho...
    Ab kehnay ko to bohat kuch ha par phir kise waqt kahun ga baki sheekho ge ap likho hum ap k sath hain ...jisko pasnd nahi wo apni G... yahan sy utha k kahien or ly jaye idher bakwas nahi kery

  12. The Following User Says Thank You to Mr bingooo For This Useful Post:

    Xhekhoo (Today)

  13. #967
    Join Date
    Aug 2019
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    3
    Thanks Thanks Received 
    8
    Thanked in
    5 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Aur 6 month k w8 k baad abeeha ki choot phat hi gye...wahh shekhoo sab maza aa gya update parh k .. umeed ha agli update jaldi millay ge..

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •