سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

Page 1 of 5 12345 LastLast
Results 1 to 10 of 47

Thread: پنڈی کی گشتیاں

  1. #1
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    15
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    44
    Thanked in
    13 Posts
    Rep Power
    156

    Default پنڈی کی گشتیاں

    دوستو میرا نام سمیر قریشی ہے اور میں ملتان کا رہنے والا ہوں۔۔۔

    آج میں اپنی زندگی کے ان لمحات کو آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں جو کہ میری زندگی کا حاصل ہیں۔۔۔تو دوستو یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاپا کے ماموں جو پنڈی میں رہتے ہیں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے جو کے رشتے میں میرے چچا لگتے ہیں ان کی شادی کے دن رکھے اور سب کو شادی کے کارڈز بھیجے ہم لوگوں کو بھی شادی کا کارڈ موصول ہوا اور ہم لوگوں نے شادی میں جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ چچا لوگوں کے گھر کے دوسرے لڑکے کی شادی تھی اور تیاریاں فل زوروں پر تھیں میرے لیے بھی نئے کپڑے لیے گئے اور ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں۔مقررہ دن سے 2 دن پہلے ہم لوگ میں پاپا اور ماما بذریعہ بس رات کو پنڈی روانہ ہو گئے۔صبح کے وقت اندازاً 10 بجے ہم لوگ پنڈی چچا کے گھر پہنچ گئے۔سب لوگوں سے ملنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ وہاں پہلے میری دوستی صرف چچا کے چھوٹے بھائی آفتاب سے تھی تو باہر اس کو ڈھونڈنے لگا۔جب کافی دیر تک اس کو نا ڈھونڈ پایا تو واپس گھر کیطرف چلا گیا۔گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا میں نے بیل بجائی تو کچھ لمحات کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو سامنے موجود ایک لڑکی نے میرا راستہ روکا اور پوچھا جی آپ کی تعریف۔۔۔؟میں نے اپنا تعارف کروایا تو جھٹ سے اس لڑکی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور میرے ہاتھ سے ہاتھ ملا کر بولی میرا نام ماہین ہے لیکن سب لوگ مجھے مومو کہہ کر بلاتے ہیں۔۔۔میں گم صُم سا کھڑا رہا کہ پہلی ملاقات میں اتنی بے تکلفی تو اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ہوئے کہا سمیر صاحب کہاں گم ہو گئے اور اپنا ہاتھ چھڑا کر ہنستی ہوئی اندر چل دی۔۔۔میں اس کی معصوم اور پیاری باتوں میں کھویا رہا یہاں یہ بتاتا چلوں کے میں عمر کے جس حصے میں تھا اس عمر میں ہر لڑکی پری اور مہ جبیں ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جس بے تکلفی اور اپنے پن سے اس لڑکی نے اپنا تعارف کروایا تھا میں اس اپنے پن کے سحر میں کھویا سارا دن اس لڑکی کو ہی تاڑتا رہا اور وہ لڑکی بھی کچھ کچھ میری آنکھوں کی تپش کو سمجھنے لگی۔۔۔

    (اب میں اس کو مومو ہی کہہ کر پکاروں گا)

    خیر سارا دن مومو میری آنکھوں کے سامنے آتی جاتی رہی اور میں بھی اس کو ہی دیکھتا اور تلاش کرتا رہا۔اسی طرح رات سر پر آگئی اور مومو غائب ہو گئی اور میں بے چینی سے اس کو ڈھونڈتا رہا کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ نہ ملی۔رات کو آفتاب سے بھی ملاقات ہو گئی جو کہ بھائی کی شادی کیوجہ سے سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے پکڑا اور بولا چل یار سمیر تھوڑا کام ہے بڑی بھابھی کے گھر جانا ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ ہو لیا۔اور بائیک پر ہم لوگ اس کی بھابھی کے گھر چل پڑے جو کہ وہاں سے 25 منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم لوگ ان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔وہ لوگ کافی اوپن مانئڈڈ تھے۔۔۔اس لیے ہم سیدھا گھر کے اندر چلے گئے۔۔۔آفتاب کی بھابھی ایک بہت ہی پیاری اور متناسب جسم کی مالک لڑکی تھی۔۔۔ان سے ملاقات ہوئی اور وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔ہم لوگ وہاں صوفے پر بیٹھ گئے دعا سلام کے بعد آفتاب نے کہا کہ بھابھی امی نے کہا ہے کہ آپ نے جو لہنگا برات والے دن پہننا ہے وہ تھوڑی دیر کیلئے دے دیں۔امی کے پاس کچھ خواتین بیٹھی ہیں ان کو دکھانا ہے۔۔۔آفتاب کی بات سن کر بھابھی بولیں۔۔۔آفتاب وہ تو ابھی ٹیلر کے پاس ہی پڑا ہے بلکل تیار ہے بس وہاں سے اٹھانا ہے آج دوپہر ٹیلر کی کال بھی آئی تھی پر میں جا نہیں سکی۔۔۔میرے بھائی بھاگ کر جاؤ اور لے آؤ۔۔۔میں اتنی دیر میں اس کا میچنگ سامان نکال لیتی ہوں۔۔۔
    بھابھی کی بات سن کر آفتاب نے میری طرف دیکھا اور بولا چل بھائی اٹھ جا مفت کی بیگار ابھی اور کاٹنی پڑے گی۔۔۔

    مگر بھابھی اس کی بات کاٹ کر بولیں۔۔۔تم اکیلے چلے جاؤ نا یہ تو مہمان ہے۔۔پہلی دفعہ آیا ہے کچھ خاطر مدارت تو کرنے دو۔۔۔اور آفتاب دانے پیستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ایک تو بیچارہ صبح سے گھر کے کاموں میں پھنسا ہوا تھا اوپر سے بھابھی نے بھی اسے آگے بھیج دیا تو وہ تھوڑا چڑ گیا تھا۔۔۔
    آفتاب کے جانے کے بعد بھابھی میری طرف متوجہ ہوئیں اور رسمی طور پر میرا نام پوچھا۔۔۔میں نے اپنا نام بتایا تو بھابھی نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔اور بولیں میرا نام سدرہ ہے۔۔۔میں نے حیران ہوتے ہوئے مصافحہ کیا۔۔۔بھابھی بھی کافی براڈ مائنڈڈ لگتی تھیں۔۔۔بھابھی نے کسی کو کولڈ ڈرنک لانے کا بولا تھا۔تو ایک بچہ کولڈ ڈرنک والا گلاس ٹرے میں رکھے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے گلاس دے کر ٹرے ایک سائیڈ پر رکھ کر بچہ چلا گیا۔۔۔اور میں گلاس اٹھا کر کوڈ ڈرنک کے سپ لینے لگا۔۔۔اور سناؤ سمیر پہلے کبھی نہیں دیکھا آپ کو کہاں سے آئے ہو آپ۔۔۔اور میں جو بھابھی کی بولڈنس سے کنفیوز ہو رہا تھا ہکلاتے ہوئے بولا بس وہ بھابھی میں ملتان میں رہتا ہوں اور پہلی دفعہ راولپنڈی آیا ہوں ساتھ ہی میں نے اپنے ابو کا نام بتایا۔۔۔بھابھی ہنس کر رہ گئیں اور ساتھ ساتھ کپڑوں کی الماری میں سے کچھ کپڑے نکال کر باہر رکھنے لگیں۔۔۔میں نے پہلی دفعہ بھابھی کے سراپے پر غور کیا۔۔۔بھابھی نے بہت ٹائٹ اور ماڈرن سٹائل کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔۔۔ان کی ٹائٹ قمیض میں پھنسے ہوئے بڑے بڑے ممے دیکھ کر تو میرا حال خراب ہو گیا۔۔۔میں اپنی دونوں ٹانگیں دبا کر اپنے کھڑے لن کو چھپانے کی تگ دو میں لگا رہا۔۔۔اور جب کامیابی نہیں ملی تو پاس پڑے کشن کو اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔۔۔بھابھی الماری بند کر کے مڑیں اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔۔۔بھابھی نہایت کرید کرید کر مجھ سے میرے بارے اور میری فیملی بارے پوچھ رہی تھیں۔ان کے انداز میں ایک والہانہ پن تھا جو مجھے گھبرائے دے رہا تھا۔وہ اب ہنس ہنس کر مجھ سے باتیں کر رہی تھیں اور میں ہکلاتے ہوئے جواب دے رہا تھا۔میری ہکلاہٹ بھابھی سے چھپی نہیں تھی۔ بلکہ وہ میری اس کیفیت کو بھانپ کر جیسے مزہ لے رہی تھیں۔میری نظریں بار بار اٹھتیں اور سیدھا بھابھی کے جسم پر چپک جاتیں پھر میں گھبرا کر آنکھیں نیچے کر لیتا کہ کہیں بھابھی میری اس حرکت کو دیکھ نا لیں۔۔۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔۔۔اتنی دیر میں آفتاب واپس آ گیا اور بھابھی سے باقی سامان لے کر ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
    ایک چیز میں نے نوٹ کی کہ آفتاب کے واپس آنے کے بعد بھابھی کی گفتگو میں ایک دم محتاط پن آ گیا۔۔۔ہم لوگ دعا سلام کے بعد وہاں سے نکلے اور گھر واپس پہنچ گئے۔۔۔اس رات میں بیٹھک میں ہی سو گیا اور ساری رات لڑکیوں کے سہانے خواب دیکھتا رہا اور دن چڑھے تک سوتا رہا نیند میں محسوس ہوا کوئی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے۔آنکھ کھلی تو اس مہ وش مومو کو سامنے پایا جو بول رہی تھی کہ کب تک سوتے رہو گے بدھو اب اٹھ بھی جاؤ سب لوگ تیاریاں کر رہے ہیں۔میں جلدی سے اٹھا اور مومو کا ہاتھ پکڑ کر بولا یار تم رات کو کہاں چلی گئی تھی کافی دیر تک ڈھونڈتا رہا تو مومو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی کیوں ڈھونڈتے رہے اور میں نے بے اختیار آنکھیں نیچے کر لیں۔اب اس کا جواب میں اس کو کیا دیتا اور بولا بس ایسے ہی تو وہ مسکراتی ہوئی بولی ارے میں یہاں تھوڑی نہ رہتی ہوں میں اپنے گھر چلی گئی تھی اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ وہ میرے چچا لوگوں کے فیملی فرینڈز ہیں اور یہ بتا کر مومو کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔


    مجھے یہ جان کر بہت اچھا لگا۔۔۔میں جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکلا تو پتا چلا امی لوگ ہم کو گھمانے کے لیے مری لیکر جانا چاہتے ہیں۔۔۔میں نے مومو کو پکڑا اور بتایا تو وہ بولی اب میں تو آپ لوگوں کے ساتھ جا نہیں سکتی۔۔۔انتظار کروں گی آپ کے آنے کا اور میں اس کی بات کو سن کر حیران رہ گیا کہ یار لڑکی کھلے ڈھلے الفاظ میں اظہار کر رہی ہے۔خیر ہم لوگ مری کے لیے روانہ ہوئے۔آفتاب بھی ساتھ تھا ہم لوگ مری پنڈی پوائنٹ گئے چئیر لفٹ لی ادھر ادھر گھومتے پھرے۔۔۔پھر مال روڈ پر کھانا کھایا۔۔۔کچھ تھوڑی بہت شاپنگ کی اور شام کو واپس گھر آ گئے۔۔۔واپس آتے ہی میری نگاہیں بے چینی سے مومو کو ڈھونڈنے لگیں لیکن وہ نہ ملی۔۔۔

    اس رات آفتاب لوگوں نے پچھلی گلی میں موجود ایک فرنیچر فیکٹری کی چھت پر ہال نما کمرے میں مجرے کا پروگرام رکھا تھا۔۔۔بڑی خوبصورت لڑکیاں مجرہ کرنے آئی ہوئیں تھیں۔۔۔آٹھ بجے تک میں بھی تیار ہو کر وہاں ہال میں چلا آیا۔۔۔ہال میں پہنچا تو دیکھا کہ آفتاب اور اس کے بڑے بھائیوں ارمغان اور فاروق تینوں کے دوستوں سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا قریباً 20 کے قریب قریب لوگ تھے۔۔۔

    یہاں میں بتاتا چلوں کے یہ سارا فنکشن فاروق کی شادی کا تھا۔۔۔جب کہ ارمغان کی شادی پہلے ہی ہو چکی تھی اور سدرہ ارمغان کی ہی بیوی ہے۔۔۔ہال میں نہایت ہی خوبصورت اور متناسب جسم کی مالک چار لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔آفتاب نے بتایا کہ یہ لڑکیاں ہی مجرہ کریں گی۔۔۔گورے رنگ۔۔۔مہکتے ہوئے بدن کی حامل یہ لڑکیاں نہایت بھڑکیلے اور سیکسی لباس پہنے ہوئے محفل میں چار چاند لگا رہی تھیں۔۔۔میں اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس قسم کی مخلوط محفل میں شامل ہو رہا تھا اور اس طرح کی مخلوق پہلی دفعہ میرے سامنے آئی تھی تو میرا برا حال تھا میں بار بار اپنے لن کو کھجاتا رہا۔۔۔میں ہی کیا وہاں سب لوگوں کا یہی حال تھا۔۔۔چونکہ یہ بیچلر پارٹی تھی تو ہر بندہ ہر حرکت کیلئے آزاد تھا۔۔۔شراب کا بھی بھرپور انتظام کی گیا تھا۔۔۔یہ مکمل ورائٹی شو ارمغان کے دوستوں کی طرف سے ارینج ہوا تھا۔۔۔

    دوستوں کی پرزور فرمائش پر مجرے کا آغاز کیا گیا اور انڈین گانوں پر مجرہ شروع ہو گیا۔۔۔پھر چاروں طرف ایک طوفانِ بدتمیزی کا آغاز ہو گیا۔۔۔سب نے ہی شراب پینا شروع کر دی۔۔۔لڑکے جام لنڈھا لنڈھا کر اٹھتے۔جیب سے پیسے نکالتے اور لڑکیوں پر لٹاتے ہوئے ان کے ساتھ ڈانس کرتے۔۔۔ڈانس کیا لن کرنا تھا بس ہر بندے کو ایک ہی شوق تھا کہ لڑکی کے ہونٹ چوم لیں اس کے ممے دبا لیں یا پھر اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر لیں۔۔۔مجھے یہ سب پروگرامِ بدتمیزی انتہائی گھٹیا لگ رہا تھا۔۔۔
    ہاں البتہ ایک چیز جو مجھے اٹریکٹ کر رہی تھی وہ تھی ایک نیلی آنکھوں والی لڑکی کا بار بار مجھے دیکھنا۔بعد میں پتہ چلا اس نے کانٹیکٹ لینز لگائے ہوئے تھے۔۔۔میں بھی بار بار اسی کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔اب ان پیشہ ور لڑکیوں کے ہتھکنڈے تو میں نہیں جانتا تھا ناں۔۔۔تو اس کی آنکھوں کی اس کاروباری تپش کو سمجھ نا پایا۔۔۔میں نے باقی لوگوں کے رنگ میں خود کو رنگتے ہوئے شراب کا ایک پیگ اٹھا لیا۔۔۔جیسے ہی شراب کو حلق میں انڈھیلا تو اس کا ذائقہ نہایت ہی عجیب محسوس ہوا۔کچھ دیر ناچ گانا دیکھتا رہا اور پھر شوخی شوخی میں چار پانچ پیگ شراب کے لگا گیا۔۔۔شروع شروع میں تو یہی لگا کہ شراب اپنے لیے بھی پانی ہے لیکن آدھے گھنٹے میں ہی پھرکی گھوم گئی اور میں بھی اٹھ کر اس طوفانِ بد تمیزی کا حصہ بن گیا۔۔۔اب میں بھی سب کے ساتھ ملکر ناچ رہا تھا اور لڑکیوں کے جسم ٹٹول رہا تھا۔۔۔ان کی گانڈوں پر ہاتھ لگاتے لگاتے میرا لن فل اکڑ گیا۔۔۔اب وہی نیلی آنکھوں والی لڑکی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لپٹائے نچا رہی تھی۔۔۔

    اس کے ساتھ ناچتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھا تو اس نے مجھے کھینچ کر اپنے ساتھ چپکاتے ہوئے میرا لن پکڑ لیا۔۔۔میں نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ اپنے اپنے حال میں مست تھے۔۔۔کچھ لوگ شراب اور چرس کے نشے میں تھے تو کچھ لوگ میری ہی طرح باقی لڑکیوں کے مموں اور گانڈوں کو دبا رہے تھے۔۔۔چند سیکنڈ اس لڑکی نے میرے لن کو سہلایا اور پھر چھوڑ دیا۔۔۔ان گشتیوں کا طریقہ واردات ہی یہی ہوتا ہے کہ بندے کو اکسا کر خود دو قدم پیچھے ہو جاتی ہیں تاکہ بندہ خود آگے ہو کر ان کی تمنا کرے اور یہ پیسے کی ڈیمانڈ کر سکیں۔۔۔

    وہ لڑکی پھر پیچھے ہو کر ناچنے لگی اور وہاں موجود ایک اور لڑکے نے اسے پکڑ لیا۔۔۔اور اس کے ممے دبائے لیکن وہ چند سیکنڈ میں ہی ایک ادا دکھا کر اس کی گرفت سے بھی نکل آئی۔۔۔اتنی دیر میں سب لوگوں نے پیسے نکالے اور ان گشتیوں پر لٹانے شروع کر دیے۔۔۔میں نے بھی اپنی جیب ہلکی کی اور پیسے نکال کر اسی لڑکی پر لٹانے لگا۔۔۔غرض کے رات دو بجے تک یہی طوفانِ بدتمیزی برپا رہا۔۔۔دو بجے مجرے کا اختتام کر دیا گیا۔۔۔میں نے آفتاب کو پکڑا اور بولا یار آفتاب مجھے اس لڑکی کی لینی ہے۔۔۔آفتاب نے گھور کر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔جانی پہلے کبھی یہ کام کیا ہے تو میں نے کہا نہیں یار آج پہلی دفعہ ہو گا تو وہ بولا پھر اس چکر میں مت پڑ میں کل تجھے ایک اعلیٰ سوسائٹی گرلز کے کوٹھی خانے پر لے جاؤں گا۔وہاں ایک سے ایک بڑھ کر حسینہ موجود ہے۔وہاں جو دل چاہے کر لینا لیکن ان کے چکر میں مت پڑ۔۔۔مگر میں جو اس ٹائم نشے میں تھا۔۔۔ضدی لہجے میں بولا نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت اس کی لینی ہے۔۔۔تو وہ کندھے اچکا کر اس لڑکی کے پاس گیا اور کچھ بات کرنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آیا اور ہم دونوں کو چھت پر ہی موجود ایک کمرے میں دھکیل کر بولا عیش کر یارا لیکن جلدی آ جانا اور خود واپس چلا گیا۔۔۔میں نے کمرے کا دروازہ بند کر کے لاک کیا اور مڑا تو اتنی دیر میں اس لڑکی نے پیچھے سے آ کر مجھے جھکڑ لیا اور اپنے ممے میری کمر پر دباتے ہوئے ہاتھ آگے کر کے میرا لن پکڑ کر ہلانے لگی۔۔۔اور ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ میری گردن پر رکھ دیے۔۔۔

    اس کی اس حرکت سے مجھے جھٹکا لگا اور میں نے وہیں کھڑے کھڑے مڑ کر اس کے مموں کو دبوچا اور مسلنے لگا۔۔۔میری بے چینی دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے جیسے ہی میری نظروں کے سامنے آئے تو میں پاگلوں کی طرح وہیں اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔چند منٹ اس کے ممے چاٹنے اور نپلز چوسنے کے بعد اس نے مجھے پیچھے ہٹا کر میری شلوار پر ہاتھ ڈالا اور ازاد بند کھول کر میری شلوار اتار دی۔۔۔شلوار اتارنے کے بعد اس نے مجھے وہاں موجود صوفے پر بٹھایا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔ایک ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹے پکڑ لئے اور نرم نرم ہاتھوں سے ٹٹوں کا مساج کرتے ہوئے میرے لن کو چاٹتی رہی۔۔۔میں دوہرے مزے کی کیفیت میں تھا۔۔۔پہلی دفعہ میرے لن نے کسی زبان کا ٹچ محسوس کیا تھا۔۔۔اس لئے مسلسل جھٹکے کھاتے ہوئے مزی چھوڑ رہا تھا۔۔۔پھر اس نے میرا لن منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا اور دو منٹ کے جاندار چوپے لگانے کے بعد اس نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری ٹانگیں ہلکی سی اوپر اٹھا کر میرے ٹٹوں کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے سسکاری نکلی۔۔۔یہ دیکھ کر اس نے میرا ایک ٹٹہ اپنے منہ میں لیکر چوسا اور اپنی انگلی سے میری گانڈ کے سوراخ کو چھیڑا۔۔۔اس کی یہ حرکت مجھے بڑی عجیب لگی۔لیکن انتہائی مزے نے مجھے کچھ بھی بولنے سے عاری رکھا۔۔۔

    میرا ٹٹہ منہ سے نکال کر اس نے اپنی زبان سے میری گانڈ کے سوراخ کو ٹچ کیا۔۔۔مجھے ایک عجیب سی سنسناہٹ جسم میں ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اب وہ میری گانڈ کے سوراخ کو لپالپ چاٹ رہی تھی۔۔۔وہ اپنے منہ میں تھوک اکٹھا کر کے میری گانڈ کے سوراخ پر پھینکتی اور پھر زور و شور سے چاٹنا شروع کر دیتی۔۔۔چاٹ چاٹ کر اس نے میری گانڈ کا سوراخ نرم کر دیا۔۔۔پھر اس میرے ٹٹوں اور گانڈ کے درمیانی حصے پر زبان پھیری تو مزے کی شدت سے میرا جسم جھنجھنا اٹھا اور اسی جھنجھناہت کے دوران ہی اس نے اپنی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباؤ ڈالا تو اس کی آدھی سے زیادہ انگلی میری گانڈ میں تھی۔۔۔میں تڑپ کر اٹھا اور جھٹکے سے اپنی گانڈ اوپر اچھال دی جس کیوجہ سے اس کی انگلی باہر نکل گئی۔۔۔پھر غصے سے بولا گشتیے۔۔۔میں ایتھے تیری پھدی مارن آیا بنڈ مران نئیں۔۔۔چل سیدھی ہو فٹافٹ تے شلوار لا اپنی۔۔۔
    میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور ہنستی گئی ہنستی گئی جیسے اسے ہنسی کا دوری پڑ گیا ہو۔۔۔ہنستے ہنستے اس کے منہ سے نکلا،،،،پھدی،،،،اور وہ پھر ہنسنے لگی۔۔۔جبکہ میں اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی ہنسی ختم ہوئی تو وہ بولی کاکے بنڈ مار لویں گا۔۔۔میں نے کچھ نا سمجھنے کے انداز میں کہا بنڈ۔۔۔؟
    تو وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی اچھا تینوں ہن سب کچھ دکھانا پوے گا۔۔۔یہ کہہ کر اس نے منہ دوسری طرف کیا اور کھڑے کھڑے اپنی شلوار اتار دی۔۔۔نیچے اس نے کالے رنگ کا انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔وہ بھی اس نے اتار دیا اور آہستہ سے میری طرف گھوم گئی۔۔۔
    میرے منہ سے نکلا ارے۔۔۔
    اس کی ماں کی چوت۔۔۔اس کے اوپر بڑے بڑے ممے اور نیچے میرے لن سے بھی دگنا لمبا اور موٹا لن۔۔۔میرے دماغ نے کہا خطرہ۔نسو پین چود اے تاں منڈا نکل آیا۔۔۔میں نے فوراً اپنے پاؤں میں پڑی اپنی شلوار اٹھائی اور پہنتے ہوئے وہاں سے بھاگا۔۔۔صحیح معنوں میں مجھے آج پتہ چلا کہ لینی کی دینی پڑ جائے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔۔اس نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی اور اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن میں وہاں سے جان چھڑا کر باہر نکلا اور سیدھا آفتاب کو جا پکڑا۔۔۔ارے یار اس پین چود کو پیسے دے اور میری جان چھڑوا۔۔۔آفتاب نے پوچھا کیا ہوا یار تو میں نے اسے بتایا یار وہ تو کھسرا ہے۔۔۔تو آفتاب بولا جگر تجھے منع کیا تھا میں نے کہ اس کو چھوڑ دے لیکن تو نہیں مانا۔۔۔اور یہ کھسرا نہیں مادر چود پورا لڑکا ہے۔۔۔شکل میں لڑکیوں جیسی شباہت تھی تو آپریشن کروا کر اس نے ممے بنوا لیے۔ باقی سارا کمال میک اپ اور اداؤں کا ہے۔۔۔یہ کہہ کر آفتاب باہر نکل گیا اور میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔۔۔پھر ادھر ہال روم میں ہی بیٹھ کر سگریٹ سلگا لیا۔۔۔میرا لن بے شک بیٹھ چکا تھا لیکن دماغ پر ابھی تک منی سوار تھی تو وہاں سے نکلا اور سیدھا گھر جا کر واش روم میں گھس گیا اور مٹھ ماری تو دماغ کو تھوڑا سکون ملا۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں آفتاب کے کمرے میں جا کر سو گیا۔۔۔

    اگلی صبح میری آنکھ آفتاب کے ہلانے پر کھلی۔۔۔ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں اور آفتاب گاڑی لے کر باہر نکل گئے اور مہندی کے فنکشن کا سامان خریدنے لگے۔۔۔اسی شاپنگ میں ہمیں دوپہر کے دو بج گئے۔۔۔دو بجے کا کھانا ہم لوگوں نے فوڈ اسٹریٹ سیور فوڈز میں کھایا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ہم سامان لیکر گھر پہنچ گئے اور سارا سامان آفتاب کی بہن کے حوالے کر کے ہم لوگ کمرے میں آ بیٹھے۔۔۔

    تھوڑی دیر میں چائے بن کر آ گئی اور ہم چائے پینے لگے۔۔۔چائے پینے کے دوران آفتاب نے مجھ سے پوچھا ہاں جانی اب بتا کل رات کو کیا ہوا تھا۔۔۔میں نے کھسیاتے ہوئے اسے ساری سٹوری سنا دی۔۔۔چونکہ آفتاب بھی چدائی کا شوقین تھا۔۔۔اور میں اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اس لیے ہم دونوں آپس میں کھل کر بات کر رہے تھے۔۔۔باتیں کرتے کرتے اچانک میرے دل میں ایک خیال آیا۔۔۔میں نے آفتاب سے کہا یار رات کو وہ تم کہہ رہے تھے کہ یہاں کوئی ٹاپ سوسائٹی گرلز کا کوٹھی خانہ ہے۔۔۔ہاں نا یار بہت کمال کی جگہ ہے۔ایک سے ایک اعلیٰ۔۔۔کمال کی پوپٹ بچیاں ہیں وہاں۔آفتاب نے چسکے لے لے کر مجھے بتایا تو میرے دل میں کھلبلی مچنی شروع ہو گئی۔۔۔میں نے آفتاب کو کہا تو چل نا میرے بھائی ایک چکر لگاتے ہیں ویسے بھی کل رات میں کنوارہ ہی رہ گیا۔۔۔آفتاب کچھ سوچنے کے بعد اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔چل میری جان آج تو بھی پیسٹری کاٹ ہی لے۔۔۔

    پھر کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا کہ آج تم پیسٹری کاٹ لو کل رات کو فاروق بھائی بھی کاٹ لیں گے۔۔۔اور اس کی بات سن کے میں بھی کِھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔


    ہم لوگ گھر سے نکلے اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑے۔۔۔کوئی تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ اسلام آباد جی نائن سیکٹر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔آفتاب تو وہاں کا رہنے والا تھا اس لیے اسے وہاں کا ہر راستہ ازبر تھا لیکن مجھے گلیوں کی بھول بلیوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم لوگ کس جگہ پر جا رہے ہیں۔۔۔اور جان کر کرتا بھی کیا۔۔۔میرے دماغ پر تو پھدی سوار تھی اور میں راولپنڈی صرف چار دن کیلئے ہی آیا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی آفتاب نے گاڑی ایک بہت پیاری کوٹھی کے گیٹ کے سامنے لیجا کر روک دی۔ہارن مارنے پر گیٹ کی چھوٹی کھڑکی سے ایک آدمی باہر نکلا اور گاڑی کے پاس آیا۔۔۔پاس آ کر جیسے ہی اس نے آفتاب کو دیکھا تو اس کے چہرے پر شناسائی کے تاثرات ابھرے اور وہ واپس اندر چلا گیا اور ایک منٹ بعد ہی کوٹھی کا مین گیٹ بنا کسی آواز کے کھل گیا۔۔۔
    آفتاب گاڑی کو اندر لے گیا اور پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا۔۔۔میں بھی اس کی تلقید میں گاڑی سے باہر نکلا اور آفتاب مجھے ساتھ لیکر سیدھا کوٹھی کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اندر جا کر سامنے ہی گیسٹ روم میں ہم لوگ بیٹھ گئے۔۔۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آفتاب یہاں آتا جاتا رہتا ہے تبھی تو وہ سارے سسٹم کو جانتا تھا اور اتنے اطمینان سے ہم لوگ اندر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں بغلی دروازہ کھلا اور ایک تیس بتیس سال کی عورت اندر داخل ہوئی اور چلتی ہوئی ہمارے پاس آئی ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔حال احوال پوچھنے کے بعد وہ آفتاب سے مخاطب ہوئی۔۔۔

    آج تو کافی دنوں بعد درشن دیے آپ نے اور یہ آپ کے ساتھ نیا پنچھی کون ہے۔۔۔میں کافی نروس تھا۔اور یہ چیز اس عورت کی نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔آفتاب صوفے پر پاؤں پھیلاتے ہوئے بولا کیا بتاؤں خانم گھر میں بھائی کی شادی ہے اور پچھلے بیس دن سے گھِن چکر بنا ہوا ہوں۔۔۔یہ سمیر قریشی ہے۔میرا کزن ہے۔دوست ہے۔جگر ہے۔۔۔باہر سے آیا ہے۔بیچارہ پرسوں سے میرے ساتھ خجل ہو رہا تھا تو سوچا چلو خانم کے پاس چلتے ہیں ایک تو دیدارِ خانم ہو جائے گا دوسرا تھوڑی تھکاوٹ بھی اتر جائے گی۔۔۔

    خانم جو کہ یقیناً وہاں کی نائیکہ تھی۔مسکرا کر بولی بلکل ذہنی آسودگی ہی اصل تھکان ہوتی ہے۔۔۔تو پھر بلاؤ لڑکیوں کو تھکاوٹ سے بدن ٹوٹ رہا ہے آفتاب بے چینی سے بولا اور خانم مسکراتے ہوئے اٹھ کر بغلی دروازے کی طرف چل دی۔۔۔میں بغور خانم کاجائزہ لے رہا تھا اس نے جینز کی پینٹ اور بغیر بازوؤں کے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ان کپڑوں میں اس کا جسم بہت سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے خانم کو یوں بھوکی نظروں سے دیکھتے پایا تو مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں یار اس کی طلب مت کرنا یہ خانم خود کسی کے ہاتھ نہیں آئی آج تک۔۔۔بس لڑکیوں سے دھندا کرواتی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ لڑکی ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہے۔۔۔ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ بغلی دروازہ پھر کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔اس کے پیچھے ایک لڑکی مشروبات کی ٹرے اٹھائے ہوئے وارد ہوئی۔خانم آ کر ہمارے سامنے ہی بیٹھ گئی جبکہ لڑکی نے ٹرے درمیان میں موجود ٹیبل پر رکھی اور ٹرے میں موجود بئیر گلاسوں میں ڈال کر ہمارے آگے سرو کر دی۔۔۔یہ لڑکی بھی قابلِ قبول تھی لیکن وہ رکی نہیں اور بئیر سرو کرنے کے بعد واپس اسی دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔خانم مسکراتے ہوئے اپنا گلاس اٹھا کر بولی لڑکیاں تیار ہو کر ابھی دس منٹ میں آتی ہیں اتنی دیر آپ لوگ شوق فرمائیں اور ہم دونوں نے اپنے اپنے گلاس اٹھا لئیے اور بئیر پینے لگے۔۔۔

    ابھی بئیر کے گلاس ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغلی دروازہ دوبارہ کھلا اور چار لڑکیاں اندر داخل ہوئیں اور چلتی ہوئیں آ کر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں۔۔۔میں ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھا۔واقعی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔۔۔
    آفتاب اور خانم بغور میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی میں نے لڑکیوں سے نظر ہٹا کر ان کی طرف دیکھا اور انہیں خود کو ایسے گھورتے پایا تو ایک دم کھسیا سا گیا۔۔۔خانم ہنستے ہوئے بولی لگتا ہے آپ پہلی دفعہ ایسی جگہ پر آئے ہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آفتاب نے فٹ سے جواب دیا۔۔۔ارے خانم جان یہ موصوف ابھی تک کنوارے ہیں۔۔۔لڑکی نام کی مخلوق کو ابھی تک ٹچ بھی نہیں کیا۔۔۔آفتاب کی بات سن کر خانم کی آنکھوں میں ایک لمحے کیلئے چمک سی ابھری اور فوراً ہی معدوم ہو گئی۔۔۔میں بھی چونکہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اس لئے صرف میں ہی اس لمحاتی چمک کو نوٹ کر پایا۔۔۔آفتاب نے میری پیٹھ پر ایک ہاتھ جماتے ہوئے کہا چل جانی نکال لے اپنا پیس ان میں سے جو تجھے پسند آئے۔۔۔میں ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے آفتاب کو دیکھنے لگا۔۔۔یہ ماحول میرے لیے بلکل نیا تھا۔تو تھوڑی جھجھک فطری تھی۔۔۔

    میری جھجھک دیکھتے ہوئے خانم مسکرا کر اٹھی اور میرے پاس آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔اس کے نرم ملائم ہاتھ کو محسوس کرتے ہی میرے دل میں کھلبلی سی مچ گئی۔۔۔خانم نے ہاتھ پکڑتے ہوئے زور لگا کر مجھے اٹھایا اور چلاتے ہوئے لڑکیوں کے پاس لے جا کر تعارف کرواتے ہوئے ان کے خواص بتانے لگی۔۔۔پہلی لڑکی کے پاس پہنچے تو اس لڑکی نے اپنا ہاتھ مصافحے کیلئے بڑھا دیا میں نے ہاتھ ملایا تو وہ میرے ہاتھ کو دبا کر مسکرانے لگی۔۔۔خانم کی کمنٹری جاری ہو گئی۔۔۔
    1: ریشم۔۔۔مساج بہت اچھا کرتی ہے اور بلکل پیار سے آپ کو سکون کی منزل تک پہنچائے گی۔۔میں نے خانم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تو خانم مسکرا کر بولی،،نہیں میں نہیں٬٬صرف ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔۔۔یہ کہہ کر خانم کی کمنٹری پھر جاری ہو گئی۔۔۔
    2: نازنین۔۔۔سیکس کی ماہر۔گانڈ مروانے کی شوقین اور سکنگ میں بھرپور مہارت۔۔۔
    یہ سنتے ہی میں نے اس لڑکی نازنین کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔خانم نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑا اور نازنین کو بولی ان کو اوپر ٹیرس والے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔آفتاب نے بھی ایک لڑکی کا انتخاب کیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔نازنین میرا ہاتھ پکڑے مجھے اسی بغلی دروازے سے اندر لے گئی۔۔۔اندر ایک راہداری تھی۔۔۔راہداری کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر والے پورشن میں چلے گئے۔۔۔نازنین نے داہنی سائیڈ پر موجود کمرے کے دروازے کو ہلکا سا دبایا تو دروازہ کھل گیا اور وہ مجھے لیے کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔کمرے میں نہایت شاندار بیڈ موجود تھا اور بیڈ کے ساتھ ہی ایک بڑا کاؤچ نما صوفہ پڑا ہوا تھا۔۔۔

    نازنین نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور ابھی پانچ منٹ میں آئی کا کہہ کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔میں اس کوٹھی کی شان و شوکت اور اس منظم کاروبار کے بارے میں سوچ سوچ کر حیران تھا کہ یہ خانم کتنے منظم طریقے سے یہاں بیٹھی ہے ضرور اس کی پشت پر کوئی اثرورسوخ والا بندہ ہو گا۔۔۔نازنین کو گئے ہوئے دس منٹ ہونے کو آئے تھے ابھی تک وہ واپس نہیں آئی تھی۔۔۔میں اٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے ایک لمبا اور ڈھیلا ڈھالا سا لبادہ پہنا ہوا تھا۔۔۔خانم کو دیکھ کر میں تھوڑا کنفیوز ہوا۔۔۔میری حالت دیکھ کر خانم بولی ایزی بوائے ایزی میں سب سمجھاتی ہوں۔۔دراصل ہر کسی کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ابھی نازنین کے بارے میں تم نے چوپے اور گانڈ کا سن کر فوری اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسی طرح لڑکیوں کی بھی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے۔۔۔وہاں نیچے کامن روم میں تم نے مجھے آفر کی تھی۔۔۔مجھے پہلے ہی کافی دفعہ آفتاب بھی کہہ چکا ہے لیکن میری بھی ایک چوائس ہے جس کی وجہ سے میں نے ہمیشہ آفتاب کو انکار کیا ہے لیکن تمہیں انکار نہیں کر سکوں گی کیونکہ تم میری چوائس کے عین مطابق ہو۔۔۔مگر خانم نیچے تو آپ نے مجھے انکار کر دیا تھا میں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا تو خانم بولی یار نیچے آفتاب تھا نا اور میں اس کے ساتھ سیکس نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ میری چوائس پر پورا نہیں اترتا۔۔۔

    میں نے خانم پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا کہ آخر کیا ہے آپ کی چوائس خانم کچھ بتاؤ تو سہی اس بارے میں۔۔۔تو چند لمحوں کی خاموشی کے بعد خانم اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔پھر آہستہ سے خانم نے اپنا لبادہ ہٹایا اور اپنا ایک کندھا ننگا کیا تھوڑا سا سر گھما کر میری طرف دیکھتے ہوئے خانم نے دوسرا کندھا بھی ننگا کر دیا۔۔۔کندھے ننگے کرنے کے بعد خانم میری طرف مڑی اور پرشوق نگاہوں سے دیکھتی ہوئی دو قدم آگے آئی اور اپنا لبادہ ایک جھٹکے سے کھول کر نیچے اپنے قدموں میں پھینک دیا۔۔۔خانم کا جسم دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔کیا کمال کر فگر تھا۔۔۔یہ بڑے بڑے اور اکڑے ہوئے ممے۔۔۔خانم کی گول مٹول گانڈ اور بالوں سے پاک صاف پھدی جس کے ہونٹ تھوڑا باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔۔۔خانم ایک بازو اٹھائے سر کے اوپر سے دوسرے کندھے کی طرف گزار کر دوسرے ہاتھ سے اس بازو کو پکڑے مجسمے کی طرح کھڑی تھی۔۔۔
    یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی مجسمہ تراش نے حسن کی مورت بنا ڈالی ہو۔۔۔

    خانم کو ایسے دیکھ کر میرا لن فل تن کر اکیس توپوں کی سلامی دینے لگا۔۔۔خانم مجھے دیکھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولی میری چوائس ہے کنوارہ پن۔۔۔اور اسی وجہ سے اب میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم آگے بڑھی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔میں نے بھی خانم کو اپنی بانہوں میں کَس لیا اور ہم دونوں لپٹ کر کسنگ کرتے رہے۔۔۔خانم کی گرم جوشی دیدنی تھی۔۔۔وہ بڑی شدت سے میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔اسے مجھ پر بڑا ہی پیار آ رہا تھا۔۔۔خانم نے مجھے کھڑا کر کے میرے کپڑے اتار دیے پھر دوبارہ مجھے لٹاتے ہوئے میرے اوپر آ گئی اور دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔اس نے میرے چہرے کو چوما۔۔۔ہونٹوں کو بے تحاشا چاٹا۔۔۔پھر وہ تھوڑا نیچے آ گئی۔جیسے ہی اس کی زبان کا لمس میں نے اپنی گردن پر محسوس کیا میرے جسم کو کرنٹ سا لگا اور میرا بدن کانپ گیا۔۔۔اب خانم اور نیچے جا رہی تھی۔۔۔اس نے میرے سینے پر بے تحاشا پیار کیا۔۔۔

    مجھے اس کی یہ گرم جوشی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔مزے کی لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔۔۔اس وقت تو مجھے ایک جھٹکا لگا جب اس نے میرے چھوٹے سے دانے جیسے نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کیا۔۔۔میں نے بے اختیار اسے روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکی اور نپلز چوستی رہی۔۔۔میں اپنی آنکھیں بند کر کے مزے کے اس طوفان کو برداشت کرنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر میرے نپلز چوسنے کے بعد وہ تھوڑا نیچے آئی اور میرے پیٹ پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے اور نیچے جانے لگی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ میرا لن چوسے گی لیکن میرے زیرِ ناف حصے کو چاٹتے چاٹتے جیسے ہی وہ لن کے پاس پہنچی وہاں سے اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میری رانوں کو چاٹنے لگی۔۔۔ہر لمحے ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا۔میں خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔خانم آہستہ آہستہ سے میری پنڈلیوں پر زبان پھرتے ہوئے نیچے آئی اور میرے پاؤں تک پہنچ گئی یہاں خانم نے رک کر میری آنکھوں میں دیکھا اور میرے پاؤں کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔میں پھر سے مزے کے ایک نئے جہاں میں غوطے لینے لگا۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس چیز سے اتنا زیادہ مزہ ملتا ہے۔۔۔مزہ ہی اتنا تھا کہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔اب خانم میری دونوں ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خانم نے اپنا سر نیچے جھکایا اور اپنی لمبی سی زبان باہر نکال کر میرے لن کی ٹوپی کو چاٹ لیا۔۔۔میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا اور مزی کا ایک قطرہ لن کے سوراخ سے باہر نکل آیا۔۔۔خانم نے لن کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔۔۔وہ مزے مزے سے لن کی ٹوپی سے لے کر نیچے ٹٹوں تک اپنی زبان پھیرتی۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹوں کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں دوہرے مزے کا شکار ہونے لگا۔۔۔خانم کی مستیاں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔دو منٹ تک ایسے ہی لن کی کیپ کو سائیڈوں سے چاٹنے کے بعد خانم نے میری ٹانگیں اٹھا کو ہلکی سی کھول دیں۔۔۔اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر منہ نیچے جھکایا اور میرے ٹٹوں کی جڑ میں گانڈ کے سوراخ کے پاس اپنی زبان کی نوک پھیری۔۔۔وہاں سے زبان پھیرتے ہوئے خانم اوپر کی طرف آتے ہوئے ٹٹوں کو چاٹتی گئی۔۔۔ٹٹوں سے ہوتے ہوئے لن کی جڑ سے سیدھا لن کی ٹوپی تک ایک چاٹا لگایا اور میرے لن کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔مجھے ایک منفرد مزے کا احساس ہوا۔۔۔خانم بڑی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ اگر کچھ دیر اور اس نے ایسے ہی لن چوسا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔

    اس لیے میں نے خانم کو روک دیا اور اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔خانم کے لبوں پر میری مزی کا قطرہ چمک رہا تھا جسے وہ زبان نکال کر چاٹ گئی۔۔۔

    اب میں اگلے مرحلے یعنی چدائی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن میرا لن ایسے جھٹکے کھا رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں نے لن کو پھدی کے اوپر بھی رکھا تو چھوٹ جاؤں گا۔۔۔خانم کی جاندار چسائی نے میرا حال برا کر دیا تھا۔۔۔میں نے خانم کو کندھوں سے پکڑا اور بیڈ پر لٹاتے ہوئے خود خانم کے اوپر آ گیا۔اس کے شربتی ہونٹوں پر حملہ کیا اور انہیں چوسنے لگا۔۔۔خانم بھی مزے سے میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔میں بڑی شدت سے اس کے ہونٹ چوس رہا تھا کبھی اوپر والا ہونٹ کبھی نیچے والا۔۔۔پھر میں نے خانم کی زبان پکڑ کر اسے چوسنا شروع کر دیا۔اور خانم کی بے قراریاں بڑھنے لگیں۔۔۔وہ بے خودی میں ڈوبنے لگی۔۔۔مزے کی اک لہر تھی جو کہ اس کی زبان سے دل و دماغ تک جا رہی تھی۔۔۔اچھی طرح ہونٹ اور زبان چوسنے کے بعد میں نے پیچھے ہو کر خانم کے دونوں مموں کو پکڑ لیا۔۔۔اف کیا خوب نظارہ تھا سخت سخت ممے اور ان کی گولائیاں،،ممے کے درمیان میں براؤن رنگ کا دائرہ اور اس دائرے میں اکڑے ہوئے پیارے سے نپلز۔غرض کہ کمال کا نظارہ تھا۔۔۔میں خانم کے ممے دبانے لگا۔۔۔مجھے بہت مزہ آ رہا تھا یہ سب کرنے میں۔۔۔پھر میں نے اپنا منہ خانم کے ایک ممے پر رکھا اور اوپر اوپر سے چاٹنے لگا۔خانم سِسک سی گئی۔پھر میں نے جگہ جگہ سے دونوں مموں کو اتنے زور شور سے چوسا کہ نشان پڑھ گئے۔مگر پرواہ کسے تھی۔میں نے ایک نپل کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔کبھی نپل کو چوستا تو کبھی اس کے ارد گرد اپنی زبان گھماتا۔۔۔خانم کی سسکاریاں بلند ہونے لگیں۔۔۔اور خانم آہ:اوہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ کی آوازیں نکالنے لگی۔۔۔

    میں بھی بلکل کسی بچے کی طرح ممے چوستا رہا۔میں دیوانہ وار خانم کے فل تنے ہوئے نپلز چوستا جا رہا تھا۔۔۔خانم نے بےخودی میں اپنا ہاتھ میں سر پر رکھا اور اسے دبانے لگی۔۔۔میں سمجھ گیا کہ خانم کو بھی فل مزہ آ رہا ہے۔تبھی میں نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ سے نیچے لیجا کر خانم کی پھدی پر رکھ دیا۔اور اسے بھی ساتھ ساتھ مسلنے لگا۔۔۔خانم سے برداشت نہ ہوا تو اس نے ایک دم جھٹکا کھایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے خانم کی آنکھوں میں دیکھا وہاں خماری ہی خماری تھی۔۔۔خانم نے مجھے دھکیل کر ایک سائیڈ پر کیا اور مجھے لٹا کر خود میرے اوپر آ گئی۔۔۔ایک ہاتھ نیچے لیجا کر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔

    چونکہ خانم جانتی تھی کہ یہ میرا پہلی دفعہ ہے تو وہ بڑے صبر و تحمل سے پیار اور سکون سے سب کرنا چاہتی تھی۔خانم نے میرا لن اپنی پھدی کے نیچے اس انداز میں لیا کہ میرا لن میرے پیٹ پر لمبائی میں پیٹ اور اس کی پھدی کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ آہستہ لن پر اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کیا تو میرے منہ سے بھی سسکی برآمد ہوئی۔۔۔آہ۔۔۔اف۔۔۔
    چند سیکنڈز ایسے ہی رگڑائی کے بعد خانم تھوڑا اوپر ہوئی اور ایک ہاتھ نیچے لیجا کے لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں کے درمیان رکھا اور آہستہ سے اپنا وزن بڑھاتی گئی۔۔۔اور دس سیکنڈز میں ہی پورا لن اندر غروب ہو چکا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ سے ہلنا شروع کیا اور آگے پیچھے ہونے لگی۔۔۔اس انداز میں لن اندر باہر تو نہیں ہو رہا تھا بس وہیں پر پھدی کے اندر ہی تھوڑا ہل رہا تھا۔۔۔مجھے بس یہ احساس ہی مزہ دیے جا رہا تھا کہ پہلی دفعہ میرا لن پھدی کے اندر ہے۔۔۔اور پھدی بھی خانم جیسی حسین لڑکی کی۔۔۔کچھ دیر خانم ایسے ہی مزہ لیتی رہی اور میری بے چینی سے لطف اندوز ہوتی رہی۔۔۔پھر خانم اٹھی اور میری سائیڈ پر لیٹ کر بولی اب تم اوپر آ جاؤ۔۔۔

    میں نے خانم کے اوپر آ کر اس کے ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی بغلوں سے گزار لیں جس سے پھدی تھوڑا کھل کر سامنے آ گئی۔۔۔میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھ کر دو چار رگڑے دیے تو آنکھیں بند کیے خانم مچل سی گئی۔۔۔

    میرا لن اور خانم کی پھدی دونوں ہی فل گیلے تھے اس لیے لن بار بار پھسل رہا تھا۔میں نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے منہ پر رکھ کر تھوڑا سا زور لگایا تو ٹوپی اندر چلی گئی۔۔۔میں دباؤ ڈالتا گیا اور کچھ دیر میں ہی پورا لن اندر تھا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے گھسے مارنے شروع کیے۔۔۔لن خانم کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر جا رہا تھا۔۔۔دونوں ہی مزے سے سرشار تھے۔۔۔میں نے اپنی رفتار تھوڑی سی بڑھائی تو کمرے میں پچک پچک کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔ساتھ ہی کہیں کہیں خانم کی لذت آمیز سسکاریاں بھی گونجتی۔۔۔

    کچھ دیر ایسے ہی چودائی کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔اور خانم کو گھوڑی بنا کر خود پیچھے آ گیا۔۔۔اور اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑتے ہوئے چوتڑوں کو دونوں ہاتھوں میں دبوچ کر ایک زور دار جھٹکا مارا تو گھپ سے پورا لن اندر چلا گیا۔۔۔خانم کے منہ سے اونچی آواز میں نکلا۔۔۔آہ۔۔۔۔ہائے رے کنوارے پن کی بے چینیاں۔۔آہہہ۔۔آہ۔۔۔
    میں گھسے مارتے ہوئے بولا خانم جی بس آپ کو دیکھ دیکھ کر صبر نئیں ہو رہا۔۔۔تو خانم الٹتی پتھلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بولی۔میری جان روکا کس نے ہے جو جی میں آئے کرو۔۔۔
    لگاتار گھسے مارنے کی وجہ سے کمرے میں دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔بیڈ کی بھی چر چر سنائی دے رہی تھی۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی گئی۔۔میرے ہر گھسے پر خانم یوں اچھلتی جیسے نیچے سے سپرنگ اچھال رہے ہوں۔۔۔دونوں ہی مزے میں بے خود ہو رہے تھے۔۔۔میرا کنٹرول خود پر سے کھونے لگا۔۔۔میں نے اپنی رفتار بڑھا دی۔۔۔اور دو چار گھسوں کے بعد میں نے اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پوری جان سے گھسہ مرتے ہوئے جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔میرے لن سے منی کا اخراج اتنی شدت سے ہوا کہ جیسے ہی منی کی دھار خانم کی پھدی میں گری وہ بھی کانپتے ہوئے جھڑنے لگی۔۔۔اور میں خانم کے اوپر ہی گر گیا۔۔۔


    پانچ منٹ ایسے ہی پڑے رہنے کے بعد خانم کسمسائی اور میں اس کے اوپر سے سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔میرا لن اب جو کہ فارغ ہونے کے بعد چھوٹی سی للی میں تبدیل ہو چکا تھا۔۔۔ہم دونوں کے مکس پانی سے لتھڑا ہوا تھا۔۔۔
    خانم نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور سہلاتے ہوئے بولی شہزادے ایک بات تو بتاؤ۔۔۔میں نے کہا پوچھو خانم کیا پوچھنا ہے تو خانم بولی وہ نیچے تم نے نازنین کا ہاتھ کیا سوچ کر تھاما تھا۔۔۔تو میں نے کہا کہ یار گانڈ تو آج تک ماری نہیں بس نازنین کے ممے کافی بڑے اور اٹریکٹو تھے۔۔۔اور چوپے کا سن کر تو میرے رگ پھڑک اٹھی تھی۔۔۔خانم بولی رک شہزادے ابھی کچھ کرتی ہوں۔اس سے پہلے میں کچھ کہتا خانم نے پاس پڑے انٹرکام کا رسیور اٹھایا اور بٹن دبا کر تحکمانہ لہجے میں بولی۔۔۔نازنین کو ریڈی کر کے بھیجو دو منٹ میں۔۔۔اور رسیور کریڈل پر رکھ کر خانم نے واپس میری طرف منہ کر لیا اور بولی شہزادے تمہاری چوائس ابھی آ رہی ہے جو چاہے کرنا۔۔۔
    میرے دل میں خوشیوں کے جوار بھاٹا پھوٹ رہے تھے۔۔۔چپڑی ہوئیں اور دو دو۔۔۔

    آنے والے لمحات کے بارے میں سوچتے ہی میرے لن میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔ٹھیک تین منٹ بعد دروازہ ایک بار پھر کھلا اور نازنین اندر داخل ہوئی اور میں اس کو دیکھ کر ایک دم حیران ہو گیا۔۔۔کیونکہ وہ بلکل ننگی تھی۔۔۔اس نے لانگ شوز پہنے ہوئے تھے سر پر پی کیپ تھی۔۔۔ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے۔۔۔ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی۔۔۔بڑے بڑے ممے۔۔۔یہ بڑے ممے تو شاید ان گشتیوں کو وراثت میں ملتے ہیں۔۔۔مموں کے اوپر صاف شفاف نپلز۔۔۔میں سوچ رہا تھا شاید اتنی صفائی میک اپ کا کمال ہے۔۔۔نازنین سیدھا چلتی ہوئی خانم کے پاس آئی اور کھڑی ہو کر بولی میڈم حکم کریں۔۔۔
    خانم والہانہ انداز میں بولی شہزادہ تمہارا تمنائی ہے۔۔۔نازنین نے اپنا سر جھکایا اور صرف اتنا بولی۔۔۔اوکے میڈم۔۔۔اس کے بعد نازنین نے کمرے میں آنے کے بعد پہلی دفعہ میری طرف دیکھا اور دو قدم بڑھا کر میرے پاس آئی اور بیڈ پر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئی۔۔۔میرے لن جس پر لگی ہوئی منی اب سوکھ رہی تھی کو پکڑا اور میری طرف دیکھتے ہوئے تھوڑا مسکرائی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلاتی رہی۔۔۔پھر اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور لن کی ٹوپی اپنے منہ میں گھسا لی۔۔۔افففففف کیا ہاٹ اور گیلا منہ تھا نازنین کا۔میرے منہ سے ایک سسکی سی نکل گئی۔۔۔نازنین نے میری طرف دیکھا اور لن کو آہستہ سے منہ میں پورا گھسا لیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔۔۔اچانک میں نے دونوں ہاتھوں سے نازنین کے سر کو تھام کر اسے روک دیا تو اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا یار مجھے بئیر کی طلب ہو رہی ہے۔۔۔خانم کی کڑک دار آواز ابھری ناز۔اور نازنین اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑی جیسے ہی وہ مڑی میری اس کی گانڈ دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔اس کی گانڈ میں کچھ پھنسا ہوا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا خانم جو کہ سگریٹ سلگا کر میری نظروں کا تعاقب کر رہی تھی بول پڑی شہزادے میں نے نیچے بتایا تھا نا کہ یہ لڑکی گانڈ مروانے کی بہت شوقین ہے اور ابھی انٹرکام پر میں نے اسے تیاری کا بولا تھا تو مقصد یہی تھا۔۔۔یہ ایک اینل ٹوائے ہوتا ہے۔۔۔جس کو جیل لگا کر اس نے اپنی گانڈ میں لیا ہوا ہے۔۔۔جیل کیوجہ سے گانڈ نرم اور ٹوائے کی وجہ سے گانڈ کھلی رہے گی۔۔۔مطلب ہر وقت گانڈ مروانے کیلئے بلکل ریڈی رہتی ہے یہ نازنین۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے پاس آ کر سلگتا ہوا سگریٹ میرے ہاتھ میں پکڑایا اور خود میری سائیڈ پر الٹی لیٹ کر میرا ادھ کھڑا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔

    میں نے مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔اس وقت میں خود کو راجہ اِندر سمجھ رہا تھا۔۔۔آخر پہلی دفعہ پھدی ملی وہ بھی چھپڑ پھاڑ کر ملی۔۔۔زندگی میں صرف سوچا ہی تھا کہ کبھی پھدی ماروں گا۔۔۔پر ایسے حسین انداز میں یہ میں نے سوچا نہ تھا۔۔۔میں سگریٹ کے کش لگاتا رہا اور خانم میرا لن منہ میں لیے لالی پاپ کی طرح چوستی رہی ٹھیک چار منٹ بعد دروازہ کھلا اور نازنین اندر داخل ہوئی اور دروازہ کھول کر سائیڈ پر ہو گئی۔۔۔پیچھے ٹرالی دھکیلتی ہوئی ایک اور لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔میں پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب کہ خانم لن چسائی میں مگن رہی اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔۔۔

    ٹرالی دھکیل کر لانے والی لڑکی بھی مادر ذات ننگی تھی۔۔۔اس کے ممے بھی بہت خوبصورت اور گول شیپ میں تھے۔۔اس لڑکی نے ٹرالی لا کر بیڈ کی سائیڈ میں روکی اور خود مڑ کر ٹرالی کے نچلے خانے سے دو گلاس نکالے۔۔۔گلاسوں میں آئس کیوبز ڈالنے کے بعد بئیر کے دو کین کھول کر دونوں گلاس لبالب بھر دیے۔۔۔میں پیچھے سے اس کی گانڈ دیکھ رہا تھا۔۔۔گلاس بھرنے کے بعد اس نے خالی کین نچلے خانے میں رکھے اور وہیں سے ڈرائی فروٹ کی ایک پلیٹ اٹھا کر اوپر والے خانے میں رکھ دی اور ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔

    نازنین نے خانم کو مصروف دیکھا تو پاس آ کر مؤدبانہ انداز میں آہستہ سے بولی میڈم۔۔۔خانم نے اس کی آواز سنی تو میرا لن منہ میں لیے ہوئے گھوم کر اپنی پیٹھ نازنین کی طرف کر دی۔۔۔نازنین اس کا اشارہ سمجھ گئی اور وہیں پر پاس پڑی ہوئی ایک کرسی کھینچ لائی اور خانم کے پیچھے رکھ کر اس پر بیٹھتے ہوئے دوسری لڑکی کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ چپ چاپ باہر نکل گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد نازنین نے میری طرف دیکھا اور منت بھرے انداز میں اپنا انگوٹھا منہ میں لے کر چوسنے کا اشارہ کیا اور اپنا منہ جھکا کر خود خانم کی پھدی چاٹنے لگی۔۔۔
    پہلے تو میں سمجھ نہیں پایا کہ نازنین نے کیا اشارہ کیا ہے۔۔پھر اچانک جیسے میرا دماغ روشن ہوا اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔میں نے آہستگی سے خانم کے منہ پر ہاتھ رکھا تو خانم نے میرا لن منہ سے نکال کر مخمور نگاہوں سے میری طرف دیکھا تو میں بولا خانم نازنین آ گئی ہے اب اسے میرے پاس آنے دو نا۔۔۔خانم تھوڑا ہلی تو نازنین پیچھے سے اٹھ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔خانم نے اٹھ کر ایک گلاس بئیر کا اٹھایا اور مجھے پکڑا کر دوسرا گلاس خود پکڑ لیا اور سِپ لیتی ہوئی انٹرکام کا رسیور اٹھا کر بٹن دبا کر بولی۔راحت کو بھیجو۔انٹرکام کا رسیور واپس کریڈل پر رکھ کر خانم سامنے صوفے پر بیٹھ کر بئیر کے سِپ لینے لگی۔اور نازنین کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔نازنین آگے بڑھ کر بیڈ پر چڑھ آئی تو میں نے بئیر کا ایک گھونٹ بھر کا گلاس اسے تھما دیا۔۔۔اس نے گلاس پکڑ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور میری طرف دیکھنے لگی تو میں نے اشارے سے اسے پاس بلایا جیسے ہی وہ میرے قریب ہوئی میں نے اپنا دایاں ہاتھ اس کی گردن میں ڈالتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر چپکا دیے۔۔۔وہ بڑی شدت سے میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔بئیر کا گھونٹ بدستور میرے منہ میں موجود تھا جو کہ میں نے آہستہ آہستہ اس کو اپنے منہ سے ہی پلا دیا جسے وہ اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔

    کچھ دیر کسنگ کے بعد نازنین میری گردن چاٹنے لگی۔۔۔کبھی دائیں کبھی بائیں۔۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور وہی ٹرالی والی لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔راحت چند قدم بڑھ کر آگے ہوئی تو خانم نے اپنی ٹانگیں دائیں بائیں کھول دیں۔۔۔یہ دیکھ کر راحت گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی اور اپنا منہ نیچے جھکا کر خانم کی پھدی چاٹنے لگی۔۔۔خانم نے بئیر کا گلاس نیچے قالین پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے راحت کا سر پکڑ کر اپنی پھدی پر دبانے لگی۔۔۔

    میں تو جیسے مزے سے سرشار تھا۔۔۔تین ننگی لڑکیاں میرے سامنے موجود تھیں ایک مجھے مزہ دے رہی تھی اور دو آپس میں سیکس کر رہی تھیں مگر ان کا مزہ بھی مجھے ہی آ رہا تھا۔۔۔نازنین میرا بدن چاٹتی ہوئی نیچے جاتی گئی اور لن کے پاس پہنچ کر اس نے لن کو منہ میں لیا اور آہستہ سے اپنی گانڈ میری طرف گھما دی۔۔۔اب میں نے غور سے دیکھا تو واقعی خانم کی بات سچ تھی۔۔۔نازنین کے گانڈ میں ایک سیکس ٹوائے تھا۔۔۔نازنین جھک کر بہت پیار سے میرے لن پر اپنی زبان گھما رہی تھی۔پھر اس نے لن کی شافٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔اب میرا لن اس کے چوپوں اور تھوک کی وجہ سے چمک رہا تھا اور نازنین کی آنکھوں میں میرے لن کیلئے پیار بڑھتا ہی جا رہا تھا۔پھر اس نے میرے لن کی ٹوپی منہ میں لیکر چوسنا شروع کی۔وہ تھوڑی دیر تک بہت پیار سے ٹوپی کو چوستی رہی۔پھر لن کو منہ سے نکال کر میرے ٹٹے چاٹنے لگی ساتھ ساتھ وہ ہلکے ہاتھ سے میرا لن بھی سہلاتی جارہی تھی اور میں اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔نازنین کے چوپے اور چاٹے وہ مزہ دے رہے تھے کہ بیان سے باہر ہے۔۔میرا لن اب فل اکڑ چکا تھا۔۔۔میں نے آہستہ سے ناز کی گانڈ میں موجود ٹوائے کو پکڑا اور ہلانے لگا۔یہ محسوس کر کے نازنین نے اپنی گانڈ تھوڑی ڈھیلی کر دی۔۔۔میں نے تھوڑا سا زور لگا کر کھینچا تو ٹوائے باہر نکل آیا۔۔۔اس کی گانڈ کا سوراخ کافی کھلا تھا اور اندر کی لالی باہر تک جھلک رہی تھی۔۔۔

    میں نے اسے پیچھے ہٹایا اور تھوڑا ہٹ کر اپنے ساتھ ہی کھینچتے ہوئے بیڈ پر لٹا لیا۔۔۔وہ جیسے میرا لن لینے کیلئے تڑپ رہی تھی اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور میرے لن کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔۔میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر آہستہ سے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کے تھوک سے اپنا گیلا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن اندر چلا گیا۔۔۔میں دباؤ ڈالتا گیا چند سیکنڈ میں ہی پورا لن اندر تھا۔۔۔میں نے وہیں پر رہتے ہوئے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی پھدی اندر سے پوری طرح گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا لن با آسانی اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔میں نے گھسے مارتے ہوئے نیچے ہو کر اس کے مموں کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے خوشگوار حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔۔۔اس کے نپلز کا ذائقہ میٹھا میٹھا سا محسوس ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرت سے نازنین کو پوچھا کہ یہ میٹھا میٹھا کیوں ہے۔۔۔نازنین سے پہلے خانم کی آواز آئی شہزادے یہاں کی ہر لڑکی صاف ستھری اور آلائش سے پاک ملے گی اور یہ مختلف قسم کی جیلی اور خوشنما ذائقہ دار کریم سے اپنے مموں پر اچھی طرح مساج کرتی ہیں۔۔۔اور میں سر ہلاتے ہوئے واپس اپنا منہ جھکا کر نپل چوستے ہوئے گھسے مارنے لگا۔۔۔میں ہر جھٹکے پر لن باہر نکالتا اور پھر کافی طاقت سے گھسہ مارتا اور لن پچک کی آواز کے ساتھ پھدی میں غروب ہو جاتا۔۔۔اس طریقے سے گھسے مارنے سے نازنین کو بھی مزہ آنے لگا۔۔۔میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی اور تیز کر دی اور تیز تیز گھسے مارنے لگا۔۔۔

    نازنین کے حلق سے سسکیاں نکلنے لگیں۔۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔آہہہ۔مممم۔اوہ۔۔۔اب اسے بھی فل مزہ آ رہا تھا اسی لیے وہ بیڈ سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرے دھکوں کا جواب دینے لگی۔۔۔تھوڑی دیر ایسے ہی چودنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا اور بیڈ شیٹ سے صاف کیا کیوں کہ لن کافی گیلا ہو چکا تھا۔۔۔اب کب صاف کرنے کے بعد دوبارہ اندر ڈالا تو رگڑ کھا کر جا رہا تھا۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہ مزے کی آخری حد ہے اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔۔۔

    کچھ دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد میں نے لن باہر نکالا اور نازنین کو الٹا ہو کر گھوڑی بننے کو بولا تو وہ فوراً اٹھ کر گھوڑی بن گئی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چوتڑوں پر رکھ کر مخالف سمتوں میں کھینچتے ہوئے اپنی گانڈ کا سوراخ کھول کر دکھانے لگی۔۔۔ساتھ ہی نازنین نے اپنی گردن گھما کر مجھے دیکھا اور اپنے نچلے ہونٹ کا کنارہ اپنے دانتوں میں دبا کر ایک سیکسی سی سمائل دی۔۔۔


    کمرے میں خانم کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔۔۔ہاں راحت اور زور سے ہاں۔ہاں۔۔دانہ چوس۔۔کاٹ اسے اپنے ہونٹوں سے بھنبھوڑ ڈال۔۔۔آہ۔آہہہ۔آہہہ۔یس۔یس۔۔۔افففففف میری جان کمال کر رہی ہو۔۔۔اسی طرح آوازیں نکالتے ہوئے خانم نے میری طرف دیکھا اور مجھے نازنین کی گانڈ کا معائنہ کرتے دیکھ کر وہیں صوفے سے چلائی۔۔۔شہزادے ناز گانڈ مروائے بنا نہیں مانے گی۔۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔۔اور یقین مانو گانڈ کا سواد پھدی سے بھی ذیادہ ہو گا۔۔۔
    میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہوں کہا اور آگے ہو کر اپنا لن نازنین کی پھدی میں ڈالا اور ہلکی رفتار میں گھسے مارنے لگا ساتھ ہی میں نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو تھوک سے تر کیا اور اس کی گانڈ میں گھسا دیں۔۔۔گانڈ میں کچھ جاتا محسوس کر کے جیسے اس کچھ سکون ہوا۔۔۔اور وہ اپنے جسم کے پیچھے دبا دبا کر میرے لن کے ساتھ اپنی پھدی کی تال ملانے لگی۔۔۔جیسے ہی میں آگے کو جھٹکا مارتا۔وہ زور سے اپنی پھدی کو پیچھے کی طرف دباتی اور لن جڑ تک اس کی پھدی میں گھس جاتا۔۔۔میرا لن اب اس کے جی سپاٹ کے ساتھ رگڑ کھا رہا تھا جس سے وہ مزے کی انتہاؤں پہ پہنچ گئی۔۔۔میں نے بھی زور لگا کر دونوں انگلیاں پوری رفتار سے اس کی گانڈ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیں۔۔۔انگلیوں سے مجھے اپنا لن اس کی پھدی میں کے اندر بھی فیل ہو رہا تھا۔۔۔

    میں اس کی گانڈ میں انگلیاں اندر باہر کرتے ہوئے اسے چود رہا تھا کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم کانپنا شروع ہو گیا اور اس نے فل جان کے ساتھ پیچھے کو دھکا مارا تو میرا لن اس کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا اور وہ لرزتے ہوئے منی چھوڑنے لگی۔۔۔کچھ دیر بعد وہ وہیں پر سکون ہو کر الٹی لیٹ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک چھوٹنے کے قریب بھی نہیں پہنچا تھا۔۔۔کیونکہ پہلے ایک دفعہ چھوٹ چکا تھا اس لیے دوسری بار تھوڑا ٹائم لگ رہا تھا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکال کر صاف کیا اور دوبارہ اندر ڈالنے لگا تو نازنین ملتجی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی پلیز سر اس مرتبہ گانڈ میں ڈالیں اور میری پیاس بجھا دیں۔۔۔میں نے اس کو اٹھا کر واپس گھوڑی بنایا۔۔۔لن پر تھوڑا تھوک لگا کر لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کی اور ایک دھکا مارا تو پک کی آواز کے ساتھ لن کی ٹوپی اندر گھس گئی۔لن کو گانڈ میں محسوس کرتے ہی وہ تھوڑا آگے ہوئی میں سمجھا شاید درد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اس لیے میں وہیں رک گیا۔۔۔ ابھی رکا ہی تھا کہ نازنین نے تھوڑا آگے ہو کر پوری جان کے ساتھ پیچھے کو دھکا مارا اور اپنے چوتڑ میرے جسم کے ساتھ جوڑ دیے۔۔۔اور میرا پورا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں چلا گیا۔۔۔
    نازنین نے ایسے ٹھنڈی سانس لی کہ جیسے اسے ابدی سکون آ گیا ہو۔۔۔اور وہ منہ سے بولی سر ابھی ہلنا نہیں مجھے اس
    کو تھوڑی دیر محسوس کرنے دیں۔۔۔


    دوسری طرف راحت مسلسل خانم کی پھدی کو چاٹ رہی تھی۔۔۔خانم ایک کہنی نیچے صوفے پر ٹکائے دوسرے ہاتھ سے اس کے سر کو اپنی پھدی پر دباتے ہوئے کراہ رہی تھی۔۔۔راحت نے اپنی دو انگلیاں خانم کی پھدی میں گھسائی ہوئی تھیں اور ساتھ ساتھ اسی ہاتھ کے انگوٹھے کو خانم کی گانڈ کے سوراخ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔جبکہ خانم کا کلٹ اس کے منہ میں تھا جس کو وہ اپنی زبان سے چاٹ رہی تھی اور ہونٹوں سے چوس رہی تھی۔۔۔

    تھوڑی دیر تک تو خانم کی گانڈ کے سوراخ نے اس کا راستہ روکے رکھا۔پھر آہستہ آہستہ اس نے انگوٹھے کو جگہ دے ہی دی۔۔۔اور راحت کا انگوٹھا خانم کی پیاری سی گانڈ میں داخل ہو گیا۔۔۔اب راحت نے زور زور سے خانم کی پھدی میں انگلیاں اندر باہر کرتے اور انگوٹھا گانڈ میں دباتے ہوئے خانم کا دانہ چوسنا جاری رکھا۔۔۔خانم مزے سے پاگل ہو رہی تھی۔۔۔وہ اس سہ طرفہ مزے کو سہہ نہیں پائی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا لیکن راحت بنا رکے اپنے کام میں جتی رہی۔۔۔خانم نے اپنی پھدی کو زور سے راحت کے منہ پر دبایا تا کہ مزہ دگنا ہو سکے اور ایک دم چیخ مار کر چھوٹ گئی۔۔۔فارغ ہونے کے بعد خانم نے راحت کو اٹھا کر اپنے گلے سے لگایا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔

    ادھر نازنین نے اب ہلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔وہ میرا لن اپنی گانڈ میں لیے آہستہ سے آگے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔اس کی گانڈ بہت ہی زیادہ گرم تھی۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ اب میں زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔اب میں نے پورا لن باہر نکال کر جھٹکے سے اندر ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔میرے ہر جھٹکے پر نازنین کے منہ سے بے اختیار آواز نکلتی آہ۔۔۔۔اففففففففف۔۔ظالم مممم۔۔۔۔زور سے اور زور سے۔۔۔خانم اٹھی اور آ کر بیڈ پر نازنین کے سامنے سیدھی اس انداز میں لیٹ گئی کہ نازنین کے ممے خانم کے منہ پر جھول رہے تھے۔۔۔خانم نے اپنا منہ کھولا اور نازنین کے مموں کے نپلز کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔جبکہ اپنا ہاتھ نازنین کے پیچھے لے جا کر دو انگلیاں نیچے سے اس کی پھدی میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگی۔۔۔


    نازنین فل مزے میں تھی گانڈ میں لن۔۔۔پھدی میں انگلیاں۔اور ممے میڈم کے منہ میں۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے کے آس پاس ہی ہوں۔اس لیے میرے گھسوں میں شدت آتی گئی۔۔۔اور نازنین اونچی آواز میں کراہنے لگی۔۔۔میں نے کہا کہ اب میں چھوٹنے والا ہوں اور فل رفتار سے گھسے مارنے لگا۔۔۔یہ سن کر خانم نے بھی اپنی انگلیوں کی رفتار بڑھا دی اور ساتھ ہی انگوٹھے سے نازنین کے کلٹ کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں نے تین چار گھسوں کے بعد اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور بدن کی پوری طاقت سے جھٹکا مارتے ہوئے لن کو گانڈ میں جڑ تک اتار کر رک گیا۔۔۔میرے لن سے منی ایک فوارے کی صورت میں نکلی اور نازنین کی گانڈ کو بھرنے لگی۔۔۔گرم گرم منی کی پچکاریاں گانڈ میں محسوس کرتے ہی نازنین کا جسم ایک دفعہ پھر تڑپا اور وہ بھی لرزتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔


    ہم دونوں کے چھوٹنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکالا اور وہیں لیٹ گیا۔۔۔تو نازنین اٹھی اور میرے منی سے لتھڑے لن کو منہ میں لے کر اچھی طرح چوس چوس کر صاف کر دیا۔۔۔اور میری گال پر کس کر کے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔شکریہ سر۔۔۔یہ کہہ کر وہ اٹھی اور اپنے شوز پہن کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔اب خانم میرے پاس لیٹی ہوئی تھی جبکہ راحت ٹرالی میں سامان ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔خانم نے پوچھا کیوں شہزادے مزہ آیا گانڈ مار کے۔۔۔تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا بہت ذیادہ خانم۔۔۔یہ تو پھدی سے بھی ذیادہ مزہ دیتی ہے۔۔۔میری بات سن کر خانم مسکرا دی۔۔۔

    اچانک مجھے کچھ یاد آیا اور میں نے خانم کو مخاطب کیا۔۔۔خانم آپ تو کہتی تھیں کہ آپ کو کنواراپن پسند ہے لیکن یہ لڑکی۔۔۔۔اتنا کہہ کر میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے چپ کر گیا۔۔۔خانم نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور آواز دی راحت۔۔۔وہ لڑکی فوراً ٹرالی چھوڑ کر پاس آئی اور بولی جی میڈم۔۔۔تو خانم نے کہا یہاں لیٹ جاؤ اور بیڈ کی طرف اشارہ کیا تو راحت فوراً بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔اپنی ٹانگیں کھول دو۔۔۔خانم کے کہنے پر اس نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر کھول دیں۔۔۔خانم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا اور بولی اب یہاں دیکھو۔۔۔میں نے آگے ہو کر دیکھا تو راحت نے اپنی پھدی کے لبوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے دبا کر کھولا ہوا تھا۔۔۔اندر دو انچ کے فاصلے پر ایک باریک سا پردہ صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔خانم بولی شہزادے اس کو کنوارے پن کا پردہ کہتے ہیں۔۔۔یہ لڑکی ابھی تک سیل پیک ہے اور یہاں صرف میری خدمت پر معمور ہے۔۔۔میں جوش و جذبات میں بھی اپنے ہوش نہیں کھوتی۔۔۔میری پسند ہر لحاظ سے اول ہے۔۔۔اور میں حیرانگی سے خانم کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

    خانم نے راحت کو جانے کا اشارہ کیا اور راحت اٹھ کر ٹرالی دھکیلتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد خانم نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور خود دوسرے کے کش لیتی ہوئی میرے پہلو میں بیٹھ گئی۔۔۔چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے آخر میں نے پوچھا خانم ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔تو خانم مسکرا کر بولی میری زندگی میں بہت کم ایسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے مجھے ایسے اٹریکٹ کیا ہو جیسے تم دل میں کھب سے گئے ہو۔۔۔جب بھی یہاں آنا ہو میرے دروازے ہر وقت تمہارے لیے کھلے ہیں۔۔۔میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔دوستو سچی بات بتاؤں تو پانی نکل جانے کے بعد مجھے اب یہاں سے نکلنے کی جلدی تھی۔گھر پہنچنا تھا اور شادی کی باقی تیاری بھی کرنی تھی۔۔۔

    خانم نے مجھے اٹھتے دیکھا تو بولی اب لازمی تمہیں جانا ہو گا۔۔۔تو میں مسکراتے ہوئے بولا خانم جاؤں گا تو دوبارہ آؤں گا نا۔۔۔خانم اٹھ کر کھڑی ہوئی مجھے سینے سے لگایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولی۔۔۔بلکل جب تمہارا دل چاہے آ جانا اور کسی بھی فارمیلٹی کی ضرورت نہیں ہے بس آنے سے پہلے کال کر دینا۔۔۔رکو میں اپنا فون نمبر تمہیں دیتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے سائیڈ الماری سے ایک خوبصورت سا کاپی پیڈ نکالا اور اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھے دے دیا۔۔۔میں وہاں سے نکلنے لگا تو خانم مجھے تاکید کرتے ہوئے بولی باقی جو مرضی آفتاب کو بتانا لیکن میرا قصہ گول کر جانا۔۔۔مجھے پتہ ہے تم لڑکوں کا حرامی پن۔۔۔لڑکی چودنے کے بعد بڑے مزے لے لے کر ایک دوسرے کو قصے سناتے ہو۔۔۔میں دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہاں سے باہر نکلا اور سیدھا سیڑھیاں اتر کر نیچے گیسٹ روم میں پہنچ گیا۔۔۔آفتاب وہیں موجود تھا مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔ہاں جانی کجھ تسلی ہوئی کہ نہیں۔۔۔اور میں جھینپتے ہوئے بولا چل بھائی اب اٹھ جا بہت دیر ہو چکی ہے اب نکل چل۔اور میری بات سن کر آفتاب مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔چند منٹ بعد ہم واپس گھر کے طرف رواں دواں تھے۔۔۔راستے میں آفتاب کے استفسار پر میں نے اسے صرف نازنین کے ساتھ ہوئے سیکس کی کہانی سنا دی اور خانم کو سرے سے ہی گول کر گیا۔۔۔اگلے چند منٹ بعد ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر جا کر ٹائم دیکھا تو شام کے چھ بج رہے تھے۔میں سیدھا واش روم میں گھس گیا اور نہا دھو کر فریش ہو گیا۔۔۔


    اسی طرح میرے بعد آفتاب بھی نہا کر فریش ہو گیا اور ہم لوگ گھر والوں کے ساتھ مل کر مہندی کے فنکشن کی تیاری کرنے لگے۔۔۔اسے طرح آگے پیچھے ہوتے ہوئے دو گھنٹے اور گزر گئے اور مہمانوں کیلئے رات کا کھانا کھلانے کے انتظامات شروع ہو گئے۔۔۔ٹھیک نو بجے رات کا کھانا شروع کیا اور تمام مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہوئے دس بج گئے۔۔۔چونکہ میں گھر کا ہی آدمی تھا تو تمام انتظامی امور میں آفتاب کے ساتھ پیش پیش تھا۔۔۔مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد ہم نے خود بھی کھانا کھایا۔۔۔ٹھیک گیارہ بجے مہندی کا فنکشن شروع ہو گیا۔۔۔جب سب کاموں سے فارغ ہو گئے تو میری بے چین نگاہیں مومو کو تلاشنے لگیں۔۔۔پر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔۔۔مہندی کے فنکشن کا انتظام ساتھ ہی قریبی پارک میں کیا گیا تھا۔۔۔ابھی فنکشن شروع ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مومو کی آمد ہوئی۔وہ اپنی والدہ اور والد کے ساتھ آئی تھی۔۔۔اس کے والد کافی متناسب جسم کے مالک تھے جبکہ والدہ کافی صحت مند اور فربہ مائل جسامت کی حامل تھیں۔۔۔یہاں مجھے پتہ چلا کہ میرے والدین اور مومو کے والدین آپس میں شناسائی رکھتے ہیں۔۔۔مجھے یہ بات جان کر بھی انتہائی مسرت ہوئی۔۔۔بہرحال مہندی کی رسم بخیرو عافیت اپنے انجام کو پہنچی اور فنکشن ختم ہونے کے بعد سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف چل دیے۔۔۔

    ساری رات میں مومو سے صرف دو منٹ ہی بات کر پایا۔۔۔اور ان دو منٹوں میں یہ بات پتہ چلی۔۔۔بارات چونکہ پنڈی سے لاہور روانہ ہونی تھی تو مومو نے بتایا کہ وہ بھی ساتھ جا رہی ہے۔۔۔میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔اگلا سارا دن ریسٹ کا تھا۔۔۔آفتاب اور میں اس کے روم میں ہی سو گئے۔۔۔میں تو صبح دس بجے اٹھ گیا لیکن آفتاب چونکہ میرے سونے کے بعد بھی کافی دیر جاگتا رہا تو وہ ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں منہ اٹھائے ادھر ادھر گھومتا رہا۔۔۔اچانک دل میں آئی کیوں نہ خانم کو کال کی جائے تو میں باہر پی سی او ڈھونڈے نکل کھڑا ہوا۔۔۔

    (ان دنوں میرے موبائل کافی مہنگے ہوتے تھے تو میرے پاس موبائل نہیں تھا)

    قریبی بازار میں ایک شاپ پر موجود پی سی او سے میں نے خانم کا دیا ہوا نمبر ملایا تو آگے سے نازنین نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔میرے بارے میں جان کر وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ہیلو سر یقین کریں میں ابھی آپ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔کیسے مزاج ہیں۔۔۔میں نے حال احوال بتانے کے بعد خانم کا پوچھا تو وہ کہنے لگی ابھی لیجیے۔صرف ایک منٹ انتظار کریں خانم سے بات کرواتی ہوں۔۔۔خانم سے بات ہوئی تو میں نے بتایا کہ ملنے کو دل کر رہا ہے تو خانم بولی شہزادے میں نے کل ہی کہا تھا کہ میرے دروازے ہر وقت تمہارے لیے کھلے ہیں۔۔۔میں موجود ہوں یا نہیں تم کبھی بھی آ سکتے ہو۔لڑکیاں ہمیشہ تمہیں ویلکم کہیں گی۔۔۔اور ہر قسم کا خوف دل سے نکال کر آیا کرو یہ بہت اونچی گیم ہے یہاں کوئی بھی تمہارا بال بانکا نہیں کر پائے گا۔۔۔میں نے ہچکچاتے ہوئے خانم سے پوچھا وہ خانم میں پہلے کبھی بھی ایسی جگہ پر نہیں گیا۔۔۔آج بھی آفتاب کو بتائے بنا آؤں گا تو مجھے ان جگہوں کے آداب وشرائط بلکل بھی معلوم نہیں۔۔۔خانم میری بات سمجھ گئی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں تو وہ ہنستے ہوئے بولی شہزادے تم دل کو اتنا پسند آئے ہو کہ تمہارے لیے کوئی فیس نہیں اور ویسے بھی مہمان ہو اور دل کے قریب ہو تو بس آ جایا کرو پیسوں کی فکر مت کرو۔۔۔جو جی میں آئے لڑکیوں کو دے دیا کرو اگر نہیں بھی دو گے تو چلے گا۔۔۔
    میں خوشی سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر میں نے خانم سے پوچھا کہ خانم مجھے آپ کا ایڈریس نہیں معلوم تو خانم نے مجھے اپنا ایڈریس لکھوا دیا اور میں اختتامی جملے کہہ کر کال بند کر کے باہر نکل آیا۔۔۔باہر آ کر میں نے ایک ٹیکسی کو روکا اور اسے ایڈریس بتایا تو ٹیکسی چل پڑی اور میں سگریٹ سلگا کر آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔


    صبح کے ٹائم سڑکوں پر اتنا رش نہیں تھا تو بیس منٹ بعد میں خانم کی کوٹھی میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔ٹیکسی والے کو میں اسی گلی کے کارنر پر فارغ کر چکا تھا تو پیدل ہی کوٹھی کے اندر چلا آیا۔۔۔گیٹ کیپر نے مجھے دیکھ کر گیٹ کھولا اور میں اندر چلا گیا۔۔۔نازنین نے ہی مجھے ویلکم کیا۔۔۔ایک ٹھنڈی بئیر کے ساتھ میری تواضع کرنے کے بعد نازنین مجھے سیدھا اوپر ایک کمرے میں لے گئی۔۔۔یہ کل والا کمرہ نہیں تھا بلکہ یہ اس سے بھی خوبصورت اور سجا سجایا روم تھا۔۔۔میں پرشوق نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔چاروں طرف دیواروں پر عریاں تصاویر چسپاں تھیں۔۔۔کہیں کوئی نوعمر ننگی لڑکی کا پورٹریٹ تھا تو کہیں نو عمر لڑکوں کے پورٹریٹ آویزاں تھے۔۔۔


    نازنین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے سیدھا لےجا کر بیڈ پر بٹھا دیا۔۔۔اپنے ہاتھوں سے میرے جوتے اتارے اور اٹھ کر میرے گلے لگتے ہوئے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر ایک لمبی کس کی۔۔۔اسی وقت اٹیچ واش روم روم میں سے کھٹکے کی آواز سنائی دی تو نازنین ہڑبڑا کر مجھ سے الگ ہوئی اور ملتجیانہ انداز میں سرگوشی کی میڈم اندر واش روم میں ہیں۔۔۔آپ پلیز میری اس حرکت کے بارے میں ان سے بات مت کرنا اور یہ کہہ کر پیچھے ہٹ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔دو منٹ بعد واش روم کا دروازہ کھلا اور خانم تولیے میں لپٹی ہوئے گیلے بدن کے ساتھ برآمد ہوئی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی خانم نے نازنین کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور تیر کی طرح میری طرف آئی اور مجھے لیتے ہوئے بیڈ پر گر گئی۔۔۔خانم کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پیوست ہو گئے اور وہ وارفتگی سے میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔نازنین کمرے سے جا چکی تھی۔۔۔کچھ دیر یونہی کسنگ کرنے کے بعد خانم مجھ سے علیحدہ ہو گئی۔۔۔کسنگ کے دوران ہی خانم کا تولیہ کھل چکا تھا لیکن خانم اس کی پرواہ کیے بنا ننگی اٹھی اور جا کر ڈریسنگ ٹیبل کا دراز کھول کر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔۔وہاں سے خانم نے ایک پیکٹ نکالا اور لا کر اسے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔میں نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خانم کو پیچھے سے جھکڑا اور کھینچ کے بیڈ پر لے آیا۔۔۔بیڈ پر لٹا کر میں نے خانم کے مموں پر حملہ کیا اور اس کے نپلز کو باری باری منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ میں اس کی نرم سیکسی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔کچھ دیر اس کے ممے چوسنے کے بعد میں اوپر ہوا اور اس کے اوپر لیٹ کر اسے کسنگ کرنا شروع کر دی۔۔۔اب ہونٹوں کے علاوہ میں اس کے گالوں پہ۔آنکھوں پہ۔اور گردن پہ پاگلوں کی طرح اپنی زبان پھیر رہا تھا۔۔۔اور وہ بھی مزے کی شدت سے مدہوش ہو رہی تھی۔۔۔اسی دوران خانم نے مجھے دھکیلتے ہوئے پیچھے ہٹایا اور سائیڈ پر دھکا دے کر بیڈ پر گراتے ہوئے خود میرے اوپر آ گئی۔۔۔بلکل میری ہی طرح پاگلوں کے سے انداز میں خانم نے میرے ہونٹوں۔۔۔گالوں۔۔۔کانوں کی لو۔۔۔گردن پہ چوما اور چاٹا۔۔۔اس کے بعد خانم نے مجھے سیدھا لیٹنے کو کہا۔میرے سیدھے لیٹنے پر خانم نے میری پینٹ کی زپ کو کھولا اور دونوں سائیڈوں سے تھام کر نیچے کھینچنا شروع کیا۔۔۔میں نے نیچے سے انڈر وئیر نہیں پہنا ہوا تھا۔۔۔


    جیسے ہی اس نے میری پینٹ نیچے کی۔میرا لن کسی سانپ 🐍 کی طرح پھنکارتا ہوا باہر نکل آیا۔۔۔خانم میرے لن کو ایسے پیار سے دیکھ رہی تھی کہ جیسے کھا ہی جائے گی۔۔۔جب وہ کافی دیر تک ایسے ہی دیکھتی رہی تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو خانم۔۔۔وہ پہلے تو مسکرائی اور پھر کہنے لگی کہ کتنا پیارا لن ہے تمہارا۔دیکھ دیکھ کر جی نہیں بھر رہا۔۔۔دیکھو کیسے سیدھا کھڑا ہے۔اوپر سے اس کی اتنی پیاری ٹوپی۔دل کرتا ہے کہ منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوستی جاؤں۔۔۔میں نے کہا جانم چوسو نا۔منع کس نے کیا ہے۔۔۔
    یہ سن کر اس نے اپنا منہ کھولا اور بڑے پیار سے میرے لن کی شافٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی۔پھر اس نے پوری ٹوپی پر اپنی زبان گول گول گھمائی۔۔۔اب میرا لن خانم کے چاٹوں کیوجہ سے چمک رہا تھا۔۔۔جسے دیکھ کر خانم کی آنکھوں میں نشہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔اس طرح وہ پورے لن پر زبان پھیرتی ہوئی نیچے تک گئی اور میرے ٹٹے چاٹنے شروع کر دیے ساتھ ساتھ اس نے ہلکے ہاتھ سے میری مٹھ مارنی شروع کر دی۔۔۔اب میرا لن فل جوش میں آکر کر جھٹکے مار رہا تھا۔خانم نے ایک دم میرا لن منہ میں لے لیا اور ٹوپی چوستے ہوئے باقی لن کو ہاتھ سے سہلاتی رہی۔۔۔ایک منٹ تک چوسنے کے بعد خانم اٹھ کر بیٹھ گئی اور سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے پیکٹ کو کھولنے لگی۔۔۔اتنی دیر تک میں نے فٹا فٹ اپنے سارے کپڑے اتار دیے اور چِت لیٹ گیا۔۔۔خانم میری طرف واپس مڑی تو اس کے ہاتھوں میں ہینڈ کف کا ایک جوڑا لٹک رہا تھا۔۔۔میں نے حیرانی سے پوچھا کہ خانم یہ کیا ہے تو وہ بولی کہ اس ہتھکڑی سے میں تمہارے ہاتھ دونوں سائیڈوں پر بیڈ کے ساتھ کلپ کر دوں گی۔۔۔آج تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہے میں کروں گی۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے میرے دونوں ہاتھوں پر ہتھکڑیاں باندھیں اور دونوں ہاتھوں کو میرے سر کی طرف بیڈ کے کراؤن کے ساتھ مخالف سمتوں میں کھول کر بیڈ کنارے لگے ہوئے کنڈوں کے ساتھ کلپ کر دیا۔۔۔میرے بازو دونوں سائیڈوں پر بندھے ہوئے تھے پر اتنی لچک ضرور تھی کہ بازوؤں میں درد بلکل نہیں تھا۔۔۔مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی۔۔۔لیکن پھر جیسے ہی خانم نے بھوکی بلی کی طرح میرے لن کو منہ میں لیا میں تشویش بھول کر مزے کی انتہاؤں کو چھونے لگا۔۔۔
    دو منٹ تک میرا لن چوسنے کے بعد خانم اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑی اور دروازے کے پاس پہنچ کر بولی میں ابھی آئی۔۔۔تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔میں سمجھا کہ وہ باہر سے شاید نازنین یا پھر کسی اور نئی لڑکی کو بلانے گئی ہے۔۔۔آخر مجھ پر اتنی مہربان جو ہے۔۔۔آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ کر بنا ہاتھ لگائے ہی میرا لن جھٹکے کھانے لگا۔۔۔کوئی چار پانچ منٹ بعد دروازہ کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔۔۔اس کی باچھیں کھلی پڑ رہی تھیں۔۔۔میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔یہ رہا تمہارا سرپرائز۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے دروازہ پورا کھول دیا۔۔۔۔

    دروازے پر کسی کو کھڑے دیکھ کر میری آنکھیں اتنی شدت سے پھٹیں کہ مجھے لگا اپنے حلقوں سے باہر آ جائیں گی۔۔۔

    کیونکہ۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔

    دروازے پر پنجاب کی ایک طاقتور سیاسی جماعت کا مشہور ممبر ننگا کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس کا قریباً ساڑھے چھ انچ لمبا اور اور موٹا تازہ لن کھڑا ہوا میں جھول رہا تھا۔۔۔میں نے ایک جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی۔اور میرے بازوؤں کو ایسا جھٹکا لگا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے بازو کندھوں سے اکھڑ جائیں گے۔۔۔میں کراہ کر رہ گیا۔۔۔میں نے ہکلاتے ہوئے خانم سے کہا۔۔۔
    یہ۔
    یہ۔
    یہ کیا ہے خانم۔
    یہ ایسے ننگے اندر کیوں آ رہے ہیں۔۔۔


    خانم بولی۔شہزادے میری بات سنو۔۔۔یہ میرے بہت بڑے کرم فرما ہیں اور یہ کوٹھی خانہ بھی ان کے مرہونِ منت چل رہا ہے۔۔۔میرے اور ان کے درمیان ایک مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔۔۔میں کنواروں سے چدنے کی شوقین ہوں تو یہ کنواروں کی گانڈ کو چودنے کے شوقین ہیں۔۔۔اب اگر آرام سکون سے مان جاؤ گے تو زیادہ درد برداشت نہیں کرنا پڑے گا لیکن اگر زیادہ اچھل کود کی تو تمہیں بہت ذیادہ درد ہو گا لیکن تیری گانڈ ہر صورت بجے گی۔۔۔
    خانم کی بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔لیکن خانم۔۔ابھی بات میرے منہ میں ہی تھی کہ ایک زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر پڑا۔۔۔تھپڑ آنے والے نے مارا تھا۔۔۔میں یہاں اس شخصیت کے اصل نام کی بجائے حارث کے نام سے پکاروں گا۔۔۔

    حارث نے میرے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور ساتھ ہی غرا کر بولا میری بات کان کھول کر سن لونڈے۔چپ چاپ پڑے رہو اب اگر زیادہ ہیچر میچر کی تو گانڈ میں گن ڈال کر پوری گن خالی کر دوں گا۔۔۔اور میں بے بسی کی شدت سے رونے لگا۔۔۔ابے چپ۔۔۔حارث کی دھاڑ سنائی دی تو میں سہم کر چپ کر گیا۔۔۔یہ دیکھ کر خانم بولی سر آپ مجھے دو منٹ دیں میں ابھی اس کو تیار کرتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم میری طرف متوجہ ہو کر بولی۔۔۔سمیر کیوں اپنی جان پر ظلم کرتے ہو۔۔۔تھوڑا کو آپریٹ کرو۔تھوڑا برداشت کرو۔دس منٹ کی بات ہے اور پھر میں ہوں نا یہاں تمہیں مزے دینے کیلئے۔۔۔چلو شاباش اب اپنا موڈ ٹھیک کرو۔۔۔میں چپ کر گیا۔مگر دل میں اسے گالیاں دے رہا تھا کہ گشتی ماں کی بچی توں تو گانڈ مروانے کی عادی ہے تیرا کیا جائے گا پر مجھے اپنی گانڈ پھٹتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے۔۔۔ساتھ ہی میں اس وقت کو کوسنے لگا جب میں آفتاب کو بتائے بغیر یہاں آیا تھا۔۔۔
    حارث نے آگے ہو کر اپنا لن خانم کی طرف کیا تو خانم فٹا فٹ اس کے قدموں میں بیٹھ کر اس کا لن چوسنے لگی۔۔۔چند منٹ تک اس کا لن چوسنے کے بعد خانم نے الماری سے آئل کی ایک شیشی اٹھا کر اسے دی اور خود میرے سینے پر چڑھ کر اس انداز میں بیٹھ گئی کہ خانم کا رخ میرے پاؤں کی طرف تھا اور میری دونوں ٹانگیں خانم نے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیکر تھوڑا کھول دیں۔۔۔حارث نے اپنی ایک انگلی تیل میں اچھی طرح بھگو کر میری گانڈ کے سوراخ میں داخل کی اور اس کو اندر باہر کرتے ہوئے وہیں گھمانے لگا۔۔۔فلحال تو مجھے کسی قسم کا کوئی درد نہیں ہو رہا تھا۔لیکن آنے والے لمحات میرے لیے بہت دردناک ثابت ہونے والے تھے پر کیا کر سکتا تھا۔اب جو بھی تھا جھیلنا پڑے گا۔۔۔حارث نے اب میری گانڈ میں دو انگلیاں ڈال دیں تھیں اور انہیں گول گول گھما رہا تھا۔۔۔مجھے ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ میری گانڈ کا سوراخ چوڑا کر رہا ہے۔۔۔پھر اس نے کافی سارا تیل میری گانڈ پر گرا دیا اور تھوڑا سا تیل انگلی کی مدد سے میری گانڈ میں بھی ڈال دیا۔۔۔باقی ہاتھ پر لگا ہوا تیل اس نے اپنے لن پر مل لیا۔۔۔
    پھر اس نے خانم کو کہا اس کی ٹانگیں اوپر اٹھاؤ تو خانم نے جان لگا کر میری دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا دیں۔۔۔میرا جسم ڈر اور درد کی شدت سے کانپنے لگا پر حارث نے بنا رکے اور کچھ کہے اپنے لن کا ٹوپہ میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباؤ ڈالا تو پچک کہ آواز کے ساتھ ہی ٹوپہ میری گانڈ میں گھس گیا۔۔۔میرے منہ سے درد کے مارے ایک دھاڑ نما چیخ نکلی اور کمرے میں گونج گئی۔۔۔میری چیخ سن کر حارث اونچی آواز میں ہنستے ہوئے بولا ہاں ہاں لونڈے چیخو اور زور سے چیخو۔۔جتنا چیخو گے مجھے اتنا مزہ آئے گا۔۔۔


    درد ناقابلِ برداشت تھا۔۔۔میں نے اپنی ٹانگیں چھڑانے کی بہت کوشش کی پر میری ہر کوشش رائیگاں گئی۔۔۔خانم نے مجھے زور سے پکڑا ہوا تھا اور بول رہی تھی۔بس۔بس۔صبر۔صبر۔ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔میں درد سے مرا جا رہا تھا۔۔۔لگ رہا تھا کہ جیسے گانڈ پھٹ گئی ہے۔۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور میں سوچنے لگا کہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔۔۔پھر حارث نے تھوڑا سا لن اور اندر گھسایا۔میری اور چیخیں نکلنے لگیں اور میں بے اختیار کہہ اٹھا بس پلیز اور اندر مت کرو۔۔۔یہیں کر لو جو کرنا ہے۔۔۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ کسی نے موٹا تازہ ڈنڈا میری گانڈ میں دے دیا ہو۔۔۔پتہ نہیں یہ گشتیاں کیسے اتنے موٹے موٹے لن اپنی گانڈ میں آسانی سے لے لیتی ہیں۔میری تو گانڈ پھٹ رہی ہے۔میں چیختا چلاتا رہا پر میری وہاں کون سنتا۔۔۔دو منٹ میں ہی سارا لن اندر جا چکا تھا۔۔۔میں پسینے سے شرابور ہو گیا۔۔۔درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔خانم نے اپنی گانڈ پیچھے کی اور پھدی عین میرے منہ پر لا کے نیچے جھکتے ہوئے میرے لن کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔لن کہاں اب تو مادر چود للی تھی۔۔۔حارث نے دو منٹ تک انتظار کیا اتنی دیر میں خانم کے چوپوں نے میرے درد کی شدت میں تھوڑی کمی کر دی۔۔۔۔
    حارث نے کہا دوست تمہاری گانڈ تو بہت ٹائٹ ہے۔۔۔تمہارا کنوارا پن ختم کرنے کا مزہ آ گیا۔۔۔اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔بس تھوڑا اور برداشت کرو آج سے میری تمہاری دوستی پکی۔۔۔اور یقین کرو میرے دوست بہت کم ہیں۔۔۔چلو شاباش اب تھوڑا ہمت کرو بس چند منٹ کی بات ہے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پھر ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔۔۔مجھے لگا کہ جیسے در و دیوار ہل جائیں گے۔۔۔میں اتنی شدت سے گلا پھاڑ کر چیخا تھا کہ خانم بھی گھبراتے ہوئے میرا لن چھوڑ کر ایک دم سائیڈ پر ہو گئی۔۔۔پر حارث نہ رکا۔اب میری ٹانگیں اس نے خود سنبھال لی تھیں۔۔۔وہ مسلسل میری گانڈ میں اپنا لن اندر باہر کرتا رہا۔۔۔کچھ پانچ منٹ بعد میری تکلیف میں کمی آنی شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ تکلیف کم ہوتی گئی۔۔۔اب حارث کا لن میری گانڈ میں اپنی پوری ایڈجسٹمنٹ کر چکا تھا۔۔۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میری گانڈ سن ہو گئی ہے۔۔۔اندازاً دس منٹ اور میری گانڈ کا چربہ بنانے کے بعد اس کی سپیڈ ایک دم تیز ہو گئی اور وہ آہ۔آہہہ۔آہہہ کرتے ہوئے میری گانڈ میں ہی فارغ ہو گیا۔۔۔اس کا گرم گرم منی مجھے اپنی گانڈ میں گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔چھوٹنے کے بعد اس نے میری ٹانگیں چھوڑ دیں اور خود ایک سائیڈ پر ننگا ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔میری جیسے جان میں جان آئی۔لیکن گانڈ میں جلن ابھی بھی بہت ہو رہی تھی۔۔۔حارث نے صوفے کی سائیڈ پر موجود انٹرکام کا رسیور اٹھایا اور ایک لمحے بعد صرف ایک لفظ بولا نازنین۔۔۔اور رسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا۔۔۔

    دو منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور نازنین ایک ٹرالی دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔اس نے ٹرالی حارث کے پاس لا کر روکی اور اس میں سے ایک چھوٹا سا گیلا تولیہ نکال کر اچھی طرح حارث کا لن صاف کیا۔۔۔میں خاموشی سے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔حارث سے فارغ ہو کر نازنین میری طرف آئی اور گیلے تولیے سے اچھی طرح میری گانڈ صاف کی۔۔۔پھر میری ہتھکڑیاں کھول کر مجھے سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھا تو گانڈ میں ایک دفعہ پھر ٹھیسیں اٹھنے لگیں اور میرے منہ سے کراہ نکل گئی تو نازنین بولی سر آپ جلدی سے واش روم میں آئیں گرم پانی موجود ہے اس سے اچھی طرح صفائی اور ٹکور کر لیں۔۔۔پھر میں سپرے کر دیتی ہوں دو منٹ میں درد کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔۔۔میں آہستہ سے چلتا ہوا واش روم میں گیا۔۔۔اتنی دیر تک نازنین ایک ٹب کو نیم گرم پانی سے بھر چکی تھی۔۔۔


    مجھے ٹب میں بٹھایا۔۔۔گرم پانی کی وجہ سے درد میں نمایاں کمی ہوئی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ یہ ساری ماں چدائی باقاعدہ پلاننگ کے تحت ہوئی ہے تبھی تو یہ سب انتظامات موجود ہیں۔۔۔میں پانچ منٹ پانی میں بیٹھنے کے بعد اٹھا تو نازنین نے فٹا فٹ تولیہ پکڑ کر میری گانڈ کو صاف کیا۔۔۔اور میرے پاس ہو کر سرگوشی میں بولی۔۔۔سر اگر حارث صاحب کچھ آفر دیں تو انکار کرنے کی بجائے اپنا دماغ استعمال کرنا۔۔۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی اور میں سوچتا ہوا چھوٹے قدموں کے ساتھ باہر نکل آیا۔۔۔

    باہر نکلا تو دیکھا کہ خانم صوفے پر موجود حارث کے قدموں میں بیٹھی ہوئی اس کے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔میں آہستہ سے چلتا ہوا واپس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔بیٹھتے وقت ابھی بھی درد ہو رہی تھی۔۔۔نازنین ایک سپرے کی بوتل لے کر میرے پاس آئی اور مجھے بولی آپ الٹا لیٹ جائیں میں سپرے کر دیتی ہوں درد فورا ختم ہو جائے گا۔۔۔میں الٹا لیٹا تو نازنین نے میری گانڈ کے سوراخ کے آس پاس چوتڑوں پر اسپرے کیا تو واقعی مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میرے زخموں پر کسی نے برف رکھ دی ہو۔۔۔عجیب سے ٹھنڈک کا احساس تھا۔۔۔ہھر چند لمحوں بعد درد جاتی رہی۔۔۔اور میں اٹھ کر سیدھا بیٹھ گیا۔۔۔اب خانم حارث کا لن چوس رہی تھی جبکہ نازنین اس کے ٹٹے چاٹ رہی تھی۔۔۔

    مجھے پر سکون دیکھ کر حارث بولا دیکھو سمیر جو ہونا تھا اب ہو چکا۔۔۔تمہارے پاس دو راستے ہیں۔۔۔یا تو باہر جا کر شور مچاؤ پریس،،پولیس،،عدالت وغیرہ اور انہی کوششوں کے درمیان میں ہی کسی سڑک پر ایک ان دیکھی گولی کا شکار ہو کر کسی خارش زدہ کتے کی طرح مارے جاؤ۔۔۔دوسرا راستہ یہ کہ میرے دوست بن جاؤ اور دنیا تمہاری مٹھی تلے۔۔۔جب بھی پنڈی آؤ ہر قسم کا وی آئی پی پروٹوکول اور اعلیٰ درجے کی لڑکیاں تمہاری دسترس میں۔۔۔آج سے پہلے بھی کئی لڑکوں کو یہ آفر کی گئی لیکن سب نے پہلا آپشن چنا اور ان کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔۔۔اچھی طرح سوچ لو۔۔۔میرے دماغ میں نازنین کی کہی ہوئی بات گونجنے لگی۔۔۔دماغ استعمال کرنا،دماغ استعمال کرنا۔۔۔

    میں نے دل میں ایک فیصلہ کیا اور اٹھ کر جارحانہ انداز میں ان کی طرف قدم اٹھائے
    اور۔۔۔
    اور۔۔۔
    اور۔۔۔




    بقیہ اگلی قسط میں۔۔۔۔🤭🤭🤭

    قسط نمبر 2

    میرے دماغ میں بار بار نازنین کی کہی ہوئی بات گونج رہی تھی۔۔۔دماغ استعمال کرنا،دماغ استعمال کرنا۔۔۔

    میں نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کیا اور اٹھ کر ان کی طرف قدم اٹھانے لگا۔۔۔حارث بغور میری طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔چند قدم اٹھانے کے بعد میں جا کر اس کے پاس خانم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔۔۔اور حارث کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ آپ نے کہا تھا کہ مجھے جو چاہیے ہوا میں مانگ لوں۔اور آپ انکار نہیں کریں گے۔۔۔۔تو حارث میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔دوست میری بات پتھر کی لکیر ہے مانگ لو جو مانگ سکتے ہو۔میں اپنے وعدے کا پابند ہوں۔اور تم دیکھو گے کہ ہم بے ایمان لوگ ایمان دار لوگوں سے زیادہ وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔تو میں نے اپنی آنکھیں خانم کی گانڈ پر گاڑتے ہوئے بولا کہ سب سے پہلے تو ابھی اور اسی وقت مجھے خانم کی گانڈ مارنی ہے۔۔۔


    خانم جو کہ حارث کے چوپے لگا رہی تھی اس کے کانوں میں میری آواز پڑی تو وہ بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور بولی نہیں یہ نہیں ہو سکتا میں نے آج تک گانڈ نہیں مروائی۔۔۔اس سے پہلے میں کچھ بولتا۔کمرے میں حارث کی دھاڑ گونجی۔خانم۔۔۔رنڈی عورت۔۔۔اب تیری گانڈ کیا میری وعدے سے بڑی ہو گئی۔۔۔گشتی کی بچی۔۔۔چپ چاپ بیڈ پر جا اور اس کی خواہش کا احترام کر۔۔۔خانم کے پاس دوسرا کوئی لفظ نہیں تھا بولنے کے لیے تو وہ ستے ہوئے چہرے کے ساتھ اٹھی اور میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے مجھے واپس بیڈ پر لے گئی۔۔۔میں نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیہ اپنے کندھوں کے نیچے رکھ لیا اور سلگتی ہوئی نگاہوں سے خانم کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔خانم نے بیڈ پر چڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میرا ڈھیلا لن ہاتھ میں پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔کچھ دیر تک لن پر ہاتھ چلانے کے بعد جب لن کھڑا ہو گیا تو وہ جھکی اور اپنی زبان سے لن کی ٹوپی پر مساج کرنے لگی۔۔۔
    افففففف۔۔۔پھر اس نے اپنی زبان کو ٹوپی کے چاروں طرف گول گول گھمایا اور آہستہ آہستہ لن کو اپنے ہونٹوں میں لینا شروع کر دیا۔پھر وہ لن کو آہستہ آہستہ اپنے گیلے منہ میں ڈالتی گئی اور سارا لن اپنے منہ میں لے لیا۔اور منہ کے اندر ہی میرے لن پر اس نے اپنی زبان گھمانی شروع کر دی۔چوپے کے اس انداز نے مجھے میری ساری تکلیف بھلا دی اور میرا لن فل اکڑ گیا۔۔۔خانم جانتی تھی کہ چوپا میری کمزوری ہے اس لیے وہ جی جان سے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔حارث جو کہ وہیں بیٹھا نازنین سے اپنا لن چسوا رہا تھا۔میری طرف دیکھ کر اونچی آواز میں بولا دوست میں ایک دفعہ پھر دہرا رہا ہوں جو چاہیے مانگ لو لیکن دوسرا راستہ مت اختیار کرنا جو کے نقصان دہ ثابت ہو۔۔۔

    اتنا کہہ کر وہ چند سیکنڈ کیلئے خاموش ہوا اور پھر جیسے چٹخارہ لیکر بولا یار تیری گانڈ جیسی مکھن ملائی گانڈ آج تک کم ہی نصیب ہوئی ہے۔میں تم سے بہت خوش ہوں۔اسی لیے ایک تحفہ میری طرف سے بھی قبول کرو۔۔۔یہ کہہ کر اس نے انٹر کام کا رسیور اٹھایا اور ایک لفظ بولا راحت۔۔۔اور رسیور واپس کریڈل پر ڈال دیا۔۔۔ٹھیک پانچ منٹ بعد راحت کمرے میں داخل ہوئی اور سیدھا جا کر حارث کے پاس کھڑی ہو گئی۔۔۔لگتا تھا کہ یہاں سب لڑکیاں حارث کی اہمیت کو جانتی تھیں۔اسی لیے وہ خانم جیسی دبنگ عورت کی موجودگی میں ہی حارث کا ہر حکم مان رہی تھیں۔۔۔

    حارث نے راحت کو دیکھا اور بولا جاؤ اس لڑکے کے پاس آج تمہارے کنوارے پن کا افتتاح یہ لڑکا ہی کرے گا۔۔۔راحت کی آنکھوں میں چند سیکنڈ کیلئے بے یقینی کے تاثرات ابھرے لیکن پھر وہ نارمل ہو کر میرے پاس آ گئی۔۔۔وہ خانم کی پسند تھی لیکن کیا کر سکتی تھی۔خانم خود حارث کی غلام تھی اور ویسے بھی کسی نا کسی دن تو یہ ہونا ہی تھا۔۔۔خانم نے ایک نظر راحت کی طرف دیکھا پھر حارث کی طرف دیکھا اور نظریں جھکا کر اپنے کام میں مگن ہو گئی۔۔۔

    راحت نے میرے پاس آ کر اپنے کپڑے اتارے اور ایک سائیڈ پر پھینک کر ننگی بیڈ پر چڑھ آئی اور میرے داہنے ہاتھ پر لیٹ کر مجھ سے لپٹ گئی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔تھوڑی دیر کسنگ کے بعد راحت بھی اٹھ کر نیچے ہوئی اور خانم کے ساتھ ملکر میرا لن چاٹنے لگی۔۔۔خانم پر تو مجھے غصہ تھا لیکن راحت کے لن کو منہ کے لگانے کی دیر تھی کہ میرے لن کو ایک جھٹکا لگا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں اور سہہ نہیں پاؤں گا۔۔۔میں نے راحت کو کھینچ کر ایک سائیڈ پر کیا اور خود اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔خانم جو کہ کہنیوں اور گھٹنوں کے بل جھک کر میرے چوپے لگا رہی تھی اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر خانم کے پیچھے آ گیا۔اور اس کی ننگی گانڈ کا نظارہ کرنے لگا۔۔۔یار جو بھی ہے خانم کی گانڈ کمال تھی۔۔۔ان ساری لڑکیوں میں کوئی ایک بھی اس کے پاسنگ نہیں تھی۔۔۔خانم کی گانڈ پر ایک بھی بال نہیں تھا۔میں نے تھوڑا تھوک اپنے لن پر لگایا اور کافی سارا تھوک خانم کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا۔۔۔مجھے خانم پر جتنا غصہ تھا میں نے خانم کی گانڈ کا سوراخ نرم کیے بغیر ہی اپنے لن کی ٹوپی اس کے سوراخ پر رکھی اور ایک زور کا دھکا مارا تو میرا لن اس کی گانڈ کو چیرتا ہوا آدھا اندر داخل ہو گیا۔۔۔خانم کے منہ سے دھاڑ نما چیخ نکلی اور وہ بے اختیار آگے ہو کر الٹی لیٹ گئی۔۔۔

    میں جو پہلے سے ہی اس بات کیلئے تیار تھا جیسے ہی خانم آگے ہوئی میں نے لن باہر نہیں نکلنے دیا بلکہ پورا زور لگاتے ہوئے خود بھی خانم کے اوپر گرا اور اس کو اپنے بازوؤں اور ٹانگوں میں جھکڑ لیا۔۔۔خانم تڑپتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہی تھی۔۔۔اور میں بلکل حارث کے سٹائل میں بولا۔۔۔ہاں ہاں چیخو اور چیخو۔۔۔کتیا جتنے زور سے چلاؤ گی مجھے اتنا زیادہ مزہ آئے گا۔۔۔میری بات سن کر حارث نے مجھے دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔حارث اس وقت نازنین کی گانڈ میں اپنا لن ڈالے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔میں نے خانم کو قابو کیے ہوئے زور زور سے جھٹکے مارنا شروع کر دیے۔۔۔مزے کی طرف تو میرا دھیان بلکل بھی نہیں تھا بس میرے دماغ پر چھپکلی سوار تھی۔کہ اس گشتی کی بچی سے بدلہ لینا ہے۔۔۔میں لگاتار جھٹکے مارتا گیا۔۔۔جس کو خانم سہہ نا سکی اور اس کے منہ سے خر،خر،کی آواز نکلی اور اس کا بدن ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔وہ بیہوش ہو چکی تھی۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی خون کے چار پانچ قطرے باہر نکل آئے۔۔۔اس کی گانڈ حقیقت میں پھٹ چکی تھی۔۔۔

    میں نے لن باہر نکالا۔راحت کو کھینچ کر اپنے سامنے لٹایا اور اس پر جھک کر اس کے ممے چوسنے لگا۔۔۔کچھ دیر اس کے ممے چوسنے کے بعد میں نے اپنا منہ ہٹایا اور راحت کی ٹانگیں اٹھا کر اس کی گانڈ کا سوراخ نمایاں کیا۔۔۔راحت شاید میرے انداز کو سمجھ چکی تھی اس لیے اس نے سائیڈ ٹیبل پر موجود آئل کی شیشی اٹھا کر میری طرف کر دی۔۔۔میں نے تھوڑا سا آئل اس کی گانڈ پر گرایا اور انگلی کی مدد سے اس کی گانڈ میں تیل داخل کر کے اس کی گانڈ کا سوراخ کھلا کرنے لگا۔۔۔تھوڑا سوراخ کھلا اور نرم کرنے کے بعد میں نے کافی سارا تیل اپنے لن کی ٹوپی پر گرایا اور اچھی طرح تیل سے نہلا دیا۔۔۔میرے لن کی ٹوپی پر خانم کی گانڈ سے نکلا ہوا خون ابھی تک لگا ہوا تھا۔۔۔خانم اب نیم بیہوشی کی کیفیت میں کراہ رہی تھی۔۔۔

    میں نے اپنا دھیان خانم کی طرف سے ہٹایا اور اپنا لن راحت کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی پلکیں لرز رہی تھیں۔۔۔اس کی آنکھوں میں موجود نمی میرے دل کو پگھلا گئی اور میں نے مزید انتقام کو مؤخر کرتے ہوئے آرام سے تھوڑا زور لگایا تو پچک کی آواز کے ساتھ ٹوپی گانڈ کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔راحت ایک دم اچھلی اور اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی اور میں وہیں رک گیا۔۔۔اس کی گانڈ اندر سے اتنی گرم تھی مجھے لگا کہ میرا لن کسی تندور کے گرم سوراخ میں داخل ہو گیا ہے۔۔۔میں نے کوئی بھی بات کیے بنا آہستہ سے دباؤ بڑھانا شروع کیا تو میرا لن اندر سرکنا شروع ہو گیا۔۔۔وہ ایک دم اوپر اچھلی لیکن میں رک رک کر دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔میری ہر دھکے پر وہ اوپر اچھلتی۔۔۔اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔مگر دوبارہ اس کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی کیونکہ اس نے اپنے منہ کو سختی سے بھینچا ہوا تھا۔۔۔میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔۔۔اب میں نے ایک زور کا گھسا مارا تو میرا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں اترتا چلا گیا۔۔۔


    جیسے ہی لن راحت کی گانڈ کے اندر گیا۔۔۔اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔آہ۔اوئی ماں مر گئی۔۔۔پلیز اور نہیں کرنا رک جاؤ پلیز اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری ہو گئے۔۔۔میں آگے جھک کر اس کے مموں کے نپلز کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔راحت کی باقاعدہ چیخ سن کر خانم بھی اپنے حواس میں آ گئی۔۔۔اور میرا لن راحت کی گانڈ میں دیکھ کر وہ باقاعدہ رونے لگی۔۔۔اب پتہ نہیں اپنی پسند چدتی دیکھ کر رو رہی تھی یا پھر اپنی گانڈ کے چربہ ہونے پر رو رہی تھی۔۔۔اس کے آنسو جیسے میرے اندر بھرے ہوئے لاوے پر پانی ڈالتے جا رہے تھے۔۔۔خانم نے روتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا تو حارث کی آنکھوں میں سختی دیکھ کر وہیں پر لیٹ کر سرہانے میں منہ چھپا لیا۔۔۔

    حارث نے نازنین کو صوفے پر ہی اوندھا کیا ہوا تھا اور اپنا لن اس کی گانڈ میں ڈالے پوری جان سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔اس کا سارا جسم پسینےمیں شرابور تھا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اب وہ منزل کے قریب ہی ہے۔۔۔نازنین اس کو مسلسل اکسا رہی تھی۔۔۔سر تیز اور تیز۔ہاں ایسے ہی۔اففففف۔پھاڑ ڈالیں میری گانڈ۔۔۔آہ۔آہہہ۔آہہہ۔ایسی سیکسی آوازیں سن کر حارث کا جنون بڑھ گیا اور اپنے بدن کی پوری طاقت سے گھسے مارتے ہوئے اس کی گانڈ میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔

    میں اپنا لن راحت کی گانڈ میں ڈالے مسلسل اس کے نپلز چوس رہا تھا ایسا کرنے سے اس کی تکلیف میں واضح کمی آئی۔۔۔اور میں نے وہیں نپلز چوستے ہوئے اپنا لن آہستہ سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔حارث ہانپتی کانپتی ہوئی آواز میں بولا واہ دوست کمال کر دیا۔۔۔اتنا موٹا لن کیسی ٹیکنیک سے گانڈ میں ڈالا ورنہ میں تو سوچ رہا تھا کہ آج لڑکی کی گانڈ پھاڑ ہی ڈالو گے۔۔۔اسے شاید ابھی تک خانم کی گانڈ پھٹنے کا ادراک نہیں ہوا تھا۔۔۔میں صرف مسکرایا اور آہستہ سے اپنے لن کو حرکت دینا جاری رکھا۔۔۔راحت کی گانڈ اندر سے بڑی نرم اور گرم تھی۔۔۔اب اس کی گانڈ کے ٹشوز لن کے ساتھ ایڈجسٹ ہو چکے تھے۔۔۔میں اپنی رفتار بڑھانے لگا۔۔۔میں راحت کی گانڈ میں گھسے مارتا گیا۔مارتا گیا۔۔۔اب مجھے لگا کہ میرے بدن کا سارا خون میری ٹانگوں سے ہوتا ہوا میرے لن کی طرف بھاگے جا رہا ہے۔۔۔میں نے اپنا لن راحت کی گانڈ سے نکالا اور خانم کے پاس جا کر تیل میں لت پت لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کے خانم مجھے محسوس کر کے ہلتی۔۔۔میں نے پوری جان سے گھسہ مارا اور اپنا لن جڑ تک خانم کی گانڈ میں اتار کر اسے دونوں بازوؤں میں بھینچ لیا۔۔۔خانم اس اچانک افتاد پر تڑپنے لگی جبکہ میرے لن نے منی کی دھاریں خانم کی گانڈ میں چھوڑنا شروع کر دیں۔۔۔

    منی کی دھاروں کو محسوس کر کے خانم کی اچھل کود میں کمی آ گئی۔۔۔منی کا آخری قطرہ بھی نچڑنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکالا اور اٹھ کر بیڈ سے نیچے کھڑا ہو گیا۔۔۔ادھر ادھر دیکھ کر اپنے کپڑے اٹھائے اور پہنتے ہوئے بولا واہ خانم تیری گانڈ نے بہت مزہ دیا۔۔۔لیکن خانم کچھ نہیں بولی۔۔۔حارث نے بھی کپڑے پہنے اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اور مجھے بولا چلو نیچے چلتے ہیں۔یہ رنڈیاں خود ہی تھوڑی دیر میں اپنے آپ کو سنبھال لیں گی۔۔۔اتنا کہہ کر حارث اور میں آگے پیچھے کمرے سے باہر نکلے اور نیچے آ کر کامن روم میں بیٹھ گئے۔۔۔حارث اب میری طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے ہمت کی اور حارث سے مخاطب۔دیکھیں جناب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔۔۔لیکن اب میں آئندہ ادھر کا رخ نہیں کروں گا۔اور یہاں جو بھی ہوا اس کے بارے میں کسی سے بھی ذکر نہیں کروں گا۔۔۔میرا منہ ہمیشہ بند رہے گا۔۔۔اور آپ کی طرف سے بھی یہ چاہوں گا کہ آپ بھی کبھی مجھ سے ملاقات مت کریں۔نہ مجھے کسی سے کوئی تعلق رکھنا ہے اور نا ہی مجھے اس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔اتنا کہہ کر میں خاموش ہو گیا۔۔۔

    حارث چپ چاپ بیٹھا میری طرف دیکھتا رہا۔۔۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد حارث بولا اوکے دوست اگر تم بھی خاموش رہو گے تو میری طرف سے تمہیں کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی۔۔۔اس کے بعد حارث نے اپنی جیب سے ایک پرس نکالا اور اس میں سے ایک کارڈ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا کہ سمیر یہ میرا کارڈ رکھ لو۔۔۔پھینکنا مت۔کبھی بھی کیسی بھی ضرورت ہو مجھے یاد کر لینا۔چند منٹوں میں تمہاری ضرورت پوری ہو جائے گی۔۔۔میں نے کارڈ پکڑ کر جیب میں ڈال لیا۔۔۔حارث اٹھتے ہوئے بولا کہ چلو آؤ میں تمہیں راستے میں کہیں چھوڑ دوں گا وہاں سے آگے ٹیکسی کر لینا۔۔۔میں چپ چاپ اٹھا اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکلا۔۔۔باہر پورچ میں اس کی لینڈ کروزر میں بیٹھے اور حارث گاڑی چلاتا ہوا کوٹھی سے باہر نکل آیا۔۔۔قریبی چوک پر پہنچ کر جیسے ہی اس نے موڑ کاٹنے کیلئے گاڑی کی رفتار آہستہ کی۔میں بول اٹھا بس مجھے یہیں اتار دیں۔یہاں سے آگے میں چلا جاؤں گا۔۔۔حارث نے موڑ کاٹ کر گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی اور اپنی جیب سے پین نکال کر پیپر پر مجھے ایک گولی لکھ کر دی کہ یہ مارکیٹ سے لے لینا ورنہ دوبارہ درد ہونے پر ڈاکٹر پاس گئے تو اسے کیا بتاؤ گے۔۔۔یہ زود اثر گولی ہے۔۔۔کھاتے ہی آرام آ جائے گا۔۔۔اسپرے کا اثر تھوڑی دیر تک ہوتا ہے جیسے ہی تم گانڈ کو دھو لو گے اس کا اثر ایک دم ختم ہو جائے گا۔۔۔اس لیے یہ گولی راستے میں لازمی خرید لینا۔۔۔میں نے پیپر بھی چپ چاپ جیب میں ڈال لیا۔۔۔حارث نے مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔میں ایک بار پھر دہراتا ہوں جو ہوا بھول جاؤ۔اور خود کو میرے دوستوں میں شمار کرو۔۔۔کبھی بھی کال کر سکتے ہو۔۔۔میں اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سے اتر گیا تو وہ گاڑی کو آگے بڑھا لے گیا۔۔۔تب میری جان میں جان آئی۔۔۔چوک سے میں نے ایک ٹیکسی پکڑی اور گھر پہنچ گیا۔۔۔

    جب گھر پہنچا تو تین بج رہے تھے۔۔۔آفتاب اٹھ چکا تھا اور کسی کام سے باہر نکلا ہوا تھا۔۔۔میں نے سوچا چلو اتنی دیر تک نہا کر کپڑے بدل لیتا ہوں۔۔۔نہانے کے خیال کے ساتھ ہی گانڈ کا درد اور حارث کی بتائی ہوئی بولی یاد آئی تو میں گھر سے باہر نکلا اور قریبی فارمیسی سے اس ٹیبلیٹ کا ایک پتہ لے آیا۔۔۔گھر آ کر امی سے ملا تو امی نے پوچھا کہاں غائب ہو بیٹا اتنی دیر سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔تو میں نے امی کو جواب دیا کہ کچھ نہیں امی جان بس ویسے ہی ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔۔۔تو امی بولیں چلو میں نے تمہارے کپڑے پریس کر دیے ہیں وہ آفتاب کے کمرے میں ہینگر پر لٹک رہے ہیں۔۔۔نہا کر چینج کر لو۔۔۔اور میں جی اچھا کہہ کر کمرے کی جانب چل پڑا۔۔۔کمرے میں جا کر اندر سے بند کیا اور واش روم میں جا کر نہانے لگا۔۔۔نہانے کے بعد اچھی طرح تولیے سے اپنا جسم صاف کیا اور باہر نکل کر کپڑے پہن لیے۔۔۔کچھ دیر آرام کی نیت سے میں لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے گانڈ میں دوبارہ درد کی ہلکی ہلکی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔۔اور میں خانم اور حارث کو گالیاں دیتا ہوا اٹھ کر باہر نکلا اور فریج سے ایک گلاس پانی لیکر پانی کے ساتھ گولی کھائی اور واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔واقعی چند منٹ بعد درد میں افاقہ ہوا۔۔۔میں آج کے دن کے بارے میں سوچنے لگا۔اور خود سے تہیہ کیا کہ زندگی میں دوبارہ یہاں کیا کہیں بھی کسی رنڈی کے ڈیرے پر نہیں جانا۔۔۔میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ کچھ دیر بعد کمرے کا لاک کھلنے کی آواز آئی اور لاک کھول کر آفتاب اندر داخل ہوا۔۔۔مجھے دیکھ کر چلایا۔۔۔یار کہاں گم تھے تم اتنی دیر سے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔چونکہ مجھے اس کے اٹھنے کے ٹائم کے متعلق معلوم تھا تو جھوٹ بول دیا یار ابھی ایک بجے میں باہر نکلا تھا اور ساتھ والی گلی میں موجود سنوکر کلب میں وقت گزاری کر رہا تھا۔۔۔

    میری بات سن کر آفتاب بولا چل گانڈ مار یار۔۔۔بھوک بہت لگی ہے چلو کھانا کھاتے ہیں۔۔۔بلکہ رک کھانا یہیں کھاتے ہیں۔باہر تو افراتفری مچی ہوئی ہے۔۔۔اتنا کہہ کر آفتاب باہر نکل گیا۔اور چند منٹ بعد کھانے کی ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوا۔۔۔اتنی دیر تک میری گانڈ کا درد بلکل غائب ہو چکا تھا۔۔۔ہم دونوں نے ملکر کھانا کھایا۔۔۔پھر آفتاب تو کسی کام کے سلسلے میں باہر نکل گیا۔ جبکہ میں تھکاوٹ کا بہانہ کر کے وہیں پڑا رہا اور تھوڑی دیر میں ہی سو گیا۔۔۔شام کو سات بجے مجھے آفتاب نے ہی جگایا۔۔۔ابے اٹھ جا یار۔کیا مردوں سے شرط باندھ کر سویا تھا۔۔۔


    میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔۔۔فریش ہونے کے بعد رات کا کھانا کھایا۔چونکہ رات لیٹ نائٹ بارات کی روانگی تھی تو سب لوگ سونے کی تیاری کرنے لگے تا کہ تھوڑا ریسٹ کر لیں۔۔۔میں کمرے سے باہر نکلا اور امی کو ڈھونڈ کر ان کے پاس جا بیٹھا۔۔۔امی کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔۔۔ابو کے متعلق پوچھا تو امی نے بتایا کہ جس دن سے آئے ہیں تمہارے ابو ہر وقت ماموں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔۔۔کیونکہ مامے بھتیجے کی کافی سالوں بعد ملاقات ہوئی تھی تو سارا وقت ایک ساتھ ہی گزار رہے تھے۔۔۔اسی دوران پہلو بدلتے ہوئے مجھے اپنی گانڈ میں ایک دفعہ پھر ہلکی سی درد کی ٹھیس اٹھی۔۔۔میں امی کے پاس سے اٹھ کر فریج کے پاس گیا۔۔۔پانی کا گلاس لیکر ایک گولی اور کھائی اور کمرے میں آ کر آفتاب کے کمپیوٹر پر وقت گزاری کرنے لگا۔۔۔انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی تو ایک سیکسی ویب سائٹ اوپن کر کے وڈیوز چیک کرنے لگا۔۔۔قریباً بیس منٹ تک میں مختلف سائٹس چیک کرتا رہا۔اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور سدرہ بھابھی اندر داخل ہوئیں۔۔۔میں نے مڑ کر انہیں دیکھا تو ہڑبڑا کر کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی اور اسی ہڑبڑاہٹ میں کرسی سے نیچے آن گرا۔۔۔بھابھی اتنی دیر تک کمرے کے وسط میں آ چکی تھی اور ان کی نظریں کمپیوٹر اسکرین پر ہی جمی ہوئی تھیں جہاں ایک ٹرپل ایکس مووی میں لڑکا لڑکی کے ممے چوس رہا ہوتا ہے۔۔۔میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے۔۔۔میں نے فوراً اٹھ کر کمپیوٹر کی پاور سپلائی کیبل ہی نکال دی اور کمپیوٹر اسکرین ایک جھماکے سے بند ہو گئی۔۔۔میں نے ڈرتے ڈرتے بھابھی کی جانب دیکھا تو بھابھی لال سرخ چہرے کے ساتھ میری طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈز ایسے ہی خاموشی میں گزرے۔۔۔آخر کار میں نے خاموشی توڑی اور ہکلاتے ہوئے بولا۔۔۔بھابھی۔آ۔آپ۔آپ۔۔۔بھابھی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ممممممممم۔تو یہاں کمپیوٹر پر موویز دیکھی جا رہی ہیں۔۔۔سمیر میں تو آفتاب کو دیکھنے آئی تھی۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں تم بیٹھے ہو اور اس حال میں۔۔۔یہ کہہ کر بھابھی نے تپتی نگاہوں کے ساتھ مجھے گھورا۔اور مڑ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔میں پریشانی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اب کیا ہو گا۔۔۔کہیں بھابھی کسی کو بتا نہ دیں۔۔۔وغیرہ۔وغیرہ۔۔۔

    انہی سوچوں میں کافی وقت نکل گیا پھر میں نے اپنا سر جھٹکا اور خود کلامی کے عالم میں کہا کہ جو ہو گا دیکھی جائے گی۔۔۔اب رات کے بارہ بج چکے تھے۔تبھی آفتاب کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔یار میں تجھے ہی تلاش کر رہا تھا۔چل ایک آخری کام کرنا باقی ہے وہ نبٹا لیں پھر تیار ہوتے ہیں۔۔۔

    میں اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیا۔۔۔ہم لوگ گاڑی میں گھر سے نکلے اور سیدھا فیض آباد اڈے کی جانب چل پڑے۔راستے میں آفتاب بولا کہ یار بھوک لگ رہی ہے پہلے کچھ کھاتے ہیں۔۔۔میں کھانا تو کھا چکا تھا لیکن سوچا کہ چلو تھوڑا بہت آفتاب کا ساتھ دے دوں گا۔اس لیے میں نے بھی سر ہلا کر حامی بھر لی۔۔۔آفتاب نے گاڑی فوڈ اسٹریٹ کی طرف گھمائی اور ہم لوگوں نے وہاں ایک ہوٹل پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔۔۔کھانے کے بعد بل ادا کیا اور وہاں سے نکل کر فیض آباد اڈے پر پہنچ گئے۔۔۔پہلے سے طے شدہ پلان کے تحت گاڑی والے کو بڑی بس سمیت ساتھ لیا اور گھر پہنچ گئے۔۔۔اسی اثناء میں دو بج چکے تھے۔۔۔چونکہ بارات کی روانگی تین بجے کی طے تھی تو آفتاب فٹافٹ تیار ہو کر آیا۔۔۔ہم لوگوں نے سب مہمانوں کو گاڑی میں بٹھانا شروع کر دیا۔۔۔میں نے امی اور ابو کو بھی سامان سمیت گاڑی میں پہنچا دیا۔۔۔سب مہمانوں کے بیٹھ جانے کے بعد میں نے گاڑی میں نظر دوڑانا شروع کی تو مجھے مومو یا اس کی فیملی میں سے کوئی بھی نظر نہیں آیا۔میں اداسی کی کیفیت میں سامنے ڈرائیور کے پاس ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں ایک ہلکے نیلے رنگ کی شیورلیٹ پاس آ کر رکی جس کو ایک لڑکا چلا رہا تھا۔جو کہ بعد میں پتہ چلا مومو کا بڑا بھائی شاہد تھا۔۔۔


    گاڑی میں سے مومو اور مومو کے ماما پاپا برآمد ہوئے اور انہوں نے بس کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔میں نے فوراً نظریں دوڑائیں تو بس کی پچھلی سائیڈ پر ساری سیٹیں خالی تھیں۔۔۔میں فٹا فٹ جا کر پیچھے ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گیا اور گردن اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔۔مومو کی والدہ کو شروع میں ہی عورتوں نے گھیر گھار کر اپنے پاس بٹھا لیا جبکہ اس کے والد کو آفتاب کے پاپا اور میرے ابو نے اپنے پاس کھینچ لیا۔۔۔مومو چلتی ہوئی پچھلی سیٹوں کی طرف آئی اور مجھ سے ایک سیٹ چھوڑ کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔اس کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔۔۔دل تو میرا چاہ رہا تھا کہ میں وہاں جا کر اس کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤں پر ہمت نہ پڑی کیونکہ بس میں سب لوگ موجود تھے۔۔۔چنانچہ میں اٹھ کر مومو کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔اسی دوران ایک ناخوشگوار واقعہ ہو گیا۔آفتاب اور بس والے کی کسی بات پر لڑائی ہو گئی۔۔۔لیکن سب نے سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔۔۔آفتاب بس میں اندر آیا اور آ کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔سب لوگوں کے بیٹھ جانے کے بعد آفتاب کے پاپا نے بس والے کو چلنے کا اشارہ کیا تو اس نے بس آگے بڑھا دی۔۔۔میں اور آفتاب کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔۔۔پھر آفتاب کو نیند آنے لگی۔چونکہ وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح بھاگتا پھرا تھا اب جیسے ہی بیٹھا تو نیند نے آن دبوچا۔۔۔مجھے بتا کر آفتاب اٹھا اور جا کے سب سے آخری سیٹ پر لیٹ کر سو گیا۔۔۔اب میرا دھیان مومو کی طرف تھا جو کے مجھ سے اگلی سیٹ پر بیٹھی کانوں میں ہینڈفری لگائے اپنے پاپا کے موبائل پر گانے سن رہی تھی۔۔۔اب میں سوچ رہا تھا کہ کیسے بات شروع کروں۔پر کچھ بھی سجھائی نہ دیا۔بس پیچھے بیٹھا مومو کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔مومو ایک خوبرو اور پرکشش لڑکی تھی۔۔۔اس کے چھوٹے چھوٹے بال جو کہ بامشکل اس کے کاندھوں تک آتے تھے بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔میں انہی سوچوں میں گم سوتا جاگتا رہا۔۔۔رات کا سفر تھا تو نیند میں سوتے جاگتے ہی گزر گیا۔۔۔جب جہلم کے پاس پہنچے تو مجھے لگا کہ مومو سو رہی ہے۔۔۔میرے دل میں آ رہا تھا کہ اس کو چھو لوں۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کو چھوا تو اس نے یک دم مڑ کر میری طرف دیکھا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ مسکرا دی لیکن منہ سے بولی کچھ نہیں۔۔۔میں پھر بھی کچھ بات نہ کر پایا۔۔۔

    لاہور پہنچ کر بارات ایک کوٹھی میں رکی۔یہ صرف تیاری کرنے کی غرض سے جگہ مخصوص کی گئی تھی۔کیونکہ رات کا اور لمبا سفر تھا وہ بھی جی ٹی روڈ کے ذریعے تو سب لوگوں کے تیاری کرنے کیلئے اس جگہ کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔میں وہاں سے قریب ہی اپنی پھپھو کے گھر چلا گیا۔۔۔میری پھپھو لوگ بھی پوری فیملی کے ساتھ شادی پر انوائیٹ تھے۔۔۔میں وہاں تیار ہوا اور پھوپھو کی فیملی کے ساتھ ہی واپس اسی کوٹھی میں پہنچ گیا۔۔۔

    پھوپھو کو امی لوگوں کے پاس چھوڑ کر میں باہر لان میں نکلا تو مومو وہاں ایک چئیر پر بیٹھی ہوئی تھی۔میں اس کے پاس جا کر ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔مومو نے لب کشائی کی۔ہاں تو سمیر آپ کی زندگی کی کیا مصروفیات ہیں۔۔۔میں نے اسے اپنے بارے میں بتایا۔اس وقت میں میٹرک کا طالب علم تھا۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی باتیں کرتے اور ایک دوسرے کے بارے میں جانتے رہے۔وہاں پر تھوڑا ریفریشمنٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔۔۔ہم لوگ وہیں بیٹھے کھا رہے تھے کہ اتنے میں مومو نے مجھ سے پانی کا گلاس مانگا۔۔۔پانی کا کولر میرے پاس ہی پڑا تھا۔میں نے پانی کا ایک گلاس بھر کر اسے تھمایا اور گلاس تھماتے وقت اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا۔۔۔مومو نے میری اس حرکت کو دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔اتنی دیر میں سب لوگ تیار ہو کر باہر نکلنا شروع ہو گئے۔۔۔ہم لوگ بھی اٹھے اور گاڑی میں جا بیٹھے۔۔۔دلہے کی کار اور لاہور سے بھی کافی مہمان شامل ہوئے تھے سب کی گاڑیاں اور بس ایک ساتھ چلیں اور بیس منٹ کی ڈرائیو پر موجود شادی ہال میں پہنچ گئے۔۔۔شادی ہال میں مردوں اور عورتوں کیلئے بیٹھنے کا علیحدہ علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔۔۔نکاح ہوا پھر کھانا کھانے کے بعد میں لیڈیز سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔کیونکہ میں فیملی میں سے ہی تھا تو کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔میں نے مومو کو پکڑا اور اپنے کزنز سے تعارف کروایا۔۔۔پھر میں۔میرا کزن علی۔اور علی کی دو بہنیں ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔۔۔وہاں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔۔۔میں نے موقع دیکھ کر مومو کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہہ دیا کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔کیا میری دوست بنو گی۔۔۔تو مومو نے میرے گال پر چٹکی کاٹ کر کہا۔۔۔سمیر تم بہت اچھے ہو اور ہم دوست ہیں تو یوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔چلو ابھی سب لوگ واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔۔۔تم بس میں میرے ساتھ ہی بیٹھنا۔باقی باتیں ہم لوگ بس میں کریں گے۔۔۔میں نے بخوشی ہاں میں سر ہلایا اور اٹھ کر دوسری سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔شادی کی تمام رسومات پوری ہو چکی تھیں۔۔۔میں مومو کے ساتھ دوستی کے نشے میں سرشار واپسی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ پاپا نے میرے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔انہوں نے حکم صادر کیا کہ سمیر تم یہیں سے واپس ملتان چلے جاو۔۔۔میرے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے لیکن کیا کرتا مجبوری تھی۔۔۔گھر میں اچانک دادی امی کی طبیعت تھوڑی خراب ہو گئی تھی۔سو مجھے جانا تھا۔۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ مومو کو اس افتاد کے بارے میں بتا سکوں۔اور اس کا کوئی کانٹیکٹ نمبر لے سکوں پر کامیاب نہ ہو پایا اور بارات واپس چلی گئی اور میں ناچار وہاں سے ملتان کی طرف نکل پڑا۔۔۔

    گھر جا کر دادی کی خبر گیری کی۔معمولی سا بخار تھا۔۔۔پاپا خود آ جاتے لیکن دراصل پاپا کی اپنے ماموں کے ساتھ کچھ کھٹ پٹ تھی تو کافی عرصہ سے ان کی بول چال بند تھی اب شادی کے موقع پر عرصہ دراز بعد ملاقات ہوئی تھی تو اس لیے وہ خود نہیں آئے اور مجھے بھیج دیا۔۔۔دو دن بعد ماما پاپا بھی واپس آ گئے اور تب تک دادی بھی ہٹی کٹی ہو چکی تھیں۔۔۔مطلب ان کی طبیعت اب بلکل ٹھیک ہو چکی تھی۔۔۔لیکن میرے دل کی کیفیت بہت خراب تھی۔۔۔

    ہر وقت مومو کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا۔۔۔وہ تھی ہی اتنی پیاری اور پرکشش۔۔۔اتنے میں میرے پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آ گئی اور میں پیپرز کی تیاری میں جت گیا۔۔۔دن گزرتے گئے۔ پیپرز آئے اور چلے گئے۔۔۔کیونکہ تیاری بہت اچھی تھی اس لیے رزلٹ کی طرف سے میں بے فکر تھا۔۔۔

    خانم کے ڈیرے پر ماری ہوئی پھدیاں بار بار یاد آتی تھیں۔۔۔میں نے ایک دن خانم کو کال ملائی تو پتہ چلا کہ وہ نمبر اب بند ہے۔۔۔میں نے آفتاب کو کال کی اور اس سے باتوں ہی باتوں میں خانم کا تذکرہ کیا تو وہ بھی ٹھنڈی سانس لے کر بولا کہ یار وہ بھی کیا دن تھے۔اعلیٰ سے اعلیٰ رنڈی ہوتی تھی۔اب تو وہ دن خواب ہو گئے۔۔۔میں نے پوچھا کیوں کیا اب وہاں نہیں جاتے تو اس نے مجھے بتایا نہیں یار خانم کے ساتھ تو بڑا سین ہو گیا تھا۔۔۔اس کا قتل ہو گیا۔سامنےتو یہی بات ہے کہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں ماری گئی لیکن اندر کھاتے کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ کسی سیاسی بندے کے ساتھ ایک لڑکی کے چکر میں اس کا کوئی پھڈا ہو گیا تھا اور خانم نے اس بندے کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور کچھ دن بعد ہی کہیں سے آتے ہوئے راستے میں خانم کو قتل کر دیا گیا۔۔۔میں نے ادھر ادھر کی دو چار باتیں کر کے فون بند کر دیا۔۔۔چلو خانم والا باب تو بند ہوا۔۔۔


    انہی دنوں محلے کی ایک دو لڑکیوں سے ہیلو ہائے ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن بات صرف ہیلو ہائے تک ہی رہی۔۔۔میرا لن مجھے مسلسل تنگ کر رہا تھا۔جب تک اسے پھدی کی خوراک نہیں ملی تھی مٹھ سے گزارا ہو رہا تھا مگر دبنگ دبنگ پھدیاں مارنے کے بعد اب تو مٹھ سے بھی گزارا نہیں ہوتا تھا۔۔۔میری گلی میں میرا دوست رہتا تھا جس کا نام نسیم تھا۔۔۔ہم دوستوں میں اس کے بڑے چرچے تھے کہ اس نے کئی لڑکیاں پھنسائی ہوئی ہیں اور وہ ان کی پھدی بھی مارتا ہے۔۔۔ایک دن لن کی حرکتوں سے تنگ آ کر میں نے اس سے کہا کہ نسیم یار کبھی ہمیں بھی پھدی کے درشن کروا دے۔۔۔قصہ مختصر نسیم نے تھوڑی سی ہیچر میچر کرنے کے بعد حامی بھر لی۔۔۔اس کے پاس چند ایسی لڑکیاں بھی آتی تھیں۔جو کہ شکل و صورت کے لحاظ سے تو کوئی خاص نہیں لیکن ایک چیز جو کمال تھی کہ وہ ابھی نوخیز تھیں۔۔۔کچی عمر میں ہی ٹوٹے دیکھ دیکھ کر ان میں آگ بھرتی جا رہی تھی۔اور وہ بلا معاوضہ مزے لینے آ جاتی تھیں۔۔۔یہ تین لڑکیوں کا ایک گروپ تھا۔۔۔نسیم نے آہستہ آہستہ مجھے اس گروپ سے متعارف کروا دیا۔۔۔ان تینوں لڑکیوں کی عمریں ابھی بارہ سے پندرہ سال کے درمیان تھیں۔۔۔دو لڑکیاں تو صرف ممے چسواتی اور چوپے لگا کر فارغ کر دیتی تھیں۔۔۔لیکن ان میں ایک لڑکی جو کہ ذرا سانولی سی تھی۔۔۔وہ ہر لڑکے کو پھدی دینے پر راضی ہو جاتی۔۔۔جیسے جیسے میں ان سے متعارف ہوتا گیا۔ان کی حرکتیں مجھ پر کھلتی گئیں۔۔۔اچھے بھلے گھرانوں کی لڑکیاں اور اس کام میں پڑی ہوئیں تھیں۔۔۔بلکل اوپن ماحول تھا ان کا۔۔۔دوستوں کے سارے گروپ کے پاس ان کا نمبر تھا۔جب بھی کسی کا دل کرتا وہ ان کو میسیج کر کے بلا لیتا اور دستیاب ٹائم پر اپنا پانی نکال لیتا۔۔۔میں نے ان میں سے صرف ایک لڑکی کے ساتھ دوستی بڑھائی اور صرف چوپے کی حد تک کام رکھا۔۔۔یعنی دیر سویر پانی نکلتا رہے۔۔۔اور میری یہ احتیاط ایک دن کام آ گئی۔۔۔ایک دن کسی دل جلے نے ان کے گھروں میں بتا دیا کہ یہ لڑکیاں کیسے لنوں کو چوستی پھرتی ہیں۔۔۔اس کے بعد یہ لڑکی بھی ہاتھ سے گئی۔۔۔میں جو کہ مومو کو بھولا ہوا تھا ایک دفعہ پھر شدت سے اس کی یادوں کے ناگ پھن اٹھانے لگے۔۔۔

    جب تک لن کو منہ کی گرمی ملتی رہی۔مومو کی یاد بھی دبی رہی۔جیسے ہی چوپے کی سہولت ختم ہوئی۔مومو کی یادیں پھر سے تنگ کرنے لگیں۔۔۔میں نے مومو کے سلسلے میں آفتاب سے مدد لینے کی ٹھانی اور اس سے ساری بات کہہ کر مومو کے گھر کا پی ٹی سی ایل نمبر لے لیا۔ابھی تک یہ زمانہ تھا کہ میرے پاس موبائل فون نہیں تھا۔۔۔پی سی او سے ہی کال ملانی پڑتی تھی۔۔۔ایک دن میں نے مومو کے گھر کا نمبر ڈائل کیا تو کسی بوڑھی عورت نے فون کا رسیور اٹھایا۔۔۔میں نے بنا ہچکچائے کسی اور شخص کا نام لے کر پوچھا اور سوری رانگ نمبر کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔میں وقفہ دے دے کر کافی دن تک کال کرتا رہا لیکن مومو نے کال نہیں اٹھائی۔۔۔

    میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چلا تھا۔۔۔لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔اور ایک دن پھر کال ملا دی۔۔۔دوسری طرف کی آواز سن کر میرا دل دھڑکا۔مومو نے کال اٹھائی تھی۔اس نے رسیور کان پر لگا کر پوچھا جی کون۔۔۔
    تو میں تڑپتے ہوئے بولا۔مومو یہ میں ہوں یار سمیر قریشی ملتان سے۔اتنی دیر میں مومو کے پیچھے کسی مرد کی آواز سنائی دی جو کہ شاید اس کا بڑا بھائی تھا۔۔۔مومو فون پر کون ہے تو مومو بولی پتہ نہیں کون بدتمیز رانگ نمبر ملا بیٹھا تھا۔اب فون کٹ گیا ہے اور یہ کہہ کر مومو نے کال بند کر دی۔۔۔میری آنکھوں میں شدتِ بے بسی کے احساس سے آنسو آ گئے۔۔۔پھر کافی دن تک میں نے کال نہیں کی۔۔۔لیکن دل کی تڑپ مجھے مومو کی طرف کھینچ رہی تھی تو ایک دن اسی تڑپ کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر والوں کو بتا کر دس دن کیلئے میں پنڈی روانہ ہو گیا۔۔۔میں قریباً ایک سال بعد پنڈی واپس آیا تھا۔ایک بے بنیاد سی امید پر پتہ نہیں کیوں لیکن میں پنڈی پہنچ گیا۔۔۔سب گھر والوں سے ملا۔۔۔حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں آفتاب کے کمرے میں جا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔۔۔خیر کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ گھر سے نکلے اور پیر سوہاوہ چلے گئے۔۔۔کیونکہ میں پہلے پنڈی اسلام آباد کے ان مقامات کو نہیں دیکھ پایا تھا تو اس مرتبہ آفتاب کی معیت میں سارے مقامات کی تفریح کا پروگرام بنایا۔۔۔واپسی پر ہمیں شام کا وقت ہو گیا۔ہم واپسی آتے ہوئے دامنِ کوہ پر رکے۔۔۔وہاں کا منظر بہت پیارا تھا خاص طور پر وہاں موجود ایک لکھنوی پان والے سے میٹھا پان کھایا جو کہ اس نے بڑی نفاست سے بنا کر چاندی کے ورق میں پیش کیا۔۔۔اس پان کا ذائقہ آج بھی محسوس ہوتا ہے۔۔۔


    اسی طرح تین دن گزر گئے۔لیکن مجھے سمجھ نا آئی کہ کیسے مومو کی خبر لگاوں۔۔۔پھر کوئی چارہ نہ پا کر میں نے آفتاب سے حالِ دل بیان کیا۔تو میری حالت دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔اس وقت ہم لوگ آفتاب کے کمرے میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میری بات سن کر آفتاب حیرانگی سے بولا یار سمیر تجھے کیا ہو گیا ہے جگر۔تم تو مجنوں کو ٹکر دینے کے چکر میں ہو۔۔۔چلو میں کچھ سکیم لڑاتا ہوں۔اس کے بعد ہم لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آفتاب اپنے بڑے بھائی ارمغان کے ساتھ کسی ارجنٹ کام کیلئے نکل گیا۔۔انہوں نے گاڑی پر لاہور جانا تھا اور صبحِ کاذب ان کی واپسی متوقع تھی۔۔۔میں تھوڑی دیر آفتاب کے کمپیوٹر پر بیٹھا موویز سرچ کرتا رہا۔پھر جب سگریٹ کی طلب ہوئی تو اٹھ کر چھت کی طرف چل پڑا۔۔۔


    آفتاب لوگوں کا گھر چار منزلہ تھا۔۔۔


    پہلی منزل پر اس کے والدین۔۔۔۔
    دوسری منزل پر فاروق اور آفتاب کا قبضہ تھا۔۔۔۔
    تیسری منزل پر ارمغان اور سدرہ بھابھی رہتے تھے۔۔۔

    میں سب سے اوپر کھلی چھت پر چلا گیا اور سگریٹ سلگا کر موجودہ حالات و واقعات کے متعلق سوچنے لگا۔۔۔ مجھے وہاں کھڑے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ سدرہ بھابھی دو کپ اٹھائے چھت پر پہنچ گئیں۔۔۔چائے کی بھینی بھینی خوشبو نے مجھے مہکا دیا۔۔۔بھابھی نے چائے کا کپ میری طرف بڑھایا تو میں نے کہ اٹھاتے ہوئے کہا۔قسم سے بھابھی اس کی بہت ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں تو بھابھی میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولیں۔۔۔سمیر،،میں نے تم دونوں کی ساری باتیں سن لی ہیں۔میں کسی کام سے نیچے گئی تھی واپس آ رہی تھی تو دروازہ کھلا دیکھ کر جیسے ہی اندر داخل ہونے لگی تو مجھے تمہاری آواز سنائی دی تم آفتاب کو مومو کے بارے میں بتا رہے تھے۔۔۔تو میں نے ساری باتیں سن لیں۔۔۔میں بھابھی کی بات سن کر ہکا بکا رہ گیا۔۔۔پہلے آفتاب میری بات سن کر حیران ہوا تھا اب بھابھی کی باتیں سن کر میں پشیماں ہو گیا۔۔۔اسی تذبذب کی کیفیت میں کھڑا تھا کہ بھابھی پھر گویا ہوئیں۔۔۔سمیر،،میں تم دونوں کو ملوانے کی کوشش کرو گی۔۔۔پتہ کروں گی کہ مومو کی کہیں بات پکی ہوئی ہے یا نہیں۔یا اسے کوئی اور مجبوری تو نہیں ہے۔۔۔

    بھابھی کی بات سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔پھر میں نے بھابھی سے پوچھا کہ بھابھی میری بپتا سننے کے بعد آپ کو میری مدد کرنے کی کیا سوجھی۔۔۔اس سے آپ کو کیا ملے گا۔۔۔یہ کہہ کر میں استجائیہ نظروں سے بھابھی کو دیکھنے لگا۔۔۔بھابھی نے گرم چائے کی ایک چسکی بھری اور ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولیں۔۔۔سمیر،،میں اور ارمغان سکول لیول سے یونیورسٹی لیول تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔۔۔سکول سے یونیورسٹی تک ساتھ رہنے سے پہلے دوستی اور پھر یہ دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی۔۔۔ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم شادی کریں گے لیکن شادی تک ایک دوسرے کے درمیان فاصلے کو کم نہیں کریں گے۔۔۔اتنا کہہ کر بھابھی چپ ہو گئیں اور پاؤں کے انگوٹھے سے زمین کو کریدنے لگیں۔۔۔میں چائے کا کپ ختم کر چکا تھا۔۔۔میں نے بھابھی سے پوچھا اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو آگے بتائیں پھر کیا ہوا۔۔۔بھابھی چند لمحے اور خاموش رہنے کے بعد بولیں۔۔۔پھر ہم لوگوں نے اپنے گھر والوں کو مطلع کیا اور ان کی مرضی سے ہماری شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی۔جب سہاگ رات کو میں ارمغان کی دلہن بنی سہاگ کی سیج پر بیٹھی تھی۔تب ارمغان نے میرے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔***** نے ان کو وجاہت اور خوبصورتی تو بے تحاشا دی ہے لیکن ان کی مردانگی میرے آگے چند لمحے بھی ٹِک نہ پائی اور وہ ٹھس ہو گئے۔۔۔

    جب ایک جگہ پر مرد اور عورت تنہائی میں ہوں تو ان کے درمیان شیطان آ ہی جاتا ہے۔

    بھابھی کی باتیں سن کر میں کافی حیران تو ہوا لیکن ساتھ ساتھ ہی میرا لن بھی کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔میں نے ہاتھ نیچے کر کے لن کے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی اور میری یہ حرکت بھابھی سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔میں نے بھابھی کی آنکھوں میں نظریں گاڑھتے ہوئے پوچھا کہ اب آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔۔۔بھابھی میری طرف دیکھنے کے بعد دوسری طرف مڑ گئیں اور بولیں۔۔۔
    ایک رات کا ساتھی۔
    ایک رات کا ہمسفر۔
    مضبوط طاقتور ہمسفر۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  2. The Following 9 Users Say Thank You to Javaidbond For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), abkhan_70 (28-10-2018), Admin (29-10-2018), curveslover (30-10-2018), hot-boy (06-11-2018), hot_irfan (28-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018), paaap (28-10-2018)

  3. #2
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    80
    Thanks Thanks Given 
    107
    Thanks Thanks Received 
    114
    Thanked in
    59 Posts
    Rep Power
    163

    Default



    بہت ہی کمال کی کہانی ہے ، دلچسپ اور سیکس سے بھرپور کہانی کی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار ہے

  4. The Following User Says Thank You to irfan1397 For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  5. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    365
    Thanks Thanks Given 
    19
    Thanks Thanks Received 
    177
    Thanked in
    103 Posts
    Rep Power
    45

    Default

    zabardast kahani hai. is kahani ko paid section mein post karna chahye kiya khiyaal hai javid bond sir

  6. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  7. #4
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    15
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    44
    Thanked in
    13 Posts
    Rep Power
    156

    Default

    Quote Originally Posted by story maker View Post
    zabardast kahani hai. is kahani ko paid section mein post karna chahye kiya khiyaal hai javid bond sir
    سر جی آپ نے آکھ دتا۔۔۔بس ساڈے واسطے تواڈا آرڈر تے لوئے دا گارڈر۔۔۔ہن اے پیڈ سیکشن اچ ای اپلوڈ ہووے گی نئیں تاں نئیں��۔

  8. The Following User Says Thank You to Javaidbond For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  9. #5
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    15
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    44
    Thanked in
    13 Posts
    Rep Power
    156

    Default

    Quote Originally Posted by irfan1397 View Post


    بہت ہی کمال کی کہانی ہے ، دلچسپ اور سیکس سے بھرپور کہانی کی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار ہے
    سار جی۔۔۔
    سٹوری پوری تے ہووے گی۔اس چیز دی گارنٹی ہے۔۔۔لیکن اپ ڈیٹ کب آوے گی۔کجھ کہہ نئیں سکدا

  10. The Following User Says Thank You to Javaidbond For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  11. #6
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    365
    Thanks Thanks Given 
    19
    Thanks Thanks Received 
    177
    Thanked in
    103 Posts
    Rep Power
    45

    Default

    Quote Originally Posted by Javaidbond View Post


    سر جی آپ نے آکھ دتا۔۔۔بس ساڈے واسطے تواڈا آرڈر تے لوئے دا گارڈر۔۔۔ہن اے پیڈ سیکشن اچ ای اپلوڈ ہووے گی نئیں تاں نئیں��۔
    agar new update likh li hoi hai to paid section mein new thread bana kar story 1st post se start karien aur new update last mein dain. aur us thread ka link yahan share kar dain ta k paid members link click kar k urrtey howe wahan ja pohanchein

  12. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  13. #7
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    Pakistan
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Dear writer you have to write a good and attractive story. I know a story maker write its story to plan a full ground. But Its my request you that please make sameer a doctor after his metric and then F.Sc. but some marks down and no admission and then sameer take contact with siyasi admi and take admission then a doctor and friendship with him and sex more and more. This is my opinion but this is your story you think better than me. Thanks

  14. The Following User Says Thank You to bhutta62 For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  15. #8
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    9
    Thanks Thanks Given 
    4
    Thanks Thanks Received 
    9
    Thanked in
    8 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Very nice story but problem is that comments not approved by the moderators. My last comments on shahg's story after 3 day i request to moderators please update comments as soon as possible.

  16. The Following User Says Thank You to paaap For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  17. #9
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    1
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    story ki update? waise pata nai sab kahan gai?

  18. The Following User Says Thank You to justaghoost For This Useful Post:

    hot_irfan (28-10-2018)

  19. #10
    Join Date
    Feb 2010
    Posts
    109
    Thanks Thanks Given 
    467
    Thanks Thanks Received 
    139
    Thanked in
    69 Posts
    Rep Power
    20

    Default

    wellcome back javaid-Bond bht Zabrdst mast update

  20. The Following 2 Users Say Thank You to hot_irfan For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), irfan1397 (28-10-2018)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •