سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

Page 1 of 4 1234 LastLast
Results 1 to 10 of 31

Thread: محبتیں

  1. #1
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Post محبتیں

    رشیداں کی آنکھ کھولی وہ اٹھ کر واش روم کی طرف چل دی لیکن جیسے ہی وہ موشیوں کے کمرے کے سامنے پہنچی اسے لگا کہ کمرے میں کوئی ہے اس نے سوراخ سے دیکھا تو اس کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی کمرے میں اس کا بیٹا واجد جسے پیار سے سب واجو کہتے تھے کھڑا تھا اور اس کے سامنے کوئی بیٹھا اس کے لن کو چوس رہا تھا وہ کون تھا رشیداں کو نظر نہیں آیا ۔لیکن رشیداں جاننا چاہتی تھی کافی دیر رشیداں دیوار سے لگی دیکھتی رہی لیکن نیچے والا نیچے ہی بیٹھا ہوا تھا لیکن واجو کی ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی رشیداں واش روم جانا چاہتی تھی لیکن وہ وہاں سے بھی ہٹنا نہیں چاہتی تھی آخر اس نے واشروم جانے کا فیصلہ کر لیا وہ جب واشروم سے ہو کر واپس آئی اور اس نے سوراخ سے آنکھ لگائی تو اندر وہ ہی شخص جس کی ابھی تک رشیداں کو شکل نظر نہیں آئی تھی گھوڑی بنا ہوا تھا اور واجو اس کو لن چوت میں ڈالے چود رہا تھا کافی دیر بعد واجو اس کے اندر ہی چھوٹ گیا اور وہ جیسے ہی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تو رشیداں کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی یہ کوئی اور نہیں بلکہ بلکہ
    Last edited by Story Maker; 21-10-2018 at 02:12 PM.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to Rizy.b For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  3. #2
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    13
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    dear ap ny kafi sari story update kr di thi.jdr tk ap ny story post ki thi wo ap roman english ma post kr do baqi us k bad ki update urdufont ma start kr dena. is tra bohat time lg jaye ga.

  4. #3
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    ۔ واجد عرف واجو فیصل آباد کے ایک گاؤں میں رہتا تھا ایک خوبصورت بچہ تھا اور اپنے والدین کا سب سے چھوٹا اور اکلوتا بیٹا تھا واجو کی دو بہنیں بھی تھیں ۔ واجو پڑھائی لکھائی کے معملات میں کافی ذہین تھا ۔ واجو اپنی امی کے کمرے میں اپنی امی کے ساتھ ہی سوتا تھا ایک رات جب واجو کی آنکھ کھولی تو اس نے سسکیوں کی آواز سنی دیکھا تو اس کی ماں نیچے لیٹی ہوئی تھی اور اس کا باپ اس کے اوپر لیٹا ہل رہا تھا واجو سمجھا شاید ابا امی کو مار رہا ہے تو وہ بھی ڈر کے مارے کچھ نہ بولا لیکن یہ کیا کچھ دیر کے بعد وہ دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے واجو کو کچھ سمجھ نہ آئی اب کو غور کرنا شروع ہو گیا اسے ہفتے میں دو تین دفع تو اپنے ماں باپ کا سیکس سین دیکھنے کا موقع مل جاتا تھا لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے لیکن اب وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں اس نے کسی سے اس بارے میں ذکر نہ کیا کیونکہ وہ ڈرتا تھا۔ واجو کی ماں نے محسوس کر لیا تھا کہ واجو اب بڑا ہو گیا ہے اس لیئے اب انہوں نے واجو کو ان کی بہنوں کے کمرے میں سولانا شروع کر دیا تھا واجو پہلے تو کچھ پرشان ہوا لیکن پھر آہستہ آہستہ سمجھ گیا اور پھر اس کے پانچویں جماعت کے پیپر شروع ہو گئے پانچویں جماعت کے پیپرز کے بعد اس کی بہن کی شادی تھی اسی طرح شادی میں اور اس کی تیاریوں میں واجو کے دو مہینے گزر گئے اور پھر اس کا رزلٹ آ گیا تو واجو نے اچھے نمبروں میں امتحان پاس کر لیا تھا واجو کے والد نے اب واجو کو شہر کے بڑے سکول میں داخل کروا دیا تھا اور سکول جانے کے لیے وین بھی لگوا دی تھی اسی وین میں اس کی بہن بھی کالج جاتی تھی لیکن جلد ہی اس کا کالج ختم ہونے والا تھااور اگلے سال تک اسکی شادی بھی ہو جانی تھی واجو وین میں اگلی سیٹ پر بیٹھ کر جاتا تھا اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ وین میں اور کون کون جاتا ہے واجو کے گاؤں میں کوئی دوست وغیرہ نہیں تھے کیونکہ واجو کے والد ایک امیر آدمی تھے اور باقی گاؤں کے لوگ غریب ہی تھے اس لئے واجو کو سوائے چاچے فضل کے گھر کے کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی چاچا فضل واجو کے والد کا کزن تھا چاچے فضل کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی چاچا فضل کوئی کام نہیں کرتا تھا اس ک بیٹا بھی فارغ ہی رہتا تھا لیکن ان کے معاشی حالات پھر بھی اچھے تھے ۔ واجو اب سکول جانا شروع ہو گیا تھا اسے سکول بہت پسند آیا تھا۔
    Last edited by Story Maker; 21-10-2018 at 04:03 PM.

  5. The Following 3 Users Say Thank You to Rizy.b For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  6. #4
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    پڑھنے والے حضرات رپلائی لازمی دیا کریں۔
    Last edited by Story Maker; 21-10-2018 at 04:05 PM.

  7. #5
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    باب نمبر 1
    واجو اب متواتر سکول جا رہا تھا سکول میں اس کی اک لڑکے کاشف سے دوستی ہو گئی کاشف کچھ عرصہ بیمار رہنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا کاشف کی عمر چودہ سال تھی لیکن وہ صرف چھٹی جماعت میں ہی تھا ۔ کاشف سے واجو کی دوستی آہستہ آہستہ پختہ ہوتی گئی اب وہ ایک دوسرے سے اپنے ساری باتیں شیئر کرنے لگ پڑے تھے۔ اک دن واجو نے بیٹھے بیٹھے کاشی سے اپنی امی اور ابو والی بات کی تو کاشی ہنس پڑا
    کاشی: بیوقوف وہ سیکس کر رہے تھے
    واجو: یار یہ سیکس کیا ہوتا ہے
    کاشی: یارمرد اور عورت آپس میں جو محبت کرتے ہیں کیسے سیکس کرتے ہیں
    کاشی اب واجو کو آہستہ آہستہ سیکس کے بارے میں ساری تفصیلات بتاتا گیا۔ایک دن کاشی آیا تو بہت زیادہ جوش میں تھا واجو سے کہنے لگا
    کاشی : اس اتوار کو تم نے میرے گھر آنا ہے میں تمہیں کچھ دیکھانا چاہتا ہوں
    واجو : لیکن اتوار کو تو آنا مشکل ہو جائے گا ۔
    کاشی : چلو پھر ایسا کرو تم ہفتے کی رات کو ہی میرے پاس رک جاؤ۔
    واجو: میں اپنے ابو سے پوچھ کر بتاؤنگا اور تمہارے امی ابو مان جائیں گے
    کاشی : ہاں مان جائیں گے ویسے بھی وہ اتوار کو خالہ کے گھر سمندری جا رہیں ہیں۔ گھر میں میں اور میری آپی ہوں گے۔
    واجو : میں بات کروں گا اپنے ابو سے

    دونوں کلاس میں چلے گئے واجو اپنے ابو سے اجازت لینے کی ترکیب سوچنے لگا۔ واجو نے اسی دن میں اپنی ماں سے بات کی ماں نے کچھ سوالات کرنے کے بعد اجازت دے دی اور کی کہا میں تمہارے ابو سے خود بات کر لوں گی اور وہ ہفتے کی صبح اپنے گھر والے کپڑے لے کر روانہ ہوگیا۔ جب سکول سے کاشی کے گھر پہنچے تو وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا کاشی کا کمرہ کافی خوبصورت تھا اس میں ایک بڑا سا ٹیلی ویژن اور سی ڈی پلیئر پڑا ہوا تھا واجو کاشی کے والدین سے ملا وہ واجو سے مل کر بہت خوش ہوئے اس وقت واجو کی عمر بارہ سال تھی اس لئے کاشی کے والدین کی تسلی ہو گئی کہ یہ تو صرف اک بچہ ہے۔ انہوں نے واجو سے اس کے والدین کے بارے میں کچھ سوالات کئے واجو نے سب کچھ بتا دیا تو ان کو لگا کہ واجو کی ان کے بیٹے سے دوستی اچھی ہے۔ دونوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور باہر کھیلنے چلے گئے کاشی نے واجو کو اپنے محلے کے دوستوں سے ملوایا اور شام کو گھر آتے ہوئے وہ ایک اور لڑکے سے ملا جس کی عمر 21 یا 22 سال ہوگی ۔ کاشی نے اس سے گلے ملا اور واجو نے صرف ہاتھ ملایا۔
    کاشی: یہ ہے میرا سب سے اچھا دوست محبوب ۔
    اور پھر محبوب سے مخاطب ہو کر
    کاشی : یہ ہے واجد
    محبوب : اوو اچھا تو آپ ہیں واجد کاشی آپ کے بارے میں بہت باتیں کرتا ہے۔ اورکاشی کل کا پروگرام پھر پکا ہے نا ۔
    کاشی : جی ۔ چلو پھر کل صبح ملتے ہیں
    واجو اس دوران چپ ہی کھڑا رہا ۔ دونوں واپس گھر کی طرف چل پڑے
    کاشی: سیکس کے بارے میں مجھے سب کچھ محبوب نے ہی بتایا ہے۔ اور ہم لوگ سیکس کرتے بھی ہیں۔
    واجو کو کچھ سمجھ نہیں آیا ۔
    واجو: تم تو کہتے تھے سیکس مرد اور عورت کے درمیان ہوتا ہے لیکن دو مردوں کے درمیان کیسے ہوتا ہے ۔
    کاشی : مرد کے پاس بھی اک سوراخ ہوتا ہے جس میں ڈال لن ڈال سکتے ہیں ۔
    واجو : وہ کون سا
    کاشی : کانڈ کا اور کون سا
    واجو: اس سوراخ میں چلے جاتا ہے
    کاشی : ہاں پہلی بار کچھ درد ہوتی ہے پھر آسانی سے جانا شروع ہو جاتا ہے۔
    کاشی: رات کو تمہیں میں اک فلم دکھاؤں گا
    واجو : کونسی فلم
    کاشی : ہے اک سرپرائز ہے
    اس سے پہلے کہ واجو کوئی بات کرتا وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر آ کر دونوں نے کاشی کے ابو کے پاس بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کیا اور کچھ گپ شپ لگائی رات کو آٹھ بجے کھانا کھا کر وہ دونوں کاشی کے کمرے میں چلے گئے۔ کاشی کا کمرہ فسٹ فلور پر تھا باقی سب کے کمرے گراؤنڈ فلور پر ہی تھے ۔ کاشی نے کمرے میں جاتے ہی کمرہ کی کنڈی لگا لی اور بیڈ کے کدے کے نیچے سے اک سی ڈی نکال لایا اور سی ڈی پلیئر میں چلانے لگا فلم شروع ہو گئی اور واجو نے آواز بند کر دی جیسے جیسے فلم چل رہی تھی واجو کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا فلم میں اک بندا اک لڑکے کے منہ میں لن ڈال چکا تھا لڑکا بڑے مزے سے اس بندے کا لن لولی پاپ کی طرح چوس رہا تھا واجو کا لن بھی کھڑا ہو چکا تھا فلم چل رہی تھی اب اس بندے نے لڑکے کو الٹا لٹا کر اس کی گانڈ کو چوما اور اس کی گانڈ کی دراڑ میں اپنا لن پھننسا دیا اور آہستہ آہستہ لن لڑے کی گانڈ میں غائب ہونا شروع ہو گیا لن پورا لڑکے کی گانڈ میں جا رہا تھا واجو ارد گرد سے بےگانا ہو کر بس فلم دیکھ رہا تھا واجو کو اپنی ران پر کچھ رینگتا محسوس ہوا اس نے دیکھا تو کاشی اپنا ہاتھ واجو کی ران پر پھیر رہا تھا آہستہ آہستہ وہ اپنا ہاتھ واجو کے لن کی طرف لے گیا اور واجو کے لن کو پکڑ لیا واجو کو بھی اچھا لگنے لگا فلم میں اب بندا لڑکے کو گھوڑی بنا کر اس کی سواری کر رہا تھا جیسے ہی کاشی نے واجو کا لن ہاتھ میں لیا اس کی آنکھیں کھولیں رہ گئیں
    کاشی : واجو تمہارا لن تو بہت بڑا ہے محبوب سے بھی بھی بڑا ہے
    کاشی نے جلدی جلدی واجو کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور واجو کا لن باہر نکال لیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا فلم میں اب بندے نے لن لڑکے کے منہ میں ڈالا ہوا تھا اور اس میں سے سفید سفید مادہ نکل رہا تھا
    واجو : یہ سفید پشاب کیسے نکلا
    کاشی : یہ منی ہے ۔جب یہ نکلتی ہے تو بہت مزہ آتا ہے۔
    واجو : تمہاری نکلتی ہے یہ منی
    کاشی : ہاں دو مہینے پہلے ہی نکلنی شروع ہوئی۔
    واجو : کیسے نکالتے ہو تم منی
    کاشی : مٹھ مار کے
    واجو : مٹھ کیسے مارتے ہیں
    کاشی نے واجو کے لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا
    کاشی : ایسے مارتے ہیں مٹھ
    واجو کو مزہ آ رہا تھا اور واجو کی آنکھیں بند ہو رہیں تھی واجو کو جھٹکا لگا جب کاشی نے واجو کا لن منہ میں لیا اور چوسنا شروع کر دیا واجو تو ہواؤں میں تھا واجو کا لن مشکل سے آدھا ہی کاشی کے منہ میں جا رہا تھا واجو آنکھیں بند کرکے مزے لے رہا تھا کاشی نے لن منہ سے نکالا تو واجو نے آنکھیں کھولیں کاشی کو دیکھا تو کاشی کپڑے اتار رہا تھا کپڑے اتار کر کاشی الٹا لیٹ گیا اور واجو کو بولا
    کاشی: واجو آؤ اور اپنا یہ موٹا اور لمبا سا لن ڈال دو میری گانڈ میں
    واجو : کیسے
    کاشی : اپنا لن میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر اندر دباؤ اندر چلے جائے گا پھر اندر باہر کرنا شروع کر دینا
    واجو کاشی کی گانڈ پر سوار ہو گیا اور اپنا لن کاشی کی گانڈ پر سیٹ کیا اور اندر کرنے کی کوشش کرنے لگا پندرہ منٹ کی محنت کے بعد آ خر کار اپنے لن کی ٹوپی کاشی کی گانڈ میں ڈال ہی لی اور وزن ڈالنا شروع کیا لن آہستہ آہستہ پورا ہی کاشی کی گانڈ میں ڈال دیا اور گسیے مارنے شروع کر دیئے کاشی مزے سے سسک رہا تھا اور واجو کو بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا واجو تھک گیا تھا اب اس نے لن نکال لیا تو کاشی گھوڑی بن گیا واجو پیچھے آیا اور اک ہی جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال دیا کاشی کی چیخ نکل گئی کاشی نے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا اور واجو رکا نہیں کاشی نے اپنی مٹھ مارنی شروع کر دی اور جلد ہی منی نکال دی اور آٹھ کر واش روم چلا گیا واپس آیا اور کپڑے پہنے شروع کر دیئے
    واجو : یار کوشش کرتے ہیں شاید میری منی بھی نکل آئے
    کاشی : نہیں نکلے گی تم مجھ سے تین سال چھوٹے ہو
    واجو : پلیز یار
    کاشی : مٹھ مار لو
    واجو : ہاں یہ ٹھیک ہے
    واجو نے مٹھ مارنی شروع کر دی لیکن کافی دیر کے بعد واجو کے لن میں درد شروع ہو گئی تو اس نے دوبارہ کاشی کو گانڈ ماروانے کے بارے میں کہا تو کاشی مان گیا
    کاشی : اوکے میں الٹا ہو کر لیٹ جاتا ہوں اور تم اندر ڈال لو لیکن مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے لگا ہو جب میری گانڈ ماری مار کے تھک جاؤ تو سو جانا
    کاشی نے شلوار اتار دی واجو نے اس کی گانڈ میں لن ڈال دیا اور شروع ہو گیا پتہ نہیں کب واجو کو نیند آ گئی وہ کاشی کے اوپر ہی لیٹ گیا اور نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا
    Last edited by Story Maker; 21-10-2018 at 05:17 PM.

  8. The Following 3 Users Say Thank You to Rizy.b For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  9. #6
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    . باب نمبر 1 حصہ دوئم
    سکول کی زندگی
    اگلی صبح دروازہ کھٹکنے سے دونوں کی آنکھ کھولی دونوں ہی ننگے لیٹے ہوئے تھے دونوں نے اٹھ کر جلدی جلدی کپڑے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر آگئے واجو نے باہر دیکھا تو دروازے کے باہر ایک لڑکی کھڑی تھی یہ کاشی کی بڑی بہن تھی اس کا نام کنول تھا
    کاشی : آپی صبح صبح جگا دیا
    کنول : تم لوگ کھانا کھا لو میں اپنی دوست کے گھر جا رہی ہوں شام تک واپس آ جاؤں گی اور کہیں جانا نہیں
    کاشی : اوکے آپی۔
    دونوں نے کھانا کھایا اور وہیں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگے ابھی انہیں ٹی وی دیکھتے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ڈور بیل بجی
    کاشی: شاید محبوب آگیا ہوگا میں باہر دیکھ کر آتا ہوں
    پانچ منٹ کے بعد کاشی اور محبوب کمرے میں داخل ہوئے محبوب کے ہاتھ اک شاپر بیگ تھا۔
    کاشی: کیوں محبوب وہ فلم ملی
    محبوب : ارے کاشی ایک نہیں بلکہ تین موویز لے کر آیا ہوں مزے کریں گے شام تک
    واجو: کون سی مووی
    کاشی : وہ ہی جو رات کو دیکھی تھی
    واجو کی آنکھوں میں چمک آ گئی کہ آج تو مزے ہی ہو گئے۔ سب لوگ کاشی کے کمرے میں چلے گئے کاشی نے جاتے ہی ٹی وی چلا لیا اور محبوب نے اک مووی دی کہ اسے پہلے چلاؤ۔مووی چل پڑی سب بڑی غور سے مووی دیکھنے لگے واجو تو بڑی ہی غور سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا مووی میں تین لڑکے آپس میں کس کر رہے تھے آہستہ آہستہ تینوں لڑکے کپڑے اتارنا شروع ہو گئے اور پھر دو لڑکے نیچے بیٹھ کر اک کا لن چوسنے لگے واجو مووی میں پورا کھویا ہوا تھا کاشی کی چیخ سے اس نے جلدی سے موڑ کر دیکھا تو کاشی گھوڑی بنا ہوا تھا اور محبوب فل سپیڈ میں لگا ہو تھا کاشی کی اب اونچی اونچی چیخیں نکل رہی تھی محبوب کی رفتار تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی کاشی اب بالکل نڈھال ہو چکا تھا وہ شاید دس منٹ سے لگے ہوئے تھے محبوب کا چہرا لال ہو گیا تھا اب محبوب نے لن کاشی کی گانڈ سے نکالا اور مٹھ مارنے لگا کاشی بھی اب بیٹھ چکا تھا محبوب نے اپنا لن کاشی کے منہ میں ڈال دیا اور آنکھیں بند کر کے مزا لینے لگا کچھ دیر کے بعد محبوب نے اپنا لن نکالا تو اس پر سفید رنگ کی منی لگی ہوئی تھی کاشی محبوب کے لن کو چاٹ کر صاف کر رہا تھا یہ سین دیکھ کر واجو مووی کو بھول گیا واجو کو بہت مزا آ رہا تھا محبوب کالن واجو سے کچھ چھوٹا تھا لیکن موٹا زیادہ تھا واجو کا دل کر رہا تھا کہ وہ بھی محبوب کا لن چوس کر دیکھے کہ اسے کیا مزہ آتا ہے لیکن وہ چپ کھڑا رہا محبوب اب واش روم میں چلا گیا اور کاشی بھی منہ دھونے چلا گیا جب کاشی واپس آیا تو واجد اپنا لن شلوار سے نکال چکا تھا کاشی نے جب واجو کا لن دیکھا چپ چاپ شلوار اتار کے بیڈ پر گھوڑی بن گیا واجو نے جاتے ہی لن کاشی کی گانڈ میں پیل دیا اور جھٹکے مارنے لگا ابھی دو چار جھٹکے ہی مارے تھے کہ محبوب باہر آ گیا اور بولا۔
    محبوب : واہ کاشی ایک ہی رات میں لڑکے کو کاریگر کر دیا
    کاشی : اس کا لن آپ سے بھی بڑا ہے
    محبوب: یار واجو کبھی تم نے گانڈ مروائی ہے
    واجو: نہیں
    محبوب : تو پھر آج مروا لو
    واجو : چلو ٹھیک ہے لیکن آپ کو مرد اور عورت کے سیکس کے بارے میں بتانا پڑے گا
    محبوب : ہاں ہاں ضرور بتاؤ گا اور رات کو لائیو بھی دیکھا دوں گا کیوں کاشی
    ○کاشی بس مسکرا دیا محبوب اب فلم کی طرف متوجہ ہو جس میں اب ایک لڑکا دونوں لڑکوں کی ٹانگیں اٹھا کر انہیں چود رہا ہے تھوڑی دیر بعد کاشی اور واجو بھی تھک گئے اور آ کے فلم دیکھنے لگے ۔ فلم کے سین چلتے گئے اور سب دیکھتے گئے محبوب کو پھر سے ہوشیاری آنے لگی محبوب نے پھر کاشی کا ہاتھ پکڑا اور بیڈ طرف لے گیا اور اسکو چومنے لگا کاشی نے بھی محبوب کالن پکڑ لیا اور اس کی مٹھ مارنے لگا جب محبوب کا فل کھڑا ہو گیا اس نے کاشی کو کہا تم فلم دیکھو اب میں ذرا واجو کی گانڈ ڈھلی کرلو محبوب میں واجو کو بلایا اور واجو کو کس کرنے لگا اسے یہ بہت اچھا لگ رہا تھا کس کرتے ہوئے وہ واجو کی گانڈ کو بھی دبا رہا تھا پھر اس نے واجد کے سر نیچے دبانے شروع کیا واجو سمجھ گیا کہ محبوب کیا چاہتا ہے ۔واجو گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور محبوب کے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرنے لگا اسے یہ زائقہ عجیب سا لگ رہا تھا لیکن وہ لگا رہا کیونکہ اس نے بہت کچھ سیکھنا تھا محبوب نے اسے منہ کھولنے کا کہا اور لن اس کے منہ میں دے دیا واجو کے منہ میں مشکل سے صرف 2 انچ ہی لن آ سکا ۔ جتنا منہ میں پورا آیا وہ اس نے منہ میں لے لیا اور باقی پر ہاتھ سے مٹھ مارنے لگا ۔ محبوب واجو کے سر پر ہاتھ رکھ کر اور زیادہ اندر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کی آنکھیں مزے سے بند ہو رہیں تھیں
    محبوب : کاشی تیل کی شیشی لاؤ جس طرح تمہیں چالو کیا تھا آج اسے بھی چالو کر دیتیں ہیں
    کاشی : میرے تو بہت درد ہوا تھا لیکن اسے اتنا درد نہ دینا ہم نے کل سکول بھی جانا ہے ۔
    کاشی کو یاد آ گیا جب پہلی دفع محبوب نے اس کی گانڈ ماری تھی اسے بہت درد بھی ہوا تھا اور تین دن تک بخار بھی رہا تھا کاشی کو پرانی یادیں آ رہیں تھیں کیسے زبردستی اس کی گانڈ ماری گئی اور بار بار ماری گئی اور پھر کاشی کو بھی مزہ آنے لگا اسی مزے کے لئے آج کاشی کو کیا کیا کرنا پڑ رھا تھا ۔

    ____________________________________________

    کاشی کی یادیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔کاشی دو سال تک بیمار رہا اس دوران اس نے سکول چھوڑ دیا تھا اس کے ابو کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا اس لیے وہ گھر سے زیادہ باہر ہی رہتے تھے اس کی امی ہی اس کا علاج کروا رہی تھیں ایک سال کاشی کو بیمار پڑے ہو چکا تھا لیکن یہ تو ٹھیک ہی نہیں ہو رہا تھا اب کاشی کی امی اب اسے لے کر فیصل آباد سے لاہور چلی گئیں اور اسے لاہور کے ڈاکٹر نے اسے چیک کیا تو وہ کچھ ٹھیک ہو نے لگا اب وہ کچھ بہتر تھا اسے پوری طرح ٹھیک ہونے میں چھ ماہ لگ گئے تھے اب وہ ٹھیک تھا لیکن اسے ابھی سکول نہیں بھیجا جاتا تھا کیونکہ ابھی چھ مہینے کے بعد کلاس شروع ہونی تھی اس لئے وہ سارا دن گھر میں ہی رہتا تھا رات کو وہ اپنی بہن کے کمرے میں ہی سوتا تھا اک رات کاشی کی آنکھ کھولی تو اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی اس نے باجی کی چارپائی کی طرف دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھیں اس نے سمجھا کہ شاید وہ واش روم گئی ہو گی اس لئے وہ اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا کچن سے جیسے ہی وہ پانی پی کر نکلا اس کی امی کے کمرے سے کسی مرد کی آواز آ رہی تھی کاشی کے ابو تو گھر سے باہر تھے کاشی سمجھا کہ ابو واپس آ گئے ہوں گے لیکن یہ آواز اس کو ابو کی نہیں لگی اس نے اندر دیکھنے کا سوچا کہ اندر کون ہے وہ کھڑکی کی طرف گیا خوش قسمتی سے کھڑکی کھولی ہی مل گئی اندر دیکھا تو اندر کاشی کی امی ننگی بیٹھیں کسی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی کاشی نے لڑکے کی شکل دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کی پشت تھی کھڑکی کی طرف اس لڑکے نے بھی صرف انڈر ویئر پہنا ہوا تھا وہ دونوں بہت خوش نظر آ رہے تھے
    کاشی کی امی: اب تو خوش ہو نہ اب مجھے کتنا اور انتظار کرواؤ گے
    لڑکا: آج تو آپ نے خوش ہی کر دیا آ جاؤ اور کرو کھڑا اسے
    یہ کہتے ہوئے لڑکے نے اپنا انڈر ویئر اتار دیا کاشی کی امی جا کر اس کے پیروں میں بیٹھ گئ اور کمرے کے اٹیچ واش روم کا دروازہ کھولا تو کاشی ایسے اچھلا جیسے اسے 440 ولٹ کرنٹ لگا ہو واش روم سے کوئی اور نہیں بلکہ کاشی کی بہن کنول نکلی تھی اور وہ بھی بلکل ننگی ہی تھی آتے ہی بیڈ پر لیٹ گئی وہ بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی
    کنول : امی بہت جلن ہو رہی ہے
    کاشی کی امی: کوئی بات نہیں دراز میں گولی رکھی ہے وہ کھا لو اور سو جاؤ صبح تک ٹھیک ہو جائے گی
    کنول : اچھا
    لڑکا : کنول جی مزہ تو آیا ہے یا وہ بھی نہیں
    کنول : مزہ تو بس آخر میں آیا شروع میں تو بس درد ہی ہوتا رہا
    لڑکا : چلو اگلی دفع مزہ آئے گا
    کنول بس مسکرا دی ادھر کاشی کی ماں بیٹھی لڑکے کے چوپے لگا رہی تھی کاشی کی امی اٹھی اور صوفے کی طرف چل دی لڑکا بھی اس کے پیچھے چل پڑا اب جیسے ہی لڑکا موڈا اس کی شکل کاشی نے دیکھ لی یہ کوئی اور نہیں یہ تو کاشی کے محلہ کا لڑکا محبوب تھا کاشی کی ماں اب صوفے پر لیٹ کر اپنی ٹاںگیں اوپر کر چکی تھی محبوب نے اپنا منہ اس کی چوت پر رکھ دیا اور ساتھ ہی اپنی دو انگلیاں چوت میں ڈال دی وہ چوت کے دانے کو چوس رہا تھا اور اپنی انگلیاں اندر باہر کر رہا تھا کاشی کی امی کی سسکیاں کمرے میں کھونج رہیں تھیں کاشی کو اب باہر سے دیکھنے میں مزہ آنے لگا پتا نہیں کب اس کا ہاتھ اپنے لن پر چلا گیا کاشی کی ماں بڑے مزے میں تھی اور پتہ نہیں کیا کیا بولے جا رہی تھی محبوب اپنے کام میں لگا ہوا تھا کاشی کی امی کی سسکیاں اب تیز ہو کر چیخوں میں بدل گئی تھی وہ محبوب کے سر کو اپنی چوت پر دبا رہی تھی محبوب کی انگلیوں کی حرکت اب تیز ہو گئی تھی کاشی کی ماں نے اک زور دار چیخ ماری اور محبوب نے اپنا منہ ہٹا لیا کاشی کی ماں کی چوت سے پانی نکل رہا تھا اور کچھ پانی محبوب کے منہ پر بھی لگا ہوا تھا کاشی کی ماں اٹھی اور محبوب کا منہ چاٹ کر صاف کر دیا ۔ کنول لیٹی یہ سب دیکھ رہی تھی اور اپنی چوت کو رگڑ رہی تھی
    کاشی کی ماں : محبوب اب یہ آگ اور بڑ گئی ہے اس اب اپنے پانی سے ٹھنڈا کر دو
    وہ اب محبوب کو کس کر رہی تھی اور محبوب اس کی گانڈ کو دبا رہا تھا کس کرتے کرتے اس نے اپنا منہ اس کے ایک 40 سائیز کے ممے پر رکھ دیا وہ کبھی ایک ممے کو چوستا تو کبھی دوسرے ممے کو اور ساتھ ساتھ گانڈ کو بھی دبا رہا تھا کاشی کی ماں کا ایک ہاتھ محبوب کے موٹے لن پر تھا اور دوسرا اس کے سر پر مموں سے ہٹ کر محبوب اب دوبارہ کس کرنے لگا کس کرتے ہوئے محبوب کو گود میں اٹھا لیا وہ اسے اٹھا کر صوفے پر لے گیا اور اسے گھوڑی بننے کو کہا
    کاشی کی ماں : آج پلیز چوت میں ڈالنا گانڈ پر کبھی مار لینا
    محبوب: اچھا ٹھیک ہے اور تو میرا موڈ تو گانڈ مارنے کا تھا لیکن آج آپ نے میری بات مان کر مجھے خوش کر دیا
    کاشی کی ماں: کنول نے کسی نہ کسی سے تو چدنا تھا چلو تم نے چود لیا اس سے اب ہمیں ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور تمہیں بھی کنواری چوت ملتی رہے گی لیکن کنول کی چوت ملنے کے بعد مجھے بھول مت جانا
    محبوب: ارے نہیں نہیں میں تم دونوں کو اکٹھے چودا کروں گا
    کاشی کی ماں: بڑے تیز ہو تم
    باتوں کے دوران کاشی کی ماں صوفے پر لیٹ چکی تھی محبوب اس کے اوپر چڑھ گیا اور اسے کس کرنے لگا اور اس کے دونوں ہاتھ کاشی کی ماں کے مموں پر تھے اور وہ سسک رہی تھی محبوب کاشی کی ماں کی ٹانگوں کے درمیان لیٹا ہوا تھا محبوب کالن فل کھڑا تھا اور وہ کاشی کی ماں کی چوت سے ٹچ ہو رہا تھا کاشی کی ماں نے محبوب کالن پکڑ کر اپنی چوت پر رکھا لیکن محبوب اسے تڑپانا چاہتا تھا وہ جان بوجھ کر اندر نہیں کر رہا تھا جسے کاشی کی ماں نے بھی محسوس کر لیا تھا وہ اب کس کرتے ہو پلٹی تو محبوب اس کے نیچے آ گیا اور وہ پر آگئی اوپر آتے ہی اس نے محبوب کالن پکڑا اور اپنی چوت پر سیٹ کیا ایک جھٹکے سے اوپر بیٹھ گئی اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے بچی اب وہ محبوب کے سینے پر ہاتھ رکھے اوپر نیچے اچھل رہی تھی اسکی سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی پانچ منٹ کے بعد وہ تھک گئی تو وہ اوٹھ کر کھڑی ہو گئی محبوب بھی سمجھ گیا کہ وہ تھک گئی ہے اس لئے وہ اٹھا اور اس نے کاشی کی ماں کو صوفے پر لیٹایا اور اس کی ایک ٹانگ اوپر کر لی اور اک ویسے ہی رہنے دی اور لن اس کی چوت میں ایک زور دار جھٹکے سے ڈال دیا اس کی اس سسکی نکلی محبوب اب بغیر رکے دھکے مار رہا تھا اس کی سپیڈ تیز ہوتے ہوتے بہت تیز ہو گئی تھی کاشی کی ماں کے منہ سے بے ترتیب آوازیں نکل رہی تھیں آ آ آ ہمممممممم زورررررررر ظالم مممممم کاشی کی ماں بہت مزے میں تھی لیکن محبوب یہ کوشش کر رہا تھا کہ وہ جلد پانی چھوڑ دے تاکہ وہ اس کی گانڈ بھی مار سکے آخر کار محبوب کی محنت رنگ لے آئی اور کاشی کی ماں کا چہرہ لال ہونے لگا اور وہ آنکھیں بند کر کے مزہ لینے لگی محبوب نے بھی سپیڈ طوفانی کر دی ایک لمبی سی سسکی کے بعد کاشی کی ماں نے پانی چھوڑ دیا محبوب کچھ دیر ایسے لیٹا رہا اور پھر اپنا لن پھودی سے نکال کر کھڑا ہو گیا اور بولا
    محبوب: چلو اب جلدی سے گھوڑی بن جاؤ میرا لن تمہاری گانڈ مانگ رہا ہے
    کاشی کی ماں : نہیں آ ج گانڈ کا نام بھی نہ لینا تم نے وعدہ کیا تھا
    محبوب : چلو چوت میں ہی ڈال لیتا ہوں
    کاشی کی ماں : میں پہلے ہی دو دفع چھوٹ چکی ہوں میں اب منہ سے فارغ کر دیتی ہوں
    محبوب : نہیں گانڈ دو یا چوت میں آج منہ میں نہیں چھوٹنا چاہتا
    محبوب نے دیکھا کہ کنول بڑے مزے سے یہ سب دیکھ کر چوت کو مل رہی ہے
    محبوب کاشی کی ماں کے کان میں : اب اپنی بیٹی کی چیخیں سننے کو تیار ہو جاؤ ۔
    کاشی کی ماں : وہ ابھی جوان ہے میرے خیال میں وہ پھر سے برداشت کر کے گی لیکن تھوڑا آرام سے کرنا
    محبوب اوٹھا اور کنول کی طرف جانے لگا کنول چلائی نہیں نہیں پہلے ہی بہت جلن ہو رہی ہے
    محبوب : پہلے میں نے پانی میں نے تیری ماں کے منہ میں نکالا تھا اب اندر نکالوں گا سب جلن ختم ہو جائے گی
    کنول الجھ گئی دل تو کنول کا بھی کر رہا تھا
    کنول : لیکن پانی اندر ڈالنے سے میں پریگننٹ ہو جاؤ گی تو
    کاشی کی ماں : پریگننٹ ہونے کی پروا نہ کرو میرے پاس گولی ہے جو تمہیں پریگننٹ نہیں ہونے دیے گی
    محبوب اسی دوران بیڈ پر پہنچ کر کنول کے ساتھ مستیاں کر رہا تھا اور کنول بھی انجوائے کر رہی تھی کاشی کی ماں بیٹھی ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی محبوب اب کنول کے ساتھ کسنگ کر رہا تھا اور اس کے چھوٹے چھوٹے ممے ہاتھوں سے مسل رہا تھا اور کسنگ شددت اختیار کر چکی تھی اور محبوب کا دل اب صرف ایک ہی سٹائل میں چودنے کو کر رہا تھا اس نے کنول کو گھوڑی بننے کا کہا کنول فوراً گھوڑی بن گئی محبوب نے اپنا چھ انچ کا لن کنول کی چوت پر رکھا ہی تھا تو کنول کی ماں نے جلدی سے اپنا دوپٹے کا گولا سا بنا کر کنول کے منہ میں ڈال دیا محبوب نے ایک ہلکا سا جھٹکا دیا تو ٹوپی چوت میں چلے گئی اور پھر وہ ہوا جس کا کنول کی ماں کو پتہ تھا محبوب نے ایک ہی جھٹکے میں پورا لن کنول کی چوت میں ڈال دیا کنول کی آنکھیں تو پھٹنے کو آ گئی تھی درد تو ایسے ہو رہا تھا کہ آج آخری دن ہو لیکن وہ منہ میں کپڑا لئے سب کچھ برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس بار درد بچھلی بار سے بھی زیادہ ہوا تھا کیونکہ اس بار لن ایک ہی جھٹکے میں پورا ندر گیا تھا اب محبوب نے فل زور سے جھٹکا مارا تو کنول آگے کو گر پڑی تو محبوب بھی اس کے اوپر ہی آ گیا اور اپنے پورے زور سے دھکے مارنے لگا کنول کی آنکھوں سے دردکی وجہ سے آنسو نکل رہے تھے اور ادھر کاشی کی ماں محبوب کو
    کاشی کی ماں : آج لگا دے سارا زور چود میری بیٹی کو اس کی چھوٹی سی پھودی کو چود چود کر پھودا بنا دے
    ۔۔۔ ان باتوں سے محبوب کا جوش اور بڑھ رہا تھا اب اس کے جھٹکے طوفانی ہو چکے تھے اچانک کنول کی نظر کھڑکی پر پڑی تو وہاں کاشی کو دیکھ کر اور پیچھے سے درد کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی لیکن محبوب پر تو جنون سوار تھا کاشی کی ماں کو بھی پتہ لگ چکا تھا کہ کنول بی ہوش ہو چکی تھی لیکن وہ بیٹھی دیکھتی رہی اور مسکراتی رہی آخر محبوب کو لن کی وینز پھولتی محسوس ہوئی اس نے سپیڈ اور تیز کر دی آخری جھٹکے اس نے پورے زور سےلگائے اور کنول کی چوت میں ہی فارغ ہو گیااور کنول کے اوپر ہی لیٹ گیا پانچ منٹ ایسے ہی لیٹا رہا پھر اوٹھ کر اپنے لن کی طرف دیکھا جو منی سے گیلا تھا اس نے کاشی کی ماں کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
    محبوب : دیکھ تیری بیٹی نے میرا لن گندہ کر دیا ہے
    کاشی کی ماں : چل کوئی بات نہیں میں تیرے لن کو اپنے منہ سے صاف کر دیتی ہوں
    یہ کہہ کر وہ اٹھی اور محبوب کا چھوٹا سویا ہو لن چاٹنے لگی چاٹ کر صاف کر دیا تو محبوب اپنے کپڑے پہن کر چلا گیا تو کاشی کی ماں نے کنول کے سر وغیرہ پر ہاتھ لگا کر دیکھا اور پر سکون ہو کر واش روم میں چلے گئی اور کاشی بھی جلدی جلدی اپنے کمرے میں چلا گیا اور اس بارے میں سوچنے لگا سوچتے سوچتے آخر کار اسے نیند آ گئی اگلی صبح کاشی کی آنکھ دیر سے کھولی جب وہ اوٹھ کر باہر آیا تو گھر میں امی اور کنول دونوں تھے لیکن کنول کو بہت تیز بخار تھا وہ امی کے کمرے میں سوئی ہوئی تھی سارا دن ایسے ہی ہی گزرا شام کو کاشی کے ابو بھی آ گئے تین دن ایسے ہی گزر گئے لیکن ان تین دنوں میں کنول نے کوشش کی کہ وہ کاشی کے سامنے نہ آئے چوتھے دن کاشی کے ابو چلے گئے اور اس دفع وہ کراچی جا رہے تھے اس لئے انہیں ایک ماہ لگ جانا تھا ابو کے جانے کے بعد کاشی کوشش کرنے لگا کہ ایک دفع اور ماں اور بہن کا سیکس سین دیکھنے کو مل جائے لیکن کوئی موقع نہ بنا اور نہ ہی کنول نے بننے دیا ایک دن کاشی کی خالہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تو کاشی کی ماں کو دو دن کے لئے ان کے گھر جاناپڑ اور گھر میں صرف کنول اور کاشی ہی رہ گئے دن کے بارہ بجے کنول نے کاشی کو کہہ کے جا کر کچھ کھانے کو لے آؤ کاشی جیسے ہی گھر سے نکلا محبوب کاشی کے گھر پہنچ چکا تھا اور اس نے جاتے ہی کنول کو باہوں میں لیا اور کسنگ شروع کر دی لیکن کنول ساتھ نہیں دے رہی تھی
    محبوب : کیا مسئلہ ہے کچھ پریشان لگ رہی ہو
    کنول : وہ اس دن ہمیں کاشی نے دیکھ لیا تھا
    محبوب کا منہ کھولا رہ گیا
    محبوب : تمہیں اسی دن بتانا چاہیے تھا
    کنول : اس دن تو تم پتہ نہیں مجھ سے کونسا بدلہ لے رہے تھے اب تم کاشی کا کچھ کرو
    محبوب : چلو میں کچھ کرتا ہوں تم ایسا کرنا اپنے کمرے سے باہر نہ آنا جب تک میں نہ کہوں
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئے کنول نے پوچھا کون تو باہر سے کاشی کی آواز آئی محبوب نے اشارے سے کنول کو کمرے میں بھیج دیا ۔جیسے ہی محبوب نے دروازہ کھولا تو کاشی کا رنگ سفید ہو گیا
    محبوب : ارے آؤ یار میں تو زرا تمہاری امی سے ملنے آیا تھا تا پتہ چلا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں تو میں نے سوچا کیوں نہ کاشی کے ساتھ بیٹھ کر اک مووی دیکھی جائے کاشی چپ چاپ جا کے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھ گیا محبوب اوٹھ کر کاشی کی امی کے کمرے میں گیا واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں اک سی ڈی تھی اس نے سی ڈی پلیئر میں اسے ڈال کر چلا دیا فلم شروع ہو گئی یہ ایک سیکسی فلم تھی جس میں لڑکا لڑکے کو چودتا ہے شروع میں دونوں لڑکے کس کرنے لگے اور پھر دونوں نے کپڑے اتار دئے فلم دیکھتے ہوئے محبوب نے کاشی کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا کاشی کو بھی اچھا لگنے لگا اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کے پیچھے محبوب ننگا کھڑا ہے اس نے کچھ دیر بعد کاشی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پر رکھ دیا اور مٹھ مارنے کا کہہ کاشی چپ چاپ مٹھ مارنے لگا
    محبوب ؛ اس کو منہ میں لو جیسے تمہاری ماں لیتی ہے بڑا مزہ آئے گا
    کاشی نے منہ کھول دیا اور محبوب نے جتنا منہ میں دے سکتا تھا منہ میں کھوسا ڈالا اور پھر لن کاشی کے منہ سے نکل کر صوفے پر بیٹھ گیا
    محبوب: میرے لن کی ٹوپی کو قلفی کی طرف چاٹو
    کاشی نیچے بیٹھ کر لن چاٹنے لگا وہ دس منٹ تک لن چاٹتا رہا اور پھر محبوب نے اسے کپڑے اتارنے کا کہا کاشی نے چپ چاپ کپڑے اتار دئیے کاشی کی نرم و ملائم گانڈ دیکھ کر محبوب سے رہا نہ گیا اس نے کاشی کی گانڈ چوم لی
    محبوب : اگر تم کہو تو میں کنول کو یہاں بلاؤ تاکہ اب ہم سب میں پردا ختم ہو سکے
    کاشی نے صرف گردن ہی ہاں میں ہلائی محبوب نے کنول کو آواز دی تو وہ آ گئی اور وہ کاشی کو ننگا دیکھ کر حیران ہو گئی کاشی کا پانچ انچ کا لن فل جوبن میں تھا
    محبوب ؛ چل کاشی گھوڑی بن جا
    کاشی گھوڑی بن گیا وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کتنا مزہ آتا ہے محبوب کاشی کے پیچھے آیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا اس نے کنول سے کہا
    محبوب : کنول جاؤ زرا تیل کی شیشی لاؤ اور یہ کیا تمہارے بھائی کی گانڈ مارنے لگا ہوں اب یہ اپنے کپڑے تو اتار دو
    کنول نے بس ایک منٹ ہی لگایا اور کپڑے اتار دیئے اور جا کر تیل لے آئی ۔
    محبوب ؛ میں تیرے بھائی کی گانڈ چکنی کرتا ہوں اور تو میرا لن کھڑا کر زرا
    کنول نے آ کر ہاتھ سے لن کی مٹھ مارنی شروع کر دی
    محبوب ۔ یہ ایسے نہیں فل کھڑا ہو گا اس کو منہ میں لے کر پیار کرو
    کنول تو جیسے تیار بیٹھی تھی اس نے محبوب کالن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا ادھر محبوب کاشی کی گانڈ پر تیل لگا کر انگلی سے اندر مالش کر رہا تھا اس سے کاشی کو ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا لیکن وہ برداشت کرنے لگا
    محبوب : کنول وہ انتظام کرو جو تمہاری ماں نے کیا تھا میرا دل سپیڈ میں گانڈ مارنے کا دل کر رہا ہے
    کنول کچھ ڈر گئی لیکن وہ محبوب کو نہ نہیں کہہ سکتی تھی اس نے کپڑے کا گولا بنا کر کاشی کے منہ میں دے دیا
    محبوب : اس کے ہاتھ بھی مظبوطی پکڑ لو اور کنول نے ویسا ہی کیا جو محبوب نے کہا اب محبوب نے لن کاشی کی گانڈ پر رکھا اور زور دیا تو لن سلپ ہو کر اک طرف ہو گیا اب اس نے بلکل سوراخ پر رکھ کر زور دیا تو ٹوپی اندر چلے گئی کاشی تو تڑپنے لگا لیکن کنول نے مظبوطی سے پکڑے رکھا تھا محبوب نے فل طاقت سے اپنا پورا لن کھوسا ڈالا اندر کاشی ہےپر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی محبوب تو جیسے کاشی کی گانڈ کی نرمی اور گرمی سے پاگل ہو گیا اس نے فل طاقت سے کھسے مارنے شروع کر دئے کاشی آگے کو گر گیا محبوب بھی اس پر گر گیا لیکن رکا نہیں کاشی کی گانڈ سے اب خون نکل رہا تھا لیکن محبوب مزے میں ڈوبا لگا رہا ارو دس منٹ کے بعد محبوب کاشی کی گانڈ میں ہی چوٹ گیا کسی کو پتہ نہیں تھا کہ کاشی تو دو جھٹکوں کے بعد ہی بے ہوش ہو گیا تھا کاشی کو بے ہوش دیکھ کر وہ دونوں کھبرا گئے
    کنول روتے ہوئے : اگر میرے بھائی کو کچھ ہو گیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی
    محبوب : تم پرشان نہ ہو میرا ایک دوست ہے جو ڈاکٹر کے ساتھ کام کرتا ہے اسے دوائیوں کے بارے میں بہت کچھ پتہ ہے میں اسے لے کر آتا ہوں جب وہ آ جائے تو تم سامنے نہ آنا
    یہ کہہ کر محبوب چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد ایک بندے کو لے کر آیا اس نے کاشی کو دیکھ کر کہا
    لڑکا : ابے بہن چود آرام سے چود لیا کر ویسے مال اچھا ہے ہماری باری کب ہے
    محبوب: ایسے ٹھیک تو ہونے دے پھر مل کر مزے کریں گیں
    لڑکے نے دو ٹیکے لگائے اور چلا گیا کاشی کو دس مِنٹ کے بعد ہوش آ گیا لیکن وہ بہت تھکا ہوا تھا اس لئے وہ ویسے ہی سو گیا اگلے دن اس کی امی آ گئی کاشی کو دیکھ کر پرشان ہو گئی لیکن کنول نے ماں کو سب کچھ سوچ سچ بتا دیا ماں نے بھی پڑی مشکل سے محبوب کو گالیاں دیتے ہوئے برداشت کر لیا کاشی تین دن تک بخار میں مبتلا رہا اس دوران محبوب نہیں آیا جس دن کاشی بلکل ٹھیک ہو گیا وہ سارے گھر والے کھانا کھا رہے تھے کھانا کھانے کے بعد
    کاشی کی امی ؛ کنول اب میں محبوب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی میں نہیں چاہتی کہ وہ ہی لن مجھے جائے اور وہ ہی میرے دونوں بچوں کو اس لئے اگر تم دونوں تعلق رکھنا چاہو تو رکھ لو مجھے آج کے بعد تماری خالہ کا بیٹا جمیل چودے گا میں نے اس سے دو دن میں تین دفع چودوایا ہے
    کنول : لیکن میں محبوب کو نہیں چھوڑ سکتی مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے
    کاشی : مجھ پہلے تو بہت درد ہوا تھا لیکن اب میرا دل کرتا ہے کہ کوئی آ کر میرے اندر ڈال دے کنول آپی کیوں نہ آج محبوب کو بولا لیں
    کنول : نہیں مجھے تو مینسیز آئے ہیں تم اپنےلئے بلا لو
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی کاشی باہر دیکھنے چلا گیا واپس آیا تو اس کے ساتھ محبوب تھا اس نے آتے ہی کاشی کی ماں کو کھلے لگا لیا لیکن کاشی کی ماں نے اپنا فیصلہ سنا دیا
    محبوب : بہت اچھا فیصلہ کیا کنول کے مل جانے کے بعد تو میں نے صرف تم سے اس لئے کچھ نہیں کہا کہ تم گانڈ بہت اچھی طرح دیتی ہو لیکن اب یہ کمی تمہارہ بیٹا پوری کر دے گا
    کاشی کی امی کچن میں چلے گئی
    محبوب : کاشی تم ابھی تک کپڑے پہن کر کیوں کھڑے ہو تماری بہن کے تو چلو مینسیز چل رہیں ہیں تم تو کپڑے اتارو بلکہ رکو میرے گھر چلتے ہیں کوئی نہیں ہے آج گھر میں
    محبوب نے کاشی کی ماں کو کاشی کو لے کر جانے کے بارے میں بتایا اور وہ دونوں کاشی کے گھر چلے گئے محبوب نے گھر میں داخل ہوتے ہی کاشی کو اٹھا لیا اس طرح کاشی کا منہ محبوب کے منہ کے برابر آ گیا تو محبوب نے کسنگ شروع کردی اور جیسے ہی وہ بیڈ دوم میں پہنچے وہاں تو دو لڑکے پہلے سے ہی موجود تھے محبوب نے کاشی کو نیچے اتارا اور دونوں لڑکوں کا تعارف کرایا
    محبوب : کاشی آج رات تمہیں ہم تینوں چودے گیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نہ
    کاشی کی چپ کو سب نے رضا مندی سمجھ لیا سب ننگے ہو چکے تھے کاشی نیچے بیٹھا اک کا لن منہ میں لیتا اور باقی دونوں کے ہاتھ میں یہ سین کوئی دس منٹ جاری رہا اس کے بعد کاشی کو گھوڑی بنا کر سب
    باری باری سوری کرنے لگے کوئی گانڈ میں ڈالتا تو کوئی منہ میں ایسے ہی ایک گھنٹے کے بعد سب فارغ ہو گئے ایک منہ میں ایک گانڈ میں اور ایک نے ہاتھوں میں ہی لاوا اگل دیا کاشی کو مزہ آیا تھا آج کاشی اب گھر واپس آ گیا اور نہانے چلا گیا نہا کر جب وہ باہر آ یا تو اس کا لن کھڑا تھا وہ ٹی وی لاؤنچ میں ہی بیٹھ کر مٹھ مارنے لگا اتنے میں کاشی کی ماں آ گئی اور کاشی کو مٹھ مارتے دیکھ کر مسکرا کر اس کے پاس بیٹھ گئی اور
    کاشی کی ماں : کچھ مدد کرو
    کاشی : ہاتھ سے تو جلن ہونے لگ گئی ہے مجھے گانڈ میں ڈال کر دیکھنا ہے کیسا مزہ آتا ہے
    کاشی کی ماں ہنس کر : اپنی ماں کی گانڈ میں ڈالے گا
    کاشی ؛ نہیں کوئی انتظام کرو ۔
    کاشی کی ماں : آج گزارہ کرو کل گانڈ اور چوت دونوں مل جائیں گی
    یہ کہہ کر کاشی کی ماں نے منہ نیچے کیا اور کاشی کے چوپے لگانے لگی کاشی کو بہت مزہ آ رہا تھا کوئی پندرہ منٹ بعد کاشی کو لگا کہ اس کی ٹانگوں سے جان نکل رہی ہے اور ساری جان لن کی طرف جا رہی ہے کاشی نے ماں کا منہ اپنے لن پر دبا دیا اور اپنی زندگی کی پہلی منی اپنی ماں کے منہ میں ڈال دی ماں نے بھی منی نگل لی رات کا کھانا کھا کر وہ سو گیا اور اگلے دن بارہ بجے ماں کاشی کے کمرے میں آئی اور کاشی سے بولا تیار ہوگانڈ اورچوت لینے کے لئے
    کاشی : مجھ تو کل کا انتظار ہے
    کاشی کی ماں : تو جاؤ میرے کمرے میں گانڈ اور چوت تیرا انتظار کر رہی ہیں تو کپڑے اتار کر میرے کمرے میں جا اور سب کچھ کر لے اور وہ تم سے بڑی بھی ہے اور تجربہ کار بھی سب کچھ سکھا دے گی
    کاشی ننگا ہی اپنی ماں کے کمرے کی طرف چل دیا کمرے میں ایک عورت دوسری طرف منہ کر کے کھڑی تھی اس کی گانڈ کافی بڑی اور نرم تھی اور جیسے ہی اس نے موڑ کر کاشی کی طرف دیکھا کاشی چونکے بنا نہ رہ سکا یہ کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ

    Last edited by Story Maker; 21-10-2018 at 05:19 PM.

  10. The Following 3 Users Say Thank You to Rizy.b For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  11. #7
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    137
    Thanks Thanks Given 
    17
    Thanks Thanks Received 
    156
    Thanked in
    88 Posts
    Rep Power
    22

    Default

    nice start sir g.....................

  12. #8
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    2
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    Lady plz contact. I m from sahiwal and come to u eadily

  13. #9
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    13
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    dear rizby.b ap ny kafi story update kr di thi.koshish kro waha sy update kro.mazeed ap ki story ka wait nhi ho rha.

  14. #10
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    11
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    42
    Thanked in
    10 Posts
    Rep Power
    3

    Default

    . باب نمبر 1 حصہ سوئم

    کاشی ننگا ہی اپنی ماں کے کمرے کی طرف چل دیا کمرے میں ایک عورت دوسری طرف منہ کر کے کھڑی تھی اس کی گانڈ کافی بڑی اور نرم تھی اور جیسے ہی اس نے موڑ کر کاشی کی طرف دیکھا کاشی چونکے بنا نہ رہ سکا یہ کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ
    محبوب کی ماں سکینہ تھی اس کا جسم کسی کے بھی ہوش اوڑا سکتا تھا سکینہ محلہ کی سب سے خوبصورت اور دلکش عورت ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے شریف بھی سمجھیں جاتی تھی چالیس سائیز کے اکڑے ہوئے ممے دیکھ کے تو کاشی کے ہوش ہی آڑ گئے وہ کاشی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ابھی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ دروازہ کھولا اور کاشی کی ماں اندر آئی
    کاشی کی ماں : اووو تم لوگ ابھی تک دور دور کھڑے ہو
    سکینہ : تمہارا بیٹا تو مجھے ایسے گھور رہا ہے جیسے مجھے کھا جائے گا
    کاشی کی ماں : کاشی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اس گشتی کو آج ایسے چودو جیسے اس کا بیٹا مجھے اور میری بیٹی کو چودتا ہے
    سکینہ کی ماں : منع کس نے کیا ہے لیکن یہ تو شرما رہا ہے اس کے سامنے اک ترسی ہوئی عورت کھڑی ہے
    کاشی کی ماں : یہ تو بچہ ہے تم نے اسے فل ٹرین کرنا ہے
    کاشی کی ماں باہر جانے لگی
    کاشی : امی ادھر ہی رک جاؤ پلیز
    کاشی کی ماں مسکراتی ہوئی جا کر صوفے پر بیٹھ گئی
    سکینہ اک ادا سے چلتی ہوئی ہوئی کاشی کے پاس آئی اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے کاشی کو کیا پتہ کہ کس کیسے کرتے ہیں سکینہ کاشی کے ہونٹوں کو چوم رہی تھی کاشی نے ہمت کر کے اپنا ایک ہاتھ سکینہ کے ممے پر رکھ دیا ادھر سکینہ نے دونوں بازوؤں کاشی کے گلے میں ڈالی ہوئی تھیں سکینہ نے اپنی زبان کاشی کے ہونٹوں پر پھیرنی شروع کی تو کاشی نے منہ کھول دیا سکینہ نے اپنی زبان کاشی کے منہ میں ڈال دی کاشی نے بھی سکینہ کی زبان چوسنا شروع کر دیا کاشی کو بہت مزہ آ رہا تھا اس نے کسی عورت سے پہلی بار کس کی تھی لڑکے تو اسے کس کرتے ہیں تھے لیکن یہ کس زیادہ مزہ دے رہی تھی کاشی چاہتا تھا کہ وہ کس کرتا ہی رہے لیکن سکینہ کی آگ بڑھ رہی تھی کوئی پندرہ منٹ کس کرنے کے بعد سکینہ نے کاشی کا اٹھا کر بیڈ پر لیٹا دیا اور اسے دوبارہ سے کس کرنے لگی ادھر کاشی کی ماں نے کپڑے اتار دئے تھے اور اپنی چوت مل رہی تھی لیکن کاشی اور سکینہ تو ارد گرد سے بے خبر لگے ہوئے تھے سکینہ نے اب کاشی کامنہ چھوڑا اور اس کی گردن پر کس کرنے لگی کس کرتے کرتے وہ سینے سے ہوتے ہوئے پیٹ پر گئی اور پیٹ سے ہوتے ہوئے کاشی کے لن تک پہنچ گئی اس نے کاشی کے لن کو چومنا شروع کر دیا اس نے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرنا شروع کی تو کاشی کے منہ سے سسکی نکلی سکینہ نے اس کا لن اب منہ میں لے لیا تھا اس نے کاشی کے لن کو تھوڑی دیر ہی چوسا اور کھڑی ہو گئی اس نے دونوں ٹانگیں کاشی کے ادھر ادھر رکھی اور اس کے لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر سیٹ کیا اور اس پر بیٹھ گئی لن پورا سکینہ کی چوت میں جا چکا تھا سکینہ اوپر نیچے ہونے لگی اس کے ممے ہلتے ہوئے کاشی کو بہت اچھے لگ رہے تھے وہ دونوں لگے ہوئے تھے اور ادھر محبوب باہر ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھا کنول کے منہ میں دے کر بیٹھا تھا کنول نے محبوب کو بتا دیا تھا کہ اندر کاشی اس کی امی کی چدائی کر رہا ہے یہ سن کر محبوب نے کنول کو گانڈ دینے کا کہا لیکن کنول نہ مانی اور اس نے کہا ابھی چوت کو تو آرام آنے دو محبوب نے لن دوبارہ کنول کے منہ میں دے دیا پانچ منٹ کے بعد وہ اوٹھ کر کنول کو لے کر کمرے چلا گیا کمرے میں سکینہ کاشی کے اوپر لیٹی ہوئی تھی کاشی کا لن سکینہ کی چوت میں تھا اور سکینہ کے ایک ممے کو کاشی نے منہ میں لیا ہوا تھا سکینہ کی گانڈ پیچھے سے بہت ہی خوبصورت لگ ہی تھی اور اس کی گانڈ کا گلابی سوراخ سامنے نظر آ رہا تھا محبوب تو اپنی ماں کی گانڈ میں کھو گیا اس کا لن تو پورے جوبن تھا ہی اس نے جا کر اپنی ماں سکینہ کی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے سے اندر داخل کر دیا سکینہ کو اس اچانک حملے کی امید نہیں تھی اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اس نے موڑ کر دیکھا تو اس کا اپنا بیٹا اس کی گانڈ میں لن داخل کر چکا تھا اب سکینہ کی دونوں طرف سے چدائی ہو رہی تھی ادھر کنول اپنی ماں کی چوت پر ہونٹ رکھ چکی تھیں کاشی کی ماں اور محبوب کی ماں کی سسکیاں پورے کمرے میں کھونج رہی تھیں پانچ منٹ سکینہ کی چودائی ہوتی رہی اب محبوب نے لن سکینہ کی گانڈ سے نکالا اور کاشی کی ماں کی طرف گیا اور اسے لیٹنے کا کہا لیکن کاشی کی ماں نے نہ کر دی اس نے اپنا لن کنول کے منہ میں دے دیا ادھر سکینہ نے پوزیشن تبدیل کر لی تھی اب سکینہ لیٹی ہوئی تھی اور کاشی نے سکینہ کی ٹانگوں کو کھولا ہوا تھا اور لن سکینہ کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا محبوب کو کاشی کی گانڈ ہلتی ہوئی بہت اچھی لگ رہی تھی اس نے لن کنول کے منہ سے نکلا اور کاشی کی گانڈ پر رکھ کر گھسا لکیا اور لن کاشی کی گانڈ میں گم ہو گئی اب کاشی کا لن سکینہ کی چوت میں اور محبوب کا لن کاشی کی گانڈ میں تھا کاشی تو جیسے ہواؤں میں تھا اسے بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا سکینہ کا وقت اب قریب تھا کاشی کو بھی اپنے لن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہوئی اس کا پانی نکلنا شروع ہوا اور ادھر سکینہ نے بھی پانی چھوڑ دیا لیکن محبوب ابھی کاشی کی گانڈ پر غصہ نکال رہا تھا کاشی سکینہ کے اوپر بے سودھ پڑا ہو تھا اور محبوب کی سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی آخر محبوب نے بھی اپنا پانی کاشی کی گانڈ میں چھوڑ دیا اور اپنا لن کاشی کی گانڈ سے نکالا تو کاشی کھڑا ہو گیا اور سکینہ بھی بیٹھ گئی تو محبوب نے اپنا منی سے گیلا لن اپنی ماں سکینہ کے منہ میں ڈال دیا کاشی واش روم کی طرف چلا گیا جب کاشی واپس آیا تو کنول محبوب کا لن چوس رہی تھی سکینہ اور کاشی کی ماں کپڑے پہن چکی تھیں محبوب نے بھی اپنا لن کنول کے منہ سے نکلا اور باہر جا کر کپڑے پہن لئے محبوب اور اس کی ماں اپنے گھر چلے گئے کاشی بھی باہر نکل گیا آج کاشی کو محلہ کے لڑکے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے اسے کیا پتہ تھا کہ جن لڑکوں نے محبوب کے ساتھ مل کرکاشی کی گانڈ ماری تھی انہوں نے پورے محلے میں یہ بات مشہور کر دی تھی وہ ابھی یہ بات سوج ہی رہا تھا کہ ایک لڑکا آیا اور کاشی کو کہا کہ اسے محبوب بلا رہا ہے وہ لڑکا کاشی کو لے کر ایک گھر میں داخل ہوا گھر میں جاتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور کاشی کو پیچھے سے پکڑ لیا
    کاشی : محبوب کہاں ہے
    لڑکا : وہ ابھی آ جائے گا تم آؤ اندر بیٹھتے ہیں
    کاشی اندر چلا گیا اور اندر جاتے ہی اس لڑکے نے پینٹ کی زپ کھولی اور اپنا لن نکال کو مٹھ مارنے لگا کاشی چپ چاپ بیٹھا دیکھ رہا تھا وہ لڑکا اب چلتا ہو کاشی کے پاس آیا اور کاشی کے ہونٹوں پر لن پھیرنے لگا آخر کاشی نے منہ کھول دیا اور لن کاشی کے منہ میں چلا گیا کاشی نے بھی چپ چاپ لن چوسنا شروع کر دیا لڑکے نے کاشی کو کپڑے اتارنے کا کہا کاشی نے کپڑے اتار دئے اور لڑکے نے کاشی کو الٹا لٹا دیا اور اس کی گانڈ کھول کر لن گانڈ میں ڈال دیا اور کھسے مارنے لگا اس نے کوئی پانچ منٹ کے بعد پانی لن باہر نکال کر پانی کاشی کی کمر پر ڈال دیا کاشی اٹھنے لگا تو اس لڑکے نے کہا لیٹے رہو ابھی میرا اک دوست باہر کھڑا ہے اسے بھی دے دو اس نے ٹشو پیپر کی مدد سے کاشی کی کمر صاف کی اور باہر چلا گیا وہ باہر گیا تو کوئی اور بندا آیا کاشی چپ چاپ لیٹا رہا اس بندے نے آ تے ہی لن کاشی کی گانڈ میں ڈال دیا اس دن کاشی کو دس لڑکوں نے چودا کاشی بس چپ چاپ لیٹا رہا اس نے بس پہلے لڑکے کی شکل دیکھ تھی وہ اٹھ کر گھر آ گیا اس کے جسم میں درد ہو رہی وہ جا کر سو گیا اور اس کے بعد تو محلہ کے ہر لڑکے نے کاشی کو چودتا تھا اب تو کاشی کو ہر روز دو چار لوگ چود ہی لیتے تھے لیکن کاشی کو مزہ بس محبوب کے ساتھ آتا تھا کاشی بھی اسے چودتا رہتا تھا جب کاشی سکول جانے لگا تو ایک دن کاشی نے محبوب کو واجو کے بارے میں بتایا تو محبوب کے منہ سے پانی آ گیا اس نے اسے کسی طرح اپنے گھر لانے کا کہا اور آج واجو کی گانڈ تیار تھی محبوب کے لیے
    __________________________________________________ __________________________________________________ __________________________________________________ __________________________
    کاشی نے تیل کی بوتل لا کر محبوب کو پکڑا دی محبوب نے کافی سارا تیل واجو کی گانڈ پر لگایا اور ایک انگلی واجو کی گانڈ میں ڈال دی انگلی کے اندر جانے سے واجو کو جھٹکا لگا اور وہ سیدھا ہو گیا محبوب نے اسے پھر سے الٹا کیا اور انگلی دوبار ڈال دی واجو کو کافی درد ہو رہا تھا لیکن وہ درد برداشت کر رہا تھا اب محبوب کی انگلی کافی روانی سے واجو کی گانڈ میں آ جا رہی تھی اور واجو کا درد بھی کچھ کم ہوا تھا اب باری تھی لن کے اندر جانے کی محبوب نے کاشی کو پاس بلایا
    محبوب : کاشی میرا لن چوس کر اسے گیلا کر دو اور بعد میں اس پر تیل بھی لگا دینا
    کاشی نے محبوب کالن منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کر دیا دو تین منٹ کے بعد اس نے محبوب کے لن پر تیل لگا کر خود ہی واجو کی گانڈ پر رکھ دیا
    محبوب : اس کو زور سے پکڑ لو تاکہ یہ ہل کر میرا مزہ خراب کر کے مجھے غصہ نہ دلا دے
    کاشی نے واجو کو مظبوطی سے پکڑے لیا اور محبوب نے لن کا دباؤ واجو کی گانڈ پر بڑھا دیا واجو کے چہرے پر درد کے اثرات نمایاں تھے جیسے ہی محبوب کے لن کی ٹوپی اندر گئی واجو کی ایک دل خراش چیخ نکلی اور اس نے محبوب کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی اور وہ ہلا تو محبوب کا لن واجو کی گانڈ سے نکل گیا محبوب کو یہ اچھا نہیں لگا
    محبوب : ابے گانڈو کاشی تجھے کہا تھا کہ مظبوطی سے پکڑنا لیکن تو نے تو اسے پکڑا ہوا تھا کہ یہ تیری گشتی ماں ہے کہ آسانی سے لے لے گی
    کاشی کو محبوب پر بہت غصہ آیا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا ادھر واجو آٹھ کر واش میں بھاگ گیا تھا محبوب نے کاشی کا منہ پکڑ کر اپنا لن ایک جھٹکے سے اس کے منہ میں کھوسا دیا کاشی کا تو سانس ہی بند ہو گیا تھا محبوب نے اب کاشی کے منہ کو بے رحمی سے چودنا شروع کر دیا تھا محبوب کا یہ کام کاشی کے ساتھ نیا نہیں تھا اسے کسی بھی بات پر غصہ ہوتا تو وہ غصہ کاشی پر ہی نکلتا واجو واش روم سے باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگا
    محبوب : یہ کیا ابھی کام پورا نہیں ہوا
    واجو : میں نے نہیں کرنا
    کاشی : واجو بس جو درد ہونا تھا ہوگیا
    کاشی نے یہ کملہ کہہ کر محبوب کا لن پھر سے منہ میں لے لیا کافی کوشش کے بعد محبوب اور کاشی نے آخر کار واجو کو منا ہی لیا لیکن اس بار محبوب کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے واجو اب دوبارہ کپڑے اتار کر الٹا لیٹ گیا تھا محبوب نے اس بار اس کے پیٹ کے نیچے تکیہ رکھ دیا جس سے واجو کی گانڈ کا چھوٹا سا سوراخ بلکل سامنے آ گیا تھا محبوب نے تیل دوبارہ سے واجو کی گانڈ پر لگایا اور لن کاشی کے منہ سے نکل کر واجو کی گانڈ پر رکھ دیا کاشی نے اب کی بار اپنی پوری طاقت سے واجو کو پکڑا تاکہ اس بار کام خراب ہو گیا تو کاشی کی خیر نہیں تھی محبوب نے لن کی ٹوپی واجو کی گانڈ میں ڈال دی واجو پھر اچھلا لیکن اس بار کاشی بے خبر نہیں تھا واجو کی چیخوں کا طوفان آ گیا تھا محبوب نے لن کی ٹوپی باہر کو کھینچی واجو سمجھا کہ شاید جان چھوٹ گئی لیکن اگلا لمحہ واجو کو ساری زندگی نہیں بھولنا تھا محبوب نے ٹوپی کو تھوڑا سا باہر کھینچا اور ایک زور دار جھٹکے سے پورا چھ انچ کا لن واجو کی گانڈ میں ڈال دیا کاشی تو مچھلی کی طرح تڑپنے لگا لیکن محبوب نے کوئی پرواہ نہ کی اور جھٹکے دینے لگا واجو کی آنکھوں سے آنسوں نکل نکل کر اس کا منہ بھیگ چکا تھا اور وہ محبوب اور کاشی کی منتیں کر رہا تھا کہ اسے معاف کر دیں لیکن شاید کاشی اور محبوب بہرے ہو گئے تھے محبوب کوئی دس منٹ واجو کو ایسے ہی چودتا رہا اور آخر کار واجو کی گانڈ میں ہی فارغ ہو گیااور محبوب نے لن واجو کی گانڈ سے نکال لیا اور واجو کے پہلو میں لیٹ گیا لیکن واجو تو اب پکا ارادہ کر چکا تھا کہ وہ اب کبھی بھی گانڈ نہیں مروائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کاشی سے اپنی اس بے عزتی کا بدلہ بھی لے گا واجو کی گانڈ میں بہت زیادہ درد ہو رہی تھی لیکن واجو نے برداشت کر لی تھی
    محبوب : وہ واجو مزہ آ گیا اب تم نے حق ادا کر دیا آ میں تمہیں سب کچھ سکھا دوں گا
    اس کے ساتھ ہی محبوب نے واجو کو مرد اور عورت کے درمیان تعلقات اور سیکس کے بارے میں تفصیل سے بتا دیا محبوب کوئی چار گھنٹے تک بولتا رہا اور واجو غور سے سنتا رہا چار گھنٹے کے بعد واجو کی سیکس کے بارے میں نالج کسی بھی بیس پچیس سال کے مرد کے برابر ہو گئی تھی اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی تو کاشی دروازہ کھولنے چلا گیا جب وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ اس کی بہن کنول تھی
    کنول : ہو گیا اب لوگوں کا کام
    محبوب : ہاں ہو گیا
    کنول : تو میرا حصہ کہا ہے
    محبوب : تمہارا حصہ ہے اس کے ساتھ ساتھ واجو کو کام بھی سکھانا ہے
    کنول : یہ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہارے علاوہ کسی اور سے سیکس کروں گی
    محبوب : سیکس کرنے کا کس نے کہا میں تو بس کام سکھانے کا کہہ رہا ہو اسے سکھا دینا ہے پریکٹس یہ خود ہی کر لے گا
    کنول یہ سن کر مسکرا دی اور اس نے محبوب کو کسنگ کرنی شروع کر دی اب واجو کو پتا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے وہ اور کاشی ایک طرف صوفے پر بیٹھے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے کاشی تو اپنا لن نکال کر مٹھ بھی مار رہا تھا کنول اور محبوب کی کسنگ جاری تھی محبوب کے دونوں ہاتھ کنول کے مموں پر تھے اور کنول نے بھی ایک ہاتھ بڑھا کر محبوب کا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا تھا کچھ دیر کے بعد محبوب نے کنول کی قمیض پکڑ کر اوپر کی تو کنول نے بازوں اوپر کر دی تاکہ قمیض آسانی سے اتر جائے اب کنول کے اوپر والے جسم پر صرف اک برا ہی تھی لال رنگ کی برا میں کنول کے پھسے ہوئے ممے بہت ہی دل کش لگ رہے تھے واجو تو گھور رہا تھا مموں کو محبوب نے کنول کے برا کی ہک کھول کر اسے بھی اتار دیا واجو کو تو جھٹکا لگا اس کا ہاتھ اپنے آپ اپنی شلوار کے اندر چلا گیا اور وہ اپنا لن پکڑ کر مٹھ مارنے لگا ادھر اب کنول کی شلوار بھی اتر چکی تھی اور کنول پوری ننگی ہو چکی تھی واجو نے ننگی عورت پہلی بار دیکھی تھی واجو کو دیکھ کر بہت مزہ آ رہا تھا محبوب نے بھی اپنے اپنے کپڑے اتار دئے اور کنول نے محبوب کا لن پکڑ لیا اور محبوب کو کس کرنے لگی محبوب نے کس کرنا بند کی اور کنول کے منہ کو نیچے کی طرف کیا کنول اب نیچے بیٹھ کر محبوب کے لن پر کس کر رہی تھی اور کبھی وہ لن پر زبان پھیرتی محبوب اس کے سر پر ہاتھ رکھے مزہ لے رہا تھا محبوب نے کنول کو نیچے ہی لٹا کر اس کی ٹانگیں کھول دیں اور لن کنول کی چوت پر رکھ کر اندر کی طرف دھکیل دیا کنول کی سسکی نکلی اور محبوب نے لن اندر کرکے دھکے لگا رہا تھا اور کنول کے ممے چوس رہا تھا پانچ منٹ کے بعد اس نے پوزیشن تبدیل کی اس نے لیٹے لیٹے ہی کنول کو اوپر کر لیا اور خود نیچے آ گیا اب کنول نے دھکے مارنے شروع کر دئے وہ بڑے مزے سے اوپر نیچے ہو رہی تھی اور اب اس نے محبوب کو گلے سے لگا لیا تھا محبوب اب اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر اس کی چوت میں گھسے مار رہا تھا اس نے لیٹے لیٹے ہی اس کو کروٹ دے کر اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی ایک ٹانگ اوپر اٹھا کر لن کنول کی چوت میں ڈال دیا اور دھکے مارنے لگا اور پانچ منٹ کے بعد کنول نے پانے چھوڑ دیا محبوب نے لن کنول کی چوت سے نکال لیا اور کھڑا ہو کر کنول کے منہ میں دے دیا کنول نے لن کی ٹوپی منہ میں لی اور باقی لن کی مٹھ مار رہی تھی کچھ ہی دیر کے بعد ایک دھاڑ کے ساتھ ہی محبوب کنول کے منہ میں فارغ ہو گیا اب شام کے آٹھ بج چکے تھے محبوب نے کپڑے پہنے اور چلا گیا کاشی اور واجو بھی اپنے کمرے میں چلے گئے
    واجو : یار کاشی میرا دل کر رہا ہے کہ میں کسی چوت میں لن ڈال کے دیکھوں کیسا مزہ آتا ہے
    کاشی : اب تو امی اور ابو آنے والے ہیں میں کوشش کرتا ہوں کہ کچھ ہو جائے لیکن وعدہ نہیں کر سکتا
    واجو : تم نے کسی لڑکی کی لی ہے
    کاشی : لڑکی کی نہیں لیکن ایک عورت کی لی ہے اور پتا ہے وہ عورت کون ہے
    واجو : کون
    کاشی : محبوب کی ماں سکینہ
    واجو تو حیران ہی رہ گیا
    واجو : محبوب کو پتہ ہے
    کاشی: لو جی وہ خود چودتا ہے اپنی ماں کو کئی بار تو میرے سامنے چودا ہے
    واجو : تو محبوب کی ماں کی ہی لے دو
    کاشی : میں بات کر سکتا تھا لیکن وہ تو ایک ہفتے سے ملتان اپنی ماں کے گھر گئی ہوئی ہے
    واجو نے اپنی شلوار اتار دی اس نے اپنا لن کاشی کو دیکھایا
    واجو : یہ کسی چوت میں جائے بغیر نہیں سوئے گا
    باہر دروازے پر دستک ہوئی کاشی کو پتہ تھا کہ امی ابو آئے ہیں کاشی دروازہ کھولنے چلا گیا لیکن دروازے پر صرف کاشی کی امی تھی کاشی نے ابو کا پوچھا تو
    کاشی کی ماں : ان کو کراچی جانا پڑا تو وہ صبح ہی کراچی نکل گئے تھے مجھے بھی تیری خالہ کا بیٹا چھوڑ کر گیا ہے
    کاشی : تو خالد کو بھی اندر لے آنا تھا اس سے گھر میں بھی چودوا لیا کرو باہر کوئی دیکھ نہ لے
    کاشی کی ماں : میں اب خالد سے بھی نہیں چدواتی
    کاشی : وہ کیوں
    کاشی کی ماں : وہ بھی کہتا ہے کہ کنول کی لے کر دو اور میں چاہتی ہوں کہ جو مجھے چودے وہ مجھے ہی چودے کنول کے بارے میں بات نہ کرے
    وہ باتیں کرتے کرتے ٹی وی لاؤنچ میں آ کر بیٹھ چکے تھے
    کاشی کی ماں : مجھے پندرہ دن سے لن نہیں ملا پلیز تم ہی ڈال دو
    یہ کہہ کر کاشی کی ماں نے شلوار کے اوپر ہی سے کاشی کا لن پکڑ لیا لیکن کاشی نہ مانا ( جب آگ بھاری ہو جائے وہ کوئی رشتہ نہیں دیکھتی )
    کاشی : امی آج محبوب نے کنول کو میرے اور واجو کے سامنے چودا ہے جب سے واجو نے دیکھا ہے وہ لن شلوار سے نکال کر بیٹھا ہے کہ اس کا لن کسی چوت میں جانے کے بعد ہی سوئے گا اگر آپ بولو تو میں واجو کو آپ کے کمرے میں بھیجوں
    کاشی کی ماں : وہ تو بچہ ہے اس سے کیا بنے گا
    کاشی : اس کا لن محبوب سے بڑا ہے
    کاشی کی ماں کی آنکھوں میں چمک آ گئی
    کاشی کی ماں : چلو میں چلتی ہو تمہارے کمرے میں
    کاشی : نہیں وہ ایسے ڈر جائے گا میں اسے سمجھا کر لاتا ہوں
    کاشی کی ماں اپنے کمرے میں چلے گئی اور کاشی اپنے کمرے میں چلا گیا کاشی کمرے میں جاتے ہی
    کاشی : واجو تیرے لئے انتظام ہو گیا ہے
    واجو : کس کے ساتھ
    کاشی : وہ ہ ہ ہ اصل میں تم نے میییییییری ماں کو چودنا ہے
    واجو کا تو حیرانی سے منہ کھولے کا کھولا رہ گیا
    واجو : لیکن تمہیں برا تو نہیں لگے گا اور تمہاری ماں مان جائے گی
    کاشی : اس نے بہت سے لوگوں سے چودوایا ہے اور مجھے کیوں برا لگے گا میں نے کئی دفع اس کے منہ میں لن ڈال کر اپنا پانی نکالا ہے اور ایک اور بات تم نے اس کے سامنے کنول کی بات نہیں کرنی
    واجو پرجوش لہجے میں: چلیں پھر
    کاشی : کپڑے اتار کر یہیں رکھ دو
    واجو نے جلدی جلدی کپڑے اتار دیئے اس کا لن ابھی بھی پورے جوبن پر تھا کاشی نے بھی کپڑے اتار دئے کاشی سے واجو کا لن دیکھ کر رہا نہ گیا وہ نیچے بیٹھ کر واجو کا لن چوسنے لگا لیکن دو منٹ کے بعد ہی واجو نے کاشی کے منہ سے نکال لیا
    واجو : یار اب چلو رات کو چوس لینا ابھی مجھے چوت میں ڈال کر دیکھنا ہے کہ کیسا لگتا ہے
    دونوں کاشی کی ماں کے کمرے میں چلے گئے لیکن ٹی وی لاؤنچ میں کنول دیکھ کر مسکرا کر بولی
    کنول : واہ یار کاشی تمہارے دوست نے آج ہی کام سیکھا اور آج ہی پریکٹس شروع کردی
    کاشی : آج واجو نہ ہوتا تو ماں نے میرا ریپ کر دینا تھا
    کنول سن کر ہنس دی واجو اور کاشی ماں کے کمرے میں چلے گئے کمرے میں کوئی نہیں تھا
    کاشی : امی شاید واش روم میں ہے آج پوری طرح مزے کر لینا پھر پتہ نہیں کب دوبارہ آؤ
    وہ ابھی باتیں کر رہے تھے کہ واش روم کا دروازہ کھولا اور کاشی کی ماں بھی ننگی ہی باہر نکل آئی اس کے چالیس سائیز کے ممے دیکھ کر واجو کے تو ہوش ہی آڑ گئے واجو کی حالت دیکھ کر کاشی اور کاشی کی ماں ہنس دئیے واجو کو پتہ نہیں کیا سوجی وہ بھاگا اور جا کر کاشی کی ماں کے سینے سے لگ گیا واجو کا منہ اس کے ممے سے لگا اس نے واجو کو اپنی دونوں باہوں میں دبا لیا اس نے پانچ منٹ واجو کو اپنی مرضی کرنے دی لیکن واجو کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کبھی چوت میں انگلی ڈالتا کبھی مموں کو دباتا کبھی کمر پر ہاتھ پھیرتا کاشی کی ماں سمجھ گئی کہ واجو کو سمجھ نہیں آ رہی کی کیا کرے اس نے واجو کو بچوں کی طرح اٹھا لیا اور واجو کے منہ پر منہ رکھ دیا واجو کا لن اب اس کے پیٹ سے لگا ہو تھا اب دونوں ترسے ہوئے ایک دوسرے کو کس کر رہے تھے دس منٹ تک وہ دونوں ایسے ہی لگے رہے اب وہ تھک گئی تھی اس نے واجو کو بیڈ پر لیٹایا
    اور اس کے اوپر آ کر اس کس کرنے لگی اب کاشی کی ماں سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ اب واجو کے منہ سے اٹھی اور اس نے واجو کے لن کو منہ میں لے کر اس پر تھوک لگایا اور اس کی سواری شروع کر دی جیسے ہی کاشی کی ماں کے اندر واجو کا لن گیا واجو کو ایسا مزہ ملا کہ آج تک اسے ویسا مزہ نہیں ملا تھا ۔ اب وہ اوپر نیچے ہو کر مزے لے رہی تھی کاشی کی ماں نے واجو کے لن سے بڑے بڑے لن بھی لئے ہوئے تھے لیکن واجو کے لن میں عجیب ہی مزہ تھا وہ واجو کے لن پر پندرہ منٹ منٹ اچھل کود کرنے کے بعد تھک گئی واجو کو بھی محسوس ہو گیا کہ وہ تھک گئ ہے اس لیے واجو نے اسے نیچے آنے کا کہا اور اور آ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا اور اپنا لن اس کی چوت پر رکھ کر جھٹکا لگایا اور لن پورا اندر چلا گیا کاشی کی ماں نے واجد کی کمر کے گرد ٹانگیں کس لی تھیں واجو نہ تجربہ کار کی طرح دھکے مار رہا تھا کاشی کی ماں کا وقت اب قریب تھا اس نے واجو کو تیز ہونے کا کہا اور خود بھی نیچے سے ہلنے لگی کچھ ہی دیر کے بعد کاشی کی ماں کی چوت میں سیلاب آ گیا واجو کو بھی لگا جیسے اس کی ٹانگوں سے جان نکل رہی ہے اس نے اپنے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی اور اسے اپنالن پھولتا محسوس ہوا اس لگا لن سے اس کی جان نکلنے لگی ہے اس کے ساتھ ہی تیز دھار نکلی اور کاشی کی ماں کی بچہ دانی میں جا گری اور واجو کاشی کی ماں پر ہی لیٹ گیا کاشی کی ماں نے آج تک بہت لن لئے تھے لیکن پتا نہیں کیا بات تھی کاشی کی ماں کو واجو کے ساتھ محبت ہو گئی تھی وہ اس کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی کاشی ان دونوں کا شو دیکھتے ہوئے سو گیا تھا صوفے پر کاشی کی ماں نے واجو کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا کچھ ہی دیر بعد اس محسوس ہوا کہ وہ سو گیا ہے کاشی کی ماں یہ سوچ کر غمگین ہو گئی کہ واجو نے کل صبح چلے جانا ہے پھر پتہ نہیں کب آئے لیکن اس نے اب پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اگر اپنے شوہر کے علاؤہ کسی کو چوت دے گئی تو بس صرف اور صرف واجو کو اس نے واجو کو باہوں میں لیا اور اپنے پیارے اور ننھے عاشق کے سینے سے لگے ہوئے سو گئی . صبح جب واجو کی آنکھ کھولی تو واجو تروتازہ تھا آٹھ کر بیٹھا تو دیکھا کہ وہ اکیلا ہی کمرے میں لیٹا ہوا تھا اس نے گھڑی کی طرف دیکھا تو چھ بجے ہوئے تھے رات کا واقع واجو کی آنکھوں میں آ گیا اور یہ سوچتے ہی واجو کا لن کھڑا ہو گیا واجو نے مٹھ مارنی شروع کر دی واجو اٹھ کر کاشی کے کمرے میں جانے لگا تاکہ اپنے کپڑے پہن لے وہ کمرے سے باہر نکلا اور کچن میں دیکھا تو وہاں کاشی کی ماں کھانا بنا رہی تھی واجو کا لن ابھی تک کھڑا ہوا تھا کاشی کی ماں نے کپڑے پہنے ہوئے تھے کاشی کا دل پھر سے چوت لینے کا کرنے لگا واجو نے جا کر کاشی کی ماں کو پیچھے سے پکڑ لیا واجو کا لن کاشی کی ماں ٹانگوں کے درمیان چلا گیا کیونکہ واجو کا قد کاشی کی ماں سے چھوٹا تھا اس لیے اس کا منہ کاشی کی ماں کی کمر پر تھا کاشی کی ماں نے مسکراتے ہوئے پیچھے دیکھا
    کاشی کی ماں : میری جان کا پھر سے لینے کا دل کر رہا ہے
    واجو : کیا کروں میرا لن کھڑا ہو گیا ہے اس کو بیٹھنا تو پڑے گا
    کاشی کی ماں: میں کبھی بھی اپنی جان کو کسی بھی کام سے نہیں روکوں گی آج سے میں آپ کی رکھیل چن کر رہوں گی کبھی بھی کسی اور لڑکی لڑکے یا عورت کو چودنے کا دل ہو آپ بس حکم کرنا میں پوری کوششیں کروں گی کہ میں آپ کا کام ہو جائے
    واجو : میرے لئے آپ ہی کافی ہو
    کاشی کی ماں کو واجو پر بہت پیار آ رہا تھا لیکن اس کے پاس ٹائم کم تھا کیونکہ اس نے کھانا بنا کر کاشی اور واجو کو سکول کے لئے بھی تیار کرنا تھا لیکن وہ واجو کو بھی انکار نہیں کرنا چاہتی تھی
    کاشی کی ماں؛ آپ نے جو کرنا ہے کر لو لیکن میں تو روٹیاں پکا رہی ہوں
    واجو نے کاشی کی ماں کی شلوار نیچے کر دی کاشی کی ماں نے تھوڑا سا پیچھے ہو کر گانڈ پیچھے کو نکال دی اور ٹانگیں تھوڑی سی کھول دیں اس طرح کاشی کی ماں کی چوت سامنے آ گئی واجو نے لن ڈالنے کی کوشش کی لیکن لیکن چوت اونچی تھی اس نے ادھر اُدھر دیکھا تو اسے ایک چوکی نظر آئی اس نے چوکی اپنے پیروں کے نیچے رکھی اورلن کاشی کی ماں کی چُوت پر رکھ دیا کاشی کی ماں روٹیاں پکانے میں مگن تھی واجو نے جھٹکا دیا اور لن اس کی چوت میں گم ہو گیا واجو جھٹکے مارنے لگا کاشی کی ماں کی سسکیاں نکل رہی تھی اسنے کوئی دس منٹ کے بعد پا نی چھوڑ دیا واجو کو اس کی چوت میں زیادہ پانی سے مزہ نہیں آ رہا تھا تو واجو نے اس کی چوت سے لن نکال لیا کاشی کی ماں نے اس کی طرف دیکھا
    کاشی کی ماں : چھوٹے نہیں ہو تو نکال کیوں لیا
    واجو : اندر بہت پانی ہے مجھے مزہ نہیں آ رہا
    کاشی کی ماں : میری شلوار سے صاف کر لو
    لیکن واجو نے لن اس کی گانڈ پر رکھ کر جھٹکا دیا اور لن اس کی کھولی گانڈ میں غائب ہو گیا کاشی کی ماں کی سسکی نکلی اور وہ مسکرانے لگی واجو نے جھٹکے دینے شروع کر دئے پانچ منٹ کے بعدواجو اس کی گانڈ میں ہی چھوٹ گیا واجو زندگی میں دوسری دفع بھی کاشی کی ماں کی گانڈ میں چھوڑ گیا واجو نے اس کی گردن پر کس کی اور کاشی کے کمرے میں چلا گیا واجو کے جاتے ہی کنول کچن میں داخل ہوئی اور اپنی ماں کی اتری شلوار اور اپنی ماں کی گانڈ کے سوراخ سے نکلتی منی دیکھ کر بولی
    کنول : واہ امی آج تو صبح صبح ہی مزے لے لئے
    کاشی کی ماں : چپ کر اور میری گانڈ صاف کر کے میری شلوار اوپر کر دو
    کنول نے کپڑے سے صاف کرنے کی بجائے اپنی زبان سے منہ چاٹ لی اور پھر اپنی ماں کی چوت پر زبان رکھ دی پانچ منٹ چوت چاٹنے کے بعد اس نے اپنی ماں کی چوت کو چھوڑا اور اس کی شلوار اوپر کر دی ادھر واجو کمرے میں جاتے ہی واشروم میں چلا گیا کاشی ابھی تک لیٹا ہوا تھا اور کاشی کا لن کھڑا تھا واجو نے واش روم میں نہایا اور باہر نکل کر سکول کی یونیفارم پہننے لگا دس منٹ میں تیار ہو کر اس نے اپنے دوسرے کپڑے پیک کر لئے اور ٹی وی لاؤنچ میں جا کر بیٹھ گیا کنول بھی آ کر بیٹھ گئی کاشی کی ماں نے کنول کو کاشی کو جگانے کا کہہ تو کنول کاشی کو جگانے چلے گئی اتنے میں کاشی کی ماں نے کھانا ٹیبل پر سیٹ کر دیا تھا اور آ کر واجو کے ساتھ بیٹھ گئی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے پندرہ منٹ کے بعد کاشی اور کنول بھی آ گئے سب نے مل کر کھانا کھایا اور کنول کالج چلی گئی اور واجو اور کاشی سکول چلے گئے ایک ہی دن میں واجو کا لڑکیوں کو دیکھنے کا طرص بدل چکا تھا اب سکول میں اس کی نظر اپنی ٹیچرز کے مموں پر رہتی تھی واجو تو چاہتا تھا کہ وہ روز ہی کاشی کے گھر جانے اور اس کی ماں کے ساتھ مزے کرے لیکن یہ ہو نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 23-10-2018 at 11:14 PM.

  15. The Following 3 Users Say Thank You to Rizy.b For This Useful Post:

    abba (29-10-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •