سب دوستوں سے اپیل ہے کے اردو فنڈا کو چلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں سب دوست اور اردو فنڈا کے چاہنے والے بڑھ چڑھ کر ڈونیشن دیں. آپ ایزی پیسہ اور پے پال سے پیسے بھیج سکتے ہیں
Contact
[email protected]

Page 1 of 17 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 170

Thread: گوری میم صاحب

  1. #1
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    66
    Thanks Thanks Received 
    426
    Thanked in
    81 Posts
    Rep Power
    264

    Default گوری میم صاحب

    گوری میم صاحب
    ( پہلی قسط)
    ہیلو دوستو کیسے ہو آپ؟ ۔۔۔۔۔۔میں ہوں آپ کا دوست شاہ جی ۔کافی عرصہ کے بعد حاضر ہو رہا ہوں ہر چند کہ میں نے آسمان سر پر نہیں اُٹھا رکھا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی روزی روٹی کے چکر نے مجھے گھن چکر بنا رکھا ہے بزرگ ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ ۔۔بندہ روٹی نئیں کھاندا ۔۔۔۔ روٹی بندہ کھا جاندی اے ۔۔اتنی تمہید باندھنے اور چول مارنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ اگر کسی وجہ سے قسط لیٹ ہو جائے تو براہِ کرم درگزر کیجیئے گا۔۔۔ مزید گزارش یہ ہے کہ اس کہانی کو بطور کہانی کے ہی پڑھا جائے تو آپ کی عین نوازش ہو گی۔۔ تو آیئے سیکس کھتا کو شروع کرتے ہیں ۔۔۔ میں دفتر میں حسبِ معمول ویلا بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرے موبائیل کی گھنٹی بجی۔۔۔۔ دیکھا تو کو ئی انجانا سا نمبر تھا۔۔۔ خیر میں نے فون آن کیا اور کان سے لگا کر جیسے ہی ہیلو کہا۔۔۔۔ تو دوسری طرف سے ایک انجان سی آواز سنائی دی۔۔۔ ہیلو ! کیا تم شاہ بول رہے ہو؟۔۔۔ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔تمہاری قسم بھائی ! میں شاہ ہی بول رہا ہوں۔۔۔تو اس پر وہ کہنے لگا کہ سنا ہے تم نے آنٹیاں چھوڑ ۔۔۔ کھُسروں کی بنڈ مارنی شروع کر دی ہے؟ اس کی بات سن کر مجھے تھوڑا تعجب تو ہوا لیکن میں نے اس بات کا اظہار کیئے بغیر ۔ ۔۔۔۔۔ ترنت ہی جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ آپ نے بلکل درست سنا ہے جناب ۔۔۔ ۔۔۔ اس لیئے اگر آپ کی تشریف میں بھی خارش ہو رہی ہے ۔۔۔تو ڈیٹول سے بنڈ دھو کر آ جاؤ۔۔۔میری طرف سے اتنی بات کہنے کی دیر تھی کہ اچانک دوسری طرف سے ایک فلک شگاف قہقہہ کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ وہ اجنبی کہہ رہا تھا ۔۔۔اوئے بہن چود ا۔۔ ساری دنیا بدل گئی مگر ۔۔تو ابھی تک نہیں بدلا۔۔۔۔ اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ بھائی مرد کی ایک زبان ہوتی ہے۔میری اس بات پر اس نے ایک اور فرمائیشی قہقہہ لگایا ۔۔۔اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔مجھے پہچانا؟۔۔۔ تو میں نے کہا ابھی آپ نے خود ہی ۔۔۔۔۔میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ دوسری طرف سے وہ چلا کر بولا۔ ۔۔۔۔۔ بس بس ۔۔ اب اس آگے کچھ نہیں کہنا ۔۔۔ پھر مجھے گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے گانڈو !! میں عدیل بول رہا ہوں ۔۔۔اس کی بات سن کر میں اپنے ذہن پر تھوڑا زور دیا ۔۔ لیکن جب میری میموری میں عدیل نام کا کوئی شخص نہیں آیا تو میں اس سے بولا۔۔۔۔ سوری !!۔۔کون عدیل ؟ تو اس پر وہ بڑے رسان سے کہنے لگا۔۔۔۔عدیل جو تمہارے ساتھ اسلامیہ سکول میں پڑھا کرتا تھا۔اس کے منہ سے عدیل کا نام سن کر میں نے ایک بار پھر اپنی یاداشت پر زور دیا۔۔۔۔ لیکن میرے زہن میں عدیل نام کا کوئی شخص نہ آیا۔۔اس لیئے ایک بار پھر میں نے اس سے کہا۔۔۔۔ کون عدیل یار؟؟ تو اس بار وہ تھوڑا جھلا کر بولا۔۔۔ اوئے کنجرا ۔۔۔ میں بول رہا ہوں عدیل۔۔۔۔۔پھر تھوڑا سا ہچکچکاتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔وہی یار ۔۔عدیلہ ۔۔شیمپو ۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے اپنا تعارف عدیلہ شیمپو کے نام سے کرایا۔۔۔۔ تو میرے ذہن میں ایک دم سے چھناکا سا ہوا ۔۔۔اور مجھے وہ یاد آ گیا ۔ عدیل ہمارا کلاس فیلو تھا جو کہ میٹرک کے فوراً بعد کسی طرح امریکہ چلا گیا تھا اور پھر کافی عرصہ اس نے کوئی خیر خبر ہی نہیں دی اسی لیئے میرے ذہن سے اس کا نام محو ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ۔۔ عدیل کے ساتھ میری دوستی اتنی گہری بھی نہ تھی کہ میں اسے یاد رکھتا ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاس فیلو ۔۔۔۔۔۔اور دوستوں کا سیم گروپ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ بہت بے تکلفی تھی ۔



    نام تو اس کا عدیل تھا لیکن دوستوں کے حلقے میں ۔۔۔۔وہ عدیلہ شیمپو کے نام سے مشہور تھا اور اس کی مشہوری کی وجہ یہ تھی کہ سارے دوستوں میں یہ واحد لڑکا تھا جو کہ نہ صرف لن پر شیمپو لگا کر مُٹھ مارتا تھا بلکہ ہم سب کو بھی اس بات کی زبردست تلقین کیا کرتا تھا کہ شیمپو لگا کر مُٹھ مارا کریں۔۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے مزہ بھی زیادہ آتا ہے ۔۔۔اور جھاگ بھی اچھی بنتی ہے۔۔۔اور یہ تلقین اس نے اس قدر زیادہ کی تھی کہ تنگ آ کر ہم نے اس کا نام ہی عدیلہ شیمپو رکھ چھوڑا تھا ۔۔۔چنانچہ عدیل کو پہچانتے ہی میں خوشی سے چیختے ہوئے بولا۔۔۔۔اوئے گانڈو! توُ امریکہ سے کب آیا؟ ۔۔اور پھر اگلے ہی سانس میں اس سے کہنے لگا۔۔ ہور سُنا ۔۔۔وہاں کسی گوری میم کی چاٹی ؟۔۔۔یا پھر وہاں بھی شیمپو کے ساتھ مُٹھ مارتے رہے ہو؟۔ ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ بڑے فخریہ لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔۔ تُو چاٹنے کی بات کر رہا ہے ۔۔۔تیرے بھائی نے تو گوریوں کو جی بھر کے چوپے بھی لگوائے ہیں ۔۔۔ دوستو ۔۔۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے چوپا لگوانے کا بہت شوق ہے ۔۔۔ چوپا اور وہ بھی گوری میم کا۔۔۔۔ چنانچہ اس کے منہ سے گوریوں کے چوپوں کا سن کر ۔۔۔ ناجانے کیوں میرے دل میں حسرت کی ایک طویل لہر سی دوڑ گئی۔۔۔۔اور میں خواہ مخواہ جل کر کباب ہو گیا۔۔۔۔۔ اور پھر اسی حسرت ذدہ لہجے میں اس سے بولا ۔۔۔ کتنی گوریوں کو چوپے لگوائے ہیں؟ تو وہ قہقہ لگاتے ہوئے کہنے لگا ۔بے شمار ۔۔۔پھر تھوڑا وقفہ دے کر بولا۔۔۔ تجھے سب بتا دوں گا مسڑ شاہ سٹوری ( جس طرح دوستوں نے شیمپو سے مُٹھ مارنے کی وجہ سے عدیل کا نام " عدیلہ شیمپو " رکھا تھا ٹھیک اسی طرح دوستوں کے حلقے میں مجھے بھی شاہ سٹوری کے نام سے جانا جاتا تھا اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں ہمیشہ اپنے ذہن میں کوئی سیکس سٹوری بنا کر مُٹھ مارا کرتا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میں ہر دوست سے اس کی سیکس سٹوری نہ صرف یہ کہ بڑی تفصیل کے ساتھ سنا کرتا تھا بلکہ اس سے کرید کرید کر مختلف سوالات بھی پوچھا کرتا تھا ان کی سیکس سٹویز میں اتنا زیادہ انٹرسٹ لینے کی وجہ سے دوستوں کے حلقے میں میرا نام ہی شاہ سٹوری پڑ گیا تھا۔۔۔ (اور سچی بات تو یہ ہے دوستو کہ اس دور کی دوستوں کے منہ سے سنی ہوئی وہ گرما گرم کہانیاں ۔۔۔ بعد میں سیکس سٹوریاں لکھتے ہوئے میرے بہت کام آئیں۔۔ ) ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب میں نے عدیلے شیمپو سے یہ پوچھا کہ تفصیل سے بتا کہ اب تک کتنی گوریوں کو چوپے لگوا چکے ہو۔۔۔۔۔ تو آگے سے وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا فکر نہ کر شاہ جی میں تجھے پوری تفصیل سے ساری سٹوریاں سناؤں گا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ پھر مجھ سے شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔ یار مجھے پاکستان آئے ہوئے دس پندرہ دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک ایک بھی حرامی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔۔۔ تو اس پر میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سالے تم نے کون سا آنے کی اطلاع دی تھی۔۔۔ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔کہ۔ ۔۔۔۔۔ اطلاع کیسے دیتا ؟ میرے پاس تو کسی کا نمبر ہی نہیں تھا ۔اور اب بھی بڑی مشکل کے ساتھ مجھے قادرے سے تیرا نمبر ملا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔ یہاں آ کر پرانے دوستوں سے ملنے کو بڑا دل کر رہا تھا ۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ ۔۔کہ تمہارا وہی گھر ہے نہ۔۔۔ تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے جلدی سے بولا ۔۔ نہیں یار وہ تو ہمارا کرائے کا گھر تھا اب ہم نے اپنا گھر لے لیا ہے اور پھر اس نے مجھے اپنے گھر کا پتہ بتایا جو کہ اتفاق سے میرے آفس کے قریب ہی واقع تھا ۔۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ یار تمہارا گھر تو میرے آفس سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے میں چھٹی کے بعد تم سے ملنے آؤں گا تو اس پر وہ بولا۔۔۔۔ چھٹی کے بعد کیوں؟۔۔۔ابھی آتے ہوئے تمہیں کیا موت پڑتی ہے؟ اس کے بعد وہ کہنے لگا ۔۔ایسا کرو کہ تم ابھی اور اسی وقت آ جاؤ آج دوپہر کا کھانا ہم اکھٹے ہی کھائیں گے۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں تمہیں اپنی بیگم سے بھی ملواؤں گا ۔۔۔۔پھر معنی خیز لہجے میں کہنے لگا۔۔۔ امریکہ سے گوری لایا ہوں۔۔۔ گوری میم کا نام سن کر پتہ نہیں کیوں میرے جسم میں ایک سنسی سی دوڑ گئی اور میں بڑی حسرت کے ساتھ بولا۔۔۔ اس سے ملنے کا کیا فائدہ یار!! بھابھی تو انگریزی بولتی ہو گی اور تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ اپنا ہاتھ شروع سے ہی انگریزی میں تنگ نہیں بلکہ۔۔۔بہت ہی تنگ ہے میری بات سن کر وہ کہنے لگا ۔۔ مجھے سب پتہ ہے یار۔۔ لیکن تو انگریزی کی فکر نہ کر ۔۔۔ کہ تیری بھابھی کو اردو بھی آتی ہے تو بس جلدی سے آنے والی بات کر ۔۔۔اور اتنی بات کرتے ہی اس نے فون رکھ دیا۔۔۔
    Last edited by Story Maker; 18-10-2018 at 07:11 PM.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  3. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    365
    Thanks Thanks Given 
    19
    Thanks Thanks Received 
    177
    Thanked in
    103 Posts
    Rep Power
    45

    Default

    nice start shah g... you are great writer

  4. The Following User Says Thank You to Story Maker For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018)

  5. #3
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    Lost Dark Soul
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    22
    Thanks Thanks Received 
    12
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    شاہ جی دوبارہ آپ کو دیکھ کے بہت خوشی ہوئی
    اپنی پرانی کہانیاں بھی دوبارہ پوسٹ کیجئے نہ خاص طور پے شہوت زادی

  6. The Following User Says Thank You to سیکسیریا For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018)

  7. #4
    Join Date
    Oct 2018
    Location
    Lost Dark Soul
    Posts
    6
    Thanks Thanks Given 
    22
    Thanks Thanks Received 
    12
    Thanked in
    6 Posts
    Rep Power
    2

    Default

    Shah jee welcome back jaani

  8. The Following User Says Thank You to سیکسیریا For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018)

  9. #5
    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    3
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    5
    Thanked in
    3 Posts
    Rep Power
    0

    Default

    oo bhai yeh sab kuch gaib ho gaya ider sai website hack ho gai thi kiya? anyone????

  10. The Following User Says Thank You to Real_gold For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018)

  11. #6
    Join Date
    Oct 2018
    Posts
    1
    Thanks Thanks Given 
    0
    Thanks Thanks Received 
    1
    Thanked in
    1 Post
    Rep Power
    0

    Default

    بہت خوب مرشد فیس بک آئی ڈی کہاں غائب کر دی ہے امید ہے سب ٹھیک ہی ہو گا بے صبری سے انتظار رہے گا خیریت جاننے کا اور کہانی پڑھنے کا بھی
    Stay blessed

  12. The Following User Says Thank You to Bajwa1 For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018)

  13. #7
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    66
    Thanks Thanks Received 
    426
    Thanked in
    81 Posts
    Rep Power
    264

    Default


    عدیل نے تو فون بند کر دیا۔۔۔ لیکن اس کے منہ سے گوری میم کا نام سن کر پتہ نہیں کیوں میرے جسم ایک عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا ۔اور میری آنکھوں کے سامنے بلیو مویز میں چوپے لگانے والی وہ ساری کی ساری گوریاں گھوم گئیں جن پر میں سچے دل سے عاشق تھا۔۔ فون ختم ہونے کے بعد میں اپنے ایک سنئیر لیکن بے تکلف کولیگ کے پاس چلا گیا۔۔ اور اسے ساری داستان سنائی ۔ میری بات سن کر وہ کولیگ جو کہ میری حرکات برائے سیکس سے بخوبی واقف تھا ۔۔پہلے تو بڑے غور سے میری طرف دیکھا پھر سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔ تمہارے چہرے کی لالی اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ تم اپنے دوست کی بیوی (گوری میم ) کو بلیو موی والی گوریوں سے ملا رہے ہو پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا ۔اگر ایسا ہے تو یاد رکھو تم خطا کھا رہے ہو اور وہ اس لیئے کہ ساری گوریاں ایسی نہیں ہوتیں اس کے بعد وہ کولیگ کافی دیر تک مجھے سمجھاتا رہا اور شکر ہے کہ اس کی یہ بات میرے موٹے دماغ میں آ گئی ورنہ میرے نزدیک تو ہر گوری میم چالو تھی جو کہ چوپا لگا کر پھدی مروانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتی تھی ۔ چنانچہ اس کولیگ کی بات کو میں نے اپنے پلے سے باندھ لیا۔۔اور پھر اس کا شکریہ ادا کر کے اُٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک وہ مجھ سے کہنے لگے اچھا یہ بتاؤ کہ تم اس کی بیگم کو منہ دکھائی میں کیا گفٹ دے رہے ہو؟ تو میں حیران ہوتے ہوئے بولا گفٹ۔۔۔کیسا گفٹ ؟ تو وہ سمجھاتے ہوئے بولے۔۔۔ کہ دیکھو یار ہمارے ہاں رسم ہے کہ دلہن کو منہ دکھائی میں کچھ نہ کچھ دیا جاتا ہے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے مجھے اس بارے ایک چھوٹا سا لیکچر دیا ۔۔ حُسنِ اتفاق سے اس سینئر کولیگ کا دیا ہوا یہ چھوٹا سا لیکچر بھی میرے موٹے دماغ میں بیٹھ گیا اور میں نے اس کولیگ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے گوری بھابھی کے لیئے بازار سے ایک بہت اچھا سا برانڈڈ سوٹ خریدا اور اسے گفٹ پیک کروا کے ساتھ مٹھائی کا ایک ڈبہ لیا اور پھر عدیل کے بتائے ہوئے اڈریس پر پہنچ گیا۔



    وہ ایک جدید طرز کا بنگلہ نما گھر تھا جس پر ابھی نیا نیا رنگ و روغن ہوا لگتا تھا۔۔ چنانچہ اس کے گھر کا باہر سے جائزہ لینے کے بعد میں نے گھنٹی بجائی تو اندر سے ایک فربہی مائل ادھیڑ عمر کی عورت نے دروازہ کھولا ۔ اور سر سے پاؤں تک میری طرف دیکھنے کے بعد کہنے لگی ۔ آپ کو کس سے ملنا ہے؟ تو اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی عدیل گھر پر ہے ؟ میری بات سنتے ہی انہوں نے اپنے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ سجائی اور بڑی خوش اخلاقی سے کہنے لگیں بیٹا! آپ یقیناً شاہ ہو تو آگے سے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ تب وہ بڑی شفقت سے مجھے راستے دیتے ہوئے بولیں۔ اندر آ جاؤ عدیل تمہارا ہی انتطار کر رہا ہے ۔ اور وہ مجھے ساتھ لیئے ڈرائینگ روم میں آ گئیں اور وہاں بٹھا کر کہنے لگیں۔۔ آپ بیٹھو میں عدیل کو بلاتی ہوں ۔۔ ان کے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد عدیل ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔۔۔اور مجھے دیکھتے ہی ایک فلک شگاف نعرہ مارا۔۔۔اور پھر بڑی گرم جوشی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے مجھ لپٹ گیا ۔۔کہ۔۔ اوئے شاہ !! تم میں زرا بھی تبدیلی نہیں آئی۔۔۔اور ابھی تک ویسے کے ویسے ہو۔۔ ۔مجھ سے ملنے کے بعد اس نے ایک نظر پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔۔تو وہاں کوئی نہ تھا اس لیئے وہ قدرے اونچی آواز میں بولا ۔۔۔ کامان ڈارلنگ ۔ اس کی آواز سنتے ہی ڈرائینگ روم کے دروازے سے ایک مناسب جسم والی سرو قد بلونڈ گوری کمرے میں داخل ہوئی اس نے پتہ نہیں کس کی فرمائیش پر کالا سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اس پر بہت جچ رہا تھا اور ستم بلائے ستم یہ کہ اس کی قمیض کا گلا بھی بہت کھلا تھا۔۔ اور کالے رنگ کی اس قمیض میں سے اس کی دودھیا سفید چھاتیاں صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں ۔۔۔ کا نظارہ پیش کر رہیں تھیں دوپٹے کے نام پر اس نے کپڑے کی ایک دھجی کو اپنے سینے کی بجائے کندھے پر رکھا ہوا تھا اس کے چلنے کا انداز بہت مست تھا زندگی میں فرسٹ ٹائم کسی گوری کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر میں فوت ہونے ہی والا تھا کہ کولیگ کی نصیحت یاد آ گئی۔۔۔۔ اور میں نے فوت ہونے کا پروگرم ملتوی کر دیا۔۔۔۔ تاہم پھر بھی اسے دیکھ کر میرا دل بڑے ذور سے دھڑکا ۔۔اور میں منہ کھولے یک ٹک اس کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ میں کولیگ کی نصیحت بھول کر۔۔۔۔دوبارہ اس پر ہزار جان سے فدا ہو جاتا۔۔۔۔ میں نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اپنی نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا۔۔۔اور میز پر رکھے گفٹس کو اُٹھایا ۔۔۔اور بڑے ادب کے ساتھ اس قیامت کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔ ویل کم ٹو پاکستان بھابھی۔میرے ہاتھ میں گفٹس کو دیکھ کر اس نے ایک نظر عدیل کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر غالباً وہاں سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس نے گفٹس کو میرے ہاتھ سے لے کر میرا شکریہ کہتے ہوئے اس نے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔۔ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے میں جھجھک سا گیا ۔۔۔۔لیکن پھر کچھ توقف کے بعد میں نے بھی اپنے ہاتھ کو اس کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اپنے کولیگ کی ہدایت کے مطابق ( بڑی مشکل کے ساتھ) اپنی نظروں پر کنٹرول کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہاتھ ملانے لگا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد وہ قیامت گفٹس اُٹھائے واپس چلی گئی ۔۔۔اس کے جاتے ہی عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کہ کیسی لگی بھابھی؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بڑی کیوٹ ہے اس کی کوئی دوسری بہن نہیں ہے؟ میری بات سن کر عدیل نے ایک زبردست سا فرمائشی قہقہہ لگایا اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔ بہن تو نہیں۔۔۔البتہ اس کی ایک کز ن ہے جو کہ اس سے بھی زیادہ خوب صورت اور سیکسی ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے لیئے تمہیں اسٹیٹس (امریکہ) جانا پڑے گا ۔۔۔ اور پھر ہنسنے لگا ۔۔۔ عدیل کی بات سن کر میں بھی اس کی ہنسی میں شریک ہو گیا۔۔۔۔ اور پھر اس سے بولا یار یہ تو بتاؤ کہ تم نے بھابھی کا اسلامی نام کیا رکھا ہے؟ تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ شادی سے قبل اس کا نام ماریا جوزف تھا چونکہ ہمارے ہاں بھی ماریا نام چلتا ہے اس لیئے امی کے کہنے پر میں نے اس کا نام تبدیل نہیں کیا ۔۔۔۔ہاں تم اسے ماریا عدیل کہہ سکتے ہو۔اس کے بعد اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔۔۔۔۔اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔



    باتیں کرتے ہوئے ابھی ہمیں کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک بار پھر وہی خاتون جو کہ عدیل کی والدہ تھی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں اور ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ لنچ تیار ہے آ جاؤ۔۔۔ کھانے کی میز پر ایک طرف میں اکیلا ۔۔۔ جبکہ میرے سامنے والی کرسیوں پر عدیل اور اس کی بیگم اور ان کے ساتھ عدیل کی والدہ بیٹھی تھیں۔ کھانے کھاتے ہوئے بھی ہم سب ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں ماریا میم مطلب ہے ۔۔۔مسز عدیل نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔ لیکن وہ ہماری خاص کر میری اور عدیل کی گفتگو بڑی دل چسپی کے ساتھ سن رہی تھی ۔ اسی دوران عدیل کی امی نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی۔ بیٹا جی! آپ کام کیا کرتے ہو؟ تو جب میں نے انہیں اپنے ڈیپارٹمنٹ کا نام بتایا تو ۔۔۔۔۔ میرے محکمے کا نام سن کر وہ ایک دم سے ٹھٹھک گئی۔۔۔ اور پھر فوراً ہی اگلا سوال داغتے ہوئے بولیں کہ آپ وہاں کس پوسٹ پر کام کرتے ہو؟ اور جب میں نے انہیں اپنے عہدے کے بارے میں بتایا۔۔ تو آنٹی کے ساتھ ساتھ عدیل بھی چونک کر بولا۔اوئے تیری خیر!!۔۔۔ تیری جاب تو بڑی زبردست ہے یار ۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔ ۔۔۔ تیرا تو سر بھی کڑاھی میں ہو گا دوست۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے یار۔۔۔۔۔۔یہاں پر میں عدیل اور اس کی فیملی کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں کہ یہ لوگ ایک دم ظاہر دار مطلب یہ کہ سخت قسم کے دنیا دار اور کھلے ماحول کے لوگ تھے اور خاص کر اس کی امی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ محلے میں لوگوں کی حثیت دیکھ کر دوستی لگایا کرتی تھیں ۔۔ یہی حال عدیل کا بھی تھا وہ بھی ہمیشہ کلاس کے کھاتے پیتے اور امیر قسم کے لڑکوں کے ساتھ دوستی لگایا کرتا تھا۔۔۔۔ اسی لیئے تو ہماری کمزور مالی حالت کے پیشِ نظر اس نے کبھی بھی میرے ساتھ گہری دوستی رکھنے کی کوئی کوشش نہ کی تھی۔ ہاں دوستوں کا سیم گروپ ہونے کی وجہ سے اس کی میرے ساتھ بس اچھی ہیلو ہائے تھی اس کے علاوہ اس نے کبھی بھی مجھے کوئی خاص لفٹ نہ کرائی تھی اور اس کی انہی حرکتوں کے پیشِ نظر ۔۔۔۔ میں نے خود بھی اس کے قریب ہونے کی کبھی کوشش نہ کی تھی۔۔۔۔ ہاں تو دوستو!!!۔۔۔ میں کہہ رہا تھا کہ جیسے ہی میں نے ان کو اپنے محکمے اور ۔۔۔ عہدے کے بارے میں بتلایا تو میری بات سنتے ہی ماں بیٹے کی آنکھوں میں واضع طور پر ایک چمک سی آ گئی تھی اور پھر اس کے بعد میں نے صاف طور پر محسوس کیا کہ میرے سٹیٹس کو جان کر ۔۔۔ ان کے رویے میں پہلے سے بھی زیادہ گرمجوشی آ گئی تھی …… ادھر عدیل کی والدہ کافی دیر تک مجھے ستائیشی نظروں سے دیکھتی رہیں۔۔۔ پھر اچانک ہی کہنے لگی۔۔.. ۔ بیٹا آج تو تم اکیلے آئے ہو ۔۔۔لیکن اگلی دفعہ جب بھی ہمارے گھر آؤ۔۔۔۔تو اپنی بیگم کو ضرور ساتھ لانا ۔۔۔۔آنٹی کی بات سن کر میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہنے لگا ۔۔۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر آنٹی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ بیگم ہو گی تو ساتھ لاؤں گا نا ۔۔ میری بات سن کر وہ ایک دفعہ پھر چونک پڑیں ۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ اچھا تو یہ بتاؤ۔۔۔ کہ کہیں منگنی وغیرہ بھی ہوئی ہے؟ تو ان کی بات سن کر ۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور ان سے بولا۔ ۔ نہیں آنٹی جی میری منگنی تو کیا ۔۔۔ اس بارے میں کہیں بات چیت بھی نہیں چل رہی ۔ میری بات سن کر وہ حیرت بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ کمال ہے بیٹا !!!!۔۔۔ تم اتنی اچھی پوسٹ پر فائز ہو اور ۔۔۔کہیں رشتے وغیرہ کی کوئی بات چیت بھی نہیں چل رہی ؟؟؟؟؟؟ ان کی بات سن کر میں نے ایسے ہی کہہ دیا کہ ۔۔ چھوڑیں آنٹی میرے ہاتھ میں شادی والی لکیر ہی نہیں ہے ۔ پھر اس کے بعد اسی ٹاپک پر ہماری گفتگو ہوتی رہی ۔۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد میں نے ان سے اجازت لی اور گھر چلا آیا۔
    Last edited by Story Maker; 20-10-2018 at 11:06 AM.

  14. The Following 3 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  15. #8
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    66
    Thanks Thanks Received 
    426
    Thanked in
    81 Posts
    Rep Power
    264

    Default

    [size=5]

    یہ اس سے اگلے دن بعد کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ آفس کے مین گیٹ سے گارڈ نے انٹر کام کیا کہ سر کوئی عدیل نام کا بندہ آپ سے ملنا چاہ رہا ہے ۔۔۔ اسے اندر بھیج دوں؟ ۔۔۔ یا اسے گولی دینی ہے؟ عدیل کا نام سن کر میں نے اسے کہا کہ نہیں یار یہ گولی والا بندہ نہیں ہے۔۔۔۔اس لیئے اسے میرے کمرے میں لے آؤ ۔ کچھ دیر بعد گارڈ کے ساتھ عدیل کمرے میں داخل ہوا اور رسمی علیک سلیک کے بعد ۔۔۔ مجھ سے گلہ کرتے ہوئے بولا کہ تم کہاں مر گئے تھے ۔۔۔ ماما تمہارا بہت پوچھ رہیں ہیں ۔۔۔پھر کہنے لگا کہ۔۔ آج تم لنچ پر بھی نہیں آئے۔۔۔ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بس یار آفس میں کچھ ایسے کام پیش آ گئے تھے کہ میں تمہاری طرف چکر نہ لگا سکا۔۔۔۔ تو اس پر وہ مجھ سے کہنے لگا کہ ابھی تو فری ہو نا اس لیئے میرے ساتھ چلو کہ ۔۔۔ تم کو ماما بلا رہی ہیں۔۔۔ ماما کا نام سن کر میں دل ہی دل ۔۔ میں ٹھٹھکا۔۔۔۔ لیکن اس پر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ اگلے دن آنے کا وعدہ کر لیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی عدیل نے میری جان نہیں چھوڑی اور ۔۔ کہنے لگا ایسا کرو گھر کل آ جانا۔۔۔۔ لیکن ابھی میرے ساتھ باہر چلو یار ۔۔کہیں باہر چل کر گپ شپ کرتے ہیں کہ گھر میں پڑے پڑے میں کافی بور ہو گیا ہوں۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا چل پھر ۔۔۔۔۔۔میں تجھے کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلاتا ہوں تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا کہ سوری یار میں ابھی ابھی لنچ کر کے تمہاری طرف آ رہا ہوں ۔۔۔ ہاں تیرے ساتھ چائے پی لوں گا۔۔ چنانچہ میں عدیل کو ساتھ لے کر شہر کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں آ گیا اور چائے کے ساتھ دیگر لوازمات کا آڈر دیتے میں نے اس سے کہا سنا یار امریکہ کیسا لگا؟ اسی دوران اچانک ہی میرے ذہن میں ایک خیال آیا ۔۔۔۔۔اور میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے اشتیاق سے بولا۔۔۔۔ امریکہ کی بنڈ مار ۔۔ تو مجھے یہ بتا کہ وہاں جا کر سب سے پہلے کس گوری کی پھدی ماری تھی اور کیسے؟؟؟۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ آ گیا نا اپنی اوقات پر۔۔ تو آگے سے میں بھی دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔ کہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ مجھے سیکس سٹوریز سننے کا کتنا شوق ہے اس لیئے اب زیادہ نخرہ نہ کر اور مجھے تفصیل سے بتا کہ امریکہ جا کر سب سے پہلے کس گوری کو کیوں اور کیسے چودا ۔۔۔۔ اور ساتھ نمک مرچ لگا کر یہ بھی بتا کہ تم نے اسے چودنے کے لیئے راضی کیسے کیا تھا ؟ میری بات سن کر عدیل ایک دم سیریس ہو تے ہوئے بولا۔۔ تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ امریکہ جا کر میں نے سب سے پہلے کسی گوری کی نہیں بلکہ ایک دیسی کی چوت ماری تھی۔ عدیل کی بات سن کر میں آنکھیں نکالتے ہوئے اس سے بولا ۔۔ ایسے نہیں بھائی صاحب پوری تفصیل بتاؤ ۔۔پھر اپنے لہجے پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔ایک ایک چیز کی تفصیل معہ نمک مرچ۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے بڑی عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں واضع طور پر کشمکش کے آثار نظر آ رہے تھے۔ لکن پھر چند سیکنڈز سوچنے کے بعد اچانک ہی وہ کہنے لگا۔۔گو کہ میری سٹوری میں ایک آدھ پردہ نشین کا نام بھی آئے گا ۔ ۔لیکن تو بھی کیا یاد کرے گا سالے ۔۔۔ آج میں تمہیں امریکہ میں پہلی پھدی مارنے اور اس سے جڑی ایک ایک بات تفصیل بتا ؤں گا اور میری جان یہ تفصیل اتنی گرم ہو گی کہ آج کی رات تمہیں سٹوری بنا کر مُٹھ مارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے کرسی میری طرف کھسکائی اور پھر وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔



    شاہ جی شاید تمہیں معلوم نہیں کہ میرے سگے ماموں امریکہ میں ہوتے ہیں اور انہی کی سپانسر کی وجہ سے میں امریکہ گیا تھا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ۔۔۔ یہ ان دونوں کی بات ہے کہ جب میٹرک کے پیپرز کے لیئے ڈیٹ شیٹ ایشو ہو گئی تھی اور ہمارے سارے دوست پیپرز کی تیاری کر رہے تھے مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ ڈیٹ شیٹ کے مطابق پہلا پرچہ انگریزی کا تھا لیکن میں انگریزی کا پرچہ دینے کی بجائے ۔۔۔۔ انگریزی بولنے والوں کے دیس امریکہ جا رہا تھا ان دونوں چونکہ سارے دوست انگریزی کے پرچے کی تیاریاں کر رہے تھے اس لیئے پاکستان سے جاتے ہوئے میں اپنے دوستوں سے الوداعی ملاقات بھی نہیں کر سکا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ جس دن تم لوگ کمرہ ء امتحان میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے بوُٹی مانگ رہے تھے عین اس وقت میں ۔۔۔۔آنکھوں میں گوریوں کے خواب سجائے جہاز میں بیٹھا ۔۔امریکہ کے لیئے روانہ ہو رہا تھا ۔۔۔جے ایف کے ائیرپورٹ پر مجھے لینے کے لیئے ماموں اور ممانی دونوں آئے ہوئے تھے۔۔ یہ لوگ نیو یارک کے مشہور انڈو پاک ایریا کوئین میں رہتے تھے جو کہ جے ایف کے ائیر پورٹ سے بیس پچیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا ان کی رہائیش کرونا پارک سے کچھ فاصلے پر واقعہ تھی یہاں پر میں تم سے اپنے ماموں اور ممانی کا تعارف کرو ا دوں میرے ماموں کا نام حماد سلطان اور ممانی کا نام ندرت سلطان تھا جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت ممانی کی عمر 30، 32 جبکہ میرے ماموں 40۔42 کے ہوں گے اور وہ ابھی تک بے اولاد تھے۔۔۔امریکہ پہنچ کر ماموں اور ممانی نے میری بڑی آؤ بھگت کی ۔ اور خاص کر ممانی نے مجھے نیو یارک سٹی میں کافی گھمایا پھرایا اس دوران میں نے ان سے کہا بھی کہ مجھے کہیں کام پر لگوا دیں لیکن وہ جواب دیتیں کہ تمہاری ماں کیا کہے گی کہ منڈے کو آتے ساتھ ہی کام پر لگا دیا۔۔۔ اس لیئے تھوڑا گھوم پھر لو تھوڑا ریسٹ کر لو کہ اس کے بعد تم نے ساری عمر کام ہی کرنا ہے ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ماموں جہاں رہتے تھے وہ ایک چھوٹا سا دو منزلہ مکان تھا۔۔ ان کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں دو ہی کمرے تھے ایک میں ماموں لوگ سوتے تھے ۔۔۔۔ جبکہ دوسرا کمرہ انہوں نے مجھے دے دیا تھا۔ ماموں اور ممانی دونوں ہی الگ الگ سٹورز میں ملازمت کرتے تھے لیکن یہ سٹور ایک ہی مالک کا تھا جس کا نام جے پرکاش نارائن تھا اور وہ انڈیا (دہلی) کا رہنے والا ایک پنجابی ہندو تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے ماموں لوگ جس اپارٹمنٹ میں بطور کرایہ دار رہتے تھے وہ بھی اسی ہندو مالک کی مالکیت تھا نچلے والے پورشن میں وہ خود جبکہ اوپر والے پورشن میں ماموں لوگ رہتے تھے ۔ اور اس گھر کی بناوٹ کچھ ایسی تھی کہ اس کا مین گیٹ ایک ہی تھا جبکہ اس کی اوپر والی منزل کی سیڑھیاں صحن سے ہو کر گزرتی تھیں۔۔ ۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد عدیل ایک لمحے کے لیئے جھجھکا لیکن اگلے ہی لمحے اسی روانی کے ساتھ کہنے لگا کہ شاہ جی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ شروع سے ہی ہمارے گھر کا ماحول عام گھروں کی نسبت تھوڑا کھلا تھا



    لیکن جہاں تک ممانی لوگوں کا تعلق ہے تو یقین کرو خود ممانی اور ان کی فیملی کے باقی لوگ اچھے خاصے مذہبی واقعہ ہوئے تھے۔۔۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس زمانے میں ممانی اور ان کی باقی بہنیں وغیرہ پردہ کیا کرتی تھیں اور برقعہ کے بغیر وہ کہیں بھی آتی جاتی نہ تھیں۔۔۔ لیکن جب میں امریکہ پہنچا تو ۔۔۔۔ خاص کر ممانی کے چال چلن دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گیا۔۔کہاں کہ وہ پردے کے بغیر گھر سے باہر ایک قدم بھی نہ رکھتی تھیں۔۔۔۔ اور کہاں یہ کہ۔۔۔پردہ تو درکنار ۔۔ جس قسم کے لباس میں ۔۔۔۔۔۔ میں نے ان کو دیکھا تھا ۔۔ یقین کرو میں حیران بلکہ کافی حد تک پریشان ہو گیا تھا۔۔۔کیونکہ وہ بہت بولڈ ۔۔۔ بلکہ ان کی فیملی کے حساب سے اچھا خاصہ قابلِ اعتراض تھا ۔پھر کہنے لگا کہ امریکہ کی کھلی ڈھلی سوسائٹی نے ممانی کو پوری طرح اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا ۔۔۔ یہ امریکہ کی آذاد فضاؤں کا اثر تھا یا کیا تھا کہ وہ گھر میں ہمیشہ ہی ایک ڈھیلی ڈھالی (بٹنوں والی ) شرٹ اور نیچے ٹائیٹس ( تنگ پجامی) پہنا کرتی تھی اور یہ ٹائیٹس اتنی زیادہ ٹائیٹ ہوا کرتی تھی کہ جس کی وجہ سے ان کے نچلے جسم کے ایک ایک عضو کا ماپ کیا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ عام حالات میں بھی وہ کافی بولڈ قسم کا لباس پہنتی تھیں جو کہ شروع شروع میں تو مجھے بڑا عجیب۔۔۔ بلکہ شر انگیز لگا لیکن پھر آہستہ آہستہ ماموں کی طرح میں بھی اس کا عادی ہو گیا تھا۔
    Last edited by Story Maker; 20-10-2018 at 11:08 AM.

  16. The Following 3 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  17. #9
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    66
    Thanks Thanks Received 
    426
    Thanked in
    81 Posts
    Rep Power
    264

    Default


    اتنی بات کرنے کے بعد عدیل نے اپنی کرسی کو تھوڑا مزید آگے کی طرف کھسکایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ایک رات کی بات ہے کہ میں اپنے کمرے میں مست سو رہا تھا کہ اچانک کسی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔۔ کچھ دیر تک تو میں یونہی پلنگ پر لیٹا۔۔۔ کروٹیں بدلتا رہا پھر اچانک میرے کانوں میں سیکس بھری چیخ سنائی دی۔۔۔ بلیو مویز دیکھ دیکھ کر اتنا تو میں جان ہی گیا تھا کہ لڑکیوں کے منہ سے اس قسم کی چیخیں سیکس کے دوران ہی نکلتی ہیں اس لیئے جب ویسی ہی چیخ کی آ واز مجھے دوبارہ سنائی دی تو میں یہ سوچ کر لیٹا رہا کہ ۔۔۔۔۔ماموں اور ممانی سیکس انجوائے کر رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد۔۔۔۔ پھر ان لزت بھری چیخوں میں تھوڑی شدت آ گئی ۔ اور ان سیکسی آوازوں کو سنتے ہوئے اچانک ہی مجھے یاد آ گیا کہ ماموں کی تو آج نائیٹ ہے یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور دبے پاؤں چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔اور پھر کان لگا کر ندرت مامی کے کمرے کی طرف دیکھنے لگا۔ عین اسی وقت جب میرے کان ان کے کمرے کی طرف لگے ہوئے تھے۔۔۔۔اچانک مجھے ندرت مامی کی ایک زوردار مگر لزت بھری چیخ سنائی دی۔۔۔۔ میں نے غور کیا تو یہ آواز گیلری کی طرف سے آ رہی تھی۔۔۔چنانچہ میں بھاگ کر گیلری کی طرف گیا ۔۔۔ اور گیلری سے نیچے کی سمت دیکھنے لگا کہ جس طرف سے ممانی کی مست سسکیوں کی آواز یں سنائی دے رہی تھیں۔۔


    کیا دیکھتا ہوں کہ ندرت مامی نے اپنے دونوں ہاتھ سیڑھیوں کی ریلنگ پر رکھے ہوئے تھے ان کی ٹائیٹس پاؤں میں ۔۔جبکہ ان کی بڑی سی گانڈ پیچھے کو نکلی ہوئی تھی۔۔ ۔۔ ممانی کے عین پیچھے نارائن صاحب کھڑے تھے ان کی بھی نیکر اتری ہوئی تھی اور وہ بے خودی کے عالم میں دھکے مار رہے تھے۔ چونکہ اس وقت دونوں کی پیٹھ میری طرف تھی اس لیئے مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آیا نارائین صاحب مامی کی مست گانڈ بجا رہے تھے۔۔۔۔ یا کہ ان کا لن مامی کی چوت میں آ جا رہا تھا۔دونوں ہی بڑے زور و شور کے ساتھ چدائی میں مصروف تھے نارائن صاحب کا تو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔۔البتہ ممانی اس فکنگ کو بڑا انجوائے کر رہی تھی اس کا واضع ثبوت وہ لزت بھری چیخیں تھیں۔۔ جو کہ ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے منہ سے مسلسل نکل رہیں تھیں۔۔۔۔ مامی کو ایک غیر مرد اور وہ بھی ہندو سے چدواتے دیکھ کر مجھے غصہ تو بڑا آیا۔ لیکن میں بوجہ گیلری میں چُپ چاپ کھڑا ان کا تماشہ دیکھتا رہا ۔۔ ادھر نارائن صاحب نے گھسے مارتے ہوئے اچانک ہی مامی کی گانڈ کو ایک مخصوص انداز سے تھپ تھپانا شروع کر دیا۔ اور پھر یہ دیکھ میں کر حیران رہ گیا کہ جیسے ہی نارائن صاحب نے ممانی کی موٹی گانڈ کو تھپ تھپایا ۔۔۔۔تو اسی وقت ممانی نے تیزی کے ساتھ اپنی چوت یا گانڈ میں لیا لن باہر نکالا اور پھر اسی رفتار سے گھوم کر ۔۔۔۔۔ نارائن صاحب کے سامنے اکڑوں بیٹھ گئی۔۔ اور ان کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بڑی بے تابی کے ساتھ چوسنا شروع کر دیا۔۔ ابھی ممانی نے تین چار چوپے ہی لگائے ہوں گے۔۔۔ کہ اچانک نارائن صاحب کے منہ سے "اوہ ' اوہ" کی ایک پُر لطف سی آواز نکلی۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کا جسم کانپا۔۔۔۔اور پھر وہ جھٹکے مار مار کے۔۔۔۔۔۔ ممانی کے منہ میں ہی چھوٹنا شروع ہو گئے۔۔۔۔ اور اس وقت میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ جب ممانی نارائن صاحب کے لن کو آخری قطرہ تک چوستی رہی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور ۔۔۔پھر پتہ نہیں انہوں نے اپنے منہ میں رکھی نارائن صاحب کی منی کا گھونٹ بھرا یا نہیں ۔۔۔۔۔ البتہ جیسے ہی ان کے لن سے منی نکلنا بند ہوئی ممانی پھرتی سے اوپر اُٹھی۔۔۔۔اور اس کے باوجود بھی کہ اس وقت ممانی کا منہ اس ہندو نارائن کی منی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ انہوں نے نارائن کے منہ میں منہ ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔۔اور ایک طویل کسنگ کی ۔ میں دم سادھے یہ سارا منظر دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی ان کی طویل کسنگ ختم ہوئی۔۔۔ نارائن صاحب نے اپنی نیکر پہنی۔۔۔۔ اور واپس کمرے میں چلے گئے ۔۔۔عین اسی وقت ممانی کی نظر یں اوپر گیلری میں پڑ گئی کہ جہاں پر میں کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا مجھے۔۔۔۔ یوں کھڑا دیکھ کر وہ ایک دم سے چونک گئی۔۔۔ ۔۔۔لیکن ۔۔۔ کوئی خاص رسپانس نہ دیا ۔۔۔اسی دوران میں بھی ۔۔۔۔۔ واپس اپنے کمرے میں آ گیا ممانی کو ایک ہندو کے ساتھ سیکس کرتے دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔اسی لیئے کمرے میں آ کر میں اسی غصے کے عالم میں ٹہلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ ۔۔



    ابھی مجھے کمرے میں ٹہلتے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ندرت ممانی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی ترش لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ تم گیلری میں کھڑے کیا کر رہے تھے؟ پھر غصے میں پھنکارتے ہوئے بولی۔۔۔ ایسی حرکت کرتے ہوئے ۔۔۔۔تمہیں شرم نہیں آتی۔۔ میں جو کہ پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا نے ترنت جواب دیتے ہوئے کہا کہ شرم مجھے نہیں بلکہ آپ کو آنی چایئے ۔۔۔۔ کہ جو ماموں کے ہوتے ہوئے کسی غیر مرد ۔۔۔ اور وہ بھی ایک ہندو کے ساتھ ایسا گندہ کام کر رہی تھی۔۔۔ میری بات سن کر ممانی غصے میں آگ بگولہ ہو گئی چنانچہ وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور مجھے گریبان سے پکڑ کر پھنکارتے ہوئے بولی ۔۔۔ میں کسی ہندو کے ساتھ سیکس کروں یا عیسائی کے ساتھ تمہیں اس سے مطلب؟ تو اس پر میں نے بھی ترک بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماموں کو آنے لینے دو میں ان کو بتاؤں گا کہ ان کے پیچھے آپ کس کس کے ساتھ گل چھرے اُڑاتی رہتی ہو ۔۔۔ میری بات سنتے ہی ممانی کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔۔۔ اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بظاہر بولڈ ۔۔۔۔ لیکن نیم خوف ذدہ ۔۔ لہجے میں کہنے لگیں ۔۔تت تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔پھر وہ بھپرے ہوئے لہجے میں بولیں۔۔۔۔ کان کھول کر سن لو مسڑ عدیل ۔۔۔میرے بارے میں اگر تم نے ایک لفظ بھی اپنے ماموں سے کہا تو یاد رکھو میرے ساتھ تو جو ہو گا ۔۔۔۔سو ہوگا ۔۔۔لیکن اس کے بعد میں تم کو بھی ادھر نہیں رہنے دوں گی۔۔بلکہ تمہیں اسی ماموں سے دھکے دے دے کر یہاں سے نہ نکلوایا تو میرا نام بھی ندرت نہیں۔۔۔ اس کے فوراً بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بڑے ہی سرد لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ سنو مسٹر!!۔۔ میں تمہیں آج رات کی مہلت دیتی اگر تم نے یہاں رہنا ہے تو جیسے میں چاہوں گی تمہیں ویسے ہی رہنا پڑے گا ۔۔ ورنہ یاد رکھو !!!!!!!!۔۔۔۔۔ میری یہاں اتنی واقفیت ہے کہ میں تم پر پولیس کیس بنوا کر تمہیں ڈی پورٹ کروا دوں گی ۔۔۔۔۔۔ اتنی بات کر کے ممانی تو پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔ جبکہ ادھر میرا غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا ۔۔ اگر اس وقت میرے پاس ماموں کا سیل نمبر ہوتا تو میں نے اسی وقت ان کو فون کر کے مامی کے سارے کرتوت بتا دینے تھے۔۔لیکن شکر ہے کہ میرے پاس ان کا فون نمبر نہ تھا۔۔۔۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی کہ پولیس کا نام سن کر اندر سے میں بھی ڈر گیا تھا۔۔۔چنانچہ میں غصے کے عالم میں ۔۔۔۔ ٹہلتا رہا۔۔۔۔اور ممانی اور خاص کر اس کی دھمکیوں کے بارے میں سوچتا رہا۔۔۔ اسی دوران سوچتے سوچتے ۔۔۔۔ جب میرا غصہ کچھ کم ہوا ۔۔۔۔ تو مجھے ممانی کی پولیس اور ماموں کے ہاتھوں دھکے دے کر نکلوانے کی دھمکی یاد آ گئی۔۔ اور میں یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ میرے ماموں پوری طرح سے۔۔۔اس چڑیل کے قبضے میں تھے۔ پھر میں نے سوچا کہ ماموں تو اس قدر مامی کے نیچے لگے ہوئے ہیں کہ اگر انہوں نے میری بات کا یقین نہ کیا تو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔ اس سے آگے میں نہ سوچ سکا۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ میں اندیشہ ہائے دور دراز میں گھرنے لگا۔۔۔ کہ اگر ماموں نے میری بات نہ مانی۔۔۔۔اور ثبوت لانے کو کہا ۔۔۔ تو؟؟؟؟ یا اگر اس حرافہ نے مجھے پولیس۔۔۔۔۔۔پولیس کا خیال آتے ہی مجھے اپنا گھر بھی یاد آ گیا کہ جن کی قسمت سنوارنے کے لیئے میں پڑھائی چھوڑ کر امریکہ میں آیا تھا اس کے بعد وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ جیسا کہ تم جانتے ہو کہ جب میں یہاں سے گیا تھا تو اس وقت میرے ابو ایک سرکاری دفتر میں ہیڈ کلرک کی پوسٹ پر تعینات تھے اور مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ان کی تھوڑی سی تنخواہ میں ہم لوگ بمشکل گزارا کیا کرتے تھے ۔ اور خاص کر۔۔۔ مہینے کے آخر میں تو ہماری حالت بہت ہی زیادہ پتلی ہو جایا کرتی تھی جبکہ اس کے برعکس میری امی کے باقی رشتے دار بڑے امیر اور اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ اور ان رشتے داروں میں صرف امی ہی غریب تھیں ۔۔ اور تمہیں تو معلوم ہی ہو گا کہ فیملی فنگشنز میں امیر لوگوں کے ہاں ایک غریب رشتے دار کی کیا حالت ہوتی ہے ایسے موقعوں پر بے چارہ غریب نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا ۔۔ اور چونکہ ہم نے فیملی تقریبات میں ایسی ذلتیں بہت جھیلی تھی اسی لیئے اس غربت کو دور کرنے کے لیئے امی نے بڑے ترلے منتوں کے بعد مجھے امریکہ بجھوایا تھا اور آتے وقت بس ایک ہی بات کہی تھی کہ امریکہ جا کر میں ڈھیر سارے پیسے کماؤں تا کہ وہ بھی اپنی فیملی میں سر اُٹھا کر چل سکیں۔۔۔۔۔ چنانچہ امی کی اس بات۔۔۔۔ اور گھر میں پھیلی ہوئی غربت کا خیال آتے ہی میں بلکل ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔۔اور سوچنے لگا کہ فرض کرو اگر میں ماموں کو اس بارے میں بتا بھی دوں تو؟۔۔۔۔ اس کا مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ بکہ اُلٹا نقصان ہونے کا شدید خدشہ تھا۔۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے بعد ممانی نے مجھے نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا یقین کرو شاہ۔۔۔ وہ رات میرے لیئے بہت کرب والی رات تھا ۔۔۔ میں ساری رات اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتا رہا۔۔۔ اور پھر سوچ سوچ کر آخر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ۔۔۔۔ دریا میں رہ کر مامی تو کیا۔۔۔۔ میں کسی بھی مگر مچھ سے بیر نہیں لوں گا بلکہ اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے بس ڈالر کماؤں گا ۔۔۔۔ ۔۔۔اس لیئے ۔۔۔ مامی جائے بھاڑ میں۔۔۔۔ وہ کسی ہندو سے چدوائے یا کسی کالے حبشی سے گانڈ مروائے۔۔۔۔۔۔۔ آئیندہ سے میں نے کسی پنگے میں نہیں پڑنا ۔۔۔اور امی کی فرمائیش پر ڈھیر سارے ڈالر کمانے ہیں تا کہ ہم لوگ بھی خاندان میں سر اُٹھا کر چل سکیں ۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد میں بہت پرسکون ہو گیا۔۔۔۔اور پھر پلنگ پر جا کر لیٹتے ہی سو گیا۔۔
    Last edited by Story Maker; 20-10-2018 at 11:08 AM.

  18. The Following 3 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

  19. #10
    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    1,178
    Thanks Thanks Given 
    66
    Thanks Thanks Received 
    426
    Thanked in
    81 Posts
    Rep Power
    264

    Default


    رات گئے سونے کے باوجود بھی صبع سویرے میری آنکھ کھل گئی۔۔ چنانچہ میں جلدی سے اُٹھا ۔۔۔ اور ہاتھ منہ دھوئے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گیا دیکھا تو ماموں ابھی تک کام سے واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔ جبکہ ندرت مامی ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ان کی حالت کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ میری طرح انہوں نے بھی رات بہت ٹینشن میں گزاری تھی ۔ ۔۔۔ میں جھجک کر چلتا ہوا ان کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ظاہر ہے کہ میرے آنے سے وہ پوری طرح باخبر تھیں لیکن بظاہر بڑی بے نیازی کے ساتھ ڈبل روٹی پر جیم لگا رہی تھیں۔لیکن ان کی اس بے نیازی سے بھی ایک گہرا اضطراب ۔۔ جھلک رہا تھا ۔۔۔۔ میں کچھ دیر یونہی کھڑا رہا ۔۔ اس دوران انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر اسی بے نیازی ۔۔۔۔۔ لیکن اضطراری حالت میں ڈبل روٹی پر جیم لگاتی رہیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے انہیں اپنی طرف مخاطب کیا اور پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔۔۔ ممانی جی آئی ایم سوری !!۔۔ رات جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔میں اس کے لیئے آپ سے معافی چاہتا ہوں ۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے معافی مانگنے کی بات سن کر مامی چونک اٹھیں تھیں اور میری معافی والی بات سے ۔۔۔ ان کے تنے ہوئے عضلات کافی ڈھیلے پڑ گئے تھے۔۔۔ لیکن بظاہر انہوں نے مجھ پر کچھ بھی ظاہر نہیں کیا بلکہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی طنز یہ لہجے میں کہنے لگیں ۔۔ رات کو تو تم کچھ اور کہہ رہے تھے تو اس پر میں نے بڑی شرمندگی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ مامی جی میں ۔۔۔۔رات والی بات پر ہی آپ سے ایکسیوز کرنے آیا ہوں۔۔ اس لیئے پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئیندہ سے آپ کے کسی بھی معاملے دخل اندازی نہیں کروں گا ۔۔ میری بات سن کر مامی کے چہرے پر ایک مخصوص قسم کی خبیث ۔۔۔۔لیکن فاتحانہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔اور انہوں نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگیں ۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی شرمندگی سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا کہ مامی جی میں جو کہہ رہا ہوں خوب سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں میری بات مکمل ہوتے ہی مامی نے ایک گہری سانس لی ۔۔ اور پھر میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کرسی سے اُٹھیں اور مجھے گلے سے لگاتے ہوئے بولی۔۔۔شاباش عدیل!!!!۔۔۔ ۔۔۔ اگر تم اپنی اس بات پر قائم رہے تو فائدے میں رہو گے ورنہ!!!!!!! ۔۔۔ اپنے نقصان کے تم خود ذمہ دار ہو گئے۔۔ پھر کچھ دیر بعد میرے ساتھ ان کا رویہ پہلے جیسا ہو گیا بلکہ میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ کے بعد وہ میرے ساتھ پہلے سے کچھ زیادہ فری ہو گئیں تھیں ۔۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھولے سے بھی نارائن جی کے ساتھ ہونے والے اپنے افئیر کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔۔۔ ۔




    لیکن پھر ایک دن کمال ہو گیا یہ اس واقعہ سے دو دن بعد کی بات ہے اس دن ماموں کی نائیٹ تھی (وہ ہفتے میں ایک آدھ ہی نائیٹ کرتے تھے)۔۔ڈنر کے کافی دیر بعد ۔۔۔۔ مامی میرے پاس آئی اس وقت میں پلنگ پر لیٹا سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔انہوں نے دروازے میں جھانک کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی ذُو معنی الفاظ میں بولی ۔۔۔ میں ذرا نیچے جا رہی ہوں ۔ مامی کے منہ سے یہ بات سنتے ہی میرے سارے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔۔ اور میں یہ سوچ کر ایک دم سے گرم ہو گیا ۔۔۔۔۔ کہ میرے بیڈ کے عین نیچے والے کمرے میں مامی اس ہندو نارائن سے چدوانے جا رہی تھی۔ اور یہ خیال آنے کی دیر تھی کہ اچانک ہی میرا لن تن کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور میں نے (بے اختیار ) اسے ہاتھ میں پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔ مامی کے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد مجھے اپنی کھڑکی میں سے ( جو کہ اس وقت کھلی ہوئی تھی ) ایک تیز سسکی سنائی دی ۔۔۔۔اس سسکی کا سننا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ زبردست خواہش جاگی کہ کیوں نہ مامی کا لائیؤ شو دیکھا جائے۔۔۔ اس خواہش کا ذہن میں آنے کی دیر تھی کہ میں بے حد بے چین ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ میں نے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جوں جوں میں اسے اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔تُوں تُوں یہ خیال اتنی ہی شدت سے ابھر کر ۔۔۔ میرے سامنے آ جاتا ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ قصور مامی کا تھا جو کہ عین میری کھڑکی کے نیچے اونچی آواز میں مست اور شہوانی سسکیاں بھر رہی تھیں جنہیں سن سن کر میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر جب میری یہ خواہش حد سے زیادہ بڑھ گئی۔۔۔۔تو آخرِ کار مجبور ہو کر میں اپنے پلنگ سے نیچے اترا ۔۔۔اور بڑے محتاط طریقے سے چلتا ہوا ۔۔۔گیلری کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ اگر مامی نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ میرے ساتھ بڑا برا سلوک کرے گی۔۔ ۔لیکن اس کے باوجود بھی میں ا دھر ادھر دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔



    ۔۔۔۔جیسے جیسے میں سیڑھیاں اترتا گیا ویسے ویسے ۔۔۔ مامی کی مست سسکیوں کی آواز یں اور بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئیں۔۔۔جنہیں سن سن کر میرا لن مزید تن گیا ۔۔ سیڑھیوں کے قریب ہی نارائن صاحب کا کمرہ واقع تھا چنانچہ جیسے ہی میں آخری سیڑھی اترا ۔۔۔۔اور نارائن کے دروازے کی طرف دیکھا تو اس کے دونوں پٹ پوری طرح سے کھلے ہوئے تھے ان لوگوں نے دروازہ بند کرنے کی زحمت ہی نہیں گوارا کی تھی۔ یہ دیکھ کر میں خاصہ مایوس ہوا ۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب میں کیا کروں ؟ کہ۔۔۔ اسی اثنا میں مامی کی شہوت سے بھر پور سسکی سنائی دی آؤؤؤچ چ چ چ۔۔ جسے سنتے ہی میرے لن کو ایک شدید جھٹکا لگا۔ عین اسی وقت میرے ذہن میں اس کھڑکی کا خیال آ گیا جو کہ میری کھڑکی کے بلکل نیچے واقع تھی یہ خیال آتے ہی میں بڑے ہی محتاط قدم اُٹھاتا ہوا کمرے کے پچھلی طرف چل پڑا کہ جہاں پر یہ کھڑکی واقع تھی توقع کے عین مطابق نارائن کے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔۔۔ میں سر جھکا کر چلتا ہوا جا کر کھڑکی کے نیچے بیٹھ گیا کمرے سے روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی چونکہ ان کی کھڑکی پر جالی لگی ہوئی تھی ۔۔۔ اور ویسے بھی کمرے میں فل لائٹس آن تھیں اس لیئے اندر سے باہر کا منظر دیکھے جانے کا کوئی احتمال نہ تھا البتہ باہر سے اندر کا سارا منظر صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔تمام سچوئیشن کا جائزہ لے کر میں نے ۔۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔ لیکن بڑے محتاط طریقے سے اپنا سر اُٹھایا ۔۔۔اور دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی کے ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔۔اس وقت میرا جسم پسینے میں شرابور ۔۔۔۔ اور دل دھک دھک ۔۔۔۔ کر رہا تھا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مامی کے خوف سے میری ٹانگیں بھی کانپ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ لیکن مجھ پر ان کا سیکس سین دیکھنے کا اس قدر شوق چڑھا ہوا تھا کہ اتنے بڑے رسک کے باوجود میں نے کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے سر اُٹھا کر اندر کی جانب دیکھا۔۔۔



    واؤ ؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ ۔۔۔۔ اندر کا منظر بہت گرم اور ہوش ربا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ مامی اور نارائن کے کپڑے فرش پر پڑے ہوئے تھے جبکہ مامی پلنگ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اور نارائن مامی کی چھاتیوں کو چوس رہا تھا ویسے تو میں ڈھکے چھپے انداز میں مامی کی چھاتیاں کو روز ہی دیکھا کرتا تھا لیکن آج پہلی دفعہ ان کی چھاتیوں کو پوری طرح ننگا دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ۔۔ اُف ف ف فف ۔۔۔۔ کیا بتاؤں دوستو۔۔ مامی کی چھاتیاں فٹ بال کے سائز سے تھوڑی ہی چھوٹی ہوں گی لیکن تھیں اسی کی طرح گول اور ۔۔۔۔ ان گول گول چھاتیوں کے آگے ان کے موٹے موٹے نپلز اکڑے ہوئے کھڑے تھے نارائن کے ایک ہاتھ میں مامی کی چھاتی کا نپل تھا جبکہ ۔۔۔۔مامی کی دوسری چھاتی اس کے منہ میں تھی اور وہ اسے بڑے جوش خروش کے ساتھ چوس رہا تھا۔۔ یہ دل کش اور سیکس بھرا نظارہ دیکھ کر میں وقتی طور پر اپنا سارا ڈر اور خوف بھول گیا۔۔۔اور بڑے دھیان سے اندر کا منظر دیکھنے لگا ۔۔۔ ادھر مامی کی چھاتی کو چوستے چوستے جیسے ہی نارائن ان کے نپل پر ہلکا سا کاٹتا تو مامی کے منہ سے ایک جل ترنگ سی دل کش اور لذت بھری چیخ نکلتی جسے سن کر ایک دفعہ تو نارائن نے ان سے کہہ بھی دیا تھا کہ ۔۔۔ آہستہ چیخ سالی ۔۔۔کہیں تمہارا بھانجھا نہ اُٹھ جائے۔۔ ۔تو اس کی بات سن کر مامی بڑی ادا سے کہنے لگی۔ تم بھا نجے کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔ میری طرف سے چاہے پوری بلڈنگ اُٹھ جائے ۔۔۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں۔۔۔ تم بس میری چھاتیاں چوسو ا ور۔۔۔۔ چوستے جاؤ۔(اس کا مطلب یہ تھا کہ مامی کو اپنی چھاتیاں چسوانا بہت اچھا لگتا تھا ) چنانچہ نارائن نے ان کے نپل پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔۔وہ تو میں چوس ہی رہا ہوں ۔۔ لیکن پھر بھی ڈارلنگ ۔۔۔۔۔۔۔ احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔ نارائن کی بات سن کر مامی نے اپنی لیفٹ چھاتی کو اس کے منہ سے نکا لا اور رائیٹ والی چھاتی کو اس کے منہ میں دیتے ہوئے بولی ۔ اس بات کی تم فکر نہ کرو ! میرا بھانجھا بڑی گہری نیند سوتا ہے اس کے ساتھ ہی مامی کی آہوں اور سسکیوں کا وہی کھیل دوبارہ سے شروع ہو گیا۔۔۔۔ مامی کی دل کش اور لذت بھری چیخیں سن سن کر میں بڑا بے چین ہو گیا تھا ۔۔۔ اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے اسے بری طرح سے مسل رہا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف نارائن بھی بڑی بے دردی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ مامی کی تنی ہوئی چھاتیوں کو ندیدنوں کی طرح چوس رہا تھا بلکہ وہ ترنگ میں آ کر بار بار ان پر دانت بھی کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر اچانک ہی مامی نے اپنی چھاتیوں کو نارائن کے چنگل سے آذاد کروایا۔۔۔۔۔۔اور بیڈ پر کھڑی ہو گئی اور بنا کچھ کہے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھول دیا۔۔ یہ دیکھ کر نارائن بھی گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا ادھر مامی کی یہ پوزیشن دیکھ کر ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ اب وہ نارائن سے اپنی چوت چٹوانے والی ہیں ۔۔۔۔پھر وہی ہوا۔۔۔۔ مامی نے نارائن کو بالوں سے پکڑا اور بڑی مست آواز میں کہنے لگی ۔ چل میرے کتے ۔۔۔ پھدی چاٹ۔ مامی کی یہ بات سن کر حیرت انگیز طور پر نارئن نے اپنے منہ کو مامی کی کھلی ٹانگوں کی طرف کیا ۔۔۔
    [/font]
    Last edited by Story Maker; 20-10-2018 at 11:10 AM.

  20. The Following 3 Users Say Thank You to shahg For This Useful Post:

    hot_irfan (02-11-2018), Lovelymale (25-10-2018), MamonaKhan (02-11-2018)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •